Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    اس سے پہلے میں آزادی کا مغربی تصور بیان کرچکی ہوں آج اس بلاگ میں لفظ آزادی کا اسلامی تصور پیش کرونگی۔ آزادی کا جو تصور زد، عام ہے وہ آصل میں آزادی ہے ہی نہیں وہ تو "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والا معاملہ ہے اور اس سے معاشرے میں تباہی تو آسکتی ہے لیکن آمن اور سکون نہیں۔معاشرے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ پورے معاشرے کو رہن سہن کے آصول بتائے جائیں ان اصولوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور ناماننے والوں کے لیے قوانین بنائے جائیں عدالتوں کو بنایا جائے پورا ایک سسٹم ہو ہے جس کی وجہ سے صرف آمیر یا پیسے والا نہیں بلکہ غریب کو بھی جینے کا اتنا ہی حق ہو اور اپنی بات کو دوسروں پہنچانے کے مواقع بھی اتنے ہی ملیں جتنے کہ آمیر کو۔اسلام میں آزادی کے عام طور پر چار پہلو ہیں
    1آزادی مطلق
    2آزادی اقوام
    3شہری آزادی
    4سیاسی آزادی
    انسان اگر ارادہ کرے کسی کام کا اور ارادے کے مطابق وہ جو چاہے کرے اسے کوئی روک ٹوک نا کرسکے، اس کی مرضی کے خلاف کچھ نا، ہو تو اسے آزادی مطلق کہتے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ آزادی انسان کو حاصل ہی نہیں ہے آزادی کی یہ قسم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔اور اسکا حق بھی صرف اللہ کو حاصل ہے وہ کائنات کی ہر چیز، پر، حاوی ہے کیونکہ پوری کائنات اسکی تخلیق ہے۔اس کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کی تنقید بے قید، ہے۔
    قران مجید میں فرمایا گیا ہے
    ان الله یحکم مایرید
    ترجمہ: بیشک اللہ جو چاہتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسکا حکم نافذ کردیتا ہے۔
    سورہ آل عمران میں ہے
    کہو کہ اختیارات سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں

    مطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہی اس پر حاکم ہے۔انسان اللہ کی اطاعت کرے انسان کو ایسی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے جس، میں وہ جو چاہے کرتا پھرے آزادی محص( فطری آزادی)
    آزادی کو مروجہ وجوہ کی بنا پر فطری حق تسلیم کیا جاتا ہے
    یہ کہ آزادی کا جذبہ ہر ایک انسان کا فطری خاصہ ہے۔
    یہ کہ اگر آزادی حاصل نہ ہو تو کوئی انسان اپنے حالات کی درستگی واصلاح ہرگز نہیں کرسکتا’یعنی وہ کسی چیز کا جوابدہ نہیں ہوسکتا’جب تک کہ آزاد نہ ہو بلکہ آزادی کے بغیر وہ انسان ہی نہیں کہلایا جا سکتا
    قدیم زمانہ میں غلامی کا رواج تھا اور یونان کے بہت بڑے فلاسفر ارسطو کا کہنا ہے کہ” بعض آدمی فطری طور پر اپنے حالات میں حسب منشاتصرفات کرنے پر قادر نہیں ہے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ غلام رہیں اور ان کے آقا ان کے مصالح کے کفیل ہوں”
    جبکہ اسلام طریقہ غلامی کو ناپسند کرتا ہے اور اور آقا اور غلام کے درمیان بھی مساوات کا درس دیتا ہے۔
    قومی آزادی
    اسکا مفہوم اپنی ریاست کو کسی دوسری ریاست کے ظلم سے بچانا ہے اپنی ریاست کے لیے جان اور مال کی قربانی دینا۔ اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔
    شہری آزادی
    کسی ریاست میں رہتے ہوئے کون کونسی آزادیِ چاہیئے ہوتی ہے یا حاصل ہوتی ہے ان میں آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع وتقریر، معاشی آزادی، مزہبی آزادی، حق ملکیت کی آزادی، جان کے تحفظ کی آزادی، قانونی آزادی۔آزادی اظہار رائے میں ہر انسان آذاد ہے وہ کسی بات یا موضوع کے بارے میں صحیح یا غلط رائے رکھے اگرچہ اس کے پاس دلائل موجود ہوں، اسی طرح تحریر و تقریر میں آزاد ہے اگرچہ کسی کی توہین اور ہتک آمیز القابات شامل نا ہوں نفرت پر نا ابھارا جائے آزادی کی آڑ میں امن کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ موجودہ دور چونکہ جدید دور ہے اس، میں اظہار رائے کے اور بھی طریقے ہیں جس میں خاص طور پر پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا اور اب سوشل میڈیا ہے اپنے خیالات کے اظہار کا بہترین زریعہ ہیں لیکن پاکستان چونکہ اسلام کے نام پے معرض وجود میں آیا ہے اس لیے اسلام کے خلاف بات نہیں ہوسکتی ہے۔اور نا ہی اشاعت ہوسکتی ہے۔رزق کمانے کی آزادی سب کو بشرطیکہ کہ کسی اور رزق چھینا نا جائے کسی اور کے رزق کو غلط طریقے سے ہتھیایا نا جا سکے۔حلال کمایا جائے اور ملکی قوانین کے مطابق عشر زکوٰۃ اور ٹیکس ادا کیا جائے ۔مذہبی آزادی میں اپنے عقیدے کے مطابق رہنے کا مکمل اختیار دیا جائے جب تک کہ وہ اپنا عقیدہ مسلط نا کرے۔ تمام مذاہب کو اپنے مذہب کی ترویج کا بھی حق حاصل ہے البتہ قادیانی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مرتد ہیں اسلامی قوانین کے مطابق۔آزاد ملکیت میں زمین جائداد خریدنے اور فروخت کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن ناجائز طریقے سے کسی مظلوم کی جائداد پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرےگا تو قانون کے مطابق سزا کا حق دار ہوگاجان کی آزادی یعنی ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر زندگی بسر کرے اور اپنی زندگی بچانے کے لیے ہر قسم کا دفاع کرسکے۔ سیاسی آزادی میں ہر فرد کو اپنی ریاست کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ سیاست میں سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق تحریر وتقریر ہوتی ہیں لیکن کہیں بھی ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ آزادی کی ان تمام اقسام میں بھی مدر پدر آزادی کہیں نہیں ہے ہرآزادی کے ساتھ کچھ حدود جڑی ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دان ہوں میڈیا ہاؤسز ہوں یا پھر بیوروکریسی سبھی اپنی آزادی کے تحفظ کے نام پے ملکی وقار کو داؤ پے لگا رہے ہیں جو کہ ایک مہذہب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 سے زیادہ اقسام کے پرندے، مچھلیاں اور دوسرے جنگلی جانوروں کی نسلیں اب دنیا سے غائب چکی ہیں تاہم ان میں ایک یا دو کا دوبارہ ظہور ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :ہدہد کا شمار خوبصورت پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ خوشنما رنگوں اور لمبی چونچ والا یہ پرندہ شمالی میکسیکو میں پایا جاتا تھا، جسے اپنے حجم کے لحاظ سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ہدہد کا درجہ حاصل تھا جنگلوں میں بسیرا کرنے والے اس پرندے کی نسل کو اسی وقت خطرہ لاحق ہو گیا تھا جب بڑے پیمانے پر جنگلوں کی کٹائی شروع ہوئی تھی۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    جنگلی حیات کے عہدے داروں نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ سن 1944 کے بعد سے ہدہد کے دیکھے جانے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے بہت کوششوں کے باوجود وہ ان 23 نسلوں کے جانداروں کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب وہ برسوں سے کہیں بھی دیکھے نہیں گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان نسلوں کی معدومی میں آب و ہوا کی تبدیلی کا بڑا حصہ ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آب و ہوا کی تبدیلی کے عمل کو روکنے کے جلد اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جنگلی حیات کی نسلوں کا دنیا سے خاتمہ ایک معمول بن جائے گا-

    اس وقت دنیا بھر میں جنگلی حیات کی تقریباً 902 اقسام ایسی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ معدوم ہونے والی ہیں کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ معدوم ہونے والی نسلوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی 23 نسلوں کے دنیا سے مٹ جانے کا اعلان اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان جانوروں کی صورت حال کی تبدیلی سے متعلق سفارشات کئی برسوں سے التوا میں پڑی ہوئی تھیں اور ان پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی نسل کی بحالی کا حقیقی امکان پیدا ہوا تو ان کے تحفظ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا کرہ ارض معدومی کے بحران سے گزر رہا ہے تاریخی اعتبار سے معدومی کی یہ شرح ماضی کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

  • دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    برازیل کے شہر فورٹالیزا سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ نکول اولیویرا نے دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق برازیل کے شہر فورٹالیزا میں رہنے والی برازیل کی 8 سالہ نکول اولیویرا دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات بن گئی نکول نے ناسا سے وابستہ پروگرام میں شامل ہوکر ایسٹرائیڈز یعنی سیارچوں کی تلاش شروع کردی ہے نکول نے اب تک 18 سیارچوں کا سراغ لگا لیا ہے۔

    ناسا کے اس پروجیکٹ کو ایسٹرائیڈ ہنٹرز کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو کائنات میں دریافتوں کے لیے مدد دے کر سائنس سے متعارف کروانا ہے۔

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    نکول کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کا کمرا نظام شمسی کے پوسٹرز سے بھرا ہوا ہے اور وہ اپنے فارغ وقت میں ٹیلی اسکوپ کی مدد سے آسمان کی تصاویر لیتی رہتی ہے۔

    جبکہ وہ اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر پر سیارچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے گزارتی ہیں اپنے یوٹیوب چینل پر نکول نے برازیل کے ماہر فلکیات ڈولیا ڈی میلو جیسی بااثر شخصیات کا انٹرویو کیا ، جنہوں نے ایس این 1997 ڈی نامی سپرنووا کی دریافت میں حصہ لیا تھا۔

    جہاں تک اس کے اپنے عزائم ہیں تو وہ بڑے ہو کر ایرو اسپیس انجینئر بننا چاہتی ہے نکول کا کہنا ہے کہ وہ راکٹ بنانا چاہتی ہیں اور ابھی وہ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی خلائی مرکز میں ان کے راکٹ دیکھنے کی خواہاں ہیں۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6

  • غداری اقوام کی تباہی کا سبب تحریر: محمد عمران خان

    قدیم چینیوں نے تاتاریوں کے حملوں سے بچنے کیلئے دیوار چین بنا لی،اس عظیم دیوار کو بنانے کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بیس سے تیس فٹ اونچی اور پندرہ سو میل پر پھیلی یہ دیوار بنانے میں چین کو زمانے لگ گئے، بالآخر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تعمیر معرض وجود میں آئی جس کو دیوار چین کہا جاتا ہے،

    اب سوال یہ ہے کےکیا چین بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا؟ 

    آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دیوار کو بنانے کے بعد پہلے 100 سال میں تاتاریوں نے تین بار چین میں گھس کر چین کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ تاتاریوں کو ایک بار بھی دیوار چین کو پھلانگنے یا توڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،

    جانتے ہو کیوں؟

    اس لئے کہ ہر بار بیرونی دشمن کے لئے دروازے اور کنڈیاں اندر سے کھلیں، تاتاریوں نے محافظوں کو خریدا اور ملک کے اندر غدار پیدا کئے۔

    قدیم چینیوں نے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل دیوار بنانے میں لگا دیے لیکن یہ بھول گئے کہ انسان بھی بنانے سے بنتے ہیں، تراشنا پڑتا ہے، حب الوطنی کی بٹھی سے گزارنا پڑتا ہے، تربیت کے مراحل سے گزر کے انسان تعمیر ہوتا ہے وہ ہی ملک و ملت کے مقدر کا ستارہ بن کے افق پہ چمکتا ہے۔

    ایسے ہی ہم نے پاکستان بنانے میں تو لاکھوں لوگوں کی قربانی دینے سے رتی برابر دریغ نا کیا، ایٹم بم اور جدید ہتھیار بھی بنا لیے، لیکن فرد اور قوم کو بنانے کے لیے ذرا سا کام نا کیا جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ اندر کی غداریوں اور اندر کے ناسوروں سے نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو آج تک اتنا نقصان شاید ہی دشمن کے ہاتھوں ہوا ہو جتنا اندر کے غداروں نے دیا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان کے اہم راز اور دستاویزات لیک ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں تک جا پہنچیں مگر وہ راز لیک کرنے والے شاذونادر ہی تلاش کیے جاسکے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا معروف ترین کیس ڈان لیکس بھی اندر کی غداری پر مبنی تھا جس میں پاکستان کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے اعلیٰ افسر نے راز دشمن کے ہاتھوں فروخت کردیے۔ اسی طرح سابقہ سیاست دانوں نے بھی اپنی اداروں سے چپقلش کے نتیجے میں اہم ترین راز عالمی میڈیا پر اگلے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    اندر کے ناسوروں اور غداروں کے متعلق ہی مسلمانوں کے عظیم لیڈر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا:

    "اندر کے غداروں کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی”

    برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کی غداری سے ہوئی۔ ریاست میسور اور برصغیر کے عظیم جنگجو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیے مگر صرف ایک دوست کی غداری نے ان کی جان سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کو بھی ان کے کمانڈر میر جعفر کی سنگین غداری کی وجہ سے شکست ہوئی اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مغل شہنشاہوں کو بھی اندرونی غداریوں کا سامنا رہا اور ان کی مضبوط اور وسیع تر حکمرانی انگریزوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 

    اسی لیے ایک حقیقی کلمہ گو مسلمان کو یہ کسی بھی حالت میں بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مذہب یا قوم سے غداری کرنے کا سوچے بھی سہی۔ بطور فرد اور بطور شہری ہمیں اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اور وقار کی خاطر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ہمارے فرائض میں شامل ہونی چاہیے کہ اپنے اردگرد اور قرب و جوار پر گہری نظر رکھی۔ کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کریں تاکہ ہماری سلامتی اور وطن کی عزت و آبرو دونوں محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر ہماری بقاء اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی حکمران اس ملک پر مسلط ہوا چاہے وہ سویلین حکمران تھا یا پھر عسکری ہر کسی نے الیکشن سے پہلے یا ملک پر قابض ہونے سے پہلے اس ملک میں انقلاب، تبدیلی کے نعرے لگائے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ بھی اس اسٹیٹس کو کا حصہ بن گئے یا سسٹم نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ بھی اس راہ پر چلیں جو ان سے پہلے حکمرانی کرکے جا چکے تھے۔

    وہ کیا محرکات ہیں جو ہر آنے والے حکمران پر حاوی ہو جاتے ہیں الیکشن سے پہلے انقلابی سوچ رکھنے والا لیڈر کیسے اقتدار اعلی ملنے کے بعد اسی آلودہ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا یہ گلا سڑا نظام اب اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے جو بھی آتا ہے وہ اسی بوسیدہ نظام کا یا تو حصہ بن جاتا ہے یا پھر اسی میں سے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہی نکلے گا۔

    تاریخ اٹھا کر دیکھیں فرانس ہو یا ایران دونوں میں انقلاب کے محرکات یکساں تھے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔ نا انصافی اتنی بڑھتی گئی کے لوگوں نے حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور ہتھیار اٹھا لئے۔ کم و بیش  انقلاب کا مفہوم و وجوہات ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔

    وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹس بھی اسی نظام کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ  کھانچے لگانا جانتے ہیں اتنے سالوں سے سسٹم میں رہ کر تمام لوپ ہولز کا پتہ ہے۔ یہ ہی ایک مین وجہ ہے کہ وہ اس نظام کو یا اپنی سوچ کو بدلنا نہیں چاہتے۔ حقیقت میں ہماری بیوروکریسی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے سیاست دان لالچی ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے جال میں پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں اور یوں سیاست دانوں کی لالچ اور حرص کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیورو کریسی اُنہیں آرام سے استعمال کرلیتی ہے اور جب تمام مقاصد حاصل کرلیئے جاتے ہیں تو اُنہیں چلتا کردیا جاتا ہے اور بیوروکریسی وہیں کی وہیں موجود رہتی ہے۔

    میرے خیال میں سیاست دان اگر صحیح معنوں میں مخلص ہو جائیں اور سیاست کو عبادت سمجھ کر عوام کی خدمت کے جذبے سے کام کریں تو انہیں کوئی بیوروکریٹ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس دن بیوروکریسی درست ہوگئی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مثالی ملک بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو وسائل سے مالا مال بنایا ہے۔ قطر، سنگا پور، ہانگ کانگ، ملائشیا اور یو اے ای کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں کی بیوروکریسی کی بدولت ملک دنیا کے نقشے پر اُبھرتے نظر آئے۔

    اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک اس ملک میں لوگ انقلابی سوچ کے حامل نہیں ہوجاتے اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک لوگ خود اپنی قسمت بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتے، ایک فرد واحد کا انقلابی سوچ رکھنے سے کچھ نہیں ہو گا جب تک پوری کابینہ انقلابی نہیں ہو گی۔

    آج کی بڑی مثال موجودہ حکومت ہے، عمران خان نیازی الیکشن جیت کر اس نیت سے حکومت میں آئے تھے کہ ملک کے ہر شعبے اور ادارے میں  رفارمز لائے جائیں گے، شروع کے دو سال بیوروکریسی نے خان صاحب کو سسٹم میں ایسا الجھایا کہ اب تین سال ختم ہونے کو ہیں ابھی تک خاطر ہوا کام نہیں ہو سکتا۔

    حکومت شروع دن سے جب سے اقتدار میں آئی، تب سے بیوروکریسی میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی خواہاں ہے لیکن کیا کریں، معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔

     بیوروکریسی کیوں وزیراعظم عمران خان کو ناپسند کرتی ہے؟ کیونکہ عمران خان نے تہیہ کیا ہے کہ اب ملک ویسے نہیں چل سکتا جیسے پہلے چل رہا تھا، لیکن کیا ملک میں ریفارمز بیروکرسی کے بغیر کیے جا سکتے ہیں? جواب یقینا منفی میں ہو گا۔

    موجودہ حکومت کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات بھی اپنے حلقے کی سیاست کو اسی پرانی نظر سے دیکھتے ہیں جسے ہم تھانہ کچہری کی سیاست کہتے ہیں۔

    لہذا ایک طویل غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب کی نہیں بلکہ انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں مل کر کام کریں۔ اس میں بیوروکریسی، حکمران اور خصوصا عوام کا ذہنی طور پر شامل ہونا ضروری ہے۔

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti 

  • برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    عصر کا وقت تھا فون کی گھنٹی بجی کال اٹھائی تو ماموں زاد مخاطب تھا۔ کہنے لگا عرفان بھائی ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ میں نے کہا یار میں مفتی تو نہیں بہرحال بتاؤ کیا ایشو ہے۔۔؟
    گویا ہوا کہ ایک بچہ جو پیدا ہوا ہو اور اس کی کچھ دیر سانس اور نبض چلتی رہی ہو کیا اس کا جنازہ ہو گا۔۔؟
    میں نے کہا ہاں یار جنازہ تو ہونا چاہیے اس کا حق ہے۔ تو جی ٹھیک کہہ کر کال بند کر دی۔
    تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ اس کی کال آئی تو کہنے لگا کہ عرفان بھائی یہاں سب کہہ رہے ہیں کہ جنازے کی ضرورت نہیں ہے ، بچہ زندہ تھا ہی نہیں، جنازہ رہنے دیں۔۔۔!
    میں نے کہا کہ یار آپ پریشان مت ہوں جنازے کی ترتیب بنا لیتے ہیں۔ تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ مجھے معاملہ تھوڑا گمبھیر لگا تو میں نے پوچھ لیا کہ یار اصل مسئلہ بتاؤ کہ کیوں نہیں جنازہ کرنا چاہ رہے۔۔؟
    میرے اس سوال پر اس کے جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
    کہنے لگا کہ عرفان بھائی سچ تو یہ ہے کہ امی کہتی ہیں کہ "جنازہ کروایا تاں برادری جھلنی پوسی” (جنازہ کروایا تو پوری برادری کو جھیلنا/ برداشت کرنا پڑے گا) جو کہ ہمارے لیے بہت مشکل ہے کیوں کہ مالی حالات خراب ہیں اور کام بھی کوئی خاص نہیں ہے۔
    یقین مانیے اس کے ان الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔ مجھے یوں لگا کہ آسمان سے بجلی برسے یا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں۔۔
    کیوں۔۔؟
    کیونکہ اس کی برادری میں ہوں، اس کی برادری آپ ہیں، اس کی برادری ہم سب ہیں۔
    یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے کہ بندہ فوت بعد میں ہوتا ہے پورے خاندان کےلئے بوریا بستر اور کھانے کی ٹینشن لواحقین کو پہلے لاحق ہو جاتی ہے۔ اور یہ اس کا آخری درجہ ہے کہ آج ایک معصوم جان کو بغیر جنازے کے دفن کیا جانے لگا تھا کہ "برادری جھلنی پوسی”
    بہرحال میں نے اسے کہا کہ پریشان مت ہو، ہم جنازہ پڑھیں گے اور بے شک برادری کو مت پوچھنا، کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی سنت ہے کہ ایک دفعہ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہوا جو ابھی چھوٹا تھا تو آپ نے ان کے گھر جا کر صرف گھر والوں کو شامل کیا اور نماز جنازہ ادا کر لی۔
    اور ہاں اگر برادری کو خبر دینی ہی ہے تو مجھے بتانا میں انتظامات کروا لیتا ہوں۔۔ لیکن اسے اللہ نے سمجھ دی ،میں بھی کچھ دیر میں ان کے گھر پہنچا، کچھ ان کو سمجھایا جو اللہ نے توفیق دی اور پھر ہم نے رات عشاء کے بعد اس کے قریبی ترین تقریبا بیس لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی۔
    معزز قارئین یہ ایک کہانی ہے آپ اگر آنکھیں کھولیں تو ایسی ہی ہزاروں کہانیاں میرے اور آپ کے اردگرد روز رونما ہوتی ہیں ، لوگ مرگ پر پریشان حال ہوتے ہیں کہ کفن دفن تو درکنار برادری کو قورمہ کہاں سے کھلائیں گے۔؟ ان کے رہنے کا کیا بند و بست ہو گا۔۔؟
    خدارا غریب کےلئے موت کوبھی آسان کیجیے ایسا نہ ہو کہ غریب کہیں اس رواج کے ڈر سے اپنے مردے دفنانا ہی نہ چھوڑ دے یا قریب المرگ لوگوں کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کرنا، ایدھی ہومز کے حوالے کرنا یا کسی روڑھی پر پھینکنا نہ شروع کر دیں۔ اور یاد رکھیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس میں میرے اور آپ کے سمیت ہم سب مجرم ہونگے۔ تو آئیے آج سے عزم کیجیے کہ ایک تو کسی بھی مرگ پر گوشت نہ پکے ، پھر آپ اپنی حیثیت میں فوتگی والے گھر سے کھانے کا بائیکاٹ شروع کریں اور تیسرا یہ کہ اس تحریر کو پڑھنے والا ہر فرد اپنی اپنی فیملی ، محلے یا گاؤں میں ایسی کمیٹی بنائے جو لوگوں کو فوتگی کے موقعہ پر سہولیات دے کہ شہر سے باہر سے آئے مہمانوں کا کھانا ، میت کا کفن ، دفن ، قبر کا بند و بست اور ضروری معاملات نپٹانے سے اس فیملی کو بے فکری ہو تا کہ آئندہ کوئی فرد یہ کہہ کر جنازے سے انکار نہ کر سکے کہ "برادری جھلنی پوسی”

  • نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں  تحریر: آصف علی یعقوبی

    نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں تحریر: آصف علی یعقوبی

     

     نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں اکثر کم پڑھے لکھے لوگوں کی جانب سے مافیا جیسے خطرناک الفاظ استعمال کرنا یا تو لاعلمی ہے یا منافقت۔ منافقانہ رویوں کو تو کسی تحریر یا کالم سے نہیں بدلا جاسکتا لیکن لاعلمی کو علم و تحقیق کے بعد ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں معاشرے کے ایسے چیزوں کے بارے میں حقائق پیش کرسکوں جس سے اکثریت کو لاعلم رکھا جاتا ہے اور میرا یہی قدم اصل میں علم کا لبادہ اوڑھے منافقین کے خلاف قلمی جہاد ہے۔ اس کالم میں میں تحقیق اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے ایسے ادارے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میں "پبلک سکولز” کا درجہ حاصل کیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے لفظ مافیا کی تعریف کروں گا تاکہ سمجھنے والے حضرات منافقین کی تعلیم دشمنی کو سمجھ سکیں۔  مافیا خطرناک ترین جرائم کے مرتکب لوگوں کے ایک منظم گروہ کو کہا جاتا ہے۔ جیسے معاشرے میں تعلیمی لبادہ پہنے ایسے لوگ جو ملک کے بہترین تعلیمی نظام چلانے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کیخلاف پروپیگنڈے کرکے ان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اصل میں یہی مافیا ہیں۔ کیونکہ تعلیم جرم نہیں بلکہ تعلیم کیخلاف اکھٹے ہونا جرم عظیم ہے۔ نجی تعلیمی ادارے تو ملکی معیشت کو بہتر بنانے، بے روزگاری کو کم کرنے، معیاری تعلیم دینے، مستحق غریب اور خصوصاً یتیم بچوں کو مفت تعلیم دینے اور اس طرح کے دوسرے کار خیر میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے سب سے بڑے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس وقت صوبے میں 8782 پرائیویٹ سکولز ہیں جن کی کل آمدن 2 ارب 90 کروڑ 43 لاکھ روپے ہیں۔ ان سکولوں کا کل خرچہ 2 ارب 41 کروڑ 71 لاکھ روپے ہیں۔ یعنی اگر ان تعلیمی اداروں کا اوسط معلوم کیا جائے تو ایک  سکول کا سالانہ آمدن تقریبا” 55 ہزار روپے بنتا ہے۔ تعلیم دشمن مافیا ان نجی سکولز کیخلاف یہ پروپیگنڈے کرتے ہیں کہ وہ فیس بہت لیتے ہیں تو ان کو حکومت سے جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار بھی جاننے چاہیئے کہ ان 8782 رجسٹرڈ تعلیمی اداروں میں 6 ہزار 9 سو 35 ادارے ایسے ہیں جن کی فیسز 500 سے 2000 تک ہیں۔ 10 ہزار فیس لینے والے سکولز 104، 15 ہزار فیس لینے والے 23 جبکہ 40ہزار تک فیس لینے والے سکولز کی تعداد 5 ہیں۔ ان محدود وسائل میں اگر تعلیمی کارکردگی کی بات کی جائے تو نجی تعلیمی ادارے پرائمری سطح پر 40 فیصد جبکہ ہائی سطح پر 60 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرکے سرکار کی مدد کرتی ہے۔ فلاحی طور پر بھی یہ ادارے ہزاروں مستحق یتیم اور غریب بچوں کو مفت تعلیم اور کتب فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ گشتہ 4 سال سے ایسے 90 ہزار بچوں کو بھی راضی کرکے مفت تعلیم دے رہے ہیں جنہوں نے مکمل طور پر سکول چھوڑا تھا۔ نجی تعلیمی ادارے بیروزگاری کے اس طوفان میں بھی صرف خیبر پختونخواہ میں 1 لاکھ سے زیادہ افراد کو باعزت روزگار دیکر ریاست کو معاونت  فراہم کر رہے ہیں۔ ان چند تحقیقی سطوروں سے واضح ہوگیا کہ نجی تعلیمی ادارے وطن عزیز میں ایک روشن اور تعلیم یافتہ پاکستان کی ضمانت اور وطن عزیز کے غریب عوام کے لئے مسیحا ہیں۔ ان اداروں کی خدمات کا اعتراف کرکے حکومت کو ایک قانون پاس کرنا ہوگا کہ تعلیم کے ان محسنوں کے لئے مافیا جیسے خطرناک الفاظ اور مخالف پروپیگنڈوں پر سخت پابندی عائد کریں اور عوام بھی ان تعلیمی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور سپورٹ کا مظاہرہ کریں کیونکہ اگر 56 ہزار اوسطاً کمانے والے مافیا ہوگئے تو پھر معاشرے میں کروڑوں روپے کمانے والے کاروباری حضرات، لاکھوں روپے کمانے والے ڈاکٹرز اور ایک کیس کے ہزاروں،  لاکھوں روپے لینے والے وکلا تو مافیا کے باپ کہلانے کے قابل ہیں

  • کرپشن ایک زہریلی بیماری  تحریر : فرح بیگم

    کرپشن ایک زہریلی بیماری تحریر : فرح بیگم

    کرپشن کو بے بہا برائیوں کی چھیڑ کہا جاتا ہے ۔ کرپشن اعلی اقدار کی دشمن ہے ۔کرپشن ایک دیمک کی طرح ہے جو معاشرے کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کر رہی ہے ۔ یہ بات واضع ہے کہ قوموں کی بربادی میں اہم کردار کرپشن کا ہی ہے ،بیشک وہ کسی بھی صورت میں ہو ۔ جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہوگی وہ قوم یا ملک اتنی ہی بربادی کی گڑھے میں جا گرتی ہے ۔کرپشن کی وجہہ سے قومیں اپنی پیچان کھو بیٹھتی ہیں ۔ اس طرح لگتا ہے جیسے کوئی بلند مقام کھبی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا ۔ کرپشن کینسر کی طرح خطر ناک اور جان لیوا مرض ہے ۔ یہ جس معاشرے کو لگ جائے اس کی بربادی یقینی سمجھیں۔کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو ختم اور برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔ جس طرح درختوں کی خراب جڑیں پورے درخت کو خراب کرتی ہیں اسی طرح کرپشن پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ کرپشن کسی بھی صحت مند معاشرے کو خراب کر دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ ہر چیز زرد کر دیتی ہے ۔ کامیاب اداروں میں کچھ عرصے بعد ہی کرپشن کی بو اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے ادارے بھی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم انٹی کرپشن کمیٹی یا ادارہ بناتے ہیں اس قدر کرپشن زیادہ ہو جاتی ہے ۔
    پاکستان کی معیشت اور معاشرے کی تباہی کا ذمدار کرپشن ہے۔ جس نے جس قدر کرپشن کر کے مال جمع کیا ہوگا وہ اتنے ہی بلند مرتبے پر فائز ہوگا ،اور حمام میں سب کے سب ننگے ہوں گے ۔ سب کے سب خاموش ہو جاییں گے۔ پچھلے سال دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفاعت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم نی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کرپشن اور بد عنوانی پائی جاتی ہے ۔ اس میں حکومت کی ذمداری ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی کو روکنے کے لیے اپنے ادارے مضبوط کریں ۔ اور ان اداروں پر سختی برتے۔ جو ممالک کرپشن کی خطرہ ناک بیماری میں مبتلا ہیں ان میں پاکستان ، انڈیا ،بنگلادیش ،مالدیپ ، سری لنکا،نیپال وغیرہ شامل ہیں ۔ ان ممالک میں انسداد کرپشن کے لیے سرکاری ادارے قائم ہیں ۔ مگر ان ادارے میں بھی کرپشن داخل ہو گئی ہے کیوں کہ اس کی بڑی وجہہ سیاسی مداخلت ہے ۔ یہ بات بتاتی چلوں کہ پچھلی حکومت نے کرپشن کی نشان دہی تو کی تھی لیکن صرف باتوں کی حد تک رہے ۔
    پاکستان کے لیے نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ایسے وقت میں جب ھارا پیارا وطن مشکلات سے دو چار ہے ۔ غلط قسم کی سازشوں نے ملک کو گھیرا ہوا ہے، ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات لا حق ہیں اور ان خطرات میں اس ملک کے شہری اپنی ہی سر زمین کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ اپنے ملک کو ہی دنیا میں بد نام کرنے میں مگن ہیں ۔ آج کل تو الیکٹرانکس کا زمانہ ہے اور کرپشن کی خبر تو پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور اس سی ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہے ۔ بانی قائد قائدا اعظم محمّد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں کہا تھا کہ "ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور رشوت ہے ۔اسمبلی کو اس کے خاتمے کے لیے اقدارمات کرنے ہیں ۔ لیکن کرپٹ لوگ آزادی سی قانون کی داجیحہ اڑا کر کرپشن کر رہے ہیں ۔اور ملک کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں ۔شرمندگی کا مقام ہے کہ کرپشن ایک ایسا نا سور بن گئی ہے جس کی جڑیں ہماری زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گئی ہیں ۔ اگرچہ ہر شعبے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے موجود ہیں لیکن انکی کوئی نہیں سنتا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کرپشن اور بڑے ڈاکوں کو پکڑنے کے لیے انکو قابو میں کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔لیکن یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوگی اور کون کون قابو میں اتا ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوگا ۔عوام اب سمجھ دار ہو گئی ہے انکو یہ پتہ لگ گیا ہے کہ ملک کو بچانا ہے تو کرپشن کا حاتما کرنا ہوگا تب ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    کورونا آیا تو سب بہا لے گیا، جہاں ایک طرف معاشی چیلنجز کھڑے ہوئے تو دوسری جانب تعلیمی اداروں میں حکومت، ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کو بھی آمنے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہونا پڑا، حکومت کبھی اداروں کو بند کبھی امتحانات کو آن لائن کرکے ایسے تیسے گزارا تو کرتی گئی لیکن جب بغیر پڑھائے امتحانات کا وقت آیا تو بلا لیا گیا بچوں کو سینٹرز میں اور امید کی گئی کہ سب بچے آئیں گے بھی، ایسا ہوا تو ضرور لیکن ایک بڑی تعداد حکومتی پالیسی سے نالاں امتحانی مراکز کا رخ نہ کر سکی، ان تمام ناراض بچوں کے لیے حکومت نے احساس ہونے پر بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ان کو نہ صرف دوبارہ بیٹھنے کا موقع ملے گا بلکہ سیپلمنٹری کا ٹیگ بھی ان کے رزلٹ کارڈز کی زینیت کو مدھم نہیں کرے گا، پنجاب حکومت سمیت ملک بھر کے 30 تعلیمی بورڈز کو احکامات پہنچا دئیے گئے لیکن وہ کہتے ہیں نہ دیر کردی مہربان آگے آتے، زبانی کلامی احکامات تو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے فی الفور متعلقہ اداروں تک پہنچا دئیے لیکن سرکاری کام میں احکامات بھی سرکاری اور تحریری ہی مانے جاتے ہیں تو سلسلہ چل پڑا ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے اور اس کے بعد تیسرے کا، یعنی قانونی پیچیدگیوں کے سمندر سے تیر کر آخر کار بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے فیصلوں کا ڈرافٹ پنجاب حکومت کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تک 29 تاریخ کو پہنچ ہی گیا، اب مسئلہ پیش آیا کہ پنجاب کے نو بورڈز تو 30 ستمبر یعنی اگلے ہی دن رزلٹ اعلان کرنے کی تاریخ دے بیٹھے تھے لیکن قانونی مسئلہ یہ بھی نظر آیا کہ سب بچوں کو پاس کرنے، سیپلیمنٹری ٹیگ ہٹانے سمیت وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دیگر فیصلوں کو پالیسی کا حصہ نہ بنایا گیا تو کل نہ صرف بورڈز بلکہ سٹوڈنٹس کے لیے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تو کڑوا گھونٹ بھر ہی لیا گیا اور ایک پریس ریلیز کے ذریعے بچوں کو رزلٹ بوجہ کابینہ اجلاس میں پروموشن پالیسی نہ منظور ہونے کے ملتوی کر دیا گیا، اب ایسا ہونا ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز منڈی میں دکانداروں کی تو جیسی سیل لگ گئی، ہر دوسرا رزلٹ کینسل ہونے کی مختلف وجوہات بتانے دکان سجا کر بیٹھ گیا، کسی نے پروموشن پالیسی خطرے میں قرار دی تو کسی نے سرے سے رزلٹ ہی غائب کر دیا، خیر تازہ اور حقائق پر مبنی خبر کی تلاش میں کامیابی سمیٹنے والوں نے یہ بتایا کہ انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کا رزلٹ آئندہ ایک ہفتے کے دوران آسکتا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نئی پالیسی تو دوبارہ ری ڈیزائن کی جا چکی لیکن چیف سیکریٹری پنجاب کے اسلام آباد میں موجود ہونے کی وجہ سے اس کی منظوری نہ ہوسکی جس کی وجہ سے پالیسی ڈرافٹ وزیراعلی پنجاب کی ٹیبل تک بھی نہ پہنچ سکا اور نہ ہی وزارت قانون کی راہداریوں پر چڑھ سکا، اب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب یہ کہتا ہے کہ ہفتے کے آخری ایام ہونے کی وجہ سے منظوریوں کا سلسلہ سوموار سے ہی شروع ہوگا جس میں بہرحال دو سے تین روز لگ سکتے ہیں تاہم میٹرک کا رزلٹ 16 اکتوبر کو ہی آئے گا

    Twitter:
    @Mnasirbuttt