Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    آج عالم اسلام کے مرکزمملکت سعودی عرب کا قومی دن جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کہ سفارتخانوں میں تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے۔سعودی عرب کے قومی دن پر ہر مسلمان کے جذبات مختلف ہیں۔سعودیہ عرب سے پاکستان کا دینی اعتبار سے بھی اہم رشتہ ہے کعبۃ اللہ اور گنبد خضریٰ کی وجہ سے.پاک سعودی تعلقات پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل کے ہیں.1946ء میں قائد اعظم نے ایم ایچ اصفہانی کی معیت میں مسلم لیگ کا ایک نمائندہ اقوام متحدہ بھیج دیا اس وفد کے ذمے یہ کام سونپا گیا تھا کہ تحریک پاکستان کے لئے عالمی راہنماؤں کی تائید حاصل کی جائے۔ اقوام متحدہ کا اجلاس شروع ہو چکا تھا تب چونکہ پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے مسلم لیگ کے وفد کو اجلاس میں داخل ہونے سے روک دیا۔اس وقت سعودی وفد کی قیادت شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز (جو بعد ازاں مملکت کے بادشاہ بنے)کر رہے تھے۔ جب معلوم ہوا تو بنفس نفیس خود باہر نکل کر انھوں نے مسلم لیگ کے وفد سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اپنے ہوٹل میں ایک ظہرانہ رکھا اور عالمی راہنماؤں کو وہاں مدعو کیا اور ان سے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا وفد آپ کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے چنانچہ نیویارک کے ہوٹل میں وفد نے اپنا موقف عالمی راہنماؤں کے سامنے پیش کیا۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو مرحوم شاہ عبدالعزیز آل سعود پہلے راہنما تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹیلیفون کرکے مبارک باد پیش کی تھی.اس کے بعد پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب مین مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔جبکہ سعودی دارالحکومت ریاض اور جدہ شہر میں ”شارع محمد علی جناح ” کے نام سے سڑکیں موسوم ہیں۔ایک وقت وہ بھی پاکستان پر آیا جب ہمارے ہمسائے ملک بھارت نے دھماکے کرکے ہمیں خبردار کردیا.پورے عالم اسلام میں کسی کے پاس ایٹمی قوت نہیں تھے.پاکستان نے بسم اللہ پڑھ کر اس منصوبے پر کام شروع کردیا.عالمی طاقتوں نے پاکستان کے قرضے بند کردیے پاکستان کی امداد روک دی کوئی پاکستان کو ایک بیرل تیل دینے کو تیار نا تھا.اس موقع پر مخلص دوست سعودی عرب نے پچاس ہزار بیرل تیل فی دن کے حساب سے تین ماہ مفت تیل دیا جس سے پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکا.جب پاکستان ایٹمی قوت بن گیا اور 1998 ء مئی میں چھ دھماکے کرکے بھارت کو اس کی جارحیت کا جواب دیا دوسری طرف سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اللہ کے حضور سجدے میں جھک گئے اور سعودیہ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں کیونکہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا تھا.
    کوئی بھی ایسا مشکل وقت پاکستان پر آیا ہو سعودی حکومت نے پاکستان کا ساتھ دیا.جب حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے دوران جنگ ہوئی توسعودیہ عرب نے پاکستان سے مدد طلب کی.پاکستان نے اس وقت کے حکمران میاں محمد نواز شریف کو اپنے حامیوں سمیت دیگر اراکین اسمبلی کی مخالفت بھی تھی اس کے باوجود انہوں نے سعودیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی حامی بھرلی اور یہاں سے فوج روانہ کی.سعودیہ عرب نے پاکستان کے ساتھ ملکر فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا جس میں 39 ملک کی افواج کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس فوجی اتحاد کی سربراہی جنرل راحیل شریف کو سونپی گئی جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے.
    پاکستان اور سعودیہ کی دوستی کے بارے میں اگر لکھا جائے تو کتاب چھپ سکتی ہے اتنے الفاظ ہیں تو چلتے ہیں پاکستان کی برسراقتدار حکومت کے سعودیہ عرب سے تعلقات کی طرف جب عمران خان صاحب وزیر اعظم بنے انہوں نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودیک عرب کا دورہ کیا اور اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں دورے کیے جن میں سعودی عرب کے حاکم کو پاکستان دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کی اور پاکستان تشریف لائے اس دوران کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔اس حالیہ کورونا وباء نے پوری دنیا میں اپنا جال بچھایا اسی طرح سعودی عرب کو بھی بری طرح اس نے متاثر کیا۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے لاکھوں زائرین حرمین شریفین اور مدینۃ النبی ﷺ کی زیارت سے محروم رہے۔اس وباء کے دوران سعودی حکومت نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔بالخصوص حج جیسے فریضے کو رکنے نہیں دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں سعودی حکومت کا قابل تحسین اقدام ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کا قلب وجان کا تعلق خدا تعالی ہمیشہ قائم رکھے اور سرزمین حرمین کو دشمن کی نظر سے محفوظ رکھے۔آمین

  • نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) نے بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقدمہ سائبر ٹیرارزم سیکشن 109اور 506 کے دفعات کے تحت درج کیا گیا ہےمقدمہ کے مطابق ملزمان کی جانب سے ای میل کے ذریعے حملہ کرنے کی اطلاع دی گئی،ہوٹل اور جہاز میں بم رکھنے کی دھمکی دی گئی۔ای میل کا آئی پی ایڈریس پہلے سنگا پور پھر بھارت سے لنک تھا۔ملزمان نے وی پی این کے ذریعے ای میل کی ۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے…

    مقدمہ ایف آئی اے انسپکٹر وسیم خان کے بیان پر درج کیا گیا ہے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے مطابق مقدمہ انٹرپول کی جانب سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں انکوائری کے بعد درج کیا گیا۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان میں پہلے ون ڈے سے کچھ دیر قبل ہوٹل سے گراؤنڈ جانے سے انکار کردیا تھا اور سکیورٹی کا بہانہ بنا کر یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کر دی گئی، گزشتہ روز بھی انگلینڈ نے بھی نیوزی لینڈ کی طرح پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    اس سے قبل کیویز کی طرف سے یکطرفہ کرکٹ دورہ منسوخ کرنے کے بعد پاکستان نے نیوزی لینڈ سے باضابطہ احتجاج کیا تھا پاکستانی ہائی کمشنر مراد اشرف جنجوعہ نے نیوزی لینڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران ہائی کمشنر نے احتجاجی مراسلہ نیوزی لینڈ حکومت کے سپرد کیا تھا۔

    پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان ملتوی کرنا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس انداز میں دورہ ملتوی ہوا وہ غلط ہے، دورہ ملتوی کرنے سے متعلق کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں، پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    جاپان میں پیدا ہونے والے قیمتی انگور کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے سے زائد ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں ایک ایسا انگور بھی پیدا ہوتا ہے جو انتہائی نایاب ہے اس انگور کو مارکیٹ میں روبی رومن کے نام سے جانا جاتا ہے-


    انگور کی اس قسم کو رنگوں کے حساب سے تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ایک گچھے کو اس بار 76 ہزار 174 روپے میں فروخت کیا گیا اور امریکی کرنسی میں یہ رقم 450 ڈالرز بنتی ہے۔

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

    اس انگور کے سائز، ذائقے اور رنگت کی وجہ سے اس کو نایاب سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت عام انگور سے کہیں زیادہ ہے اس انگور کو فروخت سے پہلے انسپیکشن کے لیے لے جایا جاتا ہے جہاں پر فوڈ ماہرین رنگت، ذائقہ اور دیگر چیزوں کو چیک کرنے کے بعد اس کو فروخت کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    جاپان کی یونیورسٹی پرفیکٹورال کے محقق ہیروشی نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا حصے میں انگور کی یہ قسم نہیں پیدا ہوتی اور اسی وجہ سے اس کو انفرادی حیثیت حاصل ہے۔

    حراست میں لیےگئےسینئر صحافی وارث رضا:خود ہی گھرپہنچ گئے

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

  • اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اگر لڑکیاں چاہتی ہیں سسرال میں بھی والدین کے گھر جیسی لاڈبھری اور شاہانہ ٹائپ ذندگی ملے انجوائے کرنے لے لیے تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے میں بھی دلچسپی لینی شروع کردے جو لڑکیاں صرف پڑھائی میں ہی مگن رہتی ہیں اور کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے پھر اگلے گھر وہ بہت خوار ہوتی ہیں اگر تو خوش قسمتی سے سسرال اچھا مل جائے تو پھر اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں بدل دیا جاتا ہے اور اگر سسرال اتنا اچھا نہ مل سکے تو اس کی تعلیم بھی اس کے لیے طعنہ بن جاتی ہے انپڑھ جھٹانیاں بات بات پر طعنے دیتی ہیں کہ ہاں جی یہ پڑھی لکھی ہے لیکن ہے بےچجعی (پھوہڑ)تو لڑکی کی ساری خوداعتمادی ہوا ہوجاتی ہے اور وہ دل میں سوچتی ہے کاش میں سکول کالج نہ گی ہوتی ۔بلکہ گھر کے کام سیکھے ہوتے اور چلاکیاں سیکھی ہوتیں ۔کہ سامنے والا جھگڑ رہا ہوتا ہے اور ایک پڑھتی پڑھتی شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی معصوم سی لڑکی کو پتہ ہی نہیں چلتا اسے آگے سے کیا جواب دینا ہے کیونکہ مائیں آپکی ہر قسم کی اچھی تربیت کرتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں سکھاتی ۔۔اس لیے میری لڑکیوں سے ریکویسٹ ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھیں ۔ خاص طور پر کھانا بنانے کی پریکٹس شروع کردیں تو اگلے گھر جاکر آپ سسرال والوں کے دلوں پر راج کرو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ اتنا میچور تو ہوجاتا ہے جہاں وہ فیشن کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے وہی عقل اور چالاکیاں بھی انسان وقت کے ساتھ سیکھتا جاتا ہے کوشش کریں اپنی چالاکیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔
    آپ کتنے بھی چالاک ۔خوب صورت ۔خوب سیرت ہوں تعلیم یافتہ ہوں (میں لڑکیوں کی بات کررہی ہوں ) لیکن آپ کو اگر اچھا کھانا بنانا نہیں آتا تو آپکی ساری قابلیت کاغذ کےخوبصورت پھول سے ذیادہ نہیں ہوگی جو بظاہر تو خوبصورت لیکن اس میں وہ خوشبو تازگی نہیں ہوگی جو اصلی پھول میں ہوتی ہے
    ۔۔
    کھانے بنانے کے لیے آپکو کسی ورد کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں بس کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے والدین ہماری شادی سے پہلے دیکھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے کیسا اس کا رہیں سہن ہے کتنا کماتا ہے اسی طرح لڑکے والوں کا بھی حق بنتا ہے کہ لڑکی ایسی ملے جو اچھا کھانا بنا سکتی ہو گھر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہو اس کے ساتھ ساتھ گھر کا ماحول کیسے خوشگوار بنانا ہے اس بات کا اسے ادراک ہونا چاہئیے۔کہتے ہیں اپنے شوہر کے دل پر قبضہ کرنا ہوتو اس کا راستہ معدے سے ہوکر دل کی طرف جاتا ہے۔۔!!

    میں ہمیشہ اپنی ماں سے سنتی آئی ہوں کہ جس خاتون کے ہاتھ میں اللہ کا دیا خاص تحفہ ذائقہ ہوتا وہ اپنے شوہر کے دل پر راج تو کرتی ہی ہے اپنے سسرال والوں کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ہمیشہ اپنے ہاتھ صاف ستھرے اور بال لپیٹ کر کچن میں جائیں اور جب بھی کھانا بنانے لگیں” بسمہ اللہ "پڑھ کر شروع کریں اپنا دماغ حاضر رکھ کر اور ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کریں جس نے آپکو ان نعمتوں سے نوازا ۔جو خواتین کچن کا کام خود کرتی ہیں میں نے ان کی فیملی کو صحت مند اور ہشاش بشاش دیکھا کیونکہ جب آپ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا بنائیں گی صاف ہاتھوں سےگوشت دھو کر بنائیں گی ۔صاف ہاتھوں سے گندھا آٹا اس سے پکی روٹی۔۔ آپ کے صاف ہاتھوں سے کاٹی گی سبزی پیاز۔آپ کی محنت سے پکا ہر قسم کا کھانا گوشت سبزی ۔جب ان کے معدوں میں جائے گا تو ان کے دل میں آپکی محبت عزت بڑھے گی آپکے خلوص عقیدت کی تپش ان کے دلوں میں اثر کرے گی کہ کتنی عقیدت محبت سے آپ اپنی فیملی کے لیےکھانا بناتی ہیں ۔گھر میں چاہے آپ نے ملازم ہی کیوں نہ رکھے ہوں (یورپ ممالک میں تو گھریلو ملازم کا تصور ہی نہیں پاکستان کی بات کررہی ہوں )تب بھی کچن کا کام کسی صورت ملازموں پر نہ چھوڑیں اپنی فیملی کے لیے خود وقت نکالیں چاہے آپ جاب ہی کیوں نہ کررہی ہوں ۔۔

    اگر آپ کچن میں چائے بنانے جاتی ہیں چائے کپ میں ڈال کر گیلی گیلی گرم گرم دیگچی اسی وقت واش کردیں بعد میں آپکو محنت سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئےگی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے ہوئے ہر چیز ساتھ ساتھ سمیٹنے کی عادت ڈالیں آج کا کام کل پر نہ ڈالیں جیسے جیسے کھانا بنانے کے دوران برتن بنتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ دھوتی جائیں ،(ہم نے تو کچن پیپر رکھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سب لوگ افورڈ نہیں کرسکتے آپ گھر میں یوز ہوئی پرانی چادریں واش کرکے ان کے چھوٹے چھوٹے پیسیز کی شکل دے کر ایک بڑے شاپر میں ڈال کر کچن کے کسی دراز میں رکھ لیں )جب آپ کھانا بنارہی ہوتی ہیں تو ایک ڈسٹر یا سپونی۔یا پھر کوئی پرانے کپڑے کا پیس پاس ہی رکھیں جس سے کھانا بناتے وقت دیوار پر پڑنے والی چھینٹیں اسی وقت صاف کرتی جائیں ساتھ ساتھ چولہا بھی صاف کرتی رہیں کیونکہ اسی وقت گیلی اور گرم ہونے کی وجہ سے صاف کرنا آسان ہوتا ہے بعد میں آئل اور مصالحہ جات جم جانے کی وجہ سے اکثر داغ رہ جاتے ہیں،جو بعدمیں بہت محنت طلب اور وقت مانگتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں "وقت پر لگایا گیا ٹانکہ آپکو نو ٹانکوں سے بچاتا ہے ”
    کھانا بنانے کے بعد اچھی طرح سینک صاف کردیں شیلف وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہی صاف کرتی جائیں اور کچن کا فرش دھو کر ایگزاسٹ فین چلا دیں ۔کھانے کی مہک اور دھواں وغیرہ باہر نکل جائے گا پھر اپنی فیملی کو بہت محبت پیار سے اپنے ہاتھوں کا مزیدار کھانا پیش کریں اور ڈھیروں محبتیں پیار سمیٹیں ۔اپنی فیملی کا پیار محبت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بیش قیمت تحفہ ہوتا ہے
    اللہ تعالی آپ سب کے گھروں کو آباد رکھے شاد رکھے آپکو اپنی فیملی کے دل کی شہزادی اور آنکھوں کا تارا بنائے رکھے آمین

  • پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل دو اصطلاحات بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
    1۔ پہلی Full spectrum deterrence
    2۔ دوسری Minimum level deterrence

    یہلے ہم Deterrence کو سمجھ لیں تو یہ دونوں اصطلاحات سمجھ آ جائیں گی۔ کسی کو خوف میں ڈال کر اس کو اس کے مقاصد سے باز رکھنے کے عمل کو Deterrence کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کے بل پر خوف پیدا کرکے دشمن کو کسی جارحیت سے روکنے کو Deterrence کہیں گے۔
    ١٩٩٨ء سے پاکستان ایٹمی قوت کے طور دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ اگر آپ ٢٨ مئی ١٩٩٨ء سے فورا” پہلے کے زمانے میں بھارتی مشیروں، وزیروں اور میڈیا کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ فرمائیں تو قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ علاقہ میں اپنی برتری کے زعم میں مبتلاء ہو چکا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کھلم کھلا جارحیت کے پیغامات دے رہا تھا۔دوسری جانب کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں بھارتی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ دنیا ابھی ورطہُ حیرت میں تھی کہ تمام عالمی قوتوں نے پاکستان پر دباؤ پڑھا دیا کہ ایٹمی دھماکے سے باز رہے۔
    ان حالات میں امریکہ تو بہت سی مراعات اور تب کے وزیراعظم (جن کیلئے ایک امریکی جریدہ میں خبر چھپی تھی کہ یہ سب کچھ بیچ سکتا ہے دولت کی خاطر) سے فون پر رابطے اور سفراء کے ذریعہ مختلف حیلہ و بہانوں سے دباؤ بڑھایا گیا۔
    اس وقت ایک پروگرام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان کے مطابق، تمام سیاسی، دانشوروں اور فوجی قیادت اس پر متفق تھی کہ فورا” دھماکے کرکے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہی دھماکوں سے بھارتی جارحیت کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بہت بار مشاورت بھی کی گئی لیکن وزیراعظم مُصر رہے کہ انتظار کیا جائے۔ یہ گرچہ الگ پورا باب ہے لیکن یہاں اختصار سے تذکرہ کر دیا تاکہ ذہنوں میں یادیں تازہ ہو جائیں۔ خیر کہ پاکستان نے بھی دھماکے ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو کرکے ایٹمی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سالمیت کی ضمانت قرار پائے۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی اچانک تمام رویے جو بھارتی قیادت کی طرف سے دھمکیوں اور میڈیا کے نفرت انگیز رویوں سے سامنے آ رہے تھے، پیشاب کی جھاگ ثابت ہوئے۔ ہر طرف بشمول سوشل میڈیا، سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان نے اپنی اس طاقت کو ظاہر کیا تھا جو ایک عرصہ سے تیار تو کر چکا تھا لیکن اپنے ہتھیاروں کو مناسب موقع کیلئے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
    ان ہتھیاروں اور قوت کا مظاہرہ کر کے پاکستان دنیا میں تو الگ مقام حاصل کر چکا ہی تھا لیکن اسلامی دنیا کیلئے پہلا مسلم ملک تھا جو اب تک واحد ہے ایٹمی قوت کے ساتھ، لہذا مسلم امہ کیلئے خاص طور پر قائدانہ مقام حاصل کر لیا۔

    پالیسی:
    یہاں پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پرامن پالیسی جاری رہے گی اور پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے جو اپنے اثاثوں کی ناصرف حفاظت کر سکتا ہے بلکہ اس قوت کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پالیسی کو عام زبان میں Minimum level Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان نے بہت محتاط اور بینظیر کمانڈ سٹرکچر بنایا اور اپنے اہم اثاثوں کی محافظت اور اس کے استعمال کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے۔ کچھ ہی عرصہ میں دنیا کو مطمئن کر دیا کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار ملک ہے اور اس ملک کی قیادت کسی طور پر اپنی سالمیت پر سودا بازی کو قبول نہ کریگی۔
    بعد ازاں پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کے بعد اپنی معیشت کی طرف متوجہ ہوا۔ ہر پاکستانی نے اس ضمن میں محنت کی اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے لگا۔ لیکن حکمرانوں نے قرضہ کی لعنت بھری دلدل میں پاکستان کو ڈبو کر تمام معیشت کو عالمی معاشی اداروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عام عوام کو قرضوں سے خریدی ہوئی سستی روٹی دیکر خوش رکھا جبکہ دوسری طرف اپنے بینک بیلنس اور جائدادیں دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلاتے رہے۔ وہ تمام یورپی ممالک جو کالے دھن کو لعنت کہتے نہ تھکتے تھے، جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
    ١٩٩٨ء کے بعد اچانک آہستہ آہستہ پاک فوج کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی لیکن وہ اقتدار کی بساط لپیٹتے ہی ختم ہو گئی۔ مشرف دور میں ایسی تمام مہمات کسی مقام پر نظر نہ آتی تھیں۔

    مشرف دور کی واحد غلطی ق لیگ کیساتھ ملکر آمر سے سیاستدان بننے کی خواہش نے جنرل مشرف کو دوراہے پر لاکھڑا کیا اور این آر او کا فیصلہ ان کے اقتدار کے تابوت میں واحد کیل ثابت ہوا۔
    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے مشرف دور کے اکٹھے ہوئے خزانوں کو جن کی مالیت تقریبا” ٦٥ ارب ڈالر سے زائد ذخیرہ کہا جاتا ہے، اپنے مفادات میں استعمال کیا۔ ١٠ سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو عملا” معاشی طور پر ایک بار پھر عالمی اداروں کے مرہون منت بنا دیا گیا۔
    امریکی جارحیت افغانستان کے خلاف جاری رہی اور ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات کو استوار کیا اور معاشی و دفاعی معاہدے کئے لیکن ایسے نازک وقت میں اپنے پرانے دوست پاکستان کو یکسر نظرانداز ہی نہ کیا بلکہ بعض مقامات پر بھارت کی حمایت کرکے پاکستان کو زدوکوب کرنے کی بہیمانہ کوششیں ہوئیں۔
    پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر پاکستان کو اندرونی و بیرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے اداروں نے اپنی بہترین کاوشوں کے ذریعہ ایسی ہر کوشش کو بالآخر ناکام بنا دیا۔ اس تمام جنگی صورتحال میں پاکستان کو بہت خون کی قربانی پیش کرنا پڑی۔ لیکن آخر میں آزادی کا چراغ مزید تیز لو کیساتھ جلتا دکھائی دے رہا ہے۔
    اس وقت تک پاکستان نے پرامن ملک اور تمام عالمی قوتوں کیساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔ محتاط پالیسی کو جاری رکھا گیا اور بعض اوقات ثبوت ملنے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے اجتناب برتا تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی بھرپور کوشش جاری رہے۔ لیکن بنیا کب انسانیت دکھا سکتا ہے؟ ایسی ہر کوشش کو پاکستان کی کمزوری سمجھ کر بنیے نے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی دکھاتا رہا۔
    یہ صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل قبول تو رہی لیکن پاکستان نے کبھی اپنی پالیسی کو نہ بدلا۔ ٢٠٠١ء سے جنرل مشرف نے پہلی بار جارحانہ دفاع کی پالیسی کا اعلان کیا۔اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان میں حالات پر سکون ہونا شروع ہو گئے، جبکہ بھارت کی طرف کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں منظم تحریکوں نے زور پکڑ لیا۔ جلد ہی بھارت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پیدا کرنا شروع کی جس کیلئے ہمارے اندر موجود بےوقوف پاکستانی جنت کے شوقین پاکستانی طالبان کی صورت میں مارکیٹوں، اہم سرکاری عمارتوں اور مختلف سکولوں میں پھٹتے نظر آئے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستان سے Do More کے مطالبہ نے پاکستان کو عجیب پریشانی سے دوچار کیا۔ امریکہ خود پاکستان میں آپریشن کا خواہاں تھا، لیکن مشرف حکومت سے کمال سمجھداری سے امریکی خواب چکنا چور کر دیا اور اپنا علاقہ ایسے تمام بیرون ملک سے آئے اور پاکستانی دہشتگردی میں ملوث افراد کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ پاک فوج کا کردار اس پورے آپریشن میں قابل ستائش اور قربانیوں کی لازوال داستان بن گیا۔

    جلد ہی سول حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت میں سامنے آئی اور جنرل مشرف کو وہ NRO جو دیا تھا، ایک پچھتاوا بن کر رہ گیا۔ اب زرداری سٹریٹجی کی بات ہونے لگی۔ زرداری صاحب نے ایک طرف جنرل مشرف کو وردی اتار کر گھر کی راہ دکھائی تو دوسری طرف نواز لیگ کو کمال ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملا کر "باریوں” پر راضی کر لیا۔ عام عوام کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدانوں نے اندرون خانہ اپنے الو سیدھے کرنا شروع کر دئیے۔
    جلد ہی زرداری صاحب کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز لیگ نے معاہدہ کے تحت حکومت بنائی اور دفاعی پالیسیاں سب کی سب جارحانہ کی بجائے کلی طور پر مدافعانہ بن کر رہ گئیں۔ یہی دور تھا جب بھارت نے ایک جانب کشمیر میں ہاتھ سے نکلتے حالات کو قابو کیا تو دوسری جانب مشرقی پنجاب کی بھی تمام مزاحمتی تنظیموں کی کمر کو توڑ ڈالا۔ اسی زمانے میں فوج کے خلاف عوام میں ابتری پھیلائی گئی اور بدنام کیا جانے لگا۔
    حالیہ افغانستان میں تبدیلیوں اور عالمی قوتوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پاکستان نے بھی اپنی پالیسی کو عالمی قوتوں کی پالیسی، خاص طور پر بھارتی میڈیا اور بھارتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر تبدیل کی۔ ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ملک کو بزدل یا مجبور سمجھ کر پاکستان میں بدامنی اور عوام میں بےچینی کا سبب بننے والے بھارت اور چند اور پاکستان مخالف ممالک کی سرگرمیاں اس بات پر پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی پالیسی کو یکسر بدلا جائے، لیکن پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم نے "Absolutely Not” کا نعرہ لگایا جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
    یہ نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ اقوام مغرب اس کو چیلنج کے طور پر ملاحظہ کر رہی ہیں۔وہ قوم جو ایک عرصہ تک ان کیلئے "شرفو” کی حیثیت رکھتی تھی، آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہی ہے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ "گھاس” کھا کر زندہ رہنا سیکھ لیا جائے، لیکن قومی وقار اور قومی سلامتی کیلئے سب ایک ہوکر کھڑے ہو جائیں۔ شعب ابی طالب (ع) میں تین سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی درختوں کے پتے، جڑیں اور کم پانی پر گزارا کیا تھا؟ کیوں؟ تاکہ امت مسلمہ کے افراد وقت پڑنے پر اپنے ایمان کو بیچنے پر مشکلات کو، مصیبتوں کو قبول کریں لیکن اپنے ایمان کو مت بیچیں۔
    اس نعرہ کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ جیسا تعلق تم رکھو گے ویسا جواب یہاں سے ملے گا۔اب یہی پالیسی رہے گی۔ ارجنٹائن کو JF17 Thunder کو بیچنا پاکستان کی معیشیت کیلئے اہم ہے تو بھلا چند میچ پاکستان کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔ آپ کو پاکستان نے کبھی مجبور نہ کیا کہ بھارت کو تو سرخ لسٹ سے نکال دیا تھا ایک عرصہ پہلے جبکہ وہاں کرونا کی تباہ کاریاں ثبوت کیساتھ ظاہر ہیں جبکہ پاکستان کو فقط بھارت کو راضی رکھنے کیلئے سرخ لسٹ میں رکھا گیا۔
    دوسری جانب FATF بھی قابل غور ہے۔ کشمیر میں بھارتی کردار، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر کاروائیاں، ۔۔۔۔۔ کیا تمام دنیا اندھی ہے یا دیکھنا نہیں چاہتی؟

    فیصلہ آپ کیجئے۔

    پاکستان زندہ باد

    کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی،لاہور

  • خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    امریکا میں 20 سال قبل پیش آنے والے نائن الیون واقعات کے بعد افغان جنگ میں پاکستان امریکی اتحادی بنا۔ اگرچہ پاکستان نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکا کے اتحادی افواج کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنے پر اتفاق کیا ، لیکن پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ حصہ ڈالا۔ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو شکست دینے کے وسیع تر عالمی مفاد میں اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔افغان جنگ میں شمولیت کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، پاکستان میں دہشت گردی کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا، دہشت گردوں نے حکومتی رٹ کوچیلنج کردیا،ہرطرف بم دھماکے اورافراتفری کاماحول بنادیا گیا،جس پر قابو پانے کے لئے پاک فوج نے بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کرنے کے ساتھ اپنے معاشرے کو ڈی ریڈیکلائزیشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مدرسہ اصلاحات ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا)کا انضمام ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، تعلیمی اصلاحات ، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور نیشنل ایکشن پلان جیسے آئینی اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت بے مثال ہے اور عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہئے لیکن اس کے برعکس پاکستان شکوک وشبہات اورڈبل گیم کے الزامات لگائے گئے۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے پہلے فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان میں درہ اکاخیل کے ایک وزیر ذیلی قبیلے کے خلاف کارروائی کی جو جولائی 2003 میں امریکی فوجی کیمپ پر القاعدہ کے زیر قیادت حملے میں ملوث تھا۔ اکتوبر2003ء میں ٹی ٹی پی، القاعدہ عناصراوروزیرستان کے زلی خیل اور کری خیل قبیلوں نے ریاستی اداروں کیسامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیاجن کے خلاف پاک فوج نے اپریشن کرکے ان عناصرکا خاتمہ کیا۔ وانا آپریشن مارچ 2004 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 63 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے تھے اس آپریشن کے دوران القاعدہ کے ہاتھوں پاک فوج کے 26 فوجی جوانوں نے مٹی کاقرض اداکرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپریل 2004محسود قبیلوں کے خلاف شکائی میں آپریشن کیاگیا ۔ ستمبر 2005 اور 23 جنوری 2008 کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

    آپریشن شیردل کا مقصد باجوڑ ایجنسی کوٹی ٹی پی کیدہشت گردوں کے کنٹرول سے بازیاب کرانا تھا اور یہ اپریشن اگست 2008 ء سے 2 فروری 2010 ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی(ٹی این ایس ایم)کے سربراہ صوفی محمد اور ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان پکڑے گئے۔ یکم ستمبر 2009 ء آپریشن بیا در شروع ہواجس نے نیٹو سپلائی ٹرکوں پر دہشت گرد حملوں کو کم کیا۔ آپریشن راہ نجات 16 ستمبر 2009 کو ڈیرہ اسماعیل خان ، فرنٹیئر ریجن ٹانک اور ژوب سے 90 فیصد دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیاگیا۔ 2011 میں 144 آپریشن کیے گئے جس کے نتیجے میں1016 دہشت گردجہنم کاایندھن بنے۔ 2012 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں امن قائم کیا۔ 2013 میں کراچی اور بلوچستان کو پاکستان رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں سے نجات ملی۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان پر مرکوز تھا ، 28 دسمبر 2014 تک اس علاقے میں 2100 دہشت گرد مارے گئے۔ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں خیبر 1 آپریشن ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھی لشکر اسلام کے خلاف تھا۔ خیبر ٹو آپریشن مارچ 2015 میں وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا جو ٹی ٹی پی ، لشکر اسلام اور جماعت الاحرار کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 2015 میں نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)کے تحت کراچی میں امن واپس لایاگیا۔ 2016 میں بلوچستان توجہ کا مرکز تھا، پاک فوج کے جوانوں اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ فروری 2017 میں ، آپریشن ردالفسادنے لاہور ، سیہون شریف ، خیبر پختونخواہ اور سابقہ فاٹا سے باقی دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا۔ خیبر IV ، وسط جولائی 2017 نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال اور وادی شوال کودہشت گردوں سے صاف کرنے میں مدد کی۔ آپریشن ردالفسادسے ملک میں دہشت گردوں کاخاتمہ ہوا اورپاکستان میں امن کی فضاقائم ہوئی ۔ ابھی تک ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹارگیٹیڈاپریشن کاسلسلہ جاری ہے،جہاں ہماری پاک فوج کے جری شیرجوان چھپے دشمنوں کوایک ایک کرکے واصل جہنم کرنے میں مصروف ہیں اوراپنی جانوں کے نذرانے بھی پاک وطن پرنچھاورکررہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور نہ پاکستان بلکہ خطے کودہشت گردی کے ناسورسے پاک کردیاہے۔

    @isaqibmasood

  • نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ
    سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئی ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

  • طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اوراس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔
    پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔
    افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class
    موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس
    القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تا کہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گی کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزاروجوہات ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔

    اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گی جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جس نے بہت کم لوگوں کو چھوڑا ہے۔ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کرچکی ہے چاہے وہ بعد ازاں اس سے کنارہ کشی کرلیں۔ نوجوان نسل میں اس کا استعمال قدرے زیادہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ایک نوجوان ہی قوم کا بہ تر مستقبل بنا سکتا ہے اور اسی لیے دیگر ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی تربیت کا اہتمام کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑا ہوکر قوم کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضراثرات سے آگاہ کرنا بچپن سے ہی شروع کردیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزل کی جانب گامزن ہے۔سگریٹ نوشی بیماریوں کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 60لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوکر مر جاتے ہیں۔ان میں سے 6لاکھ کے قریب ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی صرف اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان بیماریوں کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

    دنیا میں اس وقت بھی ایک ارب سے زائد لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے۔
    2018ء میں ایک ہوئی تحقیق کے مطابق تمباکو میں 7ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم 69ایسے ہوتے ہیں جو کینسر و سرطان کا باعث بنتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مضراثرات سے تو آپ سبھی واقف ہی ہوں گے جن میں کینسر، فالج اور امراض قلب وغیرہ ہیں لیکن ایک ایسا نقصان بھی ہے جس سے اکثریت ناواقف ہے اور وہ ہے بالوں سے محرومی۔

    2020ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق 500افراد میں سے 425لوگوں کو بالوں سے کسی نہ کسی حد تک محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 500ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے ان میں یہ شرح 200کے قریب تھی اور اس میں بھی لازماََ دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق نکوٹین اور دیگر کیمیکل بالوں کی گرنے کی شرح کو تیز کردیتے ہیں تاہم انھوں نے اس متعلق مزید تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔لندن کالج یونی ورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی جس میں 1946ء سے لے کر 2015ء تک کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جو دن بھر میں صرف ایک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں امراض قلب کا خطرہ48فی صد ہوتا ہے اور خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 57فیصد پر جاپہنچتی ہے۔اس طرح مردوں میں فالج کا خطرہ25فی صد اور خواتین میں 37فی صد ہوتا ہے۔

    اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ کا کم استعمال کینسر کے خطرے کو تو کم کرتاہے لیکن فالج و امراض قلب کا خطرہ ہنوز موجود رہتا ہے اس کے لیے اس لت سے مکمل جان چھڑوانا ضروری ہے۔
    پاکستان میں اس کا استعمال جہاں بڑھ رہا ہے وہی پر اس کے خلاف معلومات کی آسان فراہمی اور حکومتی اقدامات بھی ماضی سے قدرے بہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ باغی ٹی وی کی جانب سے میڈیائی معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانا قابل تحسین و لائق تقلید ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن سے تمباکو نوشی کی لت سے جان چھڑوانا ممکن ہے تاکہ قارئین اپنے اردگرد سگریٹ نوشی کرنے والوں کو مطلع کرسکیں اور انھیں ابھاریں کہ اس لت سے اپنی جان چھڑائیں تاکہ آنے والی نسل اس کے برے اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔ سب سے پہلے تو مراقبہ کی مشق کرنا ہے جس سے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ گوگل کی ایک تحقیق کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز میں اس لت سے جان چھڑانے کا عزم بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ ورزش کرنے کی عادت سے بھی نکوٹین نامی کیمیکل اپنی مانگ کم کردیتا ہے۔سگریٹ کی بو محسوس کرکے اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بھی افادیت دیتا ہے کیوں کہ دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی پاک طرز زندگی کی طرف لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق دوہفتوں تک وزن اٹھانا بھی فائدہ دیتا ہے۔پالتوجانوروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑواسکتا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق کسی سے بات چیت کرنا بھی 11فیصد تک اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس لت سے جان چھوٹ جاے۔نئے مشاغل کو اپنانا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا بھی آپ کو قابل بناتا ہے کہ آپ اس سے جان چھڑوائیں۔انور شعور کا کہنا ہے کہ
    ؎زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو
    طیور عام یہ پیغام ہر طرف کردیں
    آخر پر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اور اقدامات اسی وقت قابل عمل ہوں گے جب آپ پکا ارادہ کرکے اپنی قوت ارادی کو اس طرف لگادیں گے ورنہ تو مضبوط قوت ارادی کے مالک اس بیماری میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک جان نہیں چھڑواپاتے۔

    ٹویٹر اکاونٹ: @AframirzaDn