Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سارو گنگولی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چئیرمین مقرر

    سارو گنگولی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چئیرمین مقرر

    سابق بھارتی کرکٹر سارو گنگولی کو آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے صدر سارو گنگولی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گےاس سے قبل یہ ذمہ داری انیل کمبلے کے پاس تھی۔

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی…

    انیل کمبلے کو 2012 میں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جب انہوں نے ویسٹ انڈیز سے کلائیو لائیڈ کی جگہ لی تھی کمبلے کو آئی سی سی نے2016 میں ایک اور مدت کے لیے دوبارہ تعینات کیا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    انہیں مارچ 2019 میں اپنی تیسری اور آخری تین سالہ مدت کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا تھا نو سال کی مدت تک کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے بعد اب گنگولی ان کی جگہ لیں گے گنگولی کو ایک مبصر سے چیئرمین بنا کر ترقی دی گئی ہے آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے کام میں کھیل کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھنا شامل ہے۔

    پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

  • یوٹیوب کا ڈس لائک کے آپشن کو پرائیویٹ کرنے کا اعلان

    یوٹیوب کا ڈس لائک کے آپشن کو پرائیویٹ کرنے کا اعلان

    یوٹیوب نے اپنے ویڈیو انٹرفیس میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی :یوٹیوب کے مطابق ویڈیو پر ناپسندیدگی (ڈس لائک) آپشن کو دوسروں سے چھپاکر پرائیوٹ کیا جائے گا لوگوں کی بڑی تعداد شعوری طور پر ڈس لائک کی بدولت کسی ویڈیو کی بے قدری کررہی ہے جبکہ ڈس لائک کو حملوں میں بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جارہا ہے اور ویڈیوز کی قدروقیمت کو گھٹایا جارہا ہے۔

    کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ناظرین کے گروہ اپنی تعداد کے بل پر ڈس لائک بٹن استعمال کرتے ہیں اور اسے کسی گیم میں اسکوربورڈ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے بسا اوقات ویڈیو پر ناپسندیدگی کا بٹن صرف اس لیے دبایا جاتا ہے کہ انہیں اس کا تخلیق کار پسند نہیں ہوتا اس میں ذاتی رنجش کے علاوہ موضوع سے بیزارگی بھی شامل ہوسکتی ہے۔ جبکہ تمام افراد کو اظہار کا موقع دینا ہی یوٹیوب کا مشن ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس سال کے آغاز میں بعض چینل پر تجرباتی طور پر ڈس لائک کی تعداد کو پرائیوٹ کیا گیا تھا اس طرح ڈس لائک بڑھانے کی شعوری مہمات میں کمی دیکھی گئی تاہم ناظرین کو یوٹیوب بٹن دکھائی دے گا لیکن اس کی گنتی سامنے نہیں آئے گی اس طرح ویڈیو کی ٹارگٹ ناپسندیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی یوں ڈس لائک کے سیلاب کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔

    یوٹیوب کے مطابق چھوٹے یوٹیوبرپر اکثر ڈس لائک حملے ہوتے ہیں اور شروع میں ہی انہیں ناکام بنایا جاتا ہے جب اس پر مزید غور کیا گیا تو یوٹیوب نے یہ رحجان بھی نوٹ کیا ہےمخالفین اپنے حریف برانڈ اور فلم ٹریلر پر ڈس لائک کے ذریعے اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کا یہ اثربہت حقیقی ہوتا ہے۔

    اسی طرح بھارت میں مشہور یوٹیوبر اور ٹک ٹاکرز کے درمیان تنازعہ دیکھا گیا تھا جس میں دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو ڈس لائک سے نیچا دکھایا تھا بلکہ اس کی زد میں خود ایپس بھی آگئی تھیں-

  • ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ  کر دیا

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    ایئربس نے اپنا نیا طیارہ A350F لانچ کردیا-

    باغی ٹی وی : ائیر بس نے نئے طیارے کی خصوصیات بتائیں کہ یہ طیارہ 109 ٹن / 4600 این ایم یا 92 ٹن / 6000 این ایم جبکہ 777F طیارے سے 20 فیصد کم ایندھن جلاتا ہے اور 13 ٹن ہلکا ہے 317 ٹن پر 777F سے 30 ٹن کم ہے-

    اس طیارے میں 777F سے 11فیصد زیادہ حجم اور سینٹر لائن لوڈ کے طور پر ایک 20ft/30 ٹن پیلیٹ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے MD کارگو دروازہ اتنا بڑا ہے کہ GE9X سمیت فی الحال پروڈکشن میں موجود کسی بھی انجن کو لے جا سکے747-400F جیسا حجم اور تقریباً وہی پے لوڈ ہے-

    ایئربس کی OEM مہارت اور A300-600F اور ایئربس کے اپنے مال بردار جہازوں کے ساتھ برسوں کے انجینئرنگ کے تجربے سے بیلوگاس، ایئربس کا بالکل نیا فریٹر سب سے کامیاب اور جدید ترین کلین شیٹ پروگرام – A350 پر مبنی ہوگا۔

    A350F کی ہموار لانچ، سروس میں داخلے اور ریمپ اپ کو یقینی بنانے کے لیے پیداوار کو حکمت عملی کے ساتھ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 747F کے برابر حجم کے ساتھ، 777F کے مقابلے میں +3t زیادہ پے لوڈ، اور زیادہ رینج پیش کرتے ہوئے، A350F آپ کے آپریشنز کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔

    سب سے زیادہ فروخت ہونے والے تمام نئے A350 کی بنیاد پر، A350F بڑی فریٹر مارکیٹ میں جدید ترین نسل کی کارکردگی کا بہترین انتخاب ہے۔ ایندھن کے جلنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور معاشیات کے لحاظ سے ناقابل شکست کارکردگی کے ساتھ، A350F واحد فریٹر ہے جو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی تازہ ترین ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہے۔

    A350F کو بغیر کسی رکاوٹ کے ایئر لائن فلیٹ میں ضم کیا جا سکتا ہے، حجم، رینج اور پے لوڈ کے لحاظ سے مرحلہ وار تبدیلی کی کارکردگی فراہم کرتا ہے Airbus کپمنی کا کہنا ہے کہ اسے A350F کو بڑی وائیڈ باڈی فریٹر مارکیٹ کے مستقبل کے لیے واحد انتخاب کے طور پر لانے پر فخر ہے۔

  • روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    روس نے خلا میں اپنے سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کرنے کا تجربہ کیا ہے جس پر امریکا کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے اسے لاپرواہی اور خطرناک عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس رویے کو “برداشت نہیں کرے گا”۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے پیر کے روز روس کے اینٹی سیٹلائٹ ٹیسٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی مفادات کو خطرے میں ڈالنا قرار دیا ہے یو ایس اسپیس کمانڈ کے مطابق تجربے کے باعث بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کے ارکان کو حفاظت کے لیے خلائی جہاز میں گھسنا پڑا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے روسی اقدام کو غیرذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے سے سیٹلائٹ کے پندرہ سو سے زائد بڑے اور لاکھوں چھوٹے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے ہیں جو تمام ملکوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

    امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ زمین سے کئے گئے اس میزائل حملے سے متعلق امریکا کو پیشگی اطلاعات نہیں دی گئی تھیں جس پر اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے –

    دوسری جانب ترجمان پینٹاگون نے کہا کہ روس جو صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس نے بھارت کو ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی جبکہ امریکا کی جانب سے بھارت پر پابندی کے خطرات موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق روس کی ملیٹری کوآپریشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری شوگایوف نے بتایا کہ روس نے بھارت کے لیے میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا کے 2017 کے قانون کے تحت بھارت پر روس سے میزائل نظام خریدنے پر پابندی کے خطرات اور تحفظات ہیں کیونکہ مذکورہ قانون کا مقصد ممالک کو روسی ملیٹری ہتھیاروں کی خریداری سے روکنا ہے۔

    اس حوالے سے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ انٹرفیکس نے دبئی میں ایرواسپیس ٹریڈ شو میں موجود دیمتری شگایوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پہلی کھیپ شروع کی گئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ایس-400 نظام کا پہلا یونٹ بھارت میں رواں برس کے آخر میں پہنچے گا بھارت اور روس کے درمیان 5.5 ارب ڈالر مالیٹ کے ایئرمیزائل نظام کا معاہدہ 2018 میں طے پاگیا تھا، جس کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کو چین سےخطرات ہیں اور دفاع کی ضرورت ہے۔

    بھارت کو امریکا کی جانب سے کاؤنٹرنگ امریکاز ایڈورسیریز تھرو سینگشنز ایکٹ (کاسٹا) کے تحت پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے تحت روس کو جنوبی کوریا اور ایران کے ساتھ مخالف قرار دیا گیا۔روس کو یوکرین کے خلاف کارروائی، 2016 میں امریکی انتخابات میں مداخلت اور شام کی مدد کرنے پر اس قانون کے تحت مخالف ملک میں شامل کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارت کا کہنا تھا کہ اس کا امریکا اور روس دونوں کے اسٹریٹجک شراکت داری ہے جبکہ واشنگٹن نے نئی دہلی کو باور کرایا تھا کہ کاسٹا سے استثنیٰ ملنا ممکن نہیں ہے-

  • ہردیک پانڈیا کی ایئرپورٹ کسٹمز کے ذریعہ ‘5 کروڑ روپے کی گھڑی ضبط کرنے’ پر وضاحت

    ہردیک پانڈیا کی ایئرپورٹ کسٹمز کے ذریعہ ‘5 کروڑ روپے کی گھڑی ضبط کرنے’ پر وضاحت

    کرکٹر ہردیک پانڈیا نے منگل کے روز ان خبروں کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دبئی سے واپسی پر ممبئی ائیر پورٹ پر ان کے پاس سے 5 کروڑ مالیت کی دو رسٹ واچ ضبط کی گئیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق منگل کو خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اتوار کی رات کو کسٹم ڈپارٹمنٹ نے دو گھڑیاں ضبط کیں کیونکہ مسٹر پانڈیا کے پاس مبینہ طور پر ان کا بل نہیں تھا۔


    ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے، مسٹر پانڈیا نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ "میں رضاکارانہ طور پر ممبئی ائیر پورٹ کے کسٹم کاؤنٹر پر اپنے ذریعہ لائے گئے سامان کو چیک کروانے اور مطلوبہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے گیا تھا ممبئی ائیر پورٹ پر کسٹم کے سامنے میری چیکنگ کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط تاثرات پھیل رہے ہیں اور میں اس کے بارے میں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ کیا ہوا۔”

    بھارتی کرکٹر نے کہا کہ "میں نے رضاکارانہ طور پر ان تمام اشیاء کا اعلان کیا تھا جو میں نے دبئی سے قانونی طور پر خریدی تھیں اور جو بھی ڈیوٹی ادا کرنے کی ضرورت تھی وہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں ڈیوٹی کے لیے مناسب تشخیص کر رہا ہوں جس کی ادائیگی کی میں نے پہلے ہی تصدیق کر دی ہے-

    ہردیک پانڈیا نے مزید کہا کہ "سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے مطابق گھڑی کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے ہے نہ کہ 5 کروڑ روپے۔ میں ملک کا ایک قانون پسند شہری ہوں اور میں تمام سرکاری اداروں کا احترام کرتا ہوں۔ ممبئی کے کسٹم ڈپارٹمنٹ سے تعاون اور میں نے انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور اس معاملے کو کلیئر کرانے کے لیے جو بھی جائز دستاویزات درکار ہوں وہ انہیں فراہم کروں گا۔ میرے خلاف قانونی حدود کو پار کرنے کے تمام الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔”

    واضح رہے کہ ہردیک پانڈیا ٹی 20 ورلڈ کپ سے فارغ ہونے کے بعد دبئی سے بھارت واپس آرہے تھے اے این آئی کے مطابق، ہردیک پانڈیا کے بھائی، کرکٹر کرونل پانڈیا کو بھی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ سال نامعلوم سونا اور دیگر قیمتی اشیاء رکھنے کے شبہ میں روکا گیا تھا۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی  پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان ایرون فنچ بھی دیئے گئے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز ڈیوڈ وارنر کو ملنے کے خلاف سامنے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا جائے گا لیکن بابر اعظم کو یہ ایوارڈ نہ ملنے پر مایوسی ہوئی –

    یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بابر اعظم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 303 رنز بنائے تھے۔

    تاہم اب آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان نے ورلڈکپ جیتے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا جو ٹورنامنٹ میں 13 وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میرے مطابق پلیر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ڈیوڈ وارنر کے بجائے ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا ایڈم زمپا نے میچ کو کنٹرول کیا اور زیادہ وکٹیں لیں وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔

  • ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    کیلیفورنیا: کئی دہائیوں قبل پیشگوئی کیا گیا معدن کی اب زمین کی 660 کلومیٹر گہرائی سے دریافت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایک ہیرے کے اندر اس معدن کے آثار ملے ہیں جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے اس معدن کو ’ڈیوموآئٹ‘ کا نام دیا گیا ہے اگرچہ اس کی ملتی جلتی قسم دنیا میں ملتی ہے لیکن ڈیوموآئٹ زمین کی گہرائی میں بلند درجہ حرارت اور دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے۔

    افریقی ملک بوٹسوانہ سے ملنے والے اس ہیرے کے اندر سیاہ معدن کے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہیں اور ایک عرصے سے ان کی تلاش جاری تھی تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور جامعہ نواڈا میں ارضیاتی کیمیا کے سربراہ اولیور شونر نے اسے ڈیوموآئٹ کا نام دیا ہے یہ کیلشیئم سیلیکیٹ CaSiO3 پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں یورینیئم، تھوریئم اور پوٹاشیئم کے تابکار ہم جا (آئسوٹوپس) موجود ہوسکتے ہیں۔

    نظری طور پر 1967 میں اس معدن (منرل) کی پیشگوئی کی گئی تھی ماہرین نے اس کا مقام زمین کی گہرائی یعنی مینٹل کو قرار دیا گیا جہاں درجہ حرارت بلند اور دباؤ غیرمعمولی ہوتا ہے مینٹل زمینی قشر(کرسٹ) اورقلب (کور) کے درمیان پایا جاتا ہے اس طرح ڈیوموآئٹ کو سمجھ کر خود ہم زمینی ساخت، پلیٹ ٹیکٹونکس اور ارضیات کو جان سکتے ہیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدن خاص حالات کے تحت 660 سے 2700 کلومیٹر گہرائی میں تشکیل پاتی ہے جہاں حرارت اور دباؤ کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہیرے کے اندر دیکھا گیا ہے جو بلند درجہ حرارت پراپنا وجود برقرار رکھتا ہے اگرچہ کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے لیکن قدرتی طور پر پہلی مرتبہ اسے دیکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 1987 میں اس ہیرے کو بوٹسوانہ کی ایک کان سے برآمد کیا گیا تھا لیکن وہ مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہواں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پہنچا جہاں کئی برس تک اس پر تحقیق کی گئی اور 11 نومبر کو اس کا اعلان ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں کیا گیا ہے۔

    پہلے اسے لیزر سے چھیدا گیا تو اندر کیلشیئم کے آثار ملے پھر معلوم ہوا کہ یہ کیلشیئم سلیکیٹ ہے اور آخرکار معلوم ہوا کہ یہ کرسٹل حقیقت میں کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ ہے زمینی مینٹل کا پانچ سے سات فیصد حصہ اسی معدن پر مشتمل ہوسکتا ہے یہ دریافت سیکڑوں میل کی گہرائی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ہیرے کی ایک کان سے ملی ہے اورماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی عمل کی بدولت اوپر تک پہنچا ہوگا۔

  • زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    ت

    ایک آدمی غروب آفتاب کے وقت درختوں کے سامنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے” آپ کا خیال حقیقت کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے۔ "سب سے خوبصورت لوگ جن کو میں جانتا ہوں وہ وہ ہیں جنہوں نے آزمائشوں کو جانا ہے، جدوجہد کو جانا ہے، نقصان کو جانا ہے، اور گہرائیوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔” — الزبتھ کیبلر-راس

    ہم جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں۔ ہم ایک بہتر زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی ایک خوبصورت جدوجہد ہے یا کچھ بھی نہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ زندگی چیلنجوں یا ناکامیوں کے بغیر ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ بغیر جدوجہد کے اپنی صلاحیت کو کیسے محسوس کریں گے؟ نشوونما کے بغیر زندگی ادھوری اور خوفناک ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں تاکہ ہم اس پر قابو پا سکیں، کیونکہ غالب آنے میں ہم اپنی عظمت کو محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی اندرونی دعوت ہے۔ یہ ہمارے وراثت میں شامل ہے تاکہ ہم اپنے آپ کے بہتری کی جانب لائیں۔

    جیسے جیسے آپ مزید بننے کے لیے پہنچتے ہیں، آپ اپنی لامحدود صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جسمانی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کے بڑے آرکیسٹریشن میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتے، بلکہ آج جو فیصلے ہم کرتے ہیں اس کا ہماری زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ہم سب شعور کے ذریعے گہری سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے عقائد ہمارے خیالات کو مرتب کرتے ہیں۔ ہمارا خیال حقیقت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے، لہذا ہم جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی ہمیں ملتا ہے۔ یہ ایک جاری بحث ہے کہ زندگی ایک کے بعد ایک جدوجہد ہے۔ پھر بھی ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔

    زندگی میں اس کے بارے میں ہمارے تاثرات سے زیادہ ہے۔ غور کریں کہ میں نے تاثر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ جس طرح سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں وہ ہمارے مشاہدے سے واضح ہے۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد، بلوں کی ادائیگی اور کسی کے کام سے مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اپنی زندگی کو کسی مختلف فلٹر سے دیکھنا آپ کے لیے معنی خیز ہے؟ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو دنیا کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی صلاحیت کیسے ملتی ہے؟

    ۔ جب ہم محبت میں ہوتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے لیے پرعزم ہوتے ہیں تو ہماری جدوجہد بے معنی نہیں ہوتی۔ زندگی کو سفر کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ تجربات ہیں جن پر ہم سفر کرتے ہیں جو ہماری زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی عروج و پستی کا سلسلہ ہے۔ خوشی کے لمحات یا اذیت کی اقساط تجربہ ہونے کے کافی عرصے بعد ایک فوکل پوائنٹ ہیں۔ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ زندگی ٹوپی کے قطرے پر ہماری خواہشات کے مطابق ہو جائے گی، بلکہ ہمیں زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اندر سے گزرنے دینا چاہیے۔

    ہم ایسا کرتے ہیں جو ظاہر ہوتا ہے اسے قبول کرتے ہوئے، چاہے ہم دوسری صورت میں یقین رکھتے ہوں۔ اس مضمون کا عنوان زندگی کی تفریق کو واضح کرتا ہے۔ جدوجہد کے بغیر، زندگی ہمارے ذاتی ارتقاء میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ زندگی کا مقصد ہر لمحہ خود کو نئے سرے سے تخلیق کرنا ہے۔ افراتفری کے ذریعے زندگی جنم لیتی ہے، جو اس کے تخلیقی اظہار کے لیے تحریک کا کام کرتی ہے۔ ہم اس ایپلی کیشن کو فطرت میں دیکھتے ہیں۔ ہیرے شدید دباؤ، گرمی اور تحریک کے تحت بنتے ہیں۔ موسم بہار اور خزاں کے مہینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہنگامہ خیز موسم کے نمونے کم ہو جاتے ہیں۔

    ہم ان موسموں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ تصور کریں کہ کیا ہمارے پاس سال کے بارہ مہینوں میں ایک ہی موسم ہوتا؟ متضاد موسمی تبدیلیوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔ تضاد فطرت میں ابھرتا ہے لہذا ہم مختلف حقائق کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے، میں آپ کو مدعو کرتی ہوں کہ آپ اپنے چیلنجوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق بنائیں۔ کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ تکلیف دہ تجربات آتے اور جاتے ہیں اگر ہم انہیں اپنے ذریعے سے گزرنے دیتے ہیں۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد کے سلسلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اس بات پر بھروسہ کریں کہ آپ کی ذاتی لڑائیاں آپ کو اپنی گہری حکمت کے ادراک کی طرف لے جا رہی ہیں۔ یہ حکمت آپ کو اسی ذہانت سے جوڑتی ہے جو ہر لمحہ آپ کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آپ کی توقع کے مطابق ظاہر نہیں ہوسکتا ہے، پھر بھی یہ ہمیشہ پردے کے پیچھے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی خوبصورت جدوجہد کا ایک سلسلہ ہو سکتی ہے یا کچھ بھی نہیں۔

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد