Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    کراچی کیلئے صرف "Irregularization” تحریر: امبر دانش

    اس شہر کراچی کی , لفظ "Regularisation ” سے بالکل نہیں بنتی. مجال ہے جو کچھ بھی ریگولر ہوتا نظر آجائے.
    چاہے کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل ہو, یا جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں, تعلیم نہ ہونے ک برابر, صحت و صفائی کا کوئی پرسان حال نہیں, بجلی کی حصول کے لئے نجی ادارا مسلط, نہ پانی, نہ سڑکیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ. غرض ان بنیادی سہولیات کی "Irregularisation” نے شہریوں میں نفسا نفسی اور اپنے مسائل کا ازخود حل نکالنے کی جدوجہد نے شہریوں کی سوچ کو مفلوج کر کے بس اپنے ارد گرد محدود کر دیا ہے.
    نام نہاد لیڈران کے پاس بھی عوام کیلئے تسلیوں کے علاوہ کوئی خاص پھکی نہیں. لہذا عام آدمی جب سارا دن بعد بسوں کے دھکے کھا کر اپنے گھر آتا ہے تو چاہے نسلہ ٹاور ہو یا پھر گجر نالہ کے بے گھر افراد, یا پھر الہ دین پارک کی منہدم عمارت, اسے اگلے دن پھر سے بسوں کے دھکے کھا کر, اپنے چھوٹے سے گھر کے بڑے سے بجلی کے بل کی قسطیں بنوانے کی فکر زیادہ ستاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر کل کسی دوسرے کےگرتے ہوئے گھر کیلۓ آواز اٹھانے چلا گیا تو کہیں اپنے گھر کی بجلی نہ کٹ جاۓ. اور اسی شش و پنج میں وہ گراۓ جانےوالے گھروں کے متاثرین کیلئے افسوس کرتا ہوا نیند کی آغوش میں ہو لیتا ہے.
    .
    آج نسلہ ٹاور گرنے کو ہے, کل کسی اور کا گھر ہوگا. اور پرسوں شاید ہمارا اپنا, لیکن جب پرسوں ہمارے گھر کی باری آئے گی تو ظاہر ہے ریت وہی رہے گی, مدد کو پکارنے پر بھی وہی تھکے ہارے لوگ بجلی کے بلوں کو قسطوں کی فکر میں تکیے میں منھ چھپا کر سوجائیں گے….
    یا جو کوئی اپنا بجلی کا بل بھروا چکا ہوگا وہ کچھ اس طرح کے سوالوں پر غور کرتا نظر آئے گا, مثلاً

    نسلہ ٹاور کی رہائشی جنہوں نے اس ملک کے سسٹم پر یقین کرتے ہوئے این او سی شدہ کاغذات والے گھر پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی آخر ان کا کیا قصور ہے؟
    وہ عناصر جنہوں نے نسلہ ٹاور کی زمین پر عمارت تعمیر کرنے کی این او سی دی ان سے جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی؟
    وہ بلڈر جسے یہ عمارت کھڑی کرنے کی این او سی دی گئی, کیا وہ رہائشیوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس کرسکے گا؟
    کیا کبھی کراچی کی عوام اپنے حق کیلئے آواز اٹھا سکے گی؟

    اور سوچتے سوچتے اچانک اسے یاد آئے گا کہ گھر میں پانی ختم ہونے کو ہے اور صبح تک پانی کا ٹینکر ہر حال میں منگوانا ہی پڑے گا. لہذا اپنی سابقہ تمام سوچوں کو جھڑک کر وہ اپنے موبائل میں ٹینکر والے کا فون نمبر ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاۓ گا.

  • افغانستان کے خلاف میچ جیتنے کے بعدآصف علی کی پہلی ٹوئٹ

    افغانستان کے خلاف میچ جیتنے کے بعدآصف علی کی پہلی ٹوئٹ

    ٹی 20 ورلڈکپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں ناقابلِ شکست اننگز کھیلنے والے آصف علی نے جیت کے بعد قرآن پاک کی آیت سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آصف علی نے اپنی تصویرشئیر کیاور ساتھ لکھا کہ ‘اور اللّہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔’

    انہوں نے لکھا کہ میری کامیابی صرف اللّہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

    یادرہےکہ رآئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ 2 میں سپر 12 مرحلے کے میچ میں پاکستان نے جیت کی ہیٹ ٹرک مکمل کرتے ہوئے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    بابراعظم نے ایک اوراعزاز اپنے نام کروالیا

    پاکستان نے 148 رنز کا ہدف بابر اعظم اور آصف علی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 19 اوورز میں مکمل کرلیا دبئی میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان کے کپتان محمد نبی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو فیلڈنگ کی دعوت دی۔

    پاکستان کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ افغانستان نے بھی اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھلائی گئی ٹیم کو ہی میدان میں اُتارا ہےاس سے قبل دبئی میں کھیلے جا رہے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو باؤلنگ کی دعوت دی تھی-

    افغانستان کی ٹیم بہت اچھا کھیلی:اصف علی نے تو چھکے ہی چھڑا دیئے :صوفیہ مرزا

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے کے گروپ 2 میں افغانستان نے کپتان محمد نبی اور گلبدین کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کو جیت کیلئے 148 رنز کاہدف دیا۔ ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار تھی۔

    جبکہ مسلسل دوسرے میچ میں قومی ٹیم کومشکل سے نکال کرمیچ جتوانے والےآصف علی کرکٹ شائقین کے ہیرو بن چکے ہیں انہیں سوشل میڈیا پر خوب داد دی جارہی ہے شائقین کرکٹ ہیرو کی اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں وہیں آصف علی کے چارچھکوں کا موازنہ کارلوس بریتھ ویٹ کے چھکوں سے بھی کیا جا رہا ہے کارلوس نے2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں انگلش بولر بین اسٹوکس کوچارچھکے لگا کر ویسٹ انڈیز کو چیمپئن بنوایا تھا۔

    گرتے⁩ ہیں ⁦شہسوار⁩ ⁦ہی⁩ میدان جنگ میں:پاکستان سے شکست کے بعد اہم طالبان رہنما کا…

    دوسری جانب ابراعظم نے ایک اوراعزاز اپنے نام کروالیا قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں تیز ترین ایک ہزار رنز بنانے والے کپتان بن گئے بابر اعظم نے یہ کارنامہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں انجام دیا۔واضح رہے کہ پاکستانی کپتان نے 26 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دے کر بھارت کے ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ ا ہے۔

    ویرات کوہلی نے بطور کپتان ایک ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز30 اننگز میں مکمل کیے تھے۔اس کے علاوہ بابر ٹی ٹوئنٹی میچز میں ایک ہزار رنز بنانے والے نویں کپتان ہیں۔

    خیال رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ساتویں ایڈیشن کا سپر 12 مرحلہ متحدہ عرب امارات میں جاری ہے۔

    آصف علی کے چھکے،آصف علی ریمیمبر دا نیم سوشل میڈیا پر ٹرینڈ

  • آصف علی کے چھکے،آصف علی ریمیمبر دا نیم  سوشل میڈیا پر ٹرینڈ

    آصف علی کے چھکے،آصف علی ریمیمبر دا نیم سوشل میڈیا پر ٹرینڈ

    آئی سی سی مینزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں افغانستان کودلچسپ مقابلےکے بعد شکست دینےپرآصف علی سوشل میڈیا پر خوب داد وتحسین بٹور رہے ہیں-

    باغی ٹی وی :مسلسل دوسرے میچ میں قومی ٹیم کومشکل سے نکال کرمیچ جتوانے والےآصف علی کرکٹ شائقین کے ہیرو بن چکے ہیں انہیں سوشل میڈیا پر خوب داد دی جارہی ہے شائقین کرکٹ ہیرو کی اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں وہیں آصف علی کے چارچھکوں کا موازنہ کارلوس بریتھ ویٹ کے چھکوں سے بھی کیا جا رہا ہے کارلوس نے2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں انگلش بولر بین اسٹوکس کوچارچھکے لگا کر ویسٹ انڈیز کو چیمپئن بنوایا تھا۔

    آصف علی کے چھکوں نے دیکھنے والوں کو خوش کردیا:چھکوں کی ویڈیو وائرل


    اس موقع پر ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے کمنٹیٹر این بشپ نے کہا تھا کہ کارلوس بریتھ ویٹ ریمیمبر دا نیم۔


    اسی مناسبت سے سوشل میڈیا پرآصف علی ریمیمبر دانیم کاہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہےانگلینڈ کے کرکٹربین اسٹوکس نےاپنے ٹویٹ میں لکھاہے ریمیمبردانیم آصف علی-


    پی سی بی نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں آصف علی ریمیمبر دانیم کے الفاظ کے ساتھ تعریف کی-


    پی ایس ایل کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کے آفیشل اکاؤنٹ سےبھی آصف علی کی تعریف کی گئی پی ٹی وی سپورٹس کی جانب سے بھی آصف علی کو خوب داد دی گئی۔

    یادرہےکہ رآئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ 2 میں سپر 12 مرحلے کے میچ میں پاکستان نے جیت کی ہیٹ ٹرک مکمل کرتے ہوئے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    گرتے⁩ ہیں ⁦شہسوار⁩ ⁦ہی⁩ میدان جنگ میں:پاکستان سے شکست کے بعد اہم طالبان رہنما کا…

    پاکستان نے 148 رنز کا ہدف بابر اعظم اور آصف علی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 19 اوورز میں مکمل کرلیا دبئی میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان کے کپتان محمد نبی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو فیلڈنگ کی دعوت دی۔

    پاکستان کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ افغانستان نے بھی اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھلائی گئی ٹیم کو ہی میدان میں اُتارا ہےاس سے قبل دبئی میں کھیلے جا رہے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو باؤلنگ کی دعوت دی تھی-

    افغانستان کی ٹیم بہت اچھا کھیلی:اصف علی نے تو چھکے ہی چھڑا دیئے :صوفیہ مرزا

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے کے گروپ 2 میں افغانستان نے کپتان محمد نبی اور گلبدین کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کو جیت کیلئے 148 رنز کاہدف دیا۔ ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار تھی۔

    بابراعظم نے ایک اوراعزاز اپنے نام کروالیا

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے رکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ اول

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے اور زیادہ نتیجہ خیز بنایا جہ سکے اس تحریر میں ہم آپکو گائیڈ کریں گے.

    اگر کوئی ساتھی آپ کی میز پر آیا ، آپ کا پرس اٹھایا اور آپ سے پوچھے بغیر پوچھے کچھ پیسے آپ کے پرس سے نکال لے تو کیا آپ مشتعل ہو جائیں گے؟ پھر بھی ، اگر کوئی ساتھی آپ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کا ویک اینڈ کیسا رہا ، آپ اس کے ساتھ بالکل ٹھیک ہوں گے؟

    یہ مثال یہاں اس لیے دی گئی کسی نے آپ کے پیسے لیے۔ دوسرے میں ، کسی نے آپ کے وقت کا دس منٹ لیا۔ آپ ہمیشہ زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں لیکن آپ کبھی زیادہ وقت نہیں کمائیں گے۔تو اس سے ثابت ہوا کے وقت اہم ہے زیادہ پیسوں سے.

    بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ یقین ہے کہ پیسہ ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ وقت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اگر آپ کے پاس اس سے لطف اندوز ہونے کا وقت نہیں ہے۔ جب آپ کا وقت ختم ہو جائے تو آپ کبھی بھی اپنے پیسے اپنے ساتھ نہیں لے سکیں گے۔ وقت ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی پیمائش کرنے کا ایک اچھا طریقہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ ہر دن اپنا وقت کیسے گزار رہے ہیں۔کیا اس وقت کا آپ صحیح استعمال کر رہے ہیں یہ پھر آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے.

    اگر آپ ہر دن بے مقصد گزر رہے ہیں – بالکل آخری لمحے میں جاگتے ہوئے ، کافی پیتے ہوئے ، دروازے سے باہر نکل کر ایسی نوکری پر جانے کے لیے جو آپ کو متاثر نہیں کرتی یا آپ کو اپنے مقاصد کی طرف نہیں لے جاتی اور دن کے اختتام پر گھر لوٹ کر صوفے پر بیٹھ کر اپنے ٹی وی یا فون پر گھنٹوں بے معنی تفریح ​​کرتے ہیں… تو آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا دن ضائع ہو گیا ہے ، تو شاید یہ تھا۔ آپ ہر دن اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ تو اس وقت کو ضائع کرنے سے روکنے کے لیے اب سے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

    اپنا ہر دن کسی منصوبے سے شروع کریں دن کے لئے ایک منصوبہ ضروری ہے وقت کا سب سے بڑا ضیاع دن یا ہفتے کے لیے کسی قسم کا منصوبہ نہ بنانا ہے۔ جب ہمارے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ہے ، ہم دن بھر کسی بھی ایسی چیز پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں جو ہمارے راستے میں آتی ہے اور اپنے مقاصد یا مقصد کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کرتی ہے۔
    جیسے کے سوشل میڈیا کے لوگو کے پیغامات ان پر اپنا گھنٹوں وقت ضائع کرنا. ہم خبریں دیکھتے ہیں اور سیاستدانوں پر ہم پر غصہ کرنے لگتے ہیں اور اس ہی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر ان لوگوں کے بارے میں ہیں کسی کے ساتھ سیاسی گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے جو ہمارے خیالات نہیں بانٹتے۔ یہ ‘مباحثے’ ہمیں مایوس کرتے ہیں ، ہمارے منفی جذبات کو بڑھاتے ہیں اور ہم ناراض اور خالی محسوس کرتے ہیں۔اور اس طرح صرف اور صرف ہم وقت ضائع کرتے ہیں.اور ساتھ اپنی طاقت بھی. اگر آپ رک گئے اور اپنے آپ سے پوچھا کہ آپ اس طرح کے مباحثوں میں کیوں شامل ہو رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کسی ایسے شخص کو قائل کرنے کا امکان نہیں رکھتے جو آپ کے سیاسی عقائد کا اشتراک نہیں کرتا ہے تاکہ وہ اپنا خیال بدل سکے۔تو پھر ہم اپنا وقت اسکو سمجھانے میں کیوں ضائع کریں. اگر سیاست آپ کے لیےاتنا ہی اہم ہے تو سیاستدان بنیں۔ اگر نہیں ، تو ان ‘مباحثوں’ سے دور رہیں۔ وہ کچھ بھی تبدیل نہیں کریں گے اور صرف آپ کے وقت کا ضیاع ہیں۔

    کن چیزوں میں باتوں میں وقت یہ ضیا ع ہے ہمیں علم ہونا چائیے. اس بات سے آگاہ ہونا کہ آپ کا وقت کہاں ضائع ہوگیا ضروری ہے ، آپ کے دستیاب وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا پہلا قدم ہے یہ ہی ہے کے پتہ رکھیں کیا کام آپکی ضرورت ہے اور کیا آپ غیر ضروری کر رہے ہیں۔ بنیادی باتوں سے شروع کرتے ہوئے ، ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے جو ہمیں متاثر کرے۔ اگر آپ کی موجودہ نوکری آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے تو ، کچھ وقت لگانے کے لیے ایسی پیشہ تلاش کریں جو آپ کو متاثر کرے آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کریں گے۔

    یہ دیکھنا کہ آپ سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزار رہے ہیں اس سے آگاہ ہونا ایک اور شعبہ ہے۔ کیا آپ اپنے سوشل میڈیا فیڈز کے ذریعے سکرول کرنے میں بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ، شاید آپ کو ہر دن وہاں گزارنے والے وقت کو محدود کرنا چاہئے۔اس چیز کو اکثر ہم توجہ نہں دیتے کے ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کا استعمال اور وہ بھی بے وجہ کرتے اور سے ضائع ہونے والے وقت کو ہیں کہیں صحیح استعمال کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @Aworrior888

  • چین: سمندر سے 43 کروڑ 50 لاکھ  سال قدیم دیو قامت بچھو کی باقیات دریافت

    چین: سمندر سے 43 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم دیو قامت بچھو کی باقیات دریافت

    شنگھائی: سائنسدانوں نے جنوب مشرقی چین کے علاقے ’’شیوشان فارمیشن‘‘ سے 43 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم سمندری بچھو کے فوسلز دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس بلیٹن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ بچھو شاید اپنے زمانے کا ایک خونخوار سمندری درندہ بھی تھا ماہرین کے مطابق چین کا یہ علاقہ آج سے 43 کروڑ سال پہلے سمندری تہہ میں، قطب جنوبی سے کچھ دوری پر واقع تھا جو آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا اپنی موجودہ حالت تک پہنچ گیا۔

    شیوشان فارمیشن سے دریافت ہونے والے اس قدیم و معدوم بچھو کا نام ’’مکسوپٹیرڈ یورپٹیرڈ‘‘ (mixopterid eurypterid) رکھا گیا ہے جو ایک میٹر (39 سینٹی میٹر) سے بھی زیادہ لمبا ہوا کرتا تھا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    یہاں سے مکسوپٹیرڈ بچھو کے کئی فوسلز مل چکے ہیں جن کے تفصیلی معائنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کروڑوں سال قدیم جانور غیرمعمولی طور پر آج کے بچھو جیسا تھا، لیکن جسامت میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔

    اس کے دیگر جسمانی خدوخال کی بنیاد پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سمندر میں رہنے والا ایک بے رحم شکاری تھا جو چھوٹے سمندری جانوروں کو اس طرح جکڑ لیتا تھا کہ جیسے انہیں کسی ٹوکری میں بند کردیا گیا ہو۔

    اس سے قبل ایک تحقیق میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ہئیت میں ہونے والی اس تبدیلی سے جانوروں کو بقا حاصل ہو بھی رہی ہے یا نہیں لہٰذا اس تبدیلی کو مثبت نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہیے، کہ موسمیاتی تبدیلی اتنے مختصر عرصے میں جانوروں کو جسمانی تبدیلی پر مجبور کررہی ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • جاپانی فیکٹری میں لفٹ کے ہزار بٹنوں والی دیوار تیار

    جاپانی فیکٹری میں لفٹ کے ہزار بٹنوں والی دیوار تیار

    جاپان کی ایک معروف لفٹ بٹن فیکٹری نے اپنے تمام بٹن ایک دیوار پر لگا دیئے ہیں جنہیں وہ آرڈر پر بناتی رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق دیوار پر تقریباً ایک ہزار بٹن لگائے گئے ہیں بٹنوں کا یہ سیٹ کمپنی کی تاریخ اور ترتیب کو ظاہر کرتا ہے، جو 1933 میں قائم ہوئی تھی۔ کمپنی کے اندر نصب ایک بہت بڑے پینل میں ایک ہزار سے زیادہ بٹن لگے ہوئے ہیں انہیں دیکھنے آنے والے شائقین انہیں دبا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    اس کمپنی کا نام شیماڈا ڈانکی سیساکوشو ہے جو 88 سال سے لفٹ کے بٹن بنا رہی ہے اور ان کے بنائے گئے تمام بٹنوں کی مکمل تاریخ اس بورڈ پر دیکھی جا سکتی ہےان بٹنوں کو دیکھنے کے لیے آنے والے بچے دھاتی پینل پر ان بٹنوں کو دبا کر دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔ بٹن دبانے کے ساتھ ہی یہ روشن ہو جاتا ہے جیسے یہ لفٹ کا اصل پینل ہو دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بٹنوں کی دیوار کو دیکھنے کے لیے اس قدر رش ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ درخواست دینے پڑتی ہے ۔

    سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    کمپنی کا کہنا ہے کہ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ بٹن پریسنگ مقابلہ بھی کروائے گی جسے بٹن پریسنگ میراتھن کا نام دیا جائے گا جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کمپنی کے دورے کی درخواست کی ہے اور اب کمپنی کے پاس اگلے سال جون تک کی تاریخ نہیں ہے۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

  • پُرانے جوتوں کا جوڑا 26 کروڑ روپے میں نیلام

    پُرانے جوتوں کا جوڑا 26 کروڑ روپے میں نیلام

    باسکٹ بال کے مشہور امریکی کھلاڑی مائیکل جورڈن کے پرانے جوتوں کا ایک جوڑا گزشتہ دنوں لاس ویگاس کے ایک نیلام گھر سے 14 لاکھ 70 ہزار ڈالر (تقریباً 26 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوا۔

    باغی ٹی وی : مائیکل جورڈن نے یہ جوتے1984 میں ابتدائی گیم سیزن کے دوران پہنے تھے جب ان کی عمر صرف 21 سال تھی جبکہ انہوں نے نیا نیا باسکٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا ان دنوں وہ ’شکاگو بُلز‘ نامی باسکٹ بال ٹیم سے وابستہ تھے اور انہوں نے اپنے پانچویں میچ میں جوتوں کا یہ جوڑا پہنا تھا جوتوں کے 1 ملین سے 1.5 ملین ڈالر میں فروخت ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

    نیلام گھر نے ایک بیان میں کہا کہ پرانےجوتوں کا خریدار نک فیوریلا ہے جو کارڈز جمع کرنے کی مشغلہ بھی رکھتے ہیں ان جوتوں نے نیلامی میں فروخت ہونے والےکئی جوتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ’نائکے ایئر شپس‘ برانڈ سے تعلق رکھنے والے ان جوتوں پر مائیکل جورڈن کے دستخط بھی موجود ہیں-

    مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز…

    یہ جوتے اتوار کو لاس ویگاس میں سوتھبی کے آئیکونز آف ایکسیلنس اور ہوٹ لگژری نیلامی کے حصے کے طور پر فروخت کیے گئے، جس میں زیورات، گھڑیاں اور جمع کرنے والوں کی کاریں بھی شامل ہیں۔

    14 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی خطیر رقم میں نیلام ہونے کے بعد ان جوتوں نے اب تک کھیل سے متعلق مہنگے ترین داموں میں فروخت ہونے والی چیز کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا ہے۔

    70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

  • ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑنے والی کار کے بعد اڑنے والی موٹربائیک کی آزمائشی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ تجربہ ٹوکیو میں قائم ڈرونز کا کاروبار کرنے والی کمپنی اے ایل آئی ٹیکنالوجیز نے کیا ،یہ موٹرسائیکل 60 میل فی گھنٹہ(100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 40 منٹ تک سفر کر سکتی ہے اور اسے آئندہ سال فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔

    اڑنے والی اس موٹربائیک کی ابتدائی قیمت 6 لاکھ82 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے اور اس پر ایک فرد بیٹھ سکتا ہے کمپنی فی الحال صرف 200 موٹر سائیکل بنائے گی جو2022 کے پہلے چھ ماہ میں فروخت کیے جائیں گے۔ ایک موٹرسائیکل کا وزن300 کلوگرام ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=zblqct6bPvQ
    تجرباتی پرواز کے دوران موٹر سائیکل زمین سے کئی فٹ اوپراور تقریباً ڈیڑھ منٹ تک پرواز کرتا رہا اس کے پہیوں کی جگہ ہیلی کاپٹر کی طرز کے اسٹینڈ لگائے گئے ہیں یہ موٹرسائیکل اڑنے والی ان چند گاڑیوں میں سے ہے جو اس وقت مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ یہ موٹر سائیکل سمندر میں حادثات سے لوگوں کو بچانے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھنے کی خوبی ہے وہیں اس میں ایک خامی یہ ہے کہ پرواز کے وقت شور بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پرواز کا مشاہدہ کرنے والوں کو ایئرپلگ دیئے گئے تھے۔

    اے ایل آئی ٹیکنالوجیز کے مطابق موٹرسائیکل میں ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو پرواز کے دوران اس کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

    جولائی 2021 میں کیلیفورنیا میں بھی اڑنے والی اسپیڈر سائیکل کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی تھی، جو15ہزار فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکتی ہے اور فی الحال اس کی قیمت3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی اس سائیکل کو 2023 میں ڈیلیور کرنے کے لیے آرڈر بھی بک کر رہی ہے۔

    جبکہ جولائی میں ہی لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی کامیاب تجربہ کیا تھا نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی تھی –

    اس کےموجد پروفیسر سٹیفن کلین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں-

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

  • فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد(عثمان صادق)کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے کشمیریوں کو حق رائے دہی دئیے بغیر علاقائی امن ممکن نہیں۔یہ بات ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیراہتمام کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد تصاویر دیکھتے ہوئے کہی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ27۔اکتوبر 1948ء کو کشمیرمیں ہندوستانی فوج کے داخلہ اور قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تصاویری نمائش کا مقصد بھارتی فوج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو اجاگر کرکے احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھی جائے گی۔نمائش میں رکھی گئی تصاویر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں

  • شاکر ساکوں معاف چا کر! تحریر زکیہ نیر

    ارمان ہے شاکر ایں گَل دا
    ساڈا یار ہوندا اَساں کیوں رُلدے ۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی ادب کی دنیا کا ایسا ستارہ جسکے بنا شاید ہی سرائیکی شعر کی منزل تک کوئی پہنچ سکے ہیرے جیسے شعر لکھنے والا سونے جیسے گیتوں کا خالق تخیل اتنا قیمتی کہ شعر شعر انمول آج انہیں ایک موٹر سائیکل پر ایک کپڑے سے بندھا دیکھا یعنی ادب کا امیر آج اتنا غریب ہوا کہ کسی کرائے کی گاڑی تک میں بیٹھنے کو پیسے نہیں جیب خالی اور مرض مہنگا ۔۔۔ایسے میں سرائیکی ادب کی پہچان شاکر کو زمانے کے رحم وکرم پہ رُلتے دیکھا۔۔۔جب سے ویڈیو دیکھی سمجھ نہیں آرہی کہ کس سے گلہ کروں کس کو دہائی دوں کونسا ایسا ادارہ ہے جو فنکاروں کی حالت زار پہ انہیں سہارا دیتا ہے وہ فنکار جو اپنے فن سے لاکھوں دلوں میں گھر کرتے ہیں وہ در بدر کیوں ہیں کہاں شاکر کی عرضی لے کر جاؤں۔
    شاکر شجاع آبادی کا اصل نام  شفیع محمد شجاع آبادی ہے جبکہ تخلص شاکر۔۔۔ان کا تعلق ملتان سے ستر کلو میٹر دور شجاع آباد کے ایک گاؤں راجہ رام سے ہےشاکر 1968 میں پیدا ہوئے 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں نصابی تعلیم نہ ہونے کیوجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے مگر شاعری انہوں نے ریڈیو سن کر سیکھی وہ سرائیکی خطے میں پیدا ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ سرائیکی عوام کو محرومیوں میں رکھا گیا اور وہ اپنی شاعری کے زریعے انکی محرومیوں کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں گے۔۔انہیں عشق کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے انہوں نے ساری زندگی غربت دیکھی انکے شعروں کو سراہا ضرور گیا جس پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئیے گئے مگر حالات بدلنے کی نہ کوشش کی گئی نہ ہی اس بارے سوچا گیا۔
    ہِک شاکر تھی برباد گئے
    ڈوجھے تبصرے کھا گئے لوکاں دے۔
    انکے دوہڑے کئی سیاستدان اپنے جلسوں میں پڑھتے رہے ایک بار تو مریم نواز صاحبہ نے خود کو انکی مداح بھی کہا دو بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا انکی تصانیف میں کلام شاکر،پیلے پتر،پتھر موم،
    لہو دا عرق،شاکر دے ڈوہڑے،شاکر دے قطعے،بلدیاں ہنجوں،پتہ لگ ویندے،شاکر دے گیت،شاکر دیاں غزلاں،منافقاں توں خدا بچاوے،اور شاکر کی اردو غزلیں شامل ہیں۔۔انہی سخی لکھاری بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا شاعر جسے کبھی کوئی چاہ نہ رہی لوگ کہتے شاکر کسی وزیر مشیر سے بیٹوں کی نوکری ہی مانگ لو مگر وہ شاکر ہی کیا جو بے نیازی میں سر نہ جھٹک دے  کہتا حاکمو جس حال میں بھی رکھو شاکر شاکر ہی رہے گا اپنی ساری زندگی میں کبھی شاکر شجاع نے کسی کی شان میں قصیدے نہ لکھے نہ ہی کسی کے لیے تعریفی کلمات کہے۔۔
    بے وزنی ہیں تیڈی مرضی ہے بھانویں پا اچ پا بھانویں سِر اچ پا
    یا چَن دی چٹی چاندنی وچ بھانویں رات دے سخت ہنیر اچ پا
    پا کہیں دشمن دی فوتگی تے یا جھُمر دے کیں پھیر اچ پا
    راہ رُلدے شاکر کنگن ہیں بھانویں ہتھ اچ پا بھانویں پیر اچ پا۔
    بدقسمتی سے شاکر شجاع آبادی پہلے فنکار نہیں جو حکومتی بے حسی کے حصار میں ہیں یہاں کئی فنکار جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنے فن کا  نقطہ  نقطہ دان کیا جن کے فن سے لوگ محظوظ ہوتے رہے مگر جب بھی ان جگمگاتے ستاروں پہ برا وقت آیا ریاست نے کمر ہی دکھائی کئی فنکار غربت اور تنگدستی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔۔۔حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں مگران لوگوں کے لیے کوئی ایسا فنڈ نہیں رکھا جاتا کہ جب ان پر بیماری یا کوئی مصیبت کی گھڑی آئے تو یہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں نہ ہی انکی فلاح کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے کا خیال آیا۔۔۔انکا حق بنتا ہے کہ انہیں انکے فن کاصلہ ریاست کی جانب سے دیا جائے بے حسی کی انتہاء ہے شاکر کی حالت زار دیکھ کر سوال تو جنم لیتے ہیں کہ کیا اس مملکت کے تمام مالی وسائل امراء اور حکمرانوں کے لئے ہیں کیا اس بے بس اور غریب شاعر کا اس ملک پر کوئی حق نہیں ہے دعوے تو ہر بار سینہ تان کے کیے جاتے ہیں کہ کلچر فنڈز میں ادب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی حق ادا ہونگے  مگر شاکر جیسوں کی سسکتی زندگی دیکھ کر صرف سینہ ہی پیٹا جاسکتا ہے
    بندے ڈیکھ کہ روندیں زندگی کوں
    میکوں ڈیکھ کہ زندگی رو پئی ہے۔
    شاکر شجاع آبادی صاحب ہم شرمندہ ہیں ہمیں چوہتر سال گزرنے کے بعد بھی آپ جیسے انمول فنکاروں کو عزت اور احترام دینا نہ آیا جو اس دھرتی ماں کی آبرو میں جھل مل کرتے ستارے رہے میری حکمرانوں سے ہاتھ جوڑ کر فریاد ہے شاکر اور اس جیسے کئی فنکار لوگ کسمپرسی میں حیاتی بسر کر رہے ہیں اٹھیے اور پہنچیے انکے آس کے جھونپڑوں میں اور دیکھیے جو زیست وہ گزار رہے اسکے حقدار ہیں کیا۔۔۔پھر کل کو جب وہ نہیں رہیں گے تو آپ انکے نام پر سیمینارز منعقد کراؤ گے مشاعرے سجائے جائیں گے  ایوارڈز تقسیم کرو گے اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دوگے مگر کیا فائدہ مرنے کے بعد کس نے دیکھا کہ کسی چوراہے پہ اسکے نام کی تختی لگا کر اسے اعزاز بخشا جارہاہے جو کرنا ہے انکی زندگی میں کیجیے تاکہ انہیں بھی فخر ہو کہ جس مملکت کی آبیاری میں انکے فن کے لطیف احساسات بھی شامل ہیں اس ریاست نے بڑھ کر ایسے مالیوں کے گلے لگا لیا ہے۔
    اساں مفت اِچ شاکر رُل گئے ہیں
    جڈاں ویسوں مر ساڈا مُل پوسی۔
    میرا ایک شعر شاکر صاحب کے لیے کہ
    شاکر اساں شرمسار بہوں
    توں ظرفاں آلا ساکوں معاف چاکر
    اساں تیڈی حیاتی رُلدی ڈیکھی
    تُوں قلماں آلا ساکوں معاف چا کر
    توں مر کہ ڈیکھ اساں عزت ڈیسوں
    تُوں صبراں آلا ساکوں معاف چا کر۔

    @NayyarZakia