Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    چیئرمین نیب کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم تو تردید کرتے ہیں کہ جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کاکوئی مسودہ تیار نہیں کیا۔۔ پر سماء ٹی وی دعوی کر رہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکاہے ۔ جس کی منظوری منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودے کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا جائے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا نفاذہو جائے گا۔ لگتا بھی یوں ہی ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مل بیٹھنا موجودہ حالات میں تو دور دور تک نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ بیٹھ بھی جائیں تو نہیں لگتا کہ کسی ایک نام پر ان دونوں کو کم ازکم اتفاق ہوگا ۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں قانون جو بھی ہو ۔ وہ شہباز شریف کو گھاس نہیں ڈالیں گے ۔ یوں یہ معاملہ بھی کھٹائی میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اور صرف ایکسٹینشن ہی آپشن باقی بچتی ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات میں مدت میں توسیع کے دورانیے سے متعلق اختلاف تھا جسے دور کرنے کیلئے مسودے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوگی تب تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

    ۔ پر ایسا تھوڑی ہے کہ اپوزیشن حکومتی پلاننگ سے بالکل ہی بے خبر ہو ۔ انھوں نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہونے کی صورت میں عدالت جائیں گے ۔ یوں آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کی تقرری والا معاملہ میڈیا اور عوام کا اچھا خاصا entertain کرنے والا ہے ۔ پھر سائیں بزدار سرکار کی بات جائے تو اب عمران خاں بھی مان چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پنجاب میں سخت ہوگا۔ ویسے میں تو اس کو وسیم اکرام پلس کی سخت بری کارکردگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔ کیونکہ جتنی تبدیلیاں ان تین سالوں میں پنجاب میں ہوئی ہیں اتنی تبدیلیاں شاید گزشتہ ستر سالوں میں پنجاب میں نہیں ہوئی ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ ایک دفعہ پھر پنجاب حکومت نے سیکرٹریز سمیت اعلی عہدے کے چودہ افسران کے تقرر تبادلے کردئیے ہیں۔ میں تو یہ ہی دعا کروں گا کہ اللہ کرے یہ نئی ٹیم مطلوبہ نتائج دے دے ورنہ ابھی اس حکومت کے دوسال باقی ہیں پتہ نہیں پنجاب کا یہ کیا حال کریں گے ۔ اگر آپکو یاد ہو تو یہی پنجاب تھا جس نے تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب کی حکمرانی دلائی تھی اور اب یہی پنجاب ہے جس میں تحریک انصاف کو انتخابی دنگلوں میں چاروں شانے چت گرنا پڑا ہے۔ دراصل یہ عثمان بزدار کی حکومت کی کارکردگی پر طمانچہ ہے جو عوام نے رسید کر دیا ہے ۔

    ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ الیکڑانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی اجازت دینے کے معاملات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر غبار کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگلے انتخابات کو ہر صورت میں“ فتح“ کرنا سب سے بڑا مشن ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان صرف مالی مشکلات کا شکار ہی نہیں۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر بھی مسائل ہی مسائل ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود حکومت کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ اگلے عام انتخابات کو کیسے اڑانا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں چیف جسٹس کی سرابرہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ کب کا بلدیاتی ادارے بحال کرچکا ہے۔ ادھر حکومت اسے ماننے سے صاف انکاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ ہی حکومت عوام کو نچلی سطح تک حقوق مہیا کرنے کی سب سے بڑی داعی تھی ۔ پھر عمران خان نے عوام کو یہ خبر تو دیدی ہے اگلے دو سال بھی مشکل ہیں تاہم ساتھ یہ نہیں کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے ابھی اچھے دن نہیں آئے اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں آنے والے ہیں عوام کا تو اب ایک ایک دن مشکل سے گزر رہا ہے۔ اس پر اگر کپتان نے یہ خبر بھی سنا دی ہے اگلے دو برس بھی مشکل ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے عوام پر کیا گزری ہو گی۔ لیکن وزیر اعظم کے وزیر و ترجمان ان کی اس بات کو بھی گوٹہ کناری اور سرخی پاوڈر لگا کے بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ملک کا وزیر اعظم کتنا سچا ہے جو حقیقت ہے بیان کر دیتا ہے۔ویسے ایسا سچا اور کھرا وزیراعظم پہلے کبھی عوام نے دیکھا ہی نہیں جو مشکل حالات کی خبر بھی ایسے دیتا ہے جیسے خوشخبری سنا رہا ہو۔ پانچ سال کے لئے حکومت منتخب ہوئی ہے، اس کے پانچوں برس اگر مشکلات میں گزر جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں وہ عوام کو اپنی آئینی مدت کے دوران کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام۔ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ ویسے کپتان نے تو ہار نہیں مانی ان کی حکومت تو چل رہی ہے اور اب چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے تاہم عوام اب ہار گئے ہیں، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ انہیں زندگی کی دوڑ برقرار رکھنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں وہ ایک امید کے سہارے زندہ تھے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت کے دوران ریلیف نہیں دیتی تو کم از کم مہنگائی کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گی، مگر کپتان نے اگلے دو برسوں میں بھی مشکلات کی گھنٹی بجا کر انہیں مایوس کر دیا ہے۔

    ۔ اس وقت کوئی چیز نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی ہے ہر چیز اوپر ہی اوپر جائے جا رہی ہے ۔ ڈالر ہو ، پیڑول ہو ، بجلی ہو ، گیس ہو ، آٹا ہو ، چینی ہو ، حکومتی دعوے ہوں یا پھر عوام ہوں ۔ کیونکہ ان حالات میں زندہ رہنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ کیونکہ جس حساب سے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات مان رہی ہے۔ بہتری دیوانے کا خواب ہے ۔ ڈالر آج پھر بلندیوں پر پہنچ چکا ہے ۔ آپ دیکھیں پچھلے تین ماہ میں ڈالر کواپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کے لیے حکومت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز مارکیٹ میں ڈال چکی ہے۔ تحریک انصاف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی ناقد رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اب خود بھی اسی طریقہ کار سے نظام چلاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا سارا زور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سچے اعدادوشمار پیش کرنے پر ہے۔ وزرا جب عوام اور میڈیا کو قائل نہیں کر پاتے تو انہیں کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ آج کل کئی وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر پٹرول ایک پاؤنڈ تیس پینس کا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین سو روپے بنتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 123 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں پٹرول دستیاب ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ برطانیہ میں ایک گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً سات پاؤنڈ ہے۔ اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کیا جائے تو 56 پاؤنڈز کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 12936 روپے بنتے ہیں۔ اس سے تقریباً 43 لیٹر پٹرول خریدا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن کی کم از کم اجرت تقریباً چھ سو روپے ہے جس سے ساڑھے چار لیٹر پٹرول ہی خریدا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ مانگے تانگے کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر تشہیری مہم تو چلا سکتے ہیں ۔ لیکن انفارمیشن کے اس دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

    ۔ پر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عمران خان ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اب کوئی اندازہ لگانے لگے کہ وہ کس کارکردگی کی بات کر رہے ہیں تو سرپکڑ کر بیٹھ جائے۔ کیا مشکلات برقرار رکھنے کی کارکردگی، کیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچانے کی کارکردگی، یا پھر گڈ گورننس میں عروج حاصل کرنے کی کارکردگی، کون سی کارکردگی ؟؟؟ کہاں کی کارکردگی ؟؟؟ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، ان کی حکومت میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود ہیں، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ ۔ اسی لیے ان چہروں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آتا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو نئے خواب دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

  • دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    نیوزی لینڈ کی فوج سے زیادہ فورس ان کی ٹیم سیکورٹی پر لگائی، یہ الفاظ وفاقی وزیر داخلہ کے ہیں جو ان کی جانب سے گزشتہ روز دورہ نیوزی لینڈ منسوخ ہونے کے حوالے سے کہے گئے انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ تھریٹ الرٹ دینے والے تب کہاں تھے جب ماہرین کی ٹیم یہاں دورے پر تھی، وفاقی وزیر داخلہ نے اہم ترین باتیں کیں لیکن شیخ رشید کی یہ سیکورٹی کے حوالے سے کہی گئی پہلی لائن تمام میڈیا چینلز کے ڈائریکٹر نیوز صاحبان سمیت نیوز ایڈیٹرز کو بھی جیسے بھا سی گئی کہ تمام ہیڈلائنز اور اخباری سرخیوں پر یہ الفاظ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بن گئے جس کے بعد ہونا کیا تھا وہی جو ہمارے یہاں سوشل میڈیا صارفین کیا کرتے ہیں، اخباری تراشے اور ٹی وی کے سکرین شاٹس کو جوں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ ایک نئی بحث کا آغاز ہو ہی گیا، صارفین کی جانب سے وزیر داخلہ کے بیان کو کہیں بھارت کو دھمکانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو کہیں نیوزی لینڈ کی اندرونی سیکورٹی پر سوالات اٹھانے کے لیے بہرحال اس ساری صورتحال میں قومی سطح پر ہوئے نقصان کا ازالہ ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور طے شدہ دورہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو بھی منسوخ کرنے کی خبریں گردش میں آگئیں، جبکہ آئندہ ماہ میں ہونے والی آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز بھی خطرے میں پڑ گئیں، نومنتخب چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کی جانب سے اس پر سخت ردعمل دیا گیا کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی معاملات پر مغربی دنیا اکٹھی ہوجاتی ہے 

    اب اس ساری صورتحال میں سیکھنے کی دو تین اہم باتوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا کہ کس طرح پاکستان کے خلاف مغربی دنیا کی منافقت کھل کر بے نقاب ہوئی اور منفی پراپیگنڈے میں سب ممالک ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے، اس کی چھوٹی سی جھلک اس بات میں دیکھ لیجیے کہ انگلینڈ نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیمز کے مابین سیریز کا تیسرا ون ڈے شیڈول ہے لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم اسی ہوٹل میں موجود ہے جسے کچھ روز قبل بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد بظاہر ٹریننگ تو منسوخ کر دی گئی تاہم انسداد دہشتگردی کی ایجنسیز کی جانب سے خطرناک تھریٹ دئیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی جس سے مغربی ممالک کی آپس اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امتیازی روئیے کی پول کھل کر سامنے آگئی اس ساری صورتحال میں دوسری جنگ عظیم کے دوران تشکیل دی گئی پانچوں ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں کی مشترکہ خفیہ ایجنسی فائیو آئیز کے ذریعے پاکستان کے Absolutely NOT کو ہاں میں بدلنے کی ناکام کوشش کے بعد اس پراپیگنڈے کا آغاز کیا گیا جس کے بعد پہلے نیوزی لینڈ اور بعد میں انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے سے منع کیا گیا 

     دوسری جانب اس ساری صورتحال میں ویسٹ انڈیز سمیت کئی اہم ممالک کے کرکٹرز کی جانب سے جس طرح کھل کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت اور محفوظ پاکستان کے حق میں کھل کر بات کی گئی وہ قابل ستائش ہے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے تو اس حد تک لکھ دیا کہ بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں سے ہوشیار رہو، یقیناً ان کا اشارہ مغربی دوغلے پن کی طرف تھا

    لیکن بحرانی کیفیت میں موقعوں کی تلاش کرنے والی قوم ہی دنیا میں ترقی کی راہ پر چل سکتی ہیں اور یہ ہی کیا پاکستان نے کہ شائقین کے ٹوٹے دل اور قومی سطح پر پست ہونے والے حوصلوں کو دوبارہ بلند کرنے کے لیے نیشنل ٹی ٹونٹی میچ کا اعلان کر دیا جس کا باقاعدہ میلہ 23 ستمبر سے سجے گا جبکہ 12 اکتوبر تک کھیلا جائے گا

  • پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    سیاحت کسی بھی ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔  تمام ممالک کی یہ کوشش ھوتی ھے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح ان کے ملک جائیں۔ جس سے نہ صرف اس ملک کا اچھا امیج پیدا ھوتا ھے بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا ھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ھوتے ھیں۔ کیونکہ سیاح جس علاقے میں بھی جائیں وھاں کی روایتی اشیاء کو خریدتے ھیں اور اپنے دوستوں اور فیملی کے لیے تحائف کے طور پر لے کر جاتے ھیں ۔

    بعض ممالک کی معیشت کا تو انحصار ہی سیاحت پر ھے۔

     

    پاکستان بھی سیاحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی مہم جُو سیاحت،ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے نوادرات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقہ جات نہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بے حد مشہور ھیں۔ شمالی علاقہ جات ، کشمیر کے بلند پہاڑ، گلگت کی برف پوش پہاڑی چوٹیاں اور وادی کیلاش یہ صرف چند مشہور تفریحی مقامات کے نام ھیں۔ الحمدللہ پاکستان کا چپہ چپہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ھے۔

    پاکستان ان ممالک میں سے ایک ھے جہاں چاروں موسم پاے جاتے ہیں۔

    پاکستان کے شہری علاقے سیاحوں کے لئے توجہ کا ساماں رکھتے ہیں جبکہ ملک کے دیہی علاقے آرٹ،دستکاری اور دلکش ثقافت کا شاندار نمونہ ہیں۔

    دیہات اب بھی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ھوے ھیں۔

     آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں آپ کو چھولیں بلکہ آپ سے لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟

    یہ ناممکن نہیں بلکہ حقیقت ھے،  اگر آپ پاکستان کے پہاڑی مقامات کی سیر کے لیے جائیں تو ایسا تجربہ آپ کو  اچانک ہوسکتا ہے۔

    سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اس احساس کو بیان کریں، مگر ہمارے وطن کے رنگ ایسے ہی سدا بہار ہیں جو دل کو جیت لیتے ہیں۔ 

    گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ خزاں کا ذکر بھی زیادہ تر ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں اس وادی کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں یعنی نارنجی، زرد، سرخ اور دیگر رنگ ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں۔

    وادی سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، ان گِنت جھرنوں ، چراگاہوں، نہروں اور ندیوں، قدرتی پارکوں، جھیلوں اور گھنے و تاریک جنگلوں کی وجہ سے مشہور ہے.

    بلوچستان کے ریگستانوں سے لے کر پنجاب کے سرسبز میدانوں تک پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات رکھتا ھے 

    لاھور شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات رکھتا ھے تو سر زمین ملتان اولیاء اللہ کی سر زمین مشہور ھے اور وھاں جلیل القدر اولیا کے مزارات ھیں جن میں بہاوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی شامل ھے۔

     لاھور کی فوڈ سٹریٹ کی تو شان ہی نرالی ھے۔ وھاں کے چٹ پٹے مزیدار روایتی پکوان لاھور کی پہچان ھیں۔  سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات موجود ھیں۔

     آپ روایتی ٹانگہ پر پرانہ لاھور بھی گھوم سکتے ھیں۔ اندرون لاھور اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ھوے ھے۔ 

    مری ، اسلام آباد، کلر کہار، چکوال، خوشاب ، چترال، وادی کیلاش، سوات ، وزیرستان غرض کون کون سی جگہ کا نام لوں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات نہ رکھتی ھو ؟  ہر شہر ، ہر علاقہ انفرادیت کا حامل ھے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ھے۔  

     یہاں ضرورت اس بات کی ھے کہ حکومت پاکستان ان سیاحتی مراکز کو سہولیات فراہم کرے اور انٹرنیشنلی طور پر اس کو پروموٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پاکستان کا رخ کریں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے کے پی کے کے علاقوں میں خاصہ کام کیا ھے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ھے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو چاھیے کہ جس ملک بھی جائیں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔ وھاں پاکستان کے سیاحتی مقامات کے متعلق آگاہی پھیلائیں تا کہ وھاں کہ لوگوں میں پاکستان کے متعلق تجسس ھو اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری عروج کی بلندیوں کو چھوئے۔

    جس طرح اس سال لاکھوں کی تعداد میں مقامی سیاح عید کے موقع پر سیاحتی مقامات کی طرف امڈے ھمیں  امید ھے کہ مستقبل قریب میں پاکستان غیر ملکی سیاحوں کا بھی مرکز ھو گا۔ 

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer  

  • 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ  شخص سے شادی

    66 سالہ دلہن کی 79 سالہ شخص سے شادی

    دو عمر رسیدہ جوڑوں نے اپنی مستقبل کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لئے شادی کر لی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ شادی مہاراشٹر کے ضلع سانگلی میں ہوئی۔ جہاں دلہن کی عمر 66 سال ہے اور دلہن کی عمر 79 سال ہے یہ شادی ضلع سانگلی کے میرج میں واقع آستھا بے گھر خواتین سینٹر میں ہوئی۔ جہاں 66 سالہ دلہن شالینی اور 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

    دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےسینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔

    جبکہ 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔

    دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔

  • سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

    سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
    کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
    ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
    بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
    کرکے کچھ حل نکالے

    ‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
    اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
    بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
    مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
    پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
    سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

    بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
    ‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
    ہے۔
    لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
    حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
    چاہیئے
    اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
    انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
    جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
    انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
    نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
    کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
    سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
    سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
    بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
    غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
    وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
    ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
    جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
    پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
    جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
    ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

    اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
    کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
    سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
    بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
    حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
    پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
    مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
    کو معمول پر لا سکیں.

    @ItzJadoon

  • حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت  تحریر:   حافظ طلحہ ابوبکر

    حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت تحریر:  حافظ طلحہ ابوبکر

    جب سے ہوش سنمبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں 

    مہنگائی نے جینا حرام کردیا 

    ہر نئی حکومت سے نئی اُمیدیں وابستہ کی جاتی ہیں 

    لیکن آنے والے حکمران عام آدمی تک انصاف اور عوامی سہولیات کا محض نعرہ ہی لگاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا پھر بھی غربت اور مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کسی ایک کو منتخب کرتے ہیں کہ شاید ان کی مشکلات میں آسانی ہو مگر ایسا ہوا کبھی نہیں

    گزشتہ 32 سالوں کے دوران سیاستدانوں نے 

    کبھی روٹی کپڑا مکان اور کبھی ووٹ کو عزت دو کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف ہی بنایا لیکن جس طرح سے موجودہ حکومت نے اپنے نعروں سے لے کر اقتدار میں آنے تک کے دوران عوامی مسائل کو حل کرنے کی امید جگائی اور وعدے کیے تھے تو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید پاکستان کی غریب عوام کی قسمت بدل جائے گی حالات و نظام کے ستائے ہوئے لوگوں کو کچھ تو ریلیف ملے گا انصاف کی فراہمی ممکن ہو گی لیکن ایسا ابھی تک کچھ نہیں ہوا بلکہ موجودہ حکومت نے غربت ختم کرنے بجائے غریب کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ناں غریب رہے گا اور ناں ملکی ترقی میں مشکل در پیش ہو گی

    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر غریب کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں تو غریب کے ووٹ کی خاطر یہی حکمران اس کی دہلیز تک کیوں جاتے ہیں 

    کسی غریب کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ملکی معیشت کہاں پر جا رہی ہے اور ڈالر کا عالمی منڈی میں کیا اتار چڑھاؤ ہے اسے فکر ہے تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا 

    مہنگائی اور غربت نے عوام کا جینا محال کر دیا

    پٹرول کی قیمتوں میں آۓروز اضافہ’ آٹے اور چینی اور گھی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ہی رہیں اسکے ساتھ ساتھ سبزی اور دالیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں ایسے حالات میں تو یوں لگتا کہ جیسے غریب کو جینے کا کوئی حق ہی نہیں ہے 

    ہر گزرتے دن کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی فکر معاش کے ساتھ یہ اضافی بوجھ لادھ کر حکومت کو لگتا ہے کہ ہر ایک خوشحال زندگی بسر کر رہا تو ایسا ہر گز نہیں ہے 

    غربت کی وجہ سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا غربت کے ہاتھوں مجبور بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم کسی طرح شارٹ کٹ سے زندگی آسان کرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنا رہے ہیں اور ہمارے وزراء اور مشیر اعلٰی سب اچھا ہے کی گردان لیے بیٹھے ہیں انکو اندازا ہی نہیں ملک میں غربت کے باعث خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہونے والی ہے آخر کب تک لوگ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے عوام کو ریلیف کی ضرورت ہے 

    اور یہی بات آج سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے غریب جب اٹھے گا تو اسکو روکنا نا ممکن ہو گا حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ عام عوام بھی سمجھ گئی ہے اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑے گا تو وہ نکلیں گے 

    اس دیس کے ہراک لیڈ ر پرسوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک حاکم کوسولی پہ چڑ ھانا واجب ہے

    ‏حکومت اور اپوزیشن کے ہمیشہ کی طرح اختلافات نے عوام کو پاگل بنایا ہوا ہے عوام مہنگائی سے پس رہی چاہے 2 سال بعد کوئی بھی جیتے عوام کو اس سے کیا، عوام کو نا اپوزیشن نے ریلیف دیا نا حکومت نے۔ عوام کا اصل مسلہ الیکشن نہیں مہنگائی ہے جس نے اس وقت کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت کے تین سال گزر جانے کے باوجود عوام کو کوئی خاص ریلیف نا مل سکا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کو صرف اجاگر کر کے اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ان غلطیوں کو سدھارنے کی اور اصلاحات کی کوشش کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

    الفت بدل گئی، کبھی نیت بدل گئی

    خود غرض جب ہوۓ تو پھر سیرت بدل گئی

    اپنا قصور دوسروں کے سر پر ڈال کر

    کچھ لوگ سوچتے ہیں حقیقت بدل گئی۔

    ‎@talha_abubakar4 

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI

  • کیا ہم انسان ہیں؟  تحریر: ظفر ڈار

    کیا ہم انسان ہیں؟ تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

    کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم کسی ظلم اور جبر کی داستان نہ سنیں۔ کہیں قتل وغارت تو کہیں لوٹ مار، کہیں عزتوں کے سودے اور کہیں خواہشات کی غلامی میں معصوم بچوں اور بچیوں کی آبروریزی۔ کسی بھی حساس انسان کیلئے خود کو ایسی خبروں سے بے نیاز رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور لامحالہ ہماری سوچ ہمیں اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم انسان بھی ہیں یا محض لباس انسان میں ہیں؟

    اللہ تعالٰی نے ہمیں انسان بنا کر اشرف المخلوقات قرار دیا، حتیٰ کہ اپنے عبادت گزار فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ فرشتوں کو حکم ربی بجا لانے کا ہی اختیار ہے، انکار کا نہیں۔ جس نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی وہ اگرچہ گروہ جنات سے تھا لیکن اپنے علم کی وجہ سے فرشتوں کا سردار تھا، ابلیس سے شیطان بن کر ہمیشہ کیلئے معتوب ہو گیا۔ یوں اللہ تعالٰی نے انسان کی فضیلت اپنی تمام مخلوقات پر قائم کر دی۔ اللہ کی ہزاروں مخلوقات میں سے اس دنیا میں ہمارا واسطہ حیوانات و نباتات سے رہتا ہے اور کبھی کبھار جنات سے لیکن وہ ایک غیر مرئی تعلق ہے۔

    انسان اور حیوان اس دنیا میں تقریباً ایک جیسے انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی پیدائش و افزائش نسل، سونا، جاگنا، کھنا پینا، ہضم کرنا اور دیگر معاملات انسانوں کی طرح ہی ہیں۔ اسی لئے میڈیکل کے طالبعلموں کو جانوروں کے نظام پر پہلے تجربات کرائے جاتے ہیں اور کسی بھی نئی دوا کو متعارف کرنے سے پہلے اس کی افادیت اور مضر اثرات جاننے کیلئے جانوروں پر ہی تجربات کئے جاتے ہیں۔ تمام خصوصیات میں مماثلت کے باوجود ایک فرق جو انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے وہ شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، اچھے برے کی تمیز، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ اللہ نے انسان کو بے شمار معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے جو اپنی مرضی اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ گویا انسان جب اپنے علم، شعور اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے تو وہ انسان کے درجے سے نکل کر حیوان کے درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔

    انسانیت کو معراج اس وقت عطا ہوئی جب اللہ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے محبوب ﷺ کو خاتم الانبیا بنا کر مبعوث فرمایا۔ گویا مسلمان ہونا اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا ہمیں انسانیت کے اعلٰی ترین مرتبے پہ فائز کرتا ہے۔ اگرچہ ایک مسلم معاشرے کا رکن ہونے کے ناطے میرا فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا دین وہ مکمل دین ہے جس کے بعد کسی مزید ترمیم اور اصلاح کی ضرورت اور گنجائش نہیں اور جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ اس طرح دین فطرت اور سرکار ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے ہم سب مسلمانوں کا طرز عمل دیگر انسانوں (اور مذاہب کے ماننے والوں) سے بہت اعلٰی معیار کا ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہے۔

    لیکن جب ہم عملی طور پر موجودہ معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اکثر غیر مسلم، انسانیت کا بہتر نمونہ نظر آتے ہیں۔ جو احکام اسلام نے ہمیں دئے، ہم نے انہیں بھلا دیا اور غیر مسلموں نے ان احکام کو اپنی زندگیوں اور معاشروں میں رائج کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اخلاقی طور پر ہم سے بہتر نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہم عمل سے خالی ہونے کے باوجود خود فریبی کا شکار ہیں۔ اگرچہ ہم حقوق اللہ کی طرف مائل ضرور ہیں لیکن حقوق العباد سے بہت دور ہیں جبکہ دین ہمیں معاشرت سکھاتا ہے۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے  مسلمان محفوظ رہیں” یہ کس طرف اشارہ ہے؟

    ابھی تک کی گفتگو میں یہ معاملہ زیر غور لانا چاہ رہا ہوں کہ معاشرتی رویوں اور اپنے عمل سے ہم نے خود کو انسانی درجے سے بھی نیچے حیوان کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ جو یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی کے ساتھ ظلم کیوں کر رہا ہوں؟ کیا مجھے اللہ کے سامنے حاضر نہیں ہونا جہاں مجھ سے سوال کیا جائے گا؟ میں کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں تو کوئی میری بہن بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمیں حیوان کی سطح سے انسان اور پھر مسلمان کی سطح پر واپس آنا ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر معاشرہ دے سکیں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر ہم ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر نہیں حاصل کر سکتے۔

    یاد رکھیں قومیں ترقی اسی صورت میں کرتی ہیں جب وہ اچھے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہیں تو دو سو سال پہلے یہ صورتحال نہیں تھی۔ اور آج ہم مسلمان تباہی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو چند سو سال پہلے تک ہم ایک تہائی دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں۔

    تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

  • چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے  تحریر: علی خان

    چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے تحریر: علی خان

    @hidesidewithak

    جب بھی عوامی مسائل  اور ترقی نہ  ہونے کی بات ہوتی ہے تو کرپشن کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہر دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور صنعت کاروں اور تاجروں پر بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات لگتے ہیں لیکن  صدقے جائیے ہمارے نظام انصاف کے کہ آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ الزام ثابت بھی ہوجائے تو  مجرم پوری ڈھیٹائی سے  اس وقت تک اپنے  بے گناہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  جب  تک کوئی  دوسری حکومت برسراقتدار نہیں آجاتی یا ادارہ احتساب سے ڈیل نہیں ہوجاتی۔  سیاستدانوں کے لیےمعاملہ زیادہ آسان ہوتا ہے کہ انہیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے اقتدار دوبارہ مل جاتا ہے اور ان کا لوٹ کا پورا مال ہی بچ جاتا ہے

    آج کل اپنے سنہری دور کے انتظار  کرنے والے سیاستدانوں میں 35 سال اقتدار کے مزے لوٹنے والے 3 بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب  بھی شامل ہیں۔ میاں صاحب پر پاناما پیپر اسکینڈل کے بعد  کیس چلنا شروع ہواتو انکے وکلاء کی جانب سے بار بار پینترے بدلے گئے۔ میاں صاحب نے دادا سے جائیداد براہ راست بچوں کو منتقل ہونے کا موقف اپنایا تو کہانی میں قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے متعدد جھول واضح ہوئے، میاں نواز شریف کے تمام اہل خانہ کی جانب سے متضاد موقف نے معاملے میں کچھ نہ کچھ کالا ہونے کو پریقین کردیا۔ مریم نواز کی جانب سے جائیداد نہ ہونے کا بیان پھر لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثابت ہونا یا پھر حسن اور حسین نواز کی جانب سے کیس کی پیروی سے یہ کہہ کر فرار کہ ہم برطانوی شہری ہیں ہم پر کیس نہیں چل سکتا۔ 

    قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ والد 3 بار ایک ملک پر حکمرانی کریں اور مزید کی خواہش رکھتے ہوں لیکن بچوں کی جانب سے اسکے قوانین ماننے سے ہی انکار کیا جائے۔ میاں صاحب خود بھی جب  جیل میں سزا نہ کاٹ سکے تو ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئے جس میں  انکی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور دن تک گنے جانے لگے۔ پاکستان سے باہر چار ہفتے علاج  کے لیے جانے والے نواز شریف صاحب انہی فلیٹس میں  قریباً ایک سال سے مقیم ہیں جن کے بارے میں انکا پورا خاندان  متضاد بیانات دیتا رہا ۔ انہی فلیٹس کے لیے میاں صاحب کے بچوں نے مادر وطن سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس مبینہ غبن کے ماسٹر مائنڈ اسحاق ڈار اور میاں صاحب کے  قریبی عزیز بھی مختلف کیسوں میں مطلوب اور لندن میں بیٹھ کر ملک کا درد جتا رہے ہیں

    میاں صاحب پر یہ مثال  "چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے” بالکل صادق آتی ہے۔ نواز شریف صاحب  ان فلیٹس اور لندن میں انکشاف کردہ دیگر جائیدادوں کے لیے اتنی ذلالت جھیل چکے ہیں  لیکن اس بے نامی، مشکوک اور مبینہ طور پر قومی خزانے کی لوٹ سے بنائی جائیداد  کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔  میاں صاحب اس  کوشش میں  وطن عزیز کے خلاف واہیات زبان استعمال کرنے والے افغان حمد اللہ محب سے ملتے ہیں تو انکی صاحبزادی ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہر موقعے پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے سے انکے سگے بھائی شہباز شریف بھی ان سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں لیکن میاں صاحب کی سمجھ اور فہم صرف اپنا لوٹ کا مال بچانے تک محدود ہے۔ اپنے کیسوں میں میرٹ کی بجائے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنا اور دوسرے ملک  میں بیٹھ کر حب الوطنی کے دعوے میل نہیں کھاتے۔ میاں صاحب اس ملک نےآپکو عزت دی اور سب سے بڑی مسند پر فائز کیا۔ دل بڑا کریں اور اس دولت  کو ملک و قوم کے نام کرکہ وطن سے محبت کا حقیقی ثبوت دیں۔ حب الوطنی کے نعرے ایک بات ہے  اور ان کا عملی مظاہرہ دوسری۔ عمل کا وقت قریب ہے ورنہ قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص دولت بچانے کے لیے ملک دشمنوں سے میل ملاقات رکھ سکتا ہے تو اسکی حب الوطنی پر یقین بے وقوفی ہے