Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا، ہم بہت پرجوش تھے کہ چلو
    کافی عرصے بعد سب سے ملنے کا موقع مل رہاہے، خوب گپ شپ ہو گی۔ وہاں پہنچے تو
    دیکھا دلہا دلہن سمیت سب لوگ سیلفیاں لینے میں مصروف ہیں۔ کسی کے پاس باتکرنے
    کی فرصت نہیں۔ کچھ دیر یوں ہی سب کو دیکھ دیکھ کر بور ہوتے رہے پھر ہم نے بھی
    اپنا موبائل نکالا اور فیس بک پرسکرولنگ شروع کر دی۔ گزشتہ اتوار ایک پارک جانا
     ہوا تو وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سب تفریح سے لطف اٹھانے کیبجائے اپنے
     اپنے موبائل کی سکرین پر جھکے ہوئے تھے۔

    ہم سب موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام میں مصروف ہیں۔ سوشل
    میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست ہیںلیکن درحقیقت ہم بالکل تنہا ہیں۔ ہمارے پاس
    اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنےکا وقت نہیں۔ گھر کےہر فرد کی
     اپنی ایک الگ دنیا ہے جو موبائل کی سکرین تک محدود ہے۔ اس تنہائی کا اگرچہ
    وقتی طور پر ہم سب کو احساس نہیں لیکنجتنا زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال میں
    اضافہ ہو رہا ہے اتنا ہی معاشرے میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
    ہر دوسراشخص احساس کمتری، مایوسی، حسد، چڑچڑےپن اور سماجی تنہائی کا شکار نظر
    آتا ہے۔

    پہلے پہل شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جائیں تو رشتے دار ایک دوسرے سے گھل
    مل کر باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے دکھدرد سنتے تھے،  تقریب کو بھرپور  طریقے
    سے انجوائے کیا جاتا تھا۔ مگر اب سب لوگ سیلفیاں لینے اور اسٹیٹس لگانے میں
    مصروفہوتے ہیں۔ کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اس طرح
    غیر محسوس طریقے سے ہم اپنے پیاروںسے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    جتنا زیادہ لوگ سوشل میڈیا سے جڑ رہے ہیں اتنا زیادہ سماجی تنہائی کا شکار ہوتے
     جا رہے ہیں۔  ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگفیس بک ، ٹویٹر ، Google+ ،
    یوٹیوب ، لنکڈ ان ، انسٹاگرام ، پنٹیرسٹ ، ٹمبلر ، وائن ، اسنیپ چیٹ اور ریڈڈیٹ
     سمیت 11 سوشلمیڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اتنا ہی سماجی طور پر الگ
     تھلگ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیاپر زیادہ دوستوں کا مطلب ہر گز یہنہیں ہے کہ حقیقت
    میں بھی آپ کے زیادہ دوست ہیں۔

    زیادہ تر سوشل میڈیا پر صداقت کی شدید کمی ہے۔ لوگ اپنی دلچسپ مہم جوئی کے لیے
    اس کا استعمال کرتے ہیں،  قریبی رشتہ دارایک  دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں ، اس
     قسم کی تصاویر فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت
    میں یہ سب ایک دھوکہ ہے۔ اگرچہ یہ بظاہر بہت اچھا لگتا ہے لیکن اکثر یہ دیکھا
    گیا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر مدرز ڈے اور فادرز ڈے دھوم
    دھام سے منانے والے، اور جذباتی پوسٹ لگانے والے اکثر لوگوں کے پاس عیدکے عید
    بھی اپنے والدین سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایک ایسی ہی خاتون جن کا سٹیٹس دیکھ
     کر لگتا تھا کہ ان سے زیادہ محبتکرنے والا اور خیال رکھنے والا شوہر کسی کا
    نہیں، ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی تو چہرے پر نیل کے نشانات تھے. استفسار پر
    معلومہوا کہ شوہر نے نشے کی حالت میں پیٹا ہے۔

    معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر
    غیر حقیقی زندگی کی تشہیر ہے۔ نوجوان نسلاپنے جیون ساتھی کو ویسا ہی دیکھنا
    چاہتی ہے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اور جب وہ ان کی امیدوں پر پورا
     نہیں اترتا توفاصلے اور اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت
    دینے کی بجائے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ ان تمامباتوں کا منطقی نتیجہ طلاق کی
    صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

    اسی طرح خودکشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی کامیابیوں، ترقی،
    تقریبات، تفریح حتی کہ کھانے پینے کی تصاویربھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔
    اس طرح وہ لوگ جو یہ سب حاصل نہیں کر سکتے وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے
    ہیں۔اور یہ سب حاصل نہ ہونے پر ناکامی کی صورت میں یا تو خودکشی کر لیتے ہیں یا
     پھر ان چیزوں کے حصول کے لیے جرائم پیشہسرگرمیاں اختیار کر لیتے ہیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اسے پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کے ہر قدم پر
    دوسرے انسانوں کا سہارا اورمدد درکار ہوتیہے۔ وہ اپنی خوشیاں اور غم دوسروں کے
    ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے انسان کو سچ مچ کا حیوان بنا دیا ہے۔
     اسکی ایک مثال چودہ اگست پر مینار پاکستان پر ہونے والا سانحہ ہے۔  اگر ہم اس
    قسم کے واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو ہماس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سوشل
    میڈیا کے بے لگام استعمال نے ہم سے ہماری اخلاقیات،  صحت اور سماجی اقدار چھین
    لی ہیں۔اس نے نہ صرف ہمیں تنہا کر دیا ہے بلکہ ایک ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی
    بیمار معاشرے کو بھی جنم دیا ہے۔

    سوشل میڈیا نےایک نشے کی طرح لوگوں کوجکڑ لیا ہے۔ چند لمحے موبائل ہاتھ میں نہ
    ہو تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ گھنٹوںفیس بک اور انسٹا گرام پر بے معنی اور
    غیر ضروری پوسٹیں دیکھتے رہنے میں وقت کے ضائع ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
    ماہریننفسیات اسے ‘فیس بک ایڈکشن ڈس آرڈر’ کا نام دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف
    نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ رات بھر جاگنےاور بیٹھے رہنے سے جسمانی
    بیماریوں کا بھی بآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے موٹاپے،
    جوڑوں کے درد،  دل اورشوگر کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نیند کی کمی سے
    چڑچڑاپن اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین صحتنے بیٹھے
    رہنے کو سگریٹ نوشی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس سے بہت سے خطرناک امراض جنم لیتے
    ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہر سالہزاروں افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم فرصت کے
    لمحات میں بیٹھ جاتے ہیں اور غیر ارادی طور پر موبائل پر سکرولنگ شروعکر دیتے
    ہیں، جو کہ نفسیاتی طور پر بے حد خطرناک ہے۔ اس سے معاشرے میں نکمے اور بے کار
    لوگوں کی ایک فوج پیدا ہوتی جارہی ہے۔جن کا کام صرف سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں
    کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں لیکن عملیزندگی
    میں مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں۔ ۔

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر وقت دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، جس سے جلن، حسد اور احساس
     کمتری جنم لیتا ہے۔ تحقیق سے یہبات ثابت ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا میں موازنہ کا
    عنصر حسد کا باعث بنتا ہے- زیادہ تر لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی
    تعطیلات، بے پناہ محبت کرنے والے ساتھی اور بہترین سلوک کرنے والے بچوں کو دیکھ
     کر حسد پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میںماہرین نے فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے حسد
     اور دیگر منفی جذبات کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ "صرف فیس بک پر ہونے والےحسد
    کے واقعات کی شدت حیران کن ہے، یہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ فیس بک
    ناگوار جذبات کی افزائش گاہ ہے۔” وہمزید کہتے ہیں کہ اگر لوگوں نے اس سے نکلنے
    کی کوشش نہ کی تو یہ ایک ایسا شیطانی چکر بن سکتا ہے، جو کہ جلن، حسد، مقابلہ
    بازی،احساس محرومی اور منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ
    حسد محسوس کرنے سے ڈپریشن اور دیگر منفیجذبات کو فروغ ملتا ہے اور منفی خیالات
    جسمانی صحت کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہر لمحہ اپنے ایڈونچر کو اپ لوڈ کرنے کے
    لیے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر،  کبھی دریا کے کنارے اورکھبی گلیشیر کے نیچے کھڑے ہو
     کر تصویریں لینے والے لوگ اکثر اوقات اپنی قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے
    ہیں۔ ہر روز اس قسمکے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے علاوہ سوشل میڈیا اخلاقی اقدار کو بھی نقصان
    پہنچانے کا سبب ہے۔ ٹک ٹاک اس کی ایک بد ترینمثال ہے۔ ٹیکنالوجی استعمال کرنے
    کے جنون میں مبتلا لوگ معاشرتی اور اخلاقی روایات کو سمجھے بغیر ٹک ٹاک پر غیر
    اخلاقی مواداپ لوڈکرتے رہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ باعزت خاندانوں کے
    بچے، بچیاں، بوڑھے، جوان سب اس میں مصروفہیں۔

    ہمارا مذہب ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ نمودونمائش سے روکتا ہے۔ دین نے تو
    ہمیں سکھایا ہے کہ پھلوں کے چھلکے تکاپنے ہمسائے سے چھپا کر پھینکو، کہیں ان کو
     احساس محرومی ہو اور ان کی دل آزاری ہو۔ اس کے باوجود ہم دوسروں کے جذباتاور
    احساسات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہر لمحے حتی کہ کھانے پینے کی تصویریں بھی سوشل
     میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جولوگ مہنگے ہوٹلوں میں یہ کھانا
    نہیں کھا سکتے ان کے دل پر کیا گزرے گی۔

    ان تمام باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ظاہر ہے کہ یہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے ، اور ایسےدوستوں کو تلاش کرنے میں ہماری
    مدد کرتا ہے جن سے ہم برسوں پہلے رابطہ کھو چکے تھے۔ اس کے علاوہ معلومات
    کےحصول اورکاروبار کرنے میں بھی مددگار ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے پہلے ہمیں
    کچھ حدود کا تعین کرنا ہو گا۔ بجائے اس کے کہ ہم حکومتسے کبھی ٹک ٹاک، کبھی یو
    ٹیوب پر پابندی کا مطالبہ کریں، ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ ان
    تمام چیزوں کو استعمالکرتے ہوئے اعتدال اور اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا
    چاہیے۔

    اپنے ہر لمحہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بجائے اس کو کسی با مقصد کام کے
    لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعےمعلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، پیسے
     کمانے اور کاروبار کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے
    اور پابندیاںلگانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ ہم نظم و ضبط اور پابندی
    وقت کے ذریعے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال بھیرکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور
    میں ٹیکنالوجی سے دور نہیں رہا جا سکتا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اس
     میں کھو جائیں۔ ہم پراپنی جان کا بھی حق ہے اور اپنے رشتے داروں کا بھی۔ اس
    نشے سے نکلنے میں سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ لیکنزیادہ تر والدین
     خود ہی ان چیزوں سے نہیں نکل پاتے۔ ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں۔
    انہیں شروع سے ہیبچوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ ہر کام اپنے وقت پر کرنا ہے
    اور صحت، فیملی، پڑھائی اور معاشرے  کا کامیاب شہری بننا سبسے زیادہ ضروری ہے۔
    بچوں سے بات چیت کریں، ان کو اپنے بچپن اور اسکول لائف کے قصے سنائیں، ان کے
    مسائل سنیں۔سب سے پہلے تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ورزش کے لیے وقت
    مختص کرنا چاہیے۔ دن کے کچھ گھنٹے صرف اپنی فیملیکے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔
    سونے جاگنے کے اوقات میں بھی موبائل کو بند کر دیں۔ اگر یہ چھوٹی چھوٹی
    تبدیلیاں ہم اپنیزندگی میں لے آئیں تو یقینا زندگی پر بہت خوشگوار اثرات مرتب
    ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے ابھی اس لت سے نکلنے کی کوشش نہیںکی تو اس کے گھناؤنے
    اثرات زندگیوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ جس کے نتائج سانحہ مینار پاکستان سے
    بھی زیادہ شدید نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    نوجوان کسی بھی معاشرے کی ایک اہم طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی خاندان ، ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بوڑھوں کی نسبت مضبوطی اور طاقت بخشی  ہے۔ یہ اپنے بل بوتے پر زندگی کی ہر جنگ میں فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کامیابی کا انحصار نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر ان کا خون ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتاہے ۔یہ پہاڑوں کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی نوجوان کو علامہ اقبال نے شاہین کا نام دیا۔

    تو سوال یہ ہے۔ کہ کیا آج کا نوجوان اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیا یہ اقبال کا شاہین بننے کا ولولہ رکھتا ہے۔

    تو اس کا جواب یہ ہے ، کہ آج کا نوجوان ان سارے جذبوں سے خالی ہے۔اور اس کی وجہ نوجوانوں کا سوشل میڈیا ، منشیات ، اور دوسرے فضول امور میں دلچسپی لینا ہے ۔ رئیس لوگوں کے بگڑے ہوئے امیر زادے نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب طبقے کے لوگ دال، روٹی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ملک کی فکر کیونکر ہو ۔

    اور ان سب کی وجہ یہ ہے۔ کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ کسی بات میں مداخلت کریں تو ان کی بات کی تردید کر دی جاتی ہے۔ انھیں معاشرے کا اہم رکن سمجھنے کی بجائے  نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے، اور ایسے عوامل کا شکار ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

    اور ایسی صورتحال میں جرائم مافیا  انہیں با آسانی جرائم کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔جس سے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

     ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔  ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت، حوصلہ، مقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیاں جیسے بیت بازی، تقریری مقابلے، مضمون نویسی وغیرہ ہوا کرتے تھے۔کیوں ختم کردی گئیں یہ ساری چیزیں جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل  بیان کرتے تھے۔  اس تیز ترین دور میں نوجوانوں سے ان کی رائے کا ہر وسیلہ چھین لیا گیا ہے ۔ سکول ، کالج نیز ہر ادارہ اپنا نام کمانے کی فکر میں نوجوانوں کے جذبات کا خون کرتا ہے۔ اور رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کر دی ہے۔ 

    ان سب مسائل کا حل بس یہی ہے۔ کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے وسائل مہیا کیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں تعلیم، صحت،  اور تجربات کا موقع دیا جائے تا کہ نوجوان ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے باہر نکلیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع مہیا کیے جائیں۔ بہت سے نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان کیا جائے۔ تا کہ اقبال کے شاہین اپنے وطن کو ایک بہترین مستقبل دے سکیں۔

    @Sanaullahmahsod

  • تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟!  تحریر: تیمور خان

    تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟! تحریر: تیمور خان

     

    جب میں اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال تعلیم کے متعلق ہے۔  شاید تعلیم کندھوں پر بڑھتے بوجھ کا نام ہے ، شاید تعلیم ان پرانی کتابوں کا نام ہے ، شاید تعلیم ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے ، شاید تعلیم کی اہمیت صرف ایک کاغذ پر مبنی ہے  جس کو ہم ڈگری کہتے ہیں اور وہ اس تک محدود ہے۔  آخر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ہے جس کا وہ مطلب نہیں جانتے کہ میں نے کیا پڑا کیا لکھا؟

     ہماری نظر میں صرف وہی لوگ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو اچھی انگریزی بولتے ہوں، اچھے کپڑے پہنتے ہوں، وہی لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں ، ہمارا ذہن ان باتوں کو کیوں مانتا ہے؟  ہمیں تعلیم حاصل بھی کرتے ہیں اور ہمیں سکھایا بھی جاتا ہے لیکن ہمیں تعلیم کا صحیح مطلب اور مقصد نہیں سکھایا جاتا۔  اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل پائلٹ ہو ٹیچر بننا ہے اور پیسہ کمانا ہے ، لیکن تعلیم کی اہمیت اور مقصد ان چند الفاظ کے گرد گھومتا ہے؟   تعلیم صرف پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہے ، تعلیم صرف ڈگری یا نوکریاں حاصل کرنے کے لئے ہرگز نہیں ہے ہماری سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نے درست کہا ہے کہ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے تو معاشرے میں صرف نوکر ہی پیدا ہوتے ہیں نہ کہ لیڈر اور یہی آج کل میں اپنے معاشرے میں دیکھ رہا ہوں۔

     افسوس کی بات ہے کہ جن کے پاس ڈگریاں ہیں ، ہم ان کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں اور جن کے پاس ڈگریاں نہیں ہیں ، ہم انہیں جاہل سمجھتے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو صحیح اور غلط اور اچھے یا برے میں فرق پڑھے کیونکہ میں نے دیکھا ہے  پڑھے لکھے میں جاہل لوگوں کو  اور جاہلوں میں پڑھے لکھے کو بھی،  اگر ہم تعلیم کے معنی کو غور سے سمجھنے کی کوشش کریں تو علم انسان کی تیسری آنکھ کی طرح لگتا ہے۔

     دو آنکھوں سے ہم دنیا کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں مگر علم کی آنکھ سے ہم عقل اور سمجھ کے مشکل مراحل سے گزرتے ہیں۔  جاہل اور پڑھے لکھے میں کوئی فرق نہیں۔  میری نظر میں جاہل وہ ہیں جو اپنے علم کے باوجود ناانصافی کرتے ہیں ، اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  میری نظر میں وہ لوگ بھی جو صرف جہالت اور بے ہوشی کی فہرست میں ہیں ان کی فہرست میں جو پڑھاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کچھ نہیں کرتے۔  

     عمل کے بغیر علم برائی ہے اور علم کے بغیر عمل گمراہی ہے ، یعنی علم اور عمل دونوں ضروری ہیں ، کوئی بھی کافی نہیں ہے۔  اگر علم آنکھ ہے تو عمل اس کا وژن ہے ، اگر علم زندگی ہے تو عمل شعور ہے ، اگر علم تعلیم ہے تو عمل تربیت ہے ، اگر علم پھول ہے تو عمل خوشبو ہے۔  علم شعور ہے۔  علم بنیادی طور پر قابلیت ، قابلیت اور ذہن کی کشادگی کا نام ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے خود ان چیزوں کو جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ باتیں بتانے کی زحمت کی۔  اور آج ہم اس فرق کو بھول گئے ہیں اور ہماری برتری صرف ڈگریاں اور نوکریاں ہیں اور ہم انسانیت سے اس قدر دور چلے گئے ہیں کہ واپسی کی کوئی علامت نہیں ہے۔

    اس جدید دور میں ، تعلیم کا مقصد اس بات کو پوری طرح پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ صرف سیکھنا ہماری زندگی میں کیا نکات لاتا  ہے۔  تعلیم ایک سے زیادہ مقاصد کو پورا کرتی ہے – ایک ایسے سپیکٹرم کے ذریعے جو ہماری زندگی کے معاشی ، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔  یہ اب محض خیالات اور علم کو آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی یہ صرف مالی مستحکم کیریئر کی تیاری کے لیے ہے۔  یہ ان خیالات کو بھی لے رہا ہے اور انہیں ہماری زندگیوں اور ہمارے آس پاس کی دنیا میں لاگو کر رہا ہے۔  اس کے نتیجے میں ، تعلیم کی کثیر جہتی نوعیت اپنے شاگردوں میں ہمہ گیر ثقافتی تنوع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے ، ہمارے مطالعے میں تنقیدی سوچ کی وکالت کرنے ، اور ایسے مواقع لے کر ہماری زندگیوں کو تقویت دینے کی کوشش کرتی ہے جو ہماری زندگیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔  دنیاوی تجربات  تعلیم کے ان پہلوؤں کو پورا کرتے ہوئے ، یہ ضروری قدم ہمیں علم اور حکمت مہیا کرتے ہیں جو معاشرے اور جوانی میں ہماری شروعات کو تیار کرتے ہیں, تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ ہمیں تعلیم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو سمجھنا بھی چاہئے، تاکہ ہمارا آنے والا کل روشن ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    @iTaimurOfficial

  • جنٹلمین گیم از اوور؟تحریر:وقاص امجد

    جنٹلمین گیم از اوور؟

    کرکٹ جسے جنٹلمین کا کھیل کہا جاتا تھا ،اب مفادات کا کھیل ثابت ہونے لگا ہے۔یہ بات اس وقت کھل کر سامنےآئی جب ٹی 20ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر موجود نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم نے میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل نہ صرف کھیلنے سے انکار کردیا بلکہ یکطرفہ طور پرپورادور ہ کینسل کرکےاپنے وطن واپس جانے کی ٹھان لی۔ اپنے اس اقدام کے پیچھے کیوی ٹیم نے یہ جواز پیش کیا کہ انکی ٹیم کو پاکستان میں خطرہ ہے لہٰذا جلد ازجلد انکے واپس جانے کے انتظامات کیےجائیں۔پاکستانی حکام، سکیورٹی ایجنسیز اور انٹیلی جینس پریشان ہوگئے کہ یک لخت ایسا کیا ہوا کہ مہمان ٹیم جانے پربضد تو ہوگئی مگر یہ بتانے سے قاصر تھی کہ انھیں خطرہ کس سے ہے؟یہ صورتحال دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور خصوصی طور پر پاکستانیوں کیلئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اٹھارہ سال بعد پاکستان آئی تھی اور یہاں پانچ روز ہنسی خوشی گزارنے کے بعد اچانک سے سکیوٹی کا ایشو بنا کر واپس اپنے دیس چلی گئی۔ 

    سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے جانے کےباوجود نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے یوں چلے جانے کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ انگلینڈ کی ٹیم نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے تو پھر سکیورٹی کا بہانہ بنایا مگر انگلینڈ نے انتہائی بھونڈا جواز پیش کرتے ہوئے معذرت کی کہ انھیں اپنے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور ذہنی صحت کی فکر ہے ۔ انگلش ٹیم کے اس انکار کے پیچھے چھپی وجہ کو ماہرین کرکٹ متحدہ عرب امارات میں جاری بھارتی کرکٹ لیگ( آئی پی ایل) سے بھی جوڑرہے ہیں جہاں انگلش کھلاڑی بھاری بھرکم پیسوں کے عوض کھیلنے میں مگن ہیں۔

     پاکستان کرکٹ بورڈ اوربالخصوص وزارت داخلہ کیلئےیہ بات باعث تشویش تھی کہ مکمل یقینی دہانی اور سٹیٹ آف دا گیٹس بننے کے باوجود پہلے ایک ٹیم نے یہاں آکر فوراًجانے کی راہ لی اور دوسری ٹیم نے آنا بھی گوارہ نہیں سمجھااور وہیں سے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر دو ٹوک انکار کردیا۔

    یک نہ شُددوشُد والی یہ صورتحال جہاں سکیورٹی کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرگئی وہیں پاکستانی کھلاڑیوں کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر گئی کیونکہ ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ دونوں سیریز کافی مددگار ثابت ہونے والی تھیں۔

    اس مشکل وقت میں نئے چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کے دوٹوک بیانیے نے کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی بھی ڈھارس بندھائی ۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے کرکٹ نہ کھیلنے کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ ایک طرف تو مالی نقصانات کا ازالہ کررہا ہے اور دوسری طرف کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کی تیاری کروانے کیلئے ڈومیسٹک ٹی ٹوینٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا بھی بھرپور طریقے سے آغاز کرنے جارہا ہے ۔ 

    کرکٹ بورڈ کے اس اقدام سے جہاں کھلاڑیوں کو اپنا غصہ میدان میں اتارنے کا موقع ملے گاتو وہیں بڑی ٹیموں سے نبردآزما ہونے کیلئے سازگار ماحول بھی میسرآئے گا۔

    بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری گروپ نے ماضی میں بھی پاکستا ن کرکٹ کو کئی اہم مواقعوں پرشدید نقصان پہنچایا ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے تمام حدود پھلانگتے ہوئے پاکستان کو ان تینوں ٹیموں سےزیادہ بڑا دھچکادیا ہے۔

     اب صورتحال کا یہی تقاضہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی بات منواتے ہوئے ناصرف اپنی اہمیت کو ثابت کرے بلکہ آئی سی سی کو ان ٹیموں کیخلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کرے تاکہ آنے والے وقت میں ویسٹ انڈیز اورآسٹریلیا کا دورہ پاکستان ممکن ہوسکے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل قریب میں”جنٹلمین گیم”کہلایا جانے والا کھیل صرف مفادات کا کھیل قرار پائے گا۔

    ازقلم  

    وقاص امجد

    Twitter Account 

    @waqas_amjaad

  • ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے  تحریر محمد تنویر

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تحریر محمد تنویر

    یہاں میرے دل کے بہت قریب موضوع کو متعارف کرانے کے لیے ایک داستان ہے۔ ایک خاندانی محفل کے دوران میں اپنے کزن کی پوتی کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنی دلچسپیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اسے قریب آنے کو کہا کیونکہ میں اسے سن نہیں سکتا تھا اور میں نے اپنے آلہ سماعت کی طرف اشارہ کیا جو میں نے کان میں لگایا ہوا تھا۔ اس نے سماعت کے چھوٹے آلے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی اس کی جانچ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سوالات پوچھے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا تجسس اور سیکھنے کا شوقین تھا۔

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے اس لیے نہیں کہ یہ قومی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ یہ میری مادری زبان بھی ہے۔ اس عمر میں وہ واحد زبان تھی جو وہ سمجھتی تھی۔ اگر میں انگریزی میں بات کرتا تو ہم اتنے سنجیدہ موضوع پر ایسی بامعنی گفتگو نہیں کر سکتے تھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ دلچسپی بھی لیتی یقینا نہیں کیونکہ ایک بچہ اس چیز میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں وہ مصروف ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اس عمل میں استعمال ہونے والی زبان وہ ہو جو بچہ سمجھتا ہو۔

    یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے یہ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے اساتذہ اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے بچوں کی تعلیم (جو دراصل خود حاصل کرنا ہے) اور ان کے سیکھنے کی ترغیب میں دلچسپی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت بچے کو ایک استاد کی بات سننے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام باتیں ایک عجیب زبان میں کرتا ہے جسے بچہ ہمیشہ نہیں سمجھتا کچھ معاملات میں استاد بھی اس میں روانی نہیں رکھتا ہے بچے کا ان پٹ نہیں مانگا جاتا۔

    کیا کوئی طالب علم سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ تمام ممبو جمبو میں دلچسپی لے اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دو رسمی تعلیم دراصل پیدائش کے وقت شروع ہونے والے قدرتی طور پر سیکھنے کے عمل میں خلل ڈالتی ہے۔ اگر ہمارے معلم واقعی بچوں کی بھلائی چاپتے ہیں تو وہ قدرتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور بچے کو اس چیز سے محروم نہ کریں جو اسے خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے وہ صرف اور صرف مادری ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تمام ترقی یافتہ اور خوسحال ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ ان ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہی فراہم کی جاتی ہے.

    SNC دوسری زبان کا مرکب ہمارے بچوں کو جذباتی اور عملی ضروریات کو پورا نہیں کرتا جو چیز مجھے سنگل قومی نصاب اور زبان کی پالیسی کے بارے میں انتہائی پریشان کن معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پالیسی بچے کی ضروریات اور حساسیت کو مکمل
    طور پر نظر انداز کرتی ہے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی SNC کے بارے میں مختصر کانفرنس ان دنوں مسلسل ترقی پذیر SNC پر بحث کرنے والی سیریز کا تازہ ترین فورم ہے تمام شرکاء نے تعلیم میں حصہ لیا لیکن بچے کی سیکھنے کی ضروریات کے تناظر میں اس سے زیادہ بے خبر گروپ نہیں ہوسکتا ان میں سے ہر ایک کی بنیاد میں جانتا ہوں سے شروع ہوئی۔ اساتذہ کا بچے کی نفسیات کے بارے میں علم نہ ہونا بہت زیادہ جذباتی عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے جو معاشرے میں بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
    SNC نصاب میں کیے گئے انتخاب کے سیکورٹی پہلو پر توجہ نہیں دیتا یہ مسائل خاص طور پر زبان بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ "ذہنیت کی یکسانیت” کی خاطر SNC تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں روٹ لرننگ اور ثقافتی بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر
    علمی ترقی سست ہو جاتی ہے۔ اگر تعلیم کا ذریعے کچھ سالوں کے لیے بچے کی اپنی مادری زبان میں ہوتا تو یہ یقینی بناتا کہ وہ ایک اچھی طرح سے ایڈجسٹ شخصیت کی نشوونما کرتی ہے اور زندگی بھر تعلیم سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اس کے باوجود ایس این سی کے معماروں نے ایک عجیب و غریب پالیسی کا انتخاب کیا ہے جسے ابہام میں ڈوبے ہوئے گزشتہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

    مختصراً، جیسا کہ میں اسے سمجھتا ہوں انگریزی اور اردو کو گریڈ 1 سے بطور مضامین پڑھایا جائے گا۔ عام علم سماجی علوم اور اسلامیات اردو میں ہوں گے جبکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائی جائے گی۔

    یہ زبان کا مرکب ہمارے بچوں کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس پر مسلط کی گئی زبان زیادہ تر معاملات میں اس کی مادری زبان نہیں ہے بلکہ نامعلوم الفاظ کا ‘ممبو جمبو’ ہے جو ایک لسانی رکاوٹ بن جاتا ہے جو اس کے بعد اسے پیچھے چھوڑ دے گا اور اسے ایک مصنوعی سیکھنے کا طریقہ اپنانے پر مجبور کرے گا جسے بچے کبھی پسند نہیں کریں گے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور تعلیم کو بھی بہ زبانی ہونا پڑے گا یہ مادری زبان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطے سے خطے میں مختلف ہوتا ہے اور یہ کہ یکسانیت کے اصول کے خلاف عسکریت پسند ہمارے حکمران بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یقینا قومی زبان اردو اور انگریزی بھی تدریسی طور پر پڑھائی جائے گی مادری زبان میں تعلیم کیلئے احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دس سال پہلے معروف ماہر لسانیات ہیویل کولمین نے برٹش کونسل کے لیے پاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایک فالو اپ رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کو مقامی زبانوں پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر یہ کیا جاتا تو ہم SNC کے ساتھ گھومتے نہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ارباب اختیار کوچاہیئے مادری زبان میں علم حصول یقینی بنائیں تاکہ نسل نو مستقبل میں دنیا دے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے۔

  • عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    آپ ہر طرف یہی سنتے ہیں کہ غریب مر گیا لٹ گیا برباد ہو گیا دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگیا وغیرہ وغیرہ

     عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے جس کے دورِ حکومت میں پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی کام بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہیں، جس میں زیادہ تر مکمل ہو چکے ہیں اور زیادہ تر پر کام جاری ہیں

    پاکستان کی معیشت کو دیکھ لیجئے برآمدات کو دیکھ لیجئے ٹیکس ریونیو کو دیکھ لیجئے ریمیٹنس کو دیکھ لیجئے نیب ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی ریکوریوں کو دیکھ لیجئے غریبوں کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے 

    اب ذرا غور کیجئے گا

    1 احساس پروگرام

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے

    1 احساس پروگرام کے تحت ملک بھر کے لاکھوں غریب اور مستحق خاندانوں کو ماہانہ 12 ہزار روپے دیا جا رہا ہے

    اور اب ذرا اس بات پر غور کیجئے گا پیپلزپارٹی کے جو وزیر مشیر بھوکے ننگے گھرانوں سے اٹھ کر بڑے بڑے عہدوں پر آ بیٹھے تھے ان کی بھوکی ننگی حریص بیویوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں کو دیے جانے والے 12000 روپے تک نہ چھوڑے اور اس میں بھی کرپشن کرتے ہوئے انہوں نے لاکھوں کروڑوں روپیہ ہڑپ کر لیا

    ایک لمحے کے لیے ذرا اس بات پر غور کیجئے جنہیں آپ معزز سمجھتے ہیں وہ اندر سے کس قدر پلید اور نیت کے بھوکے ننگے حریص ہوتے ہیں جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی غریبوں کا حق ہڑپ کر لیتے ہیں

    ایسے نفسی انسان کی مثال رال ٹپکائے کتے کی مانند ہوتی ہے جسے بھگانے کے لیے آپ اسے پتھر بھی ماریں تو وہ پلٹ کر پتھر کو بھی سونگھنے لگے گا کہ شاید اس میں سے بھی ہڈی مل جائے

    بہرحال عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد ان تمام وزیروں مشیروں کی بیگمات سمیت سب کو نکال باہر کیا جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی 12 ہزار روپیہ لیتے تھے

    اور اب الحمدللہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے زیرنگرانی احساس پروگرام کے تحت بڑے صاف اور شفاف طریقے سے ہر مستحق اور غریب کو اس کا حق مل رہا ہے اب کوئی مجھے یہ مثال پیش کرکے دکھائے کہ عمران خان کے کسی وزیر مشیر یا اس کی بیوی یا احساس پروگرام کی سربراہ نے غریبوں کو دیئے جانے والے ان پیسوں میں کوئی غبن کیا ہو؟؟ یا احساس پروگرام کا پیسہ کھایا ہو؟؟

    یہ مثال آپ کو جرائم پیشہ بھتہ خور بھوکے ننگے حریصوں کی جماعت پیپلز پارٹی میں تو ملے گی لیکن انشاءاللہ تحریک انصاف میں نہیں اور اگر یہ مثال تحریک انصاف میں ملی تو انشاءاللہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنا کر عمران خان نے غریبوں کا کھانے پینے اور آرام کرنے کا مسئلہ حل کر دیا ہے اب جتنا خرچہ ان کا کھانے پینے اور سونے پر ہوتا تھا اب یہ غریب افراد وہی خرچہ اپنے گھر بھیجتے ہیں جس سے ان کی آمدنی میں الحمدللہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا ہے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے اس پروگرام کے تحت عمران خان غریب غربا بھوکے افراد کے لیے کھانا تیار کر کے موبائل گاڑیوں کے ذریعے ان تک پہنچا رہا ہے اور جہاں بھی کوئی ضرورت مند نظر آئے گا گاڑی اسے اسی وقت کھانا کھلائے گی

    اب ذرا غور کیجئے میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں آپ تاریخ پاکستان اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ایسے اقدامات کی کوئی مثال نہیں ملے گی جو اقدامات غریب کے لیے عمران خان نے اٹھائے ہیں

    غریب کے سونے کا انتظام کر لیا غریبوں کے کھانے کا انتظام کرلیا غریبوں کے پیسوں کا انتظام کرلیا جہاں کوئی ضرورت مند غریب ہو اسے چھوٹا کاروبار کروانے کا انتظام کرلیا

    الغرض محدود وسائل کے باوجود عمران خان نے غریبوں کا 70 80 فیصد سے زائد مسئلہ حل کر دیا ہے

    اب اگر کوئی غریب خود ہڈحرامی کرتے ہوئے مزدوری نہ کرے محنت نہ کرے اپنا ذریعہ آمدن نہ بڑھائے تو مجھے بتاؤ اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟؟

    اگر اب بھی تم یہی رونا روتے ہو کہ غریب مر گیا غریب لٹ گیا تباہ ہو گیا برباد ہو گیا عمران خان نے غریب کو مار ڈالا وغیرہ وغیرہ

    تو سیدھی سی بات ہے بھئی اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی اگر تم مطمئن نہیں تو پھر آپ بغض عمران میں پاگل ہو چکے ہو اپنا اعلاج کرو  ( )

    @iamAhmadokz

  • ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    خالق کائنات نے جہاں اس فرش أرضی کو پہاڑوں، ندی نالوں ، گنگناتے جھرنوں اور سبز پوش وادیوں سے سجھایا ہے وہاں آسمان ارضی کو بھی ٹمٹماتے چراغوں سے حسن بخشا ہے اور جب چشم انسانی اس خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہونے کیلئے سوئے گردوں جاتی ہے تو اس سے آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ستاروں کی یہ دنیا اپنے حسن کا خراج وصول کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

    یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے معنی پیدا نہیں کی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات، یہ لاتعداد روشن چراغ اپنے وجود کا کوئی مقصد نہ رکھتے ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانے کا انسان اپنی منزلوں کا پتہ لگانے کیلئے ستاروں سے مدد لیا کرتا تھا گویا قدرت نے ان چھوٹے چھوٹے کمکموں کو سفر میں انسانی رہنمائی کا منصب بھی سونپا۔ اس کے علاوہ سورة ملک میں اللہ تعالٰی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور ہم ان کے ذریعے شیاطین کو دفعہ کرتے ہیں جن کیلئے المناک عذاب تیار ہے۔ ایک معتبر رویات کے مطابق گروہ شیاطین آسمان کا حال معلوم کرنے کیلئے وہاں تک رسائی کی کوشش کیا کرتے تھے جن کو روکنے کیلئے ان ستاروں کو ان کی مار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ ” کوئی نہیں جو میرے علم کا احاطہ کرسکے مگر جتنا میں چاہوں ” 

    ستاروں کی دنیا پر اگر غوروفکر کیا جائے تو جدید سائنس کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو ممکن نہیں البتہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی تعداد دنیا کے تمام ساحلوں پر پڑی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ ہے جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض ستارے ایسے ہیں جو زمین کے برابر یا اس سے کم وجود رکھتے ہیں لیکن بہت اے ستارے ایسے بھی ہیں جن کے ایک کونے میں ہماری لاکھوں زمینیں سما سکتی ہیں اور اگر ان حقائق کی روشنی میں کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو عقل انسانی پہلے قدم پر ہی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوجائے۔

    رب کائنات سورة واقع میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی مقام کی اور اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت ہی بڑی قسم ہے جب کہ سائنس نے آج قدرت کے اس راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں گرتے ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اب اس بلیک ہول کی وسعت پر غور کریں کہ اس حجم کتنا ہوگا جس میں سورج اور اس سے بھی بڑے بڑے ستارے سما جائیں اور ان کے وجود کا احساس تک ختم ہوجائے۔ لیکن بات یہاں تک بھی ختم نہیں ہوتئ اکیسویں صدی کے انکشافات کے مطابق کائنات میں ایسے بےشمار بلیک ہول موجود ہیں جو ٹوٹے ہوئے ستاروں کا آخری مسکن کا کام کررہے ہیں۔

    اسلامی عقائد کے مطابق علم نجوم کے اندازوں کی تصدیق کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن اگر اس میں سے غائب اور مستقبل بینی کو نکال دیا جائے تو ستاروں کا علم بھی قدرت الہی کی تصدیق اور اس کی حمد و ثناء سے آزاد نہیں رہ سکتا کیونکہ اللہ تعالٰی کی کوئی بھی تخلیق ایسی نہیں جو نہ صرف اپنے اندر مقصدیت نہیں رکھتی بلکہ اس کائنات کے زرے سے لے کر بڑے بڑے إجرام فلکی تک اس کی شہادت دے رہی ہیں۔

    @WsiKaSlam

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    سوال یہ ہے کہ بچوں کے بناؤ یا بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔ والدین اساتذہ کرام گھر کا ماحول یا پھر باہر کا معاشرہ۔ 

    آج کے نوجوان کا کردار انتہائی گھناؤنا اس لئے ہے نہ گھر والوں نے اس کے کردار پر تنقیدی نظر ڈالی اور نہ ہی سکول و کالج می میں اساتذہ دیکھتے ہیں۔ کہ ہمارے نوجوان کس ڈگر پر چل نکلے ہیں۔

    ہمارے نوجوان کا جو آج کل کردار ہے اس پر اقبال نے بھی کیا خوب کہا 

                لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

    بے شک آپ اس بات کو نہ ماننے کے لئے تیار ہوں برحال آپ کو یہ بات ماننا ہو گی ۔جب سے والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کی تربیت سے مکمل بے اعتنائی اور بے پرواہی برتی ہے ۔ تب سے اس معاشرے کا نوجوان علمی و اخلاقی دونوں پہلوں میں دیوالئے پن کا شکار ہو چکا ہے ۔

    اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے یا سارے والدین اور اساتذہ کرام ہی ایسے ہیں۔ 

    نہیں ایسا ہرگز نہیں لیکن بہت سارے ہیں بھی۔ آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ آج کل کے والدین اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ خود اپنے شاگردوں کے ہمراہ سینما ہال میں موجود ہوتے ہیں  ۔ اور اس چیز کو کونفیڈینس کا نام دیا جاتا ہے ۔ 

    اس حقیقت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔کہ بچہ فطری طور پر نقال ہوتا ہے  ۔ وہ تو گھر میں اپنے والدین اور سکول و کالج میں اپنے اساتذہ کا خوب اچھی طرح مطالعہ کرتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی ایک مشہور مثل سنی ہو گی کہ ‘خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘ 

    جو عمل اور کردار والدین کا ہوگا بیٹا اور شاگرد بھی وہی کرے گا ۔ یہ سچ ہے ماں اگر نماز پڑھے گی تو بچہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اس کی طرح ہی رکوع اور سجود کرے گا ۔ ماں کی طرح ہی دعا کے لئے اپنے ننھے منے ہاتھ اٹھا دے گا ۔

    ہاں اگر ماں ایسا نہ کرتی ہو۔ اگر ماں فلمیں اور ڈرامہ پسند کرتی ہے تو بچہ بھی پھر وہی چیز پسند کرے گا ۔ 

    اگر باپ آوارہ اور اوباش لوگوں میں بیٹھے گا تو بیٹا بھی ویسے ہی دوست چنے گا ۔ ایسا ہی طریقہ اساتذہ کا اتا ہے ان کا ماحول دیکھ کر بچہ سیکھتا ہے ۔ بہر حال کلاس کا کمرہ اور گھر کا ماحول پہلی سٹیج ہے جہاں سے بچے کے بناؤ اور بگاڑ کے سفر کا آغاز ہوتا ہے  ۔ آج کا بچہ علامہ اقبال یا محمد علی جوہر تب بنے گا ۔ جب اس کی ماں اس کو

     لاالہ الااللہ کی لوری سنائے گی  ۔ 

    یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا 

    شکایت ہے یا رب مجھے  خدا وندان مکتب سے 

    سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

    بہر حال اساتذہ اور والدین پرندے کے دو پر ہیں۔ جب تک پرندے کے دونوں پر اپنی رفتار اور پرواز جاری نہیں رکھیں گے۔ دونوں اخلاق و کردار کا نمونہ پیش نہیں کریں گے ۔ تب تک پرندہ بلند پرواز شاہین کی مانند نہیں ہو گا ۔ اور اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچے گا ۔

    بہر حال میں اپنا مؤقف پھر دہراؤں گا ۔ کہ والدین اور اساتذہ کرام کو اپنا اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دینا چاہیے۔ کیونکہ جب تک یہ دونوں بزرگ اپنا کام نہیں کریں گے ۔ تو معاشرے میں شاہین نہیں کرگس ہی پیدا ہوں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار تو باہر کا ماحول اور معاشرہ ہوتا ہے ۔ ہاں اس میں وہ بھی کافی حد تک شامل ہے ۔ اس پر الگ سے کسی دن لکھا جائے گا ۔ انشاءاللہ 

     

    @AhsanNankanvi

  • پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    دنیا میں کسی بھی معاشرے میں خواندگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خواندہ لوگ معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد ہی معاشرے میں بہترین انتظامات اور مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں۔ نا خواندہ معاشرہ کسی جنگل یا حیوانوں کے مسکن کی پرح ہوتا ہے جہاں نہ کوئی قانون ہوتا ہے نہ ہی اس کی عملداری، بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سسٹم ہوتا ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی تعلیم کی ترقی کے بلند و بالا نعرے لگائے جاتے ہیں۔ طلباء و طالبات کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے راگ الاپے جاتے ہیں۔ سکالرشپس اور وظائف کے اجراء کے لیے کروڑوں کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ مگر آخر میں جب تفتیش ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وفاقی سطح سے یونین کونسل سطح تک کے آفیسران کی ملی بھگت سے وہ فنڈز ان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوچکے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام انتہائی دگرگوں حالت سے دوچار ہے۔ صاحب استطاعت طبقہ سرکاری نظام تعلیم کی بجائے پرائیویٹ نظام تعلیم کی طرف جانا زیادہ پسند کرتا ہے۔ مگر جو غرباء یا اوسط طبقہ کے لوگ ہیں وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے پچپن سے کام کاج پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ ان کا سہارا بن سکیں۔ معصوم بچے جب لاشعوری کی حالت میں کسی کام پر جاتے ہیں تو ان کا معاشی استحصال شروع ہوجاتا ہے۔ انتہائی کم اجرت پر گھنٹوں کام لیا جاتاہے۔ ایسے حالات یا تو لاقانونیت کی بنیاد بنتے ہیں یا جرائم کی۔ 

    پاکستان میں پرائیویٹ سکولز مافیاز بھی سرکاری نظام تعلیم کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ غیر معیاری تعلیم دے کر بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کی بجائے تاریک کردیتے ہیں۔ زیادہ فیسوں کے حصول کے لیے بچوں کو بغیر کچھ پڑھائے اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا جاتا ہے تاکہ والدین کی خوشنودی حاصل کی جاسکے۔ مزید پرائیویٹ سیکٹر کی سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت سے سرکاری سکولوں کو یا تو سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں یا پھر سرے سے سکول کو عملہ ہی فراہم نہیں کیا جاتا۔ 

    اگر دوسری جانب سرکاری سطح پر دیکھا جائے تو نظام تعلیم کی بہتری کی طرف کوئی عملی قدم اٹھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کو 73 سالوں میں یکساں نظام تعلیم نہیں مل سکا۔ اسی طرح یکساں نصاب بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سکولز بند پڑے ہیں یا عملہ ہی موجود نہیں ہے۔ 

    ہائیر ایجوکیشن کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی حالات ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ کالجز اور یونیورسٹیز میں مؤثر طریقہ تعلیم نہ ہونے سے اکثر طلباء بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور غلط دھندوں میں پڑنے سے اپنی زندگیاں برباد کر ںیٹھتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کے بعد طلباء کو واضح رہنمائی کا بھی کوئی سسٹم موجود نہیں کہ کس طالب علم کے لیے کونسی فیلڈ بہتر ہے۔ اس طرح ٹیلنٹ بھی سامنے نہیں آسکتا۔ طلباء کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ انہوں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔ مؤثر رہنمائی نہ ہونے سے طلباء تعلیم مکمل کرنے کے بعد معاشی نظام پر بوجھ بنتے ہیں۔ نوکریوں کی تلاش میں پھرتے طلباء غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی کسی قسم کی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی کہ طلباء اور تعلیمی نظام کے اندر کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    لہٰذا ہمارا تعلیم نظام دنیا کے پسماندہ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے بڑی تذلیل اور فکر کی بات کیا ہوگی کہ پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ 500 یونیورسٹیز میں شامل نہیں ہے۔ اعلیٰ اور مؤثر ذرائع نہ ہونے کے سبب پاکستانی طلباء عالمی سطح پر اپنی خدمات پیش کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکومت کو تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاکہ پاکستانی طلباء بھی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکیں۔

    تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • وڈیو مافیاز تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    ویسے تو وطن عزیز ہر قسم کے مافیاز کے نرغے میں ہےہی،

    مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا مافیاز سر اُٹھا رہا ہے۔

    یہ مافیاز اپنے مخالفین اور اپنے ساتھیوں کی قابل اعتراض وڈیوزبنا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

    اس گندے مگر دھندے میں تازہ ترین بھونچال مسلم لیگی راہنما محمد زبیر کی وڈیو کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے،

    جس کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

    وڈیو کس نے جاری کروائیں؟

    وڈیوز جاری کروانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے؟

    ان سوالات کا ابھی تک جواب آنا باقی ہے۔

    وڈیو آنے کے فورا” بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں ۔

    کچھ لوگوں نے مبینہ طور پراسے مریم اور اسکی ٹیم کی کارستانی گردانا اور کچھ نے الزام ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔

    مگر ایک بات جو فوری طور پر زہن میں آتی ہے،

    وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں وڈیو زہن میں آتے ہی جو نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے،

    وہ مریم صفدر کا ہی ہے۔

    وجہ یہ ہے کہ مریم صفدر ببانگ دہل اس دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہیں۔

    جج ارشد ملک مرحوم کی قابل اعتراض وڈیوز جاری کرنے کا اعزاز بھی محترمہ کو ہی حاصل ہے۔

    اس جج کو بلیک میل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے بھی لئے اور بعدازاں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسکی وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

    اس خاندان کی ججوں کو بلیک میل کر کے اور زاتی مفادات پہنچا کرمرضی کے فیصلے کروانے کی بہت پرانی تاریخ ہے۔

    ملک قیوم جیسے ججوں کے نام پر دھبہ افراد کے زریعے بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرواے گئے فیصلے کون بھول سکتا ہے؟

    مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیوز کی ریلیز کے تاریخی موقع پر مریم صفدر نے ایک اور تاریخی اعلان بھی کیا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی ایسی وڈیوز موجود ہیں،

    جو اس وقت جاری کی جائیں گی جب قائد محترم نواز شریف چاہیں گے۔

    یہ چیز حیران کن تھی کہ ایک بیٹی اعلان کر رہی تھی کہ اسکے باپ کے پاس کچھ ایسی وڈیوز ہیں،

    جن سے بوقت ضرورت مخالفین کو بلیک میل کرنے کا کام لیا جاۓ گا۔

    محمد زبیر کی وڈیوز کس نے جاری کیں،

    ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا۔

    کراچی میں کچھ وکلا نے محمد زبیر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دیتےہوۓ قانونی کاروائ کا مطالبہ کیا ہے۔

    دیکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

    محمد زبیر والی وڈیوز کی دوطرح کی انکوائری بہت ضروری ہے،

    تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

    ایک تو یہ پتہ چلایا جاۓ کہ محمد زبیر یہ کبیع فعل کس کے ساتھ اور کیوں کر رہا تھا؟

    کہیں وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے کسی کا مجبوری کا فائدہ تو نہیں اُٹھا رہا تھا؟

    کیونکہ ان میں سے کچھ وڈیوز اس دور کی ہیں،

    جب زبیر بطور گورنر سندھ کام کر رہا تھا۔

    دوسری یہ چیز دیکھنی چاہیے کہ یہ وڈیوز کس نے جاری کیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیاہیں؟

    غریدہ فاروقی،اقرار الحسن اور منصور جیسے کئی لبرلز صحافیوں کے نزدیک ،

    کہ اگر یہ گھناونا فعل باہم رضامندی سے ہوا تویہ زبیر کا نجی معاملہ ہے،

    لہذااس پر کاروائ کی ضرورت نہیں۔انکے مطابق صرف وڈیو جاری کرنے والے کو سامنے لانے کے لئے قانونی کاروائ کی ضرورت ہے۔

    یہ تھیوری اور سوچ بلکل غلط ہے،

    ہم جس معاشرے میں رہتےہیں،

    وہاں اس قسم کے گھٹیا کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    زبیر کی وڈیو میں نظر آنے والا شرمناک کام نہ تو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر،

    ہمارہ معاشرہ پہلے ہی ان لبرلز کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ گھٹیا لوگ ایسے گھٹیا کاموں کے درست ہونے کا بھی جواز دینے لگے ہیں،

    جو ہماری سوسائٹی کی لیے تباہی کا باعث ہے،

    یہ رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

    یہ کام ہر طرح سے شرمندگی کا باعث ہے،

    خاص طور پر جب اسے کرنے والا ایک پبلک سرونٹ یا اہم سیاسی و سرکاری شخصیت ہو۔

    لبرلز کا بس چلے تو ہمیں یورپ میں پائ جانے والی بے ہودگی اور عریانیت کا حصہ بنا دیں،

    مگر اس ملک کے غیور عوام جو اپنی ملکی اور اسلامی اقدار کی اہمیت سمجھتے ہیں،

    وہ ایسا ہر گز ہونے نہیں دیں گے۔

    ہمیں وہ مادر پدرآزادی نہیں چاہیے۔

    جس سے ہم اپنے کلچراور اپنے آفاقی مذہب سے خدانخواستہ دور ہوتے جائیں۔

    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کے لئے بہت سے مافیاز سرگرم ہیں۔

    آجکل نشر کئے جانے والے ڈرامے ہی دیکھ لیں۔

    ان ڈراموں میں موضوعات اور ڈائیلاگ و سین اتنے تھرڈ کلاس اور قابل اعتراض ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

    ان ڈراموں کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا تک نہیں جا سکتا۔

    ان ڈراموں سے نوجوان نسل کو کھلم کھلا غلط پیغام دیا جارہا ہے،

    مستقبل کے معماروں کو مذہبی درخشندہ روایات کا باغی بنایا جا رہا ہے۔

    گھٹیا ڈراموں کےاس مکروہ دھندے ہر حکومتی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر طرف مافیاز کی بھرمار سے حکومت بھی انڈر پریشر رہتی ہے،

    ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا جاۓ تو کئی دوسرے مافیاز اسکی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔

    مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان مافیاز سے لمبے ہوتے ہیں۔

    ان مافیاز کے خلاف کاروائ ضرور ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی حدود اور قیود کا پتہ ہو۔

    کئی دفعہ یہ فیصلہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور تفاوت پیدا کرنے میں زیادہ کردار یہ منفی ڈرامے ادا کر رہے ہیں یا غریدہ جیسے نام نہاد اینکرز ،

    جو باہم رضامندی سے ہونے والے زنا کو جائز سمجھتے ہیں۔

    جیسا کہ محمد زبیر کی وڈیوز سامنے آتے ہی غریدہ نے اپنےٹویٹس میں کہا کہ وڈیو میں نظر آنے والا غلیظ کام اگر باہم رضامندی سے ہوا ہے تو بات دوسری ہے !

    یہاں بات دوسری ہے 

    سے مُراد غالبا” یہی ہے کہ مرضی سے کیا گیا گناہ ،

    گُناہ نہیں رہتا اور یہ کہ اسے چلنے دیں ،بس یہ تحقیق کر لیں کہ وڈیوز کیسے جاری ہوئیں؟

    ہمارے ملک میں صحافت کی بدنامی کا باعث بننے والے غریدہ جیسے ہی لوگ ہیں،

    جو ن لیگ پر اگر کوئ مصیبت آۓ تو اینکری چھوڑ کر ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

    اور بات اگر پی ٹی آئ کی ہو تو انکا بغض ہر حال میں قائم رہتا ہے۔

    ریحام خان کی لچر قسم کی کتاب اور عائشہ گلالئی کے عمران خان پربے بنیاد میسیجز الزامات پر ہفتوں ٹاک شوز ہوتے رہے۔

    اب کہا جا رہا ہے کہ زبیر والے معاملے کی پروہ پوشی احسن اقدام ہوگا،

    حالانکہ وڈیوز میں ہر چیز پوری طرح عیاں ہے۔

    ان دوہرے معیارات نے ہمارے ملک کی صحافت کو رنڈی والا دھندا بنا دیا ہے۔

    پیسے کے بغیر نہ تو خبر دی جاتی ہے اور نہ ہی تجزیہ

    اور جب لفافہ مل جاۓ تو ایک خاص اینگل سے تبصرے کر کے حق لفافہ ادا کیا جاتا ہے۔

    محمد زبیر کی وڈیوز آنے کے بعد اسکا اپنا موقف بھی سامنے آچکا ہے،

    محمد زبیر کے مطابق یہ ایک پست زہنیت کی ڈاکٹرڈ ۔قسم کی فیک کاروائ ہے۔

    ویسے بائ دا وے،انجینئرڈ کاروائ کا تو سنتے رہتے ہیں،

    یہ ڈاکٹرڈ کاروائ کیا ہوتی ہے،؟

    اسکے بارے میں تو کوئ اس کام کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے،

    اور اس کام کا ڈاکٹر ،

    مریم صفدر سے بڑااور سپیشلسٹ اور کون ہو سکتا ہے؟

    جسکے پاس بقول اسکے اپنے،

    وڈیوز کی پوری لائبریری ہے۔

    محمد زبیر کو بھی ایک بار پھر اپنے قائد اور اپنے قائد کی بیٹی سے ہی رہنمائ لینا ہو گی،

    کہ یہ ڈاکٹرڈ ،کاروائ کیسے ہوئ؟#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari