Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید  ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ایک طرف ہجوم خود کو عاشق رسول اور پراینتھا کمارا کو گستاخ رسول قرار دیکر لبیک یارسول اللّٰہ کے نعروں کے ساتھ ملزم پر ڈنڈے لاٹھیاں مکے اور گھونسے برساتا پوری دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ قانون اور اداروں کی موجودگی میں وہ ہجوم اس قدر طاقتور ہے کہ مذہب کے نام پر سزا جزا کا حقدار تک ٹھہر چکا جبکہ دوسری جانب اسی ہجوم میں واحد شخص جو تشدد روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا مار سہتا رہا مگر انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے بہادری سے ایک انسان کو ظلم سے بچانے کی اپنے تہی کوشش کرتا رہا۔۔ مارنے والوں پہ اس قدر جنون طاری تھا کوئی بات کوئی وعدہ کوئی قانون ماننے کو تیار نہ تھے ایک ہی ضد تھی کی ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندو اداروں کو ٹھینگا دکھاؤ اور جسے وہ” گستاخ ” کہہ بیٹھے اسے مار مار کے مار ڈالو۔

    ملک عدنان کہتا رہا کہ پراینتھا کو پولس کے حوالے کریں گے مقدمہ چلائیں گے یقین کر لیجیے مگر اسی بحث وتکرار میں سری لنکن مہمان جتھے کے ہاتھ چڑھا پھر ظلم وستم اور درندگی کی جو داستاں رقم ہوئی وہ” ظالموں "میں سے کئی کے کیمروں کی گیلری میں بھی محفوظ ہوئی۔۔

    ملک عدنان اسی فیکٹری میں پروڈکشن مینیجر ہے ایک مذہبی اسٹیکر ہٹانے پر جب پراینتھا کو سزا دینے کا فیصلہ ہوا تو عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی ” نام کے عاشقان "سے کہا کہ وہ غیر مسلم ہے نہیں پڑھ سکا کیا تحریر تھا اسلیے اسٹیکر ہٹاتے وقت خیال نہ رکھا ہم جلد اسے فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج ہوگی ایسے میں ایک نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ اور ٹھنڈا پڑتا جوش دوبارہ جاگ اُٹھا عدنان نے پریانتھا کو بچا کر فیکٹری کی چھت پر موجود ایک کمرے میں بند کر دیا جب غصےاور جہالت سے بھری عوام چھت پر پہنچی تو انہوں نے پرینتھا کو زبردستی کمرے سے نکالا نیچے چوراہے پر گھسیٹتے لے گئے ہزاروں کا مجمع تھا اور عدنان پرینتھا کو بچانے والا واحد شخص جو اسوقت بنا جان کی پرواہ کیے چالیس منٹ تک ڈھال بن کر خود تشدد سہتا رہا کہتا رہا مت کریں ایسا اس سے فیکٹری میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے فیکٹری بند ہو جائے گی پاکستان کا نام بدنام ہوگا مگر وہ” نام نہاد عاشقان” نہ اس وقت مسلمان تھے نہ اسلامی ریاست کے باسی۔۔ایک جنونی جتھہ تھا جسکو سوائے” گستاخ” کے اسوقت نہ کچھ دکھائی دے رہا نہ سنائی دے رہا تھا۔

    ملک عدنان تن تنہا اس جتھے سے کیا مقابلہ کر پاتا ایک وقت آیا کہ پرینتھا کو مارنے والوں نے اس "دینی فریضے” میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جتنا مار سکتے تھے مارا انسانیت کو جس قدر شرمندہ کیا جاسکتا تھا کیا لاش تک جلا ڈالی کپڑے تک اتار دئیے حد یہ کہ جن کا ہاتھ مارنے کے فرض سے رہ گیا وہ موبائل نکال کر”ایمان افروز”مناظر کو فلمند کرتا سیلفیاں لیتا لبیک یارسول اللہ کہتا خود کو "ڈیڑھ مسلمان” سمجھتا رہا پرینتھا مر گیا ایک غیر ملکی مہمان چند ایک فسادیوں کی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا مگر ملک عدنان ایک ایسی مثال قائم کر گیا جو اس سے پہلے نہ دیکھی نہ سنی کیونکہ مذہب کے نام پر یہاں غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہنے والے کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کئی پرینتھا بھگت چکے۔ ہزاروں لوگوں کے سامنے عدنان کی بہادری اور انسانیت نے ایک امید روشن کی کہ جو مذہب کے نام پر فتنہ فساد برپا کرے اسکے سامنے ڈٹ جاؤ کم از کم ظلم کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش تو کرو۔

    اور دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیمات بھی تو یہی ہیں کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظلم میں شریک مانا جاتا ہے۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے باہمت عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے سراہا جارہا ہے عدنان پاکستان کا وہ مثبت چہرہ ہے جو اس مملکت کی اصل پہچان ہے اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں سوائے چند کے ہر ایک عدنان ہے جو نہ ظلم سہتا ہے نہ کسی پر ہونے دیتا ہے مگر توہین مذہب کی دھمکی دے کر ایسے جتھے سبکو دیوار سے لگا دیتے ہی۔ بدقسمتی یہی ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر اُن چند جنونیوں کی وجہ سے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم مذہب کے نام پر گندہ کھیل کھیلنے والوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔۔آج پرینتھا کی جان گئی کل کو اسی طرح کا ہجوم کسی اور کو بنا ثبوت کے توہینِ مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کی آگ میں جھونک سکتا ہے کسی بھی انسانی جان پر ظلم وستم کر کے اپنی خار نکالی جا سکتی ہے ماضی میں بھی کئی نامی گرامیوں نے اسلام کے نام پر ریاست اور شہریوں کو نقصان پہنچایا۔سوال یہ ہے کہ ایک خودمختار ریاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اتنی آسانی سے کیوں کر کیا جاتا رہا قوانین کی موجودگی میں کوئی کیسے قانون کو دین کے نام پر بلیک میل کر کے بے توقیر کرتا رہا ریاست چند ایک لوگوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنی رہی؟

    اس واقعے نے ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا ہمارا پیارا وطن جسکی بنیاد ہی اسلامی قدروں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام بسنے والوں کے ساتھ برابری کے سلوک پہ رکھی گئی آج یہ ملک دشمن عناصر اسے خدانخواستہ تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔انہی کیوجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ ایسے واقعات معاشرے میں عدم برداشت کو بھی ہوا دیتے ہیں ہمیں معاشرے میں سکون اور امن کے لیے عدنان جیسے کردار کی سخت ضرورت ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عدنان کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پرینتھا کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو کر روشن پاکستان کے چہرے پہ سیاہ دھبہ نہ ثابت ہوں۔

  • امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا کے لیے اس وقت عالمی سطح پرجو چیز سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے وہ اس کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دو بڑے ممالک امریکہ اور روس کے درمیان بدلتے رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اس وقت امریکہ کے لئے بھی امتحان ہے کہ وہ روس سے دفاعی نظام خریدنے پر کیا انڈیا کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس نے باقی ممالک کے ساتھ کیا۔ انڈیا کے یہ دونوں دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں اکثروبیشتر ایک دوسرے پر کئی الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس وقت یہ تعلقات ڈسکس کرنے کی وجہ حال ہی میں روس کے صدر پیوٹن کا چند گھنٹوں کا کیا گیا انڈیا کا دورہ ہے جس میں اس نے مودی سے ملاقات کی اور مختلف معاہدوں ہر دستخط بھی کئے۔ صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے
    2019 کے بعد پہلی مرتبہ نئی دہلی میں براہ راست ملاقات کی ہے۔ کورونا کے بعد روسی صدر کا یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے پیوٹن نے جنیوا میں صرف امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی۔ ورنہ اس سال ہونے والے کئی اہم ایونٹس میں بھی یا تو پیوٹن نے شرکت سے معذرت کی تھی یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جاتی رہی ہے۔جس بات پر انڈین میڈیا بہت خوش ہورہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے وہ پیوٹن کا یہ بیان ہے کہ ہم بھارت کو ایک عظیم طاقت، ایک دوست ملک اور مختلف اوقات میں آزمائش کردہ دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی بھارت اور روس نے فوجی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ کامرس اور تجارت سے متعلق اٹھائیس سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسٹیل، بحری جہاز تیار کرنے، کوئلے، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ دس سال پر مبنی دفاعی تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور ایک سال کا تیل کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روسی دفاعی میزائل سسٹم
    S-400کی فراہمی بھی بھارت کو اسی ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی یہ ڈیل 2018 میں طے کی گئی تھی۔ جس پرامریکا نے اپنی ناپسندیدگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن مودی سرکار اپنی حرکت سے باز نہیں آئی اور یہ معاہدہ امریکہ کی مرضی کے خلاف چلتا رہا۔S-400دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے یہ دنیا کے سب سے جدید ترین زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام میں سے ایک ہے۔ اس کی رینج400کلومیٹر تک ہے اور یہ بیک وقت 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں دو میزائل کا نشانہ بھی لے سکتا ہے۔یہ دفاعی نظام حاصل کرنے کے بعد انڈیا کو ایک اہم دفاعی صلاحیت حاصل ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اس میزائل سسٹم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکہ واشنگٹن نے کئی روسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا نشانہ بنانے کے لیے2017 میںCountering Americas Adverseries through sanctions ACTمتعارف کرایا گیا تھا۔ جو کسی بھی ملک کو ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے سے روکتا ہے۔معاہدوں کے ساتھ ساتھ مودی اور پیوٹن نے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے بعد نریندر مودی نے بیان دیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا نے بہت سی بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور کئی نئے جیوپولیٹیکل گٹھ جوڑ سامنے آئے ہیں لیکن بھارت اور روس کی دوستی برقرار ہے۔خیر ان دونوں کی دوستی تو ان کے درمیان ہونے والے مصافحے اور مودی کی روایتی جپھی سے نظر بھی آرہی تھی۔ لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ مودی سرکار آنے والے سنگین حالات اور چیلنجز سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی فیصلے کئے ہیں ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سیاست پرظاہر ہونا لازمی بات ہے۔

    خاص کر امریکہ کے معاملے میں انڈیا جو کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ کا ایک اہم اتحادی بنا ہوا ہے وزیراعظم مودی نے 2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جس طرح سے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے واشنگٹن کی حمایت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس کے علاوہ جب انڈیا نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار ملکی اتحاد کواڈ میں شمولیت اختیار کی تھی تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر انڈیا کا کہنا تھا کہ کواڈ ایک غیر فوجی اتحاد ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن روسی وزیر خارجہ لاوروف اس سے متفق نظر نہیں آئے تھے۔لیکن ماسکو نے کافی حد تک اس طرح کی پریشان کن چیزوں کو نظر انداز کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماسکو کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اب روس کو موقع مل گیا ہے کہ جو کچھ اس نے برداشت کیا وہ اس کا بدلا لے سکے اس لئے اب برداشت کرنے کی باری امریکہ کہ ہے۔ اس صورت حال کو جو چیز مزید مشکل بنا رہی ہے وہ انڈیا اور چین کے حالیہ بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ گذشتہ سال حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ کی گلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر لاٹھیوں اور پتھروں سے خون ریز جھڑپ ہوئی جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا افغانستان میں بھی اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انڈیا کی آخر امید روس ہی ہے کیونکہ اس وقت روس، چین، پاکستان اور افغانستان آپس میں کافی قریب ہیں۔ اس لئے انڈیا نے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کرے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ مودی اور پیوٹن کے درمیان اس پر بات چیت بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کو کن حالات میں جنگ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی معاملات کئی محازوں پر کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بیجنگ کے سرمائی اولمپکس2022 کا بھی سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی امریکی عہدیدار کو نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری طرف چین نے بائیکاٹ کی صورت میں جوابی اقدامات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تو کیا ان حالات میں امریکہ برداشت کر پائے گا کہ اس کا انڈیا جیسا اتحادی اس گروپ کے ملک کے ساتھ تعلقات بڑھائے جس کے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں؟تو اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں امریکہ کبھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گا۔

    کچھ عرصہ پہلے جب چین اور ترکی نے روس سے S-400دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تو امریکہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن جب امریکہ کی ناراضگی کے باوجود یہ دونوں ممالک باز نہ آئے تو امریکہ کی جانب سے ان پر پابندیاں لگا دی گئیں تھیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔۔یعنی انڈیا میں جو روسی صدر کے دورے پر خوشیاں منائی جا رہیں ہیں وہ بہت جلد کھٹائی میں پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ ان دس سالوں کے معاہدوں میں دس سال تک انڈیا سے پیسہ روس جاتا رہے گا۔ اور اس کے بدلے جو ہتھیار حاصل کئے جائیں گے وہ بھی انڈیا کے کسی کام نہیں آنے والے ان کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ رافیل طیاروں کا ہوا تھا کیونکہ ان کو چلانے والے تو آخر انڈین ہی ہوں گے نا۔ اس کے علاوہ انڈیا روس کے زریعے چین اور افغانستان کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ چین جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اب انڈیا کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک سکے ویسے بھی چین کبھی بھی انڈیا کو اس خطے میں مضبوط نہیں ہونے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مودی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا آج اگر چین انڈیا کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے تو وہ دوبارہ کسی بھی وقت جا کر امریکہ کی گود میں بیٹھ سکتا ہے جو کسی بھی طرح چین کو نہیں برداشت اور نہ ہی روس کو برداشت ہوگا۔ اس لئے روس صرف ایک ہتھیار بیچنے والے ملک کے طور پر تو ضرور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے گا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونے والا۔

  • گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    آپ نے اکثر راستے میں خرابی کے باعث گاڑیوں کو دھکا لگاتے دیکھا ہوگا مگرا ب جہاز کو گھکا لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی: نیپال کے ایک ہوائی اڈے سے ایک عجیب و غریب ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک درجن سے زائد افراد طیارے کو رن وے سے ہٹانے کے لیے پوری قوت سے دھکیل رہے تھے یہ ویڈیو "العربیہ ” نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے-

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت


    العربیہ کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں لوگوں کو جہاز کو دھکا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو بدھ یکم دسمبر کو دارالحکومت کھٹمنڈو سے 7,000 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر مغربی نیپال کے سوڈورباچیم ضلع کے باگورا کے کلتی میونسپل ایئرپورٹ پربنائی گئی تھی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافرہوائی اڈے پر پروازپکڑنے کا انتظارکر رہے تھے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ تارا ایئر کا ایک اور طیارہ رن وے کے بیچ میں پھنس گیا تھا۔

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    نیپال نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ طیارے کو رن وے سے دھکیل رہے تھے ان میں سے ایک نے تصدیق کی کہ اس کے ایک ٹائر میں پنکچر لگنے کی وجہ سے یہ رن وے کے درمیان میں کھڑا تھا اپنی پرواز پکڑنے کے لیے مسافروں نے چھوٹے طیارے کو رن وے سے دھکیل دیا تاکہ دوسرا طیارہ لینڈ کر سکے۔

    روزانہ 500 گرام ریت کھانے والی 80 سالہ خاتون

  • واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کیا ہے جسے آٹو ڈیلیٹ کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کی ہمیشہ سے اولین ترجیح ہی رابطوں اور گفتگو کو محفوظ تر بنانا ہے واٹس ایپ سوشل میڈیا کی وہ ایپلی کیشن ہے جو اپنی ایپ میں صارفین کی ضروریات اور پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔


    تاہم تاہم اب بھی واٹس ایپ نے آٹو ڈیلیٹ کا فیچر اس لیے پیش کیا ہے تاکہ صارف اپنی چیٹ کو محفوظ سمجھے اور گفتگو کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس آپشن کی بدولت آپ 24 گھنٹے، سات روز یا 90 دن کے آپشن رکھ سکتے ہیں اور پیغام اس مدت کے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائے گا –

    واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اب ’صارف تمام نئی گفتگو کے لیے نیا آپشن استعمال کرسکتے ہیں اسے سرگرم کرنے پر اپنی مقررہ مدت میں پیغامات یا اس کے طویل سلسلے (تھریڈ) ازخود مٹ جاتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ: ویب بیٹا انفو

    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کو مخصوص واٹس ایپ گروپ پربھی متعارف کرایا جاسکتا ہےفی الحال تین اوقات دئیے جارہے ہیں جنہیں آپ اپنی پسند کے لحاظ سے منتخب کرسکتے ہیں۔

    اس آپشن کو استعمال کرنے کے لیے پہلے آپ کو واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جاکر اکاؤنٹ اور پھر پرائیویسی پر کلک کرنا ہوگا جس بعد آپ Default Message Timer کے آپشن کو دیکھ سکیں گے۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    خیال رہے کہ سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی کی ملکیت ہونے کی وجہ سے واٹس ایپ سے انسٹاگرام پر رابطے ممکن بنانے پر بھی غور ہورہا ہے تاہم میٹا کی جانب سے مکمل طور پر ای ٹو ای انکرپشن پر بھی کام جاری ہے جس پر 2023 تک مکمل عملدرآمد ہوگا میٹا پر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے بالخصوص یورپی ممالک کا بھی دباؤ ہے اور شاید ڈیلیٹ آپشن اسی وجہ سے پیش کیا گیا ہے۔

  • دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ
    اس وقت تیل کے بے جا اخراجات کی وجہ ہو، ماحولیاتی آلودگی ہو یا بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ۔۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک تیل سے چلنی والی گاڑیوں سے جان چھڑا کر الیکٹرک کاروں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں الیکٹرک کاروں کا یہ سلسلہ شروع تو Teslaکمپنی کی الیکٹرک کاروں سے ہوا ہے جس کے بعد اس وقت کاریں بنانے والی تقریبا تمام ہی بڑی کمپنیاں اب اپنے اپنے برانڈ کی الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ اور ایلن مسک کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کاریں بنائیں بلکہ اصل چیز کچھ اور ہے۔ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب بنائی گئی، وہ کس نے بنائی تھی اور اس کے بعد الیکٹرک کاریں کیوں بننا بند ہو گئیں تھیں؟ اور اب یہ الیکٹرک کاریں کیسے اتنی کامیابی سے چل رہی ہیں؟

    ٹیسلا الیکٹرک کاروں کے اس وقت چار ماڈلز ہیں جو کہ سب سے زیادہ سیل ہو رہے ہیں ،
    Model S
    Model 3
    Model X
    Model Y
    لیکن اپنے ان چند ماڈلز کے ساتھ ہی ٹیسلا نے پوری دنیا کا Mind changeکردیا ہے مارکیٹ ٹرینڈز کوبدل کر رکھ دیا ہے۔ کچھ وقت پہلے تک ٹیسلا دنیا کی وہ واحد کمپنی تھی جو کہ موجودہ دور میں الیکٹرک کاریں بنا رہی تھی لیکن اب تقریبا تمام بڑی کمپنیاں اپنی اپنی الیکٹرک کاروں پر کام کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ اپنے الیکٹرک ماڈلز کو مارکیٹ میں سیل کے لئے لانچ کرنے والی ہیں۔جیسےToyotaکا bZ4X ماڈل۔General MotorsکاCadillac Lyriqماڈل۔بی ایم ڈبلیو کاBMW iXماڈل آنے والا ہے۔KIA کاEV6AudiاپنےQ4 e-tron Sportbackماڈل پر کام کر رہی ہے۔Mercedes-Benzکا EQBماڈل۔Lexusکا LF-Z Electrifiedماڈل۔Volkswagenکا ID.8جو کہ ایک Three rowوالی ایس یو وی گاڑی ہے۔Hyundaiکا IONIQ 5ماڈل یہ بھی ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی گاڑی ہو گی۔اور اس کے علاوہ جنرل موٹرز کی ہی GMC Hummer SUVگاڑی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں 2022سے لیکر 2024تک مارکیٹ میں لانچ ہونے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہ پیشن گوئی کی جا رہی ہے 2025 تک عالمی سطح پر تمام نئی گاڑیوں کی فروخت میں بیس فیصد الیکٹرک کاریں ہوں گی۔2030 تک ان کی تعداد چالیس فیصد ہوجائے گی جبکہ 2040 میں بظاہر تمام ہی بکنے والی نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔لیکن ویڈیو کہ آغاز میں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب ایجاد ہوئی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ الیکٹرک کاروں کی طرف موجودہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔ الیکٹرک کاروں کے اس سلسلے کو ہم تاریخ کا دہرایا جانا کہہ سکتے ہیں۔1900کے شروع میں بھی چالیس فیصد گاڑیاں تیل کی بجائے الیکٹرک بیٹریوں سے ہی چلتی تھیں۔ 38 فیصد گاڑیاں بھاپ انجن سے جبکہ صرف 2 فیصد گاڑیاں تیل یا پٹرول سے چلائی جاتی تھیں۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ بیٹری پر چلنے والی یہ گاڑیاں1935تک دنیا سے تقریبا ناپید ہی ہوگئیں۔ 1835میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی کارThomas Davinنے بنائی تھی۔ یہ پہلی ہائیڈروجن کار کے تیس سال بعد بنائی گئی تھی۔ جبکہ
    Gasolineانجن 1870کے بعد بننا شروع ہوئے تھے۔ جس کے بعد پہلی پروڈکشن کار 1885میں Carl Benzکی جانب سے بنائی گئی تھی جسے بعد میںMercedes-Benzکا نام دیا گیا۔ Rudalf Dieselنے 1900میں ہونے والے پیرس عالمی میلے میں اپنے ڈیزل انجن کو پہلی بارمونگ پھلی کے تیل سے چلایا تھا۔ جس کے بعد internal combustion engines انجن دنیا میں تیزی کے ساتھ مشہور ہوئے۔اور ان انجنوں نے بھاپ سے چلنے والے انجنوں کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ بھاپ سے چلنے والے انجنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سرد موسم میں وہ گرم ہونے میں
    45 منٹ لگا دیتے تھے۔ پانی کی محدود گنجائش ہونے کی وجہ سے بھاپ سے چلنے والی گاڑیاں زیادہ فاصلہ بھی طے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس لئےgasolineپر چلنے والی گاڑیاں ان کی نسبت زیادہ موزوں تھیں۔ البتہ ان کے انجن چالو کرنے کے لیے کافی زیادہ مشقت کرنا پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ گاڑیاں بہت زیادہ شور کرتی اور لرزتی تھیں۔ ان تمام نقائص کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک کاریں اس وقت بھی ذاتی استعمال کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند تھیں۔ یہ بالکل بھی شور نہیں کرتی تھیں، انہیں اسٹارٹ کرنے میں مشقت نہیں کرنا پڑتی تھی اور گیسولین اور بھاپ والی گاڑیوں کی نسبت انہیں چلانا بھی نہایت آسان تھا۔ خاص طور پر شہر کے اندر اور کم فاصلہ تک سفر کے لیے الیکٹرک کاریں بہت موزوں تھیں۔

    کاروں کے حوالہ سے بڑے نام جیسا کہfrederick porscheجو porscheموٹر کمپنی کا مالک تھا اور Thomas Edisonسمیت زیادہ تر لوگ الیکٹرک گاڑیوں کو ہی پسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ Porscheکی پہلی کارجو1898 میں لانچ کی گئی وہ الیکڑک ماڈل تھی جس کا نام Loaner Porsche تھا۔ اس کے ایک سال بعد Thomas Edisonنے الیکٹرک گاڑیوں کو لمبے سفر کے لیے موزوں بیٹریاں بنانے پر کام شروع کیا۔ Edisonکو یقین تھا کہ الیکٹرک کاریں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔ لیکن پھر اچانک دس سال تک اس پر کام کرنے کے بعدEdisonنے اس پر مزید کام کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ٹیسلا کی کاروں کی طرح الیکٹرک کاریں اس دورمیں بھی کافی مہنگی تھی جس کی وجہ سے یہ صرف امیر لوگوں کے استعمال تک محدود رہیں۔Henry Fordنے کار کو عام عوام کی پہنچ تک لانے کے لیے بہت غور کیا۔ وہ ایسی کار بنانا چاہتا تھا جو تین سے چار افراد کو بٹھا کر آسانی سے سفر کر سکے۔ اس مقصد کے لئے بڑی بڑی فیکٹریاں بنائی گئیں جن میں مختلف مرحلوں میں پرزوں کو جوڑ کم وقت میں گاڑیاں بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس تبدیلی سے گاڑیاں بنانے کے عمل میں بہت تیزی آئی اور بڑی تعداد میں گاڑیاں بنائی جانے لگیں۔ اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جس کی بدولت درمیانہ طبقہ بھی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگیا۔ صرف 1914میں فورڈ کمپنی نے دیگر تمام کاریں بنانے والی کمپنیوں کی کل تعداد کی نسبت زیادہ کاریں بنا کر فروخت کیں۔ اس وقت فورڈ کی ماڈل ٹی کار کی قیمت 260 ڈالر تھی۔ جو آج کے تقریبا 650 ڈالر کے برابر ہے۔ جبکہ اس وقت ایک الیکٹرک کار کی قیمت ایک ہزار سات سو ڈالر تھی جو آج کے 43 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ قیمتوں کے اس فرق نے الیکٹرک کاروں کے رجحان کو تقریبا ختم کر دیا۔ جبکہ اگر ہم ٹیسلا کی موجودہ قیمتوں کو دیکھیں تو ٹیسلا کی سب سے سستی کار کی قیمت اس کے برابر بنتی ہیں۔ جبکہ باقی ماڈل تو اس سے کہیں مہنگے ہیں۔ٹیسلا کی ماڈل ایکس سب مہنگی گاڑی ہے جس کی قیمت ہے99,900$ماڈل ایس کی قیمت 90,000$
    ماڈل وائے کی قیمت55,000$اورماڈل تھری جو ٹیسلا کی سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی ہے اس کی قیمت42,000$ہے۔Henry Ford and Thomas Edisonدونوں بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے1896میں اپنی پہلی تجرباتی الیکٹرک کار بنائی تھی۔ جس کے بعد انھیں اپنی الیکٹرک کار کمپنی فورڈ موٹر کمپنی بنانے کا خیال آیا۔1914میں جب یہ دونوں الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہے تھے تو گیارہ جنوری1914میں نیویارک ٹائم میں فورڈ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں اس کا کہنا تھامجھے امید ہے کہ ایک سال کے اندر ہم کمرشل بنیادوں پر الیکٹرک کاریں بنانا شروع کر دیں گے۔ میں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک منصوبہ آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ حقیقت میں۔۔ میں اور مسٹرEdisonپچھلے کئی سال سے الیکٹرک کاریں بنانے پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے جو سستی اور استعمال میں آسان ہوں۔ تجرباتی طور پر کاریں بنائی گئیں ہیں جن کی کارکردگی سے ہم مطمئن ہیں اور یہ گاڑیاں عام دستیابی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس وقت جو مسئلہ ہے وہ زیادہ چارج کی حامل ہلکی بیٹریاں بنانا ہے جو لمبا سفر کرنے کے قابل ہوں۔

    Mr. Edisonایسی بیٹریاں بنانے پر تجربات میں مصروف ہیں۔ میرا یقین ہے کہ جلد یا بدیر الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا کے بڑے شہروں میں آنے جانے کے لیے استعال ہوں گی۔ الیکٹرک گاڑیاں ہماری سفری سہولیات کا مستقبل ہوں گی۔ سامان کی نقل و حمل والے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب نیویارک کے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔لیکن سوچیں کہ اس قدر یقین کے باوجود الیکڑک گاڑیاں کیوں نہ بن سکیں؟اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لیب جہاں الیکٹرک کاریں تجرباتی طور پر بنائی جاتی تھیں وہاں جان بوجھ کر سازش کے تحت آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد لیب مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئی تھی۔ یہ پراجیکٹ جس میں 1.4 ملین ڈالر کی رقم جھونکی گئی تھی ختم ہوگیا۔ یہ رقم آج کے 34 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بعض کے نزدیک تیزی سے ترقی کرتی آئل انڈسٹری اس کی ذمہ دار ہے جس سے وابستہ لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کو پنپنے دینا نہیں چاہتے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ فورڈ جو بیٹریاں الیکٹرک کاروں میں استعمال کرتا تھا وہ اس قابل ہی نہیں تھیں جو الیکٹرک کار کو مطلوبہ معیار تک چلا سکیں۔ حقیقت کیا ہے کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔لیکن تیل پر انحصار ختم کرنے، گلوبل وارمنگ سے بچنے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آج ہم اسی طرح الیکٹرک کاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس طرح ایک سو سال پہلے سوچ رہے تھے۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آجBattriesکی صنعت نے بھی اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب یہ خواب ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں تیل سے چلنے والی گاڑیوں کو آہستہ آہستہ کم کرکے الیکٹرک کاروں کا استعمال بڑھایا جائے۔ کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج ایسی الیکٹرک کاریں بنائی جا چکی ہیں جو ایک بار چارج کرنے پر سینکڑوں کلومیٹر تک کا سفر کرنے کے قابل ہیں۔ یعنی ٹیسلا کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کار بنائی ہے بلکہ اصل achievementیہ ہے کہ اس نے اس طرح کی بیٹریز اور سولر پینلز بنائے ہیں جس کے بعد الیکٹرک کار پہلے سے زیادہ پائیدار ہیں۔ اس طرح ایک صدی بعد ہی سہی لیکن ٹیسلا کے ایلن مسک نے تھامس ایڈیسن کی بات آخر سچ ثابت کر دکھائی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔

  • اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہے جو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    جامعہ بولونا کے پروفیسر فریڈریکو فینٹی کہتے ہیں کہ اگرچہ اٹلی ڈائنوسار کی وجہ سے مشہور نہیں لیکن اب ان جانوروں کا پورا جتھا ملا ہے جو اس ملک سے ہونے والی سب سے بڑی اور اہم دریافت بھی ہےفریڈریکو اس تحقیق کے سربراہ ہیں جنہوں نے تفصیلی روداد سائنٹفک رپورٹس میں شائع کرائی ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور میں پہلی بار 1996 میں ڈائنوسار کے کنکال کی دریافت کے بعد ڈائنوسار کے لیے جانا جاتا تھا جسے ماہر علمیات نے انتونیو کا نام دیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ "بونے کی نسل” ہے۔ لیکن تازہ ترین دریافتیں اس سے اختلاف کرتی ہیں، انتونیو کے ساتھ اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک نوجوان ڈائنوسار تھا جو اسی ریوڑ کا حصہ تھا جو ایک ساتھ مر گیا تھا۔ گروپ میں سب سے بڑے ڈائنوسارکا نام برونو رکھا گیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    سارے ڈائنوسار ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور نامی مقام سے ملے ہیں یہاں بہت سے نوجوان ڈائنوسار کی باقیات ملی ہیں جن میں سب سے مکمل برونو کی ہیں۔ برونو کا ڈھانچہ بہت حد تک مکمل اور اب تک سب سے بڑا بھی ہے ان کے ساتھ مچلھیوں، اڑنے والے ریپٹائل اور شرمپ جیسے کیڑے کی باقیات بھی ملی ہیں

    فانٹی نے کہا۔ "ہمیں معلوم تھا کہ انتونیو کی دریافت کے بعد اس جگہ پر ڈائنوسار موجود ہیں، لیکن اب تک کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی تعداد کتنی ہے ہمارے پاس اب جو کچھ ہے وہ ایک ہی ریوڑ کی متعدد ہڈیاں ہیں۔

    اس سے قبل اٹلی کی مشہور کوہِ ایلپس پر مگرمچھ جیسے ایک جانور کے قدموں کے نشانات بھی ملے تھے پیروں کے نشانات جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مگرمچھ نما پراگیتہاسک رینگنے والے جانور کے تھے اطالوی ایلپس میں ایک غیر معمولی دریافت میں پائے گئے ہیں جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 252 ملین سال قبل بڑے پیمانے پر ناپید ہونے سے بچ جانے والے افراد موجود تھے۔

    فوٹو بشکریہ گارجئین

    تقریباً 10 قدموں کے نشانات پر مشتمل اچھی طرح سے محفوظ شدہ فوسلائزڈ ٹریک، مغربی الپس کے صوبہ کونیو کے الٹوپیانو ڈیلا گارڈیٹا میں 2,200 میٹر کی بلندی پر پایا گیااگلے اور پچھلے پنجوں کے نشانات، جن کی لمبائی تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے، تقریباً 250 ملین سال پہلے کی تاریخ ہے، جب پرمین ارضیاتی دور کے اختتام پر بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کے باعث اس علاقے کو غیر مہمان بنا دیا گیا تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ گارجئین

    Trento سائنس میوزیم (Muse)، زیورخ یونیورسٹی کے Palaeontology میوزیم اور Turin، Rome La Sapienza اور Genoa کی یونیورسٹیوں کے ماہرین علمیات اور ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم اس دریافت کے پیچھے تھی۔ ان کا مطالعہ حیاتیاتی، طبی اور ماحولیاتی سائنس کے جریدے پیر جے میں شائع ہوا تھا۔

    پرنٹس کے سائز اور ہر ایک کے درمیان فاصلے سے، سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ شاید مگرمچھ کی طرح ایک رینگنے والے جانور سے تعلق رکھتے ہیں، کم از کم 4 میٹر لمبا، جو ایک دریا کے ڈیلٹا کے قریب ایک قدیم ساحلی پٹی کے ساتھ چل رہا تھا۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    پہلے قدموں کے نشانات 2008 میں اس علاقے میں چٹانوں میں پائے گئے تھے، سائنسدانوں نے اگلے برسوں میں اس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھی جب تک کہ ان کے پاس جانور کی شناخت کے لیے ضروری پرنٹس کا مکمل سیٹ نہ ہو۔

    تحقیق میں شامل ایک ماہر برنارڈی نے کہا، "ایک 4 میٹر بڑا رینگنے والا جانور اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ پورا ایکو سسٹم کسی نہ کسی طریقے سے زندہ تھا کیونکہ یہ اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔” "یہ صرف صحرا میں گھومنا نہیں تھا – اسے شکار کی ضرورت تھی، اور اس شکار کو پودوں وغیرہ کی ضرورت تھی۔”

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی معدومیت کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آج کرہ ارض پر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ خط استوا کی پٹی میں واقع یہ علاقہ اتنا غیر مہمان بن چکا ہے کہ جو جانور بچ گئے وہ دوسرے عرض بلد کی طرف ہجرت کر گئے ہوں گے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    برنارڈی نے کہا کہ سائنسدان متغیرات کو یہ سمجھنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ موجودہ موسمیاتی بحران کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

    "ہم تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں ہیں – گلوبل وارمنگ، خط استوا کی پٹی کا ارتعاش وغیرہ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کے شواہد تلاش کرنے کے بعد حیران ہو جاتے ہیں کہ کوئی زندہ بچ گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر کتنا ڈرامائی ہے-

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    نئی دہلی : بھارتی ریاست سِکِم میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت ہوئی ہے جس کا رنگ سنہرا پیلا اور کنارے چاکلیٹی رنگ کے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی رہائشی سونم وانگچک لیپچا نامی خاتون مہم جوئی کی شوقین ہیں۔ اور یہی شوق پورا کرنے کیلئے وہ قریبی سرسبز علاقے میں تتلیوں کو دیکھ اور ان کی تصاویر لے رہی تھیں دریں اثنا ایک تتلی نمودار ہوئی اور اس کی خوبصورتی کے پیش نظر سونم نے فوراً اس کی بھی تصویر اتار لی انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ تصویر تتلی کی نئی نسل کی دریافت کا باعث بنے گی۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    30 سالہ سونم اپنی تصویریں بنگلور میں نیشنل سینٹر فار بائیولوجیکل سائنسز (NCBS) کے ماہرینِ حشریات کو بھیجتی رہتی ہیں تاکہ وہ ان کی شناخت کر کے بھارتی تتیلوں کی ویب سائٹ Butterflies of India پر اپ لوڈ کر سکیں۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    اس ویب سائٹ پر جمع کرائے گئے تمام مشاہدات کا ایک ماہر پینل کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے سونم کی پیلے رنگ کی تتلی کی تصویر کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین نے نوٹ کیا کہ یہ تتلی ایک ایسی نسل تھی جو پہلے ہندوستان میں نامعلوم تھی محققین کی ٹیم جنہوں نے اس نسل کو دریافت کیا، نے انگریزی نام ‘Chocolate-bordered Flitter’ تجویز کیا ہے-

    سونم کا تعلق چین سے ہے تاہم سونم خود بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے قریبی رشتہ دار جنوب مشرقی چین میں ہیں۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیق ادارے ناسا نے بتایا کہ ایفل ٹاور سے بھی بہت بڑی ایک خلائی چٹان اگلے ہفتے زمین کے مدار میں داخل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق انڈے کی شکل کا سیارچہ جس کا نام 4660 Nereus ہے، 1,082 فٹ لمبا ہے اور 11 دسمبر بروز ہفتہ 14,700 میل فی گھنٹے کی رفتار سے زمین کے مدار میں داخل ہوگا۔

    ناسا نے بتایا کہ توقع یہی ہے کہ چٹان زمینی سطح سے کچھ فاصلے پر بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزرے گیلیکن اس بار یہ 20 سال پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے گزرے گا خلائی چٹان کو نیریس کا نام دیا گیا ہے جو کہ یونانی سمندری دیوتا کے نام سے منسوب ہے۔

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    نیریس اندازاً 24 میل دوری کے فاصلے پر ہوگا سننے میں یہ فصلہ بڑا لگتا ہے لیکن خلائی معیار کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پتھر قریب سے گزرا ہوا۔

    خلاء میں جب کوئی چیز زمین سے 12 کروڑ میل کے فاصلے پر آتی ہے ناسا اُسے زمین کے قریب اور ساڑھے 46 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی چیز کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیتا ہے قریب یا خطرہ قرار دیے جانے کے بعد ماہرینِ فلکیات اس کی حرکات کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

    1982 میں دریافت ہونے والے نیریس کا سورج کے گرد مدار 1.82 برس کا ہے جس کی وجہ سے یہ ہر 10 سالوں میں دنیا کے قریب آتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    نیریس کے نظام شمسی کے ہمارے علاقے میں تواتر کے ساتھ آنے کی وجہ سے ناسا اور جاپانی خلائی ایجنسی JAXA نے ایک بار اس سیارچے کا نمونہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بجائے 25143 Itokawa نامی سارچے پر چلے گئے۔

    ناسا کے اندازے کے مطابق نیریس اب 2 مارچ 2031 اور نومبر 2050 میں زمین کے قریب سے گزرے گا اور اس کا اس سے بھی زیادہ قریبی گزر 14 فروری 2060 کو ہوگا جب یہ سیارچہ 7.4 لاکھ میل کی دوری سے گزرے گا۔

    چھ لاکھ سےزائد سیارچوں کی مانٹرنگ کرنے والے ڈیٹا بیس آسٹیرینگ نے اندازہ لگایا ہے کہ اس سیارچے میں نِکل، لوہا اور کوبالٹ جیسی دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں جن کی کُل مالیت 4.71 ارب ڈالرز ہے۔

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

  • دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے بعد بڑی ویب سائٹس اچانک کریش ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایمیزون کی ویب سائٹ اور ایپ منگل کو دنیا بھر کے ہزاروں صارفین کے لیے کریش ہو گئی،جس کی وجہ سے صارفین کی پریشانی کا سامنا کرانا پڑا اور ڈیلیوری ٹرک راستوں میں ہی رُک گئے کیونکہ ڈرائیور اپنے راستوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

    ڈیلی میل کے مطابق، پلیٹ فارم اور ایمیزون ویب سروسز، جو آن لائن ایپلی کیشنز پیش کرتی ہیں، کوگزشتہ روز صبح 10.40 بجے ای ٹی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

    بلومبرگ کے مطابق، دوپہر 2 بجے کے قریب، ڈیلیوری سروس کے تین شراکت داروں نے اطلاع دی کہ ڈیلیوری ڈرائیوروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایمیزون ایپ کام نہیں کر رہی تھی، جس کی وجہ سے وہ ٹرکوں کو روک رہے ہیں-

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں شمالی امریکہ اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصے شامل ہیں، جو آن لائن بندش پر نظر رکھتا ہے۔ امریکہ میں 20,000 سے زیادہ صارفین نے مسائل کی اطلاع دی۔

    زیادہ تر صارفین نے ایمیزون کی ویب سائٹ پر بندش کی اطلاع دی جبکہ کم لوگوں کو ایپ کے ساتھ مسائل تھے۔ کچھ صارفین چیک آؤٹ کرنے اور اپنی کارٹس میں اشیاء خریدنے سے قاصر تھے اس کے علاوہ، کچھ صارفین نے کہا کہ وہ ایمیزون میوزک استعمال نہیں کر سکتے، جس کے لئے وہ ماہانہ $16 فیس ادا کرتے ہیں-

    ڈیلی میل کے مطابق، بندش نے سروس فراہم کرنے والوں کو بھی متاثر کیا جن میں کیش ایپ، کیپیٹل ون، چائم، آئی روبوٹ، گو ڈیڈی، انسٹا کارٹ کنڈل، روکو اور ایسوسی ایٹڈ پریس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ صارفین کوڈزنی پلس کے ساتھ مسائل تھے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ای ٹی 1 بجے سے پہلے بحال ہو گیا ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ایمیزون نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ حادثہ اس کے ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) میں دشواریوں کی وجہ سے ہوا، جو ایپلیکیشن سافٹ ویئر بنانے اور انٹیگریٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ایمیزون نے اپنے سروس ڈیش بورڈ پر ایک رپورٹ میں کہا کہ ہم یو اسی ایسٹ 1 ریجن اے پی آئی اور کنسول کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں-

    کمپنی نے بعد میں کہا کہ وہ ‘بحالی کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہو رہے ہیں’ لیکن ‘ہمارے پاس اس وقت مکمل بحالی کے لیے کوئی ای ٹی اے نہیں ہے’۔

    ایمیزون کرسمس تک تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں کریش ہوا۔ بہت سے صارفین نے ٹویٹر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

    ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا، ‘ایمیزون ڈاؤن ہے۔ کرسمس پر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

    ایمیزون کی آخری بندش جولائی میں تھی، تقریباً دو گھنٹے کے لیے۔ 38,000 سے زیادہ صارفین نے ایمیزون کے آن لائن اسٹورز کے ساتھ مسائل کی اطلاع دی۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد