Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    وراثت ایک شرعی حق ہے اس میں کوتاہیاں عام ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم جن علاقوں اور معاشروں میں رہتے ہیں ۔وہاں نہ جانے کتنی ایسی غلط رسمیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب ہم ان معاشروں میں پہنچتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لئے کوشش کرنے کی بجائے خود ان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔

    ہمیں دن رات یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھی عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔مثلاً باپ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بیٹی سے اجازت لئے بغیر اس کی شادی کردی ۔بیٹی کو یہ بات کہنے کی اجازت نہیں کہ فلاں رشتہ مجھے پسند نہیں، یہ بات باپ کی غیرت کے خلاف ہے وہ قتل کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتا ہے کہ تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تو میرے فیصلے کے خلاف زبان کھولے، نتیجہ یہ کہ اس بیچاری کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

    اسی طرح یہ بھی عام رواج ہے کہ بیٹی کو ترکے میں سے کوئی حق نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح عورت اگر بیوہ ہوجائے تو اس کے لیے دوسرے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے بلکل ایسا جیسے کفر، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے نکاح بیوگان کے حق میں عملی جہاد کیا ۔لیکن ہم اپنے معاشرے میں ان رسموں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان کے اندر بہہ جاتے ہیں ۔

    وراثت میں زبانی معافی کا اعتبار نہیں! کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے طورخم تک جہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے اس کا سارا ترکہ اس کے بیٹے لے جاتے ہیں ۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا لیکن ہم نے کتنی مرتبہ اس کے خلاف آواز اٹھائی؟

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بہنوں نے ہمارا حصہ بخش دیا اول تو بخشا نہیں ہوتا، بلکہ بہن کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے ذرا سی زبان کھولی تو میرا بھائی میری زندگی عذاب کردے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ ترکے کےبارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی وارث زبان سے بھی کہہ دے کہ میں نے بخش دیا تو وہ بخشنا معتبر نہیں معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا حصہ اس کے قبضہ میں دو ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد اگر وہ اپنی خوشدلی سے تمہیں کچھ دینا چاہے تو دیدے ۔اس لئے لوگوں کا یہ حیلہ سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے ۔

    یہی حال مہر کا ہے کہ نکاح کے وقت تو بھاری مہر مقرر کرلیتے ہیں اور دینے کی نیت ہوتی نہیں ۔جب بیچاری کے مرنے کا وقت اپہنچا تو اس وقت اسے کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے مجھے مہر معاف کردو ۔اب بیچاری کیا کہے کہ میں معاف نہیں کرتی، ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ زبان سے معاف کردیتی ہے، لیکن یہ معافی شرعاً معتبر نہیں ۔

    مغرب نے عورتوں کو جو اذادی دی ہے ہم بعض اوقات اسکے خلاف تو بولتے ہیں اور بولنا بھی چاہئے لیکن اس اذادی کا ایک سبب وہ ظلم بھی ہے جو ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ۔اس لئے اس اذادی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے ۔جن کی چکی میں ہماری مشرقی عورت پس رہی ہے ۔

    آج ہمارا سارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے ۔اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے باپ کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ۔ملیں قائم ہورہی ہیں دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ۔مال اور جائیداد بڑھتا جارہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے ۔اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہوجاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کرلیا اور کسی نے کم خرچ کیا، یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا اس دوران باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے بعد بھائیوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں. وہ لا متناہی ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai 

  • ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین   تحریر: سعادت حسین عباسی

    ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین  تحریر: سعادت حسین عباسی

    ٹویٹر: IamSaadatAbbasi@ 

    چند روز قبل کی بات ہے کہ ٹویٹر پر میری نظروں سے ایک ٹویٹ گزری جو ایک معروف پاکستانی سلیبرٹی کی طرف سے کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں نے تین شادیاں کی اور تینوں میں سے کوئی شوہر بھی مجھے خوش نہ رکھ سکا۔ اب یہ اس سلیبرٹی کی طرف سے ایک نارمل ٹویٹ تھا جو انہوں نے اپنی لائف کے حوالے سے کیا جو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی تہذیب وتمدن سے پاک تھا لیکن ہمارے سوشل میڈیا صارفین پر صد ہا افسوس کہ اس ٹویٹ کو ایسا رنگ دیا کہ اس معروف سیلبرٹی کو اپنا وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کو لیکر ایسی نازیبہ گفتگو کی جو کہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اگرایسے حالات کسی مرد کی زندگی میں آتے اور وہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر کرتا کہ میں نے تین شادیاں کی لیکن تینوں بیویاں مجھے خوش نہ رکھ سکی تو اس پر بھی تنقید مرد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بھی تنقید کا نشانہ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خواتین کو بنایا جاتا۔ اور ان خواتین کے بارے میں ایسی ایسی گفتگو کی جاتی جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتی۔ 

    جب کہ ہمارا تعلق ایک اسلامی ملک سے ہیں ہم ایک اسلامی ملک میں پیداہوئے ہیں اور ہمارا مذہب اسلام خواتین کی عزت واحترام کا درس دیتا ہے لیکن بطور ایک سوشل میڈیا صارف ہم کیوں نہیں اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی ماں،بہن، بیٹی موجود ہیں کل کو ان پر بھی ایسے وار ہوسکتے ہیں جس سے ان کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم کیوں ہر چیز میں نشانہ خواتین کو ہی بناتے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے یا ہماری تربیت اچھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے ہم اس ٹریک پر چل پڑتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوتی ہو۔ دو ماہ قبل اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کو بھی سوشل میدیا صارفین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بہت سارے ان کے فیملی کے لوگ دوست احباب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پرایک اور معروف پاکستانی سرجن نے ایک تصویر جس میں انہوں نے اپنی چند جونیئر سرجنز کے ساتھ اس عنوان کے ساتھ اپلوڈ کی کہ خواتین بھی سرجن بن سکتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہمارا بازو بن کر کام کر سکتی ہیں اس تصویر کے نیچے  جہاں بہت سارے صارفین اس بات کو سراہا رہے تھے وہی پر ہمارے تنگ نظر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسے کمنٹس بھی تھے جن میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ان سب کو سرجن بنانے کی بجائے کھانا بنانا سکھا دیتے تاکہ وہ اپنے سسرال میں جا کر خوش رہ سکتی یہاں تک کہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہر فیلڈ میں مردوں کے مد مقابل آرہی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنا گھر اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے اور ہر قدم پر شوہر کے ساتھ ملکر آگے بڑھ سکتی ہے اور دوسری بات جب ان صارفین حضرات کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا گھر میں کسی کا ڈلیوری کیس ہو تو یہی صارفین ہسپتالوں میں جا کر لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یہ دوہرا معیار آخر کیوں رکھتے ہیں تب ہسپتالوں میں مرد ڈاکٹر حضرات کے پاس کیوں نہیں جاتے تب تو ہر حال میں ان کو لیڈی ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہوتا ہے۔ سوشل  میڈیا پر ایسے صارفین ہر طرح کی خواتین کو ہراساں کرتے نظر آتے ہیں کبھی مثبت رویہ نہیں اختیار کرتے ہمیشہ ہر چیز کو منفی رنگ دیتے ہیں۔ ایسے ٹرولر صارفین کے لیے حکومت کو چاہیے کہ کوئی ضابطہ اخلاق کا قانون بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے نا کہ صرف قانون کی حد تک محفوظ رکھا جائے ۔ یہی پر ذکر کرتا چلوں کہ ۲۰۱۸ میں گورنمنٹ کی طرف سے سائبر کرائم قانون پاس ہوا تھا جس پر ایسے صارفین کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن جس ادارے کو یہ کام سونپا گیا ہے ان کی قابلیت پر صدہا افسوس کیونکہ اس ادارے میں سائبر کرائم سیل میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انٹرنیٹ سرچنگ تک نہیں آتی اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا۔ کچھ دن قبل ایک ایسے ہی کیس کے سلسلے میں اس ادارے میں جانا پڑا وہاں پر جا کر جب اپنی درخواست دی تو اس کے بعد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا لنک بھی دیا لیکن پہلے تو وہاں پر انٹرنیٹ ہی ٹھیک سے کام نہین کر رہا تھا تین چار بار اس ادارے کے ایک ملازم نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو ری سٹارٹ کر کے آخر کار انٹرنیٹ تو چلا ہی لیا اب جب اس لنک کو یوارایل میں پیسٹ کر کے سرچنگ کرنے کا میں نے کہا تو ان صاحب سے نہ ہوسکا آخر کار میں نے خود ہی ان کو سارا کام کر کے دیا، میری حکومت سے یہ اپیل بھی ہے کہ سائبر کرائم سیل میں کم از کم ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو سائبر کرائم کو سمجھتے ہوں جس کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا نا آتا ہو وہ کیا سائبر کرائم کو سمجھے گا۔  خیر یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے جسکو حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ 

    ایسے اور بھی  بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔خدارا سنبھل جائیں ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہین مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں ہمیں اپنی خواتین کو عزت واحترام دینا ہوگا اور یہی ہمارا فریضہ بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں حوس اس قدر بھر چکی ہے کہ ہر چیز میں اپنی حوس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ہماری مائیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں اس ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اس لیے ہر چیز سے بالاتر ہوکر ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کریں۔  

    ٹویٹرپروفائل لنک: 

    @IamSaadatAbbasi

  • خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور

    خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور


    اسٹریس ہائپر ٹینشن ڈپریشن ٹینشن آجکل اس طرح کے مسائل ہر انسان کو درپیش
    ہیں بڑے دکھ کی بات ہے ہمارے معاشرے میں نفسیات اور احساسات کو زیادہ
    اہمیت نہیں دی جاتی جب کہ ہر دوسرا انسان اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے
    بعض اوقات کچھ یادیں تکلیفیں الجھنیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر رکھ
    دیتی ہیں اور انسان پر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے
    انسان اپنی توجہ دنیا کی ہر چیز سے ہٹا کر ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا وہ
    ہے  بے سکونی ,مایوسی ,نا امیدی ,چڑچڑا پن۔

    ڈپریشن کا زیادہ شکار حساس لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو خوش کرتے کرتے اپنی
    زات کو فراموش کر دیتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں دیکھیں تو ایک طالب علم
    سے لے کر نوکری کرنے والا انسان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہے کچھ تو
    کام کا تحاشہ لوڈ طویل دورانیے کی نوکری بھی اچھے خاصے انسان کو چڑ چیڑا
    بنا دیتی ہے۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان ذہنی مریض کیوں بنتا ہے کیا وجہ ہے دن بدن
    انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے کبھی سوچا اذیت کی وہ کیا انتہا ہو
    گی کہ انسان اس حد تک بے بس ہو جاتا کہ وہ خودکشی تک کرنے پر موجود ہوتا
    ہے ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کو بیماری
    ہی نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک بیماری وہی ہے جو نظر آجائے اور جب تک ہمیں
    یہ بات سمجھ آتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

    عموماً دیکھا گیا ہے ڈپریشن عام انسان سے زیادہ پڑھے لکھے، مایوس، نوکری
    پیشہ، بیمار ،تنہائی میں مبتلا لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو
    محبتوں سے محروم ہوتے ہیں احساس محرومی ان کی رگوں میں سرائیت کر جاتی ہے
    جو تکلیف اور ناامیدی کا باعث بنتی ہے یا یہ کہہ لیں کبھی کبھی انسانی
    رویے، ان کے کہے کچھ الفاظ درد کا باعث بنتے ہیں غیروں کے الفاظ انکے
    رویے بھی انسان کسی حد تک سہہ لیتا ہے مگر جب بات دل سے جڑے رشتوں کی
    ہوتی ہے تو وہ کٹ کر رہ جاتا ہے  یا جب اپنے چاہنے والوں سے رخصت ہونا
    پڑتا ہے تو انسان کے پاس بس ان کی یادیں ہوتی ہیں جو اس کا جینا محال کر
    دیتی ہیں کبھی کوئی حالات کا مارا ہوتا نفرت کا ڈسا ہوتا یا محبت کا لوگ
    کس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی کو احساس نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارے
    معاشرے میں درد پر مرہم رکھنے کی ریت نہیں بلکہ دوسرے کے دکھوں کو لوگ
    ہرا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں  ایسا نفسا نفسی کا دور ہے کسی کی نیند
    ٹوٹے یا خواب دل ٹوٹے یا ہمت کسی کو کوئی پرواہ نہیں لوگ اپنی دنیا میں
    ہی مست رہتے۔

     ایسا بھی دیکھا گیا ہے کبھی کبھی انسان ڈپریشن خود پر بھی مسلط کر لیتا
    ہے وجہ ہوتی ہماری لاشعور میں پلنے والی تکلیفیں, یادیں,تلخیاں اور یہ
    پھر ہماری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں  انسان نہ ٹھیک سے کوئی
    کام کر سکتا ہے نہ کوئی فیصلہ لے پاتا ہے بس مایوسی کے دلدل میں دھنستا
    چلا جاتا ہے۔

    بہت سی نامور شخصیات کے بارے میں سنا ہو گا دولت عزت شہرت  دنیا کی ہر
    آسائش ہونے کے باوجود اپنی زندگی سے مایوس ہو کر سکوں کی تلاش میں نشے کی
    لت میں پڑ جاتے یا اتنے بیزار ہو جاتے خودکشی پر مجبور ہو جاتے اس طرح کی
    تمام برائیوں کی جڑ  ایمان کی کمی ہے انسان در بدر سکون کی تلاش میں رہتا
    ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے
    دل اس کا مطمین ہو گا تو سکون خود بخود اس کے اندر سرایت کر جائے گا مگر
    سوال یہ ہے کہ دل مطمئن کیسے کریں تو اس کا آسان جواب بیشک اللّٰہ کے ذکر
    میں ہی سکون ہے یعنی اللّٰہ پاک کو یاد کرنا اسکی عبادت کرنا اس کے ذکر
    کو اسکے احکامات کو اپنی روح میں ڈھالنا ہے۔ جس سکون کو ہم دنیا بھر میں
    ڈھونڈنے پھرتے ہیں  وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔

     اگر آپ اپنی زندگی میں ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ بن جائیں ﺗﻮ کسی
    قسم کا ﺩﺑﺎﻭٔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑتا منفی سوچوں خیالات سے دور رہیں
    ہر حال میں اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں اپنے لیے جینا سیکھیں یہ آپ خود
    پر منحصر ہے کہ آپ  اپنی ذہنی پریشانی سے خود کو اس سے کیسے باہر نکالتے
    ہیں یہ آپ نے طے کرنا کہ آپ کے اندر کون سے صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا
    کر خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر سکتے ہیں جیسے کہ اچھی کتابیں پڑھیں
    باغبانی کریں وغیرہ وغیرہ یا اپنے والدین سے بات کریں نہیں ہیں تو کسی
    قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کریں یقین کریں آپ واقعی خود کو ہلکا پھلکا
    محسوس کریں گے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

      کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے میں خود بہت مایوس ہو جاتا ہوں شدید ڈپریشن
    ہوتا ایسا لگتا جیسے سر درد سے پھٹ جاۓ گا ایسے میں  سورہ رحمن کی تلاوت
    سنتا ہوں سکون جیسے نس نس میں اتر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا میں  اپنے
    خیالات کو اپنی پریشانیوں کو کاغذ پر اتار کر دل ہلکا کر لیتا ہوں دنیا
    میں شاید میرے جیسے بے شمار لوگ ہوں کہ جن کو سنے والا سمجھنے والا کوئی
    نہیں ہوتا تو انکے پاس بس کاغد اور قلم کا سہارا ہوتا۔ یہ میرا ذاتی
    تجربہ ہے اور میں نے بہت حد تک فضول سوچنا اور ٹینشنز پالنا ختم کر دی
    ہیں بجائے ہم منفی ردعمل اپنائیں مثبت چیزیں کر کے دیکھیں بہت حد تک بہتر
    محسوس کریں گے۔۔!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    ‎@Nomysahir

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف

    الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف


    سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

    پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔

    اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

    اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

    آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!

    ‎@SeharSulehri

  • پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    غذائی ماہرین کی جانب سے پنیر یعنی کہ ’چیز‘ کو بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے تقریباً 8 ہزار سال سے دودھ کے ذریعے مختلف قسم کا پنیر تیار کیا جا رہا ہے پنیر ہر عمر کے فرد کی من پسند غذا ہے جبکہ اسے بچوں کے استعمال کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    دودھ سے پنیر تیار کرنے کے مرحلے کے دوران دودھ میں سے سارا پانی نکال لیا جاتا ہے، دودھ سے پنیر کی تیاری کا عمل پروٹین کی وافر مقدار فراہم کرنے کے ساتھ اس کو صحت کے لیے نہایت مفید بنانے کا باعث بھی بنتا ہے جس کے استعمال سے بے شمار طبی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں، بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور میٹابولک امراض مثلاً ذیابطیس وغیرہ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے دودھ پینے کے بجائے پنیر کھانے کے نتیجے میں فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    پنیر کی زیادہ تر اقسام کو پروٹین حاصل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، کم چکنائی پر مشتمل پنیر کو پروٹین کا بہترین ذریعہ جبکہ پنیر کی ایک اور قسم پرمیسن چیز(Parmesan cheese ) کو دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

    پرمیسن چیز کے ایک اونس میں 10 گرام پروٹین پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پنیر کی دیگر اقسام جیسے کہ موزریلا، چیڈر، کوٹیج اور ریکوٹا میں پروٹین کی مقدار کم اور فیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

    انسانی پٹھوں میں ورزش یا بھاری بھرکم کاموں کے نتیجے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ، متاثرہ پٹھوں کی مرمت، اعضاء کی بناوٹ، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرنے کے لیے پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    پروٹین کی کمی مسلز کی کمزوری، درد، جسمانی نشوونما میں کمی، جگر پر چربی، جِلد اور ناخنوں کے مسائل، بالوں کے ٹوٹ جانے یا گنج پن جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

    اسی لیے غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ انسان کی روز مرہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔

    پروٹین کی مقدار سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو روزانہ 56 گرام، خواتین کو 40 گرام جبکہ بچوں کو 19 سے 34 گرام پروٹین کی مقدار کا استعمال کرنا چاہیئے۔

    وٹامن بی 12 دودھ یا پھر سپلیمنٹس سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پنیر کی کئی قسموں میں بھی وٹامن B12 قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے غذائی و طبی ماہرین کے مطابق پنیر کینسر یا سرطان سے محفوظ رکھتا ہے، جَلد والدین بننے کی خواہش مند افراد کے لیے پنیر کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    لو فیٹ یعنی کے کم چکنائی والا پنیر بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے اور جگر کو مضبوط بناتا ہے بچوں کا قد بڑھانے کے لیے پنیر کا استعمال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

    مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے لو فیٹ پنیر ایک بہترین غذا ہے جبکہ کیلشیم، پروٹین، میگنیشیم کی وافر مقدار اعصاب اور اعضاء کو طاقت ور بناتی ہے پنیر پٹھوں کے درد، جوڑوں کی سوجن اور تکلیف میں مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    پنیر کا استعمال جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرتا ہے پنیر چاہے کم چکنائی والا ہی کیوں نہ ہو اس کے استعمال سے وزن بڑھتا ہے، اسے کمزور بچوں کی غذا میں پنیر شامل کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

  • انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    معرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی ویڈیو اورتصاویر شئیرنگ ایپ انسٹاگرام میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹاگرام ڈاون ہونے کے بعد صارفین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیےیہ فیچر کسی بھی تکنیکی خرابی یا بندش کی صورت میں صارفین کو بروقت مطلع کر سکے گا جس کا اعلان انسٹاگرام کی جانب سے خود کیا گیا۔

    انسٹاگرام کی جانب سے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ایپلیکیشن کی سروس میں خرابی کی بروقت اطلاع دینے کے لئے ایک نیا فیچر آزمایا جارہا ہے یہ فیچر ابتدائی طور پر امریکا میں آزمایا جارہا ہے اور اس کو کچھ ماہ تک جاری رکھا جائے گا۔

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    یاد رہے اس نئے فیچر کو حالیہ دنوں میں دو بار انسٹاگرام کی سروس بند ہونے کے بعد متعارف کرایا جا رہا ہے 4 اکتوبر کو فیس بک میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کی وجہ سے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسزبھی چھ گھنٹے بند رہی تھی۔

    جس کے باعث ساڑھے 3 ارب صارفین ان ویب سائٹس کو استعمال نہیں کر سکے تھے جبکہ کمپنیز کو اربوں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ اسپیڈ مکمل بحال نہ ہوسکی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو کئی روز مسائل کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک کمی آ گئی تھی ٹیلی کام ذرائع کے مطابق 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

  • کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ اور حالات حاضرہ۔ تحریر: طلعت کاشف سلام

    کووڈ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ چھوٹے ملکوں کے ساتھ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک تک مسائل سے دوچار ہیں۔

    اس وبا نے نہ امیر دیکھا نہ غریب ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ پوری دنیا اس وقت معالی بحران سے گزر رھی ہے۔ بڑے ممالک نے تو پھر بھی کسی حد تک سروائیو کر لیا لیکن اکثر چھوٹے ممالک کی اکانومی مکمل طور پر تباہ ھوگئی۔ کووڈ کی پہلی لہر کے بعد یہ سمجھا گیا کے اب سب ٹھیک ھو جائے گا۔ لیکن ایک کے بعد دوسری لہر، پھر تیسی لہر اور پھر چوتھی لہر بھی آگئی۔ اس وقت کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کے کووڈ رکے گا یا یہ سلسلہ اسی طرح ھمارے ساتھ ساری زندگی چلتا رھے گا۔اس وائرس نے کئی زندگیاں نگل لیں۔ مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی بہت ھوا۔

    کئی ڈاکٹرز اس ریسرچ میں مصروف ہیں کے کسی طرح کووڈ اور اسکے بعد دوسرے وائرس جیسے کے ڈیلٹا ویرینٹ کا کوئی مستقل حل نکالا جائے۔ لیکن ابھی تک وہ اس کو روکنے میں یا حل نکالنے میں ناکام ہی رھے ہیں۔ ویکسین سے اس کا پھیلاو کم ضرور ھوا ہے لیکن رکا نہیں ہے۔ سننے میں آرھا کے سردیوں میں کووڈ کی پانچویں لہر پھر زور پکڑے گی۔ اگر ھم یورپی ممالک کو دیکھیں تو وھاں پر گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ عوام بھی بھرپور کوشش کررھی ہے کے کسی طرح حالات ٹھیک ھوں۔ چھوٹے بزنس کے ساتھ ساتھ کئی بڑے بڑے بزنس مکمل طور پر تباہ ھو گئے۔ آئیرلاین انڈسٹری بہت خسارے میں رھی۔ سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ھو گیا۔گاڑیوں کی انڈسٹری بہت شدید نقصان کا شکار ھوئی۔

    یہاں میں آپکو ایک چھوٹی سی مثال دیتی ہوں۔۔۔

    دنیا کا سب سے لمبا لاک ڈاون کینیڈا میں ھوا۔ کووڈ میں کینیڈا جب بند ھوا تو ساری گاڑی مینوفیکچرنگ رک گئی۔ کینیڈا چائنہ سے اسپیڈومیٹر کی چپ منگواتا تھا۔ جب مینوفیکچرنگ رکی تو کینیڈا نے چائنہ سے چپ لینی بند کردیں۔ کیونکہ کام ہی بند تھا تو چپ لے کر کیا کرتے۔ دوسری طرف چائنہ کو بہت نقصان ھوا کیونکہ وہ چپ ایکسپورٹ نہیں کر پا رھے تھے۔ بہرحال چائنہ نے تو کوشش کر کے دوسرے ممالک سے کانٹریکٹ لے لیا۔ اور اپنا مال دوسرے ممالک کو دینے لگے۔ لیکن جب کینیڈا کھلا تو انہوں نے چائنہ سے رابطہ کیا تاکہ اسپیڈومیٹر کی چپ منگوائی جاسکے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ھو چکی تھی۔ کیونکہ چائنہ نے کسی اور ملک کو مال سپلائی کرنا شروع کردیا تھا۔ اور اب کینیڈا کی صورتحال یہ ہے کے ساری کمپنیوں میں ھزاروں کی تعداد میں گاڑیاں تیار کھڑی ہیں۔ لیکن کسی کے پاس بھی اسپیڈومیٹر چپ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے گاڑی مینوفیکچر کرنے والی انڈسٹری بہت زیادہ نقصان کا شکار ھو رھی۔

    پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ بےروزگار ھوئے اور اب مزید ھونگے۔لیکن یہاں کی گورنمنٹ اپنی پوری کوشش کررھی کے کسی طرح ان سب نقصانات کو پورا کیا جاسکے۔ نہ صرف گورنمنٹ ساتھ سارے ادارے اور عوام بھی پہلے سے بڑھ کے کام کررھی ہے۔ جہاں پہلے 8 گھنٹے کام کیا جاتا تھا وھاں اب دس سے بارہ گھنٹے کرتے ہیں۔ اس وقت اگر حالات اچھے دیکھنا چاہتے ہیں تو سارہ ملبہ صرف حکومت پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ بحیثیت قوم سب کو ساتھ دینا چاہئے تب ہی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔

    دنیا میں کونسا ایسا ملک ھوگا جو عوام کو پریشان دیکھ کے خوش ھوگی! کوئی نہیں نہ۔۔
    یہ بات ھم سب کو سمجھنی چاہئے کے اس وقت حکومت کو ھمارے ساتھ کی ضرورت ہے اور اگر اپنا ملک بچانا ہے تو سب نے مل کے کام کرنا ہے، کیونکہ اسی میں ھم سب کا فائدہ ہے ھم سب کی بھلائی ہے۔اگر ویکسین نہیں لگی ہے تو لازمی لگوائیں اور ماسک لازمی پہنیں۔ کیونکہ اس وقت یہی سب سے بڑی احتیاطی تدبیر ہے۔ کیونکہ اس وقت کوئی بھی ملک مزید لاک ڈاون برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ لاک ڈاون سے نہ صرف ھمارا بلکہ پورے ملک کا نقصان ھوتا ہے۔ اس لیے احتیاط کریں اور تندرست رہیں۔

    @alwaystalat

  • 1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    شراب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور سے موجود ہے تاہم اسرائیل میں 1500 سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی ایک فیکٹری دریافت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی نوادرات اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شراب کی مذکورہ فیکٹری بازنطینی دور سے اب تک دریافت ہونے والی سب سے بڑی وائنری ہے-

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسرائیلی لینڈ اتھارٹی کی جانب سے یونے شہر کو ارد گرد کے علاقے میں وسعت دینے کے اقدام کے طور پر 75 ہزار مربع فٹ جگہ کی کھدائی میں دو سال کا وقت لیا۔

    ریسرچ کے مطابق پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے 520 عیسوی کے لگ بھگ بازنطینی دور میں بالغوں اور بچوں کے لیے شراب پینا عام تھا۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جون سیلگ مین کے مطابق اس مشن کے دوران انہیں دوسری صنعتوں کی باقیات بھی ملی ہیں، جن میں شیشے اور دھات کی فیکٹریاں موجود ہیں پلانٹ میں کئی ہزار ٹکڑے اور مٹی کے جار بھی موجود ہیں جبکہ ان باقیات میں گھر اور دوسری عمارتیں بھی شامل ہیں جو بازنطینی اور اسلامی کے درمیان عبوری دور کی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یونے میں دریافت کی گئی فیکٹری ہر سال 20 لاکھ لیٹر تک شراب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ برطانیہ مجموعی طور پر سالانہ 8 ملین لیٹر سے کم شراب پیدا کرتا ہے-

    اس سے قبل 2017 میں سائنس دانوں کو مشرقی یورپ کے ملک جارجیا سے انہیں 8 ہزار سال قبل کے مٹی کے مرتبان اور ان میں انگور بنائے جانے کے نشانات ملے جن کے بارے میں محققین کی رائے تھی کہ یہ انگور سے شراب بنانے کے قدیم ترین شواہد ہو سکتے ہیں۔

    یہ آثار جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے جنوبی علاقوں میں دو مقامات پر ملےتھے ان مرتبانوں میں شراب کی باقیات بھی ملیں جبکہ بعض مرتبانوں پر انگور کے خوشے اور رقص کرتے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی پائی گئی تھی۔

    جارجیا میں ملنے والی ان چیزوں کے بارے میں پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی-

    اس سے قبل شراب کے قدیم ترین شواہد ایران سے ملے تھے اور وہاں ملنے والے شراب کے ظروف کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی تھی۔

    سنہ 2011 میں آرمینیا کے غاروں میں چھ ہزار سال پرانی شراب کے آثار ملے تھے بغیر انگور کے تیار کی جانے والی دنیا کی قدیم ترین شراب کی باقیات چین سے ملے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاول، شہد اور پھلوں سے تیار کی گئی تھی۔

  • جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے 2012 میں اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی اور جو ہجوم نما قوم آج غم میں مری جا رہی ہے اُنہوں نے ووٹ دینا تو دور کی بات ٹکٹ لینا بھی پسند نہیں کئے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر صاحب ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح ساری قوم عبدالستار ایدھی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و افسوس میں تھی لیکن ایدھی صاحب نے جب الیکشن لڑا تھا تو ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ ایسی کئی مثالیں ہمیں ہر ضلع کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگ انتہائی شریف النفس , نیک و خدمت گزار ہوتے ہیں اُنکو ہم القابات سے تو بہت نوازتے ہیں لیکن جب اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا وقت آئے تو ہائی کوالٹی رنگ باز کو اُسکے مقابلے میں منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ذات برادری کا ہوتا ہے یا ہمارے باپ دادا نے اس پارٹی کو ووٹ دیا ہوتا ہے اور ہم بھی کفار مکہ کی طرح اسی پارٹی کے بت کو تا حیات پوجتے رہتے ہیں۔

    اسی طرح جب پاکستان تحریک انصاف نے 2013 میں الیکشن لڑا تو 60 فیصد ٹکٹ عام نوجوانوں کو دیئے اور ذیادہ تر لوگ اچھی شہرت کے حامل تھے لاہور کی مثال لے لیں علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال کے مقابلے ہم نے گیس چور شیخ روحیل اصغر کو جتوا دیا۔ اسی طرح عوام نے دیگر حلقوں میں بھی روائیتی سیاسی گھرانوں کو نوجوانوں اور شریف النفس امیدواروں پر ترجیح دی۔ جنہیں ہم عرف عام میں الیکٹیبکز کہتے ہیں۔

    جب ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کوئی میرے سامنے کہتا ہے کہ ” ساڈا کی قصور اے” تو میں سوچتا ہوں کہ قصور تو ان چند عظیم لیڈران کا ہے جو اس مردہ ہجوم نما قوم کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی روش نہیں چھوڑنی جزباتی تقریریں بھڑکاؤ نعرے ہم سے لگوا لیں وہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
    بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ مرحوم ڈاکٹر قدیر خان پر ایٹمی راز بیچنے یا افشاں کرنے کا الزام تھا کتنا سچ کتنا جھوٹ ہے وہ رہنے دیں لیکن یہ حقیقت آج سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارے اولین دشمن ان کی جان کے در پے تھے اس لیے انہیں مشرف کے جانے کے کئی سال بعد بھی برائے نام آج تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور انہیں ممکنہ خطرے سے بچایا جاسکے۔ لیکن آج تک ہم میں سے بیشتر یہی سمجھتے رہے کہ شائد ڈاکٹر صاحب کو ایٹم بم بنانے کی سزا دی گئی اس لیے قید کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ہتھیار پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لیے ہمارے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کرنی ہے اور کرتے رہیں گے کہ کسی نا کسی طرح پاکستان سے یہ ہتھیار واپس لیے جائیں لیکن ریاستِ پاکستان نے نا صرف اپنے ہتھیاروں بلکہ اپنے سائنسدانوں کو بھی محفوظ رکھا۔
    برائے کرم جزبات سے نہیں حقائق سے سوچا کریں اور کم سے کم اپنے اندر اتنا شعور بیدار کریں کہ اپنے حکمران ذات برادری رنگ نسل یا سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ کارکردگی پر منتخب کر سکیں۔

    Twitter @zohaibofficialk