Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    نیویارک :میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی بطخ کے سوشل میڈیا پر چرچے-

    باغی ٹی وی : میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی ایک بطخ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس سے صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور بطخ کی ریس لگاتے ہوئے ویڈیو کو خوب سراہا جا رہا ہے –

    وزیر خارجہ کا ماحولیاتی تبدیلی سے آگاہی دینے کا انوکھا طریقہ

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹی سی رنکل نامی بطخ سُرخ جوتے پہنے نیویارک میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ہمراہ دوڑ لگاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

    یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ "رنکل نے نیو یارک میراتھن میں دوڑ لگائی، اگلے سال یہ اس سے بھی اچھا پرفارم کرے گی۔”

    انسٹاگرام پوسٹ میں میراتھن ریس میں حصّہ لینے پر بطخ کو سراہنے والے صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

    "ٹائم آؤٹ ” کے مطابق اگرچہ ہم اب مشہور شخصیت کی بطخ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کافی عرصے سے جانوروں کی حرکات کو دائمی بنا رہا ہے۔

    لیکن یہ NYC میراتھن میں بطخ کی ظاہری شکل ہے جس نے واضح طور پر سب سے زیادہ توجہ مبذول کرائی ہے۔ نیویارک کے باشندے، برانڈز اور جانوروں سے محبت کرنے والوں نے رنکل کے بعد کی دوڑ کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ہمارا پسندیدہ تبصرہ TikTok کے بشکریہ آیا، جہاں Adidas نے لکھا: "”ہم ہماری ڈیزائنر ٹیم کو بھیج رہے ہیں تاکہ بطخ کے جوتوں کے نئے مجموعہ کی درخواست کی جا سکے۔

    بطخ کے سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق، رنکل کی ماں جسٹن ووڈ ہے جبکہ اس کے والد اس کے پیارے اسسٹنٹ کے طور پر درج ہیں۔

    میراتھن ایپی سوڈ پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-


    https://twitter.com/jwuless/status/1458487606644256777?s=20


    https://twitter.com/RunsNat/status/1458115003911966730?s=20
    https://twitter.com/gpommen/status/1457972552114999296?s=20


    علاوہ ازیں یہ بطخ بشوک فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر بھی اپنے جلوے بکھیر چکی ہے-

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    واضح رہے کہ آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہےآسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہےبطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

  • ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟

    ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟

    ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟
    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آج پاکستان اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بڑے ایونٹ کے بڑے مقابلے میں آج ناقابل شکست پاکستان اور آسٹریلیا مد مقابل ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے دبئی میں شروع ہوگا سیمی فائنل میں پاکستان کی فتح کے لئے جہاں تمام قوم دعاگو ہے اور قومی ٹیم کی فتح کے لئے پُرجوش ہے وہیں وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ہونے والے ورلڈ کپ ٹی 20 کے سیمی فائنل کیلئے قومی ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے- شیخ رشید نے کہا کہ میری دعا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل جیتے، قومی کرکٹ ٹیم کے سارے کھلاڑی پر امید ہے،اگر فائنل میں پہنچے تو دعا ہے فائنل بھی جیتیں۔

    امریکی سفارتخانے نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ٹی 20ورلڈ کپ دوسرا سیمی فائنل کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے ،امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ ہمارے ذہنوں پر کرکٹ سوار ہے ہم نے اپنی کمیونٹی سے پوچھا کہ آپ کی پسندیدہ ٹیم کون سی ہے؟ ہمیں جواب ملا، اسلام آباد کی پسندیدہ ٹیم واضح ہے ،ہماری کمیونٹی نے تو یہ بھی کہاہے کہ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟

    سابق کرکٹر وسیم اکرم کی آسٹریلوی اہلیہ شنیرا اکرم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو سپورٹ کریں گی شنیرا اکرم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کی جیت کو پسند کروں گی کرکٹ کے جنونی ملک کو جیتتا ہوئے دیکھ کر زیادہ خوشی ہوگی پاکستان کے ہاتھ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی دیکھ کر خواب پورا ہوگا اگر آسٹریلیا سیمی فائنل میں جیت جاتا ہے تب بھی بہت خوشی ہوگی جوبھی نتیجہ نکلے امید ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کامیچ زوردارہوگا

    ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ آج ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کا پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیمی فائنل میچ ہے،پاکستانی کرکٹ ٹیم فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھے گی، گرین شرٹس فائنل میں پہنچ کر ٹرافی پاکستان لائےگی،کے ایم سی نے کراچی کے مختلف علاقوں میں بڑی اسکرینز نصب کی ہیں،پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کو ہم ملکر منائیں گے،

    پنجاب کے صوبائی وزیر صحت رائے تیمورنے کہا ہے کہ ٹی20ورلڈ کپ کے پاکستان اور آسٹریلیا کے سیمی فائنل میچ کے لئے قومی شاہینوں کے لئے دعا گو ہوں۔پوری قوم بھی پاکستان ٹیم کی کامیابی کے لئے دعا کرے۔نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں آج سیمی فائنل پاکستان کی سب سے بڑی سکرین پر دکھایا جارہا ہے۔شائقین اور فیمیلیز کے لئے انٹری فری ہے۔

    گلگت کی ضلعی انتظامیہ نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں آج پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل میچ کو گلگت سٹی پارک میں بڑی سکرین نصب کرکے دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سردی کے پیش نظر رات کو بون فاٸر کا اہتمام بھی کیا جائے گا

    ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان اور سٹار بلے باز برائن لارا نے پیش گوئی کی ہے کہ سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دے گی میری پیشگوئی ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل جیت جائے گا

    دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپربیٹر محمد رضوان اور آلراؤنڈر شعیب ملک کی صحت پہلے سے بہتر ہوئی ہے ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کہ محمد رضوان اور شعیب ملک بہت بہتر محسوس کررہے ہیں میڈیکل پینل دوپہر کو دوبارہ معائنہ کریگا،محمد رضوان اور شعیب ملک فُلو کے باعث گزشتہ روز پریکٹس نہیں کرسکے تھے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے گزشتہ روز 2 گھنٹے پریکٹس کی تھی۔

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل 14نومبر کو دبئی میں ہی کھیلا جائے گاآج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے فائنلسٹ کا فیصلہ ہوجائے گا

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

  • ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    فلوریڈا: تھوڑی زیادہ قیمت میں مریخی ماحول میں کاشت کردہ ٹماٹروں کا کیچپ جلد ہی فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ انسان ابھی تک مریخ پر قدم نہ رکھ سکا لیکن اتنا ضرور ہے کہ کیچپ بنانے والی مشہور کمپنی ہائینز نے ’مارز‘ کےنام سے کیچپ تیار کیا ہے جس کی آزمائشی فروخت شروع ہوچکی ہے-

    "بزنس وائر” کے مطابق سرخ ٹماٹروں کو سرخ سیارے کے عین ماحول میں کاشت کیا گیا ہے اور بہترین ٹماٹروں سے انہیں تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی کے مطابق اس عمل میں بہت سی ناکامیاں بھی ہوئی ہیں اور دو سال تک شبانہ روز محنت کی گئی ہے۔

    فلوریڈا ٹیک کے ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ میں نو مہینوں کے دوران 14 افراد پر مشتمل آسٹروبائیولوجی ٹیم کے ساتھ تعاون کے ذریعے،ہائینز نے مریخ پر اگنے والے ٹماٹروں کی نقل تیار کی۔ ٹیم نے کامیابی کے ساتھ برانڈ کے ملکیتی ٹماٹر کے بیجوں سے ہائینز ٹماٹروں کی فصل حاصل کی، جو کہ اس کا مشہور کیچپ بننے کے لیے سخت کوالٹی اور ذائقہ کے معیارات کو پورا کرتی ہے۔

    اس ضمن میں فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں واقع آلڈرن اسپیس انسٹی ٹیوٹ کے فلکی ماہرینِ حیاتیات نے دوسال تک تحقیق کی ہے۔ سائنسدانوں نے ہائینز کمپنی کی رہنمائی کی کہ مریخ کی مٹی کیسی ہوتی ہے؟ اس کے بعد وہاں ٹماٹر کی کاشت کئی گئی اور ان میں سے کیچپ کشید کیا گیا۔

    ہائینز کے مطابق یہ دنیا کی پہلی خوردنی شے ہے جسے دوسرے سیارے کے حالات میں زمین کے لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی نے اس کا نام ’مارز ایڈیشن‘ رکھا ہے۔ اگرچہ اس کی فروخت ابھی شروع نہیں کی گئ ہے لیکن چند اولین بوتلیں کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں پیش کی گئی ہیں جو پٹس برگ میں واقع ہے۔

    ماہرین کی 14 رکنی ٹیم نے ڈاکٹر اینڈریو پامر کی نگرانی میں کام کیا ہے اور اس پر تین تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں۔ تمام ماہرین آلڈرِن انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ادارے کو 2015 میں مریخ پر انسانی مشن کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    خود سائنسداں بھی ہائینزکی اس کاوش سے خوش ہیں کیونکہ وہ مریخی ماحول میں کسی ایک پھل یا سبزی کی کامیاب کاشت کرنا چاہتے تھے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ عمل انسانوں کی دیگر سیاروں پر رہائش کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ان ٹماٹروں کو عین وہی نمی، حرارت اور روشنی دی گئی ہے جو مریخ پر موجود ہوتی ہے جبکہ اس تجربے سے خود دنیا میں نامساعد حالات میں فصلیں کاشت کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    کرفٹ ہائینز انٹرنیشنل زون کی چیف گروتھ آفیسر کرسٹینا کینز کہتی ہیں کہ”ہم بہت پرجوش ہیں کہ ہمارے ماہرین کی ٹیم دوسرے سیارے پر پائے جانے والے حالات میں ٹماٹر اگانے اور اپنی تخلیق کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ دو سال پہلے مریخ کے حالات سے لے کر اب تک کی فصل کا تجزیہ کرنے تک، یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں،ہائینز ٹماٹو کیچپ اب بھی آنے والی نسلوں کے لیے لطف اندوز ہوں گے۔

    ڈاکٹر اینڈریو پامر، ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ کہتے ہیں کہ "ابھی سے پہلے، مریخ کی نقلی حالات میں نشوونما کے طریقے دریافت کرنے کی زیادہ تر کوششیں پودوں کی نشوونما کا مختصر مدتی مطالعہ ہیں۔ اس منصوبے نے کیا کیا ہے طویل مدتی خوراک کی کٹائی پر نظر ڈالنا ہے۔ ایک ایسی فصل حاصل کرنا جو ہائینزٹماٹو کیچپ بننے کے لیے معیار کی ہو خواب کا نتیجہ تھا اور ہم نے اسے حاصل کر لیا۔ اورہائینز کے ساتھ کام کرنے سے ہمیں یہ دیکھنے کی اجازت ملی ہے کہ زمین سے باہر طویل مدتی خوراک کی پیداوار کے کیا امکانات ہیں-

    ہائینز ٹماٹو کیچپ پہلے ہی اسے زمین سے آگے ہمارے نظام شمسی میں بنا چکا ہے اور کئی سالوں سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر موجود خلانوردوں نے اس کا لطف اٹھایا ہے جن میں سے ایک ناسا کے سابق خلاباز اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر مائیک ماسیمینو ہیں، جو کہ ایک تجربہ کار ہیں۔ دو خلائی پروازیں، چار اسپیس واک، اور خلا سے ٹویٹ کرنے والا پہلا خلاباز۔ Massimino HEINZ Tomato Ketchup Marz Edition کے سفیر کے طور پر کام کرتا ہے اور ایک خود اعتراف ہائینز ٹماٹو کیچپ کا سپر فین ہے۔

    ناسا کے سابق خلاباز مائیک میسیمینو نے کہا کہ”خلا میں ہمارے پاس ایک کہاوت ہے، ‘یہ کھانے کے بارے میں نہیں ہے یہ چٹنی کے بارے میں ہے’ – ہم یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ ہم وہاں کون سا کھانا کھانا چاہتے ہیں لیکن بہت سے پکوان پانی کی کمی سے دوچار ہو گئے اور تھوڑا سا ملاوٹ ہو گیا، لہذا چٹنی کا ایک اچھا گڑیا آپ کے کھانے کو ہمیشہ لذیذ بنایا، جس سے ہائنز ٹماٹو کیچپ سے میری محبت کا آغاز ہوا،”۔

    مریخ جیسے حالات میں ٹماٹر کیسے اگائے جائیں اس کا مطالعہ کرنے کے علاوہ، Kraft Heinz کمپنی ماحولیاتی سماجی نظم و نسق (ESG) کے اہداف کے لیے اپنے وعدوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے جس میں 2025 تک 100% پائیدار طریقے سے حاصل کیے جانے والے ہینز کیچپ ٹماٹر کا استعمال شامل ہے۔

  • بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    خطے میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم ۔۔۔ ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں ۔ حالانکہ بھارت کی اپنی حالت کافی پتلی ہے ۔ معیشت سے لے کر ہر چیز کا بٹھہ بیٹھا ہوا ہے ۔ مگر جنونی مودی کے سر پراکھنڈ بھارت کا بھوت سوار ہے ۔ اس وقت کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب بھارت کو اپنے بارڈرز سمیت انٹرنیشنل سطح پر ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہو۔ کبھی پاکستان تو کبھی چینی بھارتی فوجیوں کی خوب تواضع کرتے ہیں ۔ تو کبھی کشمیری ، نکسلی ، ماؤ اور دیگر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو اب یوں لگتا ہے کہ مودی کے آنے کی وجہ سے شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان سے لے کر کھیل کے میدان تک بھارت کو صرف مار ہی مار پڑی رہی ہے ۔ پر انڈیا امریکی آشیرباد اور طاقت کے زعم میں اس خطہ میں جو کھیل کھیل رہا ہے۔ اسکے نتائج اس خطہ کو ہی نہیں۔ پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اسوقت ہندوستانی قیادت پاگل ہوچکی ہے دنیا جہاں کا اسلحہ خرید رہی ہے اور بڑی تیزی سے امریکہ فرانسیسی اور اسرائیلی ساختہ اسلحہ سرحد کے ساتھ ساتھ لگایا جا رہا ہے ۔ جس میں میزائل ، ڈرون ، نئے طیارے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کسی نئی جنگ کی تیاری میں ہے ۔

    ۔ بھارت کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں ہونے والی افغان سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے خطے میں پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا ریاستی موقف کیا ہے ۔ ہم بھارت بارے کیا سوچتے ہیں اور انڈیا کااصل چہرہ ہے کیا ۔۔۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغل میں آپ نے چھری رکھی اور منہ سے رام رام کہہ رہے ہوں۔ پھر بھارت افغانستان میں قیام امن کا کسی طور پر بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ الٹا خطے میں بگاڑ اور بد امنی کی تما م راہیں ہندوستان سے نکلتی ہیں۔ ہندوستان کی جنونی سرکار کے منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں اگر کوئی ملک سامنے کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل، یورپی یونین ہو یا عرب لیگ، ہر جگہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوؤں نے قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کو ناکام ریاست بنانے اور ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کبھی اثاثہ جات کی تقسیم پر، کبھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر، کبھی سیاچن، کبھی کارگل اور اب افغانستان کے مسئلے پر ہندوستان پاکستان کو نیچا دکھانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت سرکار ایک بار پھر افغانستان کے حوالے سے لیڈ لینے۔ بلکہ پنگا لینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے پر اس کی دال نہیں گلنی ۔ سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پر یاد رکھیں پاکستان کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی حیثیت اور ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی پاکستان نے اس لئے اس میں شرکت سے انکار کر کے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

    ۔ پر آپ مودی کی دونمبریاں تو چیک کریں ایک جانب یہ افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کے ڈر کو بھارت میں الیکشنز میں خود بیچا جا رہا ہے ۔ اگر آپک یاد ہو تو چند روز پہلے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ تھا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ یہاں تک اس فراڈیے نے تو افغانستان پر فضائی بمباری تک کی دھمکی لگائی تھی ۔ تو اب بھارت کس منہ سے افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے ۔ چلتے چلتے میں یوگی ادتیہ کو بھارت کی اوقات بتا دوں ۔ کہ گزشتہ ایک ہزار سال سے افغانستان سے آنے والے بنا کسی طیارے ، ٹینک کے میزائل اور جدیدہتھیاروں کے کئی مرتبہ گھڑسوار اور پیدل مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بھارت کو روند چکا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمدشاہ ابدالی تک افغانستان سے آنے والے لشکروں نے راس کماری سے لے کر بنگال تک دہلی سے لے کر کرناٹک تک کو فتح کیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ خاندان غزنوی ہو یا لودھی ، غلاماں ہوں یا خلجی، تغلق یا غوری یا مغل یہ سینکڑوں برس ہندوستان کے فاتح اور حکمران رہے۔ ۔ اگر آدتیہ یوگی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ ہوتا تو کبھی ایسی بڑ نہ مارتا جس کے جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ آدتیہ یوگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بدبخت شخص کو مسلمانوں سے اسلام سے نفرت ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے کہ دہلی ، آگرہ ، ڈھاکہ ، کلکتہ ، بہار، حیدر آباد ، لکھنو، بنارس ، تلنگانہ ، کیرالہ اوڑیسہ تک پھیلی کسی بھی ہندو ریاست میں یا ان کے مہاراجوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں میل دور افغانستان سے آنے والے ان مٹھی بھر مسلانوں کا مقابلہ کر کے انہیں نست ونابود کر دیتے۔الٹا لاکھوں کے لشکر، ہاتھی گھوڑوں ، اونٹوں کے باوجودیہ ہندوستانی ریاستیں ہر بار مسلمانوں کے حملے میں کاغذ کی کشتی کی طرح برساتی پانی میں بہہ جاتیں۔ یوگی ڈھونگی شایدبھول رہا ہے کہ مرہٹوں جن کی طاقت پر ہندوستانیوں کو بہت گھمنڈتھا وہ بھی بار بار زیر ہوئے۔ چھپ کر مسلم حکمرانوں پر حملے کرتے رہے مگر انہیں بھی پورے ہندوستان پر کبھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکوئوں کی طرح آتے اور چوروں کی طرح بھاگ جاتے رہے۔ حتیٰ کہ پانی پت کے میدان میں لاکھوں مراٹھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر احمد شاہ ابدالی نے مراٹھا سامراج کا خواب چکنا چور کر دیا تھا ۔ کیا یہ سب حقائق صرف فسانے ہیں ۔ کیا یو گی ڈھونگی نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو ضرور اس سے سبق سیکھتے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک شرانگیز ملک ہے جو امن قائم نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے ہونے والی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے کی تھانیداری کا خواہشمند ہے جس کے لئے اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی لیے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک ہمیشہ بھارت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس وقت بھارت اعلانیہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان مخالفت کی وجہ سے ہی ماضی میں افغانستان کو سپورٹ کیا ۔ وہاں پاکستان مخالف عناصر کی مالی امداد کر کے انہیں خوب پالا پوسا مگر جب سے افغان طالبان نے حکومت سنبھالی ہے۔ بھارت کی ساری سرمایہ کاری نالی میں بہہ گئی ہے۔ اب اسے خطرہ ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں مضبوط ہوئی تو اس کا اثر مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک آزادی پر بھی پڑے گا اور افغان طالبان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اور کشمیریوں کی حمایت کریں گے۔ آپ دیکھیں پاکستان دشمنی میں مودی سرکار اس حد تک چلی گئی ہے کہ روسی وزیر کے بقول اب پاکستان کے انکار کے بعد بھارتی امریکہ کو فضائی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ جہاں سے امریکہ افغانستان میں ڈرون حملے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ویسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے امیدہے بھارت سرکار ماضی کے واقعات سے ضرور سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارت میں مسلم کش فسادات کروا کر اگر بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دبا دیںگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف کشمیر کی مثال ہی کافی ہے جہاں 72سالوں سے بھارت اپنی لاکھوں مسلح افواج کے بل بوتے پر ہر ممکن جبر و تشددکے باوجود ان آزادی پسند کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں کچل سکا تو وہ بھلا بھارت میں پھیلے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا بربادکرے گا۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش جاری رہی تو پھر یہ داستان خودبھارت کی بربادی پر ہی ختم ہو گی۔ یہ ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔

    ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دلت ہندوئوں سمیت کسی بھی اقلیت کو جان مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں نہ صرف غصب کی جا چکی ہیں بلکہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت ہندو انتہاء پسندوں کے حملوں اور دوسری پرتشدد کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان انتہاء پسندوں کو بھارت کی مودی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی ہند سرکار سے نفرت کرتے ہیں مودی سرکار کی ہندو توا نے دیگر اقلیتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے سکھ، خالصتان بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے 630 اضلاع میں سے 220 اضلاع پہ اس وقت آزادی پسندوں کا قبضہ ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ ۔ ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام سے لیکر بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال اس وقت بھارت کے لیے سردرد بن چکے ہیں۔ آدھا بھارت فوجی چھاونی بن چکا ہے یہاں جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی فوج کے مظالم یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتی ہیں تو بھارت کی سرپرست عالمی طاقتیں انھیں خاموش کرادیتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب کچھ بھی چھپنا ناممکن ہو چکا ہے۔ آسام میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے قتل پر عرب سوشل میڈیا پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی مہم چلی کہ جو پھر پھیلتی ہی چلی گئی۔ پھر مودی جس بھی ملک جاتا ہے وہاں بھارت اور اسکے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ کبھی سکھ ، تو کبھی کشمیری تو کبھی ماؤ تو کبھی نکسلی خوب بیرون ملک بھی مودی کی بینڈ بجاتے ہیں ۔ ویسے مودی کسی بھی ملک کا پہلا سربراہ ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اتنی ہی زلالت کا سامنا رہتا ہے۔ پھر ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ہندو آبادی کو خطرناک حد تک ہندوتوا ذہنیت کے نشے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندوتوا قوتیں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانا اپنا مقدس فرض سمجھتی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے عروج کے دوران بھارتی مسلمانوں پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا گیا تاکہ بھارت میں نظام صحت کی تباہی کو چھپایا جا سکے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہاپسندوں نے تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

  • پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    بھارت : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کا جشن منانے پرشوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہری نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ 24 اکتوبر کو پاکستان نے بھارت کو بد ترین شکست دی تو ان کی بیوی رابعہ شمسی اور سسرالیوں نے پاکستان کی جیت کا پٹاخے پھوڑ کر جشن منایا اور واٹس اپ اسٹیٹس بھی لگائے۔

    پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیریوں کے قتل کے نعروں پر محبوبہ مفتی کی مذمت

    اس ضمن میں پولیس ٹیم کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا مذاق اڑایا گیا جس پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے،شادی کے فوراً بعد میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی تھی بیوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہے اس قبل بیوی نے بھی شوہر کے خلاف جہیز کا مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

    بھارت: مسلمان اسکول ٹیچر پاکستان کی جیت پر خوشی منانے پر نوکری سے فارغ

    یاد رہے کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد بھارت میں قسم کی ایف آئی آرز درج کروانے کا سلسلہ جاری ہے اس سے پہلے بھی خاتون ٹیچر کو پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر کیس کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا ریاست راجھستان میں مسلمان خاتون ٹیچر نفیسہ عطاری نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست پر واٹس ایپ پر اسٹیٹس اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستانی کھلاڑیوں کی تصاویر کو شئیر کیا تھا۔

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    علاوہ ازیں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئیں تھیں بھارتی میڈیا کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز کے طلبا نے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منایا تھا آئی جی پولیس مقبوضہ کشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیری طلبہ کیخلاف یو اے پی اے ایکٹ کےتحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

    بھارتی پنجاب کے ضلع سنگور کے ایک انجینئرنگ کالج میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی تاریخی شکست کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو غصّے میں آئے اور انہوں نے معصوم کشمیری طلبا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ پولیس نے اس واقعے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

    پاکستان کی جیت کا جشن: کشمیری طلبا کیخلاف ایف آئی آر درج

  • پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

    پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ میچ کو ریکارڈ 167 ملین ناظرین نے ٹی وی پر دیکھا۔

    باغی ٹی وی : پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ 2021 اب تک کی تاریخ کا ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 میچ ہے، گزشتہ ہفتے تک ورلڈ کپ کے مجموعی ناظرین کی تعداد 238 ملین تک پہنچی تھی، اس میں کوالیفائرز اور سپر 12 راؤنڈ کے ابتدائی12 میچز شامل ہیں۔

    اس سے قبل سب سے زیادہ ٹی وی پر دیکھے جانے والے ٹی 20 میچ کا اعزاز بھارت اور ویسٹ انڈیز کے 2016 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل کو حاصل ہوا، اسے 136 ملین ناظرین نے دیکھا تھا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    واضح رہے کہ 24اکتوبر کو پاکستان نے بھارت کو دس وکٹوں سے شکست دے کر میچ اپنے نام کیا تھا۔ پاکستان نے سپر 12 مرحلے میں ناقابل شکست رہ کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا جبکہ بھارت کا ایونٹ میں سفر سوموار کو تمام ہو گیا جبکہ پاکستان میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں کل آسٹریلیا سے مد مقابل ہوگا۔

    دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا فائنل میچ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا قومی کرکٹ ٹیم اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست رہی ہے جبکہ آسٹریلیا کو ایک میچ میں شکست ہوئی ہے۔

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    دوسری جانب آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا یہ بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

  • فیصلہ پارٹ نمبر آخری 6 تحریر سکندر علی 

    جارج نے ایسے منہ بنایا جیسے اسے باپ کی بات پر اعتماد نہ ہو۔ اس نے جارج کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جیسے اپنی بات

    کی سچائی پر اصرار کر رہا ہو۔

    کتنی مزے کی بات ہے کہ آج تم میرے پاس آئے، یہ پوچھے کہ کیا دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں

    لکھوں ۔ بیوقوف لڑکے، وہ یہ بات پہلے سے جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ میں اسے خط لکھتا رہا ہوں کیوں کہ تم میرا لکھنے

    کا سامان مجھ سے چھینا بھول گئے تھے۔ اسی لیے تو اتنے برسوں سے وہ یہاں نہیں آیا ۔ وہ ان باتوں کو تم سے بھی کئی ہزار گنا

    بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تمھارے خطوں کو پڑھے بغیر مر کر دیتا ہے۔ اس کی دائیں ہاتھ میں

    میرے خط ہوتے ہیں جنھیں وہ پڑھتا ہے ۔”

    جوش جذبات میں اس کے باپ نے اپنا بازو سر کے اوپر جھلایا۔” وہ ہر بات تم سے ہزار گنا بہتر طرح سے جانتا

    ہے۔ وہ چلایا۔

    دس ہزار گنا بہتر جارج نے اپنے باپ کے احمقانہ پن سے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

    برسوں میں نے انتظار کیا کہ تم ایسا کوئی سوال لے کر میرے پاس آو کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے کسی اور بات کی پرواو

    ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں میں اخبار پڑھتا رہتا ہوں؟ دیکھ لو

    ، اس نے جارج کی طرف اخبار کا ایک صفی اچھالا

    جیسے وہ کسی طور اپنے ساتھ ہی بستر تک لے آیا تھا۔ ایک پرانا اخبار جس کا نام جارج کے لیے بالکل غیر اجنبی تھا۔

    بڑے ہونے میں کتنے سال اور لو گے تمھاری ماں اس انتظار میں مر گئی ۔ اسے یہ خوشی کا دن دیکھنا نصیب نہیں

    ہوا تمھارا دوست روس میں خراب ہورہا ہے ۔ حتی کہ تین سال پہلے وہ اتنا زرد تھا کہ چھینک دیئے جانے کے قابل، اور

    جہاں تک میرا تعلق ہے ہم جانتے ہو کی حالت میں ہوں ۔ بیردیکھنے کے لیے تمھارے پاس آنکھیں بھی ہیں ۔

    تو آپ یہاں لیٹے میرا انتظار کرتے رہتے تھے ۔’ جار چلایا۔

    غیر دوستانہ لہجے میں اس کے باپ نے افسوس کے ساتھ کہا : میرے خیال میں یہ بات تم بہت پہلے کہہ دینا چاہتے

    ہے لیکن اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پھر اونچی آواز میں بولا اس لیے کہ اب تم جانتے ہو تمھارے اردگرد دنیا میں

    اور کیا کچھ ہے۔ اب تک تمھیں صرف اپن کریں۔ ایک معصوم بچہ ہاں، یہی ہوتی ، یہی ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا یہ

    ہے کہ تم ایک شیطان صفت انسان ہو اور اس لیے جھلو

    ، میں تمھیں ڈوب کر مر جانے کی سزاسناتا ہوں ۔

    جارج نے محسوس کیا کہ اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔ جس دھماکہ خیز آواز کے ساتھ اس کا باپ پچھے کمرے میں

    اپنے بستر پرگرا تھا وہ باہر کرتے ہوئے اس کی کانوں میں گونج رہی تھی۔ زینے پر وہ بھاگتا ہوا نیچے اترا جیسے کوئی نشیب ہو وہاں

    اس کی ٹر تھیٹر صفائی کرنے والی عورت سے ہوئی جو پچھلی رات کے بعد سے اب اس کے کمرے میں صفائی کرنے آئی تھی ۔

    د خدایا وہ چینی اور اپنا چہرہ ایپرن میں چھپا لیالیکن وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔ صدر دروازے سے نکل کر وہ بھاگا،

    سڑک پر دریا کی طرف بڑھتے ہوئے۔ وہ شئے کو یوں زور سے پڑے ہوئے تھا جیسے کوئی بھوکا آدی خوراک کوٹھی میں

    دبائے ہو۔ وہ جنگل کو پلا نگا جمناسک کے ایک غیر معمولی باہر کی طرح جیسا کہ وہ اپنی نوجوانی میں تھا، اپنے والدین کا

    فتار کمزور ہوتی ہوئی گرفت کے ساتور های تک خشگل کو پڑھے ہوئے تھا، جب اس نے جنگلوں کے درمیان میں سے

    ایک بس کو

    آتے دیکھا جو آسانی سے اس کے گرنے کے شور کور با لے گی ۔ وہ خاموی سے اور عزیز والدہ کی ، میں نے ہمیشہ

    آپ سے محبت کی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اور پھر خودکو پنچ گرالیا۔

    اس لیے پل پر سے ٹریفک کا غیرفتم سیلاب گزررہا تھا۔

    ختم شد

  • اولاد کی تربیت کیسے کریں   تحریر: فضیلت اجالہ 

    اولاد کی تربیت کیسے کریں  تحریر: فضیلت اجالہ 

    آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔

    اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،

    بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔

    اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔

    بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔

    بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔

    سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔

    بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔

    بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔

    آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔

    بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔

    یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے 

    ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔

    @_Ujala_R

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سیمی فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کا باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بن گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سیمی فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کا باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بن گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کا سیمی فائنل سے پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بنے گا۔

    باغی ٹی وی : ایک رپورٹ کے مطابق 50اوورز کے ورلڈکپ میں ایسی ہی صورتحال میں کرکٹ سے وابستہ معاشی سرگرمیاں بْری طرح متاثر ہوئی تھیں، سرمایہ آدھا رہ گیا تھا بعد ازاں بحالی کا سفر بتدریج جاری رہا،اس بار بھی اسپانسر کمپنیز، ایڈورٹائزر اور دیگر متعلقہ ادارے ہاتھ کھینچنے لگے ہیں،اس صورتحال میں مضبوط بھارتی کرکٹ بورڈ کو کم ازکم ایک بڑا جھٹکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    واضح رہے کہ بھارت نے سپر 12 مرحلے میں ورلڈ کپ کا اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیلا اور جیت حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں-

    جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا تھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    یاد رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان