Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فیصلہ پارٹ نمبر 2    تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی 

    Twitter @cikandarAli

     یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔

    اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟

    کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟

    میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔

    جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں 

    اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے 

    تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔

    میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

    (جاری ہے۔)

  • غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

    جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

    @saadakram_   twiter handle 

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر   تحریر: تنویر وگن

    لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر تحریر: تنویر وگن

    موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، پینے کا صاف پانی میسر نہیں

    700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط چولستان اونٹ ، بھیڑ، بکری، گائے کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے سینکڑوں چکوک میں موجود سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد حکومتی سرپرستی نہ ہونے سے زبوں حالی کا شکار، وفاقی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت سے توجہ کا مطالبہ

    پاکستان کا سب سے بڑا صحرائی علاقہ چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی اور 3 اضلاع ضلع رحیم یارخان، بہاول پور، بہاول نگر کے علاوہ سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے60 لاکھ ایکڑ پر محیط اس علاقے کی انسانی آبادی 3 لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے جبکہ70 لاکھ سے زائد مویشی پاۓ جاتے ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں چولستان میں 450 کلومیٹر سے زائد سڑکیں واٹر سپلائی کے لیے 1100 ٹوبوں کے علاوہ مختلف چکوک میں بجلی اور دیگر سہولیات مہیا کی گئیں مگر موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 کلومیٹر سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں 734 دیہاتوں پر مشتمل چولستان ( روہی ) وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت کی توجہ کا منتظر ہے چولستان کو ترقی دینے کے لیے 1976ء میں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی CDA کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    اس سے قبل 1959-60 میں لوگوں کو آباد کرنے کے لیے درخواستیں لے کر انہیں رقبے الاٹ کیے گئے سب سے پہلے گرومروفوڈ سکیم کے تحت 2 مربع اراضی ہر شخص کو الاٹ کی گئی 1960ء میں پھر ایک نوٹیفیکیشن کے تحت اس رقبہ کو ساڑھے 112 پکڑ کر دیا گیا چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط ہے یہ سندھ پنجاب بارڈر سے فورٹ عباس بہاول نگر تک پھیلا ہوا ہے اور بیشتر جگہوں سے اس سے انڈیا کی سرحد بھی ملتی ہیں، اونٹ، بھیڑ، بکری، گاۓ کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے چولستان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پہلے پہل ہر سال یہاں موجود ٹوبوں کے لیے باقاعدہ ترقیاتی فنڈز مہیا ہوتے تھے اور کچھ ٹوبوں کو کمپیوٹرائز کر کے ان کی بھل صفائی تک کا کام بھی ہوتا تھا

    مگر اب بھی ایسے سینکڑوں ترقیاتی منصوبے کھٹائی کا شکار ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے لیے بلڈنگز بناکر پائپ لائنیں تک بچھادی گئیں لیکن یہاں اس دور حکومت میں ان کو چالو نہ کیا گیا چونکہ روہی ( چولستان ) کا زیر زمین پانی کڑوا ہے اس لیے یہاں قدرتی ٹوبوں جو کہ بارش کے پانی کی وجہ سے آبادی اور جانوروں کو پینے کا پانی فراہم ہوتا ہے اس میں صفائی اور دیگر کئی معاملات کی وجہ سے ان علاقوں میں یرقان، گردوں کی بیماریوں سمیت دیگر کئی پیچیدہ امراض سر اٹھاتے ہیں اکثر اوقات ان علاقوں میں قحط سالی کا بھی ساں رہتا ہے۔

    ایک دہائی قبل چولستان میں مویشیوں کی افزائش اور انسانوں کی ترقی کے لیے خوراک تک حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے مفت تقسیم کی جاتی تھی مگر اب ایسا سلسلہ نہیں ہے 2014 میں ہونے والی خشک سالی کے باعث کئی انسان اور جانور لقمہ اجل بن گئے تب اس وقت کی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر چولستانی ترقیاتی ادارہ کو بہت بڑی تعداد میں فنڈز مہیا کیے اور علاقوں میں مویشیوں کے ہسپتالوں کے علاوہ موبائل ہسپتالوں کے لیے گاڑیاں تک فراہم کیں ان علاقوں میں سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد تھی جو حکومتی موثر سر پرستی نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں پٹہ ملکیت فی یونٹ فیس 700 روپے تھی اب یہ فیس 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور 1400 روپے کے عوض ملنے والی زمین اب 16 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اس پر ستم ظریفی یہ بھی کہ ابھی تک چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ان کے ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاسکا

    چولستان کے لیے علیحدہ کمپیوٹرائز ریکارڈ سینٹر اور نادرا سینٹر بھی قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی فلڈ سپلائی کے تحت چولستان کے پانی کو علیحدہ کر کے اس کا سیم نالہ علیحدہ کیا گیا ہے قبل از میں مسلم لیگ ن کے دور میں سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ہمیشہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین ہوتے تھے اور وہ خود اپنی نگرانی میں چولستان کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ یہاں نامناسب اور ناموجود سہولیات کو دیکھ کر وقت کے مطابق انہیں فنڈز بھی مہیا کرتے تھے۔ لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد چولستان میں اس طرح سے ترقیاتی کام اور انسانی و جانوروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اب صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم باشم جواں بخت کا تعلق نہ صرف سرائیکی وسیب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے بلکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت ان کا تعلق اس سیاسی گروپ سے بھی ہے

     جنہوں نے جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کے استحصال شدہ علاقوں کی ترقی کا وعدہ کیا تھا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ چولستان کو محض ایک صحرا کے طور پر جانتے ہوۓ اس کو نظر انداز نہ کریں بلکہ چیئرمین چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی مخدوم ہاشم جواں بخت تینوں اضلاع میں اس ریگستانی پٹی کے ان سینکڑوں چکوک کا خصوصی دورہ کریں۔ جہاں پر بہت بڑی آبادی قائم ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور جو سڑکیں بن کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پینے کے صاف پانی کے علاوہ سکولوں اور ہسپتالوں میں ناموجود سہولیات کی فراہمی کو بھی پورا کرلیں۔

    Twitter account @WaganMir

  • ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    دبئی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میچ پاکستان سے ہارنے کے بعد بھارتی کپتان ویرات کوہلی صحافی کے سوال پر غصہ کر گئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویرات کوہلی گزشتہ رات میچ ہارنے کے بعد پریس کانفرنس کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں ویرات کوہلی کو صحافی کے سوال پر گصہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں صحافی نے روہت شرما سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ نے آؤٹ آف فارم روہت شرما کو ڈراپ کر کے ایشان کشن کو شامل نہیں کیا اس کی وجہ کیا تھی ؟

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    صحافی کے طنزیہ سوال پر ویرات کوہلی نے کہا کہ بہت اچھا سوال ہے لیکن چلیں آپ مجھے اس کی وجہ بتادیں۔

    بھارت کی ہار پر اسٹیڈیم میں موجود اکشے کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا

    صحافی نے کہا کہ میں کمنٹ نہیں کر رہا بلکہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ جس پر ویرات کوہلی نے کہا کہ روہت شرما کو آپ ایشان کشن سے ملا رہے ہیں جبکہ روہت شرما ہمارے سینئر کھلاڑی ہیں اور ان کی جگہ ایشان کشن کو کیسے شامل کیا جاسکتا تھا جس کے بعد ویرات کوہلی نے غصہ کو ضبط کرتے ہوئے کہا کہ باقابل یقین سوال ہے-

    ویرات کوہلی نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کوئی تنازعہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہی بتا دیں تاکہ میں اسی حساب سے پھر آپ کو جواب دوں۔

    ویڈیو: پاکستان کی تاریخی جیت پراسٹیڈیم میں موجود بابراعظم کے والد فرط جزبات سے رو…

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی شاہینوں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی تھی بھارت کی جانب سے پاکستان کو جیت کے لیے 152 رنز کا ہدف دیا گیا تھا جسے قومی ٹیم نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 17 اوورز میں ہی مکمل کر لیا۔

    صدر سمیت حکومتی و سیاسی شخصیات کی قومی ٹیم کو مبارکباد

  • مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت  اجالہ

    مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت اجالہ

    عالمی وبا کورونا کے باعث روز بروز بڑھتی ھوئی مہنگائی کی لپیٹ میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی شامل ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی سے پریشان غریب عوام کے لیے اشیائےخوردونوش خریدنا ناممکنات میں شامل ھوتا جا رہا ہے وہیں بغض عمران خان میں مبتلا اپوزیشن عالمی مسلے کو حکومت کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے زاتی مفادات کے حصول کی خاطر معصوم عوام کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر رہی ہے۔ابو بچاو اور کرپشن چھپاوں تحریک کو مہنگائی مخالف جنگ کے لبادے مییں چھپا کر انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں کہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے لیکن ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ پاکستان پیٹرول سمیت بہت سی اشیاء خوردونوش کیلیے دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے، کورونا کے باعث طلب و رسد کے واضح فرق اور نظام ترسیلات میں رکاوٹوں کے سبب ہر شعبہ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ،انتہائی ترقی پزیر ممالک جہاں کبھی مہنگائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا وہا ں بھی مہنگائی نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔

    حالیہ مہنگے ہونے والے پیٹرول کی بات کریں تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرول میں خود کفیل نہیں ہے ،عالمی سطح پر بارہ ماہ کی قلیل مدت میں پیٹرول کی قیمت میں 88.5 روپے اضافہ ہوا جس میں بتدریج اضافے کا امکان ہے جبکہ پاکستان میں اسی عرصے میں صرف 17.55% بڑھوتری ہوئ ہے ۔حکومت پاکستان اس وقت مجموعی قیمت 138 روپے میں سے صرف 14 روپے لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ھے جو کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ می پیٹرول پر کم ترین ٹیکس ہے۔ نون لیگی ترجمان شاہد خاقان عباسی بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت بہت کم ٹیکس لے رہی ہے اور یہ بھی کہ اگر نون لیگ کی حکومت ہوتی تو پیٹرول کی قیمت موجودہ قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی۔
    ۔ جو لوگ عمران خان کے ماضی میں دیے گئے بیان ‘جب پیٹرول کی قیمتوں مین اضافہ ھو تو سمجھ لو حکمران چور ہے ‘ کو لیکر تمسخر اور تنقید کر رہے ہں انہییں یاد دہانی کرواتی جائوں کہ اس وقت پیٹرول کی قیمت اگر 100 روپے تھی تو اسمیں 52 روپے صرف لیوی اور سیلز ٹیکس کے تھے جب کہ پیٹرول کی قیمت صرف 48 روپے تھی۔ یعنی نصف سے بھی زیادہ رقم صرف ٹیکس کی مد میں موصول کی جاتی رہی ہے ۔

    عالمی سطح پر گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 135 % ہے جبکہ پاکستان میں قدرتی ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمتوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔

    خوردنی تیل کے حوالے سے بھی جھوٹی خبریں چلا کر پراپیگنڈہ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی جبکہ در حقیقت عالمی منڈی کے خوردنی تیل کے نرخوں میں 48% اضافہ پر پاکستانی حکومت نے صرف 38% اضافہ کیا ۔

    سوشل میڈیا کے کچھ دانشور اس بات کا منجن بیچتے بھی نظر آئے کہ پیٹرول اور تیل تو باہر سے منگواتے ہیں اسلیئے مہنگا ہے تو باقی اشیاء زندگی کیوں مہنگی ہیں ؟ ان دانشوروں سے معصومانہ سوال ہے کہ گندم چاول اور کچھ دیگر اجناس کے علاوہ پاکستان کس چیز کی پیداوار میں خود کفیل ہے؟ پام آئل اور سویابین سے بناسپتی گھی بننے کہ باوجود ہمیں خوردنی تیل باہر سے منگوانا پڑتا ہے کیونکه پام آئل اور سویابین دونوں کی بہترین کاشت کا مرکز سندھ ہے جس پہ نا کسی گزشتہ وفاقی حکومت نے توجہ دینا مناسب سمجھا اور نا ہی مہنگائی پہ بھاشن دیتی بھٹو سرکار نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی کہ بھٹوں کو زندہ رکھتے رکھتے سندھ کی عوام بیروزگاری بھوک اور افلاس کا کفن اوڑھے زندگی سے منہ موڑ چکی ہے ۔
    وہ جماعت جو مہنگائی کی آڑ لیکر اپنی کرپشن بچانے کیلئے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہے ان کے دور اقتدار کے گزشتہ دس سالوں میں مسلسل ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوتی رہی لیکن نا تو اسحاق ڈار نے نوٹس لیا اور نا ہی نانی چار سو بیس کے دل میں عوام کا درد جاگا ۔

    خشک دودھ، پنیر ،دہی سے لیکر گرم مصالحہ جات اور دالیں تک ہم دوسرے ممالک سے خریدتے ہیں ،گزشتہ دس سالوں میں کسان کی حق تلفی کر کہ ملکی پیداوار کو تباہی کہ دہانے پر پہنچایا گیا ، ملک میں موجود کھاد پیدا کرنے کا واحد ادارہ ایف ایف بی ایل کھاد کی ملکی ضروریات پیدا کرنے سے قاصر ہے جس کی کمی باہر سے او ڈی پی کھاد منگوا کر پوری کی جاتی ہے۔موجودہ حکومت نے کسان کی بحالی کیلئے احسن اقدامات کیئے ،کسان کارڈ کا اجراء کیا اور تمام فصلوں کے ریٹ مقرر کیئے تاکہ کسان خوشحال ہو .اپوزیشن پراپگینڈا کے برعکس حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت نے پاکستانی عوام کو ہر ممکن حد تک عالمی مہنگای کے اثرات سے بچایا ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں ۔حکومتی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار کے لیئے کاشتکاری شروع کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کافی حد تک خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے گا ۔تحریک انصاف حکومت نے ملکی صنعتوں کی بحالی کا کام بھی شروع کیا ہے تاکہ پاکستان صرف باہر سے درآمد کرنے والی قوموں کی صف سے باہر نکل سکے، اس اقدام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا، حکومت کی موٴثر پالیسیوں کے سبب ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئندہ ہے غیرملکی زر مبادلہ کے زخائر بتدریج میں بہتری آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ اگلے ماہ کی 15 تاریخ سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے گی،

    حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس مہنگائی ک مقبلہ کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہونگے اور زرائع آمدن کو بڑھانا ہوگا ۔عمران خان کا وژن نسل در نسل سیاست نہیں عوام کی بقا ہے، وہ ووٹ یا اقتدار کے لالچ میں وقتی فیصلے نہیں کرتے بلکہ ایسے فیصلے اور اقدامات کر رہے ہیں جن کے نتائج مثبت اور دیر پا ہونگے، مشکل حالات ہیں لیکن میرے کپتان نے کبھی حالات کے سامنے سر نہیں جھکایا انشاء اللہ وہ پاکستان اور عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور اس مشکل وقت کو بھی شکست دیکر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے ،لیکن وقت لگے گا ۔

    @_Ujala_R

  • جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    وہ میرے پاس چیک اپ کرانے آیا میں نے اسکے دانت دیکھ کر اسکو تمام علاج اور حل بتلائے مجھے لگا کہ وہ پہلے ھی کسی اور سے علاج کروا رہا ھے قطع نظر اسکے میں نے اسکو میں نے پوری ایمانداری سے جو حل ھوسکتا وہ بتلا دیا اس نے ساری تفصیل سننے کے بعد کہا ڈاکٹر صاحب میں کسی اور سے علاج کروا رھا تھا بس تسلی لئے آپکو چیک کروالیا آپکا علاج کافی مہنگا ھے اور لمبا ھے حل تلک پہنچتے پہنچتے دیر ھوجایئگی مجھے یقین ھے کہ آپ جو حل بتا رہے وہ بالکل ٹھیک ھوگا مگر میں جہاں سے علاج کروا رھا اس نے نہایت آسان حل بتلایا ھے وہ میرا دانت نکال کر نیا لگا دیگا اور قیمت بھی آپ سے آدھی سے بھی کم لیگا

    مجھے جستجو ھوئی کہ یہ کون ڈاکٹر ھے میں نے نا چاہتے ھوئے بھی نام پوچھ ھی لیا اس مریض نے ایک جعلی ڈگری والے عطائی ڈاکٹر کا نام بتلایا اور یہ کہتے ھوئے چلا گیا کہ خدانخواستہ اگر وہ ڈاکٹر صاحب ناکام ھوگئے تو پھر آپ سے مشورہ کرنے ضرور آونگا.ناظرین وہ مریض کوی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا یا کوی ان پڑھ شخص نہیں تھا بلکہ ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھنے والے اچھے متوسط طبقے کا چشم و چراغ تھا اور میں اسکی آنکھیں پڑھ چکا تھا وہ یقینا جانتا تھا کہ وہ ایک عطائی ڈاکٹر پاس جارا ھے علاج کرانے جو نا صرف علمی لحاظ سے بلکہ کلینک کی صفائی اوزاروں کی سٹیریلازیشن(sterilisation) کے اعتبار سے بھی ناقابل بھروسہ کم تر اور بیماریوں کی آماجگاہ ھوگا

    مجھے اس مریض کا مجھ پر ایک جعلی ڈاکٹر کو فوقیت دینے کا دکھ نہیں ھورا تھا بلکہ اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ وہاں سے کوی نئ بیماری ھیپاٹائٹس وغیرہ نا لے آئے ،میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ ایسی کیا مجبوری ھوی کہ اس نے اور اس جیسے کئ لوگ اپنی فیملیز کو اب ڈینٹل سرجنز کے بجائے جانتے بوجھتے جعلی ڈاکٹرز پاس لے جاتے یقینا اسکی ایک بڑی وجہ مہنگائ خرچوں کا آمدن سے زائد ھونا اور دانتوں کا علاج دوسری بیماریوں کی نسبتا زیادہ مہنگا ھونا ھے پھر میں نے یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگوں کے سامنے رکھا میں اندر سے ھل سا گیا جب میں نے تقریبا تمام کمنٹس یہی پڑھے کے ڈاکٹرز مہنگے ھیں ڈاکٹرز لٹیرے ایک معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نسیم کھیڑا عرف منہ کھول پلیز نے تو یہ تک کہ دیا کہ آپ کے چھرے بہت تیز ھوتے یعنی چند روپے بچت کی خاطر عوام اس بات کو بھی پیچھے چھوڑ رہی کہ وہ زندگی بھر کی بیماریاں لے سکتے یہ جعلی ڈاکٹرز انتہائی کم پڑھے لکھے سے مکمل طور پر ان پڑھ ھوتے انکی کل قابلیت کسی ڈاکٹر ساتھ بطور اسٹنٹ کام کرنا انکے تجربے سے اور prescription پر لکھی دوائیاں سیکھنا ھوتا یہ کسی ھسپتال میں بطور ڈسپنسر لگ جاتے ڈاکٹر سرجن کے ھنر سے فائدہ لیتے ان سے کام سیکھتے اور اپنا کلینک ڈال لیتے ایک کو تو میں الیکٹریشن کی دکان تھی نہیں چلی تو ڈینٹسٹ ساتھ کچھ عرصہ کام پر لگا پھر اپنا ذاتی کلینک بنالیا اب اپنے نام ساتھ ڈاکٹر لکھ کر گھوم پھر رھا ھوتا anaesthesia کو anatesia کہنے والا یہ گروہ عوام کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھاتا ھیلتھ کمیشن کو ماہانہ بتھا دیتا اور بیماریاں بیچتادوسری طرف کئ ڈاکٹرز نے واقعتا ناجائز فیس لینے علاج کے نام پر کمپنی کی دوائیاں بیچنے کا unethical کاروبار شروع کیا ھوا اس سارے معاملے کو تفصیل سے آئندہ کالمز میں بتاونگا اور اس پلیٹ فارم سے ان شااللہ دونوں طرف سے اچھائی لئے آواز بلند کرینگے

  • سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا.
    ہر انسان خود دار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا. مگر بعض اوقات اُسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اسکی خودداری کو جھکنے پر مجبور کردیتیں ہیں.
    آپ نے کبھی ایسے مجبور باپ کو دیکھا ہوگا جو اپنی اولاد کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اسے طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتیں ہیں اور کئی لوگوں کی ڈانٹ اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں. اسکے باوجود وہ اپنی محنت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنا گھر چلانا ہوتا ہے. اپنے بچے پالنے ہوتے ہیں.
    ایک ریڑھی والے کو جب 1500 کا چالان تھما دیا جاتا ہے تو اسکی حالت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود مزدور ہو,
    مگر جیسے تیسے کرکے اس نے چالان بھی بھرنا ہوتا ہے چاہے اسکے لئے اسے خود بھوکا سونا پڑ جائے…
    باپ جو اپنے بچوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنے کے لئے اپنا آپ بھول جاتا ہے. اس کے لئے اپنی صحت اپنی ہمت معنی نہیں رکھتی وہ اپنے آپ کو کمزور کرتا ہے تاکہ اُسکی اولاد کسی قابل بن سکے.
    وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے چہرے سے ظاہر نہ دے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے جو اسکے اختیار میں ہوتی.
    اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسکو اپنی خود داری کو دفن کرنا پڑتا جاتا ہے. اسے کئی طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں مگر اُسے سب برداشت کرنا پڑتا ہے.

    اللہ کا قانون ہے کسی کو آسائشیں دے کے آزماتا ہے تو کسی کو ان آسائشوں سے محروم رکھ کے آزماتا ہے.
    اچھا اور برا وقت ہر کسی پہ آتا ہے اچھے وقت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بُرے وقت میں صبر. اور صبر اور شکر دونوں اللہ کو بہت پسند ہے.
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے مطلب کے بُرے وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا.. مگر بُرا وقت اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز ضرور کرا دیتا ہے.
    بُرے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے مگر تسلی کے دو بول تو دے سکتے ہیں اسکے ساتھ کھڑے رہ کر اسے حوصلہ تو دے سکتے ہیں.
    آج اس دور میں غمِ روزگار نے سب کو پریشان کر رکھا ہے. ایک طرح سے اپنے رشتے داروں سے بھی دور کردیا ہے. اور یہ انکی مجبوری بھی ہے
    انسان جب کسی کو کسی تکلیف میں دیکھتا ہے تو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اسکی تکلیف دور کرسکے.
    میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ٹھنڈا شربت پی لو… کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اسکے پیچھے چلتا ہوا دیکھتی ہوں تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ مالک انکی آزمائش واقعی کٹھن ہے.
    میرا جانا راولپنڈی کے ایک مشہور اسپتال ہوا
    وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے.
    بہت تکلیف میں تھے پر انکے ساتھ کوئی نہیں تھا.
    مجھ سے رہا نہیں گیا میں اُن کے پاس چلی گئی, پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپکو..
    تو کانپتے ہاتھ سے اشارہ کِیا کہ سینے میں درد ہے.
    میں ڈاکٹر کو بُلا کے لائی, ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کرکے چلا گیا
    دل میں طرح طرح سوال تھے کہ انکے ساتھ کوئی کیوں نہیں, یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ
    میں اسی سوچ میں تھی کہ اُن بزرگ نے مجھے آواز دی
    بیٹی آپکے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟
    میں نے انھیں بتایا کہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں. اب رپورٹس کا انتظار کررہی ہوں..
    میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟
    تو بولے میں چکوال سے ہوں.
    آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے ؟؟ میں نے پھر سوال کیا.
    تو اُنکی آنکھوں میں آ نسو آ گئے, بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے.
    جوان بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا اب اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں, انکے لئے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے..
    میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں ؟
    تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں, کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ انکو کام چاہیے ہوتا ہے.
    جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لئے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں, اس عمر میں مزدوری کررہے کیونکہ انکا سہارا کوئی نہیں اور اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں
    میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمھاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے.
    میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے پتر مینوں شرمندہ نہ کر.
    کتنی خودداری تھی انکی آواز میں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کردیا.
    بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر آنکھیں بند کردی
    اور دھیمی آواز میں کہنے لگے اللہ تمھیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے. بچوں کو اللہ ماں باپ کے لئے زندہ رکھے. اللہ تمھارے بچے کو زندگی دے..
    پتا نہیں کیوں میری آنکھیں بھیگنے لگیں
    میں دل سے دعا کررہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے انکی تکلیفیں دور کرسکوں کسی کی آنکھوں میں آنسو آ نے نہ دوں اور نہ کبھی کسی کی آنکھ میں آنسو آنے کی وجہ بن سکوں.
    آمین

    @Rehna_7

  • بھارت سے میچ جیتنے کی خوشی ، گوجرانوالہ کے لوگوں کاجشن ، پولیس کے بھی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے

    بھارت سے میچ جیتنے کی خوشی ، گوجرانوالہ کے لوگوں کاجشن ، پولیس کے بھی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے

    بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر گوجرانوالہ کی عوام جشن منانے باہر نکل آئی

    گوجرانوالہ: ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں پاکستان اور بھارت کا پہلے پہلے میچ میں ٹاکرا ، پاک بھارت میچ میں پاکستان نے بھارت کو دھول چٹا دی ۔

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان نے کی تاریخی فتح کی خوشی میں رات گئے گوجرانوالہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد فتح کا جشن منانے جی ٹی روڈ پر نکل آئی، گوجرانوالہ کے مشہور مقام شیرانوالہ باغ میں نوجوانوں کے ایک بڑے ہجوم نے جشن منایا ، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور پٹاخے بھی چلائے گئے ۔ اس موقع پر پولیس کی ایک وین گزر رہی تھی نوجوانوں کا جذبہ دیکھ کر پولیس اہلکاروں سے بھی رہا نہ گیا اور انہوں نے بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس تاریخی فتح کا جشن منانے کے لیے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا جسے نوجوانوں نے خوب سراہا ۔

    گزشتہ رات پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پنا پہلا میچ کھیلتے ہوئے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دے کر بھارتیوں کا غرور خاک میں ملا دیا اس تاریخ ساز فتح پر جہاں پوری قوم نے فتح کا جشن منایا وہاں گوجرانوالہ کے لوگوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔

  • 23 سالہ نوجوان اریان خان  کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    جیسا کہ میں نے اپنی بتایا تھا کہ صرف شاہ رخ خان ہی نہیں بالی وڈ کے باقی تینوں خانز کے خلاف بھی اب کاروائیاں ہوگی تو آج اس سلسلے میں باقاعدہ پہلی اسٹوری منظر عام پر آگئی ہے ۔۔ پھر اس وقت شاہ خان کے گھر پر ایک سوگ کا سماں ہے ۔ دایولی سمیت تمام اس طرح کا ایونٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی کل شاہ رخ اپنے بیٹے اریان خان سے کیا بات چیت ہوئی اسکی بھی مکمل تفصیل سامنے آچکی ہے ۔ پھر شاہ رخ خان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والی کاجول کی منافقت بھی پکڑی گئی ہے ۔ سب سے پہلے اگر بات کی جائے کہ بالی وڈ سے خانز کا کیسے قلع قمع کیا جائے تو اس سلسلے میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے بالی وڈ کے سپرسٹار عامر خان کے ایک اشتہار پر سخت اعتراض کردیا ہے۔ اور ان کے خلاف باقاعدہ ایک کمپین لانچ کردی گئی ہے ۔ ۔ دراصل یہ ایک اشتہار ہے جس میں عامر خان ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر لوگوں سے پٹاخے نہ پھوڑنے کی گزارش کر رہے ہیں ۔ اس اشتہار کو ٹائر بنانے والی ایک بھارتی کمپنی (Ceat) نے جاری کیا ہے۔ بھارت میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑا مسئلہ اور دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے سے خاص طور پر شہروں میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنے اشتہار میں عامر خان کو استعمال کیا ہے۔۔ عامر خان اس اشتہار میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گلی کوچوں اور راستوں میں پٹاخے داغنے سے گریز کریں ۔ ۔ اس پر بی جے پی نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوؤں کے خلاف اقدام کیا گیاہے ۔ اور جان بوجھ کر ہندوؤں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ اب عامر خان اور اس ٹائر بنانے والی کمپنی کے خلاف بھارت میں ایک طوفان برپا ہے ۔ عامر خان کوتو ہندو دشمن ، بھارت دشمن ، غدار پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا ہے ۔ گودی میڈیا اور ٹویٹر پر ہندوتوا برئیگیڈ بھی اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ ۔ بی جے پی نے تو کمپنی کے مالک کو خط بھی ٹھوک دیا ہے اور خوب دھمکیاں بھی لگائی ہیں ۔ ۔ خط میں لکھا ہے کہ ہندو مخالف اداکاروں کا ایک گروپ ہمیشہ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور وہ کبھی اپنی برادری کے غلط کاموں کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پھر بی جے پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز یا بعض دیگر مسلم تہواروں کے موقع پر نماز کے نام پر مسلمان سڑکوں کو بلاک کرنا بند کر دیں۔۔ ہر روز مساجد کے میناروں پر رکھے۔ لاؤڈ اسپیکر سے اس وقت بہت زور زور کی آواز نکلتی ہے جب اذان دی جاتی ہے اور یہ آواز جائز حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

    جمعے کے دن تو یہ اور بھی طویل ہوتی ہے۔ اس سے آرام کے متمنّی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد، مختلف اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ درحقیقت، متاثرین کی یہ فہرست بہت طویل ہے اور یہاں صرف چند کا ذکر کیا گیا ہے۔۔ یوں اشتہار کی آڑ میں بی جے پی نے اپنے سیاست چمکانے شروع کر دی ہے اور اس اشتہار کو ہندو مسلم فساد میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے ۔۔ یہ عامر خان کے ساتھ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایسے اکثر واقعات ہوچکے ہیں ۔ یوں اگر یاد ہو تو اسی سال جب عامر خان نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور ترکی کی خاتون اول سے ملاقات کی تھی تو اس وقت بھی بھارتی میڈیا نے ان کی تصاویر کو بنیاد کر انو غدار کہنا شروع کر دیا تھا ۔ جبکہ بی جے پی کے لیڈروں نے عامر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ کیونکہ طیب ارداگان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کا اس کا اصل چہرہ دیکھا یا تھا ۔ ۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے ایک اور بی جے پی رہنما نے دیوالی سے متعلق کپڑا بنانے والی ایک کمپنی ۔۔۔ فیب انڈیا ۔۔۔ کے اس اشتہار پر اعتراض کیا تھا جس میں دیوالی کے جشن کے موقع پر نئے کلیکشن کے لیے اردو الفاظ استعمال کیا گيا تھا۔ ۔ حالانکہ کمپنی نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ کمپنی کا اشتہار محبت اور روشنی کے تہوار کے استقبال کے لیے ہے اور اس کا نیا کلیکشن بھارتی ثقافت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ہندو گروپوں نے کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم چلا دی جس کے بعد کمپنی نے اشتہار ہٹا دیا۔۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اکثر یہ کہتی ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کی عکاس ہے لہذا اسے ہندوؤں کی رسومات اور ان کی تہذیب کو بیان کرنے کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ تاہم ایک طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ لفظ ہندو خود اصل میں عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے اور اردو لفظ ہے تو کیا ہندو اس لفظ کو ترک کر سکتے ہیں؟

    ۔ اریان خان کیس کی بات کی جائے تو بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان اور ان کی فیملی نے آریان کے جیل میں ہونے کے باعث اس برس دیوالی اور سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان کے گھر میں نہ تو کوئی تقریب ہوگی نہ ہی پارٹی ۔ یعنی شاہ رخ خان کا گھر اب مکمل سوگ میں ڈوب چکا ہے ۔ آریان کی رہائی میں تاخیر ’منت‘ کے رہائشیوں کیلئے اب ایک عذاب کی صورت اختیار کرگئی ہے۔۔ دوسری جانب گزشتہ روز جب پہلی بار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے منشیات کیس میں گرفتار بیٹے آریان خان سے ملاقات کی۔ تو جیل میں ہونے والی اس 18 منٹ کی ملاقات میں بات چیت کا آغاز آریان نے معافی مانگ کر کیا جس پر شاہ رخ نے جواب دیا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ جیل کے محافظوں کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کھانا صحیح سے کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ اس پر آریان نے جواب دیا کہ انہیں جیل کا کھانا پسند نہیں آ رہا۔ اس پر شاہ رخ خان نے جیل حکام سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بیٹے کے لیے گھر کا کھانا بھجوا سکتے ہیں۔ جواب میں افسران نے کہا کہ انہیں اس کے لیے عدالت سے اجازت لینی پڑے گی اور اگر کورٹ اجازت دیتی ہے تو انہیں گھر کا کھانا مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کچھ مزید باتیں کیں۔ ۔ پھر شاہ رخ کی جیل کے باہر گاڑی تک جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ ویڈیو میں انہیں مداحوں کے سامنے عاجزی سے ملتے۔ بار بار ہاتھ جوڑ تے اور ہاتھ ملاتے بھی دیکھا گیا۔ پر اس دوران شاہ رخ خان نے جیل کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا کیا ہے شاہ رخ خان نے کہ میڈیا کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی کیوںکہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ ہی کچھ اور کرنا تھا اور جو ان کو ایجنڈا مودی کی جانب سے ملاہوا ہے انھوں نے اس کو ہی پروان چڑھانا تھا اور پھر ارناب گوسوامی جیسوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر خوب چینخنا اور چلانا تھا ۔ تو یہ تو بہت اچھا کیا ہے انھوں نے کہ بھارتی میڈیا کو منہ ہی نہیں لگایا ۔ ورنہ وہ جواب جو بھی دیتے مطلب اس کا الٹا ہی نکالاجانا تھا ۔ ۔ میں آپکو بتاوں مصیبت میں ہی پتہ چلتا ہے کہ کون آپکا دوست ہے اور کون دشمن ۔۔۔ یقیناً شاہ رخ خان اور ان کی فیملی کو بھی اس کا پتہ چل گیا ہو گا ۔ کیونکہ بہت سے ان کے قریبی اپنی زبانوں کو تالے لگائے بیٹھے ہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں آج اداکارہ کاجول نے اپنی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گےکے 26 سال مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی پوسٹ شیئر کی۔ جس میں وہ اپنی محبت یعنی شاہ رخ خان سے مل جاتی ہیں۔ جو آخری سین ہے اس فلم کا ٹرین والا ۔۔۔ ۔ پر دیکھیں ان کو یہ فلم تو یاد ہے ۔ پر اس وقت جو شاہ رخ خان اور انکی فیملی ساتھ ہورہا ہے وہ دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کیسی دونمبری ہے ۔۔ اُن کی اس پوسٹ پر شاہ رخ خان کے مداحوں نے اُن کی خوب بجائی بھی ہے اور کلاس بھی لی ہے ۔ کہ اس وقت آریان خان جیل میں ہیں اور کاجول اپنے دوست شاہ رخ خان کو سپورٹ کرنے کے بجائے یہاں اپنی فلم کا جشن منارہی ہیں۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ شاہ رخ کو دوست کہنے کی دعوایدار کاجل نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ ان کے دوست شاہ رخ خان کس مشکل وقت سے گُزر رہے ہیں۔ اُن کے بیٹے کو ضمانت نہیں مل رہی ہے اور یہ خوشیاں منا رہی ہیں ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں قتل سے بڑا جُرم منشیات کا استعمال کرنا ہے۔ آئے روز آپ دیکھتے ہوں گے دن دیہاڑے سڑکوں پر اقلیتوں کو پورے پورے جہتے جان سے مار دیتے ہیں مگر نہ کوئی گرفتاری ہوتی ہے نہ کوئی ہمدردی کے دو لفظ بولتا ہے ۔

    ۔ اس وقت 23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد کی جارہی ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بھارتی ادارے کس طرح قانون کی پاسداری کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی کی کئی مشہور شخصیات کے بچے معصوم لوگوں کا قتل کرنے کے باوجود بھی بچ گئے ہیں۔دور کیا جانا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جو گجرات کا قصائی ہونے ہر فخر کرتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ پر پتہ نہیں کتنے معصوم لوگوں کا قتل ہے ۔ مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ انگلی بھی اٹھائے ۔۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ بھارت میں مبینہ طور پر نوجوان لڑکیوں، عورتوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اُن کے مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ ۔ لعنت ہے بی جے پی پر ، مودی پر ، آر ایس ایس پر اور طاقت کے اس ناجائز استعمال اور نا انصافی پر۔