Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    twitter / @S_paswal 

     

    ‏جب سے زندگی وجود میں آئی تب سے ہی جسمانی بیماریاں بھی زندگی کا حصہ ہیں ۔ جیسے کوئی گاڑی یا کوئی بھی مشین ہو ۔ تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔اسی طرح انسان بھی کبھی جسمانی کبھی روحانی اور کبھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے ہم جسمانی بیماریوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر نفسیاتی الجھنوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

    ‏نفسیاتی الجھنوں پہ اکثر لکھاری قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں مگر میرے نزدیک اس پہ جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ نفسیاتی بیماریاں ایسی بیماریاں ہیں جن کے بارے میں معاشرے میں ابھی اتنی آگاہی ہی نہیں ۔ اس لئے خود مریض کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس نفسیاتی مرض کا شکار ہے ۔ اپنے اردگر نظر دوڑانے سے آپکو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ ان نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ اور اس مرض کے زیر اثر وہ لوگ ایڑیا رگڑ رگڑ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔

    ‏نفسیاتی الجھنوں نے پورے معاشرے کو ایسے ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسے کرونا وائرس جیسے مہلک وبا نے پورے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔ نفسیاتی بیماری کا مطلب پرگز یہ نہیں کہ آپ پاگل ہیں ۔ جسمانی بیماریوں کی طرح نفسیاتی بیماری بھی ایک مرض ہے ۔ جیسے ہم اپنی جسمانی بیماری کیلئے ڈاکٹر کے پاس جا کر مکمل علاج کر واتے ہیں ۔ ویسے ہی نفسیاتی الجھنوں کا بھی علاج ممکن ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پہ بات کرنا بھی ایسا ہے جیسے کوئی اچھوت بیماری جو نام لینے سے بھی نقصان پہنچائے گی ۔ 

    ‏نفسیاتی مسائل میں ایک مرض شیزو فرینیا ہے ۔ یہ ایک خطرناک ذہنی مسئلہ ہے ۔ جس میں مریض کو لگتا ہے کہ ہر بات کے دو مطلب ہیں اور وہ مریض ہمیشہ بات کے منفی پہلو پہ نظر رکھتا ہے ۔ اور اسے لگتا ہے کہ ہر بات میں طنز چھپا ہے ۔ اس مرض نے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس مرض کی زد میں آنے والوں میں ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ۔ جنہیں ہر وقت یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا مالی نقصان ہوجائے گا اور یا پھر اس کے ادرگرد کے لوگ اسے مارنا چاہتے ہیں اور اسکے خلاف سازشوں میں شریک ہیں ۔

    ‏ایک ذہنی بیماری اور بھی ہے جسے نفسیات کی زبان میں ”بائی پولر” کہا جاتا ہے عام بان میں اسے خود پرستی بھی کہا جا سکتا ہے ۔اس کی زد میں آنے والے شخص کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے اس جیسا اور کوئی نہیں، وہی خود پرستی ۔ چنانچہ وہ مختلف دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ذہنی امراض کے ایک اسپتال میں ایک مریض نے دوسرے مریضوں کو اونچی  بلند مخاطب کر کے کہا ”آپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مجھے اوتار بنا کر آپ کی طرف بھیجا گیا ہے” اس پر بائی پولر کا دوسرا مریض اپنی جگہ سے اٹھا اور اتنی ہی بلند آواز میں کہا ”لوگو، اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ جھوٹا ہے کیونکہ میں نے اسے اوتار بنا کر نہیں بھیجا”۔ یہ محض لطیفہ نہیں ہے اگر آپ کسی بھی منٹل ہاسپٹل کا ایک چکر لگائیں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ یہ تو حقیقت پہ مبنی بات ہے ۔ 

    ‏یہ بیماری فقط آپ ذہنی امراض کے ہسپتال میں نہیں دیکھیں گے بلکہ ایسے مریض آپکو جگہ جگہ نظر آئیں گے جو خود پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ جیسے کوئی شاعر اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس جیسا کوئی اور شاعر تو دنیا میں موجود ہی نہیں ۔ کوئی منصف ہے تو وہ یہ سوچے بیٹھا ہوتا ہے کہ اس جیسا تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا ۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں کا ہے انہیں لگتا ہے ان جیسا صادق اور امین کوئی نہیں اور دوسروں پہ کیچڑ اچھانے میں وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے ۔ 

    ‏نفسیاتی اور  ذہنی بیماریاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف شیزو فرینیا یا بائی پولر ہی شامل نہیں بلکہ اس کی بیسیوں اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو موروثی  ہیں یعنی والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ اور کچھ حالات کے تحت جنم لیتی ہیں۔ انسان کی عمر کا خطرناک دور اس کی زندگی کے ابتدائی دن ہوتے ہیں، ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت سات سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور کچھ تحقیق کے مطابق انسان کی شخصیت دو سال میں مکمل ہو جاتی ہے ۔ اور اس پر مثبت یا منفی اثرات کے متعدد محرکات ہیں جن میں گھریلو ماحول، والدین کا برتاو ، دوست اور معاشرے کا مجموعی ماحول شامل ہیں۔ 

    ‏جیسے باقی جسمانی صحت کے مسائل اہم ہیں ویسے ہی ذہنی مسائل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اب ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے وہاں یہ مسائل وبا کی طرح پھیل چکے ۔ ہر دوسرا شخص ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہے ۔ حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی جان کی بازی ہارتے نظر آتے ہیں ۔ ضرورت امر کی ہے کہ اس پہ خاص توجہ دی جائے ۔ بچوں اور بچیوں کیلئے کونسلنگ کی کلاسسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے ۔ 

    ‏کسی عام فرد کے ذہنی بیماری کا شکار ہونے اور کسی ریاست کے اس کی زد میں آنے کے اثرات بہت مختلف ہیں۔ کاش ہم لوگ اپنے بچوں، بچیوں کے طرز عمل پر ان کے بچپن ہی سے نظر رکھیں اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ان کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کریں اور اپنی آنے والی نسل کو ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے نکال کر ایک خوبصورت زندگی کی طرف لائیں جس میں لاپرواہ ہنسی کا راج ہو اور ہماری نسل تتلیوں کے سنگ اپنے رنگوں کو نکھارے 

  • ہم دنیا سے پیچھے کیوں؟ تحریر:محمد ذیشان رؤف

    عالم اسلام کے عروج کی بات کی جائے تو صدیوں پر محیط سنہرے ادوار پر لکھی گئی تصانیف سے دنیا کی لائیبریریاں بھری پڑی ہیں۔  اور نا ہی یہ بندہ نا چیز اتنی بڑے موضوع کو چند سطروں میں سمیٹنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

    لیکن ساری دنیا کے مسلمانوں کے زوال کی ایک ہی کہانی ہے اور وہ ہے اسلام سے دوری۔

    اور اسی کے بر عکس ہمارے اسلاف کی عروج کی وجہ بھی یہی رہی۔ اسلام پر قائم رہ کر دنیا مسخر کرنے والوں کی نسلوں نے جیسے جیسے اسلامی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی تقلید شروع کی ویسے ویسے زوال پزیر ہوتے گئے۔ اور اب حال یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں ہمارے معاشرے میں کسی کا معیار اگر پرکھا جاتا ہے تو اس کی بنیاد یہ سمجھی جاتی ہے کہ آیا یہ خاندان یا فرد مغربی تہذیب کے کس قدر قریب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید ہی ہماری پروان چڑھتی نسلوں کی ذہنی غلامی کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے عقیدے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ اللہ پر ایمان صرف کتابوں میں پڑھنے کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایمان کی کمزوری ہی کہ وجہ سے ہم حلال و حرام کی تمیز کرنا بھی بھول چکے۔ ہمیں اس بات کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہماری کمائی کن ذرائع سے آ رہی ہے۔ سود کے خلاف اللہ پاک نے خود اعلان جنگ کیا لیکن اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک کا سارا معاشی نظام سود پر چل رہا ہے۔ اسلام کو غالب کرنے کا حکم ہے لیکن ہم محکوم اور مغلوب ہو کر رہنا پسند کر چکے۔ ہمارے سکولوں کے نصاب تک مغرب کی منظوری کے بغیر مرتب نہیں کیئے جا سکتے۔ جہاد اور قتال سے ہم نا آشنا ہو کر رہ گئے۔ اللہ پاک نے بھی ان مؤمنوں کے ساتھ فرشتوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ بحیثیت قوم ہم بکھرے پڑے ہیں۔ فرقہ واریت، ذات پات ہمارے اندر ایک نا سور بن چکی ہے۔ مسلماں ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ معاشرتی برائیاں اس قدر سرایت کر چکی ہیں کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی دوسرا محفوظ نہیں۔ بے ایمانی، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں ہم  بہت اوپر کے نمبروں پر جا چکے ہیں۔ بلکہ ایماندار قوموں میں غیر مسلم ممالک پہلے نمبرز پر ہیں۔

    جب ہر فرد کسی نا کسی دھوکے اور چکر فراڈ میں اپنا ذہن لڑانےمیں لگا ہو ہو پھر اس قوم اور ملک میں سائینس دان، فلاسفر اور موجد پیدا نہیں ہوتے بلکہ چور ڈاکو اور لٹیرے ہی جنم لیتے ہیں۔ پھر ہر بندہ اپنی استطاعت کے مطابق ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک 6 گریڈ کا سرکاری ملازم چند سو روپے سے چند ہزار کی کرپشن کرے گا تو گریڈ 18 سے 20 کا آفسر لاکھوں کروڑوں کی بلکہ موقع ملنے پر اربوں کھربوں روپے کی کرپشن بھی کرے گا۔ یہاں لوٹ مار اور کرپشن سے صرف وہ شخص بچا ہے جسے آج تک موقع نہیں ملا۔ جب  ایسے افراد مل کر معاشرہ اور قوم بنتے ہیں تو پھر وہ دنیا پر حکمران نہیں ہوا کرتے بلکہ غلامی ہی ان کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

    اور اس کی وجہ علامہ محمد اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دی

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر  

    قرآن سے دوری ہی ہر برائی کی جڑ ہے

    اور پھر ہر برائی مل کر تباہ حال معاشرے کی بنیاد بن چکی اور یہی تباہ حال معاشرے ہمیں کبھی ایک قوم نہیں بننے دے سکتے۔

    جب ہم اپنا موازنہ بحیثیت قوم دوسری اقوام سے کرتے ہیں تو ان کی ترقی اور عروج کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ انھوں نے وہ تمام اسلامی اصول اپنا لیئے جن پر عمل کرنے کا حکم ہمیں تھا۔ وہ تمام غیت مسلم لوگ جھوٹ فراڈ ، دھوکہ دہی اور کرپشن سے دور ہو کر دنیا کی سپر پاور کہلائے جب کہ ہم یہ سب ترک کرتے گئے اور پست ہوتے گئے۔ 

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بڑے عہدے داران کی کرپشن کی داستانیں اپنے بچوں کو سنا کر ان کی ذہن سازی ایک غلط کام کی طرف کرنے کے بجائے اسلام کی نامور شخصیات کے عروج کی داستانیں اور اس عروج تک جانے کا نسخہِ اسلام بتایا کریں تا کہ یہ بد حالی اگلی نسلوں کے ذہنوں سے نکال کر ہی ایک نیا معاشرہ اور قوم تیار کر سکیں۔

  • فخر ملت، شہید ملت  نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

    فخر ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

     

    بات کرتے ہیں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کی، جیسا کہ اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ مہینہ نہ صرف شہید ملت کا ماہ پیدائش ہے بلکہ ماہ وفات بھی ہے۔ آج کی تحریر میں اُن کے کردار، جدوجھد، اور پاکستان کے لیے قربانیوں کا ذکر کریں گے۔ تحریر کے آغاز میں نواب زادہ لیاقت علی خان کی ابتدائی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں ایک نامور نواب گھرانے میں 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی مکمل کی اور ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کرلی۔

    انگلینڈ سے واپسی کے بعد آپ نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر قیادت مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ 1926ء میں میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔

     

    آپ نے نہ صرف اپنا کردار پاکستان کے حصول تک نبھایا بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی اپنی زندگی اس ارض پاک کے لیے وقف کردی۔ تحریک پاکستان کی جدوجھد میں قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے اور آزادی کے بعد اپنا سب کچھ ترک کرکے پاکستان چلے آئے۔ نواب آف کرنال کے ثبوت ہونے کے باعث آپ کے رہن سہن کے ٹھاٹھ باٹھ ایسے تھے کہ جب آپ انگلینڈ تعلیم حاصل کرنے گئے تو آپ کے ہمراہ خانساماں اور ملازمین بھی گئے، آپ کے ہاں ایک وقت کا کھانا چالیس افراد سے کم کا نہ بنا کرتا تھا۔ لیکن پیارے وطن کے حصول کی جدوجھد سے لے کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے تک کی جدوجھد تک آپ نے اپنا آپ فراموش کرکے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ نہ صرف اپنی تمام جائیدادیں پاکستان کو وقف کردیں بلکہ جب آپ وزیر اعظم بنے تو آپ نے سرکاری خزانے کا بےجا استعمال کرنے سے بھی گریز کیا۔ حتٰی کہ تاریخ میں درج ہے کہ نواب خاندان کو غربت کے باعث پھیکی چائے پیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

    نواب لیاقت علی خان کے یہ تاریخی جملے اُن سے اس ملک کی محبت کی  ترجمانی کرتے ہیں،

    1951ء میں یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان نے کراچی میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

     

    "مجھے معلوم نہیں کہ قوم کے اعتماد اور اس کے خلوص کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے، میرے پاس جائیدادیں نہیں ہیں،میرے پاس امرا نہیں ہیں مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ یہ آدمی کے یقین کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ میرے پاس صرف میری زندگی ہے اور وہ بھی پچھلے چار برسوں سے پاکستان کے نام وقف کر چکا ہوں۔ مَیں اس کے سوا اور کیا دے سکتا ہوں،مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دفاع کے لئے قوم کو خون بہانے کی ضرورت پڑی تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہو گا”۔

    اور بیشک تاریخ نے آپ کے ان جملوں کو من و عن سچ ثابت کیا۔ 

    آپ نے بطور وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیراعظم پاکستان، اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا۔

    وہ پزیرائی جو آپ کے پیش کردہ بجٹ کو عوامی سطح پر ملی کو آج تک کسی دوسرے بجٹ کو حاصل نہ ہوسکی۔

    متحدہ برطانوی ہندوستان کے پہلے اور آخری وزیر خزانہ لیاقت علی خان کے 1947-48ء کے بجٹ کو عوام قبول بجٹ کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی تمام پالیسیوں کا رُخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کرنا تھا۔ آپ نے اپنے عمل اور پالیسیوں سے یہ ثابت کیا کہ آپ کو نہ صرف پاکستان سے والہانہ محبت ہے بلکہ آپ کس قدر غریب عوام کا درد رکھتے ہیں۔

     

    پاکستان کا پہلا سیاسی قتل 16 اکتوبر کو ہوا تھا- جو کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا قتل تھا۔ ان کو 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا، آپ کے آخری الفاظ تھے "خدا پاکستان کی حفاظت کرے”.

     

    افسوس کہ آج ہم نے ایسی شخصیت کو فراموش کردیا ہے جن کی وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کی مثالیں لازوال ہیں۔ حال ہی میں سندھ حکومت کی جانب سے ملک کے نامور کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی کو "شہید ملت انڈرپاس” کا نام تبدیل کرکہ اسے عمر شریف کے نام سے منسوب کیا جائے گا جو کہ نہایت ہی غیر مناسب ہے۔ کسی بھی ایسی جگہ کا نام تبدیل کرنا جو کہ محسن ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کے نام سے منسوب ہو ٹھیک عمل نہیں، خان صاحب جیسی شخصیت پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے اور ہم انھیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہوگا۔

     

    @KainatFarooq_

  • پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں کونسی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرنے آ رہی ہیں؟کیا پاکستان اب امریکی دباو برداشت کرے گا یا ہمیں کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرنی ہو گی؟

    اس خطے میں جب بھی کوئی تناو کی صورت حال ہوتی ہے یا شدت پسندی سر اٹھاتی ہے تو اس کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس لئے اس حوالے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ امریکی حکام پہلے بھی پاکستان پر کئی بار دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن ہمارے وزيراعظم عمران خان اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہمیشہ ہی یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان خود شدت پسندی سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔اپنے حالیہ ترک ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بھی عمران خان نے بار بار یہی بات دہرائی تھی کہ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا افغان جنگ میں ہمیں 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی غلطی سے نظریں ہٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنانا تکلیف دہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدرجوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں امریکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پریشانی کا شکار ہے اور امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں لگے ہیں۔
    ایک اور اہم بات جو وزیر اعظم عمران خان پچھلے کافی عرصے سے دہرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میں جنگ سے مسئلے کے حل کا مخالف ہوں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں ہمارے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق تو اس وقت افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس کے بعد جو طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں گے تو انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کی ہم سے جو توقعات ہیں وہ اس کے بالکل الٹ ہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کریں۔ یہاں تک کہ پاکستان کوDo moreکے لئے مجبور کرنے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹریWendy Shermanپاکستان کے دورے پر بھی تشریف لا رہی ہیں وہ سات اور آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی امریکی عہدیدار کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہو گا۔

    Wendy Shermanاپنے اس طویل دورے کے لیے امریکا سے نکل چکی ہیں اور اس سلسلے میں ابھی وہ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور ازبکستان کا دورہ بھی کرنا ہے۔جبکہ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہ ہمیں سنا چکی ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ویسے تو انہوں نے پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک دہشت گردی کی لعنت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم تمام علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون کی کوششوں کے منتظر ہیں۔مطلب ہماری تعریف کے ساتھ ساتھ ہمیں آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں اور کچھ دن پہلے امریکی سینیٹ میں جو بل پیش ہوا تھا وہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں تو اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے ہم پر پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟ دراصل امریکہ افغانستان سے نکل تو گیا ہے لیکن جانے سے پہلے اس نے سوچا تھا کہ افغان فوج جس کو ہم ٹریننگ دیتے رہے ہیں اورافغان حکومت جس کو ہم اتنے سالوں تک پالتے رہے ہیں تو یہاں سے جانے کے بعد بھی ہم اس فوج اور حکومت کے زریعے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھیں گے یہاں سے ان فوجیوں کے زریعے انھیں ہر طرح کی جاسوسی ہوتی رہے گی۔ لیکن امریکہ کے نکلتے ہی معاملہ الٹ گیا وہ فوج بھی ڈھیر ہو گئی۔ حکومتی عہدیداران بھی فرار ہو گئے اور تمام جاسوسوں کے اڈے بھی بند ہو گئے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ صرف امریکہ ہی نہیں امریکہ کے چمچے انڈیا کو بھی دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ تو امریکہ کا انڈیا والا بھی راستہ بند ہو گیا۔حالانکہ انڈیا دوبارہ سے اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ انڈیا جانے والے افغانوں کو ٹریننگ دے کر اپنے جاسوس کے طور پر دوبارہ افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بتا دوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک وقت تک امریکہ یہ سوچتا رہا کہ شاید یہ کوئی فیک اکاونٹ ہے یا پھر صرف نام استعمال کرکے یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کراس اکاونٹ کو چلایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی ذبیح اللہ مجاہد کو ٹریس نہیں کر سکے۔ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا وہ بیس سال میں اگر طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکا تو انڈیا کس کھیت کی مولی ہے۔ اس لئے اب انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کے خلاف اس طرح کی سازشیں کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنا ایک انٹیلیجنس کا نیٹ روک ہے۔

    اب کیونکہ انڈیا بھی افغانستان سے باہر ہو گیا تو امریکہ کو پاکستان نظرآگیا۔۔ پاکستان کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ بہتر ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ کیوں نہ اب اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جائے۔اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ اس وقت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں دیگر دھڑوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا اور اس کا سیدھا سا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی حکومت زیادہ طاقتور نہ ہو سکے ظاہری بات ہے جب کئی گروپس مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے تو طالبان اپنے نظریات کو اس طرح سے لاگو نہیں کر سکیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے رہیں گے جس کے بعد امریکہ کہہ سکے گا کہ دیکھا ہم نے بیس سال تک جو جنگ کی وہ بالکل ٹھیک تھی کیونکہ طالبان امن پسند لوگ نہیں ہیں۔اور امریکہ کی اس تشویش کے پیچھے بھی اصل میں بھارت ہے۔ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ طالبان کے افغانستان میں آنے سے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو بھی طاقت ملے گی۔ اس لئے وہ امریکہ کے زریعے دباو ڈلوا رہا ہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروہوں کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ سے ایک جنگ میں جھونک دیا جائے اور ہمارے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تمام دباو پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا بھی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ تو امریکہ کو برداشت ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔مغربی ممالک کو ویسے ہی آجکل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں افغانستان پھر سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ نہ بن جائے۔ حالانکہ طالبان کی قیادت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا پاکستان کے کردار پر نہ صرف تنقید کرتا رہا ہے بلکہ امریکی حکام ہم پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلیجنس سروس افغان طالبان کی درپردہ مدد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اس خطے میں جاری کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے میں پھنستے رہیں گے۔باقی جو باتیں کی جاتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام ہو، خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کو بھی ساتھ ملایا جا سکے اور ان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا جا سکے۔

    حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس مرتبہ پھر اس خطے کواسی جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اس نے 90 کی دہائی میں دھکیلا تھا۔ باقی اب پاکستان پر ہے کہ وہ ڈومور کے اس امریکی دباو کو کتنا برداشت کرتا ہے جو پاکستان مخالف بل کی صورت میں امریکی سینیٹرز کے ذریعے ہم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب وہی دباو Wendy Shermanبھی پاکستان پر ڈالنے آ رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے جو اندرونی معاملات ہیں اور پاکستان معاشی طور پر جتنا کمزور ہو چکا ہے تو ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ بہت محتاط ہو کر کرنا ہوگا۔

  • سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    ۔ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے
    19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    ۔ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔
    جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    ۔ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50
    سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    ۔ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    ۔ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    میڈیا کسی بھی ملک کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کے نکھار اور بگاڑ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہوتا ہے کہ جب تک یہ لوگ بلا کسی حیل و حجت کے معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے رہتے ہیں تب تک اس اہم ستون کی اہمیت برقرار رہتی ہے لیکن جیسے ہی یہ تفرقہ شروع کر دیں اور چاپلوسی پر اتر آئیں تو اپنی ساکھ اور اہمیت کھو دیتے ہیں۔

    میں اپنی اس بات کو کچھ سادہ مثالوں سے ثابت کروں گا کہ کیسے کچھ نام نہاد صحافیوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کے ایجنڈے پر کام کیا۔ ن لیگی دور حکومت میں عائشہ گلالئی جو کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بن کر اسمبلی میں براجمان تھیں تو نہ جانے کس کی ایماء پر اس نے اس وقت من گھڑت کہانی میڈیا کے سامنے پیش کر دی کہ کیسے عمران خان اور اس کے موبائل پر پیغام بھیجتے ہیں اور اس کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس اس کی پریس کانفرنس کرنے کی دیر تھی کہ میڈیا کی بھیڑیں بغیر کسی ثبوت کے عمران خان پر چڑھ دوڑے اور روزانہ رات کے ٹاک شوز میں عدالتیں لگتیں اور روزانہ عمران خان کو سزا دینے کے متلاشی نظر آتے۔ اور تو اور ایک بڑے تگڑے صحافی نے یہ تک کہہ دیا کہ اس نے گلالئی کے موبائل میں عمران خان کے پیغامات دیکھے ہیں جس کو دیکھنے کے بعد وہ س نتیجے پر پہنچا ہے کہ گلالئی کے الزامات میں صداقت ہے۔ ہر طرف ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی پگڑی اچھالی جاتی لیکن نہ تو کوئی ثبوت عدالتوں میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی سزا ہوئی اور سب ڈرامہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا لیکن ان نام نہاد صحافیوں نہ کبھی شرم آئی کہ اپنے کیے ہوئی پروگرامز پر معافی ہی مانگ لیتے اور نہ ہی گلالئی اس کے بعد منظر عام پر آئیں کہ اس خاتون نے پیسوں کی خاطر اپنی عزت تک داؤ پر لگا دی۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں تھا کہ مخالفین نے عمران خان کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے کیونکہ اس سے پہلے یہودی ایجنٹ کا نعرہ بھی لگایا گیا اور ریحام خان کی قسط بھی سب کو یاد ہے کہ کیسے مطلقہ ہونے کے بعد اس نے عمران خان کی کردار کشی کی اور اب تک کر رہی ہے لیکن کمال کا حوصلہ اور ہمت ہے عمران خان میں کہ کبھی مخالفین کو ان کی طرح جواب نہیں دیا۔ عائشہ گلالئی اور ریحام خان نہیں انتہائی غلیظ الزامات لگائے اور روزنہ کی بنیاد پر لگاتیں تھیں لیکن خان صاحب نے کبھی ان کو جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ان کی زبان میں جواب دینے سے منع کیا۔

    اب آ جاتے ہیں اور تازہ واقع کے اوپر کہ کچھ دن قبل سابقہ ن لیگی گورنر اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم رہنما زبیر عمر کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں گورنر صاحب کی خواتین کے ساتھ رنگرلیوں کو ہر کسی نے دیکھا کہ کیسے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ان کو نوکری اور پتہ نہیں کیا کیا جھانسا دے کر اپنے بستر کو گرم کرتے رہے۔ بہت ہی چونکا دینے والی ویڈیوز تھیں اور میڈیا کے لیے بہت بڑی خبر بھی تھی لیکن چونکہ یہ عمران خان نہیں تھا لہذا نہ تو کوئی ٹاک شو ہوا اور نہ اس بار کوئی بھی صحافی ان غریب لڑکیوں کی آواز بنا جو اس درندے نما انسان کی حوس کا نشانہ بنیں۔

    اگر خدانخواستہ یہ ویڈیوز عمران خان یا کسی تحریک انصاف کے رہنما کی ہوتیں تو اب تک ان نام نہاد صحافیوں نے لڑکیوں کی مشک کو پہچانتے ہوئے کئی پروگرام کر لیے ہونے تھے لیکن چونکہ یہ ن لیگی رہنما کی ویڈیوز ہیں تو نہ تو کوئی لڑکی کے گھر تک پہنچا اور نہ ہی کسی صحافی نے زبیر عمر سے سوال پوچھنے یا اس کے خلاف پروگرام کرنے کی جسارت کی بلکہ کچھ خاتون صحافیوں سمیت بعض صحافیوں نے تو باقاعدہ اس کا ساتھ دیا کہ سوشل میڈیا صارفین بہت تنقید کر رہے تھے تو کچھ صحافی حضرات باقاعدہ طور پر زبیر عمر کے ترجمان کے طور پر اس کا دفاع کر رہے تھے جو کہ انتہائی حیران کن بات ہے۔

    تو قارئین آپ نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں کیسے منافقت کی جاتی ہے اور صرف وہی خبریں مرچ مصالحے ڈال کر سنائی جاتی ہیں جن کے بدلے میں بہت سے مالی فوائد میسر ہوں۔ صحافت ایک مشکل پیشہ ہے ان لوگوں کے لیے جو محنت کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کرتے ہیں لیکن آج کل کے صحافیوں نے اس پیشے کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ وہ صحافی صرف اور صرف پیسے کو اپنے خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 

    Twitter handle: @babarshahzad32

  • پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    برصغیر پاک و ھند پر صلیبی سامراج کے قبضے کے تحت Colonialism کا بہت اثر رہا عام رعایا اور خواص کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا جو کہ قیام پاکستان اور ھندوستان کے بعد بھی جاری رہا اور آج بھی اسکے اثرات دونوں ممالک پر بدرجہ اتم موجود ہیں۔
    برطانیہ کا رائج شدہ پارلیمانی جمہوری نظام ھند و پاک میں بھی اپنایا گیا جو کہ اپنی اچھی یا بری حالت میں چل رہا ہے ۔عوام کو اپنے شہروں میں مختلف جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دینا ہوتا ہے جسکی بنیاد پر وہ پارلیمنٹ میں جاکر اپنی پارٹی کے شخص کو ووٹ کرکے لیڈر آف ہاوس منتخب کرتے ہیں اور وہی ملک کا وزیر اعظم بنتا ہے۔
    یہ نظام پوری طرح ڈلیور نہیں کرپا رہا ۔
    کیوں ؟ اسکی چند اہم وجوہات ہیں
    1۔ ایک پارٹی کا سربراہ نیک ایماندار ہے لیکن اس شخص نے اپنا ٹکٹ کسی ایسے شخص کو دیا ہے جو چور ہے رسہ گیر اپنے علاقے میں مشہور ہے اور لوگوں پر اسکا خوف ہے تو وہ electable کہلاتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ شخص پارلیمنٹ میں پہنچ گیا اس نے اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے عوام کو کچھ نہیں ملنا ۔
    2۔ کوئی ایسا پارٹی لیڈر جو کرپٹ ہے چور ہے لیکن اسکا ٹکٹ ہولڈ نیک اور ایماندار ہے ۔ اب کیا اس ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دیا جائے جسکی وجہ سے کرپٹ شخص حکمران بن سکتا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔
    3۔ اس نظام میں electable کافی اہمیت رکھتے ہیں جو الیکشن سے پہلے چلنے والی ہوا کا رخ دیکھ کر اسکے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور جیتنے کے بعد ہمیشہ اقتدار میں رہ کر اپنا لوٹ مار تھانہ کلچر کرپشن رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ انکو ہم electable مافیا کہہ سکتے ہیں۔
    4۔ پاکستان جیسے ملک میں وڈیرہ شاہی اور اثر رسوخ والے امیر اور جدی پشتی سیاسی لوگوں کو زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو کہ پڑھا لکھا ہو اور سماج میں کچھ بہتری لانے کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہو تو اسکے لیے اول تو کسی پارٹی کے اندر جگہ بنانا بہت مشکل ہے اور اگر سفید پوش شخص ہے تو اور بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ سیاست کو وقت دے یا اپنے روزگار یا کاروبار کو ۔ ایسا شخص آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے تو جیتنا ناممکن ہے کیونکہ الیکشن جیتنے کے لیے ذاتی ووٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی ووٹ بھی چاہیے ہوتا ہے۔
    5۔ کسی ایسے شخص کو جوکہ صاف ستھری شخصیت والا کم پیسے والا ہو اسکو ٹکٹ مل جائے اور اسکے مقابلے میں کوئی بدمعاش غنڈہ کو ٹکٹ مل جائے تو لوگ ووٹ کسی شریف آدمی کی بجائے بدمعاش غنڈے کو دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسکا علاقے میں خوف ہوتا ہے اور وہ تھانے میں پرچہ ، زمین پر قبضہ اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے لوگوں پر اثر رکھتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے ڈیروں پر کریمنل اور کرپٹ حضرات کا اکثر ڈیرہ رہتا ہے جو کہ اس سیاست دان کے لیے ہر اچھا برا کام بھی کرتے ہیں اور علاقے کا SHO بھی اس سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی پریکٹس اکثر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں بہت زیادہ کی جاتی ہے جوکہ پاکستان کا بیشتر حصہ ہے۔
    6۔ الیکشن سے پہلے ووٹ خریدے جاتے ہیں فی شناختی کارڈ 1000 روپے کا ووٹ کا ٹرینڈ تو کافی علاقوں سے رپورٹ ہوا ہے ۔ الیکشن سے پہلے 10 سے 15 ہزار لوگ ایسے غریب لوگ جو کہ ووٹ بیچنا چاہتے ہیں ضرور مل جاتے ہیں جو کہ 1000 روپے نقد لیکر حلف دیتے ہیں کہ ہم ووٹ ڈالیں گے ۔ اب اس پری پول دھاندلی کا کوئی سدباب نہیں ہے۔
    7 ۔ ملک کے اکثر بالخصوص دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں ہر محلے قصبے یونین کونسل پر ایک ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو اس علاقے کا سو کالڈ بڑا ہوتا ہے وہ اس علاقے کی ہر خوشی غمی میں شریک رہتا ہے اور انکے تمام انتظامی و دیگر حکومتی مسائل میں انکا ساتھ دیتا رہتا ہے گلی محلے کے چھوٹے موٹے کاموں میں لوگوں کی ھیلپ کرتا رہتا ہے( مقامی MNA یا MPA کی مدد اور تعاون سے ) تو الیکشن دنوں میں وہ اپنے علاقے میں ٹکٹ ہولڈر سے پیسے لیکر جلسے بھی منعقد کرواتا ہے اور الیکشن دنوں میں ووٹ کے نام پر پیسہ اور مراعات بھی لیتا رہتا ہے۔ وہ شخص اس علاقے کی قسمت کافیصلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ اسکے کہنے پر بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔
    8۔ ہمارے سامنے بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ الیکشن دنوں میں امیر "ترین” لوگ کیسے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں یونین کونسل لیول پر اثر رکھنے والوں کو جو زیادہ بڑے ہوتے ہیں انکو 1300 CC گاڑیاں ، ان سے کم اثر رکھنے والوں کو 800 cc گاڑیاں اور جانفشانی سے کام کرنے والے لوگوں کو موٹرسائیکل تک گفٹ کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ زور لگا کر الیکشن لڑیں اور ووٹر کو جیسے تیسے منائیں اور الیکشن کے دن لوگوں کو نکال کر پولنگ بوتھ لیکر جائیں اور جب شام کو رزلٹ آئے تو اپنے ٹکٹ ہولڈر کو اپنے علاقے یا محلے یا پولنگ بوتھ کا رزلٹ دے سکیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مزید قریب آکر مزید مزے کرسکیں ۔
    9۔ بےشمار علاقے بالخصوص اندرون سندھ میں ایسے ہیں جنکا تعلیمی معیار اتنا ہے یا انکو آگہی اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے صدر کا نام تک نہیں جانتے ہوتے اور الیکشن کے دن پر انکو گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جایا جاتا ہے اور کہا جاتا کہ بس اس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے اور وہ بغیر کسی چوں چراں کے ٹھپہ لگا کر آتے ہیں ۔ اور ساری زندگی نعرے لگاتے گزر جاتی ہے کہ فلاں زندہ ہے اور فلاں جیوے۔ سالہا سال سے یہ پریکٹس جاری ہے اور انکی ابتر حالت کبھی بھی نہیں بدلی نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ علاج کی سہولیات اور نہ ہی بچوں کو سکول مہیا ہیں۔
    10۔ ہمارے پارلیمانی نظام سے فائدہ اٹھانے والے حکمرانوں نے ایک بات بہت پہلے سے سمجھ لی تھی کہ پاکستان کو خواندگی اور آگہی کی طرف نہیں لیکر جانا ۔ عوام کی جہالت اور کم علمی ہی انکو لیڈر بنانے میں سب کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ جو شناختی کارڈ کے عوض ووٹ بیچ سکیں ، جو فقط بریانی کی پلیٹ پر ووٹ ڈال سکیں، جو کرپٹ حکمرانوں کے بارے میں یہ رائے رکھیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو یے ، جو خوف اور دہشت کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ، جو علاقے پر اثر رسوخ رکھنے کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ایسے لوگ یقینا” پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ اسلیے جان بوجھ کر لوگوں کو ان پڑھ رکھا جاتا رہا تاکہ انکے اقتدار کو طول مل سکے۔

    11۔ ہر 3 سال بعد جب سینیٹ کا الیکشن آتا ہے تو یہی MNA اور MPA اپنی بولی لگواتے ہیں، اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے اور زیادہ اچھی بولی لگاتا ہے ۔

    پاکستان کو صدارتی نظام زیادہ سوٹ کرتا ہے جس میں عوام کو اپنے شہر کے کرپٹ یا ایماندار شخص کو ووٹ دیکر اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ انکے ہاتھ میں نہیں دینا ہوتا جو پارلیمنٹ میں جاکر اپنا ووٹ بیچ کر نجانے کس کو ہم پر مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے عوام براہ راست لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جو کہ اصل جمہوریت ہے اور بقول مرحوم مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صدارتی نظام اسلامی شرعی نظام سے قریب تر اور پارلیمانی نظام سے بہتر ہے ایسا شخص جسکو عوام نے ڈائریکٹ ووٹ دیکر منتخب کیا وہی شخص عوام کی اصل نمائندگی کا حقدار ہے اور وہی اس مملکت خداداد اور عوام کے لیے بہتر کام کرسکتا ہے۔ مفلوج و ناکارہ پارلیمانی نظام کے تحت بہتری کی گنجائش بہت کم ہے اس نظام کو کرپٹ ایلیٹ جو کہ پیسے کی بدولت اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بنتی ہے اپنے کاروبار اپنے خاندان کے لیے کام کرتی ہے ۔ کتنے ہی سیاستدان ایسے آئے جو اقتدار میں آنے سے پہلے تو کم امیر تھے اقتدار میں آنے کے بعد سپر امیر ہوگئے کاروبار جائداد گاڑیاں اتنی زیادہ بنا لیں بیرون ملک جائیداد بنا لی بچے ملک سے باہر رہنے اور پڑھنے لگے۔ بڑے بڑے شوگر و انڈسٹری مافیا ، رئیل سٹیٹ مافیا ،قبضہ گروپ مافیا پیسے کی وجہ سے الیکشن جیت کر پارلیمان میں آئے اور اپنے کرپشن کا دفاع بھی کیا اور مزید فائدہ اور مراعات بھی حاصل کیں۔

    پاکستان میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہونا چاہئے ۔
    @EyeMKhokhar

  • مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    عمران خان صاحب اپنی مشکلات میں اضافہ مت کریں اور سیدھا سیدھا امریکہ کے سامنے لیٹ جائیں، اسرائیل کو تسلیم کریں، بھارت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جائیں 10 ارب ڈالر قرضہ لیں 5 ارب سے عیاشی کریں اور ہمیں 5 ارب کی سبسڈی دیں۔ ملک جائے بھاڑ میں قرضہ چڑھتا ہے تو چڑھنے دیں کونسا آپ نے وہ قرض ادا کرنا ہے

    آپ کے بہادر فیصلے چند گھنٹے اس قوم کو یاد رہتے ہیں بس۔ ہم غیرت سے جینا تو چاہتے ہیں لیکن اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔خدا کے لئے ہمیں غیرت سے جینے کا درس دینا چھوڑ دیں۔ غیرت کی ہمیشہ ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ہم ادا کرنے کو تیار نہیں.

    خان صاحب ہم روشن خیال نہیں راشن خیال ہیں۔ ہم دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچنے والی عوام ہیں ۔ آپکی جرات کیسے ہوئ ہمیں خوداری کا سبق پڑھانے کی ہم ہرگز اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔۔
    ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے ضرور ہیں لیکن ہم سے اس پر عمل نہ ہوگا کیونکہ ہمیں بس دو وقت کی روٹی چائیے اس لیے مہربانی کریں ہمیں آزمائش میں نا ڈالیں۔ ہم نہ تو غیرت سے جینا چاہتے ہیں ، نہ ہمیں کسی اور چیز کی پرواہ ہے۔ ہاں ہم سے بس نعرے لگوا لیں اسرائیل نامنظور، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ لیکن غیرت سے جینا ہمیں نہیں قبول۔

    ہم بدنصیب لوگوں کو حقائق سمجھ نہیں آ رہے۔ ہمیں نواز اور زرداری جیسے فرعون ہی سوٹ کرتے ہیں۔ جو بیرونی قرضوں میں سے چند سکوں کی سبسڈی عوام کو دے کر باقی اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے لیے واپس لے جاتے ہیں اور یہ عوام کہتی ہے کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ جو عوام خود لٹنے برباد ہونے ملک گروی رکھوانے غلامی برداشت کرنے کو تیار ہے انہیں آپ غیرت کے سبق پڑھا رہے ہیں۔؟؟

    دنیا کی فاتح قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہ ریاستِ مدینہ ہو یا سلطنت عثمانیہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو اچھا لباس نہیں رہنے کو پکا مکان نہیں وہ غیرت کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ انہیں چند سالوں میں آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دیتا ہے ان عرب کو بدوؤں کے ہاتھوں سلطنتِ روم اور فارس ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں یہ آپ کے پڑوس میں چند ہزار طالبان نے غیرت کے اوپر پوری دنیا سے ٹکر لے لی بیس سال بھوک و افلاس برداشت کی ایک ایک گھر سے دس دس جنازے اٹھائے ہزاروں کو تو کفن دفن تک نصیب نہیں ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے لڑتے رہے او بِلآخر فتح یاب ہوئے۔

    اس عوام کو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان محمد فاتح خالد بن ولید جیسے عظیم فاتح تو چاہئیے ہیں لیکن خود انہوں نے رتی برابر غیرت ایمانی نہیں دکھانی۔ جان لیں کہ عظیم مقاصد کے لیے عظیم قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں مشکلات تکلیفیں رکاوٹیں آتی ہیں ان حالات سے لڑ کر ہی قومیں عظیم بنتی ہیں دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے بھی بغیر تکلیفوں کے عروج نہیں پایا۔ ابھی تو حالات اور خراب کیے جائیں گے جو آپ نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھائی ہیں وہ آپ پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا ہر محاذ پر آپ کو ضرب لگانے کی کوشش کرے گا عوام نے تب آپ کے ساتھ کھڑے ہونا تو دور خود آپ کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دینا ہے اور بخوشی غلامی کا توق گلے میں ڈال کر کہیں گے ہمارے اجداد بھی غلام تھے ہم بھی غلام رہیں گے بے شک علامہ اقبال کہتے رہے ہوں ۔ "اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی”۔ لیکن ہمیں روٹی چاہئیے پھر چاہے غلامی کی ہی کیوں نا ہو۔ کیونکہ غیرت سے پیٹ نہیں بھرتا نا ہم غیرت سے جینے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    سورۃ کہف جس کی تلاوت ہم ہر جمعہ کو کرتے ہیں اسی سورۃ میں  حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے اس حوالے سے کچھ تفصیل اس حدیث مبارکہ میں بھی ہے آئیں آج اس پر غورو خوض  کرتے ہیں

      عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ علیہ السلام (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی  علیہ السلام ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو اللہ نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ  علیہ السلام  نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری  نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر علیہ السلام پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اس کے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 125           حدیث مرفوع      مکررات  16   متفق علیہ 11

    باقی واقعہ قرآن کریم  کی سورۃ الکھف میں کچھ اس طرح سے ہے 

    اس نے کہا :بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں ، جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر (بے عیب)کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے ، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ ٔ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مد فون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔(78-82سورت الکھف)

    @mmasief

  • میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    پوری دنیا میں میڈیکل کی فیلڈ جن میں ایم بی بی ایس اور ڈینٹسٹ کی فیلڈ میں داخلہ لینے کے لیے ایم کیٹ یا عام زبان میں انٹری ٹیسٹ کو پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر طلباء اہل ہوتے ہیں ان کو متعلقہ فیلڈز میں پرائیویٹ یا سرکاری اداروں میں داخلہ ملتا ہے۔ داخلہ ملنے کے بعد وہ وہاں سے میڈیکل ڈاکٹر کی پانچ سالہ ڈگری مکمل کرتے ہیں۔

    پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی میڈیکل فیلڈ میں داخل لینے کے لیے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سال لاکھوں طلباء ٹیسٹ پاس کرکے میڈیکل کی فیلڈ میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سے وہ اپنی ڈگری مکمل کرکے پروفیشنل ڈاکٹر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے کم و بیش دو لاکھ طلباء و طالبات نے میڈیکل کالج کا ایڈمیشن ٹیسٹ دیا۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے اس دفعہ نیا تجربہ کرتے ہوئے ٹیپس نامی کمپنی کو ٹیسٹ لینے کا ٹھیکہ دیا جس نے آن لائن ٹیسٹ لیا۔ یادرہے ٹیپس وہ کمپنی ہے جس کو میڈیکل کے طلباء و طالبات کے داخلے فارمز موصول ہونے کے بعد ٹھیکہ دیا گیا۔ جب ٹیسٹ شروع ہوا تو ٹیپس کی ویب سائٹ ہی ڈاؤن ہوگئی اور طلباء کو شدید ذہنی ٹینشن میں الجھا دیا گیا۔ اکثر جگہوں پر ویب سائٹ نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ جب امتحانات کے بعد نتائج کا اعلان کیا گیا تو دو لاکھ طلباء و طالبات میں سے صرف 5-7 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔ فیل ہونے والوں میں بورڈز کے ٹاپرز بھی شامل تھے۔ سرکاری آفیسران اور دو ممبران قومی اسمبلی کے بچے بھی ٹیسٹ میں فیل ہوگئے جس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹیپس کے سسٹم کو قرار دیا گیا۔ پورے ملک کے طلبہ اس ناانصافی پر سراپا احتجاج ہوگئے اور شہر شہر مظاہرے شروع کردیے۔ سینکڑوں طلباء و طالبات نے اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے مرکزی دفتر کا رخ کیا اور حکام سے ٹیسٹ دوبارہ لینے کی درخواست کی۔ کوئٹہ میں احتجاجی طلبہ اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک طالبہ شہید اور درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کیا جن کو بعد ازاں حکومت کی ہدایت پر رہا کردیا گیا۔ مگر تب تک پورے ملک میں مظاہرے زور پکڑ چکے تھے۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے جو صرف ایک ہی مطالبہ کررہے تھے کہ ٹیسٹ دوبارہ لیا جائے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل ٹاپ ٹرینڈ رہنے کے بعد میڈیا نے بھی اس معاملے کو کوریج دینا شروع کردی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے شنوائی نہ ہوئی اور طلباء و طالبات نے ان کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا۔ ایک طلبہ یونین کے رہنما چوہدری عرفان یوسف احتجاجی طلبہ کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور تمام مطالبات اور دھرنے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

    جب چار روز کے دھرنے سے کوئی بات نہ بنی تو دھرنے کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر شفٹ کردیا گیا۔ یادرہے یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014 میں اکٹھے دھرنا دیا تھا۔ ڈی چوک پر تین دن گزرنے کے بعد بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تب عرفان یوسف نے اگلے لائحہ عمل کے طور پر وزیر اعظم ہاؤس کی طرف پرامن مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ جیسے ہی طلباء و طالبات نے مارچ شروع کیا پولیس نے شدید لاٹھی چارج کرکے درجنوں طالب علموں کو زخمی کردیا۔ تب میڈیا نے معاملے کو کوریج دی تو سینیٹ اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ سابق ڈپٹی سپیکر سینیٹ سلیم مانڈوی والا، خرم نواز گنڈا پور سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر پارلیمنٹیرینز نے دھرنے میں شرکت کی اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اتنی بڑی کوریج ملنے کے باوجود بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔ نائب صدر پاکستان میڈیکل کمیشن علی رضا نے معاملے پر سٹوڈنٹس کو جھوٹا قرار دے کر جان چھڑا لی۔ مگر احتجاجی طلبہ کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ کئی طلبہ تنظیمات، ڈاکٹروں کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دھرنے میں شرکت کرکے کے احتجاجی طلبہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ اگلے لائحہ عمل کا اعلان 4 اکتوبر کو دینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کی ہیلتھ کمیٹی نے نوٹس لیا اور معاملے پر انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ 4 اکتوبر کو ہی معلوم ہوگا کہ احتجاجی طلبہ کیا لائحہ عمل پیش کرتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786