؎من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جاے گا میت
ابراہیم اشکؔ کے اس دوہے کے پہلے مصرعہ میں میری نظر ”پی” اور ”پریت” پر ٹھہری ہوئی ہے۔ یہاں ”پی“ سے مراد محبوب اور ”پریت“ سے مراد محبت ہے۔ سنسکرت میں پاکیزہ محبت کے لیے لفظ پری "Pri” ہے اسی سے پریا (محبوب)،پریانکا اور پریا درشنی نام بھی ہے جس کا مطلب نظروں کو لبھانے والی ہوتا ہے۔ لفظ لبھانے کو آگے جاکر دیکھتے ہیں۔ ”پری“ نے ”پریم“ کو جنم دیاپریم کو ہم سراج اورنگ آبادی کے اس شعر میں دیکھ سکتے ہیں۔
؎تجھ زلف میں دل نے گم کیا راہ
اس پریم گلی کوں انتہا نئیں
اردو زبان میں ایک عام لفظ ہے ”پیار“ یہ بھی پری سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو گیتوں میں جب پیا پکارا جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پری کا ہی روپ ہوتا ہے۔قلی قطب شاہ کیا خوب کہہ گئے ہیں کہ
؎پیا باج پیالا پیا جاے نا
پیا باج یک تل جیا جاے نا
اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ love کی تو یہ پہلے lew تھا پھر lewbhبنا اور جرمن زبان میں پہنچ کر luboکا پیراہن پہن لیا اور قدیمی انگریزی میں جاکر lufu کا تاج پہن کر love ہوگیا۔ روسی اسے لیوب ”liub” جب کہ جرمن ”lieb” کہتے ہیں۔ انگریزی لغات بتاتی ہیں کہ جرمن لفظ کا ماخذ leubhہے اب اگر سنسکرت کے لفظ لوبھ (محبت، شہوت) پر نظر ماریں تو عقدہ کھلتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تعلق باہمی ہے۔اور پھر اسی سنسکرت کے لفظ سے اردو کا لفظ لبھانابن گیا جس کامطلب لالچ دینا، پرچانا اور پُھسلانا وغیرہ ہے۔ آرزو لکھنوی کا شعر ملاحظہ کیجیے
؎معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
شپلے اور کلے براون جیسے ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ”پرائی” اور ”پری” کا ”پریا” سے تعلق ہے۔ اب ہمارا گمان ہے کہ پ (P) کی آواز ف (F)سے بدل گئی اور انگریزی کےFree اور جرمن کے Frei بن گئے۔ حضرت انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کو قیمتی ترین سمجھتا ہے اور اسے حتی الامکان آزادی دی جاتی ہے۔ اب اگر ہم جمعہ کی انگریزی Fridayپر نظر ماریں تو اس میں بھی غالب امکان ہے کہ یہی مادہ کارفرما ہوگا۔ویسے انگریزی کا مذکورہ لفظ Freyaسے نکلا ہے جو کہ ایک مفروضے کے مطابق پیار اور خوب صورتی کے دیوتا سے منسلک ہے اور شاید اسی کی وجہ سے انگریزوں کا خیال ہے کہ جمعہ کے روز پیدا ہونے والے بچے کے مقدر میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ پری کے”پ“ کا”ف“ سے بدلنا ہمیں انگریزی کے fray اور frightجیسے الفاظ سے روشناس کرواتا ہے۔ انگریزی میں friendہی ایسا لفظ ملا ہے جو پری کے اصل تک لے جاتا ہے۔ سویڈن کے لوگ دوست کو frande اور پرتگال کے لوگ veiend کہتے ہیں۔ قدیمی انگریزی محبت کرنا کو Freon لکھتے تھے جو کہ Friendکا ماخذ ہے اور یہ سنسکرت کے لفظ پری کے مفہوم سے مجھے توکچھ دور نہیں لگا۔باقی احمد پوری کا شعر پڑھیے کیا بروقت یاد آیا ہے اور ہمیں اجازت دیجیے
؎ دوست ناراض ہوگئے کتنے
اک ذرا آئنہ دکھانے میں
Category: بلاگ
-

پیار، پریم اور پریتم ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ
-

شوہر کی خدمت”محبت یا غلامی”.تحریر: راحیلہ عقیل
نئے دور میں جہاں عورت کو آزادی چائیے وہی شوہر کے حقوق پر عورت چیخ اٹھتی ہے آج کی پڑھی لکھی عورت مرد سے برابری کا حق مانگتی ہے آزادی خودمختاری مانگتی ہے وہی وہ شوہر کے حقوق سنے ماننے سے صاف انکاری ہے شوہر کی خدمت فرض سمجھ کر کرنے والی خواتین کو کمزور جاہل سمجھا جاتا ہے جیسے عورت خدمت دباؤ یا زبردستی کررہی ہے حالانکہ
رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب الرضاع (۱۰)باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، رقم
اس کے باوجود اس عمل کو آج کے دور میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے جہاں ہماری مائیں ابا جی کے گھر میں قدم رکھتے ہی پانی کا گلاس بھرے انکے سامنے کھڑی ہوتی انکے لیے گرم روٹی توے سے اتاری رہی ہوتی وہی آج کی عورت شوہر کو حکم دے رہی ہوتی آتے وقت روٹیاں لے آنا دس کام مرد کو باہر ہی گنوا دیے جاتے سارا دن کام سے تھکا ہارا مرد گھر میں سکون کا سانس کیسے لے آتے ہی ساس بہو کی چک چک شروع ہوجاتی،پہلے کے دور میں کہیں شاد و ناد ہی سنے کو ملتا میاں بیوی کے جھگڑے ہورہے ہیں اب کے دور میں یہ فساد ہر دوسرے گھر میں پایا جاتا ہے فساد کی آگ میں گھر اجڑ رہے اولاد الگ نافرمان ہورہی اللہ پاک نے جس عمل کو سخت ناپسند کیا وہی عمل تیزی سے پھیل رہا ہے اب کی عورت خدمت کو غلامی کا نام دے کر اپنی جان چھڑانا مناسب سمجھتی ہے اگر کوئی خاتون اس معاملے پر عورت کے حق میں بات کرے تو اسکو نیچا دکھایا جاتا بیٹیوں کو شوہر کی خدمت وفاداری محبت سکھانے کے بجائے کیسے قابو رکھنا ہے یہ طور طریقے سکھائے جاتے نا کے اسے سمجھایا جاے کے شوہر کی ایک آواز پر کھڑی ہوجاو۔۔۔۔۔۔اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ عورت جنت میں جائے گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ، ۴۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۴، ج۲، ص۴۱۲)
اور یہ بھی فرمایا کہ ’’جب کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لئے بلائے تو وہ عورت اگر چہ چولھے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔‘‘
(جامع الترمذی ، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ (ت : ۱۰) رقم ۱۶۶۳، ج۲، ص۳۸۶)
اتنا سب جاننے کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاقیں بڑھ رہی ہیں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے اسکو خوش رکھے اسکا دل اپنی محبت سے بھر دے، اب الٹا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ہر عورت پر لازم ہے وہ اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے اسکی وفادار رہے زندگی بھر اسکی خدمت گزاری کرے
جو عورتیں اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں اللہ پاک انکو بہت پسند کرتے ہیں جس عورت سے اسکا شوہر خوش ہو ایسی حالت میں موت آجاے افضل ہے وہ عورت اور جس عورت سے اسکا شوہر ناراض ہو ایسی حالت میں عورت کو موت آجاے وہ جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی عورتیں دنیا و آخرت میں کامیابی رہیں گی۔۔۔۔۔۔اللہ پاک ہر بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرےشوہر کی اطاعت و خدمت فرض ہے۔ آخرت کی زندگی میں کامیابی کا دارومدار شوہر کی خدمت میں مضمر ہے۔ جنتی عورت ہمیشہ شوہر کی تابعدار ہوتی ہے، اس کے آرام و سکون کا خیال رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہوسکتا ہے میری اس تحریر سے بہت سی خواتین کو اختلاف ہو وہ مانے نا نہیں مگر ہمیں ہمارے مذہب میں جو سکھایا سمجھایا اور بتایا گیا ہے وہی حقیقت ہے جس پر چل کر ہم اللہ کو راضی کرسکتے ہیں بےشک نیک عورتیں،نیک مرد ہی جنت میں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
انشاء اللہ اگلی تحریر میں بیوی کے حقوق پر بھی لکھا جاےگا بشرط کے زندگی رہی -

کابل دھماکے میں بھارت ملوث. تحریر: محمد شعیب
کیا کابل دھماکے میں بھارت ملوث ہے۔فرانس امریکہ اور اسٹریلیا سے بہت ناراض ہے اور سفیر واپس بلانے کے باوجود غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ اب فرانس کیا کرنے جا رہا ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے حیران کن معلومات لیک ہوئی ہیں کہ وہ چین پر ایٹمی حملہ سمیت کیا کچھ کر سکتے تھے اس پر بھی روشنی ڈالیں گے ہم آپ کو ایک عرصے سے بتا رہے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں، امریکہ اور یورپ نے اپنا دشمن ڈونڈھ لیا ہے جبکہ یہ اآپس میں بھی کسمکش میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی توجہ اور جنگوں کا مرکز اب مشرق وسطہ سے ہٹ کر Asia- pacific کی طرف آرہا ہے۔
پہلے میں آپ کو تین خلیجی ممالک کے طاقتور ترین لوگوں کی تصویر دیکھانا چاہوں گا۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس تصویر میں درمیاں میں نیکرپہنے مشرق وسطہ کا سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کا کراون پرنس محمد بن سلمان ہے۔ جبکہ اس سے بھی حیران کن بات اس کے ساتھ نیکر اور ٹی شرٹ میں کھڑا قطر کا امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی،جبکہ نیلی ٹی شرٹ میں متحدہ عرب امارات کے شہزادے اور قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان ہیں۔ یہ تصویر سعودی ولی عہد کے نجی دفتر کے ڈائریکٹر بدر العساکر کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی۔عربی زبان میں کی جانے والی اس ٹوئٹ میں بدر العساکر نے لکھا کہ بحیرہ احمر میں ہوئی برادرانہ و دوستانہ ملاقات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور اماراتی قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان کی قربت کی وجہ بن گئی۔ دوہزار سترہ میں میں سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔لیکن اب اتنے دوستانہ ماحول میں تین ممالک کی اہم شخصیات کی تصویریں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ جہاں دنیا بھر میں نئی صف بندی ہو رہی ہے وہاں مشرق وسطی میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اور یہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں بھارت کو اپنی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے ایک Advantageحاصل ہے جس کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہیں، لیکن آئے روز بھارت کا کوئی نہ کوئی کارنامہ منظر عام پر آجاتا ہے۔ ان ایک بڑا سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا بھارت کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملےمیں ملوث ہے؟ داعش خراسان کےمیگزین ’صوت الہند‘ کےمطابق گذشتہ ماہ کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملہ آور پانچ سال قبل بھارت میں گرفتار ہوا تھا، مگر اسے رہا کرکے افغانستان بھیج دیا گیا تھا مبصرین سوال اٹھا رہےہیں کہ کیا وہ بھارتی ایجنسی سے رابطےمیں تھا؟ جبکہ بھارت کے TTPBLAاورIsis کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت انہی گروپوں کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔ کیا امریکہ اس پر تحقیق کرے گا ۔۔ نہیں۔۔ بلکہ امریکہ اپنا سارا غصہ پاکستان پر نکالنے کی کوشش کرے گا اوراس کے لیے امریکہ میں گراونڈ بنایا جا رہا ہے۔ اخباروں کے اداریوں سے لے کر گانگریس تک پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو غیر معمولی سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کے حملے کو روکا جا سکے۔
داعش کی 20 صفحات پر مشتمل پروپیگنڈہ میگزین کے نئے شمارے میں لکھا گیا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افغان بیورو کریٹ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی دوران عبد الرحمان لوگری نامی خود کش حملہ آور نے 13 امریکی فوجیوں اور ایک درجن سے زائد طالبان جنگجو سمیت 250 کے قریب لوگوں کو ہلاک کیا۔میگزین میں لکھا گیا ہے کہ ’کابل ایئر پورٹ حملے میں ملوث خود کش حملہ آور عبدالرحمان پانچ سال پہلے دہلی میں اس وقت پکڑا گیا تھا جب وہ وہاں پر کشمیر میں مظالم کا بدلہ لینے کے لیے ہندو عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ لیکن اللہ نے کچھ اور فیصلہ کیا تھا ۔ ان کو گرفتاری کے بعد قید میں رکھا گیا تھا اور پھر افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا جہاں پر ایئرپورٹ پر خود کش حملہ کیا۔‘وائس آف ہند میگزین کے بارے میں مختلف رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ میگزین بھارت سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے لیے ایک انتہائی اچھی خبر ہے کہ ارجنٹینا نے پاکستان سے 12 جے ایف-17 اے بلاک تھری لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔یہ خبر اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب ارجنٹینا کی حکومت نے اپنی قومی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سال 2022 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی۔فنڈ مختص کرنے کی تجویز کا مطلب یہ نہیں کہ سودا طے پاگیا ہے کیوں کہ فروخت کے معاہدے پر ابھی دستخط ہونے باقی ہیں۔تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ارجنٹینا نے جے ایف-17 طیاروں کو زیر غور متعدد آپشنز پر فوقیت دی ہے۔ارجنٹینا اس خریداری پر گزشتہ سال سے غور کر رہا ہے جب برطانیہ نے اس کی دیگر ذرائع سے طیارے خریدنے کی سابقہ کوششوں کو روک دیا تھا۔2015 سے سویڈن اور جنوبی کوریا سے لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش کررہا تھا لیکن دونوں فروخت کنندگان برطانوی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔ارجنٹینا نے 2015 میں سویڈش جے اے ایس 39 گرپن لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی، بعد میں اس نے جنوبی کوریائی ایف اے-50 فائٹنگ ایگل میں بھی دلچسپی دکھائی۔جے ایف-17 جیٹ طیاروں میں برطانیہ کی تیار کردہ ایجیکٹر سیٹ بھی ارجنٹینا کو طیاروں کی فروخت میں ایک تنازع بنی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ارجنٹینا کی فضائیہ کے لیے لڑاکا طیاروں کی تلاش میں دوسری مشکل مہنگے آپشنز کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔خیال رہے کہ ارجنٹینا کی فضائیہ 2015 میں نمایاں طور پر ختم ہو گئی تھی جب اس نے ڈاسالٹ میراج 3 انٹرسیپٹر طیارے کے پرانے بیڑے کو ریٹائر کیا تھا جو اس وقت تک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا تھا۔جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، وزن میں ہلکا، تمام موسموں، دن، رات ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس نے مودی کی بے وقوفی اور بادلوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی کوشش کے نتیجے میں بھارتی مگ طیارے زمین بوس کر کے دنیا بھر میں شہرت کمائی ۔
آسٹریلیا کے ساتھ آبدوزیں فراہم کرنے کے 50 ارب آسٹریلوی ڈالرز کا معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا پر جھوٹ بولنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہےفرانس کے وزیر خارجہ نے کہا: ’جھوٹ بولا گیا، دہرا معیار اختیار کیا گیا، اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی اور توہین کی گئی۔ ایسے نہیں چلے گا۔‘اب دو اتحادیوں کے درمیان ’سنگین بحران‘ پیدا ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا بیان فرانسیسی صدرکے حکم پر تاریخ میں پہلی دفعہ امریکہ اور آسٹریلیا سے فرانس کے سفیروں کو واپس بلانے کے ایک روز بعد سامنے آیافرانسیسی سفیروں کو واپس بلانا ایسا اقدام ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں اور اس سے معاہدے کی منسوخی پر فرانس میں پائے جانے والے غصے کا اظہار ہوتا ہے۔AUKASآکوس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ لیکن اس حوالے سے فرنسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہہم ان کی مسلسل موقع پرستی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس لیے وضاحت کے لیے اپنے سفیر کو واپس بلانے کی ضرورت نہیں۔‘سکیورٹی معاہدے میں لندن کے کردار کے بارے میں فرانس کے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’سارے معاملے میں برطانیہ کی حیثیت کسی حد تک تیسرے پہیے کی ہے۔‘جب فرانس 2022 میں NATO صدارت سنبھالے گا تو یورپی یونین کی سلامتی کے حوالے سے حکمت عملی کی تیاری کو ترجیح دے گا۔جبکہ امریکہ کے مطابق ۔۔ اس دفاعی معاہدے کے ذریعے (ساؤتھ چائنہ سی) میں چینی اثر و رسوخ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی
ڈونلڈ ٹرمپ چین پر ایٹمی حملہ کر سکتے تھے۔؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کئی کتابیں سامنے آ چکی ہیں جن میں وائٹ ہاؤس میں سابق رپبلکن صدر کے چار ہنگامہ خیز سالوں کے اختتام کے بارے میں ڈرامائی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔وائٹ ہاؤس کی ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی بیٹی ایوانکا کے شوہر اور وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں اپنے دور صدارت کے اختتام کے قریب اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے لیے صدر ٹرمپ کا رویہ اس قدر تشویش ناک ہو گیا تھا کہ انہوں نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ کیا 2020 کے انتخابات ہارنے کے بعد ٹرمپ کا ذہنی استحکام اس قدر انتشار کا شکار ہو جائے گا کہ وہ ملک کو جنگ میں دھکیل دیں گے۔ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر حملے سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے سے کہا کہ وہ صدر کو بغاوت کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔اور جنرل مارک ملے خود اس بات سے بہت پریشان تھے کہ صدر ٹرمپ کی حرکتیں غیر ملکی حریف کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکی فوج کے سربراہ کو بالآخر اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بیک چینل کالز کا سلسلہ شروع پڑا تاکہ انہیں یقین دلایا جا سکے کہ امریکی حکومت مستحکم ہے اور صدر ٹرمپ بیجنگ پر حملہ نہیں کریں گے۔جنرل مارک ملے پریشان ہو گئے کہ صدر ٹرمپ’ بدمعاشی پراتر‘ جائیں گے اور 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی بھی وقت چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے۔کیپیٹل ہل پر حملے کے دو دن بعد جنرل ملے نے نیشنل ملٹری کمانڈ سینٹر کے انچارج سینئر افسران کا ایک اجلاس بلایا تاکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے رسمی عمل کا جائزہ لیا جائے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل تھا۔جنرل ملے نے افسران کو بتایا کہ وہ کسی بھی ایسے احکامات کو نظر انداز کر دیں جن میں ان کو بائے پاس کیا گیا ہو۔جنرل ملے نے اجلاس میں موجود ہر ایک افیسر کی آنکھوں میں دیکھنے اور ان سے زبانی تصدیق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ آپ ضابطہ کار پر عمل کریں۔ اور میں اس ضابطہ کار کا حصہ ہوں
-

شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ
شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ
عمران خان سے نوازشریف اور نوازشریف سے میاں منشا تک ۔ پھر اعظم سواتی کے بعد پرویز خٹک بھی خبروں میں ان ہوگئے ہیں۔ ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ منی لانڈرنگ ، کرپشن ، لوٹ مار کے آل شریف گرو ہیں ۔ اب اطلاعات کے مطابق شریف فیملی کے کارخاص،حصے دار، جانی یار ، منی لانڈرنگ کے بے تاج بادشاہ جسے دنیا میاں منشا کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ وہ اس وقت سخت مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے کرتوت ہی ایسے ہیں ۔اب یہ کالے کرتوت دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ ایف آئی اے نے کافی تحقیقات کے بعد ایسی چیزیں اکٹھی کرلیں ہیں کہ جن کے بعد اب نہ تو شریفوں کا بچنا ممکن ہے اورنہ ہی انکے فرنٹ مین اور حصے دار میاں منشا کا ۔ کیونکہ اتنے بڑے ثبوتوں کوٹھکرایا نہیں جا سکتا ہے ۔ رہا معاملہ میاں نوازشریف کا تو وہ پہلے ہی مجرم ہیں۔ ایف آئی اے نے جو لیگل نوٹس بھیجوایا ہے ۔ اس کے مطابق رمضان شوگرملز اور دیگرشریف فمیلی کی شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ اربوں روپے ہیرپھیرکرکے قومی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیاہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہ ےکہ ایف آئی اے کے وہ افسران جن کو اس گینگ نے اس جرم عظیم کو تکمیل کے مراحل تک پہچانے کے لیے استعمال کیا اب وہ بھی کٹہرے میں لائے جائیں گے ۔ اس نوٹس میں ان افسران کے نام اورعہدے بھی بیان کئے گئےہیں۔ اس نوٹس میں میاں منشا سے کہا گیا ہےکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آپ پرجرم ثابت ہوتا ہے لٰہذا قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش بھی میں انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں۔ چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا گیا ۔ دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔۔ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک نشاط گروپڈی جی خان سیمن ٹآدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں۔ نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع بھی کی تھیں۔ ویسے نیب سے تو مجھے کوئی خاص امید نہیں ہے ۔ ساتھ ہی احتساب کے جتنے نعرے تھے وہ بھی زمین بوس ہوتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ پر میاں منشا مشکل کا ضرور شکار ہیں ۔ مگر اس ملک کی کہانی مجھے سے بہتر آپ جانتے ہیں کہ طاقتور لوگ کسی نہ کسی اسٹیج پر جاکر اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر سزاو جزا کے عمل سے بچ ہی نکلتے ہیں ۔ کیونکہ اس ملک کا نظام ہی کچھ ایسا بن چکا ہے ۔ جس بارے طاہر القادری تو بڑی کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اس نظام سے کوئی بہتری نہیں آنی ۔ حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی سے ہی آئے گی ۔
کیونکہ جو پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اس کردار وگفتار مختلف ہوتا ہے اور جیسے ہی انکو اقتدار ملتا ہے ۔ یہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں ۔ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں یہ کیا کہا کرتے ہیں اور کیوں کہا کرتے تھے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ تبدیلی سرکار آنے کے باوجود اس ملک میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ۔ ۔اس نئے پاکستان میں حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ ۔ کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کلاسیفائیڈ ہیں ۔ ساتھ موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا۔ ویسے میں نے پہلی بار سنا ہے کہ تحائف بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی ہے ۔ حالانکہ کے نئے پاکستان کے حوالے سے عمران خان کی جتنی تقاریر میں سن سکا ہوں ۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ تو نئے پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا ۔ حقیقت میں عمران خان ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کی جتنی باتیں کیا کرتے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف باتیں ہی ثابت ہورہی ہیں ۔ اب جو کابینہ ڈویثرن کہہ رہی ہے کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے۔ ۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا ۔ پتہ نہیں نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟ سچ یہ ہے کہ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں ۔ پھر پتہ نہیں وہ کون سے ملک ہیں کہ تحائف کی تفصیلات سامنے آنے سے ہمارے ان ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں ۔ مزے کی بات ہے کہ اعظم سواتی مخالفوں کے رازوں سے پردے تو خوب ہٹا رہے ہیں ساتھ شبلی فراز کو اپوزیشن کی کروڑوں کی گھڑیاں بھی دیکھائی دے رہی ہیں پر اپنا گریبان اس حکومت کو نہیں دیکھائی دیتا وہاں یہ نہیں جھانکتے
پھر قانون کی بالادستی کی بات کرنے والی تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وزیر دفاع خود ہی قانون کی عمل داری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے دکھائی دیئے۔ ۔ دراصل نوشہرہ تحریک انصاف کا گڑھ اور وزیر دفاع پرویزخٹک کا آبائی علاقہ ہے۔ پرویز خٹک ایک روز قبل اپنے حلقہ انتخاب میں جلسہ کررہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر ان کے کارکنوں نے آتش بازی کی۔ لیکن پولیس نے آتش بازی سے رکوادی۔ تعجب تب ہوا جب پرویز خٹک نے ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سٹیج سے اعلان کیا کہ آتش بازی کیوں روکی گئی۔ آتش بازی کی جائے، کسی افسر کی پرواہ نہ کریں۔ میں یہاں موجود ہوں دیکھتا ہوں ۔ دیکھتا ہوں کیسے آتش بازی کو روکا جاتا ہے۔۔ تو یہ ہے وہ ۔ صاف چلی شفاف چلی ۔۔۔۔ دو نہیں ایک پاکستان ۔۔۔۔ جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان ۔۔۔۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے ۔۔۔ آپ انکے ذرا الیکشن سے پہلے کے نعرے دیکھیں اور اب حرکتیں دیکھیں ۔ یہ اپنے ہی لگائے ہوئے نعروں ، کہی ہوئی باتوں ، دیے ہوئے منشور سے مذاق کررہے ہیں ۔ اب جب عوام ان کو جنرل الیکشن میں جھٹکا دے گے جیسے اس عوام نے تبدیلی سرکار کو ہر ضمنی الیکشن اور حالیہ کینٹ بورڈ الیکشن میں دیا ہے ۔ تو یہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیں گے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہماری ایک سیاسی تاریخ ہے ۔ جو بتاتی ہے کہ چوتھے سا ل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی بھی سویلین حکومت بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ جبکہ یہ حکومت ت ہر کام اپنے ہاتھ سے خراب کر رہی ہے ۔ ۔ محمد خان جونیجو ، یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو چوتھے سال میں ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ماضی کی تمام سویلین حکومتوں کی طرح اب عمران خان حکومت بھی چوتھا سال شروع ہوتے ہی بند گلی میں پھنستی جا رہی ہے۔ ۔ حکومت کے اہم وزراء ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کئی سیاسی اور غیر سیاسی محاذ کھول لئے ہیں۔ اس وقت میڈیا اور الیکشن کمیشن کے محاذ غیر سیاسی اور غیر ضروری ہیں۔ ۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کے چکر میں الٹا نقصان ہوتا نظر آنا شروع ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کے حامیوں نے بھی حکومت کے خلاف بندوقیں تان لی ہیں ۔
۔ دوسرا یہ خواہش تو مجھے لگتا ہے کہ حسرت ہی رہ جائے گی ۔ لیکن مان بھی لیا جائے کہ اگر زور زبردستی سے الیکٹرانک ووٹنگ کروا بھی لی گئی تو وہ غدر مچے گا کہ اسے سنبھالنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مہنگائی اور بے روزگاری نے حکومت کو ان علاقوں میں بھی غیر مقبول بنا دیا ہے۔ جو پی ٹی آئی کی جیت کا نشان سمجھے جاتے تھے ۔ یوں وزیراعظم عمران خان اور ان کے کئی وزراء فرانس کی ملکہ میری بنتے جا رہے ہیں کہ اگر روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں۔ ۔ بجلی کے بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس 5 تا 35 فیصد کا صدارتی آرڈیننس عمران خان حکومت کو بہت غیر مقبول بنا دے گا۔ پاکستان اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کرتا رہا ہے لیکن اتنی ظالمانہ شرائط والا معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا جس کے بعد بجلی اور گیس پاکستانی عوام کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ یوں آئی ایم ایف معاہدہ پاکستانی عوام کے سر پر ایٹم بم کی طرح پھٹا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کپتان کو بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ اُن کے دورِ حکومت میں عوام کو کبھی کوئی اچھی خبر نہیں ملے گی۔ اِس لئے انھوں نے پہلے ہی نصیحت کر دی تھی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
-

کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ کو بتایا تھا کبالہ کیا ہوتا ہے اس کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟ اور آج کے کالم کا عنوان ہے کہ یہ کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟ شیطان کے ان پیروکاروں کو کن علامات سے پہچانا جا سکتا ہے؟ آج کل کے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ڈارک ویب سے کیا تعلق ہے؟اگر ہم صرف پاکستان کی ہی بات کریں تو یہاں آپ کو اصلی اور جعلی بہت سے عاملین نظر آئیں گے اور ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس بہت سے موکل ہیں جن کے ذریعے وہ آپ کی تمام پریشانیوں اور مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔یہ موکل دراصل جنات ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نیک جن ہوتے ہیں اور کچھ بد۔۔۔ بدی کو ماننے والے جنوں کے ذریعے سے کبالہ اور کالا جادو کروایا جاتا ہے۔یہ عاملین کچھ ایسے عمل کرتے ہیں یا آپ کہہ لیں کہ ایسے چلے کاٹتے ہیں، شیطان کی پوجا کرتے ہیں جس کے بعد یہ موکل یا جنات کسی حد تک ان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔ جس کے بعد ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بھی یہ عاملین مسلسل کچھ اس طرح کے کام یا چلے کرتے ہیں تاکہ یہ موکل ان کے کنٹرول سے باہر نہ جا سکیں۔
ان چلوں کے لئے سب سے پہلے تو یہ عاملین پاک اور ناپاک کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔ پیشاب، پخانہ، نجاست، خون ان کو اس سے گھن نہیں آتی بلکہ اپنے چلوں میں یہ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کالے جادو کے لئے خاص طور پر خون کے ساتھ تعویز لکھے جاتے ہیں۔ تعویزوں میں شیطان کی علامات بنائی جاتی ہیں یا شیاطین کے نام لکھے جاتے ہیں۔ کچھ گنتی کو بھی الٹا سیدھا لکھ کر کچھ کوڈز بنا کر لکھے جاتے ہیں جن کا صحیح مطلب صرف اس شیطان کے پیروکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قرآنی اوراق کو جلایا جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو الٹا لکھا جاتا ہے۔ جادو کے لئے جس انسان پر یہ عمل کرنا ہو اس انسان کے پہنے ہوئے کپڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کالا مرغا، کالا کتا، کالی بلی یا کالی سری بھی جادوئی عمل کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ چاند کی تاریخوں میں مختلف پتلے بنا کر اس پر سوئیاں ٹھوکی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے کاروباروں کو ٹھپ کروایا جا سکے، میاں بیوی والدین اور بچوں کے آپسی تعلقات خراب کروائے جا سکیں۔ لوگوں کی صحت متاثر کروائی جا سکے۔ دولت، طاقت اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔اس کے علاوہ شیطانی علامات کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علامات کو لاکٹ بنا کر گلے میں پہنا جاتا ہے۔ یا جسم پر ان نشانوں کے Tattoos بنوائے جاتے ہیں۔ جیسے شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سینگھ ہوتے ہیں تو جو شیطان کے پجاری ہوتے ہیں یا جو ان کو مانتے ہیں وہ اکثر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اسی طرح کے نشان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکون، پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان یہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان کی پوجا کرنے والوں کا ایک نشان 9/11بھی ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ کبالہ کی قدیم ترین کتابوں میں جادو کے لئے جو کوڈنگ کی گئی تھی اس میں دس کا ہندسہ خدا کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور گیارہ کا ہندسہ شیطان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اب9/11کو اکھٹا لکھ کر یا نشان بنا کر نو اور گیارہ کے درمیان سے دس کو ہٹا کر دراصل یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدا کو نہیں مانتے بلکہ شیطان کی طاقت کو مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔
کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ
9/11 پر جو حادثہ ہوا اور جس پلاننگ کے ساتھ یہ کیا گیا جس کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی وہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن 9/11کا ہندسہ اس سے پہلے بھی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ Simpson cartoonsکے بارے میں اگر آپ جانتے ہوں تو اس میں بھی اس کا بہت سی جگہوں پر استعمال کیا گیا تھا۔ انگریزی فلموں تک میں اس سائن کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک ہاتھ کا نشان بھی ہوتا ہے جس کی ہتھیلی پر ایک آنکھ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشانات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ قبروں سے کھوپڑی اور ہڈیاں نکال کر ان پر بھی جادوئی عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ہاتھ کی کلائی پر لال رنگ کا دھاگہ باندھتے ہیں۔ اور شیطانی عملیات سے متعلق جتنے بھی سائن ہیں ان کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب اصل میں شیطان کے ساتھ اپنی عقیدت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف کہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ان سے کیا تعلق ہے؟
دیکھیں یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی نے صرف اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرنی ہے تو وہ مرد کسی عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے موٹروے کیس میں دیکھا اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کوئی ایک مرد یا چند مردوں کا گروہ ایک عورت کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہو جاتے ہے یا زیادتی کے بعد اس کو کسی ویران جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن آجکل آپ کو زیادہ تر ایسے کیسسز سنائی دیں گے جس میں لڑکیوں یا چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی جاتی ہیں پھر ان پر تشدد کرکے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے اور لاش کو بوری یا شاپر میں بند کرکے یا ویسے ہی کچرے کے ڈھیر پر یا کسی سنسان جگہ پھینک دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا جادو سیکھنے والے یا کالا جادو کرنے والے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں پہلے بچی کے ساتھ ناجائز عمل اور زیادتی کی کرتے ہیں پھر شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس بچی کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاص کر وہ قتل جس میں کسی بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے جائیں یا پھر مختلف حصوں کا کاٹ کر الگ کر دیا جائے اس کے علاوہ گردن کو جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایسے چلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ کالے جادو والے عاملین خود بھی شیطان کو خوش کرنے کے لئے یہ کان کرتے ہیں اور آگے اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام کرواتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا مشکل کام نکلوانا ہے یا یہ جادو سیکھنا ہے تو تمھیں بھی یہ سب کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ جو واقعات ہم مردہ عورتوں کی لاش کو نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کے سنتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے مردہ لاشوں اور قبرستان کی ویران جگہوں کو خاص طور پر جادو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرکے شیطانی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ان واقعات کا ڈارک ویب کے ساتھ تعلق بھی دراصل ان شیطانی عملیات کی وجہ سے ہی ہے۔ کیونکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں قوانین بہت سخت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کےSatanic cultوالے لوگ کیونکہ شیطان کے سامنے انسانوں کی قربانی نہیں دے سکتے تو وہ ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں جہاں لوگوں کا قانون کے ہاتھوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور ان کی حکومتوں کے لئے بھی ڈارک ویب تک پہنچنا مشکل کام ہے یہاں سے لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے یہ زیادتی اور قتل کے واقعات کروائے جاتے ہیں اور خود ان کی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو قاتل جتنی زیادہ درندگی کرتا ہے جو کسی بچی کو جتنی بے دردی سے مارتا ہے اس کو اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔اس لئے ہمیں اگر اپنی سوسائٹی کو اس طرح کے واقعات سے بچانا ہے تو ہمیں دراصل اپنے لوگوں کو شیطان کے پجاریوں سے بچانا ہو گا۔ اس طرح کے عاملین سے بچانا ہو گا جو جن نکالنے کے نام پر ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو شرک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
-

چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر
میرا آج کا موضوع ان لوگوں پر ہے جو روزی کمانے کیلئے گلی محلوں میں گھومتے رہتے ہیں،
اپنا وقت لگاتے ہیں، تپتی دھوپ میں نکلتے ہیں۔ میں بات کر رہی ہوں چھابڑی والوں (Street Hawker) کے بارے میں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح کوئی انسان برابر نہیں۔
اللہ نے کسی کو امیر بنایا تو کسی کو غریب
اللہ امیر کو دے کر آزماتا ہے تو غریب سے لے کر آزماتا ہے۔
اللہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا خرچ کرتا ہے دوسروں پر،
اللہ دیکھتا ہے میرا غریب بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔۔
کوئی اچھا کاروبار کرتا ہے تو کوئی چھوٹا۔
اسی طرح کچھ ایسے لوگ جو گلی محلوں میں گھوم کر تپتی دوپہر میں بارش میں اپنی روزی کو کمانے نکلتے ہیں،
جیسے سبزی والا، سموسوں والا، جو سکولوں کالجوں کے باہر ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی حرام روزی نہیں کمارہے یہ اپنی محنت سے حلال رزق کماتے ہیں۔
لیکن کچھ انکو حقیر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
کیوں سمجھتے ہیں لوگ ایسا؟؟؟؟
وہ کچھ ٹائم کیلیے سوچے اگر یہ سبزی والے نہ ہوتے تو گھروں میں کیا بناتے ظاہر سی بات ہے دالیں گوشت وغیرہ،
لیکن انسان سبزی کے بغیر نہیں رہ سکتا
تو یہ سب حلال رزق کماتے ہیں اپنے گھر والوں کو پالنے کیلیے۔۔
چاہے کم ہوتا ہے لیکن جتنا اللہ چاہتا ہے اسے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
بیشک حلال رزق میں برکت ہوتی ہے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ۔
اللہ پاک نے ہر انسان کی قسمت میں اسکا رزق پیدا ہوتے ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سبکو ایک مقصد کیلیے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اپنی آخرت کو سنوار سکیں عبادت کرسکیں اللہ کا شکرادا کریں۔
اللہ نے ہر انسان کی قسمت کو بہتر اور بہترین بنایا ہے صرف مسلمان ہی نہیں کافر کے ساتھ بھی
اللہ پاک ہم سب کو حسن سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔ صرف مسلمان کے ساتھ نہیں ہر انسان کے ساتھ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، امیر ہو یا غریب ہو عربی ہو عجمی ہو یا جو بھی ہے۔
اللہ کی نظر میں کوئی بھی انسان کمتر نہیں ہے۔ ہم انسان ایک مکھی کے پر جتنا بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے لیکن اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کا مذاق اڑاتے ہیں
کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
میری ان سب سے درخواست ہے جو لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان سب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں کہ وہ خود کو نا شکرا بنا لیں۔
کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کو برابر سمجھنے اور مساوی سلوک کرنے والا بنادیں۔
آمین ثمہ آمین -
افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون
امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا
کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب کا نقصان ہوا
اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے
امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا
بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھاتو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھاطالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں
بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس 80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی
بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور بہت سارا مال لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی
کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے
افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا
سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے
31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا اور احمد مسود کے ساتھ مذاکرات کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
ہوگیا@sikander037 #sikander037 -

*زہر کا گھونٹ* *تحریر بسمہ ملک* *پارٹ 2*
پھر ایک شام ابّو نے ریحان کو چائے پہ بُلایا تو ابّو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’مجھے کوئی شرط منظور نہیں۔‘‘ کس قدر بے گانگی اور بے رُخی تھی ان کے لہجے اور رویّے میں کہ ابّو تک کا لحاظ نہیں کیا۔ میرے آنسو ہر حد توڑ دینا چاہتے تھے، جب کہ امّی کہہ رہی تھیں ’’دیکھو عائشہ! اس موقعے پر تمہیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ دو معصوم بچّوں کا ساتھ ہے، صرف اپنے بارے میں نہیں، ان کے بارے میں سوچو۔ اگرتمہارے ابّو نے کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا توپھرکیا ہوگا… ؟‘‘ جب کہ دوسری جانب ریحان کے رویّے میں بھی کوئی لچک نہیںتھی۔
امّی پھر کہہ رہی تھیں’’ اپنی بہنوں کی طرف دیکھو ، زہرا اور عنائیہ کے رشتے اسی خاندان میں طے پا چُکے ہیں۔ ہمیں اپنی دوسری بچیوں کا بھی سوچنا ہے، اگر تم اسی طرح سال ،سال بھر میکے میں بیٹھی رہو گی، تو تمہاری بہنوں کا کیا بنےگا؟ یوسف اور عنائیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیںاور پورا خاندان یہ بات جانتا ہے۔ عنائیہ نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ یوسف کے علاوہ کسی سےشادی نہیں کرے گی۔‘‘امّی نے اپنی تمام مجبوریاں میری جھولی میں ڈال دیں۔
’’تو امّی اب مَیں کیا کروں؟ ابّو کی مرضی کے بغیر کیسے چلی جائوں، انہوں نے ہی تو مجھے کتنے مان سے بلایاتھا۔‘‘’’تم ریحان کو فون کردو کہ مَیں آرہی ہوں، نوید(بھائی) تمہیں تمہارےگھر چھوڑ آئے گا۔‘‘’’لیکن ابّو…ابّو ناراض ہوں گے۔‘‘’’مَیں نے تمہاری دادی اور پھپھو کو بلایا ہے، تھوڑی ہی دیر میں شمع آپا اور امّاں آجائیں گی پھر تمہارےابّو کو وہ خود سنبھال لیں گی۔ وقتی طور پر غصّہ کریں گے پھر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ اورجب تم اپنے گھر میں بس جاؤ گی، رہنےسہنے کی عادی ہوجاؤگی تو انہیں بھی تسلّی ہو جائے گی۔ ‘‘ امّی نے تو جیسے مجھے بھیجنے کی ٹھان ہی لی تھی کہ وہ میری کوئی بات سُننے کو تیار نہ تھیں۔
گویا مجھے ایک بار پھر اُسی دَر پہ سر جُھکانا تھا، جہاں میری کوئی وقعت ، ضرورت نہ تھی کہ یہی تو دستور ہے کہ ماں، بیٹی، بیوی، بہن کے رُوپ میں زہر کا گھونٹ عورت ہی کو پینا پڑتا ہے۔
@BismaMalik890 -

افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات تحریر۔ شعیب احمد
15 اگست کا دن افغانستان کی تاریخ میں وہ دن تھا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے دنیا کا طاقتور ملک امریکہ جو یہاں 20سال سے اسکو مضبوط کر رہا تھا تاکہ یہاں کوئی ایسی قوت جگہ نہ بنائیں جو انکے خلاف ہوں ۔طالبان سے امن معاہدہ ہوا کیا جس کے تحت امریکہ کو افغانستان چھوڑنا تھا لیکن کسی کے وہم گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ امریکہ یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ اور مخلوط حکومت کا امکان ختم ہوگا۔
15اگست 2021 کو اشرف غنی ملک چھوڑ گئی اور بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان طالبان کے قبضے میں آگیا دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا آیا طالبان کے 60 سے 80 ہزار لوگ اتنے مضبوط ہے کہ افغانستان کی لاکھوں سیکورٹی فورسز چند گھنٹوں میں شکست کھا گئ۔ ان میں کچھ تو طالبان کے ساتھ شامل ہوے اور نے اسلحہ ڈال کر روپوش ہوے۔امریکہ کی 3ٹریلین ڈالرز اور 2700 فوجیوں کی ہلاکت کا قوم اس سے جواب مانگ رہی ہے ۔اور امریکہ نے پھر اپنے شہریوں کی باحفاظت نکالنے کیلئے طالبان سے درخواستیں کیں۔
امریکہ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن اس خطے میں آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے ۔پاکستان افغانستان کا قریبی ملک ہے جس کے ساتھ اسکا 2611کلومیٹر کا مشترک بارڈر ہے یہ بارڈر نہایت مشکل قسم کا ہے جس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے اگرچہ پاکستان نے اسکو خاردار تاروں کے ذریعے 90فیصد محفوظ کیا ہے اور 700سے زیادہ فوجی چوکیاں بنائی ہیں لیکن پھر بھی اسکو شرپسندوں سے محفوظ سمجھنا ایک خواب ہوگا
افغان طالبان کا امریکہ کے ساتھ ڈیل کے کئی محرکات ہیں یہ ڈیل اپنے اصل روح میں لاگو نہیں ہوا طالبان نے وقت سے پہلے ہی افغانستان کا کنٹرول بغیر کسی مزاحمت کے سنبھال لیا بہت سے لوگوں کو جیل سے رہا کیا گیا جس میں 2000 تحریک طالبان پاکستان کے لوگ بھی شامل تھے جیسے جیسے افغانستان میں طالبان کا کنٹرول بڑھتا چلا گیا ادھر TTPنے بھی پاکستان میں کاروائیاں تیز کیں جسکی مثال ہمیں کوئٹہ کے Serena Hotel اور چینی انجنیئرز پر حملوں کی صورت میں ملی۔ پچھلے دو ماہ میں طالبان کی طرف سے 50 سے زائد کی ذمہ داری قبول کر نا اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں TTP کی کاروائیاں تیز ہورہی ہیں
پاکستان نے TTPکو دعوت دی ہے کہ اگر وہ اسلحہ ڈال کر پاکستان کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں تو حکومت ان کو غیر مشروط معافی دے گی جو انہوں نے مسترد کردیا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا
تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں IS-Kکے حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ IS-K اپنی مرضی کا اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے امریکہ خود بھی طالبان سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ طالبان ISKاور القاعدہ کو دوبارہ مضبوط نہیں ہونے دیں گے
دوسری طرف بھارت کا افغانستان میں رول کٹھائی میں پڑھ گیا ہے اور وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ بلوچستان Insurgency کا سیدھا لنک بھارت سے ملتا ہے
خطے کے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات کا اندازہ نیوزی لینڈ کے کرکٹ ٹیم کے عین میچ شروع ہونے سے پہلے اپنا ٹور کینسل کرنے سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں سیکورٹی کو جواز بنا کر کیا۔آنے والے وقتوں میں طالبان کے افغانستان میں آنے کے پاکستان پر دوررس نتائج ہونگے ۔
@shoaibahmadsh
-
دل کی حفاظت کریں تحریر : واجد خان
”
دنیا میں ہونے والی بیشتر اموات کی وجہ قلبی بیماریاں ہیں، ایک اندازے کے مطابق ہر سال 17.9 ملین اموات کی وجہ دل کے امراض ہیں۔ دل کے دوسرے امراض یا پیچیدگیوں کی نسبت ہارٹ اٹیک اور اسٹروک سے ہونے والی اموات کی شرح 85 فیصد ہے۔۔
دل کے امراض کی بڑی وجہ غیر معیاری لائف سٹائل اور کھانے پینے میں بے احتیاطی ہے۔۔
یہ بتانا تھوڑا مشکل ہے کہ کب ، کس کو ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے لیکن بے شک اپنے روزمرہ زندگی میں کچھ تبدیلیاں اور احتیاطی تدابیر سے ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔
ہمارے پھیپھڑوں اور پسلیوں کے درمیان گھرا ہوا دل ایک بند مٹھی کی مانند ہوتا ہے جس کا وزن 300 سے459 کے درمیان ہوتا ہے۔۔
اس عضو ( دل ) کے ذمے پورے جسم میں خون کے بہاؤ کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔۔
دل کے زریعے خون تمام جسم میں سپلائی ہوتا ہے جس میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔۔
ایک انسان میں ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجہ کارنری شریانوں کا بند ہونا ہے۔ اسکی وجہ وقت کے ساتھ شریانوں میں چکنائی کا جم جانا ہے ۔ اس بلاکیج کی وجہ سے اور شریانیں تنگ ہونے سے دل کو خون کی سپلائی میں مشکل ہوتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔اس سے بچاؤ کے لیے اپنے روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے ہم صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔۔
متوازن غذا۔۔
دل کی بیماریوں سے بچنے کےلئے صحت مند غذاؤں تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ مرغن غذاؤں اور چکنائی دار چیزوں کی وجہ سے شریانوں کا سکڑاؤ اور شوگر لیول کا بڑھنا اور بلڈ پریشر یہ سب مل کر دل کے عارضے کا باعث بن سکتے ہیں۔۔۔
اپنی پلیٹ کو سلاد، پھلوں اور صحت مند غذاؤں سے بھرئیے ، اور مصالحے دار اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں اور صحت مند رہیں ۔
چاق و چوبند رہیں۔
کوشش کریں کہ زیادہ تر خوشگوار ماحول میں رہیں، خود بھی خوش رہیں دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔ گھر کے کاموں سے فرصت نکال کر صبح یا شام واک پر جائیں اور ذیادہ سے ذیادہ کوشش کریں خود کو ایکٹیو رکھنے کی، اس کے لئیے ورزش کریں، یوگا کریں اور صحت مند رہیں۔۔
بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں ۔
ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے شریانوں کے سکڑاؤ کے ساتھ نہ صرف خون کے بہاؤ بلکہ جسم میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی میں بھی مشکل ہو جاتی ہے اسی طرح لو بلڈ پریشر بھی ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس لئے اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے چیک کرتے رہیں اور ڈاکٹر کی دی گئی ادویات کا استعمال جاری رکھیں۔۔
اسکے ساتھ اپنے شوگر لیول کو اعتدال میں رکھیں شوگر لیول کے بڑھنے یا کم ہونے سے بھی دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے اپنی غذا میں ایسی اشیاء شامل کریں جو خون میں شوگر لیول متوازن رکھیں۔۔
کولیسٹرول ، پروٹین اور چکنائی دار چیزوں سے بننے والی چربی کو کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں نئے خلیات کی تشکیل اور جسم کو گرم رکھنے کیلیئے ضروری ہے لیکن اس کا مقدار سے بڑھ جانا دل کے لیے نقصان دہ ہے۔
کولیسٹرول کی وجہ سے نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دل کو خون اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے زیادہ پریشر سے خون پمپ کرنا پڑتا ہے جو کہ پارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔
زہنی صحت۔۔
ہماری ذہنی اور جسمانی صحت بھی دل کے افعال کو متاثر کرتی ہے، جب آپ زہنی طور پہ پرسکون ہوں گے تو اس کے خوشگوار اثرات جسم پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ سٹریس اور ٹینشن بھی دل کے عارضے کا باعث بنتا ہے۔۔ اس لئیے کوشش کریں کہ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔
وزن کا بڑھنا، موٹاپا۔۔
وزن کا بڑھنا یا موٹاپا بھی دل کی بیماریوں کا سبب ہیں۔۔
ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ وزن والے لوگوں میں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول کا بڑھنا ہارٹ اٹیک کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔۔اپنے وزن کو کنٹرول رکھیں اور متوازن غذا کا استعمال کر کے ہی وزن کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔
اسی طرح جو لوگ سگریٹ نوشی ، شراب نوشی یا کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں بھی دل کی بیماریاں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔
اس لئیے ان چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے ۔۔
اس سب کے علاؤہ آپکی فیملی ہسٹری ، آپکی عمر، اور جنس بھی دل کے عارضے کا باعث ہو سکتی ہیں ۔۔
اس سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ صحت مند غذاؤں اور ورزش اور روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے صحت مند زندگی کو ترجیح دیں تاکہ ان بیماریوں کے خطرات سے بچا جا سکے ۔۔
@Waji_12