Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔

  • آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    دنیا کے چند محبوب ترین کھیلوں میں سے ایک کھیل کرکٹ بھی ہے۔ ویسے اگر آپ کرکٹ کا موازنہ دوسری کھیلوں سے کریں تو یہ دنیا میں اتنا مشہور نہیں جتنا اولمپکس یا فٹبال ہیں لیکن پھر بھی اس کا جنون پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ جیسے فٹبال کی گیم کو مینج کرنے کے لیے فیفا نامی ایک اتھارٹی بنائی گئی ہے بالکل اسی طرح کرکٹ کے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے ICC نامی ایک اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کی مختلف سیریز منعقد کرواتی ہے اور ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو سزائیں بھی سنائی ہے۔ ICC بنیادی طور پر 1909 میں imperial cricket conference کے نام سے معرضِ وجود میں آئی جو کہ 1965 میں international cricket conference بن گئ اور اب موجودہ دور میں یہ international cricket council کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے ICC بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ دوسرے ممالک بھی جڑتے گئے اور اپنا اثرورسوخ بڑھاتے گئے جس میں چیدہ مثال انڈیا کی ہے۔ انڈیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز تینوں ممالک نے 1926 میں ICC کو جوائن کیا لیکن انڈیا ان تینوں میں سے ICC میں سبقت لے گیا۔ اس وقت ویسے تو ICC کے 12 مستقل ممبرز ہیں لیکن ان میں سے چند ایک ممبرز کی اس اتھارٹی پر اجارہ داری ہے جن میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا سرفہرست ہیں۔ 

    اسی ICC کے شیڈول کے مطابق ستمبر 2021 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان کے ساتھ پاکستان میں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز منعقد ہونا تھی۔ جس میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جانے تھے۔ اس شیڈول کے مطابق نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں آئی دو، چار دن پریکٹس کی اور پاکستان نے اپنی فول پروف سکیورٹی مہیا کی جس سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مطمئن تھے۔ لہزا پہلا میچ ہونے والا تھا، ٹکٹوں کی فرخت ہو چکی تھی، گراؤنڈ میں میڈیا کیمرے لگ چکے تھے اور میچ کی مکمل تیاریاں ہو چکی تھیں کہ اچانک نیوزی لینڈ کی ٹیم کو یہ کہہ کر وطن واپس بلا لیا گیا کہ یہاں سیکورٹی خطرات ہیں۔ پاکستان نے بارہا پوچھا کہ ہماری انٹیلیجنس کے پاس ایسی کوئی رپورٹ نہیں لہزا آپ بے فکر ہو کر کھیلیں لیکن انہوں نے اپنی رٹ لگائے رکھی اور عمران خان کے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو فون کرنے کے باوجود ٹیم واپس چلی گئی۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم تو واپس چلی گئی لیکن وہ یہاں کئ سوالات چھوڑ گئی۔ کیا جب یہاں ان کے پریکٹس میچز چل۔رہے تھے تب یہاں کوئی تھریٹ نہیں تھا؟ کیا جب یہاں پی ایس ایل میں فارن سے کھلاڑی آتے ہیں تب یہاں سب ٹھیک ہوتا ہے؟ اس سیریز کا عین اس وقت کینسل ہونا جب دو دن بعد IPL شروع ہونا ہو کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ شاید دنیا یہ بھول رہی ہے جب انہی ممالک کے فوجی جنہوں کی شہہ پر نیوزی لینڈ کی ٹیم واپس گئی افغانستان سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے تب ان کو سہارا اسی پاکستان نے ہی دیا تھا۔ تب یہ بھاگ بھاگ کر پاکستان آرہے تھے اور پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا واپس جانا ایک نئی گیم کا حصہ ہے جو آج کل امریکہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا شروع کرنے جا رہا ہے۔ انڈیا اور اس کے حلیف جتنی مرضی بھونڈی کوششیں کر لیں وہ پاکستان کو ایک پر امن ملک بننے سے نہیں روک سکتے۔ یہ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں کہ اسی انگلینڈ کے ایک ادارے نے پچھلے سال پاکستان کو ٹورازم میں بہترین ملک قرار دیا تھا۔ اب جتنا مرضی نیوزی لینڈ اپنی اس حرکت کو کور کرنے کی کوشش کرے یا پاکستان کو کسی دوسرے ملک میں سیریز کروانے کا کہے اس کی یہ دغابازی ICCکی تاریخ میں اس پر ایک بدنما داغ کی طرح اس کے ماتھے پر سجی رہے گی۔ 

  • ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    اللہ تعالی نے سود کو صرف حرام ہی قرار نھیں دیا بلکے اللہ اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سود کھانے والوں کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

    سود کیوجہ سے بظاہر تو مال و دولت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اضافہ بے برکتی اور نقصان کا باعث بنتا ہے اور انسان کیلئے کسی ناگہانی آفت کا باعث بنتا ہے۔

    اللہ تعالی نے سود سے دور رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا!

    ( سود قرآن کی روشنی میں )
    آیت نمبر 1..اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نھیں ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی مدہوش سا)یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے

    ایت نمبر 2..اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں ۔۔
    ( سود احادیث کی روشنی میں )
    حدیث نمبر 1..حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”( بخاری)۔۔۔

    حدیث نمبر 2۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔”( سنن ابن ماجہ)

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بنکاری بھی شریعت کے مطابق سودی نظام سے پاک ہوگی مگر ان کی رحلت کے بعد پاکستان کفار کے بنائے سودی نظام کی دلدل میں اس طرح دھنستا چلا گیا کہ آج ہم کفار کے پھیلائے جال کی وجہ سے 97 بلین ڈالرز کے مقروض ہوچکے ہیں ہم اس سودی نظام کو اس خوف سے نہیں چھوڑ رہے کہ عالم کفار ہم پر معاشی پابندیاں عائد کردے گا گویہ ہمیں کفار کا تو خوف ہے لیکن اللہ کا خوف نہیں ہے سودی نظام کو اپنا کر ہم نے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں سود کھانے والوں سے اعلانِ جنگ کیا ہے ہم سود خور اللہ سے حالتِ جنگ میں نہیں ہیں؟ بیشک اللہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے وہی بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا سود خور خسارے میں ہیں اللہ ہمارے حکمرانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام چلانے اور ہم عوام کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    @MateenSpeaks

  • بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے سرکاری ٹیچرز کی بھرتی کے لیے ہونے والے امتحان میں چیٹنگ کرانے والے گروہ کو بے نقاب کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان پولیس نے ریاست بھر میں چھاپے مار کر اس گروہ کے 40 کارندوں کو گرفتار کرلیا، جو چیٹنگ کے لیے چپلوں میں کالنگ آلات نصب کرتے تھے۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    رپورٹس کے مطابق بیکانیر شہر میں ایک خاتون سمیت گروہ کے 5 کارندوں کو پکڑا گیا جو امتحان دینے والے امیدواروں کی چپلوں میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس لگاتے تھے اور ایک چپلوں کا جوڑا 6 لاکھ روپے میں فروخت کرتے تھے۔

    ویڈیو لیک کے بعد بھی وہ اتنے ڈھیٹ کہ ابھی تک شرمندہ تک نہیں پوئے. زبیر عمر کی…

    چپلوں کے سول میں ایک ننھی سی بیٹری اور ایک سم کارڈ چھپایا جاتا تھا جبکہ امیدوار کے کان میں ننھا سا مائیکرو فون لگایا جاتا تھا جس کے ذریعے وہ سوالات کے جوابات سن کر پرچہ حل کرلیتے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان میں ایک معطل سب انسپکٹر بھی شامل ہے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں گرفتار ملزمان سے بلیوٹوتھ ڈیوائسز اور سم کارڈز برآمد کیے گئے ہیں۔

    میرے خلاف جعلی اور تبدیل شدہ ویڈیوز جاری کرنا کوئی سیاست نہیں،محمد زبیر

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ایک کوچنگ سنٹر کا مالک تلسی رام بتایا جاتا ہے، جو اس سے پہلے بھی نقل کے الزامات میں گرفتار ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اسی کیس میں جب پولیس نے ایک جوڑے کو نقل کے الزام میں گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ اس جوڑے نے اپنی ایپلیکیشنز میں یکساں نام، والدین کے نام، یہاں تک کہ تاریخ پیدائش بھی یکساں لکھی تھی اسی طرح اپنی بیویوں کو چیٹنگ کرانے کے الزام میں 2 پولیس کانسٹیبلز کو بھی معطل کیا گیا۔

    ی آئی اے عملے کی دیانتداری، مسافر کو لاکھوں روپے لوٹا دئیے

  • امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن ایک ایسی نایاب چیز ہے جس کی طلب ہر انسان کو ہوتی ہے پر یہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی۔ امن کچھ محنت، جتن اور قربانیاں مانگتی ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان نے ہمیشہ امن و امان کی تمنا کی ہے پر آج تک مکمل طور پر اسے حاصل نہیں کر پایا۔ جہاں پوری دنیا میں آج سب سے بڑا مسئلہ ہی امن کے حصول کا ہے وہیں ہمارا ملک پاکستان بھی امن و امان کا دلی خواہش مند یے۔

    کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمارے دشمنوں نے جب کبھی بات کی تو ہمیشہ جنگ و جدل کی ہی بات کی۔ ان کی ہر چھوٹی بڑی بات اور اختلاف اسی جنگ جیسی چیز پر آکر رکتا ہے۔ کبھی جنگ وجدل کی دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی پورے غرور کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے معصوم جانوں کے خون سے کھیلتا ہے۔

    ان کا یقین اس بات پر ہے کہ جب وہ خوف و ہراس پھیلا کر پاکستان کو ہر محاذ پر شکست دے سکتے ہیں تو پھر امن م کی جانب آئیں ہی کیوں ۔ پر اس کے برعکس پاکستان کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب سے اہم چیز امن و آشتی ہے۔ لڑائی جھگڑوں، نفرتیں پھلانے اور جنگ وجدل جیسی چیزوں سے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا اس بات کی چشم دید گواہ ہے کہ پاکستان کو جب، جہاں اور جیسے موقع ملا اس نے امن کا پیغام دینے میں پہل کی۔

    کبھی جنگ و جدل میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کا اختتام ضرور کیا۔ جب کبھی دشمن نے پاکستان کی پیٹھ پیچھے وار کرنا چاہا تو ہمارے ملک کے محافظوں نے اس کا مقابلہ بھی کیا پر ساتھ ہی امن کو فروغ دینے کی بھی بات کی۔ ابھی دو سال قبل 2019 کی ہی مثال لے لیں کہ کس طرح بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن وردھمان کا جہاز فضائی حملے کے دوران پاکستان کی حدود میں آکر گرا تو پاک فوج نے اس پائلٹ کی کس قدر مہمان نوازی کی۔

    یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا نخواستہ اگر ایسا کچھ پاکستانی فضائیہ کے کسی پائلٹ کے ساتھ ہوتا تو بھارت اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا۔ جو کبوتروں اور غباروں تک کو نہیں بخشتا وہ اس معصوم کے ساتھ ناجانے کیا کیا کرتا۔ خیر تین دن تک ابھی نندن کی مہمان نوازی کرنے کے بعد اسے باعزت طریقے سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا جہاں پہنچتے ہی ابھی نندن نے ناصرف چائے کی تعریف کی ساتھ ہی اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان واقع ہی امن کا حقیقی خواہش مند ہے۔

    بے شک یہ تمام مناظر پوری دنیا نے دیکھے اور پاکستان کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سراہا بھی گیا۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی پاکستان نے تو امن کے لیے بھارت کی طرف ایک اور قدم بھی بڑھایا جس کی وجہ سے سکھوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دیا گیا اور انھیں بغیر کسی ویزے اور پریشانی کے گرودوارہ میں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس کے لیے سکھ یاتریوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔

    پاکستان کے اس اقدام سے سکھوں میں خوشی کی ایک نئ لہر دوڑی تو وہیں انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان درحقیقت خطے میں امن و سلامتی چاہتا یے۔ اس کے علاؤہ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارت کو پاکستان کی جانب سے بار بار یہ پیغام دیا جاتا رہا اور ابھی بھی دیا جارہا ہے کہ وہ آئیں اور مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی بات کریں۔ کیونکہ ہم خطے میں امن و امان چاہتے ہیں۔ پر افسوس بھارت اب بھی چپ سادھے ہوئے ہے اور کسی بھی حوالے سے امن کی بات کرنے سے گریزاں ہے۔

    @SeharSulehri

  • انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    بھارت شروع دن سے آج تک پاکستان کی مخالفت ہی کرتا آیا ہے چاہے وہ عالمی سطح پہ ہو ملکی سطح پہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی ۔
    بھارتی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے ستر سال سے زاٸد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کشمیر پہ اپنا ناجاٸز تسلط برقرار رکھا ہوا ہے ۔
    اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف کٸ بار قراردادیں منظور ہوٸیں مگر اقوام عالم ان قراردادوں پہ عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ۔
    پاکستان نے کٸ بار بھارت کو بے نقاب کیا ہے چاہے وہ افغانستان سے بیٹھ کے پاکستان پہ دہشتگردانہ کارواٸیاں کرانے کا معاملہ ہو یا بلوچستان کے حالات خراب کرنے کیلۓ باغی بلوچوں کو فنڈنگ کا معاملہ ہو پاکستان اس معاملے کو اقوام عالم تک پہنچاتا رہا ہے ۔
    بھارت نے پاکستان کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم کرنے کیلۓ سوشل میڈیا پہ بھی انڈین کرونیکلز کی شکل میں پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پہ ایک منظم نیٹ ورک چلایا پے جو ڈس انفو ویب نے بے نقاب کیا ۔
    پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلۓ غیرمحفوظ ثابت کرنے کیلۓ بھارت سری لنکن ٹیم پہ بھی حملے میں ملوث رہا ہے ۔
    حال ہی میں جس طرح پاکستان کو بین الاقوامی سطح پہ نیچا دکھانے کی جو کوشش کی گٸ الحَمْدُ ِلله پاکستان کے ریاستی اداروں نے بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ انڈیا کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔
    بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ ٹیم کو ہراسمنٹ ای میل بھیجنے کے معاملے سے سب بخوبی آگاہ ہیں کہ کس طرح گپٹیل کی بیوی کو مسلمان کے نام سے ای میل بنا کے دھمکی دی گٸ کہ اس کے شوہر کو پاکستان میں قتل کر دیا جاۓ گا ۔
    پاکستان و نیوزی لینڈ کی سیریز کا ملتوی ہونا اسی کی ہی کڑی پے ۔
    حالانکہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہونے کے باوجود نیوزی لینڈ کا سیریز منسوخ کر کے جانا جہاں ان کی ٹیم کو نان پروفیشنل بنا گیا وہیں ریاستی اداروں کی دو دن کی محنت سے اس فیک ای میل کے پیچھے بھارت کا نکلنا دنیا کیلۓ المیہ ۔
    نیوزی لینڈ کے دورے سے قبل سکیورٹی کے انتظامات چیک کرنے کیلۓ جو وفد آیا تھا اس نے پاکستان کے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کو سراہا تھا مگر اچانک سیریز کا ملتوی ہونا ایک بین الاقوامی سازش ہے ۔
    کیا بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آۓ گا ۔؟
    یہ وہ سوال ہے جو قبل از وقت تو نہیں ہے مگر عالمی فورم پہ بھارتی موجودگی میں پوچھا ضرور جاۓ ۔
    دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے جہاں اقلیتیوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں ۔
    بھارت کو دنیا لگام دے کیونکہ یہ دنیا کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ..
    موجودہ دور میں جس طرح بھارت پاکستان سے دشمنی کو فروغ دے رہا ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کیلۓ بہت بھیانک ثابت ہو سکتا ہے ۔
    اس وقت جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جو کہ خطے میں قیام امن کیلۓ مثبت رویہ نہیں ہے ۔
    بھارت پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گیا پے کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اسلحے کی خرید کیلۓ مختص کرتا ہے ۔
    بھارت کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل دو بھارتی باشندے یورینیم کو مارکیٹ میں فروخت کرتے دھر لیۓ گیۓ جب کہ عالمی دنیا اس معاملے پہ شفاف تحقیقات کو یقینی بناتی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔؟
    کیا بھارت اقوام عالم سے سنبھالا نہیں جا رہا ۔؟
    جنوبی ایشیا میں امن تب تک قاٸم نہیں ہو سکتا جب تک بھارت مسلہ کشمیر کے پرامن حل پہ راضی نہیں ہوتا ۔
    اگر دنیا چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے جنگ کرنے سے باز رہیں تو اقوام عالم بھارت کو باور راۓ کہ وہ مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوۓ حل کرے اور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاۓ ۔
    اقوام عالم بھارت کو پاکستان کے اندرونی و بیرونی معاملات میں مداخلت سے بھی باز رکھے ورنہ خطے میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔

    @NawabFebi

  • شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر ایک ایسی بیماری ہے تو تا حیات رہتی ہے ۔یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لا حق ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجودہ گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں ہوتا ۔جس کی وجہہ سے دل کے دورے ، گردے فیل ، نا بینا پن ، پاؤں کٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کا ہر چوتھا بندا ڈیبیٹس کا شکار ہے ۔ شوگر کی بیماری سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ پاکستانی معذور ہے۔یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔اور اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں ۔ عالمی صحت کے مطابق یہ بیماری آج سے 4 سال پہلے کے مطابق 4 گناہ زیادہ ہے ۔ کیوں کہ ہر چار میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لازمی ہے۔اور یہ بڑھتی ہی چلے جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ شوگر پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہہ بھی ہے ۔
    شوگر کی وجہہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس اور گلوگوز میں بدل دیتا ہے جس کے بعد پینکریاز میں ہارمون انسولین ہمارے جسم کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانا رہنے کے لیے اس شکر کو اپنے اندر جذب کرے۔ شوگر تب لا حق ہوتی ہے جب انسولین سہی مقدار میں نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہہ سی شوگر ہمارے اندر جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ شوگر کی کہیں اقسام ہیں ۔ٹائپ ون ڈیبیٹس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہہ سے شوگر خون میں جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ سائنس دان بھی اس کا حل نہیں نکال سکے انکا کہنا تھا کہ یہ کوئی جینیاتی اثر کی وجہ سی ہے ۔شوگر کے زیادہ تر مریض ٹائپ ون کا شکار ہیں ۔ ٹائپ ٹو میں لبلبہ ضرورت کے مطابق یا تو انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا.
    کچھ حاملہ خواتین کو ڈیبیٹس ہو جاتی ہے ۔اس کی وجہہ یہ ہے کہ انکا جسم ان کے لیے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا ۔ ایک اندازے کے مطابق 6 سے 16 فیصد خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے ۔ وہ خواتین وازش کے ذریعے اسکو ختم کر سکتی ہیں ۔تا کہ اسکو ٹائپ ون میں جانے کے لیے روکا جا سکے ۔اگر لوگوں کو بڑھتی ہوئی گلولوز کے بارے میں بتا کر انکی مدد کر سکتے ہیں ۔ اگر علامات کی بات کی جائے تو سستی اور پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب زیادہ آنا، وزن کم ہونا، نظر کم آنا، زخموں کا نہ بھرنا شوگر کی علامت ہے. شوگر کا زیادہ انحصار جینیاتی اور ماحول پر ہوتا ہے۔ لیکن اپ اپنے آپ کو صحت مند غذا اور چست ذندگی اپنا کر رہ سکتے ہیں ۔ میٹھے کھانوں اور شربتوں سے اجتناب کریں۔ سفید روٹی کی بجاۓ خالض اٹے کا استعمال کریں ۔صحت مند غذاؤں میں پھل ، سبزی کا استعمال کریں۔ جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتی ہے ۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہفتے میں کم از کم تیز چل قدمی اور سیڑھی چڑھنا مفید ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسکا ذمدار غربت کو کہا گیا ہے ۔

    Twitter Id: @iam_farha

  • پاک افغان تعلقات، چند اعتراضات اور اُن کے جوابات تحریر: آمنہ امان

    افغانستان پاکستان کا ہمسایہ مسلم ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کا 2600 کلومیٹر سے طویل مشترکہ بارڈر ہے۔ افغانستان غیور اور بہادر افغان قبائل کا ملک ہے جو صدیوں سے قبائلی لڑائیوں اور بیرونی حملہ آواروں سے نبرد آزما رہا ہے۔
    قیام پاکستان کے وقت افغانستان پر بھارت نواز قبائل کی حکمرانی تھی چنانچہ ابتداء میں افغانستان کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا اور پاک بھارت جنگوں میں افغانستان بھی ایران کی مانند بھارت کا ہی ہمیشہ حمایتی رہا تاہم کچھ افغان قبائل ہمیشہ پاکستان کو اپنا اسلامی بھائی مانتے رہے اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہے۔
    افغانستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے چنانچہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کے دوست افغان قبائل نے اُنہیں کس طرح اور کن کی مدد سے دھول چٹاٸ یہ ایک کھلا راز ہے۔
    مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھارت نواز قبائل حکومت قائم کرنے کے لیے اپنے دوست بھارت کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاک دوست قبائل کے خلاف صف آرإ ہوۓ اور یوں افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اس دوران نائن الیون حادثے کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور خطے میں سہ رخی کولڈ وار کا آغاز ہوا۔
    بھارت نواز قبائل امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر پاکستان اور اسلام پسندوں کا قتل عام کروانے لگے تاکہ ان کے بیرونی آقاخوش ہوکر انہیں حکومت سونپ دیں
    چنانچہ پاکستان اور اس کے افغان حامیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ان کی ہم نام جماعت (تحریکِ طالبان پاکستان ٹی ٹی پی) بنائی گئی اور اُس کے ذریعے
    پاکستان میں شدید دہشت گردی کرواٸ گٸ تاکہ ان قبائل کو بدنام کیا جاسکے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھری جاسکے۔ اور اس طرح اسلام کو بھی بدنام کیا جاسکے کہ اسلام پسند لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ پاکستان فورسز کو اپنے دوست افغان قبائل کی مدد کرنے سے روکنا چاہتے تھے اور پاکستان میں ان کی مدد چند جرائم پیشہ پشتون لوگوں نے کی جن کا زریعہ آمدن پاک افغان بارڈر پر منشیات اور اسلحے کی ناجائز اسمگلنگ تھا۔ پاک فوج نے کئی جوانوں کی شہادت کے بعد پاک افغان بارڈر پر آہنی باڑنصب کی ہے تاکہ دہشت گردوں اور اسمگلرز کی آمدورفت روکی جاسکے جس کی اس ناجائز دھندے سے وابستہ لوگوں کو شدید تکلیف ہے اور انہوں نے (پی ٹی ایم )جیسی شر پسند جماعت بنا رکھی ہے تاکہ سرحدی علاقوں کی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکا کر علاقے سے چیک پوسٹس اور بارڈر سے باڑ ختم کروا سکیں۔ مگر ان کے یہ گھناٶنے عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔

    یہاں پاکستان پر امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا اعتراض کیا جاتا ہے
    تو جواب یہ ہے کہ ہم افغانستان کے ہمسایہ اور دوست ضرور ہیں مگر آزاد ملک ہیں پاکستان وہی فیصلہ کرے گا جس سے اس کی اپنی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔اگر پاکستان کا یہ اقدام غلط ہوتا تو تیس سال سے پاکستان میں قیام پذیر چالیس لاکھ افغان مہاجرین احتجاجاً واپس ناں چلے جاتے؟
    اورکیا خطے میں پاکستان واحد ملک ہے جس میں امریکی اڈے ہیں؟
    کیا ہماراخزانہ اور دفاعی بجٹ اتنا زیادہ تھا کہ ہم عالمی پابندیوں اور امریکی حملے کا براہ راست سامنا کرسکتے وہ بھی افغانستان کی خاطر جو ہمیشہ بھارت کا حامی رہا؟
    دوسرا اعتراض کہ پاکستان نے اپنے حمایتی اسلام پسند افغان قبائل کو دھوکا دیا اور انہیں گرفتار کرکے امریکہ کو دیا؟
    تو جناب ان قبائل کے اپنے ترجمان موجود ہیں ۔نام ہیں سہیل شاہین اور ذبیح اللہ مجاھد اُنہیں اچھے سے علم ہے کس نے ان کا ساتھ دیا کس نے دھوکا۔ آپ ان کے ترجمان بننے کی کوشش ناں کریں جبکہ آپ کچھ جانتے ہیں ناں آپ ان کے ساتھی ہیں۔ اگر پاکستانی ہیں تو پاکستانی رہیں اور دوسروں کے ترجمان بننے سے گریز کریں۔
    نیٹو فورسز افغانستان سے رخصت ہوئیں ۔پاکستان کے دوست قبائل حکمران بنے اور پاکستان سے اعلانیہ محبت اور بھاٸ چارے کا اعلان کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت نواز لوگوں کو شدید تکلیف کاسامنا ہے کیونکہ ان کے آقاؤں کی بھاری سرمایہ کاری برباد ہوگئی ہے۔
    ۔ اِن شاء اللہ اب افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوگا اور ہمارا یہ طویل بارڈر ہمیشہ محفوظ اور پُرامن رہے گا
    @Amanharris

  • قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!   تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..! تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!

    قدرتی آفات یعنی زلزلے، سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی، قحط اور مختلف وبائی امراض ہزاروں لاکھوں برس سے اس دنیا میں موجود ہیں۔
    البتہ بہت سی وبائی امراض جیسے طاعون اور چیچک وغیرہ پر انسان نے اب قابو پا لیا ہے، انہی وبائی امراض سے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن جاتے تھے۔
    تاہم بڑی قدرتی آفات یعنی زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں اور کسی حد تک وبائی امراض سے ابھی تک انسان نجات نہیں پا سکا۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں انیسویں صدی سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں، جن کے واضح اثرات 2000ء سے دنیا کے اب مختلف ممالک میں واضح ہو چکے ہیں،
    جس کی وجہ سے دو دہائیوں میں مالدیپ جیسا ملک سمندر برُد ہو جائے گا جب کہ بنگلہ دیش کا تقریبا بیس فیصد 20٪ رقبہ زیر آب آنے کی پیش گوئیاں ہیں۔ پاکستان میں بھی قدرتی آفات کا سلسلہ 1990ء کی دہائی سے شروع ہوا 1997ء تا 2003ء تک بلوچستان اور سندھ کے بارانی علاقوں میں شدید نوعیت کی خشک سالی رہی۔
    پھر سمندری طوفان آئے، 2005 میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں بدترین زلزلہ جبکہ 2008 میں زیارت میں زلزلہ آیا۔
    اور 2010 میں تاریخ کا خوفناک اور تباہ کن سیلاب آیا ،
    2011 میں سندھ میں سیلاب اور پنجاب میں ڈینگی وائرس نمودار ہوا۔
    ان آفات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں دوبارہ ایسی قدرتی آفات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    لہذا وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ 2005 ء سے اب تک آنے والی امداد اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ عالمی اداروں کو ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سے قدرتی آفات پر امداد میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔
    زلزلوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو خطے کے ممالک چین، ایران، افغانستان، ترکی، ازبکستان، تاجکستان ترکمانستان کرغزستان، قازقستان اور آزربائیجان و دیگر وہ علاقے ہیں، جہاں زلزلے ہمیشہ سے تباہی مچاتے رہے ہیں۔
    سیلاب اور طوفانوں کے اعتبار سے بنگلہ دیش، بھارت چین، مالدیپ اور نیپال ایسے ممالک ہیں جہاں سیلاب بڑی قدرتی آفت کے طور پر آتے ہیں۔
    نومبر 2011 میں نیپال میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں یہ بھی طے پایا ہے، کہ قدرتی آفات کے لیے لئے سارک ممالک ملک مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ پاکستان سارک کے علاوہ ایک ایکو رکن بھی ہے۔
    جس میں پاکستان، ایران اور ترکی کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ ان ملکوں کے تعاون سے قدرتی آفات کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کرے۔
    یوں اگر مستقبل میں پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی صورت میں کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو علاقائی ملکوں سے فوری طور پر امداد حاصل ہوگی اور مسائل پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

    قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ قدر مستحکم ہوا ہے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے، کہ اس ادارے کو صوبائی سطح پر بھی مستحکم اور متحرک کیا جائے۔
    کمیونٹیوں کی سطح پر قدرتی آفات اور ان سے بچاؤ کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کیا جائے، اور امداد کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت کے جذبے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔
    اس کے علاوہ اسکاؤٹ، گرلز گائیڈ اور شہری دفاع کے اداروں کو بھی مستحکم اور فعال کیا جائے۔

    2001ء سے لے کر اب تک دنیا بھر میں قدرتی آفات سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان، انڈونیشیا اور جاپان سرفہرست ہیں۔
    پاکستان میں 8 اکتوبر 2005ء کے بدترین زلزلے اور 2010 کے تباہ کن سیلاب نے گزشتہ دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

    اس کے علاوہ وہ 2011 میں ڈینگی بخار کی صورت میں وبائی مرض پنجاب خصوصاً لاہور میں آیا اور اس میں ہزاروں افراد مبتلا ہوئے نومبر کے آخر تک ڈینگی وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا سات سو 700 تک پہنچ گئی لیکن ڈینگی کی دہشت کو ختم نہ کیا جا سکا۔
    لاہور خصوصاً پنجاب کو ڈینگی کی وجہ سے اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔
    اگرچہ قدرتی آفات 2011ء میں جاپان، امریکا، چین تھائی لینڈ، ترکی اور برازیل میں بھی آئیں لیکن ہمارے یہاں آنے والے قدرتی آفات کے نشانات اس دھرتی کی زمین اور لوگوں کے سینوں میں ایک عرصے تک ہرے رہیں گے۔

    یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے ہے ہے کہ پوری دنیا میں ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کے بہت واضح اثرات شدید نوعیت کی قدرتی آفات کی صورت میں صدی کی پہلی دہائی سے شروع ہوچکے ہیں۔
    ہمارے ساحل پر دو کروڑ آبادی کا شہر کراچی، جو ملکی صنعت اور کاروبار کا 80 فیصد بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، تو دوسری جانب ڈیپ سی پورٹ اور ابھرتا ہوا شہر گوادر ہے،
    جس کے ساحل پر صدیوں سے گارے کا آتش فشاں موجود ہے جسے مقامی آبادی آج بھی سمندر کی آنکھ کہتی ہے۔ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مستقبل قریب کیلئے موثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے، تاکہ مستقبل میں میں آنے والی آفات سے باآسانی نمٹا جا سکے۔

    تحریر : اقصٰی صدیق
    @_aqsasiddique

  • نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    نیشنل ٹی 20 کپ کے دوران امپائر کے فیصلے پر ناراضگی پر اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے میچز جاری ہیں اس دوران مختلف کھلاڑیوں کو قانون کی خلاف ورزی پر جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے راولپنڈی، سینٹرل پنجاب اور خیبر پختونخوا کو سلو اوور ریٹ پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں جبکہ اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو امپائر کے فیصلے پر ناراضی پر جرمانے کیے گئے ہیں۔

    راولپنڈی میں جاری نیشنل ٹی ٹونٹی کے پہلے مرحلے میں سلو اوور ریٹ پر سینٹرل پنجاب اور خیبرپختونخواکو بالترتیب چالیس ہزار اور پچیس ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ سینٹرل پنجاب نے خیبرپختونخوا کے خلاف اتوار کوکھیلے گئے میچ میں مقررہ وقت سے تین اوورز کم کیے۔

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

    اسی طرح ہفتے کو کھیلے گئے میچ میں خیبرپختونخوا نے سدرن پنجاب کے خلاف مقررہ وقت سے دو اوورز کم کیےان دونوں ٹیموں کو پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.22 کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف خیبرپختونخوا کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی اور سدرن پنجاب کے وکٹ کیپر بیٹر اعظم خان کو امپائر کے فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرنے پر بالترتیب ان کی میچ فیس کا چالیس اور پچیس فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ان دونوں ٹیموں کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعہ 2 کی شق 8 کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان