Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار

    کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار


    مسلمانوں کے عروج اور حکمرانی کا دور ختم ہوئے عرصہ بیت چلا. کبھی مسلم حکمران کی اک نگاہ سے عالمِ باطل کے دل دہل جاتے تھے. شاعرِ مشرق کے مطابق ہمارے اسلاف کے عروج کی داستان ایسی حیرت انگیز اور شاندار ہے کہ آجکی نوجوان نسل کے لیے محض اسکا تصور بھی محال ہے. مسلمانوں کی غلامی ومحکمومی اور زوال کی 100 سالہ تاریک رات کی اک نہایت روشن صبح 27 رمضان المبارک کو طلوع ہوئ. لاکھوں شہداء کے خون اور انکی لازاول قربانیاں اس مبارک سرزمین کی صورت رنگ لائیں.اسکے ساتھ ہی وادیِ کشمیر میں بھارتی ظلم و بریریت اور خونی کھیل کی ایسی داستان کا آغاز 74 برس قبل ہوا جو آج تک جاری ہے. کئی نسلیں آزادی کی خوش کن امیدیں آنکھوں میں سجائے بند ہوئیں.کئ نسلیں پاکستان میں رسمی مذمت اور سال بعد ایک دن احتجاج کی عادی ہوئیں.انہیں بھی لگتا تھا ایک دن اقوامِ متحدہ سے پاکستان کے نمائندے کشمیر کا کیس جیتنے میں کامیاب ہوں گے.ہزاروں,لاکھوں کشمیری شہداء نے اس مبارک سرزمین کی خاک کو پانے کے لیے اپنی جوانیاں قربان کیں جن میں برہان وانی کا نام سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے. جب بھی وفا کی بات ہو گی اس خوبرو, بلند ہمت اور آخری سانس تک کفر سے برسرِ پیکار رہنے والے نوجوان کے بغیر مکمل نہ ہو گی. سید علی گیلانی کی سر براہی میں شروع ہونے والی مزاحمت کی ایک لازوال تحریک بھی اس جدوجہد میں نہایت اہمیت کی حامل ہے. مردِحُر سید علی گیلانی نے مایوس ہو چکی کشمیری قوم کو اک نیا جوش و ولولہ دیا. انکے اند آزادی کی اس امید کو دوبارہ زندہ کیا. تا عمر کشمیر کے لیے سر بکف مجاہد علی گیلانی بھی کروڑوں دلوں کو سوگوار چھوڑے آزادی کی اس صبح جسکے لیے انہوں انہوں زندگی کا ہر ہر لمحہ جدوجہد کی دیکھے بناء کی ہی پچھلے دنوں خاموشی سے  اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور یقیناً بارگاہِ الہی میں سر خرو ٹھہرے ہوں گے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کر کے گئے. ہمارے پاکستانی رہنماؤوں کی طرح نہیں جو 74 سال سے شمع جلانے کی بجائے صرف ظلمتِ شب کا شکوہ کری جارہے ہیں. اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی بہترین فوج سے نوازا ہے.74 سال سے ہم ہاتھ ہاتھ دھرے بیٹھے اپنے مظلوم بہن بھائیوں کا بہتا خون دیکھ کر بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں. قوم کے اندر جہاد کا جزبہ اور سوچ بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے انہیں بھی اقوامِ متحدہ میں اپنے منتخب نمائندوں کی تقاریر مطمئن کرتی ہیں اور انہیں مظلوم کشمیریوں کے مدد کے لیے چند خوبصورت جملوں پر مشتمل تقریر ہی کافی لگتی ہے لیکن قرآن میں جگہ جگہ جہاد کے واضح احکام, جن میں ساتھ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ بھی کیا گیا ہے ان فرامین پر یقین ہی نہیں رہا شاید. پاکستان کی طرف سے ہر طرح کا ہاتھ اٹھالینے کے باوجود آج بھی کشمیری عوام محض اپنے غیر متزلزل عزم کے بل بوتے پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیمعصوم اور نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کے ذریعے ان کی بینائی ضایع کی جا رہی جو سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے. جبر کی اس داستان میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار بڑے پیمانے پر کیا گیا جس سے درجنوں کشمیری آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے. اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے یوں خاموش اور گم صم رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی بے حسی اور منافقت نے بھارتی حکومت کو مزید شہ دی اور اس نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا. کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیری آزادی کی اس تحریک میں کسی نہ کسی نوجوان کا جنازہ نہ اٹھاتے ہوں’ شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے مگر ہر شہادت کشمیریوں کے جذبہ حریت کی شمع کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں. 2019 میں مودی کے کشمیر میں بدترین غیر انسانی کرفیو کے بعد شاید انہیں امید ہوگی کہ اب پاکستان کی طرف سے کوئ عملی قدم اٹھایا جائے گا.مگر یہ آخری امید دم توڑے بھی دو سال بیت گئے.کشمیریوں کی آزمائش کی رات نہایت کٹھن اور لمبی ہے. نہ جانے کب اس رات کی صبح ہو مگر ہم پر فرض ہے اپنے حصے کی شمع جلاتے چلیں. اپنی ووٹ اور سپورٹ سے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لائیں جو کشمیر کے لیے عملی جہاد کی بات کریں تا کہ ظلم و بریریت کی اس داستان کا اختتام ہو. کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں کشمیر کی آزادی کا  صرف اور صرف حل جہاد ہے. 

    "کہتے ہیں اہلِ نظر کشمیر کو جنت

    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا  ملے گی”

    @just_S32

  • چودھری نثار علی خان آنے والے وقت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    چودھری نثار علی خان آنے والے وقت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی اور نواز شریف وزیر اعظم تھے، چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف بہت قریبی دوست تھے۔ اس وقت شاید کسی دوسرے دو رہنماؤں کے اتنے اچھے تعلقات نہیں تھے جتنے کہ ان دونوں کے درمیان تھے۔ ان کے مابین ایک سمجھوتہ تھا کہ ایک دن شہباز اپنے بڑے بھائی کو وزیر اعظم بنائیں گے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی نشست چکری کے لیڈر کے پاس جائے گی، جو فوجی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ میاں نواز شریف کی تیسری مدت کے دوران، تاہم صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی۔

    اگست 2014 میں پی ٹی آئی اور پی اے ٹی نے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی انتظامیہ کے خلاف ایک طویل مارچ کا اہتمام کیا جو شاید اب تک کا سب سے طویل مظاہرہ تھا جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

    نثار علی خان اس وقت وزیر داخلہ تھے، اور انہوں نے مظاہرین کو ریڈ زون میں نہ آنے دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نواز شریف نے وزیر داخلہ کو زیر کیا اور انہیں اندر جانے کی اجازت دی۔

    جب نثار علی خان کو معلوم ہوا کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے تو انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سے وہ ن لیگ کے ساتھ نہیں ہیں۔

    نہ تو اس وقت کے وزیراعظم نے انہیں واپس مسلم لیگ (ن) میں لانے کی کوشش کی اور نہ ہی انا پرست نثار نے اختلافات کو حل کرنے کے لیے اپنے سابق باس سے ملاقات کی کوشش کی۔

    مسلم لیگ (ن) سے طویل وابستگی کے باوجود، نثار نے 2018 کا الیکشن اپنی روایتی قومی اسمبلی کی نشست (این اے 59- راولپنڈی) سے آزاد امیدوار کے طور پر لڑا اور پی ٹی آئی کے چوہدری غلام سرور کے ہاتھوں شکست کھائی۔ تاہم انہوں نے صوبائی نشست (پی پی 10- راولپنڈی) 34 ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیتی۔

    چونکہ نثار کبھی پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں رہے، اس لیے انہوں نے تین سال تک حلف نہیں اٹھایا، اس وقت اپنے حلقے کو نمائندگی کے بغیر چھوڑ دیا۔ تاہم، اپنے حلقوں سے مشاورت کے بعد، انہوں نے بطور ایم پی اے تجربہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سال مئی میں حلف اٹھایا۔ اس حلف نے ان کے سیاسی کیریئر کو بچا لیا تھا لیکن اب وہ سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، جس میں وہ کئی دہائیوں سے ایک اہم کھلاڑی رہے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا، اور وزیراعظم عمران خان کے ہم جماعت ہونے کے باوجود، جنہوں نے انہیں اپنی پارٹی میں مدعو کیا تھا، لیکن وہ پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے۔ نئی سیاسی جماعت کا آغاز کرنا اور موجودہ حالات میں اسے مقبول بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسا قدم پہلے سے تقسیم شدہ معاشرے کو مزید تقسیم کرے گا۔

    لہذا، اس وقت وہ دوراہے پر ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ نثار کو کس پارٹی میں شامل ہونا چاہیے اور آنے والے وقت میں انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس وقت مسلم لیگ (ن) میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے دوست شہباز جو کہ کاغذ پر پارٹی کے سربراہ ہیں، ایک طرف کھڑے ہیں۔ اسے پارٹی میں لانے کے لیے وہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے، کیوں کہ مریم نواز نائب صدر انچارج ہیں۔

    حقیقت کچھ بھی ہو، نثار مریم کو بہت جونیئر سمجھتے ہیں اوران کی قیادت میں کام کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔

    سمجھداری کا تقاضا ہے کہ تجربہ کار رہنما نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں اور اپنے تجربے کے خزانے سے ملک کو فائدہ پہنچائیں۔ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے وہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ چونکہ وہ نواز شریف کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طویل تجربے کی وجہ سے عسکری قیادت کی حساسیت سے پوری طرح واقف ہیں، اس لیے وہ مستقبل میں ایسے امکان کو ٹال سکتے ہیں۔

    اس حقیقت کے باوجود کہ نثار ایم پی اے ہیں، وزیر اعظم ان کی مہارت اور روابط سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں مرکز میں ایک عہدہ تفویض کر سکتے ہیں۔

    ملک کو مضبوط جماعتوں کی ضرورت ہے۔ اور نثار کی شمولیت سے تحریک انصاف مضبوط ہوگی۔ وہ واقعی سیاسی تجربے کے خزانے کے ساتھ ایک اثاثہ بن سکتے ہیں۔

    Twitter ID:

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • کیا لبرل بھی انتہا پسند ہوتے ہیں؟ ایک مولانا سے گپ شپ تحریر  : جواد خان یوسفزئی

    "ایک لبرل خستہ حال اگر انتہا پسند ہو بھی گیا تو وہ آپ کا کیا بگاڑ لے گا مولانا صاحب؟ آپ اس کے قلم کی سیاہی میں بہہ جائیں گے کیا؟ زبانی گولہ باری سے شہادت کا مقام پا لیں گے کیا؟ اس ڈرپوک مخلوق کو نہ توپ زنی آتی ہے اور نہ جنگ و جدل کے قرینوں سے یہ واقف۔ اس کا حال تو وہی ہے جس کا نقشہ اقبال نے کھینچا ہے؎

    کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    یہ ٹڈی دل مخلوق نہ مار سکتی ہے۔ نہ مروا سکتی ہے۔ اس کے دست میں نہ تیغ ہے نہ تفنگ۔ یہ معرکہء حق و باطل میں بھی فولادی نہیں ہوتے۔ تو ایسے گئے گزرے آپ سے اختلاف ہی کرسکیں گے۔ اپنا موقف پیش کریں گے۔ دلائل دیں گے۔ آپ کو سنیں گے۔ پلیٹ فارم میسر آگیا تو بولیں گے۔ مکالمہ ہوگا اور آخر میں سگریٹ کا کش لگا، یہ جا وہ جا۔”

    مولانا نے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور اطمیان سے بولے "لبرل بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہ بھی قلمی اور زبانی دہشت گردی کرتے ہیں۔”
    "ایسی دہشت گردی؟ خدا کرے یہ انتہا پسند اور دہشت گردی اپنی تحریک طالبان سے لے کر تہاڈی تحریک لبیک تک، ہر گروہ، ہر ہر مزہبی انتہا پسند مسلمان کو نصیب ہو جائے۔ اس دن یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اصطلاحات ہی ڈکشنری سے نکال دئے جائیں گے۔”

    گفتگو یہاں تک ہوئی تھی اور مولانا مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے۔ مگر ہم نے نظر انداز کیا، اور بات جاری رکھنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا نے دائیں ہاتھ سے جھنجھوڑا اور دھکا دے کر منع کیا۔ وہ اپنی رائے پیش کرنے لگے۔
    "یہ جو تمھارا باپ امریکہ ہے۔ یہ لبرل سیکولر ہے۔ عراق شام، افغانستان، ہر جگہ خون کی ہولیاں جو کھیلتا ہے، آپ کو وہ نظر نہیں آئیں؟”

    "اے مولانا۔ خدارا اتنی چھوٹی سی بات دستار سے ہو کر کھوپڑی میں کیوں نہیں اتر رہی۔۔۔۔۔۔”
    "دیکھ اگر دستار زبان پر لائی۔۔۔” وہ ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ گیا۔ میں نے بات جاری رکھی۔

    "دیکھ۔ ممالک اور ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ان میں "ازم” بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ ہر ملک میں پاور پالٹکس ہوتی ہے۔ طاقت کا توازن، خطرات کا خوف، کسی ملک کے وسائل پر نظر جمانا، اپنی عسکری اور معاشی قوت کا اظہار کرنا، یہ سب ہر زمانے میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مغرب کا رخ کیا تو اسپین تک جا پہنچے۔ ادھر بائیں ہاتھ چلنا شروع ہوئے تو انڈونیشیا کو مسلم آبادی کا سب سے بڑا ملک بنا کر رہے۔ آس پاس ہاتھ پیر مارنے شروع کئے تو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ جما لیا۔ یہ شوقِ جہاں بینی تو نہ تھا، جہاں بانی ہی تھا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ کسی ایک انسان کا خون نہیں بہا اور فاتح عالم ٹہرے۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔

     بیک ٹو مائی ڈیڈ امریکہ۔ تو جناب امریکہ نے بےشک معصوم انسانون کا خون بہایا مگر وہ اس لئے  نہیں کہ سیکولر اور لبرل ولیوز اس کو یہ سکھا رہی تھیں۔ ہر گز نہیں۔ وہ اس لئے کہ پاور پالٹکس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ جب سے دنیا بنی، کبھی چنگیز کی طرح صرف کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے شوق نے چرایا تو کبھی سکندر اعظم کو فتح کا نشہ ملکوں ملکوں سیر کراتا رہا۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ کا خوف لاحق ہوا تو کبھی مشرق وسطٰی کے قدرتی ذخائر پر نظر ٹک کر رہ گئیں۔ محمود غزنوی کو سومنات میں ہیرے اور جواہرات دکھائی دئے تو ہٹلر کے نسلی تفاخر نے یہودیوں کا قتل عام کروایا۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔ اس سے نہ میں انکاری ہو سکتا ہوں۔ نہ آُپ جھٹلا سکتے ہیں۔۔۔۔

     "بحث لبرل کے ہاں انتہا پسندی کی ہو رہی ہے۔ تو سرکار۔ جنگ عظیم دوئم کے دوراں کبھی لبرل حضرات کو پڑھئے۔ انہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر بم گرانے پر شادیانے نہیں بجائے تھے بلکہ ماتم کیا تھا۔ برٹرینڈ رسل لبرل تھا۔ وہ دونوں جنگ عظیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ وہ دیکھنے کی شے ہے۔
    امریکہ کا نوم چومسکی ایک لبرل ہے۔ جب عراق پر امریکہ نے چڑھائی کی تو انہوں نے اسے مسلم کا خون نہیں سمجھا انسانیت کا خون سمجھ کر ماتم کنان ہوگیا تھا۔ کتابوں پر کتابیں لکھیں۔ لیکچر دئے اور ثابت کیا کہ صدر بش نے جو عراق میں حملے کا جواز دیا ہے، وہ بےبنیاد ہے اور کوئی "ماس ڈسٹرکشن ویپنز” نہیں ہیں۔

    دور کیوں جائیں۔ حق مغفرت کرے۔ عاصمہ جہانگیر ایک لبرل تھیں اور اسامہ بن لادن کی نظریاتی مخالف۔ جب ایبٹ آباد واقعہ ہوا تو اسامہ بن لادن کی بیویوں کو زیرحراست لیا گیااور تفتیش شروع ہوگئ۔ تب یہ لبرل ہی تھیں جو اسامہ کی بیویوں کی وکیل بن بیٹھیں اور ان کا دفاع کیا کہ امریکہ یا کوئی بھی ملک ایک بے گناہ شہری کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ وہ انڈیا مخالف نہ تھی مگر کشمیریوں پر مودی کی بربریت کے خلاف ایک توانا آواز تھی۔ ہندوستان مودی سرکار کو للکارنے والی اور کشمیریوں کے پامال حقوق کی جنگ لڑنے والی ارندھتی رائے لبرل ہیں۔
    یہ ایک طویل لسٹ ہے۔ آپ نے "لبرل انتہا پسند” اور لبرلزم کو سیاسی و ریاستی طاقتوں کے مراکز سے جوڑنے کی کوشش کی تو پیش کی۔ کل کلاں یہ نہ کہنا کہ امریکہ اور ہندوستان لبرلز ہیں اور انسانوں کا خون کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ رسل، نوم چومسکی، عاصمہ اور ارندھتی رائے لبرل تھے اور وہ انسانوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ہیں۔”

    وہ بولے "کیا آپ کے نذدیک صرف خون بہانا ہی انتہا پسندی ہے؟ زبان اور قلم ہتھیار نہیں ہیں جو لبرل آئے روز آزماتے ہیں؟”

    عرض کیا "اس کا جواب شروع میں دیا جا چکا ہے۔ اب کوئی اور بات کر۔ ایک کپ چائے پلا۔ آج ڈنر میں کیا کھلاؤ گے؟”
    "زہر”

    "آپ کی روایت رہی ہے۔ ہمارا ایک سقراط نامی بزرگ بھی پی چکا ہے۔ لائے۔”

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail

  • تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    "تبدیلی” لفظ جتنی دفعہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکلا ہے۔ شاید اتنی دفعہ آج تک پوری دنیا میں بھی یہ لفظ نہ بولا گیا ہو۔ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تو انہوں یہ وعدہ پورا کرکے بھی دیکھایا اور آج تک پورا کر بھی رہے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

    کبھی وزیر کی تبدیلی۔۔۔۔

    کبھی مشیر کی تبدیلی۔۔۔۔۔

    کبھی پالیسی کی تبدیلی۔۔۔

    خان صاحب نے آغاز ہی ایسی بڑی  بڑی تبدیلیوں سے کیا۔اور ابھی تک چھوٹی تبدیلیوں کی باری ہی نہیں آرہی۔ آج بھی 

    چھوٹی تبدیلیاں  بنی گالا میں قطار بنائے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ 

    ان سب تبدیلیوں کو ایک ڈیجیٹل نام ” یو ٹرن” دیا گیا۔ اور انکی نظر میں یوٹرن کا کامیابی کے پیچھے اتنا ہی بڑا کردار ہے جتنا کسی زمانے میں ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہوا کرتا تھا۔ کنٹینر پر خطابات سن سن کر عوام کو یوں لگتا تھا کہ

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

    جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

    چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

      مگر اب عوام تبدیلی کو جگتیں کرتی نظر آتی ہے۔ کل بارش کی ٹھنڈک نے پکوڑے کھانے کی دل ناداں میں آگ لگائی تو سرگودھا کی ایک  پکوڑوں والی معروف چاچے بھٹو کی دکان کا رخ کیا۔ سرگودھا والوں کے چندا اور ہمارے حفیظ (کرکٹر) بھی کسی زمانے میں چاچے بھٹو کے پکوڑے کھاتے رہے ہیں اور خوب شیدائی تھے۔  جیسے ہی پہلا پکوڑا سپردِ منہ کیا تو نظر ریٹ لسٹ پر پڑی ، جس کے آغاز ہی میں لکھا ہوا تھا۔ ” گھبرانا نہیں ہے، 30 اگست سے سموسہ 30 روپے کا ملے گا”۔ایک کریانہ سٹور پر جانا ہوا۔ مصوف نے لکھ رکھا تھا۔” نواز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے تک اور عمران خان کے وزیراعظم رہنے تک ادھار بند ہے”۔زلفوں کی تراش خراش کےلیے شام کو ایک حجام کی دکان جانا ہوا۔ دکان کو لگا تالا دیکھ کر ادھر ادھر دیکھا تو دکان کے دروازے پر چپکے ایک بینر پر لکھا ہوا تھا۔” تبدیلی تو نہیں آئی ۔مگر ہم نے یہاں سے دکان تبدیل کر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اور اب پیش خدمت ہے ایک شاعر کی تبدیلی کو کی گئی جگتیں 

    بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    واعظ کے قیل و قال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    شادی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا چھڑو

    سنتے ہیں اس خیال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    ہے جس حسین کے گال پہ ڈمپل کوئی کہ تِل

    ہر اس حسین کے گال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانے کے بعد دانتوں میں تِیلا نہ پھیرنا

    دانتوں کے ہے خِلال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کرتی ہے جو ماسیاں دس دس گھروں میں کام

    ان ماسیوں کے بھی مال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    جنگل میں مور ناچا تو آئے گا اس کو بِل

    اب مورنی کی چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھی مت

    کیونکہ اب تو رال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    بچے تو پہلے دو ہی تھے اچھے مگر یہ کیا

    اب ایک نونہال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    سنڈے کے سنڈے ملتے تھے ہم مفت میں مگر

    اب یار سے وصال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کہتے ہیں اس سے بات نہ کرنا بغیر فیس

    بیگم سے بول چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

     اعلان یہ غریبوں کی بستی میں کل ہوا

    مردوں اب انتقال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کیوں اتنے ٹیکس لگ گئے پوچھا جو یہ سوال

    گیلانی اس سوال پہ بھی ٹیکس لگ گیا 

    اعجازالحق عثمانی 

    @EjazulhaqUsmani

  • عنوان: خان صاحب کی توتا چشمی  تحریر: علی خان

    عنوان: خان صاحب کی توتا چشمی تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ہم کب تک 1992 کے ولڈ کپ کا قرض ُاتارتے رہیں گے؟ 

    عمران خان افسوس کے ساتھ نہ اچھا لیڈر بن سکا اور نہ ہی اچھا دوست 

    کہتے ہیں انسان اپنی صحبت یعنی دوستوں اور تعلق داروں سے پچانا جاتا ہے،،، اسکی عادات و خصائل کے لیے اسکے احباب کا رویہ دیکھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے دوست ہی باربار تبدیل کرے تو کیا کہا جائے،،، ہمارے موجودہ وزیراعظم جناب عزت ماب عمران احمد خان نیازی صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے،،، خان صاحب کی توتا چشمی کا ایک قصہ ان کے موجود دوست اور ساتھی کھاڑی وسیم اکرم نے بھی سنایا کہ کسی دوسرے ملک غالباً ویسٹ انڈیز کے خاف میچ کے دوران کھلاڑیوں سے توتکرار ہوئی،،، عمران خان نے دیکھا تو قریب آکر پیٹھ تھپتھپائی کہ سنا دو انکو میں ساتھ ہوں تمہارے،،، میچ میں وقفہ ہوا تو مخالف کھلاڑی لڑنے ڈریسنگ روم کے باہر آگیا،،، عمران خان کو بتایا تو صاف کنی بچا کر بولے تمہاری لڑائی ہے خود لڑو

    وسیم اکرم نے یہ قصہ ہنسی مذاق میں سنا دیا لیکن خان صاحب نے بہت سے دوستوں کو اس موقع پرستی کا نشانہ بنایا اور وہ سب عمران خان کو اس حرکت پر کوستے ہیں،،، سیاستدانوں ہوں یا کھاڑی،،، صحافی ہوں یا صنعت کار، سب ہی خان صاحب کے اس رویے کا شکار ہو چکے،،، ان میں چند ایک کا ذکر یہاں ہوجائے،،، سب سے پہے ذکر پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں سے ایک ا کبر ایس بابرکا،،، اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ساتھ قیام کے وقت سے منسک ہیں،،، انہوں نے عمران خان کے خوابوں پر لبیک کہا اور ہر گرم سرد میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے،،، 2011  تک مختلف پارٹی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے عران خان کو خط لکھ کر پارٹی کے مالی معاملات میں شفافیت کا مطابہ کیا تو انہیں نظر انداز کردیا گیا،،، اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کردہ پارٹی فنڈنگ کیس ہی تحریک انصاف پر لٹکتی توار بنا ہوا ہے،،، اس کیس کے ممکنہ فیصلوں میں تحریک انصاف کی بطور جماعت رجسٹریشن منسوخی بھی شامل ہے جو حکومت خاتمے کا باعث بن سکتی  ہے

    اس فہرست میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین بھی شامل ہیں،،،وجیہہ الدین صاحب نے تحریک انصاف میں مختلف عہدوں پر ذمہ داریاں سرانجام دیں اور چیف الیکشن کمشنر بھی رہے،،، پارٹی الیکشن میں دھاندلی بارے آواز اٹھائی تو نکال باہر کیا گیا،،، سینئر وکیل اور سپریم کورٹ و پاکستان بار کونسل میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے حامد خان کا قصہ بھی مختلف نہیں،،، عمران خان کی جانب سے پانامہ کیس میں پیش ہوتے رہے لیکن کچھ معاملات پر آواز اٹھائی تو پہلے سائیڈ لائن کیا گیا اور پھر شوکاز نوٹس دے کر مکمل کھڈے لائن لگا دیا گیا

    خان صاحب کے ستم کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی بات کریں تو سمیع ابراھیم کا ذکر ضروری ہے،،، سمیع ابراھیم کی جانب سے گزشتہ دور حکومت میں عمران خان کی کھل کر حمایت کی جاتی رہی،،، انہوں نے مختلف امور پر عمران خان کا کھل کر ساتھ دیا لیکن پھر تحریک انصاف کے دور حکومت میں تحریک انصاف ہی کے وزیر فواد چودھری نے انہیں سرعام تھپڑ جڑے اور وزیراعظم کی جانب سے زبانی ہدایات کے علاوہ کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی سمیع ابراھیم اس بے عزتی پر آج بھی شکوہ کناں ہیں،،، کالم نگار ہارون الرشید کا ذکر بھی یہاں کیوں نہ ہو کہ انکی جانب سے خان صاحب کے حق میں بار بار کالم آتے رہے اور خان صاحب کو مختلف روحانی خوش خبریاں بھی سنائی جاتی رہیں،،، پارٹی اقتدار میں آئی تو ہارون صاحب کی جگہ بھی خان صاحب  کے قریبی حلقے میں نہ رہی

    صنعکاروں میں خان صاحب کے ستم کنندہ جمانگیر ترین ہیں،،،ترین صاحب نے عمران خان اور تحریک انصاف کی مالی آبیاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی،،، خان صاحب کے نجی دوروں کے لیے انکا جہاز نیو خان کی بس کی مانند ہر چھوٹے بڑے شہر کی اڑانیں بھرتا رہا،،، کچھ منچلوں نے خان صاحب کے کچھ چلانے کا سہرا بھی ترین صاحب کے سر باندھا،،، ترین صاحب کو پہلا جھٹکا تاحیات نااہلی کا لگا،،، واقفان حال کے مطابق اس نااہلی سے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا ایک مضبوط ترین امیدوار کم ہوا توخان صاحب نے بھی سکون کا سانس لیا،،،ترین صاحب نے پارٹی کا ساتھ تب بھی نہ چھوڑا اور تحریک انصاف کی وفاق اور صوبے میں حکومت کی تشکیل کے لیے آزاد اراکین کو ذاتی جہاز میں بنی گالا پہنچایا،،، صدارتی الیکشن میں بھی انکا ہی ڈنکا بجتا رہا،،، ترین صاحب چینی اسکینڈل آنے کے بعد سے عمرانی عتاب کا شکار ہوگئے،،، مزے کی بات کہ اسی اسکینڈل کے دوسرے کردار ابھی بھی وفاقی اور صوبائی کابینہ کا حصہ ہیں،،، اس فہرست میں علیم خان بھی موجود ہیں کہ وزارت اعلیٰ نہ ملنے پر انہوں نے صبر کیا تو سینئر صوبائی وزیر بن کر بھی چین نہ پایا،،، نیب اور جیل یاترا کے بعد واپس آئے تو سینئر کے ٹیک کے ساتھ ایسی بے اختیار وزارت  ملی کہ اب وہ انشا جی کی بات ماننے کو ہیں

    انشاجی اٹھو اب کوچ کرو اس حکومت میں جی کا لگانا کیا

  • بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو مشورہ

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو مشورہ

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پڑھی لکھی قوموں کو پاک بھارت معاملے سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنا چاہیں-

    باغی ٹی وی :پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ ٹیم کے دورہ منسوخی پر بات کی کہا کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ غلط اور ناقابل قبول تھا، کیوی کرکٹرز کے پاکستان میں پرستار موجود ہیں،ان کی جانب سے ایسا رویہ قابل معافی نہیں-

    شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی سیکیورٹی خدشات تھے تو پی سی بی کو بتاتے تاکہ پاکستانی فورسز چھان بین کرلیتیں،میرے خیال میں اگر آنے کے پروٹوکولز ہیں تو اگر کسی ٹیم کو جانا ہے تو اس کا بھی کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے، ہم نے ہمیشہ دوسروں کو سپورٹ کیا،دیار غیر میں کھیل کے سفیر بن کر کھیلے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

    سابق کپتان نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں مہمان ٹیموں کو پاکستان میں کس معیار کی سیکیورٹی دی جاتی ہے،غیر ملکی بورڈ حفاظتی انتطامات کی چھان بین کے بعد ہی اپنی ٹیمیں بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہیں،انھیں روٹس سمیت ہر معاملے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جاتا ہے تب ہی ٹور کیلیے گرین سگنل ملتا ہے،زمبابوے، سری لنکا اوربنگلہ دیش سمیت تمام ٹیمیں اسی طریقہ کار کے مطابق آئیں۔

    دھمکی آمیز ای میلز بھارت سے کیے جانے کے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر ہم اس صورتحال کو بڑے تناظر میں دیکھیں تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کس کا ایجنڈا ہے،جعلی ای میلز پر کسی کو توجہ نہیں دینا چاہیے،پڑھی لکھی قوموں کو پاک بھارت معاملے سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنا چاہیں-

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی بھی ذمہ داریاں ہیں،اسے اس طرح کے معاملات میں مداخلت کرنا چاہیے،ٹیموں کے بلاوجہ ٹورز منسوخ کرنے سے پاکستان کرکٹ کیلیے پریشانیاں پیدا ہورہی ہیں، کھیل کی گورننگ باڈی کو خاموش ہوکر نہیں بیٹھنا چاہیے، ہمیں بھی فیصلے کرنا پڑیں گے تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہماری بھی کوئی عزت ہے، دوسرے ملکوں میں دہشت گردی ہوئی تب بھی کرکٹ چلتی رہی۔

    ورلڈکپ کابائیکاٹ کرنے کے مشوروں کے سوال پر آفریدی نے کہا کہ یہ جذباتی باتیں ہیں،ہمیں میچز جیت کر اپنے ناقدین کو جواب دینا چاہیے، کوشش کرنا ہوگی کہ میگا ایونٹ میں بہترین کارکردگی دکھائیں۔

    سابق کپتان نے کہا کہ رمیزراجہ نے کرکٹ کھیلی،کمنٹری کی،وہ کئی بڑے لوگوں کے ساتھ رہے،انھوں نے دنیا دیکھی ہوئی ہے،وہ کرکٹ کو سمجھتے ہیں،امید ہے کہ سسٹم بدلنے میں کامیاب ہوں گے،اس کیلیے ان کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، چیئرمین تو بدلتے رہے مگر کئی چہرے 15،20سال سے پی سی بی میں نظر آرہے ہیں ان کو بدلنا ہوگا،ملک میں گراس روٹ کرکٹ ختم ہوگئی، اسے واپس لانا ہوگا، اگر اسکول وکالج سے اچھے طالبعلم مل سکتے ہیں تو کرکٹر بھی ملنا ممکن ہے،ان کو مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    شاہد آفریدی جونیئر کرکٹرز کی کوچنگ کے خواہاں ہیں کہا کہ کسی بھی انداز میں پاکستان کیلیے کام کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوگی،میرا خیال ہے کہ طویل عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ میں گزارنے والے کھلاڑی جونیئرز کیلیے کام کریں تو زیادہ بہتر ہے، محمد یوسف اور عبدالرزاق سمیت یہ کرکٹرز ینگسٹرزکے رول ماڈل ہیں،انھیں سیکھنے کا موقع ملے تو کارکردگی میں نکھار آئے گا،مجھے بھی اگر موقع ملا تو جونیئرز کی کوچنگ کرنا چاہوں گا۔

    شاہد آفریدی نے کہا کہ میری کرکٹ کی اننگز مکمل ہونے والی ہے،میں اب اپنی فاؤنڈیشن کو وقت دینا چاہتا ہوں، پی ایس ایل 7 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر ملتان سلطانز کے اونر عالمگیر ترین نے چھوڑ دیا تو کسی اور فرنچائز کا سوچوں گا۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • ہم شرمندہ ہیں آپ سے جناب ڈاکٹر قدیر خان صاحب تحریر…..ہارون خان جدون

    دنیا کے نقشے پر بڑے براعظم ایشاء میں موجود اسلامی جموریہ پاکستان اور اسکے دارحکومت کے قلب میں موجود فیصل مسجد سے چند قدموں کے فاصلے پر مسکراتے چہرے اور آنکھوں عجیب چمک لئے فادر آف پاکستان نیوکلیر ویپن پروگرام کی رہائش گاہ ہے 28 مئی کا وہ دن اور چاغی کی پہاڑیاں گواہ ہیں اس ایٹمی دھماکے کی جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا, بھارت کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں جس ہستی کی بدولت یہ امر نہ ممکن سے ممکن بنا وہ کوئی اور نہیں بلکہ محسن پاکستان محسن قوم و ملت ڈاکٹر قدیر خان ہیں جنہوں نے دنیا عالم میں پاکستان کا لوہا منوايا سب سے پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن اس محسن پاکستان کا نام سنتے ہی بےقرار ہونے لگتی ہے کیوں کہ یہ وہ شخصیت ہے جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا کو اور اپنے ازلی دشمن بھارت کو یہ بتا دیا کے اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے ہمیں دیکھنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑے گی

     پاکستانی عوام آپ جیسے محسن کو اپنے دل میں براجمان خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں سے آپ کی موت کی جھوٹی خبریں چلتی رہی لیکن بقول آپ کے یہ حاسدین کا کام تھا جو ایک انتہای گٹیا فعل تھا

     ریٹنگ کے چکر میں کبھی كبهار خبر گھڑنے والے عوامی مقبول شخصیت کو نشانے پر رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کی موت کی کچی پکی خبر گردش کرنے لگی تو پریشانی بڑھ گی لیکن ساتھ ہی دل اس خبر کی صداقت پر ایمان لانے کو تیار نا تھا

     یہ بھی سچ ہے کے زندگی اور موت اللہ پاک کے بس میں ہے جس نے یہ کائنات بنائی ہے جو ہمارا خالق ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کے بذات خود میڈیا پر اعلان کے وہ حیات ہیں اور اللّه انکو مزید زندگی دے گا اور انکے حاسدین کے جلانے کے لئے، ڈاکٹر صاحب کے اپنے میڈیا پر اس بیان سے قوم کے دل خوشی سے سرشار ہوگے

    اس جھوٹی خبر پر ہونا تو یہ چاہیے تھا اسطرح کی لامعنی اور جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے تھا اور سزا دینی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا ہوا نہیں جو افسوسناک بات ہے, موت یوں تو برحق ہے ہر انسان نے ایک نا ایک دن اس فانی دنیا سے جانا ہے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمیں موت کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیوں کے موت کسی بھی وقت کسی بھی جگہ آ سکتی ہے یہ اٹل حقیقت ہے

    البتہ پاکستانی قومکی نظر میں ڈاکٹر قدیر خان ایسی شخصیت نہیں کے جنہیں موت نیست و نابود کر سکے ان جیسے لوگ جو اس ملک کی عزت اور سرمایہ ہیں اور وطن سے محبت کا قرض جو اس انداز میں اتارتے ہیں کے انکے کارنامے انہیں اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی انکو زندہ و جاوید رکھتے ہیں، اس جھوٹی خبر اور اس واقعہ سے جہاں ان کے چاہنے والوں کو صدمہ ہوا ہے وہاں انکے حاسدین کو بھی پتا چل گیا ہو گا کے پاکستانی قوم انکے لئے کتنی فکر مند ہے اور کتنی محبت کرتی ہے

    لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوناک بات یہ ہیکہ حکومت کیطرف سے کوی بھی حکومتی وزیر مشیر اور نماہندہ انکی عیادت کرنے نہیں گیا اور انکو اتنی توفیق نہیں ہوی کہ وہ محسن پاکستان کے پاس جاکر انکا حال حوال پوچھ سکیں انکو حوصلہ دے سکے ڈاکٹر صاحب کا اس ملک اور قوم پر بہت بڑا احسان ہے اگر یہ قوم ساری زندگی بھی لگی رے تو انکا احسان نہیں اتار سکتی ہمارے حکمرانوں کو انکی قدر کرنی چاہیے لیکن افسوس ہمارے حکمران یہ سب بھول چکے ہیں.

    میری اللہ پاک سے دعا ہیکہ اللہ پاک آپکو صحت والی زندگی دے۔۔ آمین 

    @ItzJadoon

  • ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین  فوسل دریافت

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی :نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    این ایچ ایم کی ایک محقق نے اسے نئی نسل قرار دیتے ہوئے اس کا نام ‘سپیکومیلس افر’ رکھا ہے ، جس کا مطلب ہے سپائکس کا کالر اور افریقہ-

    ماہرین کے مطابق جس چیز نے اسے منفرد بنایا وہ فوسل میں پسلیوں کی ہڈیوں میں ملنے والی سپائکس کا ثبوت ہیں جو اینکلوسار کے لیے غیر معمولی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جلد کے ٹشو سے جڑا ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اینکلوسار بکتر بند ڈا ئنوسار کا ایک متنوع گروہ تھا جو 145 سے 66 ملین سال پہلے کے پورے دور میں موجود تھا تاہم ، اس سے پہلے ان کے بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں نئے ملنے والے فوسل کو اس قسم کے ڈائنو سار کے فوسل کی پہلی مثال کہا جاسکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلے ہم نے سوچا کہ نمونہ ایک سٹیگوسار کا حصہ ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے انہیں اسی مقام پر پایا گیا تھا۔ لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر ہم نے محسوس کیا کہ جیواشم کسی بھی پہلےسے موجود نسل کے برعکس تھا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    نمونہ اتنا غیر معمولی تھا کہ پہلے محققین نے سوچا کہ کیا یہ جعلی ہو سکتا ہے ، لیکن سی ٹی اسکینوں کی ایک سیریز نے تصدیق کی کہ یہ ‘حقیقی فوسل’ ہے۔

  • پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے        آسٹریلوی کمنٹیٹر

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

    آسٹریلوی کمنٹیٹر مائیک ہیزمین نےپاکستان کا دورہ منسوخ کرنے پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ دنیا کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کرکٹ کے لیے دیگر ممالک کی طرح محفوظ ہے۔

    باغی ٹی وی: مائیک ہیزمین نے کہا کہ میں اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں میں پاکستان میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کو انجوائے کر رہا ہوں اگر مجھے سیکیورٹی کا مسئلہ ہوتا تو میں یہاں کبھی نہ آتا دورے کی منسوخی پر روز خبریں سننے کو مل رہی ہیں جس پر دکھ ہو رہا ہے نیوزی لینڈ نے دورہ منسوخ کیا لیکن پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تھریٹ کی معلومات شیئر نہیں کیں۔

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    انہوں نے کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں سے پوچھے بغیر پاکستان کا دورہ منسوخ کیا جو افسوسناک ہے انگلینڈ کے کھلاڑی جنوبی افریقہ پہنچے اور کورونا کا بہانہ کر کے دورہ منسوخ کر دیا۔

    مائیک ہیزمین نے کہا کہ آئی سی سی کو ان معاملات کو دیکھنا چاہیے کیوںکہ انگلینڈ جو بھی کر رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے حال ہی میں جب جنوبی افریقہ نے پاکستان کا دورہ کیا، میں بھی پاکستان میں موجود تھا جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے کہا کہ انہیں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

    آسٹریلین کمنٹیٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹرز ٹینلٹ سے بہت متاثر ہوں پاکستانی کرکٹرز کی بیٹنگ اور باؤلنگ اسٹائل مختلف ہے پاکستانی کرکٹرز کا اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے کرکٹرز دنیا کے دیگر کھلاڑیوں کی نسبت مختلف صلاحیتیں رکھتے ہیں پاکستان میں لوگ بہت پیار کرنے والےہیں۔میں نے پاکستان میں کام کر کے ہمیشہ خوشی محسوس کی

    واضح رہے کہ مائیک ہیز مین اس وقت نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان میں موجود ہیں اور کمنٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں-

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر”  تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر” تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی زبان کے شاعر) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔

    آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1639 عیسوی۔ 1101 ہجری میں سندھ کے موجودہ ضلع مٹیاری کی تعلقہ ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔

    شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ اپنے اپنی محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبد اللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ آپ کی مرادبر آئے گی۔ میری خواہش ہے آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر شاہ عبداللطیف رکھیں۔

    خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوگا۔

    سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا، درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام شاہ عبداللطیف رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا۔ پھر اس ہی بیوی سے دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر شاہ عبداللطیف رکھا گیا، یہی لڑکا آگے چل کردرویش کی پیش گوئی کے مطابق واقعی یگانہ روزگار ہوا۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباو اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ہرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیوں کے ملک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے تھا۔ 1398 801-2ھ میں جب امیر تیمور ہرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر تواضع کی، ساتھ ہی بڑی رقم بطور نظرانہ پیش کی، تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں کو میر ابوبکر اور حیدر شاہ کو مصاحبین خاص میں شامل کرکے ہندوستان لے کر آیا۔

    یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا، اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں اگئے۔ ہالا کے علاقے میں شاہ محمد زمیندار کے مہمان ہوئے۔ شاہ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ درسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی، چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا۔ اس لیے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔ سید حبیب شاہ قریب قریب تین تین سال تک ہالا میں رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار تک رہنے کے بعد وفات پاگئے، کہتے ہیں جب سید صاحب ہرات روانہ ہوئے تو آپ کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ انہوں نے چلتے چلتے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہوئی تو فاطمہ رکھا جائے۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا۔

    اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے علاوہ شاہ عبد الکریم بلڑی والے، سید ہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی، شاہ جو رسالو آپ ہی ایک عظیم کوشش ہے۔

    آپ (شاہ عبداللطیف بھٹائی) نے 1752ء میں 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

    حسیب احمد 

    @JaanbazHaseeb