Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں تحریر: حمیداللہ شاہین 

    دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراک کی دستیابی، حفاظت اور مارکیٹنگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔  زرعی مارکیٹنگ وہ لائف لائن ہے جس میں زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں کی دستیابی، حفاظت اور ترقی شامل ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر بھی مقامی منڈیوں سے قربت کے حوالے سے کاشتکاری کو بحرانوں کا سامنا ہے۔  زرعی مارکیٹنگ سے متعلق مختلف مخمصے ہیں جن پر مختصراً اس مضمون میں بحث کی جائے گی۔

     پاکستان خصوصاً بلوچستان کے کاشتکار برادری کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں۔  ہم اسی مضمون میں کچھ مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

     تمام مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔  نئی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ترقی سے متعلق مسائل کو ترتیب دینے والے ریاستی محکمے اپنے نقطہ نظر میں سست اور غیر سنجیدہ ہیں۔  بلوچستان کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت ہے۔  یہ صوبہ نہ صرف دیگر ممالک بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زندگی کے حوالے سے بہت پسماندہ نظر آتا ہے۔  خضدار کے علاقے نال کے رہنے والے غریب کسان اللہ بخش لانگو کی ایک دکھ بھری کہانی سناتا ہوں۔  وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک ہے۔  پیاز کے کاشتکار ہونے کے ناطے اس کے پاس اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کوئی قریبی بازار نہیں ہے۔  گزشتہ جون میں کوئی قریبی مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  وہ اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کراچی اور فیصل آباد آیا، جہاں اس نے اپنی پیداوار کو متعلقہ علاقوں کے دلالوں کے رحم و کرم پر ٹھکانے لگایا۔  یہی کہانی بلوچستان کے ہزاروں کسانوں کی بھی ہے، جو آخرکار اپنی بقا کی امید کھو رہے ہیں۔  ایک دن یہ صورت حال مزید خراب ہو جائے گی اور پہلے ہی باغیوں کی زد میں آنے والی زمین کو لاقانونیت کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     ایک اور بڑا گڑبڑ متعلقہ اداروں کی مالی مدد کی کمی ہے۔  کسانوں کی برادری کریڈٹ یا قرضوں، فصلوں کی بیمہ، اور کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے محروم ہے، جس سے ان کی پیداوار کی لاگت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔  ان کی حتمی مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے کسانوں کو خاطر خواہ منافع نہیں مل سکتا۔  اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی طور پر مہنگی پیداوار بین الاقوامی سطح پر سستی فصلوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟  یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  مائیکرو لون کے ذریعے صحیح کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی صحیح وقت پر دستیابی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے فصل کی خالص پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

     پیکجنگ اور گریڈنگ کے لیے پوسٹ ہارویسٹ بین الاقوامی معیارات کے بارے میں علم کی کمی  اشیاء کی پیکیجنگ اور درجہ بندی کھانے کے معیار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔  پیداوار کا معیار مارکیٹ کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کی عدم موجودگی اور اشیاء کی کم شیلف لائف بھی تشویش کا باعث ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کسانوں کو اپنی اجناس کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دیں گے اور جب مارکیٹ کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوں گی تو وہ اپنی پیداوار فروخت کریں گے۔

     پراسیسڈ فوڈ کے پاکستانی برانڈز کو اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں ترقی کرنی چاہیے۔  کیونکہ اب ہمارے برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ نمائش نہیں ہے۔  ایک بار جب ہمارے پراسیس شدہ کھانے کو بین الاقوامی سطح پر نمائش مل جائے گی، تب ہمارے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملیں گی۔  یہ کچھ مسائل تھے جن کا سامنا ہماری کاشتکاری کو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں کرنا پڑ رہا ہے۔  اب ان پیچیدگیوں کا حل کیا ہونا چاہیے؟  ہم نے کچھ حل تجویز کیے ہیں۔

     حکومت سپلائی چین سے مڈل مین کے کردار کو نکالے۔  اس کی تعمیل میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جا سکتی ہے۔  ہندوستانی حکومت نے ہر قصبے میں خریداری مرکز تیار کیا ہے، جہاں ایک سے زیادہ گاؤں کے کسان اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو فروخت کر سکتے ہیں۔  حکومتی ریگولیٹری اتھارٹی ہر اجناس کی قیمتیں طے کرتی ہے اور اس مرکز کا فرض ہے کہ وہ کسان کی ہر پیداوار کو تجویز کردہ نرخوں پر خریدے۔  اس پہل سے ہندوستان کی کاشتکاری برادری دن بہ دن مالی طور پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

     عالمی سطح پر نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔  تاکہ پاکستان میں مزید تجارت ہو سکے اور اس سرگرمی سے پورے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی۔  بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھا انفراسٹرکچر اور مقامی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  تاکہ خوشحالی بلوچستان کے کسانوں کا مقدر بن جائے۔  صوبے میں نقل و حمل یا گاڑیوں کی قیمتیں علاقے سے متعلق حکام کے ذریعہ طے کی جائیں۔  تاکہ کسانوں کو دوسرے صوبوں کے کسانوں کے برابر مراعات مل سکیں۔

     ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے دفاتر میں گھنٹیاں بجیں گی، تاکہ وہ بلوچستان کے کاشتکاری کے ہنگامی حالات کے مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات کر سکیں۔

    @iHUSB

  • میری زندگی تحریر سعد اکرم

     

    ایک نمایاں مذہبی تحریک دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے جس نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیئے یہ پچھلے دو سو سال میں سب سے بڑی مذہبی تحریک بن کر ابھری اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی تحریک تھی  برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئ تھی اس سے پہلے یہاں کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا ہے اس اقتدار میں بھی مسلمانوں کے مدارس قائم ہوئے بڑے بڑے علماء بھی پیدا ہوئے ان کے ذریعے سے تصنیف و تالیف کی سرگرمیاں بھی ہوتی رہیں ۔ انگریز آ گئے تو انھوں نے آ کے نئے نظام تعلیم نظام معاشرت اور نئے نظام سیاست کی بنا ڈالنا شروع کی تو اس وقت مسلمانوں میں تہذیبی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ردعمل آیا جس میں فتاوی دئے گئے اور ہندوستان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئ  بتایا گے یہ دارالسلام ہے یہ دارالحرب ہے اور اب اس کی نوعیت کیا ہو گئ ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلے کا حل سوچا کے ہم نے اگر اپنی تہذیب کو اپنے مذہب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا راستہ یہی ہے کے ہم دین کی تعلیم کا اہتمام اعلی درجے پہ کریں ۔مسائل ختم ہو گئے تھے پرانے مسلمانوں کے اوقاف اس طرح نہیں رہے تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے جو بادشاہوں کی طرف سے نوازشیں ہوتی رہتی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں تو عام مسلمانوں سے اپیل کی گئ کے وہ بندوبست کریں ۔یہاں سے جو علماء آگے آئے ان میں مولانا محمود الحسن مولانا قاسم نانوتوی مولانا اسماعیل میرٹھی مولانا رشید احمد گنگوہی یعنی بڑے غیر معمولی لوگ اپنے علم کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے ۔ابھی یہاں علم زیر بحث آیا تو اس کی دو  بڑی روایات ہیں ایک وہ جس کو سلفی روایت کہتے ہیں جس کے بڑے لوگوں میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کا نام لیا جاتا ہے اور ایک وہ روایت ہے جو فلسفہ اور تصوف کے زیر اثر پیدا ہوئ اور اس میں سرخیل کی حیثیت تو امام غزالی کو حاصل ہے ان کے بعد شیخ اکبر محی الدین عربی بھی ایک بڑا نام ہے اور بھی بہت لوگ اس میں پیدا ہوئے برصغیر میں اگر کسی کو امام الہند کی حیثیت حاصل ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں  تو شاہ صاحب کے گھرانے نے جو علمی کام کیا اس سے فکری علمی پس منظر پیدا ہوا  اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں غزالی سے لے کر جو صوفیانہ مزاج اور ہمارا جو قدیم علم ہے اس کے پاسبانوں کی حیثیت سے ان لوگوں نے اس مدرسے کی بنیاد رکھی ۔یعنی ایک ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی دی جائے جس میں اس تعبیر کے بڑے علماء پیدا ہوں پیش نظر تو بڑے علماء پیدا کرنا ہی تھا کیونکہ اس میں ہر درجے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے سیکھتے ہیں  اور اس میں کوئی شک نہیں کے دارالعلوم دیوبند نے بہت بڑے بڑے علماء پیدا کیئے ہیں ۔مولانا حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا انور شاہ کشمیری مولانا بدر عالم میرٹھی ہوں یہ چند نام ہیں جو معمولی درجے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے علماء میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ دوسری چیز وہ تھی کے لوگوں کے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے وہ طریقے  آزمائے جائیں جو صوفیانہ روایت سے ملیں یعنی خانقاہ کا اور مدرسے کا ایک امتزاج بنانے کی انھوں نے کوشش کی ۔ایک طرف تو دینی علوم فقہ کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف حاجی امداداللہ مہاجر مکی جیسے بزرگوں سے طریقت کے اصول بھی سیکھ رہے تھے اور خود مدرسے کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی وہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے مجاہدین تھے ان کے اسلاف نے جو پہلا کام کیا تھا کے انگریزوں کی حکومت کو یہاں سے نکالا جائے اور اس میں جہاد بھی ہوا بلکہ سید احمد شہید کی تحریک بھی وہی ہے 

    اس وجہ سے وہ اپنی ذات میں اپنی شخصیت میں اپنے طرز عمل میں ہندوستان کے اندر ایک سیاسی تحریک کے بھی بانی تھے علماء کے اندر بلکہ کہا جا سکتا ہے کے گاندھی اور مسلم لیگ سے پرانی تحریک علماء ہی کی تھی ۔اور  یہ وہ ظہور ہوا جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تک بات پہنچا دی  ۔اور خانقاہی صورت تھی اس نے نئ ایک صورت اختیار کی اور تبلیغی جماعت بن گئ اب چلتے پھرتے یہاں تربیت پاتے ہیں لوگ ۔جو کسی زمانے میں خانقاہوں میں جاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند تو ماں بن گیا اس کے بطن  سے بہت ساری درسگاہیں وجود پذیر ہوئیں ۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیلے اس کے پڑھے ہوئے لوگوں نے دنیا بھر میں علم فنون میں غیر معمولی کام کیئے ۔اسی کے اندر سے جمعیت علماء ہند پیدا ہوئ ایک موقع پر مولانا داود غزنوی  جو اہلحدیث کے بڑے عالم تھے انھوں نے مولانا  ابوالکلام آزاد سے کہا کے ہماری  جمعیت علماء ہند میں تو دیوبند ہی دیوبند ہے تو ابوالکلام آزاد نے کہا دیوبند نے علماء پیدا کیئے ہیں تو وہی ہوں گے۔ایران سعودیہ کے بعد افغانستان وہ ملک ہے جہاں ایک مسلک ہی  کی حکومت قائم ہے یعنی آپ اسے دیوبندی سٹیٹ کہ سکتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک وجود ہے اور یہ بھی جمعیت علماء ہند سے بنی جو دارالعلوم دیوبند سے پیدا ہوئ

    @saadAkram_

  • کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    صحت مند زندگی گزارنے کیلئے پرسکون نیند کا آنا لازمی ہے ۔ اس لیے انسان کو تروتازہ اور تندرست رہنے کے لیے روزانا سات سے آٹھ گھنٹے نیند کرنا ضروری ہے۔ نیند نہ آنا یا نیند کی کمی کا واقع ہونا ایک بیماری ہے جس کو انسومنیا کہاجاتا ہے ۔ اس دور میں سو میں سے 98٪ لوگوں کو نیند کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس میں بڑی تعداد میں اب نوجوان طبقہ شامل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ ٹیکنالوجی نے اب نیند کی جگہ لے لی ہے ۔ اب ہر ایک کے پاس جدید سے جدید قسم کا موبائل فون ہے ۔ اور اس میں مختلف قسم کی گیمز ڈون لوڈ ہیں اور نوجوان طبقہ دن رات اسی گیمز میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان گیمز کے کھیلنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ آنلائن کاروبار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیند پوری نہیں کر پاتے ۔ اور کچھ لوگ رات کو دیر دیر تک مختلف پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقرر وقت پر سو نہیں پاتے اور نیند کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو دن بھر مزہ نہیں آئے گا ۔ آپ سستی کا شکار ہوں گے۔ اس دور میں تقریباً ہر ایک موبائل فون میں لگا ہوا ہے ناہی ورزش کر پاتے اور ناہی چلاک چست رہ سکتے ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماریاں جس میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہونا ، یاداشت کا کمزور ہونا ، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری کا متاثر ہونا ، چڑچڑے پن کا شکار ہونا ، نیند کی کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونا ، ہائی بلڈ پریشر کا بڑھنا ، مختلف دل کی بیماریوں کا شکار ہونا جن میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہونا ، نیند کی کمی سے وزن کا بڑھنا ، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساسات کا ختم ہونا شامل ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے آپ چڑچڑے پن کا ہمیشہ شکار رہ سکتے ہیں۔ مکمل نیند نا کرنے کی وجہ سے آپ اسکول ، دفتر اور گھر میں سست رہیں گے۔ جو آپ کا موڈ خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ بے چینی ، ڈیپریشن جیسے مسائل سے دو چار رہ 

      سکتے ہیں اس لیے ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کیلئے نیند کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نیند کی کمی کو پورا نہیں کریں تو آپ کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ ایک واضع اور عیاں بات ہے اس چیز سے کسی کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ اگر آپ یا آپ کے بچے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہے تو آپ ان مسائل کے حل پر غور کریں۔ کہ کیا وجہ ہے جس سے ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں۔ آپ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ہر چیز کا ایک مقررا وقت بنائیں اس وقت اس وقت تک میں نے کھیلنا ۔ اس وقت سے اس وقت میں گھر کے کام کرنے ہیں اس وقت سے اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنا ہے ۔ جس دن آپ نے وقت کو وقت کے مطابق ڈھالا اس دن سے آپ محسوس کریں گے واقعی میں چینج ہوں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ سورج کا بھی

     وقت مقرر ہے صبح طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوتا ہے اسی طرح پانچ  نمازوں کا بھی  وقت 

     متعین ہے ۔ انسان کی بڑی غلطی یہی ہے وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا ۔ اور بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے وقت کی پابندی کریں ۔ اور نیند کی کمی کو پورا کریں ۔ نیند پوری ہوگی تو آپ ان مسائل سے بخوبی نکل آئیں گے۔

    عبدالوحید @Waheed_B

  • سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا

    سرینگر:سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں‌:سول سوسائٹی گروپ آف انڈیا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں قائم ایک سول سوسائٹی گروپ” کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ“نے سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے میں عام شہریوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصل حقیقت کو سامنے لانے کے لئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا کے زیر قیادت کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حکام کی طرف سے مجسٹریٹ کے ذرےعے تحقیقات کا حکم واقعے سے چشم پوشی کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ گروپ نے کہاکہ مجسٹریل انکوائری کو فوری طور پر عدالتی تحقیقات میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ سچائی کو بے نقاب کیا جا سکے اور قانون کی حکمرانی پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

    بیان میں کہاگیا کہ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کو فوری طوپر مکمل کیا جائے اورواقعے میں ملوث افراد کو معطل کیاجائے۔ ہم ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طورپر جموں و کشمیر کا دورہ کریں اور اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اٹھائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ 2016 سے کشمیر کے دوروں کے بعد تیار کی گئی اپنی نو رپورٹوں میں کشمیر کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے جس طرح بہت سے دوسرے لوگ جن میںصورتحال سے واقف فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں، فوجی حل کے بجائے سیاسی حل پر زوردے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سیاسی حل تمام فریقین کے ساتھ بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ لیکن ہمارے اس مطالبے سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔بھارتی حکومت نے گورنر راج سے لے کر آئینی تبدیلیوں تک ہر چیز کی کوشش کی ہے لیکن کچھ بھی نہیں کرسکی کیونکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کے قتل سے ثابت ہوا ہے کہ زمینی صورتحال معمول سے بہت دور ہے جس کا دعویٰ حکام وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔

    بیان میں کہاگیا کہ بے گناہ شہریوں کے قتل جیسے واقعات سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ گروپ نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے اس بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے عسکریت پسندوں کو تشدد کرکے قتل کرنے کی حمایت کی تھی۔ بیان میں کہاگیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل راوت کو ملک کے قوانین کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ صرف جنگل راج پر یقین رکھتے ہیں۔ سی سی جی نے کہا کہ جنرل راوت کو فوری طور پر یہ بیان واپس لینا چاہیے اور اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

  • ٹیسٹ سیریز: قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی بنگلہ دیش روانہ

    ٹیسٹ سیریز: قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی بنگلہ دیش روانہ

    پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑی بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے ڈھاکہ روانہ ہو گئے۔

    باغی ٹی وی :ڈھاکہ روانہ ہونے والے کھلاڑیوں میں اوپنر بیٹس مین امام الحق، اظہر علی اور آل راونڈر فہیم اشرف شامل ہیں ۔ پی سی بی نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کھلاڑیوں کی روانگی سے قبل کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ڈھاکہ پہنچنے کے بعد ایک دن قرنطینہ میں گزاریں گے اور اس کے بعد اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔


    قومی ٹیسٹ اسکواڈ 24 نومبر کو چٹاگانگ روانہ ہوگا جبکہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کھلاڑی 24 نومبر کو لاہور واپس پہنچیں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے گی پہلا ٹیسٹ میچ26 نومبر کوچٹا گانگ میں شروع ہوگا۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آخری میچ 22 نومبر کو کھیلا جائے گا جبکہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پہلے سے 0-2 سے کامیابی حاصل کر چکا ہے-

    بنگلہ دیش کیخلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے فخر زمان نے قومی ٹیم کی فتوحات کا کریڈٹ بابر اعظم کو دیتے ہوئے کہا کہ کپتان نے بیٹنگ اور فیلڈنگ میں اعلیٰ معیار سیٹ کیا ہے تفصیلات کے مطابق بیٹسمین فخرزمان نے کہا کہ ملک سے باہر کوئی بھی جیت ہو وہ اہم ہوتی ہے، ٹیم کی مستقل اچھی کارکردگی کا سہرا بابر اعظم کے سر جاتا ہے کپتان نے بیٹنگ اور فیلڈنگ میں جو معیار مقرر کیااس کیلئے ہر کھلاڑی سخت محنت کرتا ہے بنگلہ دیش کی پچز اور کنڈیشنز یواے ای سے مختلف ہیں،میزبان بولرز اپنی کنڈیشنز سے بخوبی واقف اور یہاں اچھی بولنگ کا ہنرجانتے ہیں۔

    فخر زمان نے کہا کہ کسی کیلئے بھی آغاز میں بیٹنگ آسان نہیں ہوتی، اس بار پچ پہلے میچ کی بانسبت بہتر مگر آئیڈیل نہیں تھی، ساتھی بیٹسمین محمد رضوان نے یہی کہا تھا کہ کچھ دیر کریز پر ٹھہر گئے تو رنز بنانا آسان ہوجائے گا۔

    قومی کرکٹر حارث روؤف کونسی پاکستانی اداکارہ کیساتھ ڈنر پرجانا چاہتے ہیں؟

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہاکہ بطور ٹیم بہتر کوشش کی وجہ سے ہم اچھی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے، میچ کی صورتحال کے مطابق کھلاڑیوں کا ذمہ داری اٹھانا ٹیم کیلیے بڑی خوش آئند بات ہے، درمیانی اوورز میں بولرز نے زبردست پرفارم کرتے ہوئے میزبان بیٹنگ لائن کو باندھ کر رکھا جس سے مسلسل وکٹیں حاصل ہوتی رہیں، اسی وجہ سے بنگلہ دیش کو اتنے کم ٹوٹل تک محدود کر سکے۔

    ہدف چھوٹا ہونے کی وجہ سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہونے کے سوال پر کپتان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے،بنگلہ دیشی کنڈیشنز میں کھلاڑی ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں،اس بار فخرزمان اور محمد رضوان نے چیلنج قبول کیا اور اچھی اننگز کھیلیں،میں بھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اگلے میچ میں بڑی اننگز کھیلنے کی کوشش کروں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بنگلادیش کیخلاف دوسرا ٹی ٹوئنٹی پاکستان نے جیت کر سیریز اپنے نام کرلی پاکستان نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔

    تین میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے باآسانی بنگلادیش کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی ۔بنگلادیش نے پاکستان کو جیت کیلئے 109 رنز کا ہدف دیا جو اس نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

    ڈھاکا کے شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں بنگلادیش کے کپتان محمود اللہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو زیادہ کارگر ثابت نہ ہوا اور میزبان ٹیم مقررہ اوورز میں صرف 108 رنز ہی بناسکی۔

    بنگلادیش کیخلاف دوسرا ٹی ٹوئنٹی پاکستان نے جیت کر سیریز اپنے نام کرلی

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ دوئم

    آپ ہر روز ٹی وی کے سامنے کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اگر آپ کے روزمرہ کے معمولات میں کام سے گھر آنا شامل ہے ، ذہنی طور پر صرف ٹی وی آن کرنے کے لیے تھک جاتا ہے اور اگلے تین سے چار گھنٹے بغیر سوچے سمجھے شوز دیکھتا رہتا ہے۔ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں

    دن کا آغاز نیت سے کریں کے آپ نے کیا اہم کام کرنے ہیں ۔
    اگر آپ دن کا آغاز ہر دن مکمل کرنے کے معنی خیز مقاصد کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کر استعمال کر رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اگر آپ تیس منٹ ورزش ، ایک گھنٹہ سوشل میڈیا اور ایک دو گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گزارنے کے منصوبے کے ساتھ اٹھتے ہیں تو آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ (اور یہ آپ کے دن کے صرف ساڑھے تین گھنٹے ہیں) باقی وقت کو گزارنے کے لیے بھی اچھا منصوبہ بنائیں.

    صحت اور تندرستی ، تعلیم اور تعلقات کی تعمیر فضول سرگرمیاں نہیں ہیں۔ آپ کو سونے سے پہلے اپنے کیلنڈر کو دیکھنے کی ضرورت ہے ، دیکھیں کہ اگلے دن آپ کہاں جا رہے ہیں اور ان سرگرمیوں میں شامل کریں جو آپ اس دن کرنا چاہتے ہیں۔

    دن کے لیے اپنے مقاصد کو مکمل کرکے ، آپ محسوس کریں گے کہ آپ نے ایک معنی خیز دن گزارا ہے ، اور اس سے بہت زیادہ مثبت توانائی آئے گی۔ یہ آپ کو اگلے دن اسی طرح کے مزید کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

    کچھ ایسے مقاصد اپنی زندگی میں شامل کریں جو آپ کو بطور فرد بہتر بناتے ہیں ، آپ کے مثبت جذبات کو بلند کرتے ہیں اور آپ کی صحت کو برقرار رکھتے ہیں آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    ایک فعال حالت میں رہیں توجہ رکھیں اپنی کاموں پر.
    ہر دن اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کرنا ایک رد عمل کی حالت سے تبدیل ہونے کے بارے میں ہے۔

    ایک رد عمل کی حالت وہ ہے جہاں آپ غیر ضروری چیزوں پے وقت لگا رہے ہوتے ہیں. جہاں آپ اپنے کنٹرول سے باہر کے واقعات کو کنٹرول کرتے کی کوشش میں وقت ضایع کرتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں اور آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال ، منفی خبریں ، بے مقصد مباحثوں میں شامل ہونا اور ای میل کو کنٹرول کرنے کی اجازت دینا کہ آپ کام پر ہر روز کیا کرتے ہیں۔

    ایک فعال حالت وہ ہے جہاں آپ دن کا آغاز نیت سے کرتے ہیں۔ آپ کچھ ورزش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اپنے علم کو بہتر بنائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ اس دن کیا کام کریں گے۔ آپ اپنے کنٹرول سے باہر ہونے والے واقعات کو آپ کے مزاج پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور آپ سیاست ، موجودہ معاملات یا مشہور شخصیات کی گپ شپ کے بارے میں فضول بحث سے گریز کرتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے تو آپ ایک رد عمل کی حالت میں ہوں گے۔

    دن کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف چند سرگرمیوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو آپ کو تقویت بخشیں ، ایسی سرگرمیاں جو آپ کرنے کے منتظر ہوں گے اور کسی نہ کسی طرح آپ کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔

    ایک پھنسے ہوئے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانے کے ارادے سے اپنے کام کا دن شروع کرنا ، تیس منٹ باہر فطرت میں بغیر کسی کسی کام کسی وجہ کے پر سکون گزاریں، صرف تیس منٹ آف لائن رہنے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا آپ کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ سوچنے کا موقع فراہم کرے گے یہ 30 منٹ.

    روزانہ کرنے کے لیے چند ایک سرگرمیوں کا انتخاب ہو آپکو آپ کے وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر گزارنے کا احساس دیں ، یہ چیز آپ کے مزاج کو بہتر بناتی ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ نے اپنا دن ضائع نہیں کیا۔اور اس کا کچھ اچھا استعمال کیا اور اس سے آپ نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا.وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سب سے اہم ہے منصوبہ بندی اس کے بارے میں سوچیں منصوبہ بنائیں اپنا دن گزرنے کا اور اپنا وقت بچائیں۔

    Twitter Handle
    @umesalma_

  • مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکابھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے شہید ہونے والے کشمیری نوجوان عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ قبل ازیں جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے دو شہریوں محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کی میتیں ہندوازہ کے قبرستان میں قبرکشائی کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر لکھا”عامر ماگرے کے اہلخانہ بھی تاحال اپنے پیارے کی مناسب طریقے سے تدفین کے منتظر ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاندان انصاف مانگنے کے بجائے میت کی بھیک مانگ رہا ہے۔“

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ”یہ کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ماگرے ایک عام شہری ہے۔ انتظامیہ ان کی لاش واپس کرے“

    دریں اثنا شہید نوجوان عامرماگرے کے والد نے ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی رام بن سے ملاقات کی اور اپنے بیٹے کی میت واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔شہیدعامر کے والد محمد لطیف ماگرے نے ا پنے گاوں کے سرپنچ اور اپنے کئی رشتہ داروں کے ہمراہ ڈی سی اور ایس ایس پی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی میت کے علاوہ کچھ نہیں مانگ رہا جو ہندواڑہ کے قبرستان میں دفن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سری نگر کے دو شہریوں کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کی گئیں میرے بیٹے کی میت بھی ہمارے حوالے کی جانی چاہیے۔

    ادھر دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع کولگام میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے Ashmujiمیں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات تک علاقے میں بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا۔

  • پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    آج صبح سے پاکستان ٹوئٹرٹرینڈ نگ پینل پر "شلوار” ٹرینڈ کر رہا ہے جس پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے جب ٹاپ ٹرینڈ ’شلوار‘دیکھا تو حیرانی میں مبتلا ہوگئے کہ اب یہ ٹرینڈ کیا مواد لے کر آیا ہے جو ایک دم سے سر فہرست آ گیا تاہم بعد ازاں جب اس ٹرینڈ کو دیکھا تو پاکستانی صارفین یہ دیکھ کر سخت غم و غصے کی کیفیت میں آگئے کہ یہ ٹرینڈ ایک نازیبا ویڈیو کی بنیاد پر بنا-

    ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی لڑکی بغیر شلوار پہنے چل رہی ہے۔ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو لڑکی کی مرضی سے بنائی جا رہی ہے جس میں وہ کسی ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتی ہوئی کیمرہ کی طرف آرہی ہے۔

    علینا نامی اکاونٹ سے یہ ویڈیو شیئر کی گئی جس میں اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے پینٹ کے بغیر باہر جانا پسند ہے۔


  • پہلا ٹی ٹوئنٹی : آئی سی سی نے بنگلہ دیش ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیا

    پہلا ٹی ٹوئنٹی : آئی سی سی نے بنگلہ دیش ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیا

    آئی سی سی نے پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں میزبان ٹیم پر جرمانہ عائد کردیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کے مطابق میزبان ٹیم بنگلادیش پر سلو اوور ریٹ پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلادیش نے مقرررہ وقت میں ایک اوور کم کرایا جس کے باعث اس پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں غلط رویئے پر حسن علی کی ایک طرف سرزنش کی گئی تو دوسری طرف ٹیم سے باہر بھی کر دیا گیا۔

    حسن علی نے گزشتہ روز بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں نور الحسن کو آؤٹ کیا اور پھر انہیں گراؤنڈ سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔

    کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر آئی سی سی بھی حرکت میں آ گیا اور اس نے غلط رویہ اختیار کرنے پر حسن علی کی سرزنش کی اور انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ حسن علی نے 24 ماہ میں پہلی بار کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی پہلے ٹی 20 میچ کے مین آف دی پلیئر حسن علی کو آج باہر بھی بیٹھنا پڑ گیا، دوسرے ٹی 20 میچ میں انہیں پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنایا گیا، ان کی جگہ شاہین آفریدی کو کھلایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ حسن علی رواں سال سب سے زیادہ شکار کرنے والے بولر بن گئے ہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں آؤٹ آف فارم نظر آنے والے پیسر نے بنگلہ دیش میں اچھا کم بیک کرتے ہوئے میزبان ٹیم کے3بیٹسمینوں کو پویلین بھیجااور مین آف دی میچ قرار پائے۔

    رواں سال ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں حسن کی انٹرنیشنل وکٹوں کی مجموعی تعداد 64 ہوگئی ہے شاہین شاہ آفریدی نے اب تک 62 اور سری لنکن دشمانتھا چمیرا اور پروٹیز تبریز شمسی نے 50،50 شکار کیے ہیں۔

  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: بنگلہ دیش کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: بنگلہ دیش کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    ڈھاکا: دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈھاکا میں کھیلی جارہی 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، حسن علی کی جگہ شاہین آفریدی کو شامل کیا گیا ہے جب کہ بنگلا دیش کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    قومی ٹیم میں بابراعظم، محمد رضوان، فخر زماں، حیدر علی، شعیب ملک، خوشدل شاہ، شاداب خان، محمد نواز، شاہین آفریدی، حارث روف اور محمد وسیم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم نے بنگلا دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی پہلے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا تھا-