Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دھندہ ہے پر گندا ہے تحریر : نواب فیصل اعوان

    پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ویڈیوز لیکس ہو رہی ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں ۔
    سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہوٸ جس میں الزام عاٸد کیا جا رہا ہے کہ اس نے میڈیا میں ملازمت کے نام پر درجن بھر لڑکیوں سے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں اور فارم ہاٶسز میں زیادتی کی ۔
    مگر سوال یہاں یہ ہے کہ کیا یہ الزامات سچ ہیں ۔؟
    اس سوال کو وقت پہ چھوڑ دیتے ہیں مگر باوثوق ذراٸع کے مطابق محمد زبیر مسلم لیگ ن چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کی پاداش میں ویڈیو لیک کی گٸ ۔
    محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے اور وہ فرانزک آڈٹ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ ویڈیو فرانزک کے بعد جعلی نکلتی ہے تو کیا محمد زبیر کو بدنام کرنے کیلۓ یہ ویڈیو ریلیز کرنے والے اصل مجرمان قانون کی گرفت میں ہونگے یا نہیں ۔؟
    اگر یہ ویڈیو اصلی نکلتی ہے تو کیا پاکستانی ادارے محمد زبیر کو ان درجن بھر خواتین کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج کر کے قانونی کارواٸ کرینگے بھی یا نہیں ۔؟
    محمد زبیر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مریم نواز شریف کے ترجمان بھی رہے چکے ہیں ۔
    بعض ذراٸع کے مطابق اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو اس کے پیچھے مسلم لیگ ن اور خاص طور پہ مریم نواز شریف کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ بارہا میڈیا پہ بتا چکی ہیں کہ ان کے پاس کٸ ملکی نامور شخصیات کی فحش ویڈیوز موجود ہیں اگر ایسا ہے تو جج ارشد ملک کی طرح محمد زبیر ویڈیو لیک کے تانے بانے بھی مسلم لیگ ن اور مریم نواز شریف سے ملیں گے ۔
    ملکی مفاد کو بالاۓ تاک رکھ کر سیاست میں کسی کی مخالفت میں اتنا گر جانا کہ ویڈیوز لیک کر دینا یہ پاکستان کیلۓ بین الاقوامی ہزیمت کا باعث بنے گا ۔
    اگر ایسا ہے تو پاکستان کے اعلی عہدوں پہ فاٸز اور پاکستان کا نظام سنبھالنے والوں کی بھی ویڈیوز نکل آتی ہیں تو یہ پاکستان کیلۓ باعث تشویش ہے کیونکہ ذراٸع کے مطابق ڈارک ویب پہ پاکستانی نامور شخصیات کی ویڈیوز اور تصاویر بیچی جاتی ہیں اگر کسی بھی پاکستانی سیاستدان اینکر ایکٹر سنگر یا دیگر اعلی منصب پہ فاٸز عہدے داران کی ویڈیوز یا تصاویر ڈارک ویب پہ موجود ہیں تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ان کے ذریعے متاثرین کو بلیک میل کر کے اپنے مفادات کیلۓ استعمال کر سکتی ہے ۔
    زرا سوچیں کتنے لوگ ہونگے جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہونگے اور پاکستانی مفادات کو بالاۓ طاق رکھ کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کر رہے ہونگے ۔
    اس وقت پاکستان نازک حالات سے دو چار ہے ایسے میں ان سب چیزوں کا پاکستان میں عام ہونا قابل تشویش ہے ۔
    ملکی اداروں کو اس وقت اعلی سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے یا کسی سیاسی پارٹی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے لوگوں کو بے نقاب کر سکیں اور پاکستان میں ایسے واقعات کے اصل محرکات سے واقف ہو سکیں ۔
    بعض ذراٸع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ویڈیوز کا یہ نا ختم ہونے والا طوفان ہے جو اپنی پوری قوت سے آۓ گا اور اس میں بہت سے مزید لوگ بے نقاب ہونگے ۔
    کیا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔؟
    کیا یہ پاکستان دشمن عناصر کی پاکستان کو بدنام کرنے کی چال تو نہیں ۔؟
    کیا واقعی اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔؟
    یہ سوالات میں آنے والے وقت کیلۓ چھوڑتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ پاک سب کی عزتوں کو محفوظ رکھیں اور پاکستان کو ملک دشمن عناصر کی چالوں سے بچاٸیں آمین

    @NawabFebi

  • قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس شمال مشرقی پاکستان میں جدید شہر جہلم کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک چوکی ہے۔  اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے معزول مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ ​​بادشاہت میں واپس آنے سے روکنے کے ارادے سے نام نہاد "پرانے راستے” کے ساتھ بنایا جو شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف جاتا ہے ۔
    ہمایوں کو پہلے شیر شاہ سوری نے چوسا میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا تھا ، لیکن اسے خدشہ تھا کہ اگر ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو ہمایوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے ۔  شیر شاہ سوری کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل کو سزا دینا اور شکست دینا تھا جو وادی کا کنٹرول رکھتے تھے اور مغلوں کے روایتی حلیف تھے۔

    قلعہ کا نام شاہ آباد ضلع کے روٹاس گڑھ کے گڑھ سے لیا گیا ہے جسے شیر شاہ سوری نے 1539 میں ایک ہندو شہزادے سے قبضہ میں لیا تھا۔ قلعے پر کام اس کے وزیر محصولات توڑ مال کھتری کی نگرانی میں 1541 میں شروع ہوا۔  تاہم ، گکروں کی مقامی آبادی دیہاڑی دار کے طور پر  کام کرنے کو تیار نہیں تھی، اور پھر تعمیر تیزی سے رک گئی۔  ٹوڈر مال کھتری نے شیر شاہ سوری کو ان مشکلات کے بارے میں لکھا اور بادشاہ نے جواب دیا کہ ان کی حکومت تعمیر کے اخراجات کے لیے کوئی بھی اخراجات برداشت کرے گی۔  اس حوصلہ افزائی کے ساتھ ، ٹوڈر مال کھتری اجرت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کئی گکروں کو رینک توڑنے اور تعمیراتی کوششوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔  اگرچہ تعمیر کے دوران روزانہ کی تنخواہ کئی بار کم کی گئی تھی ، لیکن پھر بھی شیر شاہ سوری کے قلعے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی تھا۔

    قلعے کی ترتیب تقریباتکون سی ہے اور چار کلومیٹر کی دیواروں ، 68 گڑھوں اور تقریبا a ایک درجن بڑے دروازوں پر مشتمل ہے۔  قلعے کے شمال مغربی کونے کو باقی قلعے سے 530 میٹر لمبی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ قلعہ کا علاقہ قائم کرتا ہے جو کہ بہت زیادہ قلعہ بند تھا۔  اس میں شاہی مسجد اور حویلی مان سنگھ (قلعہ کے اندر سب سے اونچی جگہ پر تعمیر) سمیت کئی بقیہ تعمیراتی آثار بھی شامل ہیں۔  یہ سٹیپ ویلز (باؤلی) سے بھی لیس ہے حالانکہ یہ قلعے کے زیادہ سے زیادہ علاقے میں جنوب مشرق میں بھی پائے جاتے ہیں۔

    قلعے کی دیواریں موٹائی میں مختلف  ہیں اور شمالی فریم پر موری گیٹ کے قریب زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہیں جبکہ ان کی اونچائی 10 سے 18.3 میٹر تک  ہے۔  بنیادی تعمیراتی مواد سینڈ اسٹون کورس ملبے کی چنائی تھی جس میں چونے کے ساتھ دانے دار اینٹوں کے پاؤڈر ملا ہوا تھا۔  دروازے بہت مضبوط ایشلر چنائی سے بنائے گئے ہیں۔  بہت سی جگہوں پر دیواروں میں والٹڈ چیمبرز ہوتے ہیں جو اسٹوریج اور دیگر سامان کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جن کی ضرورت تقریبا 30،000 فوجیوں کو تھی جو وہاں تعینات کیے جا سکتے تھے۔

    شیر شاہ سوری قلعہ مکمل طور پر مکمل ہونے سے پہلے ہی مر گیا اور جب ہمایوں پنجاب پر حکومت کرنے کے لیے واپس آئے تو قلعے کا بنیادی مقصد بے کار ہو گیا۔ ایک بڑی ستم ظریفی ، یہ قلعہ پھر گکروں کا دارالحکومت بن گیا-جن لوگوں کو شیر شاہ سوری نے زیر کرنا تھا۔ اگرچہ قلعہ اس وقت سے مغلوں کے کنٹرول میں تھا اس کے بعد یہ شہنشاہوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا کیونکہ اس میں باغات اور دیگر عظیم الشان فن تعمیر کا فقدان تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ یہ اب ایک فوجی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ گکر مستحکم مغل اتحادی رہے۔ قلعے کی ریمائیلائزیشن صرف مغلوں کے ختم ہوتے سالوں میں شروع ہوئی جب سکھ شہنشاہ راجیت سنگھ نے پنجاب کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ایک حوصلہ افزا جنرل گورمک سنگھ لمبا نے 1825 میں گکھڑ کے سردار نور خان سے قلعہ پر قبضہ کر لیا ، اور یہ بعد میں سردار موہر سنگھ کے حوالے کر دیا گیا اور بعد میں دوسروں کو لیز پر دے دیا گیا۔ قلعہ کا آخری فوجی استعمال اس وقت ہوا جب راجہ فضل دین خان نے شیر سنگھ کو بغاوت میں شامل کیا ، حالانکہ قلعے پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔

  • قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا

    قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا

    قومی کرکٹر محمد حفیظ ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کرکٹر محمد حفیظ گزشتہ ہفتے گیسٹرو وائرل کی وجہ سے فوڈ پوائزنگ کا شکار ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ اسلام آباد سے لاہور واپس آگئے اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کا پہلا مرحلہ نہ کھیل سکے۔

    محمد حفیظ نے لاہور پہنچ کر اپنے تمام ٹیسٹ کرائے جس میں انہیں ڈینگی بخار کی تشخیص ہوئی محمد حفیظ کے دو روز قبل پلیٹلیٹس خاصے کم بھی ہوئے تاہم اب ان کے پلیٹلیٹس بہتر ہورہے ہیں اور ان کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    اس سے قبل خبر آئی تھی کہ محمد حفیظ فوڈ پوازننگ کی وجہ سے راولپنڈی میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شریک نہیں ہو رہے۔

    دوسری جانب ڈینگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی تحریک التواء مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی راحت افزاء کی جانب سے جمع کرائی گئی، تحریک التوا کے متن میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی نااہلی کے سبب لاہور سمیت صوبہ بھر میں ڈینگی کیسسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    شہباز شریف نے دن رات ایک کرکے شہریوں کو اس موضی مرض سے بچایا تھا۔حکومت کی نالائقی کے باعث ڈینگی کے وار جاری ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے ڈینگی کے 90 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ روز لاہور سے ڈینگی کے 81 مریض رپورٹ ہوئے رواں سال پنجاب بھر سے اب تک ڈینگی کے 1,082 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں

    ڈینگی کا زور، پنجاب اسمبلی میں بڑا مطالبہ کر دیا گیا

    رواں سال اب تک لاہور سے ڈینگی کے 905 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں -صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 75 مریض داخل ہیں۔ لاہور کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 54 مریض داخل ہیں۔

    جو کہ حکومت کی بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حکومت صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔ ڈینگی کے پھیلاؤ سے عوام میں شدید تشویش اور غمِ و غصہ پایا جاتا ہے۔ڈینگی کے خلاف صرف زبانی مہم کی بجائے عملی کام کیا جائے اور شہریوں کو ڈینگی سے بچایا جائے-

    ویکسینیشن کے لئے حکمت عملی سخت کرنے کا فیصلہ

  • دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    اسلامی نظام سے مراد دنیا میں ایک ایسی عظيم نظام جس میں صرف اور صرف اللہ کے حکم  اور نبی کریمﷺ کے بتاۓ ہوۓ طریقوں سے بننی ہو اور ساتھ ساتھ غلط کاموں پر سزا بھی وہی مختص ہو جو اللہ اور رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہو۔ آج کل کی دنیا میں جب بھی کوٸی بدفعلی ، غلط کام کرے تو فورا ہمارے لبوں پر یہی ایک جملہ آتا ہے کہ کاش دنیا/ملک میں السلامی نظام نافذ ہو تاکہ کوٸی بھی ایسے غلط کام نہ کر سکے اور کرے بھی تو اُس کو وہی سزا دی جاۓ جو عبرت کا نشان بننے اور دوسروں میں ایسے غلط کام کرنے کی جرت تک نہ ہو۔ 

    وارڈو میٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں دنیا کی کل آبادی 7.9 ارب ہیں جس میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 1.9 ارب ہے تو ظاہر ہے کہ کفار ہم سے زیادہ ہیں  ہم مسلمان آج کی دور میں کیوں بے بس ہیں ان کفاروں کے آگۓ کیوں ہمارے مسلمان بھاٸیوں پر ظلم و بربریت ہو رہا ہے (کشمیر ، فلسطين وغیرہ)؟۔

    "اکثر ہمارے ذہنوں میں یہی آرہا ہے کہ کفار زیادہ ہیں اور ہم کم ہیں اس لیے ہم انکے سامنے بے بس ہیں”

    نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے تو کیوں؟

    کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان وہ جذبہ نہیں ہے جو  313 مسلمانوں کے اندر تھا نے جنگ بدر میں کفار کے ایک ہزار لشکر کو شکست دی تھی۔ اور اسطرح سے ہمیشہ کم تعداد میں ہی مسلمانوں نے فتح حاصل کی ہے کیونکہ جو اکیلا ہوتا ہے اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ حضرت خالید بن ولید (عظيم سپہ سالار تھے جن کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے "سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا ) کے بارے میں آتا ہے کہ جس جنگ میں بھی جاتے تھے تو فتح یاب لوٹتے تھے وہ ہمیشہ کفاروں کو مردہ (جو اللہﷻ کا زکر نہیں کرتے ہیں) سمجھتے تھے (اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ کے سامنے زندہ ہے اور اللہ کا ذکر نہ  کرنے والا اللہ کے سامنے مردہ ہے) کفار حیران تھے کہ یہ کیوں اتنا طاقتور ہیں ان پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے پینے کے اشیإ اور جنگ سامان بھی بہت کم ۔ اور ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہرطرح کی طاقت ہے لیکن انہیں کیا معلوم کے اصلی طاقت تو ایمان کا ہوتا ہے جن کے دل میں اللہ اور رسولﷺ کی فرمانبداری چھا جاۓ تو پوری دنیا کی طاقت بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے  انکی ایمان مضبوط تھی۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی تابع تھے آج ہماری بے بسی کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے ایمان کمزور ہیں آج کی دور میں لوگ پیسہ، گاڑی ، اچھی نوکر اور عمدہ گھر کو طاقت سمجھتے ہیں اصلی طاقت ایمان کا ہوتا ہے کہتے ہے نا ” جب پیٹ بھر جاۓ تو اللہ کو بھول جاتے ہیں” آج ہم دنیاوی زندگی کے پیچھے مصروف ہیں آخرت کی زندگی کا کوٸی سوچتا بھی نہیں ہے ہماری اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے دنیاوی زندگی محض ایک مختصر وقت ہے۔ 

    سوشل میڈیا ہر صبح  اچھی اچھی پوسٹوں سے بھرا رہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا میں پکے مسلمان ہیں اصلی زندگی میں نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اگر اتنے پکے اور سچ مسلمان سوشل میڈیا پر ہیں؟ تو یہ مساجد کیوں ترس رہے ہیں نمازیوں کے لیے یہ مظلوم کیوں ترس رہے ہیں انصاف کے لیے وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم محض دوسروں کے لیے اچھے پوسٹ لگاتے ہیں اور خود عمل کرنے سے قاصر ہیں۔

    اب اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں آپنے اندر اسلامی نظام لانا ہوگا جب ہم آپنی اس چھ  فٹ جسم پر السلامی طور طریقے اپناٸینگے تو اسلامی نظام ہمارے اندر خود بخود نافذ ہوگی اور یوں یہ السلامی نظام ہم سے ہمارے گھر پھر سارے دنیا کو متاثر کرے گی بالاآخر دنیا میں اگر اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو یہ طریقہ آپنا ہوگا ورنہ صرف لبوں اورذہنوں پر رکھنے سے نہیں ہوگا۔

    یہ میرا پہلا آرٹیکل ہے پڑھے اور فیڈ بیک ضرور دیجیۓ گا۔

  • آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

    ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

    آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

    اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

    بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

    یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

    گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

    ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

    لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

  • بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    لہجے کو ذرا دیکھ جوان ہے کہ نہیں ہے
    بالوں کی سفیدی کو بڑھاپا نہیں کہتے

    ایک سوال اکثر ہمارے اذہان میں ابھرتا ہے کہ آخر بڑے شخص کی تعریف کیا ہونی چاہیے بڑے شخص سے کیا مراد ہے۔؟ ایک صاحب جاہ و ثروت بھی بڑا شخص ہو سکتا ہے، ایک عالی دماغ فلسفی بھی بڑا شخص مانا جا سکتا ہے، ایک نازک خیال شاعر،ایک عالم متبحر،ایک کامل سیاستدان ،یہ سب بڑے شخص ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن در حقیقت جسے بڑا شخص مانا اور سمجھا جاتا ہے وہ،وہ ہے جو اپنے افکار سےدلوں میں ولولہ ،دماغوں میں جلا اور خیالات میں انقلاب پیدا کر دے قوم کو تاریکی کی دلدل سے نکال کر اجالے میں لے آئے پستی و ذلالت سے موڑ کر اس راستے پر لے آئے جسے "صراط مستقیم”کہا جاتا ہے۔

    دیگر بڑے لوگوں کی طرح خلقِ خدا اور خصوصا کشمیریوں کی یہی خدمت "سید علی گیلانی”نے "آزادی کا نعرہ”بلند کر کے انجام دی۔انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے بنائے ہوئے خوف کے بت کو توڑا۔غلامی کے خیالاتِ باطلہ کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اذہان کو ایک مکمل آزادی سے روشناس کروانے کا بیڑا اٹھایا۔یہ انقلاب محترم سید علی گیلانی نے اپنے حیاتِ آفرین خیالات سے برپا کیا۔

    قیام پاکستان اور بانیء پاکستان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبصہ کر لیا بھارتی حکام ریاست جموں کشمیر کا آزادی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے انھون نے کشمیر کی اس تاریک زمین پر مہتاب کو چمکنے سے روک دیا لیکن وہ اس حقیقت کو پسِ پشت ڈال چکے تھے کہ تاریکیاں اور اندھیرے جتنے گہرے ہوتے ہیں آخر ایک روز چھٹ جایا کرتے ہیں۔ہر شب کے بعد سحر قدرت کا حکم ازل ہے۔ کبھی مٹھی کے طاقچے میں روشنی کو قید نہیں کیا جاسکتا۔لیکن پھر بھی وہ اپنے پراگندہ عزائم کی پرورش میں مصروف رہے۔اقوامِ متحدہ اور پوری دنیا کے سامنے کیے ہوئے وعدوں سے مکر گئے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے نابلد تھے کہ خدا نے اس مظلوم قوم کی آہیں سن لی ہیں ان پر قبولیت کی مہر ثبت کر دی ہے۔اور جموں کشمیر کو سید علی گیلانی کی صورت(29ستمبر 1929ء) ایک ایسا بیٹا عطا کیا جو اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑے گا۔

    جموں کشمیر کے سیاسی رہنما جن کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا۔اپنے تعلیمی دورانیے میں جب وہ اورینٹل کالج لاہور آئےتو اس وقت جماعت اسلامی کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور پھر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹے تو باقاعدہ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی جماعت کے چوٹی کے رہنماووں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔

    آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جماعت اسلامی میں ممبری کے ساتھ معروف عالمی فورم”رابطہ عالم اسلامی”کے بھی رکن رہے۔گیلانی یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلی کشمیری جانباز تھے۔فکرِ حریت کی شمع جلانے والے یہ عظیم محسن کشمیریوں کے اذہان کو آزادی کی جانب متوجہ کرنے والے ایک متحرک اور سرگرم رکن تھے جنھوں نے ہمیشہ بھارتی حکام اور افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آزادی کا نعرہ لگایا کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ کشمیریوں کا مضبوط بازو بنے اور جدوجہد آزادی کے لیے”تحریک آزادی”کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا جسے آگے چل کر بہت شہرت ملی اور یہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    آزادی اور جدوجہد کے اس استعارے کو بھارت سرکار نے خریدنے کی بارہا کوشش کی ہر اوچھا ہتھکنڈا عمل میں لایا گیا ہر حربہ آزمایا گیا مگر یہ بہادر ٹس سے مس نہ ہوئے اور ڈٹے رہے۔دباؤ جس قدر بڑھتا گیا گیلانی کا جزبہ حریت پختہ اور مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔

    سید علی گیلانی کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جب وہ اپنے لیے ایک پرسکون اور مراعات پسند زندگی کا انتخاب کر سکتے تھے اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ سکتے تھے لیکن آپ نے اپنی ذات پر کشمیریوں کی آزادی کو ترجیح دی اور ڈنکے کی چوٹ پر کشمیریوں کے حق کے لیے ڈٹے رہے۔پوری زندگی بھارتی مظالم اور ریاستی جبر کے سامنے سینہ سپر رہے لیکن کبھی جھکے نہیں بھارتیوں کو یہ باور کروا دیا کہ اس سپوت کا تعلق اس نبی کی امت سے ہے جو جام شہادت تو بخوشی پی لیتی ہے،سر تو کٹا سکتی لیکن سر جھکاتی نہیں۔ جیتے ہیں تو شان اور آن سے اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو دنیا والے ان پر رشک کرتے ہیں۔

    سید علی گیلانی، اقبال کی مردِ مومن کی تمام صفات اپنے اندر لیے ہوئے تھے۔ اقبال کے اس مرد مومن نے زندگی کی نوے بہاریں دیکھیں جن میں بیشتر حصہ کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے ،آزادی کی پہچان کروانے،مقدمے بھگتنے،جیلیں کاٹنے اور نظر بندیوں کا سامنا کرتے گزارا لیکن پھر بھی آزادی کے مطالبے سے منہ نہ موڑا۔ غلامی کی زندگی کو توہینِ زندگی قرار دیتے رہے اور اس ظالم سامراج سے ٹکر کی جس کی ظلم وبربریت کے پیشِ نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پسپا ہو سکتا ہے اس سب کے باوجود حریت پسند رہنما آزادی کے جذبے سے سرشار تھے ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی اور ہمیشہ اس نعرے کی صدا لگاتے رہے۔

    "اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے،اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے”

    یہ دین اسلام سے محبت اور جذباتی لگاو تھا اور ان کا یہ جملہ ان کے ملت اسلامیہ کے تصور کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔
    ہمت ،جرات،شجاعت اورعزم واستقلال کا پیکر،جدوجہد کااستعارہ،بابائے آزادی سید علی گیلانی کشمیریوں کو روتا چھوڑ اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے۔وفا و اخلاص کا یہ پیکر آزادی کی تڑپ لے کر اس دنیا میں آئے اور لمحہء آخری تک اس تگ ودو میں مصروف رہے۔خود تو چلے گئے لیکن کشمیریوں کو آزادی کا شعور اور آدرش دے گئے جو قابض حکمرانوں کو کبھی چین کی نیند سونے نہ دے گا۔۔۔۔جب تک مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے آزادی کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سید علی گیلانی کی آواز بھی کانوں کو سنائی دے گی۔

    آپ کی کاوشوں، جدوجہد،اور عمل پیہم کو ہر پاکستانی کا سلام!
    خداتعالی آپ کی لحد پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرے(آمین)

    @IrfanSOfficial

  • ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم عمران خان کی زیادہ توجہ اس وقت ان ملکی مسائل پر ہے جو کئی دہائیوں سے توجہ طلب ہے بڑھتی ہوئی آبادی مانگ میں اضافہ اس وقت توانائی کی کمی میں اہم مسئلہ ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنائیں گے اور اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے ہنگامی بنیاوں پر دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز کروایا.

    جس وقت وزیراعظم عمران خان ان ڈیمز کے کام آغاز کروایا انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کے بارے میں مزید کہا کے اس سے ہمارے توانائی کے وسائل میں اضافہ ہوگا.اور ہمیں توانائی کے حصول میں آنے والی مشکلات کم ہونگی.

    وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آج ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ 4500 میگاواٹ ہائیڈل پاور پیدا کرے گا اور کم از کم 16 ہزار ملازمتیں فراہم کرے گا انشءاللہ.

    وزیر اعظم نے بھی اپنے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ حکومت "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کی طرف جا رہی ہے۔

    "یہ ہمارا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ چین نے تقریبا 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے ہیں ، لیکن چین میں ان کے اب تک کُل اسی ہزار ڈیم ہیں۔ اس سے آپ کو پتہ چلتا ہے کے آپ اس ڈور میں کہاں ہیں اور ابھی آپ کو اس سیکٹر میں کتنی محنت کی ضرورت ہے.

    اس کام کی کی تعمیر کرنے کا فیصلہ پانچ دہائیاں پہلے لیا گیا تھا۔ ڈیم بنانے کے لیے یہ سب سے بہترین جگہ ہے اور اس کا انتخاب چار سے پانچ دہائیاں پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ، اور آج اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ ہی ہے ہماری ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ۔ ”

    سوچنے کی بات ہے اگر ہم توانائی حاصل کرتے ہیں دوسرے ممالک سے تو ہمارا زرمبادلہ کا ایک اہم حصہ ہیں کے حصول میں صرف ہوتا ہیں جب کے ہم ملکی وسائل کا سہی وقت پے استعمال کرتے اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر رکھتے تو آج توانائی میں خود کفیل ہوتے لیکن اس ضرورت کو صحیح وقت پے سمجھا ہی نہ گیا اور پانچ دہائیاں تک ملک میں اس طرح کے اہم منصوبوں پر کام شروع ہی نہ ھوا.
    وزیراعظم عمران خان نے مزید بتایا کہ حکومت اب دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے کی طرف بڑھے گی جس سے زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوگا اور پاکستان کو اپنا ایندھن خود پیدا کرنے کی اجازت ملے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل یا کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ "فوائد دوہرے ہیں۔ ہمیں توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والی اشیاء دوسرے ملکوں سے لینا نہیں پڑے گا .

    عمران نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ”

    بڑھتے ہوئے توانائی کی کمی کے مسائل کو کم کرے گا انشاء اللہ.

    اور انشاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ ڈیم گلگت اور بلتستان کے لوگوں بالخصوص چلاس میں رہنے والوں کی قسمت بدل دے گا۔

    90 کی دہائی میں درآمد شدہ فرنس آئل کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے فیصلوں نے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو متاثر کیا۔

    انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو اسے 20 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا ، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہے۔
    ایک اہم بات جو ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے مہنگائی کا ہم سب رونا روتے ہیں اور اس کی اصل وجوہات کی طرف ہم نہں آتے.

    پاکستان میں توانائی کے مسائل کی وجہ سے ہمیں توانائی کے حصول کے لیے دوسرے ممالک سے خرید کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ زر مبادلہ باہر چلا جاتا ہے اور اسے ہمارے روپے کی ويلو میں کمی آتی ہے اور اس آپکی ملک کے اندر ہر چیز کی قمیت خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور
    اس سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    حقیقت میں صحیح معنوں میں پاکستان کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہں دی گئی اگر بڑھتی ہوئی آبادی کا صحیح تہمینہ لگایا جاتا اور اس حساب سے ضرورت زندگی کی پیداواری صلاحیت کو مدد نظر رکھا اور بر وقت ملکی وسائل کو صحیح استعمال میں لایا جاتا تو آج ملک اس طرح کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا پاکستان اس طرح شدید قسم کے توانائی کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا اور مہنگائی بھی اس طرح عروج پے نہ ہوتی.

    Twitter handle
    @aworrior888

  • مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور پہلو مایوسی، ناامیدی بن چکا ہے اس درخت کی اتنی جڑیں پھیل چکی ہیں کہ ہر طبقہ ہاے زندگی میں اس کی شاخیں موجود ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں تک مردوں سے لیکر عورتوں تک عوام سے لیکر خواص تک حکمران سے لیکر رعایا تک سر سے لیکر پاوں تک فرد سے لیکر خاندان تک گھر سے لیکر کاروبار تک ہر جگہ مایوسی کے بادل چھاے ہوے ہیں. نوجوان اپنے مستقبل اور کیرئر کے بارے میں ناامید نوکری کاروبار ملازمت معاش زندگی سب کے بارے کمزور کھوکھلی باتیں کرتا نظر آتا ہے. ریڑھی بان سے پوچھو یا نان بائ سے مزدور سے پوچھو یا مستری سے بزنس مین سے پوچھو یا دہاڑی دار سے ایم این اے سے پوچھو یا اس کی رعایا سے اے سی میں بیٹھنے والے سے پوچھو یا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ہر کسی کی زبان پر ملک پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں مایوس، غیرمہذب، کمزور، معیوب جملے ملیں گے.

    جب ہر کسی کی یہی حالت ہو تو سب ایک ہی تلاب میں نہانے والے نظر آتے ہیں تو امید و رجاء کی کرن کہاں سے پیدا ہو گی ، اور یہ تو عین فطرت ہے جو سوچ و افکار میں آتا ہے گمان و خیال میں جنم لیتا ہے وہی عین الیقین اور حق الیقین بنتا ہے یعنی وہی کچھ ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے . میری قوم کے اجتماعی جملے اور چند مایوس کن بول . ستر سال میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا آگے کیا کریگا ایک دہائ سے کشمیر آزاد نہیں ہوا اب تو آزاد ہو گا ہی نہیں کیونکہ پاکستان ان کےلیے کچھ نہیں کرتا اب تک مہنگائ میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ ستر سال میں ترقی نہیں کی تو آگے بھی امکان نہیں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ پاکستان دنیا میں دہشت گرد ملک ہے
    دنیا میں تنہا ملک ہے کوئ ساتھ نہیں ہے پاک فوج دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر لڑ سکتی تو کشمیر آزاد کیوں نہیں کراتی پڑھائ کر کے کیا کرنا جب نوکری رشوت اور سفارش سے ملتی ہے پاکستانی قوم دنیا میں بدنام ہے کوئ ٹیلنٹ نہیں ہے سب ادارے تباہ ہوگے ہیں خسارے میں ہیں پاکستان آئ ایم ایف ورلڈ بینک کا غلام ہے یہود و نصاری کی ایجنٹ حکومت ہے پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہی نہیں یہ اسلام کےلیے نہیں بنا اس کو بنانے والا بھی مسلمان نہیں تھا مایوسی کا شور ہے منافقین کا دور ہے .معاملات کبھی حل نہیں ہوں گے .جھگڑے ہمیشہ رہیں گے اولاد کبھی نہیں سدھرے گی .مسلہ کا حل طلاق ہی ہے کاروبار تو اب ہو ہی نہیں سکتا معیشت کمزور ہو رہی ہے امریکہ ، روس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا کوئ فائدہ نہیں ہوا .اور کئ قسم کے جملے .

    ھکذا تاکہ تحریر لمبی نہ ہو .مایوسی پیدا ہونے کے اسباب : لوگوں کے حالات دیکھ کر خود ناامید ہو جانا میڈیا سے منفی پروپگنڈے سے متاثر جانا تجربات میں ناکامی پر مستقل مایوس ہو جانا امتحان میں نا کامی یا تھوڑے نمبر پر معاشی مسائل کی مسلسل کمزوری کی بنا پر ناامید کاروبار میں بہتر منافع نہ ہونے پر ناامید بچوں کی بگڑتی صورت حال پر نا امید ہونا مایوس لوگوں کی صحبت اور مجلسیں ناکام لوگوں کے تذکرے ناکام.اور مایوس کن باتوں اور موضوعات میں دلچسپی یقینی کیفیت کا فقدان میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں کمزوری ظاہری مادی اسباب پر یقین اور اعتماد وغیرھم کثیرہ

    اس دیمک سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے قرآن کا سہارا لیں اور اپنے رب کا سہارا لیں سب سے بڑا سہارا ہمارا اللہ ہے اور یقین اور امید اللہ کی ذات ہے اس دلدل سے کیسے نکلا جاے .لا تقنطوا من رحمة الله اللہ کی رحمت جو ہر کسی کو شامل حال ہے اس سے کائنات کی کوئ چیز اور مخلوق بھی بعید نہیں ہے الا کہ کفر کرنے والا انسان بھی اللہ کی اس رحمت کی چھتری کے نیچے ہے کہ وہ اپنی نافرانی اور شراکت کو دیکھنے کے باوجود اور شدید غیض و غضب رکھنے کے باوجود بھی رزق و روٹی کی عنایت جاری رکھتا ہے اور گناہوں کے پہاڑوں کو ذرے بنا کر مٹا دیتا ہے یہاں اس آیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گناہ سے معافی مانگنے میں مایوس نہیں ہونا چاھیے یہ کامل مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کے کرنے پانے حصول پر اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاھیے .

    مایوسی کفر ہے.
    ولا تائسو من روح اللہ انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون .
    یہ آیت واضح پیغام ہے کہ اسلام میں مایوسی ہے ہی نہیں اور جو مسلمان اور مومن ہے اس میں یہ چیز پیدا ہی نہیں ہوتی . اگر ماہوسی پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لیں ہمارا اسلام اور ایمان کمزور ہے اس کو بہتر کرنا چاھیے .
    گویا یہ بات سمجھ آئ مایوسی و الے جملے کفریہ جملے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں .
    یقین والوں کی صحبت .
    لا تصاحب الا مومنا
    مومن تو کامل یقین والا ہوتا ہے اس کی صحبت ناامیدی کو دور کرتی ہے .
    فضولیات اور مسموعات کو کان نہ دینا .
    کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع .
    محنت اور کوشش پر یقین اور اللہ پر توکل .
    وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری .
    ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
    کامیاب لوگوں کو پڑھنا اور تاریخ ماضی میں سب سے کامیاب لوگ انبیاء تھے اور وہ یقین کا منبع و مظھر تھے .
    لقد کان گی قصصھم عبرة لاولي الألباب
    صبر کا دامن نہ چھوڑنا .
    بے صبری بداعتمادی پیدا کرتی ہے اور بے یقینی مایوسی پیدا کرتی ہے بعض اوقات اللہ کے فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں لیکن ذرا فاصلے پر ہوتے ہیں اس فاصلے کو طے کرنے کا صبر توکل و یقین سے ہو سکتا ہے اور مستقل مزاجی سے ہو سکتا ہے .
    فاصبر ان وعد اللہ حق
    سلامتی بہت پیار
    تحریر لمبی ہے لیکن وقت ضائع نہیں جاے گا .

    @Amanullah6064

  • انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم !

    ٧٠ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن انڈیا نے اپنی سوچ کو زرا برابر بھی وسیع نہیں کیا ،انڈیا جو ایک طرف خود کو جمہوریت پسند ملک سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسی انڈیا میں آئے روز اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان کی زبان بندی کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہا ہے ،کبھی بابری مسجد کے معاملے پر تو کبھی گجرات میں مسلمانوں کی بستیاں جلانے کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں ،سمجھوتا ایکسپریس کا واقعہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کی نا ختم ہونے والی داستانیں انڈین پنجاب کے سکھوں پر مظالم ہوں یا اپنے ہندو دھرم کے نیچ طبقے پر جاری مظالم ہوں لیکن سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دنیا انڈیا کے ان مظالم پر بلکل خاموش تماشائ بنی نظر آتی ہے ،کسی مسلم ملک میں اگر خدانخواستہ اقلیت کے بندے سے کسی ذاتی اختلاف پر ،ذاتی دشمنی کی بناء پر دو محلے دار یا دوست آپس میں بھی زرا سے لڑجائیں تو اس مسلم ملک کے خلاف پوری دنیا اکٹھی کھڑی نظر آتی ہے اور سب کو انسانی حقوق کا خیال آجاتا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم وستم پر عالمی دنیا کو نا انسانی حقوق نظر آتے ہیں اور نا ہی کوئ ظلم وستم نظر آتا ہے ،کشمیر میں انڈین مظالم کی سب سے بڑی مثال تو یہی کافی ہے کہ وہاں پر انڈیا نے اپنی ٧ لاکھ سے ذیادہ فوج بھیج رکھی ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ انڈیا کس طرح کے مظالم ڈھارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ،کبھی ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو کبھی ان کے جوان بیٹے،بھائ ،باپ اور شوہر سرعام اذیت دے کر قتل کردیئے جاتے ہیں باقی انڈیا میں تو جب سے مودی کی حکومت آئ ہے تب سے ہر جگہ مسلمانوں پر قیامت برپا کر رکھی ہے ،کہیں قانون نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی ،راہ چلتے مسلمانوں کو بے وجہ ڈنڈا بردار لوگ تشدد کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ان کی آہ و پکار سننے والا کوئ نہیں ہوتا ،مسلمان لڑکیوں کو زبردستی مذھب تبدیل کروانے کی مہم بھی مودی کی سرپرستی میں جاری ہے اور یہ باتیں یہ مظالم دنیا میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عالمی دنیا ستو پی کر سورہی ہے ایسے واقعات کا ١% بھی پاکستان یا دنیا کے کسی ایک مسلم ملک میں ایسا کوئ واقعہ نظر آجائے تو اسے دنیا اس طرح بڑھا چڑھاکر پیش کرتی ہے کہ جیسے یہ مسلم ملک ہی دنیا میں سب سے ذیادہ ظالم ہے باقی ساری دنیا پارسا ہے 

    عالمی دنیا کو اب یہ منافقت چھوڑنی پڑے گی اور انڈین مظالم کے خلاف دنیا کو آگے آنا پڑے گا تاکہ مسلمان چاہے کسی بھی ملک میں ہو وہ بھی انسان ،ان مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دینے پڑیں گے جو دنیا میں کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھنے والے فرد کے لئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اب دنیا کو سختی کرنی چاہیے ورنہ اگر ہر طرف مسلمانوں پر اسی طرح ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا تو یقین کریں  اس کے عالمی دنیا سمیت تمام ممالک پر اور خاص طور پر انسانیت کے بات کرنے والوں پر بڑے گہرے اثرات پڑنے ہیں اور دنیا کسی اور خانہ جنگی طرف چل پڑے گی جس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑسکتا ہے ،اس لئے عالمی دنیا انڈیا کے نا صرف ہاتھ روکے بلکہ انڈیا پر سخت قوانین اور پابندیاں لاگو کی جائیں تاکہ انڈیا جیسے بدمست ہاتھی کو زرا سی لگام ڈالی جاسکے اور مسلمانوں کی نظر میں   عالمی دنیا اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکے ورنہ حالات جس طرف جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے بھیانک ہوتے جائیں گے 

    ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    @MajeedMahar4 

  • کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    سیاست کی دنیا میں آج کا دوست کل کے لئے دشمن بن جاتے ہیں۔

    ہر ریاست قومی مفادات پر ترجیح اور دوستی رکھتی ہے۔

    اور اس کے محل وقوع کے نظر سے بھی بین الاقوامی تعلقات اور نظریات کے لحاظ سے بھی لین دین اور تجارت وغیرہ کرتے ہیں۔

    طالبان نے بھی چائنا کے ساتھ دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا اور وہ اس لئے طالبان بھی یہ جان چکے ہیں اگر دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط اور تجارت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    چائنا بھی آج کل اقتصادی سطح پر سپر پاور ابھر ہے۔

    دوسری طرف چائنا نے بھی طالبان کے ساتھ سی پیک کو سنٹرل ایشیاء تک لانا ہے اور اپنے اشیاء کو دنیا تک رسائی کا عزم رکھا ہے۔کیونکہ آج کل جنگ اقتصادی جنگ شروع ہو چکا ہے۔

    چائنا بھی چاہتا ہے کہ بھارت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو معاشیات کی نظر میں شکست دے۔

    روس بھی اس بار طالبان کے نئی حکومت کو تسلیم کرے گا کیونکہ روس بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ دنیا پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے رہے۔

    وسطی ایشیا ریاستیں 1991 تک سوویت یونین کے ماتحت رہے۔

    سنٹرل ایشیا ممالک کے ساتھ روس اور طالبان دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت کے ساتھ نئی دوستی شروع کرے اور اپنے تجارت وغیرہ آگے بڑھائیں۔

    کابل فتح سے پہلے روس کی پشت پناہی مدد کرتے تھے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے اپنا بدلہ لے۔

    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اوپر اور نیچے ہوتے ارہے ہے 

    لیکن اس بار پاکستان طالبان حکومت کے ساتھ بھائی چارہ کی طرح آگے بڑھاے گا کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ریاستوں کے درمیان آمدورفت بہت زیادہ ہیں۔

    چمن بارڈر اور طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ تجارت بھی بہت زیادہ ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان اگست 1965 میں اپنا تجارتی معاہدہ بھی ہوا تھا۔

    اور دونوں کی محل وقوع ایشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں دونوں ریاستیں ایک کے بنا رہنے میں ناممکن ہے۔

    کیونکہ دونوں ریاستیں شادیاں وغیرہ بھی کی ہے۔

    لہذا پاکستان طالبان کی حمایت ضرور کریں گے۔

    ترکی بھی ایک اسلامی ملک ہے۔

    ترکی بھی خواہشات رکھتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔

    ترکی نے انخلا میں اہم رول ادا کیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنا سفارت خانہ بھی کھولا رکھا اور ترکی کے افواج انخلا میں کابل ائرپورٹ پر بھی ڈیوٹی سرانجام دی۔

    ترکی چاہتا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کام کرے۔

    سنٹرل ایشیا کے بنا افغانستان اور وسطی ایشیا ممالک ادھورا ہے۔

    وہ اس لئے افغانستان اور ازبکستان کے درمیان بارڈر ہے۔

    آگے یہ سنٹرل ایشیا ریاستیں کی محل وقوع جڑے ہوئے ہیں۔

    افغانستان بھی چاہتا ہے کہ وسطی ایشیا ممالک کے ساتھ تجارت کرے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے گیس۔صحت تعلیم ہسپتال اور روڈ وغیرہ بنانا ضروری ہے۔

    ایک ریاست دوسرے ریاست کے ساتھ ( MOU ) ہونا ضروری ہے۔

    چائنا۔اور پاکستان چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیا ریاستوں کے ساتھ سی پیک cpec پہنچ جائے افغانستان کے ذریعے۔

    لہذا چائنا پاکستان ترکی روس وغیرہ سب ممالک افغانستان کے نئے طالبان حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھے گا لیکن ہر ریاست قومی مفادات اور وقت کے ساتھ طالبان حکومت کو تسلیم کریں گے ان شاء اللہ

    Twitter Handle @waheedkhan59