Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏اچھی تعلیم اور اچھی نوکری ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے اور اپنا ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کیلئے جانا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال ہر انسان کیلئے معاشی اور سماجی خطرہ بن گیا ہے۔ اس کورونا وبائی بیماری نے پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ وہ نوجوان نسل جنہوں نے اپنی خوابوں کی تكمیل کیلئے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کیلئے جانا تھا وہ اپنے ہی ملک میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 

    ایسا ہی کچھ حال پاکستانی طلباء کا ہے جو دو سالوں سے چین کا ویزا حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔ دسمبر 2019ء میں چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا اور طلبا کو ویزا دینے پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ پاکستانی طلباء چین کے یونیورسٹیز میں BS, MS اور PhD کی ڈگریاں پڑھ رہے ہیں اور کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے پر ان طلباء کا معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی اور تعلیمی کیریئر متاثر ہو رہا ہے۔ یہ طلباء covid-19 کے وبائی بیماری میں پاکستانی حکومت سے ہر دن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کیلئے کچھ مدد فراہم کیا جائے۔ 

    ان طلباء کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے پاکستانی میڈیا کے صحافی بھی میدان میں آگئے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم ان نوجوان طالب علموں کیلئے چینی حکومت سے بات کی جائے اور ان کے سفری مسائل حل کئے جائے تاکہ جلد از جلد یہ طلباء چین جا کر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

    پاکستان کے صحافی انور لودھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر طلباء کے حق میں لکھتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چینی حکام سے پاکستانی طلباء کی حالت زار کے بارے میں بات کرے جو کورونا وبا کے دوران پاکستان آئے تھے۔ اب چینی حکومت انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔  اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

    پاکستان کے جانے پہچانے صحافی حامد میر نے بھی طلباء کی مدد کرنے کیلئے آواز بلند کیا سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمارے بچوں کی بات پر توجہ دے۔ 

    نجی ٹی وی کے صحافی سلیم صافی بھی پاکستانی حکومت پر طلباء کے سفری مسائل ختم کرنے کا کہہ رہے۔

    انیلہ خالد نامی صحافی بھی حکومت وقت سے پاکستانی طلباء کے سفری مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے صحافی معید پیرزادہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک آرٹیکل شیر کیا اور لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پاس بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کچھ مہارت ہونی چاہیے تاکہ طلباء چین واپس جا سکیں۔

    طلباء کے پریشانیوں کو دیکھتے ہوے اینکر شعیب جٹ چین کے صدرشی جن پنگ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاک چین سے اچھے تعلقات ہیں اور طلباء آپ کی مدد کو دیکھ رہے ہیں۔ 

    نجی ٹی وی سے تعلق رکھنے والی صحافی شازیہ زیشن اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میسج میں پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کا معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھا رہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی عبدالقادر نے پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کی مدد کرنے کیلئے دفتر خارجہ سمیت حکومتی حکام پر زور دیا کہ یہ مسئلہ حل کرا یا جائے۔ 

    اس کے ساتھ باغی ٹی وی نے بہت بار پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کیلئے آواز اٹھایا ہے اور ہر ذمہ دار ذرائع پر زور دیا ہے کہ طلباء کو ویزا جاری کرایا جائے اور انہیں چین واپس بھیجا جائے. 

    Twitter: @RealYasir__khan

  • ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    اسلامی مہینوں میں تیسرا مہینہ ربیع الاول کا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء (شروع) میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع الاول کی ابتداء تھی۔ یہ مہینہ ساعتوں اور خیرات و برکات کا مہینہ ہے۔ کیونکہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللّٰه تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے اور آپ سب کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ، رحمتہ اللعالمین کو پیدا فرما کر ہم سب پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کو خاتم النبیین ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسی ماہ کی دسویں تاریخ کو محبوب ﷺ نے ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نکاح فرمایا تھا۔ (عجائب المخلوقات صفحہ 45) 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 

    وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین۔

    "اور (اے محمد ﷺ) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔”

     

     سورة الْاَنْبِیَآء 21:107

    دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے دونوں صورتوں میں مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے، کیونکہ آپ نے آ کر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکایا ہے، اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے، اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتا دیا ہے کہ اس کے لیے تباہی کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کی راہ کونسی ۔ کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے، ناخن سے گوشت جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پر فرمایا گیا کہ نادانو ، تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو یہ درحقیقت تمہارے لیے خدا کی رحمت ہے۔ 

    مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینہ مبارک میں بارہویں تاریخ کو بالخصوص محفلوں اور میلاد شریف کا انعقاد کیا جائے۔ اور محفل پاک ذریعہ ہدایت اور حصول برکات ہو گی۔

    محفل میلاد شریف کی حقیقت، حضور کی ولادت پاک کا واقعہ بیان کرنا’ آپ کی کرامات، شیر خوارگی اور حضرت حلیمہؒ کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا ا ور حضور کی نعت پاک نظم یا شعر میں پڑھنا سب اس کے تابع ہیں۔ اب واقعہ ولادتِ نبی کا تذکرہ مبارک خواہ تنہائی میں ہو یا مجلس میں، شعر میں ہو یا نثر میں ‘ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی کیا جائے اس کو میلاد شریف ہی کہا جائے گا۔

    ضور نبی کریم کے یوم ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محافل منعقد کرتے چلے آئے ہیں اور اس مسرت کے موقع پر طرح طرح کے میٹھے پکوان پکاتے ہیں ، شب ولادت پر جی بھر کر خرچ کرتے ہیں اور قرآتِ قران کے ساتھ ساتھ نعتیہ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ محفل میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا اور اس موقع پر خوشبو لگانا’ عرق گلاب چھڑکنا’ شیرینی تقسیم کرنا’ غرض کہ خوشی کا اظہار جس جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعث برکت اور رحمت الٰہی کے حصول کا سبب ہے۔

    حدیثوں میں آیا ہے کہ شب میلاد مبارک کو عالمِ ملکوت (فرشتوں کی دنیا) میں ندا سنائی دی کہ "سارے جہاں کو انوارِ قدس سے منور کردو” اور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہءجنّت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہاں کو خوشبوﺅں سے معطر کر دے۔ اب آپ ہی سوچیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بھی آمد مصطفیٰ کی خوشی منائی تو ہم، جو آپ کے امتی ہیں، کیوں نہ اپنے پیارے نبی کے میلاد کی خوشی منائیں۔ ہم جب جشن مناتے ہیں تو اپنی بساط کے مطابق روشنیاں کرتے ہیں قمقمے جلاتے ہیں’ اپنے گھروں’ محلوں دکانوں اور بازاروں کو ان روشن قمقموں اور چراغوں سے مزین و منور کرتے ہیں لیکن وہ خالق کائنات جس کے قبضے میں مشرق و مغرب ہے اس نے جب اپنے محبوب کے میلاد پر خوشےاں منانے کا حکم دےاچراغاں کروں تو نہ صرف مشرق و مغرب تک کائنات کو منور کر دیا بلکہ آسمانی کائنات کو بھی اس خوشی میں شامل کرتے ہوئے ستاروں کو قمقمے بنا کر زمین کے قریب کر دیا اور جس پیارے نبی کے وسیلے پر ہمیں یہ دنیا’ یہ جان’ یہ جہاں اور تمام نعمتیں ملیں اس پیارے نبی کی آمد پر ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔

    ماہ مُنّور کا چاند نظر آتے ہی سب مسلمان اپنے پیارے نبی کی ولادت کا جشن عقیدت واحترام سے منانے کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ بچے’ بوڑھے’ مرد’ عورتیں سبھی اس ماہِ مبارک کی بارھویں تاریخ کو میلاد شریف کی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان کے تمام شہر’ گلے کوچے ‘ محلے’ مساجد اور تاریخی عمارات کو قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور چراغاں کیا جاتا ہے۔

    مسلمان کے ایمان کا یہ اہم رکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آپ کی محبت میں بنائی۔ ویسے تو سارے مہینے اور یہ کائنات آپ کے نعلین پاک کے صدقے چمک دمک رہی ہے۔ ماہ نور ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے جذبے دین اور آپ کی محبت کے چراغ جگہ روشن نظر آتے ہیں ۔

    میلاد والے دن خوشبو لگانا:

    یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادتِ پاک کا واقعہ بیان کرنا، حمل شریف کے واقعات، نورِ محمدی کی کرامات، نسب نامہ یا شیر خوارگی اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنھا کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت پاک نظم یا نثر میں پڑھنا، سب اس کے تابع ہیں۔

    اب واقعہ ولادت خواہ تنہائی میں پڑھو یا مجلس جمع کر کے، نظم میں پڑھو یا نثر میں، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی ہو، اس کو میلاد شریف کہا جائے گا۔

     محفلِ میلاد شریف کا شرعی حکم محفلِ میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا، اس کے ذکر کے موقع پر خوشبو لگانا، گلاب چھڑکنا، شیرینی تقسیم کرنا، غرضیکہ خوشی کا اظہار جس بھی جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعثِ برکت اور رحمتِ الہی کے نزول کا سبب ہے۔

     حوالہ:

    (جاءَ الحق، حصہ اول، صفحہ#230

    ربیع الاول میں کثرت سے درود پاک: ربیع الاول شریف کے مبارک مہینہ میں درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی اس ماہ کی تمام تاریخوں میں یہ درود پاک ۔ "اللھم صلی علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید ایک ہزار ایک سو پچیس (1125) مرتبہ نماز عشا کے بعد پڑھے گا تو اس کو خواب میں امام الانبیاءو المرسلین کی زیارت ہو گی اگر کوئی بندہ مومن ماہ ربیع الاول میں اس درود شریف الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللّٰہ کو سوا لاکھ مرتبہ پڑھے تو وہ یقینا حضور پر نور شافع یوم النشور کی زیارت سے مشرف ہو گا۔ کتاب الاوراد میں لکھا ہے کہ جب ربیع الاول شریف کا مبارک چاند نظر آئے تو اس رات کو سولہ رکعت نفل پڑھے جائیں۔ دو دو رکعت کرکے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ھو اللّٰہ احد تین تین مرتبہ پڑھے جب سولہ رکعت پڑھ لے تو یہ درود شریف ایک ہزار مرتبہ پڑھے۔ اللّٰھم صلی علی محمدن النبی الامی رحمة اللّٰہ و برکاتہ اور بارہ روز تک یہ پڑھتا رہے تو سید المرسلین محبوب رب العالمین حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ کی زیارت خواب میں ہو گی۔ مگر عشاءکی نماز کے بعد اس کو پڑھا کرے اور پھر باوضو سویا کرے۔ (فضائل الشہور)

    اولیائے الہی نے حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت باسعادت کو ماہ ربیع الاول کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں اور اسی مبارک واقعہ کی وجہ سے ہی اس مہینے کو بہار کا نام دیتے ہیں۔

    بنی نوع انسان کو دین اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جتنی برکات اور مہربانیاں حاصل ہوئی ہیں وہ کامل ترین انسان یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقدس وجود کی برکت کی وجہ سے ہیں کہ جو اس مہینے میں اس دنیا میں آئے تھے۔

    اس مہینےکی شرافت دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے اور یہ مہینہ حقیقت میں دیگر مہینوں کی بہار ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) کے نورانی وجود کی وجہ سے ہی تمام شرافتیں، رحمتیں، دنیاوی اور اخروی عنایات اور نبوت، امامت ، قرآن اور شریعت نازل کی گئی ہے۔

    میں اپنی بات کا اختتام اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا ۔

    کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہَم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں 

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟

    خدا جانے کیوں ایک عرصہ ہوا اس ایلیٹ کلاس سے ایک قسم کی گھن آنے لگی ہے۔ ان لوگوں میں کوئی انسانی اقدار، کوئی شرم و حیا نام کی شے نہیں ہوتی۔ مجھے کوئی اخلاقی بھاشن نہیں دینا اور نہ ہی راضی بہ رضا کے معاملات میں دخل در معقولات کا قائل ہوں۔ مگر ایک حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ کچھ معاملات پوشیدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات پر چاہے معاشرہ کتنا ہی مدر پدر آزاد کیوں نہ ہو، ملک مزہبی ہو کہ سیکولر، معاشرتی اور سماجی قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے متعلق وہ اسکینڈلز ہیں جو گاہے گاہے سامنے آتے رہے اور ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا گئے۔ امریکی معاشرہ بھی کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مشرقی روایات کے باب میں کیا عرض کرنا۔

    بھائیو اور بہنو، جو کرنا ہے کرو، کون روکے ہے۔ (ویسے کون نہیں کرتا؟ کچھ ویڈیو میں کرتے ہیں۔ کچھ ویڈیو دیکھ کر کرتے ہیں۔) مگر اس دیدہ دلیری سے، اس بے احتیاطی اور بے باکی سے؟ چور تب تک چور ہے اور باکمال ہے جب تک چوری پکڑی نہیں جاتی۔ چور ہر ممکن احتیاط کرتا ہے کیوں کہ اس کو پتا ہے کہ وہ ایک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایک اوسط درجے کا آدمی یہ دوسرے "معاملات” بھی اسی چور کی طرح چوری چھپے کرتا ہے مگر ایلیٹ کلاس اپنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے باکی کی رو میں ایسی بہہ جاتی ہے کہ نہ معاشرتی حساسیت کی پرواہ، نہ مزہبی قدغنوں کا ادراک۔ نہ انسانی اقدار کا پاس نہ اپنی ساکھ کی پرواہ۔ نہ دوسرے کے خاندان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ اپنے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاق کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زبیر عمر کی ویڈیو ایک تازہ واردات سہی مگر یہ نہ آخری ہے اور نہ پہلی۔  ویڈیوز کی فہرست کافی طویل ہے۔

    مجسمہ حسن و خوبی، ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی ایک بچی کی ماں سے کس لب و لہجے میں بات کر رہی ہے؟ سن کر ایک ابکائی سی آتی ہے۔
    کرنل کی ڈراؤنی بیوی کو کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔
    جسٹس ارشد ملک کی وڈیو آئی جو واشروم میں جا کر دیکھنے کی چیز ہے۔
    عمران خان کے بارے میں ریحام خان کی کتاب میں انکشافات دیکھ لیں۔ اگر کسی نے تہمینہ درانی کی My Feudal Lord پڑھی ہے تو اس کو اس کلاس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      چیئرمین نیب ایک کال میں کس چاؤ سے سر تا پا ایک خاتوں کو چوم رہا ہے۔ اپنا طلال چودھری جو حال ہی میں تنظیم سازی کے لیے گیا اور بازو تڑوا آیا۔ نور مقدم اور اس کا قاتل دونوں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ چوہان ہوئے، مفتی ہوئے کہ شیخ جی ہوئے، سب حریم شاہ نامی حسینہ کی گھنیری زلفوں کے اسیر ہوئے۔ ملک ریاض کی بیٹی ایک ویڈیو میں دو لڑکیوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ہی بنگلے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کہاں تک سنو گے۔ کہاں تک سناؤں۔

    یاد آیا۔ عرصہ ہوا ایک کلپ نظر سے گزری تھی۔ امریکہ میں بسا ایک شخص دہائیاں دے رہا تھا کہ اگر اس کا تعلق مڈل کلاس اور غریب طبقے سے ہوتا تو وہ امریکہ میں کبھی نہ آ بستا۔ آگے چل کر وہ پاکستان کے اس طبقے میں بے غیرتیوں اور بے شرمیوں کی جو طویل لسٹ پیش کر رہا ہے، وہ سننے سے تعلق رکھتی ہیں، لکھنے کی نہیں۔
    تحریر : جواد خان یوسفزئی
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب   تحریر: احسان الحق

    وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب تحریر: احسان الحق

    گزشتہ رات وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کیا. یہ خطاب ورچوئل یا فاصلاتی خطاب تھا. وزیراعظم نے ایک مسلمان عالمی رہنما کے طور پر خطاب کرتے ہوئے عالمی اور خطے کے مسائل پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. عالمی مسائل بشمول عالمی وبا، کووڈ۱۹ ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی، منی لانڈرنگ، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا، ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم، مسئلہ افغانستان اور طالبان حکومت سازی جیسے اہم ترین امور پر بات کرتے ہوئے خود کو عالمی رہنما ثابت کیا. وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اقوام متحدہ کے صدر کو 76ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے سے کیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما کے تقاضوں کے عین مطابق سب سے پہلے عالمی مسائل پر بات کی. اس وقت اقوام عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عالمی وبا کووڈ۱۹ کا درپیش ہے. مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دینا کو کووڈ ۱۹ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے. کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی یکساں فراہمی پر بات کی کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان ممالک کی فنانسنگ کی جائے تا کہ اس موذی مرض کا مقابلہ کیا جائے. ماحولیاتی آلودگی میں مضر گیسوں کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر دس ممالک میں سے ایک ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا. اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں کروڑوں نئے درخت لگائے جا چکے ہیں اور کئی نئے جنگل بھی لگائے گئے ہیں. پاکستان نئی آماج گاہوں کو تیار کر رہا ہے اور پہلے سے موجود قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہا ہے. آلودگی سے بچنے کے لئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے.

    وزیراعظم نے کووڈ۱۹ کے حوالے سے  پاکستان کی کاوشیں دنیا کے سامنے رکھیں. اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا. ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنایا بھی. وسائل اور بجٹ کی عدم دستیابی کے باوجود پاکستان نے انتہائی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس موذی مرض پر قابو پایا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور قوم کو بڑے نقصان سے بچا لیا. ہم کووڈ ۱۹ کی یکساں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور ہر شہری کو ویکسین لگانے پر بھی پابند کر رہے ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے کے لئے بلین تری سونامی کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 1 ارب نئے درخت لگائے جا رہے ہیں. پچھلے تین سالوں میں کروڑوں نئے درختوں اور جنگلات کو اگانے سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو چکے ہیں.

     

    مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ناجائز قبضے پر کھلے الفاظ اور شدید انداز میں مذمت کی. بھارتی مکرہ چہرے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھا. واضح انداز اور کھلے الفاظ میں فاشسٹ آر ایس ایس اور ہندوتوا کے نظریات پر بات کی کہ کس طرح پورے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے. شہریت کے امتیازی قانون کے ذریعے آر ایس ایس اور ہندوتوا ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں. مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کو ہندو آبادی سے تبدیل کیا جا رہا ہے. بھارت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سازگار بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن مزاکرات کرے اور 5 اگست 2019 والے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے. بھارت کی طرف سے فوجی تیاری، اسلحے کی دوڑ میں شمولیت، جدید اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں. ان حالات اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا.

    وزیراعظم نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی بربریت اور دہشتگردی کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سید علی گیلانی کی میت کو چھین لیا گیا. سید علی گیلانی کی میت پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بھارتی دہشت گردی سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ مذہبی اور اسلامی طریقہ سے تدفین کرنے سے قاصر رہے. میں جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے تا کہ سید علی گیلانی کے ورثا اپنی خواہش اور اسلامی طریقے سے باقیات کو اسلامی قبرستان میں دفن کر سکیں.

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ پر بھی تفصیل سے بات کی. کہنا تھا کہ فیکٹ آئی سے پتہ چلا کہ 7000 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے محفوظ عالمی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں. غریب اور ترقی پذیر ممالک سے چوری کر کے سالانہ اربوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے محفوظ مالیاتی جگہوں منتقل کئے جاتے ہیں. ترقی پزیر اور غریب ممالک غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں. ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے. ان ممالک کا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع ہو رہا ہے اور وہ امیر سے امیر تر ملک بنتے جارہے ہیں. غریب ممالک سے لوگ روزگار کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. امیر ممالک لوٹی ہوئی غریب ممالک کی دولت اور پیسہ واپس نہیں کرتے کیوں ایسی کوئی مجبوری یا کشش نہیں ہوتی کہ جس بنا پر لوٹا ہوا پیسہ غریب ملکوں کی غریب عوام کو واپس کیا جائے. وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے. ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب روزگار کے لئے مہاجرین اور ملازمت کے لئے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو دیواریں کھڑی کرنی پڑیں گی.

    وزیراعظم نے کہا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا. اس جنگ میں ساتھ دینے کے بدلے میں پاکستان پر بھارت کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی. افغانستان کے راستے سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے اور بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے 80 ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. 35 لاکھ افراد بے گھر ہو کر دوسرے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہوئے. اتنی بڑی جانی اور معاشی قربانیوں کے بدلے ہماری تعریف کے بجائے امریکہ اور یورپ میں ہمارے خلاف باتیں ہوتی رہیں.

    میں پہلے دن سے ہی کہتا رہا کہ افغانستان کا حل فوجی آپریشن میں بالکل نہیں، میں امریکہ آیا یہاں سینیٹر جان ریڈ، بائیڈن اور کیری سے ملا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر میری بات کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھا. 20 سال بعد ہماری بات درست ثابت ہوئی اور امریکہ کو مزاکرات کے ذریعے افغانستان چھوڑنا پڑا. عمران خان نے کہا اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی. آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں 3 لاکھ افراد پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے. یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے. جب اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں اور کیسے آئے ہیں؟

    افغانستان کی صورتحال اور طالبان کی حکومت اور حکومت سازی پر بات کی اور دنیا پر واضح کیا کہ اس وقت طالبان اور افغانستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. ہمیں افغان طالبان اور عوام کو ان کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہئے. دوحہ مزاکرات میں یہی شرائط تھیں جن پر افغان طالبان عمل پیرا ہیں. امریکہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان، مخلوط حکومت، افغان سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کی اجازت اور انسانی حقوق کا احترام کرنے جیسی شرائط تھیں، افغان ان شرائط پر عمل پیرا ہیں. میں اقوام عالم کو کہتا ہوں کہ اس وقت ہم سب کو طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مالی اور غذائی امداد کرنی چاہئے. اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو اگلے سال تک غذائی قلت 90 فیصد تک بڑھ جائے گی. آخر میں میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر افغانستان کے متعلق عملی طور کردار ادا کرنا ہوگا، آپ سب کا بہت شکریہ

    @mian_ihsaan

  • افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کی افغانستان کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آج تک ایک بات تو بہت کی گئی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کئی ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا لیکن ایک بات جو آپ نے کبھی نہیں سنی ہو گی وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے کتنے ارب ڈالرز کمائے۔جی ہاں۔۔۔ اس جنگ میں امریکی حکومت کا ہونے والا نقصان ایک طرف ہے لیکن میں آج بتاوں گی کہ وہ کونسی امریکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اربوں ڈالرز کمائے۔ یعنی امریکہ کو اس جنگ میں اخلاقی ناکامی تو ضرور ہوئی لیکن مالی طور پر بہت فائدہ بھی ہوا۔ اور اب جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے امریکہ افغانستان سے واپس جا چکا ہے تو ان کمپنیز کو حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا منافع بھی بند ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مخصوص حلقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟ اس سب پر بات کریں گے۔Brown university کےCost of war project
    کے مطابق2001سے2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔ اور یہ ساری ادائیگیاں امریکہ کی چند نجی کمپنیز کو کی گئیں کیونکہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم استعمال کئے گئے تھے۔ زیادہ تر وسائل دفاعی Defence contractorsنے فراہم کیے تھے۔ جن کے لئے ان کو payکیا جاتا تھا۔اب اگر بات کی جائے اخراجات کی تو امریکی حکومت کی اپنی ویب سائٹ USAspending.comکے مطابق 2008سے 2021کے دوران تین امریکی کمپنیوںDencorp FluorKellogg Brown & Rootکو امریکی حکومتوں نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔امریکی کمپنیDencorp سے افغانستان میں مختلف سروسز حاصل کی جاتیں تھیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔چند سال پہلے اس کمپنی کو ایک دوسری امریکی کمپنیAmentumنے خرید لیا تھا۔ اس طرح ان دونوں کمپنیوں کو افغانستان میں سروسزکے لئے 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔Texasمیں قائم کمپنیFluor فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھےاس کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ افغانستان میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔ اس کام کے لئے اس کمپنی کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے بعد Kellogg Brown & RootیعنیKBRکوانجینیئرنگ اور اجسٹکس کا کام دیا جاتا تھا۔ انھیں رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی Management and aranotical communicationکے لئے3.6 بلین ڈالرز کے ٹھیکے ملے۔ان کے علاوہ جس کمپنی کو سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ Raytheonتھی۔ اس کا شمار امریکہ کی بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسے افغانستان میں سروسز کے لئے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

    اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔Virginiaمیں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنیAegis LLCوہ پانچویں بڑی کمپنی ہے جس نے افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمائے۔اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔ اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ اعداد و شمار دوہزارآٹھ سے دوہزار بیس تک کے ہیں۔ جبکہ اگر دو ہزار ایک سے ٹھیکوں کی مالیت کی بات جائے توCost of war projectکی رپورٹ کے مطابق2001سے 2020تک ان پانچ کمپنیوں کو پینٹاگون سے دو عشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔اور یہ رقم صرف وہ ہے جو انہوں نے براہ راست ٹھیکوں کی مد میں حاصل کی اس کے علاوہ کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ان کی تفصیلات صرف ان کمپنیز کو ہی معلوم ہیں اور کیونکہ یہ تمام پرائیوٹ کمپنیاں ہیں تو یہ اپنی معلومات پبلک بھی نہیں کرتیں۔اور ان پانچ کمپنیوں کے علاوہ بھی بہت سی دفاعی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا اسلحہ،Navigation and communication equipmentفوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ریڈار، نائٹ ویژن سسٹم،Light armoured vehiclesبھی افغانستان میں استعمال ہوئیں جس سے انہوں نے بھی اس جنگ میں خوب مال بنایا مگر کیونکہ اس دفاعی سامان کی پروڈکشن کو براہ راست اس جنگ سے نہیں جوڑا جاتا تو ان کمپنیز کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران ان کمپنیوں کو یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مختلف سامان اور سروسز کی قیمتوں کا تعین خود کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی کنٹریکٹ تو بغیر مقابلے کے دے دیے گئے تھے۔ اور کمپنیوں نے اپنی من مانی قیمتیں حاصل کیں تھیں۔اور بعض اوقات جب حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں مشکلات کو وجہ بنا کر قیمتیں بڑھا بھی دیتیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان ٹھیکوں میں Interest rateبہت زیادہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بلڈنگ کو پینٹ کرنے کے لئے 20گنا زیادہ رقم وصول کی گئی جبکہ کچھ کیسسز میں ایسا بھی ہوا کہ عمارت کو پینٹ نہیں کیا گیا اور پیسے بھی لے لئے گئے۔

    پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یہ کمپنیاں افغانستان کی لوکل کمپنیوں کو ٹھیکہ دے کر انتہائی سستے داموں میں کام کروا لیتیں تھیں لیکن خود امریکی حکومت کو کئی گنا زیادہ پیسے چارج کرتیں تھیں۔ اس طرح امریکہ نے اس جنگ میں جو کچھ خرچ کیا اس کا ایک بڑا حصہ واپس امریکہ ہی جاتا رہا اور وہاں کی کمپنیاں مضبوط ہوئیں کاروبار بڑھا اور خوب منافع کمایا گیا۔اور اب جب امریکہ یہ جنگ ختم کرکے واپس چلا گیا ہے تو یہ کمپنیاں ایک مخصوص طریقے سے لابنگ کروا رہی ہیں کہ کوئی نیا محاذ شروع کیا جا سکے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ دوبارہ کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تواب تو ان کمپنیوں کے پاس پہلے سے زیادہ تجربہ ہے جس کی بنیاد پر پھرانہی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے اور اس طرح یہ منافع خوری چلتی رہے گی۔اب سوال یہ آتا ہے کہ امریکہ کا اگلا نشانہ کونسا ملک ہو سکتا ہے؟تو اس کے لئے میں آپ کو بتاوں کہ اب کی بار زیادہ چانسز یہ ہیں کہ امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا بلکہDirectہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑی جائے گی اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں بھی کر رہے ہیں۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacific میں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ بس اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ اور چین کے درمیان ٹاکرا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کے حالات میں اخلاقی ناکامی تو ہو سکتی ہے لیکن مالی طور پر فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں جس کے لئے امریکی کمپنیاں بہت بے چین ہیں۔

  • تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد (عثمان صادق) ڈپٹی کمشنر علی شہزادنے ڈی سی آفس میں پاکستان علماء کونسل واتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کی۔ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری پاکستان علماء کونسل وممبر اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب علامہ طاہر الحسن نے وفد کی قیادت کی۔اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر الحسن نے کہاکہ پاکستان علماء کونسل ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور پائیدار امن کیلئے مصروف عمل ہے اورپیار،محبت،بھائی چارہ اور امن کا درس دیتا ہے اور تمام مکاتب فکر نے ہمیشہ فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کیا جس کا تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا۔وفد میں مولانا رفیق جامی،مولانا عبیداللہ گورمانی، مولانا حبیب الرحمن عابد،میاں ارشاد مجاہد، مولانا امین الحق،مولانا اظہار الحق، صاحبزادہ حمزہ طاہر الحسن،مولانا غلام اللہ خان،مولانا طاہر رضوی، سید حسنین شیرازی، وقار الحسن جعفری،مولانا عمر وقاص بیگ ودیگر علماء کرام موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے مثبت رویوں اورمخلصانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پر بھی اتحاد ویگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا وقت کا شدید ترین تقاضا ہے لہذا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کی فضاء کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کسی شرپسند یا تخریب کارکومذہبی کشیدگی پھیلانے کاموقع نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام معاشرے کا ممتاز اور اہم ترین طبقہ ہیں جن کی رہنمائی سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے لہذا وہ بھائی چارے،صبروتحمل اوربرداشت کی ترغیب دینے کا درس جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پرضلع بھر میں سیکورٹی کے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں تاہم انہیں کامیاب بنانے میں تمام مکاتب فکر کے علماء کابھرپور تعاون ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ترجیح ہے اس ضمن میں علماء کرام کے تعاون اور تجاویزکا خیر مقدم کریں گے۔انہوں نے شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے ویکسین لگوانے اور احتیاطی تدابیر کا پیغام عام کرنے کی بھی اپیل کی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔آخر میں امن وامان کے قیام کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

  • وفائے مرد نظر انداز کیوں؟      ازقلم: غنی محمود قصوری

    وفائے مرد نظر انداز کیوں؟ ازقلم: غنی محمود قصوری

    وفائے مرد نظر انداز کیوں؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں عورت کی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے جس میں کچھ حقیقت بھی ہے مگر زیادہ تر افسانوی باتیں گھڑ کر دین حنیف اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-

    خاص کر حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی دعوے دار کسی بھی دانستہ غیر دانستہ وقوعہ کو لے کر واویلا شروع کر دیتی ہیں تاریخ گواہ ہے جس قدر اسلام نے عورت کو تحفظ دیا اس قدر کوئی اور مذہب میں نہیں-

    اس لئے نبی ذیشان کا فرمان ہے کہ جو شخص بھی بیٹی کی اچھی طرح سے پرورش کرے گا اور اسے اخلاق حسنہ سے متصف کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا(بخاری:1418،مسلم 2629

    عورت کا مقام مذید بڑھاتے ہوئے اللہ تعالی نے جہاں مرد (باپ) کی حرمت بارے ارشاد وہاں اسی عورت ( ماں) کی حرمت بارے ارشاد فرمایا
    تم انہیں اف تک نہ کہنا(الاسراء:23

    یعنی اللہ تعالی جہاں والد سے سخت رویہ نا اپنانے کا حکم دے رہے ہیں وہیں ماں کے لئے بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے

    ماں، بہن بیٹی،بیوی و دیگر محرم عورتوں کے علاوہ اسلام میں پرائی عورت بارے سخت احکامات فرمائے گئے ہیں تاکہ ان کی حرمت محفوظ رہے اور وہ بد نگاہوں سے بچی رہے اسی بارے ارشاد ہے کہ

    ور اگر عورت پرائی ہو تو اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس کی طرف نگاہ بھی اٹھا کر مت دیکھنا(النور:30)

    مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنا ہے
    اس بارے ارشاد ہے

    آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے
    صحیح ابن ماجہ 1752

    یعنی صدقہ خیرات دینے سے بھی پہلے اپنے بیوی بچوں پر اچھا خرچ کرنا لازم ہے

    اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا

    تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کیلئے تم سب سے زیادہ بہتر [خیال رکھنے والا]ہوں
    ترمذی: (3895)

    جہاں مرد کی ذمہ داری عورت کا خیال رکھنا ہے وہیں عورت پر بھی فرض ہے کہ اپنے مرد کے حقوق پورے کرے اس کی ضروریات کا خیال رکھے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے
    اس بارے ارشاد ہے

    رسول كريم صلى اللّٰه عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    الدنيا متاع ، وخير متاعها المرأة المؤمنة ، إن نظرت إليها أعجبتك ، وإن أمرتها أطاعتك ، وإن غبت عنها حفظتك في نفسها ومالك
    ” دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے، اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھى لگى اور خوش كر دے، اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كى اور آپ كے مال كى حفاظت كرے

    جب مرد و عورت دونوں لازم و ملزوم ہیں حقوق یکساں ہیں تو پھر اکیلی عورت کے حققوق بارے چند بے ضمیر مردوں کی غلطیوں کے باعث اتنا واویلا کیوں ؟
    حالانکہ اب تو عورت اتنی آزاد ہے کہ پاکستان میں فیملی کورٹس ایکٹ اکتوبر 2015 میں منظور ہوا تھا جس کے سیکشن 10 کی دفعہ 6 کے تحت قانونی طور پر طلاق و خلع کا عمل آسان تر کردیا گیا تھا جو کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافہ کر رہا ہے-

    گز شتہ برسوں کے مقابلے میں سال 2018ء میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ و ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق و خلع لینے کا رحجان بڑی تیزی سے بڑھا ہے جوکہ اب رواں سال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کی وجہ اکثر عورتوں کی انا پر ستی ، خود کمانے و خود کفیل ہونے کا گھمنڈ اور معاشرتی بے راہ راوی نے ہے جس کے باعث ہمارا خانگی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے-

    ایک اور رپورٹ کے مطابق 1970 میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی جس میں اب 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اگر دیکھا جائے تو جہاں حقوق کی ادائیگی میں غافل مرد ہیں تو وہیں عورتیں بھی ہیں تو پھر یہ یک طرفہ واویلا کیوں؟؟

  • ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: صیلات کے مطابق ٹک ٹاک نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل عالمی ٹک ٹاک کمیونٹی کی تعمیر کے ذریعے عالمی سنگ میل حاصل کر لیا۔

    اس موقع پر ٹک ٹاک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ٹک ٹاک میں ہمارا مشن تخلیقی صلاحیتوں کو تحریک دینا اور تفریح فراہم کرنا ہے آج ہم اِس مشن اور ٹک ٹاک کی عالمی کمیونٹی کا جشن منا رہے ہیں اب ہر ماہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ٹک ٹاک پر آتے ہیں تاکہ تفریح فراہم کر سکیں۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    ٹک ٹک انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس پلیٹ فارم پر نئے لوگ اس لیے آتے ہیں کہ وہ کچھ سیکھ سکیں اور کچھ نیا دریافت کر سکیں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم مختلف خاندانوں پر مشتمل انتہائی دلفریب اور متنوع کمیونیٹیز اور تخلیق کنندگان کا گھر ہیں جو وقت کے ساتھ ہمار ے پسندیدہ ستاروں میں بدل جاتے ہیں۔

    ٹک ٹک انتظامیہ نے مزید کہا کہ ہماری عالمی کمیونٹی، تمام نسلوں میں، لاکھوں افراد تک پہنچے کی صلاحیت کے باعث اہمیت اختیار کر چکی ہے موسیقی، خوراک، حسن اور فیشن سے لیکر فن، مقاصد اور ہر وہ چیز جو اِن کے درمیان موجود ہے ثقافت حقیقی معنوں میں ٹک ٹاک پر شروع ہوتی ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

  • انضمام الحق  دل کی تکلیف کے باعث اسپتال داخل

    انضمام الحق دل کی تکلیف کے باعث اسپتال داخل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دل کی تکلیف کے باعث سابق کرکٹر انضمام الحق کو نجی اسپتال میں داخل کیا گیا اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر زبیر اکرم نے عالمی شہرت یافتہ بلے باز انضمام الحق کی انجیو پلاسٹی کردی ہے۔

    عمر شریف کی امریکہ روانگی موخر، اہلیہ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے مدد کی اپیل

    انضمام الحق کو اسٹنٹ ڈالا گیا ہے اسپتال انتظامیہ کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہے۔

    واضح رہے کہ سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم انضمام الحق قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں 1992 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل کے ہیرو انضمام الحق نے 120 ٹیسٹوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8830 رنز بنارکھے ہیں، ان کا ٹیسٹ میں انفرادی اسکور 329 رنز ہےجبکہ وہ پاکستان کے لئے 25 ٹیسٹ سینچریاں اور 46 نصف سینچریاں بناچکے ہیں۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    ایک روزہ میچز میں انضمام الحق نے پاکستان کی جانب سے 378 میچز کھیل کر 11739 رنز اسکور کئے، انہوں نے 10 سینچریاں اور 83 نصف سینچریاں بنارکھی ہیں۔

    برطانوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے شہباز شریف

  • لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے     برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لندن: برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لاما اور اونٹ کے ذریعے انسانوں سے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ لاما اور اونٹ میں بننے والی مختصر اینٹی باڈیز یعنی ’نینو باڈیز‘ کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بنتا ہے عام اینٹی باڈیز کے مقابلے میں نینو باڈیز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے لیکن اب تک کی تحقیق میں انہیں ایسے کئی وائرسوں اور جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے کہ جن پر روایتی اینٹی باڈیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    روزالن فرینکلن انسٹی ٹیوٹ برطانیہ کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر تجربہ گاہ میں رکھے گئے ایک لاما میں ناول کورونا وائرس داخل کیا تو لاما کے جسم میں موجود ایک خاص نینو باڈی نے وائرس کو جکڑ کر مزید پھیلنے سے روک دیا۔

    لاما میں سے یہ نینوباڈی الگ کی گئی اور اگلے مرحلے میں اسے ہیمسٹرز (چوہوں جیسے جانوروں) پر آزمایا گیا جو وائرس سے متاثر کیے گئے تھے ہیمسٹرز میں بھی اس نینوباڈی نے وہی کارکردگی دکھائی جس کا مظاہرہ یہ لاما میں کرچکی تھی۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ماہرین کے مطابق لاما سے حاصل شدہ نینو باڈی کو اسپرے کی شکل میں براہِ راست ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچایا جاسکتا ہے جو اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے-

    رپورٹ کے مطابق 1989 میں لاما اور اونٹ پر تحقیق کے دوران پہلی بار نینوباڈیز دریافت ہوئیں جبکہ ان سے اولین علاج وضع کرنے میں مزید 30 سال لگ گئے۔

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اس سے قبل برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

    سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔