Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    ‏توَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)

    ‏اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہی 

    ‏اللہ تعالی نے انسان کو زمیں پر اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ ہمیں عقل سے نوازا اور بے تحاشہ صلاحیتیں دیں ۔ اگر غور کیا جائے تو صرف انسان ہی نہی ہر ذی روح اپنے survival کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ انسان ہو یا حیوان چرند ، پرند ہر کوئی اپنے سر چھپانےکے لیے چھت بناتا اور اور روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔ خود کو موسموں کی سردی گرمی سے بچانا یہ سب survival کی کوششیں ہی ہیں ۔ 

    ‏تو پھر سوچیں صرف انسان ہی اشرف المخلوقات کیوں؟ 

    ‏اس لیے کہ انسان کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے لیے غلط اور سہی کا تعین کر سکے ۔ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنے لیے کوشش کرنے والا ہی اشرف المحلوقات ہے 

    اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں اس ذات نے بے مناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ عقل دی تاکہ اپنے لیے صحیع راستے کا انتحاب کر سکیں اور کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے دی گئی نعمتوں میں اپنے حصے کی نعمتین کوشش سے حاصل کریں ۔ 

    اللہ نے ہمیں ہمت اسقلال بردباری اور عرفان سے نوازا تاکہ اس کوشش کہ راستے  میں آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کر سکیں ۔ اللہ نے ہمارے حود متعین کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوۓ ہم کوشش سے بہت کُچھ کر سکتے ہیں ۔ او ر ان حدود سے آگے کچھ بھی نہی  ۔ میرے مطابق غریبی اور امیری بھی الل نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے ۔ انسان کے ہاتھ میں ہے جس نے کوشش کی اور عمل کیا اس نے ترقی کی راہ کو پا لیا ۔ 

     علامہ اقبال کاا ایک شعر ہے۔۔۔” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے”۔ اس شعر میں انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ انسان اگر اچھے عمل کرے گا تو کامیابی اُس کے قدم چومے گی اور اگر انسان غلط راہ پر گامزن رہا تو زندگی بھی کانٹوں بھری سیج ہوگی اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ یہ زِندگی کیسے گزارتا ہے۔۔۔۔ بےشک زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی شروع کہاں سے ہوئی اور آخرت کی زندگی کیا ہے، ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کیا ہے۔۔۔ کیا رنگوں کے ساتھ بھری زندگی یہ ہے—-؟؟؟ یہ پھر رنگوں سے مزین زندگی مرنے کے بعد والی ہے۔۔۔؟؟

    زندگی بیشک رنگوں بھری ہے اب یہ انسان پر منحصر کرتا ہے وہ اس میں کس طرح کے رنگ بھرتا ہے۔۔۔ قوس و قزح کی مانند خوبصورت رنگ جو آنکھوں کو ٹھنڈک دیں یا پھر سیاہ تاریکی میں ڈوبے رنگ جن سے وحشت ہو۔۔؟

    اگر ہم کو اپنی اصل زندگی میں رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں اس زندگی میں بہت خوبصورت رنگوں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب یہ کیسے ہو؟ یہ ایسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کرنا ۔۔۔۔۔ جب انسان کو یہ سمجھ آجائے گا کہ یہ دُنیا عارضی قیام گاہ ہے اور اصل دُنیا اور زندگی اس کے بعد کی ہے تو اس دنیا سے رغبت خودبخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کام مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دنیا میں موجود ہم اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہوجائیں ہرگز نہیں ۔۔۔اس چیز کی اسلام میں سختی سے معمانیت ہے۔

    ‏اکثر یہ بات سُننے کو ملتی ہے اگر مقدر میں ہوا تو مل جائے گا ۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگیوں میں قسمت اور تقدیر کا بہت بڑا کردار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ ہم قسمت کا انتظار نہی کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے حلق میں نوالہ ڈالے ۔ اگر ماضی پہ ایک نظر دوڑائیں تو تمام کامیاب لوگوں کی ترقی کا زینہ عمل ، مسلسل جد وجہد اور کوشش میں پنہاں ملے گا ۔ یہ کہنا غلط نہی ہو گا کہ قسمت انسان خود بناتا ہے ن۔ نیک ارادہ ، صحیع سمت ، دیانت داری اور لگن کے ذریعے  وہ اپنی منزل تک پُہنچتا ہے اور اس میں خدا بھی اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے ۔ 

    ‏میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ انسان کوشش سے وہ سب حاصل کر لیتا ہے جس کا اس نے خواب دیکھا ہو ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے 

    ‏”Nothinh is impossible under this blue sky ” 

    ‏اور اگر کوشش کی جائے تو ہے بھی ایسا ہے ۔ 

    ‏اس تحریر کا مقصد یہ بات اپنی نوجوان نسل تک پُہنچانا ہے کہ اسقلال اور ہمت سے وہ اپنے لیے ستاروں سے آگے کے جہاں کے راہ بھی ہموار کر سکتے ہین۔ عزت ، شہرت ۔ شان و شوکت سب کچھ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ زندگی میں مشکلات کا آنا معمول کی بات ہے لیکن ان مشکلات اے گھبرا کہ خود پہ ترس کھانا اور کود بیچارہ سمجھ لینا الل کی سی گئی اس خوبصورت نعمت کی تذلیل ہے ۔ 

    ‏جیسا کہ مشہور شاعر ظفر علی خان نے فرمایا 

    ‏خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

    ‏نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالتبدلنے کا 

    ‏ ⁦‪@S_paswal‬⁩

  • اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی
    پاکستان میں اخلاقی اقدار دن بدن کمزور ہو رہی ہیں  یہ ہماری گھریلو ترتیب کا نہ ہونا ہے’ ہمیں گھروں میں اچھے اخلاق سکھائیں جائیں گے تو ہم  دوسرے لوگ کا احترام کریں گے اخلاقی گراوٹ کسی بھی قوم کی تباہی کا باعثِ خیمہ ہے ہمارے اخلاق کا کمزور ہو جانا ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہم بحیثیت مسلمان دوسرے لوگوں کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ان کی زاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بد قسمتی سے اخلاق گراوٹ کی کوئی قانونی سزائیں نہیں اگر کچھ سزائیں ہیں بھی صحیح تو ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے اگر کسی کی کوئی بے عزتی کرتا ہے تو اس کو شاباش دی جاتی ہے یہ باعث شرمندگی ہے تو پھر اس کے جواب میں بھی جواب اس سے زیادہ گندی زبان استعمال کرکے دیا جاتاہے  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی میں بھی اور موجود دور میں بھی خواتین بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی تھی ان کی سزائیں جرگہ طے کرتے تھے کبھی کسی کے جرم میں کوئی اور سزائیں کے طور پر گندے عمل کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے مثلاً جب کوئی مرد کسی عورت سے زیادتی کرتا تو جرگہ میں زیادتی کرنے والے شخص کی عزیز کو جرگہ زیادتی ہونے والی عورت کے بھائی سے شادی (ونی) کر دیتے تھے  یہ بھی کسی کی بغیر رضا مندی ظاہر کئے شادی کر دی جاتی تھی  پھر دیہاتوں میں امیر وڈیروں کے جرگہ میں کچھ رقم زیادتی ہونے والا کو دی جاتی تھیں یہ حقیقت تھی  اب اگر آن جیسے واقعات کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہوتا تو کسی زینب کو قتل نہ کیا گیا ہوتا موٹر ویز پر خاتون کی عزت کو نقصان نہ پہنچا ہوتا  اب ملا میں ایسے گندے دھندوں کی ویڈیو بنائی جاتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر Fake ہوتی ہے جو بلیک میل کرنے یا دوسرے کی عزت اچھالنے کا سستا ترین طریقہ ہے’ مدارس میں ویڈیو آئے تو پورے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا عزیر کا انفرادی فعل تھا اس میں مدارس کا کوئی کردار نہیں ہے  اگر کسی کالج یونیورسٹی کے شعبہ میں غیر اخلاقی سکینڈل ہوتا ہے تو انفرادی ہوتا ہے ادارے کا کردار نہیں نہ ہی سکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں غیر اخلاقی تربیت دی جاتی ہے یہاں تو تعلیم تربیت اخلاقی تربیت کے ساتھ زہن کی تربیت خدمت کی جاتی ہے کسی یونیورسٹی میں سیکنڈل کا کہہ کر سینکڑوں آنے والی لڑکیوں کو روکا جائے گا مدرسے میں جانے سے روکا جائے گا  پھر مزید جہالت کا بازار گرم ہوگا  اگر کسی معزز خاتون ممبر اسمبلی کی عزت اچھال رہے ہیں تو جو بے گناہ کی عزت اچھال رہے ہو اللّہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا  اگر مان لیا جائے ممبر اسمبلی سابق گورنر یا کسی اور کی ویڈیوز کو ایشو بنانا چاہتے ہیں تہمیں کیا حاصل ہوگا ہم لوگ عزت دار لوگوں کی عزت بلاوجہ اچھال رہے ہیں یہ ہماری بداخلاقی ناقص تربیت کا نتیجہ ہے ویڈیو پر معزز شخص نے تردید بھی کی اس کو جھوٹ پر مبنی ان کے خلاف اوچھا ہتھکنڈا کہا اگر کوئی شخص بدکار ہے’ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل دو برے لوگوں کو بھی پردہ رکھنا اچھے اخلاق والے لوگوں کا کام ہوتا ہے پر منگھڑت تہمات نہیں لگانی چاہیے ہم لوگ بھی عزت دار تب ہونگے جب دوسروں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے اگر کوئی برا ہے’ تو برا سہی لیکن اس کی برائی کا پرچار کرنا ہرگز آسلام کی تعلیمات میں نہیں اسلام دوسروں کے راز دل میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے ہمیں بس موقع چاہیے کسی کی بھی سالوں کی بنائی ہوئی عزت منٹوں میں خاک میں مل دیتے ہیں لیکن یاد رکھو عزت و زلت بے شک اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کراتا ہے 

    Twitter @RizwanANA97

  • 18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    مرغیاں پالنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے انڈوں سے بچے حاصل کرنا ایک دلچسپ مشغلہ ہے تاہم 18 ہزار سال پہلے ایسا نہیں تھا قدیم انسان دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ پالتے تھے-

    باغی ٹی وی :امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ 18 ہزار سال پہلے نیو گنی میں رہنے والے انسان عام مرغیوں کی بجائے 6 فٹ قد کے جان لیوا پرندے کیسووری پالتے تھے کیسووری کو پرندوں کا ڈائنوسار بھی کہا جاتا ہے-

    کیسووری اپنی مضبوط اور تیز چونچ، انسانی ہاتھ جتنے بڑے اور تیز دھار ناخنوں والے پنجے اور غصیلی طبیعت کی وجہ سے کیسووی کو دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ کہا جاتا ہے ایک بالغ کیسووری کا وزن 60 کلو تک ہو سکتا ہے 2019 میں فلوریڈا میں کیسووری کے حملے میں ایک شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    پنسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے نیوگنی میں کیسووری کے 18 ہزار سال پرانے انڈوں کے خول کا معائنہ کیا ہے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بہت سے انڈوں کے خول ایسے تھے جن سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوئی کہ انسانوں نے انہیں انڈوں سے بچے پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ان پرندوں کو پال کر بڑا کرنے کے بعد ان کے خوبصورت پروں اور گوشت کے لیے انہیں مار دیا جاتا تھا۔

    کیسووری کا شمار ایمو اور شترمرغ کی طرح بڑے پرندوں میں کیا جاتا ہے ایمو اور شترمرغ کی طرح یہ بھی پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لمبی ٹانگوں کے سبب یہ انسان کے مقابلے میں تیز رفتاری سے دوڑ سکتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    واضح رہے کہ ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا تھا نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

  • پی سی بی کے  چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق قومی کرکٹرز وقار یونس اور مصباح الحق کے بعد وسیم خان نےاختیارات میں کمی کی وجہ سےاستعفیٰ دیا جبکہ وسیم خان کی مدت ملازمت فروری2022 میں ختم ہونی تھی۔


    وسیم نے اپنا استعفیٰ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کو پیش کیا، ان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا وسیم احمد خان واروکشائر، سیسیکس اور ڈربی شائر کی طرف سے کاؤئنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔وسیم خان انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

    مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار

    وہ لیسٹر شائر کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں وسیم خان انگلینڈ میں کھیلوں کے بورڈ کا بھی حصہ تھے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ سیل کا بھی سات سال حصہ رہے۔

    ادھر چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ وسیم خان کو ان کے بے پناہ تجربے کی بنیاد پر سلیکٹ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہو گئے تھے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جمیکا میں قرنطینہ کے دوران اپنے 24 ماہ کا جائزہ لیا، جانتا ہوں یہ آئیڈیل وقت نہیں مگر فی الحال ایسے فریم آف مائنڈ میں نہیں کہ آئندہ چیلنجز سے نبرد آزما ہوسکوں،اپنے اہلخانہ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں،

    آئی پی ایل میچز، طالبان نے بڑی پابندی لگا دی

    وقار یونس کا کہنا تھا کہ مصباح الحق نے اپنا فیصلہ بتایا تو میں نے بھی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا،پاکستان کے نوجوان باؤلرز کے ساتھ کام کرنے پر بہت مطمئن ہوں، چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی مصباح الحق کے فیصلے کا احترام کرتا ہے، گزشتہ 24 ماہ میں مصباح الحق نے اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کرکٹ کے لیے خرچ کیں،وقار یونس نے جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے،ہم نے ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کو عبوری کوچز کی حیثیت سے نیوزی لینڈ سیریز کے لیے تعینات کیا ہے، آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان مناسب وقت پر کردیا جائے گا

    میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا ،چیئرمین رمیز راجہ نے کئے بڑے اعلان

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    مقبول ویڈیو کالنگ سروس اسکائپ اب زوم، گوگل میٹ اور واٹس ایپ سمیت دیگرسروسز کے مقابلے میں آنے کو تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس نئے اسکائپ کی آزمائش کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کمپنی کے مطابق یہ پہلے سے زیادہ تیزرفتار، قابل انحصار اور جدید ڈیزائن کی حامل سروس بن جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق ان میں سے ایک بڑی تبدیلی نیا گرڈ ڈسپلے ہے جس میں کال میں شامل تمام افراد کو ایڈ کیا جاسکے گا چاہے ویڈیو آف ہی کیوں نہ ہو مگر تمام شرکا کو دیکھنا ممکن ہوگا اسی طرح نئی تھیمز اور لے آؤٹس کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جس کا مقصد کالنگ یوزر انٹرفیس کے لیے نئے آپشنز فراہم کرنا ہے۔

    صارفین زیادہ بڑی گیلری، ٹوگیدر موڈ، گرڈ ویو اور اسپیکرو ویو کے ساتھ کونٹینٹ ویو کا انتخاب کرسکیں گے موبائل ورژن میں سائیڈ پینل، رنگا رنگ تھیمز اور ریفریش آئیکونز کا اضافہ کیا جاسکے گا اسی طرح کاسٹیوم ساؤنڈ نوٹیفکیشنز اور ٹوئن کیم بھی نئے فیچرز ہیں ہم نے صرف ڈیزائن میں تبدیلی پر توجہ مرکوز نہیں کی بلکہ کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسکائپ کے اینڈرائیڈ ورژن کی پرفارمنس میں نئی اپ ڈیٹس کے بعد لگ بھگ 2 ہزار فیصد بہتری آئے گی جبکہ ڈیسک ٹاپ ورژن میں 30 فیصد تک بہتر ہوگی وہ مستقبل میں تمام ویب براؤزرز کے لیے اسکائپ سپورٹ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ صارفین کو ہر ممکن بہتر تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

    اسکائپ میں یہ تبدیلیاں آنے والے مہینوں میں صارفین کو دستیاب ہوں گی-

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار…

  • عورت کی عظمت اورمعاشرہ تحریر: حمیرا الیاس

    ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں معاشرتی رویوں اور اقدار میں بہت فرق ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کے مطابق عورت کا جو مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہ بیت ارفع و اعلی، جس میں عورت کو کسی بھی گھرانے کا مرکزی کردار گردانا گیا ہے۔ ایک بیٹی، جو گھر کی رحمت کے طور پر گھر میں اترتی اور پھر گھر بھر کی رونق اور آنکھوں کا تارا بن جاتی۔ بیٹی کے طور باپ کے لئے دل کا سکون اور طراوت۔ ماں کے لئے راحت، اور دکھ درد کی دوست۔ یہی بیٹی اگر بڑی بہن ہے تو تمام چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے محبت بھرے آنچل میں سمو لیتی ہے، ماں بن کر انہیں پیار دینے والی بڑی بہن بسااوقات اپنی تمام زندگی کی خوشیاں تک اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتی۔
    اگر چھوٹی بہن ہو تو تمام بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، شرارتوں سے ہر وقت کھکھلایثیں بکھیرتی جگمگ کرتی سارے گھر میں قندیلیں بھارتی پھرتی۔ یہ بہن یا بیٹی کے جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آنے لگتے تو والدین کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگتے، اک انجانے خوف سے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا اگلے گھر میں ہماری بیٹی اتنی ہی خوش و خرم رہ پائے گی جتنا ہم نے رکھا؟ اس خوف پر بات سے قطع نظر، بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کا سکون ان کے لئے باعث اطمینان رہتا۔ رخصت کرتے بھائیوں کے دل بھی پیاری بہنا کے جانے کا سوچ کر دھک دھک کر رہے ہوتے۔ اور یوں وہ بیٹی جو رحمت بنکر باپ کے آنگن میں اتری ہوتی وہ کسی کے گھر کی ملکہ بن کر رخصت ہوتی، جہاں دیدہ و دل فراش راہ کئے اس کا ہم سفراس کے لئے زندگی کی خوشیاں کشیدنے کا عزم دل میں بھر کر اسے خوش آمدید کرنے کو تیار ہوتا۔ اور یوں بیٹی سے پھر ماں بننے تک کے سفر میں عورت مکمل اہمیت کے احساس سے گزر کر کندن بن جاتی۔
    اس تمام سفر میں عورت کا ہر روپ معاشرے میں عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا۔ لیکن اس مقام کا خود کو اہل ثابت کرنے کے لئے عورت کو بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں،ہر وہ عورت جو قربانیوں کی بھٹی میں جل کر نکل جاتی اس کے لئے یہ زندگی ہی مثل جنت بننے لگتی۔ عورت کی عظمت ہی تو ہے کہ اسے مرد کی سکینت کا باعث کہا گیا، بارہا قرآن حکیم میں مرد کے لئے احکامات کے ہمراہ مومن خواتین کو مخاطب کیا گیا، عورت کے لئے خاص طور حکمت والے قرآن میں ایک مکمل سورۃ اتاری گئی۔ تو اسلام نے تو عورت کی تعظیم میں کسر نہیں چھوڑی، یہ اسلام نے عورت کو عزت وتکریم ہی بخشی تو اسے معاشی فکر سے آزاد کردیا، اسکے لئے امت محمدیہ کی تربیت جیسا عظیم کام سونپا، تربیت کامطلب سمجھ رہے؟ اس کا مطلب آنے والی تمام نسل انسانی کے لئے راستے کی روشنی کے اسباب پیدا کرنا،یہ چھوٹا کام تو نہیں۔ معاشرتی اصولوں میں سب سے خوبصورت اصول، عورت کو تحفظ کی تہوں میں رکھ دیا گیا، اسکا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ، یا بھائی کی ذمہ داری، بعد از شادی یہ سب شوہر کو بہم پہنچانا، اور پھر بیٹے کے ذمہ۔ اسی پر اکتفا نہیں، اسے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا سب کی جائیداد میں حصہ دیا گیا، کیا یہ اسکے تحفظ کے لئے نہیں؟؟
    تو نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اسلام عورت کو اس مقام پرپہنچاتا کہ جس پر پہنچنے کی کوئی بھی انسان آرزو کرسکتا، تو ایسا کیا ہے کہ عورت تشنہ ہمیں اپنے معاشرہ میں مکمل اندازمیں وہ عظمت نساء نظر نہیں آتی؟؟
    اولین وجوہات میں سے ایک اپنے مقام سے آگاہی کا فقدان ہے جو عورت کو بے چین کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جو عورت کو پستی کی گہرائیوں میں لے جاتا، تو اپنے خالق سے ربط کا فقدان سب سے پہلی غلطی ہے جہاں سے عورت اپنے مقام سے گرتی۔ اس کے بعد جب ایک ماں کے رتبہ پر فائز ہو کر معاشرے کی تعمیر کے کام سے انکار کرتی تو دراصل ان تمام محبتوں سے دست بردار ہوجاتی جو بہترین خاکق، اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ وابستہ کردی تھیں۔ عورت مرد کے مقام کو پانے کی کوشش میں ایک بلند مرتبہ کو ٹھکرا کر پھر بے سکونی کی وادی میں گم ہوجاتی ہے۔
    جب تک عورت اپنے مقام پر مطمئن و شکرگزار نہیں ہوتی وہ معاشرے میں اس عظمت پر نہیں پہنچ پائے گی کو اسلام نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔
    آج کی عورت کی بے سکونی کی وجہ وہ خود ہے، وہ صرف attitude of gratitudeسیکھ لے،اور اس کی تعلیم اپنے زیر تربیت اولاد کو دے دے تو معافی میں بڑھتی بے راہروی اور پستی کردار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ عورت کی عظمت اس کے کردار کی پختگی میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کرے کہ لبرلزم کے لبادہ میں ملبوس عورت اپنا اصل مقام پہچان کر اسی عظمت کو پا لے جو امہات المومنین کا خاصہ رہی۔

  • چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق

    چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق


    آج پاکستان کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے لیکن کچھ پاکستان میں بہت عام ہیں جو ہمارے معاشرے اور پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کرپشن ، غربت ، ناخواندگی ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، اسمگلنگ ، منشیات کا استعمال ، وغیرہ
    کرپشن کے علاوہ اور بھی بڑے مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔ چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

    بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے
    بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    چائلڈ لیبر پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان کی طرح تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہے جو کہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 15 سال کے تقریبا 158 ملین بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے-پاکستان میں 5-15 سے کم عمر کے بچے 40 ملین سے زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2.7 ملین بچے زراعت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔
    چائلڈ لیبر کی ایک بنیادی وجہ غربت ہے جو ان بچوں کو مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ سیکھنے کے بجائے کمانے کے پابند ہیں تاکہ ان کے خاندان کے تمام افراد کا پیٹ بھر جائے۔ یہ بچے دن بھر پیسے کمانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تھوڑی سی رقم ملتی ہے جو بمشکل اپنے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔
    ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس نے کئی خاندانوں کو خط غربت سے نیچے گھسیٹا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے والدین کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں ، دوکانوں ، یہاں تک کہ سڑکوں پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کریں۔ چائلڈ لیبر کے بہت سے معاملات ہیں جہاں بچے کو قرض کی ادائیگی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے جو اس کے والد نے لیا تھا

    دیہات میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے اور بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ان کے پاس کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ بچوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ انھیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں جیسے گاڑیاں کھینچنا ، مشینیں مرمت کرنا ، فیکٹریوں میں کام کرنا ، سامان بیچنا وغیرہ۔
    بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے اس پیشے میں تربیت دی جاتی ہے جس پر خاندان صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس لیے وہ پرائمری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے مزدوروں ، کاریگروں وغیرہ کے بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش کو ناخواندگی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تر ان پڑھ ہیں ، اس لیے ان پڑھ والدین کے لیے اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
    ان میں سے بیشتر والدین صرف اس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
    بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر ہے۔ چائلڈ لیبر کے فروغ کی ایک اور اہم وجہ چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین پر حکومت کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے. چائلڈ لیبر ایک بچے کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرتی ہے۔ ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

    چائلڈ لیبر کا مسئلہ قوم کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حامی اقدامات کر رہی ہے۔ چائلڈ لیبر بنیادی طور پر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے جو کہ غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ لیں اور جتنا ممکن ہو اُنکی مدد کریں
    چائلڈ لیبر کی معاشرتی برائی کو قابو میں لایا جا سکتا ہے ، ۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں۔ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر حکومت عوام کے تعاون سے مؤثر طریقے سے کام کرتی رہے تو انشا اللہ پاکستان ایک دن اس معاشرتی ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گا

    ‎@SmPTI31

  • بے حسی کی بیماری   تحریر : شاہ زیب

    بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

    ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

    اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

    یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

    بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

    ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

    ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

    کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

    ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • سلام کی اہمیت   تحریر: تیمور خان

    سلام کی اہمیت  تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    اسلام کا نظامِ حیات یہ سراسر امن اور محبت پہ مبنی ہیں، اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں امن ہو معاشرے میں افراد کے درمیان باہمی محبت ہو آپس میں اتفاق ہو الفت ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں امن ہوتا ہے یا آپس میں محبت کے تعلقات ہوں آپس میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے، تو اس معاشرے میں زندگی گزارنا، رزق حلال کمانا اور تمام امور سرانجام دینا نہایت ہی آسان ہو جاتا ہے، اس کے برعکس ایک معاشرے میں امن نہ ہو، آپس میں ایک دوسرے کے لئے محبت نہ ہو ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو نہ وہاں کاروبار چل سکتا ہے نہ وہاں معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں، بلکہ بد عمنی کی وجہ سے اور محبت اور بھائی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرہ ذوال کا شکار ہو جاتا ہے،

    اسی لئے جہاں اسلام نے ہمیں دیگر تعلیمات عطا کی ہیں وہاں معاشرے کے افراد کے لئے آپس میں محبت کے لئے ایک علاقے کے لوگ، ایک محلے کے لوگ، ایک چت کے نیچے رہنے والے لوگ وہ جب آپس میں بعض چھوٹے چھوٹے چیزوں کا خیال رکھیں گے، تب جا کے ایک محلے کی سطح پہ، ایک علاقے کی سطح پہ اور ایک معاشرے کی سطح پہ امن اور محبت قائم ہوگا،

    سرکارِ دوعالم ﷺ نے اسی امن کو قائم کرنے کے لئے اور پیدا کرنے کے لئے ارشاد فرمایا٫٫ آپ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں، اور یہ وہ حقوق ہیں کہ جو حقوق واجبہ نہیں ہے، ان حقوق کا درجہ مستحب اور نفل کا ہے، لیکن اگر ان چھوٹے چھوٹے حقوق کو ادا کیا جائے تو یقیناً پھر بڑے حقوق کو ادا کرنا آسان ہو جاتا ہے، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں٫٫   1 جب بھی ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے سامنے آئے تو پہلے اس کو سلام کرے، تو یہ سلام کرنا ایک مسلمان کا۔دوسرے مسلمان پہ حق ہے، ہمارے شعریت کی تعلیمات کا سلام کے متعلق خلاصہ یہ ہے ، کہ سلام کرنا مسلمانوں کے جماعت پر یہ ایک مسلمان پر یہ سنت ہے، لیکن شعریت اور قرآن کریم کا یہ حکم ہے٫٫ جب ایک مسلمان سلام کرتا ہے تو اس کو سلام کرنا  پہل کرنا یہ تو سنت ہے، لیکن جس کو سلام کیا گیا ہو تو پھر اس کو جواب دینا یہ واجب ہے، اللہ نے سورہ نساء پانچویں پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ کہ جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم اس کے سلام کا جواب اچھے الفاظ میں کرو، اور اگر جواب اچھے الفاظ میں نہیں دے سکتے تو کم از کم جواب اتنا ہی دو جس طرح اس نے آپ کو سلام کیا ہے، ایک شخص ہے وہ سلام کرتا ہے، ٫٫اسلام علیکم؛؛ تو جواب دینے والے اس کو اچھا جواب دے، ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ؛؛ جب سلام کیا جائے ٫٫اسلام علیکم ورحمتہ اللہ،، تو جواب دینے والے کو چاہئے کہ ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ بھی ساتھ کہے، اور اگر پہلے والا کہے، کہ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،، تو جواب دینے والے کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ ؛؛ تو اتنا جو ہے وہ سنت میں آیا ہے، تو آس لئے اللہ نے فرمایا کہ جب سلام کیا جائے تمھیں تو اسکا اچھے الفاظ میں جواب دو، کیونکہ کہ سلام کا۔جواب دینا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پرحق ہے،اور اب حق سے مراد یہ ہے کہ جب ایک مسلمان جا رہا ہے اور جس کو سلام کرنے یعنی پہل کرنے کا حق ہے اور وہ سلام نہ کرے تو پھر قیامت کے دن اس سلام یعنی اس حق کا اللہ تم سے پوچھے گا، تو اس لئے کہا گیا ہے کہ جب سلام کیا جائے تو تم اس کا اچھے الفاظ میں جواب دو،

    اور مفسرین نے اچھے الفاظ کا ایک معنیٰ یہ بتایا ہے، کہ بے شک سلام کے جواب میں اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ؛؛ نہ ہو لیکن سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دو، یہ اس کا اچھا جواب ہے اللہ نے فرمایا، مطلب سلام کا جواب ایسے نہیں دینا چاہئے کہ سلام کرنے والا اپنے سلام پہ پشیمان نہ ہو کہ شائد مجھے سلام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 

    یہاں تک امام ترمذی شریف نے اس حدیث کی روایت کی ہے سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے معاشرے میں سلام کو عام کرو آپ نے فرمایا تم جس کو جانتے ہو اس کو سلام کرو اور جس کو نہیں بھی جانتے اس کو بھی سلام کرو، کیونکہ جب ایک انسان کسی اجنبی شخص کو سلام کرتا ہے تو اس اجنبی شخص کے دل سے اجنبیت کا خوف ختم ہو جاتا ہے، تو وہ پھر اگلے سے خطرہ محسوس نہیں کرتا۔

    یہاں تک صحابہ کرام کے متعلق آتا ہے سیرت کی کتابوں میں کہ صحابہ کرام سلام کا اتنا احتمام کرتے کہ وہ چند سیکنڈ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوتے اور پھر ملتے تو پھر بھی وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے، اسی لئے ہمارے شعریت میں سلام کے متعلق حکم ہے، کہ جو چل رہے ہوں تو وہ بیٹھے ہوئے کسی ایک شخص یا زیادہ بیٹھے ہوئے جماعت کو سلام کرے، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے تو وہ باقی ماندہ تمام کی جانب سے سلام کا جواب مل جاتا ہے،اور اگر پورے مجموعے میں کسی نے بھی جواب نہیں دیا تو پھر سب گناہگار ہونگے، اسی طرح ایک شخص سواری پہ ہے اور ایک پیدل چلنے والا ہے تو یہ پیدل چلنے والے کا حق ہے کہ سوار جو شخص ہے وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے، ایسی طرح ایک انسان مسجد مدرسے یہ گھر میں عبادت میں مشغول ہے اور ایک دوسرا شخص باہر سے آتا ہے تو باہر والے کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں وہ سلام نہ کرے، اور اگر مسجد میں بعض اوقات لوگ ویسے بیٹھے ہوئے ہیں تو ان کو پھر ضرور سلام کریں، ایسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ایک شخص تلاوت کر رہا ہے اور کوئی شخص باہر سے آیا اور اس نے سلام کیا تو تلاوت کرنے والے کو سلام کا جواب دینا لازمی نہیں ہے وہ جواب نہ دے اگر دے دیا تو ٹھیک ہے مگر نہ دینے پہ گنہگار نہیں ہوتا، ایسی طرح ایک شخص کھانا کھا رہا ہے اسے بھی سلام نہیں کرنا چاہیے جب وہ کھانے سے فارغ تب اس کو سلام کیا جائے، تو انسان جب سلام کرتا ہے تو اس سلام کی بدولت معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے، 

    اسی لئے اسلامی معاشرے میں سلام اتنی اہم ہے کے جب تم قبرستان جاؤ تو مردوں کو بھی سلام کیا کرو سلام کی اتنی بڑی اہمیت ہے کہ زندوں کو تو دور کی بات کہ مردوں کو بھی سلام کرنے کا حکم ہے، جب بھی قبرستان جاؤ یا راستے میں قبرستان آئے تو کہو ٫٫اسلام علیکم یا اھل القبور؛ بے شک دل میں کہو لیکن سلام ضرور دو، سلام کرنے کا فائدہ اتنا ہی ہے جتنا ایک مسلمان اپنے مردوں کے لئے دعا کرتا ہے، اب مردوں کے لئے سلام کا فائدہ یہ ہے کہ ، شائد ان پہ قبر کا عزاب، شائد وہ قبر کے عزاب میں مبتلا ہوں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ مردوں کو بھی سلام کیا کرو، سرکارِ دوعالم ﷺ کا سنت اور طریقہ یہی تھا، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ راستے میں بچوں کو بھی سلام کیا کرتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک شخص اگر چاہے کہ اس کے رزق میں اور بھی برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے گھر والوں کو سلام کرے، تو سلام اتنا اہم ہے کہ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو درود شریف ہی پڑھ لیا جائے تو بھی بہتر ہے تو اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں ان 6 حقوق میں سے پہلا حق وہ سلام کرنا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرے، اسی میں ہماری کامیابی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan