Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کا اصل نام حورشید حسن تھا۰اپ رح ۱۲۴۸ میں ضلع سہارنپور کے قصبے نانوتہ میں پیدا ہوئے۰اپ رح کے والد اسدعلی بن غلام شاہ رح نہایت پرہیزگار اور صوم وصلوۃ کے پابند تھے۰اپ رح بچپن ہی سے سعادت مند ،ذہین اور محنتی تھے۰ابتدائی تعلیم قصبہ دیوبند میں حاصل کی پھر ۱۲۶۰ میں مولانا مملوک علی رح کے ہمراہ دہلی تشریف لے گئے اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی سے علوم حدیث کی تکمیل کی۰بعد ازاں اپ رح شیخ المشائخ حضرت مولانا حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح سے بیعت کی اور تصوف وسلوک کی منازل طے کرتے ہوئے خلعت خلافت حاصل کی۰اس روحانی نسبت نے اپ رح کے باطنی جوہروں کو خوب نکھاردیا۰اپ رح خوش مزاج اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۰

    حد درجہ منکسرالمزاج ،شہرت سے گریزاں،ریاء سے کوسوں دور تھے۰علم وعمل،زاہد وتقوی کے پہاڑ تھے اور بڑے مناظر تھے۰باطل قوتوں سے متعدد مناظرے کیے اور ہمیشہ کامیاب رہے۰اپ رح اپنے اور کے ایک عظیم محدث اور سچے عاشق رسولرسولﷺ تھے۰اپ رح نے حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح کی قیادت میں اپنے رفقائےکار مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا محمد یعقوب نانوتوی رح مولانا شیخ محمد تھانوی رح اور حافظ ضامن شہید رح سے مل کر انگریزوں کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا۰انجام کار اپ رح کے کئ ساتھی شہید ہوئے اور کئ گرفتار ہوگئے۰

    جنگ آزادی کی شکست کے بعد اپ رح نے احیائے دین کا کام دوسرے انداز میں شروع کیا اور دارلعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جہاں سے بے شمار تشنگان علم نے فیض پایا ۰دارالعلوم دیوبند کا قیام تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو علم وعمل کی دنیا میں ہمیشہ جگماتا رہے گا۰اس دارالعلوم کے فضلاء میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن رح،علامہ انورشاہ کشمیری رح،علامہ شبیر احمد عثمانی ،مولانا حسین احمد مدنی،مفتی عزیزالرحمن عثمانی ،مفتی محمد شفیع ،مولانا عبیداللہ سندھی،اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمتہ اللہ علیھم جیسی ہزاروں مشاہیر شخصیات نکلیں جنہوں نے ایک عالم کو اپنے فیض چے منور کیا ۰بالاخر علم وعمل کا یہ افتاب ۴ جمادی الاول ۱۲۹۷ بروز جمعرات ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۰

    حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح سے اتنی زیادہ محبت وعقیدت ہے کہ بہت زیادہ۰حالاں کہ دارالعلوم دیوبند کے دوسرے اکابرین سے بھی عقیدت ہے مگر حضرت نانوتوی رح کی طرف دل زیادہ کھنچتا ہے، ان کے ساتھ قدرتی محبت قلبی ہے جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ائمہ اربعہ میں امام اعظم رح کے ساتھ اور مشائخ عظام میں سے حضرت نقشبندی بخاری رح کے ساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰اسی طرح حضرت نانوتوی رح کیساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰حتی کہ ان کا نام آجائے تو پتہ نہیں مجھے کیا ہوجاتا ہے۰میں اس وقت مسجد میں بیٹھا ہوں ،باوضو بیٹھا ہوں،منبر پر بیٹھا ہوں اگر میں قسم کھا کر کہوں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کیساتھ اپنے باپ سے بھی زیادہ محبت ہے تو میں حانث نہ بنوں گا۰

    ایک مرتبہ اپ رح قطب عالم حضرت گنگوہی رح کے ہمراہ حج کیلئےجارہے تھے۰قافلے میں کوئی حافظ نہ تھا۰رمضان المبارک کا مہینہ اگیا ۰اپ رح روزانہ ایک پارہ حفظ کرکے رات کو تراویح میں سنادیتے تھے ۰کسی کو پتہ بھی نہ چلا اور صرف ایک ماہ کی محتصر مدت میں پورا قران پاک حفظ بھی کرلیا۰

    استاد کا ادب:ادب کی کیفیت یہ تھی کہ مولانا ذوالفقار علی رح جب بیماری میں اپ کے پاس اتے تو اپ رح اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۰ایک مرتبہ مولوی صاحب نے دریافت کیا،حضرت !اپ ایسا کیوکرتے ہیں؟تو فرمایا،حضرت!اس لیے کہ اپ میرے استاد ہیں ۰انہوں نے کہا :میں کہاں استاد ہوں؟فرمایا ایک مرتبہ مولانا مملوک علی رح کسی کسی کام میں مصروف تھے تو اپ سے فرمایا تھاکہ ان کو ذرا کافیہ کا سبق پڑھادو  اس لیے اپ میرے استاذ ہوئے۰

    پیر کے ہم وطن ادمی کا احترام:تھانہ بھون کے ایک شحص کو اہل علم سے محبت تھی۰اس نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کو بتایا کہ ایک دفعہ میں دیوبند میں مولانا قاسم نانوتوی رح کی مجلس میں حاضر ہوا۰مولانا نے فارغ ہوکر پوچھا ،کہاں سے ائے ہو؟میں نے کہا ،تھانہ بھون سے ایا ہوں ۰یہ سن کر گھبرا کر فرمایا کہ بے ادبی ہوئی،وہ میرے پیر کا وطن ہے۰اپ ائے اور میں بیٹھا رہا اپ مجھے معاف کیجئے۰

    شان مسکنت:ایک طالب علم نے حضرت نانوتوی رح کی دعوت کی ۰اپ رح نے فرمایا کہ ایک شرط پر منظور ہے کہ خود کچھ مت پکانا ،گھر میں جوءتمھاری روٹیاں مقرر ہیں وہی ہمیں بھی کھلا دینا۰اس نے منظور کرلیا۰یہ ہے شان مسکنت اور غربت وانکساری اور عاجزی  کہ اتنا بڑا شحص اور اس طرح اپنے کو مٹائے ہوئے تھا۰

    @Tareef1234

  • پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکہ افغانستان سے چلا تو گیا ہےلیکن وہ ابھی بھی افغانستان کے معاملات سے خود کو بے دخل کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ اس خطے میں اس کا Interest
    ہے کیونکہ امریکہ کے سپر پاور ٹائٹل کے لئے جو سب سے بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اس کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے۔ اور اس خطرے کا نام چین ہے جسے کچلنے کے لئے اس وقت امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس جنون میں امریکہ کی حالت اس وقت کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے ہی امریکہ میں افغانستان کے معاملے کو لیکر کافی مختلف طرح کی آراء گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں فوجی قیادت اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی سینیٹ میں کیا کاروائی ہوئی؟ وہ کونسی شخصیات ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے تمام فوجی نکالنا، جو بائیڈن کا غلط فیصلہ ہے؟افغانستان کے معاملے پر تین اہم ممالک کیا سوچ رہے ہیں؟پاکستان پر امریکہ کو غصہ کیوں ہے کیوں وہ پاکستان کر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے؟آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران 26اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جی ہاں وہ کابل ائیر پورٹ جو اس وقت امریکی فوج کی زیر نگرانی تھا اس حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے ان ہلاک ہونے والوں میں
    169افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔جس کے بعد اب امریکی سینیٹ کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بارے میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرلMark Alexander Milleyامریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل Kenneth Franklin McKenzieاور وزیر دفاعLloyd James Austinسے کافی سخت سوالات کئے گئے۔ لیکن آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ اپنے جوابات میں Mark MilleyاورKenneth McKenzieنے واضح طور پر یہ بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں 2500امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ 2020 کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ البتہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انھیں یاد نہیں کہ کسی نے انھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹریJen Psakiکا بھی بیان سامنے آیا کہ صدر جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق تقسیم شدہ رائے ملی تھی۔ لیکن بالاخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کریں۔

    جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فوجی افسران یہ بات جانتے تھے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں سے حکومت ختم ہو جائے گی اور طالبان قبضہ کرلیں گے لیکن صدر جوبائیڈن نے ان کی بات کو نظر انداز کرکے خود فیصلہ لیا تو اس سب کے بعد وہ پاکستان پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان وہ ملک ہے جو کبھی بھی براہ راست افغانستان میں ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں رہا لیکن نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہی ہوا۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے 80 ہزار جانیں قربان کیں اور اپنی معیشت تک تباہ کروائی۔ اس کے علاوہ امریکہ جو ہمارا اتحادی ہونے کا دعوی کرتا تھا اس نے ہمارے اوپر 450 سے زائد ڈرون حملے کیے اور ساتھ ساتھ Do more کا مطالبہ بھی چلتا رہا۔ اور اب ایک بار پھر امریکہ نے اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کا ہی مکو ٹھپنے کی تیاریاں پکڑ لیں ہیں۔ امریکی سینیٹ میں 22ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس کا نام ہےAfghanistan counter terrorism, over-sight and accountability actاس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔اس کے علاوہ بل میں طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اور طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور طالبان کا ساتھ دینے والے عناصر پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا نام خاص طور پر اس بل میں شامل کیا گیا ہے یعنی کہ یہ کوئی اشارہ یا تنبیہہ نہیں ہے بلکہ ڈائریکٹ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اور دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے دونوں کے5050ممبران ہیں ایسی صورت میں کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ پاکستان کی حمایت میں آنا تو بہت مشکل ہے۔

    اب حیرت تو اس چیز پر ہے کہ امریکہ جس نے افغانستان میں خود آنے کا فیصلہ کیا۔پھر وہاں اربوں ڈالر بھی خرچ کئے۔افغان حکومت بھی امریکہ کی بنائی ہوئی تھی۔افغانستان میں فوجیوں کی بھرتیاں اور ٹریننگ بھی امریکہ نے کی جو ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔دوسری طرف سب جانتے ہیں کہ پاکستان سے طالبان کی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کس کا تھا؟ دوحا میں طالبان سے معاہدہ کس نے کیا اور ان کی واشنگٹن ڈی سی میں میزبانی کس نے کی؟جب یہ سب کچھ امریکہ کرتا رہا ہے تو قصور پاکستان کا کیسے ہو گیا۔ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ اس بل کو پیش کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو امریکہ کی لوکل سیاست ہے کیونکہ اگلے ایک سال میں امریکہ کے Mid term elections ہونے ہیں اور رپبلکن پارٹی نے ان الیکشنز کا سوچ کر ہی Popularity
    حاصل کرنے اور سیاست کھیلنے کے لئے یہ بل پیش کیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بل کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔اس بات کے بہت زیادہ چانسز ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو یہ کہے کہ یہ بل رپبلکن پارٹی نے پیش کیا ہے اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کہ آپ ہمیں کیا دے سکتے ہیں تاکہ ہم اس کی مدد سے اس بل کو روک سکیں۔اب بات آتی ہے چین کی امریکہ چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور کیونکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور یہاں پر جاری سی پیک کی وجہ سے امریکہ کو ویسے ہی پاکستان اور چین پر بہت غصہ ہے۔ اور اپنی ناکامی کی وجہ سے امریکہ بالکل بوکھلایا ہوا ہے کہ کیسے اس کا سارا کا سارا الزام کسی اور ملک پر ڈال دیا جائے اس لئے اس معاملے میں پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایسے ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے پاکستان بھی اور چین بھی۔ پاکستان کو ویسے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ معیشت کا برا حال ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوچ لیں کہ حالات کئی گنا زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور جتنے حالات خراب ہوں گے سی پیک پر کام اتنا ہی متاثر ہو گا اور امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔لیکن پاکستان اور چین کو بھی یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک نے بہت محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہے کہ اگر طالبان نے شمولیتی حکومت قائم نہ کی تو آنے والے دنوں میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر مستحکم اور انتشار کا شکار افغانستان کی صورت میں نکلے گا۔اور چینی وزارت خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چین امید کرتا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑے مل کر اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ایک شمولیتی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کریں گے۔پاکستان اور چین کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان دیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے جو وعدے عوامی طور پر کیے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ ہماری پہلی ترجیح یہی ہے۔یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوحہ امن مذاکرات اور طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی بظاہر حمایت بھی کی تھی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اب کی بار خاموش ہیں حالانکہ جب پہلے طالبان کی حکومت آئی تھی تو پاکستان کے ساتھ انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔ دراصل اب کی بار یہ سب جانتے ہیں امریکہ اس وقت بہت غصے میں ہے اور ایسی صورت میں اگر ایک مرتبہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ان ممالک کو اپنے فیصلے کا دفاع ہی کرنا ہو گا۔ اس لئے ان ممالک کے لیے فی الحال یہی بہتر ہے کہ یہ انتظار کریں۔ خاص طور پر پاکستان کیونکہ چین اور روس تو پھر بھی معاشی طور پر مضبوط ملک ہیں امریکہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ہے اور وہ اپنی عزت بچانے اور غصہ اتارنے کے لئے کسی بھی حد تک پاکستان کے خلاف جا سکتا ہے۔

  • جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    ھمارے ملک پاکستان میں جس طرح سے جمہوریت پنپی ھے اس کی وجہ سے جمھوریت کے اصل فوائد عام عوام تک نھیں پہنچ پاۓ ۔ 

    جمھوریت واقعی اگر صحیح معنوں میں کسی معاشرے کا حصہ ھو تو بہترین طرز معاشرت کو کامیابی کے ساتھ دنیا میں رائج کر سکتی ھے ۔ لیکن ھمارے ھاں کسی اور ھی درجے کی جمہوری روایات دیکھنے کو ملتی ھیں ۔ 

    جیسا کہ کوئ شخص ممبر پارلیمنٹ بنتا ھے ۔۔ تو پھر یہ ایک عمومی بات ھے کہ پھر اسکا پورا خاندان ھی ممبر پارلیمنٹ کے طور پر خود کو گردانتا ھے ، اور حیران کن طور پر جو موصوف خود پارلیمنٹ کا حصہ ھوتے ھیں اور جو کسی حلقہ کے عوام کے نمائندے کے طور پر وھاں بیٹھتے ھیں وہ خود بھی سب سے پہلے اپنے خاندان کو ھر محکمے میں "سیٹ” کرواتے ھیں ۔

     اور دیکھا جاۓ تو معاشرے کی جمہوری اقدار اس سطح تک گر چکی ھیں کہ عام عوام کے منہ سے یہ تک سننے کو مل جاتا ھے کہ فلاں ایم پی اے یا ایم این اے اپنے بھائی کے لیے کچھ نھیں کر سکا تو ھمارے لیے کیا کرے گا ۔ 

    اور پھر اگر کوئ ممبر پارلیمنٹ کسی کا سفارشی کام نہ کروا سکے یا نہ کروانا چاھے تو سننے کو یہ ملتا ھے کہ اس کی تو کہیں چلتی ھی نھیں ۔۔ یعنی معاشرہ چاھتا ھی یہ ھے کہ ان کا نمائندہ کچھ بھی کر کے انکا ناجائز مطالبہ بھی پورا کرواۓ ۔ 

    ایک بہت بڑی خلیج محسوس ھوتی منتخب نمائندگان اور عوام کے باھمی تعلق میں ، عوام سمجھتی ھے کہ جسکو ممبر پارلیمنٹ بنا دیا ھے وہی شاید اب کرتا دھرتا ھے انکا ، ادھر سے منتخب نمائندگان بھی عوامی طاقت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا جانتے ھیں ۔ جبکہ اگر وہی نمائندہ اپنی عوام کو اداروں کا کردار ، اپنی آئینی دائرہ کار میں رھتے ھوۓ "طاقت” کے بارے میں بتا دے تو شاید وہ معاشرے میں کچھ بہتری لا سکے اس حوالے سے ۔ 

    جب کہ ان منتخب نمائندوں کو اگر پارلیمنٹ کا حصہ بننے سے پہلے جمھوری اقدار ، اداروں کا صحیح اور آئینی دائرہ کار ، پاکستان اور بین الاقوامی تاریخ ، اور کامیاب جمھوری ممالک کی جمھوریت کے بارے میں تعلیم یا ٹریننگ کے کسی خاص اور "اسمبلی ممبر” کوالیفکیشن کی طرح کا کچھ پروگرام اگر لازم قرار دے دیا جاۓ تو آنے والے تمام اسمبلی ممبران چند سالوں میں شاید اس مملکت خداداد کے اپنے اپنے حلقے کی جمھوری روایات کے سلسلے میں بہت کچھ بہتر کر لیں گے۔  

    اور ھو سکتا ھے کہ پھر جو ھمارے ملک میں کبھی کبھی قوم کی بجاۓ ایک ھجوم دکھائ دیتا ھے ، اسکی Moral values میں بھی مزید ڈیویلپمنٹ دیکھنے کو ملے۔ اس سب کے لیے یقیناً کچھ دھائیاں درکار ھوں گی ، لیکن بہرحال بہتری بھی ممکن ھے ۔ جہاں اگر سنگل نیشنل کریکولم کے ذریعے نئ آنے والی نسل کو "قوم” بنانے کا بہترین بیج بویا گیا ھے ۔۔ اسی طرح ممبر پارلیمنٹ کی ٹریننگ کا کوئ لازم "کورس” سٹارٹ کر کے موجودہ قوم کی سمت بھی درست کی جاسکتی ھے ۔

    خیر اللہ پاک سے دعا ھے کہ ھم اپنی آنکھوں سے جمہوریت کے واقعتاً ایسے فوائد دیکھ لیں جو کہ مغربی ممالک میں لوگوں کو حاصل ھیں ۔ورنہ جو حالات ھیں وہ بحر حال پھر سے خلافت(صدارت) والا سسٹم مانگتے ھیں . اور سسٹم کی تبدیلی بسا اوقات خونی انقلاب مانگتی ھے ، اور تاریخ اسطرح کے انقلابوں کی بہت تکلیف دہ ھی سننے کو ملتی ھے ۔ امید ھے اس بلاگ میں دی گئ تجویز کسی ایسے شخص کی نظر سے گزر جاۓ جو اس پر بے شک مزید کام کر کے آگے کہیں متعلقہ قومی ادارے یا تھنک ٹینک کو دے سکے تو میری اس تحریر مقصد پورا ھو جاۓ ۔ 

    پاکستان پائندہ باد
    | Faizan Ahmad

    Twitter:@iamfzalik

  • کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کوئی مانے یا نہ مانے لیکن میں کہتی ہوں اگر دنیا میں کوئی جنت ہے تو وہ کشمیر ہے۔ اور جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی ان شاء اللّٰہ۔ دنیا کی سر زمین پر بنی ہوئی یہ حسن کی وادی اپنے آپ میں بے مثال ہے۔ کشمیر جنت نظیر ہے۔ وہ کشمیر جس میں سر سبز و شاداب میدان ہوا کرتے تھے وہ کشمیر جس میں سکون کی وادیاں ہوا کرتی تھیں وہ کشمیر آج جل رہا ہے۔ آج وہاں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ آج وہاں آگ اور خون کا طوفان ہے۔ پھولوں کی خوشبو کی بجائے بارود کا دھواں اپنے پھن پھیلائے کھڑا ہے۔

    آگ اور خون کا یہ کھیل ابھی تک جاری ہے۔ اور یہ کھیل کوئی آج کا کھیل نہیں ہے بلکہ بھارت پچھلے ستر سالوں سے کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں پر گولیوں کی برسات کر رہی ہے۔ ان کے مکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ اس وقت کشمیر میں گرفتاری، قتل و غارت، خون خرابہ جلسوں اور ریلیوں پر اندھا دھند فائرنگ عام ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے گھر میں گھس کر ان کے مکانوں کو توڑ رہی ہے دکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارکر سازوسامان لوٹ رہی ہے۔ کشمیریوں کے گھر میں کوئی شہید ہو جائے تو بھارتی فوج انھیں اٹھا کر لے جاتی ہے۔ باپ کو بیٹے کی میت کو سہارا دینے پر اپنی بربریت کے مظاہرے شروع کر دیتی ہے۔ 

    اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک اور سات لاکھ سے زائد زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں۔ سارے کشمیری بھارت کی بربریت اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ کیا بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟ کیا کوئی بھارت کو اس ظلم و ستم سے روکنے والا نہیں ہے؟ کوئی کشمیر کے لیے کچھ بولتا کیوں نہیں؟ پورے عالمِ دنیا میں کوئی کشمیر کے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔ کیا بھارت کو روکنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا؟ روز ٹی وی پر اور سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کی کشمیر پر ظلم و ستم کی داستان دکھائی جاتی ہے ہر لوکل اور انٹرنیشنل چینل اس کی بربریت کے مظاہرے دکھاتا ہے جسے دیکھ کر ہر عام آدمی کا دل پسیج جاتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ دیکھ کر دل پھٹ جاتا ہے لیکن اگر کسی کو فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے بھارتی فوج۔ اگر کسی کو ان مظالم سے فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی۔ پوری دنیا کے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ مسئلہ کشمیر پر نہ تو برطانیہ کچھ بولتا ہے نہ دنیا کی سپر پاور امریکہ۔ عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی اس وقت آنکھیں بند کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتے دیکھ رہا ہے۔ اس بار موجودہ حکومت نے اقوامِ متحدہ میں عالمی فورم پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے جو ہمیشہ کی طرح بھارت کی بربریت میں دب کے رہ گئی ہے۔ 

    مسئلہ کشمیر صرف دو چار لوگوں کی زندگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دو کروڑ کشمیریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ یہ پاکستانیوں کی آزادی کا مسئلہ ہے اس کی سلامتی اور استحکام کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہا جاتا ہے اور شہ رگ کے کٹ جانے سے سارا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے جس طرح اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا موضوع اٹھایا ہے اب سارے کشمیریوں کی توقعات عمران خان سے جڑی ہیں۔ عمران خان مودی سرکار کے لیے ایک برا وقت بن کر ابھر رہا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم کے پہاڑ توڑ دے لیکن پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لیکن میرا اقوام متحدہ سے یہ سوال ہے کہ کیا کبھی کشمیر آزاد ہوگا؟ کیا کبھی کشمیر پر ظلم و ستم کے بادل کم ہوں گے؟ کیا کشمیری بارود اور بمباری کے دھواں کی بجائے پھولوں کی مہک میں سانس لے سکیں گے؟ اور کیا کشمیر عالمی دنیا میں اپنا ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے جگہ بنا پائے گا؟

    @alifsheen_5

  • مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں”  صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎

    مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں” صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎


    انااللہ واناالیہ راجعون !!!

    موت جسے ہر انسان چاہے وہ جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے چاہے وہ جس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جانتا ہے کہ وہ جتنا بھی اس دنیا میں جی لے جہاں بھی جائے لیکن اس نے موت کا ذائقہ تو لازمی چکھنا ہے۔ اور روح پرواز کرنے کا وقت بڑا ہیبت ناک ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ گنہگار کی روح جسم سے ایسے نکلتی ہے جیسے مخمل کا کپڑا جھاڑیوں پہ ڈال کر پھر زور سے کھینچا جائے جبکہ مومن کی موت گویا آٹے سے بال نکالنے کے مترادف ہے۔ وہ لمحہ جب روح جسم سے نکل رہی ہوتی ہے اس لمحے کو "عالم سقرات” کہتے ہیں جو بڑا ہی کربناک منظر ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو عالم شروع ہوتا ہے اسے "عالمِ برزخ” کہتے ہیں یعنی قبر۔

    سب سے پہلے اسکی روح پاؤں سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر میں سر سے نکلتی ہے اگرچہ دماغ کچھ لمحیں زندہ رہتا ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے یا اسکی روح پرواز ہو جاتی ہے تو اسے یوں لگتا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اسکے ساتھ جو جو ہوتا اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب میں ہے۔ اسے نہلایا جاتا ہے کفن پہنایا جاتا ہے نماز جنازہ پڑھایا جاتا ہے اسے بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ جو سب کچھ ہو رہا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد عالم برزخ شروع ہو جاتا ہے اس کے اہل و عیال اس کے جسم خاکی کو قبر میں دفن کر کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں تب دو فرشتے آتے ہیں اور ایک اسے کاندھے سے ہلائے گا تاکہ وہ اٹھ بیٹھے تو اس کا جو خواب تھا اب وہ اس سے بیدار ہو چکا ہوتا ہے اور سب سے پہلے وہ اپنے کفن کو ہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ میرا لباس کہاں ہے؟ اور میں کہاں ہوں اس وقت تب اسے ایک فرشتہ بتاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے اور اب وہ اپنی قبر میں بیٹھا ہے۔ وہ فرشتے جو اسکی قبر میں اتارے جاتے ہیں انہیں "منکر نکیر” کہتے ہیں۔۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو تب وہ چیختا چلاتا ہے اور خدا کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے مجھے آپکی رحمت اور فضل کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے میری مدد فرما۔
    اگر وہ مسلمان ہوگا ایمان والا ہوگا اور اس نے اچھے اعمال کیے ہونگے تو اسے بخش دیا جائے گا اور وہی قبر اس کیلیے باغِ بہشت بن جائے گی۔۔۔ اگر اس نے برے اعمال کیے ہونگے اور لوگوں کو ستایا ہوگا یا گناہ کبیرہ کرتا رہا ہوگا تو اسے سخت سزا دی جائے گی اور اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور قیامت تک وہ اس سزا کی بھٹی میں جلتا رہے گا جب تک اللہ کا فضل نہیں آن پہنچتا۔۔۔
    یہ وہ عالم ہوتا ہے جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا سوائے سلامتی والے دل اور نیک اعمال کے۔ جو وہ دنیا میں کر کے آ چکا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ صدقہ جاریہ جو وہ اپنی زندگی میں کرتا ہے اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ جیسا کہ مسجد بنانا، نلکا لگانا، درخت لگانا وغیرہ۔۔ ہو سکتا ہے یہی صدقہ جاریہ اسکی بخشش کا ذریعہ بھی ہو۔
    اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں انسان پر۔ دنیا میں مرتے دم تک انسان کو مہلت ہوتی کہ وہ اپنے اعمال پہ نادم ہو کر خدا کے حضور توبہ کر لے لیکن جب موت آ جائے اس پر تب یہ دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لیے ابھی وقت ہے توبہ کر لی جائے۔
    اسلام میں بھائیوں اور بہنوں ، یہاں آپ کے پاس دو آپشن ہیں:
    1۔ یہ چھوٹا سا علم صرف یہاں پڑھا جائے اور کچھ نہ ہو۔
    2۔ اپنے خاندان کے لیے دعا کریں۔
    اس کے علاوہ حکم ہے کہ اہل و عیال میں سے جو فوت ہو جائے تو اس کیلیے مغفرت کی دعا کرتی رہنی چاہیے کہ اللہ کا کرم ہو جائے اور بندے کی بخشش ہو جائے۔
    اے اللہ ، میری جان مت لینا جب تک میں اپنی پوری طرح نہ ہوں اور تم سے ملنے کے لیے تیار نہ ہوں آمین،
    تحریر مدثر حسن


  • میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    تو بات ہورہی تھی ہمارے میڈیا کی
    کل ہی زبیر عمر صاحب کی کچھ وڈیوز لیک ہوئیں جن پر ہمارا میڈیا ہمیں اخلاقیات پڑھا رہا تھا وہی لوگ جن کا خود اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہی زیادہ دور نہیں جاتے چند دن پہلے کے واقع کو ہی دیکھ لیتی ہیں جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر کہ رکھ دیا
    تو بات ہوری تھی عائشہ اور ریمبو والے واقع کی زرا تفصیل میں جاتے ہیں۔۔ کیونکہ اب تو معاملہ کھلنے کے بعد دب بھی چکا ہے
    پہلے پہل تو محترمہ نے خود اپنے عاشقوں کو دعوت دی آنے کی لیکن یہاں سوال یہ کہ
    لڑکی نے جھنڈا انڈیا کا اٹھایا یا پاکستان کا سہی سلامت کیسے نکلی یہ ڈیبیٹ ہی نہیں مسلہ یہ ہے کہ ہم جب پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی والے دن انکی ہار کی خوشیاں منارہے تھے اس سے ایک دن پہلے پاکستانی عوام پاکستان کا قانون اور شخصی ازادی جیسے حساس موضوغ عالمی دنیا سے لخ لعنت سمیٹ چکے تھے
    اگلہ سوال
    وہ منار پاکستان کیسے گئی اور کیا اتنے اہم دن کوئی بھی فیمیلز لے کر نہیں آیا تھا جیسے اس بات کو جانتا ہے کہ آج منٹو پارک اور اقبال کی آرام گاہ پر پاکستان کی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے
    کیوں کہ وڈیو میں دور دور تک کوئی اور عورت نظر نہیں آرہی
    اب پاکستانی سینٹی عوام سے گزارش ہے کہ زرا تہ تک جاکر سوچیں ٹھیک ہے معاملہ دل خراش ہے مگر اس سے ایک دن پہلے طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور اس تین چار دن پہلے خان سے ایک امریکی صحافی پاکستان میں اسلام کی وجہ سے عورتوں کی آزادی کو خطرہ سمجھ تھی جس کے جواب میں خان صاحب نے یورپئن کنٹریز میں ریپ کے اگلے پچھلے واقعات سنا کر پاکستان کو عورت کے لیے سیگ ملک کہا تھا

    اور معاملہ تب تک دبا رہا جب تک عزت ماآب اقرار الحسن سید اور جناب یاسر شامی نے انکا انٹر ویو نا کر لیا وہ پاکستان جہاں نمرہ علی کی بھونڈی وڈیو دو گھنٹے میں وائرل ہوجاتی ہے وہاں ایک سیکچوئل ہراسمینٹ کی وڈیو تین دن تک کیسے دبی رہی جب کہ وڈیو کئی لوگوں نے بنائی اوت یہ کیسے ممکن ہو کہ وہ سارے لوگ اس انتظار میں ہوں کہ کب طالبان عورت کے لیے برقع لازمی قرار دیتے ہیں

    پاکستانی میڈیا اگر پاکستان کے حق میں کوئی خبر دیکھ لے تو اس کو نشر کرنے کے لیے ان کو پہلے تو کافی پریشانی ہوتی ہے پھر اگر نشر کر بھی دیں تو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں انڈین میڈیا اپنی گورنمنٹ کی جھوٹی خبر کو بھی ایسے سچ کر کے دیکھاتا ہے جیسے وہ سچ ہی ہو

    پاکستانی میڈیا کو اگر پاکستان کو بدنام کرنے یا پاکستان کا امیج خراب کرنے کے حوالے سے ہلکی سی خبر یا امکان بھی نظر آ جائے تو اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے بس پاکستان میں طوفان برپا ہونے والا ہے

    حکومت پاکستان اگر کوئی پالیسی بنانے کا سوچتی ہے تو ہمارا میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ میڈیا کا احتساب نا ہو سکے بلکہ میڈیا والے اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکیں

    اگر کوئی میڈیا سیکشن حقیقت عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا یے تو باقی میڈیا مالکان اس کے خلاف کھڑے کو جاتے ہیں اور اس کو کام کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں

  • کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    تین روز قبل اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستانی وزیراعظم کے خطاب ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ورچول آن لائن سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کشمیر اور افغانستان کے مُدے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور اقوام عالم کو کشمیر،افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی المیوں سے آگاه کیا
    قارئین چند روز قبل ہی کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کا انتقال ہوا ہر آزادی کا متوالا مغموم تھا لیکن سونے پہ سہاگہ یہ کہ بھارتی حکام سید علی گیلانی کی میت اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا بھارت کا یہ انکار نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آزادی کی ٹحریک کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو کہ مستقبل قریب میں آزادی کی تحریک کو نئی جِلا بخشے گی
    افغانستان کے مسئلےپر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اقوام عالم کو بتایا کہ افغانستان میں جنگ چھیڑنے کا فیصلہ امریکہ کا تھا اور ادھر سے ناکام نکلنے کا فیصلہ بذات خود امریکہ نے کیا لیکن اس سارے معاملے میں پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بننے کی غلطی کی اور اس غلطی کا نقصان بھی صرف اور صرف پاکستان کو ہوا پاکستان نے اس جنگ میں نا صرف 80 ہزار قیمتی اور بے قصور پاکستانی جانیں گنوائیں بلکہ کئی ارب ڈالرز کی معیشت کا بھی نقصان کیا جس کی بھرپائی آج تک ممکن نہ ہوسکی اس سارے معاملے میں غم تو یہ ہے کہ بجائے امریکہ ہماری قربانیوں اور بے لوث دوستی کو سراہتا اس نے اپنی ناکام پالیسیوں پر پاکستان ہی کی سرزنش کردے اور ناکامی کا قصور وار پاکستان کو ٹھہرانے لگا
    قارئین جیسا کہ اس دور میں میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس سارے پروپیگینڈے میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان کے خلاف امریکہ کو ہر وقت اکساتا رہتا ہے اور ISI کا جو ڈر بھارت میں بیٹھ چکا ہے اسے ہر وقت کیش کرتا رہتا ہے بھارت نے نا صرف امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں امریکہ سے پاکستان ڈبل گیم کررہا ہے بلکہ اس بات پر بھی اماده کرلیا کہ تمام دھشت گردی اور افغانستان میں امریکی ہار کا اصل ذمہ دار بھی پاکستان ہے
    دریں اثنا اقوام متحده کے اجلاس کے بعد مودی کمیلاہیرس سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد مودی نے چالیس ٹویٹ کئیے لیکن کمیلاہیرس کی طرف سے ایک ٹویٹ بھی نہیں کیا گیا یہ ٹویٹ بھارتی پروپگینڈےطکا حصہ تھیں جس میں بھارتی مفادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اس ملاقات کے بعد مودی نے جوبائیڈن سے بھی ملاقات کی ۔
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ مودی نے اقوام متحده ،کمیلاہیرس اور جوبائیڈن سے جو بھی ملاقاتیں کیں ان سب کے دوران کشمیر،سکھ اور دلت برادری سراپا احتجاج رہی اور بھارت اور مودی کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی رہی لیکن مودی نے ان سب چیزوں کی پرواه کئیے بغیر اور ان برادریوں کی دادا رسی کے بغیر اپنا مزموم ایجنڈا جاری رکھا اور بائیڈن کے سامنے اپنی تمام خواہشات رکھ دیں جن کی تکمیل کے لئیے یہ دوره امریکہ کیا تھا
    مودی نے جوبائیڈن سے تین چیزوں پر بات کی جن میں سے سب سے پہلی بھارت کی یہ خواہش تھی کہ اسے Aukus اتحاد میں شامل کیا جائے قارئین یاد رہے کہ یہ اتحاد بڑھتی بین الااقوامی فضا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسٹریلیا،برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ اور ان ممالک کی دنیا پر حکمرانی کوقائم رکھنےچکے لئیےبنایاگیا
    اس اتحا میں شامل ہوکر بھارت کامقصد تو بڑی عالمی طاقت بننے کا تھا لیکن صد افسوس بھارت کا یہ ادھورا خواب ادھورا ہی رہا مودی نے افغانستان میں امریکی مدد اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر امریکی خاموشی کا مطالبہ کیا تو امریکی صدر نے مودی جی کو کھری کھری سنادیں مودی جی جو وزیراعظم کی حثیت سے اپنے بڑے مطالبات منوانے چلا تھا امریکہ کی طرف سے سرزنش اور ڈومور کے مطالبے کے ساتھ واپس لوٹے اور اپنی قابلیت جس پر وہ بھارت میں جنتا کو بھرپوربےوقوف بناتے ہیں اسکا بھانڈاپھٹوا کر آگئے
    امریکی صدر جوبائیڈن نے ناصرف مودی جی کو کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف وزیاں یاد کروائی بلکہ پورے بھارت میں اقلیتوں میں ہونے والے مظالم سے روکا جوبائیڈن نے مودی کو نئے بھارتی شہریت بل پر بھی خوب ڈانٹ پلائی اور ان اقدامات سے ہونے والی دشواریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے پرزوردیا
    اور ہندتوا کو بے لگام گھوڑوں کو لگام دینے کےلئیےصدربائیڈن نے مودی جی کوانہی کے آزادی دہندہ موہنداس کرم چندگاندھی جی کےامن پسند فرمان یاد کروائےاور اس امن پسندی کے سبق کے ساتھ مودی جی کو چلتا کیا یاد رہے گاندھی جی اپنے اس فلسفے کوعدم تشدد،احترام اور برداشت کا فلسفہ کہتے تھے
    قارئین یوں مودی جی جنہوں نے UN کے خالی میدان کو جیتنے کے لئیے اتنا پیسہ بہایا وہاں جاکر بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کرپائے اور دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بغیر امریکہ جائےاور مودی کے لئیے میدان خالی چھوڑ کر بھی سفارتی جنگ جیت لی اور بھارت سمیت پوری دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کے بہادر لیڈر اور عوام بھارت سے کئی گنا قابل اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے اصولی موقف کے دفاع کی بھرپور قابلیت رکھتے ہیں
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج پائندہ باد
    @Naseem_Khera

  • یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک اور ٹوئٹر کے بعد یوٹیوب نے ویکسین مخالف مواد کو پلیٹ فارم سے بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت عالمی ادارہ صحت یا ممالک میں منظوری حاصل کرنے والی ہر قسم کی ویکسینز کے اثرات کے خلاف گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کی جائے گی۔

    ویکسین کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے استعمال سے دائمی مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے یا ویکسین سے بیماری کا پھیلاؤ کم نہیں ہوتا یا تحفظ نہیں ملتا وغیرہ پر کمپنی کی جانب سے ایکشن لیا جائے گا۔

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    تاہم صارفین کی جانب سے ویکسین پالیسیوں، نئے ویکسین ٹرائلز اور ماضی میں ویکسینز کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے مواد کو پوسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

    صارفین ویکسینز پر سائنسی بحث اور اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرسکیں گے، مگر ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن باتوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

    یوٹیوب کے علاوہ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کورونا کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس سے پہلے اگست میں یوٹیوب نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے والی 10 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹا دی تھیں۔

    فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    یوٹیوب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت، امریکی سینٹر فارڈیزیز کنٹرول سمیت دیگر ماہرین صحت کی رائے کو دیکھتے ہوئے ویڈیوز کے مواد کو چیک کیا گیا ویڈیوز میں کورونا کے بارے میں معلومات غلط، نقصان دہ اور غیر واضح تھیں۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر ہر منٹ میں 500 گھنٹے سے زیادہ مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔

    یوٹیوب کے گلوبل ترسٹ اینڈ سیفٹی نائب صدر میٹ ہالپرین نے بتایا کہ جامع پالیسیوں کو تشکیل دینے میں وقت لگتا ہے، ہم ایسی پالیسی لانچ کرنا چاہتے ہیں جو جامع، تسلسل کے ساتھ نفاذ کے لیے آسان اور چیلنجز کا سامنا کرسکے۔یوٹیوب کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کووڈ 19 کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد ہے۔

    یوٹیوب نے اگست 2021ء میں بتایا تھا کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر کووڈ 19 سے متعلق بہت زیادہ خطرناک گمراہ کن مواد پر مبنی 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا ہے۔یوٹیوب کے چیف پراڈکٹ آفیسر نیل موہن نے یہ اعدادوشمار ایک بلاگ پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2020 سے اب تک 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا تھا فیس بُک نے اپنی پریس ریلیز میں کہا تھا کہ جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلاتے ہیں، ان کی پوسٹس کو ہٹانے کے بجائے ان پر لیبل لگا کر صارفین کو خبردار کیا جائے گا۔

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں    شیخ رشید

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں شیخ رشید

    وزیر داخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد وومن چیمبرز آف کامرس کی تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ 20اکتوبر سے پہلے خواتین بازار کا آغاز کردیا جائے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ سلمان شہباز کو پاکستان آنے کی اجازت ملی ہے تو اپنے تایا کو بھی ساتھ لے آئے،(ن) لیگ تقسیم کا شکار ہے، ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ نکلے گی کہتا تھا، اب کہتا ہوں ’م‘ بھی نکلے گی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    وزیر داخلہ نے مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ہے حکومت چار بنیادی چیزیں اور چار دوائیاں انسولین، بلڈ پریشر، وغیرہ سستی کرنے جارہی ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد ویمن چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ راولپنڈی میں دو یونیورسٹی بنائی اب تیسری بھی بناؤں گا-

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سیریز نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے ساتھ ہی ،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا-

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

  • روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    ماسکو: روسی عدالت نے سرچ انجن گوگل پر 90 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو کی مقامی عدالت نے سرچ انجن گوگل کو غیر قانونی مواد ڈیلیٹ نہ کرنے جرمانہ عائد کیا جو تقریبا ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے بنتا ہے۔

    گوگل کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے حوالے سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    روس نے یوٹیوب کی جانب سے روس کے جرمن لینگویج چینلز کو ڈیلیٹ کیے جانے پر یوٹیوب پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ ماسکو کی ایک عدالت نے ممنوعہ مواد ڈیلیٹ نہ کرنے پر فیس بک پر 21 ملین روبلز مالیت کے 5 جرمانے عائد کیے تھے جو 2 لاکھ 88 ہزار امریکی ڈالر بنتے ہیں جبکہ اسی عدالت نے ٹوئٹر پر بھی 5 ملین روبلز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    اس سے قبل جنوبی کوریا میں بھی گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی کی جانب سے جرمانے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ گوگل نے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی مارکیٹ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔

    یہ جرمانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف ریگولیٹری اداروں کے اقدامات میں نیا اضافہ ہے جنوبی کوریا نے ایک ایسا نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ایپس اور گیموں کی دنیا میں اس کی اجارہ داری کو کم کرنا ہے۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    جنوبی کوریا کی جانب سے گوگل اور ایپل جیسے بڑے ایپ سٹور آپریٹرز پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنے ادائیگی کے نظام استعمال کرنے پر مجبور کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گوگل نے "اینٹی فریگمنٹشن معاہدے” کے ذریعے مارکیٹ کے مقابلے کے رجحان میں رکاوٹ ڈالی ہے جو سمارٹ فون بنانے والوں کو اینڈرائیڈ کے ترمیم شدہ ورژن انسٹال کرنے سے روکتا ہے، جسے "اینڈرائیڈ فورکس” کہا جاتا ہے-

    اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے گوگل کو مقامی کرنسی میں 207.4 ارب (176.8 ملین ڈالر) جرمانہ کیا تھا اور ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی کو اصلاحی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ