Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    نیویارک:جین گلینز نامی امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جین گلینز نامی امریکی لڑکی شادی کی تقریب میں کرائے پر ’برائیڈزمیڈ‘ (دلہن کی قریبی سہیلی جو دولہا کے شہ بالے کی طرح شادی میں دلہن کے ساتھ رہتی ہے) بنتی ہے۔

    دی سن کے مطابق جین گلینز نامی یہ امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے جین گلینز نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں بتایا ہے کہ اس نے یہ پیشہ حادثاتی طور پر اپنایا اور اس کی توقع سے کہیں بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا۔

    جین بتاتی ہے کہ ”جب میں عمر کی 20کی دہائی میں تھیں تو میری سب سہیلیوں کی شادیاں ہو گئیں اور میں ہر شادی میں دلہن کی بہترین سہیلی بنی تھی سہیلیوں کے علاوہ رشتہ داروں اور جاننے والوں میں بھی جس لڑکی کی شادی ہوتی، وہ مجھ سے اپنی بہترین سہیلی بننے کو کہتی۔

    جین کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز میری روم میٹ نے مذاق میں مجھ سے کہا کہ اب تمہیں پروفیشنل ’برائیڈزمیڈ‘ بن جانا چاہیے اس کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کیونکہ اب تک مجھے بھی برائیڈز میڈ بننے کی گویا عادت سی پڑ گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے آن لائن کرائے کی برائیڈز میڈ کا اشتہار دیا تو اگلے چند دنوں میں مجھے درجنوں ای میلز موصول ہو گئیں اور یوں میرے اس پروفیشن کا آغاز ہو گیا جو آج تک کامیابی سے جاری ہے اور میں خاطرخواہ آمدنی کما رہی ہوں۔

    جین کے مطابق شادی کی ان تقریبات میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا، حتیٰ کہ میں دلہن کے لیے بھی اجنبی ہوتی ہوں مگر مجھے اس کی بہترین سہیلی کی اداکاری کرنی ہوتی ہے اور اسی کام کے مجھے پیسے دیئے جاتے ہیں-

  • سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    واٹس ایپ نے بندش سے متعلق وضاحتی بیان جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ لوگوں کی واٹس ایپ کے استعمال میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ہم تمام معاملات کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


    واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جلد اس بارے میں اپ ڈیٹ کریں گے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں واٹس ایپ سمیت فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر ہیں لوگوں کو مذکورہ ایپس کے استعمال مشکلات کا سامنا ہے۔ڈاؤن ڈیکٹر کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے لوگوں نے سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی شکایات درج کرائی ہیں۔

    دنیا بھر میں فیس بک کمپنی کی سروسز متاثر ہوئیں تو اکثر پاکستانیوں نے سمجھا کہ شاید پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کنکشن میں مسئلہ آگیا ہے۔

    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہوئیں تو پہلے تو بعض صارفین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے صارفین نے اپنے راؤٹرز ری سٹارٹ کرنا شروع کردیے لیکن جب معلوم کہ اس بار قصور پی ٹی سی ایل کا نہیں بلکہ فیس بک کا ہے تو ٹوئٹر پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔

  • دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک کمپنی کی سروسز متاثر ہوئیں تو اکثر پاکستانیوں نے سمجھا کہ شاید پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کنکشن میں مسئلہ آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک۔ واٹس ایپ اور انسٹاگرام ڈاؤن ہو گئی ذرائع کے مطابق صارفین کو تینوں ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ڈاؤن ڈیکٹر کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے لوگوں نے سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی شکایات درج کرائی ہیں۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر کا رخ کیا ہے جہاں ان تینوں کے ناموں کے علاوہ پی ٹی سی ایل بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہوئیں تو پہلے تو بعض صارفین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے پی ٹی سی ایل کے صارفین نے اپنے راؤٹرز ری سٹارٹ کرنا شروع کردیئے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ اس بار قصور پی ٹی سی ایل کا نہیں بلکہ فیس بک کا ہے تو ٹوئٹر پر میمز کا ایک طوفان برپا ہو گیا-
    https://twitter.com/_munazahmed/status/1445071796319842306?s=20
    https://twitter.com/itishammad/status/1445067710916874250?s=20


    https://twitter.com/awaisahmar/status/1445071318727081986?s=20


    https://twitter.com/MulukFhm/status/1445074497833512966?s=20

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 09) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 8 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑبڑ کون کر رہا ہے حقیقت میں اصل گڑبڑ ہم ہی کر رہے ہیں اور ہم حکمرانوں کو کوستے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ پاک اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی قسمت آپ نہیں بدلتے اسی لئے آج وضاحت کریں گے کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس استعمال ذ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو 

    ٹوکری میں ناجائز سفارش: 

    آج کل کے دور میں سفارشات پہ ہی کام ہوتا ہے لوگ قابلیت کو ترجیع نہیں دیتے کہیں کوئی کام کی تلاش کرنی ہو یا تعلیم ادارے میں تعلیم حاصل کرنی ہے ہر جگہ سفارشات کی جاتی ہیں لیکن سفارشات کے ساتھ ساتھ رشوت بھی عروج پہ ہوتی چلی جا رہی ہے 

    رشوت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں ہو پاتا لوگ بھول گے ہیں کہ حلال روزی کماکر بچوں کو کھلانے سے ان کی تربیت میں بھی بہتری آۓ گی اور جس بچے کی تربیت ہی حرام کی کمائی سے کی گئی ہو وہ بڑا ہوکر کیا کرے گا پھر ہمارے زہن میں اتا ہے بچے بڑوں کا ادب نہیں کرتے چھوٹوں کے ساتھ احترام سے پیش نہیں آتے جس وقت والدین کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بچے والدین سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اصل وجہ وہ رشوت سے لیا ہوا حرام کا نوالہ ہے جس سے بچے کی تربیت ایسے ہوئی جس کی وجہ سے بچے کے خون میں ملاوٹ ہوئی لیکن اولاد شائد بھول جاتی ہے جو آج حال والدین کا ہے وہی حال کل ان کا بھی ہو گا جو سوال وہ اج اپنے والدین سے کر رہے ہیں کل کو وہی سوال ان کے بچے بھی ان سے کریں گے اسی لئے کوشش کریں کہ اپنے اپنے بچوں کو قابلیت کی بنا پر سکول کالج میں داخلہ کروائیں رشوت کو ترجیع نہ دیں عزت کی حلال کی روزی کمائیں اللہ پاک اسی میں اتنی برکت ڈالے گا کہ آپ کے کھانے سے کم نہیں ہوگی 

    ایک واقع میری آنکھوں سے بھی گزرا کسی عزیز نے گھریلو بجلی کا میٹر لگوانا تھا بہت دفعہ گزارش کی لائن مین کو کہ سب ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا دیا ہے اب بہت وقت ہوگیا ہے آپ کی مہربانی میرا میٹر لگا دیں لیکن مجال ہے ان لائن مین پر جوں سے توں گزری ہو 

    پھر کسی نے مشورہ دیا آپ کس صدی میں رہتے ہیں جلدی کام کروانے کےلئے تھوڑی بہت رشوت لگائیں دیکھیں اپکا کام دنوں نیں ہوجاۓ گا بندا حالات سے مجبور ہوکر رشوت کو ترجیع دیکر لائن مین کو رشوت دے دیتا ہے اور وہی میٹر جو کافی عرصے سے نہیں لگ رہا وہ دنوں کی بجاۓ گھنٹوں میں لگ جاتا ہے وقت اور حالات انسان کو بدل دیتے ہیں اس لئے چاہیے کہ ہم سب رشوت اور ناجائز سفارش کو ترجیح نہ دیں

    بجلی میں ہیرہ پھیری: 

    بجلی کی ہیرہ پھیری ایسا معمہ ہے جس کا بس چلاتا ہے وہ ہاتھ خالی نہیں جانے دیتا چور چوری سے جاتاہے کبھی ہیرہ پھیری سے نہیں جاتا 

    ہمارے ملک میں بجلی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو کبھی بھی حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب تک لوگوں کے ضمیر مردہ رہیں گے تب تک چوری عروج پر رہے گی ۔ ہمارے ہاں تو کسی جلسے جلوس کا اگر انعقاد کیا جاتا ہے تو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ ہو تو بھی بجلی چوری کی استعمال کی جاتی ہے 

    ان سارے معملات پر ہر انسان کی نظر ہوتی ہے چاہے وہ ملازمین ہو یا عام انسان لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا اس کی وجہ یہی ہے سب اپنے مفادات دیکھتے ہیں رشوت دےکر ملازمین کے منہ بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ عملہ اس پر کاروائی نا کرے اور بجلی کی ہیرہ پھیری عروج پر ہوتی ہے اس لئے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ حلال کمائیں حلال کھلائیں اپنے ضمیر کو جگائیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو اپنی قسمت نہیں بدلتیں اس لئے اپنے آپ کو بدلیں لوگ خود ہی بدل جائیں گے اگر ہر انسان ایسا سوچ لے تو کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آۓ گا 

    باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں:

    اسلام ہمیں راہِ ہدایت سیکھاتا ہے نماز دن

    ین کا ستون ہے بعض لوگ اپنے آپ کو ایسے سانچے میں ڈالتے ہیں کہ جس سے ان کو لوگ دیکھ کر کہیں کہ بہت ہی معتبر شخص ہے لیکن اللہ پاک اس انسان کو سخت ناپسند فرماتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رکھ کر اس کی سنت پر عمل نہ کرے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں

    جہنم میں خوفناک وادی ہے ویل نامی جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتا ہے یہ اس شخص کا ٹھکانہ ہو گی جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے

    اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا، اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا۔

    ذلیل ہو کر مرے گا ۔

    بھوکا مرے گا۔

    مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی

    خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس: 

    بڑھتے ہوۓ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس پہ بہت تنقید ہوتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو کلمہ کے نام پر بنا ہے جیسے جیسے لوگ پڑھے لکھے ہوتے جارہے ہیں آزاد خیال کے مالک ہوتے جارہے ہیں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ قوم اپنے اپ کو نہیں بدلتی اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن حدیث کے مطابق زندگی گزاریں جیسا کہ ارشاد ہے جب بھی نظر خیر محرم عورت پر پڑھے تو نظر کو فوراً نیچے کرنا چاہیے اور خواتین کو چاہیے لباس کا ایسا استعمال کرنا چاہیے جو عزت مجروع کرنے کا باعث نہ بنے کھلے بال ، جینز اج کل فیشن بن گیا ہے اس کی روک تھام ہر والدین کا فرض بنتا ہے وہ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ عورت کی عزت حجاب میں ہے 

    لیگنگ یعنی عورتوں کے جسم سے چپکا شلوار حرام ہے لوگ اس بات کو نہیں مانتے اور بڑا دکھ ہوتا ہے جہ سب دیکھ کر ۔ مہربانی آپ سے درخواست ہے جدید لباس کی روک تھام کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں 

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے شادیوں میں شراب نوشی اور مجرے اور فیرننگ ، مرد عورت کا اختلاق ، ٹی وی پر فحش فلمیں ننگے ناچ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا 

    حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

     

    @JingoAlpha

  • بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی   تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل قوم کا تذکرہ اللہ رب العزت نے بہت مرتبہ قرآن مجید میں کیا

    انکا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ یہی قوم فرعون کے سامنے اپنے دین پر قائم رہی اپنے دین سے نہیں ہٹیں

    بنی اسرائیل قوم کہاں سے شروع ہوئی  دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے اُن دوسرا نام اسرائیل تھا

    وہاں سے اس قوم کی ابتدا ہوئی

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے انکو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا پہلے یہ لوگ کنعان میں آباد تھے پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بعد مصر میں جابسے۔ اس طرح بنی اسرائیل مصر میں پھلے پھولے اور لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا بادشاہ جو  مصریان بن ولید جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا تھا جب انکا انتقال ہوا تو 

    مصر کے بادشاہت کے تخت پر آپ بیٹھ گئے

    اور مصر کا نظم و نسق سنبھالا جب آپکا انتقال ہوا

    آپ کے بعد بادشاہ قابوس نامی والی  مصر ہوا کفر اور ضلالت کے جو باب آپ نے بند کئے تھے وہ اس قابوس بادشاہ نے دوبارہ کھولے

    جب اولاد یعقوب علیہ السلام نے س طریقے کو قبول نہ کیا تو ان کو غیر ملکی کہہ کر غلام بنالیا اور انتہائی سخت کام لینے لگا جب اس بھی انتقال ہوا اس کا بھائی ولید بن مصعب والی مصر ہوا مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں یہ اس دوسرے فرعون سے بھی زیادہ ظالم تھا 

    اس نے بادشاہ کا تخت سنبھالتے ہوئے کہا 

    انا ربکم الاعلی  ترجمہ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں  

    یہ اس لحاظ سے بھی ظالم تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کرڈالا 

    اور ساتھ یہ احکامات بھی جاری کئے کہ اعلی سے ادنی تک تمام رعایا مجھے سجدہ کرے

    چنانچہ ہامان نے سب سے پہلے اسے سجدہ کیا  پھر اور وزیروں اور مشیروں نے اسکو سجدہ کیا 

    اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے تھے انکے لئے اپنے سونے کہ مجسمے  بنا کر بھیجے جن مجسموں کے نیچے ہاتھی کے دانت آبنوس اور چاندی کے تخت رکھے اور انکے آس پاس سنہری درخت کروائے چاندی سے پرندے تیار کئے درختوں کے شاخوں پر اس طرح سے نصب کئے تھے اور ہر جانور اسی ترتیب سے رکھی تھی کہ جس وقت بھی خادم تحت کو حرکت دیتا تھا تو انکے پیٹ سے آواز آتی تھی کہ اے مصر کے لوگو فرعون تمہارا خدا ہے اسکو سجدہ کرو یہ سن کر مورتی کے آگے سب قصبے والے سجدہ ریز ہو جاتے لیکن بنی اسرائیل اس سے باز نہ آئے فرعون نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلایا اور تنبیہ کی اور کہا کہ تم مجھے سجدہ کیوں نہیں۔ کرتے ہو لیکن بنی اسرائیل کے سردار انکی دھمکی سے مرعوب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ فرعون کا عذاب ہلکا ہے اور عذاب خداوندی ابدی ہے بہتر یہی ہے کہ فرعون کے عذاب پر صبر کرو اور اسکو سجدہ نہ کرو یہ بات تمام بنی اسرائیل نے منظور کرلی اور فرعون کو بھی باور کرایا کے ہم نے اپنے دین سے نہیں ہٹنا اللہ کے علاؤہ کوئی رب نہیں یہ سن کر فرعون کو غصہ آیا اور تانبے کی بڑی بڑی دیگیں منگوائی اور اسمیں زیتون کا تیل ڈالا اور پھر جو بھی فرعون کے رب ہونے سے انکار کرتا اسکو فرعون کھولتی ہوئی دیگیوں میں پھینکواتا یہاں تک کہ انبوہ کثیر کو اسی طریقے سے جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل جو دین اسلام پر جان تو دے سکتی تھی مگر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی بنی اسرائیل اپنے ایمان پر قائم و ثابت قدم رہے 

    @realikramnaseem

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

  • صحافت اور سیاست   تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست  تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست بنیادی طور پر دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے یکسر مختلف شعبے ہیں۔

    سیاست کا مقصد اقتدار میں آ کر خدمت خلق ہے اور عوام کے پیسے کے جائز استعمال سے عوام ہی کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔

    جبکہ صحافت کا مقصد باوثوق ذرائع سے حقائق عوام تک پہنچانا،اور چھان بین کر کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا ہے۔بیشر جرائم اور عوامی دولت میں خرد برد پر اداروں کو جھنجھوڑنا بھی صحافی کے فرائض میں شامل ہے۔

    لیکن سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صحافت کے بغیر سیاست ممکن نہیں اور سیاست کے بغیر صحافت،

    سیاستدان صحافیوں کے کڑے سے کڑے سوالات کے جوابدہ ہوتے ہیں اور اپنا یا اپنی سیاسی پارٹی کا موقف میڈیا کے ذریعے بآسانی عوام تک پہنچاتے ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے آج کل پاکستان میں سیاست اور صحافت کو الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    صحافت کا لبادہ اوڑھے چند صحافی حکومتی جب کہ چند اپوزیشن کے ترجمان بنے دکھائی دیتے ہیں۔جن کا مقصد صرف اور صرف چند سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرنا اور حقائق توڑمروڑ کر پیش کرنا ہے۔کسی بھی سیاسی شخص کی کوئی بھی ذاتی یا سیاسی زندگی کے حوالے سے آنے والی خبر کا سب سے پہلے دفاع کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ دنوں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی متنازع ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سب سے پہلے چند صحافیوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے اس کے غلط ہونے کی خبر دی۔گو کہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر صحافی سیاستدانوں کی چمچہ گیری سے باز نہیں آتے۔

    ایسے ہی کئی صحافی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کو خیر آباد کہہ کر سیاست میں قدم رکھ لیتے ہیں۔اور انہیں مختلف سیاسی عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اس کا آغاز پچاس کی دہائی میں ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر الطاف حسین نے کابینہ میں شامل ہو کر کیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں انگریزوں اخبار سے وابستہ ایک اور صحافی نسیم احمد وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے اور اور اس منصب پر فرائض سر انجام دیتے رہے اسی دور میں مرحوم کوثر نیازی وزیر حج اور اطلاعات رہے جب کہ حنیف رامے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔

    آج کل اس سلسلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،صحافیوں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں بڑھتی جا رہی ہیں،جس کے لئے وہ اپنے پیشے سے بھی بے ایمانی کرتے ہوئے جھوٹ اور سچ میں تفریق نہیں کرتے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اقتدار کے مزے سیاستدان لوٹتا ہے تو ان نام نہاد صحافیوں کو بھی اس میں حصہ دیا جاتا ہے۔

    سرکاری دوروں میں من پسند صحافیوں کو ساتھ لے جانا ہو یا چیئرمین پیمراو پی سی بی کے عہدوں سے نوازنا ہو، عوام کے پیسے کی تباہی میں ان نام نہاد صحافیوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں جس کا قرض وہ آج تک اپنے قلم یا اپنی زبان سے ان کے ترجمان بن کر ادا کرتے ہیں۔

    چند غیر جانبدار اور پائے کے صحافیوں کو اب آگے آنا ہو گا اور اپنے اس پیشے کو بد نامی سے بچانا ہو گا،صحافت کا لبادہ اوڑھے ان کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں بے نقاب کریں تا کہ آئندہ ہر صحافی غیر جانبدار ہو کر حقائق عوام کے سامنے رکھے۔سیاسی جماعتوں کاموقف لیا جائے لیکن صرف ایک سیاسی جماعت کا دفاع اور دوسری پر تنقید ایک صحافی کی صحافت کو متنازع بنا دیتی ہے۔اب گنے چنے چند ایک ناموں کے علاوہ ہر صحافی متنازع بن چکا ہے۔نامور صحافیوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے اور اس پیشے کو سیاست میں آنے کی آسان سیڑھی بننے سے روکنا چاہئے۔

    @sam_rahmughal

  • بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    @Rohshan_Din

    صحت انسان کی بیسک نیڈ ہے جو ہر ریاست کو اپنے ہر شہری کے لے فری فیسر کرنا چاے۔ اور صحت کے شعبے میں بیسک ہیلتھ کیئر کے ادارے کا مضبوط ہونا سب سے ضروری ہے۔ 

    ۔ کوئی بھی ملک اپنے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر اپنے صحت کے شعوبے کو بہتر نہیں بنا سکا ہے۔ ۔ پاکستان میں صحت کے اشارے پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان بلوچستان اندرون سندھ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے علاقوں میں صحت کا نظام تباہ حال ہے

    پی ایچ سی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کا ایک مجموعہ ہے ، یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرز ، دائیوں ، ویکسینیٹرز وغیرہ کے ذریعے فراہم کردہ گھریلو سطح پر ، اور پی ایچ سی کی سہولیات کی سطح پر ایمبولریٹری مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات۔ فی الحال پاکستان میں ، کمیونٹی ہیلتھ سروسز تقریبا entirely مکمل طور پر پبلک سیکٹر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ سہولت کی سطح کی سروسز پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبے فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ سی کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری شعبے کی سہولیات میں بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ، ڈسپنسری ، ماں اور بچے کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز (آر ایچ سی) اور شہروں کے ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ محکمے شامل ہیں۔ نجی شعبے میں ، پی ایچ سی عام معالجین اور شہروں کے نجی اسپتالوں کی او پی ڈی فراہم کرتے ہیں۔ لوگ کمزور کنٹرول والے نجی شعبے میں ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ، حکیموں اور علاج معالجے کے دیگر طریقوں سے بھی بنیادی دیکھ بھال چاہتے ہیں۔

    1980 اور 1990 کی دہائی میں ، پاکستان نے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کا ایک قومی نیٹ ورک بنایا اس خیال کے ساتھ کہ ہر یونین کونسل میں 5 سے 25 ہزار کی آبادی کے ساتھ ایک بی ایچ یو ہونا ضروری ہے۔ اس سارے کام میں ایک مسلہ ہمیشہ درپیش ایا وہ یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر بیک ورڈ ایرز دیھاتوں میں ڈیوٹی کرنا پسند نہی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر دہاتوں میں ڈسپنسر کام کرتے ہیں یا وہ اکثر وہ بھی موجود نہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پہ بیمارویوں کا اعلاج ناممکن ہوا ہے۔ 

    کمیونٹی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے لیے ، ایک قومی LHW پروگرام قائم کیا گیا۔ فی الحال ، کچھ 90،000 LHWs تقریبا 115 ملین لوگوں کو پورا کرتے ہیں۔ 

    پی ایچ سی صرف مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہر عمر کے صحت مند افراد کے لیے اتنا ہی ہے جتنا انہیں بیماری اور چوٹ اور ان کی صحت کے خطرات سے بچانے کے لحاظ سے۔ خطرات بنیادی طور پر ماحولیاتی ہیں – ہوا کا معیار ، پانی جو ہم استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ – اور رویے – تمباکو نوشی ، بیٹھے ہوئے طرز زندگی وغیرہ۔ اسی طرح ، معذور افراد اور صحت یاب افراد کے لیے بحالی کی خدمات پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ عارضی طور پر بیمار افراد کی گھر پر دیکھ بھال یعنی علاج کی خدمات بھی پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ صحت کی خدمات پر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تقریبا 70 70 فیصد ضروری صحت کی خدمات پی ایچ سی کی سطح پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔اگر اس فارمولے پہ مکل کنڑول کے چلایا جاے تو۔ ۔

    انفرادی خدمات کے علاوہ ، صحت عامہ کے کچھ ضروری کام ہیں جن میں بیماریوں کی نگرانی ، صحت سے متعلق معلومات جمع کرنا ، ہنگامی تیاری ، صحت کے مواصلات اور تحقیق شامل ہیں۔ یہ افعال پی ایچ سی کی سطح پر بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ، چونکہ صحت بھی ان عوامل سے متاثر ہوتی ہے جو کہ براہ راست وزارت صحت کے کنٹرول میں نہیں ہیں مثلا nutrition غذائیت ، پینے کا صاف پانی ، سیوریج کا نظام ، تعلیم وغیرہ ، مقامی سطح پر دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون بھی PHC کا حصہ ہے۔ چھوٹی بیماریوں اور زخموں کا بروقت علاج ، نوجوان خواتین کو تولیدی صحت سے متعلق رہنمائی ، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال ، خاندانی منصوبہ بندی ، ضروری ویکسینیشن ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی ، بیماریوں کی اسکریننگ ، غذائیت سے متعلق رہنمائی ، بستر پر بزرگوں کی گھر کی دیکھ بھال وغیرہ سب پی ایچ سی کی سطح پر ہوتے ہیں۔

    پی ایچ سی صرف صحت کی دیکھ بھال کی سطح نہیں ہے۔ یہ دیکھ بھال اور سماجی بہبود کا فلسفہ بھی ہے۔ یہ گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر دیگر محکموں کے تعاون سے اور لوگوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی سہولیات کی فراہمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ، اس کے وسیع معنوں میں ، اہم ہے۔ لوگوں کو مطلع کیا جانا چاہیے ، ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے تناظر میں صحت کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی کمیونٹی کی شمولیت بہترین اور پائیدار طریقہ ہے۔

    اس کی اہم اہمیت کے باوجود ، کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پی ایچ سی کو غریبوں کے لیے دوسرے درجے کی صحت کی سہولیات سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معیاری پی ایچ سی نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اشرافیہ ذہنیت ہے۔ امیر اور طاقتور بڑے شہروں میں بڑے ، مہنگے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بی ایچ یو اور ایل ایچ ڈبلیو دیہی پیری شہری غریبوں کے لیے ہیں۔ کمزور پی ایچ سی سسٹم کی وجہ سے ، زیادہ تر مریض معمولی بیماریوں کے لیے بھی براہ راست تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں کی بھیڑ اور گھٹن کا شکار او پی ڈی۔بڑھ جاتے ہے ۔اس کے مثال اپکو ایبٹ اباد میڈیکل کمپکس ۔پیمز اسلام اباد اور پشاور میں ایل ار ایچ لاہور لاہور میں میو ہسپتال وغیرہ وغیرہ۔ ایوب میڈیکل کمپکس میں گلگت بلتستان ے لیکر ہزارہ تک تمام لوڈ اجاتا جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے۔ 

    ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے صحت کے نظام میں ، ایمرجنسی مریضوں کے علاوہ دیگر تمام مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر صحت کی اعلی سطح کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ پی ایچ سی اس لحاظ سے ثانوی اور تیسری سطح کی دیکھ بھال کے لیے ایک دربان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا میڈیکل ایجوکیشن سسٹم ، پبلک اور پرائیویٹ دونوں ، میڈیکل کے طلباء کو پی ایچ سی کی سیٹنگز کے سامنے نہیں لاتا۔ جب تک یہ تصورات اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتے ، ایک متحرک اور فعال PHC کی توقع کرنا مشکل ہے۔بلکہ ناممکن ہے۔ 

    صحت میں اشرافیہ پالیسی کی سطح پر بھی موجود ہے۔ ہمارے قومی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے میں صرف ایک سرسری ہے ، اگر کوئی ہے تو ، پی ایچ سی کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے متواتر ‘نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس’ پی ایچ سی پر اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اگر پی ایچ سیز کو مضبوط بنایا جاے تو سرمایاداروں کے پروئیوٹ ہسپتال بند ہوجاے گے ۔وہ لوگ اس لے ان اداروں کو مکمل طور تباہ کر چکے ہیں۔ 

    اگر ہم واقعی یونیورسل ہیلتھ کیئر کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں ، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک میں ہمارے صحت کے اشارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں PHC کی طرف سخت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے لے ہمیں ادارں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔میرٹ پہ لوگوں کو لانا ہوگا ۔ان تمام اداروں اکا ڈیٹ ہونا چاے ۔یہ لوگ روزانہ بنیاد پہ کام لر رہے رہے ہیں کہ بھی نہیں ۔اس کام کے عوامی شعور کا بھی ضروری ہے۔

  • قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان  تحریر: سید غازی علی زیدی

    قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان تحریر: سید غازی علی زیدی

    سرزمین پاکستان کو خالق کائنات نے بے انتہا خوبصورت نظاروں سے مزین کیا ہے۔ کہیں دیوسائی کا ٹھنڈا صحرا تو کہیں تھر کا ریگستان، کہیں کشمیر جنت نظیر تو کہیں حسن چترال کا اسیر، الحمدللہ دل کھول کر حسن عطا کیا گیا ہے اس ارض پاک کو۔
    چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
    تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
    قدرتی صناعی سے بھرپور سبزہ زار چمن ہوں یا انسانی کاریگری کا شاہکار عظیم الشان تعمیراتی عمارتیں، پاکستان بلاشبہ دونوں میں بے مثال ہے۔ میلوں پھیلے صحرا، پراسرار وادیاں، خواب ناک جھیلیں، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، قدیم ترین چٹانیں، برف پوش چوٹیاں، نایاب چرند پرند، قیمتی جواہرات، رسیلے پھل، گنگناتی آبشاریں اور خطرناک ترین چشمے، تعمیراتی حسن کے نمونے، تاریخی کھنڈرات، نادر کاریگری کے شاہ پارے، مساجد و درگاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن تعمیر کے نادر نمونے، غرض پاکستان رنگ و نور اور حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے۔ تہذیب و ثقافت اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
    پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ – مہر گڑھ سے موہن جوداڑو تک، گندھارا سے ہڑپہ تک، مختلف ادوار تاریخی ورثہ کی صورت میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔
    ہر خطہ ارض اپنی مخصوص و منفرد روایات، تہذیب وثقافت کا حامل ہوتا ہے اور یہی طرزِ معاشرت نہ صرف قوموں کی تاریخ مرتب کرتی بلکہ معاشرتی رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی۔ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کئے بغیر کوئی ملک دنیا میں اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ ہمارا ملک قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ہے۔ یہاں کے طرز ثقافت میں مختلف رنگوں اور تہذیبوں کی واضح چھاپ ہے۔ مکلی کا قبرستان ہو یا جہلم کا قلعہ، بدھا کے نایاب مجسمے ہوں یا مغلوں کے نارد زیورات، شاہی قلعہ لاہور ہو یا نور محل بہاولپور، لارنس گارڈن ہو یا شالیمار باغ، ہر تہذیب، ہر دور کے حسین اثار اپنی الگ چھب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
    وہی قومیں تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں جو اپنے تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کرتی ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ تاریخ میں نہ صرف عجیب کشش ہوتی بلکہ بے شمار اسباق بھی پوشیدہ ہوتے۔ ایک علم کا گہرا سمندر ہوتا جسے تلاش کرنا ہوتا گہرائیوں کو ناپنا ہوتا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان اسرار و رموز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے والے نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ ماضی کی روایات ، اقدار میں سبق بھی ہوتا اور عبرت بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی سے دستبردار ہو جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ماضی کی اقدار کی حفاظت اور نسل نو کا ان سے تعارف مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔
    ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
    یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
    @once_says

  • فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور آج فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے بعد میٹرک کے نتائج کا بھی اعلان کر ہی دیا گیا، تقریب تو پروقار رہی لیکن انٹرمیڈیٹ کی طرز پر میٹرک والے ٹاپرز کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہاتھوں سے انعامات وصول کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، اعزاز کیوں نہ ہوتا وفاقی وزیر شفقت محمود کورونا کے اس دور میں وزیراعظم عمران خان کے بعد انٹرنیٹ پر سب سے معروف سمجھی جانے والی شخصیت جو بن گئے تھے خیر آج کی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن فرخ خان بطور مہمان خصوصی پہنچیں اور بچوں کی جہاں ایک طرف خوب حوصلہ افزائی کی وہیں دوسری طرف کورونا کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اپنی وزارت کے گن بھی گاتی رہیں، آج کے رزلٹ میں حیران کن اور افسوسناک حد تک ایک بات شدت سے محسوس ہوتی رہی جب بورڈ ٹاپ کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کی فہرست سامنے آئی تو 80 فیصد سے زائد سٹوڈنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں سے نکلا، سائنس گروپ کے محمد صارم کو دیکھیں یا رابعہ اصغر کو، دونوں ہی بچے پہلی پوزیشن پر براجمان تھے لیکن تعلق آرمی پبلک سکول اور فضائیہ ڈگری کالج سے تھا، آگے چلیں تو سائنس گروپ میں 1096 نمبر لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کائنات سلیمان کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول جبکہ دوسری ہی پوزیشن حاصل کرنے والی دو اور طالبات زینب علی اور عاصمہ اسماعیل کا تعلق بھی گریزن اکیڈمی اور فضائیہ کالج سے ہی نکلا جبکہ تیسری پوزیشن پر براجمان عشبہ فاطمہ کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے رہا، آپ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی روداد سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیے، پری انجینئرنگ گروپ میں 1090 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے غفران احمد طالب اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دو طالبات عیشاء ارشد ملک اور تابیر ساجد کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے نکلا، افواج پاکستان کے اداروں کے نام کامیابیاں یہاں رکتی نہیں بلکہ میڈیکل گروپ اور سائنس جنرل گروپ میں بھی پہلی پوزیشن اور تیسری پوزیشن آرمی کالجز کے بچوں کے ہی نام رہی، اس کے علاوہ پوزیشنز پر نظر دوڑائیں تو وہاں پر بھی بین الاقوامی نجی تعلیمی اداروں کی برانچز کا نام لکھا ملا لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری ادارے کو فیڈرل بورڈ کی تقریب انعامات میں آنے کا شرف نصیب ہوا ہے، سرکاری اداروں میں سرکاری مراعات، بھاری بھر کم تنخواہوں اور جان سیکورٹی کے باوجود سٹوڈنٹس کو امتحانی میدان میں کسی مقام پر نہ پہنچا پانا ایک طرف اساتذہ کی ذاتی دلچسپی اور نوکری کے ساتھ مخلص ہونے پر سوالیہ نشان ہے وہیں دوسری جانب وزارت تعلیم کو بھی اس بارے میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے کہ سویلین سرکاری تعلیمی اداروں میں کس بات کی کمی رہ گئی کہ وہاں پڑھنے والے بچے فوجی اداروں سے پیچھے نہیں بہت پیچھے رہ رہے ہیں، بہرحال کھلے دل کے ساتھ افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں کو شاباشی اور مبارکباد بھی ملنی چاہیے جس طرح ان کی جانب سے کورونا کے باوجود آن لائن کلاسز سمیت ہر قسم کی جدوجہد کرکے سٹوڈنٹس کو آج اس مقام پر پہنچایا گیا

  • گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    ہر انسان کو زندگی میں پریشانیاں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ان مشکلات اور پریشانیوں سی نکلنے کے لیے کھبی کھبی حکمت عملی کرنی پڑھتی ہے تو کھبی صبر سے کام لینا پڑھتا ہے ۔ یہاں ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کھبی گھریلو حالات سے، کھبی اندرون سے، کھبی بیرون سے ، کھبی اپنی سوچ سے ،کھبی معاشی حالات سے تو کھبی اپنے آپ سے ۔ زندگی جینے کے لیے مسائل کا سامنا تو کرنا پڑھتا ہے اور انکو سلجانے کے لیے کوئی نہ کوئی ترگیب تو کرنی پڑھے گی ۔ایک انسان کامیابی کا دعویٰ تب کر سکتا ہے جب وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر کے اپنے لیے سکون حاصل کرے ۔ دنیا میں کچھ ہی لوگ ہوں گے انکو پریشانیوں اور مصبیتوں کا سامنا نا کرنا پڑھے ۔ کسی فرد کو مسائل توڑ دیتے یا اسکو نا امید کر دیتے ہیں۔ تو کسی کو اگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ یا کسی کو اتنا تباہ اور برباد کر دیتے ہیں کہ انسان مرنے کی دعا کرنے لگتا ہے ۔ ہر دفع اسکا دل پریشان رہتا ہے ۔نا کام کا ہوش ہوتا ہے، نا کھانے کا ہوش ہوتا ہے ،نا لباس کا ہوش ہوتا ہے اور نا ہی رشتوں کا ہوش ہوتا ہے جس سے انسان کو خوشی ملتی ہے ۔ مسائل نے انسان کو توڑ کر رکھ دیا ہے کہ اسکے دل میں زندہ رہنے کی خوائش ہی مر جاتی ہے ۔ بہت سے لوگ ان مسائل کا سامنا نہیں کرتے اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں ۔
    ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ بڑا مشکلات سے دو چار ہے ۔ہر فرد کے گرد پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں ۔ صرف ایک فرد نہیں گھروں کے گھر مسائل میں مبتلا ہیں ۔ ہر گھر میں لڑائی جھگڑے اور رشتوں میں دوری عام بن گئی ہے ۔ برداشت کرنے کی قوت اتنی کم رہ گئی ہے کہ ایک آدمی دوسری کی بات برداشت نہیں کرتا ۔اب نا کوئی بزرگ کی نصیحت سنتا ہے نا ماں باپ کا کہنا مانتا ہے ۔ گھر میں اے روز تلخیوں نے انسان کو ذہنی ،جسمانی مفلوج کر دیا ہے ۔ انسان کو جس طرح ہوا پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ذہنی راحت بھی درکار ہوتی ہے ۔ اگر ان تنازعات کو روکا نہ جائے تو انسان سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ گھر تنازعات کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں. یہ تنازعہ میاں بیوی ، بھن بھائی ،ساس بہو ، والدین اولاد کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر جھگڑے کی نویت الگ ہے لیکن کام ایک ہی ہے ینی ذہنی مریض بنانا ، شدید پرشانی میں مبتلا کرنا ۔ لگاتار سوچتے رہے تو بندا پرشانی سے پاگل ہو جاتا ہے ۔مثبت سوچنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتے ہے ۔کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا انسان کا ۔ عجیب و غریب حالت ہو جاتی ہے ۔اپنی اصل حالت میں واپس آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے تو کھبی نا ممکن دیکھی دیتا ہے ۔زیادہ تر لوگوں کے مسائل اور پریشانی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی کو سنوارنے میں ایک عورت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو صرف مرد نہیں بلکہ پورا گھرانہ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہوگا ۔اسکے ذھن میں فتور ، فریب اور لڑائی جھگڑا کچھ نہیں ہوگا ۔اسکے بر عکس ان پڑھ عورت پورے معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتی ہے وہ گھر کو دوزخ بنا دیتی ہے ۔اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے ۔تعلیم ضروری ہے لیکن ایک عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوا چاہیئے تا کہ کوئی مسائل نا جنم لے ۔ گھر میں جیسے ہی مسائل سر اٹھاییں تو انکا فوری طور پر حل نکالیں۔ ہر مسئلے کا حل مفاہمت نہیں کہیں بار مزمت سے بھی حل ہو سکتے ہیں ۔

    Twitter ID : @iam_farha