Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دجال کی آمد       تحریر: چودھری احسن رضا جٹ

    دجال کی آمد تحریر: چودھری احسن رضا جٹ

    دجال کی آمد

    "‏سعودی عرب کا بڑا اعلان

    سعودی عرب نے غیر ملکیوں کو دو مقدس شہروں مکة المکرمہ اور مدینة المنورہ میں رہائشی اور تجارتی عمارات کی خریداری کی اجازت دے دی، سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے سعودی حکومت کے فیصلے کی توثیق کر دی”-

    یہ فیصلہ سعودی حکومت نے گزشتہ سوموار کو کیا۔یہ حقیقت ہے کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی میں آزادنہ اختیار رکھتا ہے،مگر تمام مسّلم امّہ کے مقدس مقامات: مکة المکرمہ اور مدینة المنورہ آتے تو سعودی حدود میں ہیں مگر ان کی حفاظت اور حفاظت کو یقینی بنانا تمام مسلمانوں کی ذمداری ہے۔

    احادیث کی روشنی میں دجال کی آمد:
    ‎انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی ایسا علاقہ نہیں ہوگا جسے دجال نہ روند سکے ، مکہ اور مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے ننگی تلواریں سونتے ہوۓ پہرا دیں گے ، پھر مدینہ اپنے مکینوں کے ساتھ تین مرتبہ ہلے گا تو اللہ تعالی ہر کافر اور منافق کو مدینہ سے نکال دے گا)
    صحیح بخاری(١٨٨١)،صحیح مسّلم(٢٩۴٣)

    ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوۓ فرمایا :
    ( دجال کا ظہور مشرقی جانب کے ایک شہر خراسان سے نکلےگا )
    سنن ترمذی(٢٢٣٧)

    جب جرمنی کے ڈکٹیٹر”ہٹلر” کے مظالم سے تنگ آ کر یہودیوں نے پناہ مانگی تو اکثر ممالک انکار کر چکے تھے۔تو بلاآخر فلسطین نے پناہ دی۔تو پہر ساری دنیا نے دیکھا کہ یہودی دیکھتے دیکھتے تقریبً فلسطین کے ٧٨ فیصد علاقہ پر قابض ہو گئے۔نہ صرف فلسطین پر بلکہ اب تو آدھی سے زیادہ دنیا کی معیشت پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔وجہ کیا ہے؟؟؟ دراصل اسرائیل کا ہر شہری "ہنر مند” ہے۔جس کی وجہ سے وہ دنیا کی معیشت پر اثر رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تسلسل سے مختلف ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروایا: جس میں مسّلم ممالک بھی شامل تھے.بحرین،اسرائیل اور یواےای کے مابین اس معاہدے کو "ابراهام اککورڈ” کا نام دیا گیا۔

    اب سعودی عرب ٢٠٣٠ میں معیشت کے مستقبل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک دنیا کا ماڈرن ترین نیا شہر "نیوم” بنا رہا ہے۔جس کا اعلان شہزادہ محمّد بن سلمان نے ٢٠١٧ میں کیا تھا:اس شہر کا کل رقبہ ٢٦,۵٠٠ اسکوائر کلومیٹر ہے۔نیوم سے مدینہ کے درمیان فاصلہ ٦٣٧ کلومیٹر ہے اور نیوم سے مکہ کے درمیان کا فاصلہ ٩١٣ کلومیٹر ہے۔اس شہر کے ذریعے اردن اور مصر بمقابلہ سعودی عرب کو جوڑیں گے۔اردن اسرائیل کی مشرقی سرحد پر واقع ہے جب کہ اس کے جنوب مغرب میں مصر واقع ہے۔یہ واضح ہے کہ "نیوم” شہر میں یہودی ہر طرح کی ٹیکنالوجی اور ماڈرن اشیا کے ساتھ ساتھ فحش کو بھی لے کر آ رہے ہیں،یہ سعودی حکومت نے طے پا لیا ہے۔(یاد رہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے وہ "گریٹر اسرائیل” بنا کر رہیں گے)۔اسی لیے مرزا محمود سرحدی نے کہا:

    اے ساقی گل فام بُرا ہو ترا،تو نے
    باتوں میں لُبها کر ہمیں وہ جام پلايا
    یہ حال ہے سو سال غلامی میں بسر کی
    اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا

    سعودی عرب کی ٨۵ فیصد جی ڈی پی محض تيل پر منحصر ہے؛سعودی عرب کو اب معیشی لہذا سے مدد کی ضرورت ہے(اس لیے "نیوم” شہر بنانے پر مجبور ہے)۔جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ او آئی سی کا اجلاس طلب ہو اور اس میں تمام مسّلم ممالک کی تجارت کو آپس میں فروغ دینے،اور ہر مسّلم ملک میں سائنس،ٹیکنالوجی،طب،ادب اور ثقافت کی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے پر غور کیا جاۓ:یوں سارے مسّلم ممالک معاشی اعتبار سے مضبوط ہو کر آزادنہ طور پر حرم اور طیبہ کی حفاظت کے فرض کو پورا کریں۔

  • اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    اپوزیشن کے سیاسی پینترے ، مشکلات بڑھ گئیں .تحریر:نوید شیخ

    ان دنوں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں شاید اسی کے ممکنہ انجام کو بھانپ کر ہماری سیاسی قیادت ایک بار پھر سے سرگرم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس وقت اپوزیشن کی باڈی لینگوئج ان کے پرجوش اور پر اعتماد ہونے کا پتہ دے رہی ہے۔ تو دوسری جانب وزرا اور حکومتی ارکان ماضی کے چونچلوں کے برعکس مرجھائے ہوئے ہیں ۔ بلکہ چڑیل کے مطابق بہت سے شعبدہ بازوں نے تو دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا بھی شروع کر دیے ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے علاوہ کسی کے ساتھ سچے نہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جب پیچھے مڑکردیکھیں گے تو بہت سے ایسا وزراء اور مشیر غائب ہوں گے ۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ عمران خان کو رگڑا لگا رہے ہوں اور کپتان کو کرپٹ خان ثابت کر رہے ہوں۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور یہ بالکل کھل کر اور واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی سے مراد حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس وقت حکومت کے لیے نہ صرف حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب حکومت کا بچنا مشکل ہوگا۔ شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے آپسی رابطے بڑھتے جارہے ہیں۔ آج بھی بلاول مولانا فضل الرحمان سے ملنے ان کی رہائش گاہ گئے ۔ اس موقع پر بلاول نے مولانا سے کہا ہے کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، تین نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ مولانا کا کہنا تھا کہ ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ۔ آپ حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکستیں کو دیکھیں تو یہ اپوزیشن کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ویسے حکومت کوتو آئے روز ہر محاذ پر شکست ہی ہورہی ہے۔ عمران خان کے دیے گئے ظہرانے میں صرف 70 سے 75لوگ آئے ۔ اس خبر نے تو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ مجبوراً رات کے اندھیرے میں اکیلا اکیلا اب ایم این ایز سے ملا جا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے ہیں کہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔

    یوں تین سال میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کسی محاذ پر شکست دینے کے قابل ہوئی ہے۔ اب لوگ تو سوال کر رہے ہیں کہ کوئی تو طاقت تھی جو پہلے ارکان کو حاضر کر دیتی تھی لیکن اس بار عمران خان کے پاس وہ طاقت نہیں تھی۔ اس لیے ان کے اپنے ارکان ہی نہیں آئے۔ ان کے اتحادیوں نے بھی اب زبانیں کھولنی شروع کر دی ہیں ۔ آپ دیکھیں وہ اتحادی جوکوئی بات نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ اب کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ نئی تبدیلی ہے ۔ پھرعمران خان چاہے اپوزیشن لیڈروں سے ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں ۔ ان کے مشیرو ترجمان جتنے مرضی سخت بیانات دیتے رہیں ۔ پر آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ جس میں اپوزیشن لیڈر سے انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر اہم قوانین پر اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ لفظ اپیل پر غور کریں ۔ اب کیا عوام یہ سمجھے کے عمران خان اور پی ٹی آئی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کرپٹ ٹولے کے سامنے ڈھیر ہوگئی ہے ۔ یا لیٹ گئی ہے ۔ یعنی جب بات اپنے آپ پر آجائے تو سب کچھ جائز ہوجاتا ہے ۔ ویسے چاہے آپ دنیا جہاں کی مثالیں دیتے رہیں کہ سیاست کیسے ہوتی ہے ۔ اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ۔ کتنا عجیب ہے کہ وہ کپتان جو اقتدار کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی بھاشن دیا کرتا تھا اب کرسی بچانے کے لیے شہباز شریف کے پیر پکڑنے کو بھی راضی دیکھائی دیتا ہے ۔ پر میں ایک بات جانتا ہوں کہ وہ کپتان ہی کیا جو یوٹرن نہ لے ۔ پارلیمنٹ کی اندر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان نیا سیاسی رومانس بھی دیکھنے کومل رہا ہے۔ ۔ جب کہ مزاحمت یا ٹکراؤ یا سڑکوں کی سیاست جس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے میں نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ پہلا وار ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین سینیٹ پر ہونے والا ہے ۔

    ۔ پھر جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے اس پر کھیل کافی دلچسپ ہے۔ جے یو آئی ف تو اعلانیہ طور پر کسی بھی طرح کی ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں۔ آج بھی مولانا نے یہ ہی بات کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ختم کرکے نئے عام انتخابات کرانے کے مطالبے پر قائم ہے۔ مسلم لیگ ن بشمول مصالحتی گروپ بھی ایسے کسی اقدام کا ہرگز حصہ نہیں بننا چاہتا جس سے عمران خان کو عدم مقبولیت کی موجودہ سطح پر بھی سیاسی شہید بننے کا موقع ملے۔ پیپلز پارٹی مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب میں یہ کھیل کھیلنے کے بعد ہم مرکز کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اہم افراد پنجاب میں تبدیلی کے حامی نہیں۔ اس کھیل میں بڑی رکاوٹ بھی نواز شریف اورمریم نواز ہیں۔ شریف خاندان کسی بھی صورت میں پنجاب کی سطح پر چوہدری برادران کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن یہ بھی سمجھتی ہے کہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور مرکزمیں تبدیلی کی صورت میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کا سارا غصہ نئی حکومت پر پڑے گا اور ہم بھی کوئی بڑا معاشی ریلیف لوگوں کو نہیں دے سکیں گے۔اس لیے ان کے بقول درست حکمت عملی یا آپشن نئے انتخابات کا راستہ ہی ہوسکتا ہے ۔ پر ایک چیز جس پر اپوزیشن ایک پیج پر دیکھائی دیتی ہے کہ ۔ ان کا ہدف عمران خان ہے۔ اس لیے اب نشانہ عمران خان ہی ہوگا۔ باقی سب باتیں ختم ہو گئی ہیں۔ فی الحال عمران خان کے پاس اپوزیشن کی کسی سیاسی چال کا جواب نہیں ہے ۔ اگر ایک طرف سڑکوں پر میدان سجے گا تو دوسری طرف پارلیمنٹ میں میدان سج گیا ہے۔ بہر حال موجودہ فتح کا کریڈٹ شہباز شریف کو ہی جاتا ہے۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں آنے والے دنوں میں سب کو معلوم ہوجائے گا ۔ پھرحکومت کی اہم اتحادی ایم کیو ایم اور ق لیگ کے گلے شکوے بھی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ واضح طور پر سیاسی فضا میں ایک تبدیلی محسوس کی جارہی ہے جو کہ کسی صورت بھی حکومت کے لیے مثبت نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں یہ ایسی منفرد حکومت ہے کہ اس کے اتحادی بھی آنکھیں دکھاتے ہیں اور کبھی کبھار تو اپنے وزراء ہی آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اتفاق رائے کی طرف نہیں بڑھتے۔ نجانے کیوں حکومت نے یہ تماشا لگا رکھا ہے۔ اگر زبانوں کا استعمال کم کر کے دماغوں کا استعمال بڑھایا جائے، بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دی جائے تو یقینی طور پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ لیکن حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انہوں نے کوئی سیدھا کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں کرنا بلکہ ہر وقت تنازعات میں الجھے رہنا ہے۔۔ میں پہلے بتا رہا ہوں کہ حکومت کو تیار رہنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتحادی بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اتحادیوں کا موڈ بدل گیا تو کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ویسے جو حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی وہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیسے حل کر سکتی ہے۔ دوسری جانب جہاں آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 176 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تو وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کے تین سال کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسائل کی ایک دلدل ہے جس میں پاکستان دھنستا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اب مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی اپنے پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں ۔ پر ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا عوام یا غریب لوگ بھی عمران خان کے یہ پانچ سال پورے کریں گے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

    ۔ آج ملک بھر میں عوام انتہا درجے کی مہنگائی اور بے حساب بیروزگاری کے ہاتھوں زچ ہوکر جھولیاں اٹھائے آسمان کی جانب آنکھیں جمائے نظر آتے ہیں۔ ۔ پھر بہت سے لوگ مجھے جب ملتے ہیں تو گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ مسائل بتاتے ہیں کبھی حل بھی بتا دیا کریں تو ۔۔۔ احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے فی خاندان دے کر نہ تو ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشی ترقی۔ البتہ ملک مزید مقروض ہوتا جائے گا۔ اس سے بہتر ہے کہ عوام کو ہر مہینے یا تین ماہ بعد مچھلی دینے کے بجائے کانٹا اور دیگر سامان دے کر مچھلی پکڑنا سکھایا جائے۔ یعنی چھوٹے کاروبار کروائے جائیں۔ تاکہ غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے’’اخوت‘‘ سے رہنمائی لینی چاہیے۔ جس نے لاکھوں افراد کو برسرروزگار کر دیا ہے۔ اور اس کے وسائل بھی محفوظ ہیں۔ حکمرانوں کو مجموعی طور پر خوددار بننا ہوگا۔ عالمی اور قومی اداروں سے بھیک مانگنے اور دوسروں کا حق اور مال ہڑپ کرنے کے بجائے حرام و حلال اور جائز و ناجائز کا خیال رکھنا ہوگا۔ یاد رکھیں اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ حکمران ہیں ۔ چاہے وہ موجودہ ہوں یا پرانے ۔۔۔ یہ جب مسند اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اپنے خاندان ، اپنی پارٹی، اپنے دوست اور اپنی ذات سے باہر ان کو کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا تو ملک اور عوام کے حالات کیسے بہتر ہوں گے ۔ یوں سب سے بڑا مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے ۔ اس لیے ایک بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگ تبدیلی سے تنگ آ چکے ہیں۔ جہاں بھی جاؤ لوگوں کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت گھر کب جائے گی

  • حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    حکمرانوں کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ، تحریر: نوید شیخ

    جس حساب سے حکومت کے صفوں میں تھرتھرلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ یوم حساب قریب ہے ۔ جو کبھی عمران خان دوسروں سے حساب مانگا کرتے تھے ۔ اب زبان زدعام ہے اور اس حکومت سے ساڑھے تین سالوں کا حساب مانگا جانے لگا ہے ۔ پھر ایک جانب جہاں پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے اور جلوس نکالنا شروع کر دیے ہیں۔ تو پی ٹی آئی نے بھی جلسے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ آج مولانا نے کراچی میں تو پی ٹی آئی نے کرک میں کھڑاک کیے ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت خود جلسے کر رہی ہے۔ اسے تو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ سونے ہر سہاگا وفاقی وزراء نے خاص طور پر اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف محاذ گرم کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب جو کل سے لے کر آج تک وفاقی وزراء کے بیانات میری نظر سے گزری ہیں ۔ اس کے بعد محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ عوام کے بعد حکومت نے بھی گھبرانا شروع کر دیا ہے ۔ جیسے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ساری اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں پر مشتمل ہے، ان کو طاقت کی گولیاں چاہئیں، یہ کھڑے ہوتے ہیں پھر گر جاتے ہیں۔ تو اسد عمر نے میڈیا پر سخت تنقید کی اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے ڈالی کہ میڈیا والے پی ڈی ایم والوں کے سہولت کار ہیں۔ پھر یہ بھی کہا کہ ان کو میرا پیغام ہے۔ لانگ مارچ کا سوچنا بھی نہ ۔ یہاں آو گے تو بڑی کٹ پڑے گی۔

    پھر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ لوٹا ہوا مال بچانے کےلئے پھر سب ایک ہورہے ہیں۔ نوازشریف تابوت میں تو آسکتے ہیں۔ زندہ آئے تو جیل جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے۔ تومراد سعید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے موسمی بیماری ہیں، یہ سردیوں میں نکل آتے ہیں۔ پھر پرانے کھلاڑی شیخ رشید اور نئے نئے وزیر فرخ حبیب نے بھی خوب شگوفے چھوڑے ۔ ویسے یہ گنے چنے وزیر ہیں ۔ پرباقی سب اس بے یقینی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں اور کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ جو اب بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ پانچ سال پورے کرنے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کن حالات میں پورے کرنے ہیں اور پانچ سال بعد عوام کے پاس کیا منہ لے کر جانا ہے۔ یہ وزیروں کے بیانات اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینا ایک جانب پر اسی افراتفری میں نیب کی طرف سے ایک بار پھر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آگئی ہیں ۔ یاد رکھیں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور لوگ اس کو حکومت کی حالیہ ایوان میں شکست سے جوڑ رہے ہیں ۔ اس پر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف کا نام ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل میں ڈالیں ۔ عمران خان بس آٹا، چینی،بجلی،گیس،دوائی مافیا کو آرڈیننس لا کراین آر اودیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ حکومت اب جان چکی ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ اس لیے حکومت اپنے لیے سدباب کے طور پر نیب کو رول بیک کرنے کا قانون لا رہی ہے۔ پھر پرویز الٰہی بھی دل میں موجود شکوے زبان پرلے آئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم وفاق کا ساتھ نبھا رہے ہیں ۔ یہ ہمارا ساتھ نہیں نبھا رہے ۔ اب ان بیانات اور سیاسی منظر نامے کے بعد حکومت کا گھبرانا تو بنتا ہے ۔ یوں عمران خان حکومت کو فی الوقت ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا اسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ بس چھوٹ گئی ہے ۔ اب پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے تباہی ہی تباہی دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ چینی کا بحران ختم نہیں ہوا تھا کہ آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ پیر سے اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں، ہر سال کوئی نہ کوئی وجہ بناکر کبھی آٹے، چینی تو کبھی ٹماٹر، پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ جس کا سارا فائدہ منافع خور اور ذخیر ہ اندوز اٹھاتے ہیں اور عام آدمی خسارے میں ہی رہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں حکومتی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی البتہ مہنگائی کا نوٹس لینے کے اعلانات بارہا میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    ۔ یوں بگڑتی معاشی صورتحال، مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مزید بے قدری اور حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا مثبت نتیجہ آنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف دباؤ ہی نہیں بڑھ گیا ہے۔ لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔ اب لوگ اس حکومت کی تبدیلی کی بات یوں کررہے ہیں جیسے کپڑے بدلتے ہوں ۔ کیونکہ عوام اب تھک چکے ہیں اور امیدیں دم توڑگئی ہیں۔ اس لیے اب ہر دوسرا بندہ یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت دلدل میں پھنس چکی ہے اور ساحل تک آنے سے پہلے ہی ڈوبنے کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی لوگ تو قیاس کر رہے ہیں کہ گزشتہ ماہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کے نتیجے میں عمران خان اپنی بڑی حمایت کھو چکے ہیں اور اب یہ چند ماہ کی کہانی رہ گئی ہے کہ حکومت شاید چلی جائے۔ اب چاہے یہ قیاس آرائیاں درست ہیں یا نہیں لیکن عمران خان اور ان کی حکومت کیلئے درپیش چیلنجز انتہائی سنگین ہیں۔ حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سی باتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ گراونڈ پر سب اچھا نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں، جب اپنے بھی آنکھیں دکھانے لگیں تو سمجھو حکومت کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ معاملات کسی اور طرف جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں ایک مقبول حکومت کے ساتھ کبھی ایسے معاملات نہیں ہوتے۔عوامی سطح پر جس حکومت کو مقبولیت حاصل ہو، اُسے کوئی آنکھیں نہیں دکھاتا، خود اسٹیبلشمنٹ بھی اُس کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی ہے۔عمران خان کو شاید علم نہیں کہ خود اُن کے ارکانِ اسمبلی اس وقت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں درحقیقت عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں زچ آئے ہوئے عوام کو لمبی لمبی تقریروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معاشی شعبے میں کوئی ریلیف نہ دے سکے۔ یہ ناکامی موجودہ حکومت ایسی گلے پڑی ہے کہ اب طوق بن گئی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں ہوا،جس سے عوام کوئی سُکھ کا سانس لے سکے۔ تاہم اسلام آباد کے حالات میں ایک واضح ہلچل نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اس طرح متحرک ہونا اور ایک دوسرے سے مل جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔کل تک ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے،اب ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ حکومت جس کے وزیراعظم کہتے ہیں وہ اپوزیشن سے ہاتھ تو ملانا نہیں چاہتے اب سپیکر اور وزراء کے ذریعے اُسی اپوزیشن سے تعاون کی بھیک مانگ رہی ہے۔ کوئی بعید نہیں ان حالات میں اپوزیشن یہ شرط بھی رکھ دے کہ وزیراعظم آ کر اُن سے مذاکرات کریں۔ تب وہ قانون سازی میں تعاون کریں گے،ایسا ہوا تو وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانا مجبوری بن جائے گی۔

    ۔ پھر عمران خان نے جس طرح2018ء میں انتخابات جیتنے کے لئے جو الیکٹیبلز کے پیوند لگائے تھے اُس کے نتائج وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ بلکہ لوگ تو قبل از وقت ہی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر فرض کریں پی ٹی آئی پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا حکومت وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ تو کیا تحریک انصاف میں یہ سب لوگ رہیں گے۔ جو اب ہیں ۔ کیا اس جماعت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا۔ کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ثابت کیا ہے۔ مشکل حالات میں بھی لوگ اُن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے تو اپنے دور میں ارکانِ اسمبلی آنکھیں دکھاتے اور فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ اب تو حالات بھی ایسے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نجی دوستوں کی محفلوں میں کہتے ہیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ میری نظر میں وقت تیزی سے گزر چکا اور گزر رہا ہے ۔ اب بھی اگر اہل اقتدار اسی طرح مدح سرائی کے نشے میں لت ہو کر تقریروں سے عوام کا پیٹ بھرتے رہے اور عملی طور پر کام نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام لیوا بھی کوئی نہ ہو گا۔ فی الحال حکومتی کشتی کے سوار اپنا سامان اتار رہے ہیں اور نئے مسافر تیاری پکڑ رہے ہیں۔۔ افسوس کہ کچھ کر کے کسی انجام سے دوچار ہونا الگ بات تھی۔ موجودہ حکمران تو محض رنگ بازی، شعبدہ بازی، جھوٹ، منافقت، بدعنوانی، ہوس اقتدار اور محسن کشی کی دلدل میں ایسے اترے کہ عبرت بن گئے۔ اب حقیقت یہی ہے کہ حکمرانوں ہی نہیں ان کے نظریہ تبدیلی کا بھی یوٹرن ہے جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ میرے خیال سے ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ملک کو موجودہ نازک بحرانوں سے نکالنے کے لئے آزاد انہ ،غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کی ضرورت ہے

  • ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
    زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
    نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال

  • پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    لاہور: پی ایس ایل سیزن 2022 کے لیے تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس بار پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مجوزہ ہے، دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم سے متصل ایل سی سی اے گراونڈ کے ایک کونے پر صفائی کرواکر فینز کی دلچسپی کے لیے بہت بڑا بیٹ اور وکٹیں نصب کی گئی ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے کلب کے بالکل سامنے 20 فٹ لمبا اور 3 فٹ چوڑا فائبر کا بیٹ تیار کیا گیا ہے، اس کے ساتھ 12 فٹ اونچی اور 6 فٹ چوڑی بیلز کے ساتھ وکٹیں بھی لگائی گئی ہے، ان کی تزئین و آرائش کا کام بھی ہورہا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈکپ میں اپنا سفر ختم کرنے کے بعد 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لیے دبئی سے بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے تاہم ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شعیب ملک 16 نومبر کو ڈھاکا میں اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔

    جبکہ آج دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    پاکستان نےناقابل یقین حد تک اچھی کرکٹ کھیلی :حسین…

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    نعمان نیاز اور شعیب اختر میں صلح ہوگئی:اب تبصرے ، تجزیئے اورپراپیگنڈہ بند ہوجانا…

  • خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین و 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے Follistatin پٹھوں کے ریشوں کی تشکیل اور نشوونما کے لیے ضروری ہے-

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    تحقیق کے مطابق اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

    تحقیق مین ماہرین کو ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آج دبئی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے ٹی 20 کا نیا چیمپئن کون ہو گا اس کا فیصلہ آج ہو گا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہو گا۔

    آسٹریلیا پاکستان کو اور نیوزی لینڈ انگلینڈ کو ہرا کر فائنل میں پہنچا ہے دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کرنے والی انگلش ٹیم جبکہ نیوزی لینڈ نے ناقابلِ شکست پاکستانی ٹیم کوہرایا ہے۔

    فائنل سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے ان فارم وکٹ کیپر بیٹر ڈیون کونوے زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل سے باہر ہو گئے ہیں

    تاہم نیوزی لینڈ کے بالرز ٹرینٹ بولٹ اور ایش سودھی آخری میچ میں آسٹریلیا کو قابو کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے جبکہ آسٹریلیا کے اسٹارک اور زیمپا بھی کافی پرجوش نظر آرہے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 138 ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں آسٹریلیا نے 92، نیوزی لینڈ نے 39 جیتے اور 7 میچ بے نتیجہ رہے۔

  • تابش کی تشنگی !  تحریر : تابش عباسی

    اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔ 

    پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔ 

    آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟ 

    وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے – 

    آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –

    حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-

    بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے – 

    نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا – 

  • رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع					  تحریر:یاسرشہزادتنولی

    رائے ونڈ….مسلمانوں کاعظیم الشان اجتماع تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    رائے ونڈ ایک گمنام جگہ تھی لیکن تبلیغی جماعت کی محنت نے اسے پوری دنیا میں متعارف کرادیا،آج دنیا کے کونے کونے سے لوگ رائے ونڈ آکر دین اسلام کی فکر اور حضورنبی کریم ﷺکی محنت کا طریقہ سیکھ کر دین کی محنت میں لگ جاتے ہیں،یہاں سے ہرسال بے شمار جماعتیں نکل کر پوری دینامیں جاتی ہیں اور دین اسلام کی آفاقی دعوت دینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، دین اسلام کے مبلغ اول جناب رسول اللہ ﷺہیں، جنہوں نے مکہ جیسے مخالفین کے بھرے شہر میں بے شمار سختیاں برداشت کرکے دین اسلام کی محنت شروع فرمائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دنیا میں پھیل کر روئے زمین کا سب بڑامذہب بن گیا،جناب رسول اللہ ﷺکے بعد خلفائے راشدین نے دین اسلام کے دامن کو مزید وسعت دے کر چین سے فرانس،ہسپانیہ کے جزائر،افریقہ کے جنگلات اور مراکش کے آخری کونے تک اسلامی تعلیمات کا جال پھیلادیا،اس کے بعد مسلمان حکمران،مجاہدین اسلام،مبلغین،علماء،صوفیا ء اوردردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی محنتوں سے اسلام کی شمع جلتی رہی،برصغیرپاک وہندمیں انگریز ی دوراقتدارمیں اسلام کی شمع ٹمٹمانے لگی ہندوستان کے بعض دیہات خصوصاًمیوات میں اسلام برائے نام رہ گیا تھا،1923ء انتہائی متعصب ہندوتحریک شدھی سنگٹھن نے ہزاروں مسلمانوں کو زبردستی اسلام سے برگشتہ کیا،جس مسلمان علمائے کرام دلوں کو شدید دچھکا پہنچا،ہمارے اکابر حضرت مولاناانورشاہ کشمیریؒ،مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ،مولاناشبیر احمدعثمانی ؒ،مولاناسید حسین احمدمدنی ؒ، دہلویؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناشمس الحق افغانی ؒ،امام الہند مولاناابولکلام آزادؒ،مولانامحمد الیاس دہلویؒ،مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوریؒ،امیر شریعت مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اوردیگر اکابرین امت نے اس طوفان کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کی بھرپور محنت کی جس کی بدولت ہزاروں مسلمان اپنے دین کی طرف واپس آگئے،ان حالات میں مولانامحمدالیاس دہلویؒ نے ایک مستقل ایمانی تحریک برپا کرکے مسلمانوں کو مستقل دین اسلام کی دعوت میں بھرپور طریقے سے لگانے کی سوچ وفکر کا آغاز کیا،علماء کرام،صوفائے عظام،اہل مدارس اور اپنے زمانہ کے تمام اکابر ین امت سے صلاح ومشورہ کے بعد مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر خاص ہجرہ نبوی کے اندر ایک ہفتہ اعتکاف کے بعد جب ہندوستان واپس آئے تو 1926ء میں تبلیغی محنت کا آغازکیا جو آگے جاکر تبلیغی جماعت کی موجودہ شکل وصورت میں دنیا ئے اسلام کی سب سے بڑی تحریک بن گئی،تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع حضرت مولانامحمد الیاس دہلوی کے دورمیں 28،29،30،نومبر 1941ء کو میوات کے علاقہ قصبہ نوح کے اندرہوا،اس اجتماع میں حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ؒکے علاوہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم ہند،مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلوی ؒناظم اعلی جمعیت علماء ہند،مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن ندویؒ،مناظراسلام مولانامحمدمنظورنعمانی ؒ،مولاناعبداللطیف ناظم جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور،الحاج محمدشفیع قریشی امیر اول تبلیغی جماعت پاکستان اور ان کے علاوہ اس دورکے تمام اکابرین امت شامل تھے،نماز جمعہ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی ؒنے پڑھائی اور اس کے بعد اجتماع کی کاروائی شروع ہوئی،اس اجتماع کے بارہ میں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ یہ اجتماع،اجتماع سے زیادہ زندہ خانقاہ معلوم ہوتاتھا،جس میں عبادت وذکر،نمازوں کی پابندی اور ذوق نوافل کے ساتھ چستی مستعدی،جفاکشی ومجاہدہ،سادگی وبے تکلفی،تواضع وخدمت،دین کی توقیر اور اسلامی اخلاق کے موثر مناظر دیکھنے میں آئے۔دوسرا بڑااور اہم اجتماع مولانامحمدالیاس دہلوی کی وفات کے بعد 14،15،16،جنوری 1945ء کو مسجد شاہی مرادآباد میں ہوا،اس اجتماع میں امیر تبلیغی جماعت مولانامحمدیوسف دہلویؒ سمیت شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ؒ،مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندہلوی ؒ،مفکر اسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابرین امت نے شرکت کی،اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن ؒ(بانی تحریک آزادی ہند)کے وہ متعلقین جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒکی وفات کے بعد شدت غم سے گوشہ نشینی اختیار کررکھی تھی اورعلاقہ سے باہر نکلناچھوڑدیا تھا،انہوں نے اپناعہد توڑا اور حضرت مدنی ؒکو لانے کے لئے دیوبند حاضرہوئے اور حضرت شیخ الاسلام مولانامدنی ؒکو شدیدمصروفیات کے باوجود اجتماع میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا۔اس کے بعد اجتماعات کا نہ ٹوٹنے ولا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جوآج دنیا کے اکثرممالک میں دین اسلام کی شان وشوکت اور تبلیغ اسلام کا سب سے بڑا موثرذریعہ بن چکا ہے۔تقسیم ہندکے بعد پاکستان میں حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کوششوں سے تبلیغی جماعت کا کام شروع ہوا،اور پہلا اجتماع 10/اپریل1954ء بروزہفتہ رائے ونڈ کے مقام پر منعقد ہوا،مولانا محمدیوسف کاندہلوی صاحب ؒ اس دن صبح دہلی سے روانہ ہوکر دن کے بارہ بجے لاہور پہنچ گئے اور عصرکی نماز کے بعد اجتماع میں تشریف لائے،یہاں مولانایوسف صاحب ؒ نے تین دن قیام فرمایا۔جب اجتماع ختم ہوا تو مولانا یوسف صاحب ؒ نے تمام احباب کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا:”دیکھوبھائی! آج کے بعد یہ جگہ تمہاری جماعت کا مرکز ہے،تم نے اسے سرسبزوشاداب بناناہے،اور اس جگہ کو دین کی محنت سے آباد کرنا ہے،اس لئے تنگی آئے یا وسعت،بھوک آئے یا پاس،بیماری آئے یاموت،تم نے دنیا کے کسی کام میں نہیں لگنا،بلکہ اسی کمائے کے کام میں لگنا ہے اور اپنے آپ کو یہاں مٹادینا ہے،جو تیارہو وہ اُٹھے اور میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے،پھر فرمایا کوئی کسی کو ترغیب بھی نہ دے،جس نے کھڑاہونا ہے اپنی ذمہ داری پر کھڑاہو”چنانچہ جو شخص پہلے کھڑاہوا اس کانام”حاجی عبدالوہاب” تھا اس کے بعد حافظ سلیمان(سابق امام رائے ونڈمرکز) کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبداللہ کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی عبدالرحمن کھڑے ہوئے،اس کے بعد حافظ نورمحمد کھڑے ہوئے،اس کے بعد میاں جی اسماعیل کھڑے ہوئے،جوکھڑاہوتا مولانایوسف صاحب اس کو آگے اپنے پاس بلالیتے اور اس سے یہ اقرار(حلف نامہ) لیتے کہ:آج کے بعد میں اشاعت اسلام،خدمت دین،اور مرکزکی آبادی کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگوں گا،اس راستے میں اگرمجھے بھوک آئی توبرداشت کروں گا،پیاس آئی تو برداشت کروں گا،بیماری آئی تو برداشت کروں گا لیکن کسی دوسرے کام میں نہیں لگوں گا”۔ابھی مولانامحمدیوسف کاندہلوی ؒ یہ کہلواکر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ باہر بٹھارہے تھے،کہ اسی اثنامیں آپ کی نظرمیاں جی محراب پر پڑگئی جو حاجی محمدمشتاق صاحب ؒ کو تیار کررہے تھے،تو آپ نے میاں جی محراب کو انتہائی زور سے ڈانٹا اورفرمایا:”میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھاکہ کوئی کسی کو تیارنہ کرے ورنہ کل جب بھوک اور پیاس آئے گی تو پھر یہ تمہیں گالیاں دے گا کہ مجھے اس نے پھنسایا تھا،اس لئے کوئی کسی کو تیار نہ کرے”۔الغرض کل 18آدمی کھڑے ہوئے اور انیسویں حاجی مشتاق صاحبؒ تھے،جو سب سے آخرمیں کھڑے ہوئے تھے،یہ کل انیس آدمی تھے جنہوں نے تمام ترمخدوش حالات کامقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیااور اس ڈانواڈول کشتی کو بھنور سے نکالا اور اسے کھینچ کر ساحل پر لائے،ان میں سے جو احباب موت تک یہیں رائے ونڈمیں پڑے رہے وہ چھ تھے (1)حضرت حافظ نورمحمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ(2) حضرت میاں جی محمداسماعیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (3)حضرت حافظ سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ (4)حضرت میاں جی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(5)حضرت حاجی محمدمشتاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ(6)حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،اس کے بعد جب تبلیغی محنت مزید آگے بڑھی اور ماہانہ مشورہ شروع ہوا جس کی ابتداء اس طرح ہوئی حاجی عبدالوہاب صاحب فرمایاکرتے تھے کہ میں مشورہ کے لئے ایک ایک آدمی کے پاس جایاکرتاتھا، محمدشفیع قریشی صاحب ؒکے پاس پنڈی،قاضی عبدالقادر صاحبؒ کے پاس سرگودھا،مفتی زین العابدین صاحبؒ کے پاس فیصل آباد اوربھائی بشیر صاحبؒ کے پاس کراچی جاتا،پھر سب کو بتاتاکہ فلاں کی یہ رائے ہے،فلاں کی یہ رائے ہے،پھر سب کو خیال آیا کہ یہ اکیلا ہم سب کے پاس پھرتا ہے کوئی دن مہینہ میں ایسا طے کرلیناچاہئے کہ ہم خود اس کے پاس اکٹھے ہوجایاکریں۔ چنانچہ حاجی صاحب ؒکی اس قربانی کی برکت سے ماہانہ مشورہ شروع ہوا،جس پر سب حضرات حاجی صاحبؒ کے پاس آنے لگے،شروع میں ہرماہ ایک دن کے لئے آتے تھے پھر جوں جوں کام بڑھتا گیا اور تقاقضے بڑھتے گئے توتین دن کے لئے مشورہ کے عنوان سے جمع ہونے لگے۔ان بزرگوں کی دن رات ان تھک محنتوں اورکاوشوں سے جو کام شروع ہوا،وہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا تک پہنچ گیا اور آج وہ کام پوری دنیا کے ہرملک کے ہر قصبے اور دیہات میں پھیل چکا ہے،کروڑوں مسلمان آج اس تحریک کے سات وابستہ ہیں جن کی نقل وحرکت سے مسلمانانِ عالم میں دینداری کی ایک عمومی فضابن چکی ہے،رائے ونڈکا سالانہ اجتماع جوپہلے ایک ہی بڑااجتماع ہواکرتاتھا،پھر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اور اب چندسالوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی تعدادکے باعث چار حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے دوحصوں کا اجتماع ایک سال اوردوسرے دوحصوں کا دوسرے سال ہوتاہے،اس سال دوحصوں کاپہلااجتماع،4نومبر 2021ء کو رائے ونڈمیں شروع ہے جس سے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے بزرگوں کے خطابات کاسلسلہ بھی شروع ہے۔دوسرے حصے کا اجتماع 11نومبر کو شروع ہوگا اور 14نومبر2021کو اختتامی دعاپر ختم ہوگا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • نادرا ! علی مجاہد

    آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس  چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )