Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی  پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان ایرون فنچ بھی دیئے گئے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز ڈیوڈ وارنر کو ملنے کے خلاف سامنے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا جائے گا لیکن بابر اعظم کو یہ ایوارڈ نہ ملنے پر مایوسی ہوئی –

    یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بابر اعظم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 303 رنز بنائے تھے۔

    تاہم اب آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان نے ورلڈکپ جیتے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا جو ٹورنامنٹ میں 13 وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میرے مطابق پلیر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ ڈیوڈ وارنر کے بجائے ایڈم زمپا کو ملنا چاہیے تھا ایڈم زمپا نے میچ کو کنٹرول کیا اور زیادہ وکٹیں لیں وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔

  • ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    کیلیفورنیا: کئی دہائیوں قبل پیشگوئی کیا گیا معدن کی اب زمین کی 660 کلومیٹر گہرائی سے دریافت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایک ہیرے کے اندر اس معدن کے آثار ملے ہیں جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے اس معدن کو ’ڈیوموآئٹ‘ کا نام دیا گیا ہے اگرچہ اس کی ملتی جلتی قسم دنیا میں ملتی ہے لیکن ڈیوموآئٹ زمین کی گہرائی میں بلند درجہ حرارت اور دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے۔

    افریقی ملک بوٹسوانہ سے ملنے والے اس ہیرے کے اندر سیاہ معدن کے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہیں اور ایک عرصے سے ان کی تلاش جاری تھی تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور جامعہ نواڈا میں ارضیاتی کیمیا کے سربراہ اولیور شونر نے اسے ڈیوموآئٹ کا نام دیا ہے یہ کیلشیئم سیلیکیٹ CaSiO3 پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں یورینیئم، تھوریئم اور پوٹاشیئم کے تابکار ہم جا (آئسوٹوپس) موجود ہوسکتے ہیں۔

    نظری طور پر 1967 میں اس معدن (منرل) کی پیشگوئی کی گئی تھی ماہرین نے اس کا مقام زمین کی گہرائی یعنی مینٹل کو قرار دیا گیا جہاں درجہ حرارت بلند اور دباؤ غیرمعمولی ہوتا ہے مینٹل زمینی قشر(کرسٹ) اورقلب (کور) کے درمیان پایا جاتا ہے اس طرح ڈیوموآئٹ کو سمجھ کر خود ہم زمینی ساخت، پلیٹ ٹیکٹونکس اور ارضیات کو جان سکتے ہیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدن خاص حالات کے تحت 660 سے 2700 کلومیٹر گہرائی میں تشکیل پاتی ہے جہاں حرارت اور دباؤ کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہیرے کے اندر دیکھا گیا ہے جو بلند درجہ حرارت پراپنا وجود برقرار رکھتا ہے اگرچہ کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے لیکن قدرتی طور پر پہلی مرتبہ اسے دیکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 1987 میں اس ہیرے کو بوٹسوانہ کی ایک کان سے برآمد کیا گیا تھا لیکن وہ مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہواں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پہنچا جہاں کئی برس تک اس پر تحقیق کی گئی اور 11 نومبر کو اس کا اعلان ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں کیا گیا ہے۔

    پہلے اسے لیزر سے چھیدا گیا تو اندر کیلشیئم کے آثار ملے پھر معلوم ہوا کہ یہ کیلشیئم سلیکیٹ ہے اور آخرکار معلوم ہوا کہ یہ کرسٹل حقیقت میں کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ ہے زمینی مینٹل کا پانچ سے سات فیصد حصہ اسی معدن پر مشتمل ہوسکتا ہے یہ دریافت سیکڑوں میل کی گہرائی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ہیرے کی ایک کان سے ملی ہے اورماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی عمل کی بدولت اوپر تک پہنچا ہوگا۔

  • زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    زندگی جہد مسلسل تحریر فروا منیر

    ت

    ایک آدمی غروب آفتاب کے وقت درختوں کے سامنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے” آپ کا خیال حقیقت کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے۔ "سب سے خوبصورت لوگ جن کو میں جانتا ہوں وہ وہ ہیں جنہوں نے آزمائشوں کو جانا ہے، جدوجہد کو جانا ہے، نقصان کو جانا ہے، اور گہرائیوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔” — الزبتھ کیبلر-راس

    ہم جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں۔ ہم ایک بہتر زندگی کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی ایک خوبصورت جدوجہد ہے یا کچھ بھی نہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ زندگی چیلنجوں یا ناکامیوں کے بغیر ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ بغیر جدوجہد کے اپنی صلاحیت کو کیسے محسوس کریں گے؟ نشوونما کے بغیر زندگی ادھوری اور خوفناک ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں تاکہ ہم اس پر قابو پا سکیں، کیونکہ غالب آنے میں ہم اپنی عظمت کو محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی اندرونی دعوت ہے۔ یہ ہمارے وراثت میں شامل ہے تاکہ ہم اپنے آپ کے بہتری کی جانب لائیں۔

    جیسے جیسے آپ مزید بننے کے لیے پہنچتے ہیں، آپ اپنی لامحدود صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جسمانی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات کے بڑے آرکیسٹریشن میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتے، بلکہ آج جو فیصلے ہم کرتے ہیں اس کا ہماری زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ہم سب شعور کے ذریعے گہری سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے عقائد ہمارے خیالات کو مرتب کرتے ہیں۔ ہمارا خیال حقیقت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو رنگ دیتا ہے، لہذا ہم جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی ہمیں ملتا ہے۔ یہ ایک جاری بحث ہے کہ زندگی ایک کے بعد ایک جدوجہد ہے۔ پھر بھی ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔

    زندگی میں اس کے بارے میں ہمارے تاثرات سے زیادہ ہے۔ غور کریں کہ میں نے تاثر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ جس طرح سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں وہ ہمارے مشاہدے سے واضح ہے۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد، بلوں کی ادائیگی اور کسی کے کام سے مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اپنی زندگی کو کسی مختلف فلٹر سے دیکھنا آپ کے لیے معنی خیز ہے؟ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو دنیا کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی صلاحیت کیسے ملتی ہے؟

    ۔ جب ہم محبت میں ہوتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے لیے پرعزم ہوتے ہیں تو ہماری جدوجہد بے معنی نہیں ہوتی۔ زندگی کو سفر کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ تجربات ہیں جن پر ہم سفر کرتے ہیں جو ہماری زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی عروج و پستی کا سلسلہ ہے۔ خوشی کے لمحات یا اذیت کی اقساط تجربہ ہونے کے کافی عرصے بعد ایک فوکل پوائنٹ ہیں۔ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ زندگی ٹوپی کے قطرے پر ہماری خواہشات کے مطابق ہو جائے گی، بلکہ ہمیں زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اندر سے گزرنے دینا چاہیے۔

    ہم ایسا کرتے ہیں جو ظاہر ہوتا ہے اسے قبول کرتے ہوئے، چاہے ہم دوسری صورت میں یقین رکھتے ہوں۔ اس مضمون کا عنوان زندگی کی تفریق کو واضح کرتا ہے۔ جدوجہد کے بغیر، زندگی ہمارے ذاتی ارتقاء میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ زندگی کا مقصد ہر لمحہ خود کو نئے سرے سے تخلیق کرنا ہے۔ افراتفری کے ذریعے زندگی جنم لیتی ہے، جو اس کے تخلیقی اظہار کے لیے تحریک کا کام کرتی ہے۔ ہم اس ایپلی کیشن کو فطرت میں دیکھتے ہیں۔ ہیرے شدید دباؤ، گرمی اور تحریک کے تحت بنتے ہیں۔ موسم بہار اور خزاں کے مہینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہنگامہ خیز موسم کے نمونے کم ہو جاتے ہیں۔

    ہم ان موسموں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ تصور کریں کہ کیا ہمارے پاس سال کے بارہ مہینوں میں ایک ہی موسم ہوتا؟ متضاد موسمی تبدیلیوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔ تضاد فطرت میں ابھرتا ہے لہذا ہم مختلف حقائق کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے، میں آپ کو مدعو کرتی ہوں کہ آپ اپنے چیلنجوں کو موسمی تبدیلیوں کے مطابق بنائیں۔ کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ تکلیف دہ تجربات آتے اور جاتے ہیں اگر ہم انہیں اپنے ذریعے سے گزرنے دیتے ہیں۔ زندگی کو لامتناہی جدوجہد کے سلسلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اس بات پر بھروسہ کریں کہ آپ کی ذاتی لڑائیاں آپ کو اپنی گہری حکمت کے ادراک کی طرف لے جا رہی ہیں۔ یہ حکمت آپ کو اسی ذہانت سے جوڑتی ہے جو ہر لمحہ آپ کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آپ کی توقع کے مطابق ظاہر نہیں ہوسکتا ہے، پھر بھی یہ ہمیشہ پردے کے پیچھے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی خوبصورت جدوجہد کا ایک سلسلہ ہو سکتی ہے یا کچھ بھی نہیں۔

  • قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت، محنت اور دعا تحریر: فضل عباس

    قسمت نام ہے تقدیر کا جس کے ذریعے اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کرتا ہے قسمت مقدر کا دوسرا نام ہے مقدر میں خوشیاں بھی شامل ہوتی ہیں غم بھی آتے ہیں آزمائش بھی مقدر کا حصہ ہوتی انعام بھی قسمت کا حصہ ہوتا ہے لیکن کیا قسمت بدلی جا سکتی ہے؟ قسمت میں جو لکھ دیا جاۓ وہ بدلا جا سکتا ہے؟ جی بالکل اگر اللّہ چاہے تو قسمت بھی بدل سکتی ہے آج ہم اس پر بات کریں گے کہ انسان قسمت کیسے بدل سکتا ہے
    قسمت بدلنے کے دو طریقے ہیں ایک محنت دوسرا دعا
    محنت کرنے والے لوگ اللّہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللّہ تعالیٰ ان کی محنت کا اجر دیتا ہے اگر لوگ محنت کرتے رہیں تو ان کی قسمت میں آئیں مشکلات راہ سے ہٹ جاتی ہیں یہ ان کی محنت کا ثمر ہوتا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ محنت سے آپ قسمت میں ایک حد تک تبدیلی لا سکتے ہیں آپ محنت کر کے چیزیں حاصل کر سکتے ہیں وہ چیزیں جو آپ کی قسمت میں نہیں تھی لیکن آپ نے محنت کی اور اللّہ تعالیٰ نے آپ کی محنت کا ثمر دیا اور وہ چیزیں آپ کو مل گئیں لیکن کیا محنت کرنے سے آپ کو وہ لوگ بھی مل سکتے ہیں جو آپ سے کھو گئے ہیں؟ جو آپ کو دکھ دے کر ایک طرف ہو گئے ہیں؟ کیا وہ لوگ آپ کے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کو نظر انداز کر کے آپ کے مخالف کی طرف کھڑے ہو گئے تھے؟ شاید نہیں
    اگر آپ اپنی قسمت میں لوگوں کو شامل نہیں کر سکتے تو محنت کا کیا فائدہ؟ یہ سوال یقیناً ہر ایک شخص کے ذہن میں آتا ہے اس کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کی مختص طاقت ہوتی ہے محنت کی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو چیزیں دلا سکتی ہیں لوگ نہیں اگر آپ لوگ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ایک قدم آگے بڑھنا ہو گا اس منزل پر پہنچ کر آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی قسمت میں بھی نہیں ہے جی یہ منزل ہے دعا!!!

    اب آتے ہیں دعا کیا ہوتی ہے اور دعا قسمت کیسے بدل سکتی ہے دعا ایک مقدس جذبہ ہے جو آپ کا تعلق اللّہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اس تعلق میں وسیلہ نہایت اہم ہوتا ہے وسیلہ پاک ہستییاں ہوتی ہیں وہ ہستیاں جو اللّہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت والی ہوتی ہیں اس طرح دعا آپ کا تعلق پاک ہستیوں کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور یہی تعلق انسان کے لیے بہت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے

    دعا ایک طاقت ہوتی ہے وہ طاقت جو مایوسی کو امید اور امید کو یقین میں بدلنے کا فن جانتی ہے یہ طاقت مایوسی ختم کرنے کا ہنر جانتی ہے مایوسی کا ختم ہونا انسان کی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے

    اب آتے ہیں اس بات پر کہ دعا انسان کی قسمت کو کیسے بدلتی ہے انسان جب خالق کائنات کے سامنے اپنی بات دعا کی صورت یقین کے ساتھ رکھ دیتا ہے تو خالق کائنات اس دعا کو قبول کرتا ہے چاہے انسان کی قسمت میں پہلے سے نہ لکھا ہو کیوں کہ ہوتا وہی ہے جو اللّہ چاہے قسمت بھی اللّہ تعالیٰ لکھتا ہے تو اللّہ تعالیٰ سے دعا کرو گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدل دے گا اللّہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اللّہ تعالیٰ معاف کر دینے والا ہے اللّہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو دعا کی قبولیت میں شک بنتا ہی نہیں کیوں کہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا انسان کا خالق جس کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ انسان کی دعا کو رد کر ہی نہیں سکتا

    اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے قسمت انسان کی زندگی میں ایک واضح مقام رکھتی ہے لیکن قسمت بدلی بھی جا سکتی ہے قسمت اتنی سخت نہیں ہوتی کہ بدلی نہ جا سکے قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی بس آپ محنت جاری رکھو جو چیز محنت سے بھی نہ ملے اسے دعا میں مانگو چاہے وہ کچھ بھی ہو اگر آپ کے لیے وہ چیز، وہ لوگ اچھے ہوں گے تو اللّہ تعالیٰ آپ کو لازمی وہ دے گا اگر آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو دوبارہ دعا کرو اللّہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دعا سنے گا اور جو آپ کے لیے بہتر ہو گا وہ آپ کی قسمت میں لکھ دے گا

  • شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی

    شاہینو سر اٹھا کے جیو  تحریر غلام مرتضی


    9 /11 کے بعد  دنیا کرکٹ نے پاکستان میں  دہشت گردی کی آڑ میں چھپ کر  سیکورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ یہ کرکٹ فین کے لئے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں تھی ۔ لیکن اسی عرصہ میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز دیار غیر  میں کھیل کر سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہے ۔ گزشتہ 21 سال سے پاکستان گراونڈ ویران پڑے ہیں ۔کرکٹ کے متوالے اپنے اسٹارز کو اپنے ہوم گروانڈ پر حوصلہ افزائی کرنے کےلئے ترس گئے ہیں  ۔میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے کھیل کے سفیروں کو جنہوں نے  اس کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے میدان میں ڈٹے رہے ۔کبھی مصباح الحق کی صورت میں کبھی یونس خان کبھی آفریدی کی شکل میں، پاکستانی ٹیم نے گزشتہ ان 21 سالوں  میں ہوم  گراونڈ  خشک ہونے کے  باوجود بڑے بڑے ایونٹ جیتے بھی ہیں اور بڑی بڑی ٹیمز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست بھی  دی ہے ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن کا فائنل کھیلا ۔پھر 2009 کے دوسرے  ایڈیشن میں یونس خان کی قیادت میں ۔ٹرافی فضا میں بلند کی ،وقت گزرتا گیا پاکستان نے اپنا سفر جاری رکھا ۔2017 میں انگلینڈ میں مایوس قوم کو توقعات کے برعکس پاکستان نے فائنل میں سرفراز کی قیادت میں بھارت کو شکست فاش دیکر بڑے بڑے کرکٹ کے پنڈتوں کو حیران کر دیا،  وہ چمپیئن ٹرافی کسی اکیلے کھلاڑی نے نہیں جیتی تھی بلکہ سب نے جیت میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔اس میں ایک نام حسن علی کا بھی تھا۔

    حسن علی کسی تعارف کے محتاج نہیں  گلی کوچوں میں کرکٹ کھیل کر دنیا کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے ۔2جولائی 1994 میں منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہونے والے نوجوان  تیز گیند بازی سے بڑے بڑے بلے بازوں  کے پاوں اکھاڑ کر رکھ دئیے ۔حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جشن میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تماشائیوں نے بھر پور داد دی ،انہیں مسٹر جنریٹر بھی کہا جاتا ہے ۔سیلیکٹر نے 2017کے چمپیئن ٹرافی کے اسکواڈ میں جگہ دی ۔حسن علی نے اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھایا ۔اپنی سلیکشن کو 13 وکٹ لیکر ثابت کردیا پاکستان میں ٹیلنٹ کی  کوئی کمی نہیں ہے کمی ہے صرف بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی ۔حسن علی نے چمپیئن ٹرافی میں 5میچ کھیل کر  13 وکٹ لیئے ۔چمپیئن ٹرافی کا بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ یہ پاکستان کےلئے حسن علی کےلئے  اور پاکستانی قوم کےلئے ایک اعزاز بات ہے ۔وقت  ایک جیسا نہیں رہتا دوبئی میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں  شکست کے بعد کچھ لوگوں نے   ساری ذمہ داری حسن علی  پر ڈال رہے ہیں ۔صرف ایک کیچ نے حسن علی کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ۔افسوس مجھ سمیت پوری قوم کو ہے "کاش”حسن علی وہ کیچ پکڑ لیتے  نتیجہ کچھ اور ہوتا ،گرین شرٹس اس ٹورنامنٹ میں چمپئن کی طرح کھیلے اور مجھے فخر ہے گرین شرٹس کی پرفارمنس پر اور ہمیں ہونا چاہیے ۔ٹاس ہارنے کے بعد بابر اعظم اور رضوان نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا ایک بڑا اسکور کھڑا کیا جا سکتا تھا بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچری کی بدولت 176 رنز بنائے آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف  ایک اورقبل5وکٹ  پر مکمل کر لیا ۔
    آسٹریلیا بڑی ٹیم ہے ۔پریشر میں اچھا کھیل گئے شکست کے بعد گرین شرٹس کا سفر تمام ہوا
    شکست کے بعد  حسن علی پر تنقید کے نشتر چلائے گئے ،انہیں برا بھلا کہا گیا بہت سی گالیوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔مجھے  اس وقت حیرت ہوئی جب  حقیقت ٹی وی نے بہت غلیظ زبان استعمال کی اپنے ہیروز کی تذلیل کی۔ کیا حسن علی نے ایسا جان بوجھ کر کیا ؟۔ہر گز نہیں۔اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کوشش کے باوجود وہ پاکستان کےلئے کچھ نہ کرسکا ۔کیا ہم جیت میں اپنے ہیروز کو سپورٹ کریں گے ہار میں کیوں نہیں،  زندہ قومیں اپنے ہیروز کی تذلیل نہیں بلکہ ہار میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ، ہمیں بطور قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،   جس طرح جیت میں ان کے ساتھ تھے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اس  صدمہ سے باہر نکل سکیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں   ۔پاکستان زندہ باد

  • حسن علی کو لے کر انڈین پروپگینڈا تحریر عبدالوحید

     السلام علیکم ناظرین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سترہ اکتوبر کو دبئی میں شروع ہوا ۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیم کو گروپ بی میں رکھا گیا گروپ بی کا پہلا میچ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ میچ سے پہلے انڈین اور انڈین میڈیا اپنی ٹیم کی ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی تھی جیسا کوئی آسمان سے اتری ہوئی ٹیم ہو ۔ جب پہلا میچ کھیلا گیا تو پاکستان نے بہت بری طرح سے انڈیا کو شکست دی ۔ ایسی شکست جس کی تواقعات کسی انڈین کی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان اور بابر اعظم جم کر انڈین بولروں کی دھلائی کی۔ انڈین ٹیم کوئی بھی ایسا بولر نہیں تھا جو پاکستانی اوپنرز کو پویلین بھیج سکے۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے تاریخ رقم کردی۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل نیوزیلینڈ ، افغانستان، نیمبیا اور سکاٹلینڈ کو شکست دی ۔ پاکستانی ٹیم ایسی ٹیم بن کر ابھری جس کی تواقع کوئی نہیں کررہا تھا۔ پاکستانی اوپنرز ، مڈل آرڈر بیٹسمین سب اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ انڈیا اپنے پہلا میچ ہارا اس کے ساتھ دوسرے میچ میں بھی بری طرح شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا جو تیسرا میچ ہوا افغانستان کے ساتھ وہاں کے میچ میں ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ میچ فکس ہو۔ جب نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دی تو نیوزیلینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور انڈیا ٹورنا منٹ سے باہر ہوگیا ۔  دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تھا ۔ جب دوسرا سیمی فائنل میچ کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان کو کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔ اس دوسرے سیمی فائنل میں جب پاکستان فیلڈنگ کررہے تھا تو آخری اورر میں شاہین شاہ آفریدی کے تیسرے گیند پر جب حسن علی نے کیچ چھوڑا ۔ اس کے بعد میتھین ویڈ نے آخری تین بالوں پر تین چھکے لگا دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ہوئی ۔ اس تنقید کو بڑھاوا دینے کے لیے انڈین کا ایک پینل میدان میں اتر آیا ۔ اور  مذہب کا سہارا لے کر پاکستان میں شیا سنی فسادات کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا کہ حسن علی پر اس لیے تنقید کی جارہی ہے وہ شیا ہے ۔ حالانکہ حقائق بلکل مختلف تھے۔حسن علی پر تھوڑی بہت تنقید ضرور ہوئی

      لیکن وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ شیا ہے اور سنی نہیں ہے ۔ یہ تنقید ان کی اصلاح کے لیے تھی۔ میچ میں کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ہوئی تنقید۔ انڈیا کے وہ لوگ جو ہمیشہ چاہیے ہیں کہ وہ پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان میں سنی شیا فسادات کو پروان چڑھایا جائے ۔ اس سے پہلے انڈین کا ایک سابق میجر گورو آریا تھا وہ بھی اس قسم کے پلان کرتا رہا کہ کسی نا کسی طرح اس قسم کے فسادات کو بڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں امن کا ماحول خراب ہو اور خانہ جنگی پیدا ہوا ۔ انڈین جو ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں جس سے خون خرابا ہو۔ پاکستانیوں کو اب انڈین کے چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ ایسے پراپیگنڈا سے بچنا چاہیے جو پاکستان میں امن کے ماحول کو خراب 

     کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ حسن علی بھی  انسان ہے  اگرچہ اس سے یہ کیچ چھوٹا ہے تو اس میں کون سی  مذہب والی بات آگئی۔ یہ لوگ جو نفرت کو پاکستان میں اپلائی کرنا چاہتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں کسی پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھائیں گے تو دشمن ایسی طرح ہم پہ وار کریں کہ لہذا ہم ایک پاکستانی ایک قوم کی طرح رہنا چاہیے اور دشمن کے ہر چال کو ناکام بنانا چاہیے ۔پاکستان زندہ باد

  • محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

    محمدرضوان بن جائیں تحریر   ممتازعباس شگری

     وہ دو دن سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارٹ  میں   زیرعلاج تھا، ان کے منہ سے باربار ایک ہی لفظ نکل رہاتھاکہ مجھے اپنے فرض پر واپس جاناہے ، قوم نے مجھ پرایک فرض عائد کیاہے  میں   وہ فرض پوراکروں  گا، بھلا میں   اپنے فرض سے کیسے غافل ہوسکتاہوں ، ڈاکٹر اصرار کرتے رہے وہ انکار کرتے رہے ، ٹی وی اسکرینز پر سرخیاں  چلتی رہی آج ایک اہم رکن قومی فرائض پورا کرنے سے قاصر رہیں  گے لیکن اللہ کاکرنا ایساہوا وہ دو دن مکمل ہوتے ہی مکمل ٹھیک ہوگئے، اور ڈاکٹرزنے انہیں  اپنے فرض پر واپس جانے کی اجازت دے دی، وہ خوشی سے پھولاجا رہاتھاکیونکہ انہیں  ایک بار پھر قوم کی خدمت کاموقع ہاتھ آگیا تھا، انہوں  نے رب کاشکر ادا کیا اور فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے راہ کی جانب ایساگامزن ہوگیا کہ رہتی دنیا کیلئے مثال بن گیا، اور ہر جگہ سے واہ واہ کی صدائیں  بلند ہونے لگی، یہ نوجوان کوئی اور نہیں  پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے بار محمد رضوان ہے، محمد رضوان کا تعلق کے پی کے شہر پشاور سے ہیں ، یہ یکم جون 1992کو پیدا ہوئے ، بچپن سے ہی کرکٹ کا جنون سرپر سوار تھا، 140لسٹ اے میچز اور 161ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے بعد 17اپریل  2015کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ 24اپریل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا آغاز کیا، یہ آگے پچھلے مڑے بغیر اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوزرکھنے کی پوری کوشش کرتے رہے، پاکستان کرکٹ ٹیم  میں   مقابلہ سخت تھا، ہر نئے آنے والاکھلاڑی اپنی ردھم  میں   واپس آکر ٹیم  میں   جگہ بنانے کاخواہاں  تھا،انہیں  کئی بارمایوسی کاشکار اس لیے ہوناپڑاکیوں  کہ وہ فارم سے بالکل آوٹ ہوچکے تھے، یوں  ٹیم سے باہر کی ہوا بھی کھانی پڑی، یہ محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والاکھلاڑی ہے، مسلسل محنت کرتے رہے یوں  2019 میں   ٹیم  میں   واپس آگیا، اسی اثنا میں   وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد کی تنزلی کا آغاز ہوگیا،محمدرضوان مسلسل پرفارم کرتے رہے گیارہ فروری 2021کو لاہور  میں   ساوتھ آفریقہ کے خلاف 104رنز کی نایاب اننگز کھیل کر اپنی جگہ مزید مستحکم کر دیا، یہ یوں  قوم کی خاطر کھیلتے رہے ، 24اکتوبر کو پاکستان کا انڈیاکے خلاف ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی  میں   میچ طے تھا، شائقین کرکٹ سالوں  سے پٹاخے پھوڑنے کا انتظارکررہے تھے، شائقین کوامید تھی کہ اس بار یہ ٹیم وہ کام کردیکھائے گی جو  اب تک نہیں  ہوگا، پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ  میں   انڈیاکو کبھی ورلڈ کپ  میں   شکست سے دوچار نہیں  کیاتھا، لیکن یہ کارنامہ 24اکتوبر کی شام کو شاہینوں  نے کردیکھایا، انڈیاکی پوری ٹیم 151کی مجموعی اسکور پر ڈھیر ہوگی، ٹیم پاکستان نے سترہویں  آور میں  بغیر کسی وکٹ کے تقصان کے ہدف پوری کرکے تاریخ رقم کرلی،اس  میں   محمد رضوان نے 79رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، یہ وہ مرحلہ تھا پاکستان کاسر فخر سے بلندہوگیا، ٹیم نے پچھلے مڑ کرنہیں  دیکھی، بددستور  نیوزی لینڈ،افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، سیمی فائنل  میں   آسٹریلیا کے ساتھ 11اکتوبر کو پنچہ آزمانی کرنی تھی، لیکن میچ سے دو دن قبل ٹی وی اسکرینز پر خبریں  چلنے لگی، محمدرضوان اور شعیب ملک بیماری کی وجہ سے آسڑیلیاکے خلاف میچ نہیں  کھیل پائیں گے، میڈیاکو بھی معلوم نہیں  تھا کہ کیا ہورہاہے، 9اکتوبر کو محمد رضوان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی وہ دبئی کے میڈیور اسپتال کے آئی سی یو میں   داخل ہوگئے، انہیں  اپنی بیماری سے زیادہ قوم کی فکر تھی انہیں  قوم نے ایک مشن پہ بھیجا تھا وہ ذمہ داری کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار ہی نہیں تھا، ڈاکٹر علاج کرتے اصرار کرتے رہے یہ انکار کرتے رہے کہ مجھے ٹیم  میں  واپس جاکر آسڑیلیا کے خلاف میچ کھیلناہے ، یہ باتیں  اس وقت عیاں  ہوئی جب آسڑیلیا کے خلاف میچ کے بعد محمدرضوان کاعلاج کرنے والاڈاکٹر سہیر سین العابدین سے رضوان کے بارے  میں   پوچھاکیا، ڈاکٹر سہیرسین العابدین نے کہا  میں   رضوان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کہیں  انہیں  ہارٹ اٹیک تو نہیں  آیا،جب انہیں  اسپتال لایاگیا توان کی حالت بہت خراب تھی ، ان کے سینے  میں درد تھا، گلہ سکھ گیا تھا، بیماری کے انتہائی درجے پر پہنچ چکاتھا لیکن ان کا حوصلہ آسمانوں  سے باتیں  کررہاتھا انہیں  صرف اور صرف وطن کی فکر تھی، وطن کی لت نے انہیں  بستر بیمار پر بھی رہنے نہیں  دے رہاتھا، مسلسل 36گھنٹے آئی سی یو  میں   رکھنے کے بعد جب انہیں  واپس بھیجا جارہاتھا تو وہ ایک دم صحت یاب ہوچکے تھے  ۔  ڈاکٹر سہیر بھی ان کے اس حالت کو دیکھ کر حیران رہ گیا، محمدرضوان آئی سی یو سے نکل کرکٹ کے میدان  میں   آن پہنچا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل سترہ آورز پچ کر براجماں  رہے اور 79رنز کی نمایاں  اننگر کھیلی، دوران میچ آسڑیلیا کے باولر مچل اسٹاک کی باونسرکی وجہ سے چہرے پر داغ بھی لگا، لیکن وہ باونسر بھی ان کی راہ میں   حائل نہ ہوسکے،میچ  میں   آسڑیلیا نے پاکستان کو شکست تو دے دی لیکن رضوان کی کارکردگی اور وطن سے محبت نے دنیا ئے کرکٹ کے ستاروں  سمیت شائقین کو حیران کردیا،
    آپ نے کئی بار ایسی ویڈیو کلپ یا تصویر دیکھی ہوگی جس  میں   محمدرضوان میچ کے دوران نماز پڑھتے دیکھائی دیتاہے، چاہیے وہ بھارت کے خلاف میچ ہو یا پریکٹس سیشن ، دین سے قربت اور وطن سے محبت کی اس عمدہ مثال کیوجہ سے محمدرضوان دنیاجہاں   میں   آمر کرگیا، انہیں  دنیائے کرکٹ کی تاریخ  میں   آئی سی یوسے نکل کر مردمیدان بننے والے کھلاڑی کے نام سے یاد کیاجائے گا، اسی فرض شناسی اور اپنے شعبے سے محبت نے دنیاجہاں  کو جھومنے اور واہ واہ کرنے پر مجبور کردیا، پاکستان ورلڈ کپ تونہیں  جیت سکا لیکن ورلڈ کپ سے بڑا کارنامہ انجام دے کر عالم انسانیت کی محبتیں  سمیٹ لیں  ۔  
     آپ ایک دن پورے ملک  میں   موجود اداروں  کا ڈینانکال کر دیکھ لیں  ، جہاں  کام کرنے والے کتنے افراد فرض شناسی کے ساتھ اپناکام سر انجام دیتے ہیں  ، آپ یقین کرلیں  بیس فیصد ایسے لوگ ہوں  گے جو اپنے فرض کو پورا کرتے ہوئے تنخواہ حلال کرنے کی سعی کرتاہے،ہم  میں   سے ہرایک اپنے فرض سے غافل ہے، جب بھی فرصت ملے اپنا فرض چھوڑ دیتے ہیں  ، اس ضمن  میں   سب سے زیادہ افراد گورنمنٹ سیکٹر  میں   کام کرنے والے ملازمین کی ہے ، انہیں  نہ خوف خداہوتاہے نہ خوف انسان ، انہیں  معلوم ہے ہماری نوکری لگ گئی اب کوئی بھی یہ نہیں  چھین سکتا، ایساکیوں  ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان صرف نام کامسلمان رہ گیا ہے، ہمیں   اپنے فرائض معلوم ہی نہیں  ، ہم صرف گورنمنٹ کو کرپٹ کہنے  میں   مصروف ہے، دراصل ہم  میں   سے ہرایک کرپٹ ہے ہمیں   بس موقع ملنے کی دیر ہے،ہم کرپشن کی داستانیں  بناکردم لیں  گے ۔  جس دن اس ملک کا ہر فرد اپنے اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے محمدرضوان بن جائے گا اس دن یقین جانیں  ملک ترقی کی راہوں  پر داخل ہوگا اور پوری دنیا  میں  ہماری واہ وہ ہوں  گے  

  • جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    جیت کا جشن: آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جوتے میں مشروب پینے کی ویڈیو وائرل

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں فتح کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں منفرد انداز میں جشن منانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو یک طرفہ مقابلے کے بعد با آسانی شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔


    کینگروز نے اپنی فتح کے بعد جہاں میدان میں اور ڈھول کی تھاپ پر خوب جشن منایا وہیں ڈریسنگ روم میں انوکھے انداز میں جشن منانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ڈریسنگ روم میں جشن منانے کی ویڈیو آئی سی سی کی جانب سے شیئر کی گئی جس میں اپنی فتح پر انتہائی خوش میتھیو ویڈ نے ایک عجیب انداز اپنایا اور اپنا جوتا اتار کر اس میں مشروب پیا۔

    میتھیو ویڈ کے اس انداز پر ان کے کچھ ساتھی کرکٹرز بھی ان کے ساتھ ہولیے اور ان ہی کے جوتے میں مشروب پیا آسٹریلوی کھلاڑیوں کی اس عجیب اندازمیں جشن منانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

  • دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    مدھیہ پردیش: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع بھینڈ میں مالک نے دودھ نہ دینے پر اپنی ہی بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھینڈ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بابو اپنی بھینس کے دودھ نہ دینے پر شدید پریشانی میں مبتلا تھے، گاؤں والوں کے مشورے پر انہوں نے اس پریشانی سے نکلنے کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارت: گائے کے لئے پہلی ایمبولینس سروس شروع

    بابو اپنی بھینس کے ہمراہ پولیس اسٹیشن جا پہنچے جہاں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ میری بھینس پچھلے کئی دنوں سے دودھ نہیں دے رہی، میں جب بھی دودھ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں وہ مجھے مارنے کو آتی ہے، مجھے شبہ ہے کہ کسی نے میری بھینس پر جادو کروا دیا ہے۔

    بابو کی بھینس کو پولیس اسٹیشن لے جانے کی ویڈیو بھارت میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی ہے بھینس کے خلاف شکایت درج کروانے کے کچھ ہی دنوں بعد بھینس نے دوبارہ سے دودھ دینا شروع کردیا جس پر بابو پولیس اسٹیشن گئے اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیر لکشمی نارائن چوہدری نے بیمار گائے کے لیے پہلی ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق 112 ایمرجنسی سروس نمبر کی طرح نئی سروس بیمار گائے کے فوری علاج کی راہ ہموار کرے گی لکشمی نارائن چوہدری کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت 515 ایمبولینسں نئی اسکیم کے لیے تیار ہیں۔

    بھارتی وزیر نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر اور دو معاونین کے ساتھ یہ ایمبولینس سروس 15 سے 20 منٹ کے اندر بیمار گائے کے پاس پہنچ جائے گی اسکیم کے تحت شکایات وصول کرنے کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر قائم کیا جائے گا جو دسمبر تک شروع ہو جائے گا۔

  • ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    مشہور کمپنی کیویئر نے آئی فون 13 کی کیسنگ میں ٹی ریکس ڈائنوسار کے اصلی دانت کا ایک ٹکڑا لگایا ہے۔

    فون کیسنگ کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کیویئر کمپنی نے کہا ہے کہ کیسنگ کا ڈیزائن ان ک بہترین فنکاروں نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے اندر 24 قیراط سونے کی چادر لگائی گئی ہے جس کی چمک آسمانی بجلی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ سیاہ رنگ میں ڈائنوسار کا ابھرا ہوا سر دیکھا اور ہاتھ لگا کر محسوس کیا جاسکتا ہےسر پر ٹائٹانیئم کا ورق لگایا گیا ہے

    ڈائنوسار کی آنکھ اصلی عنبر پر مشتمل ہے جو خود لاکھوں کروڑوں سال پرانا ہے ۔ دوسری جانب آٹھ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار ٹی ریکس کے دانت کا ایک ٹکڑا لگایا گیا ہے۔

    اگرچہ دانت چھوٹا سا ہے لیکن اس کی قیمت 8 ہزار ڈالر سے زائد ہے اسے ٹائرانوفون کا خوبصورت نام دیتے ہوئے اس کی بعض تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ کمپنی نے آئی فون 13 اور آئی فون 13 پرو اور میکس ماڈلوں کی کیسنگ پر خوبصورت نقش کاڑھے ہیں جو فون کو ایک بالکل نیا روپ دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ ایک محدود ایڈیشن ہے جسے سات کی تعداد میں بنایا گیا ہے آئی فون 13 کیس کی قیمت 15 لاکھ روپے اور آئی فون 13 پرو کیس کی قیمت 16 لاکھ روپے کے برابر ہے۔