Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔

  • مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ اگر ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی اور بے نظیر بھٹو نے خواتین کو سیاست میں مقام دیا تو آج مریم نواز اسی سلسلے کی اگلی کڑی بن کر سامنے آئی ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر رہی ہیں جس نے مشکلات کا سامنا کیا، زمانے کی سختیاں جھیلیں اور اپنی ثابت قدمی کے ذریعے خود کو اس سطح پر لے آئیں جہاں انہیں ملک کی آئندہ قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ مریم نواز کی سیاست کا آغاز آسان نہیں تھا۔ پانامہ کیس کے دنوں میں وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنی ذات کو بھی کڑی تنقید اور الزامات کی زد میں پاتی رہیں۔ عدالتوں کے چکر، میڈیا ٹرائل اور مخالفین کے طعنے، یہ سب کسی عام شخص کو توڑ دینے کے لیے کافی تھے، لیکن مریم نواز نے ان حالات میں ہمت نہیں ہاری۔ عمران خان نے بارہا ان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی خاتون کے لیے انتہائی نامناسب تھے۔ جلسوں میں ان کے لیے مغلظ جملے بولے گئے، انہیں کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر مریم نواز نے جواب میں سیاست کے وقار کو گرنے نہیں دیا۔ انہوں نے صبر اور متانت کے ساتھ یہ طوفان جھیلا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ قیادت محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ برداشت اور وقار کا نام بھی ہے۔

    پانامہ کے دنوں میں ان کا عزم ان کے کارکنوں کے لیے حوصلہ تھا۔ وہ عدالتی کارروائیوں میں اپنے والد کے ساتھ پیش ہوتی رہیں، میڈیا کے کیمروں کے سامنے سر بلند رکھتیں، اور اس سب کے باوجود اپنی پارٹی کے بیانیے کو مضبوط کرتی رہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک وراثتی سیاست دان نہیں بلکہ ایک حقیقی لیڈر ہیں جو ہر مشکل کے سامنے ڈٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    وقت گزرا، سیاسی حالات بدلے، اور پھر وہ لمحہ آیا جب مریم نواز کو پنجاب کی ذمہ داری ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر انہوں نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے یہ واضح کر دیا کہ وہ صرف نعرے لگانے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے صوبے کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دی۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں اصلاحات متعارف کرائیں، ہسپتالوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، اور اسکولوں میں سہولتوں کو بڑھایا۔ ان کی پالیسیوں میں یہ واضح جھلک ملتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

    مریم نواز نے خواتین کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر معاشرے کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے انہوں نے خواتین کے روزگار کے منصوبے، ہنر سکھانے کے ادارے، اور مالی مدد کے پروگرام متعارف کرائے تاکہ خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ہنر کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے گئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں ترقی کریں۔

    ان کے اقدامات میں عوام کو ریلیف دینا بھی شامل رہا۔ مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے سبسڈی پروگرام متعارف کرائے گئے، سستا آٹا، مفت ادویات اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے مالی امداد جیسے اقدامات سے عوام کو سہولت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو محض طاقت کا کھیل نہیں سمجھتیں بلکہ اسے عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

    مریم نواز کی شخصیت کی ایک خاص بات ان کا اعتماد ہے۔ وہ کسی بھی فورم پر جب گفتگو کرتی ہیں تو ان کے الفاظ میں اثر ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کس طرح عوام کے دلوں کو اپنی بات سے چھوا جائے۔ ان کی تقریریں محض سیاسی جملے نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ ان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔

    پاکستانی سیاست میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملک کی قیادت کون کرے گا۔ اس سوال کا جواب اگر آج ڈھونڈا جائے تو مریم نواز ایک نمایاں نام کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے اندر وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک وزیراعظم میں ہونے چاہئیں۔ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی و عالمی سیاست کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہیں۔ ان کے پاس وہ تجربہ ہے جو انہیں اپنے والد کے ساتھ سیاست میں شامل رہ کر حاصل ہوا، اور ساتھ ہی وہ اپنی آزاد سوچ بھی رکھتی ہیں جس نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بڑے لیڈر نے اپنے حصے کی مشکلات جھیلی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور پھر شہادت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح مریم نواز نے بھی مشکلات دیکھیں اور ان پر قابو پایا۔ یہی مشکلات ایک لیڈر کو مضبوط بناتی ہیں اور یہی مشکلات مریم نواز کو بھی ایک مضبوط لیڈر میں ڈھال چکی ہیں۔

    مریم نواز کو مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر دیکھنا اب محض ایک خواب نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت، ان کا وژن، اور ان کے اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ وقت آنے پر ملک کی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ایک ایسی قیادت فراہم کر سکتی ہیں جو عوامی خدمت، شفافیت اور ترقی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔

    پاکستان کو اس وقت ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی قیادت جو نہ صرف عوام کے دکھ درد کو سمجھے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مریم نواز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ ان کا عزم، ان کی دانش فہم اور ان کا عوامی رابطہ انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان اور خواتین، مریم نواز کو اپنے مستقبل کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی لیڈر ہیں جو نہ صرف ان کے خوابوں کو سمجھتی ہیں بلکہ انہیں حقیقت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

    پاکستان کی سیاست میں مریم نواز کا بڑھتا ہوا کردار ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون کے طور پر سامنے آئی ہیں جنہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا، ہر طعنہ سہا، اور پھر بھی اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو انہیں مستقبل میں وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے امکانات کو تقویت دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امکانات حقیقت میں بدل سکتے ہیں، اور پاکستان ایک ایسی وزیراعظم دیکھ سکتا ہے جو اپنی بصیرت اور فہم سے قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر ہمیشہ سے ثالثی اور مذاکرات میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ فلسطینیوں اور اسرائیل یا دیگر گروپس کے بیچ ہو۔ موجودہ حملے نے قطر کو یہ محسوس کروایا ہو گا کہ چاہے وہ مذاکرات میں مصروف ہو اس کی سرزمین محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیل نے قطر میں ایک ہوائی حملہ کیا جس کا ہدف حماس کے رہنماء تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک امریکہ کی ثالثی کے تحت معاہدہ برائے جنگ بندی پر مذاکرات کر رہے تھے۔ امریکہ نے بھی اس حملے کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس حملے سے جیسا کہ خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تھی اس واقعہ نے اعتماد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ڈالی ہے۔ اس کے اثرات بہت وسیع اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر خلیجی ریاستیں قطر کے موقف کے ساتھ کھڑی ہوں گی عوامی سطح پر غم و غصہ زیادہ ہو جائے گا۔ قطر سمیت عرب ممالک میں یہ واقعہ اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی لہر کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دونوں اعتراف میں خلا پیدا کر سکتا ہے۔

    قطری حکام اور دیگر خلیجی ملکوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ امریکہ کس حد تک اپنے حفاظتی وعدوں اور اتحادی تعلقات کا تحفظ کرتا ہے خاص طور پر جب اس کا علاقائی مفاد ہو۔ امریکہ کی عالمی ساکھ اور خلیجی ریاستوں میں اس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک اسرائیل کی اس کاروائی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ قطر اور دیگر ممالک بین الاقوامی عدالتوں اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز میں اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی تلاش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ عوامی مظاہرے ہوں یا قطر میں شہری سطح پر رد عمل بڑھ جائے۔ شاید ایران اور اس کے حامی گروپوں کی اس واقعہ کے بعد سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ یمن، لبنان، ایران، شام وغیرہ میں جاری بحران اس واقعے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی کاروائیاں بین الاقوامی حدود کو عبور کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس واقعے نے خلیجی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہو سکتا ہے کہ قطر بین الاقوامی سطح پر شرکاء جمع کرے اور ممکنہ طور پر قانونی سفارتی چینلز اقوام متحدہ وغیرہ سے اقدام کی کوشش کرے۔ قطر اب خلیجی شراکت داروں سعودیہ، امارات، مصر وغیرہ کے ساتھ زیادہ قریب تعاون اور حملے کے اوپر مشترکہ پوزیشن بنائے۔ وائٹ ہاؤس نے حملے پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ فورم قطر کو تسلی دینے رابطہ اور سفارتی چینل کھولنے کی کوشش کرے تاکہ خلیجی تعلقات کمزور نہ ہوں۔ ایران اس واقعہ کی سخت مذمت کر رہا ہے وہ اس واقعہ کے بعد خود کو عرب دنیا میں زیادہ قابل اعتماد مخالف اسرائیل قوت ظاہر کر رہا ہے ایران قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی یا عوامی سطح پر حمایت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کے اس واقعے کے بعد اپنے دفاعی معاہدوں ہوائی حدود کی حفاظت اور حملوں کی روک تھام کے طریقہ کار پر دوبارہ توجہ دیں۔ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ مزید واضح اعتماد کی شرائط مانگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ کسی بڑے قدم کا امکان کمزور کر سکتا ہے امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ مزید ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ خلیجی ممالک کی تسلی کے لیے سفارتی مصالحت کی کوشش کرے گا تا ہم خطے میں سیاسی محاذ بندی سخت ہو سکتی ہے۔ کمزور ممالک ثالثی کے لیے متبادل ضمانتیں مانگیں گے مثلا بین الاقوامی یا قانونی گارنٹی۔ ABRAHAM STYLE پیش رفتوں کو دھچکا اور سعودی خلیجی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بڑے سیاسی قدم اٹھانے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کو اپنے عسکری سیاسی اتحاد اور خطے کے مفادات کے درمیان مزید توازن قائم رکھنا ہوگا اس کا اثر طویل مدتی شراکتوں اور اعتماد سازی پر پڑے گا۔ بین الاقوامی خرابی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو زیادہ احتیاطی رویہ اپنانا چاہیے شفافیت اور تلافی کے ذریعے سفارتی قیمت ادا کی جائے ورنہ امن کے راستے متاثر رہیں گے۔ نیتن یاہو کو ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • وزیراعلی مریم نواز   کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلی مریم نواز کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں اچھے کام اور پراجیکٹس دکھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے وزیراعلیٰ کی تصاویر کے ساتھ کسی آرٹسٹ کی بیک گراؤنڈ آواز کے ساتھ ڈاکومنٹری چلائیں۔ ڈاکومنٹری ویڈیوز میں افسران کو دکھانا یا انکا نام لینا بھی غیر قانونی ہے۔ پولیس اور دیگر افسران کو چاہئے کہ اپنی فوٹو کو آفیشل پیجز اور ڈاکومنٹری میں زبردستی لانا بند کریں۔انتظامی افسران کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ وہ پالیسی میکرز نہیں ہیں انکا کام پالیسی کا نفاذ ہے۔ اس لیے پریس ریلیز میں سوائے وزیراعلیٰ کے کسی کی بھی پالیسی، ہدایات یا احکامات کے الفاظ لکھنا بھی غیرقانونی ہے۔سیلابی صورت حال میں اے سی، ڈی سی، ڈی پی او سمیت سرکاری افسران کی فنکاریوں اور ماڈلنگ کی لاتعداد ویڈیوز پر شدید عوامی ردعمل اور غصہ ہے۔ سب سے زیادہ لعن تعن ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ، آر پی او ملتان اور ڈی پی او چکوال کی "اوورایکٹنگ” پر کی جارہی ہے۔سرکاری افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حقیقی اور بے مثال کام بھی متاثر ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جس طرح سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے کر رہی ہیں اور تمام محکموں کو ون یونٹ بنا کر ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کی سپرویژن کر رہی ہیں ایسی ایکٹو قیادت کو سلام۔

    موجودہ سیلابی صورت حال میں سب سے زیادہ امدادی کاروائیاں آرمی کی طرف سے کی گئیں جن کی میڈیکل کور، فوری طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، انجنئرنگ والے بلا تعطل ریلیف اینڈ ریسکیو کیلئے پل اور راستے تعمیر کررہے ہیں جبکہ ایوی ایشن والے کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے زریعے دور دراز علاقوں سے افراد کو ریسکیو کر رہے ہیں اور خوراک و ضروری سامان کی فراہمی کو ممکن بنارہے ہیں۔ پولیس اور سول انتظامی افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ سے وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی سیلاب پیکج اور افواج پاکستان کی قربانیاں سوشل میڈیا سے اوجھل ہوکر رہ گئیں ہیں۔ عوام سیلاب سے مر رہے ہیں اور سرکاری افسران بے شرمی اور دھٹائی کی ساری حدیں پار کرکے سارا دن فوٹو شوٹ کرتے پھر رہے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے پاگل افسران کی ہڈ حرامی کی قیمت، گالیاں تو حکومت کو ہی پڑتی ہیں۔سرکاری ملازمین کی ایکٹنگ اور سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن پر شدید عوامی تنقید پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے پہل کرتے ہوئے گذشتہ روز سوشل میڈیا کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ ایک طرف سوشل میڈیا ویڈیو پر چھوٹے ملازمین کو معطل اور نوکریوں سے برخاست کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پی ایس پی افسران چلتے پھرتے ماڈلنگ کر رہے ہیں، معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کرکے انکی ویڈیوز بناکر بھی لائک اور ویوز بٹورے جارہے ہیں۔ آئی جی پنجاب کا نوٹیفیکیشن نہ صرف ادھورا ہے بلکہ ”وہی قاتل وہی منصف“ کے مصداق جن ٹک ٹاک سٹارز کے کرتوتوں سے پولیس ڈیپارٹمنٹ مذاق بن کر رہ گیا ان کو ہی مجاز اتھارٹی بنا دیا گیا۔ پولیس کا اصل کام چھوڑ کر سنگم اور چلپل پانڈے بنے پی ایس پی افسران کو ہی اختیار دے دیا کہ جو بھی ویڈیو بننی ہے تم سے اجازت لیکر بنے گی۔

    بطور پولیس سربراہ آئی جی ادارے کا Face ہوتا ہے۔اس لیے صوبائی سربراہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر اپنی بات کہہ سکیں اور انکو کرنی بھی چاہئے ناکہ ہر کوئی اپنی دکان کھول لے۔ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی او، ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر لیول کے جونیئر افسران کو چاہئے کہ بوقت ضرورت پریس بریفنگ کریں نا کہ سرکاری گاڑی اور دفاتر کو ذاتی تشہیر کا زریعہ بنا لیں۔میری ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران سے کوئی ملاقات نہیں ہے لیکن انکے اس عمل کی تعریف ضرور کروں گا گہ وہ روزانہ کھلی کچہری کرتے ہیں لیکن کبھی بھی شکایت یا انصاف کے حصول کیلئے دفتر اور کھلی کچہری آنے والے معزز شہریوں کی طرف کیمرہ نہیں کرتے۔ جبکہ دیگر آر پی او، سی پی او، ڈی پی او سمیت اے ایس پی کی اکثریت دفاتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں جو سراسر خلاف قانون اور قابل گرفت جرم ہے۔

    شہری کی پرائیویسی خراب کرنے پر شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض افسران کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج کرکے جیل بھیجا جائے۔سرکاری افسران کی طرف سے معزز شہریوں کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے جیسی گھٹیا حرکات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کا مقابلہ ہے، ہر طرف ایکٹنگ ماڈلنگ اور کیمرے ہی کیمرے کوئی کارگردگی نہیں رہی۔ عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوگئے ہیں اور ہر کوئی کیمرہ اٹھائے یہ بتانے اور جتلانے میں لگا ہے کہ اس نے سرکاری کام کرکے بہت بڑا کارنامہ کردیا ہے، خود کو لارڈ اور عوام کو حقیر بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چیف سیکرٹری کی طرف سے صوبے بھر کے ملازمین کیلئے مجموعی واضح حکم نامہ جاری ہونا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ لاقانونیت اور اختیارات سے تجاوز کے اس دھندے کو فوری بند کرنے کی احکامات صادر فرمائے جائیں۔اپنی شہرت کی بھوک مٹانے اور چند ویوز کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی کو داؤ پر لگانے والے قطعی معافی کے حقدار نہیں۔

  • شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    بصد احترام یہ چند گزارشات، ایک خیرخواہانہ جذبے کے تحت قلمبند کی جا رہی ہیں، کہ شاید کوئی دل پھڑک اٹھے، کوئی سوچ چونک جائے اور کوئی قدم راہِ سنت کی طرف مڑ جائے۔
    پہلے زمانے میں، جب علم کی روشنی ناپید اور جہل کا اندھیرا غالب تھا، لوگ "جو دیکھا، وہی کیا” کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ نہ پوچھنے کا سلیقہ، نہ سمجھنے کا شعور، بس "لوگ کیا کہیں گے” کا طوق گردن میں ڈال کر، ہر رواج و رسم کی پیروی کیے چلے جاتے تھے کیوں کہ جہالت وہ اندھیر نگری ہے جہاں عقل کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.
    مگر اب دور بدل چکا ہے:
    علم کی روشنی سے منور ہے ہر اک راہ
    اندھیرے چھٹ گئے، اب چراغ خود جلانے کا وقت ہے!

    آج معلومات کی دنیا ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، ہر پلیٹ فارم پر دین کی اصل تصویر موجود ہے۔ اب خرافات اور بدعتوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اصلاح کے در کھل چکے ہیں۔
    ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ افراد ایسے مواقع پر عشق و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے:
    کیا جذبات شریعت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟

    اگر کوئی عمل سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی سے ہٹ کر کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری طور پر خوبصورت و خوش نما کیوں نہ لگے، آخر کار گمراہی کے گڑھے میں جا دفن ہوتا ہے. یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایسے کاموں کی بنیاد دین سے محبت اور عقیدت میں ڈوب کر رکھی جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی سو آنہ درست ہے کہ وہ گمراہی کی سڑک بن جاتی ہے. بنیادیں ڈالنے والے زیر زمین ہو جاتے. اصل روح کی مراجعت باقی ہی نہیں رہتی اور پھر رفتہ رفتہ یہ لوگوں کے جذبات کا کھیل بن جاتا ہے. اس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، جن کا اصل سرمایہ یا تو جہالت ہے یا دنیا داری. عشق فساد میں بدل جاتا ہے، وہی محفلیں فتنوں کا گڑھ بن جاتی ہیں کیوں کہ جب بدعت حسنہ(اس بھی اصل نہیں ملتی بعضوں کے ہاں) کی گلی میں قدم رکھا جائے تو بدعت سیئہ کے دروازے خود بخود کھلتا چلے جاتے ہیں.
    جو پندِ حق سے دور ہوئے، وہی ذلیل و خوار ہوئے
    چراغِ مصطفیؐ جس دل میں بجھا، وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوا

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حلقے جو کبھی ان خرافات کے داعی تھے، اب خود ان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔ مگر حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ شاید "گیند ہاتھ سے نکل چکی ہے”۔ اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی کوششوں کو فروغ دیں، نا کہ ایسی رسومات کی ترویج کو جو بظاہر محبت کے رنگ میں ہیں، مگر حقیقت میں دین کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

    اب سوال یہ ہے: کرنا کیا چاہیے؟
    جواب سادہ ہے، مگر عمل کے لیے اخلاص درکار ہے۔
    1. سب سے پہلے تمام تر فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ادب و احترام کے ساتھ سیرتِ طیبہ ﷺ کی با سلیقہ محافل منعقد کی جائیں. بغیر کسی نام و نابود، دکھلاوے ؛ور فضول خرچی کے.
    2. نعتیہ محافل ہوں، لیکن آدابِ نعت اور حدودِ شریعت کے اندر!
    3. آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق آگاہی کے سیشن ہوں اور پورا سال سنتِ نبوی کی روشنی میں گزارنے کی ترغیبات ہوں.
    4. تعلیمی ادارے "سیرت کوئز”، نعتیہ مشاعرہ، مطالعہ سیرت کی نشستیں، اور سیرت پر مبنی لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ نسلِ نو دین کی اصل روح سے روشناس ہو۔
    5.گھر،دفاتر،بازار اور العرض جہان کہیں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام ہو.
    یاد رکھیے!
    عشق وہی معتبر ہے جو اطاعت کی دہلیز سے ہو کر گزرے
    محبت وہی باعزت ہے جو سنت کی چوکھٹ سے بندھی ہو
    ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں کی آگ بجھائیں، نہ کہ اس میں ایندھن ڈالیں۔ کیونکہ:
    جو دین کے نام پر کھیل رچائے، وہ دل کو نہیں، دین کو جلاتا ہے.
    پس آئیے! محبت رسول ﷺ کو اس کے اصل قالب میں اپنائیں، شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور معاشرے میں وہ روشنی پھیلائیں جو مدینہ کی گلیوں سے چلی تھی اور قیامت تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
    نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
    اللہ سے ملاتے ہیں یہ سنت کے راستے
    ان ہی راستوں پے چل کے منزل ملے گی
    جنت میں لے جائیں گے یہ سنت کے راستے
    دو عالم میں چاہتے ہو گر کامیابی
    اپنا لو خوشی سے یہ سنت کے راستے
    مانا کے کٹھن ہے ان راستوں پے چلنا
    مگر جام کوثر دلائیں گے یہ سنت کے راستے
    صحابہ نے کٹوا دی تھیں گردنیں
    لیکن چھوڑے کبھی نہ یہ سنت کے راستے

  • امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟
    "تحریک انصاف کے دور میں کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات اور سہولت کاری نے پاکستان کی سلامتی کو نئے سوالات میں الجھا دیا ہے، یہ امن کی کوشش تھی یا دہشت گردی کو از سر نو طاقت دینے کا عمل؟”
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے موقف کی مسلسل تائید کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور تقریباً 40 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی بحالی کی وکالت بھی کی جس کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ اسی دوران جب دہشت گردی عروج پر تھی، خیبرپختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی سے مفاہمت کی تجویز دی جبکہ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مستقل طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتی رہی اور بعض دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر فعال کارروائیوں کو روکنے کی صف بندی کرتی رہی۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی اور دراندازی میں افغان شہریوں کی شمولیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

    یہ معاملہ صرف سیاسی یا جماعتی ترجیح کا نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے سے جڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت (2018-2022) میں جو مذاکراتی پالیسی اپنائی گئی، اس نے نہ صرف دہشت گردوں کو از سر نو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ سیکیورٹی فورسز کی برسوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن بھی داؤ پر لگا دیا۔

    2014 میں جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی، عمران خان کو ٹی ٹی پی نے اپنے "مذاکراتی نمائندے” کے طور پر نامزد کیا تھا۔ یہی رجحان آگے چل کر پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ نومبر 2021 میں ایک ماہ کی جنگ بندی طے پائی اور اس دوران نہ صرف درجنوں قیدی رہا کیے گئے بلکہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو آباد ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تو باقاعدہ طور پر "مفاہمت کی تجویز” پیش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر کے عوام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    یہ اقدام پی ٹی آئی کے نزدیک "امن کی کوشش” تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور اپنے نیٹ ورکس بحال کرنے کا سنہری موقع ملا۔ بعض رہنماؤں نے ٹی ٹی پی کو "ہمارے مسلمان بھائی” کہہ کر ان کی بحالی کے بیانیے کو مزید تقویت دی۔

    ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل اور گلوبل ٹیررزم انڈیکس کے اعداد و شمار ایک بھیانک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2021 میں پاکستان میں 424 دہشت گرد حملے ہوئے، 214 شہری جاں بحق ہوئے۔ اگلے ہی سال یہ تعداد بڑھ کر 630 حملوں اور 229 ہلاکتوں تک جا پہنچی۔ صرف 2023 میں ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہوں نے 400 سے زائد حملے کیے، جس سے دہشت گردی میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔

    افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سرحد پار دراندازی اور حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت نمایاں ہو گئی۔ اندازاً 70 سے 80 فیصد حملہ آور افغان نژاد تھے، جنہیں پاکستان کی طرف سے ملنے والی رعایتوں اور افغان طالبان کے تحفظ نے مزید تقویت دی۔

    دہشت گردوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری نے نہ صرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو غیر محفوظ کیا بلکہ ملک میں سیاسی تقسیم کو بھی گہرا کر دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) جیسے گروہوں کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی نے CTD کی کارروائیوں کو متنازعہ بنایا۔ اس سے قومی اتفاق رائے ٹوٹا اور دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام کمزور ہوا۔

    دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ ورلڈ بینک اور وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کو 2001 سے اب تک دہشت گردی کے سبب 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں سالانہ 5 سے 10 ارب ڈالر تک کے نقصانات رپورٹ ہوئے۔

    2021 سے 2023 کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے معاشی نقصان میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ افغانستان،پاکستان تجارت 30 فیصد کم ہوئی، چینی سرمایہ کاری کے منصوبے خاص طور پر CPEC کے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوئے، جس سے 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ٹورزم اور سرمایہ کاری کے شعبے میں 20 سے 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    تحریک انصاف کی ٹی ٹی پی سے متعلق پالیسیوں کو امن کے نام پر اختیار کیا گیا، مگر یہ پالیسی ایک ریاستی غلطی ثابت ہوئی جس نے دہشت گردوں کو تقویت بخشی اور پاکستان کو سیکیورٹی، سماجی استحکام اور معیشت کے اعتبار سے کمزور کیا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ پالیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر تھی، لیکن جمہوری حکومت کے طور پر اس کی ذمہ داری براہِ راست پارٹی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق یہ گواہی دیتے رہیں گے کہ یہ نرم رویہ دراصل دہشت گردی کی نئی لہر کا نقطہ آغاز بنا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریفرنسز
    1.Dawn News, "Talks with TTP facilitated by Afghan Taliban” (2021).
    2.Al Jazeera, "Pakistan begins talks with TTP” (Oct 2021).
    3.United States Institute of Peace (USIP), "The TTP Resurgence after Afghan Taliban takeover” (2022).
    4.Global Terrorism Index (GTI) Reports (2022, 2023).
    5.South Asia Terrorism Portal (SATP), "Pakistan: Terrorism Data”.
    6.Carnegie Endowment for International Peace, "The TTP’s Revival” (2023).
    7.Ministry of Finance Pakistan, "Economic Survey of Pakistan” (2022-2023).
    8.World Bank Reports on Pakistan Economy (2021-2023)

  • دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    دنیا بنانے والے نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بری ہے۔ لیکن جب ہم زمین کے فرش پر خدا کی جھلک دکھانے والی بے شمار خوبصورت تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ کیا واقعی یہی فرش زمین دنیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے علم کے گہرے سمندر میں غوطے لگانے کی ضرورت نہیں، بلکہ سطح پر ہی رہتے ہوئے یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ انسانوں کا دنیاوی خواہشات میں جکڑا ہوا طرزِ عمل ہی دنیا کے چہرے کا اصل تعارف ہے۔

    جب خالق نے دنیا کو برا کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی اصل برائیاں جھوٹ، فریب، دھوکہ، حرام، ظلم، زیادتی، بددیانتی، ناانصافی، زنا، سود، ملاوٹ اور خیانت ہیں۔ یہ تمام برائیاں مل کر دنیا کہلاتی ہیں اور یہ دنیا اُسی کے پاس جمع ہوتی ہے جو اس کے مزاج کا بن جاتا ہے۔ وہ چیز جو کافر اور مسلمان دونوں کے پاس ہو، وہ نعمت نہیں ہوتی، اصل نعمت صرف ہدایت ہے۔

    ہدایت جھونپڑی میں رہنے والے کو بھی اتنا قیمتی بنا دیتی ہے کہ دنیا کے سکے اسے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: میرے نزدیک دنیا ایسی ہے جیسے سور کی انتڑیاں کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔
    اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے۔

    مومن کے لیے دنیا صرف ضروریاتِ زندگی تک ہی حلال ہے، اس سے بڑھ کر جو کچھ ہے وہ دنیا ہے۔ غریبی دراصل وہ امیری ہے جو خدا نے اپنے ہر محبوب بندے کو عطا کی۔ اس لیے خواہشاتِ دنیا کا قیدی بننے کے بجائے غریبی کی آزاد فضاؤں میں روح کی پرواز کا مزہ زندگی کو دیجئے۔

    زندگی کی مشکلات دراصل آخرت کی آسانیوں کی دلیل ہیں، ان پر صبر کیجئے اور خدا کے ساتھی بن جائیے۔

  • اقوام متحدہ کا  اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کا اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے جاری اجلاس کو عالمی سیاست کے لئے ایک نہایت اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما اس پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایسے با ت کریں گے جو صرف کسی ایک خطے نہیں بلکہ پوری انسانیت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اس اجلاس پر ہوں گی۔ اس وقت دنیا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیسے موسمیاتی تبدیلی، عالمی معیشت کی غیر یقینی کیفیت، امن و سلامتی کے چیلنجز کو دنیا کا سامنا ہے۔ موجودہ اجلاس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ عالمی طاقتوں کے سربراہان بشمول امریکی صدر براہ راست خطاب کریں گے۔ امریکی صدر کی تقریر پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔ امریکی صدر کے خطاب میں عالمی تجارتی پالیسیوں ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی سلامتی پر ان کی تقریر ہو سکتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ بعض دنیا کے بڑے مسائل پر کوئی مشترکہ حکمت عملی سامنے آئے۔ تاہم بڑی طاقتوں کے باہمی اختلافات مشترکہ حکمت عملی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کسی مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہو سکتی ہیں۔ موجودہ اجلاس عالمی تعاون اور یکجہتی کے جذبے کا ایک امتحان ہے ۔ جس کے نتائج آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس جہاں عالمی قیادت کے لئے ایک امتحان ہے وہاں صدر ٹرمپ کا خطاب مستقبل کی عالمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں کی راکھ سے پیدا ہونے والی اقوام متحدہ اپنی بقا کی جدوجہد میں 80 سال مکمل ہو گئے۔ اس دوران اس اقوام متحدہ کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن پر عملدرآمد آج تک نہیں ہوا۔ فلسطین، کشمیر سمیت کئی عالمی فیصلے ہوئے مگر دنیا کے کئی ممالک جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ کشمیریوں پر آج تک ظلم کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کو دنیا کی اقوام کے مسائل اور جنگی ماحول پیدا کرنے والے ممالک کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

  • خدارا DC اور  ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    خدارا DC اور ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک کمشنر اور درجن بھر ڈپٹی کمشنرز کے ہیں۔ مذکورہ ڈپٹی کمشنرز کا کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑوں نے سارے ڈپٹی کمشنرز کو گالی بنادیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کرنے والے گندے انڈوں نے انتہائی عزت اور فخر کی علامت "ڈپٹی کمشنر” کی سیٹ کو داغدار کردیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دو تین ڈپٹی کمشنر جس طرح عوامی تذلیل کرکے نمبر گیم بنانا چاہتے ہیں ایسی "بے غیرتی” انہی کو مبارک۔
    سنئیر بیوروکریسی کا کہنا تھا کہ سول سروس کو جتنا گندہ اس دور کے افسران نے کیا ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کچھ سنئیر افسران کے حوالے سے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلاں اچھا خاصا سمجھدار افسر ہوتا تھا پتا نہیں یہ ”ک ن ج ر وں“والے شوق میں کیسے پڑ گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کو لعنتی کام سمجھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھی افسران اس قدر "بے غیرت اور واحیات” ہوچکے ہیں کہ انکا بس نہیں چلتا کہ واش روم میں بھی کیمرہ لگوا لیں۔

    خوش آئند بات ہے کہ بیوروکریسی کی اکثریت سیلف پروجیکشن کے اس غیر قانون دھندے کو ناصرف لعین سمجھتے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔ کمشنرز اور سیکرٹریز کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو چاہئے کہ سیلف پروجیکشن کے غیر قانون دھندھے پر مجرمانہ خاموشی توڑ دیں، سول سروس کو گالی بننے سے بچانے کیلئے ٹک ٹاکر افسران کو فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے ورنہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ان صوبائی سربراہان کے دور میں "صوبہ بنانا ریپبلک” بنا ہوا تھا اور یہ صاحبان عوام بھاڑ میں جائے والی پالیسی اپنائے صرف”باس“ کی جی حضوری کرکے اپنی مدت بڑھاتے رہے۔
    خواتین ٹک ٹاکر افسران خاص طور پر پولیس افسران کے بارے ساتھی افسران جس طرح کے تبصرے کرتے ہیں وہ اس قدر "ذومعنی” ہیں کہ تحریر نہیں کیے جاسکتے صرف اتنی گزارش ہے کہ ”بی بی خدا دا واسطہ جے“ اپنی نہیں تو خاتون ہونے کی ہی عزت کا خیال کرلیں۔

    سوشل میڈیا پروجیکشن کی لعنت کا شکار ہونے والوں میں پولیس والے سر فہرست ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کی اکثریت اور نو مولود PERA والے بچے اس غلاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جبکہ باقی سروسزز کے افسران بھی پیچھے نہیں رہے۔ پولیس والوں نے جتنی نفرت سوشل میڈیا سے سمیٹی ہے اتنے تو یہ ڈالر بھی نہیں کما سکے ہونگے اگر گالیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ایک ڈالر کیلئے ایوریج کم از کم پانچ ہزار بندے کی غائبانہ گالیاں سنتے ہوں گے۔ لوگ سرکاری دفاتر اور کھلی کچہریوں میں اپنے مسائل کی درخواست دینے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ ان کم ظرف سرکاریوں نے اپنی بے نسلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے ذاتی مسائل کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھا دینی ہے۔

    ٹک ٹاکر افسران کیلئے میرے سخت الفاظ کا چناؤ انہی ٹاک ٹاکرز کے ساتھی افسران کی طرف سے ان کیلئے ادا ہونے والے الفاظ اور القابات کا ہاف ہوتا ہے جبکہ عوام میں پائی جانی والی نفرت کا بامشکل 20فیصد تحریری شکل میں لاتا ہوں۔
    سیاستدانوں اور سرکاری افسران سے مایوس عوام کی آخری امید چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کو سرکاری افسران کی شہرت کی خاطر تماشا بنانا بند کروایا جائے۔

    خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
    راشن تو بٹ رہا تھا مگر فوٹو سے ڈر گیا

    غیرت سے عاری بے مروت سرکاری کارندوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ سیلاب متاثرین بھکاری نہیں ہیں جن کے ساتھ تم فوٹو سیشن کرتے پھر رہے ہو۔سرکاری افسران کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب اللہ کی پکڑ آئے اور ان پر خدائی آفت ٹوٹے اور اس وقت کوئی ان جیسا بے شرم موقعے کا افسر ہو۔

  • ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلابی صورت حال میں بیوروکریسی سمیت تمام سرکاری مشینری نے قابل تعریف کام کیا۔ لیکن اس آزمائش کی گھڑی میں بھی بہت سارے افسران کا سارا زور سیلف پروجیکشن پر ہے۔ ایسی ایسی واحیات اور گھٹیا ایکٹنگ کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آرہی ہیں کہ ان ٹھرے ہوئے سرکاری غنڈوں پر لعن تعن کیے بن رہا نہیں جاتا۔ٹک ٹاکر افسران کو عوام کی طرف جن القابات اور گالیوں کے ساتھ پکارا جارہا ہے وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔ جتنی محنت اورجانفشانی سے یہ ایکٹنگ والی ویڈیوز بنوا رہے ہیں اس سے آدھی محنت سے سیلاب متاثرین کی بحالی کوشش کریں تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

    او بے شرم اور بے حیا سرکاری فرعونوں تمہیں غریب عوام کے ٹیکس سے تنخواہ، لگثری گاڑیاں اور گھر عوامی فلاح و بہبود کیلئے دیے جاتے ہیں نہ کہ سیلف پروجیکشن اور ایکٹنگ کیلئے۔ حرام خورو تم اپنی سیلف پروجیکشن کی ویڈیوز کیلئے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو ان کی عزت نفس مجروح کر رہے ہو۔

    سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔

    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، خاص طور پر خواتین پولیس افیسرز سوشل میڈیا کی جہالت میں اس قدر پاگل اور ذہنی مریض بن چکی ہیں کہ اپنے دفتر، وردی اور سرکاری گاڑی کو شوٹنگ/ایکٹنگ کلب سمجھ لیا ہے۔ خواتین افسران میں سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا جنون انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔سیلف پروجیکشن کیلئے عوام کی ویڈیوز بنانے والے تمام قانون شکن افسران پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج ہونا چاہئے جبکہ اختیارات سے تجاوز پر وفاقی افسران کے خلاف ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن جبکہ صوبائی افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے نوکری سے فارغ کردینا چاہئے۔

    شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔وزیراعظم پاکستان، تمام وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے درخواست ہے کہ خدارا سرکاری ملازمت کو گالی بننے اور عوامی نفرت سے بچانے کیلئے سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر بے عزت کرنا۔

    سیلاب کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔ سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر "شو آف” کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال ہونا، ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ پھول پھینکنے والے سارے منشیات فروش، زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔ او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔ افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سرکاری افسران گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔