Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے پر دنیا بھر سے اٹھتے سوالات اور تنقید سے کیویز پلیئر پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے ہی میچ میں پاکستان کا سامنا ہوگا کیوی کوچ کہتے ہیں جو ہوا اچھا نہیں ہوا لیکن کھلاڑیوں کو کہا ہے کسی دباؤ میں نہ آئیں۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ گیری اسٹیڈ نے کہا ہے کہ ہمارے دل میں پاکستانی کرکٹ شائقین کیلئے ہمدردی ہے دورہ پاکستان کی منسوخی کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں تھا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    ٹی20 ورلڈکپ2021 میں نیوزی لینڈ اپنا پہلا میچ ہی پاکستان کےساتھ کھیلے گا گیری اسٹیڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو کہا وہ گرین شرٹس کےخلاف میچ کا زیادہ دباؤ نہ لیں میں کھلاڑیوں کو موت کی دھمکیاں ملنے سے بے خبر تھا۔میرے لیے تبصرہ کرنا واقعی مشکل ہے‘۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم اپنا پہلا میچ 26 اکتوبر کو پاکستان کےخلاف شارجہ میں کھیلے گی شارجہ کو پاکستان کیلئے دنیا بھر میں ہوم گراونڈ سمجھا جاتا ہے۔

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • تعلیم نظام  تحریر:افشین

    تعلیم نظام تحریر:افشین

    دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی  کے استعمال کے باعث  تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام  ہے اس سے بچاو کے باعث  بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔ 

    پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی  فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔ 

    گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور  اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔  ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ  لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔

    #افشین 

    @Hu__rt7

  • پاکستانی امن کوششیں اور بین الاقوامی کرکٹ :   تحریرسید محمد مدنی

    پاکستانی امن کوششیں اور بین الاقوامی کرکٹ : تحریرسید محمد مدنی

    یہ بات روزِ اول سے عیاں ہے کے مغرب کی ہمیشہ کوشش رہی کے پاکستان کو کسی نا کسی طرح بدنام کیا جائے ہمارے ہاں کے لوگ چوری ریاست پاکستان کے خلاف نعرے بازی والے بیانئے کو پروموٹ کرنے والے بھی مغرب ہی میں بیٹھے ہیں اور مغرب حکومتیں ایسوں کو سیاسی پناہ بھی دیتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کے وہ ہر غلط کام کرنے والے کو اپنے ہاں پالتی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف کام کر سکیں.

    پاکستان نے پوری دنیا میں خطے اور امن کے لئے جو کوششیں کی ہیں دنیا اس کی معترف ہے لیکن اچانک اب کرکٹ جیسے کھیل میں بھی سیاست شروع ہو چکی ہے یہ چیز کوئی نئی نہیں مغرب اور ہمارے ایک پڑوسی ملک کی بھی کوشش رہی کے وہ پاکستان کو کسی نا کسی طرح غیر محفوظ ملک قرار دلوائے اور اس کا مظاہرہ ہم نے کچھ دن پہلے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی طرف سے دیکھا اور ساتھ ہی اب برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کا رویہ بھی افسوس ناک ہے.

    پاکستان نے بہترین سیکورٹی انتظامات کروائے اور دنیا نے دیکھا لیکن عین ایک دو دن پہلے نیوزی لینڈ کا اچانک دورہ ملتوی کر کے واپس جانا یہ اس کا واضح ثبوت ہے کے اب کھیل کی آڑ میں نفرت اور سیاست عروج پر ہے. ہمارے ایک پڑوسی ملک میں اس وقت خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں ظاہر ہے وہ اس اقدام پر خوش ہوگا.

    برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے جو قدم اٹھایا ہے اس پر دنیائے کرکٹ کے کھلاڑیوں نے حتی کے نیوزی لینڈ کے انکار کرنے پر نیوزی لینڈ کے ہی سابق کرکٹر نے اپنی ہی ملک کی کرکٹ ٹیم اور حکومت پر سوال کھڑا کر دیا ہے کے اس انکار کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی.

    یہ بات واضح ہے کے پاکستان اب اپنے درست ٹریک پر چل پڑا ہے اور امن کے پیغام کو دنیا میں پھیلا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تعریف بھی ہو رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں خارجہ پالیسی سمیت تمام معاملات میں تبدیلی بھی آئی ہے اور یہ کے سب سے پہلے پاکستان کا وقار بلند کیا جائے گا اور بھیک یا منتیں کر کے کام نہیں ہوگا تو ایسے میں مغربی ممالک کی کرکٹ ٹیمز پاکستان کو یوں بدنام کرنے پر تُلی ہیں.

    سب سے بڑی اور عجیب بے تُکی بات یہ ہے کہ برطانوی شاہی خاندان پاکستان وزٹ کرتا ہے اور پاکستان میں موجود برطانوی ہائی کمیشن بھی پاکستان محفوظ ہے کا کہتا ہے مگر وہی برطانوی کرکٹ ٹیم کہتی ہے کے ہمیں سیکورٹی خدشات ہیں کیا یہ واضح نہیں کے ان کا منصوبہ ہی کچھ اور ہے بے شک پاکستان ہر ملک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے مگر بلاوجہ کے الزامات لگانا بھی ہرگز درست نہیں.

    نیوزی لینڈ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کے کسی اور جگہ اگر پاکستان نے کھیلنا ہے تو ہم تیار ہیں جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان نے انکار کرنےفیصلہ کیا اور کہا کے پاکستان ہی میں کرکٹ آکر کھیلیں.

    عین ایک دو یا چار دن پہلے منسوخی کا اعلان کرنا بلکل ایک سازش کا حصہ لگتا ہے.

    پاکستان نے اب تمام وہ معاملے جس میں پاکستانی ریاست یا حکومت منتیں کرتی نظر آئے کو رد کر دیا ہے اور اپنا وقار اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر یہ معذرت خواہانہ رویہ بھی ترک کردیا ہے اس ابتدا ہو چکی ہے ﷲ تعالیٰ سے دعا کے کے پاکستان کے ہر معاملے میں خیر ہو آمین.

    Twitter Id @M1Pak

  • طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

    طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

     معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح کا ذمہ دار کون؟

     آئےروز یہ بات سننے میں آتی کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کا تناسب اسلئے زیادہ کیونکہ ان میں صبر وبرداشت کی کمی ہوتی اور وہ اپنی تعلیم اور ملازمت کی اکڑ میں شوہروں کی محتاج ہو کر رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی حقیقت ہے؟ یا پھر ہمارے پدرشاہی معاشرہ نے ہمیشہ کی طرح مردوں کا جرم چھپانے کیلئے عورت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

     آج کل کے زیادہ تر شوہر بیوی تو خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ چاہتے لیکن سلوک نوکرانی سے بھی بدتر کرتے۔ ایسی مثالی بیوی ہوجو سارا دن چپ چاپ سسرال والوں کی خدمت کرے، بچے پالے، شوہر کی مار پیٹ و گالیاں برداشت کرے اور دنیا کے سامنے اپنے شوہر کو آئیڈیل شوہر کے روپ میں بھی پیش کرے۔ اور اگر زیادہ نافرمانی کرے تو تیل چھڑک کر جھلسا دی جائے اور بعد میں چولہا پھٹنے کا بہانہ بنا کر دنیا کے سامنے خودکو بے قصور ثابت کر دیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا کہ اب ڈولی نکلی تو جنازہ ہی واپس آئے وگرنہ نہیں۔ اگر بدقسمتی سے شوہر یا سسرال خراب نکل آئے تو پہلے تو بیٹی کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سمجھوتہ کرے کبھی بچوں کے نام پر، کبھی والدین کی عزت کے نام پر تو کبھی سماج کےخوف سے۔ لیکن اگر کوئی چارہ نہ باقی رہے اور نوبت طلاق تک آجائے تو والدین ایسے برتاؤ کرتے جیسے مر ہی گئے ہوں۔ بیٹی جو پہلے سے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی۔ ایسے والدین کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک یاد رکھنا چاہیے کہ "میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔” (ابن ماجہ) رہی سہی کسر عزیز رشتہ دار ہمسایے پوری کر دیتے کہ یقیناً لڑکی میں کوئی خامی ہوگی جو شوہر نے طلاق دی۔ کبھی چال چلن پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی تنک مزاجی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اور آخر میں یہ کہہ کر زخموں پر نمک چھڑکا جاتا کہ ہماری بیٹیاں بھی تو ہیں اسی کو بسنے کا سلیقہ نہ تھا. شوہر کا نکما پن، متشدد مزاج، آوارگی، دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات غرض ہر بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی تو جو جہنم بنتی سو بنتی لیکن اگر کوئی شوہر کےمظالم سے تنگ آ کر خلع کا فیصلہ کر لے تو اس کو سیدھا سیدھا خودسری و آزاد خیالی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جاتا۔ خاندانی نام نہاد عزت خاک میں مل جاتی کیونکہ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے اور اگر شوہر کمین فطرت ہو تو بدچلنی بھی ثابت کر دی جاتی۔ ان سب سے بچنے کیلئے آج بھی والدین بیٹی کو ہر قیمت پر اس کے گھر بسانا چاہتے پھر چاہے وہ اور اس کے بچے سسک سسک کر باقی ماندہ زندگی گزاریں، میکے والے خرچہ بھی اٹھائیں اور لڑکی خود بھی کولہو کا بیل بنے۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس عورت کی ہلکی سی جھلک ہے جس کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ شوہر تو کیونکہ مجازی خدا ہوتا اسلیے اس سے تو غلطی ہو ہی نہیں سکتی ہاں بیوی کی معمولی غلطی پر وہ ضرور اسے دھنک کر بھی رکھ سکتا اور اسکے سر پر سوکن بھی لا سکتا۔

     لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں اس دور جدید میں بھی ایسی مظلوم عورت کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ جہاں مذہبی ٹھیکیدار ہوں یا فیمینزم کے علمبردار، پڑھے لکھے پروفیشنل ہوں یا ان پڑھ مزدور طبقہ، امیر ترین ہوں یا متوسط گھرانے، عملی طور پر عورت کیساتھ سلوک میں سب یکساں ہیں۔

     زبانی کلامی اعلی ترین مذہبی و سماجی اقدار کا حامل معاشرہ، عملی طور پر طلاق کا حقیقی تصور اور اسکی مذہبی و سماجی اہمیت سمجھنے سے تاحال قاصر ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے کہ طلاق ناپسندیدہ ترین لیکن جائز عمل ہے۔ جس کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کیا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی دو صاحب زادیاں جو ابو لہب کے بیٹوں کے نکاح میں تھیں انہیں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی اور بعد میں یہ دونوں صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کےنکاح میں آئیں۔ اگر طلاق یافتہ ہونے کا مطلب داغ لگنا ہوتا تو کیا آنحضرت ﷺ کی بیٹیوں پر یہ داغ کبھی نعوذ باللہ لگتا؟

     کیا طلاق یافتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺکی دو ازواج مطہرات مطلقہ تھیں۔ جن میں سے حضرت زینب بنت جحشؓ نےحضرت زیدؓ سے خود خلع لی تھی۔ کیا ہماری جرآت کہ ہم امہات المومنین کی کردار کشی کرسکیں یا یہ کہہ سکیں کہ وہ گھر بسانا نہیں جانتی تھیں؟ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل انسان بنایا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

     "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”

     زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے اسے ناقدر شناس کے ہاتھوں تباہ کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جو عورتیں بچوں کی خاطر گھٹ گھٹ کر سمجھوتہ کرتیں، شوہر کی ماریں کھاتیں انکےبچے گھریلو متشدد ماحول کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے اور بالآخر اپنی ماؤں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ ذندگی، رزق اور قسمت اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ان چیزوں کا مالک شوہر یا معاشرے کو سمجھنا نہ صرف جہالت بلکہ شرک ہے۔ ایک عورت انہی باتوں پر بلیک میل ہوتی اور اپنا نقصان کر بیٹھتی۔ یاد رکھیے اللّٰہ تعالیٰ ظالم نہیں نہ طلاق کوئی حرام یا پلید فعل ہے اگر ایسا ہوتا تو کبھی بھی قرآن کی پوری ایک سورت طلاق کے نام سے نہ ہوتی جس میں تمام احکامات پوری وضاحت کیساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ عورت کی شادی کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بلی چڑھا دیا جائے اور وہ تاعمر اذیتیں سہتی رہے۔ اسلام عورت کو طلاق، خلع، علیحدگی کی صورت میں مکمل اختیارات دیتا ہے جن میں نان نفقہ سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک تمام احکامات واضح ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستانی قانون بھی اس معاملے میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا۔ لیکن اس کیلئے اصل ہمت عورت کو کرنی ہو گی کہ اس نے ذہنی و جسمانی تشدد سہہ کر جینا یا باعزت و باوقار طریقے سے زندگی گزارنی!

    "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے” (سورۃ الطلاق:03)

     لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بیشک میاں بیوی میں علیحدگی پر شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛

     "جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے، اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”(ابو داؤد) اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور، ہر انسان اور ہر طبقہ فکر کیلئے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یقیناً اسلام میں ہر فرد کے ہر حیثیت میں جامع ترین حقوق و فرائض متعین ہیں جن پر عمل کرکے ہی ایک بہترین عائلی زندگی اور مثالی معاشرہ کی بنیاد ڈالی جا سکتی

    "Syed Ghazi Ali Zaidi ”

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn

  • تقدیر تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس 

    @drislamilyas

     

    تقدیر کیا ہے ۔ جب انسان کو سید ھے اور غلط راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس کے لیے

    جزا اور سزا کا نظام بنایا گیا ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو لکھ دیا

    جا تا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے اسی سوال سے اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر تا ہے ۔اگر پیدائش سے پہلے

    ہی لکھا ہوا ہے تو انقیار کیسا اور حساب کتاب کیا۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر ہر چیز لوح محفوظ میں

    درج ہے تو یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ شب قدر یا شب برأت والے دن فرشتوں کو اگلے سال کا شیڈول دیا جا تا

    ہے کہ اس سال یہ پیدا ہوگا ، ی مرے گا، یہ نیکی کے کام کرے گا، یہ برائی کے کام کرے گا، رزق کی تقسیم

    وغیرہ وغیرہ۔

    در اصل انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اور وہ آزاد ہے کہ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرے یا

    نافرمانی کر کے سزا کا مستحق بنے ۔لیکن اللہ جونقل کل ہے یہ اس کا علم ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان اپنے

    اختیار کو کیسے استعمال کرے گا۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کون کس وقت کیا کام کرے گا۔ قیامت تک کے تمام

    حالات واقعات لوح محفوظ میں درج ہیں لیکن لوح محفوظ تک فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے ۔ شب قد رکو

    آئندہ سال کا شیڈ ول فرشتوں کے حوالے کیا جا تا ہے ۔ اور انسان پورا سال اپنے اختیار سے اپنی زندگی

    گزارتا ہے ۔اورمنکر نکیرلحہ بلح تحریر کرتے ہیں اور وہ وہی اعمال ہوتے ہیں جو انہیں سال پہلے لکھ دیئے گئے

    تھے کہ کون ساشخص کب اور کیاعمل کرے گا۔ یہ اللہ کاعلم ہے جس تک مخلوق کی رسائی نہیں ۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہاتھ کی لکیروں ستاروں سے مستقبل کیسے جان لیتا ہے ۔ کیا

    اس میں بھی کوئی حقیقت ہے۔ جی ہاں یہ بیچ ہے اور یہ نظام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ اور اللہ نے انسان کو علم بھی

    دیا ہے لیکن اس میں کب تبد یلی کردی جائے گی اس کا اختیاراللہ کو ہے اور اےسی تبدیلیاں لوح محفوظ میں درج

    ہیں جس کا علم تلوق کونہیں دیا گیا۔ سورۃ لقمان آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” بیک اللہ کے پاس

    ہے قیامت کاعلم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل

    کیا کماۓ گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ، بے شک اللہ جانے والا بتانے والا ہے ۔

    اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھئی پیدائش سے پہلے پتا چل جا تا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ در اصل اسکا

    معانی جنس نہیں اس کا مطلب ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے اچھا ہے یا برا ہے معاشرے میں کیسا رہے گا

    نقصان والا یا فائدہ دینے والا ۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے قسمت کا حال جانے سے منع فرمایا ہے اس

    لیے ہمیں مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہر وہ کام جس کے کرنے سے ہمارے نبی

    ﷺ نے منع فرمایا ہے اس کو کرنا گناہ ہے ۔ایک اور بات تقذ یرکو نہ ماننے والوں کے لیے ” قیامت کی

    نشانیان بیان کی گئی ہیں اگر انسان کے اعمال سے اللہ پہلے سے باخبرنہیں تو نشانیوں کا جواز ہی پیدانہیں

    ہوتا”۔ غزوہ احد میں ایک دن پہلے رسول ﷺ نے بتادیا تھا کہ فلان اس جگہ مارا جاۓ گا اور فلان اس جگہ

    اور وہی ہوا۔اگر تقدیر میں سب لکھا نہیں ہے تو یہ کسے ہوا مثالیں بے شمار ہیں مگر سمجھدار کے لیے یہ کافی ہیں

    اور نہ مانے والوں کو تو کوئی منانہیں سکتا 

    ڈاکٹر اسلام الیاس

  • ڈپریشن کی علامات اور علاج  تحریر :فرقان اسلم

    ڈپریشن کی علامات اور علاج تحریر :فرقان اسلم

    انسان کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی غمگین جس سے اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہو تو اسے ڈپریشن کا نام دے دیا جاتا ہے اور فرضی یا معمولی سمجھ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری کے بارے میں ایک عام آدمی کے ذہن میں بہت سے ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جس سے ڈپریشن میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آیا اسے ڈپریشن ہے بھی یا نہیں۔ 

    ڈپریشن کے بارے میں سب سے سب سے پہلے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈہریشن ایک بیماری ہے جیس طرح نزلہ، زکام، بلڈ پریشر، ذیابیطس، ٹی بی یا دیگر امراض۔ جن کے مریضوں کو دوا کے ساتھ ساتھ مناسب توجہ اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح کوئی بھی انسان کئی طرح کی جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی انسان نفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص حد مقرر ہے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ آج کل چھوٹی عمر کے بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً نا مساعد حالات، والدین کا مناسب پیار نہ ملنا اور احساس کمتری وغیرہ۔

    ڈپریشن کی بہت سی علامات ہوسکتی ہیں لیکن میں چند اہم علامات کا ذکر کروں گا جو کہ آج کل عام ہیں۔

    درج ذیل میں سے اگر کسی شخص میں کم ازکم چار علامات کی موجودگی ہو تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    1۔ عموماً ہر وقت یا اکثر اوقات برقرار رہنے والی اداسی اور افسردگی۔ 

    2۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی محسوس ہوتی ہو ان میں دل نہ لگنا اور ان سے بیزاری محسوس ہونا۔

    3۔ جسمانی یا ذہنی طور پر کمزوری محسوس کرنا، ہر وقت اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنا۔

    4۔ روز مرہ کے امور اور باتوں پر صحیح طرح سے توجہ نہ دے پانا۔

    5۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھنا جس کے نتیجہ میں خود اعتمادی میں واضح کمی ہونا۔

    6۔ ماضی کی تمام چھوٹی بڑی بڑی باتوں کے لیے اپنے آپ کو موردِ الزام  ٹھہراتے رہنا، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں ناکارہ اور فضول سمجھنا۔

    7۔ مستقبل کے بارے میں سوچ کر مایوس ہونا۔

    8۔ ذہن میں خودکشی کے خیالات آنا یا خودکشی کی کوشش کرنا۔

    9۔ نیند کی خرابی یعنی کہ نیند نہ آنا اور نیند سے اچانک جاگ جانے کی صورت میں دوبارہ نیند نہ آنا۔

    10۔ بھوک کی کمی اور کسی چیز کو کھانے کا دل نہ کرنا۔

    ان علامات کی موجودگی کی صورت میں کسی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔ کیونکہ ڈپریشن کے دورانیے اور شدت کا انحصار انسان کی شخصیت اور قوتِ مدافعت پر بھی ہوتا ہے۔ بعض مریض محض سائیکوتھراپی سے ہی بہتری محسوس کرنے لگتے ہیں لیکن اگر حالت انتہائی ہو تو ایسے حالات میں سکون آور ادویات کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔ اس صورت میں مریض کی حوصلہ افزائی کرنا اس کے لیے بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔ 

    ان تمام حالات کو اچھی طرح سے کنٹرول کرنے کے لیے ایک "ٹائم ٹیبل” کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں سونے جاگنے، کھانے پینے اور ورزش کے اوقات مقرر ہونے چاہیئں خوراک کا خصوصی طور پر خیال رکھنا جائے۔ پھل سبزیاں اور صحت بخش کھانوں کو ترجیح دی جائے کیونکہ یہ جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، یا اس طرح کی دیگر چیزوں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ اپنے ذہن میں آنے والے منفی خیالات کو جگہ نہ دی جائے۔ ذہن کو مثبت چیزوں کی جانب گامزن کیا جائے۔ اگر کسی قسم کا کوئی نقصان ہو گیا تو اس پر صبر کا جائے اور برداشت سے کام لیا جائے۔

    سب سے پہلے انسان کی صحت ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی پریشانی سے گریز کیا جائے۔ کسی کو مستقبل کی فکر ہوتی ہے اور کسی کو دولت کی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کی رزق دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تو جتنا ملے اس پر اکتفا کر لینا چاہیئے۔ کیونکہ اس سے ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔ ان سب پریشانیوں میں انسان سکون کی نیند بھی نہیں سو سکتا۔ اس لیے ذہنی اور روحانی طور پر سکون کے لیے پانچ وقت کی نماز ادا کی جائے اور قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :

    "بلا شبہ اللّٰہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے”۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

    @RanaFurqan313

  • چراغ امید   تحریر: ثناءاللہ محسود

    چراغ امید  تحریر: ثناءاللہ محسود

    لفظ امید کہنے کو ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔ جو ہم کبھی خود کو دلاسا دینے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ 

    مگر حقیقت میں زندگی کا انحصار امید پر ہی ہے۔ یہ زندگی جو دکھوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ جہاں قدم قدم پر کوئی نئی آزمائش، ناکامی ہماری منتظر ہوتی ہے۔

    ایسی صورتحال میں اگر ہم امید کا دامن نہ تھامیں تو زندگی ہمارے لئے مشکل ہو جائے گی۔ 

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لفظ انسان کی ساری زندگی کا خاصہ ہے ۔امید ہر دم انسان کے اندر ایک نیا جذبہ پھونکے رکھتی ہے کہ کل یہ ہو گا پرسوں یہ ہو گا۔ امید یہ ہے کہ انسان رات کو سوتا ہے تو کہتا ہے کل فلاں نے آنا ہے میں نے فلاں سے ملنے جانا ہے۔ امید یہ ہے جو ہر فرد کو ایک ایسے خواب میں رکھتی ہے۔  جو زندگی کی معمولی ٹھوکروں سے ٹوٹ جاتا ہے ۔

    امید ایک لاحاصل خواب ہے۔ جو حقیقت کی پردو پوشی کرتا ہے۔ اور زندگی کی تلخیوں کو میٹھا رکھتا ہے۔

    اگر کوئی بیمار ہے تو تندرستی کی امید ، غریب ہے تو دولت ملنے کی امید اور برے دنوں میں اچھے دنوں کی امید لگائے رکھتا ہے ۔

    مگر اکثر لوگ ذرا سی پریشانی آنے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور مایوسی کی حالت میں  خود کشی جیسے حرام فعل کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے انسان کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس طرح وہ اپنی دنیا کہ ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد کر لیتا ہے۔ اسی لئے تو احادیث مبارکہ میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ انسان سے اس کا اچھا گمان چھین کر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا!

    "اور میری رحمت سے نا امید نہ ہونا”

    سورت الزمر 53

    اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو فرما دیا کہ حالات جیسے بھی تلخ ہوں انسان کو اللہ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے۔

    ہماری مایوسی کی بڑی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم لوگ اللہ پر توکل کرنے کی بجائے خود ہی  زندگی کے جھمیلوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں ان مصائب سے گھبرا کر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جو سراسر خسارے کا راستہ ہے۔

    اسی طرح آج کے مشکل وقت میں ہم مہنگائی اور بے روزگاری جیسے وسائل سے پریشان ہو کر غیر قانونی ذرائع سے روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس حرام رزق سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے بھی والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ 

    اس کے بجائے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتے جو رازق ہے ۔ تو ہمیں آسان اور حلال طریقے سے بھی رزق مل سکتا تھا۔ مگر ہم نے امید کا دامن چھوڑ کر مایوسی کو چنا۔ تو اس سے ہمیں کوئی فایدہ حاصل نہ ہوا۔

    اسی طرح جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔ اور اگر ہماری دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو ہم اکثر مایوسی کا شکار ہو کر اللہ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ 

    جبکہ اللہ تو کن فیکون کا مالک ہے۔ وہ جو چاہے ہو سکتا ہے۔ مگر ہم لوگ اچھا گمان رکھنے کی بجائے نا امید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں مضبوط شخصیت بننے کے لئے اپنے اندر چراغ امید کو جلائے رکھنا ہو گا ۔ تا کہ زندگی سہل رہے۔

    @SanaullahMahsod

  • مہنگائی اور وجوہات      تحریر : فضیلت اجالہ

    مہنگائی اور وجوہات    تحریر : فضیلت اجالہ

     

    تحریک انصاف حکومت کی جانب سے عوام پر ایک مرتبہ پھر مہنگائ بم گرا دیا گیا ،پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے اضافہ ،مہنگائ کا جن بے قابو ،مہنگائ خان اور اسی طرح کے لاتعداد جملے آج کل زبان زد عام ہیں ، 

    پاکستان میں مہنگائی کا رونا آج کی بات نہیں ہے۔ ہر حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی رہا ہے۔لیکن ہم عمران خان کو مہنگائ کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ماضی کو بلکل فراموش کر جاتے ہیں ،اور ہمارے نام نہاد صحافی اس بات کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں کہ نیا پاکستان بد ترین پاکستان ہے جبکہ اس کہ بر عکس حقیقت یہ ہےے کہ پاکستان اگر کرپٹ ترین دور سے گزرا ہے تو وہ نواز شریف اور زرداری کا دور تھا۔ اس عرصے کے دوران پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے غیر ملکی قرضے لیے گئے اور ایسے منصوبے شروع کیے گئے جنہیں مکمل کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ ہوئی،اور جن میں عوامی مفاد کم اور زاتی مفادات کی جھلک زیادہ نظر آتی ہے ۔

     

    تنقید کرتے وقت لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا، 15 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، چور لیگ نے ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر کم دکھانے کےلیے ہر ماہ اربوں ڈالر پھونکے اور ملک تباہی کی جانب دھکیلا،خان حکومت کو اقتدار میں آتے ہی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلیے ڈالر 128 روپے سے 160 پر لے جانا پڑا جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اسی حساب سے بڑھ گئیں

    اور ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مارچ 2020 کے بعد سے عالمی وبا کورونا کے باعث پوری دنیا تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہی ہے دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں ہم جو بھی چیزیں باہر سے لاتے ہیں ان کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں

    چاہے وہ پیٹرول ہو یا کوکنگ آئل یا دالیں ۔

    اگر حالیہ پیٹرول قیمت میں اضافے کی بات کی جائے تو کچھ لفافہ صحافی ہندسوں کے ھیر پھیر میں اس قدر ماہر ہیں کہ انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری میں 10 روپے کو 1 روپے بنا کر پیش کیا اور یہ گھٹیا الزام سازی کی گئ کے 1 روپے بڑھانے کی درخواست پر اکٹھے 5 روپے بڑھا کہ غریب کی غربت کا مزاق اڑایا گیا۔

    پاکستان پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے مکمل طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں 2020 میں پیٹرول کی قیمت 42 ڈالرز تھی جو محض ایک سال میں 80% اضافہ کیساتھ 75 ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ،جب کہ پاکستان میں سال 2020 میں پیٹرول کی قیمت تھی 103.97 روپے جس میں ایک سال میں صرف 18% فیصد تک اضافہ کیا گیا، 

    دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت انتہائ کم ہے ،اسوقت انڈیا میں پیٹرول 245 روپے ،بنگلہ دیش میں 175 روپے ہے ،دوبئ اور سعودی عرب جیسے ممالک جو تیل اور پیٹرول کی پیداوار میں خود کفیل ہیں ان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 111 اور 140 روپے ہیں ،لیکن پاکستانی میڈیا یہ حقائق بتانے کی بجائے پہلے سے پریشان عوام کو مزید مشتعل کرنے کا گھناؤنا کام سر انجام دے رہا ہے 

        

    دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں

    انگلینڈ ،آسٹریلیا اور امریکہ جیسے مما لک میں بھی رواں برس مہنگائ کے کئ سالہ پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں 

    اور ایک اور چیز۔

    گندم ، چاول، گنے کی قیمتیں نون لیگ نے کئی سال ایکُ جیسی رکھیں جس سے کسان تباہی کے دہانے پر تھا ،کسان کو استحکام بخشنے کیلیے تحریک انصاف نے گندم کا ریٹ 1300 سے بڑھا کر 1800 کیا جس سے آٹا بھی اسی حساب سے مہنگا ہوا لیکن کسان خوشحال ہوا اور اس نے گندم اگانا ترک نہیں کیا ،

    گنے کا ریٹ 130 تھا اب 250 تک کسان کو ملتا ہے۔۔۔ اسی حساب سے چینی مہنگی ہوئی

    ماضی کی حکومتوں نے زاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ بھارت سے سبزیاں خریدنے کو ترجیح دی جو بظاہر تو سستی تھیں لیکن اس وجہ سے پاکستان کا کسان تباہی کے دہانے پر تھا ۔ نئے پاکستان نے فروری 2019 میں انڈیا سے سبزیوں کی امپورٹ ختم کی ،جس سے وقتی طور پر بہت مشکلات بھی آئ ایک سال سبزیوں کا بحران رہا لیکن اب تمام لوکل سبزیاں سستے نرخوں پر دستیاب ہیں

    ہم جانتے ہیں کہ اس وقت مہنگائی ہے اور عوام اس سے بہت پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی بے پناہ کامیابیوں کے باوجود حکومت کی مقبولیت میں بظاہر کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ لیکن ہم مہنگائ کا زمہ دار حکومت کو ٹھہراتے اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔

    وہ ملک مہنگائ کا شکار کیوں نا ہو جہاں گروسری اسٹور مالک اور کلرک سے افسر تک ہر ایک لوٹ مار میں مصروف ہو۔ ایسے بزنس مین حضرات بھی مہنگائ کا رونا روتے اور حکومت کو قصور وار ٹھہراتے نظر آتے ہیں جو وطن عزیز سے لاکھوں روپے کماتے ہیں لیکن ٹیکس کا ایک روپیہ ادا نہیں کرتے۔

    مہنگائ کی بڑی وجہ زخیرہ اندوز اور وہ عوام دشمن عناصر بھی ہیں جو اصل نرخ سے کئ گنا زیادہ قیمت پر اشیاء فروخت کرتے ہیں اور سوال کرنے پر عمران خان کو ووٹ دینے کا طعنہ دے کر معصوم عوام کا منہ بند کر دیتے ہیں

    مہنگائ کسی ایک کا نہیں بلکہ عوامی مسلہ ہے جس سے مجھ سمیت سبھی پریشان ہیں لیکن ہمارا یہ بات جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ عمران خان اور نہ ہی پی ٹی آئی حکومت اس مہنگائی کے حق میں ہیں ۔ ایسا حکمران جس نے اس ملک کے لیے اس کی عوام کی بھلائ کیلیے 22 سال جدو جہد کی ہو اپنی پرآسائش زندگی ،آرام و سکون حتی کہ اپنی اولاد تک اس دھرتی کی خاطر چھوڑ دی ہو وہ کیوں چاہے گا کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو؟

    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں ہے کہ اگر تحریک انصاف کو آئیندہ ہونے والے انتخابات میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مہنگائ پر قابو پانا ہوگا اور عوامی مقاصد پر کام کرنا ہوگا ،جس کیلیے تحریک انصاف کافی حد تک جدو جہد کر بھی رہی ہے ،بہت سے ایسے منصوبے شروع کیئے گئے ہیں جس سے غریب کو ریلیف ملے جن میں ھیلتھ کارڈ ا اجراء ایک احسن قدم ہے جو اس سال کے اختتام تک سب کو مل جائے گا ۔اسکے علاوہ احساس پروگرام سے بھی غریب عوام کو کافی مدد ملی ہے ۔

    احساس پروگرام کا سروے مکمل ہونے والا ہے اس میں کروڑوں نئے خاندان آئیں گے 

    لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان 35 سالوں کے بوسیدہ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کرپٹ مافیا سادہ لوح عوام کو بھڑکا کر اپنے مزموم مقاصد کیلیے عوام کی پریشانیوں کو استعمال کر کے اس مرد مجاھد کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ہم مہنگائ کا رونا تو روتے ہیں لیکن کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی رشوت کی کمائی چھوڑنے کو تیار ہے۔ مجھے آج بھی بھروسہ ہے کہ عمران خان اس بوسیدہ نظام کو ضرور بدل ڈالے گا اور پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا لیکن یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جس سے ہم سب نے مل کر نبٹنا ہے ،ہمیں مل کر مادر ملت کی جڑیں کھوکھلے کرنے والے شر پسندوں کا مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہو چکے ہیں وہ کبھی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    @TPW_U

  • ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    سیرت فرزندہا از امہات
    جوہر صدق و صفا از امہات
    (فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

    ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
    دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

    "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
    تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

    لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

    لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
    کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
    بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

    بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

    یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
    ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
    کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
    کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

    ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

    ’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
    بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
    خشت اول جوں نہد معمار کج
    تاثریا می نہد دیوار کج
    (اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

    @once_says