Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    برطانوی خاتون نے دو کبوتروں کو گود لیا ہے جن پر سالانہ 4000 برطانوی پاؤنڈ (نو لاکھ روپے) خرچ کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کبوتروں کو غذائیت بخش مہنگے کھانے کھلائے جاتے ہیں الگ کمرہ ہے اور پیمپر نما کپڑوں کی الماری بھی ہے۔ دونوں کے لیے نرم بستر ہیں اور سیر کے لیے بچوں جیسی گاڑی بھی خریدی گئی ہے۔

    ہارر فلمیں دیکھیں اور لکھ پتی بن جائیں

    موس اور اسکائی نامی پرندوں پر ان کی مالکن میسی بے تحاشہ رقم خرچ کرتی ہیں اور انہیں سیر کرانے کے لیے بچوں کو لے جانے والی خاص اسٹرولر گاڑی بھی تیار کی گئی ہے 23 سالہ خاتون میگی کو دونوں کبوتر ان کے گھر کے پاس ملے تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔

    میگی کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے نلکیوں اور ہاتھ سے کھانا دیا اور کئی روز تک دونوں پرندوں کا خیال رکھا گیا اب یہ پرندے ان کے دوست بن چکے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اب یہ دونوں پرندے ایک شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں ان کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور کبوتروں کو ڈھیروں تحفے ملتے ہیں۔

    دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    میگی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگلی کبوتروں کو پرواز کرتے ہوئے چوہے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے پرندوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھاتے رہتے ہیں تاہم میگی کا خیال ہے کہ یہ پرندے بھی کسی دوسرے جانورکی طرح پیارے ہیں اور ان سے محبت کی جانی چاہیئے۔

    میگی نے دونوں پرندوں کے لیے الگ الگ کمرے بنائے ہیں جہاں ان کے کپڑے، کھلونے ، پیمپر نما قیمتی پوشاک اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ ہرپرندے کے لیے دو درجن سے زائد کپڑے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کی قیمت 40 سے 50 ڈالر تک ہے۔

    میگی کے مطابق شام کو وہ تھوڑی دیر پرواز کرتے ہیں اور تازہ ہواخوری کے بعد دوبارہ ان کے پاس آجاتے ہیں شام میں انہیں سیر کے لیے باہر بھی لے جایا جاتا ہے جس کے لیے شاہانہ پردوں والی خاص گاڑی بنائی گئی ہے۔

  • حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔

    پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔

    حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔

    کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔

    ۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔

    ۔ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔

  • برینڈن ٹیلرکا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان ،ساتھیوں نے  گارڈ آف آنر پیش کیا

    برینڈن ٹیلرکا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان ،ساتھیوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا

    زمبابوے کے وکٹ کیپر بیٹسمین برینڈن ٹیلر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : 35 سالہ کرکٹر برینڈن ٹیلر نے پیر کے روز آئرلینڈ کے خلاف ون ڈے میچ کی صورت میں آخری بار اپنے ملک کی نمائندگی کا اعزاز پایا، بیٹنگ کے لیے آمد پر ساتھیوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا، آخری اننگز میں وہ 7 رنز بنا سکے۔

    ٹیلر نے کہا کہ کرکٹ میں میرا 17 برس کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا، میں ملک کی نمائندگی کا موقع دینے پر زمبابوین بورڈ اور سپورٹ پر اپنے کوچز اور ساتھی کھلاڑیوں کا شکرگذار ہوں۔

    ٹیلر نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ، “یہ بھاری دل کے ساتھ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے پیارے ملک کے لیے اپنا آخری میچ کل پیر کو آئرلینڈ کے خلاف کھیلوں گا 17 سال اتار چڑھاؤ سے بھرے ہوئے تھے اور میں دنیا کے لیے نہیں بدلا ۔ اس نے مجھے عاجزی کا درس دیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو یاد دلایا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ اتنے عرصے سے اس جگہ پر ہوں۔ بیج کو فخر کے ساتھ پہننا اور سب کچھ میدان میں چھوڑ کر جانا۔ میرا مقصد ہمیشہ سے ٹیم کو بہتر پوزیشن میں لانا ہے۔

    ٹیلر نے مزید کہا ، میں 2004 میں پہلے آیا تھا اور تب سے میں نے ہمیشہ ٹیم کو بہتر پوزیشن میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کیا۔

    34 سالہ برینڈن ٹیلر نے زمبابوے کرکٹ ، ٹیم کے ساتھیوں ، خاندان اور شائقین کا شکریہ ادا کیا کہا کہ آخر میں بیوی کیلی این اور چار خوبصورت لڑکوں کا شکریہ۔ اس سفر میں آپ کا میرے لیے بہت مطلب ہے اور آپ کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اب ہوائی اڈے کو سر درد نہیں ہوگا۔ میں اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ میں آپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔

    یاد رہے کہ ٹیلر نے 2004 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں زمبابوے کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک بن گئے۔

    برینڈن ٹیلر نے اب تک 204 ون ڈے میچوں میں 6677 رنز بنائے ہیں اور وہ زمبابوے کے بلے باز اینڈی فلاور کے 6786 رن کے قومی ریکارڈ سے 112 رنز پیچھے ہیں-

  • میں تنقید نہیں سنوں گا  اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا     رمیز راجہ

    میں تنقید نہیں سنوں گا اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا رمیز راجہ

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کے نو منتخب چیئرمین رمیز راجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ میں یہاں ہرگز گالیاں کھانے نہیں آیا ہوں۔

    باغی ٹی وی : آئندہ تین سال کے لیے بلا مقابلہ چیئرمین پی سی بی منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ میں تنقید نہیں سنوں گا اور اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا تاہم انہوں نے کہا کہ جواب اچھا ملے گا اور میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر تھوڑا سمجھیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں؟ ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی اور میرے نام پر قذافی اسٹیڈیم میں انکلیوژر ہیں تو کچھ کر کے ہی یہاں آیا ہوں اور کسی وجہ سے مجھے لایا گیا ہے۔

    پاکستان کے نئے کوچ میتھیو ہیڈن پی سی بی کے لئے بڑی آزمائش

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے صلاح و مشورے سر آنکھوں پر مگر میں تنقید نہیں سنوں گا پی سی بی کے نو منتخب چیئرمین رمیز راجہ نے دعویٰ کیا کہ ہفتے بعد کرکٹ کے حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی۔

    رمیز راجہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں زیادہ تر 1992 کی ٹیم اور کپتان عمران خان کی مثالیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہشات لا تعداد ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی سب سے اٹریکٹیو ٹیم بن جائے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن رمیز راجہ بلا مقابلہ آئندہ تین سال کے لیے پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے 36 ویں چیئرمین منتخب ہوئے ہیں ان کا انتخاب بلامقابلہ ہوا ہے رمیز راجہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے 18 ویں اورون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 12 ویں کپتان رہے ہیں۔

    رمیز راجہ چوتھے کرکٹر ہیں جو پی سی بی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں ان سے قبل سابق کرکٹرزعبدالحفیظ کاردار (77-1972)، جاوید برکی (95-1994)، اور اعجاز بٹ (11-2008) چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

    جبکہ رمیز راجہ کے بڑے بھائی وسیم حسن راجہ پاکستان کے ممتاز آلراؤنڈرتھے۔وہ 3 جولائی 1952 کو ملتان میں پیدا ہوئے تھے 1973 میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور مجموعی طور 57 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    وسیم حسن راجہ نے مجموعی طور پر2821 رنز بنائے تھے جن میں 4 سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے 35.80 کی اوسط سے 51 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں انہوں نے 54 ایک روزہ بین الاقوامی میچ بھی کھیلے اور مجموعی طور پر 728 رنز اسکور کئے۔

    وسیم حسن راجہ 23 اگست 2006 کو لندن میں ایک کلب میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں تا کہ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا جا سکے
    پوری دنیا و کائنات اس واحد لاشریک کی ہے اور انسان خوش قسمت ہے جسے اشرف المخلوقات بنایا فرشتوں کو بھی اللہ بناسکتا تھا لیکن اللہ نے صرف انسان کو یہ چصاہمیت اور مرتبہ دیا۔

    اللہ نے انسان کیلیے کچھ حقائق رکھے
    جہاں اللہ نے انسان کو نعمتوں سے نوازا وہی انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہیں

    میں آج اخلاق پر بات کرو گی اپنی اس تحریر میں
    انسان کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے اور کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟

    انسان چاہے دنیا کی ساری ڈگریاں حاصل کرلیں لیکن اگر اس کے پاس اچھا اخلاق نہیں تو وہ دنیا کا سب سے ناکام ترین انسان ہے

    یہ دنیا فانی ہے سب نے ایک دن فنا ہوجانا ہے آج نہیں تو کل۔۔کل نہیں تو پرسوں لیکن اس فانی دنیا سے سبکو ہی کوچ کرنا ہے
    انسان کے ساتھ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے سب کچھ دفن ہوجاتا ہے سوائے ایک چیز کے اور وہ یے ۔۔۔*اخلاق*

    اخلاق ہمیشہ قائم رہے گا

    آجکل انسان چاہے ترقی کرگیا ہے لیکن انسانوں میں اخلاقیات کی کمی ہے

    اخلاق کیسا ہونا چاہیے!!!!
    تمہارے اخلاق عالیشان ہونے چاہیے تمہیں درگزر کرنا اتا ہے سب کو منانا آتا ہو سب کو برداشت کرنا آتا ہو
    ہر انسان کی بات چاہے کڑوی ہو برداشت کرنا سیکھو
    اگر کوئی تمہارے خلاف ہوگیا یے تو اسے معاف کرو
    ہمیشہ بات میں پہل کرو
    لوگوں سے اختلاف نہ کرو
    اختلاف کے باوجود تم اسے معاف کردوں
    تمہیں اپنی رائے سے ہٹنا آتا ہو
    تمہیں دوسروں کا انکار سننا آتا ہو
    تمہیں لوگوں کی تلخیوں کو برداشت کرنا آتا ہے

    اسلام میں صرف نماز روزہ زکوۃ ہی نہیں ہیں یہ تو دین کی عمارت ہیں لیکن یہ اخلاق تمہارے ایمان کا بہترین جزو ہے
    معاف کرنے والی ذات بیشک اللہ کی ہے
    لیکن اس دنیا میں رہتے ہوئے تم دوستوں کو معاف کردوں چاہے بہت بڑی غلطی ہو یا کوئی بڑا بول کہہ دیں

    تم اپنے اندر صبر کی طاقت کو پیدا کرو برداشت پیدا کرو تمہارا اخلاق بہترین ہے اگر تم لوگوں ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو چاہے وہ دشمن ہی ہو
    تم ہر کام میں صبر سے کام لیتے ہو تو تم کامیاب انسان ہو

    اور جو یہ سب نہیں کرتا وہ بیشک ناکام انسان ہے

    اپنے اخلاق کو بہتر بنا لوں
    جو لوگوں ساتھ برا سلوک کرتا کلمہ پڑھنے والا جنت اور دوزخ پر ایمان رکھنے والا یہ کرتا تو اللہ معاف نہیں کرتا

    اپنے اخلاق کو اپنی پہچان بناو کہ مرنے کے بعد تمہیں یاد رکھاجائے
    اپنے اندر آس پاس لوگوں کو آزمائش میں صبر کرنے کا عمل بتاؤ

    بیشک صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
    چپ رہنا سیکھو خاموش رہنا سیکھو
     
    صبر کو اپنا کر تم ایسی طاقت بن جاؤ گے کہ کوئی تمہیں ہرا نہیں سکتا

    لیکن اگر میں حقیقت بیان کرو تو سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے ہر انسان ایک دوسرے کو سمجھے اور جانے بغیر برا کہہ رہا ہے انسان میں صبر ختم ہوچکا ہے

    کیا ہمارے نبی نے یہ سب مسلمانوں کو اپنی امت کو تعلیمات دی جو اب سب نے اپنا رکھی ہیں!!!

    ابھی بھی وقت ہے ٹھہر جاؤ رک جاؤ اپنے آپ کو سدھار لو
    صبر کا اپنی طاقت بنالو میرے رب کی قسم!! اتنا سکون حاصل کرو گے کہ سب پیسہ چیزیں بھول جاؤ گے
    یاد ہو گا تو بس اللہ اس کے لاتعداد نعمتیں؛؛؛

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے

    بس اتنا کہوں گی کہ اپنے آپ کو پہچانو
    اپنے اخلاق کو خوبصورت کرلو
    تاکہ دنیا اور آخرت سنور جائے!!!!!!

    اللہ پاک سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاق کو دوسروں کیلئے راحت کا باعث بنادیں
    سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

  • بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    مازیار بن قارن رئیس طبرستان عبدالّٰلہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا ۔ اُس کے اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ۔ مازیار نے کہا کہ میں براہِ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا ۔ لیکن عبدالّٰلہ بن طاہر کو ادا نہ کروں گا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقارِ گورنری کے خلاف سمجھ کر ناپسند کرتا تھا ۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہِ راست دارالخلافہ میں بھیجتا ۔ اور وہاں سے عبدالّٰلہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ 

    جنگِ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیۓ نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا ۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ ( علاقہ ترکستان ) کو روانہ کردیتا تھا ۔ 

    یہ سامان جو آذر بائیجان سے بھیجا جاتا تھا ۔ خراسان میں ہو کر گزرتا تھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامانِ رسد ، سامانِ حرب اور روپیہ بھجوا رہا ہے تو اُس کو شُبہ ہوا ۔ اُس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ اور تمام سامان اور روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیۓ ہوۓ جا رہے تھے ۔ میں نے اُن کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ہے ۔ کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا ۔ لیکن اُن کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوۓ ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے ۔

    اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کر اُن لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ مگر جو سامان اُن سے چھینا تھا وہ نہیں دیا ۔ اس امر کی ایک خفیہ رپورٹ عبدالّٰلہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا ۔ 

    حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیۓ وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا ۔ جب افشین جنگِ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اُس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقع مل جاۓ گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیۓ بخوبی تیاری کر سکوں ۔ لیکن خلیفہ معتصم نے اُس کو ارمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور اُمیدِ خراسان کا خون ہو گیا ۔

    اس کے بعد ہی جنگِ روم پیش آ گئی افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اُس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالارِ اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا جو اپنے آپ کو افشین کا مدِ مقابل اور رقیب سمجھتا تھا ۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے خلاف مقابلے پر اُبھارا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :۔

    ” دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے بابک بھی اسی دین کی حمایت میں کوشاں تھا ۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا ۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی ۔ اس وقت بھی ایک زریں موقع حاصل ہے وہ یہ کہ تم علم مخالفت بند کر دو ۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیۓ میرے سوا یقیناً کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے ۔ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائینگے ۔ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ ۔ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آۓ گا ۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے ان کے مقابلہ کے لیۓ ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا ۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کُچلو ۔ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا اُبال ہے ۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے۔”

    مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامانِ حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تیار ہو بیٹھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا ۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبدالّٰلہ بن طاہر کی امداد کے لیۓ فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا ۔ مگر افشین کو اُس طرف جانے کا حکم نہیں دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبدالّٰلہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے اُس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اُس کو جیل خانے بھیج دیا ۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے ۔ مازیار کے پاس سے برآمد ہوۓ ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے ۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا ۔ یہ واقعہ سنہ ۲۲۴ کا ہے ۔

    منصور احمد قریشی ( اسلام آباد )

    Twitter Handle : ‎@MansurQr

  • ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

    ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

     

    لفظ ہی ایسا ہے جس کا نام سنتے ہی ایک منفی احساس پیدا ہوتا ہے دنیا کا کوئی ہی ملک یا مذہب ایسا ہوگا جس نے منشیات کے استعمال پر پابندیاں عائد نہ کی ہوں گی باوجود اس کے دنیا میں لوگوں کی ایک ایسی بڑی تعداد موجود ہے جو اس لعنت کے استعمال کا شکار ہے اور اس میں مرد و زن دونوں شامل ہیں جو بھی منشیات کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے وہ پھر جنونی حد تک اسکی طرف مائل نظر آتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی اجیرن بنا دیتا ہے 

    ایسے بے بس اور لاچار ماں باپ بہن بھائی اور بچے میں نے  خود دیکھے ہیں جن کا بیٹا بھائی یا باپ نشے کے استعمال کا شکار تھا جس نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی جس نے خاندان اور معاشرے میں اپنا مقام گرتا دیکھا جس نے اپنے سامنے اپنے بیوی بچوں کی زندگی کو جہنم ہوتے دیکھا اور جس نے معاشرے کی حقارت بھری نظروں اور طعنوں کا بھی سامنا کیا مگر اس سب کے باوجود وہ نشے کی زنجیروں کو توڑ نہ سکا اور موت کے گھاٹ اپنے ہی ہاتھوں اترا میں نے دیکھے ہیں ایسے خاندان اور ایسے بچے جن کا بچپن جن کی جوانی اور حتی کہ بڑھاپا بھی اس ذلت کے طوق کو انکے گلے سے نا اتار پایا کہ یہ تو ایک نشئ کا بیٹا/بیٹی ہے جانے کون سا وہ شخص تھا جس نے اس خباثت کو ایجاد کیا

    دنیا میں آج تک کوئی ملک ایسا قانون یا طریقہ نہیں نکال پایا جس کے نافذ کرنے سے منشیات کا دنیا سے خاتمہ ہو سکے سوائے مذہب اسلام کے اسلام نے شراب کو تمام "جرائم کی ماں” کہا حتی کہ ایک شراب ہی نہیں بلکہ جملہ نشہ آور اشیاء کو ہی حرام قرار دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسکی سزا "حد” مقرر کی 

    جب اسلام نے اس قدر سختی برتی تو پھر کیوں نام نہاد اسلامی ممالک میں بھی اسکی روک تھام نہ ہوسکی کیوں قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات معافیا کے سامنے اسقدر کمزور  اور بے بس دکھائی دیتے ہیں یہ معافیا منشیات کے بنانے سے لیکر اسے بآسانی فروخت کرنے تک آزاد ہیں  ابھی تک اس رؤے زمین پر دو ہی ایسے شہر ہیں جو اس لعنت سے پاک ہیں اور وہ ہیں ‘مکہ مکرمہ’ اور ‘مدینہ منورہ’ جہاں منشیات کی ہوا تک کا گزر نہیں اور یہ مقدس ترین زمینیں اسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں 

    کتنے

    شرم کی بات ہے کہ آج کے اسلامی ممالک میں منشیات ہر مرد و زن بچے بوڑھے کے لیے بآسانی دستیاب ہیں ہر سکول کالج یونیورسٹی میں یہ معافیا نسلیں خراب کرنے کی خاطر پہنچ چکا ہے عوام کے ٹھیکیدار ایک ایک اڈے سے وقف ہیں اور ایک ایک سہولت کار کو جانتے ہیں مگر افسوس قانون کے ہاتھ اور زبانیں دونوں منشیات معافیا نے خرید رکھی ہیں میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیے جائیں اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کو اسلامی قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں 

  • ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی  تحریر : سیف الرحمان

    ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی تحریر : سیف الرحمان

    آج کل الیکٹرانک مشین کو لے سارے ملک میں  کافی بحث مباحثہ شروع ہے۔ اس بحث میں بیک وقت پانچ فریق حصہ لے رہے ہیں۔ سب کے سب اپنی اپنی رائے اور تحزیے دیتے نظر  آ رہے ہیں۔ یہ پانچ فریق مندرجہ ذیل ہیں۔ 

    1-حکومت

    2- اپوزیشن

    3-میڈیا

    4-الیکشن کمیشن

    5-عام عوام

    حکومت وزیر اعظم کے ویثرن نیوٹرل ایمپائر /فری اینڈ فیئر الیکشن کے خواب کی تعبیر کیلئے جہدو جد کرتی نظر آ رہی ہے۔

    اپوزیشن حسب روایت حکومتی کام میں روڑے اٹکاتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ بظاہر دھاندلی سے پاک الیکشن جو کافی سارے لوگوں کیلئے باعث فکر اور پریشانی بن سکتی نظر آتی ہے۔

    میڈیا اس بحث میں دونوں فریقوں کی رائے لیتا نظر آ رہا ہے کچھ دانشوروں کے تجزے بھی الیکشن ریفارمز میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

    عام عوام الیکشن ریفارمز کیلئے خوش اور جذباتی نظر آر  ہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین آ جائے تو ہم بھی جدید دور میں نا صرف قدم رکھ سکتے ہیں بلکہ دھاندلی جیسی الزام تراشی سے بھی بچت ہو جائے گی۔ 

    الیکشن کمیشن کا کردار الیکٹرانک مشین کو لے کر روز اول سے مشکوک نظر آ رہا ہے۔  سن٢٠١١سے لے کر ٢٠٢١تک الیکشن کمیشن نے الیکشن ریفارمز پر ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔ اب جب حکومت نے الیکٹرانک مشین بنا ہی لی تو سب سے ذیادہ اور سرعام مخالفت بھی الیکشن کمیشن نے ہی کی ہے۔

    اب اصل میچ تین فریقوں کے مابین پڑنے والاہے۔ حکومت, الیکشن کمیشن اور اپوزیشن۔  پہلی باری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونی چاہئے تھی لیکن الیکشن کمیشن نے خود فرنٹ سے لیڈر کرنے اور حکومتی ریفارمز کیخلاف پنجہ آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے  بیک فٹ پر جا کر الیکشن کمیشن کو سپوٹ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ الیکشن کمیشن نے  گزشتہ ہفتہ حکومتی ٹیم سے ملاقات میں الیکٹرانک مشین کو لے کر 37اعتراضات اٹھائے ۔ ان اعتراضات پہ اگر غور کریں تو ایسا لگ رہا ہے  کہ یہ اعتراضات الیکشن کمیشن کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بندے نے اٹھائے ہیں۔  آئے پہلے آپ کو ایک ایک کر کے اعتراضات بتاتے ہیں۔ 

    الیکشن کمیشن کے اعتراضات:

     وقت بہت کم ہے 

    الیکشن کمیشن نے حکومت کی رائے لیئے بغیر ہی فیصلہ کر دیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم چھ ماہ میں مطلوبہ تعدار میں مشینیں بنا کر دے سکتے ہیں۔ مطلب بنانے والا کہہ رہا کہ بنا دوں گا لیکن الیکشن کمیشن کہتا ہے نہیں رہنے دیں 

      الیکٹرانک ووٹنک مشین پہ راز داری نہیں رہے گی

    حقیقت یہ ہے کہ  جب الیکٹرانک مشین سےرسید باہر نکلتی ہے تو اس پہ  صرف بار کوڈ درج ہوتا ہے۔ اس  میں نہ ووٹر کا نام ہے نہ اس کے خاندان کا نام ہے نہ ہی اس کا ایڈریس اور نہ ہی شناختی کارڈ نمبر درج ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ووٹر کی راز داری ظاہر ہوتی ہے غلط بات ہے

    ای وی ایم سے ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی

    جیسے کہ پہلے بتاچکا ہوں کہ ای وی ایم  رسیدپہ صرف ٹائم تاریخ اور بار کوڈ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔  بار کوٹ صرف الیکشن کمیشن ہی ٹریس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بندہ نہیں کر سکتا۔

    مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جا سکتا

    بندہ پوچھے آپ نے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھ کر کیا کرنا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا ہے؟

    ووٹوں کی جمع تفریق کرتے وقت کلکولیٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کبھی چیک کیا ہے؟

    ای وی ایم کا کم از کم ایک سو پچاس ارب خرچہ آئے گا

    کیا الیکشن کے اخراجات چیف الیکشن کمیشن صاحب کو  اپنی جیب سے ادا کرنے تھے؟

    کیا اس سے پہلے جتنے الیکشن ہوئے وہ فری میں ہوتے آ رہے ہیں؟

      الیکشن کی شفافیت  اور ساکھ مشکوک رہے گی

    اب بندہ پوچھے کہ اس سے پہلے ایسا کون سا الیکشن ہے جو مشکوک نہیں رہا؟

    الیکشن کمیشن اپنی تاریخ کا کوئی ایک عدد الیکشن بتا دے جو مکمل فری اینڈ فیئر کروایا ہوجس پہ کسی نے اعتراض نا کیا ہو۔

      الیکٹرانک مشین کس کی تحویل میں رہے گی

    اس سے پہلے الیکشن بیلٹ کس کی تحویل میں رہتے تھے؟

    ظاہر ہے ای وی ایم بھی الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہی رہے گی۔ 

    ویئر ہاؤس اور ٹرانسپوٹیشن میں  مشینوں کے سافٹ ویئر تبدیل کئے جا سکتے ہیں

    یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔ ویئر ہاؤس الیکشن کمیشن کا تحویل بھی الیکشن کمیشن کی پھر تبدیل کون اور کیسے کرے گا۔ مطلب الیکشن کمیشن اتنا نااہل اور نالائق ہے جو الیکٹرانک مشین کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ 

     بلیک بکس کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے

    یہاں الیکشن کمیشن کو مشین کے رنگ پہ اعتراض ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کا ڈبہ جس میں مشین پیک ہو گی مشکوک ہے۔ مطلب چیف الیکشن کمیشن صاحب کو کالا رنگ ہی پسند نہیں۔ 

     ہر جگہ مشین کی صلاحیت پہ سوالات اٹھ سکتے ہیں

    یہاں الیکشن کمیشن مشین بغیر بجلی استعمال پہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے گارنٹی دی ہے کہ یہ مشین  بغیر بجلی بیٹری پر ایک لمبے بیک اپ کیساتھ K2 پہ بھی چلے گی اوربحر  الکاہل کے اندر سب سے نچلی سطح پر بھی کام کرے گی۔ لیکن الیکشن کمیشن کی مرضی جب انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں چلنی تو سمجھو نہیں چلنی۔

    مشین کی منتقلی اور حفاظت

    سر پہلے جو بندے بیلٹ پیپر کی منتقلی اور حفاظت کرتے تھے یقین مانیں وہی بندے الیکٹرانک مشینوں کی حفاظت بھی کر لیں گے۔ کسی اضافی برگیڈ یا پولیس نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

      ای وی ایم سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے

    اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی شفاف الیکشن ممکن نہیں ہیں تو پھر کیا بندہ الیکشن کمیشن کو تالا لگا دے۔ بہرحال یہ اعتراض بھی سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے

    سافٹ ویئر   باآسانی ٹمپر اور بدلہ  جا سکتا ہے

    سیل بند مشین کو کھولنا ہی نا ممکن ہے اگر کھل گئی تو فورا پتا چل جائے گا۔ کیونکہ اس مشین کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی آپشن ہی ختم کر دی گئی۔ اگر کوئی یہ حرکت کرنا بھی چاہے گا تو کھلی مشین سے فورا پتا چل جائے گا

    الیکٹرانک مشین فراڈ نہیں روک سکتی

    الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کے بعد ایک عد ہنسی تو بنتی ہے۔ بندہ پوچھے مشین فراڈ کیسے روکے گی۔ فراڈ تو الیکشن کمیشن کے بندوں نے روکنا ہے۔ مشین نے صرف اور صرف شفاف  بیلٹنگ کروانی ہے۔ ایک شناختی کارڈ پہ صرف ایک ووٹ۔  کسی مردے کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔ کوئی ڈبل ووٹ نہیں دے پائے گا۔ کوئی ٹھپہ نہیں لگے گا۔ 

      مشین کی آذادی پہ سوال ہوں گے

    مجھے تو مشین کی آذادی پہ سوال سے مراد شاہد مشین  کی بغیر چائے پانی اور بریک کے اپنی ووٹنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سمجھ آئی ہے۔ 

      مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے

    کوئی صاحب عقل یہ بتا دے کلکولیٹر کو کیسے ہیک کیا جا سکتا ہے؟

    الیکٹرانک مشین کی تھیوری بھی کلکولیٹر جیسی ہے نا بلیو ٹوتھ , نا انٹر نیٹ نا ہی کوئی بیرونی ڈیوائس اس کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے ۔

      ای وی ایم کی ایمانداری پہ یقین نہیں کیا جا سکتا

    کوئی بندہ الیکشن کمیشن کو بتائے کہ ای وی ایم  ایک مشین ہے  اور اس کو مشین کی طرح ہی دیکھا جائے۔  

    اتنی ذیادہ مشینوں سے ایک ہی دن میں انتخاب کرانا ممکن نہیں

    اگر مینول کام جلدی جلدی ہوتے ہیں  تو لوگ مشینوں سے کیوں کام لیتے ہیں؟

    جو کام پنسل سے  لکھ کر پانچ منٹ میں ہوتا ہے اگر وہی کام صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جائے تو ذیادہ بہتر کون ہے۔ مشین یا مینول طریقہ ؟

      ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوحی روکاوٹ بننے گی

    یہاں الیکشن کمیشن ساری قوم کو ان پڑھ اور جاہل سمجھ رہا ہے۔ اس وقت تقریبا ہر شخص کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ ان موبائلوں میں ایپ دیکھ لیں شاہد اچیف الیکشن کمیشن نے کبھی استعمال نہ کی ہوں جو ان پڑھ لوگ چلارہے ہیں۔

      اسٹیک ہولڈرکا اتفاق نہیں ہے

    الیکشن آپ نے کروانے یا اسٹیک ہولڈرز نے۔ 

    عوام کا اعتماد نہیں

    عوام تو الیکشن کمیشن پہ بھی اعتماد نہیں کرتی۔ پھر کیا کرنا چاہئے؟

    ڈیٹا انٹی گریشن اور ویری فیکیشن

    کوئی چیف الیکشن کمیشنر صاحب کو بتا دے کہ جو رسید مشین سے نکل کر بیلٹ بکس کی ذینت بنتی ہے اس کو آپ ہر طرح سے تصدیق کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ بار کوڈ کے اندر سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

      خواتین کے ٹرن آؤٹ کو مشین ذیادہ نہیں کر سکتی

    کیا بیلٹ بکس خواتین کو گھروں سے پکڑ پکڑ کر ووٹ ڈالنے لایا کرتے تھے جو الیکٹرانک مشین سے نہیں ہو پائے گا۔ یہ اعتراض بھی بہت عجیب و غریب ہے۔

      مشین نتائج میں تاخیر کا سبب بننے گی

    صرف ایک بٹن دبانے کی دیر ہے رزلٹ پرنٹ کی شکل میں باہر نکل آئے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ اعتراض بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔

      میڈیا اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہو سکتی ہے

    مطلب الیکشن کروانے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی سوچ ہے تو کر لئے شفاف الیکشن

       مشینوں کی مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے

    پہلے الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھے کہ سیل بند مشینوں کی مرمت کون کرواتا ہے؟ 

    جب حکومت نے کہہ دیا کہ سیل کھول دی تو مشین ضائع تو مرمت کا تو سوال ہی نہیں بنتا۔ خراب مشین تبدیل ہو گی مرمت نہیں ہو گی

      ریاستی اختیارات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

    الیکشن کمیشن کو کوئی بتائے الیکشن کے وقت عبوری حکومت ہوگی۔ عبوری حکومت  کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی خاص اختیارات اس کے پاس نہیں ہوتے

      ووٹ کی خریدو فروخت نہیں رکے گی

    مشین  نے ووٹ خریدنے والوں پہ کیس تو کرنے نہیں لہذا یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔ خریدو فروخت بیلٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہوتی تھی۔

      مشین میں ووٹ کی کوئی سکریسی نہیں ہے

    صرف بار کوڈ تاریخ اور وقت کے علاوہ رسید پہ کچھ نہیں ہو گا اور کون سی سکریسی چاہئے؟

    الیکشن سے پہلے وقت کی کمی

    سر  ابھی دو سال پڑے ہیں چھ ماہ میں مشینیں بن کر آ جائیں گی آپ بس نیت کریں اﷲ آسانیاں فرمائے گا۔

    یہ تمام اعتراضات پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کسی الیکشن کمیشن کے بندے نے لگائے ہوں گے؟

    یہ سب کے سب اعتراضات سیاسی نوعیت کے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے پچھے کون ہے یہ الگ بحث لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں لوگ الیکشن کمیشن کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی پارٹی بننے کی بجائے یا سیاسی وابستگی کی بجائے قومی ادارہ بن کر سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت الیکشن ریفارمز میں سنجیدہ ہو ہی گئی ہے تو برائے مہربانی آپ بھی تعاون کریں اور قومی ادارے کے طور پر بہتری کی معاونت کریں۔

    قانون تو پارلیمان نے بنانا ہے اور شاہد ای وی ایم کے تحت الیکشن کرانے کا قانون بن بھی جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کدھر جائے گا۔ کیونکہ آئین میں واضع لکھا ہے جو قانون پارلیمان بنا کر دیں الیکشن کمیشن نے اسی کے مطابق الیکشن کروانے ہیں۔ بطوو ادارہ الیکشن کمیشن کوئی قانون نہ تو بنا سکتا ہے اور نہ  ہی بنے قانون کی مخالفت کر سکتا ہے۔

    ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے ایسا نظام آئے جس سے ایمانداد اور پڑھے لکھے لوگ ہی اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔ ایسا نظام جس میں ٹھپہ راج اور رشوت خوری کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔  آمین

    ‎@saif__says

  • قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان حاصل کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں
    درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا شروع کردیا گیا تھا کہ ان کا جینا مشکل ہوچکا تھا مسلمانوں کو تصب کی نظر سے دیکھا جاتا تھا حتٰی کہ حالات یہاں تک تھے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انتہا پسند ہندؤں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا ایک انگریز رپورٹر نے برصغیر کے دورے کے بعد اپنے سفر کے حالات یوں بیان کئیے
    "میں جس گلی سے میں جاؤں وہاں مسلمانوں کا خون نظر آتا تھا جہاں مسلمان نظر آتا اسے ذبح کردیا جاتا ”
    نہ بچوں کو دیکھا گیا تھا بوڑھوں کو نہ خواتین جو بھی مسلمان ہوتا اس کا گلا کاٹا جاتا
    آج بھی یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم کیا گیا انگریزوں اور ہندؤں نے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا اور تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا
    مسلمان اپنا ایک الگ ملک چاہتے تھے جہاں مذہبی آزادی ہوتی اس مسئلے پر بہت سارے مسلمان لیڈروں نے اپنی خدمات سرانجام دیں مسلمانوں کو تعلیم کی ترغیب دی اس میں سر سید احمد خان پیش پیش رہے
    اس کارنامے میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (شاعر مشرق) کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں نئے وطن کا خواب دکھایا اور اپنی پرتاثیر شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے جذبے بھی خوب بلند کئیے
    اور پھر آگے مرحلہ آیا اس خواب کو تکمیل تک لانے کا اس عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئیے الله تعالٰی نے قائداعظم جیسے عظیم لیڈر کو چُنا انہوں نے انتھک محنت،بلند حوصلہ ،بہادری اور پختہ اراده کرنے جیسی اپنی اعلٰی شخصیت اور دور نظری کے ذریعے اس عظیم کارنامے کو سرانجام دیا جب پاکستان بننے والا تھا اور آخری مراحل میں تھا تو قائداعظم محمد علی جناح کو ٹی ۔بی (T.B) نے اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے حوصلے کو کوئی چیز پست نہ کرسکی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ڈاکٹر کو سختی سے منع کردیا کہ وه ان کی بیماری کو راز رکھے تاکہ ان کی بیماری کسی کام پر آڑے نہ آئے
    اس سلسلے میں ان کی بہن فاطمہ جناح نے بھی ان کا خُوب ساتھ دیا ان کے شانہ بشانہ کام کیا گھر گھر جاکر عورتوں کو ترغیب دی آخر وقت آ ہی گیا قائداعظم کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی محنت قربانیاں رنگ لے آئیں اور 14 اگست 1947 کو دُنیا کے نقشے پر کلمے کے نام پر بننے والا ہمارا پیارا پاکستان نمودار ہوا ہر طرف خوشی کی لہر تھی
    لیکن پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم محمد علی جناح کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی اور 11 ستمبر 1948کوقائداعظم محمد علی جناح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    اس کے بعد جب بیماری کی خبر عام ہوئی تو جس انگریز نمائندے نے،جس کانام لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا اس نے بیان میں کہا کہ
    "اگر مجھے پتہ ہوتا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 1948 میں فوت ہوجانا ہے تومیں تقسیم کے عمل کو مزید طویل کردیتا اور پاکستان کبھی بھی دنیا کے نقشے پر نہ آتا”
    قصہ مختصر پاکستان بنا لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کے وقت قربانیاں دیں اس ظلم کی الگ داستان ہے
    آج پاکستان نے اپنا مقام حاصل کرلیا ہے آج دُنیا کی بڑی بڑی ایٹمی قوتیں پاکستان سے بات کرنے سے پہلےسوچتی ہیں
    اور ان حالات میں جب پاکستان کو سب لیڈر کھوکھلا کررہےتھےاپنے مفادات کی بنا پر ،اللہ تعالٰی نے پاکستان کو عمران خان جیسا عظیم لیڈر عطا کیا جو کہ پاکستان بنانے والوں کی طرح پاکستان کی خوشحالی کے لئیےاپنی ذات کی فکر کئیے بغیر دن رات محنت کررہا ہے اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئیے کوششیں کررہا ہے تاکہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی دنیا میں عزت ہو
    الله تعالٰی پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
    @Naseem_Khera

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal