Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی

    ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی


    آج کے پر آشوب اورنفسانفسی کے دور میں، زیادہ تر لوگ ڈپریشن و ٹینشن جیسے امراض سے نبردآزما ہیں۔ ذہنی سکون اولین ترجیح تو ہے لیکن بدقسمتی سے نایاب ہوتی جارہی۔
    معاشی مسائل ہوں یا معاشرتی تفکرات، روز بروز ہمارے اضطراب و بے سکونی میں اضافہ کررہے اور ہم بےبسی سے تماشا دیکھ رہے۔بظاہر پرآسائش گھر، پرتعیش گاڑیاں،مال ودولت، اولاد سب ہے لیکن قلبی سکون نہیں۔ عجیب بےچینی ہےجس کا مداوا نہیں ہوپارہا۔گولیاں پھانک کر بھی نیند سے محرومی ہے۔ حالانکہ صدقہ و خیرات میں کوئی کوتاہی نہیں، نماز پنجگانہ اور حج و عمرہ باقاعدہ، پھربھی پریشانی ہے کہ جاتی نہیں۔ پریشانی بھی ایسی جو ناقابل بیان و برداشت،ایسے رستے زخم جن کا مرہم ناپید۔ وجہ؟ حقوق اللّٰہ و حقوق العباد میں کوتاہی۔
    اورحل؟ سادہ ترین۔ لیکن اپنی انا کو کون مارے؟
    فرمان باری تعالیٰ ہے
    "اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔”
    لیکن اگر عبادات، صدقات، خیرات سکون دینے سے قاصر ہیں تو یقیناً ہمارےمعاملات زندگی بگاڑ کا شکار ہیں۔
    حقوق اللہ کی معافی تو یقیناً توبہ استغفار سے مل سکتی لیکن حقوق العباد کی معافی بغیر تلافی و کفارہ دیے ممکن نہیں۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کردیں گے لیکن بندوں کے حقوق جب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
    تو پھر ہم کہاں بھٹکتے جا رہے؟
    انسان اتنی عجیب مخلوق ہے کہ جو چیز اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھ دی ہے اسے مادی اشیاء میں تلاش کرتا۔حقوق العباد سے پہلو تہی کرنے والوں کے مقدر میں بےچینی و پریشانی لکھ دی جاتی۔ سکون، خوشی، اطمینان یہ سب انسان کی ذات میں پوشیدہ ہیں۔ اچھائی و نیکی کیلئے معمولی سی کاوش بھی لامحدود نتائج دیتی جبکہ ایک معمولی غلط کاری دل پر سیاہ داغ کی صورت اپنا نشان چھوڑ دیتی۔ دل جتنا خوبصورت و پرنور ہو گا اتنا ہی اطمینان قلب نصیب ہو گا۔ جبکہ سیاہ کاروں کیلیے تو دنیا میں بھی بے سکونی و گمراہی ہے اور آخرت میں بھی ضلالت و رسوائی۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ظاہری خوبصورتی کیلئے تو ہر حد تک جاتے یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کرانےسے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اندرونی بدصورتی کا سدباب کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
    دولت کے انبار، رنگ و نور کا سیلاب، عیش وعشرت، سیرو سیاحت، تفریحات و ترغیبات، شراب و کباب سے آراستہ رنگین محافل، منشیات،مزید برآں ان خرافات کے حصول کیلئے کی گئی کرپشن، رشوت، حرام کمائی، دھوکہ بازی! الغرض حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی۔
    جان لیجیئے: یہ سب وقتی خوشی تو دے سکتے لیکن سکون قلب دینا ان مادی اشیاء کے بس کی بات نہیں۔الٹا سرمایہ، وقت اور صحت کا ضیاع ہے
    کیا وجہ ہے کہ تاریخ انسانی کےکامیاب ترین افراد خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے حالانکہ وہ بظاہر تمام نعمتوں سے مالا مال تھے؟ پھر خواہ وہ ہٹلر ہو یا مشہور پینٹر وان گوگ، حسنیہ عالم قلوپطرہ ہو یا سلیبرٹی شیف انتھونی بورڈین، اداکار سوشانت سنگھ ہو یامزاح کا بے تاج بادشاہ رابن ولیمز، کامیاب ترین ہوکر بھی ناکام قرار پائے۔
    "بےشک انسان خسارے میں ہے”
    اپنی گمراہی پر خود گواہ،شیطانیت کا آلہ کار بناہوا۔ حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی اور اپنے وقتی سکون کیلئےگھاٹے کا سودا کرکے خوار ہوتا۔
    اگر ذہنی سکون چاہیے تواپنے مردہ ضمیر کو جگائیں۔خود احتسابی پہلا قدم ہے سکون قلب کے حصول کیلئے۔ اور یہ قدم ہر انسان کو خود اٹھانا پڑتا۔خلوص، محبت، اخوت ، رزق حلال، سادگی، عاجزی یہ وہ گنج ہائے گراں مایہ ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتے۔ بظاہر معمولی لیکن ہر وصف اپنے اندر سمندر جیسی وسعت سموئے ہوئے ہے۔ حقداروں کو ان کا حق دیں۔ مخلوق خدا کے ساتھ معاملات ٹھیک کریں،حق تعالیٰ وہ بھی ودیعت کرے گا جو آپ کے گمان میں بھی نہ ہوگا۔ آزمائش اور سزا کا فرق جاننے کی کوشش کریں جو مصیبت قرب الٰہی عطا کرے وہ آزمائش ورنہ سزا۔ حضرت محمد ﷺ پر سب سے زیادہ تکالیف آئیں لیکن ان سے بڑھ کر خدا کومحبوبﷺ کوئی نہیں۔ لوگوں کی تکلیفوں میں انکا ساتھ دیں اللّٰہ تعالیٰ آپکی تکالیف دورکردے گا۔
    فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت 
    ناانصافی، رزق حرام، جھوٹ، نمود و نمائش ہماری زندگی کو جہنم بنادیتے لیکن ہم وقتی و ذاتی اغراض کے حصول کیلیے ان علتوں کو گلے لگائےبیٹھے ہیں۔ رسم ورواج، سماجی روابط، عہدے و رتبے کو خدا بنا کرسکون قلب کے طلبگار ہیں؟
    ذہنی سکون عطائے خداوندی ہے جس کو میسر ہو گیا اس کیلئے مشکلات میں بھی آسانی کا وعدہ ربی ہے اور جو اپنی خطاکاری و ریاکاری کی وجہ سے محروم رہا وہ حریر و ریشم کے باوجود بھی نامراد رہے گا
    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
    writer :

    Syed Ghazi Ali Zaidi

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • حصّولِ عزت ایک آزمائش  تحریر: یاسر خان بلوچ

    حصّولِ عزت ایک آزمائش تحریر: یاسر خان بلوچ

          عزت زلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء بیدک الخیر کا مالک شہنشاہ مطلق کی ذات ہے۔ لوگ پیسوں کے ساتھ اپنی عزت اور معیار بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، عزت کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اور اپنا سٹیٹس بڑا شو کرنے کیلئے بڑے بڑے رشتوں کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اپنے سے بڑے رُتبے والے سے دوستی رکھتے ہیں۔ عزت کیلئے انتھک محنت رات دن ایک کر لیتے ہیں صبح شام دوڑ لگی ہوتی ہے۔

          یہاں جس کی ایک لاکھ مہینہ کی آمدن ہو وہ سمجھتا کے میں سب سے زیادہ معتبر شخص ہوں مجھے عزت دی جائے میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔ کسی کو کرسی مل جائے وہ سمجھتا کہ عزت مل گئی، اچھی نوکری مل جائے سمجھتا عزت مل گئی، کالا دھندہ چلنے لگ جائے سمجھتے ہے کہ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ نادان سمجھتا ہے جتنی بڑی کوٹھی ہو گی، جتنے زیادہ نوکر چاکر ہوں گے اتنی زیادہ عزت ہو گی پتہ نہیں ہم لوگوں نے عزت کو کیا سمجھا ہوا ہے؟ 

          دراصل عزت میں عزت ملے گی جتنی عزت کرو گے اتنی عزت ملے گی تمہیں سب سے پہلے عزت کا حق ادا کرنا ہے رب العزت کا پھر رب کے نبی کی عزت کا پھر مومنین کی عزت کا  خدا اور اس کے رسول کی آمد کا رسول کے صحابہ کی عزت کرنے کا اگر تم ان سب کی عزت کا حق ادا کر لیتے تو پھر یقین رکھ اپنے رب کریم پر وہ کبھی بھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ اور اگر تو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور بڑی کوٹھی بڑے رتبے اور زیادہ پیسے کے حصول کیلئے دوڑ لگائے گا اور ان کی عزت نہیں کرے گ جن کی عزت تم پر فرض ہے تو یہ بات جان لے کہ وہ ذات تجھے تیرے گھر میں بے عزت کر کے چھوڑے گا۔

          یہاں ہم سب آزمائش میں ہیں۔ اللہ آزمائش کرتا ہے مال و اولاد دے کر، علم دے کر، حسن دے کر، بھوک دے کر، نوکری دے کر، دُکھ دے کر، سکھ دے کر ہر حال میں آزمائشیں ہیں۔ عزت ذلت کے فیصلے موت کے وقت ہوتے ہیں یا پھر آخرت میں ہوں گے۔

          یہاں پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں معزز ہوں عزت والا ہوں تو پھر عزت دار بننے کے جھوٹے خواب کیوں دیکھتا ہے؟ 

          موت کو جتنا زیادہ یاد رکھو گے اتنے زیادہ ذرائع عزت کے رب عطاء کرے گا۔اللہ تیری وہاں سے عزت بنائیں گے جہاں تک تیری سوچ بھی نہیں ہوگی، تیرا وہ مقام ہو گا جس کے تم مستحق ہو گے۔

          اگر ہمیں عزت دار بننا ہے تو ہمیں قرآن مجید اور سیرت مصطفیٰ کو سامنے رکھ کر خود کو دیکھنا چاہیے۔ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہو گا کہ معزز کس طرح ہوتا ہے اور ہم کیا ہیں۔ ہمیں قرآن مجید اور سیرت محمد مصطفیٰ کو آئینہ بنا کر دیکھنا ہو گا۔ اور انہیں کے بتائے ہوئے راستے پر ہی تو ہم عزت حاصل کر سکتے ہیں۔

          @YasirKhanblouch

  • کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ کبالہ دراصل بابل کی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد شمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر کالا جادو یا Black magicبھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا باہرسے تو بہت رنگین، حسین اور خوبصورت نظر آتی ہیں لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے راز چھپے ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں وہ یہ راز چھپانے کے لئے ہر حد تک چلے جاتے ہیں اس کے لئے چاہے ان کو کسی ایک یا پھر بہت سے انسانوں کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ ان طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطانی پیروکار ہیں اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات اورHypnotismکے ذریعے دماغ اور اس کی سوچوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے اس کے ذریعےAluminatiجو کہ دنیا کا ایک فیصد ہیں شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں اور شیطان انہیں دنیا کو گمراہ کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سمجھاتا ہے جس کو اپنا کر یہ لوگ دولت شہرت اور حکمرانی کے خواب کو پہلے ہی پورا کر چکے ہیں۔

    کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکل میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے بنی اسرائیل تک سے ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اور آپ ہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے جو موجودہ فلسطین میں آباد تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام جن کا قصہ یقینا ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیسے حسد کی بناء پر ان کے سوتیلے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ پاک نے آپ کو مصر کی حکمرانی عطا فرمائی، آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین سے مصر بلوا لیا اور یہ لوگ یہاں آکے آباد ہونے لگے۔
    مصر میں ان دنوں جادو میں عروج کمال پر تھا یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے مثال کے طور پر سامری نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لیئے فرعون کے کہنے پہ بلوائے گئے تھے وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتے تھے۔اس دور کے مصری بادشاہوں کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے جادوگر فرعون کو کبالہ نامی کالے جادو کے ذریعے سے شیطان سے رابطہ کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سکھاتے اور ایسی ایسی ایجادات کرواتے جن کو ابھی تک سائنس سمیت انسانی عقل حیرت سے تک رہی ہے انہی ایجادات میں ایک احرام مصر بھی شامل ہیں، نمرود کے دور کی عجیب ایجادات بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ سے فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران بنی اسرائیل قوم فرعونوں میں رہتے ہوئے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کرنے لگیں۔

    بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کر لی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس کبالہ کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا ۔مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا بچے کچے یہودی مجبورا ہجرت کر کے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پہ حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
    لیکن پھرگیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں ان بچے کچے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نامknight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیرز نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو انknight templarsنے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کر کے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پہ حکمرانی کرنا انknight templars کا مقصد تھا۔ یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہی کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کر کے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ جب عیسائیوں کو ان knight templars کے یہودی ہونے کا پتہ چلا تو انہیں قتل کرنا شروع کر دیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر یہknight templars سکاٹ لینڈ ہجرت کر گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں سے اپنا اثر و رسوخ پورے برطانیہ تک پھیلا دیا۔ یہاں سکاٹ لینڈ میں انknight templars کے یہودیوں نے لوگوں کو طاقت اور دولت کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دیئے کیونکہ وہ لوگوں پر حکمرانی کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیلنے کے تمام تر حربے جان چکے تھے یوں آہستہ آہستہ لوگ دولت اور ان کی سوچ کا شکار ہو کر ان میں شامل ہوتے گئے کیونکہ انسان فطری طور پر دولت اور طاقت ہی چاہتا ہے اور یوں یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128 میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا جس کے نتیجے میں اسknight templarsنامی تنظیم کو تمام یورپی قوانین سے استثنی حاصل ہو گیا اور یہی چیز ان کے طاقت میں اضافے کا باعث بنی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت جلد ہی یہ لوگ دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ جائیدادیں، قلعوں، جاگیروں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے لگے۔

    یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی اس تنظیم کا سربراہ Grand masterکہلاتا ہے اور ان کے نائب ماسٹر کہلاتے ہیں۔ گرانڈ ماسٹر کا حکم ان کے لیئے خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ بیرون ممالک سفر کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ راستے میں ڈاکووں کا خدشہ رہتا تھا انknight templarsنے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔ بعد میں یہی یہودیknight templarsیورپ میں پہلے سے موجود ایک تنظیم میسن گِلز میں شامل ہوگئے اور یہاں کبالہ جادو کے رسومات اور علامات متعارف کروانا شروع کر دیئے۔ کچھ عرصہ بعد میں انknight templarsیہودیوں نےMeson gillsکے ہی اراکین میں سے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اپنا نام بدل کرFree meson رکھ لیا اور یوںFree meson نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزارگی کو فروغ دینا تھا انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔چنانچہ اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس تنظیم نے یورپ میں جنگوں کو بڑھایا اور سودی کاروبار یعنی بینکنگ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف وغیرہ بنا کر دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ کیونکہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ اس کی معیشت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تیر سے دو شکار کر کے مغرب میں جنگ کروا کر مذاہب خاص طور پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مذہبی بیزارگی کو فروغ دیا اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے اپنے ہتھیار بھیج کر اربوں پتی بن گئے۔سترہ سو چھہتر میں اسFree meson نے مل کر ایک نئی تنظیم
    Aluminati قائم کی،Aluminati کے نظریات اور مقاصدFree meson کے جیسے ہی تھے۔ لفظAluminati کا مطلب علم کی روشنی سے معمور ہے۔ سبAluminati خود کو دنیا کے علم میں خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ ان کے سبplans خفیہ رہتے ہیں کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ جو علم ان کے پاس ہے وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہونا چاہیئے اسی لیئے ان کا دین ان کا ایمان ان کا جینا مرنا سب ہیAluminati ہے۔بائیبل میں ابلیس کا نام لوسیفر بتایا گیا ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا علمبردار۔ دراصل شیطان کو لوسیفر تب کی بناء پہ کہا گیا ہے جب وہ اللہ کا فرمانبردار ہوا کرتا تھا لیکن یہ تنظیمیں آج بھی شیطان کو اچھا مانتی ہیں اس لیئے وہ شیطان کو لوسیفر ہی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ لوسیفر ہر چیز کا منبہ ہے خاص طور پہ ساری روشنی اور سارے علوم کا۔ Albert pikeجوکہFree mesons کے فاونڈرز میں سے ایک تھا وہ ایک 33 ڈگری Free mesonتھا جیسے ہمارے ہاں درجہ بدرجہ اولیاء اللہ اور تقوی کے لحاظ سے بڑی بڑی ہستیاں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کے ہاں بھی بتدریج ابلیس کے پجاری ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا درجہ 33 ڈگری کا ہے۔Albert pike کی کتابMorlis and Dogmaآج بھی
    Free mesonکے سٹوڈنٹس کو رہنمائی کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کے کچھ کلمات آپ سے شیئر کرتا چلوں جہاںAlbert Pike لکھتا ہے۔کوئی شک نہیں یہ Lusipher ہی ہے جس کے پاس تمام انوار ہیں تمام روشنیاں ہیں۔ اسی لیئے یہ تمام لوگ کوCurrent bulletسے تشبیہ دیتے ہیں اور اکثر جسم کے مختلف اعضاءپر کرنٹ کے نشان نماTattosبنوا کر پھرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Aluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ تیرہ Blood lines یعنی خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہAluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ممبرAluminati
    کے کسی قانون اور رول کی خلاف ورزی کرے تو اسے عبرتناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے۔Aluminatiکی تیرہ نسلوں میں ایک خاندانDavid Philipکا ہے جبکہ ایک خاندانRothus Childکا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial systemاورامریکہ کےFederal Reserves bankکے مالک ہیں ، یہ لوگ80سے 90فیصد کنٹرول دنیا پہ حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں انسان کی آسائش اور آسانی کے لیئے طرح طرح کے فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے مقاصد شیطانیت کوPromoteکرنا ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنی فیلڈ کی مشہور شخصیات کو اپنے دائرے میں ایک حد تک شامل کرتے ہیں یا پھر اپنے ہی لوگوں کو عوام کے درمیان مشہور کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا فلموں کی دنیا وغیرہ ہو یہ اپنے اداکاری کے جوہر دکھا دکھا کر لوگوں کےFavouriteہیرو اور سیاست دان بن جاتے ہیں لوگ انہیں اپنا مسیحہ اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کے چال چلن کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں انہیں سپورٹ کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ شکار جال میں پھنس چکا ہے تب بہت ہی غیر محسوس انداز میں ان کیMind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک پرانا طریقہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ان کو پارٹیز میں بلواتے ہیں نشہ کی لت لگاتے ہیں اور ان پر فل کنٹرول حاصل کرکے ان سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں۔ جو نوجوان ان کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں ان کو مار دیا جاتا ہے ساتھ ہی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گروہ کے سینئر لوگ مزید طاقت حاصل کرنے اور شیطان جس کی یہ پوجا کرتے ہیں اس کو خوش کرنے کے جنون میں اپنے ہی جونئیر پیروکاروں کی بھی بلی چڑھاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی عبادات اور عملیات کرتے ہیں اس کے بارے میں آئندہ آنے والے کالم میں بات کی جائے گی۔

  • معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    دین و دنیا کے لئے سب سے خطرناک چیز جھگڑے ہیں جو آدمی کی صلاحیت کو دیمک لگادیتے ہیں ۔

    معاشرہ انسانوں کے باہم مل جل کر رہنے کا نام ہے جس میں ہنسی خوشی کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ہر انسان کامزاج اللہ تعالیٰ نے مختلف بنایا ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہنے یا معاملہ کرنے میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جھگڑے کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔

    زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے شریعت میں ایسے مواقع پر ہمیں جھگڑوں سے بچنے اور صلح صفائی کیساتھ معاملہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے کے امین مسلمان جنہوں نے پوری دنیا کی قیادت کرنی تھی ہماری زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ آج ہم گھریلو خاندانی کاروباری چھوٹے بڑے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

    ایک حدیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جو نماز، روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ 

    جھگڑے دین کو مونڈنے والے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے کھڑے ہوجائیں فساد برپا ہوجائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادارانہ رہیں، ایک دوسے سے بات نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں ۔یہ چیزیں انسان کے دین مونڈدینے والی ہیں ۔

    ہماری وہ صلاحیت جو خدمت دین میں صرف ہوتی تھیں وہ آج باہمی جھگڑوں کی نذر ہورہی ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں جھگڑوں کی شرح کس قدر ہے اس کا اندازہ حضرات مفتیان کرام سے پوچھے جانیوالے روزمرہ کے سوالات سے لگایا جا سکتا ہے یا وکلاء کے لفافوں میں زیرسماعت مقدمات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

    بے صبری اورجلد بازی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے جس کا مشاہدہ آئے دن سڑکوں اور بازاروں پر کیا جاسکتا ہے ۔معمولی کوتاہی یا رنجش پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔صاحب زور مارپیٹ کرکے اپنی آگ بجھا دیتا ہے تو زبردست گالم گلوچ کرکے دوسرے کی عزت نیلام کررہا ہے ۔

    یوں معمولی رنجش پر جھگڑوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں مقدمات کی بہتات ہمارے قومی مزاج کی آئینہ دار ہے ۔خاندانی یا کاروباری جھگڑوں کے حل کیلئے اگر انگریزی قانون کا سہارا لیا جائے تو عمریں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف ملنا مشکل ہے ۔

    خدابیزار قوموں کے بنائے ہوئے اصول وقوانین سے ایک خدارسیدہ مسلمان کو کب اور کہاں انصاف مل سکتا ہے کاش قیام پاکستان کے بعد حقیقتاً قرآن وحدیث کی بالادستی ہوتی اور یہ ملک کلمہ طیبہ کی عملی تصویر پیش کرتا ۔

    لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں نہیں، ہر وقت ہر جگہ ایسے بزرگ خدارسیدہ علماء حضرات موجود ہیں ۔جن کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر مسلمان دینی اور اخروی مشکلات کیلئے دعا اور جھگڑوں میں تصفیہ کراسکتا ہے ۔

    حدیث شریف میں جھگڑا چھوڑنے کی یہاں تک فضیلت آئی ہے کہ جو شخص باوجود غلطی پر ہونے کے پھر بھی جھگڑا چھوڑ دے تو اسے جنت کنارے میں جگہ ملنے کی بشارت ہے ۔

    جن لوگوں نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا بلکہ اس حق کا بدل نعم البدل کی صورت میں عطا فرمایا ۔

    ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کروڑوں کی جائیداد کے سلسلہ میں دس سال تک مقدمہ لڑا ۔لیکن انصاف نہ ملا بالآخر بزرگوں کے مشورہ پر مقدمہ سے دستبردار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سکون کی ایسی دولت بخشی جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

    اس لئے اپنی دنیا کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنے کیلئے جھگڑوں سے بچا جائے اور صبر اوردرگزر کرنا مسلمانوں کا دینی واخلاقی شیوہ ہے ۔جھگڑوں کو چھوڑیئے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔

    اپنا حق معاف کیجئے اور دوسروں کے حق ادا کرنے کی فکر کیجئے پھر دیکھئے کیسی پرلطف زندگی گزرتی ہے ۔

    یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ روزانہ کچہریوں کے چکر لگ رہے ہیں اور خدا کے دشمن انگریز کے قانون سے انصاف کی بھیک مانگی جارہی ہے بھلا مسلمان کو دشمن خدا سے انصاف ملے گا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت محمد ﷺ مکہ المکرمہ (حجاز) میں پیر کے دن عام الفیل والے سال ۹ یا ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ عیسوی میں پیدا ہوئے۔
      آپ ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش اور بنی ہاشم کے گھرانے سا تھا۔
     آپ ﷺکی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے جو وہب بن عبد مناف، زہرہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
     آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبد مناف ، قریش کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
     آپ ؐکی نانی کا نام برہ اور دادی کا نام فاطمہ تھا۔
    آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے انتقال فرما گئے تھے۔
     
      آپ ؐنے سب سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ، پھر اپنے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ غلامہ ثویبہ کا اور پھر حضرت حلیمہ کامکہ کے لوگ اپنے بچوں کو گاوں دیہات بھیجتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ حضرت حلیمہ جن کا تعلق بنی سعد سے تھا اُن کے ساتھ چار سال تک رہے۔
      اسی دوران آپؐ کے شق صدر (دل کو کھولنے) کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
      آپؐ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ صرف دو سال رہے۔ جب آپؐ کی عمر چھ سال کی تھی آپؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔
      پھر آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دو سال بعد آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا جب آپؐ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
      پھر آپؐ کے چچا ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھائی۔ بارہ سال کی عمر میں آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر شام کی طرف گئے۔بصرہ کے مقام پر عیسائی پادری بحیرہ نے آپؐ کی نشانیاں دیکھ کر آپؐ کے آخری نبی ہونے کی پیشنگوئی دی اور آپؐ کے چچا ابو طالب سے کہا کہ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ یہود ان کو قتل کر دیں گے۔
      پچیس سال کی عمر میں آپؐ نے ایک مرتبہ پھر شام کی طرف تجارتی سفر کیا لیکن اس مرتبہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی تھا۔ اس سفر میں آپؐ کی ملاقات ایک اور عیسائی پادری نسطورہ سے ہوئی اور اُس نے بھی آپؐ کی نبوت کی پیشنگوئی دی۔
      آپؐ کے اخلاق کا علم پا کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ جب آپؐ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا اُس وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ازدواجی رشتہ پچیس سال اور دو ماہ تک قائم رہا۔ حضرت خدیجہؓ سے آپؐ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن دونوں بیٹوں کو چھوٹی ہی عمر میں اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
      ۳۵سال کی عمر میں آپؐ نے اپنی ذہانت و حکمت سے کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا شدہ تنازعہ کو ختم فرمایا۔ 
      چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو غار حرا میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
      حضرت خدیجہؓ کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
      عورتوں میں حضرت خدیجہؓ پہلی عورت تھیں اسلام قبول فرمانے والی، مردوں حضرت ابو بکر صدیق پہلے مرد تھے، غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ پہلے غلام تھے اور بچوں میں حضرت علیؓ پہلے بچے تھے۔
      تین سال کے بعد آپؐ نے صفاء کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی-
      نبوت کے پانچویں سال آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جس میں کل۱۵یا ۱۶ افراد تھے، ۱۱ مرد اور ۴ یا ۵ عورتیں۔
      نبوت کے ساتویں سال حبشہ کی طرف مسلمانوں کی دوسری ہجرت ہوئی ۔ جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں تھیں۔
      نبوت کے ساتویں سال مکہ کے کفار نے مسلمانوں سے قطعہ تعلق کر لیا ۔ آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں کو ایک گھاٹی میں محسور کر دیا۔ اس قطعہ تعلقی کا عرصہ تین سال تک رہا۔
      نبوت کے دسویں سال جب یہ قطعہ تعلقی کا سلسلہ ختم ہوا ، اسی سال حضرت خدیجہؓ اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔
      نبوت کے دسویں سال ہی طائف کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں آپؐ کو تبلیغ اسلام کے سلسلے میں پتھر مارے گئے۔
      نبوت کے گیارہویں سال معراج کا واقعہ پیش آیا۔جس میں آپؐ مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس گئے ، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں ، جنت و جہنم کا سفر کیا اور اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔
      اس سفر کے بعد مدینہ کے قبیلہ خرج کے ۶ افراد نے آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔
      اس سے اگلے سال ۱۲ افراد نے مدینہ سے آ کر آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔ جن میں سے دس افراد قبیلہ خرج اور دو افراد قبیلہ اوس کے تھے۔
      اگلے سال حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تبلیغ سے جن کو آپؐ نے مدینہ بھیجا تھا ۷۰ مرد اور دو عورتوں نے اسلام قبول کیا۔
      پھر آپ ﷺ نے مکہ  کے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
      نبوت کے تیرہویں سال آپؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس سفر کے دوران آپؐ تین دن غار ثور میں رہے۔
      مدینہ کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے قباء کے مقام پر ۱۴ دن قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی۔ جس کا نام مسجد قباء ہے
      بروز جمعہ آپؐ قباء سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران قبیلہ بنی سلیم میں آپؐ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ آج اس مقام پر مسجد جمعہ ہے۔
      مدینہ پہنچ کر آپؐ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے رکی ، جہاں آپؐ نے قیام فرمایا۔ اور اسی جگہ پر مسجد کے لیے زمین خریدکر مسجد تعمیر فرمائی ۔ جو آج مسجد نبویﷺ کہلاتی ہے۔

    @mmasief

  • بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ایجاد اور ضرورت ہے یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے بہت کم عرصہ میں انسانی زندگی پر قبضہ کر لیا ہے، جی ہاں ! آج کل ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا ہو جوان ہو یا بچہ اس کے سحر میں گرفتار ہے، اج کے معاشرے میں تقریباً ہر شخص نے اپنی حثیت کے مطابق موبائل فون رکھا ہے، کسی کے پاس مہنگا ہے تو کسی کے پاس سستا ہے ، لیکن اس ٹیکنالوجی سے استفادہ سب لوگ حاصل کر رہے ہیں۔۔

    رکیئے!! کیا ہم صرف اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ؟ یا اس کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں۔؟

    کسی بھی ایجاد کے بعد یہ انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کا کس طرح استعمال کرتا ہے جہاں موبائل فون کے بے انتہا فوائد ہیں وہیں اس کے غلط استعمال بھی ہیں۔

    اج بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اس ایجاد سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان زیادہ حاصل کیا جا رہا ہے 

    لوگوں کی ہر قسم کے مواد تک رسائی اور نوجوان نسل پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بری عادتوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔۔

    والدین نے بچوں کو سمارٹ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت تو مہیا کر دی ہے لیکن ان کو اس کا درست استعمال نہیں بتایا ، نوجوان نسل صحت مندانہ سرگرمیوں کی بجائے سارا وقت اس کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے مختلف نقصانات کا شکار ہو رہے ہیں

    سب سے بڑا نقصان تو جسمانی بیماریوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے ماہرین طب کے مطابق موبائل فون کے بے جا استعمال سے لوگوں میں زہنی دباؤ، پریشانی، سر درد، نظر کا کمزور ہونا، اور دل کی بیماریوں کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں شامل ہیں، کسی بھی چیز کی زیادتی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے اسی طرح موبائل فون ہے اس کے غلط استعمال نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی لحاظ سے نہایت گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اس انٹرنیٹ کی سہولت جواب پر ایک کو میسر ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی جس کا جو دل چاہتا وہ پوسٹ کر دیتا ہے کسی کو کسی کی عزت کا خیال نہیں کوئی بھی غلط الزام لگاتا ہے اور بجائے اس بات کے ثابت ہونے کے انتظار کرنے کے ، لوگ خود سے فیصلہ کر کے اس انسان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں اور اس کی عزت نفس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔،

    اگر اپ کے پاس کسی بھی قسم کا اختیار ہے آزادی ہے تو یہ اپ کا امتحان ہے کہ اپ اس کا استعمال کسی طرح کرتے ہیں؟ یہ اپ پر منحصر ہے کہ اپ اس آزادی کا درست استعمال کر کے اپنے ملک کی عزت بڑھاتے ہیں یا پھر غلط استعمال سے اپنی بے وقوفی کے ہاتھوں ملک کی بدنامی میں حصہ دار بنتے ہیں۔۔۔

    @shahzeb___

  • مہنگائی کا طوفان    تحریر.ہارون خان جدون

    مہنگائی کا طوفان تحریر.ہارون خان جدون

    گزشتہ رات ڈالر کی اڑان سب کی نیندیں اڑا کر لے گئی ہے جس کے سبب پٹرولیم مصنوعات ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں مزدور بندہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے اپنی زندگی گزار رہا ہے اب اوپر سے مزید پٹرول مہنگا ہو جانے سے عام بندے کی زندگی پر بہت اثر پڑے گا

    واقعی حقیقی معنوں میں تو ڈالر کو فریز کر دیا جاتا ہے اور جس کے سبب خاص طور پر ایشیائی ممالک کی معیشت بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہےپاکستان جو کہ پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے س کی معیشت مزید گرتی ہے اور بدلے میں مہنگائی کا طوفان لے کر آتی ہے۔ پرائس کنٹرول والوں کی اپنی ریٹ لسٹ ہے جبکہ بازار میں فروخت کنندگان کی اپنی لسٹ۔ کچھ تو ان بھائی لوگوں نے بھی مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہوتی ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتی ہے۔ اگر کوئی آگے سے احتیاطاً پوچھ بھی لے کہ اتنی مہنگی چیز کیسے؟ تو جواب سننے کی بجائے وہ اپنے سوال پہ پچھتاتا ہے

    صوبائی اور وفاقی سطح کی پالیسی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے وہ نہیں جانتا کہ ایکسچینج ریٹ کیا ہے ؟ کرنسی کی ویلیو بڑھی یا گھٹی ؟ افراط زر یا تفریط زر کا مقصد کیا ہے ؟ ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے کہ نہیں ؟ ہم گرے لسٹ میں ہیں یا بلیک لسٹ میں؟ نیشنل انکم یا جی ڈی پی کہاں پہ رکے گی؟ وغیرہ وغیرہ اور عام آدمی سمجھنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اسے بس اپنا گھر چلانا ہے۔ وہ ووٹ اسی لیے تو دیتا ہے کہ مجھ سے بہتر لوگ ملک چلائیں۔ 

    اب ہم ملک تو نہیں چلا سکتے کم از کم اپنی اخلاقی اقدار تو بہتر بنا سکتے ہیں تا کہ ایک عام آدمی کی زندگی سہل ہو سکے اب جیسا کہ آج کل مارکیٹ میں شخصیت کو دیکھ کر چیز بیچی جاتی ہے اگر تو تھوڑا پڑھا لکھا ہے مارکیٹ کے اصول و ضوابط جانتا ہے اسے چیز مناسب نرخ پہ بتائی جا تی ہے اگر کوئی بیچارہ سادہ لوح شخص پہلے تو خریداری کی سکت نہیں رکھتا اور اگر بچوں کی خاطر چلا بھی جائے تو اسے مہنگے داموں پہ چیز دی جاتی ہے یا پھر غیر معیاری چیز پکڑا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ میڈیکل اسٹور پہ ملٹی نیشنل دوائی کی بجائے کٹ ریٹ والی دوائی تھما دی جاتی ہے۔ 

    دوسری طرف ہماری یہ بھی اخلاقی کمزوری بن چکی ہے کہ جس چیز کا ریٹ موجود نہیں اس میں بے تحاشہ منافع شامل کر لیا جاتا ہے۔ کپڑے کو دیکھیں تو 50 یا 100 کے ہندسے میں ملے گا یعنی یا تو 300 روپے میٹر یا پھر 350 روپے بیچ والی گنتی جیسے بھول گئی ہو, اسیطرح جوتے والے یا پھر جنرل اسٹور اور کراکری والے بھی من مرضی کے ریٹ لگاتے ہیں اور آگے سے پوچھتے ہیں کہ آپ کتنے دیں گے؟ فرنیچر والے اور دیگر اشیائے ضرورت والے تو مت پوچھیں دکان میں پاؤں رکھا نہیں کہ اسی طرح واپس آنے کو دل کرتا ہے۔ 

    میری تمام تاجران سے اور حکومتی عہدیداروں سے اپیل ہے کہ مہنگائی کے طوفان میں اور کچھ نہ سہی تو غریب عوام کی اس طرح بھی مدد ہو سکتی ہے ایک تو ہر چیز کا ریٹ لگا ہو ، جو کہ منظور شدہ ہو ، اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنائیں تاکہ عام آدمی کو کسی جگہ تو ریلیف ملے.

    @ItzJadoon 

  • شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ بڑی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔
    خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقعہے۔ اس کی وسیع سرحد
    افغانستان سے منسلک ہے۔ خیبر پختونخوا اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا
    ہے۔ سیاحوں کی دلچسپیاور مہم جوئی کے لیے بہت سی جگہیں ہیں۔ شمال میں کچھ
    خوبصورت اور جنت نظیر وادیاں اور پہاڑ ہیں جن میں کاغان اورسوات،کالام، مالم
    جبہ شامل ہیں۔ یہاں پر بہت سے دریا بھی بہتے ہیں جن میں کابل، سوات، چترال، ژوب
     شامل ہیں۔ ان دریاؤںاور جھیلوں کی وجہ سے یہ صوبہ زیادہ تر سرسبز و شاداب
    وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ سال کے زیادہ تر وقت یہ وادیاں اور پہاڑ برفسے ڈھکے
    ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اس لیے پاکستان سمیت
     دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑیتعداد شمالی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔

    ناران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کاغان وادی ایک مقبول سیاحتی
     مقام ہے۔ یہ مانسہرہ شہر سے 119 کلومیٹر (74 میل) 2،409 میٹر (7،904 فٹ) کی
    بلندی پر واقع ہے ۔یہ بابوسر ٹاپ سے تقریبا kilometres 65 کلومیٹر (40 میل) دور
     ہے۔  کاغاناپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر
    سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    وادی کاغان

    ایک الپائن وادی ہے جو خیبر پختونخوا ، پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔
     2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے سے پیدا ہونے والیلینڈ سلائیڈنگ نے وادی میں جانے
     والے کئی راستوں کو تباہ کردیا ، حالانکہ اس کے بعد سڑکیں بڑی حد تک دوبارہ
    تعمیر کی گئی ہیں۔کاغان ایک انتہائی مقبول سیاحتی مقام ہے۔

    ناران کاغان میں ہر سال خوشگوار موسم کی وجہ سے ہزاروں سیاح وادی کی سیر کو آتے
     ہیں۔ یہ بابوسر پاس سے گرمیوں میں گلگتہنزہ کا گیٹ وے بھی ہے۔

    جھیل سیف الملوک

    جھیل سیف الملوک ایک پہاڑی جھیل ہے جو وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع ہے ، یہ
     سیف الملوک نیشنل پارک میںناران قصبے کے قریب سطح سمندر سے 3،224 میٹر (10،
    578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اور پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سےایک ہے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ وادی کاغان تقریبا 300،000 سال قبل گلیشیر سے ڈھکی ہوئی
    تھی۔ اور یہ جھیل بھی گلیشیر کےپگھلنے سے وجود میں آئی۔ دی گارڈین کے مطابق
    جھیل سیف الملوک پاکستان کے پر کشش مقامات میں سے 5 ویں نمبر پر ہے۔گلیشیر کے
    درمیان سبزی مائل شفاف جھیل کسی خواب کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے اسی ملکوتی
    حسن کی بدولت اس کےبارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند
     کی چودھویں رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    شوگران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اور
    وادی شوگران ان میں سے ایک ہے۔ شوگرانوادی کاغان کا ایک پہاڑی مقام ہے جو سطح
    سمندر سے 2،362 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شوگران کے لوگ بہت شائستہ اور دوستانہہیں۔
     ہر سال سیاحوں ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔  سری پائے میں ، پائی جھیل
    کے نام سے ایک جھیل ہے جہاںسیاح گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ
    کہ سری پائے ایک زرخیز سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ وادی شوگران میںمالکنڈی جنگل
    اور منی چڑیا گھر شوگران اہمیت کے حامل ہیں۔ مالکنڈی جنگل ایک گھنا اور گہرا
    جنگل ہے۔ مالکنڈی جنگل کی سیرکرتے وقت ، آپ کو چیتوں اور کالے ریچھوں کا سامنا
    کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وادیشوگران میں
    منی چڑیا گھر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایک چھوٹا چڑیا گھر ہے جس میں
    معروف سہولیات اور پرندوں کیخاص قسم ہے۔

    آنسو جھیل

    آنسو جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں
    واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4،245 میٹر (13،927 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے
    ہمالیہ رینج کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان
     کا سب سےاونچا پہاڑ ملیکا پربت کے قریب واقع ہے۔ جھیل کا نام اس کی آنسو کی
    شکل کی وجہ سے  ہے۔ اس کو  1993 میں پاک فضائیہ کےپائلٹوں نے دریافت کیا تھا جو
     اس علاقے میں نسبتا کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ مشکل اور دشوار گزار سفر کے
     باوجود اس کیخوبصورتی سیاحوں خاص طور پر مہم جوئی کے شوقین افراد کو یہاں
    کھینچ کر لے آتی ہے۔

    مالم جبہ

    مالم جبہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں سیدو شریف سے تقریبا
     40 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ایک ہلاسٹیشن اور سکی ریزورٹ ہے۔ یہ
    اسلام آباد سے 314 کلومیٹر اور سیدو شریف ہوائی اڈے سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر
    واقع ہے ۔ یہپاکستان کا واحد سکی ریزورٹ ہے۔  یہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ
     اس کے آس پاس  2 بدھسٹ سٹوپا اور 6 خانقاہیں بھیہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہاں دو ہزار سال پہلے بھی آبادی تھی۔

    اگرچہ مالم جبہ زیادہ تر اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک
    خوبصورت اور پر فضا پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سےبھی یہاں ہر سال سیاحوں کا رش
    رہتا ہے۔

    نتھیاگلی

    نتھیا گلی ایک خوبصورت اور پر فضا پہاڑی ریزورٹ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر
    پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ یہگلیات رینج کے مرکز میں واقع ہے ،
    جہاں کئی پہاڑی سٹیشن واقع ہیں۔ نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی ، پیدل سفر کے
    ٹریک اورخوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا ہے، جو کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے باقی
     گلیات رینج کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا ہے۔ یہ مری اورایبٹ آباد دونوں سے تقریبا
     32 کلومیٹر (20 میل) دور ہے۔ جنگلی حیات اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں
    اور ہائیکنگکرنے والوں کے لیے یہ بے پناہ کشش لیے ہوئے ہے۔

    چونکہ نتھیا گلی 8،200 فٹ پر واقع ہے ، اس لیے میراں جانی ہائیکنگ  کے لیے
    بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 6-7 گھنٹے کا سفر ہے۔اگر پیدل سفر طویل لگتا ہے تو
     سفر کے لیے گھوڑے بھی کرائے پر دستیاب ہیں۔

    ایک انتہائی تجویز کردہ جگہ ، گرین اسپاٹ پاکستان ایئر فورس بیس کالاباغ پر
    واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ، آرام دہ علاقہ ہے۔قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے ہے
    جو کافی ، چائے ، سافٹ ڈرنکس اور سنیکس پیش کرتا ہے۔

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی کے مرکزی بازار سے سڑک کے اوپر واقع ہے۔ بہت پہلے برطانوی
     راج کے دوران تعمیر کیا گیا۔یہ سرسبز وشاداب لان سے گھرا ہوا ہے۔

    فن تعمیر کا ایک اور حیرت انگیز شاہکار نتھیا گلی کا چرچ ہے۔  برطانوی حکمرانوں
     کے دور میں تعمیر کیا گیا ، لکڑی سے بنا ہوا چرچ نتھیاگلی میں ایک اہم کشش ہے۔
     اس کے چاروں طرف سرسبز گھاس ہے جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

    مشک پوری

    شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیا گلی پہاڑیوں
    میں ایک 2،800 میٹر اونچا (9،200 فٹ) پہاڑ ہے۔ یہاسلام آباد سے 90 کلومیٹر (56
    میل) شمال میں ، ایوبیہ نیشنل پارک کے نتھیا گلی علاقے میں ڈنگا گلی کے بالکل
    اوپر ہے۔ یہ میرانجانیکے بعد گلیات ریجن کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو 2،992
    میٹر (9،816 فٹ) پر واقع ہے۔

    چوٹی پر پانی کا تالاب ہے جو آسمان اور درختوں کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔
    وادی کشمیر کا ایک خوبصورت نظارہ مشک پوری سےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ،
    بنیادی طور پر ، نہ صرف یہ دلکش مقام آپ کو اپنی اندرونی خوبصورتی دکھاتا ہے
    بلکہ آس پاس کےمقامات کی جھلک بھی پیش کرتا ہے-

    ایوبیہ نیشنل پارک

    مری پہاڑیوں میں ایک چھوٹا قومی پارک ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک تقریبا 3128 ہیکٹر
    ایکڑ رقبے پر محیط ، یہ جگہ خاص طور پر کے پیکے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان
    پرندوں اور جانوروں کا وجود ہے جو ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔ کالا ریچھ
    اور چیتےعام نظر میں آتے ہیں۔ کوکلاس فیزینٹ اور کالیج فیزینٹ ، یہاں پائے جاتے
     ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 45 منٹ کا یہ سفر دریائے جہلم اور پائنس
     سے ڈھکی پہاڑیوں کی دلکش خوبصورتی سے بھرپور ہے۔ یہ پارک پاکستان میں نم
    ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کی بہترین باقیات میں سے ایک ہے اور سات بڑے دیہات اور
    تین چھوٹے شہروں (نتھیاگلی ، ایوبیا اور خانس پور) سے گھرا ہوا ہے۔ ایوبیہ
    نیشنل پارک ایک بڑا تفریحی علاقہ ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی سیاح آتے ہیں
    جن میں زیادہ تر اسلامآباد اور ایبٹ آباد سے آتے ہیں۔ ہر سال تقریبا 100،000
    سیاح یہاں آتے ہیں۔

    وادی سوات

    وادی سوات ایک بلند و بالا سیاحتی مقام ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے
     شمال مغربی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہ جگہ آثارقدیمہ ، سیر و تفریح اور ہائیکنگ
    کے لیے مثالی ہے۔ اگرچہ سوات کی وادی اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی کے لیے شہرت
    رکھتی ہے ،پھر بھی اس کے 5،337 کلومیٹر (2،061 مربع میل) کے رقبے میں سیاحوں کے
     لئے بہت سے پرکشش مقامات ہیں۔ سوات کوپاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ،
    دریائے سوات کے ارد گرد ایک قدرتی جغرافیائی علاقہ ہے۔ وادی گندھارا کی قدیم
    بادشاہت کےتحت ابتدائی ہندو مت اور بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ وادی میں 10
    ویں صدی تک بدھ مت کا وجود تھا، جس کے بعد یہ علاقہزیادہ تر مسلم ہوگیا۔

    سیدو شریف سوات کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، سیدو شریف میں
    مرکزی سرکاری دفاتر ، پیشہ ور تعلیمیادارے ، صحت کی سہولیات وغیرہ موجود ہیں ۔
    سیدو شریف وادی سوات میں 25 قبل مسیح اور پہلی صدی کے اختتام کےدرمیان بدھ مت
    کا ثبوت ہے۔ سیدو شریف میں سیاحوں کی ایک اور اہم توجہ سوات میوزیم ہے جو بدھ
    دور کی ہزاروں اشیاءکے ساتھ ساتھ بدھ سے پہلے کے تاریخی نمونے بھی دکھاتا ہے۔

    مینگورہ بازار سوات کا مرکزی کاروباری مرکز ہے۔ مینگورہ شہر میں ہزاروں دکانیں
    ہیں جو تمام دن کھلی رہتی ہیں۔ مینگورہ میں مختلفقسم کے ہوٹل ، ریستوران ، ٹیک
    اوے ، کیفے اور مغربی فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں جو مقامی اور فاسٹ فوڈ دونوں پیش کرتے
    ہیں۔

    سوات ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اپنے شاندار پہاڑوں کے لیے بھی مشہور
     ہے جہاں آپ پیدل سفر ، ٹریکنگ اورہائیکنگ کر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے 4500 سے
     6000 میٹر تک کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دریائے سوات پر مشتمل سوات کا علاقہسرسبز
    وادیوں ، برف سے ڈھکے گلیشیئرز ، جنگلات ، گھاس کا میدان اور میدانی علاقوں سے
    ڈھکا ہوا ہے۔سوات کی جھیلیں اپنےساتھ ایک بھرپور تاریخ رکھتی ہیں۔ وادی سوات
    میں بے شمار تالاب اور میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیلیں ہیں۔ اس وادی میں تقریبا
    35 مشہور جھیلیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک اپنے دلکش اور چمکتے ہوئے مناظر سے
    منفرد ہے۔ یہ جھیلیں پودوں اور جنگلی حیات کیمتعدد اقسام کا گھر ہیں۔

    وادی کالاش

    شمالی پاکستان کے ضلع چترال کی وادیاں ہیں۔ یہ وادیاں ہندوکش پہاڑی سلسلے سے
    گھری ہوئی ہیں۔ وادی کے باشندے ایک منفردثقافت ، زبان رکھتے ہیں اور قدیم ہندو
    مت کی ایک شکل پر عمل پیرا ہیں۔ کالاش وادیاں پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں
     کے لیےکشش کا باعث ہیں۔ کالاش لوگوں کی ثقافت منفرد ہے اور شمال مغربی پاکستان
     میں اپنے اردگرد موجود بہت سے عصری اسلامینسلی گروہوں سے مختلف طریقوں سے
    مختلف ہے۔ وہ مشرک ہیں اور فطرت ان کی روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم اور
    روحانیکردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی روایات اور تہوار ان کے مذہب کی نمائندگی
     کرتے ہیں۔ کالاش دو الگ الگ ثقافتی علاقوں پرمشتمل ہے ، رمبور اور بمبوریت کی
    وادیاں ایک بنتی ہیں اور دوسری وادی بیریر؛ وادی بیریر ان دونوں میں زیادہ
    روایتی ہے۔ کالاشافسانہ اور لوک داستانوں کا موازنہ قدیم یونان سے کیا گیا ہے ،
      لیکن وہ برصغیر پاک و ہند کے دیگر حصوں میں ہندو روایات کےبہت قریب ہیں۔
    کالاش نے ماہرین بشریات اور سیاحوں کو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے اس علاقے کے
    باقی لوگوں کے مقابلےمیں متوجہ کیا ہے۔ اپنی شاندار ثقافت ، زبان ، تہواروں اور
     آرٹ کی عالمی مقبولیت کے معیار کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھرپورکشش رکھتا ہے۔اگر
    آپ معاصر آرٹ اور کلچر کے شوقین ہیں تو کے پی کے میں کالاش ویلی کا رخ کریں۔

    ٹھنڈیانی

    ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گلیات علاقے میں ایک پہاڑی سٹیشن
    ہے۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال مشرقمیں واقع ہے اور ہمالیہ کے دامن میں
    ایبٹ آباد سے 37.5 کلومیٹر (23.3 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دریائے کنہار سے آگے
    مشرق میںبرف سے ڈھکا ہوا پیر پنجال پہاڑی سلسلہ کشمیر ہے۔ کوہستان اور کاغان کے
     پہاڑ شمال اور شمال مشرق میں دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں سوات اور چترال کے
     برفانی سلسلے ہیں۔ ٹھنڈیانی کے لفظی معنی ” بہت سرد ” کے ہیں۔ اس سے آپ یہاں
    کیآب و ہوا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹھنڈیانی موسم گرما کے مہینوں میں بہترین
    موسم اور سرسبز و شاداب ، اور سردیوں میں برف سےڈھکی پہاڑیوں کی خصوصیت رکھتا
    ہے۔ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان سے بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں ، خاص طور پر
    گرمیوںکے موسم میں۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ، پرکشش مناظر اور جنگلوں اور
    دیگر قریبی مقامات تک ہائیکنگ کی خصوصیت کی وجہسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ یوں تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور
    اضلاع میں بھی خوبصورت وادیاں ہیں۔ لیکنخیبر پختونخواہ میں پائی جانے والی یہ
    سرسبز، دلکش اور پرسکون وادیاں پاکستانی سیاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ
    وادیاں ہر ساللاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر لاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی
    وادیوں کو جانے والے راستے کافی اچھی حالت میں ہیں لیکن ابھیبھی زیادہ تر
    علاقوں تک پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔  لیکن سیاحت
    اور مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے اورپرفضا، پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کے
    خواہشمند افراد کے راستے میں یہ مشکلات رکاوٹ نہیں بنتی۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • عزت نفس کا مقدمہ.     تحریر:صائمہ مشتاق

    عزت نفس کا مقدمہ. تحریر:صائمہ مشتاق

    ملک پاکستان کی فلاحی ساکھ اقوام عالم میں مثالی ہے۔یہاں انسانی خدمت پر معمور شخضیات نے نہ صرف عالم کو متحیر کیا بلکہ اُن کے دستیاب وسائل بھی اُن پر حیرت زدہ ہوئے۔اُن کے پاس زادِ راہ صرف سچا اور خالص انسانی خدمت کا جذبہ تھا۔گلی محلے کے نامعلوم افرادمینارِ فلاح بنے۔جذبے کی سچائی اور خدمت کے تسلسل نے انہیں فلاحی یونیورسٹی بنا دیا۔ اقوام عالم متوجہ ہوئیں اور انہیں عالمی اعزازات سے فخر مند کیا اُن کی خدمات کی تصدیق کی۔پاکستان کے امامِِ فلاح کے ابتدائی فلاحی دور کو پڑھا جائے تو انسانی بے توقیری اور الزامات کی عجب داستانیں فلاحی منظر نامے میں بکھری پڑی ہیں۔فلاح کا راستہ چننے اور انسانیت کی خدمت کے لیئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے یا اُن کی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو اُن کے آغاز سفر میں لا حق مسائل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اُن کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہو سکتا ہے۔اُن پر لگائے جانے والے الزامات حاسدوں کے حملے قیاس آرائیاں کرپشن کی متحیر کرتی کہانیاں منفی پراپوگنڈہ جیسے تکلیف دہ رویوں کے درمیان اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔خبر نہیں کہ ایسا ماحول اور ایسے رویے اُن کو اذیت دیتے تھے یا نہیں۔وہ مایوسی کا شکار ہوئے یا نہیں۔اُن کے قدم ڈگمگائے یا نہیں۔وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے یا نہیں۔ لیکن اُن کی کامیابیاں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے وسائل کی عدم دستیابی راہ میں حائل مسائل اور غیر متوقع مشکلات تو منزل تک پہنچنے کے سنگ میل ہوا کرتے ہیں۔جنہیں کامیابی کی منزل کے مسافروں کو یقیناًسامنا کرنا پڑتا ہے۔مسائل و مشکلات میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ وہ غلطیوں اور خامیوں کو ماننے اور اُن سے سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ستائش سے بے نیاز ہوکر کسی اجر کی توقع کے بغیر لمبا عرصہ گمنامی اور بے توقیری کے دائرے میں رہتے ہوئے محو سفر رہتے ہیں

    کسی بھی انسان کو رویے مزاج اور مشکلات متاثر اوردکھی ضرورکر تی ہیں لیکن شاید وہ انہیں مشن کی تکمیل خدمت کی منزل کے حصول کے ٹولز بنا لیتے ہیں۔ شاید وہ مشکلات مسائل اور وسائل سے زیادہ اپنے مشن کو بڑا سمجھنے والے ہوتے ہیں۔وسائل کی عدم دستیابی کو اپنے سفر کو روکنے کا جواز نہیں بناتے۔وہ تو بے نامی کو ناموری دینے والے ہوتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جب وہ مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی طرح اپنی روشنی بکھیرنا شروع کرتے ہیں تو وہ انسانیت کی خدمت سے پہچانے جانے لگتے ہیں پھر انکی خدمت کا تسلسل انہیں گمنامی کی سیاہ رات سے پہچان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا دیتا ہے۔خدمت کے وکٹری سٹینڈپر کھڑے یہ سارے فخراور تمام اعزازا ت حاصل کرنے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو مجھے خالی چراغوں سے آغاز سفر کرنے والوں کے ساتھ وہ لاتعداد گمنا م مالیاتی فلاح کرنے والے بلند قامت نظر آتے ہیں جنہوں نے فلاحی چراغوں میں مالیاتی تیل ڈال کر چراغوں کو نہ صرف روشنی عطا کی بلکہ اس روشنی کے تسلسل کوقا ئم رکھنے میں بھی معاون و مددگار رہے۔اس سلسلے میں اورسیز پاکستانیوں کا بھی تاریخ ساز مثالی اور متاثر کن ریکارڈ ہے۔انہی کے تعاون سے فلاح کے دیئے روشن ہیں۔یہی لوگ فلاحی دنیا کے برجِ ِفلاح ہیں۔انہی کے دم سے پاکستان کو دنیا بھر میں چیرٹی کو فنڈنگ کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہوا۔پاکستان نے صحت،تعلیم اور دیگر فلاحی شعبوں میں دنیا کو متوجہ کیا۔فلاح کو کامیابی کا راستہ دینے سسکتی اور وسائل سے محروم طبقات کی خدمت دراصل مالیاتی خدمت سے جڑی ہوئی ہے۔مستقبل کے فلاحی پراجیکٹ کی پلانگ کرنے والے بھی اِسی طبقہ کے تعاون کے یقین پر ہی اپنے پراجیکٹ ڈیزائین کرتے ہیں۔پاکستان کی فلاحی اور عطیات دینے والی تاریخ مسلسل لکھی جا رہی ہے اس میں بڑ ی قد آور فلاحی شخصیات،ادارے اور عطیات دینے والوں کے کردار کی درجہ بندی ہو رہی ہے۔پاکستان میں روشنی بکھیرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض فلاحی منصوبے شخصی کمزوریوں اور خامیوں سے یا کسی فلاحی ادارے کی انتظامی غلطیوں سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ہوں لیکن کوئی فلاحی منصوبہ اس وجہ سے نہیں رُکا کہ اُسے مالی معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں عام ڈونر کے علاوہ کارپوریٹ ڈونرز کا فلاحی سیکٹر میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔فلاحی شعبہ اب کراوڈ فنڈ ریزنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی ٹی اوردیگر ٹیکنالوجیز فلاحی مشکلات کو آسان بنا رہی ہیں۔زکاۃ اور صدقات میں مذہبی وابستگی والے افراد شاید آگے ہوں لیکن میرا ذاتی مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے صیح نہ ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو کسی وجہ سے خطا کارمان کر اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے معافی کی طلب میں انسانی فلاح کے لئے مالی معاونت کفارے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُس کو راضی کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔اُن کے پاس نیکیوں کا تکبر تو نہیں ہوتالیکن معافی مانگنے اور اللہ کو راضی کرنے کی آپشن ہر وقت موجود رہتی ہے۔اللہ کی مخلوق کو وسیلہ بنا کر اُسے راضی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اُس کی دکھی اور مسائل زدہ مخلوق جب اپنے خالق کو دعا کی مس کال بھیجتی ہے تو مالک کسی کے دل میں مدد کا خیال ڈال کر مس کال کرنے والے پر کرم فرماتاہے۔وۂ شخص کس قدر ا فضل و معتبر ہوگا جس کے ذمے فطرت ڈیوٹی لگاتی ہے کہ میرے فلاں بندے کی دعا کی مس کال آئی ہے اس کے پاس پہنچو۔

    اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کے کتنے گناہ معاف ہوتے ہوں گے، کتنے درجات بلند ہوتے ہوں گے اور وہ مالک و خالق اُس سے کتنی جلدی راضی ہو جاتا ہوگا۔فطرت کے خود کار نظام نے خالق کی خلق کردہ کائناتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک صحافی جوکہ دل کے عارضے میں مبتلا تھا ایمرجنسی کی حالت میں علاج کے لئے مالی مشکلات کی پوسٹ لگائی جس پر میں نے بھی مقامی سیاست دانوں کو متوجہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کچھ ہی دیر بعد بہت سارے احباب رابطے میں آگئے۔ایک نیک دل اورسیز پاکستانی نے رابطے میں آکر میرا اکاونٹ نمبر مانگا تو میں نے کہا کہ ضرورت مند کو رقم پہنچے میں دیر نہ ہو جائے اس لئے مریض کا اکاونٹ نمبر لے کر بھیجتا ہوں۔ اُس انسان دوست نے انتہائی مستعدی سے معقول رقم مریض کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی۔چکوال، لاوہ اور تلہ گنگ کے اورسیز پاکستانیوں نے بھی خوب حق ادا کیا لیکن ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو گئی تھی باقی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ذاتی دُکھی اسٹوری کو پبلک کرتے ہوئے مجھے بڑاعجیب لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے کہ یہی دُ کھی اسٹوری پراجیکٹ کی بنیادبن رہی ہے۔1995 سے دونوں آنکھیں کالے موتیے سے متاثر ہیں کچھ عرصہ کے بعدنظر کی عینک تجویز ہوگئی پھر ایک آنکھ کی نظر بالکل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر سے آنکھ تبدیل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ سسٹم ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے اب آنکھ تبدیل نہیں ہو سکتی کچھ عرصہ بعد دوسری آنکھ میں کالا موتیا ہونے کی وجہ سے اپریشن ہوا اور اب اس پر ہی زندگی کا انحصار ہے۔کافی عرصہ سے معمول کی مصروفیات میں تبدیلی آگئی ہے میں ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، رات کو روشنی پھیل جاتی ہے سا منے سے آنے والی ٹریفک کے فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔پیدل چلنے سے دائیں آنکھ میں نظر نہ ہونے کی وجہ سے دائیں طرف نظر نہیں آتا تو عموما ًکسی پیدل چلنے والے سے ٹکر لگ جاتی ہے کئی دفعہ موٹر سائیکلوں سے ٹکرا چکا ہوں اس لئے گھر تک ہی محدود رہتاہوں۔نہ جانے کب زندگی سفید چھڑی کی محتاج ہو جائے،پھر کسی اور کی آنکھوں سے راستہ دیکھنا پڑے۔کئی سالوں سے یکسانیت اور بے مقصد زندگی گزارتے گزارتے ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بھی مہلت میسر ہے کیوں نہ اُ سے بامقصد بنایا جائے اور کوئی ایسا کام کیا جائے جو انسانی بھلائی کے لئے ہو تو میرے ذہن میں آنکھوں کے فری ہسپتال بنانے کا خیال آیا یہ جو خیال ہو تا ہے اُسے بھی یقیناً کوئی بھیجتا ہے۔میں نے کئی ماہ اس پر غور کیا اور بالاخر میر ے انفرادی فیصلے کو میرے دل اور دماغ نے قبول کرلیا۔انسان کی زندگی خوابوں سے جڑی ہوتی ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کا حصول ہی در حقیقت اس کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنوں کوقائم رکھتا ہے۔جب تک خواہش ہوتی ہے انسان اس خواہش کے حصول کے لئے خود کو متحرک رکھتا ہے اور جب خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو جسم زند ہ رہتا ہے لیکن زندگی دم توڑجاتی ہے۔خواہش کا موجود رہنا زندگی کی علامت ہوتی ہے۔خواہش امید سے جڑی ہوتی ہے اور امید یقین قائم رکھتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔کبھی کوئی اہرا م ِمصر بنانے کی خواہش کرتا ہے اور کبھی کوئی تاج محل تعمیر کرنے کا سوچتا ہے۔کوئی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتاہے۔خواہش ہی ہولی فیملی،گلاب دیوی ہسپتال بنواتی ہے۔خواہشیں روپ بدل لیتی ہیں صدقہ جاریہ کی خواہش۔

    دکھی انسانیت کے لئے آسانیاں بانٹنے کی خواہش۔ایمان سلامتی کی خواہش۔آنکھوں کے خواب تعبیر مانگتے ہیں۔آنکھوں میں خوابوں کی ہریالی نہ ہو تو زندگی صحراکی ریت ہو جاتی ہے۔دل اجڑ جاتے ہیں اور پھر دماغ سوچنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔خواہشیں،آرزوئیں اور تمنائیں زندگی کو حرارت بخشتی ہیں ان کا قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔خواہشوں اور خوابوں کے رک جانے سے نہ صرف زندگی رکتی ہے بلکہ کائنات تھم جاتی ہے۔25بیڈ کے آنکھوں کے جدید چیرٹی ہسپتال پراجیکٹ کے ابتدائی مرحلے میں 15 سے20 کنال زمین کا عطیہ، دوسرے فیز میں ہسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر اورا ٓخری فیز میں مشینری، آلا ت کی ضرورت ہوگی۔سمیڈا کی2016 کی فزیبیلٹی 23 کروڑ روپے کی تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اس پراجیکٹ سے سالانہ 27300 مریض مستفید ہوسکتے ہیں۔160 سے 200 افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔کسی عوامی بھلائی کے نیک مقصد منصوبے کے لئے کسی سے مالی معاونت کے حصول میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرنی چاہئے۔لیکن میرے ساتھ ایک المیہ ہے کہ میں اپنے دیئے ہوئے پیسے بھی نہیں مانگ سکتا۔اسی کمزوری کی وجہ سے ایک سال سے اس منصوبے کی امانت دل اور دماغ میں چھپائے پھرتا ہوں۔فیس بک پر میری فرینڈ لسٹ میں چکوال سے غفران عمر جو فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے مالی امداد حاصل کرکے مستحقین کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔اب تک بقول اُن کے وۂ کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر چکے ہیں ایک دن انہوں نے پوسٹ لگائی کہ فلاحی کام کرنے والوں کو عزت نفس کا صدقہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ان کی پوسٹ سے حوصلہ ملا اور میں اس حوصلے کے یقین پر عملی مرحلے کی طرف بڑھنے لگا ہوں۔مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ تصوراتی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوتے شروع شروع میں ناممکن ہوتے ہیں لیکن ہو جانے کے یقنِ کامل،جہد مسلسل اور مخلص ٹیم سے قابل عمل ہو جاتے ہیں۔صاحبو!مجھے صرف یقین ہی نہیں کامل یقین ہے کہ جس کاساری کائنات پہ تسلط ہے،جو سارے نظام پرمحیط ہے ا ور جس سے سبب اسباب مانگتے پھرتے ہیں کیوں نہ کامیابی کی،برکت کی، وسائل کی د عا مانگ لی جائے، وۂ عطا کرنے والا ہے مانگنے سے راضی ہو جا تا ہے۔آپ احباب بھی کامیابی کی دعا کا صدقہ ضرور کریں۔اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لئے مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور تسلسل کے ساتھ چاہیے ہوگا۔ اندھیرے کی لڑائی میں فتح مندی کا گُر امجد اسلام امجد نے بتا دیا ہے۔
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے۔۔۔تمھاری دسترس میں جو دیا ہو وۂ جلا دو