Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر   تحریر: تیمور خان

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر تحریر: تیمور خان

    تمام اعمال اور تمام عبادات بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات میں نیت اور اخلاص کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اور وہ اہم چیز قران کریم اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے، جو  ایک مسلمان کے اخلاص کے ساتھ نیت اور ارادہ ہے، مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جب بھی کوئی کام کیا کرے گا، چاہیے وہ کام خالص عبادات میں سے ہو یا دنیاوی اغراض اور مقاصد کے لئے ہو، جس مقصد کے لئے جو کام کیا جائے اس میں مسلمان اپنی نیت کو خالص رکھے اگر وہ اپنی نیت کو خالص رکھے گا تو اس نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس مسلمان کو دنیاوی اور اخروی بہت سارے ثمرات اور فوائد حاصل ہونگے، سرکارِ دوعالم ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورت انعام میں یہی ارشاد فرمایا٫٫ اے میرے حبیب  ﷺ آپ فرما دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میری ساری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ فرما دیجئے کہ مجھے اسی طرح اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نیت کو خالص رکھوں یہاں تک کہ میری موت اور زندگی خالص اللہ کہ لئے ہو، اور میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوں، قرآن کریم فرقان حمید میں بہت جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ یوں کہیے یا آپ یوں مجھ سے دعا منگیئے، کی اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما، تو جس چیز کا حکم اللہ اپنے نبی کو دے اور مطالبہ یہ ہو کہ تم اللہ سے یہ چیز مانگو تو وہ چیز نہایت ہی اہمیت کہ حامل ہوتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ احلاص نیت جب انسان ایک کام کرتا ہے اپنی زندگی اللہ کے لئے گزراتا ہے اپنے معاملات اللہ کے لئے وہ سر انجام دیتا ہے یہاں تک اس کی موت بھی اللہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس چیز کا ارشاد فرمایا،

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے بھی اپنے احادیثِ طیبہ میں اس چیز کو بنیاد فرما کر ارشاد فرمایا اور یہاں تک محدیثین بھی اپنی کتابوں کے ابتدا میں لکتے  ہیں تاکہ کوئی بھی انسان دین سیکے اور دنیاوی معاملات کے لئے دین سے شعریت سے  رہنمائی حاصل کرے تاکہ اس کی نیت خالص ہو، ٫٫ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال کی قبولیت کا دارومدار یہ نیتوں پر ہے، جس شخص کے نیت خالص ہوگی اس شخص کی عبادت اتنا ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گنا تک اجر دیتا ہے،اور اللہ جیسے چاہتا ہے اسے اس سے بھی دگنا کر کے دیتا ہے اور کبھی کبھی اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک نیکی کا اجر اللہ بے حساب بھی دیتا ہے، اب ان تمام احکامات اور آیاتوں کا دارومدار انسان کے نیتوں پر منحصر ہے، اگر ایک شخص نیکی کرتا ہے اگر نیکی دنیاوی معاملات یا اللہ کی رضامندی کے لئے ہو تو اس کا دس گنا اجر دے دیا جاتا ہے اب اس کا احلاص جتنا زیادہ ہوگا تو اس کے اخلاص کے مطابق اس کو اتنا ہی اجر ملے گا،

    تو اسی لئے نیت جو ہے یہ ایک مومن اور مسلمان کے تمام اعمال کا اصل ہے جب ہم گھر سے مسجد کے لئے نکلتے ہیں تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد میں نماز کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے جاتے ہیں، اب یہ ارادہ کامل ہوتا اس نیت کا اجر بھی سو گنا ہوگا اگر اتفاقاً ایک انسان گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور راستے میں یہ کسی کام کی طرف چلا گیا تو تب بھی اللہ اس کو پورا اجر دیگا کیوں کہ اس کی نیت مسجد جانے کا تھا، اسی لئے محدیثین فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی کام کے نیت کریں تو اس نیت کے ساتھ اور بھی اچھے کام کے نیت کر لیا کریں اگر وہ کام ہوا بھی نہیں تو بھی اس کام کا اجر ملے گا، ایک مسجد جاتے ہوئے کئی نیک نیتیں جمع ہو سکتی ہیں اب ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس کی اس  نے نیت کی تھی  تب بھی اس کو پورا کا پورا ثواب جتنی بھی نیتیں اس نے کی تھی اسے ملے گا، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جو بھی عمل انسان کرتا ہے اس کی نیتوں کا دیکھا جائے گا، اب اللہ کے ہاں نیت معتبر ہے اللہ کے ہاں ظاہری کام معتبر نہیں ہے کیوں کہ اس نے تو نیت کی تھی کہ راستے میں اگر کوئی شخص آیا میں اسے سلام کروں گا راستے میں اسے کوئی شخص ملا ہی نہیں تو بھی اس کو اجر ملا، 

    اسی لئے ایک دوسرے حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہت بہتر  ہے اب ایک انسان نے تو عمل کی تھی کہ گھر سے مسجد کی طرف جاتے وقت میں راستے میں ہر اچھے اعمال کروں گا لیکن اس نے وہ اعمال کیے ہی نہیں اسکو موقع ہی نہیں ملا اب اس نے صرف نیت کی عمل اس نے کیا نہیں گویا کہ اس نے یہ تمام کام کر لیے حضور نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جس کی نیت کا بھی اس کو اجر مل جاتا ہے، 

    لیکن اس کے بر خلاف ایک شخص کام تو بڑے نیک کرتا ہے لیکن نیت اس کی خالص نہیں ہے نیت اللہ کی رضا نہیں ہے تو یاد رکھیں یہ نیک کام بھی اس کے منہ پہ مارا جائے گا، ایک شخص ہے وہ نماز اللہ کی رضا کے لئے پڑھتا ہے تو اس کو نماز پڑھنے کا اجر دیا جائے گا، لیکن ایک انسان نماز پڑھتا ہے اس کی نے نیت بھی کی لیکن وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس سے نمازی کہیں تو فرشتے نماز اس کے منہ پہ ماریں گے کہ اسے نماز کو اللہ کی کوئی ضرورت نہیں اسی طرح ہماری زندگی کے جتنے بھی نیک اعمال ہیں ان تمام کا دارومدار نیتوں پر ہے،

    احادیث مبارکہ میں آتا ہے قیامت کے دن ایک شہید کو اٹھایا جائے گا بخآری شریف کی حدیث ہے اس شہید کو اللہ تعالیٰ کہے گا اے بندے میں نے دنیا میں تجھے یہ نعمت دی تھی فلاں نعمت دی تھی وہ اقرار کرے گا ہاں میرے رب تو نے یہ سب کچھہ دی تھی اللہ پوچھے گا پھر تو نے ان نعمتوں کے بدلے میرے لئے کیا کیا، تو یہ شہید کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تیرے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، اللہ فرمائے گا نہیں نہیں تو نے اس لئے جان قربان نہیں کی کہ میرا دین سربلند ہو بلکہ تو نے اس لئے جان قربان کی کہ لوگ آپ کو بہادر اور شہید کہیں، جا تجھے دنیا میں تمغے بھی مل گئی تیری وا وا بھی ہو گئی، اے فرشتوں اس کو جہنم میں لے جاؤ، اب وہ شہید اس کی نیت خالص تھی اور اس کی نیت اللہ کی رضا تھی اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن وہی شہید عمل تو وہی ہوا اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن اس کے نیت میں فرق تھا تو الٹا وہ جہنم میں داخل ہوا،

    اسی لئے تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جو  بھی عمال کرے چاہے وہ دنیا کے لئے ہو  یا چاہے وہ  آخرت کے لئے ہو ہر عمل میں  اس کی نیت خالص ہونی چاہیے اسی لئے نیت اپنی خالص کر لیں ہم سب کو چاہئے کہ اپنی نیتیں خالص کر لیں عمل بے شک اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کر رہے ہیں لیکن نیت وہ اللہ کی رضا ہو اور جب اللہ رضا ہوگا تو اس کے اجر ہمیں بے شمار ملیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  •   بداخلاقی،عریانی،فحاشی کا سیلاب  تحریر: شھریار سیالوی

    ٹوئیٹر ہینڈل: @shehryarsialvi

    پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت خداداد ہے۔ ہماری نئی نسل کو بھی تحریک پاکستان کے مقاصد سے آگاہ رہنا چاہیئے تاکہ وہ تعمیر پاکستان کیلئے کوشاں رہے۔ آج پاکستان میں سے  بےسمت نظام تعلیم، شرم وحیاء کا خاتمہ، عریانی، فحاشی اور مادر پدر آزاد تہذیبی چلن نئی نسل اور ملک و ملت کیلئے بڑی تباہی، خطرات کے اشارے ہیں۔پاکستان قائد اعظم (رح)، علامہ اقبال( رح) اور مشاہیر پاکستان کے تصور کے مطابق صالح فکر اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔

       قائد اعظم (رح) نے ملت پاکستان کیلئے نظریہ، ثقافت، تہذیب، اتحاد و یگانگت، درد مشترک اور قدر مشترک کیلئے شاندار راہ متعین کی لیکن آج نظام تعلیم، نظام ثقافت و معاشرت، تہذیب و اقدار کو فحاشی، بےحیائی اور مذہب بیزاری کیطرف پوری قوت سے دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں بداخلاقی، نفس پرستی اور لذات جسمانی کی بندگی آخری حدوں کو چھو رہی ہو، جہاں مرد و خواتین، جوان و پیرعیش پرستی اور بےحیائی کے دلدادہ بنائے جارہے ہوں تو یہ قومی ہلاکت کے آثار ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔ اسلامی نظریاتی مملکت میں فیشن کے نام پر عریانیت پر مبنی کیٹواک، الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور اور منہ زور تشہیر آخر نئی نسل کو کس آزادی سے روشناس کیا جارہا ہے؟ یہی طریقہ واردات مغربی قوموں کو قوت حیات کو گھن کیطرح کھا رہا ہے۔ یہ ایسا گھن ہے کہ جس قوم کو لگ جائے اس کا جینا محال ہوجاتا ہے۔

    افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل، سلامتی، باہمی احترام کا راستہ اگر کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے جس کے پاس انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل اور الجھنوں کے صحیح حل موجود ہیں لیکن تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ جن کے پاس حیاء، عزت و احترام، محبت و حدت کی روشنی کا چراغ ہے وہی خود اپنے اعمال کی خرابیوں کی بنیاد پر دوسروں کو راستہ دکھانے کی بجائے خود اندھوں کیطرح بھٹک رہے ہیں، جو قومیں بھٹک چکی ہیں، جن کی نسلیں بگڑ چکی ہیں، اسلامیان پاکستان ان بھٹکنے والوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، پاکستان بڑے مقاصد اور بڑی قربانیوں کیساتھ وجود میں آیا۔ آخر کب تک ہم بھٹکیں گے؟ بحیثیت انسان کوئلے کی چھت اور تاروں بھرے آسمان کا فرق محسوس کرنے سے کب تک انکار کرتے رہیں گے؟ اسلامی اخلاقیات میں حیاء کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ حیا، تمدن و معاشرت کو صحیح سمت اور عریانی و بےحیائی انسانی معراج کو زمین بوس ہی نہیں ذلت و بربادی سے دوچار کر دیتی ہے۔ اسلام کے تصور اخلاق کے مطابق تشکیل پانے والا معاشرہ، خاندان کی بقاء اور تحفظ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کیونکہ خاندان ہی تہذیبوں کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی تعلیمات اخلاقی اور روحانی قدروں کی حامل اور دین میں اس حوالہ دے خاندان کا ادارہ ماضی اور حال کے درمیان اہم رابطہ اور بندھن ہے، اسلامی تعلیمات نوجوان نسل کی تربیت اور تنطیم کا اولین مکتب ہے، اقدار کی تعلیم، باہمی احترام و محبت، تفہیم و تعاون، حکم اور اطاعت جیسے اعمال اور اوصاف پر زور دیتا ہے جس سے متوازن مزاج افراد تیار ہوتے ہیں۔ اس سے ہی معاشرے کو استحکام ملتا ہے۔ مسلم خاندان پر فحاشی، بےحیائی، عریانیت، بدتہذیبی کے وار کے ذریعے اسے بےوقعت، بےوقار اور ذلیل کیا جارہا ہے تاکہ خاندان ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ یہ روش دین اور ایمان کو لوگوں کے سماجی اور سیاسی امور سے بےدخل کردینا چاہتی ہے۔ 

    آپ نے فرمایا: 

    "جب عریانی اور فحاشی عام ہوجائے گی، تو لوگوں میں ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہونگی، جنکے متعلق نہ تو تم نے پہلے کبھی سنا ہوگا اور نہ تمہارے آباو اجداد نے” ۔ عریانیت، برہنگی، نجی شخص اور تنہا ایک گناہ نہیں بلکہ متعدی اور کئی گناہوں کا اذیت ناک مجموعہ ہے۔ اللہ اور اسکے رسول کو ناراض کرنا ہے، بےحیائی، فحاشی اور بدکاری کو دعوت دینا ہے۔ معاشرہ میں گندگی، اخلاقی انارکی کو عام کرنا ہے۔ غرض عریانیت، نفسانی جذبات اخلاقی نوعیت کے تمام گناہوں میں بنیادی اور اولین کردار ادا کرتی ہے۔ 

    گذشتہ اور قریبی عرصہ میں عریانیت، فحاشی کے خلاف ریاستوں  اور قانون نے تو کوئی سنگین اور سخت سزا تجویز نہیں کی لیکن ایک اور نقد سزا دریافت ہوئی ہے، سزا کیا ہے، موت کا پروانہ ہے۔ جیتے جی انسان مر جاتا ہے۔ معاشرہ اور برادری سے کٹ جاتا ہے۔ علیحدہ کردیا جاتا ہے، یہ قدرت کی گرفت ہے اور یہ سزا ایڈز ہے۔ 90ء کی دہائی میں اس مرض کی تشخیص کی گئی اسکے بعد سے ایڈز، ایچ آئی وی (HIV Positive) کی امراض مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور لاعلاج مرض ہے۔ اگر اس وقت دنیا میں ایڈز کا مرض پھیلنے کی رفتار برقرار رہی تو مجموعی طور پر پوری دنیا میں   2022ء تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 70 ملین تک پہنچ جائے گی۔ 

    اس سنگین صورتحال میں تو عبرت یہ تھی کہ انسانوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور رہنمایان قوم، پالیسی سازوں، میڈیا کی دنیا کے آقاوں کا مردہ ضمیر جاگ جاتا اور تمام مل کر فحاشی، بدتہذیبی، عریانیت، کے خاتمے کیلئے کمربستہ ہوجاتے، کم از کم اسلامیان پاکستان کیلئے اسلام کی سراپا رحمت تعلیمات کو اپنا لیا جاتا مگر یہ حیران کن حقیقت ہے کہ بےحیائی اور عریانیت کو تاریخ بنادینے کی آواز کوئی بلند نہیں کرتا، معاشرہ کو صاف ستھرا، پاکیزہ اور عریانیت سے محفوظ بنانے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ دردناک اور عبرتناک بیماریوں سے نجات کیلئے اس کی خرابی کی جڑ کوختم کرنیکی آواز بلند نہیں ہوتی۔عریانیت، بےحیائی، بداخلاقی اور بدتہذیبی کا ماحول برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کیلئے سدباب کی جو تجاویز دی جارہی ہیں یہ فریب، دھوکہ، اور مزید تباہی کا سبب ہیں۔ اس صورت حال سے نجات کا تو یہی طریقہ ہے کہ فکر لاحق ہو، احساس کی جڑیں گہری ہوں، بےحیائی، بداخلاقی، عریانیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے دانش مندانہ، موثر اور کامیاب علاج یہ ہے کہ اس بربادی کی راہ کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے، جو اسلوب جان لیوا ہیں، خاندان کی بربادی، انسانیت کی توہین اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو۔ ایسے ارادوں اور عمل سے اجتناب اور کنارہ کشی اختیار کی جائے، اپنے گھرانوں اور اولادوں کو حق سے آشنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کا خوگر بنایا جائے۔ قرآن کی انسانیت نواز تعلیمات پر عمل کرنے کی بنیادوں پر اسلامی معاشرت کو اپنانے اور اختیار کرنیکی کوشش کی جائے۔ 

    ملک میں آئین، قوانین، ذرائع ابلاغ کا ضابطہ، عریانیت، فحاشی، بدتہذیبی کے تدراک کی رہنمائی دیتے ہیں۔ عدالت عظمی میں ان قوانین پر عملدرآمد کے مسائل پر آئینی، قانونی پٹیشن زیر سماعت ہیں۔ عوام خود خاندانون کے سربراہ، حکمران، پالیسی ساز، قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اور عدلیہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فکر کریں، آگے بڑھیں، خاموشی توڑیں اور اس بڑھتی بربادی کا سدباب کریں اور نئی نسلوں اور قیام پاکستان کے مقاصد کو محفوظ بنائیں۔

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت     تحریر اصغر علی

     

    حصہ اول:-                                                             

    یہ بات آج سے سات سو بیس سال پہلے سنہ 1390 کی ہے جب دنیا کی دو طاقتور ترین سلطنتوں کی سرحدیں آپس میں ملتی تھی ایک طرف سلطنت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف تیموری سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کا سلطان بایزید اول تھا اور تیموری سلطنت کا سلطان ایک منجھا ہوا جنگجو امیر تیمور تھا ایک وہ تھا جو ایشیا کے بعد یورپ کے بڑے بڑے امپائر گرا رہا تھا اور دوسری طرف امیر تیمور جو بغداد سے دہلی تک اور عرب کے صحراؤں سے لیکر ازبکستان کے پہاڑوں تک تمام علاقے فتح کا چکا تھا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کی سرحد پر دستک دے رہے تھے یہاں پر آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں سلطان آمنے سامنے ہوئے تو ایک سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور کچھ سالوں بعد دوسرے کی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی یہ کیسے ہوا بایزید اول اپنے بھائی کو قتل کر کے سلطنت عثمانیہ کا سلطان بن گیا تھا یہاں پر سلطنت عثمانیہ کو دو خطرے تھے ایک طرف کرمانی سلطنت  جو کہ سلطنت عثمانیہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی اور اس وقت کرمانی سلطنت کو مملوک سلطنت جو کہ مکہ اور مدینہ پر قائم تھی کی حمایت حاصل تھی اور اس وقت سلطنت عثمانیہ  نے کرمانی سلطنت کےپر حملہ کردیا اور کرمانی سلطان کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا قریب تھا کہ کرمانی سلطنت سرے سے ہی ختم ہو جاتی مگر ایسے میں آج کے ازبکستان سے ایک طوفان اٹھا اور خود عثمانی سلطنت ہی خطرے میں پڑ گئی اس کا نام تھا امیر تیمور لنگ

    امیر تیمور ایک جنگجو سردار تھا جس نے اپنی جنگی مہارت کے باعث سمرقند پر قبضہ کر لیا اور اس کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا اور اس نے اپنی تیموری سلطنت کو  از بکستان پاکستان انڈیا افغانستان ایران ایراق آذربائیجان روس شام تک پھیلا لیا تھا  کل ملا کر بات کریں تو امیر تیمور چالیس سے زیادہ چھوٹے بڑے ملکوں اور ریاستوں پر قبضہ کر چکا تھا سن 1399  میں  تیموری سلطنت کی سرحدیں عثمانی سلطنت کو چھونے لگی تھی جو جو علاقے  عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لیے تھے ان کے حکمران امیر تیمور کے پاس گئے اور جا کر عثمانی سلطان کے بارے میں بتایا امیر تیمور نے عثمانی سلطان کو خط لکھا اور خط میں اس  نے کہا کہ جو علاقے تم نے فتح کیے ہیں وہ اپنے پاس رکھو اور جو باقی علاقے رہ گئے وہ ان لوگوں کو واپس کر دو اگر نہیں تو میں خدا کا قہر بن کر تم پر نازل ہو جاؤں گا یہ خط عثمانی سلطان کے پاس پہنچا  تو اس خط کو پڑھ کر سلطان بایزید اول کو کہر چڑھ گیا کیونکہ آج تک کسی نے ایک سوپر پاور کو اس طرح نہیں للکارا تھا غصے میں آگ بھگولا  سلطان بایزید اول نے پہلا کام یہ کیا ک جو قاصد تیمور کا خط لے کر آئے تھے  ان کی داڑھیاں کاٹ دی اس کے بعد ان کو خوب بےعزت کیا اور دربار سے نکال کر واپس بھیج دیا یہ اس بات کا پیغام تھا کہ عثمانی سلطان بایزید اول کسی سے نہیں ڈرتا یہ ایک طرح کا طبل جنگ تھا لیکن جنگ سے پہلے آگ کو اور بھی بھڑکنا تھا اس کے بعد سلطان بایزید اول نے امیر تیمور کو ایک خط لکھااور اس خط میں لکھا کیوں کہ تمہاری لا محدود لالچ کی کشتی خود غرضی کے گھڑے میں اتر چکی ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی گستاخی کے بادبانوں کو نیچے کر لو ورنہ ہمارے انتقام طوفان سے تم سزا کے اس سمندر میں غرق ہو جاؤ گے جس کے تم حقدار ہو یہ خط جب امیر تیمور تک پہنچا تو اس نے یہ خط پڑھ کر عثمان سلطان کو جنگ کا پیغام بھجوا دیا ادھر یورپی لوگ جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اس جنگ کو مسلمان اور عیسائیت کی جنگ کہہ رہے تھے وہ بھی امیر تیمور کو خفیہ پیغام بھیجنے لگے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیں اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سلطنت بیزنٹائن امپائر بھی تیمور کے ساتھ مل گئی اور اس نے چودہ سو ایک میں ترکی کے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا اور بہانہ اس کا یہ تھا کہ یہ علاقہ اسی کی ملکیت تھی جو عثمانیوں نے اس سے زبردستی چھین لی تھی اس کے بعد امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا اور زبردست جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنا ٹریڈمارک چھوڑ دیا امیر تیمور کا ٹریڈ مارک خوف اور دہشت پھیلانا تھا اس نے چار ہزار لوگوں کو زندہ گاڑ دیا جس جگہ پر امیر تیمور نے قبضہ کیا اس کی ذمہ داری سلطان بایزید اول نے اپنے بیٹے ارطغرل کو دی ہوئی تھی تیمور نے بایزید اول کے بیٹے سمیت تمام جنگجوؤں کو ہلاک کردیا اور جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو ظاہر ہے اس کے پاس مقابلے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا اور وہ امیر تیمور کے تعاقب میں نکل پڑا اس کے ساتھ ستر ہزار فوج کا لشکر تھا بایزید اول ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ امیر تیمور کے لشکر کی جانب بڑھتا گیا اور انقرہ پہنچ کر اس نے ڈیرے ڈال دیئے اس کے بعد بایزید اول انقرہ سے آگے بڑھا اور امیر تیمور کے لشکر کے قریب ہوتا چلا گیا امیر تیمور اپنی فوج سمیت پیچھے ہٹنے لگا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی تیموری سلطنت کے قریب پہنچ گیا اور یہاں پر آکر امیر تیمور اپنے لشکر سمیت اچانک کہیں غائب ہو گیا بایزید اول ہفتوں اس کا انتظار کرتا رہا کہ اتنے بڑے لشکر سمیت تیمور کدھر چلا گیا آخر کار چار مہینوں انتظار کے بعد سن چودہ سو دو میں میں بایزید اول کو پتہ لگ گیا کہ تیمور کا لشکر کہاں ہے مگر یہ خبر بایزید اول پر بجلی بن کر گری تیمور کا لشکر اس کے پیچھے سلطنت عثمانیہ کے شہر اور موجودہ ترکی کے دارالحکومت وقت انقرہ شہر پہنچ چکا تھا اور انقرہ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا

    جاری ہے……… 

    Twitter id:  @Ali_AJKPTI 

    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی

    ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی


    آج کے پر آشوب اورنفسانفسی کے دور میں، زیادہ تر لوگ ڈپریشن و ٹینشن جیسے امراض سے نبردآزما ہیں۔ ذہنی سکون اولین ترجیح تو ہے لیکن بدقسمتی سے نایاب ہوتی جارہی۔
    معاشی مسائل ہوں یا معاشرتی تفکرات، روز بروز ہمارے اضطراب و بے سکونی میں اضافہ کررہے اور ہم بےبسی سے تماشا دیکھ رہے۔بظاہر پرآسائش گھر، پرتعیش گاڑیاں،مال ودولت، اولاد سب ہے لیکن قلبی سکون نہیں۔ عجیب بےچینی ہےجس کا مداوا نہیں ہوپارہا۔گولیاں پھانک کر بھی نیند سے محرومی ہے۔ حالانکہ صدقہ و خیرات میں کوئی کوتاہی نہیں، نماز پنجگانہ اور حج و عمرہ باقاعدہ، پھربھی پریشانی ہے کہ جاتی نہیں۔ پریشانی بھی ایسی جو ناقابل بیان و برداشت،ایسے رستے زخم جن کا مرہم ناپید۔ وجہ؟ حقوق اللّٰہ و حقوق العباد میں کوتاہی۔
    اورحل؟ سادہ ترین۔ لیکن اپنی انا کو کون مارے؟
    فرمان باری تعالیٰ ہے
    "اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔”
    لیکن اگر عبادات، صدقات، خیرات سکون دینے سے قاصر ہیں تو یقیناً ہمارےمعاملات زندگی بگاڑ کا شکار ہیں۔
    حقوق اللہ کی معافی تو یقیناً توبہ استغفار سے مل سکتی لیکن حقوق العباد کی معافی بغیر تلافی و کفارہ دیے ممکن نہیں۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کردیں گے لیکن بندوں کے حقوق جب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
    تو پھر ہم کہاں بھٹکتے جا رہے؟
    انسان اتنی عجیب مخلوق ہے کہ جو چیز اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھ دی ہے اسے مادی اشیاء میں تلاش کرتا۔حقوق العباد سے پہلو تہی کرنے والوں کے مقدر میں بےچینی و پریشانی لکھ دی جاتی۔ سکون، خوشی، اطمینان یہ سب انسان کی ذات میں پوشیدہ ہیں۔ اچھائی و نیکی کیلئے معمولی سی کاوش بھی لامحدود نتائج دیتی جبکہ ایک معمولی غلط کاری دل پر سیاہ داغ کی صورت اپنا نشان چھوڑ دیتی۔ دل جتنا خوبصورت و پرنور ہو گا اتنا ہی اطمینان قلب نصیب ہو گا۔ جبکہ سیاہ کاروں کیلیے تو دنیا میں بھی بے سکونی و گمراہی ہے اور آخرت میں بھی ضلالت و رسوائی۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ظاہری خوبصورتی کیلئے تو ہر حد تک جاتے یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کرانےسے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اندرونی بدصورتی کا سدباب کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
    دولت کے انبار، رنگ و نور کا سیلاب، عیش وعشرت، سیرو سیاحت، تفریحات و ترغیبات، شراب و کباب سے آراستہ رنگین محافل، منشیات،مزید برآں ان خرافات کے حصول کیلئے کی گئی کرپشن، رشوت، حرام کمائی، دھوکہ بازی! الغرض حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی۔
    جان لیجیئے: یہ سب وقتی خوشی تو دے سکتے لیکن سکون قلب دینا ان مادی اشیاء کے بس کی بات نہیں۔الٹا سرمایہ، وقت اور صحت کا ضیاع ہے
    کیا وجہ ہے کہ تاریخ انسانی کےکامیاب ترین افراد خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے حالانکہ وہ بظاہر تمام نعمتوں سے مالا مال تھے؟ پھر خواہ وہ ہٹلر ہو یا مشہور پینٹر وان گوگ، حسنیہ عالم قلوپطرہ ہو یا سلیبرٹی شیف انتھونی بورڈین، اداکار سوشانت سنگھ ہو یامزاح کا بے تاج بادشاہ رابن ولیمز، کامیاب ترین ہوکر بھی ناکام قرار پائے۔
    "بےشک انسان خسارے میں ہے”
    اپنی گمراہی پر خود گواہ،شیطانیت کا آلہ کار بناہوا۔ حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی اور اپنے وقتی سکون کیلئےگھاٹے کا سودا کرکے خوار ہوتا۔
    اگر ذہنی سکون چاہیے تواپنے مردہ ضمیر کو جگائیں۔خود احتسابی پہلا قدم ہے سکون قلب کے حصول کیلئے۔ اور یہ قدم ہر انسان کو خود اٹھانا پڑتا۔خلوص، محبت، اخوت ، رزق حلال، سادگی، عاجزی یہ وہ گنج ہائے گراں مایہ ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتے۔ بظاہر معمولی لیکن ہر وصف اپنے اندر سمندر جیسی وسعت سموئے ہوئے ہے۔ حقداروں کو ان کا حق دیں۔ مخلوق خدا کے ساتھ معاملات ٹھیک کریں،حق تعالیٰ وہ بھی ودیعت کرے گا جو آپ کے گمان میں بھی نہ ہوگا۔ آزمائش اور سزا کا فرق جاننے کی کوشش کریں جو مصیبت قرب الٰہی عطا کرے وہ آزمائش ورنہ سزا۔ حضرت محمد ﷺ پر سب سے زیادہ تکالیف آئیں لیکن ان سے بڑھ کر خدا کومحبوبﷺ کوئی نہیں۔ لوگوں کی تکلیفوں میں انکا ساتھ دیں اللّٰہ تعالیٰ آپکی تکالیف دورکردے گا۔
    فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت 
    ناانصافی، رزق حرام، جھوٹ، نمود و نمائش ہماری زندگی کو جہنم بنادیتے لیکن ہم وقتی و ذاتی اغراض کے حصول کیلیے ان علتوں کو گلے لگائےبیٹھے ہیں۔ رسم ورواج، سماجی روابط، عہدے و رتبے کو خدا بنا کرسکون قلب کے طلبگار ہیں؟
    ذہنی سکون عطائے خداوندی ہے جس کو میسر ہو گیا اس کیلئے مشکلات میں بھی آسانی کا وعدہ ربی ہے اور جو اپنی خطاکاری و ریاکاری کی وجہ سے محروم رہا وہ حریر و ریشم کے باوجود بھی نامراد رہے گا
    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
    writer :

    Syed Ghazi Ali Zaidi

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • حصّولِ عزت ایک آزمائش  تحریر: یاسر خان بلوچ

    حصّولِ عزت ایک آزمائش تحریر: یاسر خان بلوچ

          عزت زلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء بیدک الخیر کا مالک شہنشاہ مطلق کی ذات ہے۔ لوگ پیسوں کے ساتھ اپنی عزت اور معیار بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، عزت کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اور اپنا سٹیٹس بڑا شو کرنے کیلئے بڑے بڑے رشتوں کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اپنے سے بڑے رُتبے والے سے دوستی رکھتے ہیں۔ عزت کیلئے انتھک محنت رات دن ایک کر لیتے ہیں صبح شام دوڑ لگی ہوتی ہے۔

          یہاں جس کی ایک لاکھ مہینہ کی آمدن ہو وہ سمجھتا کے میں سب سے زیادہ معتبر شخص ہوں مجھے عزت دی جائے میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔ کسی کو کرسی مل جائے وہ سمجھتا کہ عزت مل گئی، اچھی نوکری مل جائے سمجھتا عزت مل گئی، کالا دھندہ چلنے لگ جائے سمجھتے ہے کہ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ نادان سمجھتا ہے جتنی بڑی کوٹھی ہو گی، جتنے زیادہ نوکر چاکر ہوں گے اتنی زیادہ عزت ہو گی پتہ نہیں ہم لوگوں نے عزت کو کیا سمجھا ہوا ہے؟ 

          دراصل عزت میں عزت ملے گی جتنی عزت کرو گے اتنی عزت ملے گی تمہیں سب سے پہلے عزت کا حق ادا کرنا ہے رب العزت کا پھر رب کے نبی کی عزت کا پھر مومنین کی عزت کا  خدا اور اس کے رسول کی آمد کا رسول کے صحابہ کی عزت کرنے کا اگر تم ان سب کی عزت کا حق ادا کر لیتے تو پھر یقین رکھ اپنے رب کریم پر وہ کبھی بھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ اور اگر تو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور بڑی کوٹھی بڑے رتبے اور زیادہ پیسے کے حصول کیلئے دوڑ لگائے گا اور ان کی عزت نہیں کرے گ جن کی عزت تم پر فرض ہے تو یہ بات جان لے کہ وہ ذات تجھے تیرے گھر میں بے عزت کر کے چھوڑے گا۔

          یہاں ہم سب آزمائش میں ہیں۔ اللہ آزمائش کرتا ہے مال و اولاد دے کر، علم دے کر، حسن دے کر، بھوک دے کر، نوکری دے کر، دُکھ دے کر، سکھ دے کر ہر حال میں آزمائشیں ہیں۔ عزت ذلت کے فیصلے موت کے وقت ہوتے ہیں یا پھر آخرت میں ہوں گے۔

          یہاں پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں معزز ہوں عزت والا ہوں تو پھر عزت دار بننے کے جھوٹے خواب کیوں دیکھتا ہے؟ 

          موت کو جتنا زیادہ یاد رکھو گے اتنے زیادہ ذرائع عزت کے رب عطاء کرے گا۔اللہ تیری وہاں سے عزت بنائیں گے جہاں تک تیری سوچ بھی نہیں ہوگی، تیرا وہ مقام ہو گا جس کے تم مستحق ہو گے۔

          اگر ہمیں عزت دار بننا ہے تو ہمیں قرآن مجید اور سیرت مصطفیٰ کو سامنے رکھ کر خود کو دیکھنا چاہیے۔ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہو گا کہ معزز کس طرح ہوتا ہے اور ہم کیا ہیں۔ ہمیں قرآن مجید اور سیرت محمد مصطفیٰ کو آئینہ بنا کر دیکھنا ہو گا۔ اور انہیں کے بتائے ہوئے راستے پر ہی تو ہم عزت حاصل کر سکتے ہیں۔

          @YasirKhanblouch

  • کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ کبالہ دراصل بابل کی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد شمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر کالا جادو یا Black magicبھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا باہرسے تو بہت رنگین، حسین اور خوبصورت نظر آتی ہیں لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے راز چھپے ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں وہ یہ راز چھپانے کے لئے ہر حد تک چلے جاتے ہیں اس کے لئے چاہے ان کو کسی ایک یا پھر بہت سے انسانوں کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ ان طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطانی پیروکار ہیں اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات اورHypnotismکے ذریعے دماغ اور اس کی سوچوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے اس کے ذریعےAluminatiجو کہ دنیا کا ایک فیصد ہیں شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں اور شیطان انہیں دنیا کو گمراہ کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سمجھاتا ہے جس کو اپنا کر یہ لوگ دولت شہرت اور حکمرانی کے خواب کو پہلے ہی پورا کر چکے ہیں۔

    کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکل میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے بنی اسرائیل تک سے ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اور آپ ہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے جو موجودہ فلسطین میں آباد تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام جن کا قصہ یقینا ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیسے حسد کی بناء پر ان کے سوتیلے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ پاک نے آپ کو مصر کی حکمرانی عطا فرمائی، آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین سے مصر بلوا لیا اور یہ لوگ یہاں آکے آباد ہونے لگے۔
    مصر میں ان دنوں جادو میں عروج کمال پر تھا یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے مثال کے طور پر سامری نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لیئے فرعون کے کہنے پہ بلوائے گئے تھے وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتے تھے۔اس دور کے مصری بادشاہوں کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے جادوگر فرعون کو کبالہ نامی کالے جادو کے ذریعے سے شیطان سے رابطہ کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سکھاتے اور ایسی ایسی ایجادات کرواتے جن کو ابھی تک سائنس سمیت انسانی عقل حیرت سے تک رہی ہے انہی ایجادات میں ایک احرام مصر بھی شامل ہیں، نمرود کے دور کی عجیب ایجادات بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ سے فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران بنی اسرائیل قوم فرعونوں میں رہتے ہوئے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کرنے لگیں۔

    بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کر لی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس کبالہ کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا ۔مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا بچے کچے یہودی مجبورا ہجرت کر کے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پہ حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
    لیکن پھرگیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں ان بچے کچے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نامknight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیرز نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو انknight templarsنے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کر کے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پہ حکمرانی کرنا انknight templars کا مقصد تھا۔ یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہی کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کر کے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ جب عیسائیوں کو ان knight templars کے یہودی ہونے کا پتہ چلا تو انہیں قتل کرنا شروع کر دیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر یہknight templars سکاٹ لینڈ ہجرت کر گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں سے اپنا اثر و رسوخ پورے برطانیہ تک پھیلا دیا۔ یہاں سکاٹ لینڈ میں انknight templars کے یہودیوں نے لوگوں کو طاقت اور دولت کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دیئے کیونکہ وہ لوگوں پر حکمرانی کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیلنے کے تمام تر حربے جان چکے تھے یوں آہستہ آہستہ لوگ دولت اور ان کی سوچ کا شکار ہو کر ان میں شامل ہوتے گئے کیونکہ انسان فطری طور پر دولت اور طاقت ہی چاہتا ہے اور یوں یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128 میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا جس کے نتیجے میں اسknight templarsنامی تنظیم کو تمام یورپی قوانین سے استثنی حاصل ہو گیا اور یہی چیز ان کے طاقت میں اضافے کا باعث بنی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت جلد ہی یہ لوگ دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ جائیدادیں، قلعوں، جاگیروں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے لگے۔

    یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی اس تنظیم کا سربراہ Grand masterکہلاتا ہے اور ان کے نائب ماسٹر کہلاتے ہیں۔ گرانڈ ماسٹر کا حکم ان کے لیئے خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ بیرون ممالک سفر کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ راستے میں ڈاکووں کا خدشہ رہتا تھا انknight templarsنے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔ بعد میں یہی یہودیknight templarsیورپ میں پہلے سے موجود ایک تنظیم میسن گِلز میں شامل ہوگئے اور یہاں کبالہ جادو کے رسومات اور علامات متعارف کروانا شروع کر دیئے۔ کچھ عرصہ بعد میں انknight templarsیہودیوں نےMeson gillsکے ہی اراکین میں سے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اپنا نام بدل کرFree meson رکھ لیا اور یوںFree meson نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزارگی کو فروغ دینا تھا انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔چنانچہ اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس تنظیم نے یورپ میں جنگوں کو بڑھایا اور سودی کاروبار یعنی بینکنگ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف وغیرہ بنا کر دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ کیونکہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ اس کی معیشت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تیر سے دو شکار کر کے مغرب میں جنگ کروا کر مذاہب خاص طور پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مذہبی بیزارگی کو فروغ دیا اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے اپنے ہتھیار بھیج کر اربوں پتی بن گئے۔سترہ سو چھہتر میں اسFree meson نے مل کر ایک نئی تنظیم
    Aluminati قائم کی،Aluminati کے نظریات اور مقاصدFree meson کے جیسے ہی تھے۔ لفظAluminati کا مطلب علم کی روشنی سے معمور ہے۔ سبAluminati خود کو دنیا کے علم میں خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ ان کے سبplans خفیہ رہتے ہیں کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ جو علم ان کے پاس ہے وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہونا چاہیئے اسی لیئے ان کا دین ان کا ایمان ان کا جینا مرنا سب ہیAluminati ہے۔بائیبل میں ابلیس کا نام لوسیفر بتایا گیا ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا علمبردار۔ دراصل شیطان کو لوسیفر تب کی بناء پہ کہا گیا ہے جب وہ اللہ کا فرمانبردار ہوا کرتا تھا لیکن یہ تنظیمیں آج بھی شیطان کو اچھا مانتی ہیں اس لیئے وہ شیطان کو لوسیفر ہی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ لوسیفر ہر چیز کا منبہ ہے خاص طور پہ ساری روشنی اور سارے علوم کا۔ Albert pikeجوکہFree mesons کے فاونڈرز میں سے ایک تھا وہ ایک 33 ڈگری Free mesonتھا جیسے ہمارے ہاں درجہ بدرجہ اولیاء اللہ اور تقوی کے لحاظ سے بڑی بڑی ہستیاں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کے ہاں بھی بتدریج ابلیس کے پجاری ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا درجہ 33 ڈگری کا ہے۔Albert pike کی کتابMorlis and Dogmaآج بھی
    Free mesonکے سٹوڈنٹس کو رہنمائی کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کے کچھ کلمات آپ سے شیئر کرتا چلوں جہاںAlbert Pike لکھتا ہے۔کوئی شک نہیں یہ Lusipher ہی ہے جس کے پاس تمام انوار ہیں تمام روشنیاں ہیں۔ اسی لیئے یہ تمام لوگ کوCurrent bulletسے تشبیہ دیتے ہیں اور اکثر جسم کے مختلف اعضاءپر کرنٹ کے نشان نماTattosبنوا کر پھرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Aluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ تیرہ Blood lines یعنی خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہAluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ممبرAluminati
    کے کسی قانون اور رول کی خلاف ورزی کرے تو اسے عبرتناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے۔Aluminatiکی تیرہ نسلوں میں ایک خاندانDavid Philipکا ہے جبکہ ایک خاندانRothus Childکا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial systemاورامریکہ کےFederal Reserves bankکے مالک ہیں ، یہ لوگ80سے 90فیصد کنٹرول دنیا پہ حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں انسان کی آسائش اور آسانی کے لیئے طرح طرح کے فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے مقاصد شیطانیت کوPromoteکرنا ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنی فیلڈ کی مشہور شخصیات کو اپنے دائرے میں ایک حد تک شامل کرتے ہیں یا پھر اپنے ہی لوگوں کو عوام کے درمیان مشہور کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا فلموں کی دنیا وغیرہ ہو یہ اپنے اداکاری کے جوہر دکھا دکھا کر لوگوں کےFavouriteہیرو اور سیاست دان بن جاتے ہیں لوگ انہیں اپنا مسیحہ اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کے چال چلن کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں انہیں سپورٹ کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ شکار جال میں پھنس چکا ہے تب بہت ہی غیر محسوس انداز میں ان کیMind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک پرانا طریقہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ان کو پارٹیز میں بلواتے ہیں نشہ کی لت لگاتے ہیں اور ان پر فل کنٹرول حاصل کرکے ان سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں۔ جو نوجوان ان کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں ان کو مار دیا جاتا ہے ساتھ ہی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گروہ کے سینئر لوگ مزید طاقت حاصل کرنے اور شیطان جس کی یہ پوجا کرتے ہیں اس کو خوش کرنے کے جنون میں اپنے ہی جونئیر پیروکاروں کی بھی بلی چڑھاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی عبادات اور عملیات کرتے ہیں اس کے بارے میں آئندہ آنے والے کالم میں بات کی جائے گی۔

  • معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    دین و دنیا کے لئے سب سے خطرناک چیز جھگڑے ہیں جو آدمی کی صلاحیت کو دیمک لگادیتے ہیں ۔

    معاشرہ انسانوں کے باہم مل جل کر رہنے کا نام ہے جس میں ہنسی خوشی کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ہر انسان کامزاج اللہ تعالیٰ نے مختلف بنایا ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہنے یا معاملہ کرنے میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جھگڑے کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔

    زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے شریعت میں ایسے مواقع پر ہمیں جھگڑوں سے بچنے اور صلح صفائی کیساتھ معاملہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے کے امین مسلمان جنہوں نے پوری دنیا کی قیادت کرنی تھی ہماری زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ آج ہم گھریلو خاندانی کاروباری چھوٹے بڑے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

    ایک حدیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جو نماز، روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ 

    جھگڑے دین کو مونڈنے والے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے کھڑے ہوجائیں فساد برپا ہوجائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادارانہ رہیں، ایک دوسے سے بات نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں ۔یہ چیزیں انسان کے دین مونڈدینے والی ہیں ۔

    ہماری وہ صلاحیت جو خدمت دین میں صرف ہوتی تھیں وہ آج باہمی جھگڑوں کی نذر ہورہی ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں جھگڑوں کی شرح کس قدر ہے اس کا اندازہ حضرات مفتیان کرام سے پوچھے جانیوالے روزمرہ کے سوالات سے لگایا جا سکتا ہے یا وکلاء کے لفافوں میں زیرسماعت مقدمات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

    بے صبری اورجلد بازی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے جس کا مشاہدہ آئے دن سڑکوں اور بازاروں پر کیا جاسکتا ہے ۔معمولی کوتاہی یا رنجش پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔صاحب زور مارپیٹ کرکے اپنی آگ بجھا دیتا ہے تو زبردست گالم گلوچ کرکے دوسرے کی عزت نیلام کررہا ہے ۔

    یوں معمولی رنجش پر جھگڑوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں مقدمات کی بہتات ہمارے قومی مزاج کی آئینہ دار ہے ۔خاندانی یا کاروباری جھگڑوں کے حل کیلئے اگر انگریزی قانون کا سہارا لیا جائے تو عمریں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف ملنا مشکل ہے ۔

    خدابیزار قوموں کے بنائے ہوئے اصول وقوانین سے ایک خدارسیدہ مسلمان کو کب اور کہاں انصاف مل سکتا ہے کاش قیام پاکستان کے بعد حقیقتاً قرآن وحدیث کی بالادستی ہوتی اور یہ ملک کلمہ طیبہ کی عملی تصویر پیش کرتا ۔

    لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں نہیں، ہر وقت ہر جگہ ایسے بزرگ خدارسیدہ علماء حضرات موجود ہیں ۔جن کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر مسلمان دینی اور اخروی مشکلات کیلئے دعا اور جھگڑوں میں تصفیہ کراسکتا ہے ۔

    حدیث شریف میں جھگڑا چھوڑنے کی یہاں تک فضیلت آئی ہے کہ جو شخص باوجود غلطی پر ہونے کے پھر بھی جھگڑا چھوڑ دے تو اسے جنت کنارے میں جگہ ملنے کی بشارت ہے ۔

    جن لوگوں نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا بلکہ اس حق کا بدل نعم البدل کی صورت میں عطا فرمایا ۔

    ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کروڑوں کی جائیداد کے سلسلہ میں دس سال تک مقدمہ لڑا ۔لیکن انصاف نہ ملا بالآخر بزرگوں کے مشورہ پر مقدمہ سے دستبردار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سکون کی ایسی دولت بخشی جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

    اس لئے اپنی دنیا کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنے کیلئے جھگڑوں سے بچا جائے اور صبر اوردرگزر کرنا مسلمانوں کا دینی واخلاقی شیوہ ہے ۔جھگڑوں کو چھوڑیئے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔

    اپنا حق معاف کیجئے اور دوسروں کے حق ادا کرنے کی فکر کیجئے پھر دیکھئے کیسی پرلطف زندگی گزرتی ہے ۔

    یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ روزانہ کچہریوں کے چکر لگ رہے ہیں اور خدا کے دشمن انگریز کے قانون سے انصاف کی بھیک مانگی جارہی ہے بھلا مسلمان کو دشمن خدا سے انصاف ملے گا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت محمد ﷺ مکہ المکرمہ (حجاز) میں پیر کے دن عام الفیل والے سال ۹ یا ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ عیسوی میں پیدا ہوئے۔
      آپ ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش اور بنی ہاشم کے گھرانے سا تھا۔
     آپ ﷺکی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے جو وہب بن عبد مناف، زہرہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
     آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبد مناف ، قریش کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
     آپ ؐکی نانی کا نام برہ اور دادی کا نام فاطمہ تھا۔
    آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے انتقال فرما گئے تھے۔
     
      آپ ؐنے سب سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ، پھر اپنے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ غلامہ ثویبہ کا اور پھر حضرت حلیمہ کامکہ کے لوگ اپنے بچوں کو گاوں دیہات بھیجتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ حضرت حلیمہ جن کا تعلق بنی سعد سے تھا اُن کے ساتھ چار سال تک رہے۔
      اسی دوران آپؐ کے شق صدر (دل کو کھولنے) کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
      آپؐ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ صرف دو سال رہے۔ جب آپؐ کی عمر چھ سال کی تھی آپؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔
      پھر آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دو سال بعد آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا جب آپؐ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
      پھر آپؐ کے چچا ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھائی۔ بارہ سال کی عمر میں آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر شام کی طرف گئے۔بصرہ کے مقام پر عیسائی پادری بحیرہ نے آپؐ کی نشانیاں دیکھ کر آپؐ کے آخری نبی ہونے کی پیشنگوئی دی اور آپؐ کے چچا ابو طالب سے کہا کہ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ یہود ان کو قتل کر دیں گے۔
      پچیس سال کی عمر میں آپؐ نے ایک مرتبہ پھر شام کی طرف تجارتی سفر کیا لیکن اس مرتبہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی تھا۔ اس سفر میں آپؐ کی ملاقات ایک اور عیسائی پادری نسطورہ سے ہوئی اور اُس نے بھی آپؐ کی نبوت کی پیشنگوئی دی۔
      آپؐ کے اخلاق کا علم پا کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ جب آپؐ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا اُس وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ازدواجی رشتہ پچیس سال اور دو ماہ تک قائم رہا۔ حضرت خدیجہؓ سے آپؐ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن دونوں بیٹوں کو چھوٹی ہی عمر میں اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
      ۳۵سال کی عمر میں آپؐ نے اپنی ذہانت و حکمت سے کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا شدہ تنازعہ کو ختم فرمایا۔ 
      چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو غار حرا میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
      حضرت خدیجہؓ کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
      عورتوں میں حضرت خدیجہؓ پہلی عورت تھیں اسلام قبول فرمانے والی، مردوں حضرت ابو بکر صدیق پہلے مرد تھے، غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ پہلے غلام تھے اور بچوں میں حضرت علیؓ پہلے بچے تھے۔
      تین سال کے بعد آپؐ نے صفاء کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی-
      نبوت کے پانچویں سال آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جس میں کل۱۵یا ۱۶ افراد تھے، ۱۱ مرد اور ۴ یا ۵ عورتیں۔
      نبوت کے ساتویں سال حبشہ کی طرف مسلمانوں کی دوسری ہجرت ہوئی ۔ جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں تھیں۔
      نبوت کے ساتویں سال مکہ کے کفار نے مسلمانوں سے قطعہ تعلق کر لیا ۔ آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں کو ایک گھاٹی میں محسور کر دیا۔ اس قطعہ تعلقی کا عرصہ تین سال تک رہا۔
      نبوت کے دسویں سال جب یہ قطعہ تعلقی کا سلسلہ ختم ہوا ، اسی سال حضرت خدیجہؓ اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔
      نبوت کے دسویں سال ہی طائف کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں آپؐ کو تبلیغ اسلام کے سلسلے میں پتھر مارے گئے۔
      نبوت کے گیارہویں سال معراج کا واقعہ پیش آیا۔جس میں آپؐ مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس گئے ، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں ، جنت و جہنم کا سفر کیا اور اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔
      اس سفر کے بعد مدینہ کے قبیلہ خرج کے ۶ افراد نے آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔
      اس سے اگلے سال ۱۲ افراد نے مدینہ سے آ کر آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔ جن میں سے دس افراد قبیلہ خرج اور دو افراد قبیلہ اوس کے تھے۔
      اگلے سال حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تبلیغ سے جن کو آپؐ نے مدینہ بھیجا تھا ۷۰ مرد اور دو عورتوں نے اسلام قبول کیا۔
      پھر آپ ﷺ نے مکہ  کے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
      نبوت کے تیرہویں سال آپؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس سفر کے دوران آپؐ تین دن غار ثور میں رہے۔
      مدینہ کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے قباء کے مقام پر ۱۴ دن قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی۔ جس کا نام مسجد قباء ہے
      بروز جمعہ آپؐ قباء سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران قبیلہ بنی سلیم میں آپؐ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ آج اس مقام پر مسجد جمعہ ہے۔
      مدینہ پہنچ کر آپؐ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے رکی ، جہاں آپؐ نے قیام فرمایا۔ اور اسی جگہ پر مسجد کے لیے زمین خریدکر مسجد تعمیر فرمائی ۔ جو آج مسجد نبویﷺ کہلاتی ہے۔

    @mmasief

  • بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ایجاد اور ضرورت ہے یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے بہت کم عرصہ میں انسانی زندگی پر قبضہ کر لیا ہے، جی ہاں ! آج کل ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا ہو جوان ہو یا بچہ اس کے سحر میں گرفتار ہے، اج کے معاشرے میں تقریباً ہر شخص نے اپنی حثیت کے مطابق موبائل فون رکھا ہے، کسی کے پاس مہنگا ہے تو کسی کے پاس سستا ہے ، لیکن اس ٹیکنالوجی سے استفادہ سب لوگ حاصل کر رہے ہیں۔۔

    رکیئے!! کیا ہم صرف اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ؟ یا اس کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں۔؟

    کسی بھی ایجاد کے بعد یہ انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کا کس طرح استعمال کرتا ہے جہاں موبائل فون کے بے انتہا فوائد ہیں وہیں اس کے غلط استعمال بھی ہیں۔

    اج بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اس ایجاد سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان زیادہ حاصل کیا جا رہا ہے 

    لوگوں کی ہر قسم کے مواد تک رسائی اور نوجوان نسل پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بری عادتوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔۔

    والدین نے بچوں کو سمارٹ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت تو مہیا کر دی ہے لیکن ان کو اس کا درست استعمال نہیں بتایا ، نوجوان نسل صحت مندانہ سرگرمیوں کی بجائے سارا وقت اس کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے مختلف نقصانات کا شکار ہو رہے ہیں

    سب سے بڑا نقصان تو جسمانی بیماریوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے ماہرین طب کے مطابق موبائل فون کے بے جا استعمال سے لوگوں میں زہنی دباؤ، پریشانی، سر درد، نظر کا کمزور ہونا، اور دل کی بیماریوں کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں شامل ہیں، کسی بھی چیز کی زیادتی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے اسی طرح موبائل فون ہے اس کے غلط استعمال نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی لحاظ سے نہایت گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اس انٹرنیٹ کی سہولت جواب پر ایک کو میسر ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی جس کا جو دل چاہتا وہ پوسٹ کر دیتا ہے کسی کو کسی کی عزت کا خیال نہیں کوئی بھی غلط الزام لگاتا ہے اور بجائے اس بات کے ثابت ہونے کے انتظار کرنے کے ، لوگ خود سے فیصلہ کر کے اس انسان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں اور اس کی عزت نفس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔،

    اگر اپ کے پاس کسی بھی قسم کا اختیار ہے آزادی ہے تو یہ اپ کا امتحان ہے کہ اپ اس کا استعمال کسی طرح کرتے ہیں؟ یہ اپ پر منحصر ہے کہ اپ اس آزادی کا درست استعمال کر کے اپنے ملک کی عزت بڑھاتے ہیں یا پھر غلط استعمال سے اپنی بے وقوفی کے ہاتھوں ملک کی بدنامی میں حصہ دار بنتے ہیں۔۔۔

    @shahzeb___