Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے      چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    انگلش کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان منسوخ کرنے پرپاکستان سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ سال پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلزآئن وٹمورنے کہا اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے فیصلے سے پاکستان اور کرکٹ فینز سے معذرت خوا ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ کیا وہ انتہائی مشکل تھا، فیصلہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو دیکھ کر کیا گیا، دورہ کیلئے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے اس کیلئے وقت پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بورڈ نے یہ فیصلہ اپنی ججمنٹ کے حساب سے لیا ہے دورہ پاکستان منسوخ ہونے سے متعلق کھلاڑیوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    واٹمور کا مزید کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ فیصلے سے خاص طور پر پاکستان میں لوگ مایوس ہوئے، تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن سکیورٹی اور ویلفیئر کی ایڈوائس پر فیصلہ کیا گیا پاکستان کے ساتھ تعلقات نئے سرے سے بنانے ہیں، ہم پاکستان کے مشکور ہیں کہ وہ گزشتہ برس انگلینڈ آئے۔

    چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ نے کہا کہ اگلے سال پاکستان کے شیڈول ٹور کے حوالے سے جو ہو سکا ہم کریں گے۔


    انگلش کرکٹ بورڈ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کی معذرت اور دورے کا اعلان ہمارے مؤقف کی کامیابی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ کیخلاف ایک اور سازش ناکام ہوئی۔ پاکستان کا ساتھ دینے والے کھلاڑیوں، سفارت کاروں، انٹرنیشنل میڈیا اور تمام لوگوں کا شکریہ ۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ نے مبینہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے دورہ پاکستان اچانک منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد انگلش ٹیم نے بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا جس پر برطانوی وزیراعظم بورس جونسن بھی انگلش بورڈ سے ناراض تھے۔

    چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا تھا کہ ، ہم پوری دنیا سے دشمنی نہیں لے سکتے،آئندہ 6ماہ میں ہمارے پاس بہت پیسے آئینگے،لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ آئی سی سی کی میٹنگ کا کوئی فائدہ ہوتا ہے،اپنے حساب سے گول پوسٹ بدل دیا جاتا ہے، دہرا معیار ختم ہونا چاہیے،ہم نے اپنی ٹیم کو بہترین بنانا ہےزیادتی جب بھی ہو تو اپنا موقف سب کے سامنا رکھنا چاہیے-

    انہوں نے کہا تھا کہ بلاک بنے ہوئے ہیں ، ایک نے پل آوٹ کیا، دوسرے نے بھی کردیا، آگے بھی ہوسکتے ہیں،ہمیں اس معاملے کو بلاک کے ذریعے اور قانونی طور پر اٹھانا ہوگا، ہم صرف اپنا موقف رکھیں گے، کسی سے الگ نہیں ہونا چاہتے،بھیک میں کرکٹ نہیں کھیلیں گے،ان کے ہاتھ میں اپنی قسمت میرے ہوتے ہوئے نہیں دے سکتے۔ ان ممالک کوآئئنہ دکھانے کے ساتھ تمام قانونی راستے بھی اپنائیں گے-

  • آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو مستقبل میں ہیٹ ویو کے واقعات میں 7 گنا اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق برسلز یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیاں انتہائی شدت اختیار کر لیں گی ہماری آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی۔

    ان بچوں کو اپنے دادا کے مقابلے میں جنگلات میں آگ لگنے کے دگنے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ خشک سالی کے واقعات میں بھی 3 گنا اضافہ ہو جائے گا۔ سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہوں گے جہاں ایسے شدید موسمی اثرات یورپ کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہوں گے۔

    تحقیق کے مطابق افریقہ میں 2021 میں پیدا ہونے والے بچے یورپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں ہیٹ ویو کے 50 گنا زیادہ واقعات دیکھیں گے۔ اسی طرح خشک سالی اور جنگلوں میں آتشزدگی جیسے واقعات میں 6 گنا تک اضافے کا خدشہ ہے2021 میں پیدا ہونے والوں بچوں کو اپنی زندگی میں اپنے دادا کے مقابلے میں خشک سالی کے 2.6 گنا زیادہ اور سیلابی صورت حال کے 2.8 گنا زیادہ واقعات سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    تحقیق کی منصف ڈاکٹر جوئری نے کہا ہے کہ اس ریسرچ میں نے ہم نے یہ بتایا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں انسانوں کو کن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جارحانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    تحقیق میں 1970 سے 2019 تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے حادثات کے اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے جس کے مطابق 1983 میں ایتھوپیا میں شدید خشک سالی کے باعث 3 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار گئےاسی سال سوڈان میں خشک سالی سے ڈیڑھ لاکھ افراد چل بسے۔

    1970میں بنگلہ دیش میں سمندری طوفان 3 لاکھ جانیں لے گیا جبکہ1991 میں بنگلہ دیش میں ہی سمندری طوفان ایک لاکھ 38 ہزار جانیں لےگیا خشک سالی سے سب سے زیادہ افریقی ممالک ایتھوپیا، سوڈان، موزمبیق جب کہ سمندری طوفان اور سیلاب سے بنگلہ دیش اور میانمار زیادہ متاثر ہوئے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    تحقیق میں جاری کئے اعدادو شمار کے مطابق مالی لحاظ سے سمندری طوفان کٹرینا امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوا 2005 میں آنے والے اس طوفان سے امریکا کا 163 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ 2017 میں سمندری طوفان ہاروے سے امریکا کو 96 ارب ڈالر کانقصان ہوا اسی سال سمندری طوفان ماریا نے امریکا کو 69 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

    اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم   تحریر: محمد اختر

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!  5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کی ضمانت دی گئی تاکہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کو استعمال کر سکیں۔لیکن، تاحال اس کے برعکس گزشتہ ساتھ دہائیوں سےمقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اب بھی اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کشمیریوں کو ہندوتوا نظریے کے زیر اثر بھارتی قابض افواج کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بابت ہر شخص آشنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ بن چُکا ہے، جہاں بھارتی قابض افواج انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔جبکہ، ان خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں دو رپورٹوں میں بھی درج کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے ایک بار پھر ایک جامع ڈوزیئر جاری کیاہے۔ جو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جموں و کشمیر کا وہ حصہ جو غیر قانونی طور پر بھارت کے قبضے میں ہے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے کئی دہائیوں سے کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں۔بھارت کی قابض افواج نے ان پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں کہ ایک بار جب ان کی مکمل چھان بین کی جائے اور حقائق سامنے آجائیں تو مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں، جس پر عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں نےمحض رسمی بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کئی دہائیاں پرانی قراردادیں بھی ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ورنہ بھارت اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پوری دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہو سکے۔دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے ثبوت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے بڑے پیمانے پر جنگی جرائم، کشمیریوں کی نسل کشی، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،داعشکے پانچ تربیتی کیمپوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے جعلی مقابلے کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کئے ہیں۔ڈوزیئر میں جعلی پرچم آپریشن اور خواتین کی بے حرمتی کے جامع ثبوت موجود ہیں۔131 صفحات پر مشتمل دستاویز تین باب پر مشتمل ہیں۔ پہلا باب جنگی جرائم سے متعلق ہے۔ دوسرا باب جعلی مقابلوں سے متعلق ہے، جبکہ تیسرا باب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کی ہندوستان کی کوششوں سے متعلق ہے۔ڈوزیئر میں 113 حوالہ جات ہیں، جن میں سے 26 بین الاقوامی میڈیا سے اور 41 بھارتی تھنک ٹینک سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف 14 حوالہ جات پاکستان کے ہیں۔ یہ سب سے مستند دستاویز ہے جس میں 3432 مقدمات جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب میں ڈوزیئر میں معلومات کا جائزہ لے رہا تھا تو یہ جان کر خوفزدہ ہوا کہ 8،652 اجتماعی قبریں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 دیہاتوں میں دریافت ہوئیں جن میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں ہیں۔بھارتی فورسز نے 239 ٹارگٹ سیل بنائے ہیں۔ 2014 سے اب تک مقبوضہ وادی کے 30 ہزار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 231 افراد کرنٹ لگا کر شہید کئے گئے ۔ جب سے بھارت میں ہندوتوا کی حکومت آئی ہے، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کو پیش کیے گئے ڈوزیئر میں 1،128 افراد کی نشاندہی کی گئی جو ماورائے عدالت قتل ہوئے یا پیلٹ گنیں ان کے خلاف استعمال کی گئیں۔ڈوزیئر میں خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ سے زائد املاک کو جلایا گیا ہے جو کہ آتش زنی کے جرم میں آتی ہیں۔ اس میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیے گئے جعلی آپریشنز کا بھی ذکر ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے اور تحقیقات کرنی چاہیے۔ چونکہ،کشمیری عالمی انصاف اورانسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ وحشیانہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ عصمت دری کو بھارت نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، لیکن اس کی سرزنش نہیں کی گئی۔یورپی ممالک اس پر دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت دی گئی جب وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حسبِ معمول مرتکب ہو تا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آج حالات بدل چکے ہیں، بھارت کے جرائم پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔ خیال رہے، مقبوضہ وادی اور اس کے مظلوم عوام پر بھارت کی قابض افواج کے مظالم کے ٹھوس شواہد اور ثبوت پر مبنی یہ پہلا ڈوزیئر نہیں ہے، بلکہ پاکستان نے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں کہ بھارت مسلسل ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو گزشتہ 777 دنوں سے محصور کر دیا گیا ہے اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے لیکن دنیا اس پر اس طرح توجہ نہیں دے رہی جس طرح اسے دینی چاہیے۔عالمی برادری کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں  جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں اور بھارت کی پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت خطے میں جو ماحولپیدا کر رہارہا ہے اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ یہ صرف بدتر ہوگا اور اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو نقصان ہوگا۔

    @MAkhter_

  • امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل   تحریر: یاسرشہزادتنولی

    امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل  تحریر: یاسرشہزادتنولی

    ۔

    طاقت کے نشے میں چور امریکہ بہادر جس نے دنیا میں ظلم بربریت کے وہ شرمناک کھیل کھیلے کے معصوم انسانیت نے سر شرم سے جھکا لئے ۔ پوری دنیا پر آقا کی صورت میں مسلط ہونے کی خواہش میں امریکہ سامراج انسانیت کی ہر اس حد سے گزر ا ہے کہ جہاں دنیا کی ہر پستی اور ذلالت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کبھی امریکہ بہادر نے ”ویت نام’ میں خون کی ہولی کھیلی تو کبھی ہیرو شیمااور ناگا ساکی  پر ایٹمی آگ برسا کر بے گناہ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ جاپان کی لاکھوں بے گناہ عوام کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی امریکی درندوں کی خونخوار آنکھیں مزید انسانوں کے خون کی پیاسی ہی رہیں۔ اور اسی تناظر مین عراق کے صدر صدام حسین کو بنیاد بنا کر اندھا دُھند عراق پر یلغار کر دی امریکہ کو مسلمانوں سے تو خاص کر خدا واسطے کا بیر ہے عراق میں امریکہ نے نہتی عوام بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر وحشی پن اور درندگی کی وہ انسانیت سوز تاریخ رقم کی جسے دیکھ کر لوگ چنگیزی دور کے مظالم بھی بھو ل گئے خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے کم وبیش 40ہزار فوجیوں نے یہ کہتے ہوئے استعفے دے دیئے ہیں کہ امریکہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر عراق میں ہمارے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو مروایا ہے۔ عراق کے مسلمان بالکل بے گناہ تھے اور ہم نے ناحق ان معصوم لوگوں کو خون بہایا ہے امریکی استعفیٰ دینے والے فوجیوںنے مزید کہا کہ ہمارا ضمیر ہمیں بری طرح بے چین رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے ہی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے ان معصوم عراقیوں کا کوئی قصور نہ تھا وہ ہم سے لڑنے نہیں آئے تھے بلکہ ہم خود ان سے لڑنے ان کے ملک گے تھے ہم فوجیوں کو یہ باور کرایا گیا تھا تم حق و سچ کی وہ جنگ لڑنے جا رہے ہو جس میں تمہاری اور تمہارے مذہب کی بقا ہے لیکن آج ہمیں اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہو ا ہے کہ یہ جنگ نہ ہی ہمارے مذہب کی تھی اور نہ ہی ہماری بقاء کی تھی بلکہ یہ لڑائی جارج بُش اور کلنٹن اپنے اقتدار کیلئے اور امریکی عوام کے سامنے ہیرو بننے کیلئے لڑ رہے تھے۔ اور یہی برسرا قتدار خون خوار ٹولہ اپنے اقتدار کے محل ان بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تعمیر کرتا رہا۔ اور ہر امریکی برسرِ اقتدار ٹولے نے بے گناہ انسانیت کے خون خرابے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ آج ہم اپنے ہی ضمیر کے مجرم ہیں ہمارا ضمیر ہم سے بار بار یہ سوال کر رہا ہے کہ لاکھوں نہتے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرکے تم نے کون سا کمال کیا ہے۔ ان معصوموں کے خون سے تم نے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے کبھی ایک ظالم اور کبھی دوسرے درندے کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امریکی فوجیوں نے حکومت سے ملنے والے ”گولڈ میڈل” اٹھا کر دور پھینک دیئے گولڈ میڈل پھینکتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے امریکی فوجی جوتے اٹھا اٹھا کر امریکہ کے منہ پر مار رہے ہوں استعفے دینے والے فوجیوں نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ہم عراقی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ہم ان بے گناہ مسلمانوں کے خون کا ہر قیمت پر ازالہ کریں گے جو ہمارے ہاتھوں ناحق مٹی کی خوراک بنے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے ، امریکہ ہر جگہ سے ہمیشہ ذلیل خوار ہو کے ہی بھاگا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کی ہمارے سامنے ہے ۔ بس میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکہ کے رہنے والے 40ہزار امریکی فوجی جب استعفے دے کر امریکہ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر سکتے ہیں توہم دنیا بھر کے مسلمان خدا اور خدا کے رسول کے نام پر یکجاء ہو کر مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مروڑ کر پھینکنے کی طاق کیوں نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام مسلامونں کو انفرادی فائدے کا پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو اپنا کر عصرِ حاضر کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک متفق اور مستحکم قوم بننا ہوگا۔ اور اس میں ہم سب کی بقاہے۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    ‏توَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)

    ‏اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہی 

    ‏اللہ تعالی نے انسان کو زمیں پر اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ ہمیں عقل سے نوازا اور بے تحاشہ صلاحیتیں دیں ۔ اگر غور کیا جائے تو صرف انسان ہی نہی ہر ذی روح اپنے survival کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ انسان ہو یا حیوان چرند ، پرند ہر کوئی اپنے سر چھپانےکے لیے چھت بناتا اور اور روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔ خود کو موسموں کی سردی گرمی سے بچانا یہ سب survival کی کوششیں ہی ہیں ۔ 

    ‏تو پھر سوچیں صرف انسان ہی اشرف المخلوقات کیوں؟ 

    ‏اس لیے کہ انسان کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے لیے غلط اور سہی کا تعین کر سکے ۔ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنے لیے کوشش کرنے والا ہی اشرف المحلوقات ہے 

    اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں اس ذات نے بے مناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ عقل دی تاکہ اپنے لیے صحیع راستے کا انتحاب کر سکیں اور کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے دی گئی نعمتوں میں اپنے حصے کی نعمتین کوشش سے حاصل کریں ۔ 

    اللہ نے ہمیں ہمت اسقلال بردباری اور عرفان سے نوازا تاکہ اس کوشش کہ راستے  میں آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کر سکیں ۔ اللہ نے ہمارے حود متعین کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوۓ ہم کوشش سے بہت کُچھ کر سکتے ہیں ۔ او ر ان حدود سے آگے کچھ بھی نہی  ۔ میرے مطابق غریبی اور امیری بھی الل نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے ۔ انسان کے ہاتھ میں ہے جس نے کوشش کی اور عمل کیا اس نے ترقی کی راہ کو پا لیا ۔ 

     علامہ اقبال کاا ایک شعر ہے۔۔۔” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے”۔ اس شعر میں انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ انسان اگر اچھے عمل کرے گا تو کامیابی اُس کے قدم چومے گی اور اگر انسان غلط راہ پر گامزن رہا تو زندگی بھی کانٹوں بھری سیج ہوگی اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ یہ زِندگی کیسے گزارتا ہے۔۔۔۔ بےشک زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی شروع کہاں سے ہوئی اور آخرت کی زندگی کیا ہے، ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کیا ہے۔۔۔ کیا رنگوں کے ساتھ بھری زندگی یہ ہے—-؟؟؟ یہ پھر رنگوں سے مزین زندگی مرنے کے بعد والی ہے۔۔۔؟؟

    زندگی بیشک رنگوں بھری ہے اب یہ انسان پر منحصر کرتا ہے وہ اس میں کس طرح کے رنگ بھرتا ہے۔۔۔ قوس و قزح کی مانند خوبصورت رنگ جو آنکھوں کو ٹھنڈک دیں یا پھر سیاہ تاریکی میں ڈوبے رنگ جن سے وحشت ہو۔۔؟

    اگر ہم کو اپنی اصل زندگی میں رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں اس زندگی میں بہت خوبصورت رنگوں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب یہ کیسے ہو؟ یہ ایسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کرنا ۔۔۔۔۔ جب انسان کو یہ سمجھ آجائے گا کہ یہ دُنیا عارضی قیام گاہ ہے اور اصل دُنیا اور زندگی اس کے بعد کی ہے تو اس دنیا سے رغبت خودبخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کام مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دنیا میں موجود ہم اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہوجائیں ہرگز نہیں ۔۔۔اس چیز کی اسلام میں سختی سے معمانیت ہے۔

    ‏اکثر یہ بات سُننے کو ملتی ہے اگر مقدر میں ہوا تو مل جائے گا ۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگیوں میں قسمت اور تقدیر کا بہت بڑا کردار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ ہم قسمت کا انتظار نہی کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے حلق میں نوالہ ڈالے ۔ اگر ماضی پہ ایک نظر دوڑائیں تو تمام کامیاب لوگوں کی ترقی کا زینہ عمل ، مسلسل جد وجہد اور کوشش میں پنہاں ملے گا ۔ یہ کہنا غلط نہی ہو گا کہ قسمت انسان خود بناتا ہے ن۔ نیک ارادہ ، صحیع سمت ، دیانت داری اور لگن کے ذریعے  وہ اپنی منزل تک پُہنچتا ہے اور اس میں خدا بھی اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے ۔ 

    ‏میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ انسان کوشش سے وہ سب حاصل کر لیتا ہے جس کا اس نے خواب دیکھا ہو ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے 

    ‏”Nothinh is impossible under this blue sky ” 

    ‏اور اگر کوشش کی جائے تو ہے بھی ایسا ہے ۔ 

    ‏اس تحریر کا مقصد یہ بات اپنی نوجوان نسل تک پُہنچانا ہے کہ اسقلال اور ہمت سے وہ اپنے لیے ستاروں سے آگے کے جہاں کے راہ بھی ہموار کر سکتے ہین۔ عزت ، شہرت ۔ شان و شوکت سب کچھ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ زندگی میں مشکلات کا آنا معمول کی بات ہے لیکن ان مشکلات اے گھبرا کہ خود پہ ترس کھانا اور کود بیچارہ سمجھ لینا الل کی سی گئی اس خوبصورت نعمت کی تذلیل ہے ۔ 

    ‏جیسا کہ مشہور شاعر ظفر علی خان نے فرمایا 

    ‏خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

    ‏نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالتبدلنے کا 

    ‏ ⁦‪@S_paswal‬⁩

  • اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی
    پاکستان میں اخلاقی اقدار دن بدن کمزور ہو رہی ہیں  یہ ہماری گھریلو ترتیب کا نہ ہونا ہے’ ہمیں گھروں میں اچھے اخلاق سکھائیں جائیں گے تو ہم  دوسرے لوگ کا احترام کریں گے اخلاقی گراوٹ کسی بھی قوم کی تباہی کا باعثِ خیمہ ہے ہمارے اخلاق کا کمزور ہو جانا ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہم بحیثیت مسلمان دوسرے لوگوں کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ان کی زاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بد قسمتی سے اخلاق گراوٹ کی کوئی قانونی سزائیں نہیں اگر کچھ سزائیں ہیں بھی صحیح تو ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے اگر کسی کی کوئی بے عزتی کرتا ہے تو اس کو شاباش دی جاتی ہے یہ باعث شرمندگی ہے تو پھر اس کے جواب میں بھی جواب اس سے زیادہ گندی زبان استعمال کرکے دیا جاتاہے  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی میں بھی اور موجود دور میں بھی خواتین بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی تھی ان کی سزائیں جرگہ طے کرتے تھے کبھی کسی کے جرم میں کوئی اور سزائیں کے طور پر گندے عمل کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے مثلاً جب کوئی مرد کسی عورت سے زیادتی کرتا تو جرگہ میں زیادتی کرنے والے شخص کی عزیز کو جرگہ زیادتی ہونے والی عورت کے بھائی سے شادی (ونی) کر دیتے تھے  یہ بھی کسی کی بغیر رضا مندی ظاہر کئے شادی کر دی جاتی تھی  پھر دیہاتوں میں امیر وڈیروں کے جرگہ میں کچھ رقم زیادتی ہونے والا کو دی جاتی تھیں یہ حقیقت تھی  اب اگر آن جیسے واقعات کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہوتا تو کسی زینب کو قتل نہ کیا گیا ہوتا موٹر ویز پر خاتون کی عزت کو نقصان نہ پہنچا ہوتا  اب ملا میں ایسے گندے دھندوں کی ویڈیو بنائی جاتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر Fake ہوتی ہے جو بلیک میل کرنے یا دوسرے کی عزت اچھالنے کا سستا ترین طریقہ ہے’ مدارس میں ویڈیو آئے تو پورے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا عزیر کا انفرادی فعل تھا اس میں مدارس کا کوئی کردار نہیں ہے  اگر کسی کالج یونیورسٹی کے شعبہ میں غیر اخلاقی سکینڈل ہوتا ہے تو انفرادی ہوتا ہے ادارے کا کردار نہیں نہ ہی سکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں غیر اخلاقی تربیت دی جاتی ہے یہاں تو تعلیم تربیت اخلاقی تربیت کے ساتھ زہن کی تربیت خدمت کی جاتی ہے کسی یونیورسٹی میں سیکنڈل کا کہہ کر سینکڑوں آنے والی لڑکیوں کو روکا جائے گا مدرسے میں جانے سے روکا جائے گا  پھر مزید جہالت کا بازار گرم ہوگا  اگر کسی معزز خاتون ممبر اسمبلی کی عزت اچھال رہے ہیں تو جو بے گناہ کی عزت اچھال رہے ہو اللّہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا  اگر مان لیا جائے ممبر اسمبلی سابق گورنر یا کسی اور کی ویڈیوز کو ایشو بنانا چاہتے ہیں تہمیں کیا حاصل ہوگا ہم لوگ عزت دار لوگوں کی عزت بلاوجہ اچھال رہے ہیں یہ ہماری بداخلاقی ناقص تربیت کا نتیجہ ہے ویڈیو پر معزز شخص نے تردید بھی کی اس کو جھوٹ پر مبنی ان کے خلاف اوچھا ہتھکنڈا کہا اگر کوئی شخص بدکار ہے’ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل دو برے لوگوں کو بھی پردہ رکھنا اچھے اخلاق والے لوگوں کا کام ہوتا ہے پر منگھڑت تہمات نہیں لگانی چاہیے ہم لوگ بھی عزت دار تب ہونگے جب دوسروں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے اگر کوئی برا ہے’ تو برا سہی لیکن اس کی برائی کا پرچار کرنا ہرگز آسلام کی تعلیمات میں نہیں اسلام دوسروں کے راز دل میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے ہمیں بس موقع چاہیے کسی کی بھی سالوں کی بنائی ہوئی عزت منٹوں میں خاک میں مل دیتے ہیں لیکن یاد رکھو عزت و زلت بے شک اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کراتا ہے 

    Twitter @RizwanANA97

  • 18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    مرغیاں پالنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے انڈوں سے بچے حاصل کرنا ایک دلچسپ مشغلہ ہے تاہم 18 ہزار سال پہلے ایسا نہیں تھا قدیم انسان دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ پالتے تھے-

    باغی ٹی وی :امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ 18 ہزار سال پہلے نیو گنی میں رہنے والے انسان عام مرغیوں کی بجائے 6 فٹ قد کے جان لیوا پرندے کیسووری پالتے تھے کیسووری کو پرندوں کا ڈائنوسار بھی کہا جاتا ہے-

    کیسووری اپنی مضبوط اور تیز چونچ، انسانی ہاتھ جتنے بڑے اور تیز دھار ناخنوں والے پنجے اور غصیلی طبیعت کی وجہ سے کیسووی کو دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ کہا جاتا ہے ایک بالغ کیسووری کا وزن 60 کلو تک ہو سکتا ہے 2019 میں فلوریڈا میں کیسووری کے حملے میں ایک شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    پنسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے نیوگنی میں کیسووری کے 18 ہزار سال پرانے انڈوں کے خول کا معائنہ کیا ہے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بہت سے انڈوں کے خول ایسے تھے جن سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوئی کہ انسانوں نے انہیں انڈوں سے بچے پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ان پرندوں کو پال کر بڑا کرنے کے بعد ان کے خوبصورت پروں اور گوشت کے لیے انہیں مار دیا جاتا تھا۔

    کیسووری کا شمار ایمو اور شترمرغ کی طرح بڑے پرندوں میں کیا جاتا ہے ایمو اور شترمرغ کی طرح یہ بھی پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لمبی ٹانگوں کے سبب یہ انسان کے مقابلے میں تیز رفتاری سے دوڑ سکتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    واضح رہے کہ ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا تھا نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

  • پی سی بی کے  چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق قومی کرکٹرز وقار یونس اور مصباح الحق کے بعد وسیم خان نےاختیارات میں کمی کی وجہ سےاستعفیٰ دیا جبکہ وسیم خان کی مدت ملازمت فروری2022 میں ختم ہونی تھی۔


    وسیم نے اپنا استعفیٰ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کو پیش کیا، ان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا وسیم احمد خان واروکشائر، سیسیکس اور ڈربی شائر کی طرف سے کاؤئنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔وسیم خان انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

    مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار

    وہ لیسٹر شائر کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں وسیم خان انگلینڈ میں کھیلوں کے بورڈ کا بھی حصہ تھے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ سیل کا بھی سات سال حصہ رہے۔

    ادھر چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ وسیم خان کو ان کے بے پناہ تجربے کی بنیاد پر سلیکٹ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہو گئے تھے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جمیکا میں قرنطینہ کے دوران اپنے 24 ماہ کا جائزہ لیا، جانتا ہوں یہ آئیڈیل وقت نہیں مگر فی الحال ایسے فریم آف مائنڈ میں نہیں کہ آئندہ چیلنجز سے نبرد آزما ہوسکوں،اپنے اہلخانہ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں،

    آئی پی ایل میچز، طالبان نے بڑی پابندی لگا دی

    وقار یونس کا کہنا تھا کہ مصباح الحق نے اپنا فیصلہ بتایا تو میں نے بھی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا،پاکستان کے نوجوان باؤلرز کے ساتھ کام کرنے پر بہت مطمئن ہوں، چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی مصباح الحق کے فیصلے کا احترام کرتا ہے، گزشتہ 24 ماہ میں مصباح الحق نے اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کرکٹ کے لیے خرچ کیں،وقار یونس نے جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے،ہم نے ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کو عبوری کوچز کی حیثیت سے نیوزی لینڈ سیریز کے لیے تعینات کیا ہے، آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کے لیے ٹیم منیجمنٹ کا اعلان مناسب وقت پر کردیا جائے گا

    میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا ،چیئرمین رمیز راجہ نے کئے بڑے اعلان

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    مقبول ویڈیو کالنگ سروس اسکائپ اب زوم، گوگل میٹ اور واٹس ایپ سمیت دیگرسروسز کے مقابلے میں آنے کو تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس نئے اسکائپ کی آزمائش کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کمپنی کے مطابق یہ پہلے سے زیادہ تیزرفتار، قابل انحصار اور جدید ڈیزائن کی حامل سروس بن جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق ان میں سے ایک بڑی تبدیلی نیا گرڈ ڈسپلے ہے جس میں کال میں شامل تمام افراد کو ایڈ کیا جاسکے گا چاہے ویڈیو آف ہی کیوں نہ ہو مگر تمام شرکا کو دیکھنا ممکن ہوگا اسی طرح نئی تھیمز اور لے آؤٹس کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جس کا مقصد کالنگ یوزر انٹرفیس کے لیے نئے آپشنز فراہم کرنا ہے۔

    صارفین زیادہ بڑی گیلری، ٹوگیدر موڈ، گرڈ ویو اور اسپیکرو ویو کے ساتھ کونٹینٹ ویو کا انتخاب کرسکیں گے موبائل ورژن میں سائیڈ پینل، رنگا رنگ تھیمز اور ریفریش آئیکونز کا اضافہ کیا جاسکے گا اسی طرح کاسٹیوم ساؤنڈ نوٹیفکیشنز اور ٹوئن کیم بھی نئے فیچرز ہیں ہم نے صرف ڈیزائن میں تبدیلی پر توجہ مرکوز نہیں کی بلکہ کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسکائپ کے اینڈرائیڈ ورژن کی پرفارمنس میں نئی اپ ڈیٹس کے بعد لگ بھگ 2 ہزار فیصد بہتری آئے گی جبکہ ڈیسک ٹاپ ورژن میں 30 فیصد تک بہتر ہوگی وہ مستقبل میں تمام ویب براؤزرز کے لیے اسکائپ سپورٹ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ صارفین کو ہر ممکن بہتر تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

    اسکائپ میں یہ تبدیلیاں آنے والے مہینوں میں صارفین کو دستیاب ہوں گی-

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار…