Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    لاہور: پی ایس ایل سیزن 2022 کے لیے تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس بار پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مجوزہ ہے، دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم سے متصل ایل سی سی اے گراونڈ کے ایک کونے پر صفائی کرواکر فینز کی دلچسپی کے لیے بہت بڑا بیٹ اور وکٹیں نصب کی گئی ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے کلب کے بالکل سامنے 20 فٹ لمبا اور 3 فٹ چوڑا فائبر کا بیٹ تیار کیا گیا ہے، اس کے ساتھ 12 فٹ اونچی اور 6 فٹ چوڑی بیلز کے ساتھ وکٹیں بھی لگائی گئی ہے، ان کی تزئین و آرائش کا کام بھی ہورہا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈکپ میں اپنا سفر ختم کرنے کے بعد 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لیے دبئی سے بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے تاہم ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شعیب ملک 16 نومبر کو ڈھاکا میں اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔

    جبکہ آج دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    پاکستان نےناقابل یقین حد تک اچھی کرکٹ کھیلی :حسین…

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    نعمان نیاز اور شعیب اختر میں صلح ہوگئی:اب تبصرے ، تجزیئے اورپراپیگنڈہ بند ہوجانا…

  • خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین و 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے Follistatin پٹھوں کے ریشوں کی تشکیل اور نشوونما کے لیے ضروری ہے-

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    تحقیق کے مطابق اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

    تحقیق مین ماہرین کو ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    فائنل سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے ان فارم وکٹ کیپر بیٹر ڈیون کونوے زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل سے باہر ہو گئے ہیں

    تاہم نیوزی لینڈ کے بالرز ٹرینٹ بولٹ اور ایش سودھی آخری میچ میں آسٹریلیا کو قابو کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے جبکہ آسٹریلیا کے اسٹارک اور زیمپا بھی کافی پرجوش نظر آرہے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 138 ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں آسٹریلیا نے 92، نیوزی لینڈ نے 39 جیتے اور 7 میچ بے نتیجہ رہے۔

  • تابش کی تشنگی !  تحریر : تابش عباسی

    اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔ 

    پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔ 

    آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟ 

    وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے – 

    آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –

    حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-

    بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے – 

    نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا – 

  • رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع					  تحریر:یاسرشہزادتنولی

    رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    رائے ونڈ ایک گمنام جگہ تھی لیکن تبلیغی جماعت کی محنت نے اسے پوری دنیا میں متعارف کرادیا،آج دنیا کے کونے کونے سے لوگ رائے ونڈ آکر دین اسلام کی فکر اور حضورنبی کریم ﷺکی محنت کا طریقہ سیکھ کر دین کی محنت میں لگ جاتے ہیں،یہاں سے ہرسال بے شمار جماعتیں نکل کر پوری دینامیں جاتی ہیں اور دین اسلام کی آفاقی دعوت دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، دین اسلام کے مبلغ اول جناب رسول اللہ ﷺہیں، جنہوں نے مکہ جیسے مخالفین کے بھرے شہر میں بے شمار سختیاں برداشت کرکے دین اسلام کی محنت شروع فرمائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دنیا میں پھیل کر روئے زمین کا سب بڑامذہب بن گیا،جناب رسول اللہ ﷺکے بعد خلفائے راشدین نے دین اسلام کے دامن کو مزید وسعت دے کر چین سے فرانس،ہسپانیہ کے جزائر،افریقہ کے جنگلات اور مراکش کے آخری کونے تک اسلامی تعلیمات کا جال پھیلادیا،اس کے بعد مسلمان حکمران،مجاہدین اسلام،مبلغین،علماء،صوفیا ء اوردردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی محنتوں سے اسلام کی شمع جلتی رہی،برصغیرپاک وہندمیں انگریز ی دوراقتدارمیں اسلام کی شمع ٹمٹمانے لگی ہندوستان کے بعض دیہات خصوصاًمیوات میں اسلام برائے نام رہ گیا تھا،1923ء انتہائی متعصب ہندوتحریک شدھی سنگٹھن نے ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی اسلام سے برگشتہ کیا،جس مسلمان علمائے کرام دلوں کو شدید دچھکا پہنچا،ہمارے اکابر حضرت مولاناانورشاہ کشمیریؒ،مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ،مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ،مولاناسید حسین احمدمدنی ؒ، دہلویؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناشمس الحق افغانی ؒ،امام الہند مولاناابولکلام آزادؒ،مولانامحمد الیاس دہلویؒ،مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوریؒ،امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اوردیگر اکابرین امت نے اس طوفان کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھرپور محنت کی جس کی بدولت ہزاروں مسلمان اپنے دین کی طرف واپس آگئے،ان حالات میں مولانامحمدالیاس دہلویؒ نے ایک مستقل ایمانی تحریک برپا کرکے مسلمانوں کو مستقل دین اسلام کی دعوت میں بھرپور طریقے سے لگانے کی سوچ وفکر کا آغاز کیا،علماء کرام،صوفائے عظام،اہل مدارس اور اپنے زمانہ کے تمام اکابر ین امت سے صلاح ومشورہ کے بعد مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر خاص ہجرہ نبوی کے اندر ایک ہفتہ اعتکاف کے بعد جب ہندوستان واپس آئے تو 1926ء میں تبلیغی محنت کا آغازکیا جو آگے جاکر تبلیغی جماعت کی موجودہ شکل وصورت میں دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی تحریک بن گئی،تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع حضرت مولانامحمد الیاس دہلوی کے دورمیں 28،29،30،نومبر 1941ء کو میوات کے علاقہ قصبہ نوح کے اندرہوا،اس اجتماع میں حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ؒکے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم ہند،مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلوی ؒناظم اعلی جمعیت علماء ہند،مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن ندویؒ،مناظراسلام مولانامحمدمنظورنعمانی ؒ،مولاناعبداللطیف ناظم جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور،الحاج محمدشفیع قریشی امیر اول تبلیغی جماعت پاکستان اور ان کے علاوہ اس دورکے تمام اکابرین امت شامل تھے،نماز جمعہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒنے پڑھائی اور اس کے بعد اجتماع کی کاروائی شروع ہوئی،اس اجتماع کے بارہ میں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ یہ اجتماع،اجتماع سے زیادہ زندہ خانقاہ معلوم ہوتاتھا،جس میں عبادت وذکر،نمازوں کی پابندی اور ذوق نوافل کے ساتھ چستی مستعدی،جفاکشی ومجاہدہ،سادگی وبے تکلفی،تواضع وخدمت،دین کی توقیر اور اسلامی اخلاق کے موثر مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسرا بڑااور اہم اجتماع مولانامحمدالیاس دہلوی کی وفات کے بعد 14،15،16،جنوری 1945ء کو مسجد شاہی مرادآباد میں ہوا،اس اجتماع میں امیر تبلیغی جماعت مولانامحمدیوسف دہلویؒ سمیت شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ؒ،مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندہلوی ؒ،مفکر اسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابرین امت نے شرکت کی،اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن ؒ(بانی تحریک آزادی ہند)کے وہ متعلقین جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒکی وفات کے بعد شدت غم سے گوشہ نشینی اختیار کررکھی تھی اورعلاقہ سے باہر نکلناچھوڑدیا تھا،انہوں نے اپناعہد توڑا اور حضرت مدنی ؒکو لانے کے لئے دیوبند حاضرہوئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانامدنی ؒکو شدیدمصروفیات کے باوجود اجتماع میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا۔اس کے بعد اجتماعات کا نہ ٹوٹنے ولا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جوآج دنیا کے اکثرممالک میں دین اسلام کی شان وشوکت اور تبلیغ اسلام کا سب سے بڑا موثرذریعہ بن چکا ہے۔تقسیم ہندکے بعد پاکستان میں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کوششوں سے تبلیغی جماعت کا کام شروع ہوا،اور پہلا اجتماع 10/اپریل1954ء بروزہفتہ رائے ونڈ کے مقام پر منعقد ہوا،مولانا محمدیوسف کاندہلوی صاحب ؒ اس دن صبح دہلی سے روانہ ہوکر دن کے بارہ بجے لاہور پہنچ گئے اور عصرکی نماز کے بعد اجتماع میں تشریف لائے،یہاں مولانایوسف صاحب ؒ نے تین دن قیام فرمایا۔جب اجتماع ختم ہوا تو مولانا یوسف صاحب ؒ نے تمام احباب کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا:”دیکھوبھائی! آج کے بعد یہ جگہ تمہاری جماعت کا مرکز ہے،تم نے اسے سرسبزوشاداب بناناہے،اور اس جگہ کو دین کی محنت سے آباد کرنا ہے،اس لئے تنگی آئے یا وسعت،بھوک آئے یا پاس،بیماری آئے یاموت،تم نے دنیا کے کسی کام میں نہیں لگنا،بلکہ اسی کمائے کے کام میں لگنا ہے اور اپنے آپ کو یہاں مٹادینا ہے،جو تیارہو وہ اُٹھے اور میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے،پھر فرمایا کوئی کسی کو ترغیب بھی نہ دے،جس نے کھڑاہونا ہے اپنی ذمہ داری پر کھڑاہو”چنانچہ جو شخص پہلے کھڑاہوا اس کانام”حاجی عبدالوہاب” تھا اس کے بعد حافظ سلیمان(سابق امام رائے ونڈمرکز) کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبداللہ کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبدالرحمن کھڑے ہوئے،اس کے بعد حافظ نورمحمد کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی اسماعیل کھڑے ہوئے،جوکھڑاہوتا مولانایوسف صاحب اس کو آگے اپنے پاس بلالیتے اور اس سے یہ اقرار(حلف نامہ) لیتے کہ:آج کے بعد میں اشاعت اسلام،خدمت دین،اور مرکزکی آبادی کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگوں گا،اس راستے میں اگرمجھے بھوک آئی توبرداشت کروں گا،پیاس آئی تو برداشت کروں گا،بیماری آئی تو برداشت کروں گا لیکن کسی دوسرے کام میں نہیں لگوں گا”۔ابھی مولانامحمدیوسف کاندہلوی ؒ یہ کہلواکر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ باہر بٹھارہے تھے،کہ اسی اثنامیں آپ کی نظرمیاں جی محراب پر پڑگئی جو حاجی محمدمشتاق صاحب ؒ کو تیار کررہے تھے،تو آپ نے میاں جی محراب کو انتہائی زور سے ڈانٹا اورفرمایا:”میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھاکہ کوئی کسی کو تیارنہ کرے ورنہ کل جب بھوک اور پیاس آئے گی تو پھر یہ تمہیں گالیاں دے گا کہ مجھے اس نے پھنسایا تھا،اس لئے کوئی کسی کو تیار نہ کرے”۔الغرض کل 18آدمی کھڑے ہوئے اور انیسویں حاجی مشتاق صاحبؒ تھے،جو سب سے آخرمیں کھڑے ہوئے تھے،یہ کل انیس آدمی تھے جنہوں نے تمام ترمخدوش حالات کامقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیااور اس ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالا اور اسے کھینچ کر ساحل پر لائے،ان میں سے جو احباب موت تک یہیں رائے ونڈمیں پڑے رہے وہ چھ تھے (1)حضرت حافظ نورمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ(2) حضرت میاں جی محمداسماعیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (3)حضرت حافظ سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ (4)حضرت میاں جی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(5)حضرت حاجی محمدمشتاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ(6)حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،اس کے بعد جب تبلیغی محنت مزید آگے بڑھی اور ماہانہ مشورہ شروع ہوا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی حاجی عبدالوہاب صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں مشورہ کے لئے ایک ایک آدمی کے پاس جایاکرتاتھا، محمدشفیع قریشی صاحب ؒکے پاس پنڈی،قاضی عبدالقادر صاحبؒ کے پاس سرگودھا،مفتی زین العابدین صاحبؒ کے پاس فیصل آباد اوربھائی بشیر صاحبؒ کے پاس کراچی جاتا،پھر سب کو بتاتاکہ فلاں کی یہ رائے ہے،فلاں کی یہ رائے ہے،پھر سب کو خیال آیا کہ یہ اکیلا ہم سب کے پاس پھرتا ہے کوئی دن مہینہ میں ایسا طے کرلیناچاہئے کہ ہم خود اس کے پاس اکٹھے ہوجایاکریں۔ چنانچہ حاجی صاحب ؒکی اس قربانی کی برکت سے ماہانہ مشورہ شروع ہوا،جس پر سب حضرات حاجی صاحبؒ کے پاس آنے لگے،شروع میں ہرماہ ایک دن کے لئے آتے تھے پھر جوں جوں کام بڑھتا گیا اور تقاقضے بڑھتے گئے توتین دن کے لئے مشورہ کے عنوان سے جمع ہونے لگے۔ان بزرگوں کی دن رات ان تھک محنتوں اورکاوشوں سے جو کام شروع ہوا،وہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا تک پہنچ گیا اور آج وہ کام پوری دنیا کے ہرملک کے ہر قصبے اور دیہات میں پھیل چکا ہے،کروڑوں مسلمان آج اس تحریک کے سات وابستہ ہیں جن کی نقل وحرکت سے مسلمانانِ عالم میں دینداری کی ایک عمومی فضابن چکی ہے،رائے ونڈکا سالانہ اجتماع جوپہلے ایک ہی بڑااجتماع ہواکرتاتھا،پھر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اور اب چندسالوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی تعدادکے باعث چار حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے دوحصوں کا اجتماع ایک سال اوردوسرے دوحصوں کا دوسرے سال ہوتاہے،اس سال دوحصوں کاپہلااجتماع،4نومبر 2021ء کو رائے ونڈمیں شروع ہے جس سے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے بزرگوں کے خطابات کاسلسلہ بھی شروع ہے۔دوسرے حصے کا اجتماع 11نومبر کو شروع ہوگا اور 14نومبر2021کو اختتامی دعاپر ختم ہوگا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • نادرا ! علی مجاہد

    آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس  چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • سیمی فائنل لائن اپ مکمل  تحریر غلام مرتضی

    عرب امارات میں جاری ساتواں t20عالمی کپ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سپر 12 مرحلے کے اختتام پر  4 ٹیمز نے   سیمی فائنل کےلئے جگہ بنا لی ہے ۔گروپ Aسے انگلینڈ اور آسٹریلیا  جبکہ گروپ Bسے پاکستان اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 10نومبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا ۔انگلینڈ اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہا ۔انگلینڈ کو اپنے آخری گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں   شکست ہوئی تھی  دوسری طرف نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر رہا ،نیوزی لینڈ کو  پاکستان کیخلاف شکست نصیب ہوئی تھی ۔

    دونوں ٹیمیں  t20عالمی میں پانچ بار پنجا آزما ہوئیں، 3 بار انگلینڈ اور 2بار فتح نیوزی لینڈ کا مقدر بنی
    دونوں ٹیمیں t20 میں مجموعی طور پر  20 بار آمنا سامنا ہوا 13 میچز میں انگلینڈ اور 7میچز میں نیوزی لینڈ  کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 467 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ انگلش کپتان مورگن 424 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ اس ایڈیشن میں جوز بٹلر 100بنانے  والے واحد بلے باز ہیں

    دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے  درمیان 11نومبر  کو دوبئی میں کھیلا جائے گا ۔آسٹریلیا اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمر پر رہا جبکہ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پاکستان اور آسٹریلیا t20 عالمی کپ میں  6بار  پنجا آزما ہوئے۔ دونوں ٹیمز  نے 3،3میچز  جیتے ہیں
    2010 کے ایڈیشن میں بھی دونوں ٹیمیں  سیمی فائنل میں  ٹکرا چکی ہیں  اس میچ میں مائک ہسی نے  آخری اور میں سعید اجمل کو 4چھکے لگا کر  پاکستانیوں کی ہنسی  چھین  لی تھی
    دونوں ٹیمیں t20  میں 22مرتبہ پنجا آزما ہوئیں  13 مرتبہ فتح پاکستان کے حصہ میں  آئی جبکہ 9 بار جیت آسٹریلیا کا مقدر بنی ۔

    آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، کپتان ارون فنچ، سٹیو سمتھ لمبی باری کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔گلین میگزویل اس  ٹورنامنٹ میں آوٹ آف فارم ہیں  ۔ آسٹریلیا کے پاس زبردست باولنگ اٹیک ہے جو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا سکتی ہے ۔ جوش ہیزلے وڈ،پیٹ کمنز،مچل سٹارک ،ایڈم  زمپا باولنگ کے شعبے میں زبردست پرفارم کررہے ہیں اور فیلڈرز بھرپور ساتھ دے رہے ہیں

    دوسری طرف پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں  نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بابر اعظم اور رضوان نے اسی عالمی کپ میں  بھارت کے خلاف 152 رنز کی اوپننگ  شراکت داری قائم کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، پاکستانی کپتان بابر اعظم زبردست فارم میں ہیں  اسی عالمی کپ میں 4بار 50 رنز  یا اس ذیادہ  بنا کر میتھیو ہیڈن اور ویراٹ کوہلی  کا ریکارڈ  برابر کردیا ہے۔  بابر اعظم اس وقت t20پر راج کررہے ہیں  اس وقت دنیائے کرکٹ کے نمبر 1بلے باز ہیں  ۔دوسری طرف وکٹ کیپر بلے بھی زبردست فارم میں ہیں  مڈل آرڈر  میں  تجربہ کار   محمد حفیظ، شعیب ملک، بھر پور  فارم میں ہیں شعیب ملک نے اسکاٹ لینڈ کے 18 گیندوں پر 54رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی  ۔شعیب ملک نے  اس عالمی کپ میں تیز ترین 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔جارحانہ مزاج سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی  ایک ہی اور میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں  ۔اس کا عملی مظاہرہ پہلے نیوزی لینڈ  پھر افغانستان کے خلاف  ایک ہی اور میں 4چھکے لگا کر فتح افغانستان کے جبڑے سے چھین لی تھی ، فخر زمان کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے پاس  زبردست  گیندباز موجود ہیں جوکہ    مضبوط ترین بیٹنگ لائن کے پر خچے  اڑا سکتے ہیں  شاہین آفریدی، حارث راوف، حسن علی، عماد وسیم ،شاداب خان اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

    بابر اعظم پانچ کھیل 264 کے ساتھ سرفہرست ہیں  انگلیڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر 240 کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں محمد رضوان 214 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
    سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے کیلئے پاکستان کو کھیل کے تینوں شعبوں میں  اعلی  کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔پوری قوم کی دعائیں ٹیم پاکستان کے ساتھ ہیں
    گرین شرٹس  میدان میں سرخرو ہونگے  پاکستانی شاہینز کینگروز کا شکار کرنے کےلئے بالکل تیار ہیں

    @__GHulamMurtaza

  • ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے ہمیں اس سے سیکھنا ہے کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے     بابر اعظم

    ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے ہمیں اس سے سیکھنا ہے کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے بابر اعظم

    لاہور: بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیمی فائنل میں شکست کے بعد ٹیم سے خطاب میں کہا کہ ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے، ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے-

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم کو سیمی فائنل میں بھی فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا آسٹریلیا کے ساتھ میچ میں حسن علی کی کمزور باؤلنگ اور بعد ازاں 19ویں اوور میں ڈراپ کیچس فیلڈنگ اور رن آؤٹس کے مواقع بھی ضائع ہوئے جس نے آدٹریلیا کا فائنل میں سفر آسان کر دیا-

    کپتان بابر اعظم نے میچ کے دوران غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کوشش بھی کی کہ ایک شکست سے ٹیم میں بدامنی کی فضا قائم نہ ہو جائے،سیمی فائنل کے بعد انھوں نے ڈریسنگ روم میں پلیئرز سے خطاب کیا جس کی ویڈیو پی سی بی نے سوشل میڈیا پر جاری کی۔


    ویڈیو میں بابر نے پہلے ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کیا، پھر کہا کہ سب کو معلوم ہے ہم نے کہاں غلط کیا اور کہاں بہتر کرنا چاہیے تھا،ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے، ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے اور یہ نہ کہے کہ اس نے ایسا کردیا یا ویسا کردیا، ہماری ٹیم ایک یونٹ بن چکی اس کو ٹوٹنا نہیں چاہیے، کپتان ہونے کے ناطے میں سب کو بیک کرتا ہوں، ہم ہار گئے ہیں کوئی مسئلہ نہیں، دکھ تو ہوا مگر یہ وقت ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کا ہے،ہم اس شکست سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ کرکٹ میں یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام میچز میں ہر کھلاڑی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کسی بھی کپتان کو اپنی ٹیم سے یہی توقع ہوتی ہے،ہمارا بہترین ماحول رہا، ٹیم بڑی مشکل سے جڑتی اوراس میں وقت لگتا ہے،ہمیں اسی ماحول کو برقرار رکھنا ہے، کوشش اور محنت جاری رکھیں تو نتائج خود بخود ہی آئیں گے۔

    کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے کوچنگ پینل کے سربراہ ثقلین مشتاق نے کہا کہ اب کھلاڑیوں میں دوستی کی فضا مزید بہتر اور ایک دوسرے پر اعتماد زیادہ ہونا چاہیے، اچھے تجربات کو دہرانا اور غلطیوں کو سدھارنے کیلیے محنت کرنا ہے،سیکھتے ہوئے یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

    بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن نے کہا کہ ہم سیمی فائنل ہار گئے مگر کارکردگی پر فخر ہونا چاہیے،محمد رضوان اور شاداب خان نے بہترین پرفارم کیا،اپنے سر اٹھاکر رکھیں،جو اچھا کیااس کو جاری رکھیں جو غلطیاں ہوئیں ان کو بھی نہ بھلائیں بلکہ بہتری لانے کیلیے انفرادی اور ٹیم کے طور پر کام کریں۔

    قبل ازیں میچ کے بعد میڈیاکانفرنس میں کپتان نے کہا کہ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھا کھیل پیش کیا مگر سیمی فائنل کا دن مایوس کن رہا، ہم نے اچھے رنز بنائے تھے تاہم اچھی طرح میچ کو ختم نہیں کرسکے، مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہم اپنی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے، کیچ ڈراپ نہ ہوتے تو شاید صورتحال کچھ اور ہوتی، ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے۔

    حسن علی کے اہم کیچ چھوڑنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پیسر ہمارے اہم بولر ہیں،انھوں نے کئی میچز جتوائے ہیں، ان کو پورے ٹورنامنٹ میں اعتماد دیتے رہے ہیں، پرفارمنس نہ ہونا آپ کے ہاتھ میں نہیں، ہم صرف پوری محنت کرسکتے ہیں، حسن تھوڑی مایوسی کا شکار ہیں تاہم ہم ان کا حوصلہ بڑھائیں گے، امید ہے آگے جاکر وہ پرفارم کریں گے۔

  • چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی      آسٹریلوی سائنسدان

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    نیو ساﺅتھ ویلز: ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر موجود آکسیجن دنیا کے انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہو گی-

    باغی ٹی وی : نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، جان گرانٹ کا مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چاند پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں پر اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک بھی کم نہیں ہو گی –

    مضمون میں کہا گیا کہ اگر سائنسدان چاند کی مٹی اور چٹانوں سے آکسیجن لے کر انسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کا طریقہ وضع کر لیں تو چاند پر انسانوں کی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

    خلائی تحقیق میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ، ہم نے حال ہی میں ایسی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگایا ہے جو خلائی وسائل کے مؤثر استعمال کی اجازت دے سکتی ہیں اور ان کوششوں میں سب سے آگے چاند پر آکسیجن پیدا کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے پر لیزر کی تیز توجہ رہی ہے۔

    اکتوبر میں، آسٹریلوی خلائی ایجنسی اور ناسا نے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر آسٹریلوی ساختہ روور بھیجنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد چاند کی چٹانوں کو جمع کرنا ہے جو بالآخر چاند پر سانس لینے کے قابل آکسیجن فراہم کر سکیں۔

    ماہرین کے مطابق چاند پر ہوا کا تناسب نہ ہونے کا برابر ہے۔ ہوامیں زیادہ مقدار ہیلیم ، نیون اور ہائیڈروجن کی ہے۔ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں آکسیجن پائی جاتی ہے لیکن یہ آکسیجن مرکبات کی شکل میں موجود ہے۔

    انہوں نے کہا، حقیقت میں چاند پر آکسیجن کی کافی مقدار موجود ہے یہ صرف گیسی شکل میں نہیں ہے اس کے بجائے یہ ریگولتھ کے اندر موجود ہے چٹان اور باریک دھول کی تہہ جو چاند کی سطح کو ڈھانپتی ہے۔ اگر ہم ریگولتھ سے آکسیجن نکال سکتے ہیں تو کیا یہ چاند پر انسانی زندگی کو سہارا دینے کے لیے کافی ہوگا؟

    آکسیجن ہمارے ارد گرد زمین میں موجود بہت سے معدنیات میں پائی جاتی ہے۔ اور چاند زیادہ تر انہی چٹانوں سے بنا ہے جو آپ کو زمین پر ملیں گے (حالانکہ اس سے قدرے زیادہ مواد جو الکا سے آیا ہے)۔

    معدنیات جیسے سیلیکا، ایلومینیم، اور آئرن اور میگنیشیم آکسائیڈز چاند کی زمین کی تزئین پر حاوی ہیں۔ یہ تمام معدنیات آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہیں، لیکن اس شکل میں نہیں جس تک ہمارے پھیپھڑے رسائی حاصل کر سکیں چا ند کی چٹانوں میں 45فیصد تک آکسیجن موجود ہے لیکن ان مرکبات کو توڑ کرآکسیجن کوخالص شکل میں لانے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں توانائی صرف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    تاہم چاند پر توانائی کا انتظام کر کے اگر آکسیجن حاصل کرلی جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کر لیا جائے جس سے کم توانائی کا استعمال کر کے آکسیجن کو مرکبات سے الگ کیاجاسکے تو چاند پر انسانی زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

    مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی سطح پر صرف 10 کلومیٹر تک کھدائی کر کے چٹانیں نکالی جائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آکسیجن آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہوگی۔

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔
    اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .