Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    دنیا کی مہنگی ترین اور پر تعیش کاریں بنانے والی امریکی کمپنی رولز رائس نے اب دنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 387.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار رکھنے والے کے طیارے کو کمپنی نے اسپرٹ آف انوویشن کا نام دیا ہے، کمپنی کے مطابق 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے ہیں۔یہ دنیا کی تیز ترین الیکٹرک سواری ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران اس طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے جس میں 345.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 1.86 میل کا راستہ طے کرنا ہے اس طیارے نے 300 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار پر برطانوی وزارت دفاع کی فوجی ٹیسٹنگ سائٹ پر 9.32 میل کا سفر کیا، جو سابقہ ریکارڈ سے 182 میل فی گھنٹہ زیادہ ہے۔

    ان اعدادوشمار کو عالمی گورننگ باڈی فیڈریشن ایروناٹیکل انٹرنیشنل (ایف آئی اے) کے پاس تصدیق کے لیے جمع کرایا گیا ہےیہ طیارہ 400 کلوواٹ الیکٹرک پاور ٹرین کی مدد سے پرواز کرتا ہے جبکہ سب سے بہترین پاور بیٹری پیک کو بھی اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    رولز رائس کے فلائٹ آپریشن ڈائریکٹر نے طیارے کو ٹیسٹ پرواز پر اڑایا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے کیرئیر کا اہم ترین لمحہ تھا۔کمپنی کے سی ای او وارن ایسٹ نے کہا کہ دنیا کے تیز ترین الیکٹرک طیارے کا ریکارڈز ایک زبردست کامیابی ہے۔

    برطانیہ کے بزنس سیکرٹری کواسی کوارٹنگ نے کہا کہ یہ طیارہ برقی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسی ٹیکنالوجیز کو ان لاک کرنے میں مدد کرے گا جن کو ہم روزمرہ کی زندگی کا حصہ بناسکیں گے۔

  • مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    شمالی افریقی ملک مراکش کے ساحل سے انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ زیورات ڈیڑھ لاکھ سال پرانے ہیں یہ دریافت رباط میں مراکشی آثار قدیمہ ادارے، ایریزونا یونیورسٹی اور یورپ افریقا کی بحیرۂ روم کی لیبارٹری پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مراکش میں محققین نے جمعرات کو ایک لاکھ 42 ہزار سال اور ایک لاکھ پچاس ہزار سال کے درمیان قدیم ترین زیورات کی نقاب کشائی کی، یہ زیورات ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ساحلی شہر الصویرہ کے بیزمون غاروں میں دریافت ہوئے۔

    مراکشی ماہر آثار قدیمہ عبدالجلیل بوزوگرکے مطابق یہ دریافت سوراخ شدہ اور سیاہی والے 30 سمندری خولوں پر مشتمل ہے، یعنی انسانوں نے ان خولوں پر آئرن آکسائیڈ سے بھرپور سرخ مادہ لگایا تھا سرخ مٹی کے رنگ سے رنگے ہوئے چھوٹے سوراخوں والی سیپیوں سے بنے کئی ہار اور کنگن ملے ہیں، جو چند ہفتے قبل الصویرہ کے قریب بیزمون غار میں پائے گئے تھے –

    انہوں نے کہا کہ یہ سیپیاں ڈیڑھ لاکھ سال پرانی ہیں، فی الحال اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے قدیم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں نے ان سیپیوں کو آپس میں یا دوسرے لوگوں کے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مراکش اور انسانیت کے لیے ایک بڑی دریافت ہے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریافت ہونے والے ہاروں میں سے کچھ کو قدیم زمانے میں مواصلات کی ایک شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

    محققین کے مطابق مراکش میں دنیا کے قدیم ہومو سیپیئنز (ارتقا کے دوران بالکل ابتدائی انسان) سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی باقیات دریافت ہوئی تھیں، جو 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے تھے، انھیں 2017 میں فرانسیسی محقق ژاں ژاک ہوبلن کی ٹیم نے جبل الرحود میں دریافت کیا تھا۔

  • چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل    تحقیق

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    جارجیا: چٹکی بجاتے ہی مسئلہ حل ہونے کا محاورہ ہم اکثر سنتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق کی رو سے چٹکی بجانا سب سے تیز رفتار عمل بھی ہے۔

    باغی ٹی وی :جارجیا ٹیک کے طالب علموں نے یہ تحقیق کی ہے جسے رائل سوسائٹی انٹرفیس کے جرنل میں شائع کیا گیا اس تحقیق میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چٹکی بجانے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس کی طبیعیات کو نئے سرے سے کھوجا ہے۔

    سائنس دانوں نے انتہائی تیزعکس نگاری، خودکار امیج پروسیسنگ، ڈائنامک فورس سینسر اور دیگر ٹیکنالوجی سے چٹکی بجانے کے عمل کو دیکھا اور سمجھا۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی رگڑ کو سمجھنے کے لیے ان پر پلاسٹک اور دھات وغیرہ بھی لگائی گئی۔

    جہاز میں دوران سفر مسائل ،حادثات کی نشاندہی اور فوری رپورٹ کے لئے ایپ متعارف

    تحقیق کے مطابق چٹکی بجانے کے عمل کو یوں سمجھیے کہ اس کا اسراع (ایسلریشن) اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ چٹکی کا انگوٹھا صرف سات ملی سیکنڈ میں ہتھیلی کو چھولیتا ہے جو پلک جھپکانے سے بھی تیزعمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق انگلی اور انگوٹھے کے بیرونی جلد کی درمیانے درجے کی رگڑ (فرکشن) سے چٹکی کی آواز پیدا ہوتی ہے لیکن اس عمل میں گھماؤ کا اسراع خود بیس بال بلے باز سے بھی زیادہ ہوتا ہے اس مشاہدے سے مصنوعی ہاتھوں اور بازؤں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اس طرح وہ انسانی ہاتھوں سے مزید قریب ہوسکیں گے۔

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ماہرین نے نوٹ کیا کہ عام حالات میں چٹکی بجانے کے عمل میں روٹیشنل ولاسٹی 7800 ڈگری فی سیکنڈ اور روٹیشنل ایسلریشن 16 لاکھ ڈگری فی مربع سیکنڈ ہوتا ہے یعنی صرف سات ملی سیکنڈ میں ان انگوٹھا پھسل کر ہتھیلی پر جالگتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس عمل سے مزید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی راہ ہموار ہوگی۔

    تحقیق میں شامل سائنس داں سعد بھملا نے بتایا کہ یہ تحقیق روزمرہ کی سائنس اور انسانی تجسس کو بھی ظاہر کرتی ہے جس سے دریافت کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    معیشت تو حکومت کے لیے پہلے دن سے مسئلہ تھا لیکن کئی سال انہوں نے یہ کہہ کر گزار لئے ہیں کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ دلیل بھی کافی کمزور ہو گئی ہے اور مہنگائی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ ۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گھی، دال، انڈے، دودھ، دہی، گوشت اورچائے سمیت 27 اشیاء مہنگی ہوچکی ہیں۔ یوں صرف گزشتہ سات دنوں کے دوران مہنگائی میں 1.07 فیصد مزید اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 18.34
    فیصد تک پہنچ گئی ہے۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان اعلان کرتے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے آٹا، چینی اور گھی بآسانی دستیاب ہوگا جنھیں عوام کی سہولت کے لیے ہر گلی محلے میں نصب کیا جا رہا ہے۔ عوام جائیں، معمولی سی رقم ڈالیں اور مقررہ مقدارمیں آٹا، چینی اور گھی نکال کرگھروں کو لے جائیں۔ مگرلگتاہے کہ ان مشینوں سے بھی کرپٹ سیاستدان ہی نکلیں گے۔ روبوٹ ہی نکلیں گے۔ پھر حکومتی وزیر جیسے فرخ حبیب جتنے مرضی دعوے کر لیں ٹویٹس کردیں کہ ایکسپورٹس ایسی بڑھ گئی ہیں کہ پتہ نہیں پی ٹی آئی نے کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ معاشی اعشاریئے مسلسل منفی جا رہے ہیں اب ڈالر 177 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر جیسے ہی سردی کا زور بڑھا ہے گیس بالکل غائب ہوگی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہ ۔۔۔۔ الٹا شہباز گل سمیت حماد اظہر اپنی نااہلی ماننے کے بجائے شاہ زیب خان زادہ سے اڈا لگا کر بیٹھ گئے ہیں کہ سب اچھا ہے ۔ کہ میڈیا ان کے خلاف سازشیں رچ رہا ہے ۔

    ۔ اس وقت شاید ہی کوئی ہو جو حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لے رہا کیونکہ کارکردگی ہی ایسی ہے ۔ بڑے بڑے کالم نگار اور اینکرز حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں ۔ بالکل وہ بھی جو حکومت کے سب سے بڑے حمایتی تھے ۔ وجہ یہ ہے کہ عوام بلبلا رہے ہیں۔ پھر بھی باہر سے آئے ہوئے ترجمان بضد ہیں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور کپتان روز چوکا چھکے لگا رہا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عوام کے چھکے چھڑا دیے ہیں ۔ ۔ دعویدار تو یہ ریاست مدینہ کے ہیں پر آئے دن شرح سود میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا رہے ہیں ۔ اب ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔۔ ان کی ورداتوں پر سے پردہ میں ہٹا دیتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لینا ۔ پچھلے دنوں جب چینی کے ریٹ چند دن کے لیے ڈیڑھ سو روپے فی کلو سے اوپر چلے گئے تو شوگر مافیا نے ان چند دنوں میں کم از کم 60ارب روپے کما لیے تھے۔ اور پھر جب اس سال کے آغاز میں آٹا بحران لایا گیا تو اُس وقت بھی مافیا نے 100ارب روپے سے زائد کما لیے تھے۔ اس کے علاوہ جب پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تب بھی ایک رپورٹ کے مطابق 130ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا گیا۔
    ۔ یہ ہے تبدیلی
    ۔ یہ ہے مافیا کے خلاف کاروائیاں
    ۔ یہ ہے ریاست مدینہ
    ۔ یہ ہوتا ہے سمارٹ ورک
    ۔ یہ ہوتا ہے وژن ۔ اب سمجھ آئی ۔۔۔
    ۔ یہ ہے نیا پاکستان ۔۔۔ جہاں سے اربوں روپے کمانا اتنا مشکل نہیں رہا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو سمارٹ ورک آتا ہو۔

    ۔ آج ساڑھے تین سال بعد یہ حالت ہے کہ حکومت کو لانے والے بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ مسئلہ صرف معاشی محاذ پر ہی نہیں۔ بلکہ ہر محکمہ ہر ادارے میں ریسوس گیئر لگ چکا ہے ۔ معاشی کے بعد سیاسی ماحول کی بات کی جائے تو وہ بھی منفی اشارے دے رہا ہے۔ تمام تر حربوں اور نیب کے استعمال کے باوجود ن لیگ سمیت پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک بھی قائم ودائم ہے ۔ ساتھ ہی حکومت کے دعوے کے ان کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکلوائیں گے ۔ یہ ایک دھیلا بھی نہیں نکلوا پائے ہیں ۔ الٹا براڈ شیٹ سمیت برطانیہ میں ریاست پاکستان کو بےعزت کروابیٹھے ہیں ، پھر عالمی،علاقائی اور داخلی حالات کے باعث اسٹیبلیشمنٹ بھی اب اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کرنے پر مجبور ہے۔ مگر اب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، دراصل سیاست دو اور دو چار کا کھیل نہیں بلکہ سیاست بہت وسیع اور پیچیدہ کھیل ہے۔ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہ بھی بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ بڑی جماعتوں میں موروثیت حاوی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں لگائی ہوئی تھیں یعنی دو پارٹیوں کا نظام بھی قابل قبول نہیں حالانکہ ان کی اپنی جماعت میں جو موروثیت ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ۔ جو عمران خان نے دسیوں بار چلے ہوئے کارتوس اپنے جماعت میں اکٹھے کیے ہوئے ہیں اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔ پھر اپوزیشن تو ابھی سے کہہ رہی ہے حکومت نے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدل کے دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے، چلیں آج کی سن لیں آج جہاں پی ڈی ایم نے پشاور میں پاور شو کیا تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور شہباز گِل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے باقاعدہ قانونی کاروائی کی نوید سنادی ہے ۔ پھر یہ کہہ کر تو حکومت کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے کہ وزارت داخلہ کی توجہ کہیں اور ہے۔ جہاں شیخ رشید وزیر ہوں وہاں کا حال کیا ہوگا۔ ان کا اشارہ حریم شاہ اور شیخ صاحب جو گفتگو بارے تھا جو سامنے آئی ہے ، پھریہ کہہ کر شہزاد اکبر کو بھی خوب رگڑا لگایا کہ جس دور میں چینی 55روپے تھی اس کے کیس بنا دیے۔ اب سو روپے ہے تو کچھ نہیں کیا۔

    ۔ اب مولانا فضل الرحمان تو کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں انھوں نے تو کہہ دیا ہے کہ عمران خان غیروں کے ایجنٹ تو ہوسکتےہیں عوام کے نمائندہ نہیں۔ پھر کشمیر ، قانون سازی ، مہنگائی ، ریاست مدینہ ، آئی ایم ایف سمیت کون سی ایسی چیز تھی جس پر انھوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا ۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشویشناک بات وزیراعظم اور وزراء کا جھوٹ بولنا ہے۔ ایوان کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب انتخابی عمل میں ترمیم کے باوجود یہ بات وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ ای وی ایم کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کا حکومتی مقصد باآسانی پورا ہو جائے گا کیونکہ ایک طرف اگر اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو الیکشن کمیشن بھی پوری طرح مطمئن نہیں بار ایسوسی ایشنوں میں بھی اِس حوالے سے مخالفت اور بے اطمینانی موجودہے ۔ مسئلہ implementationکا ہے ۔ اس وقت ای وی ایم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن واضح طور پر تذبذب کا شکار ہے ۔ مجھے نہیں لگتا یہ ہو پائے گا ۔ کیونکہ سیکرٹری الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا پابند نہیں۔ اس پر الیکشن کمشن حکام کے مطابق ووٹنگ مشین متعارف کرانے سے پہلے 14تجرباتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔ تین یا چار پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرنا ہوں گے۔ پھر انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہو گی وہاں ووٹنگ مشین کیسے کام کرے گی۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ ووٹنگ مشین کو انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں تاہم یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمشن کا عملہ الیکٹرانک مشین میں موجود نتائج کس طرح پریذائیڈنگ افسر یا الیکشن کمشن کو ارسال کرے گا۔

    ۔ پھر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے تین لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اب پارلیمنٹ سے قانون سازی ہونے کے بعد اصولی طور پر الیکشن کمشن اس طریقہ کار کو مسترد نہیں کر سکتا۔ پر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاخیر کا بہانہ ضرور بنا سکتا ہے ۔ یوں اب یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس مشین کا استعمال نہ کیا تو پھر پی ٹی آئی الیکشن کو نہیں مانے گی ۔ ہار گئی تو وہ دھاندلی کا شور مچائے گی ۔ پر اگر اس مشین کے ذریعے الیکشن کروایا جاتا ہے تو جہاں بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں آئندہ انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تو شہباز شریف بھی ای وی ایم کو شیطانی مشن قرار دیتے ہیں اِن حالات میں پہلی بار انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ملک میں اس وقت اضطراب اور ہلچل کی جو کیفیت ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ سٹیک ہولڈر مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ کسی تبدیلی کی صورت میں انہیں مکمل تحفظ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو اور حالیہ سالوں میں ان کے کئے کرائے پر پر مٹی ڈال دی جائے۔ دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن، آزاد میڈیا، ججوں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مل کر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جس میں حکومت کی ہر حرکت اس کے وبال جان بن رہی ہے ۔ یاد رکھیں قدرت کا قانون حرکت میں آنے کے لیے کسی اجلاس اور مشورے کا پابند نہیں ہوا کرتا۔ آج ہر شعبہ، ہر ادارہ بے توقیر ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کا تحفہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی کے لوگ باہمی طور پر گھتم گھتا ہیں۔ ۔ عمران خان سنگاپور، ترکی، چین، ریاست مدینہ، سعودیہ، ارطغرل، بابر، صلاح الدین ایوبی نہ جانے کتنی کہانیاں اور فلمیں اس عوام کو دیکھا چکے ہیں ۔ اب عوام حکمرانوں کو فلم دیکھنے نہیں ۔۔۔ دیکھانے کی موڈ میں ہے

  • کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں سماجی و نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے آج پہلے دو خبریں آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ پھر آگے بات کریں گے ۔ ۔ سب سے پہلے بات کریں تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے درالخلافہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں دن دیہاڑے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر ڈاکو تین کروڑروپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں پھر ملزمان نے خواتین اور بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے ۔ دوسری وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈاکو مسلم لیگ ن کی سینیٹر کا گھر لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ڈکیتی کی واردات اسلام آباد کے پوش علاقہ ایف ٹین میں واقع سینیٹر نزہت عامر کے گھر ہوئی۔ یہاں بھی نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنایا ۔ دراصل پی ٹی آئی نے حقیقی تبدیلی یہ برپا کی ہے پورےملک میں ڈکیتیاں معمول بن گئی ہیں۔ اب تو ہر کوئی انتظارکررہا ہوتا ہے کہ کب ہماری باری آئے گی۔ ۔ یہ عثمان بزدار اور عمران خان کی ان تھک محنت اور کوششوں کا پھل ہے ۔ جو انھوں نے پولیس میں اتنے تبادلے کیے ہیں ۔ کہ محکمہ پولیس صرف transfer and posting کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کے بعد ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسے ٹھیک رہ سکتی تھی ۔ اس وقت سٹریٹ کرائم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں ۔ اور بس ایک ہی دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ ان نااہل حکمرانوں سے جان چھڑا دے ۔ ۔ کیونکہ عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حصے میں صرف ڈبل ایکس مہنگائی ، اہل اختیار کی بے حسی اور خالی خولی دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

    ۔ مسائل کو حل کرنے کے ان کے طریقوں پر ذرا غور فرمائیں ۔ مہنگائی ہوگئی ہے تو شرح سود بڑھا دو، تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے تو روپے کو گرادو، عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے تو عالمی اداروں سے قرضہ لے لو۔ ٹیکس لگانا ہے تو ایسے لگا ئو کہ مراعات یافتہ طبقے کا بال بیکا نہ ہو۔ تحریک انصاف وہ سب کام کررہی ہے جس سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچے لیکن اصرار یہ ہے کہ این آر او نہیں دینا اور عوام مزید صبر کریں ۔ مہنگائی و بے روزگاری کی چکی میں پستے عوام کے شب و روز تلخ ہو چکے ہیں۔عوامی غم و غصہ برداشت سے باہر ہے۔ کیونکہ عمران خان نے بننا تو پاکستان کو ملائیشیا یا سنگاپور تھا ۔ پر بنا افغانستان دیا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی بدتر کر دیا ہے ۔ کیونکہ مہنگائی کی شرح یہاں افغانستان سے بھی زیادہ ہے ۔ ویسے جب ریاست اپنی مالی اور مالیاتی خودمختاری آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھنے پہ مجبور ہو جائے ۔ تو اندازہ لگا لیں کون لوگ اس ملک پر مسلط ہوچکے ہیں ۔ پھر حکومتی وزراء کا وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کو ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائیں۔ منجن وہ یہ بیچتے ہیں کہ ملک پر دو پارٹیوں کی دہائیوں تک حکومت رہی ۔ اس کے اثرات پورے نظام پر موجود ہیں اور انتظامی خرابیاں بھی اسی کی وجہ سے ہیں۔ اس وجہ سے اب تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ حالانکہ تبدیلی آرہی ہے ۔ کبھی عوام میں جا کر یہ پوچھیں تو انکو لگ پتہ جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ قوم ہمارا ساتھ دے جلد خوشخبری سنائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ خوشخبری قوم کے لیے کم ہے کہ وہ آٹا ، چینی اور بجلی کے بعد گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کررہی ہے ۔ آپ دیکھیں سردیاں آ تی ہیں تو گیس چلی جاتی ہے، گرمیاں آتی ہیں تو بجلی چلی جاتی ہے، کوئی وباء پھیلتی ہے تو ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے، رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سچ یہ ہے جس کو حکومت اور حماد اظہر جھٹلاتے ہیں کہ پچھلے دور میں قدرتی گیس کی کمی کو دور کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کئے گئے اور ملک میں بروقت اس کی درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس کی ترسیل کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں موجودہ حکمرانوں سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ جن اوقات میں ایل این جی کی خریداری کے سستے سودے کیے جا سکتے تھے۔ تب یہ کر لیتے اور اب جو مہنگے داموں میں ایل این جی کی خریداری کے سودے کیے وہاں ملکی ضرورت کے مطابق 14کارگوز منگوانے کے بجائے صرف 12کارگوز کے سودے کرنے میں بمشکل کامیاب ہو سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابھی جب کہ سردیوں کا پوری طرح آغاز بھی نہیں ہوا ہے ملک بھر میں گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    ۔ اس وقت گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چند دنوں میں تین سو روپے سے زائد اضافے کے ساتھ لکڑی اب نو سو نوے روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں چند روز قبل تک سترہ سو روپے میں ملنے والا گھریلو سلینڈر کی قیمت تین ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے اس دوران بھی پریشر نہایت کم ہوتا ہے۔ پھر دیہاتی علاقوں میں تو سرے سے گیس بند ہی کر دی گئی ہیں ۔ یہاں تک اندسٹری بھی رو رہی ہے کہ گیس نہیں مل رہی ۔۔ سچ یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی ویژن ہے نہ وزراء کو عوامی مسائل کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تین سال میں عام آدمی کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کو نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے کم از کم دس سال مزید چاہئیں ۔ جو کہ میری نظر میں صرف ای وی ایم ہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لکھ لیں خدانخواستہ یہ اگلے دس سال بھی مل گئے تو کپتان نے کَٹوں، وَچھوں، مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اور انھی سے سارے قرضے اُتار کر آئی ایم ایف پر لعنت بھیجنی ہے ۔ پھر بننی ہے کپتان کی ریاستِ مدینہ ۔۔ ہمارے آج کے مرکزی حکمران چند شیلٹر ہومز اور کچھ لنگر خانے بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم ریاستِ مدینہ پر عمل پیرا ہیں ۔ ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کے قصے تو عوام کو بہت سنائے اورمتعدد اعلانات بھی کیے کہ لُوٹی رقوم ہر صورت میں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرواؤں گا۔ ہُوا مگر کیا؟ جواب ہم سب کے سامنے ہے۔

    ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جب حکمرانوں کا اپنا حال یہ ہو کہ توشہ خانے کا حساب دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو کسی اور سے کیا خاک پیسہ نکلوانا ہے انھوں نے ۔ ہمارے حکمرانوں کو بس اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور آئندہ کے انتخابات بھی اپنے حق میں رکھنے کا جنوں ہے۔ اب اگر لوگ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے دور کو یاد کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ نواز شریف یا آصف زرداری ان کے رشتہ دار ہیں بلکہ وہ ان کی دی ہوئی ڈیویلپمنٹ اور سہولتوں کو یاد کرتے ہیں۔ آپ جو مرضی کہہ لیں ۔ جتنی مرضی گزشتہ ادوار پر تنقید کرلیں ۔ اس کے باوجود گزشتہ دور اس دور سے لاکھ درجے بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں عوام کہہ رہے ہیں ۔ دراصل یہ ہی تو اس ملک کے ساتھ المیہ ہوا ہے کپتان نے وہ کارکردگی دیکھائی ہے کہ اب لوگ کپتان کے علاوہ کسی کو بھی قبول کرنے کو تیار ہیں ۔ چاہے وہ چور ، لٹیرا یا ڈاکو ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ عمران خان محض بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور عوام کو یہ دونمبری سمجھ آگئی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ یہ قرضے اب کی بار رکنے کے نہیں۔ یہ صرف اور صرف بڑھنے کے لیے ہیں ۔ کسی میں بھی جرات نہیں کہ یہ حقیقت بتا سکے۔ یہ حکومت پاکستان کی خود مختاری پر توسودا کررہی ہے ۔ پر لوگوں میں انوسٹ نہیں کررہی ، ترقیاتی کاموں پر زیادہ خرچہ نہیں کررہی ، تو لوگوں کا معیار زندگی کیسے بہتر ہوگا اور یوں جب لوگ ہنر مند نہیں ہوں گے، تو ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی۔ ہم ایک طویل دلدل میں پھنس چکے ہیں، ہم نے جو بیانیہ بنایا تھا، وہی آج ہمیں ڈس رہا ہے ۔ دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہماری کوئی بھی تیاری نہیں۔ اس لیے جو بدحالی اب کے بار آئی ہے اس نے خان صاحب کو تو کیا خود اس کے پیچھے کھڑی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا دیا ہے۔ یاد رکھیں حکمرانی کا شوق اور اقتدار کے مزے لوٹنا ایک ایسی خواہش اور تمنا ہے جو بہت سارے لوگوں کے دلوں میں مچلتی رہتی ہے۔ تاہم حکمرانی کے اُمور چلانا اور ماضی میں کیے جانے والے اپنے دعوؤں اور نعروں کو عملی جامہ پہنانا اور عوام کی توقعات پر پورا اُترنا آسان نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکمرانی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے بلند ویژن کے ساتھ ہر لمحے، دانائی اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنا پڑتا ہے۔ ہماری بدنصیبی اور بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے حکمران اور ایسی حکومتیں نصیب ہوتی رہی ہیں جنہوں نے نہ تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے کچھ کام کیا نہ ہی ملک میں پائی جانے والی بد عنوانی، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسی بُرائیوں اور مہنگائی در مہنگائی جیسے عفریت کو ختم کرنے میں کوئی پیش رفت دکھائی۔

    ۔ اس لیے اگر وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو سوائے اس کے کہ اس کے بار ے میں صفر +صفر+صفر = صفر0+0+0 = 0 کہا جائے، اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں بنتا۔۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں مملکت اور ریاست پاکستان کی جو درگت بنی ہے۔ اس کی قیامِ پاکستان سے لے کر پچھلے ادوارِ حکومت تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ ۔فی الحال تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ملک کتنا پیچھے چلا گیا ہے اس کا صحیح اندازہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ اُمِ حبیبہ

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے 

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے 

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟ 

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو 

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے 

    میری زباں کو مت روکو 

    تم کو اگر توفیق نہیں 

    مجھکو ہی سچ کہنے دو 

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • لاوارث ضلع (چنیوٹ ) تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ

     

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں ۔تحریر : مہر توقیر منظور گھگھ 

    لاوارث ضلع (چنیوٹ)

    کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں پر ختم۔ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں رہنماؤں کی بے حیائی اور بدعنوانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں معتبر سمجھتے ہیں کیا ہم بھی اس جرم کے طرف دار ہیں ۔

    لاوارث ضلع چنیوٹ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ تھا تقریبا 2008 میں اسے علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ضلع چنیوٹ 2020 تک تو صرف فرنیچر کی وجہ سے مشہور تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ ضلع چنیوٹ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور افسران بالا کی لاپرواہی کی وجہ سے اجتماعی زیادتی اور درندگی میں پہلے نمبر پر آنے والے ضلع کے طور پر جانا جائے گا ۔بچے تو بچے ٹھہرے یہاں تو اب نوجوان اور بوڑھے بھی غیر محفوظ ہیں ۔کچھ دن پہلے بھوانہ کا واقعہ سن کر اوسان خطا ہو گئے جہاں پر ننھی کلی اقصیٰ کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد جب نعش ملی تو ایس ایچ او بھوانہ اور ڈی ایس پی بھوانہ موقع پر پہنچ گئے ۔اپنے انداز میں حسب ضابطہ کارروائی میں مصروف ہوگئے ۔ٹیسٹ کروائے گئے سیمپلز لیے گئے۔اور ادھر کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں خبریں نشر ہونے لگی ۔ہمارے معزز وزیراعلی صاحب نے نوٹس بھی لیا ۔اے آر وائی کے مشہور پروگرام criminal most wanted کی ٹیموں نے آکر پروگرام بھی کیے ۔لیکن آخر کیا ہوا ؟؟ چند دن گزرنے کے بعد تھانہ چناب نگر کی حدود میں حاملہ عورت سے زیادتی کی گئی مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان سے ساز باز رہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ۔

    اب بات کرتے ہیں لاوارث ضلع کے لاوارث تھانہ کانڈیوال کی ۔تھانہ کانڈیوال کی حدود موضع کلور شریف جو کہ صرف نام کی شرافت تک محدود رہ چکا ہے جنسی درندگی میں نمبر ون بن گیا ۔12 سالہ بچے سے زیادتی کی گئی ۔ملزمان اور پولیس آپس میں بھائی چارہ نبھانے لگے اور مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے مدعیان نے مجبورا صلح کرلی۔بعد میں زیادتی کی پوری ویڈیو وائرل کردی گئی ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزمان سے بڑھ کر تو پولیس ملزم ہے لیکن کون پوچھے گا۔۔دو دن بعد کلور شریف میں عورت سے زیادتی کا واقعہ جس کا ڈراپ سین بھی کچھ اسی طرح ہوا کہ مدعی کو انصاف نہ ملنے پر مجبورأ صلح کرنی پڑی۔اس کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا تھا کہ موضع کلور شریف کے تین اوباش لڑکوں نے مل کر ایک اور حوا کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی ۔اس مقدمہ نے تو افسران کی فرض شناسی اور کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا جہاں پر زیادتی ایک بھائ نے کی اور پولیس نے اپنی جیب گرم کرکے ایف آئی آر میں دوسرے بھائی کا نام لکھ کر پورے مقدمے پر پانی پھیر دیا ۔جبکہ لڑکی کے گھر والے ابھی تک انصاف کی فراہمی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

    اب تو چنیوٹ ٹرینی ضلع کے نام سے مشہور ہو چکا ہے جہاں پر افسران اور ملازمین کو ٹریننگ کے لئے ایس ایچ او لگا دیا جاتا ہے ۔تو کہیں ہیڈ کانسٹیبل کو سی ائی اے سٹاپ کا انچارج لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ان کی شراب نوشی کی ویڈیوز پر انہیں معطل کر دیا جاتا ہے۔یہاں پر سی آئی اے سٹاف بھوانہ کے انچارج کی شراب نوشی کی وائرل ویڈیو پر اسے معطل کیا گیا حالانکہ اسے نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے تھا ۔

    آج صبح کا سورج ایک اور ظلم اور بربریت کی داستان لے کر ابھرا ۔ایسی داستان جو سننے پر انسانی روح کانپ اٹھی . جسم لرزا گیا ۔جو واقعہ سن کر انسانیت بھی شرما گئی ۔لاوارث ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے علاقہ محمد شاہ میں اقبال باٹا نامی شخص نے پچاس 50 سالہ ذہنی معذور محمد عارف کو دو ساتھیوں سے ملکر جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا اور ویڈیو بنا کر وائرل کردی عارف کے بھائی کی مدعیت میں درخواست دائر کر دی گئی ۔بھوانہ پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے مگر کوئی ان صاحبان سے پوچھنے والا ہی نہیں کہ ٹیم کس لیے تشکیل دی آپ نے کوئی لادی گینگ یا چھوٹو گینگ پکڑنا ہے۔

    اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کتاب بھر جائیں مگر لاوارث ضلع کی داستان ختم نہ ہوں ۔ڈی پی او چنیوٹ آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا کچھ نظر کرم اس لاوارث ضلع پر بھی ڈال دیں

  • بیٹے کی طبیعت خراب،شعیب ملک آج بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے لئے دستیاب نہیں ہوں گے

    بیٹے کی طبیعت خراب،شعیب ملک آج بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے لئے دستیاب نہیں ہوں گے

    بیٹے کی طبیعت خراب ہونے کے باعث پاکستان ٹیم کے سینئر کھلاڑی شعیب ملک آج بنگلہ دیش کے خلاف میچ نہیں کھیل سکیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بیٹے کی طبیعت خراب ہونے کے باعث پاکستان ٹیم کے سینئر کھلاڑی شعیب ملک آج قومی ٹی 20 اسکواڈ کو چھوڑ دیں گے جس کے بعد وہ بنگلادیش کے خلاف آ ج ہونے والے تیسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے لیے ٹیم کو دستیاب نہیں ہوں گے۔

    شعیب ملک مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے ڈھاکہ سے دبئی روانہ ہوجائیں گے جبکہ قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کل شام 6:30 بجے ڈھاکہ سے بذریعہ دبئی وطن واپس روانہ ہوگا جبکہ اسپنرز عماد وسیم اور عثمان قادر کچھ روز دبئی میں اہلخانہ کے ہمراہ قیام کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوں گے۔

    علاوہ ازیں قومی ٹیسٹ اسکواڈ کل دوپہر 3 بجے ڈھاکہ سے چٹاگانگ روانہ ہوگا بولنگ کنسلٹنٹ ویرنن فیلنڈر پہلے ٹیسٹ کے بعد اسکواڈ سے علیحدہ ہوجائیں گے وہ یکم دسمبر کو جنوبی افریقہ روانہ ہوجائیں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ 26 نومبر سے چٹاگانگ میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 4 دسمبر کوڈھاکہ میں کھیلا جائے گا پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑی بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے ڈھاکہ پہنچ گئی ہے جن میں اوپنر بیٹس مین امام الحق، اظہر علی اور آل راونڈر فہیم اشرف شامل ہیں

  • کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم حالات کی تلخیاں اس تحریر کا پیش خیمہ ہیں.ایک خبر نظر سے گزری کہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری دستخط شدہ درخواست سماعت کے لیے مقرر”. ظلم نہیں کہ ایک شخص جسے قوم نے جیتے جی ستایا ہو.اس کی ہر کوشش کے صلے میں اس پہ ایک مقدمہ کیا گیا ہو.

    حقائق میری تحریر سے متضاد ہو سکتے ہیں ممکن ہے کہ وقت کا تقاضا ہو کہ مقدمات قائم ہوئے.

    مگر یہ موت کے بعد مقدمات کی سماعت ہونا کب تک جاری رہے گا.

    مشہور انگریزی مقولہ ہے.

    Justice delayed is Justice denied.

    موت کے بعد عدالت سے بریت کا فیصلہ آتا ہے.

    پھانسی کے بعد بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے.

    مجرم طبی بنیادوں پہ چند ہفتے کی کی ضمانت پہ دو سال نکال کر عدالت کے فیصلے کے پرخچے اڑاتا نظر آتا ہے .دوسری طرف اسی مجرم کی سزا یافتہ بیٹی کو اس مجرم کی عیادت کے لیے ضمانت ملی ہوئی ہے جو ملک میں موجود نہیں.عام آدمی مجرم ہو تو معاشرے میں کھڑا نہیں ہو سکتا مگر مجرم دولت مند ہو تو جلسے جلوس بھی کرتا ہے.کیا توہینِ عدالت نہیں ہے. 

    کیوں عدالتی فیصلے زیرِ التوا رہتے ہیں.

    کیوں فوری انصاف نہیں ملتا؟ موت کے بعد بریت کا فیصلہ کب تک ہماری روحیں جھنجوڑتا رہے گا؟ 

    یہ سوال توہین نہیں ہیں.میرا  اس اسلامی جمہوریہ کہ شہری ہونے کے ناطے حق ہے سوال کروں کہ کب تک اسی طرح غیروں سے لیا گیا نظامِ عدل ہمارے ملک میں لاقانونیت کا محرک رہے گا.رشوت سفارش دھونس دھاندلی والے مطمئن ہیں بے چین ہے تو شریف آدمی اور اسکی شرافت اسے کورٹ کچہری نہیں جانے دیتی.

    طاقتور مجرم بچتے ہیں تو قانون کی کمزوری نہیں سزا کے عمل کی کمزوری ہے.کسی بھی مضبوط معاشرے کا مطالعہ کریں بنیادوں میں مضبوط نظام عدل ہوگا.

    کسی بھی خوشحال معاشرے کی خوشحالی عدل کے بغیر ممکن نہیں.

    جہاں نظم و ضبط دیکھا جانچ کے بعد معلوم ہوا اس وطن کے شہری قانون توڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے کہ سزائیں سخت اور فوری ملتی ہیں.

    ہم نے ویکسین جرمانے اور باقی ماندہ تھریٹس کے پیشِ نظر لگوائی کہ فوری برطرف کیا جا رہا تھا.

    ہم کب تک دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے رہیں گے؟ 

    جب تک فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا.

    جب  ہم جیتے جی تمغے دینے لگے. زندہ کو بری کرنے لگے ہم بھی کامیاب قوم بن جائیں گے.

    اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا.

    ان کو معزز ٹھہرایا جائے گا.قوم نے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے.

    مگر ڈاکٹر صاحب جنتوں کے مکین ہو جانے کے بعد اس شعر کے مصداق مسکراتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھ رہے ہوں گے

    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 

    Twitter:@Hsbuddy18

  • وقت کے بارے میں اسلاف کی احتیاط ! تحریر تعریف اللہ عفی عنه

    ❤بسم اللہ الرحمن الرحیم❤

    "علمائے سلف اپنے وقت کے بارے میںبڑے محتاط تھے ،وقت کے ضائع ہونے کا انہیں ہر وقت کھٹکا لگا رہتا کسی بزرگ سے چند لوگ ملاقات کیلئے گئے ،ملاقات کے آخر میں انہوں نے ان بزرگ سے معذرت کے طور پر کہا”شاہد ہم نے آپ کو اصل کام سے ہٹا کر مشغول کردیا”وہ بزرگ فرمانے لگے "تم ٹھیک کہتے ہو،میں پڑھنے میمصروف تھا،آپ لوگوں کیوجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑدیا۰”

    چند لوگ حضرت معروف کرخی رح کے پاس بیٹھے ،جب مجلس انہوں نے طویل کی اور کافی دیر تک نہیں اٹھے تو حضرت معروف کرخی رح ان سے فرمانے لگے:

    "نظام شمسی چلانے والا فرشتہ تھکا نہیں (اس کی گردش جاری اور وقت گزر رہا ہے)آپ لوگوں کے اٹھنے کا کب ارادہ ہے؟

    داؤد طائی روٹی کے بجائے چورہ استعمال کرتے تھے،فرماتے تھے،دونوں کے استعمال میں کاکافی تفاوت ہے روٹی کھاتے چباتے کافی وقت لگ جاتا ہے جب کہ چورے کے استعمال سے نسبتا اتنا وقت بچ نکل آتا ہے کہ اس میں پچاس آیات تلاوت کی جاسکتی ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰عثمان باقلانی ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتے تھے،فرماتے تھے :”چونکہ کھاتے وقت ذکر نہیں ہوسکتا اس لئے جب میں کھانے میں مشغول ہوجاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح نکل رہی ہو "حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:”جو شخص ایک مرتبہ "سبحان اللہ وبحمدہ”کہے گا،اس کے عوض اس شخص کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا”

    ذرہ اندازہ کیجئے ! زندگی کی کتنی قیمتی گھڑیاں ایسی ہیں جو انسان ضائع کردیتا ہے اورءاتنے عظیم اجر وثواب سے محروم رہتا ہے ۰ دنیا کے یہ ایام اخرت کیلئے کھیتی کا درجہ رکھتے ہیں ،کون ہے ایسا جس میں  عقل ہو کہ اپنی کشت میں بیج نہ بوئے یا کاہلی وسستی سے کام لے۰اس لئے ضرورت ہی کے تحت لوگوں سے ملا جائے ،عام حالات میں صرف علیک سلیک  پر اکتفا کیا جائے،زیادہ میل جولترک کرکے خلوت اور کنج تنہائی وقت کو ضیاع سے بچانے میں بہت ممد ہے ،اس طرح کھانے کی مقدار میں کمی بھی وقت بچانے میں معاون بن سکتی ہے کیونکہ بسیار خوری بسیار خوابی کا سبب ہے،ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں یہ چیز بڑی نمایاں نظر آتی ہے۰”

    "علمائے سلف بہتعالی ہمت تھے ،ان کی عالی ہمت کا اندازہ آپ ان کی ان تصانیف سے کرسکتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں،علم میں کمال چاہنے والے طالب علم چاہیے کہ اسلاف کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ان کی عالی ہمتی دیکھ کر اس کا دل زندہ اور اس کے محنت کرنے کا عزم متحرک ہو ،نیز کتاب کسی بھی فن کی ہو فائدہ سے تو بہر حال خالی نہیں ہوتی (اس لئے اسلاف کی ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چایے)”

    صاحب وعیون الانباء نے امام رازی رح کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

    "خدا کی قسم!کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک کرنے کیوجہ سےمجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت اور زمانہ بڑا ہی عزیز سرمایہ ہے۰”

    "منتقی الاحبار”کے مصنف مجدالدین ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن رجب نے "ذیل طبقات حنابلہ”(جلد ۲،صفحہ ۲۴۹)میں ان کے متعلق لکھا ہے:

    "وہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع ہونے نہیں دیتے تھے،زندگی کی ایک گھڑی کو کسی مفید مصرف میں لگانے کا اس قدر اہتمام تھا کہ کھبی تقاضہ اور ضرورت سے جاتے تو اپنے کسی شاگرد سے کہتے تم کتاب بلند آواز سے پٹھو تاکہ میں بھی سن سکوں اور وقت ضائع نہ ہو۰”

    بات بڑی عجیب ہے لیکن عجب چیز ہے احساس زندگانی کا !

    اٹھویں صدی کے مشہور شافعی عالم اور فقیہ شمس الدین اصبہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے "درر کا منہ”(جلد ۶ صفحہ ۸۵)میں،اور علامہ شوکانی نے "البدر الطالع”(جلد ۲ صفحہ ۲۸۹) میں ان کے متعلق لکھا ہے  کہ "وہ کھانا اس ڈر کی وجہ سے کم کھاتے تھے کہ زیادہ کھانے تقاضہ کی ضرورت بڑھے گی اور خلا جاکر وقت ضائع ہوگا”

    حافظ ابن عساکر نے "تبیین کذب المفتری”(صفحہ ۲۶۳) میں پانچویں صدی کے مشہور عالم سلیم رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ "لکھتے لکھتے جب ان کا قلم گھس جاتا تو قلم کا قط لگاتے ہوئے ذکر شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط ہی لگانے میں ضائع نہ ہو”

    علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے "یعنی وہ ساعتیں اجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں،میں کھانا کھاتا ہوں۰”

    (متاع وقت اور کاروان علم ،مصنفہ ابن الحسن عباسی رح)

    @Tareef1234