Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے،

    اگرچہ پی ٹی آئ نے پورے ملک میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں،

    مگر پنجاب میں اسے شدید دھچکہ لگا ہے۔

    یہاں پر نواز لیگ سیٹوں کے لحاظ سے آگے ہے۔

    راولپنڈی،ملتان اور لاہور میں بھی 

    پی ٹی آئ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اگرچہ خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میں نتائج اچھے رہے،

    جس کے باعث مجموعی برتری تو 

    پی ٹی آئ کو ملی مگر پنجاب میں شکست بہت زیادہ الارمنگ ہے۔

    اسکے آئندہ انتخابات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئ کے لئے مرکز میں حکومت بنانا پنجاب میں کامیابی سے مشروط ہو گا۔

    عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی واجبی سی کارکردگی کی جھلک ان انتخابات میں بھی نظر آئ۔

    بُزدار پر ہر طرف سے تنقید کے باوجود کپتان کا اعتماد اُس پر قائم ہے۔

    یہی اندھا اعتمادکپتان کی اننگز کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    عمران خان کو حقیقی بنیادوں پر بُزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،

    وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود اسی طرح نواز لیگ پھرجیت گئی،

    جس طرح کئی ضمنی انتخابات میں اس نے پی ٹی آئ کو ہرا کر اپنے میدان میں ہونے کا ثبوت دیا۔

    نہ تو ان ضمنی انتخابات کی شکستوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی کنٹونمنٹ الیکشن کی پنجاب میں اس ہار  سے سبق سیکھنے کی کوئ امید ہے۔

    وجہ اسکی یہ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد بھی کچھ خوشامدیوں کا حصار ہے،

    جو ہر تباہی کے بعد خود ساختہ دلائل سے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔

    موجودہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپنی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جو سب سے بڑالولی پاپ دیا جا رہا ہے،

    وہ یہ ہے کہ اچھی خاصی تعداد میں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی ہمارے ہیں۔

    یہ بات انتہائ مضحکہ خیز ہے،

    اس بات میں کوئ دم نہیں،

    کیونکہ یہ لوگ اگر پی ٹی آئ کے تھے تو پی ٹی آئ کے ٹکٹ پر کیوں نہیں جیتے؟

    اگر انکا تعلق پی ٹی آئ سے تھا تو انکو ٹکٹ کیوں نہیں دئیے گئے؟

    یہ بھی ایک طرح سے پی ٹی آئ کے کرتا دھرتا افراد کی نااہلی ہے۔

    مطلب یہ ہوا کہ زمہ دارلوگ ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم میں بھی ناکام رہے؟

    ٹکٹوں کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ تقسیم ماضی میں بھی اکثر پی ٹی آئ کی کامیابیوں کے آڑے آتی رہی ہےہے۔

    عمران خان کو ٹکٹ تقسیم کرنے والے افراد کے محاسبے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

    انتخابی نتائج کو ان افراد کی کارکردگی کا معیار بنایا جاۓ۔

    انہیں اس فارمولے کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہ دی جاۓ کہ آزاد بھی ہمارے ہیں۔

    اگر آزاد تمہارے ہیں تو تم کس کے ہو؟

    کیا تم لوگ عمران خان کے بجاۓ کسی اور کے لئے کام کر رہے ہو،

    جو تمہارے ٹکٹ یافتہ ہار جاتے ہیں اور جنہیں تم ٹکٹ نہیں دیتے،

    وہ جیت جاتے ہیں،

    کیوں ؟

    کیا یہ نااہلی نہیں ہے؟

    کیا یہ کپتان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے برابر نہیں ہے؟

    اس ناقص کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو بہت سے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی اپنے اپنے علاقوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں،

    ان لوگوں کے عام آدمی سے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    ن لیگی دور کی طرح پی ٹی آئ کے ان زمہ داران کے رابطے علاقہ میں اپنے ان خاص ٹاؤٹوں سے ہیں،

    جو اپنی غلط کاریوں اور مال بناؤمہم سے نام کپتان کا بدنام کر رہے ہیں۔

    انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگ خان کے نظریے سے دور ہوجائیں گے،

    انہیں اگر مطلب ہے تو اپنی اپنی دیہاڑیوں سے،

    جو وہ خوب کھری کر رہے ہیں۔

    عمران خان کو اپنے ان ریلو کٹے ٹائپ وزرا اور مشرا کی گردنوں میں آیا ہوا سریا نکال کے عوام میں بھیجنا ہو گا،

    جو ٹیگ کئے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

    عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات،

    یہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتے،

    سوشل میڈیا ٹیمیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنا سر دیوار سے ٹکرا کر انہیں مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،

    مگر یہ ایسے ہی ثابت ہوتا ہے،

    جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

    ابھی نور مقدم کیس کو ہی لے لیں۔اس کیس میں جو بربریت ہوئ،

    اُس پر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز پر ٹرینڈز کئے جا رہے ہیں،

    مگر حکومتی نمائندگان مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں،

    حالانکہ نور مقدم کا بیہمانہ قتل ایک انسانی المیہ ہے،

    جس پر متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی حکومت وقت کا فرض ہے۔

    جب تک حکومتی نمائندےعوام میں جا کر اپنے کلف والے کپڑے خراب نہیں کریں گے،

    اس وقت تک پی ٹی آئ وہ زور نہیں پکڑ پاۓ گی،

    جس کی اُسےاگلے عام انتخابات میں فتح کے لئے ضرورت ہے۔

    اب آجاتے ہیں اُس بڑی وجہ کی طرف جو ہر موقع پر پی ٹی آئ کی کارکردگی کو گہنا رہی ہے۔

    وہ ہے مہنگائ۔

    یہ مہنگائ جینوئن ہے،

    خود ساختہ ہے یا مافیاز کے کچھ حربوں کی بدولت۔

    اس مہنگائ کے دفاع میں کم ازکم میرے پاس کوئ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

    ہم تھک گئے ہیں لوگوں کو طفل تسلیاں دیتے ہوۓ۔

    اب لوگ مزید لوریاں سُننے کو تیار نہیں ہیں،

    وہ ہر لحاظ سے اس مہنگائ کی کمر پر حکومت کی طرف سے لگائ جانے والی ضرب کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

    مہنگائ کے ستاۓ لوگوں میں اب مزید خواہ مخواہ کی تسلیاں سننے کی سکت نہیں رہی۔

    مزید جھوٹی تسلیاں لوگوں کو پی ٹی آئ سے دور اور ن لیگ اور پی پی جیسے مافیاز کے نزدیک کرنے کا باعث بنیں گی۔حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔

    لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا،

    مہنگائ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

    اب انہیں کسی قسم کا نیا لولی پاپ دینے کے بجاۓ مہنگائ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کے انتخابی معرکوں میں پی ٹی آئ اور کپتان کی سوچ سُرخرو ہو سکے۔

    اگر مہنگائ کے خاتمے اور کرپٹ افراد سے لوٹی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات نہ کئے جا سکے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی نحوستوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

    لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں خوب آتا ہے،

    انکی اب بھی کوشش ہے کہ مہنگائ کی اس موجودہ لہر کو کیش کروا کے اپنے دہائیوں کے گناہ اور کرپشن معاف کرواکر لوٹ مار کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکے۔

    عوام مہنگائ کے ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود عمران خان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،

    مگر اس ساتھ کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ سیر حاصل کرنا ہو گا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    جواز اور دلیل دی جاتی ہے کہ عوام ٹک ٹاکرز کو پسند کرتی ہے ۔۔ اس لیے حکومت بھی ٹک ٹاکرز کو سراہتی ہے ۔۔۔

    عوام کی ایک کثیر تعداد مجرے بھی پسند کرتی ہے تماش بینی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے عوام کی ایک کثیر تعداد چرس بھی بہت پسند کرتی ہے ۔ کھول دیں بازار ۔۔؟؟ عوام کا اتنا خیال ہے تو عوام کو جو پسند ہے سب کھول دیں پھر پابندیاں قوانین اخلاقیات کا کیا لینا دینا ہمارے معاشرے سے۔۔؟؟ جب ہم نے یہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ جو جتنا مشہور ہے اتنا قابلِ عزت ہے تو پھر مجرے کرنے والیوں کو کنجر کہنا بند کریں وہ سٹیج پر ناچتی ہیں اور آج کل کی جدید طوائفیں موبائل سکرین پر عوام کا من و رنجن کرتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کیوں کہ سٹیج پر ناچنے والی کنجر طوائف نا جانے کیا کیا اور ٹک ٹاک پر ناچنے والی سٹار سلیبرٹی انفلووینسر ۔۔؟

    جب ایسے لوگوں کو عزت و وقار اور شہرت ملتے کم عمر بچے دیکھتے ہیں تو وہ ان کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں کہ مجھے بھی بڑے ہو کر یہی بننا ہے اور یہی سب کرنا ہے ۔ معزرت میں زرا دقیانوسی خیالات کا مالک ہوں ٹک ٹاک پر ناچنے کو ماڈرن کوٹھا سمجھتا ہوں اور ناچنے والوں کو اداکار فنکار نہیں بلکہ کنجر سمجھتا ہوں ۔ اپنی آنے والی نسل کی فکر کریں جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کی پیدائش ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زمانے کو کروٹ بدلتے دیکھا اس لیے کچھ تربیت اثر کر گئی تو کچھ اخلاقیات کے دائرے میں خود کو قید رکھا ۔ ورنہ شہرت کون سا مشکل کام ہے ؟ صرف ایک سکینڈل کی مار ہے یہ شہرت آج کہیں منہ کالا کرائیں کل پورے ملک میں مشہور ۔۔

    ہمیں تربیت ملی کہ بیٹا ذلت کی شہرت سے عزت کی گمنامی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کیجیے کہ چند سالوں میں زمانہ ایسا بدلا کہ اس بات سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی وجہہِ شہرت کیا ہے ۔ بس مشہور ہیں یہی کافی ہے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا ۔؟؟ یہ جن ناچنے والیوں کو ہم آج سٹار سلیبرٹی رول ماڈلز اینفلونسر کہتے ہیں انہیں چند سال پہلے لکھنئو اور لاہور کے بازارِ حسن میں طوائفیں کہا جاتا تھا۔ اب تو بس نام ہونا چاہئیے پھر آپ سٹار بھی ہیں سیلبرٹی ہیں اور اداکار فنکار بھی ۔۔

    بد قسمتی سے ایسے لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں ۔ اور اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نئی نسل بھگتے گی ۔۔ ہم کتابیں پڑھتے بڑے ہوئے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ استادوں کی اخلاقیات والدین کی تربیت نے زندگی کا مقصد بنایا اچھا انسان اور باوقار شہری بننا ہے ۔ آج کے والدین پر بھی حیرت ہے جن کی عقل پر پردے پڑے ہیں اور وہ اس فہاشی و عریانی کو نیا دور سمجھ کر قبول کر بیٹھے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ماشااللہ اللہ نے بچے کو بہت عزت دی ہے۔ اور کیوں نہیں جب حکومت بھی ایسے لوگوں کو سراہے گی میڈیا بھی مارنگ شوز میں بلائے گا تو پھر عزت شہرت تو ہو گئی نا ۔۔

    اپنی آنے والے نسل کی تباہی و بربادی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔ شکوہ نا کیجیے گا ہمیں کوئی بتانے سمجھانے یا بولنے والا نا تھا کیونکہ میں اپنا فرض پوری طرح نبھا رہا ہوں اور اس جدید دور میں بھی فیشن اور فہاشی کا فرق عوام کو بتا کر کر گالیاں کھا رہا ہوں ۔۔ خیر وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ یہی سوچ کر ۔۔ "شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

    Twitter @zohaibofficialk

  • آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    زندگی کو پُرسکون بنانے کے چَکر میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ موت نے بھی ایک دن آنا ہے وہ زندگی کا ساماں کرتے کرتے آخرت کا رونماں ہونا بھول جاتا ہے زندگی میں روشنیاں بکھیرتے بکھیرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مجھے آخروی زندگی کی روشنیاں کیسے حاصل کرنی ہیں ۔انسان پہلے تو کھیل کود میں پھر لطفِ زندگی میں وقت گزار دیتا ہے پھر اُسکو خیال آتا ہے محنت کرکے وہ اپنی زندگی کے آخری دن آرام دہ بنائے ۔

    زندگی کو بہتر بنانے کی تک ودو میں وہ آخرت بہتر بنانے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہے کوئی نہیں جانتا کون سی سانس آخری ہو دنیا کا سب ساماں اِدھر ہی رہ جانا ہے اپنی زندگی میں روشنیاں بھرنے کے چکر میں کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اندھیرے بکھیر رہے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھول جاتے ہیں الّللہ پاک انصاف کرنے والا ہے اور وہ ایک ایک زیادتی کا حساب لینے والا ہے قیامت کا دن مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی سب اللّلہ کے سامنے جواب دہ ہونگے ۔ 

    اگر ہم اپنی زندگی میں دوسروں کی زندگی میں روشنیاں بکھیریں گے تو ہماری آخرت اور ہماری قبر اندھیری نہیں روشنی سے بھری ہوگی۔ ایک انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا سب ساماں کر لیتا ہے پھر جیسے ہی وہ سب پا لیتا ہے اسکو موت آ گھیرتی ہے ساری زندگی وہ اسلیے تھکا کہ میں اپنی زندگی بہترین بنا سکوں مثال قائم کردوں مگر اختتام پہ وہ سب اسکو نصیب ہی نہ ہو پھر کیا ملا اسکو ؟ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں یہی وجہ ہے جب ہم سے ہمارا کوئی اپنا پیارا بچھڑ جائے تو ہم بہت سے سوالوں میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ کاش ایسے ہوتا ویسے ہوتا ۔ ہمارا ذہن یہ قبول نہیں کر پاتا کہ وہ انسان بچھڑ گیا کیونکہ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں ہوتا کہ ایک دن سب نے بچھڑ جانا ہے ۔ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا ۔پر بات وہی ہے ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں اس زندگی کو کیسے گزارنا ہے کیا کرنا ہے یہی سوچتے ہیں ۔ بہت سے خواب بناتے ہیں اور ان خوابوں کی تکمیل کے چکر میں نہ ہم کو اپنا ہوش ہوتا ہے نہ اپنوں کا ۔ بس زندگی کی دوڑ میں بھاگتے جارہے ہوتے ہیں ۔لوگ اتنا کچھ سامان جمع کر لیتے ہیں میں سوچتی ہوں کیا ہم مرنا نہیں ہے ؟ کیا ہمارا حساب نہیں ہونا؟ زندگی بھی گزاریں اور چھوٹے چھوٹے خوابوں کے ساتھ جئیں ۔ خود بھی ایسے جئیں کہ دماغ میں یہ بات موجود ہو کہ ناں جانے کونسی رات آخری ہو ہر وقت خود کو تیار رکھیں اس زندگی کو بھی گزاریں پر آخرت کا ساماں بھی تیار رکھیں ۔ کیونکہ یہ جائیدادیں بنگلے پیسہ گاڑیاں یہ سب آپکے ساتھ نہیں جانا ۔ بلکہ آپکے اعمال نامہ نے جانا ہے اپنے اعمال بہتر بنائیں ۔ کسی کو دکھ نہ دیں کسی کی بدعا نہ لیں کسی بے گناہ کو نہ ستائیں ۔ کسی کی خوشیاں نہ چھینیں دھوکا اور جھوٹ سے پرہیز کریں۔ سب برائیوں سے بچیں ۔ اللّلہ پاک اور اسکی مخلوق کو جائز طریقہ سے راضی رکھیں ۔اللّلہ پاک سب کو زندگی دی اور ہر چرند پرند انسان کو موت کا ذائقہ چکنا ہے موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا رونما ہونا ہے یہ اللّلہ پاک بہتر جانتے ہیں ۔ اللّلہ پاک سَزا وجَزا کا فیصلہ کرنے والا ہے کیا بویا ہمیں وہی کاٹنا پڑے گا ۔ انصاف کا ترازو ہوگا وہاں !! دنیا نہیں جدھر بے گناہ کے پلے بھی سزائیں ڈال دی جاتی ہیں ۔ پُل صراط وہ راہ ہے جو مشکل نہیں پر اسکے لیے ہمارے اعمال اچھے ہونے ضروری ہیں ۔اللّلہ پاک بخشنے والا ہے اس میں کوئی شک نہیں پر انسان کو بھی چاہیے وہ اپنے اعمال بہتر بنائے اور آخرت کی فکر کرے اپنی زندگی میں ہی آخرت کا ساماں کرلیں ۔خوش رہیں خوشیاں بانٹیں بس کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں ۔ کیونکہ اللّلہ پاک اپنے بندوں کے ایک ایک بہتے آنسو کا حساب رکھتا ہے ۔ 
    @Hu__rt7

  • پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دن با دن پاکستان گرم ترین ممالک میں شامل ہوتا جارہا۔ کیا اپنے کبھی غور کیا اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ اتنی گرمی کی شدت کہیں نا کہیں ہماری اپنی غلطی ہے کبھی سوچا ہے کیا ہے وہ غلطی۔ ہم آئے روز درخت اور پیڑوں کو کاٹتے جارہے ہیں جس سے گرمی میں اضافہ ہورہا ہے جس کا سبب صرف ہم ہی ہیں۔

    ہمارے ملک میں چند سال قبل گرمی کی شدت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتی تھی اور اب اس ملک میں 55 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

    چند سال میں 10 سینٹی گریڈ زیادہ گرمی ریکارڈ ہوئی ہے وہ بھی ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ اس ملک میں شجرکاری کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم لوگ ایسے ہیں درخت کاٹ تو سکتے ہیں فائدے کے لیے لیکن بدقسمتی سے ہم لگاتے نہیں ہے۔

    ملک میں ایسی بہت سے تنظیمیں ہیں جو اج بھی شجرکاری مہم کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ پاکستان Global Warming سے بچ سکیں۔ تمباکو نوشی سے ہماری فضا میں آلودگی آتی ہے اور پھر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیکٹریوں سے آلودہ پانی اور گیس ہوا میں جذب ہوجاتا ہے اور پھر گرمی کی شدت میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے۔

    پاکستان وہ ملک ہے جہاں درخت ہی وہ واحد حل ہے جس سے اپنے ملک کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرسکتے ہیں۔

    زمینین بنجر پڑی ہیں، دریا خالی ہوگئے ہیں جس سے ہمارے ہاں گرمی کا سورج آگ بھڑکاتا ہے۔

    اگر ہمیں گرمی سے خود کو بچانا ہے تو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

    1: گھر کے اندر رہنا اور دھوپ اور انتہائی درجہ حرارت کی نمائش سے گریز کرنا۔

    2: گھر کی سب سے نچلی منزل پر رہنا۔ پیاس نہ لگنے پر بھی کافی مقدار میں پانی پینا۔

    3: ایسے مشروبات سے پرہیز کریں جن میں کیفین شامل ہو۔ ہلکا کھانا کھانا اور بہت زیادہ نمک سے پرہیز کرنا۔

    4: بیرونی کھیلوں کے ایونٹس کو ملتوی کرنا۔ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں کے اندر تنہا نہ چھوڑیں۔

    5: ڈھیلے ڈھالے ، ہلکے وزن اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا جو کہ جلد کا زیادہ تر حصہ ڈھانپ لیتے ہیں۔

    6: چہرے کی حفاظت کے لیے اسکارف یا چوڑی چوٹی والی ٹوپی پہننا۔

    7: سخت کام سے گریز کریں اور دن کے گرم ترین حصے میں کام کرتے وقت بار بار وقفے لیں۔ 

    اگر ہم ان چند چیزوں کا خیال رکھیں گے تو ہم خود کو اور اپنی نسل کو گرمی اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، یہ وہ اہم ترین نقطے ہیں جس کا ہمیں ہمیشہ ہر موسم گرما میں خیال رکھنا چاہے۔

    پاکستان کا سب سے گرم شہر جو کہ سندھ صوبے میں ہے "جیکب آباد” وہ شہر کا نام ہے۔ وہاں ہر سال سخت ترین گرمی پڑتی ہے۔ یہ شہر سندھ اور بلوچستان کے نزدیک ہے۔ پاکستان اور ایشیا کا سب سے گرم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ گرمی فضائی آلودگی اور پانی کی آلودگی اور گیسز کی آلودگی ہر چیز ہمیں اور ہماری نسلوں کو برباد کرنے میں کارآمد ثابت ہورہے ہیں. ہمیں اپنی نسلوں کے لیے اب اٹھ کھڑے ہونا ہوگا کیوں کہ اگر مستقبل محفوظ کرنا ہے بچوں کا تو اس آلودگی سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں ہی تکلیف ہوگی اگئے چل کر تو اس سے قبل ہمیں ایسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔

    انشاءاللہ ایسا وقت بھی آئے گا جس دن پاکستان آلودگی اور ہیٹ ویو سے پاک ہوجائے گا اور پاکستان باقی ملکوں کی طرح ٹھنڈا ملک بن جائے گا جہاں لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا نا زندگیوں کو نا ہی جان کو۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں درخت، پودے لگانے ہونگے اور زہریلی گیس فضا میں پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا اور ہمیں پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کا عزم کرنا ہوگا جس سے پاکستان کا دنیا میں مثبت پیغام جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس ملک میں باہر سے آئیں اور پیارے پاکستان کی سیر کریں۔

    اللہ پاک پاکستان پر اور یہاں کے لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرماتے رہیں اور اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد

    @JaanbazHaseeb

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09

  • خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خود کشی ایک حرام فعل ہے، ایسا قبیح فعل جس میں انسان غیر قدرتی طریقے سے اپنی جان لے لیتا ہے اور خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ یے، جبکہ خواتین میں خودکشی کی شرح کم ہے۔  مردوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے اور خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان کم ہو کر  تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیاب سمجھے جانے والے لوگ بھی خودکشی کرتے ہیں جن میں شاعر، اداکار، ادیب، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کرنے والا چاہے جتنا بھی اچھا انسان ہو اس کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ خودکشی کی موت خاندان اور خودکشی کرنے والے سے منسلک ہر شخص پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ لوگ خاندان والوں کا دکھ درد سمجھنے کی بجائے عجیب رویہ اپناتے ہیں، کھوج میں لگ جاتے ہیں۔ خاندان کے لوگ بھی خود کشی کی وجوہات ہر بات نہیں کرنا چاہتے،  خود کشی کو حادثاتی موت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ اس لئے خودکشی کی روک تھام کے لیے اس حد تک آگاہی نہیں ہوپاتی جتنی ضرورت ہے۔
    خودکشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی اور خود سے مایوس ہو جاتے ہیں انہیں سب کچھ بے مقصد لگتا ہے۔ زندگی سے کوئی امید باقی نہیں رہتی۔  لوگ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ لوگ غربت، معاشی مسائل، بےروزگاری، خود اعتمادی کا فقدان، احساس کمتری، وجود کا بحران، تعلیم میں ناکامی، ذہنی دباؤ، زہنی الجھنیں، ٹینشن، کاروبار، محبت میں ناکامی اور کئی معمولی وجوہات کی بنا پر بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
    پچھتاوا بھی خودکشی کی وجہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو کر بھی لوگ خود کشی کر لیتے ہیں۔
    ڈپریشن خودکشی کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ہے۔ ڈپریشن میں منفی خیالات دماغ پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن میں خودکشی کے خیالات متواتر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنہائی، ذہنی دباؤ، پریشانی وغیرہ خودکشی کی سر فہرست وجوہات میں سے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ خود بہ خود ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنے متعلق ذہنی بیماریوں کا کسی کو نہیں بتاتے۔ اپنی تکالیف کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ دماغی بیماریوں کو شرمندگی اور ندامت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معمولی نوعیت کی بیماریاں جو تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ٹھیک ہو سکتی تھی وہ پیچیدگیی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ڈیپریشن کے مرض کی ابتدا ہی سے اس کے علاج کے لئے سدباب کیا جائے تو یہ علاج کے زریعے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اور  بات خودکشی تک پہنچے ہی نہ۔ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیے ذرائع کافی محدود ہیں۔
    مذہب سے دوری خودکشی کی اہم وجہ ہے۔ اگر لوگ مذہب کے مطابق زندگی بسر کریں،تو وہ خود کو خودکشی سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام امن وامان، برداشت، درگزر اور امن سلامتی کا درس دیتا ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اور اپنی جان لینا نعمت کو ضائع کرنا اور اللہ کی خوشنودی سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔
    خود کشی کی روک تھام
    بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مثبت رویہ اپنائیں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ۔ کسی کے ساتھ برا رویہ نہ رکھیں ۔کبھی کسی کو ایسے کلمات  نہ کہیں جو کسی کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتے ہوں۔ خود پر بھی توجہ دیں اگر آپ کے دماغ میں منفی خیالات آتے ہیں تو حتی الامکان ان سے بچنے کی کوشش کریں اور ان سے چھٹکارہ پائیں۔ بے جا سوچوں کو دماغ میں جگہ نہ دیں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ خود کو وقت دیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے آپ کا ، ہم سب کا اس پر حق ہے۔ ناامیدی کفر ہے۔ غربت، پریشانی، نامسائد حالاتِ اللّٰہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف دائمی نہیں ہوتی۔ جیسے بھی حالات ہوں آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔  برداشت اور تحمل مزاجی کو اپنائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ زہنی دباؤ کا مقابلہ کریں۔ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگانے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کریں۔ اچھے کام کریں، دوسروں کے کام آئیں۔ با مقصد زندگی گزاریں۔ نیکی کے کام کریں اور انہیں پھیلائیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت کریں، یقینا اس میں دلوں کا سکون ہے۔
    اپنے جذبات و احساسات اپنے سے قریبی لوگوں کے سے شیئر کریں۔ ان پر اعتبار کریں۔ خود  کو پہچانیں اور خود کو موت کے حوالے کرنے کے بجائے زندگی کی طرف قدم بڑھائیں
    متوازن سوچ کے ساتھ کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، اگر کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا توجہ کا مستحق ہے تو اسے وقت دیں۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لائیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
    حکومت کو چاہیے کہ ذہنی امراض کے علاج معالجے کے لئے ہسپتال اور کاونسلنگ مراکز  قائم کریں۔ ذہنی امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز  کی رقوم مختص کریں۔ ذہنی اور دماغی امراضِ کے علاج کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی ذہنی بیماری ہے تو لازما ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل علاج کروائیں۔
    کوئی بھی خودکشی کرے تو اس کے قاتل اس کے اردگرد بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا قاتل پورا معاشرہ ہوتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کی خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں ہر ممکن حد تک خودکشی سے بچاؤ کی تدابیر کرنا ہوں گی، تاکہ ہم بہت سی جانوں کو حرام طریقے سے لقمہ اجل بننے سے بچا سکیں۔

    @FarooqZPTI

  • قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    ایک دفعہ کا ذکر ہے 

    میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

    @joinwsharif7

  • پاکستان کا موجودہ نظام تحریر: محمد عمران خان

    وقت نے ثابت کر دیا کہ کرپٹ نظام کو جب تک جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا پاکستان مصائب کی دلدل سے نہیں نکل پائے گا۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ آج تک اپنا نجات دہندہ آئین پاکستان کے حقیقی نفاذ کے بجائے کرپٹ عناصر میں ہی تلاش کر رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ عوام قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، بھتہ مافیا، قبضہ مافیا اور کرپشن کے شہنشاہوں میں ہی اپنا مسیحا تلاش کرنے پر بضد ہے۔ عوام کی بیوقوفی کا یہ عالم ہے کہ مسئلہ کشمیر پہ سالہاسال سے نعروں اور درحقیقت کشمیر کیس کو کمزور سے کمزور ترین کر دینے والے کرپشن کے دلدادہ سرمایہ دار وڈیرے حکمرانوں سے ابھی تک امیدِ خیر لگائے بیٹھے ہیں جن کا بزنس، جائیداد اولاد سب تو بیرون ملک ہیں بس کرپشن کا بازار گرم رکھنے کیلئے اقتدار کے ایوانوں پہ قابض رہنا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے نہتے پر امن شہریوں تک پہ ظلم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتے اُن سے کیسے امید رکھی جا سکتی ہے کہ کشمیر میں بلکتے بچوں، تار تار چادر لیے سسکتی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد کوئی خاص اہمیت رکھتی ہو گی۔ بینظیر، نواز شریف، مشرف، زرداری، عمران کے ادوار کو ہی لے لیں کوئی ایک حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سے ہٹ کے عوامی مسائل کا سوچا ہو۔ ایسے میں اگر کسی نے آئین کے حقوق کی پُر امن آواز بلند کی، بزور کچلنے کیلئے ریاستی محافظوں کو ہی دہشتگرد بنا کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ماڈل ٹاؤن ہو یا انقلاب مارچ کیلئے نکلنے والے پُر امن قافلوں کا احوال یا 30، 31 اگست 2014 کی درمیانی رات ہر جگہ بربریت کی اِک نئی داستان رقم کی گئی۔ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، پریزیڈنٹ ہاؤس اور اردگرد کی عمارتوں کے درو دیوار گواہ ہیں کہ کس طرح اقتدار کے نشے میں بدمست نواز شریف اینڈ کمپنی نے ماڈل ٹاؤن میں ناحق قتل ہونے والے چودہ معصوم لوگوں کا انصاف مانگنے والے پُرامن ہزار ہا مرد و زن کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے سڑکوں پہ نشان عبرت بنا کر فرعون، نمرود، یزید تک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی جیسے فرعون نمرود یزید رہتی دنیا کیلئے نشان عبرت بن گئے ویسے ہی سلاخوں کے پیچھے وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کرنے والے سابقہ حکمرانوں کیلئے کڑی سزا لکھی جا چکی ہے۔ اسی دنیا میں وہ آنے والوں کیلئے نشان عبرت بنیں گے۔

    اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو وہاں بھی بھیانک قسم کے کھیل دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طرح بے دردی سے پاکستان کی عزت و آبرو اور وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے۔ قیام پاکستان سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قدم مضبوطی سے جما کر سیاست دانوں سمیت دیگر ملکی اداروں کے اختیارات میں ناجائز طریقے سے مداخلت شروع کردی۔ نتیجتاً ملکی ادارے اتنے کمزور ہوگئے کہ ان کو یا تو گروی رکھوا کر قرض لے لیا گیا یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیے گئے۔ جس ملک کے ادارے کسی دوسرے ملک کے پاس گروی ہوں اس ملک کا عالمی برادری میں کیا وقار رہ جاتا ہے؟

    اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی افسران و ججز کو زمینیں الاٹ کی جاتی رہیں جو آج ایک روایت بن چکی ہے۔ قانوناً ہر ادارے کے ملازمین برابر حقوق رکھتے ہیں مگر یہ انفرادیت صرف اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں رکھ کر ملک کا خوب دیوالیہ نکالا ہے۔ 

    میرے وطن عزیز میں بسنے والے پیارے پاکستانی ہمیشہ سے سبز باغ دکھانے والوں کی مکاریوں کے جھانسے میں آکر لٹتے رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم نسل در نسل اسٹیبلشمنٹ کے غلام بن گئے ہیں۔ اب چاہتے ہوئے بھی موجودہ فرسودہ، استحصالی، کرپٹ، دھن، دھونس اور بدمعاشی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنا ممکن نظر نہیں آتا

  • تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی   تحریر: احسان الحق

    تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی تحریر: احسان الحق

    سورہ الشمس میں اللہ رب العالمین نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا. اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی کامیابی کی تعریف ہماری تعریف سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی تعریف بھی بتا دی اور کامیابی حاصل کرنے کے 3 اصول بھی واضح طور پر سمجھا دیئے ہیں. ہمارے خیال میں دنیا کی ترقی ہی کامیابی ہے. دنیا میں کامیابی دنیاوی لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ دنیا میں سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست ہے مگر حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے اعمال صالحہ کرتے کرتے فوت ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم سے نجات دی اور اسکو جنت میں داخل کر دیا، ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے.

    اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے قرآن مجید میں تین اصول ارشاد فرمائے ہیں. پہلا اصول "تذکیہ نفس” مطلب نفس کو پاک کرنا. حقیقی کامیابی کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ کہ جس انسان نے اپنے نفس کا تذکیہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک اور طاہر بنا لیا اور خود کو گناہوں سے بچا لیا، وہ شخص کامیاب ہے.

    "تذکیہ” کا لغوی معنی ہے کہ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنا اور دوسرا مطلب زکوٰة سے ملتا ہے جس کا مطلب پاک کرنا اور "بڑھانا” ہے. جیسے زکوٰة دینے سے آپ کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسرا اس مال میں برکت حاصل ہوتی ہے، گویا تذکیہ نفس کا مطلب ہوا کہ اپنے باطن اور نفس کو گناہوں سے پاک کرنا، معافی طلب کرتے ہوئے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی نیکیوں اور اجروثواب میں اضافہ کرنا. ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دے دیتے ہیں اور جنت میں داخل فرما دیتے ہیں. جس شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور اس کو جنت کا داخلہ مل جائے وہی شخص کامیاب ہے. اللہ رب العزت جس شخص کے بارے میں فیصلہ فرما دیں کہ اس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا ہے، وہی شخص حقیقی فلاح اور کامیابی پانے والا ہے.

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا. آپ رسولﷺ نے فرمایا کہ میری ساری امت کی تمام عافیت، بہتری، فلاح اور برتری پہلے دور میں ہے مطلب "ابتدائی خلفائے راشدین کا دور”. بعد کا دور بدعات اور فتنوں کا دور ہے. آپ لوگ ایسے ایسے کام دیکھیں گے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہونگے. لوگ عبادت سمجھتے ہوئے ان فتنوں اور بدعات کو قبول کر لیں گے. آپ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر سوچیں گے کہ یہ کام نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں، پھر بھی لوگ اس کام کو نیکی اور باعث اجروثواب سمجھ کر کر رہے ہونگے. اس وقت فتنوں کے دور میں، جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے اور جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے تو اس بندے کو جب موت آئے تو عقیدہ توحید اور عقیدہ سنت پر موت آئے مطلب آخر تک عین اسلام پر ڈٹا رہے، آخرت پر اس کا پورا یقین ہو، اعمال صالحہ کرتے ہوئے اس کو موت آ لے تو ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کا مطلب ہے پرفتن دور میں ہر شخص اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے اور صحیح اسلام پر ڈٹا رہے.

    .

    قرآن مجید میں بیان کردہ کامیابی کے 3 اصولوں میں پہلا اصول "تذکیہ نفس” ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور جتنا بڑا گناہ اتنا بڑا اور گہرا دھبہ ہوتا ہے. گناہ کرنے سے انسان کا نفس اور باطن مجروح اور سیاہ ہو جاتا ہے اور تذکیہ نفس یا نفس کی پاکیزگی سے اس گناہ کی سیاہی اور گندگی صاف ہوتی ہے. گناہ کی سب سے بھیانک سزا یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے گناہ کرتا جاتا ہے. گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کو توبہ اور تذکیہ نفس کر لینا چاہئے ورنہ ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے.

    انسان کے مسلسل گناہوں کی وجہ سے اس کے دل پر سیاہ دھبے لگتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں. کسی انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور اس بندے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جائیں تو پھر کوئی بھی اس بندے کو نیکی کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں کر سکتا ہے.

    رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق "اگر آسمان کے سارے فرشتے آ جائیں، زمین میں مدفن تمام مردوں کو زندہ کر دیا جائے، دنیا میں موجود ہر چیز کو اللہ رب العالمین کی طرف سے زبان دے دی جائے، ریت کے تمام ذرات اور پتوں سمیت ہر چیز کو بولنے کی طاقت دے دی جائے اور وہ سب مل کر اس مہر زدہ بندے کو نیکی کی طرف نہیں بلا سکتے.

    انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ اس کا یوم محشر حساب ہو، انسان اپنے ضمیر کا معائنہ و محاسبہ کرتے ہوئے تذکیہ نفس کرے اور تمام گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مستفید ہو اور حقیقی کامیابی کی سند لے.

    صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک بار رسولﷺ تشریف لاتے ہیں اور صحابہ کرامؓ سامنے بیٹھے تھے اور آپ رسولﷺ نے ایک سوال کیا کہ "آپ میں سے کوئی اپنے گھر جائے اور کسی اجنبی کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا دیکھے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟”

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فوراً بولے کہ میں تلوار کی دھار سے اس آدمی کا سر اس کے ڈھڑ سے جدا کر دونگا. جواب سن کر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے کہ سعد کی غیرت کو دیکھو، اس کو بالکل گوارا نہیں کہ کوئی غیر بندہ اس کے گھر میں داخل ہو. اسی طرح اللہ رب العزت کو بھی یہ بات پسند نہیں کہ میرا بندہ میرے علاوہ کسی کی عبادت کرے یا مدد طلب کرے. رسولﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں سب سے بڑا باغیرت اور باحیا ہوں اور اللہ مجھ سے بڑے باحیا اور باغیرت ہیں”. اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت غیرت بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت مخلوق کی غیرت سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے.

    جناب رسولﷺ فرماتے ہیں کہ میری پوری امت معافی کی مستحق ہے مگر وہ لوگ مستحق نہیں جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں یا تنہائی میں گناہ کرنے کے بعد خود لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں اور فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں کام (گناہ) میں نے کیا. بندے نے تنہائی میں گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال کر اس بندے کو شرمندگی سے بچا لیا مگر اس بدبخت نے لوگوں میں خود ہی اپنا گناہ بیان کر دیا. یہ دونوں قسم کے بندے بخشش کے لائق نہیں.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے کچھ لوگ آخرت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے لیکن ان تمام نیکیوں کا ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا. یہ وہ لوگ ہیں جو تنہائی میں گناہ کرتے ہیں اور محفل میں بڑے متقی اور پرہیزگار ہیں.

    "ایک مومن بندہ شیطان کو تھکا دیتا ہے ایسے جیسے تم لوگ مسلسل سفر کرنے کے بعد تھک جاتے ہو”. اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے مومن بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر الٰہی کے ہر ورد یا کلمے پر شیطان کی پیٹھ پر کوڑا لگتا ہے. حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ سب سے زیادہ جس ذکر سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے وہ "لا اله الا الله” ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی کامیابی عطا فرمائیں اور تذکیہ نفس کی توفیق دیں.

    @mian_ihsaa

  • نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر  تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک کے شور میں حقیقت کہاں دفن ہو جاتی ہے اس کے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں کوئی جوش و خروش سے مبارک دیتا ہے تو کوئی اسے غیر اسلامی کہہ کر تنقید و فتوے جاری کرتا ہے

    مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری دونوں طریقہ پر سال و ماہ  کا حساب رکھا جا سکتا ہے اس کا حوالہ سورہ رحمان میں ہے 

    الشمس والقمر بحسبان

    "سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں ” یعنی ان کا سائز، لوکیشن وغیرہ کے ساتھ انکی حرکت کی رفتار اور سمت ایک طے شدہ حسابی فارمولا سے ہے اسی فارمولا کے تحت انکی کسی طے شدہ وقت پر کسی جگہ موجودگی کا بالکل صحیح تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اسی وجہ سے ان سے ماہ و سال کا صحیح ترین حساب بھی کیا جا سکتا ہے

    جیسے اصحاب کہف کا عرصہ خواب قرآن میں ہے ا300 سال اور 9 مزید ۔ یہ بڑا مختلف سٹائل ہے بتانے کا۔ لیکن اس کا ایک خاص مقصد و مطلب ہے شمسی  حساب سے دراصل 300 شمسی سال 309 قمری سال  کے برابر ہوتے ہیں جیسے ایک شمسی سال 365.2422 دن کا ہوتا ہے جبکہ ایک قمری سال 354.367 دن کا ہوتا ہے

    اب شمسی سال کو 300 اور قمری سال کو 309 سے ضرب دیں تو دونوں کا حاصل ضرب برابر آتا ہے

    مگر یہاں معاملہ شمسی سال جسے عیسوی سال کہتے ہیں یا قمری سال جسے اسلامی سال کہتے ہیں کی تعداد یا گنتی کا ہے جس کی بنیاد پر نئے سال کی مبارک کا غلغلہ اٹھتا ہے 

    جنوری فروری وغیرہ عیسوی مہینوں کے اپنے نام نہیں بلکہ یہ نام تو گریگورین کیلنڈر سے یونانی دیوی دیوتاؤں کے نام پر پہلے سے چلے آ رہے تھے سال کی شمسی گردش کو 12 پر تقسیم کر کے یہ نام رکھے گئے تھے 

    چونکہ سینٹ پال نے جلا وطنی کے کئی سال یونان میں گزارے اسلئے وہ نا صرف وہاں کے بت پرستوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر ہوا جہاں سورج دیوتا، سورج کا بیٹا اور سورج کی بیگم صاحبہ کی خدائی کا تصور تھا اس پر قسطنطین نامی بادشاہ نے جس نے عیسائیت قبول کر لی تھی اور اس کی ترویج کا فیصلہ کیا تھا انہی مہینوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا

    لیکن اگر یہ سن عیسوی پر منطبق کریں بھی تو عیسائی 25 دسمبر کو عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش مانتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بائبل اور قرآن سے غلط ثابت ہوتی ہے تاہم اس بحث میں پڑے بغیر بھی اگر دیکھیں تو  پھر عیسوی سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہے تو یہ سال 25 دسمبر پر ختم اور شروع ہونا چاہئے جو کہ نہیں ہے 2017 سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہو تو وہ تو 25 دسمبر کو ہوئے 31دسمبر کو نہیں اس لئے عیسوی نیا سال یکم جنوری کو تو بنتا نہیں

    اسی طرح قمری سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور سال ہجری رسول اللہ کی ہجرت سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے اسلامی سال بھی کہتے ہیں

    مگر حقیقت یہ بھی بالکل ایسے نہیں ہے کیونکہ ہجرت کا آغاز 26 صفر / 16 جولائی کو ہوا اور یکم ربيع الأول  کو آپ غار ثور سے مدینہ روانہ ہوئے جبکہ قمری مہینے محرم صفر پہلے سے چلے آ رہے تھے اور حج اور تمام حساب انہی مہینوں سے چلتا تھا بلکہ اگر یاد کریں تو ایک طریقہ عربوں میں نسی چلتا تھا جس کے تحت وہ انہی مہینوں کی ترتیب آگے پیچھے کر لیتے تھے چار ماہ تب بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں جنگ و جدل منع تھا اور عرب اپنی جنگوں کیلئے فرض کر لیتے تھے کہ یہ مہینہ محرم نہیں بلکہ صفر ہے اور کسی اور مہینے کا نام محرم رکھ لیتے تھے لیکن مہینوں کے نام یہی تھے  

    اب دیکھیں جب یہ کہا جاتاہے کہ 1438 سال ہجرت کو ہو گئے تو درحقیقت ایسا مکمل درست نہیں ہوتا اس میں دو ماہ کی گنتی کا فرق ہوتا ہے 

    یوں نیا سال مبارک کہنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ آپ خواہ مخواہ ایک جھوٹ کو جوش و خروش سے منا رہے ہیں اگر آپ عیسوی یا اسلامی سال سمجھ کر مبارک سلامت کر رہے ہیں تو بس شغل ہی ہے البتہ اگر تعداد کے چکر میں پڑے بغیر آپ شمسی یا قمری سال کے آغاز کی بات کر رہے ہیں تو چل جائے گا

    ایک اور ہات یاد رہے سورج و چاند کے چکر کے مقام آغاز کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ۔ یہ آغاز و اختتام بھی ہم نے طے کئے ہیں ہو سکتا ہے یہ آغاز دراصل موسم گرما کے کسی مہینے میں ہوتا ہو جیسے جون میں جب دن بڑے اور گرم ہوتے ہیں کیونکہ سوچیں شمسی نظام اور اس میں زمین جب وجود میں آئے تو درجہ حرارت زیادہ تھا تو کیا پتہ آغاز کا وقت دراصل تب ہوتا ہو جسے ہم اس چکر کا وسط کہتے ہیں

    لیکن اس میں ٹینشن کی کوئی بات نہیں جیسا سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں بس سورج اور چاند کی گردش کو مذہبی جھگڑوں سے نکال دیں یہ اللہ کی تخلیق ہماری سہولت، سمجھ اور تحقیق کیلئے ہیں

  • کنٹونمینٹ الیکشن   تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    کنٹونمینٹ الیکشن  تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    گذشتہ دن ملک میں کنٹونمنٹ کے الیکشن ہوئے جس میں واضع طور پر پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل ہوئ جبکہ مقابلے میں ذیادہ تر وہی آزاد امیدوار جیت کر آئے ہیں جن کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہیں مل سکا اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئ کا مقابلہ اپنے ہی پارٹی کے آزاد امیدواروں سے تھا اس وقت پی ٹی آئ نے جہاں ٦٣ سے زائد سیٹ حاصل ہیں دوسری طرف آزاد امیدوار بھی ۵٦ کے قریب سیٹ جیت چکے ہیں اور یقینی طور پر وہ بھی تقریبا سب پی ٹی آئ میں شامل ہوں گے اس طرح پی ٹی آئ واضع اکثریت سے پہلے نمبر ہوگی 

    دوسری بات جو اس میں واضع نظر آئ ہے کہ پی ٹی آئ اس وقت ملک کی واحد جماعت ہے جو تقریبا تمام صوبوں سے الیکشن جیت کر چاروں صوبوں کی زنجیر بن چکی ہے 

    سندہ میں پپلزپارٹی کی ١٣ سالہ خراب کارکردگی سے تنگ عوام نے بھی پی ٹی آئ کو کراچی سے واضع برتری دلوائ 

    بلوچستان کوئٹہ کی ۵ میں سے ٣ سیٹوں پر پی ٹی آئ جیت چکی 

    اس ساری کامیابی سے ایک بات تو واضع ہوچکی کہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے جعلی بیانئے وہ چاہے حکومت مخالف ہو یا ریاستی اداروں کے مخالف سب کو عوام نے مسترد کر کے حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کردیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی عوام کسی صورت ان جماعتوں کی حمایت نہیں کرے گی جو ریاستی اداروں یا پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی پالیسی اپنائیں گی 

    ن لیگ نے نواز شریف کے بیانئے ووٹ کو عزت دو کی بجائے شہباز شریف کے بیانئے کام کو عزت دو کو اپنایا جس وجہ سے ان کو بھی اچھی سیٹیں مل چکی ہیں جسے ن لیگ اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے حالانکہ اس کامیابی سے لگ یہی رہا ہے کہ عوام نے نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کرکے شہباز شریف کے بیانئے کو اپنایا ہے 

    دوسری طرف ن لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمینٹ پر الیکشن چوری کا الزام لگاتی آئ ہے لیکن کنٹونمنٹ الیکشن جو اسٹیبلشمنٹ کے اپنے گھر کے الیکشن ہیں اس میں جیتنے کے بعد ن لیگ کا یہ بیانیہ کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کرواتی ہے بھی اپنی موت آپ مرتا دکھائ دے رہا ہے 

    اب پاکستانی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کروانے میں ملوث ہوتی تو شائد کنٹونمنٹ الیکشن میں ن لیگ کے ہاتھ ایک سیٹ بھی نا آتی 

    ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے یہ جھوٹ پر مبنی ایک بیانیہ بنالیا کہ جہاں سے جیت جائیں وہ عوام کی جیت اور ہار جائیں تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دی جائے 

    لیکن اب پاکستانی عوام اپوزیشن کے اس بیانیے کو مکمل مسترد کرچکی ہے ،پاکستانی عوام عقل و شعور رکھنے والی ہے وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا کام حکومت میں آکر صرف کرپشن کرنا ہی ہے ملکی تعمیر و ترقی سے ان کو کوئ غرض نہیں 

    اس وقت تک حالات کے مطابق لگ ایسا ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئ ٢٠٢٣ میں بھی واضع اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی اور اپوزیشن ایک بار پھر روتی ہی نظر آئے گی 

    @MajeedMahar4