Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیمی فائنل لائن اپ مکمل  تحریر غلام مرتضی

    عرب امارات میں جاری ساتواں t20عالمی کپ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سپر 12 مرحلے کے اختتام پر  4 ٹیمز نے   سیمی فائنل کےلئے جگہ بنا لی ہے ۔گروپ Aسے انگلینڈ اور آسٹریلیا  جبکہ گروپ Bسے پاکستان اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پہلا سیمی فائنل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 10نومبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا ۔انگلینڈ اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست رہا ۔انگلینڈ کو اپنے آخری گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں   شکست ہوئی تھی  دوسری طرف نیوزی لینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر رہا ،نیوزی لینڈ کو  پاکستان کیخلاف شکست نصیب ہوئی تھی ۔

    دونوں ٹیمیں  t20عالمی میں پانچ بار پنجا آزما ہوئیں، 3 بار انگلینڈ اور 2بار فتح نیوزی لینڈ کا مقدر بنی
    دونوں ٹیمیں t20 میں مجموعی طور پر  20 بار آمنا سامنا ہوا 13 میچز میں انگلینڈ اور 7میچز میں نیوزی لینڈ  کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 467 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں جبکہ انگلش کپتان مورگن 424 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ اس ایڈیشن میں جوز بٹلر 100بنانے  والے واحد بلے باز ہیں

    دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے  درمیان 11نومبر  کو دوبئی میں کھیلا جائے گا ۔آسٹریلیا اپنے گروپ میں 8 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمر پر رہا جبکہ پاکستان اپنے گروپ میں ناقابل شکست رہا ۔

    پاکستان اور آسٹریلیا t20 عالمی کپ میں  6بار  پنجا آزما ہوئے۔ دونوں ٹیمز  نے 3،3میچز  جیتے ہیں
    2010 کے ایڈیشن میں بھی دونوں ٹیمیں  سیمی فائنل میں  ٹکرا چکی ہیں  اس میچ میں مائک ہسی نے  آخری اور میں سعید اجمل کو 4چھکے لگا کر  پاکستانیوں کی ہنسی  چھین  لی تھی
    دونوں ٹیمیں t20  میں 22مرتبہ پنجا آزما ہوئیں  13 مرتبہ فتح پاکستان کے حصہ میں  آئی جبکہ 9 بار جیت آسٹریلیا کا مقدر بنی ۔

    آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، کپتان ارون فنچ، سٹیو سمتھ لمبی باری کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔گلین میگزویل اس  ٹورنامنٹ میں آوٹ آف فارم ہیں  ۔ آسٹریلیا کے پاس زبردست باولنگ اٹیک ہے جو کسی بھی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا سکتی ہے ۔ جوش ہیزلے وڈ،پیٹ کمنز،مچل سٹارک ،ایڈم  زمپا باولنگ کے شعبے میں زبردست پرفارم کررہے ہیں اور فیلڈرز بھرپور ساتھ دے رہے ہیں

    دوسری طرف پاکستانی ٹیم نے ہر شعبے میں  نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بابر اعظم اور رضوان نے اسی عالمی کپ میں  بھارت کے خلاف 152 رنز کی اوپننگ  شراکت داری قائم کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، پاکستانی کپتان بابر اعظم زبردست فارم میں ہیں  اسی عالمی کپ میں 4بار 50 رنز  یا اس ذیادہ  بنا کر میتھیو ہیڈن اور ویراٹ کوہلی  کا ریکارڈ  برابر کردیا ہے۔  بابر اعظم اس وقت t20پر راج کررہے ہیں  اس وقت دنیائے کرکٹ کے نمبر 1بلے باز ہیں  ۔دوسری طرف وکٹ کیپر بلے بھی زبردست فارم میں ہیں  مڈل آرڈر  میں  تجربہ کار   محمد حفیظ، شعیب ملک، بھر پور  فارم میں ہیں شعیب ملک نے اسکاٹ لینڈ کے 18 گیندوں پر 54رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی  ۔شعیب ملک نے  اس عالمی کپ میں تیز ترین 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔جارحانہ مزاج سے بیٹنگ کرنے والے آصف علی  ایک ہی اور میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں  ۔اس کا عملی مظاہرہ پہلے نیوزی لینڈ  پھر افغانستان کے خلاف  ایک ہی اور میں 4چھکے لگا کر فتح افغانستان کے جبڑے سے چھین لی تھی ، فخر زمان کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے پاس  زبردست  گیندباز موجود ہیں جوکہ    مضبوط ترین بیٹنگ لائن کے پر خچے  اڑا سکتے ہیں  شاہین آفریدی، حارث راوف، حسن علی، عماد وسیم ،شاداب خان اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

    بابر اعظم پانچ کھیل 264 کے ساتھ سرفہرست ہیں  انگلیڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر 240 کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں محمد رضوان 214 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
    سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرانے کیلئے پاکستان کو کھیل کے تینوں شعبوں میں  اعلی  کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔پوری قوم کی دعائیں ٹیم پاکستان کے ساتھ ہیں
    گرین شرٹس  میدان میں سرخرو ہونگے  پاکستانی شاہینز کینگروز کا شکار کرنے کےلئے بالکل تیار ہیں

    @__GHulamMurtaza

  • ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے ہمیں اس سے سیکھنا ہے کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے     بابر اعظم

    ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے ہمیں اس سے سیکھنا ہے کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے بابر اعظم

    لاہور: بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیمی فائنل میں شکست کے بعد ٹیم سے خطاب میں کہا کہ ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے، ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے-

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم کو سیمی فائنل میں بھی فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا آسٹریلیا کے ساتھ میچ میں حسن علی کی کمزور باؤلنگ اور بعد ازاں 19ویں اوور میں ڈراپ کیچس فیلڈنگ اور رن آؤٹس کے مواقع بھی ضائع ہوئے جس نے آدٹریلیا کا فائنل میں سفر آسان کر دیا-

    کپتان بابر اعظم نے میچ کے دوران غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کوشش بھی کی کہ ایک شکست سے ٹیم میں بدامنی کی فضا قائم نہ ہو جائے،سیمی فائنل کے بعد انھوں نے ڈریسنگ روم میں پلیئرز سے خطاب کیا جس کی ویڈیو پی سی بی نے سوشل میڈیا پر جاری کی۔


    ویڈیو میں بابر نے پہلے ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کیا، پھر کہا کہ سب کو معلوم ہے ہم نے کہاں غلط کیا اور کہاں بہتر کرنا چاہیے تھا،ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے، ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے اور یہ نہ کہے کہ اس نے ایسا کردیا یا ویسا کردیا، ہماری ٹیم ایک یونٹ بن چکی اس کو ٹوٹنا نہیں چاہیے، کپتان ہونے کے ناطے میں سب کو بیک کرتا ہوں، ہم ہار گئے ہیں کوئی مسئلہ نہیں، دکھ تو ہوا مگر یہ وقت ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کا ہے،ہم اس شکست سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ کرکٹ میں یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام میچز میں ہر کھلاڑی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کسی بھی کپتان کو اپنی ٹیم سے یہی توقع ہوتی ہے،ہمارا بہترین ماحول رہا، ٹیم بڑی مشکل سے جڑتی اوراس میں وقت لگتا ہے،ہمیں اسی ماحول کو برقرار رکھنا ہے، کوشش اور محنت جاری رکھیں تو نتائج خود بخود ہی آئیں گے۔

    کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے کوچنگ پینل کے سربراہ ثقلین مشتاق نے کہا کہ اب کھلاڑیوں میں دوستی کی فضا مزید بہتر اور ایک دوسرے پر اعتماد زیادہ ہونا چاہیے، اچھے تجربات کو دہرانا اور غلطیوں کو سدھارنے کیلیے محنت کرنا ہے،سیکھتے ہوئے یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

    بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن نے کہا کہ ہم سیمی فائنل ہار گئے مگر کارکردگی پر فخر ہونا چاہیے،محمد رضوان اور شاداب خان نے بہترین پرفارم کیا،اپنے سر اٹھاکر رکھیں،جو اچھا کیااس کو جاری رکھیں جو غلطیاں ہوئیں ان کو بھی نہ بھلائیں بلکہ بہتری لانے کیلیے انفرادی اور ٹیم کے طور پر کام کریں۔

    قبل ازیں میچ کے بعد میڈیاکانفرنس میں کپتان نے کہا کہ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھا کھیل پیش کیا مگر سیمی فائنل کا دن مایوس کن رہا، ہم نے اچھے رنز بنائے تھے تاہم اچھی طرح میچ کو ختم نہیں کرسکے، مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہم اپنی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے، کیچ ڈراپ نہ ہوتے تو شاید صورتحال کچھ اور ہوتی، ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے۔

    حسن علی کے اہم کیچ چھوڑنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پیسر ہمارے اہم بولر ہیں،انھوں نے کئی میچز جتوائے ہیں، ان کو پورے ٹورنامنٹ میں اعتماد دیتے رہے ہیں، پرفارمنس نہ ہونا آپ کے ہاتھ میں نہیں، ہم صرف پوری محنت کرسکتے ہیں، حسن تھوڑی مایوسی کا شکار ہیں تاہم ہم ان کا حوصلہ بڑھائیں گے، امید ہے آگے جاکر وہ پرفارم کریں گے۔

  • چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی      آسٹریلوی سائنسدان

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    نیو ساﺅتھ ویلز: ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر موجود آکسیجن دنیا کے انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہو گی-

    باغی ٹی وی : نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، جان گرانٹ کا مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چاند پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں پر اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک بھی کم نہیں ہو گی –

    مضمون میں کہا گیا کہ اگر سائنسدان چاند کی مٹی اور چٹانوں سے آکسیجن لے کر انسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کا طریقہ وضع کر لیں تو چاند پر انسانوں کی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

    خلائی تحقیق میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ، ہم نے حال ہی میں ایسی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگایا ہے جو خلائی وسائل کے مؤثر استعمال کی اجازت دے سکتی ہیں اور ان کوششوں میں سب سے آگے چاند پر آکسیجن پیدا کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے پر لیزر کی تیز توجہ رہی ہے۔

    اکتوبر میں، آسٹریلوی خلائی ایجنسی اور ناسا نے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر آسٹریلوی ساختہ روور بھیجنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد چاند کی چٹانوں کو جمع کرنا ہے جو بالآخر چاند پر سانس لینے کے قابل آکسیجن فراہم کر سکیں۔

    ماہرین کے مطابق چاند پر ہوا کا تناسب نہ ہونے کا برابر ہے۔ ہوامیں زیادہ مقدار ہیلیم ، نیون اور ہائیڈروجن کی ہے۔ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں آکسیجن پائی جاتی ہے لیکن یہ آکسیجن مرکبات کی شکل میں موجود ہے۔

    انہوں نے کہا، حقیقت میں چاند پر آکسیجن کی کافی مقدار موجود ہے یہ صرف گیسی شکل میں نہیں ہے اس کے بجائے یہ ریگولتھ کے اندر موجود ہے چٹان اور باریک دھول کی تہہ جو چاند کی سطح کو ڈھانپتی ہے۔ اگر ہم ریگولتھ سے آکسیجن نکال سکتے ہیں تو کیا یہ چاند پر انسانی زندگی کو سہارا دینے کے لیے کافی ہوگا؟

    آکسیجن ہمارے ارد گرد زمین میں موجود بہت سے معدنیات میں پائی جاتی ہے۔ اور چاند زیادہ تر انہی چٹانوں سے بنا ہے جو آپ کو زمین پر ملیں گے (حالانکہ اس سے قدرے زیادہ مواد جو الکا سے آیا ہے)۔

    معدنیات جیسے سیلیکا، ایلومینیم، اور آئرن اور میگنیشیم آکسائیڈز چاند کی زمین کی تزئین پر حاوی ہیں۔ یہ تمام معدنیات آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہیں، لیکن اس شکل میں نہیں جس تک ہمارے پھیپھڑے رسائی حاصل کر سکیں چا ند کی چٹانوں میں 45فیصد تک آکسیجن موجود ہے لیکن ان مرکبات کو توڑ کرآکسیجن کوخالص شکل میں لانے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں توانائی صرف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    تاہم چاند پر توانائی کا انتظام کر کے اگر آکسیجن حاصل کرلی جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کر لیا جائے جس سے کم توانائی کا استعمال کر کے آکسیجن کو مرکبات سے الگ کیاجاسکے تو چاند پر انسانی زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

    مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی سطح پر صرف 10 کلومیٹر تک کھدائی کر کے چٹانیں نکالی جائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آکسیجن آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہوگی۔

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔
    اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    ۔ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    ۔ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔
    ۔ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔

  • ورلڈ ٹی 20: پاکستان کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ورلڈ ٹی 20: پاکستان کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان کی آسڑیلیا کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان نے 5اوورز کے اختتام پر بغیر کسی نقصان پر 38 رنز بنالیے دبئی میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دےدی ۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنے ہی بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابر اعظم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار چوکے سے اپنا کھاتا کھولا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھو ہیڈن کو پیچھے چھوڑ دیا بابر کو میچ سے قبل ہیڈن کا ریکارڈ توڑنے کیلئے صرف ایک دو رنز درکار تھے۔

    میتھو ہیڈن نے 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 265 رنز بنائے تھے جس سے زیادہ اب بابر کے رنز ہوگئے ہیں۔

    اس کے علاوہ بابر اعظم نے ڈیبیو ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی توڑدیا ہے، ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی آسٹریلیا کے میتھو ہیڈن کے پاس ہی تھا۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یو اے ای میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جائے گا دبئی میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دےدی پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف بھی اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔

    واضح رہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 16 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناقابل شکست ہے البتہ آسٹریلیا آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے خلاف تمام 4 ناک آؤٹ میچز جیتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ قومی ٹیم کے دو کھلاڑی شعیب ملک اور محمد رضوان فلو میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ان کی آج کے میچ میں شرکت مشکوک ہوگئی تھی۔

    رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انہیں معمولی بخار ہے تاہم ان کی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی تھی جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    آج پی سی بی کے میڈیکل پینل نے معائنہ کرنے کے بعد رضوان اور شعیب ملک کو تندرست قرار دیا ہے اور وہ آج میچ کا حصہ ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان  ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے؟

    وزیراعظم عمران خان ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے؟

    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی جیت کی صورت میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی مینز ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دبئی میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوینٹی ورلڈ کے سیمی فائنل میں آج پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہے، اور اگر پاکستان سیمی فائنل میں فتح حاصل کرلیتا ہے تو وزیراعظم عمران خان ایونٹ کا فائنل میچ دیکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے دبئی جائیں گے، وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی ہوں گے

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف آج کا میچ جیتنا ضروری ہے کیونکہ ہم نے فائنل میں نیوزی لینڈ سے سکیورٹی کا مسئلہ بھرپور طریقے سے حل کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ دو بڑی اور تگڑی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہے، وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ اگر ہم فائنل میں پہنچے تو وہ میچ دیکھنے ضرور جائیں۔
    https://twitter.com/FawadPTIUpdates/status/1458697052997799945?s=20
    فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم جس طریقے سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایسی کارکردگی بہت کم رہی ہے امید ہے اس تسلسل کو برقرار رکھیں گے پوری قوم اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی ہے اور جیت کے لئے دعا گو ہے. انشاءاللہ آج کا میچ ضرور جیتیں گے-

    انہوں نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ جیت کر ہم نے فائنل میں نیوزی لینڈ سے سیکیورٹی کا مسئلہ بھرپور طریقے سے حل کرنا ہے، اس لیے آج کا میچ جیتنا ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں کے پاس سپر اسٹار بننے کا موقع ہے، 5 مختلف پلیئرز کو مین آف دی میچ کا اعزاز ملا ہے، اب دیکھتے ہیں چھٹے میچ میں کس کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرداخلہ شیخ رشید بھی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے، اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے دبئی جانے کی اجازت مانگ لی ہے۔

    شیخ رشید گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے دبئی گئے تھے، تاہم ٹی ایل پی کے دھرنوں اور احتجاج کے باعث ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث وزیراعظم نے شیخ رشید کو میچ سے پہلے وطن واپس بلا لیا تھا اور وفاقی وزیر کو وطن واپس لوٹنا پڑا تھا، تاہم اب شیخ رشید فائنل میچ دیکھنے دبئی جائیں گے۔

    سابق فاسٹ باولر شعیب اختر اور سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی قومی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے-

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل ہے پاکستانی عوام ،سیاسی ، سماجی اور شوبز شخصیات اور کھلاڑیوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے وقمی ٹیم کے لئے نیک خواہشات کا اظہات کیا جا رہا ہے شاہد آفریدی اور قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے –


    شعیب اختر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آج بڑا دن ہے۔ اپنی رفتار اور بھرپور توانائی کے ساتھ انشا اللہ آپ ہی فتح حاصل کریں گے۔

    انہوں نے لکھا کہ 100 فیصد کارکردگی دکھا کر مثبت سوچ کے ساتھ جارحانہ کھیلیں۔ کامیابی دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ شاباش اور گڈ لک۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ آل دی بیسٹ پاکستان!


    انہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل سے قبل ٹوئٹر پر لکھا کہ میرے لیے آج کا میچ فائنل جیسا کھیل ہے۔ ہم نے سال 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابل یقین سیمی فائنل کھیلا تھا۔

    شاہد خان آفریدی نے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور اور ان کے کھلاڑی آج پہلے سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔

    واضح رہے کہ ستمبر میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلا میچ شروع ہونے سے قبل ‘سیکیورٹی خدشات’ کی وجہ بتا کر دورہ پاکستان منسوخ کردیا تھا نیوزی لینڈ 2003 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہا تھا اور اس کا دورہ منسوخ کرنے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے اکتوبر کے دورہ پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں کریں گے۔

    انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل حل ہو جائیں گےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کرکٹ کے لیے یہ شرم کی بات ہے، آخری لمحات کا یہ فیصلہ کھیل کو بہت زیادہ مالی نقصان پہنچائے گا، امید ہے کہ پاکستان میں دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے لیے سیکیورٹی کے مسائل حل کیے جا سکیں-

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

    ۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    ۔ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    ۔ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔
    ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔
    ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔