Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    ذندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع کرنے کی بجائے محبتیں بانٹیں اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرکے سکون پائیں…
    کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکھائیں اور ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دے سکتے ہیں پر جہاں اپنے حق کے لئے بولنا لازم ہوجائے وہاں چپ رہنا کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو اپنی ذات کے ساتھ زیادتی ضرور ہے

    بےحسی ہمارے معاشرے میں ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بھی نہیں پتا چلتا کسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا تو دور ہم سننا گوارہ نہیں کرتے..
    انسان اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے جہاں اسے اپنے حق کے لئے بولنا چاہیئے وہاں وہ چپ سادھ لیتا ہے
    باجی یہ تو ظلم ہے)
    ایسا جملہ جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.
    ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک فیملی کرائے پر رہنے آ ئی
    اس عورت کے 4 بیٹے 3 بیٹیاں تھیں
    بیٹیاں شادی شدہ تھیں.
    میں جب بھی اس عورت کو دیکھی سہما ہوا اسکا چہرہ دیکھی..
    ایک دن ایسا ہوا وہاں پانی کا مسئلہ تھا پانی کا ٹینکر منگوا کے استعمال کیا جاتا تھا. میں نے کبھی اس عورت کی اونچی آواز نہیں سنی کیونکہ اسکا شوہر سخت مزاج تھا پانی کا ٹینکر آیا میں نے سوچا غریب فیملی ہے کچھ پیسے میں نے پانی کے دئیے اور 400 اس عورت کو کہا کہ آپ دے دیں. پانی ٹینکی میں ڈالنے سے پہلے میں نے اسے کہا کہ پینے کے لئے ایک واٹر کولر بھر لیں, اس نے پانی بھرا اور باقی پانی ٹینکی میں ڈال دیا گیا. جب میں نے اس عورت کو 400 روپے دینے کا کہا تو اسنے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا باجی یہ تو ظلم ہے…

    میں نے ایک کولر بھرا آپ نے 400 روپے دلوا دئیے….
    مجھے اسکی معصومیت پہ ہنسی ائی میں نے کہا کہ آپا یہ جو پانی ٹینکی میں ڈالا گیا ہے یہ بھی آپکا ہی ہے جو آپ روز مرہ استعمال کریں گی ایک واٹر کولر کے پیسے 400 روپے نہیں ہیں..
    تب اس نے خوشی سے کہا اوو اچھا باجی خفا نہیں ہونا
    میں نے کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ بولنا بھی تو آیا کہ یہ تو ظلم ہے پر میری ایک بات کا جواب دیں یہ جو آپ اپنی فیملی میں سہہ رہی ہیں یہ کیا ہے ؟
    بیٹا ماں کے منہ پہ تھپڑ مار رہا ہے, اور شوہر آپ پہ ہاتھ اٹھا رہا ہے ( صرف اس لئے کہ گیٹ آپ نے کیوں کھلا چھوڑا)
    کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
    میری بات سن کے میرا ہاتھ پکڑ کے بولی… باجی میرا شوہر میرے سے بہت پیار کرتا ہے بس کسی نے اسے جادو کھلا دیا ہے اس لئے اسے غصہ زیادہ آتا ہے
    اور جو بیٹا آپکے منہ پہ تھپڑ مارا وہ کیا ہے ؟ میں نے پھر سوال کیا

    وہ عورت مسکراتے ہوئے بولی باجی میرا وہ بیٹا بچپن سے ہی غصے والا ہے میں جب غلطی کرجاتی ہوں تو اسکو غصہ آتا ہے پر میرے سے پیار بہت کرتا ہے.
    اسکے جواب سن کے میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کے دفاع میں بول رہی تھی اور میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے مذید دلائل دینے لگی.
    ایسی بھی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہیں جو اچھا برا صیحیح غلط, سچ جھوٹ جانتے ہوئے بھی ان سب سے لاعلم ہوں
    میرے خیال میں 400 روپے کے لئے اسکا کہنا کہ باجی یہ تو ظلم ہے اس بات کی عکاس کرتا کہ اسے ظلم اور جبر کی پہچان ضرور ہے مگر اپنی ذات کے معاملے میں وہ بالکل اس سے لاعلم ہے یا لاعلم رہنا چاہتی ہے.

    خیر کچھ دن بعد گھر کے باہر ایک ٹرک کھڑا تھا جس پر انکا سامان لادا جارہا تھا ،معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں.
    خدا حافظ کہنے وہ میرے گھر آئی میں خوش اسلوبی سے اس سے ملی مگر وہ نظریں چرا رہی تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
    میں نے اسکا ہاتھ تھام کہ کہا آپا اپنی زندگی اپنی ذات کا بھی انسان کو سوچنا چاہیئے ناں
    جب تک آپ کسی کو اپنی خوشی یا اپنے غم کا احساس نہیں دلائیں گی کوئی آپکی قدر نہیں کریگا
    وہ پھر کچھ بولنے کے لئے میری طرف دیکھی پر صرف مسکرا کے چلی گئی.
    اسکے جانے کے بعد میں وہیں بیٹھ گئی ایک عورت کو اپنے خاوند سے چاہیے ہی کیا ہوتا ہے ؟ ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کس چیز کی امید ہوتی ہے ؟؟
    شاید یہ خواہش یا مطالبات اس عورت نے کہیں دفن کر دئیے تھے

  • ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    ‏مہنگائی کا ذمہ دار کون؟ کارٹلز، مافیا یا حکومت .تحریر:صائمہ رحمان

    اس وقت دیکھا جائے تو غریب عوام اس وقت مہنگائی کے دریا میں ڈوب رہی ہے اور وہ کسی مسیح کے انتظار میں ہیں کوئی تو آیا جو ان کو ڈوبنے سے بچائے روزمرہ کی چیزیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ پیٹرولیم منصوعات ، گیس ، بجلی میں اضافہ ہو۔
    اور ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی گیس لوڈشینگ میں شروع ہو چکی ہیں کچھ جہگوں پر گیس کا پریشر کم ہے جس کی وجہ سے عوام سلنڈر کے استعمال کر رہے ہیں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان تو کر دیا کیاغریب عوام یہ مہنگائی کا بوجھ اس ریلیف پیکج کوحاصل کر کے گئی؟ ایسے عوام کوریلیف تو نا ملا
    پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے تعین کا ذمہ دار ادارہ شماریات پاکستان ہوتا ہےپاکستان میں کھلی منڈی کی قیمتیں اور سرکاری ادارے کی جانب سے اُنھیں اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کا تعین کیا جاتا ہے

    کیا پاکستان میں مہنگائی کی اصل وجہ ’کارٹلائزیشن‘ ہے؟ کیا کارٹل زائد منافع حاصل کررہے ہیں اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روک رہے ہیں کارٹلز اور مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت بھی ان کو کنٹرول نہیں کر پا رہی یا حکومت میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو جن کا تعلق ان سے ہیں؟ جو نہیں چاہتے پاکستان میں غریب عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے
    جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق کھانی پینے کی اشیا کی قیمتوں میں بیس فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہ غلطیاں کیسے سودارتی ہیں اور اس مہنگائی پر کنڑول کر سکے گی یا نہیں ؟ یا صرف یا کہا جائے گا گھبرانا نہیں ہے اور حکومت کے نمائندے بس ٹی وی سکرین پر آ کر یہی بولے گئے پاکستان میں مہنگائی باقی ملکوں سے کم ہیں۔
    ہمارے وزیرا عظم عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھےکہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں عوام کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو عوام بھی کرپٹ سمجھیں؟ قرضوں میں اضافہ بھی اسی طرح جاری ہے حکومت تو دعوے کرتی رہی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

  • بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارت میں اس وقت ایک پورا چینی گاؤں آباد ہو چکا ہے۔ اور یہ بات میں یا کوئی پاکستانی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے حمایتی امریکہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے اس حد تک انڈیا کے سرحدی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے پاس بھارتی علاقے میں اپنا ایک گاؤں بسا دیا ہے۔ جس پر انڈیا میں حکومت اور فوج دونوں ہی عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بھارتی فوج کچھ اور بیان دے رہی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ الگ ہی راگ الآپ رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ گاؤں چین کے علاقے میں ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اسے غیر قانونی تعمیرات کہہ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے خود انڈین میڈیا نے بھی اس خبر کو رپورٹ کیا تھا کہ چین کا ایک گاوں بھارتی علاقے میں موجود ہے لیکن مودی سرکار اس پر خاموش رہی بلکہ اپنے میڈیا کو بھی چپ کروا دیا کہ خبردار اس پر کوئی رپورٹ نہ کرے لیکن انٹرنیشنل اداروں کو رپورٹ کرنے سے تو مودی سرکار نہیں روک سکتی اس لئے اب امریکی رپورٹ نے نہ صرف اس خبرکی تصدیق کر دی ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس علاقے میں سو مکانات کی ایک بستی آباد کی گئی ہے اور وہاں پر تیزی سے ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کی جدید سہولیات لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر انڈای کی جانب سے طرح طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ارندم بگچی کا بیان آیا ہے کہ۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا چین نے گزشتہ کئی برسوں سے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے دہائیوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے نہ تو اپنی سرزمین پر ایسے غیر قانونی قبضوں کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس نے چین کے بلا جواز دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے سفارتی ذرائع سے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ اپنا شدید احتجاج بھی درج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومت بھارت کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خود مختاری، سالمیت اور علاقائی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔

    لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات کو مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر چینی گاؤں کی تعمیرات کا مسئلہ تو درست ہے۔ اور چین یہ گاؤں اس لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پروہ اپنے شہریوں کو یا پھرمستقبل میں اپنی فوج کو سرحدی علاقوں میں بسا سکے۔ خاص طور ایل اے سی پر حالیہ کشیدگی کے بعد ۔۔ لیکن یہ جو نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ چینیوں نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک نیا گاؤں بنایا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ان دیہاتوں کی تعمیر ایل اے سی کے تحت اپنی سرحد کے اندر کر رہے ہیں۔ ایل اے سی کی حوالے سے جو ہمارا تصور ہے اس کے مطابق انہوں نے ہمارے علاقے میں کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کہاں ہے، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایل اے سی پر یہ آپ کی صف بندی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جس کا آپ سے دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔اب ان دو طرح کے بیانات اور انڈین فوج کی گزشتہ سال جس طرح چین کے فوجیوں سے پٹائی ہوتی رہی ہے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا بیان حقیقت کے قریب ہے۔ ویسے ہو سکتا ہے بپن راوت ٹھیک کہہ رہے ہوں اپنی فوج کی پٹائی کے بعد وہ علاقہ انڈیا نے چین کو دے دیا ہو جس کے بعد اب وہاں چین کا قبضہ ہے اور پورا گاوں بھی آباد ہو گیا ہے کیونکہ خود کانگریس کا بھی بھارتی حکومت کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مودی نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مودی کے سپورٹرز جو بڑکیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ مودی کا سینہ 56 انچ چوڑا ہے۔ ان کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے ٹوئیٹ بھی کی ہے کہ ہماری قومی سلامتی سے ناقابل معافی سمجھوتہ کیا گیا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور مسٹر 56 انچ تو کافی خوفزدہ ہیں۔ مجھے اپنے ان فوجیوں کی فکر لاحق ہے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جب کہ بھارتی حکومت کے منہ سے بس جھوٹ ہی نکل رہا ہے۔

    مودی سرکار دراصل کر کیا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایک تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ظاہری بات ہے اس بارے میں جتنی بات کریں گے ان کے جھوٹ کہیں نہ کہیں پکڑے جائیں گے۔ اور دوسرا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت جیسی مودی سرکار کی ٹاوٹ کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو اس کے منہ میں آئے بولے جائے ایسے بیانات دے جس سے ہندوتوا شدت پسندی میں خوب اضافہ ہو اور لوگوں کا دھیان ایسی خبروں سے ہٹا رہے۔اور اب جو کنگنا نے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہے اس پر سبھی حیران ہیں۔ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ساورکر، رانی لکشمی بائی، سبھاش چندر بوس۔۔ ان لوگوں کی بات کروں تو یہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستانی-ہندوستانی کا خون نہ بہائے۔ انھوں نے آزادی کی قیمت چکائی، یقینا۔ لیکن وہ آزادی نہیں تھی، وہ بھیک تھی۔ جو آزادی ملی ہے وہ 2014 میں ملی ہے۔جس کے بعد انڈین عوام کی طرف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت کو حال ہی میں جو پدماشری ایوارڈ دیا گیا تھا وہ واپس لیا جائے اور اس کو جیل بھیجا جائے۔رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے تو کنگنا پر مجاہدین آزادی کی بے عزتی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کنگنا کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔ کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی۔ اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟کانگرس کی رہنما آنند شرما نے تو اپنی ٹویٹ میں صدر رام ناتھ کووند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مس رناوت کو دیا گیا پدما ایوارڈ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ایسے ایوارڈ دینے سے پہلے نامزد افراد کے ذہنی اور نفسیاتی تجزیے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی شخصیات قوم اور اس کے ہیروز کی توہین نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس وقت کنگنا رناوت ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ لیکن میں آپ کو سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ سب خود مودی جی کے کہنے پر تو کر رہی ہیں اور وہ مودی سرکار جس نے کنگنا کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے وہ کیوں اسے کچھ ہونے دیں گی۔
    اور کنگنا رناوت دو ہزار چودہ میں ملنے والی کس آزادی کی بات کر رہی ہیں یہ کیسی آزادی ہے کہ اتنی بڑی جمہوریت اور اتنے بڑے ملک میں خود وہاں کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں ان کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ کہیں اکھٹے ہو کر با جماعت نماز پڑھ سکیں۔

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں ہندو گروپس نے کھلی جگہوں پر مسلمانوں کی نماز رکوا دی ہے۔ہندو گروپس نے سیکٹر 12 اے میں واقع ایک جگہ پر قبضہ کرلیا۔ اور جب آس پاس کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ان کو کہہ دیا گیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنا رہے ہیں۔ اور تو اورگراونڈ میں اور اس کے آس پاس کی جگہ جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں وہاں انھوں نے گوبر کے اپلے پھیلا دئیے تاکہ وہ جگہ ناپاک ہو جائے اور مسلمان وہاں نماز نہ ادا کر سکیں۔ دراصل پچھلے کئی ہفتوں سے مسلمانوں کو اس شہر میں مختلف مقامات پر نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن جب کوئی فرق نہ پڑا تو انہوں نے یہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے حالانکہ ایک ہفتہ پہلے خود اس ہندو گروپ نے اس گراونڈ میں پوجا بھی کروائی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نماز کی جگہ نہیں ہے بلکہ عوامی مقامات ہیں۔ حالانکہ گڑگاؤں کا سیکٹر 12-Aان 29 مقامات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں 2018 میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے ہوا تحا جس میں طے کیا گیا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص ہے۔لیکن نہیں ایسے لوگوں کے خلاف مودی سرکار کچھ نہیں کرے گی بلکہ ایسے واقعات تو اپنے خاص لوگوں سے جان کر کروائے جاتے ہیں تاکہ مودی سرکار کی قابلیت عوام کے سامنے نہ آجائے کہ کیسے یہ چین کے ہاتھوں مار بھی کھا رہے ہیں اور اپنے علاقے بھی ان کو دے رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی مسلمان شہریوں پر جگہ تنگ کی ہوئی ہے۔

  • سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سعد رضوی پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ، تحریر:نوید شیخ

    سب سے بڑی خبر جو ہے وہ یہ کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو آج رہا کر دیا گیا ۔ کوٹ لکھپت جیل سے وہ سیدھا مسجد رحمت العالمین پہنچے ۔ جہاں ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ٹی ایل پی کی لیڈرشپ اور کارکنان بڑی تعداد میں وہاں پہنچ چکے تھے ۔ بڑے ہی رقت آمیز مناظر تھے ۔ کارکنان بڑے ہی پرجوش تھے ۔ فضا لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ اس موقع پر اتنی گل پاشی کی گئی کہ علامہ سعد رضوی کی گاڑی ہی کیا سٹرکیں تک پھولوں کی پتیوں سے بھر گئیں ۔۔ پھر سعد رضوی سب سے پہلے اپنے والد تحریک لبیک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے مزار پر گئے ۔ وہاں پر خصوصی دعا مانگی گئی۔ اس وقت بھی بڑی تعداد میں لوگ چوک یتیم خانہ پر موجود ہیں اور اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر ہیں ۔

    حافظ سعد رضوی ، ٹی ایل پی کی تمام لیڈرشپ سمیت جتنے بھی کارکنان جنہوں نے لاٹھیاں ، گولیاں ، تشدد اور گرفتاریاں برداشت کیں۔ ان کی فتح کا دن ہے ۔ ان کے عظم اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ٹی ایل پی شاید ہی کوئی مطالبہ ہوجو منظور نہ کرواپائی ہو ۔ کارکنان بھی رہا ہوگئے ، گرفتار لیڈر شپ بھی رہا ہوگئی اور پاپندی بھی ختم ہوگئی ۔ دیکھیں جب آپ حق پر ہوں تو پھر آپ نہ ڈرتے ہیں نہ پیچھے مڑتے ہیں ۔ میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ پر آج ان تمام وزراء کو اپنی شکل آئینے میں دیکھنی چاہیئے ۔ اور اگر کہیں چلو بھر پانی ملے تو ڈوب مرنا چاہیئے کیونکہ ان کی تمام سازشیں کہ ملک میں خون خرابہ ہو ناکام ہوگئی ہیں ۔ ساتھ ہی ان وزراء جیسے شاہ محمود قریشی ، علی محمد خان عقیل کریم ڈھیڈی ، مفتی منیب الرحمان سمیت اداروں کو خصوصی مبارک باد کہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا ۔

    ۔ اس وقت جو ٹیمپو بنا ہوا ہے ۔ اگر ٹی ایل پی صحیح طریقے سے capitalize کرجاتی ہے ۔ تو یقین مانیے تحریک لبیک عنقریب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہوگی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاہے حکومت اور اتحادی جماعتیں ہوں یا پھر اپوزیشن جماعتیں کبھی ان کے لیے ہمدردی کا بول نہیں بولا ۔ حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ یہ حق پر ہیں ۔ کیونکہ میں ان کو شروع سے فالو کر رہا ہوں ۔ جو لوگوں کی پہلے تو ان سے عقیدت ہے۔ وہ اپنی جگہ ۔ پر لوگ مانتے ہیں کہ یہ سچے لوگ ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو تحریک لیبک والے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ان کے قد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ پھر جو بھی لوگ پولیس کے یا پھر ٹی ایل پی کے جن کی جانیں گئیں ۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے ۔ پہلے تو معاہدہ پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا پھر جان بوجھتے ہوئے ہیں علامہ سعد رضوی کو گرفتار کیا ۔ حالانکہ حکومت جانتی تھی کہ اس کے بعد ملکی سطح پر احتجاج کیا جائے گا ۔

    ۔ ساتھ ہی جو حالیہ لانگ مارچ کے دوران بھی حکومت کا رویہ کوئی ٹھیک نہیں تھا ۔ ایک جانب آپ مذاکرات نہیں کر رہے تھے تو دوسری جانب شہر شہر بند کیا ہوا تھا ۔ خندقین کھود کر ۔ کنٹینر لگا کر ، انٹرنیٹ اور فون حکومت نے بند کیے ۔ اس سے جو اربوں اور کھربوں روپے کا کاروبار متاثر ہوا ۔ جو لوگوں کو کوفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس سب کی قصور وار حکومت ہے ۔ ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا ۔۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ علامہ سعد رضوی عنقریب پاکستانی سیاست کا ایک روشن ستارہ بن کر چمکے گا ۔ اور ان کے کارکنان اور جماعت بڑے بڑوں کی ضمانتیں ضبط کروا دے گی ۔

  • عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    عدل اور سیاست، تحریر:سیدہ زکیہ بتول

    مملکت پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ اب معمول کی بات ہے الزام تراشیوں کے سلسلے بھی اب نئے نہیں اور تو اور اب مقدس اداروں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔۔ایسا ہی ایک ادارہ عدلیہ ہے ایسا نظام جس سے ایک ریڑھی والے سے لیکر اسمبلی میں بیٹھے حکمران تک کی امید بندھی ہیں ریاستی نظام میں یہ واحد ستون ہے جس پر پور ی ریاست چل کر خوشحالی کا جانب گامزن ہوتی ہے مگر جہاں عدالتیں عام شہری کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہوں وہاں نہ صرف ریاستی نظام بلکہ اس سے جڑے تمام تر امور ناکام تصور کیے جاتے ہیں۔۔۔جبکہ آج کل تو عدالتوں اور انکے ججز سے جڑے سیاسی سے قصے زبان زد عام ہیں۔۔سیاسی جماعتوں کی الزام تراشیوں کا سلسلہ چلتے چلتے معزز عدالتوں میں بیٹھے جج صاحبان تک جا پہنچا ہے۔۔۔

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک جج صاحب نے دوسرے معزز جج پہ مبینہ الزام لگایا کہ انہوں نے نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دلوانے میں اہم کردار نبھایا اور پھر اسکے بعد سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی کے ٹاک شوز حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑتی دکھائی دے رہی ہے ایک جماعت ایک جج کے ساتھ دوسری مخالف کے ساتھ اور عوام کیا سوچ رہی اسکی نہ نظام عدل کو پروا نہ ہی انتظامیہ کو لینا دینا۔۔۔تو بھئی بات یہ ہے کہ معاملات جو بھی تھے اس سے ایک عام آدمی صرف اور صرف اتنا سوچنے پر مجبور ہے کہ جن عدالتوں پر آنکھیں بند کر کے وہ یقین رکھتا تھا کہ وہاں حلفاً فیصلے انصاف پر ہوتے ہیں تو کیا وہ محض اسکی خوش خیالی تھی یا چلیں مان لیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی لین دین ہوئی بھی ہے یا سیاسی رشتہ داریاں نبھائیں گئی ہیں تو کیا جج صاحبان کو کھلے عام بیانات دے کر عدالتوں پر سے اعتبار اٹھوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا؟۔۔سیاسی رسہ کشی میں ہم اپنے اداروں کی بے توقیری میں ملوث ہورہے ہیں اس بات کا احساس تک نہیں کیا بیان دینے والوں نے ۔۔ ایک انصاف دینے والا دوسرے انصاف دینے والے کے کردار کو پوری قوم کی نظر میں مشکوک بنا رہا ہے تو پھر خود بتائیے کیا عدالت وہ جگہ رہ جائے گی جہاں انصاف کی دہائی کے لیے لپکا جائے؟

    آپ کبھی کچہری میں ہزاروں لوگوں کو دھکے کھاتے دیکھیے جو اپنے کیس جوانی میں دائر کرتے اور بڑھاپے تک فیصلے مؤخر رہتے یا پھر کیس کی سنوائی ہی نہیں ہو پاتی۔۔کرمنل کورٹس میں کئی بے گناہ منتظر ہیں سول کورٹس میں ڈھیروں فائلیں کسی خاک سی امید تلے دب چکی ہیں کئی خواتین سے متعلق کیسز ہیں جو ڈرتے مرتے تشدد کے خلاف آواز اٹھا بیٹھیں مگر کوئی سننے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا نہیں۔۔۔ بد قسمتی سے انصاف کا دوہرا معیار بھی اس نظام کی ناکامی کی وجہ بنتا جارہا ہے غریب جسکے پاس پیسہ نہیں وہ روز عدالتوں کی خاک چھانتا ہے اسکو سننے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ روپے پیسے والا ایک دن میں اپنا کیس عدالت سے نمٹا لیتا ہے۔۔۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں سے پلک جھپکتے بری ہوتے دیکھے کئی نامی گرامیوں کو قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکتے بھی دیکھا انہی عدالتوں نے مجرموں کے کمروں سے برآمد شدہ شراب کی بوتلوں کو شیمپو کی بوتلیں بھی کہا سیاسی مجرموں کو محفوظ راستے بھی فراہم کیے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام میں بھی جھونکا کئی سیاسی بدمعاش تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ کئے گئے سنگین جرائم کا اعتراف تک کیا مگر با عزت بری ہوئے۔۔ غریب بھوک کے ماے ایک روٹی بھی چوری کر ے تو پولیس پکڑ کے لے جائے گی اس بے چارے کو حوالات سے جیل تک پہنچا دیا جائے گا جبکہ دن دیہاڑے ٹریفک وارڈن کو کچلنے والے ایم این اے مجید اچکزئی جیسے لوگ انہی عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے ثبوت ناکافی ہیں جبکہ قتل کی فوٹیج تک عدالت میں دکھائی جاتی ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں۔ اسوقت پاکسان کی مختلف عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہے عدالتیں خود مختار اور آزاد ہونگی تو انصاف کی فراہمی جلد اور یقینی ہوگی عدالتی نظام میں اصلاحات اکثر سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا منشور کا حصہ رہیں مگر عملی طور پر کچھ نہ کیا جاسکا مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے جڑے ستون ہیں ایک میں بھی سقم ساری ریاست کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔۔ انصاف پر مبنی نظام عدالتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ حکومت کو بھی عدالتوں میں پڑے تمام زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے تا کہ فوری اور بروقت انصاف مہیا ہوسکے۔ اور ایک نظام ترتیب دیا جائے کہ جو جو وکلا یا ججز مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا سبب بن رہے ان سے پوچھ گچھ یقینی بنائی جا سکے۔ سیاست دانوں کو سیاست اور ججز کو عدل قائم کرنے ہوگا اگر عدلیہ میں سیاست شامل ہونے لگی تو پھر انصاف کے نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجائیں گی جو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتی چلی جائیں گی۔

    سیدہ زکیہ بتول
    @NayyarZakia

  • 580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

    19 نومبر کو مختلف ممالک میں رواں صدی کا طویل ترین ‘جزوی’ چاند گرہن ہوگا۔

    باغی ٹی وی : درحقیقت یہ 580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین جزوی چاند گرہن ہوگا مگر پاکستان میں اس کا نظارہ ممکن نہیں ہوگا جزوی چاند گرہن لگ بھگ مکمل چاند گرہن جیسا ہی ہوگا یعنی چاند کا 97 فیصد حصہ زمین کے سائے کی زد میں ہوگا۔

    یہ جزوی چاند گرہن 6 گھنٹوں سے کچھ زیادہ وقت برقرار رہے گا اور چاند 3 گھنٹے 28 منٹ 24 سیکنڈ زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزرے گا، جس کی وجہ سے یہ 1441 کے بعد سے اب تک کا جزوی چاند گرہن ہوگا اور اس صدی کا بھی طویل ترین گرہن ہوگا۔

    یہ جزوی چاند گرہن شمالی امریکا، روس، جنوبی امریکا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں میں آج یعنی 19 نومبر کی شب نظر آئے گا گرہن کا یہ عمل پاکستانی وقت کے مطابق جمعے کی دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر شروع ہوگا اور سہ پہر 3 بج کر 47 منٹ تک عروج پر ہوگا۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت چاند اپنے مدار میں زمین سے سب سے دور ہوگا جس کی وجہ سے اس کی گردش کی رفتار ہمارے سیارے کے سائے سے گزرتے ہوئے سب سے کم ہوگی مثال کے طور پر مئی 2021 میں چاند گرہن کا دورانیہ 5 گھنٹے 2 منٹ تھا جس کے دوران مکمل چاند گرہن یا زمین کے سائے سے چاند کے گزرنے میں 2 گھنٹے 53 منٹ لگے۔

    گرہن کے دوران چاند سورج کی طرح مکمل تاریک نہیں ہوتا بلکہ سورج کی کچھ روشنی زمین کے ماحول سے گزرتی ہے جس کے باعث چاند سرخی مائل نظر آتا ہےاس سرخ رنگ کی وجہ سے اسے بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔

  • جہاز میں دوران سفر مسائل ،حادثات کی نشاندہی اور فوری رپورٹ کے لئے ایپ متعارف

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے جہاز میں دوران سفر مسائل، حادثات رپورٹ کرنے کیلئے ایپ متعارف کرا دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پی سی اے اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘ولنٹیئری ہیزارڈ/ انسیڈنٹ رپورٹنگ سسٹم’ کے نام سے اینڈرائیڈ ایپ گوگل پلے اسٹور میں دستیاب ہوگی ایپ رپورٹنگ کے لیے وسیع پہلووں کا احاطہ کرے گی، جس میں ‘خطرات، واقعات، حادثات، نقصان، کمی، خلاف ورزی، ناکامی اور سروسز’ شامل ہیں۔

    پی سی اے اے نے کہا کہ اس ایپ کا مقصد عوام، ایوی ایشن سے منسلک افراد کے لیے آسان اور دوستانہ وسائل فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مسائل، خطرات اور سیفٹی مسائل فوری رپورٹ کرپائیں اس ایپ کو جہاز اور ایئرپورٹس میں کسی بھی ممکنہ خطرے یا واقعے سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے واقعات یا خطرات کی رپورٹنگ کرنے والا فرد فائل، تصاویر اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی اپ لوڈ کرسکتا ہے جو واقعے کے ثبوت کے طور پر پیش ہوسکتےہیں رپورٹ کرنے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنا ان کی اپنی صوابدید ہوگی۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    بیان میں بتایا گیا کہ یہ اقدام اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے عام لوگوں، پروازوں کے مسافروں اور ایوی ایشن سےمنسلک لوگوں کو ایوی ایشن کے سیفٹی ماحول کا حصہ بنانے کی کوششوں میں شامل ایک قدم ہے پی سی اے اے کا ماننا ہے کہ ایوی ایشن سیفٹی ہر ایک کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے سیفٹی مسائل کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی اور اپنی کارکردگی اور معیار بہتر کرنے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں خطرات کی رپورٹنگ کے لیے پی سی اے اے کی ویب سائٹ پر ایک فارم بھی دستیاب ہے۔

    میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں…

  • ٹریننگ سیشن کے دوران بنگلہ دیش کے میدان میں پاکستانی پرچم لہرانے پر تنازعہ

    ٹریننگ سیشن کے دوران بنگلہ دیش کے میدان میں پاکستانی پرچم لہرانے پر تنازعہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش میں موجود ہے جہاں ان کے ٹریننگ سیشن چل رہے ہیں ان ٹریننگ سیشنز میں پاکستانی ٹیم کا پاکستانی پرچم گراﺅنڈ میں لگا کر پریکٹس کرنا کرکٹ کے بنگلہ دیشی مداحوں کو پسند نہیں آ رہا اور وہ سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹیم کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ویب سائٹ پرو پاکستانی کے مطابق بنگلہ دیشی مداحوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میدان میں پاکستان کا جھنڈا گاڑ کر پریکٹس کرکے کھیل میں سیاست کو گھسیٹ رہی ہے۔


    ایک بنگلہ دیشی ٹوئٹر صارف نے پاکستانی ٹیم کی پریکٹس کرنے کی ایک ویڈیو ایک ٹویٹ میں پوسٹ کی ہے جس میں نیٹ کے پاس میدان میں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہوتا ہے یہ صارف اپنی ٹویٹ میں لکھتا ہے کہ ”کئی بنگلہ دیشی مداح پاکستانی ٹیم کے اس اقدام پر ناخوش ہیں مگر مجھے ذاتی طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میں ان مداحوں کے تخفظات کو سمجھ سکتا ہوں۔ پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کے پروٹوکولز کی پیروی کرنی چاہیے اور پرچم لہرانے کے لیے پیشگی اجازت لینی چاہیے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔“


    رپورٹ کے مطابق ٹریننگ سیشنز اور حتیٰ کہ ڈریسنگ روم میں بھی پاکستانی پرچم لہرائے رکھنے کی روایت ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے حال ہی میں ڈالی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کو ہمہ وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے پاکستانی پرچم کا ان کی آنکھوں کے سامنے رہنا بہت اہم ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوتا ہے اور ان فوکس بہتر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان اور بنگلہ دیش کی تکلیف دہ تاریخ کے سبب پاکستانی ٹیم کی یہ روایت بنگلہ دیشی مداحوں کو اچھی نہیں لگی۔


    پاکستان اپنے دورہ بنگلہ دیش میں تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گا۔ اس دورے کا آغاز 19 نومبر کو پہلے T20 سے ہونا ہے۔ ٹیسٹ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے اور دونوں ٹیمیں زیادہ سے زیادہ پوائنٹس لینے اور 2023 میں ہونے والے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کی دوڑ میں خود کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہوں گی۔

  • میتھیو ہیڈن کا پاکستانی ٹیم کے لئے اردو میں پیغام

    میتھیو ہیڈن کا پاکستانی ٹیم کے لئے اردو میں پیغام

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ کے فرائض انجام دینے والے سابق آسٹریلوی بیٹسمین میتھیو ہیڈن نے پاکستانی کرکٹرز کے لیے اُردو زبان میں پیغام جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میتھیو ہیڈن نے اپنی تصویر شیئر کی جس میں اُنہوں نے پاکستان کا سبز کوٹ زیب تن کیا ہوا ہے کیپشن میں انہوں نے کہا کہ ’اسلام و علیکم پاکستان! میں برسبین کے قرنطینہ سینٹر میں بیٹھا اپنی آئیسولیشن مکمل کر رہا ہوں مگر میرا دل ڈھاکہ میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کے ساتھ جڑا ہے میری تمام تر نیک تمنائیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہیں.


    آخر میں اُنہوں نے گرین شرٹس کے لیے لکھا کہ ’شاباش لڑکو! چھا جاؤ۔‘ پاکستان زندہ باد۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کی ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ کل شیر بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میر پور میں کھیلا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سابق آسٹریلوی بیٹر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بطور کنسلٹنٹ گرین شرٹس کے لیے خدمات سرانجام دی تھیں۔

  • پنجاب باکسنگ کوچنگ کیمپ 20 نومبر سے فیصل آباد میں شروع ہوگا

    پنجاب باکسنگ کوچنگ کیمپ 20 نومبر سے فیصل آباد میں شروع ہوگا

    فیصل آباد(عثمان صادق) پنجاب باکسنگ کوچنگ کیمپ 20 نومبر سے فیصل آباد میں شروع ہوگا سیکرٹری میڈیا کوآرڈینیٹرز پنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن محمد زبیر رشید کے مطابق پنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پنجاب باکسنگ کوچنگ کیمپ 20 تا 28 نومبر 2021ء کو اولمپئن عثمان اللہ خان سپورٹس ہال کلیم شہید پارک نڑ والا روڈ فیصل آباد میں منعقد ہوگا۔کیمپ پنجاب کے نو ڈویژنز راولپنڈی، گوجرانولہ، لاھور، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور سے ٹرائلز کے بعد 26 مرد اور 10 خواتین باکسرز کو منتخب کیا گیا تھا۔ سیکرٹری جنرل پنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن کرنل ریٹائرڈ محمد ناصر اعجاز تنگ نے محمد زبیر رشید کو ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے فائنل ٹرائلز میں کامیاب باکسرز 30 نومبر تا5دسمبر تک لاھور میں منعقدہ ڈی ایچ اے نیشنل باکسنگ چیمپئن شپ میں پنجاب کی نمائندگی کریں گے۔