Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد

  • حسن علی کو لے کر انڈین پروپگینڈا تحریر عبدالوحید

     السلام علیکم ناظرین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سترہ اکتوبر کو دبئی میں شروع ہوا ۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیم کو گروپ بی میں رکھا گیا گروپ بی کا پہلا میچ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ میچ سے پہلے انڈین اور انڈین میڈیا اپنی ٹیم کی ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی تھی جیسا کوئی آسمان سے اتری ہوئی ٹیم ہو ۔ جب پہلا میچ کھیلا گیا تو پاکستان نے بہت بری طرح سے انڈیا کو شکست دی ۔ ایسی شکست جس کی تواقعات کسی انڈین کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان اور بابر اعظم جم کر انڈین بولروں کی دھلائی کی۔ انڈین ٹیم کوئی بھی ایسا بولر نہیں تھا جو پاکستانی اوپنرز کو پویلین بھیج سکے۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے تاریخ رقم کردی۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل نیوزیلینڈ ، افغانستان، نیمبیا اور سکاٹلینڈ کو شکست دی ۔ پاکستانی ٹیم ایسی ٹیم بن کر ابھری جس کی تواقع کوئی نہیں کررہا تھا۔ پاکستانی اوپنرز ، مڈل آرڈر بیٹسمین سب اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ انڈیا اپنے پہلا میچ ہارا اس کے ساتھ دوسرے میچ میں بھی بری طرح شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا جو تیسرا میچ ہوا افغانستان کے ساتھ وہاں کے میچ میں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میچ فکس ہو۔ جب نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دی تو نیوزیلینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور انڈیا ٹورنا منٹ سے باہر ہوگیا ۔  دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا ۔ جب دوسرا سیمی فائنل میچ کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان کو کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ اس دوسرے سیمی فائنل میں جب پاکستان فیلڈنگ کررہے تھا تو آخری اورر میں شاہین شاہ آفریدی کے تیسرے گیند پر جب حسن علی نے کیچ چھوڑا ۔ اس کے بعد میتھین ویڈ نے آخری تین بالوں پر تین چھکے لگا دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ہوئی ۔ اس تنقید کو بڑھاوا دینے کے لیے انڈین کا ایک پینل میدان میں اتر آیا ۔ اور  مذہب کا سہارا لے کر پاکستان میں شیا سنی فسادات کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا کہ حسن علی پر اس لیے تنقید کی جارہی ہے وہ شیا ہے ۔ حالانکہ حقائق بلکل مختلف تھے۔حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ضرور ہوئی

      لیکن وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ شیا ہے اور سنی نہیں ہے ۔ یہ تنقید ان کی اصلاح کے لیے تھی۔ میچ میں کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ہوئی تنقید۔ انڈیا کے وہ لوگ جو ہمیشہ چاہیے ہیں کہ وہ پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں سنی شیا فسادات کو پروان چڑھایا جائے ۔ اس سے پہلے انڈین کا ایک سابق میجر گورو آریا تھا وہ بھی اس قسم کے پلان کرتا رہا کہ کسی نا کسی طرح اس قسم کے فسادات کو بڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں امن کا ماحول خراب ہو اور خانہ جنگی پیدا ہوا ۔ انڈین جو ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں جس سے خون خرابا ہو۔ پاکستانیوں کو اب انڈین کے چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ ایسے پراپیگنڈا سے بچنا چاہیے جو پاکستان میں امن کے ماحول کو خراب 

     کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ حسن علی بھی  انسان ہے  اگرچہ اس سے یہ کیچ چھوٹا ہے تو اس میں کون سی  مذہب والی بات آگئی۔ یہ لوگ جو نفرت کو پاکستان میں اپلائی کرنا چاہتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں کسی پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھائیں گے تو دشمن ایسی طرح ہم پہ وار کریں کہ لہذا ہم ایک پاکستانی ایک قوم کی طرح رہنا چاہیے اور دشمن کے ہر چال کو ناکام بنانا چاہیے ۔پاکستان زندہ باد

  • محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

    محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

     وہ دو دن سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارٹ  میں   زیرعلاج تھا، ان کے منہ سے باربار ایک ہی لفظ نکل رہاتھاکہ مجھے اپنے فرض پر واپس جاناہے ، قوم نے مجھ پرایک فرض عائد کیاہے  میں   وہ فرض پوراکروں  گا، بھلا میں   اپنے فرض سے کیسے غافل ہوسکتاہوں ، ڈاکٹر اصرار کرتے رہے وہ انکار کرتے رہے ، ٹی وی اسکرینز پر سرخیاں  چلتی رہی آج ایک اہم رکن قومی فرائض پورا کرنے سے قاصر رہیں  گے لیکن اللہ کاکرنا ایساہوا وہ دو دن مکمل ہوتے ہی مکمل ٹھیک ہوگئے، اور ڈاکٹرزنے انہیں  اپنے فرض پر واپس جانے کی اجازت دے دی، وہ خوشی سے پھولاجا رہاتھاکیونکہ انہیں  ایک بار پھر قوم کی خدمت کاموقع ہاتھ آگیا تھا، انہوں  نے رب کاشکر ادا کیا اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے راہ کی جانب ایساگامزن ہوگیا کہ رہتی دنیا کیلئے مثال بن گیا، اور ہر جگہ سے واہ واہ کی صدائیں  بلند ہونے لگی، یہ نوجوان کوئی اور نہیں  پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے بار محمد رضوان ہے، محمد رضوان کا تعلق کے پی کے شہر پشاور سے ہیں ، یہ یکم جون 1992کو پیدا ہوئے ، بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون سرپر سوار تھا، 140لسٹ اے میچز اور 161ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے بعد 17اپریل  2015کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ 24اپریل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا، یہ آگے پچھلے مڑے بغیر اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوزرکھنے کی پوری کوشش کرتے رہے، پاکستان کرکٹ ٹیم  میں   مقابلہ سخت تھا، ہر نئے آنے والاکھلاڑی اپنی ردھم  میں   واپس آکر ٹیم  میں   جگہ بنانے کاخواہاں  تھا،انہیں  کئی بارمایوسی کاشکار اس لیے ہوناپڑاکیوں  کہ وہ فارم سے بالکل آوٹ ہوچکے تھے، یوں  ٹیم سے باہر کی ہوا بھی کھانی پڑی، یہ محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والاکھلاڑی ہے، مسلسل محنت کرتے رہے یوں  2019 میں   ٹیم  میں   واپس آگیا، اسی اثنا میں   وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد کی تنزلی کا آغاز ہوگیا،محمدرضوان مسلسل پرفارم کرتے رہے گیارہ فروری 2021کو لاہور  میں   ساوتھ آفریقہ کے خلاف 104رنز کی نایاب اننگز کھیل کر اپنی جگہ مزید مستحکم کر دیا، یہ یوں  قوم کی خاطر کھیلتے رہے ، 24اکتوبر کو پاکستان کا انڈیاکے خلاف ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی  میں   میچ طے تھا، شائقین کرکٹ سالوں  سے پٹاخے پھوڑنے کا انتظارکررہے تھے، شائقین کوامید تھی کہ اس بار یہ ٹیم وہ کام کردیکھائے گی جو  اب تک نہیں  ہوگا، پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ  میں   انڈیاکو کبھی ورلڈ کپ  میں   شکست سے دوچار نہیں  کیاتھا، لیکن یہ کارنامہ 24اکتوبر کی شام کو شاہینوں  نے کردیکھایا، انڈیاکی پوری ٹیم 151کی مجموعی اسکور پر ڈھیر ہوگی، ٹیم پاکستان نے سترہویں  آور میں  بغیر کسی وکٹ کے تقصان کے ہدف پوری کرکے تاریخ رقم کرلی،اس  میں   محمد رضوان نے 79رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، یہ وہ مرحلہ تھا پاکستان کاسر فخر سے بلندہوگیا، ٹیم نے پچھلے مڑ کرنہیں  دیکھی، بددستور  نیوزی لینڈ،افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، سیمی فائنل  میں   آسٹریلیا کے ساتھ 11اکتوبر کو پنچہ آزمانی کرنی تھی، لیکن میچ سے دو دن قبل ٹی وی اسکرینز پر خبریں  چلنے لگی، محمدرضوان اور شعیب ملک بیماری کی وجہ سے آسڑیلیاکے خلاف میچ نہیں  کھیل پائیں گے، میڈیاکو بھی معلوم نہیں  تھا کہ کیا ہورہاہے، 9اکتوبر کو محمد رضوان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی وہ دبئی کے میڈیور اسپتال کے آئی سی یو میں   داخل ہوگئے، انہیں  اپنی بیماری سے زیادہ قوم کی فکر تھی انہیں  قوم نے ایک مشن پہ بھیجا تھا وہ ذمہ داری کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا، ڈاکٹر علاج کرتے اصرار کرتے رہے یہ انکار کرتے رہے کہ مجھے ٹیم  میں  واپس جاکر آسڑیلیا کے خلاف میچ کھیلناہے ، یہ باتیں  اس وقت عیاں  ہوئی جب آسڑیلیا کے خلاف میچ کے بعد محمدرضوان کاعلاج کرنے والاڈاکٹر سہیر سین العابدین سے رضوان کے بارے  میں   پوچھاکیا، ڈاکٹر سہیرسین العابدین نے کہا  میں   رضوان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کہیں  انہیں  ہارٹ اٹیک تو نہیں  آیا،جب انہیں  اسپتال لایاگیا توان کی حالت بہت خراب تھی ، ان کے سینے  میں درد تھا، گلہ سکھ گیا تھا، بیماری کے انتہائی درجے پر پہنچ چکاتھا لیکن ان کا حوصلہ آسمانوں  سے باتیں  کررہاتھا انہیں  صرف اور صرف وطن کی فکر تھی، وطن کی لت نے انہیں  بستر بیمار پر بھی رہنے نہیں  دے رہاتھا، مسلسل 36گھنٹے آئی سی یو  میں   رکھنے کے بعد جب انہیں  واپس بھیجا جارہاتھا تو وہ ایک دم صحت یاب ہوچکے تھے  ۔  ڈاکٹر سہیر بھی ان کے اس حالت کو دیکھ کر حیران رہ گیا، محمدرضوان آئی سی یو سے نکل کرکٹ کے میدان  میں   آن پہنچا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل سترہ آورز پچ کر براجماں  رہے اور 79رنز کی نمایاں  اننگر کھیلی، دوران میچ آسڑیلیا کے باولر مچل اسٹاک کی باونسرکی وجہ سے چہرے پر داغ بھی لگا، لیکن وہ باونسر بھی ان کی راہ میں   حائل نہ ہوسکے،میچ  میں   آسڑیلیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن رضوان کی کارکردگی اور وطن سے محبت نے دنیا ئے کرکٹ کے ستاروں  سمیت شائقین کو حیران کردیا،
    آپ نے کئی بار ایسی ویڈیو کلپ یا تصویر دیکھی ہوگی جس  میں   محمدرضوان میچ کے دوران نماز پڑھتے دیکھائی دیتاہے، چاہیے وہ بھارت کے خلاف میچ ہو یا پریکٹس سیشن ، دین سے قربت اور وطن سے محبت کی اس عمدہ مثال کیوجہ سے محمدرضوان دنیاجہاں   میں   آمر کرگیا، انہیں  دنیائے کرکٹ کی تاریخ  میں   آئی سی یوسے نکل کر مردمیدان بننے والے کھلاڑی کے نام سے یاد کیاجائے گا، اسی فرض شناسی اور اپنے شعبے سے محبت نے دنیاجہاں  کو جھومنے اور واہ واہ کرنے پر مجبور کردیا، پاکستان ورلڈ کپ تونہیں  جیت سکا لیکن ورلڈ کپ سے بڑا کارنامہ انجام دے کر عالم انسانیت کی محبتیں  سمیٹ لیں  ۔  
     آپ ایک دن پورے ملک  میں   موجود اداروں  کا ڈینانکال کر دیکھ لیں  ، جہاں  کام کرنے والے کتنے افراد فرض شناسی کے ساتھ اپناکام سر انجام دیتے ہیں  ، آپ یقین کرلیں  بیس فیصد ایسے لوگ ہوں  گے جو اپنے فرض کو پورا کرتے ہوئے تنخواہ حلال کرنے کی سعی کرتاہے،ہم  میں   سے ہرایک اپنے فرض سے غافل ہے، جب بھی فرصت ملے اپنا فرض چھوڑ دیتے ہیں  ، اس ضمن  میں   سب سے زیادہ افراد گورنمنٹ سیکٹر  میں   کام کرنے والے ملازمین کی ہے ، انہیں  نہ خوف خداہوتاہے نہ خوف انسان ، انہیں  معلوم ہے ہماری نوکری لگ گئی اب کوئی بھی یہ نہیں  چھین سکتا، ایساکیوں  ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان صرف نام کامسلمان رہ گیا ہے، ہمیں   اپنے فرائض معلوم ہی نہیں  ، ہم صرف گورنمنٹ کو کرپٹ کہنے  میں   مصروف ہے، دراصل ہم  میں   سے ہرایک کرپٹ ہے ہمیں   بس موقع ملنے کی دیر ہے،ہم کرپشن کی داستانیں  بناکردم لیں  گے ۔  جس دن اس ملک کا ہر فرد اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے محمدرضوان بن جائے گا اس دن یقین جانیں  ملک ترقی کی راہوں  پر داخل ہوگا اور پوری دنیا  میں  ہماری واہ وہ ہوں  گے  

  • جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں فتح کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں منفرد انداز میں جشن منانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو یک طرفہ مقابلے کے بعد با آسانی شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔


    کینگروز نے اپنی فتح کے بعد جہاں میدان میں اور ڈھول کی تھاپ پر خوب جشن منایا وہیں ڈریسنگ روم میں انوکھے انداز میں جشن منانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں جشن منانے کی ویڈیو آئی سی سی کی جانب سے شیئر کی گئی جس میں اپنی فتح پر انتہائی خوش میتھیو ویڈ نے ایک عجیب انداز اپنایا اور اپنا جوتا اتار کر اس میں مشروب پیا۔

    میتھیو ویڈ کے اس انداز پر ان کے کچھ ساتھی کرکٹرز بھی ان کے ساتھ ہولیے اور ان ہی کے جوتے میں مشروب پیا آسٹریلوی کھلاڑیوں کی اس عجیب اندازمیں جشن منانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

  • دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    مدھیہ پردیش: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع بھینڈ میں مالک نے دودھ نہ دینے پر اپنی ہی بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھینڈ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بابو اپنی بھینس کے دودھ نہ دینے پر شدید پریشانی میں مبتلا تھے، گاؤں والوں کے مشورے پر انہوں نے اس پریشانی سے نکلنے کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارت: گائے کے لئے پہلی ایمبولینس سروس شروع

    بابو اپنی بھینس کے ہمراہ پولیس اسٹیشن جا پہنچے جہاں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ میری بھینس پچھلے کئی دنوں سے دودھ نہیں دے رہی، میں جب بھی دودھ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں وہ مجھے مارنے کو آتی ہے، مجھے شبہ ہے کہ کسی نے میری بھینس پر جادو کروا دیا ہے۔

    بابو کی بھینس کو پولیس اسٹیشن لے جانے کی ویڈیو بھارت میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی ہے بھینس کے خلاف شکایت درج کروانے کے کچھ ہی دنوں بعد بھینس نے دوبارہ سے دودھ دینا شروع کردیا جس پر بابو پولیس اسٹیشن گئے اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیر لکشمی نارائن چوہدری نے بیمار گائے کے لیے پہلی ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق 112 ایمرجنسی سروس نمبر کی طرح نئی سروس بیمار گائے کے فوری علاج کی راہ ہموار کرے گی لکشمی نارائن چوہدری کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت 515 ایمبولینسں نئی اسکیم کے لیے تیار ہیں۔

    بھارتی وزیر نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر اور دو معاونین کے ساتھ یہ ایمبولینس سروس 15 سے 20 منٹ کے اندر بیمار گائے کے پاس پہنچ جائے گی اسکیم کے تحت شکایات وصول کرنے کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر قائم کیا جائے گا جو دسمبر تک شروع ہو جائے گا۔

  • ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    مشہور کمپنی کیویئر نے آئی فون 13 کی کیسنگ میں ٹی ریکس ڈائنوسار کے اصلی دانت کا ایک ٹکڑا لگایا ہے۔

    فون کیسنگ کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کیویئر کمپنی نے کہا ہے کہ کیسنگ کا ڈیزائن ان ک بہترین فنکاروں نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے اندر 24 قیراط سونے کی چادر لگائی گئی ہے جس کی چمک آسمانی بجلی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ سیاہ رنگ میں ڈائنوسار کا ابھرا ہوا سر دیکھا اور ہاتھ لگا کر محسوس کیا جاسکتا ہےسر پر ٹائٹانیئم کا ورق لگایا گیا ہے

    ڈائنوسار کی آنکھ اصلی عنبر پر مشتمل ہے جو خود لاکھوں کروڑوں سال پرانا ہے ۔ دوسری جانب آٹھ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار ٹی ریکس کے دانت کا ایک ٹکڑا لگایا گیا ہے۔

    اگرچہ دانت چھوٹا سا ہے لیکن اس کی قیمت 8 ہزار ڈالر سے زائد ہے اسے ٹائرانوفون کا خوبصورت نام دیتے ہوئے اس کی بعض تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ کمپنی نے آئی فون 13 اور آئی فون 13 پرو اور میکس ماڈلوں کی کیسنگ پر خوبصورت نقش کاڑھے ہیں جو فون کو ایک بالکل نیا روپ دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ ایک محدود ایڈیشن ہے جسے سات کی تعداد میں بنایا گیا ہے آئی فون 13 کیس کی قیمت 15 لاکھ روپے اور آئی فون 13 پرو کیس کی قیمت 16 لاکھ روپے کے برابر ہے۔

  • دجال کی آمد       تحریر: چودھری احسن رضا جٹ

    دجال کی آمد تحریر: چودھری احسن رضا جٹ

    دجال کی آمد

    "‏سعودی عرب کا بڑا اعلان

    سعودی عرب نے غیر ملکیوں کو دو مقدس شہروں مکة المکرمہ اور مدینة المنورہ میں رہائشی اور تجارتی عمارات کی خریداری کی اجازت دے دی، سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے سعودی حکومت کے فیصلے کی توثیق کر دی”-

    یہ فیصلہ سعودی حکومت نے گزشتہ سوموار کو کیا۔یہ حقیقت ہے کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی میں آزادنہ اختیار رکھتا ہے،مگر تمام مسّلم امّہ کے مقدس مقامات: مکة المکرمہ اور مدینة المنورہ آتے تو سعودی حدود میں ہیں مگر ان کی حفاظت اور حفاظت کو یقینی بنانا تمام مسلمانوں کی ذمداری ہے۔

    احادیث کی روشنی میں دجال کی آمد:
    ‎انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی ایسا علاقہ نہیں ہوگا جسے دجال نہ روند سکے ، مکہ اور مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے ننگی تلواریں سونتے ہوۓ پہرا دیں گے ، پھر مدینہ اپنے مکینوں کے ساتھ تین مرتبہ ہلے گا تو اللہ تعالی ہر کافر اور منافق کو مدینہ سے نکال دے گا)
    صحیح بخاری(١٨٨١)،صحیح مسّلم(٢٩۴٣)

    ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوۓ فرمایا :
    ( دجال کا ظہور مشرقی جانب کے ایک شہر خراسان سے نکلےگا )
    سنن ترمذی(٢٢٣٧)

    جب جرمنی کے ڈکٹیٹر”ہٹلر” کے مظالم سے تنگ آ کر یہودیوں نے پناہ مانگی تو اکثر ممالک انکار کر چکے تھے۔تو بلاآخر فلسطین نے پناہ دی۔تو پہر ساری دنیا نے دیکھا کہ یہودی دیکھتے دیکھتے تقریبً فلسطین کے ٧٨ فیصد علاقہ پر قابض ہو گئے۔نہ صرف فلسطین پر بلکہ اب تو آدھی سے زیادہ دنیا کی معیشت پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔وجہ کیا ہے؟؟؟ دراصل اسرائیل کا ہر شہری "ہنر مند” ہے۔جس کی وجہ سے وہ دنیا کی معیشت پر اثر رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تسلسل سے مختلف ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروایا: جس میں مسّلم ممالک بھی شامل تھے.بحرین،اسرائیل اور یواےای کے مابین اس معاہدے کو "ابراهام اککورڈ” کا نام دیا گیا۔

    اب سعودی عرب ٢٠٣٠ میں معیشت کے مستقبل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک دنیا کا ماڈرن ترین نیا شہر "نیوم” بنا رہا ہے۔جس کا اعلان شہزادہ محمّد بن سلمان نے ٢٠١٧ میں کیا تھا:اس شہر کا کل رقبہ ٢٦,۵٠٠ اسکوائر کلومیٹر ہے۔نیوم سے مدینہ کے درمیان فاصلہ ٦٣٧ کلومیٹر ہے اور نیوم سے مکہ کے درمیان کا فاصلہ ٩١٣ کلومیٹر ہے۔اس شہر کے ذریعے اردن اور مصر بمقابلہ سعودی عرب کو جوڑیں گے۔اردن اسرائیل کی مشرقی سرحد پر واقع ہے جب کہ اس کے جنوب مغرب میں مصر واقع ہے۔یہ واضح ہے کہ "نیوم” شہر میں یہودی ہر طرح کی ٹیکنالوجی اور ماڈرن اشیا کے ساتھ ساتھ فحش کو بھی لے کر آ رہے ہیں،یہ سعودی حکومت نے طے پا لیا ہے۔(یاد رہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے وہ "گریٹر اسرائیل” بنا کر رہیں گے)۔اسی لیے مرزا محمود سرحدی نے کہا:

    اے ساقی گل فام بُرا ہو ترا،تو نے
    باتوں میں لُبها کر ہمیں وہ جام پلايا
    یہ حال ہے سو سال غلامی میں بسر کی
    اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا

    سعودی عرب کی ٨۵ فیصد جی ڈی پی محض تيل پر منحصر ہے؛سعودی عرب کو اب معیشی لہذا سے مدد کی ضرورت ہے(اس لیے "نیوم” شہر بنانے پر مجبور ہے)۔جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ او آئی سی کا اجلاس طلب ہو اور اس میں تمام مسّلم ممالک کی تجارت کو آپس میں فروغ دینے،اور ہر مسّلم ملک میں سائنس،ٹیکنالوجی،طب،ادب اور ثقافت کی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے پر غور کیا جاۓ:یوں سارے مسّلم ممالک معاشی اعتبار سے مضبوط ہو کر آزادنہ طور پر حرم اور طیبہ کی حفاظت کے فرض کو پورا کریں۔

  • اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    ان دنوں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں شاید اسی کے ممکنہ انجام کو بھانپ کر ہماری سیاسی قیادت ایک بار پھر سے سرگرم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس وقت اپوزیشن کی باڈی لینگوئج ان کے پرجوش اور پر اعتماد ہونے کا پتہ دے رہی ہے۔ تو دوسری جانب وزرا اور حکومتی ارکان ماضی کے چونچلوں کے برعکس مرجھائے ہوئے ہیں ۔ بلکہ چڑیل کے مطابق بہت سے شعبدہ بازوں نے تو دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا بھی شروع کر دیے ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے علاوہ کسی کے ساتھ سچے نہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جب پیچھے مڑکردیکھیں گے تو بہت سے ایسا وزراء اور مشیر غائب ہوں گے ۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ عمران خان کو رگڑا لگا رہے ہوں اور کپتان کو کرپٹ خان ثابت کر رہے ہوں۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بالکل کھل کر اور واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی سے مراد حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس وقت حکومت کے لیے نہ صرف حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب حکومت کا بچنا مشکل ہوگا۔ شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے آپسی رابطے بڑھتے جارہے ہیں۔ آج بھی بلاول مولانا فضل الرحمان سے ملنے ان کی رہائش گاہ گئے ۔ اس موقع پر بلاول نے مولانا سے کہا ہے کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، تین نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ مولانا کا کہنا تھا کہ ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ۔ آپ حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکستیں کو دیکھیں تو یہ اپوزیشن کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ویسے حکومت کوتو آئے روز ہر محاذ پر شکست ہی ہورہی ہے۔ عمران خان کے دیے گئے ظہرانے میں صرف 70 سے 75لوگ آئے ۔ اس خبر نے تو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ مجبوراً رات کے اندھیرے میں اکیلا اکیلا اب ایم این ایز سے ملا جا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے ہیں کہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔

    یوں تین سال میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کسی محاذ پر شکست دینے کے قابل ہوئی ہے۔ اب لوگ تو سوال کر رہے ہیں کہ کوئی تو طاقت تھی جو پہلے ارکان کو حاضر کر دیتی تھی لیکن اس بار عمران خان کے پاس وہ طاقت نہیں تھی۔ اس لیے ان کے اپنے ارکان ہی نہیں آئے۔ ان کے اتحادیوں نے بھی اب زبانیں کھولنی شروع کر دی ہیں ۔ آپ دیکھیں وہ اتحادی جوکوئی بات نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ اب کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ نئی تبدیلی ہے ۔ پھرعمران خان چاہے اپوزیشن لیڈروں سے ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں ۔ ان کے مشیرو ترجمان جتنے مرضی سخت بیانات دیتے رہیں ۔ پر آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ جس میں اپوزیشن لیڈر سے انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر اہم قوانین پر اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ لفظ اپیل پر غور کریں ۔ اب کیا عوام یہ سمجھے کے عمران خان اور پی ٹی آئی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کرپٹ ٹولے کے سامنے ڈھیر ہوگئی ہے ۔ یا لیٹ گئی ہے ۔ یعنی جب بات اپنے آپ پر آجائے تو سب کچھ جائز ہوجاتا ہے ۔ ویسے چاہے آپ دنیا جہاں کی مثالیں دیتے رہیں کہ سیاست کیسے ہوتی ہے ۔ اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ۔ کتنا عجیب ہے کہ وہ کپتان جو اقتدار کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی بھاشن دیا کرتا تھا اب کرسی بچانے کے لیے شہباز شریف کے پیر پکڑنے کو بھی راضی دیکھائی دیتا ہے ۔ پر میں ایک بات جانتا ہوں کہ وہ کپتان ہی کیا جو یوٹرن نہ لے ۔ پارلیمنٹ کی اندر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان نیا سیاسی رومانس بھی دیکھنے کومل رہا ہے۔ ۔ جب کہ مزاحمت یا ٹکراؤ یا سڑکوں کی سیاست جس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے میں نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ پہلا وار ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر ہونے والا ہے ۔

    ۔ پھر جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے اس پر کھیل کافی دلچسپ ہے۔ جے یو آئی ف تو اعلانیہ طور پر کسی بھی طرح کی ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں۔ آج بھی مولانا نے یہ ہی بات کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ختم کرکے نئے عام انتخابات کرانے کے مطالبے پر قائم ہے۔ مسلم لیگ ن بشمول مصالحتی گروپ بھی ایسے کسی اقدام کا ہرگز حصہ نہیں بننا چاہتا جس سے عمران خان کو عدم مقبولیت کی موجودہ سطح پر بھی سیاسی شہید بننے کا موقع ملے۔ پیپلز پارٹی مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں یہ کھیل کھیلنے کے بعد ہم مرکز کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اہم افراد پنجاب میں تبدیلی کے حامی نہیں۔ اس کھیل میں بڑی رکاوٹ بھی نواز شریف اورمریم نواز ہیں۔ شریف خاندان کسی بھی صورت میں پنجاب کی سطح پر چوہدری برادران کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن یہ بھی سمجھتی ہے کہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور مرکزمیں تبدیلی کی صورت میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کا سارا غصہ نئی حکومت پر پڑے گا اور ہم بھی کوئی بڑا معاشی ریلیف لوگوں کو نہیں دے سکیں گے۔اس لیے ان کے بقول درست حکمت عملی یا آپشن نئے انتخابات کا راستہ ہی ہوسکتا ہے ۔ پر ایک چیز جس پر اپوزیشن ایک پیج پر دیکھائی دیتی ہے کہ ۔ ان کا ہدف عمران خان ہے۔ اس لیے اب نشانہ عمران خان ہی ہوگا۔ باقی سب باتیں ختم ہو گئی ہیں۔ فی الحال عمران خان کے پاس اپوزیشن کی کسی سیاسی چال کا جواب نہیں ہے ۔ اگر ایک طرف سڑکوں پر میدان سجے گا تو دوسری طرف پارلیمنٹ میں میدان سج گیا ہے۔ بہر حال موجودہ فتح کا کریڈٹ شہباز شریف کو ہی جاتا ہے۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں آنے والے دنوں میں سب کو معلوم ہوجائے گا ۔ پھرحکومت کی اہم اتحادی ایم کیو ایم اور ق لیگ کے گلے شکوے بھی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ واضح طور پر سیاسی فضا میں ایک تبدیلی محسوس کی جارہی ہے جو کہ کسی صورت بھی حکومت کے لیے مثبت نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں یہ ایسی منفرد حکومت ہے کہ اس کے اتحادی بھی آنکھیں دکھاتے ہیں اور کبھی کبھار تو اپنے وزراء ہی آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اتفاق رائے کی طرف نہیں بڑھتے۔ نجانے کیوں حکومت نے یہ تماشا لگا رکھا ہے۔ اگر زبانوں کا استعمال کم کر کے دماغوں کا استعمال بڑھایا جائے، بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دی جائے تو یقینی طور پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ لیکن حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انہوں نے کوئی سیدھا کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں کرنا بلکہ ہر وقت تنازعات میں الجھے رہنا ہے۔۔ میں پہلے بتا رہا ہوں کہ حکومت کو تیار رہنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتحادی بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اتحادیوں کا موڈ بدل گیا تو کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ویسے جو حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی وہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیسے حل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب جہاں آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 176 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تو وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کے تین سال کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسائل کی ایک دلدل ہے جس میں پاکستان دھنستا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اب مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی اپنے پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں ۔ پر ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا عوام یا غریب لوگ بھی عمران خان کے یہ پانچ سال پورے کریں گے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

    ۔ آج ملک بھر میں عوام انتہا درجے کی مہنگائی اور بے حساب بیروزگاری کے ہاتھوں زچ ہوکر جھولیاں اٹھائے آسمان کی جانب آنکھیں جمائے نظر آتے ہیں۔ ۔ پھر بہت سے لوگ مجھے جب ملتے ہیں تو گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ مسائل بتاتے ہیں کبھی حل بھی بتا دیا کریں تو ۔۔۔ احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے فی خاندان دے کر نہ تو ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی۔ البتہ ملک مزید مقروض ہوتا جائے گا۔ اس سے بہتر ہے کہ عوام کو ہر مہینے یا تین ماہ بعد مچھلی دینے کے بجائے کانٹا اور دیگر سامان دے کر مچھلی پکڑنا سکھایا جائے۔ یعنی چھوٹے کاروبار کروائے جائیں۔ تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے’’اخوت‘‘ سے رہنمائی لینی چاہیے۔ جس نے لاکھوں افراد کو برسرروزگار کر دیا ہے۔ اور اس کے وسائل بھی محفوظ ہیں۔ حکمرانوں کو مجموعی طور پر خوددار بننا ہوگا۔ عالمی اور قومی اداروں سے بھیک مانگنے اور دوسروں کا حق اور مال ہڑپ کرنے کے بجائے حرام و حلال اور جائز و ناجائز کا خیال رکھنا ہوگا۔ یاد رکھیں اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ حکمران ہیں ۔ چاہے وہ موجودہ ہوں یا پرانے ۔۔۔ یہ جب مسند اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنے خاندان ، اپنی پارٹی، اپنے دوست اور اپنی ذات سے باہر ان کو کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا تو ملک اور عوام کے حالات کیسے بہتر ہوں گے ۔ یوں سب سے بڑا مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے ۔ اس لیے ایک بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگ تبدیلی سے تنگ آ چکے ہیں۔ جہاں بھی جاؤ لوگوں کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت گھر کب جائے گی

  • حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    جس حساب سے حکومت کے صفوں میں تھرتھرلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ یوم حساب قریب ہے ۔ جو کبھی عمران خان دوسروں سے حساب مانگا کرتے تھے ۔ اب زبان زدعام ہے اور اس حکومت سے ساڑھے تین سالوں کا حساب مانگا جانے لگا ہے ۔ پھر ایک جانب جہاں پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے اور جلوس نکالنا شروع کر دیے ہیں۔ تو پی ٹی آئی نے بھی جلسے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ آج مولانا نے کراچی میں تو پی ٹی آئی نے کرک میں کھڑاک کیے ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت خود جلسے کر رہی ہے۔ اسے تو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ سونے ہر سہاگا وفاقی وزراء نے خاص طور پر اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف محاذ گرم کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب جو کل سے لے کر آج تک وفاقی وزراء کے بیانات میری نظر سے گزری ہیں ۔ اس کے بعد محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ عوام کے بعد حکومت نے بھی گھبرانا شروع کر دیا ہے ۔ جیسے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ساری اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں پر مشتمل ہے، ان کو طاقت کی گولیاں چاہئیں، یہ کھڑے ہوتے ہیں پھر گر جاتے ہیں۔ تو اسد عمر نے میڈیا پر سخت تنقید کی اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے ڈالی کہ میڈیا والے پی ڈی ایم والوں کے سہولت کار ہیں۔ پھر یہ بھی کہا کہ ان کو میرا پیغام ہے۔ لانگ مارچ کا سوچنا بھی نہ ۔ یہاں آو گے تو بڑی کٹ پڑے گی۔

    پھر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ لوٹا ہوا مال بچانے کےلئے پھر سب ایک ہورہے ہیں۔ نوازشریف تابوت میں تو آسکتے ہیں۔ زندہ آئے تو جیل جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے۔ تومراد سعید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے موسمی بیماری ہیں، یہ سردیوں میں نکل آتے ہیں۔ پھر پرانے کھلاڑی شیخ رشید اور نئے نئے وزیر فرخ حبیب نے بھی خوب شگوفے چھوڑے ۔ ویسے یہ گنے چنے وزیر ہیں ۔ پرباقی سب اس بے یقینی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں اور کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ جو اب بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ پانچ سال پورے کرنے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کن حالات میں پورے کرنے ہیں اور پانچ سال بعد عوام کے پاس کیا منہ لے کر جانا ہے۔ یہ وزیروں کے بیانات اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینا ایک جانب پر اسی افراتفری میں نیب کی طرف سے ایک بار پھر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آگئی ہیں ۔ یاد رکھیں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور لوگ اس کو حکومت کی حالیہ ایوان میں شکست سے جوڑ رہے ہیں ۔ اس پر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف کا نام ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل میں ڈالیں ۔ عمران خان بس آٹا، چینی،بجلی،گیس،دوائی مافیا کو آرڈیننس لا کراین آر اودیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ حکومت اب جان چکی ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ اس لیے حکومت اپنے لیے سدباب کے طور پر نیب کو رول بیک کرنے کا قانون لا رہی ہے۔ پھر پرویز الٰہی بھی دل میں موجود شکوے زبان پرلے آئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم وفاق کا ساتھ نبھا رہے ہیں ۔ یہ ہمارا ساتھ نہیں نبھا رہے ۔ اب ان بیانات اور سیاسی منظر نامے کے بعد حکومت کا گھبرانا تو بنتا ہے ۔ یوں عمران خان حکومت کو فی الوقت ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا اسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ بس چھوٹ گئی ہے ۔ اب پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے تباہی ہی تباہی دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ چینی کا بحران ختم نہیں ہوا تھا کہ آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ پیر سے اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں، ہر سال کوئی نہ کوئی وجہ بناکر کبھی آٹے، چینی تو کبھی ٹماٹر، پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ جس کا سارا فائدہ منافع خور اور ذخیر ہ اندوز اٹھاتے ہیں اور عام آدمی خسارے میں ہی رہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں حکومتی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی البتہ مہنگائی کا نوٹس لینے کے اعلانات بارہا میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    ۔ یوں بگڑتی معاشی صورتحال، مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مزید بے قدری اور حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا مثبت نتیجہ آنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف دباؤ ہی نہیں بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔ اب لوگ اس حکومت کی تبدیلی کی بات یوں کررہے ہیں جیسے کپڑے بدلتے ہوں ۔ کیونکہ عوام اب تھک چکے ہیں اور امیدیں دم توڑگئی ہیں۔ اس لیے اب ہر دوسرا بندہ یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت دلدل میں پھنس چکی ہے اور ساحل تک آنے سے پہلے ہی ڈوبنے کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی لوگ تو قیاس کر رہے ہیں کہ گزشتہ ماہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کے نتیجے میں عمران خان اپنی بڑی حمایت کھو چکے ہیں اور اب یہ چند ماہ کی کہانی رہ گئی ہے کہ حکومت شاید چلی جائے۔ اب چاہے یہ قیاس آرائیاں درست ہیں یا نہیں لیکن عمران خان اور ان کی حکومت کیلئے درپیش چیلنجز انتہائی سنگین ہیں۔ حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سی باتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ گراونڈ پر سب اچھا نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں، جب اپنے بھی آنکھیں دکھانے لگیں تو سمجھو حکومت کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ معاملات کسی اور طرف جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں ایک مقبول حکومت کے ساتھ کبھی ایسے معاملات نہیں ہوتے۔عوامی سطح پر جس حکومت کو مقبولیت حاصل ہو، اُسے کوئی آنکھیں نہیں دکھاتا، خود اسٹیبلشمنٹ بھی اُس کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی ہے۔عمران خان کو شاید علم نہیں کہ خود اُن کے ارکانِ اسمبلی اس وقت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں درحقیقت عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں زچ آئے ہوئے عوام کو لمبی لمبی تقریروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معاشی شعبے میں کوئی ریلیف نہ دے سکے۔ یہ ناکامی موجودہ حکومت ایسی گلے پڑی ہے کہ اب طوق بن گئی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں ہوا،جس سے عوام کوئی سُکھ کا سانس لے سکے۔ تاہم اسلام آباد کے حالات میں ایک واضح ہلچل نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اس طرح متحرک ہونا اور ایک دوسرے سے مل جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔کل تک ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے،اب ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ حکومت جس کے وزیراعظم کہتے ہیں وہ اپوزیشن سے ہاتھ تو ملانا نہیں چاہتے اب سپیکر اور وزراء کے ذریعے اُسی اپوزیشن سے تعاون کی بھیک مانگ رہی ہے۔ کوئی بعید نہیں ان حالات میں اپوزیشن یہ شرط بھی رکھ دے کہ وزیراعظم آ کر اُن سے مذاکرات کریں۔ تب وہ قانون سازی میں تعاون کریں گے،ایسا ہوا تو وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانا مجبوری بن جائے گی۔

    ۔ پھر عمران خان نے جس طرح2018ء میں انتخابات جیتنے کے لئے جو الیکٹیبلز کے پیوند لگائے تھے اُس کے نتائج وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ بلکہ لوگ تو قبل از وقت ہی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر فرض کریں پی ٹی آئی پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا حکومت وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ تو کیا تحریک انصاف میں یہ سب لوگ رہیں گے۔ جو اب ہیں ۔ کیا اس جماعت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا۔ کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ثابت کیا ہے۔ مشکل حالات میں بھی لوگ اُن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے تو اپنے دور میں ارکانِ اسمبلی آنکھیں دکھاتے اور فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اب تو حالات بھی ایسے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نجی دوستوں کی محفلوں میں کہتے ہیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ میری نظر میں وقت تیزی سے گزر چکا اور گزر رہا ہے ۔ اب بھی اگر اہل اقتدار اسی طرح مدح سرائی کے نشے میں لت ہو کر تقریروں سے عوام کا پیٹ بھرتے رہے اور عملی طور پر کام نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام لیوا بھی کوئی نہ ہو گا۔ فی الحال حکومتی کشتی کے سوار اپنا سامان اتار رہے ہیں اور نئے مسافر تیاری پکڑ رہے ہیں۔۔ افسوس کہ کچھ کر کے کسی انجام سے دوچار ہونا الگ بات تھی۔ موجودہ حکمران تو محض رنگ بازی، شعبدہ بازی، جھوٹ، منافقت، بدعنوانی، ہوس اقتدار اور محسن کشی کی دلدل میں ایسے اترے کہ عبرت بن گئے۔ اب حقیقت یہی ہے کہ حکمرانوں ہی نہیں ان کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ہے جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ میرے خیال سے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ملک کو موجودہ نازک بحرانوں سے نکالنے کے لئے آزاد انہ ،غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کی ضرورت ہے

  • ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
    زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
    نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال