Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ا یسا پر اسرا مقام ہے جہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں اس جگہ کا نام ڈیتھ ویلی نیشنل پارک رکھا گیا ہے جہاں پتھر اپنی جگہ سے خود بخود سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کے اس خشک ترین مقام میں ایک جھیل کی خشک تہہ میں ایسا ہوتا ہے جسے ریس ٹریک پلایا کا نام بھی دیا گیا ہے ریس ٹریک کی خشک سطح پہ بے جان پتھر خود بخود سرکتے ہیں جس سے ان کے پیچھے ایک ٹریک بن جاتا ہے۔

    2014 میں 2 سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کئی بار یہ بھاری اور بڑے پتھر برف کی پتلی مگر شفاف تہہ میں سورج والے دنوں میں سرکتے ہیں، جسے انہوں نے آئس شوو کا نام دیا سائنسدان جیمز نورس نے اس موقع پر بتایا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دنیا کا وہ مقام جہاں سال بھر میں اوسطاً محض 2 انچ بارش ہوتی ہے، چٹانی پتھر اس طرح سرکتے ہیں جیسے عموماً آرکٹک کے خطے میں نظر آتا ہے۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انہوں نے یہ دریافت حادثاتی طور پر کی تھی، ویسے یہ ان پتھروں کی حرکت کی ہی جانچ پڑتال کررہے تھے مگر انہوں نے ان چٹانوں کو دسمبر میں اس وقت متحرک دیکھا جب وہ وہاں موجود اپنے ٹائم لیپس کیمروں کو چیک کرنے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق ان چٹانی پتھروں کا وزن کئی بار 200 کلو گرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک منٹ میں 15 فٹ سے زیادہ سرک سکتے ہیں، اکثر یہ اپنی جگہ سے کئی کلومیٹر دور تک چلے جاتے ہیں۔

    حیران کن طور پر کسی انسان نے ان پتھروں کو حرکت کرتے نہیں دیکھا یعنی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا البتہ انہیں 2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے ضرور حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس وقت اس حیران کن معمے کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آئی۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

  • خاندان پہلے سیاست بعد میں تحریر:آصف اسماعیل

    اس سے پہلے کہ ہم اس بحث کو سمیٹیں کہ نواز شریف کے بعد پارٹی قیادت کو کے پاس جائے گی ہمیں چوہدری ظہور الہی کے خاندان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں اور ایسا کرنے سے زیادہ بہتر انداز میں پتا چلے گا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں میں قیادت کیسے منتقل ہوتی ہے۔

    اگر چوہدری ظہور الہی کے خاندان پر نظر دوڑائی جائے تو چوہدری صاحب خود سیاست میں کافی متحرک تھے جبکہ ان کے بھائی چوہدری منظور الہی نے اپنے آپ کو کاروبار تک ہی محدود رکھا، مگر وہ اپنے بھائی کے سیاست مفادات کی حفاظت بھی کرتے تھے ان کی مدد بھی۔
    چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی اپنے بیٹے چوہدری شجاعت کو قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کروایا، اس وقت کے سیاستدانوں سے بات کی جائے تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ گجرات میں ایک رائے تھی کہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے سیاست کریں گے جبکہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے چوہدری پرویز الہی کاروبار کا آگے لے کر جائیں گے مگر پھر انیس سو

    اکیاسی میں چوہدری ظہور الہی کو الذوالفقار کی جانب سے قتل کیا گیا تو یہ ضرورت پڑی کہ مرکز کی سیاست اگر چوہدری شجاعت کریں گے تو صوبائی سیٹ پر بھی کسی ایسے شخص کو سامنے لانا چاہیے جو خاندان سے ہو اور جو خاندان سے مفادات کی حفاظت بھی کرے۔ اسی حوالے سے جب میری ترجمان پرویز الہی زین علی بھٹی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ "چوہدری ظہور الہی کی شہادت کے فوری بعد قیادت کا ایک خلا پیدا ہو گیا کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا تو اس وقت خاندان کے اندر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ چوہدری شجاعت مرکز کی سیاست کریں گے اور چوہدری پرویز الہی جو کہ چوہدری ظہور الہی کے بھتیجے بھی ہیں انہیں پنجاب کے معاملات دیکھنے پر معمور کیا جائے گا، جہاں تک سیاسی کھینچا تانی کی بات ہے تو وہ اسی وجہ سے نہیں ہوئی کہ دونوں کو اپنے رولز کا پتا چل گیا”۔ چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز دونوں ہی متحرک ہو گئے تھے کیونکہ پی این اے کی تحریک میں دونوں سے طالبعلم سیاست شروع کر دی تھی۔

    اسی طرح اگر ہم بھٹو خاندان پر نظر دوڑائی تو کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بھائی نہیں تھے تو قیادت کا جھگڑا ان کے بچوں میں ہونا تھا جو بعد میں ہوا بھی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی بے نظیر بھٹو کی گرومنگ شروع کر دی تھی جیسا کہ آپ سب نے دیکھا ہو گا کہ شملہ معاہدے کے وقت بے نظیر بھٹو اس دورے میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھیں اور انہیں ہی سیاسی جانشین تصور کیا جاتا تھا مگر خاندان کے اندر لوگوں کا خیال تھا کہ جانشین مرتضی بھٹو کو ہونا چاہئے لیکن اس خیال کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور بے نظیر بھٹو ہی اصل وارث بنیں۔

    اب اگر ہم ان دونوں خاندانوں کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ نواز شریف کا سیاسی وارث کون ہو گا۔ 1999ء کے مارشل لاء کے فوری بعد سے لے کر دو ہزار سات تک سب کا ماننا یہی تھا کہ حمزہ شہباز ہی نواز شریف کے سیاسی وارث ہوں گی اور یہ تاثر دو ہزار سولہ تک کافی حد تک درست بھی مانا جاتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران حمزہ

    شہباز پنجاب میں ڈپٹی وزیراعلی کے طورپر متحرک رہے۔ مرکز کی سیاست نواز شریف کے ہاتھ میں تھی جبکہ مریم نواز ان کے ساتھ میٹنگ اور بیرونی دوروں پر ہوتی تھیں اور پنجاب کے انتظامی معاملات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں تھے۔ میری اپنی رائے میں خاندان میں خاموش مفاہمت اب بھی برقرار ہے مگر اب اس میں تھوڑی پیچیدگی آ گئی ہے کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پانامہ کیسز کے دوران اس طرح سے متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی دونوں نے بیانات دیئے جیسے کھل کر مریم نواز یا نواز شریف سامنے آئے۔ اب پارٹی میں دو گروپ ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن نواز شریف کے منظر سے ہٹنے کے بعد سامنے آئیں گے۔ ایک گروپ کا ماننا یہ ہے کہ جس کی دھاک پنجاب پر ہوتی ہے وہی مرکز میں حکومت بناتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کا ماننا ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے، مریم نواز اور نواز شریف پر جب مشکل وقت تھا تو شہباز شریف اور ان کے بیٹے خاموش تھے تو قیادت مریم نواز کے پاس ہی جانی چاہیے۔

    اب اگر تجزیہ کیا جائے تو جیسے چوہدری خاندان میں اس بات پر اتفاق تھا کہ مرکز کی سیاست چوہدری شجاعت کریں گے اور صوبے کی سیاست چوہدری پرویز الہی ویسے ہی نواز شریف کا سیاسی وارث مرکز میں مریم نواز کی صورت میں سامنے آئے گا اور صوبے میں حمزہ شہباز کی صورت یہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کا کردار بالکل اسی طرح کا ہو گا جیسا اس وقت نواز شریف کا ہے، کیونکہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کی گرومنگ اپنی زندگی میں ہی شروع کر دی تھی تو یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بے نظیر بھٹو ہی سیاسی جانشین ہوں گی ویسے ہی مریم نواز کا پلڑا اس وقت حمزہ شہباز پر کافی بھاری ہے۔ ہمیں لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں کہ حمزہ شہباز کی نسبت مریم نواز کی جدوجہد کم ہے مگر مریم نواز حمزہ شہباز کے مقابلے میں "کراوڈ پلر”ہیں۔ جہاں تک جماعت یا خاندان میں لڑائی کی بات ہے تو میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا کیونکہ جس طرح مافیاز میں "خاندان پہلے اور کاروبار بعد میں” آتا ہے 2یسے ہی سیاسی خاندانوں میں ایک خاموش مفاہمت ہوتی ہے کہ "خاندان پہلے آتا ہے اور سیاست بعد میں” آتی ہے۔ ہم نے ماضی میں تو یہی دیکھا اب مستقبل کا حال اللہ جانتا ہے۔

  • 27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    سیاحت کے شعبے کو دنیا بھر کے ممالک میں ایک صنعت کی حیثیت حاصل ہے، سیاحت کا یہ شعبہ معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے اورملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بہترین زریعہ بھی ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک پاکستان کی تو دنیا بھر کی طرح ارض پاک پاکستان میں بھی آج کی دن یعنی 27ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے نام سے بھرپور طریقہ سے منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ٹورزم آرگنائیشن کے ماتحت تقریباً 1980 میں پہلا بار عالمی سطع پر سیاحت کا دن منایا گیا۔ اس دن کے اگر مقاصد کی بات کی جاۓ تو دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے جس سے اقوام عالم میں تمام ممالک کے درمیان بھائی چارے یعنی دوستی کی فضا پیدا کرانا باہمی روابط رکھنا ہے

    دنیا بھر میں سیاح بہت سے ممالک کا دورہ کر کے اس ملک کی تہزیب و تمدن اور ثقافت کا بخوبھی جائزہ لیتے اور سمجھتے جس سے سیاحوں کو اس ملک کے لوگوں کے بارے ان کے رئین سہن کھانے پینے کے بارے میں معلومات ملتی اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہہ لوگوں میں اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جاۓ کہہ سیاحت اقوام عالم کے تمام ملکوں کے درمیان بہت سی اہمیت رکھتی ہے
    اگر ہم ارض پاک پاکستان کی سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ارض پاک پاکستان کا شمار بھی اقوام عالم کے خوبصورت ملکوں میں شمار ہوتا ہے یہاں تاحد نگاہ قدرتی خوبصورتی آنکھوں کو ٹھنڈک اور راحت دینے کے لئے پھیلی ہوئی ہے

    دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی حسین مقامات اپنی طرف راغب کرتے ہیں ارض پاک میں خوبصورت پر پیچ خم کھاتی خوبصورت وادیاں پہاڑ اور بہتے ہوۓ دریا خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پھر پاکستان کا ثقافتی ورثہ بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے
    اگر میں پاکستان میں چند خوبصورت جہگوں کے نام لوں تو مری کالام ما لم جبہ آزاد کشمیر بالاکوٹ سوات گلگت کاغان ناران اور بہت سے ایسے شہر جگہیں ہیں جو دیکھنے والے سیاحوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں
    گزشتہ ادوار میں حکمرانوں کی عدم دلچسبی اور توجہ نہ دینے کیوجہ سے یہ شعبہ کافی سست رہا۔
    لیکن پاکستان میں تحریک انصاف کی پہلے گورنمنٹ ہی جس نے سیاحت پر بھر پور توجہ دی سابقہ کے پی کے کیں دور حکومت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان کی خصوصی دلچسبی کیوجہ سے کے پی کے میں کافی زیادہ اس شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آئی اب چونکہ مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیز اعظم جناب عمران خان صاحب پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی توجہ بھی دے رہے ہیں جس کیوجہ سے ہر آنے والا سال پہلے سال سے زیادہ اس شعبہ سے آمدن اکٹھی کر رہا ہے
    پاکستانی قوم کی دنیا سے پیار کرنے والی اپنے مہمانوں کو عزت دینی والی ہے پاکستان پرامن اور خوبصورت ترین ملک ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

    ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

                                 
                
    اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی حالیہ مثال پچھلے دنوں میں آپ کے سامنے آئی امریکہ نے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے اسرائیل سے اپنے ڈپلومیٹک تعلقات توڑ دیے ترکی نہ ہی کوئی ایٹمی ملک ہے اور نہ ہی اس کے پاس کسی قسم کے کوئی ایٹمی ہتھیار ہیں ہیں مگر باوجود اس کے اس کا شمار دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیہ ہے کیونکہ ترکی یورپ اور ایشیا دونوں براعظموں کے درمیان میں واقع ہے اور درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے وہ دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے ترکی کے اس جغرافیائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روس اور امریکہ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ ترکی میں ان کے ساتھ رہے اور اس چیز کو ترکی اچھی طرح جانتا ہے مگر یہی جغرافیہ ترکی کے لئے سب سے بڑی مصیبت بھی ہے کیوں کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے لیے ترکی میں آ جاتے ہیں جو ترکی کی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے ترکی یورپی یونین کا حصہ بننا چاہتا ہے ہے مگر اس کا جغرافیا اس کی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں بغیر ویزے آسانی سے آ جا سکتے  ہیں اگر ترکی یورپی یونین میں شامل ہو جاتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بآسانی یورپ چلے جائیں گے جو کہ ممکن نہیں ہے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود یورپی یونین اسے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے معاشی لحاظ سے ترکی 863 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کی سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترکی کے جی ڈی پی کا زیادہ انحصار سیاحت پر ہے ایک اندازے کے مطابق ہر سال ستر لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں ترکی کی فوجی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جب کہ پاکستان تیرویں بھارت پانچویں اور چین تیسری بڑی طاقت ہے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک ترکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو مغربی فوجی اتحاد نیٹو سے بھی جنگ کرنے پڑے گی اور یہاں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد دوسری بڑی فوج بھی ترکی کی ہے اور اس کی تعداد 4 لاکھ دس ہزار ہے امریکی پابندیوں کے باوجود ترکی نیٹو اتحاد کا واحد ایسا ملک ہے جو روس سے جدید ہتھیار اور ریڈارسسٹم خرید رہا ہے ترکی مسلمان ملکوں میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ہے جب امریکی صدر  نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسلم ممالک کا ایک اجلاس بلایا اور بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے ترکی میں دو بڑے اہم مسائل ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی میں رہنے والے کرد اقلیت کے لوگوں نے آزادی کی تحریک شروع کردی ہے ان لوگوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے اڈے قائم کر لیے ہیں ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے اور عراق میں بھی ترکی کی فوج داخل ہوچکی ہے اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکہ سے خراب تعلقات ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے ہے کہ ترکی تیزی سے روس ایران پاکستان کے قریب ہو رہا ہے قطر اور ایران سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں تاہم شام عراق اسرائیل سعودی عرب یمن یونان سائپرس اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک ک خراب ہو چکے ہیں یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنے جغرافیائی لحاظ معاشی ترقی نیٹو کی رکنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے ہے تاہم کرد کی بغاوت امریکا اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کی بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لیے بہت سارے چیلنج پیدا کر دیے ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    آج سے کچھ قبل سوشل میڈیا پر ایک خبر نظروں سے گزری جس کا عنوان یہ تھا کہ سندھ اسمبلی میں اسلام مخالف بل منظور ہوگیا پہلے تو میں نے اسے فیک اور جھوٹی خبر سوچ کر ان دیکھا کردیا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیسے اسلام مخالف بل منظور کا سکتا ہے؟

     مگر پھر اگلے دن میرے ایک اور عزیز نے مجھے یہ خبر واٹسپ پر بھیجی پھر میں نے سوچا کیوں نہ اس خبر کی تصدیق کی جائے.

    خبر کی تحقیق کرنے پر پتا چلا واقع یہ خبر تو حقیقت پر مبنی ہے پھر مزید سندھ اسمبلی میں منظور ہوئے اس کردار داد کو پڑھا تو اس کا اسکا خلاصہ یہ نکلا کہ حقیقت میں یہ بل اسلام مخالف ہے اور اسلام کے دارہ کار کے بل کل منافی ہے. 

    کیا ہمارے حکمران اتنے کم عقل ہیں؟ کہ ا چند ووٹوں کی خاطر اپنا ایمان بیچ کر ان کے تہواروں میں جاتے ہیں انہیں کے جیسی عبادت کرتے ہیں ان کے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں کیا اسلام اس اجازت دیتا ہے؟

    تفصیلات کے مطابق یہ بل ایک سال قبل مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی نند کمار گولکانی نے پیش کیا تھا جسے منظور کرلیا گیا.

    وطن عزیز پاکستان میں دین مذہب میں کوئی تفریق نہیں بلکہ اتنا خیال تو یہاں کسی مسلم کا نہیں رکھا جاتا جتنا کسی غیر مسلم کا رکھا جاتا ہے اس کے بر عکس اگر آپ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں وہاں کتنی انسان حقوق کی پامالی ہو رہی ہے مسلمانوں کا جینا وہاں محال ہے کتنی ہی مسلم بستیوں کو غیر قانونی طور پر قرار دے مسمار کر دیا جاتا ہے اپنے آپ کو سیکیولر ملک قرار دینے والا بھارت خود انسانی حقوق کی پامالی کرتا ہے .

    آئیں اس بل کی کچھ اہم تعریف آپ کے سامنے رکھتا ہوں.

    کوئی بھی لڑکی یا لڑکا 18سال سے قبل اسلام قبول نہیں کرسکتا زبردستی کلمہ پڑھنا نے والے اور نکاح خواں کو کم از کم 5 سال قید اور ضمانت بھی نہ ہو سکے گی.

    اس میں سب سے پہلے خلاف شریعت بات عمر کی تحدید کرنا ہے دین اسلام میں کہیں بلوغت کیلئے اٹھارہ سال کی عمر مقرر نہیں کیونکہ دور نبوی میں پندرہ سال سے کم بچوں نے بھی اسلام قبول کیا بچوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت علی المرتضیٰ رضہ نے قبول کیا اسی طرح زید بن حارثہ رضہ نے پندرہ اور معاذ و معوذ رضی اللہ عنھما نے بارہ اور تیرہ سال میں اور اگر تاریخ اسلام کو صحیح معنوں میں پڑھا جائے تو یہ بل بلکل ہی اسلام مخالف ہے

    اسلام تو اسکی بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی غیر مسلم کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے. 

    اگر یہ بل کسی غیر مسلم ملک میں ہو تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس وطن عزیز پاکستان یہ کردار داد منظور ہونا ہمارے سیاستدانوں کے منہ پر ایک تماچہ ہے.

    میں سمجھتا ہوں کہ بل اسلام کی دعوت تبلیغ کو روکنے کیلئے اور اس وطن عزیز پاکستان کے خلاف ایک ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ہے پہلے جب دشمنوں نے ملک پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی الحمدللہ ہم نے اسکا بھرپور جواب دیا اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اب جبکہ یہ اس میں بھی ناکام ہوئے تو انہیں نے ہمارے سوئے ہوئے حکمرانوں کا سہارا لیکر وطن عزیز کی بنیادیں کچی کرنی چاہیں ہیں کیونکہ دین اسلام وہ واحد مذہب ہے جو تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے جس سے غیر مسلم ان خوفزدہ طاقتوں، این جی اوز اور سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے غیر مسلم خصوصاً ہندو ارکان نے نومسملوں کے ساتھ تعاون اور ان کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں اور علماء کو ڈرانے کےلیے مذکورہ قانون پاس کیا ہے۔

  • کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    قارئین آج میں ایک بہت اہم موضوع پر لکھنےجارہا ہوں یوں تو میں اپنی تمام تحریروں میں کوشش کرتا ہوں کے میری لکھی گئی تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قلم کی آواز ایوانوں میں سنائی دے جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے ہر جگہ کرونا کا رونا ہے لیکن کرونا جاتے جاتے بھی کراچی کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرتا جا رہا ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کرونا کا نوجوانوں کے مستقبل سے کیا واسطہ تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کرونا کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے بالخصوص کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہا ہے آج میرا جانا اپنے کسی دوست کے پاس ہوا جو کے سندھ پولیس میں بطور ایس ایچ او ملازمت کر رہا ہے میں اس کے پاس بیٹھا خوش گپیاں مار رہا تھا کے اچانک اس دوست کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون کال اٹھاتے ہی کہا سر میں گرفتاریاں کر رہا ہوں جن لوگوں نےکرونا ویکسین نہیں لگوائی دوسری جانب کال پر کوئی اعلیٰ افسر موجود تھا کیونکہ میرا ایس ایچ او دوست اسے سر کر کے مخاطب کر رہا تھا دوسری طرف سے کرونا ویکسین نہ لگانے والوں کے خلافِ 40 ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم صادر فرمایا جا رہا تھا چونکہ میں ایس ایچ او صاحب کے قریب بیٹھا تھا تو مجھے دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو کی آواز سنائی دے رہی تھی اور میرا ایس ایچ او دوست سر سر اور سر بولے جارہا تھا فون کال بندہونےکےبعد میں نے اپنے دوست موصوف سے پوچھا کے یہ کیا چکر ہے 40 ایف آئی آرز کس کی کرنی ہے اور آج ہی کیوں کرنی ہے میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی آج سے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کےخلاف مہم کا آغاز کیا جا چکا ہےاور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملا ہے اور مجھے فوری طور پر حکم ملا ہے کے کم ازکم 40 ایف آئی آرز درج کر کے رپورٹ واٹس کرنی ہے افسران بالا کو یہ تمام باتیں سن کر میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے اپنے ایس ایچ او دوست سے کہا یار یہ تو بہت زیادتی اور ظلم ہو جائے گا کہنے کو تو یہ ایف آئی آر چھوٹی سی ہے لیکن یہ ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دے گی ایک ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ نوجوان کسی باہر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اسلحہ کا لائسنس نہیں بنوا سکتا تو یہ تو بہت بڑا ظلم ہو جائے گا اس سے پہلے بھی آپ کو یاد ہو گا ون وے اور ڈبل سواری پر نوجوانوں کی ایف آئی آرز درج کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا چکا ہے کہنے کو تو یہ تمام ایف آئی آریں ایک چھوٹی سی سیکشن 188کے تحت کاٹی جاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی سی ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرجاتی ہے کرمنل ریکارڈ ڈیٹا بیس پر انٹری کر کے نوجوانوں پر ساری زندگی کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے پوری دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہوں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا جارہاہے خدارا نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے یہ نوجوان مستقبل کا معمار ہیں اس ملک کی باگ دوڑ ان ہی میں سے کسی نوجوان نے سنبھالنی ہے براہِ مہربانی کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلافِ ایف آئی آر کے بجائے اگر جرمانہ کر دیا جائے تو بھی لوگ ویکسین لگوا لیں گے اگر ہم فرض کر لیں کے ایک تھانے میں 40 نہیں 25 ایف آئی آرز روزانہ کی بنیاد پر درج کی جائیں تو کراچی کے 108 تھانہ جات سے 2700 ایف آئی آرز درج کر کے نوجوانوں کو تباہی کی جانب گامزن کر دیا جائے گااس پر نظر ثانی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیاجائے چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا از خود نوٹس لیں اور کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ پونے سے بچائیں۔

    جزاکِ اللہ

    Name:

    Sadiq Saeed | صادق سعید

    Twitter Handle

    @SadiqSaeed

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    نیوزی لینڈ کی سیریز منسوخ ہونے کے بعد راولپنڈی کی انتظامیہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کو اخراجات کی مد میں 27 لاکھ روپے کا بل تھما دیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مد میں راولپنڈی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میچ کے دن سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں اور انہیں کھانے میں پلاؤ اور بریانی کھلائی جاتی تھی۔

    انتظامیہ کے مطابق کیوی ٹیم جب پریکٹس کے لیے آتی تھی تو روٹ لگتا تھا اور جب تک ٹیم گراؤنڈ میں رہتی تھی نفری تعینات رہتی تھی۔

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سیریز نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے ساتھ ہی ،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا-

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے پاس بھی کوئی اطلاع نہیں تھی، صرف بہانہ بنایا گیا، اس کے پیچھے کیا ہے آئندہ کچھ روز میں پتا چلے گا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیاہے جس کی بنیاد پر سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہمارے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے ، موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا ، پی سی بی نے سیریز کیلئے بہترین میزبانی کی ۔ ہمارے کھلاڑی محفوظ ہیں اور بہترین انتظامات کیئے جارہے ہیں-

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    قرآن کریم میں ارشاد  باری تعالیٰ  ہے

    اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا   56؀

    اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔(سورۃ الاحزاب 56)

    صحابہ کرام ؓ  نے  نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ اے نبی مہربان   ﷺہم  آپ  ﷺ پر درورد و سلام  کیسے بھیجیں  اسی حوالے سے آج  ہم  احادیث کی  روشنی میں جاننے کی کوشش کریں   گے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 907)

     

      عبداللہ بن یوسف مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ان کے والد عمرو بن سلیم زرقی حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 627)

    قیس بن حفص موسیٰ بن اسماعیل عبدالواحد بن زیاد ابوقرہ مسلم بن سالم ہمدانی عبداللہ بن عیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کرتے ہیں عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ملے تو فرمایا کیا میں تمہیں ایسا تحفہ نہ دوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور دیجئے انہوں نے کہا ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اہل بیت پر ہم کس طرح درود پڑھیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے درود پڑھیں (اب اہل بیت پر درود کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بتا دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 628)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ۔

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1308 

    حضرت عمرو بن سلیم زرقی ابوحمدی ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1310)

    یحیی بن یحیی تمیمی، مالک، نعیم بن عبد اللہ، محمد بن عبداللہ بن زید انصاری، عبداللہ بن زید، ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک ہم تمنا کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کا سوال نہ کیا جاتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) پڑھو اور سلام تم پہلے معلوم کر چکے ہو۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 902)

    محمد بن عبداللہ بن نمیر، روح، عبداللہ بن نافع، اسحاق بن ابراہیم، روح، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عمرو بن سلیم حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج واولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 906)

    حفص بن عمر، شعبہ، حکم بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے (یا لوگوں) نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا حکم ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن درود کا طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 973)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ہم اہل بیت پر درود بھیجنے کا پورا پورا ثواب پانے کا خواہش مند ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں کہا کرے

     اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

    (سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 979)

    حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تمہارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ (وفات کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم (اولوں کی طرح) گل کر مٹی ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیدیا ہے (یعنی زمین باقی تمام لوگوں کی طرح انبیاء کے اجسام کو نہیں کھاتی اور وہ محفوظ رہتے ہیں۔

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1044

     

     

     

     

     

     

  • کالم نگاری کے 5 آسان طریقے۔ تحریر کنزہ صدیق

    قلم اور قلمکار کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے قلم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اقبال کی قلم ہی مسلمانوں کا شعور جگانے کا سبب بنی اسی طرح قلم اور قلم کار کا رشتہ نہایت ہی گہرا ہے 

    کالم نگار معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔

    کالم نگاری کے شوقین نوجوانوں کے لیے چند نہایت آسان طریقے اور کچھ اصول میں بتانا چاہوں گی جن کی مدد سے کوئی بھی بڑی آسانی سے اپنے خیالات کو لفظوں میں بیان کرسکتا ہے 

    کالم لکھنے کا سب سے پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے ڈائری لکھنے سے۔۔

    جی ہاں آپ کے دماغ میں جب بھی کوئی اچھا سا ٹاپک آئے تو آپ فوراً ہی اسے محفوظ کر لیں ساتھ ساتھ اسی کے متعلق سوچنا بھی شروع کریں 

    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ میں وہی ٹاپک آتا ہے جو ہمارے اردگرد ہورہا ہوتا ہے لہذا جب بھی آپ اپنے عنوان کے متعلق سوچیں تو زرا اردگرد کے ماحول پہ بھی نظرِ ثانی کریں

    روز ایک ورق لکھئیے دماغ میں خاکہ بنائیے یہ طریقہ آپکو اچھا لکھاری بننے میں مدد دے گا

    دوسرے طریقہ یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بنائیے ایسی کہانیاں جو موجودہ دور کی عکاسی کرسکیں، آپ سیاسی کہانیوں سے لے کر طنزومزاح سے بھرپور کہانیاں لکھنا شروع کریں آج کل نوجوانوں کو سیاست کا بڑا ہی شوق ہے اسی لیے ملک میں ہونے والے روز مرہ کے معاملات پہ بھی آپ لکھ سکتے ہیں 

    چلیں جی اب بڑھتے ہیں ہمارے تیسرے طریقے کی طرف جوکہ آپ کو ایک اچھا کالم نگار بننے میں مدد دے گا تیسرا طریقہ یہ کہ آپ کسی اچھے کالم نگار کو پڑھنا شروع کریں انکے الفاظ پہ غور کریں الفاظ کے چناو اور انکے معنی و مفہوم پہ غور کریں تاکہ آپ کو سیکھنے میں مدد ملے یاد رکھئیں جب بھی آپ کسی کتاب یا کالم کو پڑھتے ہیں تو آپکے دماغ میں بھی مختلف کردار ابھرتے ہیں جسکی وجہ سے آپکو مختلف آئیڈیاز مل جاتے ہیں 

    چوتھا طریقہ ہے مکالمہ،

    تحریر سکیھنے کا ایک طریقہ فرضی مکالمہ ہے جیسا کہ فرض کر لیجئے کہ دو دوست آپس میں مثبت بحث کر رہے ہیں جس میں ایک چھٹی کے دن کو گھر میں گزارنے پہ بہتر سمجھتا ہے تو دوسرا گھومنے پھرنے کو اہمیت دیتا ہے۔ دو متضاد نظریات یا خیالات کے درمیان موازنہ کرنے سے مزید خیالات جنم لیتے ہیں جسکی وجہ سے تحریر لکھنے مں آسانی ہوتی ہے 

    پانچواں طریقہ اور سب سے اہم یہ کہ مراسلہ اور مکتوب نگاری ہے آپ جو بھی لکھیں اس پہ بڑے غور کرنے کے بعد اسے جانچ لیں بات ہمیشہ مثبت اور مختصر کریں سمجھانے کے لیے الفاظ کا چناو آسان رکھیں تاکہ کسی بھی کلاس کے لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو مختصر بامعنی الفاظ سے آپ کے کالم میں خوبصورتی آتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ مزاح یا شاعری بھی شامل کیجئے تاکہ پڑھنے والے کو مزہ آئے بجائے اسکے کہ وہ بور ہوجائے ۔۔

    میں نے بھی کوشش کی کہ آپ کو سب سے آسان لفظوں میں سمجھا سکوں امید ہے کہ شروعات میں کالم لکھنے کے لیے آپکو ان طریقوں سے مدد ملے گی

    کالم نگاری کا دائرہ کار اور دائرہ عمل اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اسکی سماجی و سیاسی،تہذیبی،اخلاقی اور ہمہ گیر وسعت سے کون انکار کر سکتا ہے ۔اس کے اعتراف میں اکبر الہ آبادی کا کہنا ہے کہ 

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔