Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان
    کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ خود اس راستے پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جو زندگی کا اختتام ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےرشتوں کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں کہ بالآخر ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ کمرے میں ناگوار بو ہر بات کا آغاز کھانسی سے اور بات مکمل بھی نہیںکہ پھر کھانسی کا دورہ اور تمباکونوشی ایسی بلا ہے جو آپ اور آپ کے ساتھ اردگردر رہنے والوں کو جان لیوا مرض میں مبتلاکر جاتی ہے۔مگر ہم کب سوچتے ہیں؟

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سگریٹ نوشی یا تمباکونوشی ایک تشویش ناک عادت ہے جو عصر حاضر میں خواتین و حضرات کیلئے ہےشمار صحت اور معاشی مسائل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عادت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چھ ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ،سگریٹ نوش عام طور پر تیس یا چالیس سال کی عمر میں تمباکو کے زہریلے اثرات کا شکار ہوکر دل کے امراض میں مستقل طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی میں 20 فیصد امراض دل کے ہوتے ہیں اور سالانہ120,000 افراد تمباکونشی کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ تمباکو میں نیکوٹین ( Nicotine ) جیسا زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلر ( Blood vessels ) کو بری طرح متاثرکرتا ہے ،نیکوٹین سے کئی دیگر اعصابی امراض بھی جنم لیتے ہیں کیوند نیکوٹین اور دھوئیں سے (Internal Nervous system ) بری طرح متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہوکررہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنا بہتر طریقے سے کام سرانجام نہیں دے سکتے اور مجموعی طورصحت خراب ہوجاتی ہے۔ تمبا کوکا دھواں ک(Cardiovascular Diseases ) کا باعث بنتا ہے اور ہارمونز کے نظام کو بھی متاثر کر کے (Oestrogen ) کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ کینسر ایک مہلک ترین مرض ہے اور ہر سال تقریبا 48 فیصد لوگ سگریٹ کے دھوئیں سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کینسر میں گئے، منہ ، زبان اور خوراک کی نالی کے کینسرسرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں سانس کی نالی اور پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جس سے سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ امراض بڑھتے بڑھتے بالآخر پھیپھڑوں کا کینسر بن جاتے ہیں۔

    پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے باعث دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن میں فلو نزلہ، زکام، کھانسی اور ( Pneumonia ) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی اس عادت سے بانجھ پن اور دیگر زنانہ امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عورتوں میں 30 فیصد جنسی امراض دھوئیں اور نیکوٹین کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہی مضر اثرات زیادہ شدید صورت اختیار کر جاتے ہیں مثلا نومولود بچے اور زچہ دونوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنسی امراض میں سگریٹ نوشی مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے جنسی خواہش میں کمی اور بانجھ پن یعنی جرثومے متاثر ہوتے ہیں ۔ اعصابی تناؤ ،ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان امراض سے نوجوان طبقہ خاص طور پر متاثر ہورہا ہے۔ عام طور پر اس کا سبب بے روزگاری اور غربت بھی ہے جس سے لوگ پریشان ہو کر مزید تین عادات میں مبتلا ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پیٹ کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں سینے کی جلن، تیزابیت اور بھی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں عام طور پر سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کم عمر پاتے ہیں اور مجموعی صحت کے مسائل میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔سماجی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے ایک کثیر دولت دھوئیں کی نظر ہو جاتی ہے۔

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے۔ کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑاسکتا ہے بہر حال درج ذیل میں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔ اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا ہے۔ پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہو اٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دیں۔ زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بارتو ضرور یہ کام سرانجام دیا جائے اس سے بہت حد تک آ پکو سکون محسوں ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دوہرانے کو بھی جی چاہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آپکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہستہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جائے گا اور دوسرا جسم سے نیکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔ بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چھڑوانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یہی نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجائے سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چائے کا پئیں جس سے ہاضمہ بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیرہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیرہ سے دوبارہ سگریٹ پینے کو بھی جی نہ چاہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج آپکی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جائے گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں البتہ وہ بھی مزید حوصلہ افزائی سے مددکریں گے۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریہ ادویات بھی کیا جاتا ہے جہاں وہ نیکوٹین کے متبادل ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن وہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں ۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں

  • کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    پاکستانی عوام چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے اور پاکستان کے طالب علم بھی چھٹیوں سے بہت خوش ہوتے ہیں
    بلکہ حکومت نے ہر مسئلے کا ہل چھٹیاں ہی بنا لیا ہے پچھلے دو سال سے وبائی مرض کرونا نے اتنی تباہی نہ مچائی ہو گی جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے مچائی گئی ہے
    کرونا نے محض چند ہزار لوگوں کو پاکستان میں متاثر کیا ہو گا لیکن کرونا کی وجہ سے بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علم جو کہ کرونا کی وجہ سے تعلیم اور تربیت سے محروم ہو گئے ہیں
    گیارہ سو نمبر والے بہت سے بچے این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے بہت سے خوش نصیب طالب علم آگے کی بہت سی قابلیت سے محروم رہ گئے ہیں اصل میں جن بچوں نے گیارہ سو نمبر حاصل تو کر لئے لیکن سائنس پریکٹیکل ورک اور تعلیمی قابلیت سے محروم ہوگئے ہیں

    اب یہ بچے نہ تو دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ان بچوں نے جو سیکھنا تھا وہ نہیں سیکھ سکے اب یہ آگے ان چیزوں کو کیسے سیکھیں گے جن کی بنیاد ان بچوں نے پچھلی کلاسز میں چھوڑ دی ہے؟
    ابھی لوگ کرونا کے خیالات سے نمٹے نہیں ہیں کہ اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے جسے سموگ کہتے ہیں
    سموگ کا علاج ڈھونڈنے کی بجائے اس کا علاج صرف چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا ہے اور اب سموگ کا علاج ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے

    لاہور جو اس وقت آلودگی میں ایشیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں سموگ اور آلودگی سے بچنے کے لیے ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے اس کا حل سمجھ لیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے

    یہ چھٹیاں پچھلے پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے اسکولوں اور کالجز و یونیورسٹیز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکی گئیں
    اصل میں سموگ ٹرانسپورٹ اور بھٹہ خشت کی وجہ سے بنتی ہے اور بھٹہ خشت کے سسٹم سے اتنی زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے جس کا آپ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے
    حکومت نے بھٹہ خشت کے لیے زگ زیگ کا سسٹم متعارف کروایا جو کہ عام آدمی کے لیے لگانا بہت مشکل ہے اسی سسٹم کو پاکستانیوں نے نئے انداز میں لگاتے ہوئے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جسے ہر بندے نے اپنے بھٹہ خشت پر لگا لیا ہے جس سے دھواں تو سفید بظاہر بے ضرر نکل رہا ہے لیکن صرف نام کا بے ضرر نکل رہا ہے
    سموگ اور آلودگی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھی بس فرق صرف اتنا ہے پہلے رنگ کالا تھا اب رنگ سفید ہو گیا ہے اور اسی طرح ہماری پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا حال ہے ہر گاڑی پر ناکارہ انجن استعمال کر رہے ہیں اور ناکارہ انجن والی گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں
    بجائے اس کے ٹرانسپورٹ اور بھٹ خشت کے سسٹم کو دیکھا جائے ہماری حکومت نے اس کا علاج صرف چھٹیوں کو ہی بنا لیا ہے
    حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کے لیے کون سے عوامل اور کون سی مہم چلائی؟
    دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہے ؟
    نیز دو نمبری سے چلنے والے کتنے بھٹے بند کیے ہیں؟
    ہمارا مستقبل خطرے میں ہے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں خدارا ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ چھٹیاں نہ کریں بلکہ اس کا کوئی اور حل سوچیں اور پاکستان کے طالب علموں کا اور بیڑا غرق نہ کریں بلکہ پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے میں مدد کریں نہ کہ ایک بغیر تعلیم کے ملک، کیوں کہ جو حالات ہیں اس میں پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں آنے والے وقت میں سب آفیسر اور انجینئر بغیر تعلیم کے ہوں گے اگر یہی حال پاکستانی حکومت کا رہا تو
    خدارا کچھ سوچئے چھٹیاں نہیں تدابیر کیجئے

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔
    لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔
    سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت  تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر ایک مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ہے 2021 کی دوسری سہ ماہی تک، ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 206 ملین منیٹائزیبل روزانہ فعال صارفین تھے۔
    ٹویٹر ایک مقبول سوشل نیٹ ورک سروس ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹویٹر اشتہاری کمپنیوں کے لیے ایک نئے وسیع میڈیم کے طور پر ایک موثر پلیٹ فارم بن گیا ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ بااثر ٹوئٹر صارفین کو تلاش کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کی پیمائش ضروری ہے۔ بدیہی طور پر، جن صارفین کے زیادہ پیروکار ہیں ان کے زیادہ بااثر ہونے کا امکان ہے۔
    اگر ہم سیاست اور ٹویٹر کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کریں پھر ٹویٹر اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک، آپ صرف کسی مشہور شخصیت یا سیاسی و مذہبی رہنما کا نام لیں جو آپ کو ٹوئٹر پر نہیں ملے!

    ٹویٹر نے نومبر 2020 میں محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ Spaces کی جانچ شروع کی، لیکن اپریل 2021 میں، اس نے عالمی سطح پر iOS اور Android Twitter صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرانا شروع کر دیا جن کے 600 یا اس سے زیادہ فالوورز ہیں۔ 600 سے کم فالورز والے کچھ صارفین کے لیے بھی ٹویٹر اسپیس آپشن استعمال کرنے کے اہل تھے۔
    ٹوئٹر اسپیس حقیقی گیم چینجر ہے، اس سے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے بھی متاثر ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں تو لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسپیس آپشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ڈیٹنگ، نفرت انگیز تقریر، علیحدگی پسند تحریکیں، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کرکٹ، سماجی مسائل، آگاہی۔ وغیرہ۔ انتہائی دلچسپ پہلو جس کا ہم انتخابی موسموں میں مشاہدہ کریں گے جب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ٹوئٹر اسپیس آپشن استعمال کریں گی۔ میں نے کچھ ٹویٹر اسپیس کا مشاہدہ کیا ہے جس میں ہزار سے زیادہ شرکاء نمایاں سیاسی شخصیات بھی بول رہے تھے۔
    سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر، میں ایک ساتھ اشتراک اور سیکھنے کے لیے ٹوئٹر اسپیس کی میزبانی بھی کر رہا ہوں۔ میں پاکستان اور باقی دنیا کے دیگر شاندار آئی ٹی پروفیشنلز کی مدد سے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے زیادہ تر ویک اینڈ پر سپیس کا انعقاد کرتا ہوں۔ اس وقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے! لیکن ٹویٹر اسپیس، آئی ٹی اور دیگر مسائل کے بارے میں لکھوں گا۔ پڑھنے کا شکریہ, اور میں آپ کی رائے کا انتظار کروں گا۔

  • نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    ہوائی: سائنسدانوں نے نظام شمسی کا سب سے دور چھوٹا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس چھوٹے سیارے (planetoid) کا قطر صرف 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ تقریباً 20 ارب کلومیٹر، یعنی زمین کے مقابلے میں 132 گنا زیادہ ہے اور اسی وجہ سے سائنسدانوں نے اسے ’’فار فار آؤٹ‘‘ یعنی ’’دور، بہت دُور‘‘ کا نام دیا ہے۔

    اسے 2018 میں یونیورسٹی آف ہوائی کی رصدگاہ سے دریافت کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے ’’2018 اے جی 37‘‘ کا عارضی نام دیا تھا، لیکن تب انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ سورج سے اس کا فاصلہ کتنا ہے کیونکہ آسمان میں اس کی جگہ بہت آہستگی سے تبدیل ہورہی ہے مختلف دوربینوں سے دو سال تک اس کا محتاط مطالعہ کرنے کے بعد سائنسدانوں پر انکشاف ہوا کہ سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ 132 فلکیاتی اکائیوں جتنا (تقریباً 20 ارب کلومیٹر) ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    اب تک کی تحقیق سے ’’فار فار آؤٹ‘‘ کے بارے میں مزید یہی معلوم ہوسکا ہے کہ سورج کے گرد اس کا مدار انتہائی بیضوی (کسی لمبوترے انڈے جیسا) ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ 175 فلکیاتی اکائیوں جتنا، جبکہ کم سے کم فاصلہ صرف 27 فلکیاتی اکائیوں جتنا رہ جاتا ہے، جو سیارہ نیپچون اور سورج کے درمیانی فاصلے سے بھی کم ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اس وقت نظامِ شمسی میں دیگر دور ترین فلکی اجسام میں ’’فار آؤٹ‘‘ کا سورج سے فاصلہ 124 فلکیاتی اکائیوں جتنا اور ’’گوبلن‘‘ کا فاصلہ 80 فلکیاتی اکائیوں کے برابر ہے؛ لیکن سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ ان میں ’’گوبلن‘‘ کا مدار سب سے بڑا ہے اور سورج سے اس کا زیادہ سے زیادہ فاصلہ 2300 فلکیاتی اکائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

    فار فار آؤٹ کی خیالی تصویر : فوٹو بشکریہ یونیورسٹی آف ہوائی
    ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ’’فار فار آؤٹ‘‘ اور نیپچون کے مدار ایک دوسرے سے قریب آتے رہتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ فار فار آؤٹ کا مدار اتنا زیادہ لمبوترا اور بیضوی ہوگیا ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    فار فار آؤٹ پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے، جس کے بعد اس کی مزید خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔ تاہم اس میں مزید کچھ سال لگ جائیں گے اس کے بعد ہی اسے کوئی باقاعدہ نام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ زمین اور سورج کے اوسط درمیانی فاصلے کو ’’ایک فلکیاتی اکائی‘‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    پٹنہ :بھارت:آج پھرانتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمار کر قتل کر دیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ میں ہندو تو ہجوم نے ایک مسلمان شخص کو مویشی چوری کرنے کا الزام لگا کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 52سالہ محمد صدیقی کو بدھ کے روز ضلع کے گاوں بھوانی پور میں ایک ہجوم نے مویشی چوری کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ اس بہیمانہ حملے کی ویڈیو جمعہ کوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدواقعے کے بارے میں پتہ چلا۔

    پھولکاہ تھانے کی انسپکٹر نگینہ کمار نے بتایا کہ محمدصدیقی کو لاٹھیاں اور مکے مارے گئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کتھر نے کھلی ج ہوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کھلی جگہوں پر نماز کے لیے دیے گئے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اب عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے کوئی تناﺅ نہیں ہونا چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم وقف بورڈ کی اسکی جگہوں کو تجاوزات سے پاک کرانے میں مدد کریں گے اور اس وقت تک لوگوں کو اپنے گھروں وغیرہ میں نماز ادا کرنی چاہیے۔

    دریں اثنا ریاست ہریانہ کے گڑگاوں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ارکان نے مسلمانوں کو جمعہ کو ایک مرتبہ پھر کھلی جگہوں پر نماز کی اجازت نہیں دی۔گڑگاﺅں کے سیکٹر 37 میں نماز کی ادائیگی کو روکنے کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر فوجی جوانوں کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کیے گئے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے سیکٹر 44 میں واقع ایک پارک میں بھی نماز جمعہ میں خلل ڈالا۔

  • پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے

    پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے

    لاہور:پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے 7ویں سیزن کیلئے فرنچائزز کی جانب سے برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    پی ایس ایل 2022 کے ڈرافٹ سے قبل کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار، ٹریڈ اور ریلیز کرنے کی ونڈو آج دوپہر بند ہو گئی اور ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سوا بقیہ تمام فرنچائزوں نے اپنے آٹھ، آٹھ کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں برقرار رکھا ہے۔

    گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز نے اپنے اسکواڈ میں سات، سات کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے۔

    رواں سال پاکستان کرکٹ بورڈ میں لیگ میں فرنچائزوں کے لیے ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کو ’رائٹ ٹو میچ کارڈ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    اس نئے طریقہ کار کے تحت ہر ٹیم کے پاس ایسا ایک کارڈ ہو گا جس کے تحت وہ اس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اسکواڈ سے ریلیز کیے گئے ایک کھلاڑی کو دوبارہ منتخب کر سکیں گے۔

    پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کے لیے ڈرافٹ 12 دسمبر کو ہوں گے اور 32 ممالک سے 425 کھلاڑی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔

    ڈرافٹ کے دوران سب سے پہلے لاہور قلندرز کھلاڑی کا انتخاب کرے گی جس کے بعد ملتان سلطانز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور پھر سب سے آخر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا نمبر آئے گا۔

    ہر ٹیم اپنی فرنچائز میں 18 کھلاڑیوں شامل کر سکتی ہے جس میں پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ کیٹیگری میں تین، سلور کیٹیگری میں پانچ، دو ایمرجنگ کھلاڑی اور دو کھلاڑیوں کو سپلیمنٹری کیٹیگری کا حصہ بنا سکیں گے۔

    سلطانز نے جن 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں برقرار رکھا ہے ان میں پلاٹینم کیٹیگری میں کپتان محمد رضوان اور رائلی راسو، ڈائمنڈ کیٹیگری میں عمران طاہر اور صہیب مقصود، ڈائمنڈ میں خوشدل شاہ، شاہنواز دھانی، شان مسعود شامل ہیں۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے چار کھلاڑیوں کو 2021 کے ایڈیشن سے برقرار رکھا ہے جبکہ تین کھلاڑیوں کی دیگر ٹیموں سے ٹریڈ کی ہے۔

    گلیڈی ایٹرز کی جانب سے برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں میں پلاٹینم کیٹیگری کے سرفراز احمد، ڈائمنڈ سے محمد نواز، محمد حسنین، نسیم شاہ شامل ہیں، اس کے علاوہ پلاٹینم کیٹیگری کے جیمز ونس، ڈائمنڈ میں افتخار احمد اور گولڈ سے شاہد آفریدی کو دیگر ٹیموں سے ٹریڈ کر کے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    کراچی کنگز نے کپتان اور عالمی نمبر ایک بلے باز بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے، اس کے علاوہ سابق کپتان عماد وسیم، محمد عامر کو ڈائمنڈ، جو کلارک، شرجیل خان اور عامر یامین کو گولڈ جبکہ محمد الیاس کو سلور کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

    دو مرتبہ کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ آصف علی اور حسن علی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے جبکہ فہیم اشرف اور شاداب خان کو ڈائمنڈ، ایلکس ہیلز، اعظم خان اور محمد وسیم جونیئر کو گولڈ جبکہ پال اسٹرلنگ کو سلور کیٹیگری میں موجود ہیں۔

    پشاور زلمی نے لیام لیونگسٹن اور وہاب ریاض کو پلاٹینم، حیدر علی، شرفین ردرفورڈ اور شعیب ملک ڈائمنڈ، حسین طلعت اور ثاقب محمد گولڈ اور ٹام کوہلر کیڈمور کو سلور کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

    لاہور قلندرز نے افغان اسپنر راشد خان اور شاہین شاہ آفریدی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے، حارث رؤف، ڈیوڈ ویزے اور محمد حفیظ کو ڈائمنڈ جبکہ سہیل اختر، ذیشان اشرف اور احمد دانیال سلور کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔

    ڈرافٹ میں پلاٹینم کیٹیگری میں دستیاب بین الاقوامی کھلاڑیوں میں ڈیوڈ ملر، کرس گیل ، کرس جورڈن، جیسن روئے، ٹائمل ملز، ٹام بینٹن، کولن انگرام، شیمرون ہٹمائر، کولن منرو، تھسارا پریرا، کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیوڈ ولی، ایسورو یوڈانا، سندیپ لیمی چین، تبریز شمسی، مرچینٹ ڈی لانگے شامل ہیں۔

  • بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    اسلام آباد:بھارتی ظالم ، قابض افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہیں اورعالمی برادری خاموش تماشائی بن بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید اطلاعات کے مطابق آج جب دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہےجبکہ دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

    آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 دسمبر 1948 کا انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ بےشک ایک سنگ میل تھا لیکن کشمیریوں کےانسانی حقوق کی خلاف ورزیاںمسلسل جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کےعالمی اعلامیے میں درج 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک بھی بھارت کےغیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں موجود نہیں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی قابض فورسز گزشتہ 74 برسوں سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں بلا لحاظ عمر و جنس کشمیریوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل، گرفتار کر رہی ہیں او انہیں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989 سے اب تک 95ہزار9سو25 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7 ہزار 2سو15کو زیر حراست شہید کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 22ہزار 9سو39 خواتین بیوہ اور 1لاکھ7ہزار8سو55 بچے یتیم ہوئے۔بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار2سو46 خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا اور 1لاکھ10ہزار4سو45 رہائشی مکانات اور دیگرعمارتوںکو نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اس عرصے میں 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے سے چلائے گئے پیلٹ چھروں سے سکول جانے والے ہزاروں کشمیری لڑکے اور اور لڑکیاں زخمی ہوئے جبکہ 19 ماہ کی حبہ جان، دس سالہ آصف احمد شیخ ، سولہ سالہ عاقب ظہور ، سترہ سالہ الفت حمید ، سترہ سالہ بلال احمد بٹ، انشاءمشتاق، انیس سالہ طارق احمد گوجری اور انیس سالہ فیضان اشرف تانترے سمیت درجنوں بچے پیلٹ لگنے سے مکمل طور پر اپنی بصارت سے محروم ہو گئے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے رواں برس( 2021 ) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی اور بارہ کے لگ بھگ خواتین سمیت 484 کشمیریوں کو شہید کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوںنے زیادہ تر کشمیریوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںکے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔فوجیوں نے رواں برس 1ہزار48 گھروں اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور 118 خواتین کی بے حرمتی کی جبکہ بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، صحافیوں، معمر خواتین اور لڑکوں سمیت 17ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا۔ اس عرصے میں مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 10ہزار 5سو کارروائیاں کی گئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی حکام نے رواں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اورعلاقے کی کئی دیگر بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نےعوام کو اس عرصے کے دوران محرم اور عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس جیسے مذہبی اجتماعات کے انعقاد سے بھی کشمیریوںکو روک دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہے اور بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ظہور وٹالی، غلام محمد بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، محمد یوسف فلاحی، ظہور احمد بٹ، انجینئر رشید، حیات احمد بٹ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی آصف سلطان سمیت حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کالے قوانین کے تحت مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو 5اگست 2019سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی حتیٰ کہ انہیں جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے اور وہاں لوگوں سے خطاب کرنے سے بھی روکا جا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری آگے آئے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرانے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔

    دریں اثنا حریت رہنماوں نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیمیں علاقے میں بھیجیں۔

  • لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول

    لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول

    لاہور:لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول،اطلاعات کے مطابق لاہور قلندرز کے ایک اور فاسٹ بولر کا آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ سے معاہدہ ہو گیا ہے۔

    لاہور قلندرز کے فاسٹ بولر احمد دانیال کا بگ بیش لیگ میں میلبرن اسٹارز سے معاہدہ ہو گیا ہے اور میلبرن اسٹارز کی انتظامیہ نے بھی احمد دانیال کے ساتھ معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔احمد دانیال لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے سامنے آئے۔

    احمد دانیال آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں اور وہ 72 گھنٹوں کا قرنطینہ مکمل کریں گے، قرنطینہ مکمل ہونے کے بعد احمد دانیال اپنی ٹیم کو جوائن کریں گے۔

    24 سالہ احمد دانیال لاہور قلندرز پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے سامنے آئے اور میلبورن سٹارز کی انتظامیہ نے ان کیساتھ ہونے والے معاہدے سے متعلق اعلان بھی کر دیا ہے۔ میلبورن سٹارز کا کہنا ہے کہ احمد دانیال آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں جو 72 گھنٹوں کا قرنطینہ مکمل کرکے ٹیم جوائن کریں گے۔

    میلبورن سٹارز کے کوچ ڈیوڈ ہسی کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کے سید فریدون ڈبیو کر چکے ہیں اور اس سیزن میں اب حارث رؤف بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ قبل ازیں حارث رؤف، دلبر حسین اور سید فریدون کا بھی میلبورن سٹارز کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ احمد دانیال رواں سال ابوظہبی میں کھیلی گئی ٹی 10 لیگ کے دوران ابھر کر سامنے آئے تھے اور پھر انہوں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بھی اپنی کارکردگی کے جوہر دکھائے اور اب وہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں میلبورن سٹارز کی نمائندگی کریں گے۔