Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    سوال اس وقت یہ ہے کہ ٹی ایل پی والا معاملہ جو ہے اس کو جان بوجھ کر اتنا خراب کیوں کیا گیا ہے ۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا ہے ؟

    ۔ میری نظر میں اس کا تمام فائدہ حکومت کو ہوا ہے اور سارا معاملہ حکومت نے جان بوجھ کر خراب کیا ہے اور آگے یہ مزید خراب کریں گے ۔

    1۔ مہنگائی حکومت سے کنڑول نہیں ہو رہی ۔
    2. بیڈ گورننس
    3. ڈینگی
    4. ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا معاملہ
    5.مہنگا پیڑول
    6. آئی ایم ایف سے معاہدہ ناکام، پھر آئی ایم ایف کا مطالبہ کہ پیٹرول 30 روپے مزید مہنگا کرو ۔
    7۔ فارن پالیسی فیل ، پاکستان اس وقت دنیا میں تنہا ہے ۔
    8. پھر تین دن تک عاصمہ شیرازی کے کالم کو ہوا بنا دیا گیا ۔ حالانکہ ایسا تبرہ روز ہر دوسرے کالم میں حکومت پر ہوتا ہے ۔ اور ہو بھی کیوں نہ جب حرکتیں ہی ایسی ہیں تو شور تو مچے گا ۔
    9. پی ڈی ایم کا مہنگائی پراحتجاجی کال کو دیکھیں
    10. اکانامی ان سے سنبھل نہیں رہی ۔
    11. ایف اے ٹی ایف پر ان کو پھر سبکی ہوچکی ہے کہ میڈیا مالکان پر پریشر ڈالتے رہے ہیں کہ اس کو ہماری جیت بنا کر پیش کرو کہ ہم ابھی بھی گرے لسٹ میں ہیں بلیک میں نہیں گئے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو حکومت پر عوام کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر اپوزیشن کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر عسکری اداروں کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر میڈیا کا پریشر تھا

    ۔ تو ان سب پریشرز کو ختم کرنے کے لیے کوئی بڑا شو کرنا تھا اور حکومت نے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جان بوجھ کر ٹی ایل پی والا معاملہ مس ہینڈل کیا ۔

    ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ دیکھیں ٹی ایل پی نے پندرہ روزہ پر امن احتجاج کیا ایک شیشہ نہیں ٹوٹا ۔ اس کے بعد دو دن کے الٹی میٹم بھی گزر گیا ۔ اور جب پرامن لانگ مارچ شروع ہوا ۔ تو ایک جانب ایم اے او کالج کے پاس پنجاب پولیس خوب شیلنگ کررہی تھی تو عثمان بزدار ٹویٹ کر رہے تھے کہ میں مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے ۔ تو ٹی ایل پی کو ہینڈل کرنا چاہتے تو پہلے دن ہی کر لیتے ۔ پھر آپ دیکھیں آج الصبح ٹی ایل پی کے پر امن کارکنوں پر شیلنگ ، آنسو گیس اور گولیاں ماری جا رہی تھیں ۔ یہ جان بوجھ کر ان کو متشدد کرنے کی کوشش تھی ۔

    ۔ پر ٹی ایل پی کی قیادت نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر جوابی کاروائی سے روک کر یہ منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ ۔ اس تشدد اور ظلم کے بعد ٹی ایل پی کے وہ کارکن بھی باہر آگئے جو گھروں میں تھے بلکہ بہت سی جگہوں پر عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے ۔ ۔ یوں حکومت نے خود ان کو افرادی مدد بھی پہنچائی ۔ اور اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ یک دم پولیس بھی ہر جگہ سے غائب ہوگئی۔ کنٹینر اور جو خندقین انھوں نے کھودیں ۔ وہ بھی غائب ہوگئیں اور آئی جی پنجاب کی بھڑک بھی ٹھنڈی ہوگئی کہ میں ٹی ایل پی کو کسی صورت لاہور سے باہر نہیں جانے دوں گا ۔ ۔ تو یہ سب پلان کا حصہ ہے ۔ آپ دیکھیں کہ ٹی ایل پی والے ایک آدھ دن میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے ۔ اور سب اس پر ہی لگے رہیں گے ۔ صرف ٹویٹر پر تین دن سے ٹاپ ٹرینڈ ٹی ایل پی کا ہے ۔ سوشل میڈیا اور ہر جگہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہیں ۔

    ۔ پھر آج عمران خان پھر ایک نئی کمیٹی بنا دیتے ہیں۔ شیخ رشید کو بھی ہنگامی طور پر دبئی سے بلا کر لاہور پہنچا دیتے ہیں ۔ پر اس دوران دس سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں چاہے وہ پولیس کے ہوں یا ٹی ایل پی کے ۔ ہیں تو پاکستان کے شہری ۔۔۔ ۔ اس وقت بھی سینکڑوں زخمی ہیں ۔ اور جو اذیت دو دنوں سے لاہور اور اسے ملحقہ شہریوں نے اٹھائی ہے ۔ جو حکومت نے جگہ جگہ موبائل سروس بند کرکے اور کنٹینر لگا لگا کر جو عوام کا جینا حرام کیا اور جو کاروبار کا نقصان ہوا ہے ۔ میری نظر میں اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہے ۔ جس کے پاس ہر مسئلے کا حل صرف ایک ہے کہ اس سے بڑا مسئلہ کھڑا کر دو ۔ اور لوگوں کی ان کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دو۔

  • پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں        سنیل گواسکر

    پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں سنیل گواسکر

    بھارتی کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ جس ٹیم میں آل راؤنڈر ہوں وہ ٹیم مضبوط ہے –

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پروگرام ’پاک انڈیا ٹاکرے ‘میں گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ جس ٹیم میں آل راؤنڈر ہوں وہ ٹیم مضبوط ہے سنیل گواسکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں۔

    بھارت کے سابق اسپینر ہربھجن سنگھ نے کہا کہ بھارتی فائنل الیون میں ایک بولر کم ہے جبکہ اس موقع پر پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے کہا کہ پاک بھارت ہر میچ ڈو اینڈ ڈائی ہوتا ہے، آج فائنل سے پہلے فائنل والا میچ ہے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپینر مشتاق احمد نے کہا کہ جیت کےلیے اسمارٹ کرکٹ کھیلنا ہو گی۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ پاکستان مضبوط ٹیم ہے اور کئی پاکستانی کھلاڑی کسی بھی وقت میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کوہلی کا کہنا تھا کہ انڈیا ماضی کے ریکارڈ کی وجہ سے پاکستان کوکمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرے گا ، انہیں پاکستان کو شکست دینے کے لیے اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک پلان کے مطابق میدان میں اترنا پڑتا ہے، ہمیں بس اس دن اچھا کھیلنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس میچ کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے لیکن ہمیں صرف کرکٹ پر توجہ دینی ہے ہم نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کہ ہمارا پاکستان کے خلاف کیا ریکارڈ رہا ہے، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    واضح رہے کہ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی کے میدان میں ہوگا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا بابراعظم پاکستان کےکپتان، کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں۔ حتمی پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا نیٹ ورک لانے کا اعلان کیا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی :ڈونلڈ ٹرمپ نومبر 2016 سے جنوری 2021 تک امریکا کے 45 ویں صدر رہے تاہم ان کی صدارت کے بعد ان کی نفرت انگیز اور غلط معلومات کی پوسٹس کی وجہ سے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب نے ان کے اکاؤنٹس بند کردیے تھے۔

    ٹوئٹر نے 9 جنوری 2021 کو ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کرکے ان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی جب کہ فیس بک نے 7 جنوری 2021 کو ان کے اکاؤنٹس بند کردیئے تھے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” سوشل ٹروتھ” متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا ہے-

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ’ٹروتھ سوشل‘ کو ہیک کرکے اس پر ’سوئر‘ کی تصویر شیئر کرنے کے بعد ڈونلڈ جے ٹرمپ بھی لکھا اخبار کے مطابق نا معلوم ہیکرز کی جانب سے یہ اقدام نفرت کے خلاف آن لائن جنگ کا حصہ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    ہیکرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا نیٹ ورک کی ویب سائٹس کے متعدد اکاؤنٹس کو بھی ہیک کیا، جس میں سابق نائب صدر مائیک پینس بھی شامل ہیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اکتوبر کا نیا سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہےمجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے مطابق ’ٹروتھ سوشل‘ کا آزمائشی ورژن نومبر کے اختتام تک امریکی صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا جب کہ اسے مکمل طور پر 2022 کی پہلی سہ ماہی میں متعارف کرایا جائے گا۔

    دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-

  • پاک بھارت ٹاکرا: ماہر فلکیات کی کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی

    پاک بھارت ٹاکرا: ماہر فلکیات کی کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی

    ماہر فلکیات نے بھارت کا پلڑا بھاری ہونے کی پیشگوئی کی ہے –

    باغی ٹی وی : پاک بھارت ٹاکرے میں کون سا کھلاڑی سب سے اچھا پرفارم کرے گا ماہر فلکیات نے ستاروں کی چال دیکھ کر پیش گوئی کر دی پاک بھارت ٹاکرے سے قبل ۔ستاروں کا حال بتانے والے ماہر فلکیات نے کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی کر دی ہے۔

    ستاروں کا حال بتانے والوں کے مطابق بابر اعظم، فخر زمان اور شاہین آفریدی میچ ونر کھلاڑی ہو سکتے ہیں ماہر فلکیات نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور جسپریت بمراہ کو پاکستان کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    ماہر فلکیات اے ایس چوہدری کی نظر میں پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم، فخر زمان اور شاہین شاہ آفریدی بہترین پرفارم کریں گے۔

    ستاروں کا حال بتانے والوں نے بھارت کا پلڑا بھاری ہونے کی پیشگوئی کی ہے تاہم کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے جیت اسی کی ہو گی جو اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اچھی کرکٹ کھیلے گا۔

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2021 میں دونوں ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گی بابراعظم پاکستان کےکپتان جبکہ کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا ملک بھر میں پاک بھارت میچ کیلئے اسکرینیں لگائیں جائیں گی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایف نائن پارک میں بڑی اسکرین پر میچ دکھایا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق شائقین کرکٹ فری انٹری کے ساتھ پاک بھارت میچ بڑی اسکرین پر دیکھ سکیں گے اس کے علاوہ کراچی اور لاہور سمیت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بڑی اسکرینوں پر پاک بھارت میچ دکھایا جائے گا۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    پاک بھارت میچ کے حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھاکہ ہم نے ریلیکس رہنا ہے، دباؤ نہیں لینا، خود پر اعتماد ہے سو فیصد کھیل پیش کریں گے پہلے دو میچز بہت اہم ہیں لیکن ہمیں اعتماد ہے کہ ہم اچھا کھیلیں گے، پاک بھارت ہمیشہ ایک بڑا میچ ہوتا ہے اعصاب پر قابو پانا ہوتا ہےہرٹیم کی اپنی قوت ہوتی ہے اور ہماری بولنگ ہمیشہ اچھی رہی ہے، ہمارے بولرزاچھے اور تجربہ کار ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان سمیت ہر ٹیم کے خلاف ہماری تیاری مکمل ہے ہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہم نے کبھی ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچا، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ٹورنامنٹ سے ہٹ جاتی ہے پاکستانی ٹیم سے متعلق سوال پر ویرات کوہلی کا کہنا تھا میرے حساب سے پاکستانی ٹیم مضبوط ہے اور مضبوط رہی ہے۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ میں گرین شرٹس کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھاکہ ان شاء اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ٹیم بھارت کے خلاف کامیاب ہو گی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے-

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

  • پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی کے میدان میں ہوگا دبئی کرکٹ اسٹیڈیم دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2021 میں دونوں ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گی بابراعظم پاکستان کےکپتان جبکہ کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا ملک بھر میں پاک بھارت میچ کیلئے اسکرینیں لگائیں جائیں گی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایف نائن پارک میں بڑی اسکرین پر میچ دکھایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق شائقین کرکٹ فری انٹری کے ساتھ پاک بھارت میچ بڑی اسکرین پر دیکھ سکیں گے اس کے علاوہ کراچی اور لاہور سمیت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بڑی اسکرینوں پر پاک بھارت میچ دکھایا جائے گا۔

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    پاک بھارت میچ کے حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھاکہ ہم نے ریلیکس رہنا ہے، دباؤ نہیں لینا، خود پر اعتماد ہے سو فیصد کھیل پیش کریں گے پہلے دو میچز بہت اہم ہیں لیکن ہمیں اعتماد ہے کہ ہم اچھا کھیلیں گے، پاک بھارت ہمیشہ ایک بڑا میچ ہوتا ہے اعصاب پر قابو پانا ہوتا ہےہرٹیم کی اپنی قوت ہوتی ہے اور ہماری بولنگ ہمیشہ اچھی رہی ہے، ہمارے بولرزاچھے اور تجربہ کار ہیں۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان سمیت ہر ٹیم کے خلاف ہماری تیاری مکمل ہے ہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہم نے کبھی ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچا، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ٹورنامنٹ سے ہٹ جاتی ہے پاکستانی ٹیم سے متعلق سوال پر ویرات کوہلی کا کہنا تھا میرے حساب سے پاکستانی ٹیم مضبوط ہے اور مضبوط رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ میں گرین شرٹس کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھاکہ ان شاء اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ٹیم بھارت کے خلاف کامیاب ہو گی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے-

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

  • عالمی ترقی،برصغیرکا ذہنی اخلاقی زوال کا باعث تحریر : عظیم بٹ

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کراہ ارض پر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی جدت نے انسانوں کو قریب لانے کا بیڑا اٹھایا تو قریبا پچھلے دو ہزار سالوں میں انسانی رویوں میں بے تحاشہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔یہ تبدیلیاں اکثریت میں مثبت تھیں جن میں انسان کو دوسرے انسان کے لئے سہولیات پیدا کرنے کا اداراک ہوا۔انسان کے احساس اور حقوق نامی جذبات کی بنیاد پڑی۔ہم نے دیکھا کہ جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتا گیاوہاں لوگوں کے مابین اخلاقیات کی سطح میں اضافہ ہوا۔

    اگر ہم دنیا پر پچھلے کئی ہزار سالوں سے اپنا اثر رکھنے والی طاقتوں کا بغور مشاہدہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امریکہ اور یورپ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار قرار دئیے گئے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کو اپنی بنیادی ضروریات کی طرح اپنے رسم و رواج میں شامل کیا حالانکہ اس کے برعکس وہاں ٹیکنالوجی نے بھی دنیا میں ایک انڈسٹریل انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے معاملات آگے بڑھے مگر ان کی انسانی حقوق کی روش نے ان کے اس طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا ان کے ساتھ جڑنے لگی۔

    جہاں دنیا نئے رسم و رواج کو اپنا کر اپنے وحشی پن اور جنگ و جدل کے معاملات کو مدفون کرنے میں مصروف رہی وہاں برصغیر میں احساس کمتری کے بڑھتے رجحان نے ان کو اخلاقی پستی کی طرف ایسا دھکیلا کہ اب تک اس کے بدبو دار سحر سے یہ خطہ نہیں نکل پا رہا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل قریبا 3سو سال پہلے ہندو ، مسلم،عیسائی،پارسی سمیت کئی مذاہب کا مجموعہ اس خطے میں ایک خوبصورت باغیچے کی سی صورت پیش کرتا تھا اور اس وقت یہ تمام قومیں اور افراد مل کر خود پر مسلاط مختلف ظالموں سے جان چھڑوانے کے لئے اتفاق میں برکت کو ترجیح دیتے تھے ۔برصغیر میں ظلم کا معیار کسی مذہب سے جڑا نا تھا بلکہ سادہ سا کلیا یہ تھا کہ جو ظالم ہے وہ ظالم ہے ۔مذاہب انسان کے اعتقاد کا معاملہ ہے جو کہ نجی ہےاس پر مشتمل معاشرہ اور یکجا قوم برصغیر میں قیام پذیر تھی۔

    ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر میں آنے کے بعد سے برطانوی راج کے عروج پر ہونے تک برصغیر کی روایت یہی تھی کہ ظالم انگریز ہے نا کہ عیسائی اور برصغیر کے عیسائی افراد ہندو،مسلم،پارسی،جین،بنگال افراد مل کر اس کو یہاں سے نکالنے اور آزادی کی بات کرتے رہے۔جب وقت کا پہیہ گھوما اور مشترکہ محنت سے عوام میں ایک آگ پیدا ہوئی اور انگریز کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے اپنی دوسری شاطرانہ چال کو برصغیر پر یوں پھینکا کہ باغیچہ بکھر کر کلیاں اور کلیاں بکھر کر کانٹوں کا منظر پیش کرنا شروع ہوئیں جو آج تک قائم ہے۔

    انگریز نے اپنی ٹیکنالوجی جس کو اس نے اپنے قابل دماغ سے دنیا میں متعرف کروایا تھا اسی دماغ سے اس نے برصغیر میں اپنا پرانا طریقہ واردات "ڈیوائڈ اینڈ رول” کا استعمال کیا اور نفرت کا بیج جو کہ کئی سالوں سے یہاں نا بویا جا سکا تھا وہ کاشت کیا اس کی بنیادی مثال یہ بھی ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ سنہ 1800 سے قبل یعنی تقریبا ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل برصغیر میں کوئی ہندو ، مسلم ، عیسائی تنازعہ اس سطح کا ہو کہ سب کا ساتھ رہنا کسی دوسرے کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔

    انگریز یہاں سے جانا تو پڑ رہا تھا مگر وہ برصغیر کو ایک ایسی کشمکس میں دھکیل کر جانا چاہتا تھا جس سے انگریز کے بھاگنے کا داغ بھی دھل جائے اور برصغیر کی عوام اگلے کئی سو سالوں تک اسی کشکش میں مبتلا رہے کہ آیا اصل دشمن انگریز تھا یا ہندواور مسلمانوں کے مابین اعتقاد کا اختلاف۔ابھی حال ہی میں افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکہ نے بھی برطانیہ جیسی چال کھیلنے کی کوشش تو کی مگر آج کے جدت بھرے دور میں جہاں میڈیا موجود ہو اور معلومات کی منتقلی کا عمل چند سیکنڈ پر کھڑا ہو یہ ممکن نا ہو سکا کہ پنجشیر میں احمد شاہ مسعود اور طالبان کے مابین لڑائی کروا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔

    برصغیر کی عوام انگریز کے گولی بارود والی ہتھیار سے تو کامیاب ہو گئی مگر اس طریقہ واردات کے نرگے میں جو آئی تو آج تک نکل نا سکی۔اس وقت پھر مذاہب کا پہیہ گھوما اور سیاست اور حکومت کا معیار اب برصغیر میں مذاہب کے نام پر چلنے لگا۔اس وقت برصغیر میں ہندو مسلمان کے مابین دو قومی نظریہ ایک حالات کی ضرورت بن چکا تھا جس میں مسلمانوں کا اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر اس کے لئے قابل قدر خدمات دیکھنے میں آئیں ۔البتہ ہندوستان کے بانی مہاتما گاندگی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب انگریز کو برصغیر سے بھانے میں تو کامیاب رہےمگر اپنے درمیان ایسی خلش تھی کہ اپنی تقسیم کا فیصلہ اس دشمن سے کروانے کو راضی ہو گئے جس کوکئی سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنی سرزمین سے بھگا رہے تھے۔

    حالات کا پہیہ جس طرف کو گھوما برصغیرکے افراد نے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان نے اس سے مزاحمت کا کبھی سوچا ہی نہیں اور یہ نفرت کا بیج 70 سال میں اب اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ غالبا گمان ہوتا ہے کہ اس نفرت سے باہر نا نکلنا ہی ہماری بقاء ہے۔ہندوستان نے تو اس پہیہ کو اس رفتار سے گھمایا ہے کہ وہاں انہوں نے مسلمانوں سے نفرت تو ایک طرف اپنے ہی اعتقاد والے چھوٹی ذات کے لوگوں جن کو وہ دلت کہہ کر دھتکارتے ہیں ان کو بھی نا بخشا،ہمالیہ،تامل ناڈو،آسام،اور پھر سکھ حضرات تک کو نا پخشا بلکہ ہندوتوا کا نظریہ کی چکی کو ایسا گھمایاکے لاشیں اورخون بھی ان کی انسانیت کی روح کو دوبارہ زندہ نا کر سکا۔

    وہیں پاکستان 70 سالوں اس سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہا کہ ہمارا پڑوسی ایک دشمن ہے ظالم ہے اور ہمارے بقاء کا مخالف ہے حالانکہ یہ بات کسی حد تک بھارت نے بارڈر پر کھڑے جوانوں سمیت پاکستان کی سلامتی پر کئی بار حملے کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت میں خاص کر اب گزشتہ 10 سالوں میں جس رجحان کا اضافہ ہوا ہے وہ خالصتا ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہندوتوا کے نظریے کا پرچار ہے چاہے اس کے لئے پورا خطہ جنگ اور خون میں کیوں نا بہہ جائے اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ بھارت اب مہاتما گاندھی کے نظریہ امن بھائی چارہ عدم تشدد کا ملک نہیں بلکہ آر ایس آیس، شیو سینا، ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کا ملک ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ وہیں پاکستان سے متعلق بھی اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 70 کی دہائی سے قبل کا پاکستان اور اب کا پاکستان مکمل طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں نا صرف مذہبی جنونیت بلکہ ہر طرح کے شعبے اور سوچ کا یہاں متشدد پن پایا جاتا ہے اس میں وہ روشن خیال افراد بھی شامل ہیں جو خود کو عدم تشدد کا نام لے کر منظر عام پر آتے ہیں مگر ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں کسی کے مخالف نظریات و عقائد کا پاس نہیں رکھتے۔

    اس حوالے سے شاعر کا شعر اس تناظر میں مکمل درست عکس بندی کرتا ہے کہ

    دیکھتا کیا ہے میر منہ کی طرف

    قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

    سنہ 71 کے بعد پاکستان کےحالات اور سوچ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا بھی تھا جس نے پاکستان میں اپنی بقاء کے لئے اس حادثے کے مقابلے مزید مضبوط ہونے کے نام پر اوپر بیان کئے پہیہ کو تیزی سے گھمایا اور اب تک گھما رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک سائنٹسٹ ڈاکٹر ہودبائی نے صحافی نجم الحسن باجوہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو قومی نظریے کے سوال پر ایک عقلی دلیل داگی تھی کہ دو قومی نظریہ تو سنہ 71 میں خراب تب ہو گیا جب تیسری قوم بنگلہ نے ہم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ان کی یہ دلیل کتنی درست ہے کون مانتا ہے کون نہیں یہ پڑھنے والوں کی اپنی سوچ پر مبنی ہے مگر تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جہاں دنیا نے ترقی کی منازل طےکئیں اور دنیا اور نئے رسم و رواج اور اصولوں پر چلی برصغیر مکمل طور پر عدم برداشت اور اخلاقی پستی کا شکار ہوا ہے اب اس کی وجہ برصغیر کے لوگوں کی کم عقلی کہیں یا بیرون ممالک کی سازش یہ سوچ آپ کے اطمئان قلب پر منحصر ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے غالب کہتے ہیں کہ ‘دل پہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب’

    Find out more Opinion on Twitter 

    @_azeembutt 

  • ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    جہاں پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل درپیش ہیں وہی پر ایک بہت بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جو کسی بھی عام شہری اور مزدوری کرنے والے شخص کے نزدیک کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سے جب مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو بظاہر ہمیں ان سے صرف ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی خوفناک لہر کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں لیکن حکومت ان تمام معاملات کے ساتھ ان ممالک کا تذکرہ بالکل نہیں کرنا چاہتی جنہوں نے اس مشکل دور میں بھی اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے ڈبل ہوگئی ہے اور انہوں نے کورونا وائرس کی خوفناک لہر میں اپنی معیشت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا لیکن جب ہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی جس کی وجہ سے اسکی معیشت پاکستان سے بہتر ہے لیکن کیا وہ اس موقع پر افغانستان کے حالات پر کچھ کہنا پسند کریں گے کہ انہوں نے ضروریات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک کمی کرنے کے احکامات کیوں جاری کیے ہیں؟ کیا افغانستان نے بھی کبھی جنگ نہیں لڑی؟ کیا افغانستان روز اوّل سے جنگی محاذ کا شکار رہا ہے یا نہیں؟ یہ عجیب منطق ہمیں حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان سے سننے کو ملتی ہے۔ بظاہر موجودہ حکمران جماعت اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے بہتر بناتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا ملبہ اپوزیشن کی کرپشن کی نظر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بظاہر ہمیں وہ اس میں بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔

    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حکمران جماعت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے بعد رعایا کے سامنے اپنی بہترین پالیسیوں کو رکھ کر انکے دلوں میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے یا اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری جیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے دل میں لگی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اس حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کو بہتر سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے عوض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں، مہنگائی نے برا حال کیا ہوا ہے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے بیروزگار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ گھروں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ 

    بظاہر یہ حکومت عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ پریشانیوں کو جنم دینے کے لیے لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند روز قبل ایک سنئیر جج نے ریٹائرڈ ہونا تھا انہوں نے اپنے آخری فیصلے میں سوئی سدرن گیس کے تیس ہزار ملازمین کو ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا، ان ملازمین میں کوئی ریٹائرمنٹ کے عین قریب تھا اور کسی نے ساری زندگی اپنے اس محکمے کے نام کرنی تھی لیکن ذرا سی ناانصافی کی وجہ سے تیس ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی وجہ سے بہت سے ملازمین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس حکومت کو آٹا، چینی، گھی، ادویات کی قیمتوں میں کمی لازمی لانا ہوگی ورنہ اس حکومت کا خاتمہ پیپلزپارٹی کی نسبت قدرے زیادہ برا ہوگا اور شاید آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف ایک یونین کونسل کی جماعت نہ بن پائے۔ عوام نے آپ کو تبدیلی اور سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا لیکن آپ نے سہولیات فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے سہولیات جو میسر تھی انکو بھی ختم کر دیا۔ اس حکومت کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ رعایا جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو دنیا کی کوئی طاقت رعایا کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد اور بے معنی پیدا نہیں فرمائی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے اور قدرت ان سے انہیں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی نپلوں سے لے کر آسمان کی صورت تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کے مقصد کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کردیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے چلے گئے جیسا کہ اللہ تعالی نے مقصد اس کائنات کو خود فرمایا کہ:

    میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کر دی ” ( الحدیث)

    اس سے یہ بات پتا چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا اہم اور اصل مقصد اللہ تعالی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہو گیا کہ آپ کائنات کی وہ شے اپنے وجود میں کامل ہو گی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصد نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے مخلوق میں زی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

    1)ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
    2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
    3) ایک وہ جن کو عقل بھی دیں اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس

    ان میں ہر ایک کا مقصد جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بنا کر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے ان سے الگ کر دیئے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر ان سوجن کو یہی خصلت بھی دیں اور فرشتوں کا شعور بھی دیا۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف بہمانا صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب جن و انس دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آجائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشیں ہیں اور اگر بہمانہ خصائل غالب آجائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

    رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ” ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا” ( زاریات، آیت 54)

    معلوم ہوا کہ مقصد انسان صرف عبادت الہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں اپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک عظیم اور اہم ہے۔ اب چونکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد بہت اہم اور مبارک ہے تو اس لیے ہر انسان کو چاہیئے کہ وہ دنیاوی کاموں سے برتر سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور عبادت کو سب سے پہلے رکھے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہونی چاہیے۔ کیونکہ باقی دنیاوی کام تو سب چلتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ کا قرب پا گیا تو سمجھو وہ مقصد حیات پا گیا۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @RealPahore