Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا-

    باغی ٹی وی : پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا دوپہر ایک بجے شروع ہوگا تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔

    پہلے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا، پاکستان نے ہدف 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا ڈھاکہ میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلا دیش کے کپتان محمود اللہ نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو سود مند ثابت نہ ہوا پاکستانی بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلا دیش کو مقررہ 20 اوورز میں 127 رنز تک محدود رکھا۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا

    بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کی پہلی وکٹ پاکستانی بولر حسن علی نے لی جس کے بعد بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یکے بعد دیگرے کھلاڑی پویلین لوٹ گئے پاکستان کی جانب سے حسن علی نے تین، محمد وسیم جونیئر نے دو جبکہ محمد نواز اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی اس میچ میں بہترین کارکردگی پر حسن علی کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا-

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ 22 نومبر کو ڈھاکا میں کھیلا جائے گا۔

  • پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) سابق وزیر اعلی پنجاب وپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ نیازی حکومت نے پارلیمنٹ میں روایات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اب تو الیکشن کمیشن نے بھی برملا کہہ دیا ہے الیکٹرانک مشینوں سے انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں ،نیازی سرکار ڈنڈے کے زور پر سیاہ قوانین پاس کروانے کے لیے سلیکٹرز کے پاو¿ں کیوں پکڑ رہی ہے۔ 2023کے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری کی بھتیجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر،پی پی پی کے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ میڈیا کووار ڈ ینیٹر محمد طاہر شیخ ،ٹکٹ ہولڈر چوہدری عمر دراز آزاد و دیگر جیالوں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر گفتگو کے دوران کیا،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نیازی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک اور گھناو¿نا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔جو کہ تشویش ناک فعل ہے ِبحران خان کی حکومت نے اب قوم کو روٹی پکانے کیلئے گیس بھی دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تین سالہ کارکردگی کا نچوڑ دن میں صرف تین بار گیس کی فراہمی کا اعلان ہے، یہ موسم سرما عمران خان کی حکومت اور سیاست کی تدفین کا موسم ثابت ہوگا،قوم ہر موسم سرما کو رہتی دنیا تک منحوس حکومت سے نجات کے موسم کے طور پر منائے گی،تبدیلی سرکار کے تمام دعوے اور وعدے پہلے بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اب بھی قوم کے ساتھ ایک سنگین فراڈ ہو گا، متنازعہ قانون سازی پیپلز پارٹی کو ہر گز قبول نہیں پیپلز پارٹی حکومتی سیاہ قانون سازی کے خلاف ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے گی ۔مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری نے کہا کہ ، اناڑی کو گاڑی پر بٹھائےںگے تو خود بھی مرے گا گاڑی کو بھی تباہ کرے گا ،اگر گاڑی اناڑی نہیںچلا سکتا تو 22 کروڑ عوام کا ملک کیسے چلا سکتا ہے ، قوم پوچھتی ہے کہ تبدیلی لانے والوں کو عمران نیازی کی حکمرانی پسند آئی؟تین ٹائم گیس کی فراہمی کا اعلان بھی دھوکہ ہے، گیس آئے گی ہی نہیں، بجلی، پٹرول اور گیس مہنگی کرنے کے بعد سلیکٹڈ قوم سے سہولتیں بھی چھین رہا ہے، سردیوں میں گیس کی فراہمی سے انکار کرنے والی حکومت کو لوگ نکال باہر پھینکیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ2018 میں پی ٹی آئی حکومت کو لا کر ملک کا ستیاناس ، بیڑہ غرق کردیا گیا ہے ،جو بھی اشیا ئے خوردونوش لینے جاتا ہے وہ اس حکومت کو گالیاں نکال کر نہیں آتا ؟، اس مہنگائی نے عوام کاجینا محال کر دیا ہے ، کہ ، جس نے قوم کو ڈینگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،،اس نے ہماری خارجہ پالیسی تباہ کر دی ہے ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

  • یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید
    ایک کھیل تب تک ہی کھیل رھتا ہے جب تک اسے شوق پورا کرنے یا صرف وقت گذاری کےلئےکیھلا جائے اور جب وہی کھیل شوق سے بڑھ کر جنون بن جائے اور ہزار ہا لوگوں کے جذبات بھی اس سے جڑے ہوتو وہ کھلاڑی کی زندگی کا ایسا مقصد بن جاتا ہے جو اسے ہر ممکن صورت میں اپنے ملک کے عزت و وقار اور لوگوں کی خوشی کیلئے حاصل کرنا ہوتاھے۔
    یورپ میں جو مقام فٹبال کو حاصل ہے وہی مقام کرکٹ کو ایشیائی ممالک میں حاصل ہےیعنی لوگ جنون کی حد تک کرکٹ کے دلدادہ ہیں۔ پاکستان کا سب سے مشہور و مقبول اور زیادہ کھیلے جانے والا کھیل "کرکٹ”ہے

    پاکستان وقت کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں اسے اندرونی طور پر بہت سے چیلنجر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف بیرونی طاقتیں بھی اسے ٹف ٹائم دے رہی پاکستان کے عوام لمبے عرصے سے مختلف مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اس پریشانی کے ماحول میں ہوا کا خوشگوار جھونکا” پاکستان نیوزی لینڈ سیریز” کے طورپر آ یا نیوزی لینڈ ٹیم چونکہ لمبے عرصے بعد کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی تھی یہ خبر پاکستانیوں کے لیے کسی تہوار کے آ نے سے کم نہ تھی شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر سےایک امید پیدا ہوگئی کہ انشاء اللہ نیوزی لینڈ کے اس دورے کے بعد تواتر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے اس خوشگوار خبر کے آ تے ہی زوروشورسے تیاریاں شروع کردیں گئیں ٹیم نیوزی لینڈ کے پاکستان آ نے سے قبل روزانہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل اور پھر ہوٹل سے اسٹیڈیم تک گشت کیا جانے لگا ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مہمان ٹیم ہر حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات سے مطمئن ہو بلآخر وہ دن بھی آ گیا جب ٹیم نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ گئی انہیں فل پروف سیکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل پہنچا یا گیا سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے دورے کے تین چار روز بعد ایک میل تھریٹ کی بناء پر اچانک دورہ پاکستان ملتوی کر دیا اس میل تھریٹ سے فائیو آئی نامی انٹیلیجنس ایجنسی جو کے (آسٹریلیا انگلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ) کی انٹیلیجنس ایجنسیز پر مشتمل ہے، نےنیوزی لینڈ آفیشلز کو اس سے آگاہ کیا اور وہ مزید تفصیلات بتائے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگئے ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان سے یوں اچانک واپسی پر جہاں ایک طرف ملک کو مالی طور پربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف شائقین کرکٹ میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اسی کے چلتے ہوئے انگلینڈ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا

    چند ہی دنوں میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کا میلا سجنے والا تھا شائقینِ کرکٹ نے قومی ٹیم سے امیدیں باندھ لیں کہ بھارت جو پاکستان کا روایتی اور تگڑا حریف ہے اسے تو ہرانا ہی ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کو بھی چاروں شانے چت کرنا ہے قومی کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ جارحانہ کھیل پیش کر کے ہی مقابل ٹیموں اور ممالک کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل کر کے ہی متحدہ عرب امارات میں عمدہ کرکٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ اور پر امن ملک ہے۔اب کرکٹ میچ میں جیت ہی ملک کے عزتوقار کو بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔

    پھر وہ دن بھی آ گیا جس دن پاک بھارت میچ ہونا تھا کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کے لیے خاص اہتمام کیا،مالز اور گراؤنڈز میں بڑی اسکرینیں لگائی گئیں پاکستان قوم کی دعائیں اور قومی ٹیم کی محنت بلآخر رنگ لے آئی۔ پاک بھارت میچ میں شروع سے آخر تک پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط رہی اور اس طرح بھارت کو دس وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جیت کے ساتھ پورا ملک روشنیوں میں نہا گیا لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آ نسو اور زبان پر رب تعالیٰ کی تعریف تھی۔ وطن سے محبت ایک بہت ہی انوکھا اور خوبصورت احساس ہے اور یہ وہ جزبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا خواہ آ پس میں لوگ ایک دوسرے سے کتنے ہی اختلاف رکھتے ہو مخالفین ایک دوسرے پر طنز و طعنہ کے نشتر کستے ہولیکن جب بات وطن پر آ تی ہے تو سب یک زبان ہوکر پاکستان کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل نے پوری قوم کو اکٹھا کر دیا تھا۔

    ورلڈ کپ کا دوسرا میچ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تھا یہ میچ بھی پاک بھارت میچ سے کم نہ تھا پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی کھلاڑیوں نے یہ اہم جیت اپنے نام کی اور اسی کے ساتھ نیوزی لینڈ سے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا بدلہ بھی پورا ہوا

    اس کے بعدپاکستان ٹیم نے لگاتار اپنے گروپ کے تمام میچز جیتے اور اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کرکٹ مداحوں سے یوں دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے پر معافی مانگی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئندہ برس پاکستان آ کر میچز کھیلنے کا اعلان کیا ہے
    گویا یہ اک کھیل نہ صرف ملک کے وقار کو بحال کر گیا بلکہ پاکستانی عوام کو پھر سے متحد کر گیا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور اس موقع پربلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم تعریف کے لائق ہے جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثرگیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ کرکٹ کے حق میں بہترین فیصلے کیے اور قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
    شکریہ پی سی بی
    شکریہ ٹیم پاکستان

    @SuBKeHDo4

  • میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    بین الاقوامی انسانی حقوق کے آرٹیکل نمبر 10 کے تحت ہر کسی کو بولنے اور آواز بلند کرنے کا حق ہے اور ہر ملک کے آئین میں اس بات کو شامل کیا گیا ہے کہ بنا کسی فرق کے ہر فرد کے پاس تنقید یا تعریف کا حق موجود ہے
    لیکن
    یہاں پھر کچھ باتیں ایسی جنم لیتی ہیں جن سے اس حق کا غلط استعمال ہوتا دیکھا جاتا ہے۔

    ہر کسی کے پاس بولنے کا حق موجود ہے لیکن کیا کسی کی ذاتی زندگی پر بنا ثبوت کے کیچڑ اچھالنے کا حق بھی ہے؟ کیا قومی حساس معاملات پر ان لوگوں کا بولنا بھی حق ہے ہے جو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں رکھتے یا پھر جھوٹی خبر یا جھوٹ پر مبنی بنائی گئی کہانی گھڑنا بھی آزادی اظہار رائے میں آتا ہے؟تو جواب ہے بلکل نہیں۔ ہر بات اور ہر لفظ کا ذمہ دار اسکا بولنے والا استعمال کرنے والا ہوتا ہے اور ان الفاظ سے پیدا ہونیوالے اثرات کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہےفرض کریں ایک شخص مزہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہو جس سے فسادات برپا ہونے کا خدشہ ہو تو کیا اس فرد کو اس لئے بولنے دینا چاہیے کہ اسے انسانی حقوق نے یہ حق دیا ہے؟ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ ان معاملات میں بولنا چاہیے جو آپکا سرکل ہے۔ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر کسی دوسرے کے دائرے میں بولنا دوسرے کی ناصرف حق تلفی ہے بلکہ ایک سوچ کی خرابی کو جنم لیتا ہے جسے کہتے ہیں ڈس انفارمیشن۔ تعلیم اور پیشہ ور معاملات کی ہی مثال لے لیجئے کہ ایک استاد جسکا پیشہ اور تعلیم ایک مخصوص شعبے کو پڑھانا ہے وہ کسی دوسرے شعبے کو نہیں پڑھا سکتا تو کیسے وہ اس پر رائے دینے کا بھی حقدار ہوگا؟

    اسی طرح کچھ میڈیا ہؤسسز ہیں جو اس آرٹیکل کو اپنی جھوٹی من گھڑت اور غلط معلومات پر منحصر خبریں نشر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر انہیں کوئی اس بات سے روکے تو میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دی جاتی پے۔ پاکستان بھی آجکل انہی حالات سے گزر رہا ہے۔ ٹالک شوز میں معیشیت پر اینکرز حضرات اپنا تجزیہ دے رہے ہوتے ہیں جنکی نہ تو تعلیم معیشیت پر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجربہ۔ کورٹ روم کے باہر اگر دس سال کوئی کیمرہ مین کوریج کرتا رہا ہے تو اسے قانونی امور پر تجزیے کے لئے بٹھا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے دفاعی اور حساس معاملات پر ایسے عجیب و غریب تجزئیے پیش کیے جاتے ہیں جیسے کل ہی دشمن ہمارے ملک پر قبضہ کرلے گا اگر ان جناب کا تجزیہ نہ مانا تو۔

    اصل میں پاکستان کا میڈیا خود کو بے لگام گھوڑا بنانا چاہتا ہے اور جھوٹی خبر اپنا حق سمجھنے لگا ہے۔ کچھ دن پہلے فیک نیوز پر قانون سازی کے کچھ پیپر ورک ہوا حکومت کیطرف اور میڈیا یونینز سے انکے نمائندے پیش کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس قانون کے نکات پر اپنی رائے دیں تاکہ مزید بہتری آسکے۔ وہ سب بجائے ان نکات کو پڑھتے ان پر کام کرتے وہ سب دھرنےپر بیٹھ گئے کہ جھوٹی خبر دینا تو ہمارا حق ہے اور لوگوں میں افراتفری پھیلانا بھی۔ اس سے پاکستان کا امیج دُنیا میں ایک میڈیا پر پابند سلاسل لگانے والا ملک شو کیا گیا حالانکہ وہ قانون صرف اور صرف جھوٹی خبر پھیلانے والے کے خلاف تھا۔ مطلب میڈیا کو اس قدر آزادی چاہیے کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر کوئی قدغن نہ لگے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھنے والا ہو۔ سبھی ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون موجود ہے اور کڑھے جرمانے رکھے گئے ہیں جھوٹی خبروں پر۔ پاکستانی میڈیا ناصرف ملک کے اندرونی معاملات ہر جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے میں ملوث ہے بلکہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر بھی کچھ صحافی جھوٹ بولنے میں پیش پیش ہیں

    پچھلے سال اقوام متحدہ کے ڈس انفارمیشن سیل نے اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلائی گئی پاکستان کے متعلق اور ان جھوٹی معلومات پر پاکستانی صحافیوں نے تجزئیے بھی پیش کیے ان سبھی معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میڈیا کی بے لگام آزادی کسی بھی ملک کے لئے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ہر بات اگر نشر ہونے لگی تو حساس قومی معاملات کو نقصان پہنچے گا۔ آج کی ففتھ جنریشن وار میں سب سے بڑا ہتھیار میڈیا کا غلط استعمال کروانا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ نام نہاد صحافی انہیں ایجنڈوں پر کام کررہے ہیں۔ دنیا میں مختلف وارداتوں کے علاوہ بچوں کے ریپ ہوں یا قتل میڈیا حکومت کی اجازت کے بغیر خبر نشر نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں پولیس بعد میں پہنچتی ہے اور میڈیا تک خبر پہلے جاتی ہے جس کا، نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب تک حقائق پتہ چلتے ہیں تب میڈیا کی وجہ سے ایک ایسی رائے عامہ تیار ہوچکی ہوتی ہے کہ پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے "‏فرانس کمیشن مطابق وہاں چرچ 50 سالوں میں ساڑھے تین لاکھ بچوں ساتھ ریپ ہوئے جو سالانہ قریبا 5000 کیسز ماہانہ 400 روزانہ قریبا 14 child abuse کیس بنتے ھیں” اب یہی کیس اگر پاکستان میں ہو تو پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوجائے گا میڈیا کی بےلگامی کی وجہ سے، لیکن فرانس میں اسے میڈیا، پر اسے زیر بحث لانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ملک کو نیشنل اور انٹرنیشنل پر بدنامی سے بچانا ہے تو میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔کچھ پابندیاں لگانا ہونگی خاص طور پر ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات زیربحث نہیں لائی جاسکتی۔۔
    تحریر ارم شہزادی
    @irumrae

  • اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    ذندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع کرنے کی بجائے محبتیں بانٹیں اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرکے سکون پائیں…
    کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکھائیں اور ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دے سکتے ہیں پر جہاں اپنے حق کے لئے بولنا لازم ہوجائے وہاں چپ رہنا کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو اپنی ذات کے ساتھ زیادتی ضرور ہے

    بےحسی ہمارے معاشرے میں ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بھی نہیں پتا چلتا کسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا تو دور ہم سننا گوارہ نہیں کرتے..
    انسان اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے جہاں اسے اپنے حق کے لئے بولنا چاہیئے وہاں وہ چپ سادھ لیتا ہے
    باجی یہ تو ظلم ہے)
    ایسا جملہ جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.
    ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک فیملی کرائے پر رہنے آ ئی
    اس عورت کے 4 بیٹے 3 بیٹیاں تھیں
    بیٹیاں شادی شدہ تھیں.
    میں جب بھی اس عورت کو دیکھی سہما ہوا اسکا چہرہ دیکھی..
    ایک دن ایسا ہوا وہاں پانی کا مسئلہ تھا پانی کا ٹینکر منگوا کے استعمال کیا جاتا تھا. میں نے کبھی اس عورت کی اونچی آواز نہیں سنی کیونکہ اسکا شوہر سخت مزاج تھا پانی کا ٹینکر آیا میں نے سوچا غریب فیملی ہے کچھ پیسے میں نے پانی کے دئیے اور 400 اس عورت کو کہا کہ آپ دے دیں. پانی ٹینکی میں ڈالنے سے پہلے میں نے اسے کہا کہ پینے کے لئے ایک واٹر کولر بھر لیں, اس نے پانی بھرا اور باقی پانی ٹینکی میں ڈال دیا گیا. جب میں نے اس عورت کو 400 روپے دینے کا کہا تو اسنے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا باجی یہ تو ظلم ہے…

    میں نے ایک کولر بھرا آپ نے 400 روپے دلوا دئیے….
    مجھے اسکی معصومیت پہ ہنسی ائی میں نے کہا کہ آپا یہ جو پانی ٹینکی میں ڈالا گیا ہے یہ بھی آپکا ہی ہے جو آپ روز مرہ استعمال کریں گی ایک واٹر کولر کے پیسے 400 روپے نہیں ہیں..
    تب اس نے خوشی سے کہا اوو اچھا باجی خفا نہیں ہونا
    میں نے کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ بولنا بھی تو آیا کہ یہ تو ظلم ہے پر میری ایک بات کا جواب دیں یہ جو آپ اپنی فیملی میں سہہ رہی ہیں یہ کیا ہے ؟
    بیٹا ماں کے منہ پہ تھپڑ مار رہا ہے, اور شوہر آپ پہ ہاتھ اٹھا رہا ہے ( صرف اس لئے کہ گیٹ آپ نے کیوں کھلا چھوڑا)
    کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
    میری بات سن کے میرا ہاتھ پکڑ کے بولی… باجی میرا شوہر میرے سے بہت پیار کرتا ہے بس کسی نے اسے جادو کھلا دیا ہے اس لئے اسے غصہ زیادہ آتا ہے
    اور جو بیٹا آپکے منہ پہ تھپڑ مارا وہ کیا ہے ؟ میں نے پھر سوال کیا

    وہ عورت مسکراتے ہوئے بولی باجی میرا وہ بیٹا بچپن سے ہی غصے والا ہے میں جب غلطی کرجاتی ہوں تو اسکو غصہ آتا ہے پر میرے سے پیار بہت کرتا ہے.
    اسکے جواب سن کے میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کے دفاع میں بول رہی تھی اور میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے مذید دلائل دینے لگی.
    ایسی بھی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہیں جو اچھا برا صیحیح غلط, سچ جھوٹ جانتے ہوئے بھی ان سب سے لاعلم ہوں
    میرے خیال میں 400 روپے کے لئے اسکا کہنا کہ باجی یہ تو ظلم ہے اس بات کی عکاس کرتا کہ اسے ظلم اور جبر کی پہچان ضرور ہے مگر اپنی ذات کے معاملے میں وہ بالکل اس سے لاعلم ہے یا لاعلم رہنا چاہتی ہے.

    خیر کچھ دن بعد گھر کے باہر ایک ٹرک کھڑا تھا جس پر انکا سامان لادا جارہا تھا ،معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں.
    خدا حافظ کہنے وہ میرے گھر آئی میں خوش اسلوبی سے اس سے ملی مگر وہ نظریں چرا رہی تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
    میں نے اسکا ہاتھ تھام کہ کہا آپا اپنی زندگی اپنی ذات کا بھی انسان کو سوچنا چاہیئے ناں
    جب تک آپ کسی کو اپنی خوشی یا اپنے غم کا احساس نہیں دلائیں گی کوئی آپکی قدر نہیں کریگا
    وہ پھر کچھ بولنے کے لئے میری طرف دیکھی پر صرف مسکرا کے چلی گئی.
    اسکے جانے کے بعد میں وہیں بیٹھ گئی ایک عورت کو اپنے خاوند سے چاہیے ہی کیا ہوتا ہے ؟ ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کس چیز کی امید ہوتی ہے ؟؟
    شاید یہ خواہش یا مطالبات اس عورت نے کہیں دفن کر دئیے تھے

  • ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    اس وقت دیکھا جائے تو غریب عوام اس وقت مہنگائی کے دریا میں ڈوب رہی ہے اور وہ کسی مسیح کے انتظار میں ہیں کوئی تو آیا جو ان کو ڈوبنے سے بچائے روزمرہ کی چیزیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ پیٹرولیم منصوعات ، گیس ، بجلی میں اضافہ ہو۔
    اور ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی گیس لوڈشینگ میں شروع ہو چکی ہیں کچھ جہگوں پر گیس کا پریشر کم ہے جس کی وجہ سے عوام سلنڈر کے استعمال کر رہے ہیں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو کر دیا کیاغریب عوام یہ مہنگائی کا بوجھ اس ریلیف پیکج کوحاصل کر کے گئی؟ ایسے عوام کوریلیف تو نا ملا
    پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے تعین کا ذمہ دار ادارہ شماریات پاکستان ہوتا ہےپاکستان میں کھلی منڈی کی قیمتیں اور سرکاری ادارے کی جانب سے اُنھیں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے

    کیا پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ ’کارٹلائزیشن‘ ہے؟ کیا کارٹل زائد منافع حاصل کررہے ہیں اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روک رہے ہیں کارٹلز اور مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت بھی ان کو کنٹرول نہیں کر پا رہی یا حکومت میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو جن کا تعلق ان سے ہیں؟ جو نہیں چاہتے پاکستان میں غریب عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے
    جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کھانی پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بیس فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہ غلطیاں کیسے سودارتی ہیں اور اس مہنگائی پر کنڑول کر سکے گی یا نہیں ؟ یا صرف یا کہا جائے گا گھبرانا نہیں ہے اور حکومت کے نمائندے بس ٹی وی سکرین پر آ کر یہی بولے گئے پاکستان میں مہنگائی باقی ملکوں سے کم ہیں۔
    ہمارے وزیرا عظم عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھےکہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں عوام کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو عوام بھی کرپٹ سمجھیں؟ قرضوں میں اضافہ بھی اسی طرح جاری ہے حکومت تو دعوے کرتی رہی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

  • بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارت میں اس وقت ایک پورا چینی گاؤں آباد ہو چکا ہے۔ اور یہ بات میں یا کوئی پاکستانی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے حمایتی امریکہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے اس حد تک انڈیا کے سرحدی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے پاس بھارتی علاقے میں اپنا ایک گاؤں بسا دیا ہے۔ جس پر انڈیا میں حکومت اور فوج دونوں ہی عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بھارتی فوج کچھ اور بیان دے رہی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ الگ ہی راگ الآپ رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ گاؤں چین کے علاقے میں ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اسے غیر قانونی تعمیرات کہہ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے خود انڈین میڈیا نے بھی اس خبر کو رپورٹ کیا تھا کہ چین کا ایک گاوں بھارتی علاقے میں موجود ہے لیکن مودی سرکار اس پر خاموش رہی بلکہ اپنے میڈیا کو بھی چپ کروا دیا کہ خبردار اس پر کوئی رپورٹ نہ کرے لیکن انٹرنیشنل اداروں کو رپورٹ کرنے سے تو مودی سرکار نہیں روک سکتی اس لئے اب امریکی رپورٹ نے نہ صرف اس خبرکی تصدیق کر دی ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس علاقے میں سو مکانات کی ایک بستی آباد کی گئی ہے اور وہاں پر تیزی سے ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کی جدید سہولیات لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر انڈای کی جانب سے طرح طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ارندم بگچی کا بیان آیا ہے کہ۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا چین نے گزشتہ کئی برسوں سے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے دہائیوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے نہ تو اپنی سرزمین پر ایسے غیر قانونی قبضوں کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس نے چین کے بلا جواز دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے سفارتی ذرائع سے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ اپنا شدید احتجاج بھی درج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومت بھارت کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خود مختاری، سالمیت اور علاقائی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔

    لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات کو مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر چینی گاؤں کی تعمیرات کا مسئلہ تو درست ہے۔ اور چین یہ گاؤں اس لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پروہ اپنے شہریوں کو یا پھرمستقبل میں اپنی فوج کو سرحدی علاقوں میں بسا سکے۔ خاص طور ایل اے سی پر حالیہ کشیدگی کے بعد ۔۔ لیکن یہ جو نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ چینیوں نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک نیا گاؤں بنایا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ان دیہاتوں کی تعمیر ایل اے سی کے تحت اپنی سرحد کے اندر کر رہے ہیں۔ ایل اے سی کی حوالے سے جو ہمارا تصور ہے اس کے مطابق انہوں نے ہمارے علاقے میں کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کہاں ہے، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایل اے سی پر یہ آپ کی صف بندی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جس کا آپ سے دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔اب ان دو طرح کے بیانات اور انڈین فوج کی گزشتہ سال جس طرح چین کے فوجیوں سے پٹائی ہوتی رہی ہے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا بیان حقیقت کے قریب ہے۔ ویسے ہو سکتا ہے بپن راوت ٹھیک کہہ رہے ہوں اپنی فوج کی پٹائی کے بعد وہ علاقہ انڈیا نے چین کو دے دیا ہو جس کے بعد اب وہاں چین کا قبضہ ہے اور پورا گاوں بھی آباد ہو گیا ہے کیونکہ خود کانگریس کا بھی بھارتی حکومت کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مودی نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مودی کے سپورٹرز جو بڑکیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ مودی کا سینہ 56 انچ چوڑا ہے۔ ان کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے ٹوئیٹ بھی کی ہے کہ ہماری قومی سلامتی سے ناقابل معافی سمجھوتہ کیا گیا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور مسٹر 56 انچ تو کافی خوفزدہ ہیں۔ مجھے اپنے ان فوجیوں کی فکر لاحق ہے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جب کہ بھارتی حکومت کے منہ سے بس جھوٹ ہی نکل رہا ہے۔

    مودی سرکار دراصل کر کیا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایک تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ظاہری بات ہے اس بارے میں جتنی بات کریں گے ان کے جھوٹ کہیں نہ کہیں پکڑے جائیں گے۔ اور دوسرا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت جیسی مودی سرکار کی ٹاوٹ کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو اس کے منہ میں آئے بولے جائے ایسے بیانات دے جس سے ہندوتوا شدت پسندی میں خوب اضافہ ہو اور لوگوں کا دھیان ایسی خبروں سے ہٹا رہے۔اور اب جو کنگنا نے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہے اس پر سبھی حیران ہیں۔ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ساورکر، رانی لکشمی بائی، سبھاش چندر بوس۔۔ ان لوگوں کی بات کروں تو یہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستانی-ہندوستانی کا خون نہ بہائے۔ انھوں نے آزادی کی قیمت چکائی، یقینا۔ لیکن وہ آزادی نہیں تھی، وہ بھیک تھی۔ جو آزادی ملی ہے وہ 2014 میں ملی ہے۔جس کے بعد انڈین عوام کی طرف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت کو حال ہی میں جو پدماشری ایوارڈ دیا گیا تھا وہ واپس لیا جائے اور اس کو جیل بھیجا جائے۔رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے تو کنگنا پر مجاہدین آزادی کی بے عزتی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کنگنا کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔ کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی۔ اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟کانگرس کی رہنما آنند شرما نے تو اپنی ٹویٹ میں صدر رام ناتھ کووند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مس رناوت کو دیا گیا پدما ایوارڈ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ایسے ایوارڈ دینے سے پہلے نامزد افراد کے ذہنی اور نفسیاتی تجزیے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی شخصیات قوم اور اس کے ہیروز کی توہین نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس وقت کنگنا رناوت ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ لیکن میں آپ کو سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ سب خود مودی جی کے کہنے پر تو کر رہی ہیں اور وہ مودی سرکار جس نے کنگنا کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے وہ کیوں اسے کچھ ہونے دیں گی۔
    اور کنگنا رناوت دو ہزار چودہ میں ملنے والی کس آزادی کی بات کر رہی ہیں یہ کیسی آزادی ہے کہ اتنی بڑی جمہوریت اور اتنے بڑے ملک میں خود وہاں کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں ان کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ کہیں اکھٹے ہو کر با جماعت نماز پڑھ سکیں۔

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں ہندو گروپس نے کھلی جگہوں پر مسلمانوں کی نماز رکوا دی ہے۔ہندو گروپس نے سیکٹر 12 اے میں واقع ایک جگہ پر قبضہ کرلیا۔ اور جب آس پاس کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ان کو کہہ دیا گیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنا رہے ہیں۔ اور تو اورگراونڈ میں اور اس کے آس پاس کی جگہ جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں وہاں انھوں نے گوبر کے اپلے پھیلا دئیے تاکہ وہ جگہ ناپاک ہو جائے اور مسلمان وہاں نماز نہ ادا کر سکیں۔ دراصل پچھلے کئی ہفتوں سے مسلمانوں کو اس شہر میں مختلف مقامات پر نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن جب کوئی فرق نہ پڑا تو انہوں نے یہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے حالانکہ ایک ہفتہ پہلے خود اس ہندو گروپ نے اس گراونڈ میں پوجا بھی کروائی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نماز کی جگہ نہیں ہے بلکہ عوامی مقامات ہیں۔ حالانکہ گڑگاؤں کا سیکٹر 12-Aان 29 مقامات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں 2018 میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے ہوا تحا جس میں طے کیا گیا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص ہے۔لیکن نہیں ایسے لوگوں کے خلاف مودی سرکار کچھ نہیں کرے گی بلکہ ایسے واقعات تو اپنے خاص لوگوں سے جان کر کروائے جاتے ہیں تاکہ مودی سرکار کی قابلیت عوام کے سامنے نہ آجائے کہ کیسے یہ چین کے ہاتھوں مار بھی کھا رہے ہیں اور اپنے علاقے بھی ان کو دے رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی مسلمان شہریوں پر جگہ تنگ کی ہوئی ہے۔

  • سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سب سے بڑی خبر جو ہے وہ یہ کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو آج رہا کر دیا گیا ۔ کوٹ لکھپت جیل سے وہ سیدھا مسجد رحمت العالمین پہنچے ۔ جہاں ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ٹی ایل پی کی لیڈرشپ اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ چکے تھے ۔ بڑے ہی رقت آمیز مناظر تھے ۔ کارکنان بڑے ہی پرجوش تھے ۔ فضا لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ اس موقع پر اتنی گل پاشی کی گئی کہ علامہ سعد رضوی کی گاڑی ہی کیا سٹرکیں تک پھولوں کی پتیوں سے بھر گئیں ۔۔ پھر سعد رضوی سب سے پہلے اپنے والد تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے مزار پر گئے ۔ وہاں پر خصوصی دعا مانگی گئی۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ چوک یتیم خانہ پر موجود ہیں اور اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر ہیں ۔

    حافظ سعد رضوی ، ٹی ایل پی کی تمام لیڈرشپ سمیت جتنے بھی کارکنان جنہوں نے لاٹھیاں ، گولیاں ، تشدد اور گرفتاریاں برداشت کیں۔ ان کی فتح کا دن ہے ۔ ان کے عظم اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ٹی ایل پی شاید ہی کوئی مطالبہ ہوجو منظور نہ کرواپائی ہو ۔ کارکنان بھی رہا ہوگئے ، گرفتار لیڈر شپ بھی رہا ہوگئی اور پاپندی بھی ختم ہوگئی ۔ دیکھیں جب آپ حق پر ہوں تو پھر آپ نہ ڈرتے ہیں نہ پیچھے مڑتے ہیں ۔ میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ پر آج ان تمام وزراء کو اپنی شکل آئینے میں دیکھنی چاہیئے ۔ اور اگر کہیں چلو بھر پانی ملے تو ڈوب مرنا چاہیئے کیونکہ ان کی تمام سازشیں کہ ملک میں خون خرابہ ہو ناکام ہوگئی ہیں ۔ ساتھ ہی ان وزراء جیسے شاہ محمود قریشی ، علی محمد خان عقیل کریم ڈھیڈی ، مفتی منیب الرحمان سمیت اداروں کو خصوصی مبارک باد کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا ۔

    ۔ اس وقت جو ٹیمپو بنا ہوا ہے ۔ اگر ٹی ایل پی صحیح طریقے سے capitalize کرجاتی ہے ۔ تو یقین مانیے تحریک لبیک عنقریب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہوگی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاہے حکومت اور اتحادی جماعتیں ہوں یا پھر اپوزیشن جماعتیں کبھی ان کے لیے ہمدردی کا بول نہیں بولا ۔ حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ یہ حق پر ہیں ۔ کیونکہ میں ان کو شروع سے فالو کر رہا ہوں ۔ جو لوگوں کی پہلے تو ان سے عقیدت ہے۔ وہ اپنی جگہ ۔ پر لوگ مانتے ہیں کہ یہ سچے لوگ ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو تحریک لیبک والے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ان کے قد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ پھر جو بھی لوگ پولیس کے یا پھر ٹی ایل پی کے جن کی جانیں گئیں ۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے ۔ پہلے تو معاہدہ پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا پھر جان بوجھتے ہوئے ہیں علامہ سعد رضوی کو گرفتار کیا ۔ حالانکہ حکومت جانتی تھی کہ اس کے بعد ملکی سطح پر احتجاج کیا جائے گا ۔

    ۔ ساتھ ہی جو حالیہ لانگ مارچ کے دوران بھی حکومت کا رویہ کوئی ٹھیک نہیں تھا ۔ ایک جانب آپ مذاکرات نہیں کر رہے تھے تو دوسری جانب شہر شہر بند کیا ہوا تھا ۔ خندقین کھود کر ۔ کنٹینر لگا کر ، انٹرنیٹ اور فون حکومت نے بند کیے ۔ اس سے جو اربوں اور کھربوں روپے کا کاروبار متاثر ہوا ۔ جو لوگوں کو کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس سب کی قصور وار حکومت ہے ۔ ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ۔۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ علامہ سعد رضوی عنقریب پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ بن کر چمکے گا ۔ اور ان کے کارکنان اور جماعت بڑے بڑوں کی ضمانتیں ضبط کروا دے گی ۔

  • عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    مملکت پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ اب معمول کی بات ہے الزام تراشیوں کے سلسلے بھی اب نئے نہیں اور تو اور اب مقدس اداروں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔۔ایسا ہی ایک ادارہ عدلیہ ہے ایسا نظام جس سے ایک ریڑھی والے سے لیکر اسمبلی میں بیٹھے حکمران تک کی امید بندھی ہیں ریاستی نظام میں یہ واحد ستون ہے جس پر پور ی ریاست چل کر خوشحالی کا جانب گامزن ہوتی ہے مگر جہاں عدالتیں عام شہری کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہوں وہاں نہ صرف ریاستی نظام بلکہ اس سے جڑے تمام تر امور ناکام تصور کیے جاتے ہیں۔۔۔جبکہ آج کل تو عدالتوں اور انکے ججز سے جڑے سیاسی سے قصے زبان زد عام ہیں۔۔سیاسی جماعتوں کی الزام تراشیوں کا سلسلہ چلتے چلتے معزز عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان تک جا پہنچا ہے۔۔۔

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک جج صاحب نے دوسرے معزز جج پہ مبینہ الزام لگایا کہ انہوں نے نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دلوانے میں اہم کردار نبھایا اور پھر اسکے بعد سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی کے ٹاک شوز حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑتی دکھائی دے رہی ہے ایک جماعت ایک جج کے ساتھ دوسری مخالف کے ساتھ اور عوام کیا سوچ رہی اسکی نہ نظام عدل کو پروا نہ ہی انتظامیہ کو لینا دینا۔۔۔تو بھئی بات یہ ہے کہ معاملات جو بھی تھے اس سے ایک عام آدمی صرف اور صرف اتنا سوچنے پر مجبور ہے کہ جن عدالتوں پر آنکھیں بند کر کے وہ یقین رکھتا تھا کہ وہاں حلفاً فیصلے انصاف پر ہوتے ہیں تو کیا وہ محض اسکی خوش خیالی تھی یا چلیں مان لیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لین دین ہوئی بھی ہے یا سیاسی رشتہ داریاں نبھائیں گئی ہیں تو کیا جج صاحبان کو کھلے عام بیانات دے کر عدالتوں پر سے اعتبار اٹھوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا؟۔۔سیاسی رسہ کشی میں ہم اپنے اداروں کی بے توقیری میں ملوث ہورہے ہیں اس بات کا احساس تک نہیں کیا بیان دینے والوں نے ۔۔ ایک انصاف دینے والا دوسرے انصاف دینے والے کے کردار کو پوری قوم کی نظر میں مشکوک بنا رہا ہے تو پھر خود بتائیے کیا عدالت وہ جگہ رہ جائے گی جہاں انصاف کی دہائی کے لیے لپکا جائے؟

    آپ کبھی کچہری میں ہزاروں لوگوں کو دھکے کھاتے دیکھیے جو اپنے کیس جوانی میں دائر کرتے اور بڑھاپے تک فیصلے مؤخر رہتے یا پھر کیس کی سنوائی ہی نہیں ہو پاتی۔۔کرمنل کورٹس میں کئی بے گناہ منتظر ہیں سول کورٹس میں ڈھیروں فائلیں کسی خاک سی امید تلے دب چکی ہیں کئی خواتین سے متعلق کیسز ہیں جو ڈرتے مرتے تشدد کے خلاف آواز اٹھا بیٹھیں مگر کوئی سننے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نہیں۔۔۔ بد قسمتی سے انصاف کا دوہرا معیار بھی اس نظام کی ناکامی کی وجہ بنتا جارہا ہے غریب جسکے پاس پیسہ نہیں وہ روز عدالتوں کی خاک چھانتا ہے اسکو سننے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ روپے پیسے والا ایک دن میں اپنا کیس عدالت سے نمٹا لیتا ہے۔۔۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں سے پلک جھپکتے بری ہوتے دیکھے کئی نامی گرامیوں کو قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکتے بھی دیکھا انہی عدالتوں نے مجرموں کے کمروں سے برآمد شدہ شراب کی بوتلوں کو شیمپو کی بوتلیں بھی کہا سیاسی مجرموں کو محفوظ راستے بھی فراہم کیے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام میں بھی جھونکا کئی سیاسی بدمعاش تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ کئے گئے سنگین جرائم کا اعتراف تک کیا مگر با عزت بری ہوئے۔۔ غریب بھوک کے ماے ایک روٹی بھی چوری کر ے تو پولیس پکڑ کے لے جائے گی اس بے چارے کو حوالات سے جیل تک پہنچا دیا جائے گا جبکہ دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے ایم این اے مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے ثبوت ناکافی ہیں جبکہ قتل کی فوٹیج تک عدالت میں دکھائی جاتی ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ اسوقت پاکسان کی مختلف عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہے عدالتیں خود مختار اور آزاد ہونگی تو انصاف کی فراہمی جلد اور یقینی ہوگی عدالتی نظام میں اصلاحات اکثر سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا منشور کا حصہ رہیں مگر عملی طور پر کچھ نہ کیا جاسکا مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے جڑے ستون ہیں ایک میں بھی سقم ساری ریاست کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔۔ انصاف پر مبنی نظام عدالتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ حکومت کو بھی عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ فوری اور بروقت انصاف مہیا ہوسکے۔ اور ایک نظام ترتیب دیا جائے کہ جو جو وکلا یا ججز مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا سبب بن رہے ان سے پوچھ گچھ یقینی بنائی جا سکے۔ سیاست دانوں کو سیاست اور ججز کو عدل قائم کرنے ہوگا اگر عدلیہ میں سیاست شامل ہونے لگی تو پھر انصاف کے نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجائیں گی جو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتی چلی جائیں گی۔

    سیدہ زکیہ بتول
    @NayyarZakia