Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لہجے میں سچائی کی مہک اور اصلاح تحریر: علی حمزہٰ 

    سچ کا مقصد اپنی خود نمائی، خود کو صادق اور امین ظاہر کرنے سے زیادہ کسی کی اصلاح ہے تو مناسب الفاظ نرم لب و لہجہ ہونا ضروری ہے۔ سامنے والے کو بھی آپ کی اصلاح سے تکلیف نہ ہو اور وہ سچ کا قائل بھی ہو جائے۔ اور غیر محسوس طریقے سے سامنے والا اپنی اصلاح بھی کر لے۔ "مقصد دستک دینا ہوتا ہے دروازہ توڑنا نہیں”

    سچ بولنے کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی سکھائی جاتی ہے اور سکھائی بھی جانی چاہیے۔ بچوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی جھوٹ بولنے پر سزا دینی چاہیے لیکن ہم لوگوں کا علمیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بچپن سے ہی جھوٹے کسے کہانیاں سنا سنا کر انہیں جھوٹ بولنے اور سننے کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم بولیں تو ہمارے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی کی گواہی دے رہا ہو۔

    دنیا میں واحد ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کی ہے جنہوں نے 63 برس عمر مبارک پائی اور زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے نکلنے والا ایک ایک لفظ سچ تھا اور سچائی کی گواہی دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ کے لہجے میں سچائی کی مہک پائی جاتی تھی۔ میں یہاں ایک واقعہ مختصر بیان کرتا چلوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی سب سے پہلے معراج کا واقع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واقع سنتے ہی یہی فرمایا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سچ فرمایا۔

    سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت پر زور ہر ایک مزہب نے دیا ہے اور اس اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہے شریعت اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے اور اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ ماننے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور ایمان داری کی گواہی دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور ایمانداری سے متاثر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کے القاب سے نوازا تھا۔ آپ ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور ابولہب جیسے بھی آپ ﷺ کی سچائی کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی پوری انسانیت کو متعدد مرتبہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے:

    ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔” (التوبۃ: ۱۱۹)

    اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔” (المائدۃ: ۱۱۹)

    چونکہ جھوٹ کے نتائج بہت مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے بہت سخت وعیدیں سنائی ہیں۔

    ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

    ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔” (بخاری ومسلم)

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    ”جو تاجر سچا اور امانت دار ہو وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”

    لہذا ہمیں اپنے کاروبار میں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ پیارے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بول کر مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

    جس طرح دنیا میں رہنے کے لئے پانی ضروری ہے اس طرح دنیاوی معاملات میں سچائی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس طرح پانی کی بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح سچ کے بغیر نظام عالم کا کاروبار بھی ممکن نہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • موضوع اوورسیز پاکستانی  تحریر: تیمور خان

    موضوع اوورسیز پاکستانی تحریر: تیمور خان

     

    @iTaimurOfficial

    میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے ان محب وطن پاکستانیوں کو جنہوں نے مشکل وقت میں اپنی دھرتی اور اپنے پیاروں سے دور رہتے ہوئے اپنی خون پسینے کی کمائی سے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا

    آئی ایم ایف پاکستان کو ترسا ترسا کر ٹکڑوں میں وہ بھی 39 ماہ میں صرف 6 ارب ڈالر دیتا ہے جبکہ میرے ان خوبصورت اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کو صرف 1 سال میں 31 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی ہیں 29 ارب ریمیٹنسس اور سوا 2ارب ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت پاکستان بھیجے ہیں

    لیکن آپ ظلم کی انتہا دیکھیے

    جو پاکستانی اپنے بیوی بچوں سے اپنے بہن بھائیوں سے دور رہ کر پیسہ کما کر انہیں ڈالروں میں تبدیل کرکے پاکستان بھیجتے ہیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کے ان عظیم احسانات کا ہم کیا صلہ دیتے ہیں؟؟

    سیاستدانوں کی آشیرباد سے قبضہ مافیا ان اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹوں گھروں زمینوں جائیدادوں پر قبضہ کر لیتا ہے

     اور جب یہ اوورسیز پاکستانی اس ظلم پر آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی ان کی آواز نہیں سنتا اگر یہ پاکستان آ کر مافیا کے خلاف اپنا کیس لڑتے ہیں پہلے تو ان کی عدالت میں کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور اگر کوئی چانس نظر آئے تو قبضہ مافیا ان کو قتل کر دیتا ہے

    اوورسیز پاکستانی بیچارے کیا چاہتے ہیں؟؟

    ان کے صرف دو ہی تو مطالبات ہیں ایک یہ کہ ان کی زمینوں پر سے قبضہ چھڑایا جائے اور دوسرا ان کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کو اقلیت سمجھ کر یہ رائے دی ہے کہ ان کو 6 سے 8 مخصوص نشستیں فراہم کر دی جائیں جبکہ عمران خان کا موقف یہ ہے کہ کہ ان اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں رہنے والے دیگر پاکستانیوں کی طرح ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کیلئے جو انسان سب سے بہتر کوشش کر رہا ہے وہ صرف اور صرف عمران خان ہے عمران خان کے علاوہ کسی سیاسی و مذہبی جماعت کو اوورسیز پاکستانیوں کی کوئی پروا نہیں 

    بلکہ آپ احسان فراموشی کی انتہا تو دیکھیں کہ عمران خان سے پہلے کوئی اوورسیز پاکستانیوں کو پوچھتا تک نہیں تھا

    اوورسیز پاکستانیوں کو عزت اور پہچان دینے والا بھی عمران خان ہی ہے اور ان کی خدمات کو سراہنے والا بھی عمران خان ہی ہے

    میں عمران خان سے یہ پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کے ان عظیم اور جان نثار اوورسیز پاکستانیوں کے ان مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے 

    اگر یہ اوورسیز پاکستانی اپنا پیسہ بھیجنا بند کر دیں تو پاکستان کی معیشت تنکوں میں بکھر کر رہ جائے گی اور پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا

    لہذا میرے ان عظیم اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہ کریں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سن کر بروقت حل کریں ورنہ اگر یہ اوورسیز پاکستانی مایوس ہو گئے تو تم سب کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے

    میرے ان اوورسیز پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ان کی خدمات پاکستان میں بیٹھے ہوئے نکھٹوؤں کی ہڈ حرامی سے کہیں بڑھ کر قابل ستائش ہیں

    میں پھر سے اپنے ان خوبصورت پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جیو ہزاروں سال آباد رہو خوشحال رہو.

  • روشنیوں کے شہر کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں!! تحریر: کائنات فاروق

    روشنیوں کے شہر کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں!! تحریر: کائنات فاروق

    یوں تو سمندر کنارے بسنے والے اس شہر نے اپنے اندر سمندر سا وسط رکھا ہے، ہر کسی کو اپنے سحر میں جکڑ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر سمو لینے کی ادا بھی یہ شہر خوب جانتا ہے۔

    کراچی کے بارے میں اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کی قید ختم ہوجائے مگر بات مکمل نہ ہو، اسلیے موضوع کی طرف آگے بڑھنا چاہوں گی۔ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو معاشی طور پر سنبھالنے کا ذمّہ اٹھا رکھا ہے بلکہ اس شہر نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی نایاب ستارے بھی جنم دیے ہیں جنھوں نے نہ صرف ملک بھر میں اپنی قابلیت کو منوایا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

    کراچی سے ملک کی کئی نامور شخصیات کا تعلق رہا ہے جنهوں نے اعلیٰ اداروں میں اپنی خدمات انجام دیں جن میں دفاعی ادارے، سیاست، بیوروکریسی، عدلیہ، ادب و مذہب سے اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں۔ ایسے بےشمار لوگ موجود ہیں جنھوں نے تقریباً تمام شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر رہ کر اپنا لوہا منوایا ہے۔ لیکن آج کے مضمون کے اندر میں چند ایسی شخصیات کا ذکر کرنا چاہوں گی جنکی عظمت پر کسی قسم کا کوئی حرف نہیں۔

    عبدالستار ایدھی، علامہ طالب جوہری، علامہ ضمیر اختر، معین اختر، سکندر صنم، امجد صابری، اور اب عمر شریف جیسے لیجینڈز کی وفات ہمیں خوفزدہ کر رہی ہے کہ ان عظیم ستاروں کی جگہ کبھی پر ہو بھی پائے گی یا نہیں!

    پاکستان کے اس شہر نے ویسے تو بدترین سے بدترین ادوار بھی گزارے ہیں لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے قیمتی اثاثوں کے دور ہوجانے کا جو نقصان صرف کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کا ہورہا ہے اس کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے۔

    اب واقعی لگنے لگا ہے کہ "روشنیوں کے اس شہر کراچی کی روشنیاں مدھم ہونے لگی ہیں۔”

    پوری دنیا میں انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے عبدالستار ایدھی کو دنیا سے رخصت ہوئے یوں تو پانچ برس بیت چکے ہیں لیکن وہ خلا جو ایدھی صاحب چھوڑ گئے وہ آج تک پر نہ ہوسکا، اور بھلا ہو بھی کیسے سکتا ہے ایسے عظیم لوگ روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔

    عبدالستار ایدھی وہ شخصیت تھے جنھوں نے ہجرت کے بعد روزگار کے لیے کراچی کی کپڑا مارکیٹ میں ٹھیلا لگایا مگر ایک واقعے نے ان کی زندگی بدل دی۔روزگار کے لیئے کراچی کی کپڑا مارکیٹ میں پان بیڑی کا ٹھیلا لگانا شروع کیا انہی دنوں میں عبدالستار ایدھی کے سامنے ایک شخص چاقو کے حملے میں زخمی ہوگیا ۔کچھ دیر تک اسے کسی نے نہ اٹھایا تو انہوں نے اپنا ٹھیلا وہیں چھوڑ کرزخمی شخص کو ابتدائی طبی امداد دے کر اسپتال منتقل کیا۔ اسی واقعے نے نہ صرف ایدھی صاحب بلکہ لاکھوں لوگوں کی تقدیر بدل دی۔

    یہ شہر کراچی معین اختر، امجد صابری، ایدھی صاحب جیسے لوگوں کو گنوانے کے دکھ سے خود کو سنبھال پاتا کہ اسے مزید حادثات کا سامنا کرنا مستقل ہی کرنا پڑ رہا ہے، کبھی علی رضا عابدی کبھی علامہ طالب جوہری تو کبھی عمر شریف کی صورت میں۔

    حال ہی میں پاکستان کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ کامیڈین عمر شریف بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں، اُن کی وفات نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے، پچھلے کچھ دنوں سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت کی ناسازی کی خبر بھی موصول ہورہی ہے، خدا اُن جیسے عظیم قومی ہیروز کا سایہ اس قوم پر تادیر برقرار رکھے، یقیناً ایسے لوگوں کا بچھڑ جانا کسی قومی سانحہ سے کم نہیں ہوتا، حال ہی میں رخصت ہونے والے معروف کامیڈین عمر شریف کا شمار اُن ستاروں میں ہوتا ہے جن کے جانے سے لگتا ہے کہ اس شہر کی روشنیاں جارہی ہیں اور اس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہ ہوسکے گا!

    شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے؛

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    @KainatFarooq_

  • ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم

    ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم


    قارئین  میری تحری پڑھنے سے پہلے ایک بار دور پاک ﷺ  ضرور پڑھ لیں
    ناموس رسالت ہر صاحب ایمان کے دل میں بستی ہے گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئیے ناموس رسالت ﷺ کا دل میں داخل ہونا شرطِ اول ہے اسی پر ایک شاعر نے کہا ہے
    محمدٗ کی محبت میں دین حق کی شرط اول ہے
    اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے
    قارئین یہ عقیدہ اسلام سے ہی روزِ اول لازم و ملزوم ہے۔زمانہ عروج اسلام سے ہی ختم نبوت پر حملہ کرنے والے اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے والے کچھ لعین پیدا ہوتے رہتے ہیں اور سپوت اسلام ان کو ابتدائے اسلام سے ہی موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں کیونکہ رسالتِ اسلام پر حملہ دراصل اسلام پر حملہ ہے اور اسلام کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے اور اس پر آجکل بہت بحث بھی ہوتی ہے چند نام نہاد دانشور جو مذہب اور اسکی تعلیمات سے بلکل ہی نا آشنا ہیں وہ توہین رسالت ﷺ اور اسلام کو اس وجہ سے سزا دینے کے حق میں نہیں ہوتے کیونکہ اسے وہ مذہبی رواداری سمجھتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئیے در گزر کرنا ضروری سمجھتے ہیں
    ان افراد کے لئیے چند قابل غور چیزیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں اول تو یہ کہ مذہبی رواداری اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب مذہب پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ تمام مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کو عزت کی نظر سے دیکھیں اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں دوم یہ کہ یہ قانون خود خدا کا بنایا ہوا ہے کہ جب جب اسلام کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سرورِ کائنات ﷺ کا ذکر اور نامِ نامی بلند ہوتا رہے گا تیسرا یہ کہ ختم نبوت پر پہرا خود نبیِ کائنات ﷺ اور ان کے اصحاب نے ہمیں سکھایا ہے
    اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسلمہ کذاب کا واقعہ سرِ فہرست ملتا ہے جب کہ مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہ تھی کہ ایک طاقتور دشمن سے جنگ چھیڑ سکیں لیکن ابوبکر صدیق نے پھر بھی مسلمہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور کئی سو حفاظ اور عالی رتبہ صحابی اس راہ حق میں جام شہادت نوش کرگیے
    اس وقت سے اب تک کئی بد بخت اس دنیا پر آئے جو نبوت کا جھوٹا دعٰوی کرتے یا ناموس رسالت ﷺ کی توہین کرتے ان کا حال بھی مسلمہ سے الگ نہ ہوا یا تو مسلمانوں نے خود زور سے ان بد بختوں کو جہنم واصل کیا اگر یہ کام ان کے ہاتھوں نہ ہوسکا تو رب جلال نے خود ناموس رسالت اور اسلام کا پہرہ دیا اور ان بدبختوں کا انجام دُنیا میں ہی برا کیا
    قارئین ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور رب جلیل کا اپنے حبیب سے وعدہ ہے کہ "اے محبوب ہم نے آپکے لئیے آپکا ذکر بلند کردےا”
    آجکل ناموس رسالت ﷺ پر کئی جلسے اور جلوس آب و تاب سے ہورہے ہیں اور ہر جلسے میں اس امت کے غلام نبوی رب تعالٰی کی بارگاہ میں رو رو کر ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں کے برے انجام کی التجا کرتے ہیں
    ان دنوں انہی دعاؤں کے نتیجے میں ایک لعین سویڈیش لارس ولکس جو کہ سویڈن میں نعوذ بااللہ رسالت معاب کے خاکے بنا کر توہین رسالت کرتا تھا ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوگیا ہے
    قائین یاد رہے کہ جب سے اس لعین نے توئین رسالت کی ہے تب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سے لے کر دُنیا کے تمام ممالک کے سامنے اپنے پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے دل ایسی حرکت کی وجہ سے دکھتے ہیں اور زخمی ہیں ایسے قوانین بنائیں جائیں کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچے بھی نہیں اور اسکے ساتھ ساتھ سویڈش حکومت کے ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا ہوا تھا قارئین جب سے اس لعین نے خاکے شائع کئیے تب سے مجاہدین اسلام اس کو جہنم واصل کرنے کے درپے تھے لیکن سویڈن حکومت نے اسے سپیشل سیکورٹی دے رکھی اس لعین پر اس کے گھٹیا پروجیکٹ کے دوران بھی ایک مجاہد نے حملہ کیا لیکن اس کی جگہ ایک فلم ڈائریکٹر ہلاک ہوگیا تب سے یہ لعین پولیس کے ساتھ ان  کی گاڑیوں میں گھومتا اور خدا کرنی دیکھئیے انہی پولیس والوں کے ساتھ ساتھ یہ لعین بھی جہنم واصل ہوگیا ہے
    اگر سویڈن کے سامنے مسلمان ممالک کمزور ہیں تو میرا رب بہت بڑی طاقت والا ہے اور جس سرورکائنات کے لئیے یہ دُنیا بنا سکتا ہے وہ اپنے حبیب کی ناموس کا مذاق کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور مسلمانوں کو ربیع الاول کا بہترین ٹحفہ اس کو جہنم واصل کرکے دیا ہے
    الله تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ناموس رسالت ﷺ پر پہرہ دینے والا بنائے اور ہم جب اس دُنیا سے چلیں تو ماموس رسالت ﷺ کا تاج سر پر سجائے بارگاہ پروردگار میں حاضر ہوں آمین
    رہے گا یوں ہی انکا چرچا رہے گا
    پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
    ‎@Naseem_Khera

  • خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ  تحریر عزیزالرحمن

    خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ تحریر عزیزالرحمن

    پوٹھوہار قدیم تاریخی خطہ ہے یہ مشرق میں دریائے جہلم اور مغرب میں دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ ہے جو جنوب کی طرف سالٹ رینج اور شمال میں مری کے پہاڑی سلسلے سے ملتا ہے ۔ پوٹھوہار کا علاقہ اپنے اردگرد کے علاقوں سے بلندی پر واقع ہے جہلم’ چکوال’ اٹک’ راولپنڈی اور اسلام آباد پر مشتمل ہے۔

    پوٹھوہار کے تاریخی ورثوں میں پہلا تعارف روات قلعے سے ہے جس کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ سولہویں صدی میں یہ قلعہ گکھڑ سردار سارنگ خاں کے قبضے میں تھا جس نے شیر شاہ سوری کے مقابلے میں مغلوں کا ساتھ دیا اور میدانِ جنگ میں شیر شاہ سوری کے بیٹے اسلام خان کے بڑے لشکر سے بے جگری سے لڑتا ہوا اپنے سولہ بیٹوں کے ہمراہ اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ پوٹھوہار کے اس سپہ سالار کی قبر آج بھی قلعہ روات کے صحن میں واقع ہے۔ پوٹھوہار کے ایک اور تاریخی قلعے روہتاس جو جہلم کے قریب کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے 1541ء میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ قلعہ تعمیر کرنیوالوں نے جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ ایک بلند مقام تھا جہاں سے پانی زیادہ دور نہ تھا اور قلعے کی فصیل سے کشمیر کے راستے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔

    پوٹھوہار کے ایک اور قلعے اٹک جو طرزِ تعمیر کا انوکھا شاہکار ہے جسے اکبر بادشاہ نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا اور جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد دریائے سندھ پر حملہ آوروں کی گزرگاہ پر نظر رکھنا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے یہ اہم قلعہ بعد میں بہت سے حکمرانوں کی آماجگاہ رہا۔ پوٹھوہار کے ایک پُراسرار شہر جسے دنیا ٹیکسلا کے نام سے جانتی ہے۔ ٹیکسلا کا شہر اور اس سے جڑی قدیم تاریخ کا تذکرہ اب عالمی سطح پر ہوتا ہے۔ ٹیکسلا کی تہذیب 700 قبل مسیح کی ہے۔ ٹیکسلا کی اسی سرزمین پر چندر گپت موریا نے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی تھی’ یہیں جولیاں کے مقام پر وہ قدیم ترین یونیورسٹی ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ دنیا میں سنسکرت کا اولین گرامر نویس پانینی (Panini) بھی اسی درسگاہ میں پڑھاتا تھا۔ معروف دانشور چانکیہ کا تعلق بھی اسی یونیورسٹی سے تھا’ وہی چانکیہ جس کی کتاب ”ارتھ شاستر” کو لوگ اب بھی مملکت کے اسرارووموز سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 326 قبل مسیح میں یہیں سے سکندرِ اعظم ہندوستان کی حدود میں داخل ہوا اور پھر ایک مقامی راجہ پورس جس کی سلطنت میں پوٹھوہار کا علاقہ بھی شامل تھا نے سکندر کی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہ تاریخ میں پنجاب کی پہلی مزاحمت تھی۔

    پوٹھوہار کا خطہ صوفیاء کرام سے بھی زرخیز ہے گولڑہ کے پیر مہر علی شاہ اور حضرت بری امام سرکار نے اس خطے میں دین اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر گولڑہ میں پیر مہر علی شاہ کا مزار ہے۔دوسری طرف اسلام آباد میں بری امام کا مزار بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ پوٹھوہار میں قدم قدم پر تاریخ کے خزانے ملتے ہیں۔ کئی تہذیبوں کے نشان ملتے ہیں۔ ایک طرف کٹاس راج کا قدیم ہندو مندر ہے’ پھر نندنہ کی وہ پہاڑی جہاں بیٹھ کر البیرونی نے زمین کے قطر کی پیمائش کی تھی۔ دوسری طرف مانکیالہ میں بدھوں کا ایک بہت بڑا سٹوپا ہے جسے توپ مانکیالہ کہتے ہیں۔ چکوال میں سکھوں کا قدیم خالصہ سکول اور حسن ابدال میں سکھوں کے روحانی پیشوا کی جنم بھومی پنجہ صاحب واقع ہے ۔

    پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان کے کیپٹن سرور شہید کو ملا۔ پوٹھوہار کا اعزاز ہے کہ دو نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والوں کا تعلق اس علاقے سے ہے کیپٹن سرور شہید اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید۔

    پوٹھوہار قلعوں’ تاریخی عمارتوں’ صوفیوں اور بہادروں کا خطہ ہے جسے جاننے کا مرحلہ کبھی مکمل نہیں ہوتا۔

    ‎@The_Pindiwal

  • عمر شریف کون تھے   تحریر ذیشان اخوند خٹک

    عمر شریف کون تھے  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏عمر شریف کون تھے
    عمر شریف نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955 کو آنکھ کھولی.
    ان کی عمر تقریباً چار سال کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے ان کا بچپن کا وقت بہت مشکل حالات میں گزرا.
    انہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز 14 سال کی عمر میں سٹیج ڈرامے سے کیا. اسی سٹیج ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر انہیں پانچ ہزار کا انعام اور 70 سی سی موٹرسائیکل میں دیا گیا.
    6 سال بعد انہوں نے آڈیو کیسٹ ڈرامے شروع کئے.
    ان کی مشہوری کا وجہ یہی تھی کہ انہوں نے کامیڈی کی منفرد انداز اپنایا جو کہ لوگوں کو کافی پسند آیا.
    وہ مشہور کامیڈین منور ظریف کے بہت بڑے مداح تھے اور اسے اپنے روحانی استاد مانتے تھے.
    عمر شریف ایک ٹی وی انٹرویو میں منورظریف سے متعلق  انھوں نے کہا کہ ان جیسا آدمی اور فنکار میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، نہ مجھے کوئی ان جیسا اچھا لگا۔ہمارے ملک کے آرٹسٹ بڑے اعلیٰ ہیں لیکن سچ کہتا ہوں منورظریف دنیا میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
    وہ صرف پاکستان کے بہترین اداکار نہیں تھے بلکہ پورے برصغیر کے بہترین کامیڈین تھے. انہوں نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے کافی مشہور شو میں اپنا فن پیش کیا.
    انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی کام کیا مگر ان کی مشہوری کی وجہ سٹیج ڈرامے بنے.
    عمر شریف پاکستان کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جس کے مداح پورے دنیا میں موجود ہے.
    بالی وڈ کے مشہور اداکار ان کے مداح تھے.
    ان کے 40 سالہ کیریئر کے بہترین کارکردگی پر ان کو 10 نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا. بھارت کے مقبول چینل زی ٹی وی نے بے تاج بادشاہ عمر شریف کو زی ایوارڈ سے نوازا.
    عمر شریف نے اپنی کیریئر میں سٹیج ڈراموں میں اداکاری، ہدایت کاری کی. انہوں نے 70 سے زائد اردو ڈرامے کے سکرپٹ لکھے اور ان میں اداکاری کے جوہر بھی خود دیکھائے.
    انہوں نے ایک ڈرامہ میں 400 سے زائد بہروپوں میں نظر آئے.
    انہوں نے زندگی کے 66 بہاریں دیکھ لی اور انہوں نے تین شادیاں کی تھی جس میں انہوں نے 2 کو طلاق دی تھی.
    ان کی زندگی میں بہت مشکل حالات آئے جب ان کی نوجوان بیٹی حرا وفات ہوگئی جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے تھے.
    وہ بہت بیمار تھے جس کی وجہ سے انہوں نے حکومت پاکستان سے علاج کی اپیل کی جس پر وزیر اعظم عمران خان اور سندھ حکومت نے فری علاج کا اعلان کیا اور انہیں ائیر ایمبولینس پر امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا.
    امریکہ منتقلی کے دوران اسکی طبیعت خراب ہوئی جس کے بنا پر اسے جرمنی میں روکنا پڑا. جرمنی کے ہسپتال میں وہ حالق حقیقی سے جا ملے.
    ان کی رحلت کے بعد فضا سوگوار رہی اور عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے غم کا بھرپور اظہار کیا. وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی، شاہد آفریدی، جاوید شیخ اور پاکستان کے مشہور شخصیات نے اظہار افسوس کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا. بالی وڈ کے جانی لیور اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے وفات پر غم کا اظہار کیا.
    جرمنی کے ہسپتال میں میت ورثا کے حوالے کردی جس کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا.
    عمر شریف کے وصیت کے مطابق ان کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دفن کیا جائیگا.

    ٹائٹل 

    ٹویٹر ہینڈل
    ‎@ZeeAkhwand10

  • نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    ‏پہلے وقتوں میں اگر کیسی بچے کا باپ ڈاکٹر ہوتا تھا توبچہ بھی ڈاکٹر ہی بنتا تھا، باپ اگر درزی ہوتا تو بیٹا بھی درزی ہی بنتا تھا، باپ اگر مستری ہوتا تو اس کا بیٹا بھی باپ کی طرح مستری ہی بنا کرتا تھا 

    پھر وقت بدلا نظام تعلیم میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں لوگوں میں نئی سوچ پیدا ہونے لگی اور لوگ اپنے شعبے سے ہٹ سے اہنے بچوں کو تعلیم سیکھانے لگے 

    آج کل کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان میں ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، پائلٹ یا تو آرمی افسر بنیں۔ لہذا دوران تعلیم ان کو یہ بات باور کروا دی جاتی ہے کہ بیٹا تم ڈاکٹر بنو گے، تم انجینئر بنو گے یا تم پائلٹ بنو گے وغیرہ وغیرہ۔

     اس طرح بچوں بچے کے دماغ پہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کے تم نے بس اس طرف جانا ہے اور یہ ہی کرنا ہے کیسی دوسرے شعبے بارے سوچنا بھی نہیں ہے، مطلب کے بچے کے دماغ کو ایک طرح سے بند کر دیا جاتا ہے کؤوں کے مینڈک کی طرح جو صرف اپنے والدین کے بتائے تعلیمی رستے پہ ہی چلتا ہے اور اپنے اصلاحات کو استعمال کرنے اور سوچے سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے

     جیسے ہی بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے تو اسے والدین کی مرضی سے ایف اس سی، آئی سی ایس یا ایف اے وغیرہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل کے دوران وہ بچہ جس نے اپنی زندگی گزارنی ہے یا جس نے اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبے کا انتخاب کرنا ہے اسے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں کیا جاتا یا یوں سمجھ لیں کہ سیدھا اپنی مرضی سے داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بچے کی رضامندی، اس کی دلچسپی اور ہم آہنگی کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال انٹر پاس کرنے کے بعد ہوتی ہے 

    اور یہیں سے ہی بچوں کے روئیے میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے وہ چلتا تو النے والدین کے طریقے پہ ہی ہے تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بچے کا اس تعلیم کے لئے ذہن ہی تیار نہیں ہوتا اور نا ہی وہ اس میں خوش ہوتا ہے

    مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ کر چکا ہے پر اس کی دلچسپی اب میڈیکل یا سائنس کے شعبے میں نہیں تھی بلکہ وہ کیسی آرٹس سبجیکٹ میں ہے جیسے کہ انگلش کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اسے اپنے تعلیمی کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہتا ہو یا کہ وہ وکیل بننے میں دلچسپی رکھتا ہو، اسے سیاست کا شوق ہو اور وہ اسے بطور مضمون پڑھنا چاہتا ہو، اسے اردو ادب سیکھنے کا شوق ہو یا اسلامی علوم کو سیکھنے کی طرف اس کا رجحان پیدا ہو گیا ہو یا بعض پچوں میں دور جدید میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور مختلف ڈیجیٹل پروگرامز میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے کاروبار کے طور پہ استعمال کرنا چاہتا ہے تو جب وہ اپنی تعلیم کے پس منظر کو دیکھے گا تو اس کا ان شعبوں سے کوئی تعلق نا ہو گا اور نا ہی معلومات اور والدین بھی بچوں کا سہارا بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے سختی سے بتا دیتے ہیں اگر تم پڑھو گے تو صرف اسی فیلڈ میں جس کا ہم انتخاب کر چکے ہیں ورنہ نہیں. 

    اکثریت والدین کی ایسی ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسی فیلڈ کا انتخاب کرے جس کی موجودہ وقت میں بہت زیادہ اہمیت ہو چاہے بچے کی اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی ہو یا نا ہو اگر کیسی فلیڈ کی اہمیت بنانی ہی ہے تو وہ خود ہی اس کی اہمیت بنا سکتا ہے جو اس میں شامل ہو گا

    ایک اور بھی وجہ ہے کے پڑھنے والے بچے کی جس شعبے میں دلچسپی ہے وہ اس کا اپنے والدین کو بتا ہی نہیں پاتا اور ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے کیونکہ بچے اور والدین کے درمیان اس طرح ہی بات ہی نہیں ہو پاتی ہمارے معاشرے میں اسے شرم و حیا کا نام دے دیا گیا ہے پر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ بچوں کا ڈر ہوتا ہے جو بچوں کو والدین سے دور کر دیتا ہے ساتھ ہی بچوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جس شعبے میں بچے کو اس کے والدین نے بھیجا ہوتا ہے وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتا اور نا خود کو اس کے لیے تیار کر پاتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی ڈگریاں زیادہ اہمیت کی حامل ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان میں اچھے نمبر ہی حال نہیں کر پاتا.

    اور جس فیلڈ میں بچے کی دلچسپی ہوتے ہے جیسے وہ پسند کرتا ہے اور اسی فیلڈ کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لیے والدین ہی اجازت نہیں دے پاتے تو اس طرح سے بچہ کا مستقبل پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے اب آگے اسے کیا کرنا چاہیے

    اس لئے اس سارے عمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے مشورہ کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا شوق کیا ہے؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ تعلیم حاصل کرنا، اس پر توجہ دینا والدین یا کسی اور شخص کا کام نہیں بلکہ محض اسی بچے کا کام ہے جس نے آگے بڑھ کر اس پیشے کو اپنانا ہے اور تعلیم حاصل کرنا ہے۔

    ‎@Durre_ki_jan

  • ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    پاکستان میں پولیس کا ایک الگ ہی رول ہے سمجھ نہیں آتی یہ پولیس ہماری دیکھ بال کے لیے ہے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسرے ملکوں میں آپ کسی سنسان علاقوں سے گزر رہیں ہوں گے تو اگر وہاں پولیس موجود ہو گی تو آپ بلا جھجک وہاں سے چلے جائیں گے پر ہمارے پاکستان میں پولیس کا سسٹم اتنا خراب ہے آپ اگر پاکستان میں کسی سنسان علاقے سے گزریں گے اور اگر وہاں پولیس کھڑی ہوگی تو آپ اگر زرا برابر بھی غلط نہیں ہوں گے تو پھر بھی آپ وہاں سے گزرنا پسند نہیں کریں گے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور آپکی آمدن اچھی نہیں تو آپکے پاس رقم ہوگی تو آپکو چوروں اور ڈکیتوں سے زیادہ پولیس سے ڈر لگے گا ایسا بلکل ہماری پولیس خراب ہے مگر ہاں اچھے بڑے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکو ڈنڈا دینے والوں کو یعنی وزیراعظم، پولیس انسپکٹر اور دوسرے وہ لوگ جن کے انڈر ہوتی ہے پولیس انکو بھی چاھیے کہ وہ بھی ایکٹیو ہوں، قصور میں ایک پولیس کانسٹیبل نے نوجوان حافظ قرآن سمیع الرحمان کو اس بنا پر گولی مار کر قتل کر دیا کے اس نے پولیس والے کے ساتھ بدفعلی کرنے سے انکار کیا اسلامی معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ دنوں پہلے میں اور میرے دو دوست رات 9 بجے باہر ہوٹل پر چائے پینے جا رہے تھے تو ہم نے (ایم اے جناح روڈ کراچی) پر موٹر سائیکل روکی پیٹرول چیک کرنے کےلئے اتنے میں پولیس آتی ہے ہم سے پوچھا کیا کر رہے ہو بتایا تو ہماری تلاشی لی گئی بائک کے پیپر چیک کیے اسکے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں پر انہوں نے بولا ہمیں رپورٹ ہے تین لوگ یہاں ڈکیتی کرتے ہیں اور اولیاء آپ لوگوں جیسا بتایا گیا ہے پھر بہت بدتمیزی کرنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے بعد بولا 500 روپے دو تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور یہ کیس کسی اور پر ڈال دوں گا کیا ہماری پولیس کا اب صرف یہ کام رہے گیا ہے اور ساتھ ساتھ جو دوسرے پولیس والے تھے موبائل میں ان میں سے ایک بار بار ہمارے پاس آرہا تھا اور یہ کنفرم کر رہا تھا کہ تمھارا کوئی جانے والا تو نہیں پولیس میں اگر ہے تو انکو فون کرلو ہم نے 1 سے 2 بار منا کیا پھر آیا تو میں موبائل انسپکٹر جو تھا اس کے پاس گیا اور بولا سر میرا ایک جاننے والا رینجرز میں ہے اس سے بات کرواؤں تو پہلے تو چلایا پھر بولا کرواؤ تو جب میں کسی کو فون لگانے لگا تو بولا چھوڑو اور یہاں سے چلے جاؤ اور ساتھ میں یہ بھی کہنے لگا کہ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، انکا برتاؤ دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی کریمنل ہیں یا چلتے پھرتے کسی کا بھی قتل کرتے ہوں اور جو لوگ کریمنل ہیں کرپٹ ہیں ان کو خلاف پولیس کی کوئی کارکردگی نہیں یا تو یہ انکے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا انکو اس بات پر فورس کیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو تنگ کرنا ہے۔

    تو کیا یہ ہماری پولیس ہے؟

    کیا یہ ادارہ اس لیے بنایا ہے؟

    آخر کب تک ہم اس طرح اپنے ہی ملک میں ڈر ڈر کر جئیں گے؟

     آپ نے سنا ہوگا بہت سے ایماندار پولیس والوں کی کہانیاں وہ بھی اسی پولیس میں ہوتے ہیں پر فرق صرف اتنا ہے انکو معلوم ہوتا ہے کہ انکا کام کیا ہے وہ وردی کا ناجائز استعمال نہیں کرتے اور وہ لوگوں کہ دلوں میں بھس جاتے ہیں۔ 

    "محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

    شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے”

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون؟  دوسرا حصہ:  تحریر: احسن ننکانوی 

    جی اسلام علیکم اس دن ہم نے بات کی تھی کہ بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔

    جس میں بات کی تھی کہ والدین اور اساتذہ کرام کی کتنی کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ کس حد تک بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

    آج ایک بہت ہی اہم پہلو پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی بچے کے بناؤ یا بگاڑ میں بہت حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح بچہ بگڑتا یا سنورتا ہے۔

    آپ نے علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر تو سنا ہوگا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ شاہین کا بچہ بلند پرواز کر تو سکتا تھا لیکن زاغوں اور کوؤں کی بری صحبت نے اسے بگاڑ دیا۔

    آپ میرے شعر سے سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں میرا اصل اشارہ اس طرف ہے کہ معاشرہ ماحول بچے پر بہت اثرات مرتب کرتا ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو والدین اور اساتذہ کرام پر ساری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ معاشرتی ماحول بھی بچے پر مختلف قسم کے اثرات ڈالتا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان میں تقریبا 95 فیصد والدین اور اساتذہ کرام ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور اپنی زمہ داری بہت ہی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

    اس لئے بچوں کے بگڑنے اور سنورنے کی ساری ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ڈال دینا ایک بہت ہی ناانصافی اور زیادتی والی حرکت ہے۔

    والدین اور اساتذہ کرام کی ایک واضح اور غالب اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے بچوں کواسلامی اور روحانی طور پر ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اور معاشرے میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیتیں ان کے بچے میں ہوں۔

    لیکن ماحول اور معاشرے کے سامنے وہ اپنی جائز اور نیک آرزو کا خون ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    جب تک ایک صحت مند ماحول اور معاشرہ بچے کو نہیں ملے گا تو والدین یا اساتذہ کرام جتنی مرضی محنت کر لیں۔

    ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے جو بہت ساری آرزوئیں لے کر اپنے بچے کو ایک اسلامی طرز عمل اور اسلامی زندگی پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بتائیے آج کا بگڑا ہوا ماحول اور معاشرہ ہمارے والدین کی نیک تمناؤں کے لیے کارساز ہے۔

    بتائے کیا ہمارے معاشرے میں کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جو ماحول خراب کرنے والی چیزیں ہیں انھوں نے والدین اور بچوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے اور بہت زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

    معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام جیسے مرضی اپنا ذمہ داری نبھائیں لیکن جب بچے باہر نکلتے ہیں تو فحش فلمیں اور گانے وغیرہ سنتے ہیں۔

    تو جو والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کو روحانی تعلیم دی ہوتی ہے تو اس پر پانی پھر جاتا ہے جب وہ باہر کے ماحول میں جاتے ہیں۔

    اس لئے ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتی کہ والدین یا اساتذہ کرام سے صرف بچوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ماحول معاشرہ بھی ایک بہت بڑا ذمہ دار ہوتا ہے جس میں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔

    اب اسی سے نوے فیصد تک سلجھے ہوئے اور نیک گھرانے بھی اپنے بچوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔

    نیک اور صالح والدین بھی بہت ساری کوشش کے باوجود پریشان ہیں۔

    سب سے پہلی ہر بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا سوچے اور جو جو اس پر ذمہ داری عائد ہو اس کے مطابق وہ ماحول کو ٹھیک کرے اس طرح معاشرہ ٹھیک ہوگا اور لوگوں کی اچھی اچھی ترجیحات ہو اس طرح سے جب ماحول ٹھیک ہو گا تو ہمارے بچوں کی پرورش بھی اچھے ماحول میں ہوگی تو جب وہ جوان ہوں گے تو اس وقت تک معاشرہ بہت پاک صاف ہو چکا ہوگا۔

    اور آنے والی نسلیں ایک پاک صاف معاشرے میں پروان چڑھ سکیں گی ۔

    ‎@AhsanNankanvi

  • مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    سیاحت کسی بھی ملک یاشہرکا ایک بہترین سرمایہ ہوتا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور سیاحت کو بہترین سرمایہ کاری کے طور پر مانا جاتا ہے آج میں مری کی سیاحت کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ چند روز قبل فیملی کے ہمراہ میرا مری جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزیں میری توجہ کا مرکز بنی جن میں مری کی خوبصورتی اور وہاں کا فضائی ماحول ہے لیکن ان سب سے ہٹ کر کچھ ایسی بھی چیزیں تھی جو ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرواتی ہیں آج میں ان مسائل کو اس امید سے اپنے کالم میں ذکر کروں کہ تاکہ مری انتظامیہ وپولیس کی توجہ اس طرف مبذول ہو اور ان مسائل کو دور کیا جائے تاکہ مری کی سیاحت محفوظ اور پرامن ہو۔ صبح نو بجے کے قریب میں جھیکا گلی کے بازار میں پہنچا اور وہاں ناشتے کے لیے رکا گاڑی میں ہی ناشتے کا آرڈر کیا اور ناشتہ منگوایا اسی اثناء گاڑی کی دونوں اطراف کو بھکاری بچوں اور چند خواتین نے گھیر لیا اور زور زور سے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے لگے، آخر تنگ آکر میں گاڑی سے اترا تو وہاں پاس میں موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ان کے بارے میں شکایت کی تو ان صاحب نے کہا کہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ان کو یہاں سے ہٹانا ہمارا کام نہیں، وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانہ کے اہلکار ان سے پیسے لیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے یہاں پر طرح کی من مانی کرنے کی، یہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانی خواتین اور بچے ہیں جو کئی مہینوں سے یہاں پر موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کو یہاں سے ہٹایا جاتا ہے یہ سب جھیکاگلی مری مال روڈ اور اردگرد کے سیاحت کے پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں، واپس آکر گاڑی نکالی اور آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی بچے نے ایک لکڑی اٹھا کر شیشے پر دے ماری، ان بھکاریوں کی آئے روز کی بدمعاشی اور من مانی کی وجہ سے بہت سارے سیاح اب مری کی طرف رخ نہیں کرتے اور اگر بدستور ایسا ہی رہا تو مری سے سیاحت ختم ہوتی جائے گی اس لیے مقامی انتظامیہ وپولیس کو ان کا سد باب کرنا چاہیے اور مری کے امن کو بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرا بڑا ایشو ٹریفک کا ہے جب جھیکا گلی سے مال روڈ کی طرف جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں دو، تین کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، پارکنگ مافیا نے روڈ کی سائیڈ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے اور اس کے علاوہ سب سے اہم ایشو جس کا یہاں ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مال روڈ پر بہت سارے اوباش نوجوان گھوم رہے ہوتے ہیں جو خواتین اور فیملیز کو ہراساں کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اوباش لوگوں کی طرف سے خواتین وفیملیز کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میری اسسٹنٹ کمشنر مری اور پولیس سے یہ التجا ہے کہ خدارا مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے اس کے امن کو بحال رکھیں اور سیاحوں کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد دور کریں اور مری کی قدیمی سیاحت کے باب کو برقرار رکھیں تاکہ سیاح فیملیز اور خواتین خود کو اس خوبصورت ہل اسٹیشن پر محفوظ سمجھیں اور اپنی چھٹیاں سکون کے ساتھ یہاں گزاریں اور مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ 

    ٹویٹر:

    https://twitter.com/IamSaadatAbbasi?s=09