Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ
    عمران خان سے نوازشریف اور نوازشریف سے میاں منشا تک ۔ پھر اعظم سواتی کے بعد پرویز خٹک بھی خبروں میں ان ہوگئے ہیں۔ ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ منی لانڈرنگ ، کرپشن ، لوٹ مار کے آل شریف گرو ہیں ۔ اب اطلاعات کے مطابق شریف فیملی کے کارخاص،حصے دار، جانی یار ، منی لانڈرنگ کے بے تاج بادشاہ جسے دنیا میاں منشا کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ وہ اس وقت سخت مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے کرتوت ہی ایسے ہیں ۔

    اب یہ کالے کرتوت دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ ایف آئی اے نے کافی تحقیقات کے بعد ایسی چیزیں اکٹھی کرلیں ہیں کہ جن کے بعد اب نہ تو شریفوں کا بچنا ممکن ہے اورنہ ہی انکے فرنٹ مین اور حصے دار میاں منشا کا ۔ کیونکہ اتنے بڑے ثبوتوں کوٹھکرایا نہیں جا سکتا ہے ۔ رہا معاملہ میاں نوازشریف کا تو وہ پہلے ہی مجرم ہیں‌۔ ایف آئی اے نے جو لیگل نوٹس بھیجوایا ہے ۔ اس کے مطابق رمضان شوگرملز اور دیگرشریف فمیلی کی شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ اربوں روپے ہیرپھیرکرکے قومی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیاہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہ ےکہ ایف آئی اے کے وہ افسران جن کو اس گینگ نے اس جرم عظیم کو تکمیل کے مراحل تک پہچانے کے لیے استعمال کیا اب وہ بھی کٹہرے میں لائے جائیں گے ۔ اس نوٹس میں ان افسران کے نام اورعہدے بھی بیان کئے گئےہیں۔‌ اس نوٹس میں میاں منشا سے کہا گیا ہےکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آپ پرجرم ثابت ہوتا ہے لٰہذا قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش بھی میں انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں۔ چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا گیا ۔ دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔۔ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک نشاط گروپڈی جی خان سیمن ٹآدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں۔ نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع بھی کی تھیں۔ ویسے نیب سے تو مجھے کوئی خاص امید نہیں ہے ۔ ساتھ ہی احتساب کے جتنے نعرے تھے وہ بھی زمین بوس ہوتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ پر میاں منشا مشکل کا ضرور شکار ہیں ۔ مگر اس ملک کی کہانی مجھے سے بہتر آپ جانتے ہیں کہ طاقتور لوگ کسی نہ کسی اسٹیج پر جاکر اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر سزاو جزا کے عمل سے بچ ہی نکلتے ہیں ۔ کیونکہ اس ملک کا نظام ہی کچھ ایسا بن چکا ہے ۔ جس بارے طاہر القادری تو بڑی کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اس نظام سے کوئی بہتری نہیں آنی ۔ حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی سے ہی آئے گی ۔

    کیونکہ جو پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اس کردار وگفتار مختلف ہوتا ہے اور جیسے ہی انکو اقتدار ملتا ہے ۔ یہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں ۔ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں یہ کیا کہا کرتے ہیں اور کیوں کہا کرتے تھے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ تبدیلی سرکار آنے کے باوجود اس ملک میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ۔ ۔اس نئے پاکستان میں حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ ۔ کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کلاسیفائیڈ ہیں ۔ ساتھ موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا۔ ویسے میں نے پہلی بار سنا ہے کہ تحائف بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی ہے ۔ حالانکہ کے نئے پاکستان کے حوالے سے عمران خان کی جتنی تقاریر میں سن سکا ہوں ۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ تو نئے پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا ۔ حقیقت میں عمران خان ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کی جتنی باتیں کیا کرتے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف باتیں ہی ثابت ہورہی ہیں ۔ اب جو کابینہ ڈویثرن کہہ رہی ہے کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے۔ ۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا ۔ پتہ نہیں نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟ سچ یہ ہے کہ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں ۔ پھر پتہ نہیں وہ کون سے ملک ہیں کہ تحائف کی تفصیلات سامنے آنے سے ہمارے ان ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں ۔ مزے کی بات ہے کہ اعظم سواتی مخالفوں کے رازوں سے پردے تو خوب ہٹا رہے ہیں ساتھ شبلی فراز کو اپوزیشن کی کروڑوں کی گھڑیاں بھی دیکھائی دے رہی ہیں پر اپنا گریبان اس حکومت کو نہیں دیکھائی دیتا وہاں یہ نہیں جھانکتے

    پھر قانون کی بالادستی کی بات کرنے والی تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وزیر دفاع خود ہی قانون کی عمل داری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے دکھائی دیئے۔ ۔ دراصل نوشہرہ تحریک انصاف کا گڑھ اور وزیر دفاع پرویزخٹک کا آبائی علاقہ ہے۔ پرویز خٹک ایک روز قبل اپنے حلقہ انتخاب میں جلسہ کررہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر ان کے کارکنوں نے آتش بازی کی۔ لیکن پولیس نے آتش بازی سے رکوادی۔ تعجب تب ہوا جب پرویز خٹک نے ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سٹیج سے اعلان کیا کہ آتش بازی کیوں روکی گئی۔ آتش بازی کی جائے، کسی افسر کی پرواہ نہ کریں۔ میں یہاں موجود ہوں دیکھتا ہوں ۔ دیکھتا ہوں کیسے آتش بازی کو روکا جاتا ہے۔۔ تو یہ ہے وہ ۔ صاف چلی شفاف چلی ۔۔۔۔ دو نہیں ایک پاکستان ۔۔۔۔ جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان ۔۔۔۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے ۔۔۔ آپ انکے ذرا الیکشن سے پہلے کے نعرے دیکھیں اور اب حرکتیں دیکھیں ۔ یہ اپنے ہی لگائے ہوئے نعروں ، کہی ہوئی باتوں ، دیے ہوئے منشور سے مذاق کررہے ہیں ۔ اب جب عوام ان کو جنرل الیکشن میں جھٹکا دے گے جیسے اس عوام نے تبدیلی سرکار کو ہر ضمنی الیکشن اور حالیہ کینٹ بورڈ الیکشن میں دیا ہے ۔ تو یہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیں گے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہماری ایک سیاسی تاریخ ہے ۔ جو بتاتی ہے کہ چوتھے سا ل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی بھی سویلین حکومت بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ جبکہ یہ حکومت ت ہر کام اپنے ہاتھ سے خراب کر رہی ہے ۔ ۔ محمد خان جونیجو ، یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو چوتھے سال میں ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ماضی کی تمام سویلین حکومتوں کی طرح اب عمران خان حکومت بھی چوتھا سال شروع ہوتے ہی بند گلی میں پھنستی جا رہی ہے۔ ۔ حکومت کے اہم وزراء ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کئی سیاسی اور غیر سیاسی محاذ کھول لئے ہیں۔ اس وقت میڈیا اور الیکشن کمیشن کے محاذ غیر سیاسی اور غیر ضروری ہیں۔ ۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کے چکر میں الٹا نقصان ہوتا نظر آنا شروع ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کے حامیوں نے بھی حکومت کے خلاف بندوقیں تان لی ہیں ۔

    ۔ دوسرا یہ خواہش تو مجھے لگتا ہے کہ حسرت ہی رہ جائے گی ۔ لیکن مان بھی لیا جائے کہ اگر زور زبردستی سے الیکٹرانک ووٹنگ کروا بھی لی گئی تو وہ غدر مچے گا کہ اسے سنبھالنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مہنگائی اور بے روزگاری نے حکومت کو ان علاقوں میں بھی غیر مقبول بنا دیا ہے۔ جو پی ٹی آئی کی جیت کا نشان سمجھے جاتے تھے ۔ یوں وزیراعظم عمران خان اور ان کے کئی وزراء فرانس کی ملکہ میری بنتے جا رہے ہیں کہ اگر روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں۔ ۔ بجلی کے بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس 5 تا 35 فیصد کا صدارتی آرڈیننس عمران خان حکومت کو بہت غیر مقبول بنا دے گا۔ پاکستان اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کرتا رہا ہے لیکن اتنی ظالمانہ شرائط والا معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا جس کے بعد بجلی اور گیس پاکستانی عوام کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ یوں آئی ایم ایف معاہدہ پاکستانی عوام کے سر پر ایٹم بم کی طرح پھٹا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کپتان کو بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ اُن کے دورِ حکومت میں عوام کو کبھی کوئی اچھی خبر نہیں ملے گی۔ اِس لئے انھوں نے پہلے ہی نصیحت کر دی تھی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

  • کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ کو بتایا تھا کبالہ کیا ہوتا ہے اس کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟ اور آج کے کالم کا عنوان ہے کہ یہ کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟ شیطان کے ان پیروکاروں کو کن علامات سے پہچانا جا سکتا ہے؟ آج کل کے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ڈارک ویب سے کیا تعلق ہے؟اگر ہم صرف پاکستان کی ہی بات کریں تو یہاں آپ کو اصلی اور جعلی بہت سے عاملین نظر آئیں گے اور ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس بہت سے موکل ہیں جن کے ذریعے وہ آپ کی تمام پریشانیوں اور مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔یہ موکل دراصل جنات ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نیک جن ہوتے ہیں اور کچھ بد۔۔۔ بدی کو ماننے والے جنوں کے ذریعے سے کبالہ اور کالا جادو کروایا جاتا ہے۔یہ عاملین کچھ ایسے عمل کرتے ہیں یا آپ کہہ لیں کہ ایسے چلے کاٹتے ہیں، شیطان کی پوجا کرتے ہیں جس کے بعد یہ موکل یا جنات کسی حد تک ان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔ جس کے بعد ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بھی یہ عاملین مسلسل کچھ اس طرح کے کام یا چلے کرتے ہیں تاکہ یہ موکل ان کے کنٹرول سے باہر نہ جا سکیں۔

    ان چلوں کے لئے سب سے پہلے تو یہ عاملین پاک اور ناپاک کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔ پیشاب، پخانہ، نجاست، خون ان کو اس سے گھن نہیں آتی بلکہ اپنے چلوں میں یہ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کالے جادو کے لئے خاص طور پر خون کے ساتھ تعویز لکھے جاتے ہیں۔ تعویزوں میں شیطان کی علامات بنائی جاتی ہیں یا شیاطین کے نام لکھے جاتے ہیں۔ کچھ گنتی کو بھی الٹا سیدھا لکھ کر کچھ کوڈز بنا کر لکھے جاتے ہیں جن کا صحیح مطلب صرف اس شیطان کے پیروکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قرآنی اوراق کو جلایا جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو الٹا لکھا جاتا ہے۔ جادو کے لئے جس انسان پر یہ عمل کرنا ہو اس انسان کے پہنے ہوئے کپڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کالا مرغا، کالا کتا، کالی بلی یا کالی سری بھی جادوئی عمل کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ چاند کی تاریخوں میں مختلف پتلے بنا کر اس پر سوئیاں ٹھوکی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے کاروباروں کو ٹھپ کروایا جا سکے، میاں بیوی والدین اور بچوں کے آپسی تعلقات خراب کروائے جا سکیں۔ لوگوں کی صحت متاثر کروائی جا سکے۔ دولت، طاقت اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔اس کے علاوہ شیطانی علامات کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علامات کو لاکٹ بنا کر گلے میں پہنا جاتا ہے۔ یا جسم پر ان نشانوں کے Tattoos بنوائے جاتے ہیں۔ جیسے شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سینگھ ہوتے ہیں تو جو شیطان کے پجاری ہوتے ہیں یا جو ان کو مانتے ہیں وہ اکثر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اسی طرح کے نشان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکون، پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان یہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان کی پوجا کرنے والوں کا ایک نشان 9/11بھی ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ کبالہ کی قدیم ترین کتابوں میں جادو کے لئے جو کوڈنگ کی گئی تھی اس میں دس کا ہندسہ خدا کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور گیارہ کا ہندسہ شیطان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اب9/11کو اکھٹا لکھ کر یا نشان بنا کر نو اور گیارہ کے درمیان سے دس کو ہٹا کر دراصل یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدا کو نہیں مانتے بلکہ شیطان کی طاقت کو مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    9/11 پر جو حادثہ ہوا اور جس پلاننگ کے ساتھ یہ کیا گیا جس کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی وہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن 9/11کا ہندسہ اس سے پہلے بھی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ Simpson cartoonsکے بارے میں اگر آپ جانتے ہوں تو اس میں بھی اس کا بہت سی جگہوں پر استعمال کیا گیا تھا۔ انگریزی فلموں تک میں اس سائن کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک ہاتھ کا نشان بھی ہوتا ہے جس کی ہتھیلی پر ایک آنکھ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشانات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ قبروں سے کھوپڑی اور ہڈیاں نکال کر ان پر بھی جادوئی عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ہاتھ کی کلائی پر لال رنگ کا دھاگہ باندھتے ہیں۔ اور شیطانی عملیات سے متعلق جتنے بھی سائن ہیں ان کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب اصل میں شیطان کے ساتھ اپنی عقیدت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف کہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ان سے کیا تعلق ہے؟

    دیکھیں یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی نے صرف اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرنی ہے تو وہ مرد کسی عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے موٹروے کیس میں دیکھا اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کوئی ایک مرد یا چند مردوں کا گروہ ایک عورت کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہو جاتے ہے یا زیادتی کے بعد اس کو کسی ویران جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن آجکل آپ کو زیادہ تر ایسے کیسسز سنائی دیں گے جس میں لڑکیوں یا چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی جاتی ہیں پھر ان پر تشدد کرکے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے اور لاش کو بوری یا شاپر میں بند کرکے یا ویسے ہی کچرے کے ڈھیر پر یا کسی سنسان جگہ پھینک دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا جادو سیکھنے والے یا کالا جادو کرنے والے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں پہلے بچی کے ساتھ ناجائز عمل اور زیادتی کی کرتے ہیں پھر شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس بچی کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاص کر وہ قتل جس میں کسی بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے جائیں یا پھر مختلف حصوں کا کاٹ کر الگ کر دیا جائے اس کے علاوہ گردن کو جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایسے چلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ کالے جادو والے عاملین خود بھی شیطان کو خوش کرنے کے لئے یہ کان کرتے ہیں اور آگے اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام کرواتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا مشکل کام نکلوانا ہے یا یہ جادو سیکھنا ہے تو تمھیں بھی یہ سب کرنا ہوگا۔

     

    اس کے علاوہ جو واقعات ہم مردہ عورتوں کی لاش کو نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کے سنتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے مردہ لاشوں اور قبرستان کی ویران جگہوں کو خاص طور پر جادو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرکے شیطانی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ان واقعات کا ڈارک ویب کے ساتھ تعلق بھی دراصل ان شیطانی عملیات کی وجہ سے ہی ہے۔ کیونکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں قوانین بہت سخت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کےSatanic cultوالے لوگ کیونکہ شیطان کے سامنے انسانوں کی قربانی نہیں دے سکتے تو وہ ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں جہاں لوگوں کا قانون کے ہاتھوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور ان کی حکومتوں کے لئے بھی ڈارک ویب تک پہنچنا مشکل کام ہے یہاں سے لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے یہ زیادتی اور قتل کے واقعات کروائے جاتے ہیں اور خود ان کی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو قاتل جتنی زیادہ درندگی کرتا ہے جو کسی بچی کو جتنی بے دردی سے مارتا ہے اس کو اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔اس لئے ہمیں اگر اپنی سوسائٹی کو اس طرح کے واقعات سے بچانا ہے تو ہمیں دراصل اپنے لوگوں کو شیطان کے پجاریوں سے بچانا ہو گا۔ اس طرح کے عاملین سے بچانا ہو گا جو جن نکالنے کے نام پر ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو شرک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

  • چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر

    چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر

    میرا آج کا موضوع ان لوگوں پر ہے جو روزی کمانے کیلئے گلی محلوں میں گھومتے رہتے ہیں،
    اپنا وقت لگاتے ہیں، تپتی دھوپ میں نکلتے ہیں۔ میں بات کر رہی ہوں چھابڑی والوں (Street Hawker) کے بارے میں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
    اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح کوئی انسان برابر نہیں۔
    اللہ نے کسی کو امیر بنایا تو کسی کو غریب
    اللہ امیر کو دے کر آزماتا ہے تو غریب سے لے کر آزماتا ہے۔
    اللہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا خرچ کرتا ہے دوسروں پر،
    اللہ دیکھتا ہے میرا غریب بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔۔
    کوئی اچھا کاروبار کرتا ہے تو کوئی چھوٹا۔
    اسی طرح کچھ ایسے لوگ جو گلی محلوں میں گھوم کر تپتی دوپہر میں بارش میں اپنی روزی کو کمانے نکلتے ہیں،
    جیسے سبزی والا، سموسوں والا، جو سکولوں کالجوں کے باہر ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی حرام روزی نہیں کمارہے یہ اپنی محنت سے حلال رزق کماتے ہیں۔
    لیکن کچھ انکو حقیر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
    کیوں سمجھتے ہیں لوگ ایسا؟؟؟؟
    وہ کچھ ٹائم کیلیے سوچے اگر یہ سبزی والے نہ ہوتے تو گھروں میں کیا بناتے ظاہر سی بات ہے دالیں گوشت وغیرہ،
    لیکن انسان سبزی کے بغیر نہیں رہ سکتا
    تو یہ سب حلال رزق کماتے ہیں اپنے گھر والوں کو پالنے کیلیے۔۔
    چاہے کم ہوتا ہے لیکن جتنا اللہ چاہتا ہے اسے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
    بیشک حلال رزق میں برکت ہوتی ہے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ۔
    اللہ پاک نے ہر انسان کی قسمت میں اسکا رزق پیدا ہوتے ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہم سبکو ایک مقصد کیلیے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اپنی آخرت کو سنوار سکیں عبادت کرسکیں اللہ کا شکرادا کریں۔
    اللہ نے ہر انسان کی قسمت کو بہتر اور بہترین بنایا ہے صرف مسلمان ہی نہیں کافر کے ساتھ بھی
    اللہ پاک ہم سب کو حسن سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔ صرف مسلمان کے ساتھ نہیں ہر انسان کے ساتھ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، امیر ہو یا غریب ہو عربی ہو عجمی ہو یا جو بھی ہے۔
    اللہ کی نظر میں کوئی بھی انسان کمتر نہیں ہے۔ ہم انسان ایک مکھی کے پر جتنا بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے لیکن اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کا مذاق اڑاتے ہیں
    کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
    میری ان سب سے درخواست ہے جو لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان سب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں کہ وہ خود کو نا شکرا بنا لیں۔
    کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،
    اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کو برابر سمجھنے اور مساوی سلوک کرنے والا بنادیں۔
    آمین ثمہ آمین

  • افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون

    امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد  ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا

    کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب  کا نقصان ہوا

    اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے

    امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا

    بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
     امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی  دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو  توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھا

    تو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ  طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
    پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھا

    طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں

    بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان  کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس  80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی

    بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور  بہت سارا مال   لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی

    کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ  سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے

    افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل  ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا

    سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے

    31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر   کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا  اور  احمد مسود کے ساتھ مذاکرات  کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
    ہوگیا@sikander037 #sikander037

  • ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر   بسمہ ملک*  *پارٹ 2*

    ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر بسمہ ملک* *پارٹ 2*

    پھر ایک شام ابّو نے ریحان کو چائے پہ بُلایا تو ابّو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’مجھے کوئی شرط منظور نہیں۔‘‘ کس قدر بے گانگی اور بے رُخی تھی ان کے لہجے اور رویّے میں کہ ابّو تک کا لحاظ نہیں کیا۔ میرے آنسو ہر حد توڑ دینا چاہتے تھے، جب کہ امّی کہہ رہی تھیں ’’دیکھو عائشہ! اس موقعے پر تمہیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ دو معصوم بچّوں کا ساتھ ہے، صرف اپنے بارے میں نہیں، ان کے بارے میں سوچو۔ اگرتمہارے ابّو نے کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا توپھرکیا ہوگا… ؟‘‘ جب کہ دوسری جانب ریحان کے رویّے میں بھی کوئی لچک نہیںتھی۔
    امّی پھر کہہ رہی تھیں’’ اپنی بہنوں کی طرف دیکھو ، زہرا اور عنائیہ کے رشتے اسی خاندان میں طے پا چُکے ہیں۔ ہمیں اپنی دوسری بچیوں کا بھی سوچنا ہے، اگر تم اسی طرح سال ،سال بھر میکے میں بیٹھی رہو گی، تو تمہاری بہنوں کا کیا بنےگا؟ یوسف اور عنائیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیںاور پورا خاندان یہ بات جانتا ہے۔ عنائیہ نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ یوسف کے علاوہ کسی سےشادی نہیں کرے گی۔‘‘امّی نے اپنی تمام مجبوریاں میری جھولی میں ڈال دیں۔
    ’’تو امّی اب مَیں کیا کروں؟ ابّو کی مرضی کے بغیر کیسے چلی جائوں، انہوں نے ہی تو مجھے کتنے مان سے بلایاتھا۔‘‘’’تم ریحان کو فون کردو کہ مَیں آرہی ہوں، نوید(بھائی) تمہیں تمہارےگھر چھوڑ آئے گا۔‘‘’’لیکن ابّو…ابّو ناراض ہوں گے۔‘‘’’مَیں نے تمہاری دادی اور پھپھو کو بلایا ہے، تھوڑی ہی دیر میں شمع آپا اور امّاں آجائیں گی پھر تمہارےابّو کو وہ خود سنبھال لیں گی۔ وقتی طور پر غصّہ کریں گے پھر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ اورجب تم اپنے گھر میں بس جاؤ گی، رہنےسہنے کی عادی ہوجاؤگی تو انہیں بھی تسلّی ہو جائے گی۔ ‘‘ امّی نے تو جیسے مجھے بھیجنے کی ٹھان ہی لی تھی کہ وہ میری کوئی بات سُننے کو تیار نہ تھیں۔
    گویا مجھے ایک بار پھر اُسی دَر پہ سر جُھکانا تھا، جہاں میری کوئی وقعت ، ضرورت نہ تھی کہ یہی تو دستور ہے کہ ماں، بیٹی، بیوی، بہن کے رُوپ میں زہر کا گھونٹ عورت ہی کو پینا پڑتا ہے۔
    ‎@BismaMalik890

  • افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات  تحریر۔ شعیب احمد 

    افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات تحریر۔ شعیب احمد 

    15 اگست کا دن افغانستان کی تاریخ میں وہ دن تھا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے  دنیا کا طاقتور ملک امریکہ جو یہاں 20سال سے اسکو مضبوط کر رہا تھا تاکہ یہاں کوئی ایسی قوت جگہ نہ بنائیں جو انکے خلاف ہوں ۔طالبان سے امن معاہدہ ہوا کیا جس کے تحت امریکہ کو افغانستان چھوڑنا تھا لیکن کسی کے وہم گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ امریکہ یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ اور مخلوط حکومت کا امکان ختم ہوگا۔

    15اگست 2021 کو اشرف غنی ملک چھوڑ گئی اور بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان طالبان کے قبضے میں آگیا دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا آیا طالبان کے 60 سے 80 ہزار لوگ اتنے مضبوط ہے کہ افغانستان کی لاکھوں سیکورٹی فورسز چند گھنٹوں میں شکست کھا گئ۔ ان میں کچھ تو طالبان کے ساتھ شامل ہوے اور نے اسلحہ ڈال کر روپوش ہوے۔امریکہ کی 3ٹریلین ڈالرز اور 2700 فوجیوں کی ہلاکت کا قوم اس سے جواب مانگ رہی ہے ۔اور امریکہ نے پھر اپنے شہریوں کی باحفاظت نکالنے کیلئے طالبان سے درخواستیں کیں۔

    امریکہ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن اس خطے میں آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے ۔پاکستان افغانستان کا قریبی ملک ہے جس کے ساتھ اسکا 2611کلومیٹر کا مشترک بارڈر ہے یہ بارڈر نہایت مشکل قسم کا ہے جس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے اگرچہ پاکستان نے اسکو خاردار تاروں کے ذریعے 90فیصد محفوظ کیا ہے اور 700سے زیادہ فوجی چوکیاں بنائی ہیں لیکن پھر بھی اسکو شرپسندوں سے محفوظ سمجھنا ایک خواب ہوگا

    افغان طالبان کا امریکہ کے ساتھ  ڈیل کے کئی محرکات ہیں یہ ڈیل اپنے اصل روح میں لاگو نہیں ہوا طالبان نے وقت سے پہلے ہی افغانستان کا کنٹرول بغیر کسی مزاحمت کے  سنبھال لیا بہت سے لوگوں کو جیل سے رہا کیا گیا جس میں 2000 تحریک طالبان پاکستان کے لوگ بھی شامل تھے جیسے جیسے افغانستان میں طالبان کا کنٹرول  بڑھتا چلا گیا ادھر TTPنے بھی پاکستان میں کاروائیاں تیز کیں جسکی مثال ہمیں کوئٹہ کے Serena Hotel اور چینی انجنیئرز پر حملوں کی صورت میں ملی۔ پچھلے دو ماہ میں طالبان کی طرف سے 50 سے زائد کی ذمہ داری قبول کر نا اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں TTP کی کاروائیاں تیز ہورہی ہیں 

    پاکستان نے TTPکو دعوت دی ہے کہ اگر وہ اسلحہ ڈال کر پاکستان کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں تو حکومت ان کو غیر مشروط معافی دے گی جو انہوں نے مسترد کردیا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا

    تحریک طالبان پاکستان  کے علاوہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں IS-Kکے حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ IS-K اپنی مرضی کا اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے امریکہ خود بھی طالبان سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ طالبان ISKاور القاعدہ کو دوبارہ مضبوط نہیں ہونے دیں گے 

    دوسری طرف بھارت کا افغانستان میں رول کٹھائی میں پڑھ گیا ہے اور وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ بلوچستان Insurgency کا سیدھا لنک بھارت سے ملتا ہے 

    خطے کے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات کا اندازہ نیوزی لینڈ کے کرکٹ ٹیم کے عین میچ شروع ہونے سے پہلے اپنا ٹور کینسل کرنے سے لگایا جاسکتا ہے  جو انہوں سیکورٹی کو جواز بنا کر کیا۔آنے والے وقتوں میں طالبان کے افغانستان میں آنے کے پاکستان پر دوررس نتائج ہونگے ۔

    @shoaibahmadsh

  • دل کی حفاظت کریں تحریر : واجد خان

    ‏”
    دنیا میں ہونے والی بیشتر اموات کی وجہ قلبی بیماریاں ہیں، ایک اندازے کے مطابق ہر سال 17.9 ملین اموات کی وجہ دل کے امراض ہیں۔ دل کے دوسرے امراض یا پیچیدگیوں کی نسبت ہارٹ اٹیک اور اسٹروک سے ہونے والی اموات کی شرح 85 فیصد ہے۔۔
    دل کے امراض کی بڑی وجہ غیر معیاری لائف سٹائل اور کھانے پینے میں بے احتیاطی ہے۔۔
    یہ بتانا تھوڑا مشکل ہے کہ کب ، کس کو ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے لیکن بے شک اپنے روزمرہ زندگی میں کچھ تبدیلیاں اور احتیاطی تدابیر سے ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔
    ہمارے پھیپھڑوں اور پسلیوں کے درمیان گھرا ہوا دل ایک بند مٹھی کی مانند ہوتا ہے جس کا وزن 300 سے459 کے درمیان ہوتا ہے۔۔
    اس عضو ( دل ) کے ذمے پورے جسم میں خون کے بہاؤ کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔۔
    دل کے زریعے خون تمام جسم میں سپلائی ہوتا ہے جس میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔۔
    ایک انسان میں ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجہ کارنری شریانوں کا بند ہونا ہے۔ اسکی وجہ وقت کے ساتھ شریانوں میں چکنائی کا جم جانا ہے ۔ اس بلاکیج کی وجہ سے اور شریانیں تنگ ہونے سے دل کو خون کی سپلائی میں مشکل ہوتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔اس سے بچاؤ کے لیے اپنے روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے ہم صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔۔
    متوازن غذا۔۔
    دل کی بیماریوں سے بچنے کےلئے صحت مند غذاؤں تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ مرغن غذاؤں اور چکنائی دار چیزوں کی وجہ سے شریانوں کا سکڑاؤ اور شوگر لیول کا بڑھنا اور بلڈ پریشر یہ سب مل کر دل کے عارضے کا باعث بن سکتے ہیں۔۔۔
    اپنی پلیٹ کو سلاد، پھلوں اور صحت مند غذاؤں سے بھرئیے ، اور مصالحے دار اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں اور صحت مند رہیں ۔
    چاق و چوبند رہیں۔
    کوشش کریں کہ زیادہ تر خوشگوار ماحول میں رہیں، خود بھی خوش رہیں دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔ گھر کے کاموں سے فرصت نکال کر صبح یا شام واک پر جائیں اور ذیادہ سے ذیادہ کوشش کریں خود کو ایکٹیو رکھنے کی، اس کے لئیے ورزش کریں، یوگا کریں اور صحت مند رہیں۔۔
    بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں ۔
    ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے شریانوں کے سکڑاؤ کے ساتھ نہ صرف خون کے بہاؤ بلکہ جسم میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی میں بھی مشکل ہو جاتی ہے اسی طرح لو بلڈ پریشر بھی ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس لئے اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے چیک کرتے رہیں اور ڈاکٹر کی دی گئی ادویات کا استعمال جاری رکھیں۔۔
    اسکے ساتھ اپنے شوگر لیول کو اعتدال میں رکھیں شوگر لیول کے بڑھنے یا کم ہونے سے بھی دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے اپنی غذا میں ایسی اشیاء شامل کریں جو خون میں شوگر لیول متوازن رکھیں۔۔
    کولیسٹرول ، پروٹین اور چکنائی دار چیزوں سے بننے والی چربی کو کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں نئے خلیات کی تشکیل اور جسم کو گرم رکھنے کیلیئے ضروری ہے لیکن اس کا مقدار سے بڑھ جانا دل کے لیے نقصان دہ ہے۔
    کولیسٹرول کی وجہ سے نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دل کو خون اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے زیادہ پریشر سے خون پمپ کرنا پڑتا ہے جو کہ پارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔
    زہنی صحت۔۔
    ہماری ذہنی اور جسمانی صحت بھی دل کے افعال کو متاثر کرتی ہے، جب آپ زہنی طور پہ پرسکون ہوں گے تو اس کے خوشگوار اثرات جسم پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ سٹریس اور ٹینشن بھی دل کے عارضے کا باعث بنتا ہے۔۔ اس لئیے کوشش کریں کہ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔
    وزن کا بڑھنا، موٹاپا۔۔
    وزن کا بڑھنا یا موٹاپا بھی دل کی بیماریوں کا سبب ہیں۔۔
    ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ وزن والے لوگوں میں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول کا بڑھنا ہارٹ اٹیک کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔۔اپنے وزن کو کنٹرول رکھیں اور متوازن غذا کا استعمال کر کے ہی وزن کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔
    اسی طرح جو لوگ سگریٹ نوشی ، شراب نوشی یا کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں بھی دل کی بیماریاں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔
    اس لئیے ان چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے ۔۔
    اس سب کے علاؤہ آپکی فیملی ہسٹری ، آپکی عمر، اور جنس بھی دل کے عارضے کا باعث ہو سکتی ہیں ۔۔
    اس سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ صحت مند غذاؤں اور ورزش اور روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے صحت مند زندگی کو ترجیح دیں تاکہ ان بیماریوں کے خطرات سے بچا جا سکے ۔۔
    ‎@Waji_12

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر   تحریر: تیمور خان

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر تحریر: تیمور خان

    تمام اعمال اور تمام عبادات بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات میں نیت اور اخلاص کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اور وہ اہم چیز قران کریم اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے، جو  ایک مسلمان کے اخلاص کے ساتھ نیت اور ارادہ ہے، مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جب بھی کوئی کام کیا کرے گا، چاہیے وہ کام خالص عبادات میں سے ہو یا دنیاوی اغراض اور مقاصد کے لئے ہو، جس مقصد کے لئے جو کام کیا جائے اس میں مسلمان اپنی نیت کو خالص رکھے اگر وہ اپنی نیت کو خالص رکھے گا تو اس نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس مسلمان کو دنیاوی اور اخروی بہت سارے ثمرات اور فوائد حاصل ہونگے، سرکارِ دوعالم ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورت انعام میں یہی ارشاد فرمایا٫٫ اے میرے حبیب  ﷺ آپ فرما دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میری ساری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ فرما دیجئے کہ مجھے اسی طرح اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نیت کو خالص رکھوں یہاں تک کہ میری موت اور زندگی خالص اللہ کہ لئے ہو، اور میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوں، قرآن کریم فرقان حمید میں بہت جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ یوں کہیے یا آپ یوں مجھ سے دعا منگیئے، کی اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما، تو جس چیز کا حکم اللہ اپنے نبی کو دے اور مطالبہ یہ ہو کہ تم اللہ سے یہ چیز مانگو تو وہ چیز نہایت ہی اہمیت کہ حامل ہوتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ احلاص نیت جب انسان ایک کام کرتا ہے اپنی زندگی اللہ کے لئے گزراتا ہے اپنے معاملات اللہ کے لئے وہ سر انجام دیتا ہے یہاں تک اس کی موت بھی اللہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس چیز کا ارشاد فرمایا،

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے بھی اپنے احادیثِ طیبہ میں اس چیز کو بنیاد فرما کر ارشاد فرمایا اور یہاں تک محدیثین بھی اپنی کتابوں کے ابتدا میں لکتے  ہیں تاکہ کوئی بھی انسان دین سیکے اور دنیاوی معاملات کے لئے دین سے شعریت سے  رہنمائی حاصل کرے تاکہ اس کی نیت خالص ہو، ٫٫ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال کی قبولیت کا دارومدار یہ نیتوں پر ہے، جس شخص کے نیت خالص ہوگی اس شخص کی عبادت اتنا ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گنا تک اجر دیتا ہے،اور اللہ جیسے چاہتا ہے اسے اس سے بھی دگنا کر کے دیتا ہے اور کبھی کبھی اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک نیکی کا اجر اللہ بے حساب بھی دیتا ہے، اب ان تمام احکامات اور آیاتوں کا دارومدار انسان کے نیتوں پر منحصر ہے، اگر ایک شخص نیکی کرتا ہے اگر نیکی دنیاوی معاملات یا اللہ کی رضامندی کے لئے ہو تو اس کا دس گنا اجر دے دیا جاتا ہے اب اس کا احلاص جتنا زیادہ ہوگا تو اس کے اخلاص کے مطابق اس کو اتنا ہی اجر ملے گا،

    تو اسی لئے نیت جو ہے یہ ایک مومن اور مسلمان کے تمام اعمال کا اصل ہے جب ہم گھر سے مسجد کے لئے نکلتے ہیں تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد میں نماز کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے جاتے ہیں، اب یہ ارادہ کامل ہوتا اس نیت کا اجر بھی سو گنا ہوگا اگر اتفاقاً ایک انسان گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور راستے میں یہ کسی کام کی طرف چلا گیا تو تب بھی اللہ اس کو پورا اجر دیگا کیوں کہ اس کی نیت مسجد جانے کا تھا، اسی لئے محدیثین فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی کام کے نیت کریں تو اس نیت کے ساتھ اور بھی اچھے کام کے نیت کر لیا کریں اگر وہ کام ہوا بھی نہیں تو بھی اس کام کا اجر ملے گا، ایک مسجد جاتے ہوئے کئی نیک نیتیں جمع ہو سکتی ہیں اب ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس کی اس  نے نیت کی تھی  تب بھی اس کو پورا کا پورا ثواب جتنی بھی نیتیں اس نے کی تھی اسے ملے گا، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جو بھی عمل انسان کرتا ہے اس کی نیتوں کا دیکھا جائے گا، اب اللہ کے ہاں نیت معتبر ہے اللہ کے ہاں ظاہری کام معتبر نہیں ہے کیوں کہ اس نے تو نیت کی تھی کہ راستے میں اگر کوئی شخص آیا میں اسے سلام کروں گا راستے میں اسے کوئی شخص ملا ہی نہیں تو بھی اس کو اجر ملا، 

    اسی لئے ایک دوسرے حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہت بہتر  ہے اب ایک انسان نے تو عمل کی تھی کہ گھر سے مسجد کی طرف جاتے وقت میں راستے میں ہر اچھے اعمال کروں گا لیکن اس نے وہ اعمال کیے ہی نہیں اسکو موقع ہی نہیں ملا اب اس نے صرف نیت کی عمل اس نے کیا نہیں گویا کہ اس نے یہ تمام کام کر لیے حضور نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جس کی نیت کا بھی اس کو اجر مل جاتا ہے، 

    لیکن اس کے بر خلاف ایک شخص کام تو بڑے نیک کرتا ہے لیکن نیت اس کی خالص نہیں ہے نیت اللہ کی رضا نہیں ہے تو یاد رکھیں یہ نیک کام بھی اس کے منہ پہ مارا جائے گا، ایک شخص ہے وہ نماز اللہ کی رضا کے لئے پڑھتا ہے تو اس کو نماز پڑھنے کا اجر دیا جائے گا، لیکن ایک انسان نماز پڑھتا ہے اس کی نے نیت بھی کی لیکن وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس سے نمازی کہیں تو فرشتے نماز اس کے منہ پہ ماریں گے کہ اسے نماز کو اللہ کی کوئی ضرورت نہیں اسی طرح ہماری زندگی کے جتنے بھی نیک اعمال ہیں ان تمام کا دارومدار نیتوں پر ہے،

    احادیث مبارکہ میں آتا ہے قیامت کے دن ایک شہید کو اٹھایا جائے گا بخآری شریف کی حدیث ہے اس شہید کو اللہ تعالیٰ کہے گا اے بندے میں نے دنیا میں تجھے یہ نعمت دی تھی فلاں نعمت دی تھی وہ اقرار کرے گا ہاں میرے رب تو نے یہ سب کچھہ دی تھی اللہ پوچھے گا پھر تو نے ان نعمتوں کے بدلے میرے لئے کیا کیا، تو یہ شہید کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تیرے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، اللہ فرمائے گا نہیں نہیں تو نے اس لئے جان قربان نہیں کی کہ میرا دین سربلند ہو بلکہ تو نے اس لئے جان قربان کی کہ لوگ آپ کو بہادر اور شہید کہیں، جا تجھے دنیا میں تمغے بھی مل گئی تیری وا وا بھی ہو گئی، اے فرشتوں اس کو جہنم میں لے جاؤ، اب وہ شہید اس کی نیت خالص تھی اور اس کی نیت اللہ کی رضا تھی اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن وہی شہید عمل تو وہی ہوا اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن اس کے نیت میں فرق تھا تو الٹا وہ جہنم میں داخل ہوا،

    اسی لئے تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جو  بھی عمال کرے چاہے وہ دنیا کے لئے ہو  یا چاہے وہ  آخرت کے لئے ہو ہر عمل میں  اس کی نیت خالص ہونی چاہیے اسی لئے نیت اپنی خالص کر لیں ہم سب کو چاہئے کہ اپنی نیتیں خالص کر لیں عمل بے شک اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کر رہے ہیں لیکن نیت وہ اللہ کی رضا ہو اور جب اللہ رضا ہوگا تو اس کے اجر ہمیں بے شمار ملیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  •   بداخلاقی،عریانی،فحاشی کا سیلاب  تحریر: شھریار سیالوی

    ٹوئیٹر ہینڈل: @shehryarsialvi

    پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت خداداد ہے۔ ہماری نئی نسل کو بھی تحریک پاکستان کے مقاصد سے آگاہ رہنا چاہیئے تاکہ وہ تعمیر پاکستان کیلئے کوشاں رہے۔ آج پاکستان میں سے  بےسمت نظام تعلیم، شرم وحیاء کا خاتمہ، عریانی، فحاشی اور مادر پدر آزاد تہذیبی چلن نئی نسل اور ملک و ملت کیلئے بڑی تباہی، خطرات کے اشارے ہیں۔پاکستان قائد اعظم (رح)، علامہ اقبال( رح) اور مشاہیر پاکستان کے تصور کے مطابق صالح فکر اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔

       قائد اعظم (رح) نے ملت پاکستان کیلئے نظریہ، ثقافت، تہذیب، اتحاد و یگانگت، درد مشترک اور قدر مشترک کیلئے شاندار راہ متعین کی لیکن آج نظام تعلیم، نظام ثقافت و معاشرت، تہذیب و اقدار کو فحاشی، بےحیائی اور مذہب بیزاری کیطرف پوری قوت سے دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں بداخلاقی، نفس پرستی اور لذات جسمانی کی بندگی آخری حدوں کو چھو رہی ہو، جہاں مرد و خواتین، جوان و پیرعیش پرستی اور بےحیائی کے دلدادہ بنائے جارہے ہوں تو یہ قومی ہلاکت کے آثار ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔ اسلامی نظریاتی مملکت میں فیشن کے نام پر عریانیت پر مبنی کیٹواک، الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور اور منہ زور تشہیر آخر نئی نسل کو کس آزادی سے روشناس کیا جارہا ہے؟ یہی طریقہ واردات مغربی قوموں کو قوت حیات کو گھن کیطرح کھا رہا ہے۔ یہ ایسا گھن ہے کہ جس قوم کو لگ جائے اس کا جینا محال ہوجاتا ہے۔

    افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل، سلامتی، باہمی احترام کا راستہ اگر کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے جس کے پاس انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل اور الجھنوں کے صحیح حل موجود ہیں لیکن تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ جن کے پاس حیاء، عزت و احترام، محبت و حدت کی روشنی کا چراغ ہے وہی خود اپنے اعمال کی خرابیوں کی بنیاد پر دوسروں کو راستہ دکھانے کی بجائے خود اندھوں کیطرح بھٹک رہے ہیں، جو قومیں بھٹک چکی ہیں، جن کی نسلیں بگڑ چکی ہیں، اسلامیان پاکستان ان بھٹکنے والوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، پاکستان بڑے مقاصد اور بڑی قربانیوں کیساتھ وجود میں آیا۔ آخر کب تک ہم بھٹکیں گے؟ بحیثیت انسان کوئلے کی چھت اور تاروں بھرے آسمان کا فرق محسوس کرنے سے کب تک انکار کرتے رہیں گے؟ اسلامی اخلاقیات میں حیاء کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ حیا، تمدن و معاشرت کو صحیح سمت اور عریانی و بےحیائی انسانی معراج کو زمین بوس ہی نہیں ذلت و بربادی سے دوچار کر دیتی ہے۔ اسلام کے تصور اخلاق کے مطابق تشکیل پانے والا معاشرہ، خاندان کی بقاء اور تحفظ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کیونکہ خاندان ہی تہذیبوں کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی تعلیمات اخلاقی اور روحانی قدروں کی حامل اور دین میں اس حوالہ دے خاندان کا ادارہ ماضی اور حال کے درمیان اہم رابطہ اور بندھن ہے، اسلامی تعلیمات نوجوان نسل کی تربیت اور تنطیم کا اولین مکتب ہے، اقدار کی تعلیم، باہمی احترام و محبت، تفہیم و تعاون، حکم اور اطاعت جیسے اعمال اور اوصاف پر زور دیتا ہے جس سے متوازن مزاج افراد تیار ہوتے ہیں۔ اس سے ہی معاشرے کو استحکام ملتا ہے۔ مسلم خاندان پر فحاشی، بےحیائی، عریانیت، بدتہذیبی کے وار کے ذریعے اسے بےوقعت، بےوقار اور ذلیل کیا جارہا ہے تاکہ خاندان ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ یہ روش دین اور ایمان کو لوگوں کے سماجی اور سیاسی امور سے بےدخل کردینا چاہتی ہے۔ 

    آپ نے فرمایا: 

    "جب عریانی اور فحاشی عام ہوجائے گی، تو لوگوں میں ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہونگی، جنکے متعلق نہ تو تم نے پہلے کبھی سنا ہوگا اور نہ تمہارے آباو اجداد نے” ۔ عریانیت، برہنگی، نجی شخص اور تنہا ایک گناہ نہیں بلکہ متعدی اور کئی گناہوں کا اذیت ناک مجموعہ ہے۔ اللہ اور اسکے رسول کو ناراض کرنا ہے، بےحیائی، فحاشی اور بدکاری کو دعوت دینا ہے۔ معاشرہ میں گندگی، اخلاقی انارکی کو عام کرنا ہے۔ غرض عریانیت، نفسانی جذبات اخلاقی نوعیت کے تمام گناہوں میں بنیادی اور اولین کردار ادا کرتی ہے۔ 

    گذشتہ اور قریبی عرصہ میں عریانیت، فحاشی کے خلاف ریاستوں  اور قانون نے تو کوئی سنگین اور سخت سزا تجویز نہیں کی لیکن ایک اور نقد سزا دریافت ہوئی ہے، سزا کیا ہے، موت کا پروانہ ہے۔ جیتے جی انسان مر جاتا ہے۔ معاشرہ اور برادری سے کٹ جاتا ہے۔ علیحدہ کردیا جاتا ہے، یہ قدرت کی گرفت ہے اور یہ سزا ایڈز ہے۔ 90ء کی دہائی میں اس مرض کی تشخیص کی گئی اسکے بعد سے ایڈز، ایچ آئی وی (HIV Positive) کی امراض مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور لاعلاج مرض ہے۔ اگر اس وقت دنیا میں ایڈز کا مرض پھیلنے کی رفتار برقرار رہی تو مجموعی طور پر پوری دنیا میں   2022ء تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 70 ملین تک پہنچ جائے گی۔ 

    اس سنگین صورتحال میں تو عبرت یہ تھی کہ انسانوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور رہنمایان قوم، پالیسی سازوں، میڈیا کی دنیا کے آقاوں کا مردہ ضمیر جاگ جاتا اور تمام مل کر فحاشی، بدتہذیبی، عریانیت، کے خاتمے کیلئے کمربستہ ہوجاتے، کم از کم اسلامیان پاکستان کیلئے اسلام کی سراپا رحمت تعلیمات کو اپنا لیا جاتا مگر یہ حیران کن حقیقت ہے کہ بےحیائی اور عریانیت کو تاریخ بنادینے کی آواز کوئی بلند نہیں کرتا، معاشرہ کو صاف ستھرا، پاکیزہ اور عریانیت سے محفوظ بنانے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ دردناک اور عبرتناک بیماریوں سے نجات کیلئے اس کی خرابی کی جڑ کوختم کرنیکی آواز بلند نہیں ہوتی۔عریانیت، بےحیائی، بداخلاقی اور بدتہذیبی کا ماحول برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کیلئے سدباب کی جو تجاویز دی جارہی ہیں یہ فریب، دھوکہ، اور مزید تباہی کا سبب ہیں۔ اس صورت حال سے نجات کا تو یہی طریقہ ہے کہ فکر لاحق ہو، احساس کی جڑیں گہری ہوں، بےحیائی، بداخلاقی، عریانیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے دانش مندانہ، موثر اور کامیاب علاج یہ ہے کہ اس بربادی کی راہ کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے، جو اسلوب جان لیوا ہیں، خاندان کی بربادی، انسانیت کی توہین اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو۔ ایسے ارادوں اور عمل سے اجتناب اور کنارہ کشی اختیار کی جائے، اپنے گھرانوں اور اولادوں کو حق سے آشنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کا خوگر بنایا جائے۔ قرآن کی انسانیت نواز تعلیمات پر عمل کرنے کی بنیادوں پر اسلامی معاشرت کو اپنانے اور اختیار کرنیکی کوشش کی جائے۔ 

    ملک میں آئین، قوانین، ذرائع ابلاغ کا ضابطہ، عریانیت، فحاشی، بدتہذیبی کے تدراک کی رہنمائی دیتے ہیں۔ عدالت عظمی میں ان قوانین پر عملدرآمد کے مسائل پر آئینی، قانونی پٹیشن زیر سماعت ہیں۔ عوام خود خاندانون کے سربراہ، حکمران، پالیسی ساز، قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اور عدلیہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فکر کریں، آگے بڑھیں، خاموشی توڑیں اور اس بڑھتی بربادی کا سدباب کریں اور نئی نسلوں اور قیام پاکستان کے مقاصد کو محفوظ بنائیں۔

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

     

    حصہ اول:-                                                             

    یہ بات آج سے سات سو بیس سال پہلے سنہ 1390 کی ہے جب دنیا کی دو طاقتور ترین سلطنتوں کی سرحدیں آپس میں ملتی تھی ایک طرف سلطنت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف تیموری سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کا سلطان بایزید اول تھا اور تیموری سلطنت کا سلطان ایک منجھا ہوا جنگجو امیر تیمور تھا ایک وہ تھا جو ایشیا کے بعد یورپ کے بڑے بڑے امپائر گرا رہا تھا اور دوسری طرف امیر تیمور جو بغداد سے دہلی تک اور عرب کے صحراؤں سے لیکر ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کا چکا تھا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کی سرحد پر دستک دے رہے تھے یہاں پر آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے ہوئے تو ایک سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور کچھ سالوں بعد دوسرے کی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی یہ کیسے ہوا بایزید اول اپنے بھائی کو قتل کر کے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بن گیا تھا یہاں پر سلطنت عثمانیہ کو دو خطرے تھے ایک طرف کرمانی سلطنت  جو کہ سلطنت عثمانیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی اور اس وقت کرمانی سلطنت کو مملوک سلطنت جو کہ مکہ اور مدینہ پر قائم تھی کی حمایت حاصل تھی اور اس وقت سلطنت عثمانیہ  نے کرمانی سلطنت کےپر حملہ کردیا اور کرمانی سلطان کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا قریب تھا کہ کرمانی سلطنت سرے سے ہی ختم ہو جاتی مگر ایسے میں آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت ہی خطرے میں پڑ گئی اس کا نام تھا امیر تیمور لنگ

    امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا اور اس کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا اور اس نے اپنی تیموری سلطنت کو  از بکستان پاکستان انڈیا افغانستان ایران ایراق آذربائیجان روس شام تک پھیلا لیا تھا  کل ملا کر بات کریں تو امیر تیمور چالیس سے زیادہ چھوٹے بڑے ملکوں اور ریاستوں پر قبضہ کر چکا تھا سن 1399  میں  تیموری سلطنت کی سرحدیں عثمانی سلطنت کو چھونے لگی تھی جو جو علاقے  عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لیے تھے ان کے حکمران امیر تیمور کے پاس گئے اور جا کر عثمانی سلطان کے بارے میں بتایا امیر تیمور نے عثمانی سلطان کو خط لکھا اور خط میں اس  نے کہا کہ جو علاقے تم نے فتح کیے ہیں وہ اپنے پاس رکھو اور جو باقی علاقے رہ گئے وہ ان لوگوں کو واپس کر دو اگر نہیں تو میں خدا کا قہر بن کر تم پر نازل ہو جاؤں گا یہ خط عثمانی سلطان کے پاس پہنچا  تو اس خط کو پڑھ کر سلطان بایزید اول کو کہر چڑھ گیا کیونکہ آج تک کسی نے ایک سوپر پاور کو اس طرح نہیں للکارا تھا غصے میں آگ بھگولا  سلطان بایزید اول نے پہلا کام یہ کیا ک جو قاصد تیمور کا خط لے کر آئے تھے  ان کی داڑھیاں کاٹ دی اس کے بعد ان کو خوب بےعزت کیا اور دربار سے نکال کر واپس بھیج دیا یہ اس بات کا پیغام تھا کہ عثمانی سلطان بایزید اول کسی سے نہیں ڈرتا یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا لیکن جنگ سے پہلے آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا اس کے بعد سلطان بایزید اول نے امیر تیمور کو ایک خط لکھااور اس خط میں لکھا کیوں کہ تمہاری لا محدود لالچ کی کشتی خود غرضی کے گھڑے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو ورنہ ہمارے انتقام طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم حقدار ہو یہ خط جب امیر تیمور تک پہنچا تو اس نے یہ خط پڑھ کر عثمان سلطان کو جنگ کا پیغام بھجوا دیا ادھر یورپی لوگ جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اس جنگ کو مسلمان اور عیسائیت کی جنگ کہہ رہے تھے وہ بھی امیر تیمور کو خفیہ پیغام بھیجنے لگے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیں اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سلطنت بیزنٹائن امپائر بھی تیمور کے ساتھ مل گئی اور اس نے چودہ سو ایک میں ترکی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ اسی کی ملکیت تھی جو عثمانیوں نے اس سے زبردستی چھین لی تھی اس کے بعد امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور زبردست جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنا ٹریڈمارک چھوڑ دیا امیر تیمور کا ٹریڈ مارک خوف اور دہشت پھیلانا تھا اس نے چار ہزار لوگوں کو زندہ گاڑ دیا جس جگہ پر امیر تیمور نے قبضہ کیا اس کی ذمہ داری سلطان بایزید اول نے اپنے بیٹے ارطغرل کو دی ہوئی تھی تیمور نے بایزید اول کے بیٹے سمیت تمام جنگجوؤں کو ہلاک کردیا اور جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو ظاہر ہے اس کے پاس مقابلے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا اور وہ امیر تیمور کے تعاقب میں نکل پڑا اس کے ساتھ ستر ہزار فوج کا لشکر تھا بایزید اول ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ امیر تیمور کے لشکر کی جانب بڑھتا گیا اور انقرہ پہنچ کر اس نے ڈیرے ڈال دیئے اس کے بعد بایزید اول انقرہ سے آگے بڑھا اور امیر تیمور کے لشکر کے قریب ہوتا چلا گیا امیر تیمور اپنی فوج سمیت پیچھے ہٹنے لگا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی تیموری سلطنت کے قریب پہنچ گیا اور یہاں پر آکر امیر تیمور اپنے لشکر سمیت اچانک کہیں غائب ہو گیا بایزید اول ہفتوں اس کا انتظار کرتا رہا کہ اتنے بڑے لشکر سمیت تیمور کدھر چلا گیا آخر کار چار مہینوں انتظار کے بعد سن چودہ سو دو میں میں بایزید اول کو پتہ لگ گیا کہ تیمور کا لشکر کہاں ہے مگر یہ خبر بایزید اول پر بجلی بن کر گری تیمور کا لشکر اس کے پیچھے سلطنت عثمانیہ کے شہر اور موجودہ ترکی کے دارالحکومت وقت انقرہ شہر پہنچ چکا تھا اور انقرہ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا

    جاری ہے……… 

    Twitter id:  @Ali_AJKPTI 

    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09