Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اوراس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔
    پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔
    افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class
    موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس
    القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تا کہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے، تحریر: عفیفہ راؤ

    میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شئیر کروں گی کہ آپ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیوں ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے میں تو ناکام ہو چکی ہے جس کے لئے اس کے پاس ایک ہزاروجوہات ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بڑے آرام سے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں ابھی بہت کنٹرول میں ہیں ورنہ اصل قیمتیں تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لیکن میرا سوال ان حکمرانوں سے یہ ہے کہ وہ اس ملک کی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیوں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عورتیں اور بچے نہ گھروں سے باہر محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں کے اندر۔۔۔

    اب میں آپ کے ساتھ کچھ تازہ ترین واقعات کی خبریں شئیر کروں گی جس سے آپ کو حالات کی سنگینی کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے گا۔ ضلع چنیوٹ کے بھوانہ سرکل میں بدفعلی کا انتہائی خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دس سالہ یتیم بچے کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ اور زیادتی کرنے والے کوئی دو یا تین فرد نہیں تھے بلکہ سترہ افراد کا ایک پورا گروہ تھا جس نے اس معصوم بچے کے ساتھ یہ حیوانیت اور درندگی کی۔اس بچے کا والد دو سال پہلے فوت ہو چکا ہے اور وہ اپنے ماموں کے زیر کفالت ہے اب ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ شام تقریبا سات بجے تین فرد آئے اور اس بچے کو گھر سے بلا کر موٹر سائیکل پر باہر لے گئے۔ فصلوں میں لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا۔ جس کے بعد یہ باری باری اس دس سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور ساتھ میں موبائل فون پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ اور یہ سلسلہ پچھلے کئی دنوں جاری تھا کہ درندوں کا یہ گروپ اس یتیم بچے کو بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں اس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے۔جب اس متاثرہ بچے کے گھر والوں کو اس سب کا علم ہوا تو انہوں نے تھانہ بھوانہ میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس پورے گروپ میں سے کوئی ایک ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ایک اور تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ زم زم کالونی کے رہائشی احسن نے بھی مقدمہ درج ہوا ہے جس کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکے کو 22 سالہ ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ان واقعات کے بارے میں آپ ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ چھوٹے علاقے ہیں اس لئے وہاں کے حالات خراب ہیں وہاں کی پولیس بھی اتنی Efficientنہیں ہے۔ تو اب میں آپ کو لاہور شہر کا ایک واقعہ بتاتا ہوں جہاں ہوٹل کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ 7 روز تک اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی۔ سوچیں یہ لاہور شہر ہے جس میں ابھی حالیہ چودہ اگست کے واقعات کے بعد پولیس کافی الرٹ ہے اور پھر بھی اس طرح کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ملت پارک میں ایک ہوٹل کے اندر لڑکی کو ایک تقریب کا جھانسہ دیکر بلایا گیا اس کے بعد سات روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس سے چھ لاکھ روپے بھی چھین لئے گئے۔ لیکن ہوٹل میں اتنے دن تک کسی کا کان و کان خبر نہیں ہوئی کہ بر وقت پولیس کو اطلاع دی جاتی لیکن خیر بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس عورت کی شکایت کے بعد تین میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس کے علاوہ لاہور شہر کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ملزم نے ایک عورت کو اس کی کم سن بیٹی کے سامنے ہی گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اور یہ سب کرنے والا ملزم دراصل ان کا ہمسایہ تھا جو پہلے تو ماں بیٹی پر جسم فروشی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا لیکن خاتون کے انکار پر ملزم نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ یہاں تک کہ ملزم نے اس عورت کی تیرہ سالہ بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔لاہور کا ہی ایک اورحیرت انگیز واقعہ میں آپ کو بتاوں جس میں بے حیائی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئیں۔ گلشن راوی کے علاقے میں ایک ستائیس سالہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈال رہی تھی اس دوران اس کا ہمسایہ اپنے گھر کی چھت پر برہنہ ہوگیا اوراس لڑکی کو ہراساں کرتا رہا۔پولیس کے مطابق اس ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی گلشن راوی کے علاقے میں ایک لڑکی کو نوجوان نے اسی طرح برہنہ ہوکر ہراساں کیا تھا جس کا ملزم سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔

    اس طرح کے واقعات آئے روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ایک طرف تو لوگ اپنے علاقے والوں اور ہمسایوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی آجکل سامنے آ رہے ہیں جس میں بچیاں اپنے سگے اور قریبی رشتے داروں سے بھی محفوظ نہیں ہیں۔راولپنڈی کے ایک علاقے میں ماں نے عین موقع پر پہنچ کراپنی 5 سالہ بیٹی کو اس کے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے سے بچا لیامتاثرہ بچی کی ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہمسائی سے ملنے کے لئے پڑوس میں گئی تھی لیکن جب واپس پہنچی تو آ کر دیکھا کہ اس کا دیوراس کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں کے شور کرنے پر اس کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اب سے دو دن پہلے شیخوپوہ میں بھی انتہائی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا۔ جہاں ایک کمسن بچی ایک درندے کی درندگی کا نشانہ بن گئی۔پولیس کے مطابق شیخوپورہ میں 6 سالہ ہادیہ محلے میں موجود دوکان پر چیز لینے گئی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ اور یہ سب کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ وہ دوکاندار ہی تھا اس نے بچی کو اغواء کرکے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل بھی کرڈالا۔ اور درندے نے اپنا جرم مٹانے کے لئے بچی کی لاش کو نہر میں پھینک دیا۔اس کے علاوہ شیخوپورہ کے ہی ایک علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوں نے ماں باپ کے سامنے انکی حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔تین ڈاکوں ڈکیتی کی واردات کے لئے رات گئے گھر میں گھس گئے کاشتکار کے گھر سے نقدی اور زیورات لوٹ کر لے گئے اور ساتھ ہی والدین کو رسیوں سے باندھ کر انکے سامنے ان کی عالمہ اور حافظہ بیٹی کو اجتماعی نشانہ بنایا۔ ان تمام واقعات میں سے ایک یا دو ایسے ہیں جن کے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور تفتیش ہو رہی ہے لیکن میرا سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر کیوں ہماری حکوت اور پولیس اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں ہے؟ کیوں یہ درندے دن بہ دن اتنے بےخوف ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی جانیں۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ہماری پولیس ان درندوں کو پکڑ بھی لے تو ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں ہے کہ ان کو فوری سزا سنائی جائے۔ جس کی وجہ سے سالوں سال کے لئے نہ صرف کیسسز لٹک جاتے ہیں بلکہ مظلوم کو بھی تھکا ڈالتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر تو یہ مجرمان اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ ہی عرصے بعد پولیس کی قید سے بھی رہائی حاصل کر لیتے ہیں اور باہر آ کر پھر اسی گھناونے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    اس لئے میرا تو ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی آپ کے کنٹرول سے باہر ہو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتیں آپ کو اپنے ملک میں چیزیں سستی کرنے سے روک رہی ہوں لیکن خدارہ انسانوں کی عزتیں اور ان کی جانیں اتنی سستی نہیں ہیں۔۔۔ آخر اس میں آپ کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ لوگوں کو نہ تو تحفظ مل رہا ہے اور نہ ہی انصاف۔۔ آخر کب تک عورتیں اور بچے یوں ہی لٹتے رہیں گے اور اپنی عزتوں اور جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے آخر کب تک۔۔۔

  • زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جس نے بہت کم لوگوں کو چھوڑا ہے۔ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کرچکی ہے چاہے وہ بعد ازاں اس سے کنارہ کشی کرلیں۔ نوجوان نسل میں اس کا استعمال قدرے زیادہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ایک نوجوان ہی قوم کا بہ تر مستقبل بنا سکتا ہے اور اسی لیے دیگر ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی تربیت کا اہتمام کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑا ہوکر قوم کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضراثرات سے آگاہ کرنا بچپن سے ہی شروع کردیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزل کی جانب گامزن ہے۔سگریٹ نوشی بیماریوں کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 60لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوکر مر جاتے ہیں۔ان میں سے 6لاکھ کے قریب ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی صرف اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان بیماریوں کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

    دنیا میں اس وقت بھی ایک ارب سے زائد لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے۔
    2018ء میں ایک ہوئی تحقیق کے مطابق تمباکو میں 7ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم 69ایسے ہوتے ہیں جو کینسر و سرطان کا باعث بنتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مضراثرات سے تو آپ سبھی واقف ہی ہوں گے جن میں کینسر، فالج اور امراض قلب وغیرہ ہیں لیکن ایک ایسا نقصان بھی ہے جس سے اکثریت ناواقف ہے اور وہ ہے بالوں سے محرومی۔

    2020ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق 500افراد میں سے 425لوگوں کو بالوں سے کسی نہ کسی حد تک محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 500ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے ان میں یہ شرح 200کے قریب تھی اور اس میں بھی لازماََ دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق نکوٹین اور دیگر کیمیکل بالوں کی گرنے کی شرح کو تیز کردیتے ہیں تاہم انھوں نے اس متعلق مزید تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔لندن کالج یونی ورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی جس میں 1946ء سے لے کر 2015ء تک کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جو دن بھر میں صرف ایک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں امراض قلب کا خطرہ48فی صد ہوتا ہے اور خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 57فیصد پر جاپہنچتی ہے۔اس طرح مردوں میں فالج کا خطرہ25فی صد اور خواتین میں 37فی صد ہوتا ہے۔

    اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ کا کم استعمال کینسر کے خطرے کو تو کم کرتاہے لیکن فالج و امراض قلب کا خطرہ ہنوز موجود رہتا ہے اس کے لیے اس لت سے مکمل جان چھڑوانا ضروری ہے۔
    پاکستان میں اس کا استعمال جہاں بڑھ رہا ہے وہی پر اس کے خلاف معلومات کی آسان فراہمی اور حکومتی اقدامات بھی ماضی سے قدرے بہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ باغی ٹی وی کی جانب سے میڈیائی معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانا قابل تحسین و لائق تقلید ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن سے تمباکو نوشی کی لت سے جان چھڑوانا ممکن ہے تاکہ قارئین اپنے اردگرد سگریٹ نوشی کرنے والوں کو مطلع کرسکیں اور انھیں ابھاریں کہ اس لت سے اپنی جان چھڑائیں تاکہ آنے والی نسل اس کے برے اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔ سب سے پہلے تو مراقبہ کی مشق کرنا ہے جس سے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ گوگل کی ایک تحقیق کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز میں اس لت سے جان چھڑانے کا عزم بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ ورزش کرنے کی عادت سے بھی نکوٹین نامی کیمیکل اپنی مانگ کم کردیتا ہے۔سگریٹ کی بو محسوس کرکے اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بھی افادیت دیتا ہے کیوں کہ دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی پاک طرز زندگی کی طرف لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق دوہفتوں تک وزن اٹھانا بھی فائدہ دیتا ہے۔پالتوجانوروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑواسکتا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق کسی سے بات چیت کرنا بھی 11فیصد تک اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس لت سے جان چھوٹ جاے۔نئے مشاغل کو اپنانا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا بھی آپ کو قابل بناتا ہے کہ آپ اس سے جان چھڑوائیں۔انور شعور کا کہنا ہے کہ
    ؎زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو
    طیور عام یہ پیغام ہر طرف کردیں
    آخر پر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اور اقدامات اسی وقت قابل عمل ہوں گے جب آپ پکا ارادہ کرکے اپنی قوت ارادی کو اس طرف لگادیں گے ورنہ تو مضبوط قوت ارادی کے مالک اس بیماری میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک جان نہیں چھڑواپاتے۔

    ٹویٹر اکاونٹ: @AframirzaDn

  • پاکستان نے ازبکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے معاہدے پر دستخط کردئیے

    پاکستان نے ازبکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے معاہدے پر دستخط کردئیے

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ فیڈریشن آف ازبکستان نے ازبکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق معاہدے کے تحت پی سی بی نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں دو ہائی پرفارمنس کیمپس کا انعقاد کرے گا، جہاں ازبکستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو تکنیکی، ذہنی اور ٹیکٹیکل معاونت فراہم کی جائے گی۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے…

    اس ضمن میں پی سی بی اپنے اسٹاف کو بھی ازبکستان بھیجے گا، جو وہاں کیوریٹرز اور گراؤنڈز مین سمیت مختلف لیول کے کوچنگ کورسز بھی کروائیں گے۔

    معاہدے کے تحت پی سی بی کرکٹ فیڈریشن آف ازبکستان کو اینٹی ڈوپنگ، اینٹی کرپشن اور دیگر کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق بریفنگ بھی فراہم کرے گا۔

    علاوہ ازیں، پی سی بی ازبکستان کی ٹیم کے پاکستان ڈومیسٹک سیزن میں شرکت سے متعلق آپشن پر بھی غور کرے گا۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

    مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے…

    آئی پی ایل میچز، طالبان نے بڑی پابندی لگا دی

  • پاکستان کا  سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    پاکستان کا سعودی وزیر خارجہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مسئلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔

    مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے اور درست وقت میں ہم دونوں ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

    سعودی وزیر خارجہ نے یہ انٹرویو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دیا ہے کہا کہ مذاکرات کے لیے درست وقت کا تعین پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے۔

    مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا تاہم ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ مسائل کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسی دورے کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کے لیے انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

    یہ ہماری دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن دہائی ہےجو ہمارے مستقبل کا لفظی تعین کرے گی جوبائیڈن

    افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔

    انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

  • اسپورٹس جرنلسٹ زینب عباس نے حاملہ ہونے کی تصدیق کر دی

    اسپورٹس جرنلسٹ زینب عباس نے حاملہ ہونے کی تصدیق کر دی

    اسپورٹس جرنلسٹ زینب عباس نے اپنی پریگنینسی کا اعلان کر دیا-

    باغی ٹی وی : زینب عباس دنیائے کرکٹ میں اب ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ بہت کم وقت میں ہی انھوں نے کرکٹ میچز کی کمنٹری اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تبصروں سے مردوں کا کھیل سمجھے جانے والے میدان میں اپنے لیے نمایاں جگہ بنائی ہے۔

    زینب عباس کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں انہوں نے اپنی پریگنیسنی کی تصدیق کی ہے-

    واضح رہے کہ معروف زینب عباس نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز اسپورٹس نیوز اینکر کی حیثیت سے کیا تھا زینب عباس نومیبر 2109 میں شادی کے بندھن میں بندھیں تھیں زینب عباس کا نکاح نامور کرکٹر عبدالحفیظ کاردر کے صاحبزادے حمزہ کے ساتھ ہوا تھا انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شادی کی تصاویرشیئر کیں تھیں اور مداحوں کو اپنے جوڑے سے لے کر میک اپ تک تمام تر تفصیلات سے بھی آگاہ کیا تھا-

    زینب عباس نے نکاح کے موقع پر اپنی والدہ کی روایتی جیولری پہنی تھی جس میں وہ نہایت ہی خوبصورت نظر آرہی تھیں تاہم انہوں نے اپنی شادی میں انٹری منفرد انداز میں دی تھی زینب عباس دلہن بننے کے باوجود بھی کرکٹ کی دنیا سے دور نہ رہ سکیں اور انہوں نے ازدواجی زندگی کا آغاز بلا ہاتھ میں لے کر کیا تھا اُن کی انٹری کے وقت کوئی پس منظر میں کوئی رومانوی گانا نہیں بلکہ پی ایس ایل کا ہی ترانہ بج رہا تھا۔

    زینب عباس کے ساتھ اُن کے رشتے داروں نے ہاتھوں میں کرکٹ بیٹ اٹھا رکھے تھے جبکہ دلہن کے ہاتھ میں بھی بیٹ تھا، اسٹیج پر آنے سے پہلے رشتے داروں نے انہیں کرکٹرز کی طرح سلامی دی اور پھر زینب نے پنڈال میں ایک بال بھی کھیلی۔

    خیال رہے کہ زینب عباس کھیلوں اور بالخصوص کرکٹ ٹورنامنٹ کو کورر کرتی ہیں انہوں نے مختصر عرصے میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بین الاقوامی میڈیا تک رسائی حاصل کی اور ورلڈ کپ میں بھی ذمہ داریاں انجام دیں-

  • 1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی تحصیل اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں علامہ اقبال کا ریکارڈ توڑ دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں ملکی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ قائم کر دیا آج ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ مردان نے میٹرک کے رزلٹ کا اعلان کیا جس میں سائنس گروپ کی طالبہ قندیل نے 1100 میں 1100 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    حیران کن طور پر میٹرک کے رزلٹ میں دوسری پوزیشن تین طلبہ نے حاصل کی ہے تینوں نے 1098 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مردان میں بارھویں جماعت کی طالبہ قندیل نے 1100 میں سے 1100 نمبر حاصل کرکے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے-


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین طلبا کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور ساتھ میں ان کے نمبرز کو لے کر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔


    جرنلسٹ فردوس نے اپنی ٹوئٹ میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے نمبرز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیوٹن، آئن سٹائن سے بھی تیز ہیں۔
    https://twitter.com/AbuRaihanPak/status/1440286569160605697?s=20

  • انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے          سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن دورہ پاکستان ملتوی کرنے پر ای سی بی پر برس پڑے کہا کہ انگلینڈ کا پاکستان کا دورہ ملتوی کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مائیکل ایتھرٹن نے کہا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے۔

    مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ دورہ منسوخ کرنے کی وجہ سیکیورٹی تھریٹ کو قرار دینا تو سمجھ آتا ہے لیکن کورونا کی وجہ سے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کا حوالہ دینا محض ایک بہانہ ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار

    انہوں نے کہا کہ ای سی بی کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ گزشتہ موسم گرما کے دوران جب برطانیہ میں کورونا وبا عروج پر تھی اس وقت پاکستان ان ٹیموں میں شامل تھی جنہوں نے انگلینڈ کا دورہ کیا اور بورڈ کو مالی تباہی سے بچایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کی آمد کے وقت اس ملک میں کوویڈ کی شرح اموات دنیا میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ تھی جو پاکستان میں شرح سے 150 گنا زیادہ ہے۔

    سابق انگلش کپتان نے کہا کہ پاکستان میں غصے کا احساس قابل فہم ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے نئے چیئرمین رمیز راجہ پہلے ہی انگلینڈ کے اچانک انخلا سے سخت سبق سیکھنے کی بات کر چکے ہیں۔

    انگلینڈ پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز منسوخ نہ کرے،دنیا کے ہرملک میں سیکورٹی مسائل ہیں:مائیکل وان

    دوسری جانب برطانوی صحافی جارج ڈوبل نے سیریز منسوخ کرنے کو دوہرا معیار قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ دوہرے معیار سے انگلینڈ جلد دوستوں سے محروم ہو جائے گا ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی کا ایشو نہیں اٹھایا گیا، یہ برطانوی حکومت کا انگلش بورڈ کا فیصلہ ہے۔

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

    انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا، ای سی بی نے واضح طور پر کہا کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے معذرت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان میں پی ایس ایل کھیلی، پھر کہتا ہوں پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

    کرسچن ٹرنر نے کہا کہ بطور سفیر میرا کام دونوں ملکوں کو قریب لانا ہے، میں صرف برطانوی حکومت کی پوزیشن پر رائے دے سکتا ہوں انگلش کرکٹ بورڈ برطانوی حکومت کا جواب دہ نہیں ہے۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

    انہوں نے کہا کہ میں خود کو یہاں محفوظ سمجھ رہا ہوں، آج ایک افسوسناک دن ہے، کرکٹ ہمارے خون میں ہے، ہم سب افسردہ ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپنی ٹوئٹ میں کرسچن ٹرنر کا کہنا تھاکہ افسوس ہے کہ ای سی بی نے اگلے ماہ پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکرگزارہیں کہ انہوں نے کافی محنت کی-

    مسائل کے حل کے لئے ہمارے مثبت کردار کا فیصلہ بھارت اور پاکستان نے کرنا ہے سعودی وزیر خارجہ

  • انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا      برطانوی ہائی کمشنر

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی ہائی کمشنر

    برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ سال برطانوی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی کا ایشو نہیں اٹھایا گیا، یہ برطانوی حکومت کا انگلش بورڈ کا فیصلہ ہے۔


    انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا، ای سی بی نے واضح طور پر کہا کہ کھلاڑیوں کی وجہ سے معذرت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان میں پی ایس ایل کھیلی، پھر کہتا ہوں پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

    برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار

    کرسچن ٹرنر نے کہا کہ بطور سفیر میرا کام دونوں ملکوں کو قریب لانا ہے، میں صرف برطانوی حکومت کی پوزیشن پر رائے دے سکتا ہوں انگلش کرکٹ بورڈ برطانوی حکومت کا جواب دہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں خود کو یہاں محفوظ سمجھ رہا ہوں، آج ایک افسوسناک دن ہے، کرکٹ ہمارے خون میں ہے، ہم سب افسردہ ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپنی ٹوئٹ میں کرسچن ٹرنر کا کہنا تھاکہ افسوس ہے کہ ای سی بی نے اگلے ماہ پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکرگزارہیں کہ انہوں نے کافی محنت کی۔

    انگلینڈ پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز منسوخ نہ کرے،دنیا کے ہرملک میں سیکورٹی مسائل ہیں:مائیکل وان

    برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھاکہ کرکٹ فینز کی مایوسی کا اندازہ ہے لیکن اب بھی 2022 میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کیلئے پُرامید ہیں۔

    خیال رہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان ختم کردیا ہے، اپنی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔اس سے قبل گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ٹاس سے کچھ دیر قبل دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    یادرہے کہ برطانوی ہائی کمشنر اپنی ذاتی خواہش کا اظہارکرتے ہوئے پہلے ہی کئی بار کہہ چکے ہیں‌کہ پاکستان میں‌دیگردنیا کوآکرکرکٹ کھیلنی چاہیے اس سے ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے-

  • پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے نیوزی لینڈ حکومت کو احتجاجی مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفیر نے بھی نیوزی لینڈ وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے جس میں دورہ منسوخ کرنے کی وضاحت مانگی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ سے تھریٹ الرٹ کی نوعیت کیا تھی کس نے جاری کی تمام تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

    میچ کا ملتوی ہونا سیکیورٹی کامسئلہ نہیں، شیخ رشید کا دعویٰ

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سکیورٹی خدشات کو جواز بناکر پاکستان کا دورہ اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ملتوی کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سیریز نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے ساتھ ہی ،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا-

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے پاس بھی کوئی اطلاع نہیں تھی، صرف بہانہ بنایا گیا، اس کے پیچھے کیا ہے آئندہ کچھ روز میں پتا چلے گا۔

    ٹیم کی پاکستان سے واپسی کی حمایت کرتی ہوں،وزیراعظم نیوزی لینڈ

    نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیاہے جس کی بنیاد پر سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہمارے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے ، موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا ، پی سی بی نے سیریز کیلئے بہترین میزبانی کی ۔ ہمارے کھلاڑی محفوظ ہیں اور بہترین انتظامات کیئے جارہے ہیں

    چیئرمین پی سی بی کا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کیخلاف آئی سی سی جانے کا اعلان

    سینیٹر فیصل جاوید نے نیوزی لینڈ کی جانب سے کرکٹ سیریز اچانک منسوخ کرنے پر کہا تھا کہ دو سال سے پاکستان میں کرکٹ مکمل طور پر بحال ہے یہاں بہترین سکیورٹی صورتحال ہے جو بھارت کو اچھی نہیں لگ رہی انٹرنیشنل ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا حال ہی میں مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ منعقد ہوئی تھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی مگر اس کے باوجود نیوز لینڈ کی طرف سے آخری لمحات میں سیریز ملتوی کرنا سمجھ سے باہر ہے کوئی دشمن ہی ہے جس نے اس پلیٹ فارم پر سازش کی ہے بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا کہ پاکستان میں سب اچھا ہے-

    میں سبز پاسپورٹ کی عزت کراوں گا،سیریز منسوخ ہونے پر مریم نواز کی تنقید

    پاکستان میں18 سال بعد آج سے پاک نیوزی لینڈ سیریز شروع ہونے جا رہی تھی نیوزی لینڈ ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ نے یکطرف طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب سے رابطہ کیا،وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ ہم منصب کو یقین دلایا کہ ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے ،نیوزی لینڈ ماہرین نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نےا حتیاط کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں-

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی کب ہو گی؟ شہباز گل نے کھری کھری سنا دیں