Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

    ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

    آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

    اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

    بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

    یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

    گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

    ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

    لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

  • بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    لہجے کو ذرا دیکھ جوان ہے کہ نہیں ہے
    بالوں کی سفیدی کو بڑھاپا نہیں کہتے

    ایک سوال اکثر ہمارے اذہان میں ابھرتا ہے کہ آخر بڑے شخص کی تعریف کیا ہونی چاہیے بڑے شخص سے کیا مراد ہے۔؟ ایک صاحب جاہ و ثروت بھی بڑا شخص ہو سکتا ہے، ایک عالی دماغ فلسفی بھی بڑا شخص مانا جا سکتا ہے، ایک نازک خیال شاعر،ایک عالم متبحر،ایک کامل سیاستدان ،یہ سب بڑے شخص ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن در حقیقت جسے بڑا شخص مانا اور سمجھا جاتا ہے وہ،وہ ہے جو اپنے افکار سےدلوں میں ولولہ ،دماغوں میں جلا اور خیالات میں انقلاب پیدا کر دے قوم کو تاریکی کی دلدل سے نکال کر اجالے میں لے آئے پستی و ذلالت سے موڑ کر اس راستے پر لے آئے جسے "صراط مستقیم”کہا جاتا ہے۔

    دیگر بڑے لوگوں کی طرح خلقِ خدا اور خصوصا کشمیریوں کی یہی خدمت "سید علی گیلانی”نے "آزادی کا نعرہ”بلند کر کے انجام دی۔انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے بنائے ہوئے خوف کے بت کو توڑا۔غلامی کے خیالاتِ باطلہ کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اذہان کو ایک مکمل آزادی سے روشناس کروانے کا بیڑا اٹھایا۔یہ انقلاب محترم سید علی گیلانی نے اپنے حیاتِ آفرین خیالات سے برپا کیا۔

    قیام پاکستان اور بانیء پاکستان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبصہ کر لیا بھارتی حکام ریاست جموں کشمیر کا آزادی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے انھون نے کشمیر کی اس تاریک زمین پر مہتاب کو چمکنے سے روک دیا لیکن وہ اس حقیقت کو پسِ پشت ڈال چکے تھے کہ تاریکیاں اور اندھیرے جتنے گہرے ہوتے ہیں آخر ایک روز چھٹ جایا کرتے ہیں۔ہر شب کے بعد سحر قدرت کا حکم ازل ہے۔ کبھی مٹھی کے طاقچے میں روشنی کو قید نہیں کیا جاسکتا۔لیکن پھر بھی وہ اپنے پراگندہ عزائم کی پرورش میں مصروف رہے۔اقوامِ متحدہ اور پوری دنیا کے سامنے کیے ہوئے وعدوں سے مکر گئے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے نابلد تھے کہ خدا نے اس مظلوم قوم کی آہیں سن لی ہیں ان پر قبولیت کی مہر ثبت کر دی ہے۔اور جموں کشمیر کو سید علی گیلانی کی صورت(29ستمبر 1929ء) ایک ایسا بیٹا عطا کیا جو اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑے گا۔

    جموں کشمیر کے سیاسی رہنما جن کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا۔اپنے تعلیمی دورانیے میں جب وہ اورینٹل کالج لاہور آئےتو اس وقت جماعت اسلامی کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور پھر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹے تو باقاعدہ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی جماعت کے چوٹی کے رہنماووں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔

    آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جماعت اسلامی میں ممبری کے ساتھ معروف عالمی فورم”رابطہ عالم اسلامی”کے بھی رکن رہے۔گیلانی یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلی کشمیری جانباز تھے۔فکرِ حریت کی شمع جلانے والے یہ عظیم محسن کشمیریوں کے اذہان کو آزادی کی جانب متوجہ کرنے والے ایک متحرک اور سرگرم رکن تھے جنھوں نے ہمیشہ بھارتی حکام اور افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آزادی کا نعرہ لگایا کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ کشمیریوں کا مضبوط بازو بنے اور جدوجہد آزادی کے لیے”تحریک آزادی”کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا جسے آگے چل کر بہت شہرت ملی اور یہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    آزادی اور جدوجہد کے اس استعارے کو بھارت سرکار نے خریدنے کی بارہا کوشش کی ہر اوچھا ہتھکنڈا عمل میں لایا گیا ہر حربہ آزمایا گیا مگر یہ بہادر ٹس سے مس نہ ہوئے اور ڈٹے رہے۔دباؤ جس قدر بڑھتا گیا گیلانی کا جزبہ حریت پختہ اور مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔

    سید علی گیلانی کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جب وہ اپنے لیے ایک پرسکون اور مراعات پسند زندگی کا انتخاب کر سکتے تھے اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ سکتے تھے لیکن آپ نے اپنی ذات پر کشمیریوں کی آزادی کو ترجیح دی اور ڈنکے کی چوٹ پر کشمیریوں کے حق کے لیے ڈٹے رہے۔پوری زندگی بھارتی مظالم اور ریاستی جبر کے سامنے سینہ سپر رہے لیکن کبھی جھکے نہیں بھارتیوں کو یہ باور کروا دیا کہ اس سپوت کا تعلق اس نبی کی امت سے ہے جو جام شہادت تو بخوشی پی لیتی ہے،سر تو کٹا سکتی لیکن سر جھکاتی نہیں۔ جیتے ہیں تو شان اور آن سے اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو دنیا والے ان پر رشک کرتے ہیں۔

    سید علی گیلانی، اقبال کی مردِ مومن کی تمام صفات اپنے اندر لیے ہوئے تھے۔ اقبال کے اس مرد مومن نے زندگی کی نوے بہاریں دیکھیں جن میں بیشتر حصہ کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے ،آزادی کی پہچان کروانے،مقدمے بھگتنے،جیلیں کاٹنے اور نظر بندیوں کا سامنا کرتے گزارا لیکن پھر بھی آزادی کے مطالبے سے منہ نہ موڑا۔ غلامی کی زندگی کو توہینِ زندگی قرار دیتے رہے اور اس ظالم سامراج سے ٹکر کی جس کی ظلم وبربریت کے پیشِ نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پسپا ہو سکتا ہے اس سب کے باوجود حریت پسند رہنما آزادی کے جذبے سے سرشار تھے ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی اور ہمیشہ اس نعرے کی صدا لگاتے رہے۔

    "اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے،اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے”

    یہ دین اسلام سے محبت اور جذباتی لگاو تھا اور ان کا یہ جملہ ان کے ملت اسلامیہ کے تصور کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔
    ہمت ،جرات،شجاعت اورعزم واستقلال کا پیکر،جدوجہد کااستعارہ،بابائے آزادی سید علی گیلانی کشمیریوں کو روتا چھوڑ اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے۔وفا و اخلاص کا یہ پیکر آزادی کی تڑپ لے کر اس دنیا میں آئے اور لمحہء آخری تک اس تگ ودو میں مصروف رہے۔خود تو چلے گئے لیکن کشمیریوں کو آزادی کا شعور اور آدرش دے گئے جو قابض حکمرانوں کو کبھی چین کی نیند سونے نہ دے گا۔۔۔۔جب تک مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے آزادی کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سید علی گیلانی کی آواز بھی کانوں کو سنائی دے گی۔

    آپ کی کاوشوں، جدوجہد،اور عمل پیہم کو ہر پاکستانی کا سلام!
    خداتعالی آپ کی لحد پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرے(آمین)

    @IrfanSOfficial

  • ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم عمران خان کی زیادہ توجہ اس وقت ان ملکی مسائل پر ہے جو کئی دہائیوں سے توجہ طلب ہے بڑھتی ہوئی آبادی مانگ میں اضافہ اس وقت توانائی کی کمی میں اہم مسئلہ ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنائیں گے اور اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے ہنگامی بنیاوں پر دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز کروایا.

    جس وقت وزیراعظم عمران خان ان ڈیمز کے کام آغاز کروایا انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کے بارے میں مزید کہا کے اس سے ہمارے توانائی کے وسائل میں اضافہ ہوگا.اور ہمیں توانائی کے حصول میں آنے والی مشکلات کم ہونگی.

    وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آج ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ 4500 میگاواٹ ہائیڈل پاور پیدا کرے گا اور کم از کم 16 ہزار ملازمتیں فراہم کرے گا انشءاللہ.

    وزیر اعظم نے بھی اپنے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ حکومت "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کی طرف جا رہی ہے۔

    "یہ ہمارا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ چین نے تقریبا 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے ہیں ، لیکن چین میں ان کے اب تک کُل اسی ہزار ڈیم ہیں۔ اس سے آپ کو پتہ چلتا ہے کے آپ اس ڈور میں کہاں ہیں اور ابھی آپ کو اس سیکٹر میں کتنی محنت کی ضرورت ہے.

    اس کام کی کی تعمیر کرنے کا فیصلہ پانچ دہائیاں پہلے لیا گیا تھا۔ ڈیم بنانے کے لیے یہ سب سے بہترین جگہ ہے اور اس کا انتخاب چار سے پانچ دہائیاں پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ، اور آج اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ ہی ہے ہماری ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ۔ ”

    سوچنے کی بات ہے اگر ہم توانائی حاصل کرتے ہیں دوسرے ممالک سے تو ہمارا زرمبادلہ کا ایک اہم حصہ ہیں کے حصول میں صرف ہوتا ہیں جب کے ہم ملکی وسائل کا سہی وقت پے استعمال کرتے اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر رکھتے تو آج توانائی میں خود کفیل ہوتے لیکن اس ضرورت کو صحیح وقت پے سمجھا ہی نہ گیا اور پانچ دہائیاں تک ملک میں اس طرح کے اہم منصوبوں پر کام شروع ہی نہ ھوا.
    وزیراعظم عمران خان نے مزید بتایا کہ حکومت اب دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے کی طرف بڑھے گی جس سے زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوگا اور پاکستان کو اپنا ایندھن خود پیدا کرنے کی اجازت ملے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل یا کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ "فوائد دوہرے ہیں۔ ہمیں توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والی اشیاء دوسرے ملکوں سے لینا نہیں پڑے گا .

    عمران نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ”

    بڑھتے ہوئے توانائی کی کمی کے مسائل کو کم کرے گا انشاء اللہ.

    اور انشاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ ڈیم گلگت اور بلتستان کے لوگوں بالخصوص چلاس میں رہنے والوں کی قسمت بدل دے گا۔

    90 کی دہائی میں درآمد شدہ فرنس آئل کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے فیصلوں نے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو متاثر کیا۔

    انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو اسے 20 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا ، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہے۔
    ایک اہم بات جو ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے مہنگائی کا ہم سب رونا روتے ہیں اور اس کی اصل وجوہات کی طرف ہم نہں آتے.

    پاکستان میں توانائی کے مسائل کی وجہ سے ہمیں توانائی کے حصول کے لیے دوسرے ممالک سے خرید کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ زر مبادلہ باہر چلا جاتا ہے اور اسے ہمارے روپے کی ويلو میں کمی آتی ہے اور اس آپکی ملک کے اندر ہر چیز کی قمیت خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور
    اس سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    حقیقت میں صحیح معنوں میں پاکستان کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہں دی گئی اگر بڑھتی ہوئی آبادی کا صحیح تہمینہ لگایا جاتا اور اس حساب سے ضرورت زندگی کی پیداواری صلاحیت کو مدد نظر رکھا اور بر وقت ملکی وسائل کو صحیح استعمال میں لایا جاتا تو آج ملک اس طرح کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا پاکستان اس طرح شدید قسم کے توانائی کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا اور مہنگائی بھی اس طرح عروج پے نہ ہوتی.

    Twitter handle
    @aworrior888

  • مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور پہلو مایوسی، ناامیدی بن چکا ہے اس درخت کی اتنی جڑیں پھیل چکی ہیں کہ ہر طبقہ ہاے زندگی میں اس کی شاخیں موجود ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں تک مردوں سے لیکر عورتوں تک عوام سے لیکر خواص تک حکمران سے لیکر رعایا تک سر سے لیکر پاوں تک فرد سے لیکر خاندان تک گھر سے لیکر کاروبار تک ہر جگہ مایوسی کے بادل چھاے ہوے ہیں. نوجوان اپنے مستقبل اور کیرئر کے بارے میں ناامید نوکری کاروبار ملازمت معاش زندگی سب کے بارے کمزور کھوکھلی باتیں کرتا نظر آتا ہے. ریڑھی بان سے پوچھو یا نان بائ سے مزدور سے پوچھو یا مستری سے بزنس مین سے پوچھو یا دہاڑی دار سے ایم این اے سے پوچھو یا اس کی رعایا سے اے سی میں بیٹھنے والے سے پوچھو یا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ہر کسی کی زبان پر ملک پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں مایوس، غیرمہذب، کمزور، معیوب جملے ملیں گے.

    جب ہر کسی کی یہی حالت ہو تو سب ایک ہی تلاب میں نہانے والے نظر آتے ہیں تو امید و رجاء کی کرن کہاں سے پیدا ہو گی ، اور یہ تو عین فطرت ہے جو سوچ و افکار میں آتا ہے گمان و خیال میں جنم لیتا ہے وہی عین الیقین اور حق الیقین بنتا ہے یعنی وہی کچھ ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے . میری قوم کے اجتماعی جملے اور چند مایوس کن بول . ستر سال میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا آگے کیا کریگا ایک دہائ سے کشمیر آزاد نہیں ہوا اب تو آزاد ہو گا ہی نہیں کیونکہ پاکستان ان کےلیے کچھ نہیں کرتا اب تک مہنگائ میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ ستر سال میں ترقی نہیں کی تو آگے بھی امکان نہیں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ پاکستان دنیا میں دہشت گرد ملک ہے
    دنیا میں تنہا ملک ہے کوئ ساتھ نہیں ہے پاک فوج دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر لڑ سکتی تو کشمیر آزاد کیوں نہیں کراتی پڑھائ کر کے کیا کرنا جب نوکری رشوت اور سفارش سے ملتی ہے پاکستانی قوم دنیا میں بدنام ہے کوئ ٹیلنٹ نہیں ہے سب ادارے تباہ ہوگے ہیں خسارے میں ہیں پاکستان آئ ایم ایف ورلڈ بینک کا غلام ہے یہود و نصاری کی ایجنٹ حکومت ہے پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہی نہیں یہ اسلام کےلیے نہیں بنا اس کو بنانے والا بھی مسلمان نہیں تھا مایوسی کا شور ہے منافقین کا دور ہے .معاملات کبھی حل نہیں ہوں گے .جھگڑے ہمیشہ رہیں گے اولاد کبھی نہیں سدھرے گی .مسلہ کا حل طلاق ہی ہے کاروبار تو اب ہو ہی نہیں سکتا معیشت کمزور ہو رہی ہے امریکہ ، روس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا کوئ فائدہ نہیں ہوا .اور کئ قسم کے جملے .

    ھکذا تاکہ تحریر لمبی نہ ہو .مایوسی پیدا ہونے کے اسباب : لوگوں کے حالات دیکھ کر خود ناامید ہو جانا میڈیا سے منفی پروپگنڈے سے متاثر جانا تجربات میں ناکامی پر مستقل مایوس ہو جانا امتحان میں نا کامی یا تھوڑے نمبر پر معاشی مسائل کی مسلسل کمزوری کی بنا پر ناامید کاروبار میں بہتر منافع نہ ہونے پر ناامید بچوں کی بگڑتی صورت حال پر نا امید ہونا مایوس لوگوں کی صحبت اور مجلسیں ناکام لوگوں کے تذکرے ناکام.اور مایوس کن باتوں اور موضوعات میں دلچسپی یقینی کیفیت کا فقدان میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں کمزوری ظاہری مادی اسباب پر یقین اور اعتماد وغیرھم کثیرہ

    اس دیمک سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے قرآن کا سہارا لیں اور اپنے رب کا سہارا لیں سب سے بڑا سہارا ہمارا اللہ ہے اور یقین اور امید اللہ کی ذات ہے اس دلدل سے کیسے نکلا جاے .لا تقنطوا من رحمة الله اللہ کی رحمت جو ہر کسی کو شامل حال ہے اس سے کائنات کی کوئ چیز اور مخلوق بھی بعید نہیں ہے الا کہ کفر کرنے والا انسان بھی اللہ کی اس رحمت کی چھتری کے نیچے ہے کہ وہ اپنی نافرانی اور شراکت کو دیکھنے کے باوجود اور شدید غیض و غضب رکھنے کے باوجود بھی رزق و روٹی کی عنایت جاری رکھتا ہے اور گناہوں کے پہاڑوں کو ذرے بنا کر مٹا دیتا ہے یہاں اس آیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گناہ سے معافی مانگنے میں مایوس نہیں ہونا چاھیے یہ کامل مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کے کرنے پانے حصول پر اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاھیے .

    مایوسی کفر ہے.
    ولا تائسو من روح اللہ انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون .
    یہ آیت واضح پیغام ہے کہ اسلام میں مایوسی ہے ہی نہیں اور جو مسلمان اور مومن ہے اس میں یہ چیز پیدا ہی نہیں ہوتی . اگر ماہوسی پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لیں ہمارا اسلام اور ایمان کمزور ہے اس کو بہتر کرنا چاھیے .
    گویا یہ بات سمجھ آئ مایوسی و الے جملے کفریہ جملے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں .
    یقین والوں کی صحبت .
    لا تصاحب الا مومنا
    مومن تو کامل یقین والا ہوتا ہے اس کی صحبت ناامیدی کو دور کرتی ہے .
    فضولیات اور مسموعات کو کان نہ دینا .
    کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع .
    محنت اور کوشش پر یقین اور اللہ پر توکل .
    وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری .
    ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
    کامیاب لوگوں کو پڑھنا اور تاریخ ماضی میں سب سے کامیاب لوگ انبیاء تھے اور وہ یقین کا منبع و مظھر تھے .
    لقد کان گی قصصھم عبرة لاولي الألباب
    صبر کا دامن نہ چھوڑنا .
    بے صبری بداعتمادی پیدا کرتی ہے اور بے یقینی مایوسی پیدا کرتی ہے بعض اوقات اللہ کے فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں لیکن ذرا فاصلے پر ہوتے ہیں اس فاصلے کو طے کرنے کا صبر توکل و یقین سے ہو سکتا ہے اور مستقل مزاجی سے ہو سکتا ہے .
    فاصبر ان وعد اللہ حق
    سلامتی بہت پیار
    تحریر لمبی ہے لیکن وقت ضائع نہیں جاے گا .

    @Amanullah6064

  • انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم !

    ٧٠ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن انڈیا نے اپنی سوچ کو زرا برابر بھی وسیع نہیں کیا ،انڈیا جو ایک طرف خود کو جمہوریت پسند ملک سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسی انڈیا میں آئے روز اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان کی زبان بندی کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہا ہے ،کبھی بابری مسجد کے معاملے پر تو کبھی گجرات میں مسلمانوں کی بستیاں جلانے کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں ،سمجھوتا ایکسپریس کا واقعہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کی نا ختم ہونے والی داستانیں انڈین پنجاب کے سکھوں پر مظالم ہوں یا اپنے ہندو دھرم کے نیچ طبقے پر جاری مظالم ہوں لیکن سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دنیا انڈیا کے ان مظالم پر بلکل خاموش تماشائ بنی نظر آتی ہے ،کسی مسلم ملک میں اگر خدانخواستہ اقلیت کے بندے سے کسی ذاتی اختلاف پر ،ذاتی دشمنی کی بناء پر دو محلے دار یا دوست آپس میں بھی زرا سے لڑجائیں تو اس مسلم ملک کے خلاف پوری دنیا اکٹھی کھڑی نظر آتی ہے اور سب کو انسانی حقوق کا خیال آجاتا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم وستم پر عالمی دنیا کو نا انسانی حقوق نظر آتے ہیں اور نا ہی کوئ ظلم وستم نظر آتا ہے ،کشمیر میں انڈین مظالم کی سب سے بڑی مثال تو یہی کافی ہے کہ وہاں پر انڈیا نے اپنی ٧ لاکھ سے ذیادہ فوج بھیج رکھی ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ انڈیا کس طرح کے مظالم ڈھارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ،کبھی ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو کبھی ان کے جوان بیٹے،بھائ ،باپ اور شوہر سرعام اذیت دے کر قتل کردیئے جاتے ہیں باقی انڈیا میں تو جب سے مودی کی حکومت آئ ہے تب سے ہر جگہ مسلمانوں پر قیامت برپا کر رکھی ہے ،کہیں قانون نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی ،راہ چلتے مسلمانوں کو بے وجہ ڈنڈا بردار لوگ تشدد کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ان کی آہ و پکار سننے والا کوئ نہیں ہوتا ،مسلمان لڑکیوں کو زبردستی مذھب تبدیل کروانے کی مہم بھی مودی کی سرپرستی میں جاری ہے اور یہ باتیں یہ مظالم دنیا میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عالمی دنیا ستو پی کر سورہی ہے ایسے واقعات کا ١% بھی پاکستان یا دنیا کے کسی ایک مسلم ملک میں ایسا کوئ واقعہ نظر آجائے تو اسے دنیا اس طرح بڑھا چڑھاکر پیش کرتی ہے کہ جیسے یہ مسلم ملک ہی دنیا میں سب سے ذیادہ ظالم ہے باقی ساری دنیا پارسا ہے 

    عالمی دنیا کو اب یہ منافقت چھوڑنی پڑے گی اور انڈین مظالم کے خلاف دنیا کو آگے آنا پڑے گا تاکہ مسلمان چاہے کسی بھی ملک میں ہو وہ بھی انسان ،ان مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دینے پڑیں گے جو دنیا میں کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھنے والے فرد کے لئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اب دنیا کو سختی کرنی چاہیے ورنہ اگر ہر طرف مسلمانوں پر اسی طرح ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا تو یقین کریں  اس کے عالمی دنیا سمیت تمام ممالک پر اور خاص طور پر انسانیت کے بات کرنے والوں پر بڑے گہرے اثرات پڑنے ہیں اور دنیا کسی اور خانہ جنگی طرف چل پڑے گی جس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑسکتا ہے ،اس لئے عالمی دنیا انڈیا کے نا صرف ہاتھ روکے بلکہ انڈیا پر سخت قوانین اور پابندیاں لاگو کی جائیں تاکہ انڈیا جیسے بدمست ہاتھی کو زرا سی لگام ڈالی جاسکے اور مسلمانوں کی نظر میں   عالمی دنیا اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکے ورنہ حالات جس طرف جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے بھیانک ہوتے جائیں گے 

    ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    @MajeedMahar4 

  • کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    سیاست کی دنیا میں آج کا دوست کل کے لئے دشمن بن جاتے ہیں۔

    ہر ریاست قومی مفادات پر ترجیح اور دوستی رکھتی ہے۔

    اور اس کے محل وقوع کے نظر سے بھی بین الاقوامی تعلقات اور نظریات کے لحاظ سے بھی لین دین اور تجارت وغیرہ کرتے ہیں۔

    طالبان نے بھی چائنا کے ساتھ دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا اور وہ اس لئے طالبان بھی یہ جان چکے ہیں اگر دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط اور تجارت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    چائنا بھی آج کل اقتصادی سطح پر سپر پاور ابھر ہے۔

    دوسری طرف چائنا نے بھی طالبان کے ساتھ سی پیک کو سنٹرل ایشیاء تک لانا ہے اور اپنے اشیاء کو دنیا تک رسائی کا عزم رکھا ہے۔کیونکہ آج کل جنگ اقتصادی جنگ شروع ہو چکا ہے۔

    چائنا بھی چاہتا ہے کہ بھارت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو معاشیات کی نظر میں شکست دے۔

    روس بھی اس بار طالبان کے نئی حکومت کو تسلیم کرے گا کیونکہ روس بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ دنیا پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے رہے۔

    وسطی ایشیا ریاستیں 1991 تک سوویت یونین کے ماتحت رہے۔

    سنٹرل ایشیا ممالک کے ساتھ روس اور طالبان دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت کے ساتھ نئی دوستی شروع کرے اور اپنے تجارت وغیرہ آگے بڑھائیں۔

    کابل فتح سے پہلے روس کی پشت پناہی مدد کرتے تھے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے اپنا بدلہ لے۔

    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اوپر اور نیچے ہوتے ارہے ہے 

    لیکن اس بار پاکستان طالبان حکومت کے ساتھ بھائی چارہ کی طرح آگے بڑھاے گا کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ریاستوں کے درمیان آمدورفت بہت زیادہ ہیں۔

    چمن بارڈر اور طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ تجارت بھی بہت زیادہ ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان اگست 1965 میں اپنا تجارتی معاہدہ بھی ہوا تھا۔

    اور دونوں کی محل وقوع ایشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں دونوں ریاستیں ایک کے بنا رہنے میں ناممکن ہے۔

    کیونکہ دونوں ریاستیں شادیاں وغیرہ بھی کی ہے۔

    لہذا پاکستان طالبان کی حمایت ضرور کریں گے۔

    ترکی بھی ایک اسلامی ملک ہے۔

    ترکی بھی خواہشات رکھتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔

    ترکی نے انخلا میں اہم رول ادا کیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنا سفارت خانہ بھی کھولا رکھا اور ترکی کے افواج انخلا میں کابل ائرپورٹ پر بھی ڈیوٹی سرانجام دی۔

    ترکی چاہتا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کام کرے۔

    سنٹرل ایشیا کے بنا افغانستان اور وسطی ایشیا ممالک ادھورا ہے۔

    وہ اس لئے افغانستان اور ازبکستان کے درمیان بارڈر ہے۔

    آگے یہ سنٹرل ایشیا ریاستیں کی محل وقوع جڑے ہوئے ہیں۔

    افغانستان بھی چاہتا ہے کہ وسطی ایشیا ممالک کے ساتھ تجارت کرے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے گیس۔صحت تعلیم ہسپتال اور روڈ وغیرہ بنانا ضروری ہے۔

    ایک ریاست دوسرے ریاست کے ساتھ ( MOU ) ہونا ضروری ہے۔

    چائنا۔اور پاکستان چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیا ریاستوں کے ساتھ سی پیک cpec پہنچ جائے افغانستان کے ذریعے۔

    لہذا چائنا پاکستان ترکی روس وغیرہ سب ممالک افغانستان کے نئے طالبان حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھے گا لیکن ہر ریاست قومی مفادات اور وقت کے ساتھ طالبان حکومت کو تسلیم کریں گے ان شاء اللہ

    Twitter Handle @waheedkhan59

  • منصب کی بےتوقیری  تحریر: آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔

    ۞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

    "۔۔۔۔۔۔۔۔  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    سورة الأنعام 151

    مختلف سیاسی جماعتوں کے بدکار رہنماؤں کی  ویڈیو لیک ہونا معمول بن چکا مگر معاشرے اور ریاست کا اس پر ردعمل انتہائی قابل افسوس ہے ۔بےحیائی کے مناظر پر مبنی ویڈیوز چند روز سوشل میڈیا کا موضوع بحث بنتی ہیں اور پھر یکسر بھلا دی جاتی ہیں نہ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے نہ عدالتیں از خود نوٹس لیتی ہیں اور یوں معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور بدکار پورے طم طراق سے اپنی گندی سیاست کو جاری رکھتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بےحیائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ایسے بدبخت صحافی اور نام نہاد دانشور بےحیائی کے دفاع میں سینہ ٹھونک کر سامنے آجاتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے ترجمان زبیر عمر کی پانچ قابل اعتراض اور فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیوز چینل پرخبریں پڑھتے پڑھتے صحافی بننے والی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر زبیر عمر نے پانچ خواتین کے ساتھ باہمی رضامندی سے بدکاری کی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا ہاں اگر نوکری کا جھانسہ دیکر بدکاری کی گئ تو پھر سوال بنتا ہے۔

    اس طرح کی چربی زبانی کی وجہ سے بدکاروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔اور زبیر عمر جیسے بدکار ویڈیو لیک ہونے پر منہ چھپائے کی بجائے اگلے ہی لمحے ٹی وی پر بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔

    اور تو اور ان بدکاروں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی کھلی بےحیائی پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتی ہیں بلکہ اپنے ان رہنماؤں کی سرپرستی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ طلال چوہدری کی تنظیم سازی عابد شیر علی کی فحش گوئی راحیل اصغر کی سرعام بدزبانی اور زبیر عمر کی ویڈیوز پر مسلم لیگ ن نے بطور سیاسی جماعت کو ایکشن نہیں لیا۔ یاد رہے یہ بدکاری زبیر عمر نے نہیں کی بلکہ گورنر زبیر عمر نے کی ہے

     ایک بندہ گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے کیسے مجبور خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ان کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا اور ریاست خاموش رہی ۔ایسے زندیق شخص کو اس منصب پر فائز کرنے والا بھی اس کے جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے

    گناہ کو گناہ نہ سمجھنے والے معاشرے انارکی اور ٹو پھوٹ  کا شکار ہوکر وحشی درندوں کا مسکن بن جایا کرتے ہیں۔

    ہمارے مذہب نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا مقرر کی ہے اور سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت ان تمام ویڈیوز کا فرانزک تجزیہ کروائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو گرفتار کرکے حد لاگو کرے ۔

    آئین کی متعلقہ شق کے تحت ایسے بدکاروں کو سیاست میں حصہ لینے اور میڈیا پر بیان جاری کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے ۔اگر آئین میں اس بدکاری کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں تو حکومت ضروری آئین سازی کرے تاکہ آئندہ کسی کو گورنر جیسے اہم ریاستی اور آئینی عہدہ کو استعمال کرتے ہوئے اسی بدکاری کی جرات نہ ہو سکے۔                             @EducarePak

  • زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    نفسیاتی مسائل جنھیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں.
    دیکھا جائے تو انکی فہرست بہت بڑی ہے. ہم معاشی مسائل اور غلط قسم کے رسم و رواج میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بے حسی لوگوں میں اس طرح رچ گئی ہے کہ اب انھیں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے معلوم نہیں… اگر معلوم ہوتا بھی ہے پر انکو اسکے صحیح اور غلط سے کوئی سروکار نہیں ہوتا.
    اور اسکی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے.
    پہلے غربت تھی پر رشتوں کی اہمیت بہت سمجھی جاتی تھی مگر اب یہاں رشتوں کی بجائے روپے پیسے کی اہمیت نے جگہ لینی شروع کردی ہے..

    وجہ ؟؟؟
    انسان نے اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اب ایک فرد کی کمائی میں گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ایک مشین کہ طرح کام میں لگا رہتا ہے پر پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں.. نہ اپنے خاندان کو وقت دے سکتا ہے نہ اپنے بچوں کو….
    بچوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو اسکے پیار اسکے وقت کی بھی ضرورت ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ والدین کے جھگڑے یا بچوں کے ساتھ سخت رویہ بھی ہوسکتا ہے
    اور جب بچے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتےہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں.
    والدین کو چاہئیے کہ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی وقت بھی دیں. اپنے اور بچوں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بنائیں, بچے کے مسائل سمجھیں اس سے ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی.
    مگر افسوس ہماری خواہشات اور ترجیحات خود ہم نے بدل دی ہیں. بچوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنوں سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں (یا دور ہوگئے ہیں) اب ہمیں سہولیات میسر تو آئیں ہیں مگر وقت کی کمی کا رونا بھی روتے ہیں.
    پہلے خوشی غمی کے موقع پر سب رشتہ دار اکٹھے ہوجاتے تھے مگر اب یہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے.
    افسوس اب تو بزرگوں کے تجربے سے یا دور اندیشی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اب جس کا اسٹیٹس بڑا ہو اسی سے مشورہ اور اسی سے ملنا اور تعلقات رکھے جاتے ہیں صاف الفاظ میں اب تو زیادہ تر لوگ مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں, پر مطلب اور مفاد کے رشتوں سے ہمیشہ تکلیف ہی ملتی ہے کیونکہ پیسے اور مفاد کے بنائے گئے رشتوں کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتی.
    پھر ہم وقت کا رونا روتے ہیں کہ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے مگر یہ ہم خود کی تسلی کے لئے وقت کو بدنام کررہے ہوتے ہیں.
    اصل میں جیسے ہی انسان کے پاس دولت یا عہدہ آ تا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے خود کو دور کرلیتا ہے.
    اور اسی ترک تعلق نے انسان کو تنہا کردیا ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود کو اکیلا کھڑے دیکھتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار.
    دیکھیں حالات جیسے بھی ہوں پر اپنوں کا ساتھ کبھی مت چھوڑیں, انکا دکھ درد بانٹیں, یہ رتبہ, یہ عہدہ کسی کام کا نہیں آ نا
    زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان رشتوں کو نبھانے سے ملیں گی کیونکہ یہ بہت انمول ہوتے ہیں.

    @Rehna_7

  • ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں خواتین کو لیکر بہت سی نئی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ خواتین کے حق میں اور کچھ کے خلاف بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ چل رہے ہوتے ہیں۔ کہیں خود خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف خواتین ہی ان نعروں کو لیکر اس طرح کی مارچ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ایک طرف عورت مارچ ہوتی ہے تو دوسری جانب حیا ڈے منایا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں سے متعلق مسائل صرف ہمارے ملک میں ہیں؟ جی نہیں۔۔۔پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں اس طرح کے مسائل ہیں بلکہ ان ممالک کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر حالات کافی مختلف ہیں۔وہ کونسا ملک ہے جہاں عورتوں کو مختلف فیلڈز میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے؟کیا ہر ایک فیلڈ میں برابر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد عورتوں کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟Gender equalityکیا ہوتی ہے اور وہ کونسا ملک ہے جہاں Gender equalityسب سے زیادہ ہے؟عورتوں کو اگر Leadership rolesدئیے جائیں تو اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کے لئے ہم معاشرے کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہر ایک معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔عورتوں کو سیاسی نمائندگی دینے کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ امریکہ، برطانیہ ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ یا فن لینڈ میں سے کوئی ایک ملک ہو گا جہاں کی پارلیمنٹس میں سب سے زیادہ خواتین ہوں گی۔ لیکن نہیں۔۔ ان میں سے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی بہترین مثال ایک افریقی ملک روانڈا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روانڈا کے Lower house of parlimentمیں61.3%عورتیں ہیں۔حالانکہ روانڈا ایک کم آمدنی والا غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اگر باقی دنیا کی بات کی جائے تو عورتوں کی پارلیمنٹ میں ہونے کی Global average 25.5%ہے یعنی زیادہ تر ممالک میں یہ Average 50%سے کافی کم ہے۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر روانڈا 61%دوسرے نمبر پر ہے کیوبا53%اور تیسرے نمبر پر ہے یو اے ای50%کے ساتھ۔۔۔۔
    روانڈا میں خواتین کی شمولیت کا یہ تناسب صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں ہے بلکہ 32%خواتین سینیٹرز ہیں۔42% cabinet membersاور50%ججز بھی عورتیں ہی ہیں۔ لیکن یہاں میں آپ کو روانڈا کے بارے میں ایک خاص بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر ہمیشہ سے خواتین اس طرح مضبوط اور اعلی پوزیشنز پرنہیں ہوتیں تھیں۔

    1990تک یہاں پارلیمنٹ میں خواتین صرف 17%ہوتیں تھیں۔17%سے عورتوں کی نمائندگی 61%پر کیسے پہنچی اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ 1994میں روانڈا میں ایک بہت ہی خوفناک
    Genoside ہوئی جس میں تقریبا آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے تھے جن میں بڑی تعداد مردوں کی تھی۔ اس نسل کشی کے بعد روانڈا کی آبادی میں 70%خواتین باقی رہ گئیں تھیں اور مرد صرف
    30%ہی باقی رہ گئے تھے۔ جبکہ ان خواتین میں سے زیادہ تر عورتیں پڑھی لکھی نہیں تھیں انہوں نے گھر سے باہر نکل کر کبھی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسری طرف ملک میں تبدیلی لانا بھی وقت کی ضرورت بن گئی تھی۔ اس صورتحال میں روانڈا کے صدرPaul Kagame نے فیصلہ کیا اگر ہمیں اپنے ملک کو چلانا ہے اور ترقی کے راستے پر لیکر آنا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں کو عورتوں کو Activeکیا جائے۔ جس کے لئے سن دو ہزار تین میں انہوں نے ایک نیا آئین بنایا۔ اور اس میں Gender quotaکوڈالا گیا۔ تاکہ عورتوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور وہ بھی اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ روانڈا کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ عورتوں کو Decision making organizationsمیں 30%نمائندگی دینا لازم ہے۔تو اس کے بعد جب دو ہزار تین میں رواندا میں الیکشن ہوا تو ایک تو Gender quotaپرتیس فیصد خواتین کو پارلیمنٹ میں لایا گیا اور دوسری طرف کیونکہ عورتوں کی تعداد ملکی آبادی میں زیادہ تھی تو اس لئے باقی سیٹوں پر بھی بہت سی خواتین الیکشن لڑنے کے بعد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس طرح ان کے لیڈر کی سوچ، حالات کی مجبوری اور Gender quotaکی وجہ سے روانڈا وہ ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ہمارے اپنے ملک میں بھی آپ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے لئے Reserved seatsکا کوٹہ موجود ہے چین میں بھی عورتوں کے لئے یہ کوٹہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ یورپین ممالک میں تو پولیٹیکل پارٹیز نے خود سے ہی یہ Strategy بنائی ہوئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں خواتین کی ایک خاص تعداد میں شمولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے بعد یہ تو ضرور ہوا ہے کہ Globallyاب خواتین کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹس میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ
    Gender quota کے یا خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد خواتین ملک میں موجود خواتین کے مسائل پر بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے مختلف بلز پاس کروا سکتی ہیں۔ روانڈا میں یہ ہوا بھی کہ خواتین کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد Inheritence and succession
    کے کئی قوانین پاس کروائے گئے جس سے عورتوں کے مسائل میں کافی کمی ہوئی۔2008میں روانڈا میں Anti-gender based violence lawبھی پاس کیا گیا جس کی مدد سے وہاں زیادتی اور تشدد کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔اور جب خواتین کی حمایت میں خواتین زیادہ بلز لیکر آتی ہیں قوانین پاس کرواتی ہیں تو اس سے ایک تو عورتیں قانونی طور پر مضبوط ہوتی ہیں اور دوسراMind set میں بھی Changeآتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا میں Highest rate of female labour participationبھی روانڈا کا یہ ہے جو کہ تقریبا83%ہے۔

    عورتوں کے پارلیمنٹ میں ہونے سے کسی بھی ملک کو ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں ہیلتھ کئیر اور ایجوکیشن کے حوالے سے بہتر کام کرتی ہیں۔جبکہ دوسری طرف اس طرح کو کوٹے کے نقصانات بھی ہیں جس میں ایک مثال برازیل کی ہے کہ وہاں Gender quotaمتعارف کروانے کے بعد بھی عورتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت کوئی زیادہ بڑھ نہیں سکی۔
    کچھ ممالک میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ Gender quotaکی وجہ سے وہ خواتین پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں جو اتنی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ پاور نہیں نہیں ہوتی یا جن لوگوں کے پاس پاور ہوتی ہے وہ ان عورتوں کو Puppetکی طرح treatکرتے ہیں۔ اور ان عورتوں کو صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشروں میں ایک مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ عورتیں بہتر لیڈر نہیں بن سکتیں اس لئے اگر وہ لیڈر بن بھی جائیں تو وہ مائنڈ سیٹ ان کو پرفارم نہیں کرنے دیتا۔ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک میں Political representationبہتر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں Gender equalityبھی ہے۔ یہاں پر بھی روانڈا ایک بہترین مثال ہے کہ ان کی خواتین سیاستدان خود یہ بات کہتی ہیں کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے اکثر ان کی Capabilitiesپر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ روانڈا کی اپنیParlimentary leader کا کہنا ہے کہ ابھی بھی روانڈا میں لوگ
    Gender issuesکو سمجھتے نہیں ہیں۔ Gender equality ابھی بھی ان سے بہت دور ہے۔ خواتین کے پاور میں ہونے کے باوجود بھی Domestic voilence کا ریٹ روانڈا میں بہت ہائی ہے۔
    اس لئے صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کسی ملک میں عورتوں کو تمام فیلڈز میں بہتر نمائندگی مل جائے گی تو عورتوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔Gender gap
    کو کم کرنے کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن اور ورک میں بہت سےایسےMeasuresہیں جو کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ لینے پڑتے ہیں۔ اور Gender gapکی اگر بات کی جائے تو آئس لینڈ وہ ملک ہے جہاں یہ Gapسب سے کم ہے حالانکہ وہاں عورتوں کی Political representationکافی کم ہے۔دراصل آپ کو یہ سب Detailsبتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی لڑائیاں کرنے سے یا خواتین کے صرف سیاست میں آجانے اور زیادہ نوکریاں حاصل کر لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض کی جو لڑائی چل رہی ہے وہ آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونگے ہمیں اپنے اپنے RolesکوDefineکرنا ہوگا اور ان رولز کو بہتر طور پر ادا کرنا ہو گا جو کام عورت کا ہے اسے عورت کو بہتر طور پر کرنا ہو گا اور جو کام مردوں کے ہیں ان کو کرنے ہونگے۔ ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا خیال کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک عورتوں اور بچوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی عورتیں ہی آنے والی نسل کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور جب تک آپ کی آنے والی نسلیں بہتر نہیں ہونگی آپ کے معاشرے کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔

  • قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

    قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

     
     

    قیامت کے قریب آتے ہیں جہاں اور بڑی چھوٹی نشانیاں  ظاہر ہوں گی ان میں سے ایک  کعبہ  کے خزانہ کو لوٹ لینا بھی  شامل ہے آج اسی حوالہ سے   حدیث نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں

     

     حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کرو تاکہ وہ تم سے کچھ نہ کہیں اور تم سے تعرض نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کعبہ کا خزانہ ایک حبشی ہی نکالے گا جس کی دونوں پنڈلیاں چھوٹی چھوٹی ہوں گی۔ ( ابوداؤد )) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1368(       

     

    تشریح

     حدیث کے آخر میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا تعلق آخر زمانہ سے ہے جبکہ قیامت بالکل قریب ہوگی اس وقت اہل حبشہ کو غلبہ حاصل ہوگا اور ان کا بادشاہ اپنا لشکر لے کر مکہ پر چڑھ آئے گا اور کعبۃ اللہ کو ڈھا دے گا اور اس خزانہ کو نکال لے گا جو خانہ کعبہ کے نیچے مدفون ہے ، چنانچہ حدیث میں کعبہ کے خزانہ کو نکالنے والے جس حبشی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے یا تو حبشہ کا بادشاہ مراد ہے یا پھر لشکر مراد ہے نیز خزانہ سے مراد وہ پورا خزانہ ہے جو کعبہ اقدس کے نیچے مدفون ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ خزانہ سے مراد وہ مال اسباب ہے جو نذر کے طور پر وہاں آتا ہے اور خانہ کعبہ کا خادم اس کو جمع کرتا ہے۔

     واضح رہے کہ یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کا خزانہ نکال لے گا یا ایک اور روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کو تباہ وبرباد کر دے گا، تو یہ بات قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وحرما آمنا (امن وامان والاحرم) کے خلاف اور معارض نہیں ہے کیونکہ حبشیوں کے ذریعہ خانہ کعبہ کی تخریب و تباہی کا یہ واقعہ قیامت کے قریب پیش آئے گا جبکہ روئے زمین پر کوئی شخص اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا۔ اور امنا کے معنی یہ ہیں کہ کعبہ اقدس قیامت تک مامون ومحفوظ رہے گا، لہٰذا جب روئے زمین پر اللہ اللہ کہنے والوں تک کا کوئی اثر موجود نہ رہے گا اور جب قیامت ہی آ جائے گی تو پھر اور کیا چیز باقی رہ جائے گی کہ کعبہ بھی باقی رہے۔ ویسے یہ بات بھی بجائے خود وزن دار ہے۔ لیکن بعض حضرات نے ایک اور وضاحت بیان کی ہے اور اس کو زیادہ صحیح کہا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ جو امن والا حرم قرار دیا ہے تو اس کے غالب احوال کے اعتبار سے قرار دیا ہے یعنی خانہ کعبہ کی اصل حقیقت تو یہی رہے گی کہ وہ با امن حرم کے طور پر ہمیشہ ہر قسم کی تخریب وپلیدگی سے محفوظ ومامون رہے گا۔ مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا سخت حادثہ پیش آ جائے جس سے اس کی تخریب کاری ہو چنانچہ کعبہ کی تاریخ میں ایسے حادثات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں جنہوں نے اس کو نقصان پہنچایا جیسا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عبدالملک بن مروان کی خلافت کی طرف سے اہل مکہ کے خلاف حجاج بن یوسف کے حملے کے دوران خانہ کعبہ کی سخت تخریب ہوئی یا قرامطہ کا واقعہ پیش آیا کہ اس نے خانہ کعبہ کو سخت نقصان پہنچایا ۔ بس اگر زمانہ آئندہ میں بھی کعبہ کی تخریب کا پیش آنے والا کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ واقعہ حرما امنا کے خلاف نہیں ہوگا یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ با امن حرام قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یہ حکم فرمایا کہ جو بھی شخص اس مقدس شہر اور حرم محترم میں آئے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور یہاں کسی کے ساتھ بھی تعرض نہ کرو، چنانچہ منقول ہے کہ جب زندیقوں کی جماعت قرامطہ کا سردار فساد و تباہی مچا چکا اور لوگوں کے قتل وغارت گری اور شہریوں کو لوٹ مار سے فارغ ہوا تو ایک دن کہنے لگا کہ اللہ کا یہ فرمان کہاں گیا کہ ا یت (ومن دخلہ کان امنا) (یعنی جو بھی شخص اس حرم محترم میں داخل ہوا اس کو امن وعافیت حاصل ہو گئی ؟ ) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی ، اس نے کہا کہ قران کریم کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص کبھی بھی مکہ و اہل مکہ اور خانہ کعبہ کی تخریب اور نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا بلکہ اس فرمان الٰہی کی مراد یہ حکم دینا ہے کہ جو شخص حرم محترم میں داخل ہو جائے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور اس میں لوٹ مار اور قتل وغارت گری کے ذریعے کسی کے ساتھ تعرض نہ کرو۔

    اللہ رب العالمین ہمیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھیں  ایمان کی ساتھ زندہ رکھیں اور ایمان  کیساتھ موت عطا فرمائیں ۔ آمین  یا رب العالمین

    @mmasief