Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    15 اگست2021 سے صرف میرے لیے بلکہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے اہم تھا اس لیے کیونکہ اس سے ایک دن قبل ہم نے اپنی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منایا تھا ۔ کہنے کو یہ دن اکھنڈ بھارت کا یوم آزادی ہے یعنی بھارتی عوام اپنے ملک کابرطانوی راج سے آزادی پر جشن مناتی ہے۔
    تو گویا یہ دن جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ابھی ہمارا 14اگست خمار ٹھیک سے اترا نہیں تھا کہ افغانستان میں ایک نئی تبدیلی آگئی تھی۔ میں افغانستان میں ہونے والی کسی بھی صورت حال سے غافل نہیں تھی۔ اخبارات ٹیلی ویژن سوشل میڈیا سب کچھ ” شبیر” کی طرح دیکھ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ افغانستان کے مختلف شہروں میں بسنے والے میر دوست اور صحافی ساتھی، جن سے میں گاہے بگاہے رابطے میں بھی تھیں۔لیکن خاموش تھی کیونکہ منتظر تھی کہ دیکھوں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
    یہاں تو لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی تھی۔ اونٹ کی کروٹ تو ابھی بھی سمجھ سے باہر ہیں لیکن مجھ سمیت دنیا نے بہت سے "کھلے راز” عیاں ہوتے دیکھیں۔
    وہ باتیں اور تحریریں جن کو جھوٹ ثابت کرنے میں تیس سال گزر گئے ان پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہو گئی۔ آپ اسے پڑوسی دشمنوں کی کامیاب جال سازی کہیں یا بے وقوفی۔۔۔ ہم ظاہر ہو چکے تھے، ہماری سوچ سب نے دیکھ لی تھی۔ ہم چودہ اگست کے بعد پندرہ اگست منا رہے تھے۔ کھلے عام۔

    اگر آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میں حکومت پر تنقید کرنے لگی ہوں یا اپنے اداروں کے بارے میں کچھ لکھنے لگی ہوں تو آپ غلط ہیں۔

    بقول قتیل شفائی

    ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
    ﮐﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻓﺸﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ
    ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮔﯿﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ
    ﻧﻈﺮ ﮨﻢ ﻣﻔﻠﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺐ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﻗﺘﯿﻞؔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
    ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔

    پہلا مصرا ہمارے احباب اور بہادر امریکہ کے نام کیوں کہ افغانستان میں رچائی جانے والی جنگ کا وہ سب سے بڑا زمہ دار اور دنیا کہ امن کا ٹھیکہ دار بنتا ہے۔ اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دیکھنا بھی چاہیے کیوں کہ "جس کا پیسہ جاتا ہے اس کا ایمان جاتا ہے”.
    مانا کہ عالمی طاقتوں کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ وہ کبھی بھی غریب فقیر صفت لوگوں کو دہشت گرد بنا کر وہاں جنگیں نافذ کر سکتی ہیں کیونکہ انھوں نے جتانا ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقت ہیں ۔

    ان باتوں سے ہٹ کے مطلب کی بات پہ آتی ہوں۔ یہ میری غلطی ہے کہ میں کمیونیکیشن یا ابلاغ کو سمجھتی ہوں اتنا نہیں سمجھنا چاہیئے تھا۔ access of anything is bad. یعنی زیادہ جاننا کوئی فن نہیں ۔

    نہ افغانستان کے لوگ ہمارے دشمن نہ حکومت۔ پھر بھی ہمیں طالبان کے بہت سے جانباز سوشل میڈیا پہ نظر آئے۔ جو جا بجا بھارت کی کٹ لگانے اور طالبان کو آسمان پر چڑھانے میں مصروف دیکھے ۔ بہت سے پاکستانی اپنا آزادی پلس منانے میں اتنا آگے چلے گئے کہ انھیں تہذیب کے دائرہ بھول گئے۔
    کئیوں کو یہ یاد نہ رہا کہ ہماری افغانستان میں کوئی سرمایہ کاری ہے بھی کہ نہیں ۔۔
    میرے پیارے سوشل میڈیا کے سپاہیوں، تاریخ کا حصہ بننے کے لیے صرف دوسروں کی توہین نہیں کی جاتی، محنت بھی درکار ہے۔ طالبان بنا لڑے کابل پر آ گئے یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے اچھی بات ہے۔ مگر ان کا آنا کوئی اتنی بھی اچھی بات نہیں۔
    اب تو حد کی آخری حد آگئی ہے شاید، کیونکہ طالبان کی اس آمد کو مولانا اسرار کے غزوہ ہند کے سپاہی بنا ڈالا گیا ہے۔ وہ سپاہی جو دجال کے خروج کا مقابلہ کریں گے۔
    خدا کا نام لو صاحب! ہم جو خاموش ہیں تو رہنے دیں اور یہ بھی سمجھے کہ ہوا کا رخ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ بدلے گا کبھی نہ کبھی۔ تب تک کیوں نہ اپنی اصلاح کے لیے علم کا دامن پکڑے۔ ہدایت مانگے اور اس کی جد وجہد کریں اور یاد رکھیں کہ اقرا سے شروع ہو نے والے قرآن میں قلم کی قسم بھی ہے۔ جو ہم سب کو پڑھنے لکھنے کے بعد تحقیقات کی دعوت دیتی ہے۔
    خاموشی کی ایک بڑی وجہ ان فتووں سے اجتناب بھی ہے جو کسی پر محب وطن نہ ہونے یا مذہب سے دوری پر ہو سکتا ہے۔ اور یقینا یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے مسلمان پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا یے ۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ ضرور سمجھیں لیکن طالبان کا اس قلعے سے بلاوجہ کا تعلق تو نہ بنائے کہ عام پاکستانی مسلمان گمراہ ہو جائے۔

  • سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    سعودی عرب میں ایک شہری نے 20 برس سے زائد وقت میں ایک لاکھ سکے جمع کر کے سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے تیار کر ڈالے-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کتے مطابق اس دوران میں سعودی شہری ہشام النجار دنیا کے مختلف ممالک میں گیا تا کہ ان سکوں کو جمع کر سکے سعودی شہری ہشام النجار نے دنیا بھر میں نوادرات اور نایاب کرنسیوں کے نیلامیوں سے ایک لاکھ سے زیادہ سکے جمع کیے۔

    برسبین میں جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا

    العریبیہ کے مطابق النجار کا کہنا ہےکہ سکوں کے ذریعے فن پاروں کی تیاری کا مقصد ان سکوں کو خوب صورت شکل میں محفظ کرنا ہے۔ اس لیے ایسے فن پارے تیار کیے گئے جو دیکھنے والوں کے لیے پُر کشش ہوں۔

    النجار کے مطابق اس نے شاہ سلمان کی تصویر دنیا بھر کے 9 ہزار سے زیادہ سکوں کے ذریعے تیار کی۔ النجار نے مزید بتایا کہ اس کے پاس سکوں سے تیار کی گئیں 40 تصاویر ہیں۔ یہ تصاویر سعودی عرب کے فرمارواؤں اور شہزادوں اور خلیجی ممالک کے شہزادوں کی ہیں۔

    پاکستان نے افغان نجی ائیر لائن کو کابل سے اسلام آباد پروازوں کی اجازت دے دی

    النجار کا کہنا ہے کہ اس آرٹ ورک کے ذریعے وہ دنیا بھر میں سکوں کے ذریعے بنائی گئی سب سے بڑی دیوار نقاشی پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ فن پارہ مکہ مکرمہ یا جدہ یا ریاض یا کسی بھی اور شہر میں ہو سکتا ہے اور النجار اس کے ذریعے گینز بک آف ریکارڈز میں شامل ہونے کا خواہش مند ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا امریکہ سے افغانستان کے 9 ارب ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ

  • کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔ مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔ جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا: "کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہی طریقہ ہے؟” انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا: "یہاں میڈیا آزاد ہے۔” مہاتیر محمد نے جواب دیا: "ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔” ملاقات ختم کر دی گئی۔ وہاں سے ملائیشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملائیشیا میں موجود کاروبار فورا” بند و اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملائیشیا بدر کر دیا جائے۔ حکم پر فوری عمل ہوا۔ جب مہاتیر محمد ملائیشیا پہنچے تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جو ہم نے اکثر کہیں کہیں پڑھا ہوگا سوال یہ ہے کہ میڈیا کو کہاں تک آزاد ہونا چاہیٸے اور کہاں پابند ہونا چاہیٸے ۔ آج کا میڈیا شتر بے مہار ہوا پڑا ہے اور صحافی منہ زور ۔۔کوٸی ہوچھنے والا نہیں۔ جھوٹ، طنز ، غلط بیانی،ذاتیات،چوروں اور لٹیروں کا دفاع میڈیا کا مقصد اور عین عبادت بن چکا ہے سب کچھ کہہ دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کچھ کہنے نہیں دیتے۔۔ ایک ہی گردان سننے میں آتی ہےمیڈیا آزاد نہیں ہے۔ میں نے بہت سوچا آخر یہ کس آزادی کی بات کرتے ہیں۔ہر بات کر دینے کے بعد یہ دکھڑا کہ میڈیا آزاد نہیں حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت چپ چاپ سہہ جاتی ہے لب نہیں کھولتی

    عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔اور عوام خاموشی سے اپنا تماشا آپ دیکھے چلے جارہی ہےاور آگے چلے جارہی ہے۔۔سچ کا کوٸی پرسان حال نہیں اور پھر میڈیا آزاد۔۔۔۔۔۔؟ پھر جھماکا ہوا دماغ میں کوندا لپکا اور بھیدکھلا کہ جناب میڈیا تو واقعی آزاد نہیں ہے۔۔وہ تو غلام ہے دولت کا۔۔مافیا کا۔۔چند دولت مند اشرافیہ کا۔وہ لفافے اور نوٹوں سے بھرے بیگ۔۔قلم انہیں نوٹوں سے تو خریدے جاتے ہیں۔۔زبان پر ان ہی نوٹوں کی ٹیپ ہوتی ہے۔۔لبوں سے اپنی مرضی کے بول بلواۓ جاتے ہیں۔ پھر وفاداری تو غلام کی بنتی ہی اپنے آقا کے ساتھ ہے وطن سے غداری کی کسے پرواہ ہے وطن نے کیا کہنا ہے خاموشی سے تک رہا اپنی بے عزتی بے حرمتی پر خاموش ۔۔وہ دولت نہیں دے سکتا۔وہ باہر ملکوں میں جاٸیداد نہیں بنواسکتا سو چھوڑو اسے اس کا دکھ کون سمجھے کون دیکھے۔ہم نے تو باہر فلیٹس لے لینے ہیں ۔باہر کا موسم انجواۓ کرنا ہے باہر علاج کروا لینا ہے۔یہاں تو بس کماٸی کرنے بیٹھے ہیں۔ کوٸی ملک کو گٹر کہہ دے۔کان بند زبان بند۔۔غلام اُف غلامی۔۔۔ ہاں آخر میں ضرور دو گز زمین لیکر دفن ہو جاٸیں گے اور نام ہوگا جی وطن میں دفن ہوۓ پھر یہ وطن بوجود بےوفاٸی کےاپنی باہوں میں سمیٹ لے گا بات کہاں سے نکلی کہاں جا پہنچی۔۔بات تھی آزادی میڈیا کی۔۔ظلم کی شاید یا جبر کی۔۔ آج افسوس یہ کہتی ہوں۔۔۔ کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا وطن سے غداری کتنا بڑا گناہ ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا تمہاری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اس کی قدر کرو کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کون تمہارا دشمن ہے کون تمہارا سچا دوست ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کہ میڈیا نے جو فحاشی پھیلاٸی ہوٸی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھانی ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو سچ پھیلاتا جھوٹ کو بے نقاب کرتا کاش میڈیا نوٹوں کا غلام نہ ہوتا کاش۔۔۔۔۔کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔

     

    @DimpleGirl_PTi

  • کامل مومن کی نشانیاں  تحریر: تیمور خان

    کامل مومن کی نشانیاں تحریر: تیمور خان

    قرآن کریم فرقان حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک مومن کامل کی دنیاوی و اخروی جزا بیان فرمائی ہے

    ہر کلمہ گو مسلمان اور مومن ہے لیکن جو شخص کلمہ پڑھ کے یعنی کلمہ اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کہ پھر اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے ، تو وہ ہی مومن کامل کہلاتا ہے، اور جو شخص اپنے ایمان اور کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو مسلمان اور مومن تو وہ بھی ہے لیکن  وہ کامل مسلمان اور کامل مومن نہیں ہے۔

    اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ایک مسلمان اور مومن کے جتنے بھی انعامات اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے، تو وہ مومن کامل کی جزا کا ذکر فرمایا ہے ہر مسلمان اور مومن کی جزا جو قرآن وسنت میں بیان کی گئی ہے وہ نہیں ہے ہر ایک کلمہ پڑھنے والا ان انعامات کا جو دنیاوی ہوں یا اخروی ہوں مستحق نہیں ہے،دنیاوی و اخروی انعامات کا مستحق وہی ہے جو اپنے تقاضوں پر پورا اترتا ہے، اسی لئے قرآن کریم کی پہلی آیات میں بیان کیا گیا ہے، اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم یہ عظمت والی کتاب ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور پھر اللہ نے فرمایا یہ متقین کے لئے ہدایت ہے  اس کا مطلب یہی ہے کہ متقی وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جب ایک شخص ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا تو قرآن کریم اس کے لئے راہ ہدایت بنے گا، اور اس کے برعکس ایک مسلمان جو قرآن کی ہدایت کو اپنانا ہی نہیں چاہتا تو قرآن کیسے اس کو ہدایت دے گا،اور دوسرے جگ پہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کے لئے ہدایت ہے، اب ہدایت حاصل کون کرے گا جو متقی ہوگا, اسی لئے قرآن کریم میں دنیاوی و اخروی جتنے بھی احکامات ارشاد کیے گئے ہیں ان تمام کا تعلق مومن کامل کے ساتھ ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومن کامل کے متعلق سورہ کعف میں اخروی جو جزا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیا صاحب ایمان ہوئے اور اپنے ایمان کو تکمیل تک پہنچا دیا اور نیک اعمال کیے اللہ نے فرمایا اب ان کا اخروی جو انعام ہوگا اللہ نے مختصراً فرمایا کہ اللہ نے ان مومنین کاملین کے لئے جنت الفردوس میں مہمان نوازی تیار رکھی ہوئی ہے، جنت میں یہ اللہ کے مہمان ہونگے،ان کے لئے جتنے بھی انعامات ہے یہ سب کہ سب مومنین کاملین کے لئے ہے، اور اللہ نے فرمایا کہ دنیا میں بھی ایمان کامل اور مومنین کے لئے جزا ہے اس کے متعلق اللہ نے سورہ مریم میں فرمایا۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کیے، یعنی ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا اللہ نے فرمایا دنیا میں ان کی جزا اور انعام کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کے عزت پیدا فرما دے گا، اس کے ساتھ کسی کا نا سیاسی، معاشرتی یہاں تک کہ رشتہ داری کا تک نہیں ہوگا لیکن اللہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت پیدا کر دے گا، اور یہی اللہ تعالیٰ ایمان کامل والوں کو عطا کرتا ہے۔

    اگر ہم اپنے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ دیکھیں تو یہاں پہ جتنے بھی متقدمین اور کبار اولیاء جو آئے تو ان میں بڑا نام حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ کا ہے، حضرت داتاگنج بخش جن کو کہا جاتا ہے لاہور میں ان کو تقریباً گزرے ہوئے ہزار سال ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی ان کا نام برصغیر پاک وہند میں چمک رہا ہے آج بھی اگر ان کے مزار پہ آپ جائیں تو لوگ اس عقیدت سے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، لوگوں کا  وہاں بیٹھ کر تلاوت کرنا اللہ کا ذکر کرنا اور ان سے روحانی فیض حاصل کرنا اپنے لئے سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اب ان کے ساتھ جو آئے افعانستان سے تھے ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تعلق زمانہ بھی نہیں وہ ہزار سال پہلے کے گزرنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے دلوں میں ان کے لئے محبت اور محبت آج بھی موجود ہے، اسی طرح اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ وہ تشریف فرما ہوئے انہوں نے ہندوستان میں اسلام کو سربلند کیا اسلام کو پھیلایا اور اپنی زندگی اللہ کے راستے میں وقف کی، جس وقت ہندوستان میں کلمہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا، اور جب آپ دنیا سے جا رہے تھے تو ایک مستند روایات کے مطابق 90 لاکھ مسلمانوں کو کلمہ پڑھا کر جا رہے تھے، اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق زمانہ بھی نہیں لیکن پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں ان کے لئے عقیدت اور محبت رکھی ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ایمان کامل کا تزکرہ کیا، تو ان ایمان کاملین کی محبت اللہ فرماتا ہے میں لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دوں گا،

    بخآری شریف کی حدیث ہے سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے جو کہ ایمان کامل کی جزا ہے دنیا میں، تو اللہ تبارک جبریل علیہ السلام کو دنیا میں بولاتا ہے اس دنیا میں امام بخآری اس حدیث کو روایت فرماتے ہیں، اللہ فرماتا ہے اے جبریل میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبریل فلاں بندے سے میں بھی محبت کرتا ہوں تم بھی کرتے ہو جا آسمانوں میں اعلان کر دے کہ فلاں بندہ اس سے تم لوگ بھی محبت کرو، فرشتے بھی اس نیک بندے سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور فرشتوں کی محبت کہ وہ اس نیک بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں، سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نیک بندے کی محبت جو آسمانوں میں بھی مقبول چکی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کی محبت زمین بھی لوگوں کے دلوں میں مقبول کر دیتا ہے اور یہی اللہ کا وعدہ ہے، 

    اور اسی طرح مشہور حدیث ہے جس کو حدیث قدسی کہتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ جو میرے نیک بندے کے ساتھ دشمنی کرتا اس کے ساتھ میں جنگ کا اعلان کرتا ہوں وہ میرے جنگ کے لئے تیار ہو جائے، اور یہ وہی بندہ ہے جس نے اپنے زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزاری ہے اور ایمان کامل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔

    ایک شخص اللہ کا محبوب تب ہی بنتا ہے کہ اللہ نے اس پر جو احکامات فرض کئے وہ اس پہ پورا ہوتا ہے، اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور بندوں کے حقوق بھی عطا کرتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے اس بندے کو میں اپنا محبوب بنا دیتا ہوں، اب یہ اللہ کا محبوب تو بن جاتا ہے لیکن اس کا یہ مرتبہ یہ پکا کب ہوتا ہے تو پھر اللہ فرماتا ہے کہ جب یہ مومن کامل فرائض کے بعد نوافل ادا کرتا ہے تو یہ یہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہ میرے اور بھی قریب ہو جاتا ہے، تو یہی وہ چیز ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ دنیا میں ایمان کامل والوں کو عطا فرماتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو بھی ایمان کامل والوں کی دولت عطاء فرمائے اور جو کلمہ طیبہ ہم نے پڑھا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @iTaimurOfficial

  • جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

    جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

     مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی

      اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا

     خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں

      یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو”

     بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:

     مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے

      درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں”

     صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ

      سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ

      خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

     13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو

      اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔

     یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی

      نہ کبھی بعد میں لڑی”

     اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد

      خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 

     صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے

      ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی

      جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم 

     میں مشہور تھے

     اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:

     اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں

      اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں”

     چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب

      وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم

      پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر

      و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

     عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں

      صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں

      میں آخری خطبہ دیا:

     والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے

      بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست

      نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں”

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان” تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت” کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی

      دیواریں مثل قلعہ کے تھیں

     کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا

      لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:

     *”لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے

      اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں

      تمہارے لئے دروازہ کھولونگا”*

     اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر

      منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار

      کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں

      چھلانگ لگا دی

     قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا

      یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

     ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا 

     ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور

      پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ 

     کو کاٹ کر رکھ دیا

     *اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ 

     تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر

      رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی

      ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

     کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم

      کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک

      مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک

      پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

     قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے

      پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ

      اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. 

     اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں

      اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں

      کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو

      آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔

    انشااللہ تعالی

    حضور ﷺ

    خاتم النبین

    خاتم المرسلین

    کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ

    اسی میں نجات ھے

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں

    یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

    @SyedUmair95

  • والدین کے لیے پیغام تحریر: ‏ثمینہ اخلاق


    حضرت عبد اللہ بن عمر کا ارشاد ہے: ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔‘‘
    دنیا میں موجود آدھا علم صرف نصیحت کا علم ہے یعنی دوسروں کو ناکامی سے بچانے کا علم، اولاد کی تربیت والدین کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتی ہے۔ تربیت سے محروم بچے کبھی معاشرے کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوتے ابتدائی مرحلہ میں بچے کی ذہن کی زرخیزی کے لیے والدین کے اچھے دوستانہ رویوں کا ہونا بے حد ضروری ہے رویہ جتنا اچھا ہوگا زمین کی زرخیزی اتنی متناسب ہوگی۔ مصنوعی ماحول، منفی سوچ اور دوغلے رویے ذہن کو زرخیزی نہیں پہنچاتے لہذا بچوں کی بہتر تربیت کے لئے جب تک والدین اپنی ذات اور رویوں میں مثبت تبدیلی نہیں لاتے اس وقت تک زمین زرخیز نہیں ہو گی

    دنیا کے تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی، مہذب اور اچھی شخصیت کی مالک ہوں، والدین چاہتے ہیں کہ اپنی اولاد کے روزمرہ معمولات اور زندگی سے آشنا ہیں ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ کیسے؟ کیونکہ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ اور غیر ضروری استعمال سے بچوں کی انٹرنیٹ اور موبائل سرگرمیوں کا علم رکھنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے ہے گھر میں رہتے ہوئے بھی والدین سے دوری اور انٹرنیٹ سے دوستی مستی اور کم عمری میں موبائل فون کا استعمال اور اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیت ہی دراصل ہماری نسل کی تباہی کا باعث بن رہی ہے ہے اس عمل سے بچوں میں احساس کمتری، جذباتیت بلوغت سے پہلے یہ اخلاقی انحطاط اور صحت مند سرگرمیاں نہ ہونے سے سے تنگ نظری، عدم برداشت ، انتہا پسندی کا رجحان اور صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ منفی جذبات عام ہونے سے سے اکثر بچے اخلاقی جرائم میں بھی ملوث ہو رہے ہیں۔
    طلبہ اور طالبات کے اندر سر قائد کے اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہے قائد اعظم کا فرمان "ہم جتنی زیادہ تکلیفیں, قربانیاں دینا سیکھیں گے اتنے ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم بن کر ابھریں گے اس قول کی مناسبت سے والدین کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی محض تعلیم و تربیت اچھے انداز میں کریں بچوں کی غذائی ضروریات کا ہمیشہ خیال رکھیں لیکن بے جا خواہشات تو کبھی پورا ہونے نہ دیں۔

    اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت وقت کے ساتھ انہیں اچھا لباس، متوازن خوراک، بہتر رہائش اور ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا بنیادی طور پر والدین کے فرائض میں شامل ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ یہ کوشش کبھی مت کریں کہ ان کے لیے دولت، جائیداد، پلاٹ، بڑے گھر،مہنگی گاڑیاں،ایئر کنڈیشنرز اُنھیں عملی زندگی میں بیکار کر دیں گی اور زندگی کے مددجزر کے لحاظ سے وہ مشکل حالات کو کبھی خندہ پیشانی سے قبول نہیں کریں گے جبکہ زندگی میں مشکلات کا مقابلہ پوری جوانمردی، ہمت، حوصلہ اور صبر سے کرنا ہوتا ہے
    معاشرے میں ہر شخص ذمداریوں کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی امانت سنبھالے ہوئے ہے اگر والدین اپنی امانت کا پاس رکھتے ہوئے اپنی عام داری پوری نہ کریں تو ان کی نااہلی اور غفلت کا خمیازہ اولاد بھگتتی ہے اور ان کی تربیت میں کمی کا خمیازہ پھر پورا معاشرہ سہتا ہے

    حقوق العباد اور تربیت کے اعتبار سے والدین پر یہ لازم ہے کہ وہ جب تک نوجوانوں کے اندر زندگی کی اعلی اقدار اپنانے کی تڑپ پیدا نہیں ہو گی زندگی جمود سے باہر نہیں نکل سکے گی ماہرین تعلیم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تعلیم کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کے تمام پوشیدہ صلاحیتوں کو فطری جذبوں کے ساتھ بیدار کرنا اور پھر انھیں نشوونما دینا ہے یعنی انسان جو کچھ کرتا ہے وہ کسی تاثر اور جذبے کی بدولت کرتا ہے، بچوں کو روبورٹ کی مانند زندگی گزارنے کے بجائے صحت مند فطری جذبوں کے اظہار کے لئے کھیل اور تفریح اور غیر نصابی سرگرمیاں کے لیے بھرپور مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    بچوں کے ساتھ ہمیشہ مشفقانہ اور خوبصورت لہجے میں بات کریں کیونکہ ایک پرسکون لہجہ سننے والے کے ذہن میں زرخیزی لاتا ہے۔
    بچوں کی ذہنی و جسمانی تندرستی کے لیے صحتمند ماحول،متوازن غذا روزانہ کھیل و تفریح اور جلد سونے اور جاگنے کے اوقات اور بچوں کے دوستوں اور دن بھر کی مصروفیات کا پورا خیال رکھیں۔
    ہر ایسا مشغلہ جو نیا ہو یا پرانا، ہمارے روزمرہ کاموں کے اسٹریس کو کم کرتا ہے اور ہمارے خون اور دماغ میں متحرک ہارمونز کی تعداد کو معتدل اور مناسب رکھتا ہے اور ایک متوازن اور خوشگوار زندگی کا ضامن بنتا ہے بچوں کو معصومیت کے لحاظ سے کارٹون، ڈرامے اور فنون میں دلچسپی کے ساتھ اپنی اولاد کو صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
    اولاد کو قومی مسائل جیسے ماحولیات و آبی وسائل کا تحفظ، صحت و صفائی، کرپشن سے بچاؤ اور معیاری تعلیم کے حصول اور ملکی ترقی کے لئے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کریں

    ‎@SmPTI31

  • آزاد وطن تحریر: تنزیلہ اشرف

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد آزاد ملک بھی حاصل کرنا تھا جہاں دینی ،معاشرتی،تعلیمی آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی رائے کی بھی آزادی حاصل ہو گئی ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہو گا۔سوچ آزاد ہو گی ، انسان آزاد ہو گا۔۔ہم اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے۔۔یہ تھا اصل ملک جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا اقبال نے”۔۔
    "قائد اعظم نے تعبیر دی تھی ان کے اس خواب۔۔ان کا خیال تھا ہم آزاد وطن حاصل کر چکے ہیں جہاں ہم اپنی رائے آزادانہ , بلا خوف کے دے سکتے ہیں۔۔
    لیکن افسوس ہم وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن آزاد وطن،آزاد سوچ حاصل کرنے میں آج بھی ناکام ہیں ہمارا دماغ غلامی کی نا ختم ہونے والی زنجیروں میں جکڑا ہے۔۔۔جسے لبرل ازم نے اور غلام بنا دیا ہے”۔۔
    پاکستان میں کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو لوگوں پر آزادانہ ظاہر کر سکے ۔۔۔کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بات کرتا ہے, اپنا مثبت پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے تو غلام ذہن اس پیغام کو نہیں سنتے! اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے بلکہ اس شخص کے ماضی کو اچھالتے ہیں۔۔
    "پچھلے دنوں! پاکستان کے نامور گلوکار ابرار الحق صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اولاد کی تربیت پر انھوں نے اپنا موقف ظاہر کیا۔۔وہ ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔۔ اس وطن نے انھیں یہ حق دیا ہے کہ وہ آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ان کا پیغام مثبت تھا لیکن ہماری غلامانہ سوچ ۔۔کچھ لوگوں نے ان کی والدہ کی تربیت پر افسوس کیا! تو کسی نے انھیں ذاتی نشانہ بنایا کیا وہ آزاد ملک کے شہری نہیں؟
    ہم کیوں مثبت پیغام دینے والے کو بھی نہیں چھوڑتے اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا وہ واقعی ہی آزاد ملک میں سانس لے رہا ہے”؟ ۔
    "مینار پاکستان لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس پر آپ نے بھی اقرار الحسن کے ویوز سنے ہوں گے۔۔انھوں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے ! اس معاشرے میں تو نے مجھے بیٹی نہیں دی۔۔۔سارا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، بات کی گہرائی جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔۔انھوں نے "اس معاشرے کا "لفظ استعمال کیا تھا یعنی وہ بیٹی کے وجود سے نہیں ،معاشرے میں جا بجا بکھرے ان بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں جو معصوم بچوں کو گدھ کی طرح نوچ کھاتے ہیں۔۔
    اس معاشرے سے کیا انسان کوخوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے ؟
    "ان کی بات کی گہرائی میں نہ اترنے والے اپنی بیٹیوں کو ان بھیڑیوں سے بچانے کے لیے آغوش میں چھپائے پھرتے ہیں”۔۔۔
    "کیا ہمارا معاشرا ایک بیٹی کے لیے محفوظ ہیں ؟”
    پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں ،پھر کسی کو جواب دینے کے قابل بنیں۔۔ایک بندہ اپنی آزادی رائے کا حق استعمال کر رہا ہے آپ کو اس کی بات پسند نہیں آئی تو یہ آپ کی آزاد سوچ ہے۔۔اگلا بھی آزاد ہے۔۔
    اس کے علاوہ حالیہ ہونے والے بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جن میں ایک شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ،”تو ہزاروں لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ وہ ہوتا کون ہے ایک آزاد ملک میں سانس لے کر آزادی رائے کا حق استعمال کرنے والا”۔۔
    ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟
    "آزاد وطن حاصل کرنے سے ذہنوں کی غلامی کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوچ آزاد ہونا ضروری ہے۔۔۔
    سوچ آزاد ہو گی تو معاشرا آگے بڑھے گا نہیں تو ہم جیتے رہیں گے غلامی میں” ۔۔
    "ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں کوئی مثبت بات کرتے ہوئے بھی غلام ذہنوں کی کائی زدہ باتوں سے نہ گھبرائے ۔ہم آزاد ہوں ،اور واقعی میں آزاد ہوں”۔
    پاکستان زندہ باد

  • نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان

    ‏اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
    ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
    نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
    اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
    درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔

    کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
    اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
    قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔


    @FahadRaja6720

  • بیروزگاری، ایک معاشرتی بیماری  تحریر : وسیم سید 


    ‏پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیروزگاری کا ریٹ 5.1 سے 5.7 تک پہنچ چکا ہے اور مزید آگے بڑھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ بیروزگاری کی بیماری ہمارے معاشرے میں کافی گہرائی تک اپنے قدم جما نے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

    ‏اکثر سننے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کو کوئی مناسب نوکری نہیں مل رہی۔

    ‏کیا یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے یا ہمارے معاشرے میں پڑھائی کی کوئی قدر نہیں؟

    ‏اس بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لئے لیے ہمیں اسے گہرائی سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔ 

    ‏سب سے پہلی اور اہم وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی کے رجحان کو پس پشت ڈال کر بہت زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے سے ایک خاندان کے اندر تعلیم کو برابری کے طور پر تقسیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ لیکن ہم بہترین تعلیم اچھے طریقے سے تبھی دے سکیں گے جب ہمارے پاس وسائل موجود ہوں گے

    ‏لہذا سب سے پہلے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے روشن پہلو کو سمجھنا ہو گا ایک ہی خاندان میں ایک بیٹے کی پیدائش کے لیے لیے بہت زیادہ بچوں کو جنم دینے سے بھی بےروزگاری پر جہان بڑھ رہا ہے اور اسی سلسلے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کم دھیان کیا جاتا ہے۔

    ‏دوسری سب سے اہم وجہ جو بیروزگاری کا سبب ہے وہ معاشی بدحالی ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میںہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ہر سال لاکھوں ارب کے قرضے لے کر اپنی معاشی ضروریات کو پورا کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں انٹرسٹ کی شکل میں ان کو پیسے واپس کرنے ہوتے ہیں اور ان کی بہت ایسی پالیسیاں بھی ماننی پڑتی ہے ہے جو بظاہر معاشرے کے لیے اچھی ہے لیکن اندرونی طور پر ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    ‏تیسرا ایک اہم مسلہ ہمارے ملک میں کرپشن کا ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے کے اس طبقے کو اہمیت دیتے ہیں جو حقیقت میں اس چیز کا حقدار نہیں ہوتا بظاہر چند ہزار روپے کی رشوت لے کر ایک اچھی جگہ پر ایک کم پڑھے لکھے انسان کو دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک پڑھا لکھا انسان اچھی پوسٹ پر اوپر جانے سے رہ جاتا ہے ہے جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان اس بے روزگاری کی وجہ سے اور موقع

    ‏نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ‏جب زندگی کے سولہ سال اتنی زیادہ محنت کرنے کے بعد آپ کو سامنے والا اس بات پر ریجیکٹ کر دیتا ہے کہ آپ کے پاس تجربہ کم ہے تو یقینن آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔جب ایک غریب باپ مزدوری کرکے اپنے بچے کا پیٹ پالے اور اس کے بعد اس کو اچھی تعلیم دلوا یے یقینا اس کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو کامیاب ہوتا دیکھے لیکن جب ہمارا معاشرہ ایسے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرے گا تو اس کے لیے مسئلہ پیدا ہو گا۔

    ‏ہر نوجوان کی یہ خواہش ہوتی ہے ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کا سہارا بنے اور اپنی تمام خوابوں کو پورا کرے جو اس نے اتنے سال انتک محنت کر کے پورے کرنے کرنے کی لگن اپنے دل میں بسا رکھی ہے۔

    ‏اس کے ساتھ ہمارے ملک میں روپے کی قدر میں بھی بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے تنخواہ کم اور تعلیم کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ‏آخری جو بہت اہم وجہ ہمارے ملک میں ہمسایہ ممالک کا مختلف مواقع پر انتشار پیدا کرنا ہے ہمارے ہمسائے مخالف ممالک یہ نہیں چاہتے کہ ہم ترقی کرے مجھے حال ہی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم جو کہ دورہ پاکستان کے لئے آئی تھی عین  ایک دن پہلے وہ ٹیم واپس روانہ ہوگی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد یہ انکشاف کیا گیا کہ کہ ہمسائے ممالک نے پاکستانی ای میل کے ذریعے ایک پیغام بھیجا تھا تاکہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والی معاشی خوشحالی کو روک سکیں۔

    ‏بظاہر انتشار پھیلانے والے بہت سے لوگ ہمارے اپنے ہی ملک میں موجود ہیں لیکن یہ مسئلے مسائل تب تک حل نہیں ہوسکتے جب تک ہم خود اپنے ملک کے ساتھ ساتھ ایمانداری نہیں دکھائیں گے۔کرپشن جیسا سنگین جرم ہمارے معاشرے میں اسی لئے پھیل رہا ہے کیوں کہ ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

    ‏اسی طرح اکثر نوجوانوں کو جب مناسب نوکری کے لیے بلایا جاتا ہی تو یہ کہ کر انکار کر دیا جاتا ہے ک ان کے پاس تجربہ نہیں ہے ۔یہ تجربہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

    ‏ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نظر آتا ہے ہے یہ بے روزگاری اتنی آسانی سے ختم نہیں کئے جاسکتے بلکہ ہمیں اس کے لئے ایک مکمل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

    twitter : 

    @s_paswal

  • یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    آپ جانتے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔۔اور پرائمری لیول تک پورے ملک میں یکساں نصاب پڑھایا جاے گا ۔اس پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے ۔ہمارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم ہر چيز کو مخصوص عينک لگا کر ديکهتے ہيں اور اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہيں۔يہی وجہ ہے کہ ہميں صرف قابلِ اعتراض چيزيں ہی نظر آتی ہيں جو بعض اوقات قابلِ اعتراض ہوتی بهی نہيں ہيں۔۔‏جیسے دین بیزار feminists،liberals پاگلوں کی طرح نئے یکساں تعلیمی نصاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ تڑپ رہے ہیں۔ لڑکی کو نماز پڑھتی کیوں لکھا، عورتوں کو دوپٹے میں کیوں دکھایا، لڑکے فٹبال کھیلتے کیوں لکھا لڑکی کیوں نہیں، لڑکی گھر کی صفائی کرتی کیوں دکھائی، عورتوں کو ٹیچر اور نرس ہی کیوں دکھایا۔ لڑکی زمین پر بیٹھی لڑکا کرسی پر کیوں ۔لڑکا زمین پر بیٹھا تو لڑکی کرسی پر کیوں ۔ان کے اعتراضات یا تنقید سے لگتا ہے کیا کہ کہیں سے بھی یہ پڑھے لکھے شعور والے لوگ ہے انھوں نے دنیا گھوم لی جہازوں میں سفر کر لیے ۔ہر ملک جا کر گوروں ساتھ سیلفیاں بھی بنوا لی لیکن ان کی سوچ سے آج بھی جھونپڑی میں رہنے والے اس محنت کش مزدور کی سوچ اچھی ہے جو ٹوٹی سائیکل پر بھی پرچم لگاتا ہے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے. یہ کیسے لوگ ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر گھومتے ہیں اور پھر گوروں کے سامنے اپنے ملک کو بدنام کرنے واسطے کچھ بھی بولتے رہتے ہیں ۔
    ہم ایک پاکستانی ہے ایک قوم ہے مانتے ہیں نہ تو ہم ایک نصاب کیوں نہیں بنا سکتے ہیںایک نصاب کیوں نہیں پڑھ سکتے ۔ ۔۔‏یکساں تعلیمی نصاب کی تجدید صرف کپتان نے اکیلے نے نہیں کی ۔ ۔اعلی تعلیم یافتہ افراد اور اسکالرز نے کی ہے. موجودہ معاشرے کے تمام اہم پہلو اور اخلاقیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مضامین شامل کئے گئے ہیں. تمام بڑے پبلشرز، سرکاری تعلیمی بورڈ اور پرائیوٹ اسکولوں منیجمنٹ ٹاسک فورس بھی اس میں شامل تھی.تنقید کرنے والے اس سے لاعلم ہیں۔۔۔تنقید کرنے والے کیا نہیں چاہتے کہ اس ملک کا غریب بھی پڑھ لکھ سکے ۔۔کیا نہیں چاہتے کہ جو کتابیں ان کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔وہی کتابیں غریب کا بچہ بھی پڑھ سلے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے ۔۔۔اگر ایسا نہیں تو تنقید اور حکومت کے اس فیصلے کو برا بھلا کیوں بول رہے ہیں
    یکساں نصاب کے اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا۔
    لیکن بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔اس انکار کی وجہ شاید آپ جانتے ہی ہوں دو تین سال باقاعدہ سوشل میڈیا پر بیکن ہاوس کے خلاف کمپین چلائ گئ تھی ۔اس کمپین میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ” انڈین سٹیٹس” لکھا ہوا تھا ۔
    بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔۔مطلب اتنا پیسہ کماتا ہے پاکستان سے ۔وہ بھی کس لیے؟ پاکستانی بچوں کے دماغوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے واسطے ۔
    اس کے علاوہ لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔
    مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں جس کا کہنا تھا
    ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے
    صرف بیکن ہاوس ہی نہیں بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکولز کالجز ہوں گے جن کا اکثر نصاب سرکاری سکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابوں سے بہت حد تک مختلف ہوتا ہے
    پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والے اکثریت بچوں کی اسلام بارے الف ب نہیں جانتی ہوتی ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ آل رسول کون ہے ان کے نام کیا ہے اصحابیات کون تھے ۔۔
    ایسی بہت ساری چیزیں جو اہم ہے جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے وہ پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھائ جاتی ۔۔۔ان سکولوں کا مقصد صرف انگلش پہ فوکس ہوتا ہے پھر انگلش میں چاہے یہ پاکستان کے خلاف پڑھاتے رہیں ۔یا دین اسلام کے ۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سکول پوری ریاست کی مخالفت کررہا ہے ۔ایک ملک کی مخالفت کررہا ہے ۔۔میرا رائے ہے ۔۔فقط تعلیم.میں نہیں تمام ڈیپارٹمنٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ غریب اور امیر کا امتیاز مٹ جائے۔۔۔اور کسی کے دماغ میں بھرا امیر بھرتر والا خناس بھی مٹ جاے ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔۔میرٹ بھی عام ہوگا ۔۔یہ فرق بھی مٹ جاے گا کہ جی میں تو فلاں کالج سکول سے مہنگی فیسوں پر پڑھا ۔پڑھی ہوں ۔تو میری اہمیت سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے سے زیادہ ہو ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب حکومت پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے ۔خدارا حکومت کے بغض میں غریب سے حسد تو نہ کریں ۔۔۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہیں تاکہ جلد از جلد تمام سکول کالجز میں یکساں تعلیمی نصاب کا سلسلہ جاری ہو سکے ۔۔سڑک میں پڑھا پتھر ثابت نہ ہوں۔۔۔بلکہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بنیں
    ۔