Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرااکرم نے آسٹریلوی اور انگلینڈ ٹیم کو پاکستان میں خطرے سے خبردار کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شنیرا اکرم نے کہا کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے میں جس چیز سے خوف محسوس کرنا چاہیے وہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم ہے۔


    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں آسٹریلوی اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ٹیگ کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم یعنی پاکستان اور پاکستانی کرکٹ بورڈ ہمیشہ کھلے دل سے سب کو خوش آمدید کہیں گے-

    واضح رہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے دورے کا اعلان کیا ہے، گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ سے انگلش کرکٹ بورڈ(ای سی بی) چیف ایگزیکٹیو اور ڈپٹی چیئرمین نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے مابین سیریز سے متعلق گفتگو ہوئی۔

    انگلش ٹیم آئندہ سال پاکستان کا ضرور دورہ کرے گی:کتنے ٹی 20 میچ ہوں گے یہ بھی…

    انگلش کرکٹ بورڈ کے حکام نے لاہور قذافی سٹیڈیم کا دورہ کی ملاقات کے دوران انگلینڈ نے اگلے سال دو اضافی ٹونٹی میچز کھیلنے کی حامی بھر لی۔ آئندہ سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان اور انگلینڈ 7 ٹی ٹونٹی میچز کھیلیں گے۔ اس دوران آئندہ سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم تین ٹیسٹ میچز کھیلنے پاکستان آئیگی۔

    انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیرسن کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ شاندار تعلقات کا خواہاں ہے۔

    جبکہ دو روز قبل آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے، 1998 کے بعد یہ آسٹریلیا کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ چیف ایگزیکٹواچانک لاہور پہنچ گئے:رمیزراجہ سے اہم ملاقات

    پی سی بی کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آئندہ سال مارچ اپریل میں پاکستان کا دورہ کرے گی ، دورے میں تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ شامل ہیں۔

    سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 3 مارچ سے کراچی میں شروع ہوگا،دوسرا ٹیسٹ میچ 12 تا 16 مارچ تک راولپنڈی میں کھیلاجائے گا، تیسرا میچ21 تا 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    گروپ بی میں نیوزی لینڈ کوصرف پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ انگلینڈ کو اپنے آخری میچ میں جنوبی افریقہ سے شکست ہوئی تھی۔

    سیمی فائنل میچ سے قبل انگلینڈ کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے اوپننگ بلے باز جیسن رائے انجری کے سبب ورلڈکپ سے باہر ہوگئے ہیں انگلینڈ 2010 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اپنے نام کر چکا ہے جبکہ 2016 میں اسے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے شکست دی تھی۔

    واضح رہے کہ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان کل آسٹریلیا سے مد مقابل ہو گا دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا فائنل میچ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا قومی کرکٹ ٹیم اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست رہی ہے جبکہ آسٹریلیا کو ایک میچ میں شکست ہوئی ہے۔

  • فیس بک  نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا مقابلہ اگر پاکستان سے کیا جائے تو وہ رقبے کے لحاظ سے ہم سے کافی بڑا ہے اس لئے وہاں کی آبادی بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور آجکل زیادہ آبادی کا مطلب ہے بہت بڑی مارکیٹ ۔ لیکن اسی مارکیٹ میں بزنس سے زیادہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ہندوتوا سوچ کو بڑھانے کے لئے ہندو انتہا پسند ہر حد پار کرتے جا رہے ہیں۔ ویرات کوہلی، عامر خان سے لیکر ایک عام بریانی والا تک ان سے محفوظ نہیں ہے۔

    مودی سرکار اپنی اس بڑی مارکیٹ کو کس طرح سے کیش کروارہی ہے۔ کیسے بڑے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی انتہا پسند سوچ کے پھیلاو کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کمپنیز بھی ایسا ہونے دے رہی ہیں کیونکہ ظاہری بات ہے ان کا مطلب صرف اپنے بزنس اور منافع سے ہے۔ لیکن نقصان کی بات یہ ہے کہ ان کی خاموشی اور مودی سرکار کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈیا میں اب نفرت اور انتہا پسندی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے حامی لوگوں کے دماغوں میں اب یہ بات پوری طرح بیٹھ چکی ہے کہ جب بڑی بڑی کمپنیوں سے ہم اپنی بات منوا لیتے ہیں تو چھوٹے کاروبار کرنے والوں سے بات منوانا کیا مشکل ہے جس کی وجہ سے حالات یہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ انڈیا میں اس دیوالی پر جشن سے زیادہ سوشل میڈیا ٹرولنگ ہوتی رہی ہے کبھی کسی سٹار کی کبھی کسی برانڈ کی۔ یعنی انڈین عوام جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم تو تھی ہی لیکن اب زبانوں اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگز لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں کافی عرصے سے حکومت فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو اپنی مرضی سے استعمال کر رہی تھی وہیں اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیر بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ مسلمان تو مسلمان عیسائیوں اور سکھوں پر بھی زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ انکشاف ہوا کہ سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی فیس بک استعمال کرکے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا بیج بویا گیا جبکہ انسانوں کے سمگلرز نے لوگوں کو پھانسنے کے لئے فیس بک کااستعمال کیا۔ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس نہ صرف بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ 17میڈیا ہاؤسز کا ایک کنسورشیم ہے جس نے فیس بک کی یہ متنازع پالیسیاں بے نقاب کرنا شروع کی ہیں۔ اور فیس بک پر یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ فیس بک کی ہی ایک Ex-employ Frances Haugen
    نے لگایا ہے بلکہ اس نے فیس بک سے Resignبھی اسی لئے کیا کہ فیس بک Hate speech and voilenceکو پروموٹ کرتی ہے۔ اور یہ صرف الزام نہیں ہے بلکہ اس نے پروف کے طور پر ہزاروں ڈاکیومنٹس بھی پیش کئے ہیں جن کوان میڈیا ہاوسز کے کنسورشیم نے Studyکیا۔ امریکی کانگریس اور برطانیہ کی پارلیمنٹ دونوں کے سامنے یہ پیش ہوئی ہیں۔ جہاں اس نے فیس بک پلیٹ فارم کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اس کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو دنیا میں مزید فسادات اور نسل کشی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ ان ڈاکیومنٹس کے مطابق چھ جنوری کو امریکی کیپیٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ اور میانمار اور ایتیھوپیا جسے ممالک میں ہونے والی نسل کشی جیسے واقعات میں تو فیس بک کا ہاتھ ہے ہی لیکن پاکستان اور انڈیا کے حوالے بھی جو Factsان ڈاکیومنٹس میں سامنے آئے ہیں وہ کافی خطرناک ہیں۔ فروری دو ہزار انیس میں ایک ریسرچرز کی ٹیم نے ایک Dummy account createکیا انڈین یوزر کا Experienceمعلوم کرنے کے لئے۔ اس اکاونٹ میں خود سے کوئی فرینڈز نہیں تھے نہ ہی کوئی Prefrences set کی گئی تھیں تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ فیس بک خود سے اس اکاونٹ کو کیا Recommendکرتی ہے۔ اور تین ہفتوں تک اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پرجو کچھ سامنے آیا وہ کافی حیران کن تھا۔ اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پر جو کچھ فیس بک الگورتھم کی وجہ سے Recommend کیا گیا اس میں زیادہ تر فیک نیوز، اشتعال دلانے والا اور نفرت پھیلانے والاContentتھا۔ یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کی ایسی تصاویر بھی تھیں جن کے سر تن سے جدا تھے خون خرابہ ہوا ہوا تھا اس کے علاوہ پورن مٹیریل بھی دکھایا جا رہا تھا۔ یہ اکونٹ ان دنوں میں بنایا گیا تھا جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو اس انڈین یوزر اکاونٹ کو وہ فیک نیوز اور Images
    دکھائے جا رہے تھے جو کہ پاکستان کے خلاف تھے۔ ایسی پوسٹ تھیں جن میں پاکستانی عوام کو گندی گالیاں دی گئیں تھیں۔

    فیس بک کی طرف سے کہا گیا کہ انھون نے اس ریسرچ ٹیسٹ کے بعد اپنے الگورتھم میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہے کہ فیس بک نے تبدیلیاں کیں فیک نیوز کو کاونٹر کرنے کے لئے کافی بجٹ خرچ کیا گیا لیکن اس میں بھی فیس بک نے Fair dealنہیں کی۔ فیک نیوز کے خلاف جتنا بجٹ تھا اس کا 87%تو صرف امریکہ پر خرچ کر دیا گیا باقی کا
    13%دوسرے تمام ممالک پر خرچ کیا گیا۔ اور دوسری بات یہ کہ ہندی اور بنگالی کے خلاف فیس بک کی طرف سے Classifiersبھی نہیں Createکئے گئے جو کہ ان زبانوں میں فیک نیوز کو
    Detectکرسکیں۔ ان میں سے کچھ الگورتھم اب دو ہزار اکیس میں بنائے گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہیں کیونکہ انڈیا میں فیس بک بیس زبانوں میں استعمال کی جاتی ہے اور
    Classifiersصرف پانچ زبانوں کے موجود ہیں۔ جس کا انھوں نے یہ حل نکالا کہ پندرہ ہزار لوگوں کی ٹیم بنا دی جو خود سے فیس بک پوسٹس کو چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ فیک نیوز تو نہیں ہے یا پھر Hate speech and voilenceتو نہیں پھیلا رہے۔ اور یہ ہی فیس بک کا وہ کام ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا کیسے فیس بک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور فیس بک ایسا ہونے بھی دے رہا ہے۔ کیونکہ ان کی یہ ٹیم ان پوسٹس کو فلیگ ہی نہیں کرتی جو کہ آر ایس ایس بجرنگ دل اور بی جے پی کی طرف سے کی جاتی ہیں جو کہ زیادہ تر پاکستان کے خلاف ہوتی ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔ اور اس کی وجہ Political senstivitiesبتائی جاتی ہیں یعنی اگر فیس بک نے ان گروپس کی پوسٹس ہٹائیں تو انڈین حکومت کی طرف سے ان پر پابندیاں لگ جائیں گی اور ان کا بزنس متاثر ہو گا۔ اس پر انٹرنیشنل میڈیا میں بھی کئی آرٹیکلز لکھے گئے جس میں انڈیا اور فیس بک کی اس ملی بھگت اور دو نمبری کو ایکسپوز کیا گیا لیکن آج تک اس کا کوئی حل نہیں ہو سکا کیونکہ فیس بک کے لئے بات پیسے اور بزنس کی ہے اور مودی سرکار ویسے ہی پاکستان کے خلاف کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

    اور صرف پاکستان ہی نہیں مودی سرکار اور انڈیا میں موجود دوسری انتہا پسند تنظیمیں انڈین مسلمانوں اور دوسری اکثریتوں کے بھی خلاف ہیں وہ انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔
    اور اب انتہا پسندوں کی ایک کی اور کارستانی بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیرانڈیا میں بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے کہ کیسے نئی دلی میں ایک ہندو انتہا پسند شخص بریانی بیچنے والے کو دکان بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نئی دہلی میں سانت نگر کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس انتہا پسند شخص کا نام نریش کمار سوریاونشی ہے جو خود کو انتہا پسند بجرنگ دل کا کارکن بتا رہا ہے۔ اور یہ شخص بریانی بیچنے والے سے کہتا ہے کہ یہ ہندوؤں کا علاقہ ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ یہاں بریانی بیچے اور ساتھ ہی اسے دکان بند کرنے کی بھی دھمکی دیتا ہے گالیاں بھی دیں اور کہا کہ تم نے دکان کیسے کھولی؟ کس نے تمھیں اس کی اجازت دی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہندوؤں کا علاقہ ہے؟ اس نے یہ بھی کہا کہ ’آج دیوالی ہے، اس دکان کو بند کرو، تم کیا سوچ رہے ہو؟ کیا یہ تمھارا علاقہ ہے؟ کیا یہ جامع مسجد ہے؟ یہ مکمل طور پر ہندوؤں کا علاقہ ہے۔ جس کے بعد دکان میں کام کرنے والے اس میں لگی میز اور کرسیاں اٹھاتے ہیں اور دکان بند کر دیتے ہیں۔

    ویسے تو انڈیا میں ایسی کارروائیاں نئی بات نہیں بلکہ روز کا معمول بن چکی ہیں لیکن اس دیوالی پرایسے واقعات کچھ زیادہ ہی ہوئے ہیں۔ پہلے ویرات کوہلی نے کہہ دیا کہ وہ دیوالی منانے کی کچھ ٹپس شیئر کرنا چاہتے ہیں تو اس کو ٹرول کیا گیا۔ پھر فیب انڈیا کو ان کی جشن ریواز کے نام سے لانچ کی گئی دیوالی کی نئی کولیکشن کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ ہندو تہوار کے لئے اردو نام کیوں؟ پھر عامر خان کو ٹرول کیا گیا ان کے اشتہار کی وجہ سے جس میں عامر خان نے یہ کہا کہ پٹاخے سوسائٹی میں بجائیں سڑکوں پر نہیں۔ لیکن ان کو یہ کہہ کر ٹرول کیا گیا کہ مسلمان سڑک پر نماز پڑھیں تو وہ نہیں بولتے پٹاخے سڑکوں پر کیوں بج رہے ہیں بس یہی نظر آتا ہے۔ اور اس کے بعد اب بریانی والی ویڈیو یعنی اب کپڑوں، زبان اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگ لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی مثالیں آئے دن سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی انڈیا میں نفرت انگیز سلوک بڑھتا جا رہا ہے۔ جس پر کسی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ نہیں ہے انہوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں لیکن اگر مودی سرکار اسی طرح نفرت پھیلنے دیتی رہی تو ایک دن آئے گا جب پوری دنیا کو یہ سب دیکھنا بھی پڑے گا اور مودی سراکر سے اس کا جواب بھی مانگنا ہو گا۔

  • بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    ٹی ٹوئنٹی میں بطور کپتان آخری میچ کھیلنے والے ویرات کوہلی نے بھارت کے اگلے کپتان کا بتادیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا اورگزشتہ روز بھارت نے سپر 12 مرحلے میں ورلڈ کپ کا اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیلا اور جیت حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جہاں بھارتی ٹیم کا سفر ختم ہوا، وہیں ویرات کوہلی کا ٹی 20 میں بطور کپتانی کا سفر بھی ختم ہو گیا ٹاس جیتنے کے بعد جب ویرات کوہلی سے ان کی کپتانی سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کپتانی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی اور وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہ موقع ملا، انہوں نے کہا کہ میں نے اس ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی تاہم اب یہ ذمہ داری کسی اور کو دینے کا وقت آگیا ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    انہوں نے سوال کے جواب میں نائب کپتان روہیت شرما کا نام بھی لیا اور کہا کہ بھارت محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وقت آگیا ہے کہ میں مختصر فارمیٹ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے، اب وقت آگیا ہے کہ نئے آنے والے اس ٹیم کو لے کر آگے بڑھیں اور ویسے بھی روہیت شرما یہاں موجود ہیں جو تمام چیزوں کو اچھے سے دیکھ رہے ہیں۔

    واضح رہے ویرات کوہلی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل ہی مختصر فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس

  • نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا     ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا –

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خواب پاکستان دیکھا اور دو قومی نظریہ پیش کیا کیونکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلمانوں کی ہندوستان میں خطرناک صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے

    قائد اعظم محمد علی جناح کو اقبال نے کہا تھا کہ ایک ایسا ملک حاصل کیا جائےجہاں مسلمان بغیر کسی خوف و خطر اپنی عبادات کر سکیں اور ان کے جان و مال محفوظ ہو

    دو قومی نظریہ کی پیش کی گئی کانفرنس سے پہلے ہی اقبال خالق حقیقی سے جا ملے تھے مگر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم نے ولی کامل علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور دو قومی نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا
    جس کی بنیاد پر ارض پاکستان حاصل کیا گیا

    وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے

    وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.( رواہ الترمذی:3925 وصححہ الالبانی رحمہ اللہ تعالی )

    اللہ کی قسم (اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہیں نکالتی میں کبھی نہیں نکلتا

    چھوڑے گئے وطن کی یاد انسان کو فطری طور پر رلاتی رہتی ہے اسی لئے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے

    أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ

    وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ

    اے کاش۔ کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گھاس والی وادیوں میں رات گزارونگا ؟

    کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جاسکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہونگے؟ (صحیح بخاری حدیث:3926 )وغیرہ۔

    رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا تھا

    اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ

    اے اللہ جس طرح ہماری ( اپنے وطن مکہ ) کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہماری دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے-

    یقیناً ہمارے آباؤ اجداد بھی چھوڑے گئے وطن ہندوستان کو یاد کرکے غمگین ہوا کرتے تھے مگر ہجرت کرنا مجبوری تھی کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نا تھا سو اسی لئے دو قومی نظریہ ضروی تھا جس کیلئے ہجرت کرکے الگ وطن حاصل کرنا لازم تھا تاکہ مسلمان آزادی سے رہ کر زندگیاں گزاریں اور اپنے رب کی عبادت بلا روک ٹوک اور خوف و خطر کر سکیں-

    نیز اس کے علاوہ دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اس کیلئے تاریخ ہندوستان لازمی پڑھیں کہ کس قدر ہندوؤں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے اگر تاریخ نہیں پڑھ سکتے تو موجودہ دنوں میں ہی انڈین تری پورہ،حیدر آباد،گجرات و دیگر ہندوستانی علاقوں میں مسلمانوں پر ہندوؤں کی طرف سے کئے گئے مظالم ہی دیکھ لیجئے کہ ہر روز مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ناحق شہید کیا جاتا ہے اور ان کی املاک پر قبضہ کیا جاتا ہے ان کو گائے کا گوشت کھانے نہیں دیا جاتا اور ایک اچھوت قوم سمجھا جاتا ہے حالانکہ مسلمان دنیا کی سردار قوم ہے جس کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے

    دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اور پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں کیا فرق ہے اس کی مثال راقم ذاتی طور پر بیان کرتا ہے-

    بطور جرنلسٹ راقم سے انڈین علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان جرنلسٹ نے واٹس ایپ پر رابطہ کیا سلام دعا کے بعد سخت شکایت کی کہ آپ مقبوضہ کشمیر کے حامی اور سخت ہندوستان مخالف ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا آپ ہندستان کے خلاف لکھنا چھوڑ دیجئے-

    راقم نے برملا کہا کہ ہاں اس میں کوئی شک نہیں میں اس لئے ہندوستان مخالف ہوں کہ ہندوستان نے ریاست کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور 75 سالوں سے مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے نیز میں نے اپنے بچپن میں گجرات کا مسلم کش فساد بھی بذریعہ میڈیا دیکھا ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو ہندو پلید نے آگ میں جلا دیا تھا اور اب تک روزانہ کی بنیاد پر یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں بدلا جا رہاہے اور تو اور تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا مسلمان عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مسلمانوں کو سرعام قتل کر دیا جاتا ہے دنیا کونسا ایسا ظلم نہیں جو ہندوستانی مسلمانوں پر نہیں کیا جاتا ؟

    اس پر انڈین صحافی صاحب لاجواب تو ہوئے اور کہنے لگے ارے صاحب ایسا کچھ بھی نہیں ہم بھی آزاد ہیں اپنے دھرم پر پورے اطمینان سے قائم ہیں اور اپنی عبادات بخوبی کرتے ہیں کوئی ہمیں روکتا نہیں میں آپکو آج شام ایک مسلمانوں کا جلسہ دکھاؤنگا تب دیکھ لیجئے گا کسطرح مسلمان آزاد ہیں ہندوستان میں سو آپ مسلمانوں کو ہندوستان و پاکستان میں یکجا کیجئے نا کہ کشمیر کے نام پر مزید تقسیم کیجئے –

    شام ہوئی حسب وعدہ صاحب نے واٹس ایپ کال کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جلسہ کر رہے تھے اور سارے کا سارا عنوان ہی وطن سے محبت اور عام واجبی سی رسومات کی فرضیت پر تھا اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے مگر کشمیر و فلسطین،عراق و افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کے وطنوں میں انہی پر قابضین کی کوئی مذمت تک نا تھی نا ہی لفظ جہاد و قتال اور مظلوم کی مدد کی حرمت تھی

    خیر میں نے کہا حضور وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے بشرطیکہ اس وطن میں آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہو بصورت دیگر میرے نبی ذیشان نے مکہ چھوڑا اور ہجرت کرکے مدینہ سکونت اختیار کی جس کی احادیث اوپر بیان کی جا چکی ہیں اگر مکہ والے نبی ذیشان کو دکھ نا دیتے ،عبادات سے نا روکتے ،فرمان الہی کو مانتے تو میری نبی اپنا آبائی وطن مکہ کیوں چھوڑتے ؟سو دو قومی نظریہ اور ہجرت ہند ہمارے بڑوں کی ضرورت تھی اور یہی ضرروت اب آپکی بھی ہے آپ غلام ہیں ہندو کے آپ پر ظلم ہوتا ہے مگر حیرت ہے غلامی کی حد کی کہ آپ پھر بھی مطمئن ہیں؟ حالانکہ میرے نبی نے غلامی کو سخت ناپسند کیا ہے میں نے انہیں بتایا کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں میرے نبی ذیشان کا وقت گزرا دعوت پیش کی اور کفار کے خلاف خود و اپنے اصحاب کو مضبوط کرکے اپنا وطن مکہ واپس لیا سو آپ بھی مسلمان ہونے کے ناطے ہندو کے ظلم پر سیرت نبوی کا مظاہرہ کریں اور غلام بننے کی بجائے آزاد بنیں –

    انڈین صحافی صاحب یہ بات بھی نا مانے اور ہندوستان کے گن گاتے رہے خیر میں ان کی اصلاح کی خاطر انہیں احادیث نبویہ پیش کرتا رہا مگر صاحب حیل و حجت سے کام لیتے رہے اور مسلمانوں و ہندوؤں کے اکھٹا رہنے کے فوائد پر روز بیان فرماتے اور مجھے کشمیر کاز سے منع کرتے رہتےخیر وہ صاحب اپنے عقیدے پر قائم رہے اور ہم اپنے پر –

    کچھ وقت گزرا راقم نے واٹس ایپ پر روٹین کے مطابق احادیث نبویہ و منہج سلف پر مبنی تحریریں سینڈ کی جس کا بہت دنوں تک نا کوئی جواب آیا اور نا ہی انہیں پڑھا گیا راقم شدید پریشان ہوا کہ زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے شاید ان سے زندگی نے وفا نا کی ہو یا اللہ نا کرکے کچھ اور معاملہ ہو گزرا ہو

    خیر بیس سے بائیس دن بعد انہی صاحب نے خود ہی میسج کیا اور سوال جواب شروع کر دیئے میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور غائب رہنے کا پوچھا تو گویا ہوئے کہ مجھے کس ضرروی کام کے سلسلے میں ممبئی جانا پڑا سو آپکا نمبر کانٹیکٹ لسٹ سے کاٹا اور واٹس ایپ کی بلاک لسٹ میں لگا دیا-

    میں حیران ہوا بھئی کیا ہوا میں نے تو آپ کو سوائے حدیث نبویہ کے کوئی غلط بات ہی نہیں سینڈ کی صاحب گویا ہوئے کہ ممبئی میں ہندو انتہاہ پسند جماعتوں کا راج ہے وہ جب چاہیں جس بھی مسلمان کو روکتے ہیں ان کا موبائل چیک کرتے ہیں اگر ہمارا کسی پاکستانی سے رابطہ ہو سوشل میڈیا پر تو ہماری جان کو خطرہ بن جاتا ہے-

    میں شدید ہنسا اور ان صاحب سے بولا جناب میں بھی اپنے وطن کا باشندہ ہوں اور آپ سے اپنے دشمن ملک کا باشندہ ہو کر آپ سے آزادنہ بات کرتا ہوں مجھے تو کسی کا ڈر نہیں تو پھر آپ خود کو کیسے آزاد مسلمان کہتے ہیں ؟حالانکہ ہمارے ملک میں بھی ہندو ،سکھ،عیسائی و دیگر مذاھب کے لوگ بخوبی آزادانہ زندگیاں گزار رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی مذہبی جماعتیں ہیں مگر اس کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوا تو پھر آپ مان لیجئے آپ آزاد نہیں غلام ہیں صاحب اتنی سی بات کا غصہ کر گئے اور مجھے بلاک کر گئے-

    میں سوچنے لگا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ نظریہ اقبال درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا اقبال رحمتہ اللہ علیہ تجھ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہو تم نے ہمارے بڑوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دکھا کر دو قومی نظریہ پیش کرکے وطن پاکستان دلوایا ورنہ آج ہم بھی ہندو کے غلام ہوتے-

  • میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے    بابر اعظم

    میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے بابر اعظم

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ سے میچ میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    کپتان نے کہا کہ پہلے محمد حفیظ نے میرا اچھا ساتھ نبھایا اور بولرز کی کمزور گیندوں کا بھرپورفائدہ اٹھایا، اس کے بعد شعیب ملک نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی ضرورت کے مطابق اننگز کا بہترین انداز میں اختتام کیا،سینئر آل راؤنڈر ایسی ہی پرفارمنس کیلیے مشہور ہیں۔

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ بطور کپتان میرے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش بات ٹیم کا ایک یونٹ بن کر کھیلنا ہے،سب ایک دوسرے کی صلاحیت کو جانتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں، ہر میچ میں کوئی نہ کھلاڑی چیلنج قبول کرتے ہوئے اچھی پرفارمنس میں کامیاب ہورہا ہے-

    بابر اعظم نے کہا کہ کارکردگی میں تسلسل کی وجہ بھی یہی ہے، ابھی تک معیاری کرکٹ کھیلنے سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،آسٹریلیا کیخلاف سیمی فائنل میں بھی اسی کارکردگی کو دہرانے کیلیے پْرعزم ہیں۔

    کپتان نے کہا کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا ماحول شاندار ہے،سارا کراؤڈ جب آپ کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہو تو پرفارمنس کیلئے جوش و خروش اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔


    بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بابر اعظم نے قومی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آگے بڑھتے رہیں، ایک وقت میں ایک قدم آگے-


    شعیب ملک نے گذشتہ روز میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پوری ٹیم کے نام کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں آج کا "مین آف دی میچ” پاکستان اسکواڈ کے تمام ٹیم ممبران کو وقف کرتا ہوں، چلو لڑکوں، ہم یہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ!


    شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان زندہ باد کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ خواب کو زندہ رکھنے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہم سے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے-


    آصف علی نے کہا کہ مجھے اس ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

  • ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے      ویرات کوہلی

    ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے ویرات کوہلی

    ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی سے بھارت کا سفر ختم ہو گیا ہے پہلے ہی دو میچوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنے والے بھارتی ٹیم سیمی فائنل میں اپنی جگہ نہ بنا سکی، اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نمیبیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد بھی بھارتی ٹیم افسردہ نظر آئی، جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے پہلی ٹوئٹ کی۔


    انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بھارتی ٹیم کی تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا تھا کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں-

    یاد رہے ٹی 20 ورلڈ کے پہلے ہی میچ میں بھارت کو پاکستان سے 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد بھارت کو سنبھلنے میں اتنا وقت لگا کہ ٹورنامنٹ ہاتھ سے نکل گیا-

  • مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ کی سروسز میں تعطل کے سبب صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل مختلف ممالک میں آیا ہے ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل پاکستانی وقت کے مطابق شب گیارہ بجے آیا ٹوئٹر سروسز برطانیہ، سوئزر لینڈ، واشنگٹن اور نیویارک میں زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    امریکہ میں ٹوئٹر صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ’ٹوئٹر‘ کی جانب سے تاحال اس ضمن میں مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب گوگل، فیس بُک اور انسٹاگرام کی طرز پر ٹوئٹر نے بھی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کےلیے پیسہ کمانے کے مواقع متعارف کروا دیئے ہیں مطلب یہ کہ اب آپ بھی دنیا کے سب سے بڑے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم سے پیسہ کما سکتے ہیں، بشرطیکہ ٹوئٹر پر آپ کے چاہنے والوں یعنی ’’فالوورز‘‘ کی تعداد زیادہ ہو۔
    https://twitter.com/SuperFollows/status/1433128787210739717?s=20
    فی الحال ٹوئٹر پر پیسہ کمانے یا ’’مونیٹائزیشن‘‘ کےلیے چند ایک پروگرام ہی موجود ہیں جو حالیہ چند مہینوں کے دوران آزمائشی طور پر شروع کیے گئے ہیں۔
    اگرچہ ان کا دائرہ کار ابھی صرف امریکا تک محدود ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے ملکوں میں رہنے والے بھی ان سے مستفید ہوسکیں گے ٹوئٹر سے پیسہ کمانے کےلیے ایسا ہی ایک پروگرام ’’سپر فالوز‘‘ کہلاتا ہے جو اس سال یکم ستمبر سے شروع کیا گیا ہے۔

    اگر کسی ٹوئٹر صارف کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو، اس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تین ماہ یا اس سے پرانا ہو، اس کے فالوورز کی تعداد کم از کم دس ہزار ہو اور وہ پورے مہینے میں 25 یا زیادہ ٹویٹس کرتا ہو تو وہ اس پروگرام سے پیسہ کما سکتا ہے۔

    اس کے تحت آپ اپنی کچھ ٹویٹس کو دیکھنے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں، یعنی آپ کے فالوورز میں سے صرف وہی فرد ان ٹویٹس کو دیکھ سکے گا جو آپ کو ماہانہ فیس دے گا یہ فیس 2.99 ڈالر، 4.99 ڈالر، یا 9.99 ڈالر ماہانہ ہوسکتی ہے۔

    ٹوئٹر بلاگ کے مطابق، اگر اس پروگرام کے ذریعے آپ کی آمدنی 50 ہزار ڈالر سے کم ہے تو ٹوئٹر اس میں سے صرف 3 فیصد حصہ رکھے گا، لیکن اگر یہ 50 ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ ہے تو پھر ٹوئٹر کا حصہ 20 فیصد ہوجائے گا۔

    البتہ یہ پروگرام فی الحال صرف آئی او ایس (آئی فون) صارفین کےلیے ہے جو امریکی شہری ہوں۔ لہذا انہیں ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام سے ہونے والی آمدنی میں ایپل کے ’’ایپ اسٹور‘‘ کو بھی حصہ دینا پڑے گا جو 33 فیصد تک ہوسکتا ہے یعنی اس پروگرام سے پیسہ کمانے والوں کو عملاً اپنی کمائی ہوئی رقم کا صرف 65 فیصد حصہ ہی ملے گا۔

    اگر یہ ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام اپنے اس ابتدائی اور آزمائشی مرحلے میں کامیاب رہا تو اسے اینڈروئیڈ کے علاوہ دوسرے ملکوں کےلیے بھی شروع کردیا جائے گا۔

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق بھارتی سابق کہتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے۔

    ورلڈ کپ میں نمیبیا سے جیت کے بعد ویرات کوہلی نے کہا کہ یہ بہت زبردست تھا اور میرے لیے اعزاز کی بات ہے ،ہم ایک ٹیم کے طرح بہت اچھا کھیلے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔

    ویرات کوہلی نے کہا کہ جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف جیتا ہے تاہم پھر بھی بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

  • ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا    وقار یونس

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ وقار یونس نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کو انڈیا کیلئے بہترین سفیر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اے سپورٹس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا، اس کی پرفارمنس کا تو کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے ٹورنامنٹ سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کپتانی چھوڑ دیں گے، انہوں نے ایسا کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ہے، "اسے خود محسوس ہوا کہ اگر وہ ابھی نہیں جائے گا تو نیا کپتان کیسے آئے گا؟ –

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    وقار یونس نے مزید کہا کہ ویرات کی جتنی فٹنس ہے اتنی کسی کی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عروج پر کپتانی چھوڑی ، لوگ اسے اس کی خدمات کیلئے یاد رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز