Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: افغانستان نے اسکاٹ لینڈ کو 130 رنز سے شکست دے دی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: افغانستان نے اسکاٹ لینڈ کو 130 رنز سے شکست دے دی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گروپ بی کے میچ میں افغانستان نے اسکاٹ لینڈ کو 130 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی ٹیم افغانستان کی جانب سے دیا گیا 191 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 60 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

    افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں پر 190 رنز بنائے اوپننگ بیٹر حضرت اللہ زازئی 44، رحمان اللہ 46 اور نجیب اللہ 59 رنز بنا کر نمایاں رہے اور اسکاٹ لینڈ کو 191 رنز کا ہدف دیا-

    اسکاٹ لینڈ کی جانب سے سفیان شریف نے دو جب کہ جوش ڈیوی اور مارک واٹ نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    بعد ازاں افغانستان کی اسپن جوڑی مجیب الرحمان اور راشد خان نے تباہ کن بولنگ کی، مجیب نے پانچ جب کہ راشد نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اسکاٹ لینڈ کے 6 کھلاڑی صفر پر پویلین لوٹ گئے۔ اوپنر مونسے نے 25 اور گریوز نے 12 رنز کی اننگز کھیلی۔

    افغانستان نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا افغانستان کے کپتان محمد نبی نے ٹاس جیتنے کے بعد کہا کہ وہ اسکاٹ لینڈ کو بڑا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔

    اسکاٹ لینڈ کے کپتان نے کہا کہ اگر وہ ٹاس جیت جاتے تو پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ ہی کرتے، انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کی بیٹنگ مضبوط ہے-

    واضح رہے کہ افغانستان کی جانب سے یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ اسکور ہے، اس سے قبل 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان نے زمبابوے کے خلاف 6 وکٹوں پر 186 رنز بنائے تھے۔

    خیال رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے۔

  • انڈین میڈیا نے اپنی ٹیم کو مروایا،  بھارت کو قائدِ اعظم اور بابر اعظم ہمیشہ یاد رہیں گے    شعیب اختر

    انڈین میڈیا نے اپنی ٹیم کو مروایا، بھارت کو قائدِ اعظم اور بابر اعظم ہمیشہ یاد رہیں گے شعیب اختر

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ بھارت کو قائدِ اعظم اور بابر اعظم ہمیشہ یاد رہیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے گزشتہ روز کے پاک بھارت میچ کے حوالے سے کہا کہ انڈین میڈیا نے پہلے ہی شور مچا دیا تھا جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم بہت زیادہ پریشر میں آگئی، اصل میں انڈین ٹیم کو انڈین میڈیا نے مروایا ہے۔

    انہوں نے پاکستان کی فتح پر کہا کہ بھارت کو قائدِ اعظم اور بابر اعظم ہمیشہ یاد رہیں گے۔

    بھارتی ٹیم کے مسلمان فاسٹ باؤلر محمد شامی کے خلاف انڈیا میں جاری نفرت انگیز مہم پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پہلے ایسی نفرت کبھی نہیں دیکھی، محمد اظہر الدین مسلمان ہونے کے باوجود انڈین ٹیم کے کپتان بنے، شاہ رخ خان بالی ووڈ کے کنگ بنے اور انہوں نے بہت اچھا کام کیا، یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    پاکستان سے شکست : انتہا پسند ہندوؤں نے شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنا ڈالا

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے 90 فیصد لوگ پیار کرنے والے ہیں، صرف 10 فیصد لوگ اور میڈیا کا کچھ حصہ ایسا ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارتی کی پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کے بعد انتہا پسند بھارتیوں نے انڈین کرکٹر محمد شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا –

    پاکستان سے تاریخی شکست کے بعد بھارتی شائقین نے سوشل میڈیا پر اپنے ہی فاسٹ باؤلر محمد شامی کے لیے ہتک آمیز مہم شروع کی،شائقین کی جانب سے محمد شامی کو غدار قرار دیا گیا اور مسلمان ہونے کی بنا پر پاکستان جانے کا طعنہ بھی دیا گیا۔پاکستان سے شکست کے بعد ممکنہ ردعمل کے پیش نظر محمد شامی کے گھر کی سیکیورٹی کو بھی بڑھانا پڑا۔

    ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    محمد شامی کے خلاف ہتک آمیز مہم کو روکنے کے لیے سابق کھلاڑیوں کو سامنے آنا پڑا مگر اس سے بھی بھارتی شائقین کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور محمد شامی کے خلاف غلیظ مہم اب بھی جاری ہے۔محمد شامی نے پاکستان کے خلاف میچ میں تین اعشاریہ پانچ اوورز میں 43 رنز دئیے تھے اور وہ کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے تھے-

    سوشل میڈیا پرجہاں محمد شامی کو بھارتیوں کی جانب سے مذہبی منافرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں ان کی حمایت میں نہ کوہلی الیون کا کوئی رکن سامنے آیا اور نہ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس معاملے میں مداخلت کی –

    یوروکپ فائنل میں شکست کے بعد سیاہ فام برطانوی فٹبالرز پر انتہاپسندوں نے تنقید کی تھی تو پوری برطانوی ٹیم اپنے فٹبالرز کے ساتھ کھڑی ہوئی برطانوی وزیراعظم، یوئیفا اور انگلش فٹبال کلب نے بھی تنقید کو مسترد کیا تھا لیکن انتہاپسند مودی سرکار کے راج میں مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے خلاف سب ہی خاموش ہیں-

    "ہمیں تم سے پیار ہے” صوفیہ مرزا کی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

  • پاکستان کے ساتھ کل کے میچ کو بدلہ نہ سمجھا جائے  ،نیوزی لینڈ کے کپتان کی درخواست

    پاکستان کے ساتھ کل کے میچ کو بدلہ نہ سمجھا جائے ،نیوزی لینڈ کے کپتان کی درخواست

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کین ولیمسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کل کے میچ کو بدلہ نہ سمجھا جائے-

    باغی ٹی وی : میچ سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کین ولیمسن کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کی ایڈوائس پر پاکستان کا دورہ منسوخ کیا تھا، یہ میچ سیریز کا متبادل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی جوڑی بہت شاندار ہے،وہ بہت مضبوط ٹیم ہے لیکن ٹی 20 کرکٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے پاکستان نے کل کے میچ میں شاندار پرفارمنس دکھائی، وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں، پاکستان ورلڈ کپ کیلئے فیورٹ ٹیم ہے۔

    پاکستان سے شکست : انتہا پسند ہندوؤں نے شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنا ڈالا

    پاکستان میں میچ سے آدھا گھنٹہ پہلے سیریز اچانک منسوخ کرکے اپنے ملک واپس جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کیوی کپتان نے کہا کہ یہ بہت ہی مایوس کن صورتحال تھی ، ہم پاکستان میں کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے لیکن ہم ایسا نہیں کرسکے جو بہت ہی شرمناک تھا-

    کیوی کپتان نے کہا کہ بھارت کے خلاف فتح کے بعد پاکستان کا جیت کا مومینٹم بن گیا ہے لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بدلے کا میچ ہے، یہ میچ سیریز کا متبادل نہیں ہے، امید ہے کہ پاکستان بدلے کی سوچ لے کر میدان میں نہیں اترے گا دونوں ٹیموں کے اچھے تعلقات ہیں اور سالوں سے آپس میں کرکٹ کھیل رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کو کراؤڈ کی طرف سے ہمیشہ اچھی سپورٹ ملی ہے اور ہمارے خلاف میچ میں بھی انہیں سپورٹ ملے گی۔

    نیوزی لینڈ نے دورہ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں پی سی بی

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا-

    اس ضمن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو…

  • ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایسی ہی باؤلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جیسی شاہین آفریدی نے کی       باؤلنگ کوچ ورنن فلینڈر

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایسی ہی باؤلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جیسی شاہین آفریدی نے کی باؤلنگ کوچ ورنن فلینڈر

    پاکستان کے باؤلنگ کوچ ورنن فلینڈر نے گزشتہ رات بھارت کے خلاف شاندار پرفارمنس دینے پر شاہین شاہ آفریدی کی تعریف کی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ورنن فلینڈر نے قومی ٹیم کی بھارت کے خلاف کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہین آفریدی نے گزشتہ روز شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا وہ مسلسل اچھا پرفارم کر رہے ہیں ۔

    پاکستان سے شکست : انتہا پسند ہندوؤں نے شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنا ڈالا

    قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ ورنن فلینڈر نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایسی ہی باؤلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جیسی شاہین شاہ آفریدی نے کی ، حسن علی عمدہ باؤلنگ کرتے ہیں اور کافی محنت کرتے ہیں، پاک بھارت پریشر گیم تھی، پاکستانی کھلاڑیوں نے پریشر کو بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کیا ۔

    ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    واضح رہے کہ شاہین شاہ آفریدی نے گزشتہ رات میچ میں بھارت کی 3 اہم وکٹس گرا کر شاہین شاہ آفریدی”مین آف دی میچ” قرار پائے تھے-

    دوسری جانب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں محمد رضوان اور بابر اعظم نے 152 رنز کی ناقابل شکست شراکت بناکر پاکستان کو بھارت کیخلاف 10 وکٹ سے تاریخی فتح دلائی ۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان نے بغیرکسی نقصان کےبھارت کوذلّت آمیز شکست دے دی

    اس فتح میں پاکستان نے کئی ریکارڈز بنائے جبکہ بھارت کو بھی وہ سہنا پڑ گیا جو اس نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہو۔دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 152 رنز کا ہدف دیا تھا جو پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے پورا کرلیا۔

    یہ ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کی بھارت کے کیخلاف پہلی فتح ہے ،ساتھ ساتھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں بھارت پہلی مرتبہ 10وکٹ سے ہارا ہے جبکہ پاکستان بھی پہلی ہی مرتبہ ٹی ٹوئنٹیز میں کوئی میچ 10 وکٹ سے جیتا ہے۔

    پاکستان کی بھارت کوشکست ، کئی ریکارڈز پاکستان کے نام ہوگئے

    بابر اعظم اور محمد رضوان نے پہلی وکٹ کیلئے 152 رنز کی ناقابل شکست شراکت بناکر بھارت کیخلاف کسی بھی ٹیم کی جانب سے کسی بھی وکٹ پر ٹی ٹوئنٹیز کی سب سے بڑی شراکت بنادی۔

    اس سے قبل یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کے پاس تھا ،دونوں نے 2012 میں بھارت کے خلاف 133 رنز کی شراکت بنائی تھی-

    یہ شراکت بھارت کیخلاف کسی بھی وکٹ پر پاکستان کی بہترین شراکت تو پہلے ہی بن چکی تھی جب دونوں ٹیم کے 107 ویں رن کیلئے دوڑے ۔اس سے قبل 2012 میں حفیظ اور شعیب ملک نے 106 رنز کی شراکت چوتھی وکٹ پر بنائی تھی ۔

    شاباش میرے بچو :قوم کو بھی آپ پرفخر ہے:وزیراعظم عمران خان کی قومی ٹیم کومبارکباد

    اس کے علاوہ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی کسی بھی وکٹ پر پاکستان کی سب سے بڑی شراکت ہے ،اس سے قبل 2010 میں سلمان بٹ اور کامران اکمل نے بنگلا دیش کیخلاف 142 رنز کی شراکت قائم کی تھی ۔

    اس اننگ کے دوران محمد رضوان نے سال 2021 میں1500 ٹی ٹوئنٹی رنز بھی مکمل کرلیے، وہ ایک کلینڈر سال میں 1500 ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے والے پاکستان کے دوسرے بیٹسمین ہیں۔اس سے قبل بابر اعظم نے 2019 میں 1607 رنز بنائے تھے-

    پاکستان کے بیٹو آپ نے تو ہمارا سر فخر سے بلند کردیا ہے:آرمی چیف کی قومی ٹیم کو…

  • پاکستان سے شکست : انتہا پسند ہندوؤں نے شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنا ڈالا

    پاکستان سے شکست : انتہا پسند ہندوؤں نے شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنا ڈالا

    عالمی ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارتی کی پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کے بعد انتہا پسند بھارتیوں نے انڈین کرکٹر محمد شامی کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پرجہاں محمد شامی کو بھارتیوں کی جانب سے مذہبی منافرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں ان کی حمایت میں نہ کوہلی الیون کا کوئی رکن سامنے آیا اور نہ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس معاملے میں مداخلت کی –

    یوروکپ فائنل میں شکست کے بعد سیاہ فام برطانوی فٹبالرز پر انتہاپسندوں نے تنقید کی تھی تو پوری برطانوی ٹیم اپنے فٹبالرز کے ساتھ کھڑی ہوئی برطانوی وزیراعظم، یوئیفا اور انگلش فٹبال کلب نے بھی تنقید کو مسترد کیا تھا لیکن انتہاپسند مودی سرکار کے راج میں مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے خلاف بھارتی کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے کے علاوہ سب ہی خاموش ہیں یہاں تک کہ ٹوئٹر پینل پر ہیش ٹیگ شامی ٹاپ ٹرینڈ پر ہے جس میں جہاں انتہا پسند بھارتی انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں ٹوئٹر پرمداحوں کی جانب سے شامی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے-


    معروف بھارتی کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے محمد شامی کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ شامی سے متعلق گھٹیا باتیں کر رہے ان سے میری ایک ہی درخواست ہے کہ وہ کرکٹ مت دیکھا کریں، ان کی کمی بھی ہمیں محسوس نہیں ہو گی۔


    وریندر سہواگ نے کہا کہ محمد شامی پر آن لائن حملہ چونکا دینے والا ہے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ ایک چیمپئن ہے اور کوئی بھی جو انڈیا کیپ پہنتا ہے ان کے دلوں میں انڈیا کسی بھی آن لائن ہجوم سے کہیں زیادہ ہے شامی ہم آپ کے ساتھ ہیں اگلے میچ میں دکھاؤ جلوہ-

  • اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ تحریر: علی حمزہٰ 

    اللّٰه تعالیٰ نے اس دنیا میں کم و پیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ان میں سے کسی نا کسی پر کتاب یا صحیفے نازل فرمائے اور اپنے دین کے کام کے لیے کسی نا کسی جگہ پر اُتارا اور وہ آکر لوگوں کو اللّٰهِ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے۔ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے دین کی ترویج و تقسیم کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جو کہ ہم سب کے باپ ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ بھی اسی بات کی گواہی ہے اللّٰه تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

    لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

    ترجمہ:   

    اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

     اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت و نبوت بھی آفاقی و عالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی دعوت تمام جن و انس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

    چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے "مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا”

     نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللّٰه کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللّٰه ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

    اس آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کہہ کر نبوت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کوئی قیامت تک نبی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا لیکن سب جہنم واصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانے بنا کوئی دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نا مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا۔

    اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.

    ”میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔”

    پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

    امام ابوحنیفہ رح کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ "لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ”  غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔

    اللّٰه تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

    فیٹف کا سیاسی فیصلہ اور پاکستان پر اسکے اثرات تحریر ہارون خان جدون

     فرانس کے دارلحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس بار صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تركی کو بھی گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے تركی اور پاکستان اس وقت عالمی سیاست میں جس مقام اور مدار پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رے ہیں وہ مغربی بلاک کو پسند نہیں 

    اسلئے پاکستان کی طرح تركی کی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہے اس فیصلے پر بھارت سمیت دنیا کے کئی ملكوں میں خوشی کے شادیانے بج اٹھنا فطری ہے مگر پاکستان نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے پچھلی بار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ سوال اٹھایا تھا کے اب یہ طے کرنا ہوگا کے فیٹف تکینکی فورم ہے یا سیاسی_ گویا کہ انہوں نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کو سراسر سیاسی قرار دیا ہے

     کچھ یہی بات دوسرے لفظوں میں وزیر خزانہ نے اپنے ایک interview میں یوں کی تھی FATF کی شراہط میں کوئی چیز نہیں بچی کوئی اور ملک ہوتا تو گرے لسٹ سے نکل جاتا مگر علاقای سیاست میں پھنس کر رہ گے ہیں

    شوکت ترین کی اس بات کا مطلب واضح تھا کے علاقے کی چین مخالف اور حمایت کی تقسیم کی زد پاکستان پر پڑ ری ہے چین مخالف مغربی بلاک جو علاقای سطح پر بھارت کے ساتھ اتحاد کر چکا ہے

    یہ اتحاد ملکر ہر محاذ پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش کر رے ہیں

    ایف اے ٹی ایف کے حکام نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کے پاکستان نے ستایس میں سے چھبیس نكات پر کامیابی سے عمل کیا ہے اس کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی حکام کو اس بار گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کی قوی امید تھی مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا اگر فیصلہ تیکنیکی اور حقیقی بنیاد پر کیا جاتا چونکہ معاملہ سیاسی ہے اس لئے پاکستان موجودہ حالات میں FATF کے هدف سے آگے بڑھ کر بھی کام کرتا تب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے امكان نہیں تھا

    اب FATF نے پاکستان کو ڈومور کے انداز میں پاکستان کو مزید کچھ نكات کی فہرست تهما دی ہے گویا کہ پاکستان کا گرے لسٹ میں لمبے عرصے کے لئے رہنا اب یقینی ہے جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا ہے وہ ختم ہونے کی بجاۓ مزید گہری ہو رہی ہے، پاکستان زیادہ قوت سے چین کے قریب اور امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تو یہ سوال عمران خان سے بھی پوچھا کہ انکے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں اصل رکاوٹ چین تو نہیں اس پر عمران خان نے چین اور پاکستان کے تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کی جنگ میں شراکت دار بن کر پاکستان میں جو تخریب کاری ہوئی تھی اسے تعمیر میں بدلنے میں چین ہی اگے آیا ہے ادھر شوکت ترین نے علاقای سیاست کی زد میں آنے کی جو بات کی اسکا تعلق بھی اسی حقیقت سے ہے

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ملک ہر فورم پر پاکستان کی كلای مروڑنے کی کوشش جاری رکھیں گے

    آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہوں یہ FATF کی سیاست بازیاں یا عالمی عدالت میں کلبوشن کے کیس کی سنوای اور ایک مسلمہ جاسوس پر بےجا مہربانیاں ہوں یا یورپی ملک میں سری واستر گروپ کی جھوٹ کی فیکٹریاں یہ سب پاکستان کو فكس اپ کرنے کی کوششیں ہیں

    مستقبل میں پاکستان کو مزید مغرب کے اس نارواسلوک کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے پاکستان کو ذہنی اور عملی طور پر اسکے لئے تیار رہنا چاہئے اس رویہ کے حامل مغربی مملاك اور مغربی اثر رسوخ والے اداروں سے کشمیر  سمیت کسی خیر کی توقع نہیں ہے اگر وہ کسی جگہ مسلہ کشمیر حل کرنے کی بات بھی کریں گے تو وہ بھارتی نقطہ نظر سے ہوگا ان تمام سیاسی اور علاقای اور مغربی ممالک کے اس رویہ کے بعد ان مملاك سے تعلقات تو رکھنے چاہیے لیکن ان سے مستقبل میں کسی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستان اس طرح کی blackmailing سے بچ سکے اور اپنی آزادی اور خود مختاری کے فیصلے خود کر سکے اسی میں پاکستان کی بقا اور بہتری ہے جتنی جلدی یہ بات ہمارے حکمران طبقہ کو سمجھ آ جاۓ اتنا ہی اچھا ہے کیوں کے آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کے اہل کفر کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے چاہے ہم جتنا مرضی ہے انکے لئے کر لیں اس کی زندہ مثال امریکہ کی جنگ میں پاکستان نے جو 20 سال نقصان اٹھایا ہے وہ سب کے سامنے ہے پھر بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہے اور اپنی ہار اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے.

    اللہ پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور اس میں بسنے والوں پر اپنا کرم فرماۓ ۔۔۔آمین 

     

    @ItzJadoon

  • ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔  تحریر:- حماد خان

    ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet

    ترکی پاکستان کے دوست کی حیثیت سے بھارت کی آنکھ میں کانٹا تھا. بھارت نے اپنے غیر منصفانہ طریقوں سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس آرٹیکل میں ہم دیکھیں گے کہ انڈیا کے دباؤ پر ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں کیوں رکھا گیا۔

    2018 میں ، جب پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا ، ترکی واحد ملک تھا جس نے اس کی حمایت کی۔ترکی واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرنا بھارت کی نظر میں ترکی کے لیے گناہ بن گیا۔

    حالیہ برسوں میں ترکی کے اپنے روایتی مغربی اتحادیوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

    واشنگٹن نے ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت روک دی جب انقرہ نے روسی سطح سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائل سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بحیرہ روم میں اپنے سمندری حقوق کے نفاذ کے لیے ترکی کی کوششوں نے یورپی یونین کے رکن ملک یونان کو ناراض کیا ہے۔

    ترکی شام اور لیبیا میں اپنے کچھ مغربی اتحادیوں کے مخالف سمت میں ہے۔ تقریبا 4 4 ملین شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے اپنے طور پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ، ترکی کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے یورپی رہنما باقاعدگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ 

    ایف اے ٹی ایف نے ترکی کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے والے ممالک کی فہرست میں درج کرنے کے فیصلے سے پیرس میں قائم تنظیم کی غیر جانبداری کے بارے میں ایک بار پھر سرخ جھنڈا بلند کردیا ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی نام نہاد گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ، یہ اقدام ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ان ممالک کو نشانہ بنانے میں منتخب ہو گیا ہے جہاں بینکوں کے پاس فنڈز کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کے لیے کمزور تعمیل یا کنٹرول ہے۔

    مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل حسن اسلم شاد نے کہا ، "اگر وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے سلوک میں منصفانہ ہوتے تو وہ برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیتے۔”

    لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور پہلے سے تصورات ان کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔حال ہی میں لیک ہونے والے پانڈورا پیپرز ، آف شور کمپنیوں کی دستاویزات کا ایک مجموعہ ، ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹ سیاستدان اور بیوروکریٹس اپنی دولت چھپانے کے لیے دو تہائی فرمیں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ترکی کو اپنے منی لانڈرنگ کے قوانین کی نگرانی بڑھانے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    انقرہ نے کہا کہ اس کی گرے لسٹ میں شمولیت "غیر منصفانہ” ہے لیکن اس نے اصرار کیا کہ وہ تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ "کم سے کم وقت میں غیرضروری فہرست” سے باہر آنے کی کوشش کی جا سکے۔

    ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نگرانی کے تحت کسی ملک کے رسک پروفائل میں اضافہ کرتا ہے ، جس سے حکومت اور نجی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں سے فنڈ اکٹھا کرنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے زیر اہتمام ایف اے ٹی ایف عالمی معیارات مرتب کرتا ہے جو دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف جنگ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    یہ سفارشات جسم کے 200 سے زائد ارکان کو غیر قانونی منشیات ، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث مجرموں کے پیسے کے پیچھے جانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی فنڈنگ ​​روکنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

    کسی قوم کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے تنظیم کو اپنے اراکین کے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے ، حالانکہ عین مطابق تعداد متعین نہیں ہے۔

    گرے لسٹ میں شامل ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کہ گھریلو اور کثیر القومی بینکوں کو تعمیل اور منی لانڈرنگ کے عملے پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ، جنہیں دھوکہ دہی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا پتہ لگانے میں زیادہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو چار صوبوں میں میں تقسیم کیا گیا صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور سرحد شامل ہیں اور بعد میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا ۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کو پھر دو حصوں میں شامل کیا گیا شمالی پنجاب و جنوبی پنجاب ۔ شمالی پنجاب جسے اپر پنجاب بھی کہا جاتا ہے گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں حکمران طبقہ اپر پنجاب سے منتخب ہوتا رہا ۔ جہنوں نے اپر پنجاب کو خوب نوازا اور جنوبی پنجاب کو اپر پنجاب کی نسبت محروم رکھا گیا کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب اپر پنجاب سے کیا جاتا تھا تو وزیرِ اعلیٰ  نے اپر پنجاب خاص کر اپر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو خوب نوازا ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کے فی کس آدمی پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زائد لگائے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے فی کس آدمی پر صرف اور صرف بیس سے پچیس ہزار روپے لگائے گئے ۔ جس سے اپر پنجاب ترقی کے لحاظ سے بہت آگئے نکل گیا اور جنوبی پنجاب بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس بات کا اندازہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہونے لگا کہ ہمیں محروم رکھا جارہا ہے جس پر انہوں نے اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا شروع کر دیا ۔ منتخب نمائندوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ اس مسلے کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔ اس طرح دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کا ایک گروپ ابھر کر منظر عام پر آیا ۔ جس میں موجودہ اور سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے شامل ہوگئے جن کی سربراہی مخدوم خسرو بختیار کررہے تھے ۔اس وقت کے حکمراں جماعت کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے اس گروپ سے ملاقات کی ۔ جب خان صاحب نے ان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مواقف جانا تو جنوبی پنجاب محاذ کے نمائندگان اور عمران خان صاحب کا ویژن ایک ہی تھا کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ان کو برابری کی سطح پر لانا تھا۔ دو نہیں بلکہ ایک پاکستان کا ویژن تھا ۔ اس گروپ نے پی ٹی آئی شمولیت اختیار کرلی اور الیکشن کے بعد جنوبی پنجاب میں عمران خان صاحب نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تقریباً جنوبی پنجاب سے تقریباً کلین سوئپ کیا اس طرح خان صاحب پنجاب اور وفاق میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی وجہ سے حکومت ممکن ہوئی ۔ اس کے بعد خان صاحب کا جنوبی پنجاب کے لیے سب بڑا قدم یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا ۔جو کہ تمام لوگوں کے لیے سرپرائز تھا کیونکہ خان صاحب نے ایک ایسے علاقے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جوکہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا ۔ جنوبی پنجاب سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وزیرِ اعلیٰ نے کافی حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل حل کئے جس میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا قیام ، ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اور 15 محکموں کے سیکرٹریز تعینات کیےگئے۔

     اس کے علاؤہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 37 فیصد حصہ بجٹ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مختص کیا جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو احساس ہوا اس دفعہ واقعی ان کے محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے لیکن ممکن نہیں کہ ایک دورے حکومت میں تیس چالیس سالوں کے مسائل حل ہوں۔ انشاء اللہ دو ہزار تیئیس کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنے جائے گا اور مزید جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ 

    @Wah33d_B

    IMG_20210903_213041.

  • 27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری!   تحریر: محمد اختر

    27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری! تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!   27اکتوبر 1947، حالیہ صدی میں انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،اس دن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کر دی یہ وہ دن ہے جب بھارت نے سری نگر میں اپنی افواج اتاری تھیں۔ایک طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیری آزادی کے جنگجوؤں سے لڑ کر انہیں دریائے جہلم کے دوسری طرف دھکیل دیا اور دوسری طرف اس نے مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے۔اسی دوران، جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں گئے تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد انکے پاس شکایت لے کر آیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہی ہے۔ مہاراجہ نے شکایتوں کو دور کرنے کے بجائے مسلم وفد کو ہی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے، اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے ملحق ہندوستان کی سکھ ریاستوں سے بڑی تعداد میں سکھ فوجیوں کو کشمیر بلایا گیا تھا، جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے سلسلے میں، 1947 میں پاکستان کے الحاق کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کے دوران، پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔تاہم، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے، جدید دور میں بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر ظلم کا ایک خوفناک منظر بن گیا ہے، جہاں بھارتی افواج کی 14، 15، 16 بٹالین تعینات ہیں جن کی کل تعداد 9.5 لاکھ سے زائد ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔اس تعداد کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں کے لیے اوسطا ایک فوجی تعینات ہے۔ قار ئین کرام،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض افواج ظلم اور بربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہیں کہ وادی میں مٹی کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں  شہیدوں کا خون شامل نہ ہو۔کوئی دریا ایسا نہیں جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جسے قابض افواج نے تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ان مظالم کے علاوہ بھارت نے کئی کالے قانون نافذِعمل کئے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی آزادی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے، جیساکہ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، 1958 کے تحت، سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اپنے اختیار میں کسی بھی طریقے کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، چاہے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کتنی ہی وسیع ہو۔ یہ قانون 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، جب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی حکومت کے پاس ان کو کچلنے کا کوئی حربہ نہیں تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایکٹ کے نفاذ پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ وغیرہ کی جانب سے حسبِ معمول رسمی طور پر شدید تنقید کی گئی، کیونکہ اس نے فوجی افسران کو اپنے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی سرگرمیاں کرنے کا براہ راست اختیار دیا تاکہ مرکزی حکومتی احکامات اور حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور  وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔اس قانون کا انتہائی خطرناک استعمال 23 فروری 1991 کو کیا گیا، جب بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں ایک رات کے سرچ آپریشن کے دوران مختلف عمر کی 100 سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔قارئین کرام، جب میں کنان اور پوش پورہ کے واقعے کے بارے میں مطالعہ کر رہا تھا تومجھے معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150 کے قریب تھی۔اس ضمن میں، ان تنظیموں کے دباؤ کے تحت، دہلی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی، لیکن ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اس پر آنکھ بند رکھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور ملوث  فوجیوں کو بری کر دیا تھا۔در حقیقت، پچھلے 74 سالوں سے، بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے، لیکن بھارت ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتا رہا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اس کا جواب یہ رہا ہے کہ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے یا پروپیگنڈا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کو بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت کا یہ رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی بہت سی داستان ہیں، بھارت کسی مبصر کو  مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ کہیں وہ واقعات سے پردہ نا اٹھا دے اور اس کے جھوٹے دعوں کی کلی کھل نہ جائے۔ لیکن پھر بھی کشمیری نوجوان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کو ان حالات اور واقعات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قارئین کرام! میری رائے میں، بھارت کی جانب سے کرفیو، لاک ڈاؤن، جبر اور تشدد جیسی حکمت عملی ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ میں سمجھتا  ہوں کہ اِس طرح کے اقدامات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اپنے مطالبات اور مشن کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کرفیو لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ واضح رہے، اکتوبر 1947 میں ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا اور کھلے عام اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی اور رائے نہیں۔لیکن، اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ، یہ محض ایک کھوکھلا بیان تھا۔ اس کے علاوہ، جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیاتو بھارت نے عالمی برادری سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ایک منٹ لگے گا۔ لیکن، ہندوستان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔اب ایک طرف بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور دوسری طرف وہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑڈھا رہی ہے۔قارئین کرام! اقوامِ عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آزادی ِ جدوجہد کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی لہرکاآغاز کر دیا ہے۔ ہندوستانی قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، سرچ آپریشن کی آڑ میں، زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ صرف اکتوبر، 2021 کے مہینے میں اب تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ قا رئین کرام! یہ بات ہر ایک پرآشنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد منہ چھپانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی فاشسٹ حکمران حکومت، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ”فالس فلیگ آپریشن” کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ آخر میں، بطور ڈویژنل صدر کشمیر یوتھ الائنس میں اقوامِ عالم سے پُر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرے۔چونکہ، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔ ورنہ،مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرنا اور کھوکھلے بیانات خطے میں سب سے بڑی تباہی کا باعث بنیں گے۔ 

    @MAkhter_