Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ای سی بی کے بیان میں کوئی وزن نہیں ،دورہ پاکستان کی منسوخی پر مائیکل ہولڈنگ برہم

    ای سی بی کے بیان میں کوئی وزن نہیں ،دورہ پاکستان کی منسوخی پر مائیکل ہولڈنگ برہم

    لندن: جمیکا ویسٹ انڈیزسے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مائیکل ہولڈنگ نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو گھمنڈی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پاکستان کی جگہ بھارت ہوتا تو انگلینڈ کبھی بھی ایسا نہ کرتا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی ” کے مطابق مائیکل ہولڈنگ نے کرکٹ رائٹرز کلب پیٹر اسمتھ ایوارڈ کی وصولی کے بعد کہا کہ کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ نے جیسا پاکستان کے ساتھ ایسا بھارت کے ساتھ اس لیے نہیں کرتا کہ وہ مضبوط اور امیر بورڈ ہے۔

    ویسٹ انڈیز کے اسٹار باؤلر نے کہا کہ انگلینڈ کو صرف چار دن پاکستان میں گزارنا تھے لیکن کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کا بہانہ بنا کر دورے کو منسوخ کیا گیا۔

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے بلے بازوں کے لیے دہشت کی علامت سمجھے جانے والے مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا اور ای سی بی کو بچانے کے لیے کرکٹ کھیلی تھی وقت تھا کہ ای سی بی پاکستان کے اس احسان کا قرض اتارتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

    مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ نے ایک بیان دیا اوراس بیان کے پیچھے چھپ گیا کوئی بھی اس لیے سامنے آکر بات نہیں کررہا ہے کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ غلط کیا ہے۔

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو…

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ای سی بی کا بیان میری سمجھ سے بھی باہر ہے اور اس میں کوئی وزن بھی نہیں ہے، سب بیکار کی باتیں ہیں۔

    مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ ای سی بی کا رویہ اس مغربی گھمنڈ کی نشانی ہے کہ میں وہ کروں گا جو میری مرضی ہو گی اور دوسرے کیا سوچتے ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس کی پرواہ ہے۔

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

  • فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    فیشن پرستی کا روگ ،تحریر:سید غازی علی زیدی

    تنگ جینز، چھوٹی قمیض، بکھرے بال، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے میں سمارٹ فون ، منہ میں گٹکا یا پان، اور ہونٹوں پر گندی گالی، یہ ہے آج کا عام پاکستانی نوجوان۔ جس کے پاس تعلیم بھی ہے اور شاید کسی حد تک ہنر بھی مگر کردار و اخلاق کا بری طرح سے فقدان ہے۔
    وہ نوجوان جو بیش قیمت اثاثہ ہوتے، جن پر ملک کے مستقبل کی اساس ہوتی، وہ بری طرح سے بگڑتے جارہے ہیں۔ فیشن پرستی کا وبال ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہا لیکن والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار خاموشی سے تماشائی بنے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند مگر عمدہ اخلاق و کردار کے حامل نوجوان ہی کسی بھی ملک کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پرملک کی ترقی و تنزلی منحصر ہوتی مگر بدقسمتی سے پاکستانی نوجوان نسل بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہورہی۔ مشرقی اقدار جن پرکبھی ہم نازاں تھے یورپ کی اندھی تقلید میں کھو چکی ہیں۔ اور رہی بات اسلام کی تو وہ بس سوشل میڈیا کی پوسٹس یا اسلامیات کے پیپر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے عملی زندگی میں کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ المیہ یہ ہے کہ نہ خوف خدا رہا ہے نہ شریعت کا کوئی لحاظ۔ بس ایک بھیڑ چال کی کیفیت ہے جس میں ہر کوئی بگٹٹ بھاگے چلا جا رہا۔
    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
    لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیب فرنگ

    آجکل کے زیادہ تر نوجوان لڑکے یا تو سارا دن پب جی کھیل رہے یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہے۔ چرس، ہیروئن اور پورن فلموں کے نشے میں ڈوبے اور اگر امتحان پاس کرنا ہو تو آئس کا نشہ کر کے وقتی طور پر دماغ روشن کر لیتے چاہے بعد میں پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جائے۔
    اور رہی لڑکیاں تو ان کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہر بدلتا فیشن اپنانا ان کا فرض عظیم ہے چاہے وہ اسلامی و اخلاقی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ فیشن کی دوڑ اور نمایاں و برتر نظر آنے کے چکر میں نت نئے برانڈز کی چاندی ہے۔ بات زیب و زینت سے بڑھ کر نمود و نمائش سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ رہی سہی کسر ماڈلز و اداکاراؤں کے طرز زندگی کی نقالی نے پوری کر دی ہے۔

    “اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیاہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کرسکیں۔ “
    قرآن مجید کے اس واضح حکم کے باوجود ہم بغیر کسی پچھتاوے کے نفس کے اسیر بنے ہیں۔ فیشن پرستی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ فیشن اور فحاشی کا فرق مٹ گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو والدین اور بزرگوں کی صحبت اب آؤٹ ڈیٹڈ لگتی ہے۔ مخلوط محافل، فاسٹ فوڈ اور بیہودہ لباس کو جدت پسندی اور فیشن کے نام پر اپنایا جارہا۔فیشن پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید ہمارے معاشرے کی جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ عریانی کو فروغ دیتے فیشن کی نہ تو مذہب اجازت دیتا نہ ہماری مشرقی اقدار۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    فیشن کچھ حدود و قیود میں کرنا قطعاً معیوب نہیں ہے۔ مگر فیشن پرستی کی آڑ میں اسلامی تعلیمات و تہذیب کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند تقلید ہمارے نوجوانوں میں بری طرح بگاڑ کا سبب بن رہی اور ہمارے معاشرے کا اب یہ حال ہوچکا ہے کہ
    “کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”

    @once_says

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔

  • سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم، محمد نعیم شہزاد

    سلام، اے معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد نعیم شہزاد

    جو پایہ علم سے پایا بشر نے
    فرشتوں نے بھی وہ پایہ نہ پایا

    آدمیت کی معراج علم سے ہے۔ علم وہ جوہر کامل ہے جو آدم خاکی کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاتا ہے اور اسے مسجود ملائک کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔ مگر آدمی کو علم سیکھنے کے لیے شروع سے ہی کسی استاد کی حاجت رہی ہے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم دی اور انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ گویا ذات باری تعالیٰ اس کائنات کی سب سے پہلی استاد ٹھہری۔ اولین وحی الٰہی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم یَعْلَم
    انسان کو وہ سکھایا جو اسے معلوم نہ تھا۔
    آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور اس کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا نزول ہوتا رہا۔
    اس الہامی مذہب اور اس کے پیغام کی اتباع کے بغیر انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہوا اور اس کی پیروی سے ہی ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔

    حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی تھے انسانوں کا دائرہ کار محدود تھا اور ایک گھر اور ایک خاندان کی شکل میں الہامی علوم کی اشاعت و تبلیغ کا آغاز ہوا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا اپنے حجم میں کثیر اضافہ کر چکی تھی اور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار عظیم کو احسن طریقے سے سنبھالا اور چہار دانگ عالم اللہ تعالیٰ کی تکبیرات بلند کر دی۔

    تاریخ پر سرسری سی نگاہ بھی دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے معاشرے سے انسانیت معدوم ہو چکی تھی۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، جوئے اور شراب کے رسیا تھے اور حلال و حرام کی تمیز بھلا بیٹھے تھے۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے عاری تھا۔ الغرض معاشرہ ہر طرح کی خرابی کا مرقع تھا اور برائی پر تفاخر کیا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے معاشرے کی تطہیر کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور 23 برس کے مختصر عرصے میں ایک نئی دنیا بسا دی۔

    مخلوق کو مخلوق کے دام فریب سے نکالا، غلاموں کو آزادی اور محکموں کے حقوق متعین کیے۔ بیٹی کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور عملی طور پر ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر رووپ میں عورت کی قدر منزلت واضح فرما دی۔ وحشیوں کو تہذیب و تمدن کا شاہکار بنایا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیا۔

    آدمیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور احسان کی کا یہ عالم ہے کہ خود رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کو مومنوں پر ایک احسان عظیم قرار دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی اخروی نجات کے لیے اس قدر فکر مند ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں فرمایا

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞

    ترجمہ:
    اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے
    القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 6

    آج عالمی یوم اساتذہ #WorldTeachersDay کے موقع پر ہم معلم انسانیت کے مشکور ہیں جن کے دم سے ہم شرف آدمیت کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم، معلم انسانیت پر ان گنت درود و سلام بھیجے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس معاشرے کی اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی اس کا احیاء کریں تاکہ نسل انسانی محرومی اور نا انصافی سے بچ سکے اور آدمیت کی رفعت کو چھو سکے۔ آئیے ہم کوشش کریں کہ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور ناانصافی پر کڑھنے کی بجائے اپنے حصے کی بھلائی پھیلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔

    محمد نعیم شہزاد
    @UstaadGe

  • بے روزگاری اور پاکستانی معیشت تحریر: تنزیلہ اشرف

    پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔۔یہ ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل سے ماال مال ہے۔۔لیکن اس کے پاس خوش”،
    قسمتی سے انسانی وسائل کی بھی کمی نہیں ۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی زیادہ تر آبادی نوجوان نسل پر مشتمل
    ہے۔۔نوجوان کسی بھی قوم کا عظیم ترین سرمایہ ہوتے ہیں”۔۔
    جن کو اگر بہترین سہولیات ،بہترین تربیت فراہم کی جائے ،تو ہی یہ سرمایہ ملک و قوم کے لیے صحیح معنوں میں بہتر ثابت ہو”
    سکتا ہے۔۔بدقسمتی سے ہم اس مقام پر کھڑے ہیں !جہاں ہمارے تعلیم یافتہ بچے اپنی ڈگریوں کو صرف حاصل کر سکتے ہیں ان
    ی تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی یہ تعلیم صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی
    ڈگریوں کو استعمال میں نہیں ال سکتے ۔۔وہ اعل
    ہے”۔۔
    کبھی معاشرا انہیں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنا علم،اپنا تجربہ اپنے لوگوں کے لیے استعمال کر سکیں،کبھی حکومت ان کی راہ کی”
    بڑی رکاوٹ بنتی ہیں”۔۔
    اس وقت پاکستان میں الکھوں بچے اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے ،خود کو منوانے کے کیے تیار بیٹھے ہیں لیکن ان کو وہ مواقع”
    نہیں مل رہے جو ان کے لیے علم کی راہ کھول دیں ۔۔وہ اپنا علم،اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچا سکیں”۔۔
    جیسے جیسے لوگوں کی ڈگریوں کی تعڈاد بڑھتی ہے ۔۔ڈپریشن بھی لوگوں پر حاوی ہونے لگتا ہے "۔۔ "کیونکہ جب علم کو عمل میں”
    نہ الیا جائے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے "۔۔
    اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے حکومت کو چاہیئے وہ ایسی حکمت عملی اپنائے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ”
    ہنر بھی سکھایا جائے ایسا ہنر جو ان کی دلچسپی سے متعلق ہو جس سے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ ہو بلکہ وہ اپنے علم کو
    تجربات میں ڈھال سکیں۔۔صرف ڈگریوں میں اضافے سے قوم ترقی نہیں کرتی ،سوچ بدلنی پڑتی ہے،علم کے خزانے کو تجربات میں
    پگھالنے سے ہی انسان کندن بنتا ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں "۔۔۔
    اس وقت سب سے بڑی ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔۔ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے کچھ سوچنا ہے ،کچھ ایسا منصوبہ جو انھیں”
    نکھار کر سونا بنا دے۔۔حکومت قرضے فراہم کر رہی ہے لیکن یہ کافی نہیں ۔میرے خیال میں کالجز ،یونیورسٹیز میں بچوں کے لیے
    وقتا فوقتا ایسے سیمینار منعقد کرنا وقت کی ضرورت ہے جس کے تحت انھیں کاروبار کرنے کی طرف مائل کی جائے ان کے اندر
    کچھ نیا دریافت کرنے کی جستجو پیدا کی جائے۔۔۔وہ تالش کریں اپنی منزل کو،ان میں کچھ منفرد پیدا کرنے کا جذبہ بیدار کرنا
    چاہیئے "۔۔۔
    نہ کہ وہ اپنی ڈگریاں لے کر کسی موقع کی تالش میں گھر بیٹھ جائیں بلکہ انھیں خود موقع پیدا کرنے کی تربیت دی جائے۔انھیں یہ”
    سکھانا ہے کہ وہ اپنے علم پر چلتے ہوئے منزل تک کیسے پہنچ سکتے ہیں ،خود کو کیسے منوا سکتے ہیں”۔۔۔
    کہ اٹھو،جاگو،وسیع آسمان ،کھلی سر سبز و شاداب زمین مسخر ہونے کو بے تاب ہے ،جاؤ کچھ نیا تالش کرو ،اپنی جستجو سے”
    اپنی لگن سے کھو جاؤ کچھ نیا تالش کرنے میں،وقت تمہارا منتظر ہے اور گھڑی کی آگے بڑھتی ہوئی سوئیاں تمہارے ہم قدم ہو کر،
    تمہیں پہنچا دیں گی !اس منزل پر جہاں صرف مضبوط ارادہ اور قوی دل رکھنے والے پہنچ سکتے ہیں کہ علم کے دروازے بزدل
    اور ڈگمگاتے قدم رکھنے والوں پر نہیں کھال کرتے۔اس دروازے کو کھولنے کے لیے تمہیں خود کو مضبوط بنا کر شفاف علم سیکھنا
    ہے ۔۔یہی تمہاری کامیابی کی منزل ہے، جو تمہیں ضرور ایک نئے جہان میں پہنچا دے گی۔۔۔آگے بڑھو اور کچھ نیا کر جاؤ”

  • کیا واقعی مہنگائی ہے؟ تحریر: محمد آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے 

    وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُون° 

    "اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔”

    سورة الأعراف 10

    موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ ملک کے چھوٹے بڑے کاروباری تاجر حضراتئ حتی کہ گلی محلے کے پرچون فروشوں نے ناجائز منافع خوری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر چیز کو مہنگا بیچنے کے لئے یہ تکیہ کلام بنا لیا کہ ” جی کیا کریں تبدیلی ہے ” اور اسے ساتھ ہی 10 روپے مہنگی چیز گاہک کے ہاتھ میں تھما دی اور گاہک نے بھی آگے سے دو گالیاں حکومت کو دے کر بخوشی مہنگے داموں خریدرای کر لی۔

    دکانداروں کے ساتھ ہی اپوزیشن نے بھی اپنے سیاسی مقاصد و عزائم کے لئے بہت مہنگائی ہے کی گردان شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی سیاسی اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہیڈلائنز اور شہ سرخیوں میں اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا پراپیگنڈا اتنے منظم انداز سے کیا گیا کہ رائے عامہ پختہ ہوگئ کہ اس حکومت نے بہت مہنگائی کر دی ہے۔

    اگر ہم پاکستان کی آٹو موبائل انڈرپاسز کی مالی سال 2020-21 کے لئے پروڈکشن و فروخت کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ 1 لاکھ 51 ہزار کاریں، 4 ہزار 3 سو ٹرک اور بسیں، 11 ہزار 3سو لینڈ کروزر اور دیگر لگژری جیپیں، 18 ہزار 9سو لوڈر پک اپس ، 50 ہزار 9 سو ٹریکٹرز اور موٹر سائیکل انڈسٹریز نے 19 لاکھ 39 ہزار موٹرسائیکلیں فروخت کیں۔

    موبائل فون کی بات کریں تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے 186 ملین افراد موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں جن میں سے 103 ملین افراد کے پاس سمارٹ فونز ہیں اور وہ 3 جی اور 4 جی سروسز استعمال کر رہے ہیں۔

    اب اگر اشیاء خوردو نوش کی بات کریں تو ان اشیاء کی قیمتوں کا تعلق ڈیمانڈ سپلائی اور سیزن سے ہوتا ہے۔ مرغی کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب زیادہ ڈیمانڈ اور سپلائی کم ہونے کے ساتھ جڑا ہے جیسے ہی محرم الحرام رمضان المبارک اور شادی بیاہ کا سیزن عروج پر ہوتا ہے مرغی کی قیمت آسمان سے بات کرتی ہے      اور جیسے ہی سیزن ختم ہوتا ہے مرغی 160 سے لے کر 190 تک فروخت ہو رہی ہوتی ہے یہی حال پھلوں اور سبزیوں کا ہے شروع سیزن میں مہنگی اور درمیان میں سستی ہوجاتیں ہیں جیسا کہ آجکل اچھا کیلا 60 روپے درجن انار 200 اور سیب 150 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے ایسے ہی سال میں کبھی ٹماٹر 400 روپے اور کبھی گدھا گاڑیوں ریڑھیوں پر 40 روپے کلو فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔

    ہمارے ہاں چینی کی قیمت پر اتنی گفتگو کی جاتی ہے جیسے کہ ہر شخص دن میں 3 اوقات صرف چینی کے ہی پھکے مارتا ہے ۔جبکہ ایک اوسط گھر کی ضرورت صرف 6 سے 8 کلو چینی ماہانہ ہوتی ہے ۔چینی کو بطور سیاسی ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا ہے اور مصنوعی قلت سے بحرانی صورتحال پیدا کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دیا جاتا ہے۔

    حکومت نے لوگوں کےگوداموں سے لاکھوں بوریاں چینی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے برآمد بھی کی گئی ہیں ۔

    اب آجائیں آٹا کی قیمتوں پر موجودہ حکومت نے کسان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے گندم کی سرکاری خریدرای قیمت میں اضافہ کیا جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہی تھا اس پر شور کیوں کیا سارا سیزن گندم کی فصل کی آبیاری کرنے والے کسان سے مفت ہی گندم لے لی جائے کیا کھیت سے گندم مفت ہی منڈیوں تک آ جاتی ہے کیا فلور ملز اور چکیوں پر کام کرنے والے مزدور اور مالکان بلا معاوضہ کام کرتے ہیں نہیں تو پھر اسی آٹے کی فی کلو قیمت  سے ہی ان تمام طبقات کا رزق وابستہ ہے اس لئے آٹے کی قیمت میں اضافہ فطری سی بات ہے ان سب کے باوجود حکومت سبسٹڈی دے کر قیمتوں کو عام صارفین کے لئے مناسب رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

    پٹرول کی قیمتیں اس وقت عالمی منڈی میں بلند ترین سطح پر ہیں  دنیا کے تمام ممالک میں پٹرول اوسطا 20۔1 ڈالر فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے ۔جبکہ پاکستان میں صرف 127 روپے فی لیٹر پر فروخت کیاجارہا ہے جو کہ دیگر تمام (سوائے تیل پیداکرنے والے) ممالک کی نسبت کم ترین قیمت ہے۔ 

    سیاسی اپوزیشن جماعتوں رہنما جب ہاتھوں میں مہنگا ترین موبائل لگثری برانڈ کے کپڑے اور جوتے پہن کر مہنگائی مہنگائی کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ منافقت ہو رہی ہے۔

    زیادہ مہنگائی صرف لوئر کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لئے تو کہی جاسکتی ہے جن کے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان طبقات کے لئے موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کی چھتری تلے درجنوں پروگرام جاری کر رکھ ہیں جن سے لاکھوں خاندان فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور جگہ جگہ وزیر اعظم عمران خان کے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت لنگر خانے اور پناہ گاہیں قائم ہیں جہاں پر روزانہ ہزاروں افراد کھانا کھاتے اور رات بسر کرتے ہیں۔  باقی کچھ مہنگائی اگر ہے بھی تو وہ اس وقت دنیا بھر کے لئے ہے مسلسل کرونا وبا نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے اور تمام ممالک میں مہنگائی عروج پر ہے لیکن اس سب کے باوجود دنیا کے معتبر ادارے پاکستانی معیشت مستحکم اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئی قرار دے چکے ہیں۔ اور پاکستان کو رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لیے سستا اور موضوع ترین ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ سبحان و تعالی نے ہمیں اور ہمارے ملک کو بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے ہمیں کسی بھی پراپیگنڈا سے متاثر ہوکر کفران نعمت کی بجائے شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا فرمان ہے کہ شکر کرنے والے کو مزید عطا کیا جاتا ہے اور ناشکری کرنے سے نعمتیں چھن بھی جاتی ہیں۔                      @EducarePak

  • اتنی مہنگائی۔۔زرا رحم سرکار تحریر:سیدہ ذکیہ بتول۔

    اتنی مہنگائی۔۔زرا رحم سرکار تحریر:سیدہ ذکیہ بتول۔

    وقت وہ آگیا ہے کہ کچھ بھی خریدنے جائیں اور صرف یہ بول دیں "بھائی اتنی مہنگا کیوں دے رہے ہو” اگلا پوری بتیسی دکھا کر کہتا ہے” نیا پاکستان ہے سرکار” جیسے نئے پاکستان کی تعمیر میں اینٹ رکھ کر ساری غلطی صرف خریدار نے کی۔ مہنگائی بھی تو بریک پر پاؤں ہی نہیں رکھ رہی اب پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں ایک لیٹر پٹرول تقریباً ایک سو اٹھائیس روپے میں ملے گا یہ خبر سنتے ہی عوام کے تو پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی کیونکہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح بھی تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کی دہائیاں نئے پاکستان کے درو دیوار سے ٹکرا رہی ہیں ڈالر کی اونچی اُڑان بھی جاری ہے مگر قیمتیں ہر بار بڑھا کر وزیروں کو دفاعی مورچوں پر بٹھا کر رٹا رٹایا سبق دہروایاجاتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی ہیں اسلیے پاکستان بھی مجبور ہے جبکہ کچھ تو دھڑلے سے یہ بھی فرما جاتے ہیں کہ ابھی بھی گراف میں ہماری قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ موازنہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں تو دوسری جانب پاکستان میں آمدنی کے ذریعے بھی ختم ہوتے جارہے ہیں۔جبکہ موازنہ کرتے وقت قوت خرید کتنی ہے اس بات کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    نئے پاکستان میں پرانے وزیر سارے ہی اتنے ایکسپرٹ ہوچکے ہیں کہ نہ وہ چبھتے سوالوں پر کچھ سوچتے ہیں نہ عوام کی چیخوں سے ان کی روزی روٹی ہر اثر پڑتا ہے بلکہ مکمل اعتماد کے ساتھ ٹوئٹر کا سہارا لیکر مہنگائی پر اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھا کر سمجھتے ہیں کہ اس بار تو بلا ٹلی۔وزیر خزانہ کا ایک بیان نظر سے گزرا جسمیں وہ قیمتوں میں پاکستان اور برطانیہ کا موازنہ فرماتے ہیں کہ وہاں مہنگائی یہاں کے مقابلے میں اکتیس فی صد زیادہ ہے یعنی ہم قیمتوں میں ابھی برطانیہ سے بہت پیچھے ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر وزیر صاحب فہرست میں وہ شعبے بھی گنوا دیتے جس میں ہم واقعی میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں۔۔اگر وہاں مہنگائی ہے تو عام آدمی کو سہولیات بھی میسر ہیں وہاں ٹیکس کے بدلے باسیوں کو دھکے نہیں ملتے وہاں صحت تعلیم جیسی سہولیات کے حصول لیے لوگوں کو اپنے زیور اور گھر گروی نہیں رکھنے پڑتے برطانیہ میں اگر پٹرول مہنگا ہوا تو وہاں نعم البدل بہترین اور سستی ٹرانسپورٹ موجود ہے وہاں کا انفرا اسٹرکچر عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں کرتا اُدھر یوٹیلیٹی بِلوں میں دنیا جہان کے سمجھ سے عاری ٹیکسز لگا کر نہیں بھیجے جاتے وہاں گرمیوں میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اُدھر  نلکوں میں پانی آتا ہے نہ کہ لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے ٹینکرز خریدنے پڑتے ہیں وہاں سردی میں عوام کو گیس میسر ہوتی ہے ۔۔

    اب اپنے ملک پر نظر دہرائیں بد قسمتی سے  اکیسویں صدی میں بھی ہماری عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے تعلیمی نظام دیکھیے جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے جدید تعلیم کے حصول کو طلبا تک پہنچانے میں مصروفِ عمل ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی منازل طے کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں ہم منافقانہ طرزِ سیاست کو تعلیمی میدان میں بھی گسیڑ لائے ہیں یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگا کر عجیب و غریب اور مبہم نظام کو فروغ دے رہے ہیں اگر واقعی یکساں تعلیمی نظام کو رائج کرنا تھا تو ابھی بھی میٹرک اور ایف اے کے ساتھ اے لیول اور او لیول کے آپشنز کیوں موجود ہیں سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے بجائے پرائیوٹ اسکول مافیا کو کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے کون سے یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگایا جارہا ہے ہے اب بھی کئی پرائیوٹ اسکولز میں نرسری کی ماہانہ فیس پچاس ہزار ہے پھر کیسا فرق ختم کیا جارہا ہےکیا ہمارے سرکاری اسکولوں کا وہ معیار ہے جہاں بچہ نئی دنیا کے اصولوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے؟ پھر مجبوراً والدین پرائیوٹ اسکولوں کی بھاری فیسیں ادا کر کے بچے پڑھاتے ہیں۔جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کا سلیبیس ختم کر کے بچوں کو دنیا کے ساتھ چلنے سے روک دیا گیا ہے۔بنیاد کے ٹیڑھے پن کو ختم کرنے کے بجائے اوپر سے لیپا توپی کرنے سے نظام مزید بگاڑ کی طرف جائے گا جبکہ در حقیقت ابھی بھی دو نظامِ تعلیم موجود ہیں۔ دوسری طرف صحت کارڈز کو صحت کے میدان میں ترقی گردانا جارہا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا کیا حال ہے سب جانتے ہیں جہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھی کچھ نہیں بن پاتا تو آخری آپشن پرائیویٹ ہسپتال ہی بچتا ہے ادویات مافیا کو نتھ ڈالنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے آئے دن یہ مافیا دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے ایک غریب آدمی سرکاری ہسپتال جاتا ہے تو اسے دوائیوں کی پرچی پکڑا دی جاتی ہے پھر وہ ادویات مافیا کے کرتے دھرتوں سےنہ گی دوائیاں خرید کے بیماری سے کرنے کی کوشش کرتا ہے بجلی کے بل دیکھیے جہاں آج بھی آئی پی پیز کے قرضےاتارنے کے لیے بھاری ٹیکسوں سے عوام کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے پالیسیاں حکومتوں کی اور بھگتیں عوام پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کرایوں میں اضافہ آٹا دال چینی سبزی سب کچھ مہنگا کر دیا جاتا ہے جبکہ بجٹ میں عوام کو سبسڈی صرف بجٹ دستاویز تک محدود ہوتی ہے تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ جبکہ مہنگائی میں سو گنا بڑھوتی۔۔اب سوال حکومت سے ہے کہ جو بندہ مہینے کے بیس سے پچیس ہزار کماتا ہے وہ گھر کا کرایہ دے بچوں کے اسکولوں کی فیس ادا کرے بجلی کے بھاری بل بھرے دال سبزی پوری کرے سواری کے خرچے پورے کرے؟ کوئی ایک وزیر ایسا سامنے آئے جو پچیس ہزار میں مہینے کا بجٹ بنا دے تو مان جائیں کہ واقعی انہیں ستر سال بعد نیا پاکستان ملا ہے جہاں سانسیں گھُٹتی نہیں چلتی ہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے مگر ہم آج بھی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں ملک فوڈ سیکورٹی والے حالات کی طرف جارہا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اپنے ذرائع کو نہ ہی بہتر طور پر دریافت کر پاتے ہیں اور نہ ہی انکا استعمال ممکن کرنے کے لیے کوئی جامعہ حکمت عملی کی طرف جاتے ہیں۔مہنگی کمپنیوں پر دارو مدار کے بجائے کوئلہ،شمسی توانائی اور کوڑے تک سے بجلی پیدا کرنے کے آپشنز موجود ہیں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنا کر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے پورے ملک میں سستی ٹرانسپورٹ کے پراجیکٹس شروع کر کہ مہنگے پٹرول ڈلوانے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے زرعی شعبے میں اصلاحات لاکر گندم چینی اور دوسری فصلوں میں خود کفیل ہوا جاسکتا ہے۔۔کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی سے کسان خوشحال ہوگا تب پیداوار میں اضافہ ممکن ہے  پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی تشکیل ضروری امر ہے مختلف چھوٹے بڑے شہروں کی انتظامیہ پر نگرانی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ کس حد تک مستعدی سے ذخیرہ اندوزوں کی بیخ کنی میں پیش پیش ہے وہ لوگ جو من مانی قیمتوں کا تقاضہ کرتے ہیں ان سے کیسے نمٹا جارہا ہے کیونکہ کوئی ایک پروڈکٹ دس قدم پر واقع دکان میں کسی اور قیمت پر بک رہی ہوتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں موجودہ حکومت بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کے بجائے بگاڑ پر مبنی پالیسیز کو آگے بڑھائی چلی جارہی ہے ایسے نیا پاکستان بنے نہ بنے نئے مسائل میں عوام ضرور دھنستی چلی جائے گی۔۔

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے بھیک پیشہ ور مانگتے تھے اب اچھے خاصے معزز لوگ ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں ریلیف عوام کو دیا جارہا ہو۔ پچھلی حکومتوں سے چھٹکارا حاصل کر کہ پاکستان تحریک انصاف کو اکثریتی ووٹ اسلیے پڑا تھا کہ واقعی عوام تبدیلی چاہتی تھی ایسی تبدیلی جہاں کرپشن سے پاک پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں ہو جہاں پرانی اور بے کار حکومتی پالیسیوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر ایسی بنیادیں ڈالی جائیں جسکی ہر اینٹ عوام کو ریلیف دے جہاں غربت کا خاتمہ ممکن ہو جہاں معیارِزندگی بہتر ہوسکے  جہاں روزگار کی فراہمی ہو اپنی چھت ہو نہ کہ یہ سہولیات صرف انتخابی منشور تک محدود ہوں۔ابھی بھی وقت ہے دو سال کا عرصہ موجود ہے اور کچھ نہیں تو عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے مہنگائی کی عفریت کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکتا ہے ورنہ مہنگائی اور غربت کے تانے بانوں میں الجھی عوام کم از کم  اگلا موقع پاکستان تحریک انصاف کو  نہیں دے گی۔

  • بے زبان جانوروں کی پکار   تحریر: محمد امین

    بے زبان جانوروں کی پکار تحریر: محمد امین

    ‎آج میں گلی کوچوں ، چوراہوں پے پڑے
    ‎ بے یارو مددگار جانوروں کا مقدمہ آپ کی عدالت میں لے کر حاضر ہوا ہوں ۔
    کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے ہم جانوروں کی حق تلفی اور بے زبانوں پر ظلم کا سبب بن رہے ہیں ۔ پچھلی چند دہائیوں میں ہم نے جنگلات کا اس طرح صفایا کیا جس سے جنگلات میں رہنے والے جانوروں اور چرند پرند کی زندگیاں خطرے میں ہیں بلکہ بہت سے جانوروں اور پرندوں کی اقسام ختم ہو چکی ہیں ۔ ہم جنگلوں کی جگہ فیکٹریاں لگا کر فضا کو آلودہ کر رہے ہیں جس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں میں بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ ہم پانی کا اس طرح بے دریغ استعمال کر رہے ہیں کہ نہریں اور دریا خشک ہو رہے ہیں اور یاد رکھیے ان جہاں میں موجود ہر ایک قدرتی وسائل پر ایک جانور کا بھی حق ہے کیونکہ وہ بھی خدا پاک کی پیداوار ہیں ۔ لیکن ہم ان کے حصے کے قدرتی وسائل کا بھی فضول استعمال کر کے اُن کی حق تلفی کر رہے ہیں۔
    ‎جانوروں کی بھی اقسام ہیں ایک وہ قسم جو ہمیں منافع پہنچاتی ہے مثلاً گائے، بکری وغیرہ ۔ اپنے لالچ میں ہم ان کا خاصا خیال رکھتے ہیں ۔ گائے دودھ دیتی ہے اور قیمت میں خاصی بھاری بکتی ہے لہذا خیال رکھنا ہی پڑتا ہے ۔ پھر آتے ہیں بے یارو مددگار جانور جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا مثلاً کتا، بلی وغیرہ۔ کچھ لوگ ان کو گھر میں پالنے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی شرح بہت کم ہے ۔ ہر‏
    ‎جانور ہماری محبت کامستحق
    ‎‏ہے۔ ان سے بغیر کسی لالچ کے شفقت کے ساتھ پیش آئیں ۔ باہر جانا ہوتا ہے تو گلی کوچوں میں پڑے جانوروں کا حال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ وہ بے زبان جانور اپنی تکلیف بتانے سے بھی قاصر ہیں ۔ ہم ان سے محبت شفقت کرنے کی بجائے ان کو جھڑک کر بھگاتے ہیں۔
    آخر وہ ہم سے جائیداد میں حصہ تو نہیں مانگ رہے ہوتے صرف محبت اور پیٹ بھرنے کے لیے کھانے کی آس لیے ادھر اُدھر پھر رہے ہوتے ہیں ۔
    جس وقت کسی شخص کو جانور کے ساتھ نارواں سلوک کرتے دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ سوچتا ہوں کوئی بھی دل رکھنے والا شخص کسی بے زباں کے ساتھ کیسے اس طرح نارواں سلوک کر سکتا ہے ۔ یا تو ایسے لوگوں کے پاس دل نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہے تو احساس اور جذبات سے عاری ہوتا ہے ۔
    ‎‏اللّہ نے اس جہاں میں کوئی چیز بغیر مقصد کے نہیں بنائی۔
    کبھی سوچا ہے جانوروں کو بنانے کا مقصد کیا ہے ؟

    ‏میرا ماننا یہ ہے کہ جانور بھی انسان کی آزمائش کے لیے بنائے گئے ہیں کہ انسان ان سے کیسا سلوک کرتا ہے
    ‏لیکن افسوس یہاں تو انسان بھوک سے مر رہے ہیں جانوروں کا کون خیال کرے ۔
    ‎‏لیکن جہاں تک ہو سکے جتنا ہو سے ان بے زبان مخلوق کا خیال کریں ‏

    ‎اپنی بات کروں تو پوری کوشش ہوتی ہے ان کو جھٹرکا نا جائے ۔ اگر گھر کے باہر کوئی جانور آ جائے تو ان کو کھانا کھلانے میں جو مسرت محسوس ہوتی ہے وہ لفظوں میں بیان نئیں کر سکتا ۔
    ‎‏اگر گھر کے آس پاس بیمار جانور دیکھوں تو جانوروں کے ڈاکٹر کو فون کر کے بلا کر انُ کا علاج کروا چکا ہوں ۔
    بتانے کا مقصد ذاتی تشہیر ہرگز نہیں مقصد آپ سب کو بتانا ہے کہ ہماری ذرا سی کوشش بے زبانوں کی زندگی بہتر کر سکتی ہے ۔ اللّہ پاک نے انسان کو دردِ دل رکھنے والا بنایا ہے اور اس کی مخلوق سے محبت اور ان کی مدد ہمارا فریضہ ہے ۔

  • قصے کچھ اماموں کے  تحریر جواد خان یوسفزئی

     

    ایک دن چند "اماموں” کی صحبت میسر تھی۔ گفتگو حسب معمول دیر سے شروع ہوئی اور حرم میں داخل ہوئی۔ ایک پاسبان حرم بولا "یار میں دو مسجدوں میں امامت کرتا ہوں۔ مگر بمشکل گزر اوقات ہو رہی ہے۔ آپ صرف ایک مسجد کے امام ہیں اور یہ گھر بار کیسے چلا لیتے ہوں گے۔” دوسرا مسکرایا۔ کہنے لگا، "یار واللہ اس میں واقع کچھ نہیں۔ مگر اللہ کا کرم ہے۔ برکت وہ ڈالتا ہے تو کچھ جگاڑ کرکے ہم گزر بسر کر لیتے ہیں۔” 

    مجھے جو نکتہ کھٹک رہا تھا، وہ یہ تھا کہ یہ پہلا امام بیک وقت دو مسجدوں میں امامت کے فرائض کیسے انجام دیتے ہوں گے؟ایسے میں ان کی اپنی نماز تو دوگنی ہو جاتی ہے؟ 

    پوچھ ہی لیا۔ 

    "یارا دوگنی تو نہیں ہوتی۔ البتہ کسی دن ایک زیادہ ہو جاتی ہے اور کسی دن دو۔ میں اس کا بہت اہتمام کرتا ہوں کہ اپنی نماز میں خلل نہ آئے۔” ایک توقف کے بعد فرمایا "در اصل ایک مسجد میں صرف تین نمازیں پڑھاتا ہوں۔ ظہر، عصر اور شام۔ باقی دو کے دوران وہ مارکیٹ بند رہتی ہے۔ ایک دو نمازیں اکثر ایک مقتدی پڑھا لیتا ہے۔ ایک اور کبھی کبھی دو کے لیے میں پہنچ جاتا ہوں۔ ٹائم کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ جس مسجد میں پانچ وقتہ پڑھانی ہے، اس کی اور دو وقتہ کے درمیان پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ سو کوئی ہرج کی بات نہیں۔” 

    "لیکن یہ ایک یا دو نمازیں آپ کی زائد از ضرورت نہیں ہو رہیں؟” 

    "تمھیں کوئی اعتراض ہے؟” 

    "مولانا میری کیا مجال کہ اعتراض کروں۔ وہ پوچھنا یہ تھا کہ اوپر والے کو تو کوئی اعتراض نہیں نا؟”

    پاس بیٹھے دوسرے امام کی طرف دیکھا اور اک ادائے بےنیازی سے یہ کہہ کر کہ "مولانا بہتر جانتے ہیں”،  بال اٹھا کر اس کے کورٹ میں ڈال دی۔ 

    دوسرے مولانا نے کار خدا میں مداخلت گوارا نہ کی اور موضوع بدلتے ہوئے کہا "یہ بتاؤ۔ تمھیں اس پانچ نماز والی مسجد میں ایک نماز کتنے میں پڑتی ہے؟” امام العصر و ظہر نے مبائل لیا۔ کلکلیٹر نکالا۔۔۔ بیس ہزار کو پانچ پر تقسیم کیا۔ اس کو مزید تیس دنوں میں بانٹ کر بتا دیا۔ کہ اتنے میں ایک نماز پڑتی ہے۔ پھر دوسرے والے نے بھی یہی کیا۔ پانچ وقتہ امام دوسرے والے سے بولا کہ تین وقت والی کتنے میں پڑھا رہے ہو؟ اس نے پندرہ ہزار کو تین اور اس کو پھر تیس دن پر تقسیم کرکے حساب پیش کیا۔ 

    ہم تا دیر اس جملے کے سحر سے نہ نکل پائے کہ ” ایک نماز کتنے میں پڑتی ہے؟” 

    اس طرح کا ایک واقعہ ہے۔ مردان میں ایک مولانا سے ہماری یادٔ اللہ تھی۔ ایک دن بحث چل نکلی۔ ہم نے کہا کہ مولوی تنگ نظر ہیں۔ فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جب ہم لڑکھراتی اور بےربط زبان میں اپنا درشن دے چکے تو مولانا نے سکون سے اپنی وسیع القلبی کی داستان یوں سنائی۔ 

    "دیکھو۔ مولوی سے بڑھ کر کوئی سیکولر نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص جب وہ امام ہو۔۔۔آپ بڑے لبرل بننے کی کوشش کرتے ہو مگر ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔”

    میں پھٹی پھٹی آنکھیں لیے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ نسوار کی تھیلی کھولی۔ کچھ دیر دور افق میں کچھ گھورتے رہے۔ نسوار لگائی۔ اور پھر سے گویا ہوئے۔ 

    "میں لاہور میں ایک مسجد میں امام تھا۔ وہ دیوبندیوں کی مسجد تھی۔ کاپر پنجابیوں نے بڑی کم تنخواہ پر مجھے رکھا تھا۔ مگر ساتھ والی مسجد جو بریلویوں کی تھی، کسی امام کی تلاش میں تھی اور دوگنی تنخواہ دے رہی تھی۔ ایک دن میں نے دستار اٹھائی۔ اللہ کا نام لیا اور اس مسجد میں امام ہوگیا۔ تین سال تک عین بریلویوں کے طرز پر ازاں دیتا اور نماز پڑھاتا رہا۔۔۔ 

    "غم روزگار مجھے پشاور لے آیا۔ یاں اہل حدیث کی مسجد میں امامت کرنی تھی۔ میں نے سابقہ دونوں طور طریقوں کو یکسر بھلا دیا۔ دو دن میں اہل حدیث والی نماز کا طریقہ کار سیکھا اور پانچ سال تک پڑھاتا رہا۔ اب مردان میں اپنے گاؤں کی مسجد میں امام ہوں۔ اگر مجھے کہیں پر اچھی تنخواہ آفر ہوگئ تو چپکے سے چلا جاؤں گا۔ مجھے کسی کے مسلک، فرقے سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔” 

    نسوار مسجد کے برآمدے سے دور پھینکی اور بولا "اب بتاؤ۔ کون زیادہ سیکولر ہے؟ ہم یا آپ؟” 

    میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ مولانا یاں بھی تو ہی بازی لے گیا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@

    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • ترقی کا راز۔ تحریر: سریر عباس

    کسی بھی ملک کی ترقی کا راز خاص طور پہ تین چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    پہلےنمبر پہ بجلی

    دوسرے پہ پانی

    اور تیسری چیز سڑک ہوتی ہے

    جس ملک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اس ملک میں تمام انڈسٹریز کام کرتی ہیں اور برابر کرتی ہیں

    کیونکہ انڈسٹریل جتنی بھی چیزیں یا انڈسٹریل ایریا ہوتا ہے وہاں پہ ہر قسم کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں ان فیکٹریوں میں مزدور لگائے جاتے ہیں 

    اس سے بے روزگاری ختم ہوتی ہے اور ہنر مند افراد جنم لیتے ہیں جو کسی بھی معاملے میں کامیابی سے پیچھے نہیں رہتے

    موجودہ دور چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو انٹرنیٹ کا تعلق بھی براہ راست بجلی کے ساتھ ہے

    انٹرنیٹ کے زریعے اگر کوئی انسان ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے تعلیم کا ہونا انتہائی اہم ہے 

    ورنہ وہ ہنر مند تو ہوسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ میں آگے بڑھنے کیلئے کسی کا سہارا لے گا۔

    موجودہ دور میں تعلیم بھی جدید طریقہ کار سے دی جارہی ہے یعنی اس میں بھی مکمل انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا ہے اور انٹرنیٹ کا براہ راست تعلق بجلی سے وابستہ ہے۔

    اس کے علاوہ سینکڑوں ایسی چیزیں  ہیں جنکا تعلق بجلی کے ساتھ ہے۔

    پاکستان پچھلے دس بارہ سال سے انتہائی بہران کا شکار ہے جسکی اصل وجہ بجلی کی فراہمی کا نہ ہونا اور انڈسٹریوں کا بند ہوجانا ہے

    موجودہ حکومت یقیناً اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی (گزشتہ دو ماہ چھوڑ کے) اور انڈسٹریز بھی 60فیصد تک چل پڑی ہیں۔

    دوسرے نمبر پہ ہے "پانی”

    پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے

    پانی انسانی زندگی کیلئے انتہائی اہم ہے

    یعنی اگر زندہ رہنا ہے تو پانی کے ساتھ ہی رہ سکتے ہیں

    صرف پینے کیلئے روزانہ ہر شخص اوسطاً دو سے تین لیٹر پانی کا استعمال کرتا ہے

    اسکے علاوہ وضو، غسل اور دیگر معاملات میں ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پانی کو استعمال کرتا ہے

    اگر کسی شخص کو چند گھنٹوں کیلئے پانی میسر نہ ہو تو اسکی زندگی اجیرن بن جاتی ہے

    انسانی زندگی میں بجلی اور پانی کا اتنا فرق  ضرور ہیکہ بجلی کے بغیر زندگی ہے جبکہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔۔

    پانی ازل سے ہے اور بجلی بعد کی ایجاد ہے جو انسانی زندگی میں آسانی لائی ہے۔

    پانی کی ضروریات یا اسلامی رو سے پانی کو ایک نعمت کے طورپہ ذکر کرنا تو شائد نا ممکن ہی ہیکہ اللہ کی اس نعمت کے فضائل کتنے ہیں۔

    پانی کی قدر و قیمت پاکستان میں سب سے زیادہ "تھر” کے لوگ جانتے ہیں جو ایک ایک بوند کو ترس جاتے ہیں

    حکومت پاکستان کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور انسانی زندگیوں کو پروان چڑھانا چاہئے۔

    موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک کیلئے تیسری بڑی اور اہم چیز "سڑک” ہے 

    سڑک فاصلے کو تو کم کرتی ہے یا نہیں لیکن فاصلے کو طے کرنے میں دنوں کا سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ممکن ہوجاتا ہے۔

    مثال کے طورپہ

    میں پچھلے چند سالوں میں بیرون ممالک قیام پذیر ہوں حصول رزق کی خاطر تو 

    یہاں میرا پیشہ ایک ڈرائیور کی حیثیت سے ہے 

    اب یہاں کے روڈز کا موازنہ اگر پاکستان کے روڈز کے ساتھ کیا جائے تو کافی فرق دکھائی دیتا ہے

    یعنی جو سفر پاکستان میں دو سے تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ یہاں پہ چالیس پچاس منٹوں میں طے ہوجاتا ہے

    وجہ یہ ہے کہ یہاں روڈز بڑے اور کھلے ہیں

    جیسا کہ پاکستان میں موٹروے اور عام روڈ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

    موجودہ حکومت اور اس سے پچھلی حکومت نے جس قدر روڈز کی طرف توجہ دی یقینی طورپہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ منصوبہ جات ملک کی ترقی کیلئے اہم کردار اداء کریں گے

    جن میں بالخصوص پاک چین اقتصادی راہ داری ہے

    @1sareer