Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان اور بھارت پھرایک دوسرے سے ٹکرانے والے ہیں:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    پاکستان اور بھارت پھرایک دوسرے سے ٹکرانے والے ہیں:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    لاہور:پاکستان اور بھارت پھرایک دوسرے سے ٹکرانے والے ہیں:خبریں آنا شروع ہوگئیں.اطلاعات کے مطابق ایشین ہاکی فیڈریشن کے زیراہتمام ایشین چیمپینز ٹرافی میں روائتی حریف پاکستان اور انڈیا (17دسمبر) کل مدمقابل ہونگے۔ مشترکہ دفاعی چیمپین ایشین چیمپینز ٹرافی کے چھٹے ایڈیشن میں رابن راؤنڈ میچز کے سلسلہ میں پہلی بار ایکدوسرے کا سامنا کرینگے۔ ایشین چیمپینز ٹرافی میں سب سے زیادہ بار چیمپین ہونے کا اعزاز بھی پاکستان اور انڈیا کے پاس ہے۔ 201

    1 میں چین میں منعقد ہونے والی پہلی ایشین چیمپینز ٹرافی میں انڈیا فاتح رہا جبکہ 2012 مییںدوھا،قطر میں پاکستان ایشین چیمپینز ٹرافی کا فاتح ہوا،2013 میں جاپان میں پاکستان نے ایکبار پھر اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے ایشین چیمپینز ٹرافی اپنے نام کی جبکہ 2016 میں ملائشیا میں انڈیا ایکبار پھر ایشین چیمپینز ٹرافی ٹائیٹل حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

    2018 میں اومان میں منعقد ہونے والی ایشین چیمپینز ٹرافی میں پاکستان اور انڈیا اس وقت مشترکہ چیمپین قرار پائے جب فائینل میں شدید موسم اور موسلادھار بارش نے آسٹروٹرف کو بھی کھیل کے قابل نہ رہنے دیا۔ ایشین چیمپینز ٹرافی کے چھٹے ایڈیشن میں جوکہ 14 تا 22 دسمبر بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں کھیلا جارہا ہے، روائتی حریف پاکستان اور انڈیا کا میچ کل 17 دسمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق 2:30 بجے دوپہر کھیلا جائیگا۔ عالمی رینکنگ میں انڈین ہاکی ٹیم تیسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ پاکستان عالمی رینکنگ میں 18ویں نمبرپر موجود ہے۔

    روائتی حریف پاکستان اور انڈیا کے مابین میچ شائقین ہاکی کے لئے خاصا دلچسپ اور پرجوش ہوگا۔ پاکستان ہاکی ٹیم جو کہ سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کے امتزاج سے تیار کی گئی ہے اس میں پرجوش اور تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں۔ پاکستان کے کپتان اولمپین عمر بھٹہ سمیت تجربہ کار گول کیپر مظہر عباس، دفاعی کھلاڑی مبشر علی، عماد شکیل بٹ جو کہ ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ینگ ایمرجنگ کھلاڑی بھی قرار دیئے جاچکے ہیں، حصہ لے رہے ہیں۔

    سٹرائیکرز میں جونیئر عالمی ہاکی کپ میں شرکت کرنے والی پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کےکپتان رانا وحید بھی اس میچ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرینگے۔پاکستان ہاکی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں میں محمد عبداللہ، عقیل احمد، افراز، احمد ندیم اور سلمان رزاق کو پہلی بار قومی سینئر ہاکی ٹیم میں شمولیت کا موقع ملا ہے۔ دوسری جانب انڈین سکواڈ کہنہ مشق کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

  • افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    بیس سال تک افغانستان میں جو طالبان، امریکہ کی جان کے دشمن تھے اس کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اب وہ امریکہ سے ہی رحم کی اپیل کر رہے ہیں سوچیں ایسا کیا ہوا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی؟ آخر کیوں طالبان اپنے دعوے پورے کرنے میں ناکام رہے؟ اور اب افغانستان میں اصل صورتحال کیا ہے افغان عوام اپنا گزارہ کیسے کر رہی ہے؟ اور کیوں پاکستان افغانستان کے لئے ہر ایک فورم پر آواز اٹھا رہا ہے؟ وہ کون سا ایسا خطرہ ہے جو پوری دنیا کی نوجوان نسل کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے؟

    پاکستان میں افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔ آئی۔ سی وزرائے خارجہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس بھی بلایا گیا ہے جو کہ انیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ تاکہ افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے عالمی برادری خاص کر کہ امریکہ کو افغانستان کی مدد پر راضی کیا جائے۔اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خود طالبان حکومت نے بھی عالمی قوتوں کو پکارنا شروع کر دیا ہے کہ لاکھوں افغان شہریوں کو انکی مدد کی ضرورت ہے اس لئے رحم اور ہمدردی کی بنیاد پران کی مدد کی جائے۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے اپنے ایک انٹرویو میں امریکا سے اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے دس بلین ڈالر سے زائد منجمد فنڈز کو جاری کیا جائے کیونکہ جب تک فنڈز بحال نہیں ہوں گے تو طالبان کیسے دنیا کو اپنا کام دکھا سکیں گے۔امیر اللہ متقی نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ طالبان حکومت کا امریکا سے کوئی جھگڑا نہیں ہے وہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ غیر مستحکم افغانستان یا کمزور افغان حکومت کا ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔اب اگر طالبان حکومت کے وزیر خارجہ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اگرعالمی برادری نے افغانستان پر بروقت توجہ نہ دی تو وہاں ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن واقعی اگر افغانستان پر اس وقت دنیا نے توجہ نہ دی تو یہ آنے والے وقت میں ایک ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔دراصل اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ امریکہ کچھ معاملات کو لیکر افغانستان پر غصے میں ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پرلگائی گئی پابندی ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے ساتویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کو اسکول جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ہے خواتین کو ان کی ملازمتوں پر واپس جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ جس پر طالبان حکومت کا یہ کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ فی الحال بہت سی خواتین سرکاری ملازمین کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے لیکن اس کی وجہ ہماری سخت گیر پالیسی نہیں بلکہ اسکولوں اور کام کی جگہوں پرشریعت کے تحت علیحدہ انتظامات کا نہ ہونا ہے۔ اور جہاں یہ انتظامات مکمل ہیں جیسے افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے دس صوبوں میں بارہویں جماعت تک لڑکیاں اسکول جا رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں بھی سو فیصد خواتین کام پر واپس آ گئی ہیں۔ لیکن باقی جگہوں پر انتظامات کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ طالبان حکومت کے پاس فنڈز ہوں بغیر فنڈز کے وہ کوئی بھی کام نہیں کر سکیں گے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ آپ ایک انسان کے ہاتھ باندھ دیں اور پھر اس کو لڑنے کا کہیں۔اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی اس وقت تقریبا تین کروڑ نوے لاکھ ہے جس میں سے آدھی آبادی پندرہ سال سے کم عمرنوجوانوں کی ہے۔ اور وہاں کی آبادی کا برا حصہ Poverty lineسے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

    اور جب کسی ملک میں غربت پھیلنا شروع ہو جائے تو آپ کو معلوم ہے کہ وہاں ہر طرح کی برائیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ امن و امان کا پہلے ہی افغانستان میں کافی سنگین مسئلہ ہے۔اور اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ جو پوری دنیا کی آںے والی نسلوں کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے وہ وہاں پر ہونے والی پوست کی کاشت اور ہیروئین کی برآمد ہے جو اس وقت عروج پر ہے۔ ہیروئین کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جو ایک نئے نشے کا دھندہ شروع ہو چکا ہے وہ کرسٹل میتھ ہے۔ جس کا ایک سو کلو کا تھیلا جب افغانستان سے نکل کرکسی دور دراز ملک میں پہنچتا ہے تو اس ایک تھیلے کی قیمت دو ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔افغانستان کے جنوب مغربی ضلع میں جہاں ایفیڈرا نامی بوٹی کاشت کی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں اومان بھی کہا جاتا ہے وہاں تقریبا پانچ سو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جو روزانہ تین ہزار کلوگرام کرسٹل میتھ تیار کرتی ہیں۔پہلے طالبان کی جانب سے ایفیڈرا اگانے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ لیکن پھر اس کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں ہوسکا۔بلکہ پابندی لگنے سے وہاں کے فیکٹری مالکان کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ میتھ کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اس طرح اب جن فیکٹری مالکان نے یہ بوٹی اپنے گوداموں میں سٹور کی ہوئی ہے وہ آنے والے دنوں میں اس بوٹی سے کرسٹل میتھ بنا کر خوب پیسہ کما سکتے ہیں۔طالبان حکومت اس پابندی پر عمل درآمد کروانے میں کیوں ناکام رہی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بظاہر ایک سادہ سی وجہ تو یہ بھی ہے کہ ایفیڈرا کی کاشت پر اس وقت پابندی کا اعلان کیا گیا جب کسان فصل کاٹ چکے تھے اس وجہ سے پابندی پر عمل ہوا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اصل صورتحال اگلے سال جولائی میں سامنے آئے گی جب نئی فصل کی کاشت کا وقت ہو گا کہ اس وقت طالبان کی حکومت کاشتکاروں کو اس کی اجازت دے گی یا نہیں؟اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کو پیسے کی اشد ضرورت ہے اور ان کے پاس پیسہ کمانے کا صرف ایک یہ ہی آسان طریقہ ہے۔افغانستان میں پوست کی کاشت سے جو ہیروئین تیار کی جاتی ہے دنیا بھر کی ڈیمانڈ کا تقریبا80 فیصد اسی سے پورا ہوتا ہے۔ افغانساتن میں ایسی لا تعداد فیکٹریاں موجود ہیں جو افیون سے ہیروئن بناتی ہیں اور ہر فیکٹری 60-70 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ اور دوسری طرف اب جس رفتار سے میتھ تیار کی جا رہی ہے وہ ہیروئن کی تجارت کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جائے گی۔

    اور ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو اس کے نقصانات کا علم نہیں ہے وہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ ان برے حالات میں پیسہ کیسے کمائیں؟اورایسی صورتحال میں جب امریکہ سمیت تمام عالمی اداروں نے افغانستان کے فنڈز روکے ہوئے ہیں کوئی ان کی مدد کو سامنے نہیں آرہا دوسری طرف افغانستان میں کاشتکاروں کو خشک سالی اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے تو سوچیں کہ ان کے پاس کیا حل باقی بچتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے لوگ سوچیں کہ وہاں کاشتکار کوئی اور فصل کیوں کاشت نہیں کر لیتے؟تو اس میں مشکل یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اور فصل کاشت کرنے کے لیے پانی کے کنویں کھودنے پڑتے ہیں۔ اگر بھنڈی یا ٹماٹر کاشت کریں تو ان کاشتکاروں کو کنویں کی آدھی قیمت بھی وصول نہیں ہوتی۔ایسی صورتحال میں آپ سوچیں کہ طالبان حکومت پابندی پر کیسے عمل درآمد کر وا سکتی ہے۔ بلکہ اس وقت تو وہاں اتنی آسانی ہو گئی ہے کہ پابندی کے اعلان سے قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور وہ منشیات ڈیلر جو پہلے خفیہ طور پر کرپٹ افغان اہلکاروں کو رشوت دے کر مال فروخت کرتے تھے اب کھلے عام بازاروں میں سٹال لگا کر منشیات فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

    کابل میں طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بھی حال ہی میں یہی بیان دیا ہے کہ اس وقت طالبان کسانوں کے لیے متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں اور جب تک ھم لوگوں کو کچھ متبادل فراھم نہیں کر لیتے ھم انھیں کیسے منع کر سکتے ہیں۔
    اس لئے بین الاقوامی برادری کو کچھ سوچنا چاہیے افغان لوگوں کے لئے نہ صرف جلد از جلد فنڈز ریلیز ہونے چاہیں بلکہ ان کی مدد بھی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ان کی مدد نہ کی گئی اور منشیات کی کاشت پر بھی پابندی لگا دی تو افغان عوام بھوکے رہ جائیں گے وہ اپنے خاندانوں کو کیا کھلائیں گے اور دوسری صورت میں اگر منشیات کی کاشت کا سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو یہ پوری دنیا کے لئے ایک ایٹم بم ثابت ہوگا اور اس کی لپیٹ میں ہماری نوجوان نسل آئے گی جبکہ افغان نسل تو پہلے ہی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے وہاں سڑک کنارے جگہ جگہ نوجوان ٹولیوں میں نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان اکثروبیشتر ان کو اٹھا کر Rehabilitaion centreبھی چھوڑ کرآتے ہیں لیکن وہ نوجوان پھر واپس آ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت منشیات کی پیداوار اتنی زیادہ ہو رہی ہے کہ وہاں ہیروئین اور میتھ بہت زیادہ سستی بھی ہے۔ اس لئے اس ایٹم بم کو ناکارہ کرنے کے لئے امریکہ اور عالمی طاقتوں کو جلد از جلد اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا تاکہ اپنی نوجوان نسلوں کو بچایا جا سکے۔

  • سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    سیاسی شعبدہ بازیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    ۔ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟
    تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    ۔ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    ۔ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں ۔

  • ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی، ناسا کا خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کسی خلائی جہاز نے سورج کو چھوا ہے۔ ناسا کے پارکر سولر پروب نے اب سورج کے اوپری ماحول – کورونا اور وہاں کے ذرات اور مقناطیسی میدانوں کے نمونے لیے ہیں۔

    ناسا ماہرین کے مطابق جس طرح چاند پر اترنے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ کیسے بنا ہے، اسی طرح سورج جس چیز سے بنا ہے اسے چھونے سے سائنسدانوں کو ہمارے قریب ترین ستارے اور نظام شمسی پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں اہم معلومات سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا، "پارکر سولر پروب "سورج کو چھونا” شمسی سائنس کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے اور واقعی ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ "یہ سنگ میل نہ صرف ہمیں ہمارے سورج کے ارتقاء اور اس کے ہمارے نظام شمسی پر اثرات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرے گا، بلکہ ہم اپنے ستارے کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھنا چاہتے ہیں وہ ہمیں باقی کائنات میں ستاروں کے بارے میں مزید سکھائے گا۔”

    جیسے جیسے یہ شمسی سطح کے قریب جا رہا ہے، پارکر نئی دریافتیں کر رہا ہے جنہیں دیکھنے کے لیے دوسرے خلائی جہاز بہت دور تھے، بشمول شمسی ہوا کے اندر سے – سورج سے ذرات کا بہاؤ جو زمین پر ہمیں متاثر کر سکتا ہے۔ 2019 میں، پارکر نے دریافت کیا کہ شمسی ہوا میں مقناطیسی زگ زیگ ڈھانچے، جنہیں سوئچ بیک کہتے ہیں، سورج کے قریب بہت زیادہ ہیں۔ لیکن وہ کیسے اور کہاں بنتے ہیں یہ ایک معمہ ہی رہا۔ اس کے بعد سے سورج تک کا فاصلہ آدھا کرنے کے بعد، پارکر سولر پروب اب ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی قریب سے گزر چکا ہے جہاں سے وہ نکلتے ہیں-

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکر سولر پروب نے انتہائی گرمی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں جھیلتے ہوئے ایلفویئن نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے۔

    خلائی جہاز نے ایسا اپریل میں کیا تھا مگر ڈیٹا کے تجزیے سے اب جا کر اس کی تصدیق ہوئی ہے، ڈیٹا کے مطابق پروب پانچ گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ اس لکیر کے اوپر اور نیچے سے ہو کر گزرا، اس تجربے سے سائنسدانوں کو سورج کے کام کرنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں پارکر سولر پروب خلائی ادارے کا اب تک کا بنایا گیا سب سے ‘جانباز’ مشن ہے۔


    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اس خلائی جہاز کی رفتار حیران کُن حد تک تیز ہے یہ پانچ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور حکمت عملی یہ ہے کہ سورج کی فضا میں فوراً داخل ہو کر فوراً باہر آئے اور اس دوران گرمی سے بچانے والی اپنی موٹی ہیٹ شیلڈ کے پیچھے چھپ کر اپنے مختلف آلات کے ذریعے اعدادو شمار اکٹھا کرے-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سورج کی سطح یعنی فوٹو سفئیر پر درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے لیکن کورونا میں دتجہ حرارت 10 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے-

    پارکرنے ایلفوئین نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے یہ وہ مقام ہے جہاں عام طور پر سورج کی کشش ثقل سے بندھا رہنے والا مواد اور مقنا طیسی لہریں کشش ثقل سے خود کو چھڑا کر خلا میں باہر نکل جاتی ہیں-

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    سورج سے نکلنے والی بڑی مقناطیسی لہریں ہماری زمین کے مقناطیسی میدان کو ہلا کر رکھ سکتی ہیں۔ ایسا ہونے پر زمینی مواصلات معطل ہو سکتی ہیں، سیٹلائٹس آف لائن ہو سکتی ہیں اور بجلی کے گریڈز میں اچانک وولٹیج تیز ہو سکتا ہے۔

    سائنسدان سورج کے ان مقناطیسی ‘طوفانوں’ کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارکر کے ذریعے اُنھیں ایسا کرنے کے لیے نئی اور گراں قدر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • ایک ہی دشمن کے دو زخم   ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائین گے اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے

    آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں

    یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی-

    اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز مارچ 1971 کو ہوا تھا مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے-

    جبکہ ان کے مدمقابل مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000 اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے-

    تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے
    تب ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے-

    واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی-

    بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا-

    واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہےتاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا-

    بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا-

    16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر 17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں-

    دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی-

    واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے-

    یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے-

    میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے-

    "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں-"( 154 آل بقرہ)

    یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟ وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے –

    سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں-

  • "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    آج سولہ دسمبر ہے سقوط ڈھاکہ اور سقوط پشاور کی یاد دلاتا یہ دن ایک ایسا گھاؤ ہے سانسوں کے بند ہونے کے بعد ہی شاید مندمل ہوسکے. شہادتوں پر افسوس نہیں ہے شہادتیں تو ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں.
    شہادتیں تو تحاریک اور جذبوں کو جلا بخشتی ہیں. وہ شہادتیں البدر و الشمس کے نوجوانوں کی ہوں یا آرمی پبلک اسکول کے معصوم پھولوں کی، وہ لہو بڑا ہی مقدس ہے وہ وردی پہنے نوجوان کا ہو یا کشمیر کی وادیوں میں بغیر وردیوں کے لڑنے والے مجاہدین کا…
    دکھ اور سانحہ تو اس بات کا ہے کہ آج کے دن ملک دو لخت ہوا . بھائی بھائی کا دشمن ہوا، پاکستان سے وفا کی پاداش میں ہزاروں مردوں کا خون بہا تو ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی. دشمن کو موقع ملا اور اس نے کھل کر تقسیم برصغیر کا بدلہ لیا.
    ان سب سے بڑھ کر غم انگیز بات یہ ہے کہ افواج پاکستان کو شکست ہوئی اور شکست بھی ایسی کہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالےگئے. اور ہزاروں پاکستانی فوجی، سرکاری عملہ، سول لوگ مکار دشمن کے قیدی بن گئے.
    اسلامی تاریخ میں یوں اسلامی فوج کا ہتھیار ڈالنا یہ بہت کم ہی ملتا ہے. یہی وجہ ہے کہ زیادہ دکھ یہی بات دیتی ہے کہ ہم تو عجب شان سے جیا کرتے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ پاکستانی فوج نے کوئی بزدلی دکھائی بلکہ بھارتی فوج کے جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوج اپنے بیس کیمپ سے دور کم اسلحے اور سازوسامان کے باوجود بہادری اور دلیری سے لڑی.
    لیکن میدانوں کی جنگیں ہم نے اکثر ہی میزوں پر ہاری ہیں تو سیزفائر کی قرار داد کو پھاڑ کر بھٹو نے اس شکست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی وگرنہ سیز فائر کے آپشن سے اس شکست سے بھی بچا جاسکتا تھا اور ہزاروں سول و ملٹری کی شہادتوں کے بغیر بھی سیاسی حل ہوسکتا تھا.
    اکہتر کا دوش سارے کا سارا مجیب الرحمن کو دینا قطعاً ناانصافی ہے. ایوب دور اور اس سے پہلے ادوار میں مشرقی پاکستان کے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں، بیوروکریسی کوٹہ کی دھجیاں، زبان کا مسئلہ، انتہا کی غربت اور اس کوئی حل نہ ہونا، جنرل یحیٰ کے بیوقوفانہ فیصلے اور پھر جاکر بھٹو مجیب کی اقتدار کی ہوس اور اس کے لیے باہمی گٹھ جوڑ یہ وہ عوامل تھے جن کو دشمن نے استعمال کیا اور وہ دن دیکھنا پڑا کہ سر شرم سے جھکے جاتے تھے.
    بنگلہ دیشی عوام سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں ان سے آج بھی اتنی ہی محبت ہے ہم ان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں. ہمارا دشمن مشترکہ ہے اور وہ ہے انڈیا جس کو مسلم کی ترقی و بالادستی اس خطے میں کسی بھی صورت قبول نہیں ہے.
    پاکستان اور بنگلہ دیشی عوام، سیاستدانوں اور سربراہان کو چاہیے کہ تاریخ کے غمناک ابواب سے سبق سیکھ کر لازوال دوستی کا ہاتھ تھامیں اور اس دوستی کی بنیاد پر اس خطے میں بھارت کی تنہائی کے تابوت میں کھیل ٹھونکیں…
    بھارت کی بدحواسیاں یوں ہی نہیں ہیں ان کو نظر آرہا ہے کہ امریکہ اس خطے سے شکست کھاکر دفعان ہوچکا ہے جبکہ چین بھارت کے سبھی ہمسائیہ ملکوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ان کو ایک لڑی میں پرو چکا ہے. اب اس میں بڑا کردار پاکستان اور بنگلہ دیش ادا کرسکتے ہیں.
    محمد عبداللہ

  • انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی
    کلیاں مرجھا گئیں
    میری ماں سے پوچھ کتنا لاڈلا تھا میں!
    16 دسمبر 2014
    سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور
    اے پی ایس کا دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا جب صبح علم کے حصول میں مصروف طلبہ 10 بجے کے وقت سات دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طلوع ہوا مگر غروب 144 معصوم و بےقصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔
    مائیں دروازے تکتی رہ گئ ۔۔بچے سکول سے سیدھے جنت چلے گے ۔۔16 دسمبر کا دن ملک کی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے ۔۔۔یہ تاریخ کے لحاظ سے پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے ۔۔آج کا دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔۔کہ آج کے دن 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول میں ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 افراد زخمی ہووے تھے ۔۔آج چھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ المناک سانحہ لوگوں کے دلوں میں روز اول کی طرح تازہ ہے ۔۔۔اس سانحہ میں شہید ہونے والے کچھ ایسے بچے قوم کا سنہرا مستقبل تھے ۔۔یوں کہ لیجیے کہ دشمنوں نے ہمارے مستقبل کو شہید کیا تھا ۔۔۔144 خاندان اجڑ گے تھے ۔۔144 والدین کی گود خالی ہو گئ تھی ۔۔144 والدین کے سہارے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گے تھے ۔۔144 ماوں کی آنکھوں کا نور ان سے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔144 بچوں کو خون میں نہلایا گیا تھا ۔۔۔۔کافر اسلام کو دہشت گرد کہتے ہیں. سنو حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا. اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سختی سے) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی.‘‘مطلب کہ جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو ۔۔۔یہ کیسے کافر تھے کیسے درندے پتھر دل لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بچوں کو معصوم کلیوں کو شہید کیا ۔۔۔آج میں سلام پیش کرتی ہوں ان بچوں کو ان شہیدوں کو جن معصوموں نے اپنا لہو دے کر اس وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا.میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔
    شہید سیف اللہ ❤ شہید نورواللہ
    دونوں سگے بھائ تھے… شہید سیف اللہ نویں جماعت اور شہید نورواللہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔دونوں بھائ اس سانحے میں شہید ہو گے تھے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔ شہید مبین آفریدی کو ۔۔جو دو بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا ۔۔مبین دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کررہا تھا ۔۔مبین بھی اس سانحے میں شہید ہوا تھا ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں حارث نواز کو جو ساتویں کلاس کا طالب تھا ۔۔میں سلام پیش کرتی ہوں احمد نواز کو جس کے سامنے 144 بچوں کا خون بہا ۔۔اس کے بھائ کو شہید کیا گیا ۔۔وہ خود اس سانحے میں زخمی ہوا ۔۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ۔اپنی منزل پانے کے لیے اپنے شہید بھائ کے خواب پورے کرنے کے لیے وہ آج بھی محنت کررہا ہے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں
    اس استاد کو
    سعدیہ گل خٹک آرمی پبلک سکول میں انگلش پڑھاتی تھیں , وہ ایک خوش طبعیت اور ملنسار خاتون تھیں . جو 7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھیں , انھیں دوستوں کے ساتھ باہر جانا پسند تھا . ہر شام وہ دوستوں کے ساتھ واک کے لیے نکلتیں .
    16 دسمبر 2014 کو جب سکول پہ حملہ ہوا تو انھیں وہاں پڑھاتے ہوئے ابھی 5 مہینے ہوئے تھے , حملے کے وقت وہ سٹاف روم میں موجود تھیں , انھوں نے ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر انھیں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئیں ……
    میں سلام پیش کرتی ہوں نویں کلاس کے اسامہ اور عاطف رحمان کو جن معصوموں نے اس وطن کے لیے اپنا لہو بہایا ۔۔۔144 بچوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں ۔جن بچوں کے سامنے بے دردی سے کسی نے چھپکلی بھی نہ ماری تھی ان بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھیوں کو بہن بھائیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔۔۔۔ان بچوں کو زخمی کیا گیا ۔۔۔یہ ایسا غم ہے جو کبھی بھی کوی بھی نہیں بھولے گا ۔۔۔خدا کرے میری ارض پاک پر اترے ۔۔وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ۔۔۔
    ہم تمہیں بھولے نہ ہی بھولیں گے۔۔۔!!!
    اے پی ایس پشاور کے شہداء تمھیں سلام ۔۔۔۔!!!
    اللہ پاک ان تمام شہداء کے درجات بلند فرماے آمین اور ان کے والدین کو صبر دے ۔آمین ۔۔الفاظ بہت کم ہے ۔۔۔اور سانحہ بہت بڑا تھا۔۔۔۔آج بھی لکھتے ہووے آنکھوں سے آنسو ایسے جاری ہے جیسے یہ سانحہ آج ہوا ہو ۔۔۔۔سانحے کتنے بھی پرانے ہو جائیں ۔۔لیکن ان کا غم ان کا دکھ ہمیشہ ہوا کے جھونکے کی طرح تازہ رہتا ہے ۔۔۔جب دہشت گردوں نے حملہ کیا اس وقت دہشت گردوں سے لڑنے والے
    شہزادے ہیرو کو سب جانتے ہی ہوں گے۔ اے پی ایس کے سانحہ کے وقت ایس ایس جی کے جس دستہ نے آڈیٹوریم میں گھس کر دہشتگردوں کو مارا اس دستہ کو ضرار کمپنی کے کیپٹن عابد صاحب لیڈ کر رہے تھے۔ یعنی اندر آڈیٹوریم میں جب دہشتگرد معصوم بچوں پر بہادری دکھا رہے تھے تب اللہ ہو اکبر کی صدا بلند کرکے داخل ہونے والے پہلے ولنٹیئیر کا نام کیپٹن عابد زمان خان تھا۔۔
    یہ پہلا بندا تھا جو اپنی ٹیم کو لے کر داخل ہوا اور ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے خود داخل ہوا اور پھر باقی ٹیم… اور اس طرح بزدل جہنمی کتے لڑکھڑا گئے۔۔ اس وقت کیپٹن عابد کو گولی بھی لگی جس سے وہ کافی زخمی ہوئے لیکن کمال مہارت اور بہادری سے خوارجیوں کو مار دیا اور کچھ دہشتگردوں نے ضرار ٹیم کی للکار کے ڈر کی وجہ سے خود کو اڑا دیا۔۔۔ اس طرح الحمدللہ پاک فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی بچوں کو بچا لیا۔۔ ورنہ اس حال میں تو شاید 400 سے اوپر بچے تھے۔۔
    کیپٹن عابد کافی دن ہسپتال رہے لیکن الحمدللہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈو آر ڈائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔
    مجھے ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جب انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ٹیم یعنی ایس ایس جی ضرار کمپنی کے پاس 2 آپشن ہوتے ہیں کہ مار دو یا مر جاو۔۔ہماری ٹیم میں سب volunteer ہوتے ہیں۔۔ اور ہم آخری آپشن ہوتے ہیں ہمارے بعد کسی فورس نے نہیں آنا ہوتا۔۔۔ اور پھر بڑے فخر سے کہا الحمدللہ آج تک کوئی دہشتگرد ہمارے سامنے ٹک نہیں پایا۔
    مطلب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا ڈرنے دوڑنے والا کوئی آپشن ان کی ڈائری میں نہیں۔۔۔
    سنا ہے ہال میں 7 درندے تھے جن میں سے 3 کو اکیلے کیپٹن عابد نے جہنم واصل کیا تھا میں سلام پیش کرتی ہوں پاک فوج کے اس بہادر جوان کو ان کی پوری ٹیم کو ۔ ۔۔سانحے واقعات دکھ غم اس زندگی کا حصہ ہے ۔۔سانحے تو ہوتے ہیں ۔لیکن اس سانحات سے سیکھنے والی قومیں بہت کم ہوتی ہے ۔۔۔مجھے فخر ہے میری قوم نے اس سے سیکھا ۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میری مائیں ڈری نہیں ۔۔۔مجھے فخر ہے اس باپ پر جس کے دونوں جوان بچے شہید ہووے اس کے باوجود وہ ہمت سے کہ رہا تھا کہ میرا کوی تیسرا بیٹا ہوتا تو میں اسے پڑھاتا ۔۔۔مجھے فخر ہے ان تمام والدین پر جن کے بچے آج بھی آرمی پبلک سکول میں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے ان بچوں پر جنھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شہید بہن بھائیوں کے خواب پورے کرنے کے لیے محنت سے دل لگا کر پڑھ رہے ہیں ۔۔۔اللہ پاک میرے وطن کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے آمین ۔۔۔
    برسی پر پھول دیکھے تھے ۔آج پھولوں کی برسی ہے
    حنا سرور

  • سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    برصغیر میں دسمبر کی خنکی جہاں جسموں کو ٹھارتی ہے وہیں پچاس برس قبل ہوئے ہماری تاریخ کے بدترین سانحے کی ناخوشگوار یادیں بھی روح کو چھلنی کرتی ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا خوفناک حادثہ یک لخت ظہور پذیر نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے تئیس برسوں کی تلخ کہانی ہے۔
    کیا وجہ تھی کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں دو ہزار کلومیٹر دور بنگال کے مسلمانوں اور ہم نے ذات پات، رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کی تفریق کیے بنا اکٹھے قربانیاں دیں۔ تاریخ کے ابواب پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ بنگالی مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ جہاں نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اللہ خان صاحب کی دعوت پر مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں ڈھاکہ میں عمل میں لایا گیا وہیں 1940ء میں منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان بھی شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔ لاکھوں افراد مہاجر ہوئے جن کی کثیر تعداد نے سابقہ مشرقی پاکستان کا رخ بھی کیا۔ اسلامی فلاحی ریاست کا سپنا آنکھوں میں سجائے کروڑوں فرزندانِ توحید نے نظریہ پاکستان ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں لیکن قائد کی جلد وفات کے بعد آنے والے سیاست دان کرسی اقتدار کے گندے کھیل میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ تو عوامی امنگوں کا احساس کیا اور نہ ہی ملک میں سیاسی استحکام لا سکے۔ نتیجتاً انتشار کی سیاست، نفرت انگیز بیانات، غیر منصفانہ طرز حکومت اور دوغلی پالیسیوں نے ہی اولین تفریق کے بیج بوئے۔ آہستہ آہستہ گزرتے وقت کے ساتھ جغرافیائی دوری اور لسانی فرق بھی ہمارے مجموعی عوامی رویوں پر اثر انداز ہونے لگا۔ یوں سیاسی و عسکری قیادت کی نا اہلی اور پھر ہندوستانی سازشی کردار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جب داخلی سیاسی مفاد پرستی اور بیرونی سازشیں اپنے عروج پر پہنچیں تو بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا۔ لاکھوں کلمہ گو افراد اپنے ہی ہم عقیدہ بھائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ لاکھوں دوبارہ مہاجر ہوئے اور آخر کار وہ گھر بھی ٹوٹ گیا جسے ہم نے باہم مل کر اپنے خون سے سینچا تھا۔ مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش جبکہ مغربی حصہ صرف پاکستان رہ گیا۔ دونوں خطوں میں علیحدگی کے بعد الگ الگ ممالک تو قائم ہو گئے لیکن پچاس سال پرانے گھاؤ ابھی تک نہیں بھرے اور سیاسی مصلحتوں کے باعث تعلقات میں سرد مہری آج تک قائم ہے۔

    اور دونوں جانب لاکھوں افراد آج بھی اس بٹوارے کی قیمت چکا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی سے ایک بنگالی ماں جی کی درد ناک کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے سنی جو لگ بھگ 35 سال بعد بنگلہ دیش میں اپنے خاندان سے ملیں۔ اس کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بچھڑی بیسیوں اور خواتین بھی سامنے آئیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اور دو طرفہ روابط نہ ہونے کے باعث اپنی مادری زبان تک بھول چکی تھیں۔ لیکن کبھی نہ مٹے والی ان دوریوں کے اندر بھی عوامی سطح پر نظریاتی ہم آہنگی اور پرخلوص محبت کے نظارے دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔ چند ہفتے قبل ہی کرکٹ ورلڈ کپ میں جب پاکستان نے ہندوستان کو دھول چٹائی تو ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک پورا بنگلہ دیش پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اور گزشتہ ماہ جب یہی پاکستانی کرکٹ ٹیم بنگلادیش کی مہمان بنی تو ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں نے میزبانی کا خوب حق ادا کیا۔ سڑکوں پر ہزاروں نوجوان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے۔ ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈے لیے اور گرین شرٹ زیب تن کیے یہ نوجوان بچھڑے بھائیوں کی اٹوٹ محبت کی گواہی بن گئے۔ ڈھاکہ ٹیسٹ میچ میں ہار جیت سے بے رغبت شائقین پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تمام تر میڈیائی ہتھکنڈوں اور بالی ووڈ میں اربوں روپوں کے بجٹ لگا کر بھی ہندوستان اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کا خواب سقوط ڈھاکہ کے وقت اس نے دیکھا تھا۔ اب وقت بدل رہا ہے، پروپیگنڈے کے جال کٹ رہے ہیں اور تاریخ کا دھارا بھی یقیناً بدلے گا آج کا بنگالی نوجوانوں نظریہ پاکستان سے جڑ رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے پاکستان بڑے بھائی کا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے میں پہل کرے۔ اس کے لیے ریاست کو بڑے دل گردے کے ساتھ خلوصِ نیت بھی درکار ہو گی سب سے پہلے پاکستان میں رہائش پذیر سقوط ڈھاکہ سے قبل کے بنگالی افراد کو قومی شناختی کارڈ جاری کریں۔ اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنیں اور ان کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ یقین جانیے یہ چھوٹا سا عمل بھی دِلوں کو جوڑنے اور دشمنوں کی سازشوں کو توڑنے میں بہت بھاری پڑے گا۔ اس کے علاؤہ سرکاری یا نجی سطح پر بنگالی زبان کے فروغ پر بھی کام کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوامی سطح پر باہمی روابط استوار ہوں اور ماضی میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور کرنے میں آسانی ہو اور ان کا ازالہ بھی کیا جا سکے۔ ریاستی سطح پر دوطرفہ تعلقات باہمی تعاون اور تجارتی روابط بڑھانے کے ساتھ دوطرفہ آمدورفت اور ویزہ کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی سروس کو بھی بحال کیا جائے۔ اگر مملکت پاکستان اپنے قیام کے بنیادی نظریے پر عمل پیرا ہو جائے تو بلاشبہ ایسا کر گزرنا ناممکن نہیں۔ اس کے علاؤہ ہمیں بحیثیت مجموعی عوامی اور انتظامی رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی تاکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھائے جائیں۔ اور اگر واقعی نظریہ پاکستان پر ریاستی پالیسی تشکیل دی گئی تو آئندہ کبھی دسمبر خون آشام نہیں ہو گا۔

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • بی بی سی کا پاکستان کے خلاف ایک اور پروپیگنڈا  تحریر : راجہ منیب

    بی بی سی کا پاکستان کے خلاف ایک اور پروپیگنڈا تحریر : راجہ منیب

     

    ادریس خٹک کو صوابی سے نومبر سنہ 2019 میں حراست میں لیا گیا  اورادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ کے مطابق ان کے موکل کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ۔اور پی ٹی ایم کےمشرانوں  نے اس بات کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا  کہ ادریس خٹک اغوا ہو گئے ہیں اور لاپتہ ہیں۔ پی ٹی ایم ایسی جھوٹی تنظیم جو اپنے مفاد کے لیے اداروں پر کسی بھی وقت الزام لگا دیتی ہے۔ جبکہ غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں جن تین فوجی افسران اور ایک سولین کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ سزا پانے والوں میں ۔ لیفٹننٹ     کرنل فیض رسول  کو 14 سال  کی سزا کے بعد اڈیالہ  جیل اور ادریس خٹک نامی سولین کو 14 سال کی سزا کے بعد جہلم جیل میں ہیں ۔انکے علاوہ  لیفٹننٹ کرنل اکمل کو 10 سال  اور میجر سیف اللہ بابر کو 12 سال کی سزا سنائی گئی۔ان غداروں کو سزائیں سنانے کے بعد مختلف جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔ ادریس خٹک  پاکستان کی خفیہ معلومات  برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ایک ایجنٹ مائیکل سیمپل کے کو معلومات دیتا تھا۔ ملزم ادریس خٹک نے 29 جولائی سنہ 2009 کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے نمائندے مائیکل سیمپل کو سوات میں پاکستانی فوج کے جاری آپریشن کے بارے میں معلومات دیں۔ادریس خٹک کے حق میں پی ٹی ایم (وزیرستانی سرخے) سمیت تمام خونی لبرلز  کافی عرصہ سے سوشل میڈیا مہم چلاتے رہے ہیں۔ وہ اس کی گرفتاری کو اغواء اور زیر حراست رکھنے کو ‘مسنگ پرسن’ کا نام دے کر عوام کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ کچھ سیاست دان، صحافی ٹولہ اور خاص طور سے پی ٹی ایم ادریس خٹک نامی شخص کو لے کر بھر پور پراپیگنڈہ اور جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں جنکی حقیقت ملاحظہ فرمائیں۔ادریس خٹک کے تین جرائم ثابت ہوئے ہیں۔  جنکا مختصر ذکر یہ ہے کہ پہلا جرم ۔اس نے غیر ملکی ایجنسیوں کو پاکستان میں ڈرون حملے کرنے کے لیے انفارمیشن دی۔  بھاری رقوم کے عوض اس نے وزیرستان سمیت کئی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے معصوم قبائیلیوں کو مروایا ۔اسکی حمایت وہی لوگ کر رہے ہیں جو پشتون قبائیلیوں کی لاشوں پر سیاست کرتے آ رہے ہیں۔اور بظاہر وہ خودکو قبائیلیوں کے حقوق کا چیمپئن کہتے ہیں۔  دوسرا جرم  ۔ اس نے غیر ملکی ایجنسی کی ایما پر ‘مسنگ پرسنز’ کی فیک مہم چلائی۔ جس میں قومی سلامتی کے اداروں اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسایا۔ بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگائے۔تیسرا جرم ۔ ملک دشمن ایجنسیوں کے لیے قبائیلی اضلاع سے پڑھے لکھے نواجوانوں کی بھرتیاں کیں۔ ان نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے عوض بھی اس نے بڑی رقم وصول کی۔

    یہ محض آرمی عدالتوں سے سنائی گئی سزائیں نہیں ہیں اورنہ یہ محض ایجنسیوں کی رپورٹس ہیں۔ یہ موصوف پیشاور ہائی کورٹ بھی گئے تھے جہاں ان دنوں خونی لبرلز کے چہیتے چیف جسٹس وقار سیٹھ براجمان تھے۔ ادریس خٹک کے خلاف ثبوت اتنے ٹھوس اور واضح تھے کہ پشاور ہائی کورٹ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے اور فیصلہ سنایا کہ بےشک ادریس خٹک کو ‘آفیشل سیکرٹ ایکٹ’ کے تحت پکڑا گیا ہے اور ان ثبوتوں کی روشنی میں بہتر یہی ہے کہ آرمی ہی اس پر مقدمہ چلائے۔اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ پاک فوج لیفٹنٹ جنرل جاوید اقبال سے لے کر میجر تک غداری یا جرم ثابت ہونے پر سب کو سزائیں دیتی ہے اور سولین یا فوجی میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ پھر چاہے وہ برگیڈئیر رضوان ہو چاہے وہ ادریس خٹک ہو۔اسکے علاوہ اس سےیہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایجنسیاں ہر قسم کے خطرات سے آگاہ اور چوکناہیں اور ایسے غداروں کو نہ صرف پکڑا جاتا ہے بلکہ انجام تک بھی پہنچایا جاتا ہے۔فوج کے پاس احتساب کا سخت عمل ہے۔کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ادریس خٹک نے ریاست پاکستان کے ساتھ غداری کی ہے۔اس غدار  نے حساس معلومات ملک دشمنوں کو دیں جس کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں فوج و ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے میں دشمن کو آسانی ہوئی ہےجہاں تک ادریس خٹک کی بات ہے تو میری رائے میں اس کو بہت کم سزا سنائی گئی ہے۔ جس سفاک انسان کے ہاتھوں سےسینکڑوں  بےگناہ قبائیلیوں کا خون ٹپک رہا ہو اس کو کم از کم موت کی سزا دینی چاہئے۔اور براہ کرم چند لوگوں کی طرف سے پھیلائے جانے والی کہانیوں پر کان نا دھریں کیونکہ انکا کام ہی آپ لوگوں میں انتشار پھیلانا ہے۔ بی بی سی کے اس مضمون کے پیچھے کیا مقصد ہے اوراس بدتر، کسی مقصد اور منطق سے عاری، یہ غیر ذمہ دارانہ، نامکمل اور ناقص تحریر کردہ اردو مضمون پاکستان کی قومی سلامتی کے اہم مفادات کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔    بدقسمتی سے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی بی سی نے اس قسم کے پروپیگنڈے کا ساتھ نہ دیا ہو۔ اس سے پہلے بھی  بی بی سی کی مسلح افواج کے بارے میں تنازعہ پیدا کرنے کی پہلے کئی واضح کوششیں موجود  ہیں۔پاکستانی میڈیا کا منظر نامہ شہزاد ملک جیسے "کرائے کے صحافیوں” سے بھرا ہوا ہے جو دوسروں کے کہنے پر حملے کرنے کے لیے سب سے آگے ہیں۔ ان جیسے مصنفین اپنے اسپانسرز کے لیے سپاہ سالار یا پاکستان کی مسلح افواج کو ٹیگ کرتے ہیں،  بدلے میں اسپانسرز، ان کی کہانیوں کو آگے بڑھانے اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ان پر بھاری احسان کرتے ہیں۔ ایسے مصنفین کا طریقہ کار وسیع تر سامعین تک پہنچنے کے لیے کہانیوں کو ایک لذیذ موڑ دے کر ان کو ختم کرنا ہے۔ اگر بی بی سی کی جانب سے ایسے صحافیوں کو ان کی بے ہودہ باتوں پر قلم اٹھانے کے لیے جگہ دی جاتی رہی تو یہ نہ صرف صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موجود نیک نیتی کو بھی ختم کردے گی۔  ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی برطانیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ بی بی سی کے یہ مضامین پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ شائع کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان جسے پاکستان ہلکے سے نہ لے۔

  • کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر  علی جویو

    کووڈ 19 کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت تحریر علی جویو

    میرا نام علی جویو ہے، میں مائیکروسافٹ پروفیشنل ہوں، اور گوگل سپورٹ سپیشلسٹ ہوں، یورپ، سوئٹزرلینڈ میں IT سروسز میں کام کرنے والا سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ہوں جو یورپی یونین میں آئی ٹی کے شعبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہوں اور میں ایک پاکستانی سوئس ہوں، جس کا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔
    اس بلاگ میں COVID-19 کے بعد IT کی مجموعی اہمیت کے بارے میں لکھوں گا۔ میرا بلاگ بنیادی طور پر پاکستان میں آئی ٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے ہے اور ممالک میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینا ہے۔
    آئیے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی بات شروع کرتے ہیں!
    دنیا کی ٹاپ 100 Technology کمپنیوں کی فہرست پر جانے سے آپ کو کوئی پاکستانی Tech کمپنی نہیں ملے گی۔ جہاں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں لیکن چند بہت چھوٹے ملک بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ ناروے، آسٹریا، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، تائیوان، یہ تمام ممالک ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ہیں, جو کہ نصف بھی نہیں کراچی شہر کی آبادی کا.

    اگر میں آئی ٹی کی بات کروں اور ہندوستان کی بات نہ کروں تو یہ درست نہیں ہو گا! دنیا کی ٹاپ 100 Tech کمپنیوں میں، کم از کم دو ہندوستانی ٹیک کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں ۔
    ہندوستان میں عالمی سورسنگ مارکیٹ IT-BPM صنعت کے مقابلے میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں سورسنگ میں سرفہرست ہے، جو کہ 2019-20 میں US$200-250 بلین کے عالمی خدمات کے کاروبار کے تقریباً 55% مارکیٹ شیئر کا حصہ ہے۔
    ہندوستان کے بارے میں ایک چھوٹا سا تبصرہ۔ آج اگر ہندوستان کو دنیا بھر میں یہ مقام اور عزت حاصل ہے اور وہ Superpower دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو یہ نریندر مودی صاحب کی وجہ سے نہیں ہے! یہ پالیسیوں میں تسلسل اور ان اعلیٰ کمپنیوں کی وجہ سے ہے، یہ CEO’s کی وجہ سے ہے، یہ ان شاندار ذہن رکھنے والے پیشہ ور افراد اور مزدوروں کی وجہ سے ہے۔ جو دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ (میں اس پر الگ بلاگ لکھوں گا)۔

    آئیے پاکستان کی بات کریں! آئی ٹی پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا تقریباً 1% حصہ ڈالتا ہے۔یہ اچھا لگتا ہے! لیکن اگر ہم کہیں کہ یہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے ہے? تو میں اس بات سے متفق نہیں ہوں. لیکن! اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو یہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں آئی ٹی کی وزارت کو "کھڈا لائن منسٹری” کہا جاتا ہے۔اگر آپ مجھ سے متفق نہیں ہیں! تو آئی ٹی کی وزارت سے رابطہ کریں۔ آپ کو آئی ٹی کے ایسے وزیر ملیں گے جن کا آئی ٹی سے کوئی تعلق نہیں! کوئی آئی ٹی کا پس منظرنہیں ، درحقیقت اس وزارت میں زیادہ تر وزراء سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے ہوتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چیک کریں آپ کو شاید مل جائے گا: میڈیکل ڈاکٹر بطور آئی ٹی سربراہ یا شاید پلمبر، یا ڈینٹسٹ، یا بینکر، یا سول انجینئر وغیرہ۔ آپ سب میرٹ کے نظام سے بخوبی واقف ہیں۔!میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا.

    آگے بڑھتے ہوئے! میں تجویز کروں گا کہ اگر حکومت پاکستان آئی ٹی کے شعبے کو سنجیدگی سے لے تو ہم دنیا کے لیے آئی ٹی کی برآمدات، خدمات کو اتنا بڑھا سکتے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آئی ٹی واحد شعبہ ہے جو نہ صرف آپ کو آمدنی بلکہ دنیا بھر میں مثبت امیج، اور کام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آپ کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں نہیں بھولنا چاہئے! جتنا ہم ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے ہمیں سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ سائبر سیکیورٹی بھی میرا موضوع ہے، میں اس پر بھی لکھوں گا۔
    شکریہ