Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت کی عظمت اورمعاشرہ تحریر: حمیرا الیاس

    ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں معاشرتی رویوں اور اقدار میں بہت فرق ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کے مطابق عورت کا جو مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہ بیت ارفع و اعلی، جس میں عورت کو کسی بھی گھرانے کا مرکزی کردار گردانا گیا ہے۔ ایک بیٹی، جو گھر کی رحمت کے طور پر گھر میں اترتی اور پھر گھر بھر کی رونق اور آنکھوں کا تارا بن جاتی۔ بیٹی کے طور باپ کے لئے دل کا سکون اور طراوت۔ ماں کے لئے راحت، اور دکھ درد کی دوست۔ یہی بیٹی اگر بڑی بہن ہے تو تمام چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے محبت بھرے آنچل میں سمو لیتی ہے، ماں بن کر انہیں پیار دینے والی بڑی بہن بسااوقات اپنی تمام زندگی کی خوشیاں تک اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتی۔
    اگر چھوٹی بہن ہو تو تمام بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، شرارتوں سے ہر وقت کھکھلایثیں بکھیرتی جگمگ کرتی سارے گھر میں قندیلیں بھارتی پھرتی۔ یہ بہن یا بیٹی کے جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آنے لگتے تو والدین کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگتے، اک انجانے خوف سے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا اگلے گھر میں ہماری بیٹی اتنی ہی خوش و خرم رہ پائے گی جتنا ہم نے رکھا؟ اس خوف پر بات سے قطع نظر، بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کا سکون ان کے لئے باعث اطمینان رہتا۔ رخصت کرتے بھائیوں کے دل بھی پیاری بہنا کے جانے کا سوچ کر دھک دھک کر رہے ہوتے۔ اور یوں وہ بیٹی جو رحمت بنکر باپ کے آنگن میں اتری ہوتی وہ کسی کے گھر کی ملکہ بن کر رخصت ہوتی، جہاں دیدہ و دل فراش راہ کئے اس کا ہم سفراس کے لئے زندگی کی خوشیاں کشیدنے کا عزم دل میں بھر کر اسے خوش آمدید کرنے کو تیار ہوتا۔ اور یوں بیٹی سے پھر ماں بننے تک کے سفر میں عورت مکمل اہمیت کے احساس سے گزر کر کندن بن جاتی۔
    اس تمام سفر میں عورت کا ہر روپ معاشرے میں عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا۔ لیکن اس مقام کا خود کو اہل ثابت کرنے کے لئے عورت کو بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں،ہر وہ عورت جو قربانیوں کی بھٹی میں جل کر نکل جاتی اس کے لئے یہ زندگی ہی مثل جنت بننے لگتی۔ عورت کی عظمت ہی تو ہے کہ اسے مرد کی سکینت کا باعث کہا گیا، بارہا قرآن حکیم میں مرد کے لئے احکامات کے ہمراہ مومن خواتین کو مخاطب کیا گیا، عورت کے لئے خاص طور حکمت والے قرآن میں ایک مکمل سورۃ اتاری گئی۔ تو اسلام نے تو عورت کی تعظیم میں کسر نہیں چھوڑی، یہ اسلام نے عورت کو عزت وتکریم ہی بخشی تو اسے معاشی فکر سے آزاد کردیا، اسکے لئے امت محمدیہ کی تربیت جیسا عظیم کام سونپا، تربیت کامطلب سمجھ رہے؟ اس کا مطلب آنے والی تمام نسل انسانی کے لئے راستے کی روشنی کے اسباب پیدا کرنا،یہ چھوٹا کام تو نہیں۔ معاشرتی اصولوں میں سب سے خوبصورت اصول، عورت کو تحفظ کی تہوں میں رکھ دیا گیا، اسکا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ، یا بھائی کی ذمہ داری، بعد از شادی یہ سب شوہر کو بہم پہنچانا، اور پھر بیٹے کے ذمہ۔ اسی پر اکتفا نہیں، اسے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا سب کی جائیداد میں حصہ دیا گیا، کیا یہ اسکے تحفظ کے لئے نہیں؟؟
    تو نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اسلام عورت کو اس مقام پرپہنچاتا کہ جس پر پہنچنے کی کوئی بھی انسان آرزو کرسکتا، تو ایسا کیا ہے کہ عورت تشنہ ہمیں اپنے معاشرہ میں مکمل اندازمیں وہ عظمت نساء نظر نہیں آتی؟؟
    اولین وجوہات میں سے ایک اپنے مقام سے آگاہی کا فقدان ہے جو عورت کو بے چین کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جو عورت کو پستی کی گہرائیوں میں لے جاتا، تو اپنے خالق سے ربط کا فقدان سب سے پہلی غلطی ہے جہاں سے عورت اپنے مقام سے گرتی۔ اس کے بعد جب ایک ماں کے رتبہ پر فائز ہو کر معاشرے کی تعمیر کے کام سے انکار کرتی تو دراصل ان تمام محبتوں سے دست بردار ہوجاتی جو بہترین خاکق، اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ وابستہ کردی تھیں۔ عورت مرد کے مقام کو پانے کی کوشش میں ایک بلند مرتبہ کو ٹھکرا کر پھر بے سکونی کی وادی میں گم ہوجاتی ہے۔
    جب تک عورت اپنے مقام پر مطمئن و شکرگزار نہیں ہوتی وہ معاشرے میں اس عظمت پر نہیں پہنچ پائے گی کو اسلام نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔
    آج کی عورت کی بے سکونی کی وجہ وہ خود ہے، وہ صرف attitude of gratitudeسیکھ لے،اور اس کی تعلیم اپنے زیر تربیت اولاد کو دے دے تو معافی میں بڑھتی بے راہروی اور پستی کردار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ عورت کی عظمت اس کے کردار کی پختگی میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کرے کہ لبرلزم کے لبادہ میں ملبوس عورت اپنا اصل مقام پہچان کر اسی عظمت کو پا لے جو امہات المومنین کا خاصہ رہی۔

  • چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق

    چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق


    آج پاکستان کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے لیکن کچھ پاکستان میں بہت عام ہیں جو ہمارے معاشرے اور پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کرپشن ، غربت ، ناخواندگی ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، اسمگلنگ ، منشیات کا استعمال ، وغیرہ
    کرپشن کے علاوہ اور بھی بڑے مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔ چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

    بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے
    بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    چائلڈ لیبر پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان کی طرح تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہے جو کہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 15 سال کے تقریبا 158 ملین بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے-پاکستان میں 5-15 سے کم عمر کے بچے 40 ملین سے زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2.7 ملین بچے زراعت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔
    چائلڈ لیبر کی ایک بنیادی وجہ غربت ہے جو ان بچوں کو مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ سیکھنے کے بجائے کمانے کے پابند ہیں تاکہ ان کے خاندان کے تمام افراد کا پیٹ بھر جائے۔ یہ بچے دن بھر پیسے کمانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تھوڑی سی رقم ملتی ہے جو بمشکل اپنے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔
    ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس نے کئی خاندانوں کو خط غربت سے نیچے گھسیٹا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے والدین کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں ، دوکانوں ، یہاں تک کہ سڑکوں پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کریں۔ چائلڈ لیبر کے بہت سے معاملات ہیں جہاں بچے کو قرض کی ادائیگی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے جو اس کے والد نے لیا تھا

    دیہات میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے اور بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ان کے پاس کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ بچوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ انھیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں جیسے گاڑیاں کھینچنا ، مشینیں مرمت کرنا ، فیکٹریوں میں کام کرنا ، سامان بیچنا وغیرہ۔
    بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے اس پیشے میں تربیت دی جاتی ہے جس پر خاندان صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس لیے وہ پرائمری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے مزدوروں ، کاریگروں وغیرہ کے بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش کو ناخواندگی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تر ان پڑھ ہیں ، اس لیے ان پڑھ والدین کے لیے اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
    ان میں سے بیشتر والدین صرف اس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
    بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر ہے۔ چائلڈ لیبر کے فروغ کی ایک اور اہم وجہ چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین پر حکومت کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے. چائلڈ لیبر ایک بچے کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرتی ہے۔ ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

    چائلڈ لیبر کا مسئلہ قوم کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حامی اقدامات کر رہی ہے۔ چائلڈ لیبر بنیادی طور پر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے جو کہ غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ لیں اور جتنا ممکن ہو اُنکی مدد کریں
    چائلڈ لیبر کی معاشرتی برائی کو قابو میں لایا جا سکتا ہے ، ۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں۔ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر حکومت عوام کے تعاون سے مؤثر طریقے سے کام کرتی رہے تو انشا اللہ پاکستان ایک دن اس معاشرتی ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گا

    ‎@SmPTI31

  • بے حسی کی بیماری   تحریر : شاہ زیب

    بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

    ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

    اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

    یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

    بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

    ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

    ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

    کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

    ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • سلام کی اہمیت   تحریر: تیمور خان

    سلام کی اہمیت  تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    اسلام کا نظامِ حیات یہ سراسر امن اور محبت پہ مبنی ہیں، اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں امن ہو معاشرے میں افراد کے درمیان باہمی محبت ہو آپس میں اتفاق ہو الفت ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں امن ہوتا ہے یا آپس میں محبت کے تعلقات ہوں آپس میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے، تو اس معاشرے میں زندگی گزارنا، رزق حلال کمانا اور تمام امور سرانجام دینا نہایت ہی آسان ہو جاتا ہے، اس کے برعکس ایک معاشرے میں امن نہ ہو، آپس میں ایک دوسرے کے لئے محبت نہ ہو ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو نہ وہاں کاروبار چل سکتا ہے نہ وہاں معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں، بلکہ بد عمنی کی وجہ سے اور محبت اور بھائی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرہ ذوال کا شکار ہو جاتا ہے،

    اسی لئے جہاں اسلام نے ہمیں دیگر تعلیمات عطا کی ہیں وہاں معاشرے کے افراد کے لئے آپس میں محبت کے لئے ایک علاقے کے لوگ، ایک محلے کے لوگ، ایک چت کے نیچے رہنے والے لوگ وہ جب آپس میں بعض چھوٹے چھوٹے چیزوں کا خیال رکھیں گے، تب جا کے ایک محلے کی سطح پہ، ایک علاقے کی سطح پہ اور ایک معاشرے کی سطح پہ امن اور محبت قائم ہوگا،

    سرکارِ دوعالم ﷺ نے اسی امن کو قائم کرنے کے لئے اور پیدا کرنے کے لئے ارشاد فرمایا٫٫ آپ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں، اور یہ وہ حقوق ہیں کہ جو حقوق واجبہ نہیں ہے، ان حقوق کا درجہ مستحب اور نفل کا ہے، لیکن اگر ان چھوٹے چھوٹے حقوق کو ادا کیا جائے تو یقیناً پھر بڑے حقوق کو ادا کرنا آسان ہو جاتا ہے، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں٫٫   1 جب بھی ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے سامنے آئے تو پہلے اس کو سلام کرے، تو یہ سلام کرنا ایک مسلمان کا۔دوسرے مسلمان پہ حق ہے، ہمارے شعریت کی تعلیمات کا سلام کے متعلق خلاصہ یہ ہے ، کہ سلام کرنا مسلمانوں کے جماعت پر یہ ایک مسلمان پر یہ سنت ہے، لیکن شعریت اور قرآن کریم کا یہ حکم ہے٫٫ جب ایک مسلمان سلام کرتا ہے تو اس کو سلام کرنا  پہل کرنا یہ تو سنت ہے، لیکن جس کو سلام کیا گیا ہو تو پھر اس کو جواب دینا یہ واجب ہے، اللہ نے سورہ نساء پانچویں پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ کہ جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم اس کے سلام کا جواب اچھے الفاظ میں کرو، اور اگر جواب اچھے الفاظ میں نہیں دے سکتے تو کم از کم جواب اتنا ہی دو جس طرح اس نے آپ کو سلام کیا ہے، ایک شخص ہے وہ سلام کرتا ہے، ٫٫اسلام علیکم؛؛ تو جواب دینے والے اس کو اچھا جواب دے، ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ؛؛ جب سلام کیا جائے ٫٫اسلام علیکم ورحمتہ اللہ،، تو جواب دینے والے کو چاہئے کہ ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ بھی ساتھ کہے، اور اگر پہلے والا کہے، کہ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،، تو جواب دینے والے کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ ؛؛ تو اتنا جو ہے وہ سنت میں آیا ہے، تو آس لئے اللہ نے فرمایا کہ جب سلام کیا جائے تمھیں تو اسکا اچھے الفاظ میں جواب دو، کیونکہ کہ سلام کا۔جواب دینا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پرحق ہے،اور اب حق سے مراد یہ ہے کہ جب ایک مسلمان جا رہا ہے اور جس کو سلام کرنے یعنی پہل کرنے کا حق ہے اور وہ سلام نہ کرے تو پھر قیامت کے دن اس سلام یعنی اس حق کا اللہ تم سے پوچھے گا، تو اس لئے کہا گیا ہے کہ جب سلام کیا جائے تو تم اس کا اچھے الفاظ میں جواب دو،

    اور مفسرین نے اچھے الفاظ کا ایک معنیٰ یہ بتایا ہے، کہ بے شک سلام کے جواب میں اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ؛؛ نہ ہو لیکن سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دو، یہ اس کا اچھا جواب ہے اللہ نے فرمایا، مطلب سلام کا جواب ایسے نہیں دینا چاہئے کہ سلام کرنے والا اپنے سلام پہ پشیمان نہ ہو کہ شائد مجھے سلام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 

    یہاں تک امام ترمذی شریف نے اس حدیث کی روایت کی ہے سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے معاشرے میں سلام کو عام کرو آپ نے فرمایا تم جس کو جانتے ہو اس کو سلام کرو اور جس کو نہیں بھی جانتے اس کو بھی سلام کرو، کیونکہ جب ایک انسان کسی اجنبی شخص کو سلام کرتا ہے تو اس اجنبی شخص کے دل سے اجنبیت کا خوف ختم ہو جاتا ہے، تو وہ پھر اگلے سے خطرہ محسوس نہیں کرتا۔

    یہاں تک صحابہ کرام کے متعلق آتا ہے سیرت کی کتابوں میں کہ صحابہ کرام سلام کا اتنا احتمام کرتے کہ وہ چند سیکنڈ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوتے اور پھر ملتے تو پھر بھی وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے، اسی لئے ہمارے شعریت میں سلام کے متعلق حکم ہے، کہ جو چل رہے ہوں تو وہ بیٹھے ہوئے کسی ایک شخص یا زیادہ بیٹھے ہوئے جماعت کو سلام کرے، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے تو وہ باقی ماندہ تمام کی جانب سے سلام کا جواب مل جاتا ہے،اور اگر پورے مجموعے میں کسی نے بھی جواب نہیں دیا تو پھر سب گناہگار ہونگے، اسی طرح ایک شخص سواری پہ ہے اور ایک پیدل چلنے والا ہے تو یہ پیدل چلنے والے کا حق ہے کہ سوار جو شخص ہے وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے، ایسی طرح ایک انسان مسجد مدرسے یہ گھر میں عبادت میں مشغول ہے اور ایک دوسرا شخص باہر سے آتا ہے تو باہر والے کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں وہ سلام نہ کرے، اور اگر مسجد میں بعض اوقات لوگ ویسے بیٹھے ہوئے ہیں تو ان کو پھر ضرور سلام کریں، ایسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ایک شخص تلاوت کر رہا ہے اور کوئی شخص باہر سے آیا اور اس نے سلام کیا تو تلاوت کرنے والے کو سلام کا جواب دینا لازمی نہیں ہے وہ جواب نہ دے اگر دے دیا تو ٹھیک ہے مگر نہ دینے پہ گنہگار نہیں ہوتا، ایسی طرح ایک شخص کھانا کھا رہا ہے اسے بھی سلام نہیں کرنا چاہیے جب وہ کھانے سے فارغ تب اس کو سلام کیا جائے، تو انسان جب سلام کرتا ہے تو اس سلام کی بدولت معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے، 

    اسی لئے اسلامی معاشرے میں سلام اتنی اہم ہے کے جب تم قبرستان جاؤ تو مردوں کو بھی سلام کیا کرو سلام کی اتنی بڑی اہمیت ہے کہ زندوں کو تو دور کی بات کہ مردوں کو بھی سلام کرنے کا حکم ہے، جب بھی قبرستان جاؤ یا راستے میں قبرستان آئے تو کہو ٫٫اسلام علیکم یا اھل القبور؛ بے شک دل میں کہو لیکن سلام ضرور دو، سلام کرنے کا فائدہ اتنا ہی ہے جتنا ایک مسلمان اپنے مردوں کے لئے دعا کرتا ہے، اب مردوں کے لئے سلام کا فائدہ یہ ہے کہ ، شائد ان پہ قبر کا عزاب، شائد وہ قبر کے عزاب میں مبتلا ہوں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ مردوں کو بھی سلام کیا کرو، سرکارِ دوعالم ﷺ کا سنت اور طریقہ یہی تھا، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ راستے میں بچوں کو بھی سلام کیا کرتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک شخص اگر چاہے کہ اس کے رزق میں اور بھی برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے گھر والوں کو سلام کرے، تو سلام اتنا اہم ہے کہ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو درود شریف ہی پڑھ لیا جائے تو بھی بہتر ہے تو اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں ان 6 حقوق میں سے پہلا حق وہ سلام کرنا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرے، اسی میں ہماری کامیابی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan

  • سماجی مسائل اور ان کے سدباب  تحریر : ماہ رخ اعظم

    سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

    ‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

    مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

    جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

    بقول اقبال
    یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
    یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

    ازقلم : ماہ رخ اعظم
    ‎@_MahrukhAzam

  • بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں   تحریر: علی خان

    بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں  تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ابھی ان  تِلوں میں تیل نہیں 

    ماں باپ سے بچوں کو وراثت منتقل ہونا تقریباً تمام معاشروں کی روایت ہے،،، والدین اپنی زندگی میں بچوں کو اپنی جائیداد کا وارث بنادیتے ہیں یا پھر انتقال کے بعد بچوں کو قوانین کے مطابق جائیداد، کاروبار بعض صورتوں میں نوکری وراثت میں ملتی ہے،،، سیاستدانوں کی جانب سے بچوں کو سیاسی وارث بھی بنایا جاتا ہے،،، مغربی معاشروں کو چھوڑ کر یہ روایت تقریباً تمام معاشروں میں پائی جاتی ہے کہ سردار کا بیٹا سردار اور وڈیرے کا بیٹا وڈیرہ بنتا ہے اور اپنے علاقے میں خاندان کی سیاسی روایات کو آگے بڑھاتا ہے،،، مضبوط جمہوری معاشروں میں بھی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہے،،، اسی طرح امریکی صدور بش سینئر اور جونئیر بھی اسی کی مثال ہیں

    مغربی سیاسی روایات اور ہمارے ہاں واضح فرق سیاسی جماعتوں کا ہے،،، مغربی سیاسی جماعتوں میں جماعت کی قیادت کی خاندان کی وراثت نہیں ہوتی،،، وطن عزیز میں اسے بھی وراثت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے،،، یہ روایت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے،،، یہی کافی حد تک روایتی معاشرتی اور ملکی پسماندگی کی ذمہ دار بھی ہے،،، لیڈران کے بچوں کو بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے پہلے پارٹی اور پھر اقتدار کا سنگھاسن ملتا ہے تو اسے وہ خاندانی حق سمجھ کر مزے کرتے ہیں اور عوامی بہبود کا سوال کہیں پس پشت چلا جاتا ہے

    ایسے ہی ایک لیڈر ہمارے بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی ہیں کہ جنہیں والدہ کی شہادت کےبعد پارٹی کا کرتا دھرتا بنایا گیا،،، بلاول بھٹو کے حامی انکے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے اور شہدا کا وارث ہونے جیسے اوصاف گنواتے ہیں لیکن غیر جانبدار تجزیہ کار انکی سیاسی ناپختگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں،،، آصف علی زرداری صاحب کی جانب سے پارٹی کمان انکے ہاتھ اس امید پر دی گئی تھی کہ بلاول اپنی سیاسی وراثت کے بل بوتے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پارٹی کو بہتر پوزیشن دلا پائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا،،، بلاول صاحب کی سیاسی وراثت میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھاری بھرکم کارنامے گنوائے جاتے ہیں لیکن انکی اپنی جماعت سندھ میں قریب تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود سندھ کی بدترین حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے،،، بلاول بھٹو کی جانب سے یا تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا رونا ہوتا ہے یا پھر سندھ کی محرومیوں کا ،،، بلاول کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنا انکے والد آصف علی زرداری کا فیصلہ نظر آتا ہے جو بہت بار سبکی کا باعث بن چکا ہے

    بلاول بھٹو کے "زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے” جیسے بیانات انکی ناپختگی پر مہر ثبت کرتے ہیں،،، گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں پہلے جیت اور پھر دھاندلی کے دعوے کچھ سنجیدہ تاثر نہیں چھوڑ رہے،، انکی زیر قیادت پارٹی نے سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی حکومت کی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی پائیدار اور ٹھوس منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی،،، جب بھی سندھ حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بے انتظامی جیسے معاملات کی بات ہوتی ہے تو بلاول بھٹو سندھ پر حملہ نامنظور جیسا رٹا رٹایا نعرہ لگا دیتے ہیں اور اصل سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں،،، عوام کی جانب سے انکی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کی سیاسی پختگی کو زیادہ پسند کیاگیا ہے،،، بلاول بھٹو کو جب پیپلزپارٹی کی قیادت دی گئی تو یہ وفاق میں حکومت کرنے والی وہ جماعت تھی جسکی تمام صوبوں میں موجودگی تھی لیکن اب یہ ایک صوبے تک محدود جماعت نظر آرہی ہے،،، بلاول بھٹو کے وقت سے قبل میدان میں اتارے جانے کا سب سے زیادہ نقصان انکی اپنی جماعت کو ہوا ہے،،، پی پی سربراہ کو سیاسی بلوغت نہ دکھائی تو بعید نہیں کہ آئندہ کیا مزید کئی الیکشن تک پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر بننے کی بجائے صوبے سے بھی لاڑکانہ تک محدود ہوجائے

  • معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    اتار چڑھاؤ زندگی کاحصہ ہیں. جہاں زندگی میں بہت سے خوش کن لمحات آتے ہیں کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے وہیں زوال و ناکامی  بھی زندگی کا حصہ ہیں. بلند ہمت اور زندہ دل افراد عزم سے نامسائد حالات کا مقابلہ کرتے ہیں. جبکہ پست ہمت افراد جلد دل ہار بیٹھتے ہیں اور زندگی کی مشکلات کو پہاڑ بنا لیتے ہیں نتیجتاً مسلئے کا واضح نظر آنے والا حل دیکھنے سے بھی محروم رہتے ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات نے یوں تو زندگی کو آسان بنا دیا ہے مگر اسکے ساتھ ہی معاشرے میں عدم برداشت اور ذہنی تناؤ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے. انسان تعلاقات کے مصنوعی ذرائع جیسا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے جبکہ اسکے ارد گرد موجودہ رشتے اور افراد نظر انداز ہوتے ہیں. لہذا وقت کے ساتھ ساتھ انسان خود کو تنہا مایوس کرنے لگا ہے خصوصاً نوجوان نسل میں یہ رحجان بہت زیادہ ہے. ڈپریشن آجکل ہر نوجوان کا مسلئہ بن چکا ہے. ہر دوسرا فرد اس نفسیاتی مسلئے کا شکار نظر آتا ہے. 

    وقتاً فوقتاً انسان کا مایوس یا اپنے اردگرد افراد اور حالات سے بیزار ہونا نارمل ہے کہ دل ہر وقت ہی زندہ دل محسوس نہیں کر سکتا. یہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں مگر ڈپریشن کی کیفیت کا دورانیہ نارمل مایوسی یا بیزاری سے بہت زیادہ ہوتا ہے. کبھی ڈپریشن کی کیفیت کی کچھ خاص وجہ ہوتی ہے جبکہ بہت سے کیسز میں بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو ڈپریس دیکھا گیا ہے.ڈپریشن کی بیماری کی  شدت  عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں  کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے.ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ تنہائ بھی ہے. زیادہ دوست یا میل ملاپ رکھنے والے افراد میں یہ مسلئہ بہت کم پایا جاتا ہے. بعض اوقات اچانک کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہونے والے افراد میں بھی یہ مسلئہ موجود ہوتا ہے. بعض لوگوں کی شخصیت میں کوئ ذاتی کمی کا احساس یا دوسروں سے ہر وقت موازنہ بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتا ہے. بہت سے افراد میں یہ مسلئہ موروثی طور پر بھی نسل در نسل منتقل ہوتا ہے. اس سب کی بہت سی وجوہات ہیں.معاشرتی حالات کا بھی اس میں بہت زیادہ کردار ہے. مشرکہ خاندانی نظام جو ہماری روایت تھا وقت کے ساتھ یہ روایت دم توڑ رہی ہے. لوگ مل جل کہ رہنے کی بجائے تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں.روپیہ پیسہ رشتوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے. بڑھتی ہوئ مہنگائ اور معاشی حالات بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتے ہیں.وہ افراد جنکی آمدنی محض میں ایک دن کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اچانک پیش آنے والے حادثے کی صورت میں تمام خاندان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے. والدین کی آپس کی ناچاقی بھی 

    ٹین ایج افراد میں مایوسی اور ڈپریشن کی بڑی وجہ ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی امراض کے بارے میں جانکاری کی شرح نہایت کم ہے. بہت سے والدین "لوگ کیا کہیں گے ” کے نام پر بچوں کے نفسیاتی مسائل کو چپھا کر رکھنا بہتر سمجھتے ہیں. موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال سے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قوت برداشت کم ہونے سے نوجوان نسل میں ڈپریشن و اینزائٹی کی شرح تیزی سے بڑھی ہے مگر ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نشے میں اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔ہمیں چاہیے کہ رابطے کے مصنوعی ذرائع پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے افراد کو توجہ کا مرکز بنائیں. کسی کہ دکھ درد کو سنیں. دوسروں کے مسائل اور مشکلات آسان کرنے پر توجہ دیں تا کہ معاشرے میں دوبارہ سے مثبت سوچ رکھنے والے اور ذہنی طور پر صحت مند افراد کا تناسب بڑھے. 

    @just_S32

  • مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    برطانیہ میں پالتو مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ کر دئیے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بلیو بیل نامی مچھلی کو برطانوی شہری نے اپنے گھر میں پال رکھا تھا جس کی عمر تقریباً 17 برس ہے مچھلی کے منہ میں گوشت کا لوتھڑا بن رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی وہ اسے مچھلیوں کی بہترین سرجن کے پاس لے کر آیا۔ سرجن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مچھلی کا آپریشن کیا جو ایک غیرمعمولی مشکل کام تھا جس پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    مچھلی کے منہ میں بننے والا لوتھڑا یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ مچھلی خود کھانے سے قاصر تھی اور اس کا مالک اپنے ہاتھوں سے اسے غذا دے رہا تھا ڈاکٹر ہانا کی زندگی کا یہ دوسرا پیچیدہ ترین آپریشن بھی تھا جس میں مچھلی کو سلایا گیا اور آپریشن کے بعد اٹھایا گیا –

    مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے خاص طریقہ کا خواب آور کیمیکل دیا گیا اور یہی سب سے مشکل مرحلہ بھی تھا پہلے اسے خاص انیستھیسیا والے محلول میں ڈبویا گیا جہاں مچھلی پر غنودگی چھائی رہی اورآپریشن میں اس پر مسلسل پانی ڈال کر اسے گیلا رکھا گیا جس میں ایک گھنٹہ لگا آپریشن سے لوتھڑا نکالنے میں کل 20 منٹ صرف ہوئے اس کے بعد زخم پر دوا لگائی اور درد کش دوا بھی دی اب گولڈ فِش مکمل طور پرتندرست ہے اور خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے۔

    برطانوی شہری نے مچھلی کے علاج پر 300 برطانوی پاؤنڈز خرچ کر دیئے جو تقریبا 70 ہزار پاکستانی بنتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

  • منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    *
    اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی ضروریات کی تسکین کا اہتمام فرمایا۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و شکل عطا فرمائی. اللہ پاک نے انسان کو جن وجوہات کی بنا پر باقی مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے وہ عقل، شعور، فہم و فراست، قوت فیصلہ اور ضمیر ہیں۔ انسان اپنی انہی خوبیوں کے استعمال سے خیر و شر میں تمیز کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو جن چیزوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ایمان، جان اور عقل کی حفاظت سرفہرست ہیں۔ اللہ پاک نے انسان کو عقل، فہم و فراست اور فکر و نظر کی حفاظت کی تاکید فرماتا ہے لہذا اسی حفاظت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے انسان کو اس کی عقل کے بدترین دشمن نشہ کے استعمال سے نہ صرف سختی سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے حرام اور ناپاک عمل قرار دیا ہے۔ دین فطرت، دین اسلام کا ہر حکم میں انسانیت کی فلاح و بہبود پر مبنی ہے لہذا اسلام میں نسل انسانی کے لیے نشے کو حرام قرار دیا جانا کسی صورت بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ممانعت کی حکمت خود اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
    ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاو۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے۔”
    آیت مبارکہ میں نشے کے نسل انسانی کو لاحق بڑے خطرات کا ذکر بہت جامع اور مختصر انداز میں کیا گیا ہے اور اس آیت مبارکہ کی تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ نسل انسانی کو لاحق ایک ایسا خطرہ ہے جو انسان کو ذہنی، جسمانی، روحانی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی الغرض ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
    منشیات کے استعمال کے بے شمار نقصانات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ آپ کی قیمتی جان کے ضیاع کا ہے۔ نشے کی عادت ہلکی نشہ آور شے کے استعمال یا محض سگریٹ نوشی سے شروع ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ طلب کے پیش نظر منشیات کے عادی اس مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ یعنی یوں کہہ لیں کہ نشے کے سفر کا آغاز سگریٹ، پان، بیڑی یا نسوار وغیرہ سے ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے چرس، افیون، ہیروئن، آئس، کوکین اور انجیکشنز تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر تک نشہ انسانی جسم میں اس قدر زہر بھر دیتا ہے جو اسے موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ یوں زندگی کی تسکین کا سفر زندگی کے بدترین انجام پر اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
    نشے کے عادی افراد کی صحت و تندرستی کی صورتحال انتہائی نازک مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ان کا مدافعتی نظام بیماریوں سے لڑنے کی بلکل بھی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے عادی شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، ہائپرٹینشن، کینسر اور امراض قلب جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صحت و تندرستی کی نازک صورت حال نشہ کا نسل انسانی کو لاحق دوسرا بڑا خطرہ ہے۔
    عقل اور شعور وہ کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر انسان کو باقی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی ہے نشہ عقل انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ نشہ انسانی دماغ کو ماوف کردیتا ہے اور وہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد عقل اور شعور سے خالی ہوتے ہیں وہ اپنا اور اپنے خاندانوں کا برا بھلا سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ چونکہ نشہ کے عادی سوچنے سمجھنے اور خیر و شر میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا وہ اخلاقی طور پر انتہائی کمزور اور بدکردار ہوتے ہیں۔ نشہ کرنے کی وجہ سے وہ تمدنی و ثقافتی روایات، اصول معاشرت اور اخلاقیات مکمل طور پر بھلا دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی مختلف معاشرتی خرافات جیسا کہ چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور زنا وغیرہ کا شکار ہوکر معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ کے طور ابھرتے ہیں جن کی بدولت پورا معاشرہ تعفن آلود ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عام انسانوں کی نسبت منشیات کے عادی افراد میں گالم گلوچ اور بدکرداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور پسماندگی منشات کے استعمال کا وہ نقصان ہے جس سے نہ صرف منشیات کے عادی متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام معاشرے پر بھی اس کے گہرے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔
    منشیات کا استعمال جہاں اخلاقی، ذہنی اور جسمانی پسماندگی کا سبب بنتا ہے وہیں یہ انسان کو معاشی طور پر بھی کمزور کر دیتا ہے۔ نشہ کے عادی لوگ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنی منشیات سے وابستہ ضروریات پوری کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو معاملات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ لوگ نشے کی خاطر معاشرے کے دوسرے افراد کے سامنے دست سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے عاجز ہوتے ہیں جس کی بدولت انہیں غربت اور معاشی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسی نکتہ نظر کو قومی سطح پر دیکھا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منشیات کے استعمال کی مد میں سالانہ اربوں روپے ضائع ہو رہے جنہیں اگر کسی مفید کام میں خرچ کیا جائے تو بہتر معاشی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔
    خاندانی نظام نسل انسانی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے مگر نشہ اس بہترین نظام کی تباہی کا ایک بڑا سبب ہے۔ منشیات کے عادی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جنہیں اپنے اہل و عیال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ نشہ ان کے دماغوں کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے جس کی بدولت وہ جھگڑالو اور متشدد مزاج ہوجاتے ہیں۔ عدم برداشت اور بیمار ذہنیت کے یہ لوگ طبعیت میں بھلا کا چڑچڑاپن رکھنے کی وجہ سے ہر وقت اپنے خاندان سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ کئی واقعات میں تو حالات کی سنگینی ایسی صورت اختیار کرتی ہے کہ بات قتل و قتال اور طلاق کی نوبت تک جا پہنچتی ہے۔ ایسے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں منشیات کے عادی بے ضمیر لوگوں نے نشے کی خاطر اپنی اولادوں اور عزتوں تک کو بیچ ڈالا۔
    نشہ معاشرتی بگاڑ اور تمدنی روایات سے انحراف کی بڑی وجہ ہے۔ جب انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی وہ معاشرے میں انتشار اور بے سکونی ہی پیدا کرے گا۔ ان سارے حالات کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نشہ دور حاضر میں نسل انسانی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔ میں باغی ٹی وی نیوز کی پوری ٹیم کو داد تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ ماہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک بھرپور مہم کامیابی سے چلائی اور انسداد منشیات و تمباکو نوشی کے متعلق نوجوانوں کو بہترین انداز میں آگاہ کیا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ایسی صحت مند اور مفید سرگرمیاں حکومتی سربراہی میں جاری رہنی چاہیں تاکہ ہمارا مستقبل یعنی ہماری نوجوان نسل نشے جیسی لعنت سے محفوظ رہے۔

    Twitter:
    @DSI786

  • چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر   تحریر : راجہ ارشد

    چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے محلے کی مسجد میں ایک قاری صاحب ہیں جو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں یہی امام مسجد بھی ہیں کل نماز مغرب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھا تھا یوں ہی گپ شپ ہو رہی تھی امام صاحب اور میں ہم عمر بھی ہیں تو بات بڑی گھول کے کرتے ہیں وہ بتانے لگے کہ ۔

    ایک دن میرے پاس آپ کا پورانا پڑوسی آیا رانا امجد نام تھا میرے اس پڑوسی کا اور آج سے 8 یا 10 سال پہلے ہم دونوں ایک ہی بیلڈنگ میں رہتے تھے ۔ رانا امجد صاحب دوسرے فلور پر تھے اور میں گرونڈ پر تھا بس وہاں ہی سلام دعا ہوئی تھی ان سے ۔اس کے بعد میں نے گھر بدل لیا اور کام کاج کے چکر میں ان سے رابطہ بھی کم ہی ہو گیا۔ ابھی کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اتفاق سے میں اور امام صاحب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ سامنے آ گئے۔

    امام صاحب سے تعارف بھی میں نے ہی کرویا تھا خیر امام صاحب نے کہا وہ آپ کے پڑوسی نہیں تھے رانا امجد صاحب۔ میں نے فورن جوابن کہا اللہ خیر کرئے امام صاحب کیا ہوا ان کو ؟

    امام صاحب نے کہا ہوا کچھ نہیں بتا رہا ہوں کہ جب آپ نے ان سے ملوایا تھا اس کے ٹھیک دو دن بعد رانا امجد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور میرے بیٹے نے عجیب و غریب بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ شاید کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے یا جنات کا سایہ ہے ۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نے کہا۔آپ بچے کو میرے پاس بھیجیں دیکھتے ہیں مسلہ کیا ہے۔

    اگلی صبح وہ لڑکا میرے پاس آ گیا وہ نو عمر لڑکا تھا میں نے انتہائی محبت ، شفقت کے انداز میں بات چیت شروع کی تو وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔پھر اس نے بتایا کہ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی ہے جہاں کے رہنے والوں کو دین سے کوئی سروکار نہیں۔ نمازوں کی فکر ہے نہ روزں کی نہ قرآن مجید کی تلاوت نہ دیگر عبادات کی ہمارا گھرانا سر تا پاوں گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔میرے والد نے کبھی نماز نہیں پڑھی وہ کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔

    میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا کہا اس بچے کو امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے والد کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کی اور کہا بیٹا تمارا اپنے والد پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ تم رات کی تنہائیوں میں اپنے اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے والد کی ہدایت کے لیے دعا کرو ۔لڑکے نے بہت ذوق و شوق سے میری باتیں سنی اور اس پر عمل کرنے کا کہ کر چلا گیا۔

    میں نے کہا آچھا پھر امام صاحب کیا ہوا وہ لڑکا دوبارہ کبھی وآپس آیا ؟ امام صاحب نے کہا ہاں ابھی کل کی بات ہے وہ لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔استاد محترم جیسے آپ نے بتایا تھا میں نے اسی طرح کیا جب سارے گھر والے خواب غفلت میں پڑے ہوتے میں اٹھ کر وضو کرتا اور نماز تہجد ادا کرتا اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اتفاق سے میرے والد کہیں سفر پر تھے وہ رات کو تاخیر سے گھر لوٹے تو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرا بیٹا ایک تاریک کمرے میں اللہ سے دعا کر رہا ہے ابو جان نے قریب آ کر سنا تو میں کہہ رہا تھا۔

    اے میرے رب میرے والد کو ہدایت نصیب فرما ۔اے میرے رب ان کے دل کو دین کے لیے کھول دے اور انہیں اہل جہنم میں سے نہ کرنا۔ یا رب تو ہی ہے جو یہ کر سکتا ہے۔
    ابو جان حیران و پریشان کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

    پھر وہ باتھ روم میں گئے اور غسل کیا اور میرے پیچھے نماز پڑھنے لگے انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سے پکا نماز پڑھنے کا عہد کر لیا ۔ لڑکے نے بتایا کہ ابو جان نے مجھے گلے لگایا اور شاید اپنے ہی بیٹے کا اس طرح کا ذوق عبادت دیکھ کر حسرت و ندامت سے زار و قطار روتے رہے۔امام صاحب کی بات ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں نے بھی برسنے کی تیاری کر لی ہو بس سبحان اللہ منہ سے نکلا اور امام صاحب سے اجازت لے کر گھر کو چکا آیا۔

    قارئین دیکھا کس طرح یہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والد اور سارے خاندان کی ہدایت کا باعث بن گیا ۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنی ہدایت سے مالامال کر دیں اور سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم امین یا رب العالمین۔
    RajaArshad56