Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سماجی مسائل اور ان کے سدباب  تحریر : ماہ رخ اعظم

    سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

    ‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

    مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

    جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

    بقول اقبال
    یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
    یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

    ازقلم : ماہ رخ اعظم
    ‎@_MahrukhAzam

  • بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں   تحریر: علی خان

    بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں  تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ابھی ان  تِلوں میں تیل نہیں 

    ماں باپ سے بچوں کو وراثت منتقل ہونا تقریباً تمام معاشروں کی روایت ہے،،، والدین اپنی زندگی میں بچوں کو اپنی جائیداد کا وارث بنادیتے ہیں یا پھر انتقال کے بعد بچوں کو قوانین کے مطابق جائیداد، کاروبار بعض صورتوں میں نوکری وراثت میں ملتی ہے،،، سیاستدانوں کی جانب سے بچوں کو سیاسی وارث بھی بنایا جاتا ہے،،، مغربی معاشروں کو چھوڑ کر یہ روایت تقریباً تمام معاشروں میں پائی جاتی ہے کہ سردار کا بیٹا سردار اور وڈیرے کا بیٹا وڈیرہ بنتا ہے اور اپنے علاقے میں خاندان کی سیاسی روایات کو آگے بڑھاتا ہے،،، مضبوط جمہوری معاشروں میں بھی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہے،،، اسی طرح امریکی صدور بش سینئر اور جونئیر بھی اسی کی مثال ہیں

    مغربی سیاسی روایات اور ہمارے ہاں واضح فرق سیاسی جماعتوں کا ہے،،، مغربی سیاسی جماعتوں میں جماعت کی قیادت کی خاندان کی وراثت نہیں ہوتی،،، وطن عزیز میں اسے بھی وراثت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے،،، یہ روایت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے،،، یہی کافی حد تک روایتی معاشرتی اور ملکی پسماندگی کی ذمہ دار بھی ہے،،، لیڈران کے بچوں کو بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے پہلے پارٹی اور پھر اقتدار کا سنگھاسن ملتا ہے تو اسے وہ خاندانی حق سمجھ کر مزے کرتے ہیں اور عوامی بہبود کا سوال کہیں پس پشت چلا جاتا ہے

    ایسے ہی ایک لیڈر ہمارے بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی ہیں کہ جنہیں والدہ کی شہادت کےبعد پارٹی کا کرتا دھرتا بنایا گیا،،، بلاول بھٹو کے حامی انکے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے اور شہدا کا وارث ہونے جیسے اوصاف گنواتے ہیں لیکن غیر جانبدار تجزیہ کار انکی سیاسی ناپختگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں،،، آصف علی زرداری صاحب کی جانب سے پارٹی کمان انکے ہاتھ اس امید پر دی گئی تھی کہ بلاول اپنی سیاسی وراثت کے بل بوتے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پارٹی کو بہتر پوزیشن دلا پائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا،،، بلاول صاحب کی سیاسی وراثت میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھاری بھرکم کارنامے گنوائے جاتے ہیں لیکن انکی اپنی جماعت سندھ میں قریب تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود سندھ کی بدترین حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے،،، بلاول بھٹو کی جانب سے یا تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا رونا ہوتا ہے یا پھر سندھ کی محرومیوں کا ،،، بلاول کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنا انکے والد آصف علی زرداری کا فیصلہ نظر آتا ہے جو بہت بار سبکی کا باعث بن چکا ہے

    بلاول بھٹو کے "زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے” جیسے بیانات انکی ناپختگی پر مہر ثبت کرتے ہیں،،، گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں پہلے جیت اور پھر دھاندلی کے دعوے کچھ سنجیدہ تاثر نہیں چھوڑ رہے،، انکی زیر قیادت پارٹی نے سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی حکومت کی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی پائیدار اور ٹھوس منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی،،، جب بھی سندھ حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بے انتظامی جیسے معاملات کی بات ہوتی ہے تو بلاول بھٹو سندھ پر حملہ نامنظور جیسا رٹا رٹایا نعرہ لگا دیتے ہیں اور اصل سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں،،، عوام کی جانب سے انکی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کی سیاسی پختگی کو زیادہ پسند کیاگیا ہے،،، بلاول بھٹو کو جب پیپلزپارٹی کی قیادت دی گئی تو یہ وفاق میں حکومت کرنے والی وہ جماعت تھی جسکی تمام صوبوں میں موجودگی تھی لیکن اب یہ ایک صوبے تک محدود جماعت نظر آرہی ہے،،، بلاول بھٹو کے وقت سے قبل میدان میں اتارے جانے کا سب سے زیادہ نقصان انکی اپنی جماعت کو ہوا ہے،،، پی پی سربراہ کو سیاسی بلوغت نہ دکھائی تو بعید نہیں کہ آئندہ کیا مزید کئی الیکشن تک پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر بننے کی بجائے صوبے سے بھی لاڑکانہ تک محدود ہوجائے

  • معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    اتار چڑھاؤ زندگی کاحصہ ہیں. جہاں زندگی میں بہت سے خوش کن لمحات آتے ہیں کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے وہیں زوال و ناکامی  بھی زندگی کا حصہ ہیں. بلند ہمت اور زندہ دل افراد عزم سے نامسائد حالات کا مقابلہ کرتے ہیں. جبکہ پست ہمت افراد جلد دل ہار بیٹھتے ہیں اور زندگی کی مشکلات کو پہاڑ بنا لیتے ہیں نتیجتاً مسلئے کا واضح نظر آنے والا حل دیکھنے سے بھی محروم رہتے ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات نے یوں تو زندگی کو آسان بنا دیا ہے مگر اسکے ساتھ ہی معاشرے میں عدم برداشت اور ذہنی تناؤ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے. انسان تعلاقات کے مصنوعی ذرائع جیسا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے جبکہ اسکے ارد گرد موجودہ رشتے اور افراد نظر انداز ہوتے ہیں. لہذا وقت کے ساتھ ساتھ انسان خود کو تنہا مایوس کرنے لگا ہے خصوصاً نوجوان نسل میں یہ رحجان بہت زیادہ ہے. ڈپریشن آجکل ہر نوجوان کا مسلئہ بن چکا ہے. ہر دوسرا فرد اس نفسیاتی مسلئے کا شکار نظر آتا ہے. 

    وقتاً فوقتاً انسان کا مایوس یا اپنے اردگرد افراد اور حالات سے بیزار ہونا نارمل ہے کہ دل ہر وقت ہی زندہ دل محسوس نہیں کر سکتا. یہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں مگر ڈپریشن کی کیفیت کا دورانیہ نارمل مایوسی یا بیزاری سے بہت زیادہ ہوتا ہے. کبھی ڈپریشن کی کیفیت کی کچھ خاص وجہ ہوتی ہے جبکہ بہت سے کیسز میں بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو ڈپریس دیکھا گیا ہے.ڈپریشن کی بیماری کی  شدت  عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں  کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے.ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ تنہائ بھی ہے. زیادہ دوست یا میل ملاپ رکھنے والے افراد میں یہ مسلئہ بہت کم پایا جاتا ہے. بعض اوقات اچانک کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہونے والے افراد میں بھی یہ مسلئہ موجود ہوتا ہے. بعض لوگوں کی شخصیت میں کوئ ذاتی کمی کا احساس یا دوسروں سے ہر وقت موازنہ بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتا ہے. بہت سے افراد میں یہ مسلئہ موروثی طور پر بھی نسل در نسل منتقل ہوتا ہے. اس سب کی بہت سی وجوہات ہیں.معاشرتی حالات کا بھی اس میں بہت زیادہ کردار ہے. مشرکہ خاندانی نظام جو ہماری روایت تھا وقت کے ساتھ یہ روایت دم توڑ رہی ہے. لوگ مل جل کہ رہنے کی بجائے تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں.روپیہ پیسہ رشتوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے. بڑھتی ہوئ مہنگائ اور معاشی حالات بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتے ہیں.وہ افراد جنکی آمدنی محض میں ایک دن کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اچانک پیش آنے والے حادثے کی صورت میں تمام خاندان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے. والدین کی آپس کی ناچاقی بھی 

    ٹین ایج افراد میں مایوسی اور ڈپریشن کی بڑی وجہ ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی امراض کے بارے میں جانکاری کی شرح نہایت کم ہے. بہت سے والدین "لوگ کیا کہیں گے ” کے نام پر بچوں کے نفسیاتی مسائل کو چپھا کر رکھنا بہتر سمجھتے ہیں. موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال سے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قوت برداشت کم ہونے سے نوجوان نسل میں ڈپریشن و اینزائٹی کی شرح تیزی سے بڑھی ہے مگر ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نشے میں اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔ہمیں چاہیے کہ رابطے کے مصنوعی ذرائع پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے افراد کو توجہ کا مرکز بنائیں. کسی کہ دکھ درد کو سنیں. دوسروں کے مسائل اور مشکلات آسان کرنے پر توجہ دیں تا کہ معاشرے میں دوبارہ سے مثبت سوچ رکھنے والے اور ذہنی طور پر صحت مند افراد کا تناسب بڑھے. 

    @just_S32

  • مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    برطانیہ میں پالتو مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ کر دئیے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بلیو بیل نامی مچھلی کو برطانوی شہری نے اپنے گھر میں پال رکھا تھا جس کی عمر تقریباً 17 برس ہے مچھلی کے منہ میں گوشت کا لوتھڑا بن رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی وہ اسے مچھلیوں کی بہترین سرجن کے پاس لے کر آیا۔ سرجن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مچھلی کا آپریشن کیا جو ایک غیرمعمولی مشکل کام تھا جس پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    مچھلی کے منہ میں بننے والا لوتھڑا یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ مچھلی خود کھانے سے قاصر تھی اور اس کا مالک اپنے ہاتھوں سے اسے غذا دے رہا تھا ڈاکٹر ہانا کی زندگی کا یہ دوسرا پیچیدہ ترین آپریشن بھی تھا جس میں مچھلی کو سلایا گیا اور آپریشن کے بعد اٹھایا گیا –

    مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے خاص طریقہ کا خواب آور کیمیکل دیا گیا اور یہی سب سے مشکل مرحلہ بھی تھا پہلے اسے خاص انیستھیسیا والے محلول میں ڈبویا گیا جہاں مچھلی پر غنودگی چھائی رہی اورآپریشن میں اس پر مسلسل پانی ڈال کر اسے گیلا رکھا گیا جس میں ایک گھنٹہ لگا آپریشن سے لوتھڑا نکالنے میں کل 20 منٹ صرف ہوئے اس کے بعد زخم پر دوا لگائی اور درد کش دوا بھی دی اب گولڈ فِش مکمل طور پرتندرست ہے اور خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے۔

    برطانوی شہری نے مچھلی کے علاج پر 300 برطانوی پاؤنڈز خرچ کر دیئے جو تقریبا 70 ہزار پاکستانی بنتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

  • منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    *
    اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی ضروریات کی تسکین کا اہتمام فرمایا۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و شکل عطا فرمائی. اللہ پاک نے انسان کو جن وجوہات کی بنا پر باقی مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے وہ عقل، شعور، فہم و فراست، قوت فیصلہ اور ضمیر ہیں۔ انسان اپنی انہی خوبیوں کے استعمال سے خیر و شر میں تمیز کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو جن چیزوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ایمان، جان اور عقل کی حفاظت سرفہرست ہیں۔ اللہ پاک نے انسان کو عقل، فہم و فراست اور فکر و نظر کی حفاظت کی تاکید فرماتا ہے لہذا اسی حفاظت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے انسان کو اس کی عقل کے بدترین دشمن نشہ کے استعمال سے نہ صرف سختی سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے حرام اور ناپاک عمل قرار دیا ہے۔ دین فطرت، دین اسلام کا ہر حکم میں انسانیت کی فلاح و بہبود پر مبنی ہے لہذا اسلام میں نسل انسانی کے لیے نشے کو حرام قرار دیا جانا کسی صورت بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ممانعت کی حکمت خود اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
    ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاو۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے۔”
    آیت مبارکہ میں نشے کے نسل انسانی کو لاحق بڑے خطرات کا ذکر بہت جامع اور مختصر انداز میں کیا گیا ہے اور اس آیت مبارکہ کی تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ نسل انسانی کو لاحق ایک ایسا خطرہ ہے جو انسان کو ذہنی، جسمانی، روحانی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی الغرض ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
    منشیات کے استعمال کے بے شمار نقصانات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ آپ کی قیمتی جان کے ضیاع کا ہے۔ نشے کی عادت ہلکی نشہ آور شے کے استعمال یا محض سگریٹ نوشی سے شروع ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ طلب کے پیش نظر منشیات کے عادی اس مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ یعنی یوں کہہ لیں کہ نشے کے سفر کا آغاز سگریٹ، پان، بیڑی یا نسوار وغیرہ سے ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے چرس، افیون، ہیروئن، آئس، کوکین اور انجیکشنز تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر تک نشہ انسانی جسم میں اس قدر زہر بھر دیتا ہے جو اسے موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ یوں زندگی کی تسکین کا سفر زندگی کے بدترین انجام پر اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
    نشے کے عادی افراد کی صحت و تندرستی کی صورتحال انتہائی نازک مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ان کا مدافعتی نظام بیماریوں سے لڑنے کی بلکل بھی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے عادی شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، ہائپرٹینشن، کینسر اور امراض قلب جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صحت و تندرستی کی نازک صورت حال نشہ کا نسل انسانی کو لاحق دوسرا بڑا خطرہ ہے۔
    عقل اور شعور وہ کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر انسان کو باقی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی ہے نشہ عقل انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ نشہ انسانی دماغ کو ماوف کردیتا ہے اور وہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد عقل اور شعور سے خالی ہوتے ہیں وہ اپنا اور اپنے خاندانوں کا برا بھلا سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ چونکہ نشہ کے عادی سوچنے سمجھنے اور خیر و شر میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا وہ اخلاقی طور پر انتہائی کمزور اور بدکردار ہوتے ہیں۔ نشہ کرنے کی وجہ سے وہ تمدنی و ثقافتی روایات، اصول معاشرت اور اخلاقیات مکمل طور پر بھلا دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی مختلف معاشرتی خرافات جیسا کہ چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور زنا وغیرہ کا شکار ہوکر معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ کے طور ابھرتے ہیں جن کی بدولت پورا معاشرہ تعفن آلود ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عام انسانوں کی نسبت منشیات کے عادی افراد میں گالم گلوچ اور بدکرداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور پسماندگی منشات کے استعمال کا وہ نقصان ہے جس سے نہ صرف منشیات کے عادی متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام معاشرے پر بھی اس کے گہرے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔
    منشیات کا استعمال جہاں اخلاقی، ذہنی اور جسمانی پسماندگی کا سبب بنتا ہے وہیں یہ انسان کو معاشی طور پر بھی کمزور کر دیتا ہے۔ نشہ کے عادی لوگ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنی منشیات سے وابستہ ضروریات پوری کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو معاملات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ لوگ نشے کی خاطر معاشرے کے دوسرے افراد کے سامنے دست سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے عاجز ہوتے ہیں جس کی بدولت انہیں غربت اور معاشی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسی نکتہ نظر کو قومی سطح پر دیکھا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منشیات کے استعمال کی مد میں سالانہ اربوں روپے ضائع ہو رہے جنہیں اگر کسی مفید کام میں خرچ کیا جائے تو بہتر معاشی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔
    خاندانی نظام نسل انسانی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے مگر نشہ اس بہترین نظام کی تباہی کا ایک بڑا سبب ہے۔ منشیات کے عادی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جنہیں اپنے اہل و عیال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ نشہ ان کے دماغوں کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے جس کی بدولت وہ جھگڑالو اور متشدد مزاج ہوجاتے ہیں۔ عدم برداشت اور بیمار ذہنیت کے یہ لوگ طبعیت میں بھلا کا چڑچڑاپن رکھنے کی وجہ سے ہر وقت اپنے خاندان سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ کئی واقعات میں تو حالات کی سنگینی ایسی صورت اختیار کرتی ہے کہ بات قتل و قتال اور طلاق کی نوبت تک جا پہنچتی ہے۔ ایسے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں منشیات کے عادی بے ضمیر لوگوں نے نشے کی خاطر اپنی اولادوں اور عزتوں تک کو بیچ ڈالا۔
    نشہ معاشرتی بگاڑ اور تمدنی روایات سے انحراف کی بڑی وجہ ہے۔ جب انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی وہ معاشرے میں انتشار اور بے سکونی ہی پیدا کرے گا۔ ان سارے حالات کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نشہ دور حاضر میں نسل انسانی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔ میں باغی ٹی وی نیوز کی پوری ٹیم کو داد تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ ماہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک بھرپور مہم کامیابی سے چلائی اور انسداد منشیات و تمباکو نوشی کے متعلق نوجوانوں کو بہترین انداز میں آگاہ کیا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ایسی صحت مند اور مفید سرگرمیاں حکومتی سربراہی میں جاری رہنی چاہیں تاکہ ہمارا مستقبل یعنی ہماری نوجوان نسل نشے جیسی لعنت سے محفوظ رہے۔

    Twitter:
    @DSI786

  • چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر   تحریر : راجہ ارشد

    چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے محلے کی مسجد میں ایک قاری صاحب ہیں جو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں یہی امام مسجد بھی ہیں کل نماز مغرب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھا تھا یوں ہی گپ شپ ہو رہی تھی امام صاحب اور میں ہم عمر بھی ہیں تو بات بڑی گھول کے کرتے ہیں وہ بتانے لگے کہ ۔

    ایک دن میرے پاس آپ کا پورانا پڑوسی آیا رانا امجد نام تھا میرے اس پڑوسی کا اور آج سے 8 یا 10 سال پہلے ہم دونوں ایک ہی بیلڈنگ میں رہتے تھے ۔ رانا امجد صاحب دوسرے فلور پر تھے اور میں گرونڈ پر تھا بس وہاں ہی سلام دعا ہوئی تھی ان سے ۔اس کے بعد میں نے گھر بدل لیا اور کام کاج کے چکر میں ان سے رابطہ بھی کم ہی ہو گیا۔ ابھی کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اتفاق سے میں اور امام صاحب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ سامنے آ گئے۔

    امام صاحب سے تعارف بھی میں نے ہی کرویا تھا خیر امام صاحب نے کہا وہ آپ کے پڑوسی نہیں تھے رانا امجد صاحب۔ میں نے فورن جوابن کہا اللہ خیر کرئے امام صاحب کیا ہوا ان کو ؟

    امام صاحب نے کہا ہوا کچھ نہیں بتا رہا ہوں کہ جب آپ نے ان سے ملوایا تھا اس کے ٹھیک دو دن بعد رانا امجد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور میرے بیٹے نے عجیب و غریب بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ شاید کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے یا جنات کا سایہ ہے ۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نے کہا۔آپ بچے کو میرے پاس بھیجیں دیکھتے ہیں مسلہ کیا ہے۔

    اگلی صبح وہ لڑکا میرے پاس آ گیا وہ نو عمر لڑکا تھا میں نے انتہائی محبت ، شفقت کے انداز میں بات چیت شروع کی تو وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔پھر اس نے بتایا کہ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی ہے جہاں کے رہنے والوں کو دین سے کوئی سروکار نہیں۔ نمازوں کی فکر ہے نہ روزں کی نہ قرآن مجید کی تلاوت نہ دیگر عبادات کی ہمارا گھرانا سر تا پاوں گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔میرے والد نے کبھی نماز نہیں پڑھی وہ کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔

    میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا کہا اس بچے کو امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے والد کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کی اور کہا بیٹا تمارا اپنے والد پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ تم رات کی تنہائیوں میں اپنے اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے والد کی ہدایت کے لیے دعا کرو ۔لڑکے نے بہت ذوق و شوق سے میری باتیں سنی اور اس پر عمل کرنے کا کہ کر چلا گیا۔

    میں نے کہا آچھا پھر امام صاحب کیا ہوا وہ لڑکا دوبارہ کبھی وآپس آیا ؟ امام صاحب نے کہا ہاں ابھی کل کی بات ہے وہ لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔استاد محترم جیسے آپ نے بتایا تھا میں نے اسی طرح کیا جب سارے گھر والے خواب غفلت میں پڑے ہوتے میں اٹھ کر وضو کرتا اور نماز تہجد ادا کرتا اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اتفاق سے میرے والد کہیں سفر پر تھے وہ رات کو تاخیر سے گھر لوٹے تو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرا بیٹا ایک تاریک کمرے میں اللہ سے دعا کر رہا ہے ابو جان نے قریب آ کر سنا تو میں کہہ رہا تھا۔

    اے میرے رب میرے والد کو ہدایت نصیب فرما ۔اے میرے رب ان کے دل کو دین کے لیے کھول دے اور انہیں اہل جہنم میں سے نہ کرنا۔ یا رب تو ہی ہے جو یہ کر سکتا ہے۔
    ابو جان حیران و پریشان کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

    پھر وہ باتھ روم میں گئے اور غسل کیا اور میرے پیچھے نماز پڑھنے لگے انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سے پکا نماز پڑھنے کا عہد کر لیا ۔ لڑکے نے بتایا کہ ابو جان نے مجھے گلے لگایا اور شاید اپنے ہی بیٹے کا اس طرح کا ذوق عبادت دیکھ کر حسرت و ندامت سے زار و قطار روتے رہے۔امام صاحب کی بات ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں نے بھی برسنے کی تیاری کر لی ہو بس سبحان اللہ منہ سے نکلا اور امام صاحب سے اجازت لے کر گھر کو چکا آیا۔

    قارئین دیکھا کس طرح یہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والد اور سارے خاندان کی ہدایت کا باعث بن گیا ۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنی ہدایت سے مالامال کر دیں اور سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم امین یا رب العالمین۔
    RajaArshad56

  • دھندہ ہے پر گندا ہے تحریر : نواب فیصل اعوان

    پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ویڈیوز لیکس ہو رہی ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں ۔
    سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہوٸ جس میں الزام عاٸد کیا جا رہا ہے کہ اس نے میڈیا میں ملازمت کے نام پر درجن بھر لڑکیوں سے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں اور فارم ہاٶسز میں زیادتی کی ۔
    مگر سوال یہاں یہ ہے کہ کیا یہ الزامات سچ ہیں ۔؟
    اس سوال کو وقت پہ چھوڑ دیتے ہیں مگر باوثوق ذراٸع کے مطابق محمد زبیر مسلم لیگ ن چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کی پاداش میں ویڈیو لیک کی گٸ ۔
    محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے اور وہ فرانزک آڈٹ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ ویڈیو فرانزک کے بعد جعلی نکلتی ہے تو کیا محمد زبیر کو بدنام کرنے کیلۓ یہ ویڈیو ریلیز کرنے والے اصل مجرمان قانون کی گرفت میں ہونگے یا نہیں ۔؟
    اگر یہ ویڈیو اصلی نکلتی ہے تو کیا پاکستانی ادارے محمد زبیر کو ان درجن بھر خواتین کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج کر کے قانونی کارواٸ کرینگے بھی یا نہیں ۔؟
    محمد زبیر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مریم نواز شریف کے ترجمان بھی رہے چکے ہیں ۔
    بعض ذراٸع کے مطابق اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو اس کے پیچھے مسلم لیگ ن اور خاص طور پہ مریم نواز شریف کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ بارہا میڈیا پہ بتا چکی ہیں کہ ان کے پاس کٸ ملکی نامور شخصیات کی فحش ویڈیوز موجود ہیں اگر ایسا ہے تو جج ارشد ملک کی طرح محمد زبیر ویڈیو لیک کے تانے بانے بھی مسلم لیگ ن اور مریم نواز شریف سے ملیں گے ۔
    ملکی مفاد کو بالاۓ تاک رکھ کر سیاست میں کسی کی مخالفت میں اتنا گر جانا کہ ویڈیوز لیک کر دینا یہ پاکستان کیلۓ بین الاقوامی ہزیمت کا باعث بنے گا ۔
    اگر ایسا ہے تو پاکستان کے اعلی عہدوں پہ فاٸز اور پاکستان کا نظام سنبھالنے والوں کی بھی ویڈیوز نکل آتی ہیں تو یہ پاکستان کیلۓ باعث تشویش ہے کیونکہ ذراٸع کے مطابق ڈارک ویب پہ پاکستانی نامور شخصیات کی ویڈیوز اور تصاویر بیچی جاتی ہیں اگر کسی بھی پاکستانی سیاستدان اینکر ایکٹر سنگر یا دیگر اعلی منصب پہ فاٸز عہدے داران کی ویڈیوز یا تصاویر ڈارک ویب پہ موجود ہیں تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ان کے ذریعے متاثرین کو بلیک میل کر کے اپنے مفادات کیلۓ استعمال کر سکتی ہے ۔
    زرا سوچیں کتنے لوگ ہونگے جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہونگے اور پاکستانی مفادات کو بالاۓ طاق رکھ کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کر رہے ہونگے ۔
    اس وقت پاکستان نازک حالات سے دو چار ہے ایسے میں ان سب چیزوں کا پاکستان میں عام ہونا قابل تشویش ہے ۔
    ملکی اداروں کو اس وقت اعلی سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے یا کسی سیاسی پارٹی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے لوگوں کو بے نقاب کر سکیں اور پاکستان میں ایسے واقعات کے اصل محرکات سے واقف ہو سکیں ۔
    بعض ذراٸع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ویڈیوز کا یہ نا ختم ہونے والا طوفان ہے جو اپنی پوری قوت سے آۓ گا اور اس میں بہت سے مزید لوگ بے نقاب ہونگے ۔
    کیا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔؟
    کیا یہ پاکستان دشمن عناصر کی پاکستان کو بدنام کرنے کی چال تو نہیں ۔؟
    کیا واقعی اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔؟
    یہ سوالات میں آنے والے وقت کیلۓ چھوڑتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ پاک سب کی عزتوں کو محفوظ رکھیں اور پاکستان کو ملک دشمن عناصر کی چالوں سے بچاٸیں آمین

    @NawabFebi

  • قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس شمال مشرقی پاکستان میں جدید شہر جہلم کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک چوکی ہے۔  اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے معزول مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ ​​بادشاہت میں واپس آنے سے روکنے کے ارادے سے نام نہاد "پرانے راستے” کے ساتھ بنایا جو شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف جاتا ہے ۔
    ہمایوں کو پہلے شیر شاہ سوری نے چوسا میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا تھا ، لیکن اسے خدشہ تھا کہ اگر ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو ہمایوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے ۔  شیر شاہ سوری کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل کو سزا دینا اور شکست دینا تھا جو وادی کا کنٹرول رکھتے تھے اور مغلوں کے روایتی حلیف تھے۔

    قلعہ کا نام شاہ آباد ضلع کے روٹاس گڑھ کے گڑھ سے لیا گیا ہے جسے شیر شاہ سوری نے 1539 میں ایک ہندو شہزادے سے قبضہ میں لیا تھا۔ قلعے پر کام اس کے وزیر محصولات توڑ مال کھتری کی نگرانی میں 1541 میں شروع ہوا۔  تاہم ، گکروں کی مقامی آبادی دیہاڑی دار کے طور پر  کام کرنے کو تیار نہیں تھی، اور پھر تعمیر تیزی سے رک گئی۔  ٹوڈر مال کھتری نے شیر شاہ سوری کو ان مشکلات کے بارے میں لکھا اور بادشاہ نے جواب دیا کہ ان کی حکومت تعمیر کے اخراجات کے لیے کوئی بھی اخراجات برداشت کرے گی۔  اس حوصلہ افزائی کے ساتھ ، ٹوڈر مال کھتری اجرت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کئی گکروں کو رینک توڑنے اور تعمیراتی کوششوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔  اگرچہ تعمیر کے دوران روزانہ کی تنخواہ کئی بار کم کی گئی تھی ، لیکن پھر بھی شیر شاہ سوری کے قلعے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی تھا۔

    قلعے کی ترتیب تقریباتکون سی ہے اور چار کلومیٹر کی دیواروں ، 68 گڑھوں اور تقریبا a ایک درجن بڑے دروازوں پر مشتمل ہے۔  قلعے کے شمال مغربی کونے کو باقی قلعے سے 530 میٹر لمبی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ قلعہ کا علاقہ قائم کرتا ہے جو کہ بہت زیادہ قلعہ بند تھا۔  اس میں شاہی مسجد اور حویلی مان سنگھ (قلعہ کے اندر سب سے اونچی جگہ پر تعمیر) سمیت کئی بقیہ تعمیراتی آثار بھی شامل ہیں۔  یہ سٹیپ ویلز (باؤلی) سے بھی لیس ہے حالانکہ یہ قلعے کے زیادہ سے زیادہ علاقے میں جنوب مشرق میں بھی پائے جاتے ہیں۔

    قلعے کی دیواریں موٹائی میں مختلف  ہیں اور شمالی فریم پر موری گیٹ کے قریب زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہیں جبکہ ان کی اونچائی 10 سے 18.3 میٹر تک  ہے۔  بنیادی تعمیراتی مواد سینڈ اسٹون کورس ملبے کی چنائی تھی جس میں چونے کے ساتھ دانے دار اینٹوں کے پاؤڈر ملا ہوا تھا۔  دروازے بہت مضبوط ایشلر چنائی سے بنائے گئے ہیں۔  بہت سی جگہوں پر دیواروں میں والٹڈ چیمبرز ہوتے ہیں جو اسٹوریج اور دیگر سامان کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جن کی ضرورت تقریبا 30،000 فوجیوں کو تھی جو وہاں تعینات کیے جا سکتے تھے۔

    شیر شاہ سوری قلعہ مکمل طور پر مکمل ہونے سے پہلے ہی مر گیا اور جب ہمایوں پنجاب پر حکومت کرنے کے لیے واپس آئے تو قلعے کا بنیادی مقصد بے کار ہو گیا۔ ایک بڑی ستم ظریفی ، یہ قلعہ پھر گکروں کا دارالحکومت بن گیا-جن لوگوں کو شیر شاہ سوری نے زیر کرنا تھا۔ اگرچہ قلعہ اس وقت سے مغلوں کے کنٹرول میں تھا اس کے بعد یہ شہنشاہوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا کیونکہ اس میں باغات اور دیگر عظیم الشان فن تعمیر کا فقدان تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ یہ اب ایک فوجی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ گکر مستحکم مغل اتحادی رہے۔ قلعے کی ریمائیلائزیشن صرف مغلوں کے ختم ہوتے سالوں میں شروع ہوئی جب سکھ شہنشاہ راجیت سنگھ نے پنجاب کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ایک حوصلہ افزا جنرل گورمک سنگھ لمبا نے 1825 میں گکھڑ کے سردار نور خان سے قلعہ پر قبضہ کر لیا ، اور یہ بعد میں سردار موہر سنگھ کے حوالے کر دیا گیا اور بعد میں دوسروں کو لیز پر دے دیا گیا۔ قلعہ کا آخری فوجی استعمال اس وقت ہوا جب راجہ فضل دین خان نے شیر سنگھ کو بغاوت میں شامل کیا ، حالانکہ قلعے پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔

  • قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا

    قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا

    قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کرکٹر محمد حفیظ گزشتہ ہفتے گیسٹرو وائرل کی وجہ سے فوڈ پوائزنگ کا شکار ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ اسلام آباد سے لاہور واپس آگئے اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کا پہلا مرحلہ نہ کھیل سکے۔

    محمد حفیظ نے لاہور پہنچ کر اپنے تمام ٹیسٹ کرائے جس میں انہیں ڈینگی بخار کی تشخیص ہوئی محمد حفیظ کے دو روز قبل پلیٹلیٹس خاصے کم بھی ہوئے تاہم اب ان کے پلیٹلیٹس بہتر ہورہے ہیں اور ان کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    اس سے قبل خبر آئی تھی کہ محمد حفیظ فوڈ پوازننگ کی وجہ سے راولپنڈی میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شریک نہیں ہو رہے۔

    دوسری جانب ڈینگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی تحریک التواء مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی راحت افزاء کی جانب سے جمع کرائی گئی، تحریک التوا کے متن میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی نااہلی کے سبب لاہور سمیت صوبہ بھر میں ڈینگی کیسسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    شہباز شریف نے دن رات ایک کرکے شہریوں کو اس موضی مرض سے بچایا تھا۔حکومت کی نالائقی کے باعث ڈینگی کے وار جاری ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے ڈینگی کے 90 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ روز لاہور سے ڈینگی کے 81 مریض رپورٹ ہوئے رواں سال پنجاب بھر سے اب تک ڈینگی کے 1,082 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں

    ڈینگی کا زور، پنجاب اسمبلی میں بڑا مطالبہ کر دیا گیا

    رواں سال اب تک لاہور سے ڈینگی کے 905 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں -صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 75 مریض داخل ہیں۔ لاہور کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 54 مریض داخل ہیں۔

    جو کہ حکومت کی بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حکومت صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔ ڈینگی کے پھیلاؤ سے عوام میں شدید تشویش اور غمِ و غصہ پایا جاتا ہے۔ڈینگی کے خلاف صرف زبانی مہم کی بجائے عملی کام کیا جائے اور شہریوں کو ڈینگی سے بچایا جائے-

    ویکسینیشن کے لئے حکمت عملی سخت کرنے کا فیصلہ

  • دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    اسلامی نظام سے مراد دنیا میں ایک ایسی عظيم نظام جس میں صرف اور صرف اللہ کے حکم  اور نبی کریمﷺ کے بتاۓ ہوۓ طریقوں سے بننی ہو اور ساتھ ساتھ غلط کاموں پر سزا بھی وہی مختص ہو جو اللہ اور رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہو۔ آج کل کی دنیا میں جب بھی کوٸی بدفعلی ، غلط کام کرے تو فورا ہمارے لبوں پر یہی ایک جملہ آتا ہے کہ کاش دنیا/ملک میں السلامی نظام نافذ ہو تاکہ کوٸی بھی ایسے غلط کام نہ کر سکے اور کرے بھی تو اُس کو وہی سزا دی جاۓ جو عبرت کا نشان بننے اور دوسروں میں ایسے غلط کام کرنے کی جرت تک نہ ہو۔ 

    وارڈو میٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں دنیا کی کل آبادی 7.9 ارب ہیں جس میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 1.9 ارب ہے تو ظاہر ہے کہ کفار ہم سے زیادہ ہیں  ہم مسلمان آج کی دور میں کیوں بے بس ہیں ان کفاروں کے آگۓ کیوں ہمارے مسلمان بھاٸیوں پر ظلم و بربریت ہو رہا ہے (کشمیر ، فلسطين وغیرہ)؟۔

    "اکثر ہمارے ذہنوں میں یہی آرہا ہے کہ کفار زیادہ ہیں اور ہم کم ہیں اس لیے ہم انکے سامنے بے بس ہیں”

    نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے تو کیوں؟

    کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان وہ جذبہ نہیں ہے جو  313 مسلمانوں کے اندر تھا نے جنگ بدر میں کفار کے ایک ہزار لشکر کو شکست دی تھی۔ اور اسطرح سے ہمیشہ کم تعداد میں ہی مسلمانوں نے فتح حاصل کی ہے کیونکہ جو اکیلا ہوتا ہے اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ حضرت خالید بن ولید (عظيم سپہ سالار تھے جن کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے "سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا ) کے بارے میں آتا ہے کہ جس جنگ میں بھی جاتے تھے تو فتح یاب لوٹتے تھے وہ ہمیشہ کفاروں کو مردہ (جو اللہﷻ کا زکر نہیں کرتے ہیں) سمجھتے تھے (اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ کے سامنے زندہ ہے اور اللہ کا ذکر نہ  کرنے والا اللہ کے سامنے مردہ ہے) کفار حیران تھے کہ یہ کیوں اتنا طاقتور ہیں ان پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے پینے کے اشیإ اور جنگ سامان بھی بہت کم ۔ اور ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہرطرح کی طاقت ہے لیکن انہیں کیا معلوم کے اصلی طاقت تو ایمان کا ہوتا ہے جن کے دل میں اللہ اور رسولﷺ کی فرمانبداری چھا جاۓ تو پوری دنیا کی طاقت بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے  انکی ایمان مضبوط تھی۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی تابع تھے آج ہماری بے بسی کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے ایمان کمزور ہیں آج کی دور میں لوگ پیسہ، گاڑی ، اچھی نوکر اور عمدہ گھر کو طاقت سمجھتے ہیں اصلی طاقت ایمان کا ہوتا ہے کہتے ہے نا ” جب پیٹ بھر جاۓ تو اللہ کو بھول جاتے ہیں” آج ہم دنیاوی زندگی کے پیچھے مصروف ہیں آخرت کی زندگی کا کوٸی سوچتا بھی نہیں ہے ہماری اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے دنیاوی زندگی محض ایک مختصر وقت ہے۔ 

    سوشل میڈیا ہر صبح  اچھی اچھی پوسٹوں سے بھرا رہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا میں پکے مسلمان ہیں اصلی زندگی میں نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اگر اتنے پکے اور سچ مسلمان سوشل میڈیا پر ہیں؟ تو یہ مساجد کیوں ترس رہے ہیں نمازیوں کے لیے یہ مظلوم کیوں ترس رہے ہیں انصاف کے لیے وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم محض دوسروں کے لیے اچھے پوسٹ لگاتے ہیں اور خود عمل کرنے سے قاصر ہیں۔

    اب اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں آپنے اندر اسلامی نظام لانا ہوگا جب ہم آپنی اس چھ  فٹ جسم پر السلامی طور طریقے اپناٸینگے تو اسلامی نظام ہمارے اندر خود بخود نافذ ہوگی اور یوں یہ السلامی نظام ہم سے ہمارے گھر پھر سارے دنیا کو متاثر کرے گی بالاآخر دنیا میں اگر اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو یہ طریقہ آپنا ہوگا ورنہ صرف لبوں اورذہنوں پر رکھنے سے نہیں ہوگا۔

    یہ میرا پہلا آرٹیکل ہے پڑھے اور فیڈ بیک ضرور دیجیۓ گا۔