Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرہ اور معشیت تحریر : سید اعتزاز گیلانی

    معاشرے کی تشکیل اور رزق کے لئے معیشت ضروری ہے۔کوئی بھی معاشرہ موثر معیشت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جس میں وہ کم از کم اپنے ارکان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔زندگی کے حالات میں تبدیلی کی وجہ سے ایک نکھار ہے۔اس لئے معیشت معاشرے کا ایک اہم جزو ہے جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہے ۔ اگر معاشرے کو تخلیق کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح رزق کا حصول بھی ضروری ہے۔ تمام ادارے لوگوں کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔لوگوں کے معاشرے سے تعلق رکھنا بہت اہم اور اہم ہے۔اگر لوگ سماجی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں تو وہ ممکن نہیں ہیں۔یہ چیز ان کی زندگی میں منفی فنون کی طرف آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی اقدار، تعلقات اور طرز عمل متاثر ہوتے ہیں۔لوگوں کی معیشت میں شامل ہونے سے ان کی سماجی زندگی بہتر ہوتی ہے۔ ان کا ادارہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے۔قانون مزید مضبوطی سے آگے بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ ثقافت اور معیشت کے درمیان تعلق ایک متحرک ہے۔جس کے ذریعے دونوں ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لئے معاشیات کم افراط زر اور اس لئے روزگار کی اعلیٰ ترین سطح کے ساتھ مستحکم معاشی عمل کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی فیصلوں کا تجزیہ کرنے اور سمجھنے کے لئے ایک سائنسی نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔معاشی طریقے وہ آلات بھی فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے پالیسی تجزیہ کار قومی سلامتی سے لے کر صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک متعدد شعبوں کے دوران ریاستی پالیسیوں کے ممکنہ اخراجات، فوائد اور اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔صدور معاشی ماہرین کو قومی اقتصادی پالیسی کے ساتھ ساتھ دیگر پالیسی شعبوں کے بارے میں مشورہ دینے کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ریاست سے باہر معاشی اصول کاروباری فیصلوں اور اقدامات کی رہنمائی میں مدد کرتے ہیں جو خوشحال معاشرے کو فروغ دینے میں 

    مدد کرتے ہیں۔

    صنعتی انقلاب کی وجہ سے تمام صنعتی معاشروں کو تبدیلی کی ایک متبادل لہر کا سامنا کرنا پڑا جس نے ایک صدی کے اندر اندر ہر صنعتی معاشرے میں زندگی کے حالات اور طرز زندگی کی مجموعی تبدیلی کی طرف لے گیا۔نئے معاشی انتظامات نسبتا تیزی سے تیار ہوئے جہاں سرمایہ مزدوروں سے الگ کیا گیا اور جہاں کافی بڑی معاشی تنظیمیں ابھریں، مشینوں اور مزدوروں کے گروہوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا ہونے کے لئے ملازم رکھا گیا۔

    Twitter account: @AhtzazGillani

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.

    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟

    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.

    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.

    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟

    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں

    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

  • مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    نئی دہلی :مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو زیر اعلیٰ لانے کیلئے انتخابات سے قبل دھاندلی میں مصروف ہے ۔دوسری طرف کشمیری مودی کی ان سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‌

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لانا ہندوتوا طاقتوں کا دیرینہ خواب رہا ہے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں ہمیشہ ایک مسلمان ہی کسی منتخب حکومت کا سربراہ رہا ہے۔ آر ایس ایس اوربی جے پی کا کٹھ جوڑ مقبوضہ علاقے میں انتخابات کے ذریعے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اس کے ساتھی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے حلقہ بندی کمیشن کو استعمال کر رہے ہیں اور حلقہ بندیوںکا مقصد ہندو اکثریتی خطے جموں کو زیادہ سیٹیں دینا ہے۔بی جے پی کی بھارتی حکومت نے جموںو کشمیرمیں آبادی کا تناسب بگاڑنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آر ایس ایس کے حمایت یافتہ ہندوتوا نظریہ کو فروغ دینے کیلئے لاکھوں غیر کشمیریوں کوڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں اور ووٹرلسٹوں میں ان کا اندراج کیاگیا ہے ۔

    بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مسلمانوں سے منسوب اہم مقامات کو ہندوئوں کے ناموں سے بدل رہی ہے ۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مودی حکومت کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانا اور وہاں ہندو تہذیب قائم کرنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ہوشیار رہنا چاہیے ۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مزیدکہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا طاقتوں کے احکامات کی تکمیل کیلئے سرگرم لوگ کشمیریوں سے غداری کر رہے ہیں۔کشمیری عوام مقبوضہ علاقے میںہندوتوا کے عزائم کو آگے بڑھانے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور وہ بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • دوسرا ٹی ٹونٹی: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کافیصلہ

    دوسرا ٹی ٹونٹی: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کافیصلہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے میں بابراعظم نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، آج بہتر کھِیل کا مظاہرہ کریں گے۔

    پاکستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ ویسٹ انڈیز نے ایک تبدیلی کردی ہے.

     

     

    گزشتہ روز کھیلے گئے پہلے ٹی 20 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 63 رنز سے باآسانی شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے آج بھی میدان میں اترتے ہی ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم ایک سال میں سب سے زیادہ ٹی 20 میچز کھیلنے والی ٹیم بن گئی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں آج پاکستان ٹیم اس سال کا 28 واں ٹی 20 انٹرنیشل میچ کھیل رہی ہے۔بنگلادیش نے بھی اس سال 27 ٹی 20 انٹرنیشنلز کھیلے ہیں۔ پاکستان ٹیم کا اس سال 18 ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنا بھی ایک ریکارڈ ہے جو اس نے گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر بنایا تھا۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پاکستان: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان، فخر زمان، حیدر علی، افتخار احمد، آصف علی، شاداب خان، محمد نواز، محمد وسیم، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی

    ویسٹ انڈیز: نیکولس پوران (کپتان)، برینڈن کنگ، شے ہوپ، شمرابروکس، رومین پاول، اوڈیئن اسمتھ، ڈومینیک ڈریکس، ہیڈن واش، روماریو شیفرڈ، اکیل حسین، اوشانے تھامس

  • پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔

    وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔
    معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

    محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔
    اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔

  • بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری   کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    سرینگر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:،اطلاعات کے مطابق کشمیرعوام کی نمائندہ اور ترجمان تحریک آزادی کشمیر کی روح روں‌ جماعت حریت کانفرنس نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم افواج کی طرف سے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہےاور دوسری طرف عالمی برادری کو پرواہ تک نہیں ، حریت کانفرنس کا کہنا ہےکہ اگریہ بے حسی رہی تو پریہ یقینی نظرآرہا ہے کہ بہت جلد جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم ہوگا پھرکوئی بھی بچ نہیں سکے گا ،

    اس حوالے سے مزید حریت کانفرنس قیادت کا کہنا تھا کہ اپنا ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت مانگنے پرآزادی پسند کشمیری عوام کے خلاف سفاک بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری وحشیانہ فوجی کارروائیاں کسی بڑے تصادم کے طرف جارہےہیں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے توپھراس کا خاتمہ بھی اسی زورسے ہوتا ہے ، ۔ کشمیریوں کو ان کے اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ نے فراہم کر رکھی ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے جاری کشمیریوں کے قتل عام نے پورے جنوبی ایشیا کو جوہری تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شوپیان اور سرینگر کے علاقوں لاوے پورہ، بمنہ، حیدر پورہ، رام باغ اور رنگریٹ میں کشمیریوںکے حالیہ دن دیہاڑے دوران حراست قتل سے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی منظم ریاستی دہشت گردی کاپتہ چلتا ہے ۔

    حریت ترجمان نے تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کے گھنائونے جنگی جرائم کے باوجود نڈر کشمیری عوام کبھی بھی بھارتی فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی جدوجہد آزادی بھارت کی اجازت سے نہیں شروع کی ہے اور نہ ہی ہم نے اس سے کسی رعایت کی درخواست کی ہے ۔

    حریت ترجمان نے شہدائے کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنااہم کردار ادا کریں ۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع پونچھ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے پیرا ملٹری اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کے ہمراہ ضلع میں سرنکوٹ کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں شروع کیں۔ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوزیں بھی سنی گئی ہیں۔

    ادھر بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے زیون پنتھہ چوک میں ایک نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا ۔

  • میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی نے امریکا اور کینیڈا کے صارفین کے لیے تھری ڈی ورچول ’ہورائزن ورلڈ‘ نامی ایپ جاری کردی ہے۔

    ہورائزن ورلڈ نامی وی آر سوشل گیم ایپ کو ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے18 سال سے زائد عمر کے افراد کوئیسٹ ایپ کی بدولت اس مجازی دنیا میں شامل ہوسکتےہیں یہ ایک مہنگا پلیٹ فارم ہے کیونکہ اس کے لیے آنکھوں پر پہنا جانے والا ہیڈسیٹ درکارہوگا تاہم ایپ کو استعمال کرنے کے لیے میٹا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ہورائزن ورلڈز کو بی ٹا ایپ کے طور پر 2019 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد ہزاروں بی ٹا آزمائش کرنے والوں نے اس کی خامیاں دور کیں اور اسے ٹیسٹ کیا گیا۔ پھر مجازی ماحول کے اندر کئی اہم منظرنامے بنائے گئے جو اب ہورائزن میں دیکھے جاسکتے ہیں اویسس وی آر اور آکیولس ہیڈ سیٹ مشہور ہیں یہاں آپ ایک وقت میں 20 افراد سے رابطہ کرسکتے ہیں جن کے نمائندہ تھری ڈی ہیولے یا اوتار آپ کے سامنے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہورائزن میں آپ اپنی دنیا خود بناسکتے ہیں اور لوگوں کو یہاں مدعو کرسکتے ہیں اس طرح یہ مستقبل کا ایسا فیس بک ہوگا جس میں آپ دوستوں سے بہت ہی حقیقی انداز میں گفتگو اور رابطہ کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    ہورائزن ورلڈز میں آپ اپنے کوڈ بھی لکھ سکتے ہیں ان سادہ کوڈز کو لکھنا عین اسی طرح آسان ہے جس طرح فوٹوشاپ میں آپ لیئرزپرکام کرتے ہیں اور آپس میں ان کو جوڑکر ایک نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ یوں مختلف اشیا سے خاص کیفیات اور سرگرمیوں کا اظہار بہت ضروری ہےہورائزن ورلڈز کوڈ کے لاتعداد اسکرپٹ بلاکس لکھ کر انہیں ایک مفت لائبریری میں رکھنے کا اعلان کیا ہےاسے وی آر کے ماحول میں اور اسی ماحول کےلیے تیار کیا گیا ہے اگلے مرحلے میں اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ مہنگے ہیڈسیٹ نہ خریدنے والے بھی ہورائزن استعمال کرسکیں۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    لیکن اختلافات، تنازعات اور جنسی سطح پر ہراساں کرنے کا عمل چونکہ انٹرنیٹ پر عام ہے عین اسی طرح تھری ڈی ماحول میں بھی یہ ہوتا رہے گا ایک خاتون ٹیسٹر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بی ٹا ٹیسٹنگ میں انہیں اس طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اس پر میٹا نے کہا ہے کہ وہ ہورائزن کے لیے پہلے ہی کئی ایک حفاظتی تدابیر پر کام کررہے ہیں۔ لیکن عجیب خبر یہ ہے کہ ہورائزن پر لوگ پیسے نہیں بناسکیں گے خواہ وہ تخلیق کار ہوں، فنکار ہوں، یا محض شریک ہی کیوں نہ ہوں۔

    واضح رہے فیس بک نے رای براڈنگ کے منصوبے کے تحت کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا رکھ لیا ہے۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    جس تیزی سے وقت گزر رہا دن با دن ھماری معمولات بھی خراب ہوتی جہ رہی ہیں بلکہ اب شاید والدین کے پاس بھی وقت نہں رہا کے بچوں کو ضروری معمولات کی تربیت دیں بچے اسکول چلے جاتے ہیں ان کی اسکول کی تعلیم ہو رہی ہے یہ بھی کافی لگتا لیکن ان زندگی کی تیزیوں میں ہمیں اپنے سکون کو اپنی زندگی کو منتظم بنانے پر بلکل بھی توجہ نہں دے رہے اگر آپ اپنی زندگی کے معمولات کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کے کب اور کیا اہم ہے آپ کے لیے اگر وہ وقت کے ساتھ آپ اپناتے جائیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی اور آپ دماغی طور پر سکون میں آجائیں گے.تو سب سے پہلے اٹھے ہی آپ اپنی روٹین کی چیزوں کو ٹھیک کریں صبح کے آغاز پر کیا کرنا ضروری ہے تفصیل سے جانیں.

    اپنا بستر بنائیں۔
    اپنا بستر بنا کر دن کی تیاری کریں۔

    یہ ایک فوری کام ہے جو آپ کو ایک پیداواری ، منظم فریم میں ڈالے گا۔

    اگر آپ طالب علم ہیں یہ ملازمت پیشہ ہیں تو یہ اہم ہے کے آپ اپنے سامان اور کپڑے رات کو تیار کر کے رکھو.
    اگر آپ ورزش کرنا پسند کرتے ہیں تو ، صبح کرنے کا بہترین وقت ہے! یہ آپ کو توانائی سے بھرپور محسوس کرے گا اور گھر سے نکلنے سے پہلے آپ کو کامیابی کا احساس دلائے گا۔ چاہے آپ چہل قدمی کرنا پسند کریں ، جم کلاس لیں ، یا اپنے بیڈروم میں یوگا کریں ۔

    ہر چیز کو واپس رکھو جہاں سے آپ نے اٹھایا ہے.
    جب آپ اپنا ناشتہ بنا لیتے ہیں تو ، ہر چیز کو بالکل وہی جگہ رکھ دیں جہاں آپ نے انکو پہلے سے ترتیب سے رکھا ہے، کیونکہ اس سے صبح کے بعد ہر چیز آسان ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کے کوئی چیز ان میں۔ ختم ہو رہی تو اس کو نوٹ بوک میں لکھ لیں تاکہ جب بھی بازار جانا ہو تو اس کی خریداری کر لی جائے ، اس فہرست میں شامل کریں جسے آپ اگلی بار گروسری سٹور سے گزرتے وقت اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

    ضروری اشیاء کی فہرست بنایا کریں.
    گھر سے نکلنے سے پہلے ، اپنی ضروری اشیاء کی فہرست ساتھ لے لیں، جیسے آپ کا پرس ، ملازمت کا کارڈ یہ اسکول یہ یونیورسٹی کا ، پانی کی بوتل ، وغیرہ۔ ان اشیاء کی ایک فہرست اپنے سامنے والے دروازے کے قریب رکھیں تاکہ آپ اپنے روزمرہ کے معمول کے حصے کے طور پر دروازے سے باہر جانے سے پہلے اپنا پرس یا بیگ جلدی سے چیک کر سکیں۔

    اپنے کاموں کو ترجیح دیں۔
    کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور فیصلہ کریں کہ کیا وہ اہم ، فوری ، دونوں ہیں یا نہیں۔ فوری اور اہم کاموں سے شروع کریں ، اہم اور غیر ضروری کاموں کی طرف بڑھیں ، پھر غیر اہم لیکن فوری کاموں کو سب سے پہلے کر کے ختم کریں.

    اس کے لیے آپ لائف پلانر کا استعمال کرسکتے ہیں تاکہ آپ اپنے دن کو بہتر طریقے سے ترتیب دے سکیں۔ آج کے ضروری کام لسٹ میں لکھنا ہمیشہ آپ کے لیے آسانی کا سبب بنتا ہے اور آپ کو ہر چیز کنٹرول کا احساس دلاتا ہے۔

    اپنے ای میلز کو ترجیح دیں۔
    اپنا دن شروع کرنے سے پہلے جب آپ اپنے کام پے نکلنے لگے ہیں اپنے ای میلز کو ترجیح دیتے ہوئے 10 منٹ گزاریں۔ یہ فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں کہ کونسی چیزوں کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، کون سی اہم ہیں ، کون سی ہیں اور کون سی نہیں۔

    اپنے ای میلز فون سوشل میڈیا کو ہر چند منٹ کے بجائے ہر دو گھنٹے چیک کریں کیونکہ بار بار رکاوٹیں آپ کی دن کی ہر کام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    اپنے مالی معاملات کو چیک کرتے رہیں
    اپنے مالی معاملات کو روزانہ کے معمول کے حصے کے طور پر چیک رکھنے کے لیے چند منٹ نکالیں۔ اپنا بینک بیلنس چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ اپنے بجٹ پر قائم ہیں۔

    رات کے کا منصوبہ بنائیں
    کیا آپ کو گھر جاتے ہوئے گروسری اسٹور سے کچھ لینے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کو کوئی نسخہ دیکھنے کی ضرورت ہے؟ اس میں صرف چند منٹ لگتے ہیں ، لیکن تھوڑی سی منصوبہ بندی بعد میں بہت وقت بچا سکتی ہے۔

    دن کے آخر میں اپنا ڈیسک صاف کریں۔
    اپنے وقفے کے لیے جانے سے پہلے اپنے کام کی میز کو صاف کرنے کے لیے پانچ منٹ نکالیں۔ دوسرے دن صبح جب آپ واپس آئیں گے تو آپ کو زیادہ منظم محسوس کرنے میں مدد ملے گی۔

    ڈنر کے فورا بعد اپنا کچن صاف کریں
    بصورت دیگر ، آپ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے اور مشغول ہونے کا لالچ ہوسکتا ہے۔

    سونے سے پہلے اگر آپ کے دماغ میں کوئی کام ہے تو نوٹ کریں تاکہ آپکو یاد رہے.اگلے دن آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب آپ نے انہیں لکھ دیا ہے ، آپ یہ جان کر سو سکتے ہیں کہ جب آپ جاگتے ہیں تو آپ فہرست کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت اہم اگر ہم اپنی زندگی کو منتظم بنانے کے لیے انکو اپنا لیں تو یہ باتیں ہماری زندگی کو پرسکون کر سکتی ہیں اور ہماری زندگی سے گھر اہم چیزوں کو ختم کرتے ہوئے سکون سے نیند لینے میں مدد کر سکتی ہیں.
    Twitter handle
    @umesalma_

  • ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ
    فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو غلامی کا ایسا پھندہ لگ گیا ہے کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈالر اس ماہ کے آخر تک200تک پہنچ جائے گا اور اگلے بجٹ تک 220روپے تک کا ہوجائے گا ۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط پر جو منی بجٹ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ وجائے گا ۔ ۔ مگر وزیراعظم روز کسی نہ کسی بہانے ٹی وی پر آکر ایک ہی راگ الپاتے ہیں کہ ۔ پاکستان سستا ترین ملک ہے ۔۔ پاکستان جلد ہی خطے کا بڑا اور لیڈر ملک بن کر ابھرے گا۔ صرف سردیاں مشکل ہیں، گرمیاں آتے ہی مہنگائی اور مشکلات کم ہو جائیں گی۔ وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے انہیں آج بھی اس امر کا یقین ہے لوگ ان کی باتیں امید بھرے انداز میں سنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ۔ کپتان کی ایسی ہر بات کے فوری بعد عوام پر مہنگائی کا کوئی نیا بم گرا دیا جاتا ہے اور ان کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

    ۔ میانوالی میں جلسے میں بھی یہ ہی گھسی پیٹی باتیں کی گئیں ۔ ۔ پر اب جو عوام ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے میانوالی میں بھی کپتان کی تقریر کے دوران پنڈال میں موجود ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ یہ سب ” جھوٹی باتیں ہیں“۔۔ اس نوجوان کاکہنا تھاکہ چاچا عمران آپ نے مہنگائی بہت کردی، ہم بھوکے مرگئے ہیں، مہنگائی کم کرو، مہنگائی کم کرے۔ ۔ اچھا یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ مستقبل قریب کے چند واقعات آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔ پشاور میں جلسے کے دوران بھی ایک شخص ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے ایونٹ کے دوران ایک نواجوان مائیک پکڑ کر تحریک انصاف کوآئینہ دیکھا چکا ہے ۔ ۔ پھر حالیہ کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران بھی علی امین گنڈاپور کے سامنے لوگ ڈٹ گئے تھے ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے باربار وعدوں کے باوجود حالات تشویشناک حد کو پہنچ چکے ہیں مگر حکومت کے معاشی ارسطو جلد بہتری کی اب بھی نوید سنا رہے ہیں۔ ۔ اسی جانب آج پی ٹی آئی کے اہم اتحادی ق لیگ کے پرویز الہی نے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔

    ۔ دراصل عمران خان سب جانتے ہوئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں تا کہ عوامی توجہ ان کی کارکردگی پر مرکوز نہ ہونے پائے اور لوگ ان کے بیانات کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر اقتدار میں موجود لوگ خود بھی گلے گلے تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کی سرپرستی کرتے ہیں جو کرپشن کیلئے تیار ہو۔ بڑے بڑے سکینڈلوں میں ملوث منفی شہرت کے حامل کو بلا بلا کر جس طرح بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے موجودہ نظام کی کریڈبیلٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔۔ پھر موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے بھی ایک اور بڑا خطرہ فارن فنڈنگ کیس ہے اِس حوالے سے DG Law کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہے جس میں پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس میں بری الزمہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ۔ جمعرات کو ان کیمرہ اجلاس بھی ہو چکا ہے ۔ یہ رپورٹ ایسی تلوار ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہے ۔۔ کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کو بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ بارے بھی الزامات کا سامنا ہے ۔ ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان اِس رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے بھی کالعدم ہو نے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کیس کا سامنا کرنے کے بجائے تحریکِ انصاف راہ ِ فرار اختیار کرنے جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔ پھر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پچاس ہزار جرمانہ ہوا ہے مگرحکمران کچھ دیکھنے یا سننے کے بجائے انتخابات میں دھاندلیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ تو الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔۔ دراصل اسپیکر اسد قیصر کی ایک آڈیو زیر گردش ہے، جس میں وہ ووٹرز کو ترقیاتی منصوبے دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ۔ اب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسد قیصر کو 13
    دسمبر کو ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے ۔

    ۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن نہ اتنی جوگی ہے اور اوپر سے آپسی اختلافات کا شکار بھی ہے ۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔ تو کہیں ۔۔۔ چن ۔۔۔ الیکشن کمیشن نہ ۔۔۔ چاڑھ ۔۔۔ دے ۔ اور بازی مار لے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں میاں صاحب کے حوالے سے خبریں گردش میں ہیں ۔ کہ نواز شریف تو پہلے ہی ٹکا سا جواب دے چکے ہیں کہ شوق پورے کریں ۔ عمران خان چاہے پانچ سال مکمل کروائیں یا اگلے پانچ سال مزید دے دیں ۔ لاڈلے سے جتنا بیڑہ غرق کروانا ہے کروالیں ۔ انکا موقف وہ ہی ہے ۔ کہ صرف صاف شفاف اور پولیٹکل انجئرینگ کے بغیر الیکشن ہون گے تو ہم سوچیں گے ۔ کیونکہ نواز شریف عمران خان کو کچھ نہیں سمجھتے ان کی نظر میں کپتان ایک پیادہ ہے اصل پھڈا تو کپتان کو لانے والوں سے ہے ۔ ۔ اب ایاز صادق کے بارے جیسے میں نے بتایا تھا کہ وہ ایک تجویز لے کر لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ آج یا کل میں ان کا quartine ختم ہونے والا ہے اور پھر نواز شریف سے ملاقات ہوگی ۔ تو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم رہتے ہیں یا پھر کوئی ڈیل مار لیتے ہیں ۔ فی الحال عوام کے لیے اس حکومت کا ایک ایک دن کرب کا گزر رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خدانخواستہ عمران خان اگر اگلے پانچ برس بھی اقتدار میں آگئے تو دن عوام کے نہیں پھریں گے انہیں مسلسل آئی ایم ایف کی سختیاں جھیلنا پڑیں گی کیونکہ انہوں نے اس کی شرائط کے آگے سر اوپر نہیں اٹھانا ۔ لہٰذا عوام چاہتی ہے کہ نیا سیاسی منظر بنے ۔ نئے چہرے جو قرضوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں وہ آگے آئیں ۔ ۔ پھر یاد رکھیں ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو۔ عالمی سطح پرعزت بھی ہو۔ ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ ۔ اس لیے باقی سب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا ہو گا کہ ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر مان لیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلطیاں بھی کی ہیں تو اب ان کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔

    ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اعداد وشمار جھوٹ نہیں بولتے ۔ آپ دیکھیں کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے
    124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔۔ آپ پولیس کو دیکھ لیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو دیکھیں، پاکستان ریلویز سمیت کسی بھی جگہ چلے جائیں کرپشن عام ہے۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی عام آدمی کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ پر وزیراعظم اور وزراء پچھلے ساڑھے تین برسوں سے دلاسے پہ دلاسہ دیئے جا رہے ہیں، جیسے جلد ہی خوشحالی کے جھکڑ چلنے لگیں گے حالانکہ ابھی تو بربادی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کاش چند روز پہلے جیسے حکومت گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لے رہی تھی اس ملک کی تباہی کا بھی کریڈیٹ لے تو اس کے گناہوں کو کفارہ ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولا ۔ یہ چیلنج تو اپوزیشن نے بھی کر دیا ہے کہ لنگر خانوں کے سوا عمران خان ایک منصوبہ دکھادیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ جو جتنی مرضی تنقید کرے مگر تحریک عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات آئینی اور جمہوری راستہ ہے اور ملک درپیش تمام مسائل کا واحد حل نئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو level playing field ملے اور جسے عوام منتخب کریں اسے حکومت بنانے دی جائے۔ کیونکہ یاد رکھیں ”تبدیلی“ کی تبدیلی اگر اب نہ ہوئی تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔