Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان.تحریر: گلزار حسین چوہان

    شانِ پاکستان.تحریر: گلزار حسین چوہان

    شانِ پاکستان
    تحریر: گلزار حسین چوہان
    پاکستان صرف ایک خطۂ زمین نہیں، یہ ایک خواب ہے، ایک نظریہ ہے، ایک قربانیوں کی لازوال داستان ہے۔ یہ وہ وطن ہے جس کی بنیادیں لا الٰہ الا اللہ کے کلمے پر رکھی گئیں۔ لاکھوں شہداء کے خون سے سیراب ہونے والی یہ سرزمین محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں، بلکہ روحانی، تہذیبی اور قومی شناخت کا مظہر ہے۔ اسے صرف خاک اور پہاڑوں کا مجموعہ سمجھنا کم نگاہی ہوگی۔ یہ ایک جذبہ ہے، ایک آگ ہے جو سینوں میں جلتی ہے، یہ وہ فخر ہے جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

    پاکستان کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی گئی، وہ کسی خاص قوم یا طبقے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کے احترام، عدل و انصاف اور مساوات کے لیے تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایسا وطن تھا جہاں رنگ، نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے ان عظیم خوابوں کو مٹی میں دفن کر دیا۔ ہم نے اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر کم توجہ دی اور وقتی مفادات کی سیاست میں اپنی اجتماعی روح کھو بیٹھے۔ لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ ہم جاگ جائیں، پہچانیں کہ ہماری اصل شان کیا ہے۔

    ہماری شان وہ مائیں ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے وطن پر قربان کیے۔ ہماری شان وہ مزدور ہے جو دن رات محنت کر کے اس ملک کی معیشت کا پہیہ گھماتا ہے۔ ہماری شان وہ کسان ہے جو دھوپ میں جھلس کر زمین کو سنہرا کرتا ہے۔ ہماری شان وہ طالبعلم ہے جو موم بتی کی روشنی میں خواب دیکھتا ہے کہ ایک دن وہ پاکستان کو دنیا کا روشن ترین ملک بنائے گا۔

    یہ وہ ملک ہے جو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔ جب دنیا ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے لگی، تو ہم نے چاغی کے پہاڑوں کو لرزا کر دشمن کو پیغام دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں، خوددار ہیں، اور ہمیں مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے اجتماعی سانس میں ایک نعرہ لگایا: پاکستان زندہ باد!

    مگر کیا یہ سب کچھ کافی ہے؟ کیا صرف ایٹمی طاقت بن جانا ہی ہماری شان ہے؟ نہیں! ہماری اصل شان اس وقت نمایاں ہوگی جب ہم اپنے اندر موجود بدعنوانی، ناانصافی، ظلم، جہالت اور فرقہ واریت کو شکست دیں گے۔ ہمیں ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے جو علم، اخلاق، انصاف، عدل اور ترقی کا گہوارہ ہو۔

    کب تک ہم دوسروں کو الزام دیتے رہیں گے؟ کب تک ہم تاریخ کے پیچھے چھپ کر اپنی ناکامیوں کو جواز دیتے رہیں گے؟ پاکستان کی شان اسی وقت بحال ہوگی جب ہر فرد یہ سمجھے گا کہ وہ خود "پاکستان” ہے۔ ریاست کے خواب تبھی تعبیر پائیں گے جب ہم اپنے کردار، اپنی نیت اور اپنے عمل میں سچائی، اخلاص اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں گے۔

    یہ وطن وہ ہے جہاں کے دریا زندگی بخشتے ہیں، جہاں کے پہاڑوں میں عظمت چھپی ہے، جہاں کے صحراؤں میں صبر اور استقامت کی داستانیں چھپی ہیں۔ یہ وہ وطن ہے جس کی مٹی سے خوشبو نہیں، قربانیوں کی مہک آتی ہے۔ یہ وہ وطن ہے جس کے پرچم کے ہر رنگ میں شہادت، محبت، امن اور ہمت کی جھلک نظر آتی ہے۔

    جب ہم اپنے شہداء کے مزاروں پر کھڑے ہوتے ہیں، تو ہم ان کی قربانیوں کو یاد کر کے فخر سے سر اٹھاتے ہیں۔ جب ہم اپنی ماؤں کی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ وطن کتنا قیمتی ہے۔ جب ہم اپنی زبان، اپنے لباس، اپنے لوک گیتوں، اپنے رقص، اپنے تہواروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہماری ثقافت کتنی عظیم ہے۔

    ہمیں اپنی تاریخ پر فخر ہے۔ ہمیں اپنے قائدین پر ناز ہے۔ ہمیں اپنے علما، اپنے ادیبوں، اپنے شاعروں اور اپنے فنکاروں کی خدمات پر اعتماد ہے۔ ہمیں اپنی فوج پر بھروسہ ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر یقین ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں اپنے رب پر توکل ہے، جس نے ہمیں اس عظیم نعمت سے نوازا۔

    مگر اب خاموشی کا وقت نہیں۔ اب عمل کا وقت ہے۔ اب ہمیں کتاب اٹھانی ہے، قلم سنبھالنا ہے، انصاف بانٹنا ہے، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، علم کو عام کرنا ہے، جھوٹ کو للکارنا ہے، اور سچائی کی شمع جلانی ہے۔ اب ہمیں فرقہ واریت، لسانیت، تعصب، نفرت اور عدم برداشت کو دفن کر کے ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے۔ ایک ایسی تاریخ جس میں ہر پاکستانی سرخرو ہو، چاہے وہ کسی بھی زبان، مذہب یا علاقے سے ہو۔

    ہمیں وہ پاکستان واپس لینا ہے جو قائداعظم کا خواب تھا، جو علامہ اقبال کی فکر تھی، جو لیاقت علی خان کی قربانی تھی، جو مادر ملت کا حوصلہ تھا، جو راشد منہاس کا عزم تھا، جو ملالہ کی آواز تھی، جو ایدھی کا پیغام تھا۔

    وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی پہچان کو دوبارہ دریافت کریں۔ ہم صرف ایک قوم نہیں، ہم ایک مشن ہیں۔ ہم صرف ایک ریاست نہیں، ہم ایک نظریہ ہیں۔ ہمارا وجود کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ تقدیر کا تحفہ ہے۔

    پاکستان کی شان وہ ہے جو اسے دنیا سے ممتاز بناتی ہے۔ اور وہ شان ہم خود ہیں ،جب ہم بیدار ہوں، متحد ہوں، باہمی محبت اور بھائی چارے سے سرشار ہوں۔ جب ہم سچ بولیں، ایمانداری سے کام کریں، انصاف قائم کریں، اور ملک و ملت کے لیے جئیں تو تب ہی ہم اصل معنوں میں "شانِ پاکستان” کہلانے کے حق دار ہیں۔

    لہٰذا آئیے! ہم سب مل کر اس خواب کو تعبیر دیں۔ پاکستان کو صرف جغرافیہ نہ سمجھیں، اسے اپنا فخر، اپنی پہچان، اپنی عبادت بنائیں۔ اور دنیا کو بتا دیں کہ پاکستان نہ صرف زندہ ہے بلکہ دنیا کے افق پر چمکنے کے لیے تیار ہے اور ان شاءاللہ یہ ہمیشہ چمکتا رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد۔

  • شانِ پاکستان.تحریر :سدرہ قیوم

    شانِ پاکستان.تحریر :سدرہ قیوم

    شانِ پاکستان
    تحریر :سدرہ قیوم
    پاکستان ایک عظیم نعمت، ایک خواب کی تعبیر، اور ایک ایسی سرزمین ہے جس کی بنیادوں میں قربانیوں کا لہو شامل ہے۔ اس کا قیام صرف زمین کے ایک ٹکڑے کے طور پر نہیں ہوا، بلکہ یہ ایک نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ "شانِ پاکستان” دراصل اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے تابناک پہلوؤں کی جھلک ہے، جو ہمیں فخر، غیرت اور ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔

    پاکستان کا تاریخی پس منظر
    پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو ہوا۔ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت، علامہ اقبال کے خواب اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں شامل تھیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اس لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق آزاد زندگی گزار سکیں۔

    علامہ اقبال نے 1930 میں تصور پاکستان پیش کیا، جس میں ایک الگ مسلم ریاست کا خواب دیکھا گیا۔ پھر 1940 کی قرارداد لاہور نے اس خواب کو باقاعدہ سیاسی منشور بنا دیا۔ بالآخر 1947 میں وہ دن آ گیا جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یہ دن ہم پر فرض کرتا ہے کہ ہم اس وطن کو صرف نعروں سے نہیں، بلکہ عمل سے عظیم بنائیں۔

    قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت
    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں کے میدان، پہاڑ، دریا، صحرا، معدنیات اور چاروں موسم اس کی قدرتی شان کا مظہر ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقے دنیا کے بلند ترین پہاڑوں جیسے کہ کے-ٹو، نانگا پربت اور راکا پوشی سے مزین ہیں۔ سوات، کاغان، ہنزہ، گلگت اور مری جیسے خوبصورت مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کو متوجہ کرتے ہیں۔

    پاکستان میں زراعت کا شعبہ بھی مضبوط ہے، گندم، چاول، کپاس اور گنا اہم فصلیں ہیں۔ بلوچستان میں کوئلہ، گیس، سونا اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے دریا ملک کی زرعی معیشت کو جِلا بخشتے ہیں۔ اس تمام قدرتی دولت کے سے مالا مال ہے۔

    دفاعی شان و شوکت
    پاکستان کی دفاعی قوت اس کی ایک بڑی شان ہے۔ پاک فوج، فضائیہ، اور بحریہ دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جو اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر خود کفیل ہے۔ 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔

    پاکستان آرمی نے نہ صرف دشمنوں کے خلاف سرحدوں پر قربانیاں دی ہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف بھی کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب ،معرکہ بنیان مرصوص اور ردالفساد اس کی مثالیں ہیں، ،جن سے دنیا نے پاکستان کی بہادری کا لوہا مانا۔

    تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی
    پاکستانی نوجوان دنیا کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستان نے ایٹمی توانائی، خلائی تحقیق، آئی ٹی، طب اور انجینئرنگ کے میدان میں ترقی کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالسلام، اور دیگر سائنسدان ہمارے لیے باعث فخر ہیں۔

    اگرچہ تعلیمی میدان میں چیلنجز ہیں، لیکن پھر بھی پاکستان میں یونیورسٹیاں، سائنسی ادارے، اور تحقیقاتی مراکز نوجوان نسل کو علم و تحقیق کی راہ پر گامزن کرنے میں کوشاں ہیں۔ آج کے نوجوان اگر جدید تعلیم اور مہارتوں کو حاصل کریں، تو پاکستان کو اقوامِ عالم میں اعلیٰ مقام دلا سکتے ہیں۔

    ثقافت اور ورثہ
    پاکستان کی ثقافت، اس کی زبانیں، روایات، لباس، موسیقی، شاعری، اور فنونِ لطیفہ ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، اور دیگر زبانیں پاکستان کی تہذیبی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاہور، کراچی، ملتان، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں کا تاریخی ورثہ آج بھی موجود ہے۔

    قوالی، غزل، کلاسیکی موسیقی، اور لوک گیت پاکستانی ثقافت کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کے صوفیاء جیسے داتا گنج بخش، شاہ عبداللطیف بھٹائی، بابا فرید اور لال شہباز قلندر نے محبت، امن اور رواداری کا پیغام دیا، جو آج بھی ہمارے معاشرتی مزاج کا حصہ ہے۔

    کھیل اور فخر
    پاکستان کرکٹ کے میدان میں ایک عالمی شہرت یافتہ ملک ہے۔ عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، بابر اعظم، اور شاہین آفریدی جیسے کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہاکی، اسکواش اور سنوکر میں بھی پاکستان عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔

    قومی یکجہتی اور عوام کی طاقت
    پاکستان کی اصل شان اس کے عوام ہیں، جو ہر مشکل وقت میں متحد ہو جاتے ہیں۔ زلزلے ہوں، سیلاب ہوں یا کوئی اور قدرتی آفت، پاکستانی قوم ہمیشہ ایک ہو کر اپنے بھائیوں کی مدد کرتی ہے۔ یہ جذبہ ایثار اور محبت پاکستان کو ایک مضبوط قوم بناتا ہے۔

    چیلنجز اور روشن مستقبل
    پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں جیسے مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، تعلیمی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام۔ مگر یہ تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم ایمانداری، دیانت، اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں۔ قائداعظم کے فرامین "اتحاد، ایمان، قربانی” پر عمل کر کے ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک مثالی ریاست بنا سکتے ہیں۔

    شانِ پاکستان نہ صرف اس کے ماضی کی عظمت میں ہے، بلکہ اس کے نوجوانوں کے روشن خوابوں، محنتی ہاتھوں، اور باعزم دلوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے ملک سے سچی محبت کریں، اپنی ذمہ داریاں سمجھیں، اور مثبت کردار ادا کریں، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں شامل ہو گا۔

    پاکستان مسلمانوں کی خودداری اور قربانیوں کی ایک روشن دلیل ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے ایک ایک ذرے میں شہیدوں کا خون رچا بسا ہے۔ پاکستان ہمارے بزرگوں کی انتھک محنت، ایمان، اتحاد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ یہاں کے میدان، پہاڑ، دریا اور فضا وطن سے محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی خدمت کو عبادت سمجھیں اور اس کی ترقی، سلامتی اور وقار کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری پہچان، ہمارا فخر ہے۔

    پاکستان زندہ باد۔
    "نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

  • شانِ پاکستان.تحریر: بسمہ مجید (بوریوالہ)

    شانِ پاکستان.تحریر: بسمہ مجید (بوریوالہ)

    شانِ پاکستان
    از قلم: بسمہ مجید (بوریوالہ)
    وہ مٹی جو سجدوں کی خوشبو رکھتی ہے، وہ زمین جس پر شہیدوں کا خون مہکتا ہے، وہ پرچم جو امیدوں کا استعارہ ہے۔وہی تو ہے، میری پہچان، میرا مان، میری شان… پاکستان!
    جب کبھی تاریخ انسانیت قربانی، عظمت اور حریت کی مثال مانگتی ہے، تب پاکستان کا نام سنہری حروف میں ابھرتا ہے۔ یہ ملک فقط سرحدوں کا نام نہیں، یہ ایک نظریے کی فتح، ایک قوم کی آرزو، اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستان کی شان، اس کے سبز ہلالی پرچم میں نہیں۔ اس پرچم کو تھامے رکھنے والے ہاتھوں میں ہے، ان خوابوں میں ہے جو ایک آزاد ریاست کے تصور سے شروع ہوئے اور آج ایک زندہ حقیقت بن کر ہر پاکستانی کی آنکھ میں جگمگاتے ہیں۔پاکستان کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ ایک شعوری فیصلہ، ایک نظریاتی مطالبہ تھا۔ علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں جس خواب کو جگایا، وہ صرف ایک جغرافیہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسا وطن تھا جہاں مسلمان اپنی تہذیب، دین اور شناخت کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے فرمایا تھا:

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

    یہی وہ شعور تھا جس نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کے طور پر اپنی ریاست کے لیے کھڑا کیا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ جب 23 مارچ 1940 کو قراردادِ لاہور پیش کی گئی، تو اس وقت قائد نے واضح کیا کہ: "ہندوستان کے مسلمان نہ ہندو ہیں، نہ ان کے رسم و رواج، نہ تہذیب و تمدن ایک جیسے ہیں، ہم ایک علیحدہ قوم ہیں۔” یہی جملہ پاکستان کی شان کا آغاز تھا ۔ ایک ایسی ریاست کا تصور جہاں اقلیتیں محفوظ ہوں، قانون کی حکمرانی ہو، اور اسلام کے سنہری اصول روشنی بن کر ہر شہری کے لیے راہ متعین کریں۔

    مگر یہ خواب آسانی سے حاصل نہ ہوا۔ لاکھوں جانیں، ہزاروں عصمتیں، اجڑے گھر، بچھڑے خاندان ،سب اس سفر کے ہمسفر بنے۔ مہاجرین کی کٹی پھٹی ٹرینیں، ماؤں کی سسکیاں، بچوں کی چیخیں، سب کچھ اس سرزمین کی قیمت تھی۔ مگر اس سب کے باوجود لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا: "پاکستان زندہ باد!” اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں اس قوم نے قربانی کو اپنا زیور اور وطن کو اپنا دین سمجھا۔

    پاکستان کی شان صرف ماضی کے ان لمحات میں نہیں، بلکہ اس کی تہذیب، ثقافت اور زبانوں کے تنوع میں بھی چھپی ہے۔ پنجابی کی محبت، سندھی کی سادگی، بلوچی کا غرور، پشتو کا غیرت مند لہجہ، سرائیکی کی مٹھاس، سب اس دھرتی کی خوبصورتی ہیں۔ اردو زبان کی شیرینی وہ رشتہ ہے جو اس کثیر الثقافتی قوم کو ایک لڑی میں پروئے رکھتی ہے۔ اقبالؒ، فیضؔ، قاسمیؔ، بانو قدسیہ، اشفاق احمد ، ان سب کے قلم پاکستان کی فکری شناخت ہیں۔

    اسی طرح پاکستان کی عسکری قوت بھی اس کی شان کی ایک لازوال علامت ہے۔ 1965 کی جنگ میں جب قوم کے سپوتوں نے دشمن کے ٹینکوں کے آگے سینہ تان لیا تو دنیا نے دیکھا کہ یہ قوم نہ صرف زندہ ہے بلکہ غیرت کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے۔ میجر عزیز بھٹی شہید، راشد منہاس، کیپٹن کرنل شیر خان جیسے جوانوں کی قربانیاں تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا: "ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے، وہی ہماری اصل پہچان اور شان ہیں۔”

    پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں، بلکہ علم، سائنس اور تحقیق میں بھی اپنی شان منوائی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا کر دشمن کی میلی آنکھوں کو مایوسی دی۔ ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ملالہ یوسفزئی نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان کی بیٹیاں بھی علم کی روشنی سے اندھیروں کو چیر سکتی ہیں۔

    پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعت، کھیل اور ثقافت ، سب ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ کرکٹ کا میدان ہو یا آئی ٹی کی دنیا، ادب ہو یا فلم، پاکستان کی نوجوان نسل دنیا کے ہر شعبے میں اپنا مقام بنا رہی ہے۔ یہی وہ نوجوان ہیں جو پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں۔
    اقبالؒ نے انہی کے لیے کہا تھا:

    نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

    شانِ پاکستان دراصل ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے ۔ ایسی جدوجہد جو محبت سے شروع ہو، محنت سے پروان چڑھے، اور قربانی سے پائندہ رہے۔ جب ایک استاد ایمانداری سے پڑھاتا ہے، جب ایک طالب علم دل سے سیکھتا ہے، جب ایک کسان سچائی سے کھیت جوتتا ہے، اور جب ایک سپاہی جان کی پرواہ کیے بغیر وطن کی حفاظت کرتا ہے۔ تو یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب پاکستان کی شان پروان چڑھتی ہے۔یہ شان ہمارے بزرگوں کی دعاؤں میں ہے، ہماری ماؤں کے آنچل میں ہے، ہمارے بچوں کی آنکھوں کی چمک میں ہے۔ یہ شان کسی ایک دن، ایک ایوارڈ، یا ایک تقریر کی محتاج نہیں۔

    یہ ایک زندہ قوم کا مسلسل سفر ہے، جو ہر دن اپنے ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ہم پاکستان کے لیے ہیں، اور پاکستان ہم سے ہے۔ یہ رشتہ مٹی سے نہیں، محبت سے جڑا ہے۔ یہ شان ہمیں وراثت میں نہیں ملی ۔ یہ ہمیں سنبھالنی ہے، نبھانی ہے، اور آنے والی نسلوں تک فخر سے منتقل کرنی ہے۔

    پاکستان! تو نہ صرف میرا وطن ہے، تو میری پہچان ہے، میرا مان ہے… اور ہاں، تو ہی میری شان ہے۔

  • شانِ پاکستان.تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    شانِ پاکستان.تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    شانِ پاکستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ہر قوم کی پہچان اس کے کردار، ورثے اور کارناموں سے ہوتی ہے اور اگر کوئی ملک واقعی قابلِ فخر ہو سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے، وہ پاک سرزمین جو نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ عسکری، سائنسی، سماجی اور معاشرتی طاقتوں کی عظیم علامت بھی ہے۔ آج جب ہم اپنے وطنِ عزیز کو عالمی افق پر دیکھتے ہیں تو اس کی ہر جہت ایک نئی عظمت کی کہانی سناتی ہے۔ یہی توہے شانِ پاکستان۔

    حال ہی میں جب ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کی فضاؤں میں دراندازی کی جسارت کی، تو پاک فوج و پاک فضائیہ نے وہ تاریخ رقم کی جو دنیا نے حیرت سے دیکھی۔ پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی جہاز مار گرائے جو اس کی عسکری برتری، نظم و ضبط اور جوابی حکمتِ عملی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ دشمن کو دندان شکن اور عبرت ناک شکست دینا صرف ہتھیار کی طاقت نہیں بلکہ عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے۔اسے کہتے ہیں شانِ پاکستان۔

    پاکستان اپنی ہزاروں سال قدیم تہذیبوں اور مذہبی رواداری کی وجہ سے عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ یہ سرزمین دنیا کی چند قدیم ترین تہذیبوں، جیسے کہ ہڑپہ اور موہنجو دڑو، کی گہوارہ رہی ہے، جو اپنی شہری منصوبہ بندی اور ترقی یافتہ طرز زندگی کے لیے مشہور تھیں۔ بہاولپور کے قریب واقع گنویری والا کی دریافت جو ممکنہ طور پر 6000 سے 7000 سال قدیم ہے، پاکستان کی تاریخی عظمت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ آثار قدیمہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ ہزاروں سالوں سے انسانی تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شانِ پاکستان کیا ہے

    پاکستان اپنے تنوع اور اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کے احترام کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ اور خوف کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔ سکھوں کے لیے پاکستان ایک انتہائی اہم مذہبی مرکز ہے، کیونکہ یہاں ان کے کئی مقدس گوردوارے موجود ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں بابا گرونانک کی جنم بھومی ننکانہ صاحب ہے، جو سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیوجی کا جائے پیدائش ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سکھ یاتری یہاں آتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض انجام دیتے ہیں۔

    اسی طرح کرتار پور صاحب کا گوردوارہ بھی سکھ برادری کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جہاں بابا گرو نانک دیوجی نے اپنی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ یہ مقامات نہ صرف سکھ مذہب کی تاریخ اور روایات کا حصہ ہیں بلکہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال بھی ہیں۔ پاکستان میں ہندوؤں کے بھی کئی قدیم اور مقدس مندر موجود ہیں، جن میں چکوال کے قریب واقع کٹاس راج مندر خاص مقام رکھتا ہے۔ عیسائی برادری بھی یہاں اپنی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں جاتی ہے اور اپنے مذہبی تہوار آزادی سے مناتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کی زمینی خوبصورتی اس کی سب سے نمایاں شناخت ہے۔ شمال میں بل کھاتی وادیاں، بہتے چشمے، برف سے ڈھکی چوٹیوں سے لے کر جنوب میں خلیجِ عرب سے جڑے نیلے پانیوں والے ساحل، سب قدرت کی عطاء ہیں۔ سوات، کالام، گلگت، ہنزہ، ناران، کاغان اور نیلم وادی جیسی حسین وادیوں کو اگر جنتِ ارضی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ مناظر نہ صرف سیاحوں کو لبھاتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں اہم کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    روہی، چولستان، تھر اور تھل کے صحرا اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں انسان نے سخت حالات کے باوجود زندگی کا رنگ بکھیر رکھا ہے۔ اونٹوں کے قافلے، روایتی ثقافت، صحرا میں گونجتی لوک موسیقی اور رنگ برنگے تہوار، یہ سب کچھ پاکستان کی تنوع سے بھرپور تہذیب کا مظہر ہے۔ ان خشک ریگزاروں میں بھی ایک دھڑکتا ہوا پاکستان آباد ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    بلوچستان ویسے تو بہت ہی خوبصورت لیکن ضلع خضدار اپنے قدرتی چشموں، پہاڑی سلسلوں اور مٹی کے آتش فشاں جیسی نایاب قدرتی ساختوں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی زمین معدنیات سے مالا مال ہے اور یہ قدرتی وسائل پاکستان کی اقتصادی ترقی کی کلید ہیں۔ ساتھ ہی یہ خطہ ایک جغرافیائی پل کا کردار ادا کرتا ہے جو وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں سے پاکستان کو جوڑتا ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کا ساحلی علاقہ بالخصوص گوادر بندرگاہ، آنے والے وقت میں عالمی تجارتی مرکز بننے جا رہا ہے۔ یہ بندرگاہ نہ صرف چین، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے گیٹ وے ہے بلکہ یہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کی علامت بن چکی ہے۔ گوادر سے جڑی سی پیک (CPEC) نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی ترقی کا ذریعہ ہے۔ یہی تو ہے شانِ پاکستان۔

    شہرِ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد، سکھر اور سیالکوٹ جیسے تجارتی مراکز پاکستان کی معیشت کو زندگی بخشتے ہیں۔ سیالکوٹ جو کہ پاکستان کا صنعتی دل ہے، دنیا بھر میں اسپورٹس گُڈز، سرجیکل آلات، لیدر مصنوعات اور برآمدات کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی وہ شہر ہے جس کی متحرک بزنس کمیونٹی نے اپنے وسائل سے نہ صرف ملک کا پہلا نجی بین الاقوامی ایئرپورٹ تعمیر کیا بلکہ "ائیر سیال” کے نام سے اپنی ایئرلائن بھی قائم کی ، یہ اس شہر کے ترقی پسند جذبے اور قومی خدمت کے عزم کی زندہ مثال ہے۔ ان شہروں کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، جدید شاپنگ مالز، صنعتی زونز، فری ٹریڈ ایریاز اور فنانشل حب کے طور پر ابھرتے ڈھانچے دنیا کو ایک نیا، ترقی یافتہ پاکستان دکھا رہے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    اور اگر پاکستان کا مرکز اور دل کہیں تو وہ ہے ڈیرہ غازیخان، جو جغرافیائی لحاظ سے چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایشیا کا دوسرا بڑا اسٹیل پل تعمیر کیا گیا جو کوہِ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان بلوچستان کی آمد و رفت کو آسان بناتا ہے۔ یہی نہیں جنوبی پنجاب کا خوبصورت سیاحتی مقام فورٹ منرو جسے "جنوبی پنجاب کا مری” بھی کہا جاتا ہے ، ڈیرہ غازیخان ہی میں واقع ہے، جو نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ علاقے کی اقتصادی و ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    تعلیم کے میدان میں پاکستان میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز، زرعی و ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس نئی نسل کو نہ صرف تعلیم دے رہے ہیں بلکہ انہیں عالمی معیار کا ہنرمند بھی بنا رہے ہیں۔ نمل، نسٹ، کامسیٹس، آئی بی اے، لمز، گورنمنٹ کالج، پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ادارے ملک کے تعلیمی افق پر درخشاں ستارے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستانی نوجوان ہنرمند، پرجوش اور قابلیت میں کسی سے کم نہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو آئی ٹی، ای کامرس، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فیشن، فلم، فنون لطیفہ اور کھیلوں کے میدان میں دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ ہماری ہنر مند افرادی قوت نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں اپنی پہچان قائم کر چکی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کا زرعی شعبہ، سرسبز کھیت، بہترین نہری نظام، چاول، گندم، کپاس، آم، مالٹے، گنا، اور سبزیاں، یہ سب پاکستان کی زرعی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پنجاب کے لہلہاتے کھیت، سندھ کی زرخیز زمین، خیبرپختونخوا کے پہاڑی باغات اور بلوچستان کی پھلوں سے بھری وادیاں ہمارے دیہی نظام کا حسن ہیں۔ یہی تو شانِ پاکستان ہے۔

    پاکستان بلند و بالا پہاڑوں کی سرزمین ہے، جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 واقع ہے۔ کے ٹو صرف ایک پہاڑ نہیں، یہ ہمت، حوصلے اور عزم کا نشان ہے۔ یہاں آنے والے کوہ پیما پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور خطرناک مگر دلکش چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور پوری دنیا کے سامنے پاکستان کی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہی بھی شانِ پاکستان ہے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پاکستان نے دنیا کو حیران کیا۔محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز ان تھک محنت اور تحقیق نیز اس وقت کی جہاندیدہ قیادت اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بروقت اور جرات مندانہ فیصلے کی بدولت پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بنا۔28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے دنیا کو باور کرا دیا کہ ہم اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نہ صرف ملکی دفاع کی ضامن ہے بلکہ عالمِ اسلام کی اجتماعی طاقت کی علامت بھی ہے۔یہی تو ہے شانِ پاکستان۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر محب وطن سائنسدانوں نے پاکستان کو اس مقام پر پہنچایا کہ آج دنیا ہماری صلاحیتوں کا لوہا مانتی ہے۔
    "ٹی از فنٹاسٹک” سے شروع ہونے والی دشمن کی شیخی رافیل طیاروں کی تباہی پر ختم ہوئی ، پاکستان نے دشمن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور اللہ رب العزت کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا، شکرانے کیلئے کسی اور کیلئے نہیں فقط اپنے رب کی خوشنودی کیلئے اس کے آگے سجدہ ریز ہونا بھی تو شانِ پاکستان ہے .

    پاکستان نہ صرف جغرافیائی حسن، عسکری طاقت، زرعی ترقی اور اقتصادی مواقع کا نام ہے بلکہ یہ ایک نظریہ، ایک تہذیب، ایک ثقافت اور ایک جذبے کا نام ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محبت کرنے والے، جفاکش اور ایماندار ہیں۔ پاکستانی قوم آزمائشوں سے گھبراتی نہیں بلکہ ان کا سامنا کرتی ہے اور ہر بار سرخرو ہوتی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    ہماری افواج، ہمارے ادارے، ہمارے سائنس دان، کسان، مزدور، ڈاکٹر، انجینئر، طالبعلم، فنکار اور کھلاڑی اور ہمارے محب وطن قلمکار وصحافی سب مل کر ایک ایسا پاکستان بناتے ہیں جو نہ صرف قابلِ فخر ہے بلکہ دنیا کے لیے مثال بھی ہے۔کیونکہ یہی ہے ہمان آن بان اور شانِ پاکستان۔
    پاکستانی قوم اور پاک فوج زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد.

  • شانِ پاکستان.تحریر:دانیال حسن چغتائی

    شانِ پاکستان.تحریر:دانیال حسن چغتائی

    شانِ پاکستان
    تحریر:دانیال حسن چغتائی
    ہر خطہ، ہر بستی، ہر چپہ زمین کی کوئی نہ کوئی شناخت ہوا کرتی ہے لیکن اسی کائنات پر ایک ملک ایسا بھی ہے جس کی پہچان اس کی جغرافیائی حدود، قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کی شان اس کا نظریہ، قربانیوں سے لبریز تاریخ اور اس کی آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے غیرت مند لوگ ہیں ۔
    جب 14 اگست 1947 کی روشن صبح طلوع ہوئی تو ایک صدی کی غلامی کے بعد صبح نو تھی۔ یہ نئی امید، نئی پہچان کی صبح تھی۔ لاکھوں قربانیوں، ہزاروں ماؤں کی لٹتی چوٹیاں، لٹے ہوئے قافلے، سسکتی ہوئی مائیں، کٹے پھٹے جنازے اور ان سب کے باوجود ایک ہی للکار، صدا تھی۔
    پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!
    یہ نعرہ امتِ مسلمہ کے شعور کا اعلان تھا۔

    قائداعظم محمد علی جناح نے جب فرمایا،
    ہم علیحدہ قوم ہیں، ہماری تہذیب، تمدن، مذہب، معیشت سب جدا ہے تو گلیوں، بستیوں اور قریوں میں رہنے والے مسلمانوں میں نئی روح دوڑ گئی۔ یہی وہ روح ہے جو آج تک شانِ پاکستان کی بنیاد ہے۔
    اگر اقبال کے خواب، قائد کے عزم، لیاقت علی خان کی قربانی، فاطمہ جناح کی جدوجہد اور ہزاروں نوجوانوں کی شہادتوں کو ایک لڑی میں پرویا جائے تو جو تسبیح بنے گی، وہی شانِ پاکستان ہے۔

    آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے، عالمِ اسلام کا قلعہ ہے، نوجوانوں کا خواب ہے، شہیدوں کی امانت ہے۔کبھی سیاچن کے برفیلے محاذوں پر جوان بے سرو سامانی میں دشمن کو روک لیتے ہیں تو کبھی وزیرستان کی وادیوں میں دہشت گردی کا قلع قمع کرتے ہیں۔ بنیان المرصوص تو ابھی کل کی ہی بات ہے۔

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    یہ دیدہ ور ہم نے ارفع کریم کی صورت، ڈاکٹر عبد القدیر کی تحقیق میں، ملالہ یوسفزئی کی استقامت میں، ایدھی کی خدمت میں، اور نیلم کے سپاہی کی شہادت میں دیکھے ہیں۔ اگر آج کوئی نوجوان ہاتھ میں قلم تھامے کسی پہاڑی بستی میں بیٹھا تعلیم حاصل کر رہا ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔
    اگر کوئی خاتون ٹیچر حجاب میں بچیوں کو سائنس پڑھا رہی ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔اگر فوجی سپاہی مورچے میں بیٹھ کر دشمن کو للکار رہا ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔

    یوں تو دنیا کے نقشے پر بےشمار ممالک ابھرتے اور ڈوبتے رہے، کوئی سلطنتِ مغلیہ کہلائی تو کوئی سلطنتِ عثمانیہ، کہیں تاج برطانیہ چھایا تو کہیں فرعونوں کی دھاک بیٹھی مگر خاکِ پاکستان کچھ اور ہے، اس کی بنیادوں میں خوابوں کی چنگاریاں بھی ہیں اور شہادتوں کے پھول بھی ہیں ۔ اس کی صبحیں اذانوں سے روشن اور شامیں سجدوں سے معطر ہوتی ہیں۔ پاکستان نظریے، عقیدے اور عظیم جدوجہد کا روشن نتیجہ ہے۔اور کیا ذکر کروں اُس لازوال محبت کا، جو اس سرزمین کے ذرے ذرے سے ہو جاتی ہے؟ کیا یہ کم فخر کی بات ہے کہ اسی خاک سے اقبال نے خواب دیکھے اور قائد نے تعبیر کی! ایک طرف لہو کا دریا، دوسری جانب منزل کا صحرا، پھر بھی ہنستے ہنستے قربان ہونے والوں کی وہ داستانیں، جنہیں اگر سنیں تو آنکھیں چھلک پڑیں، اور دل کہتا ہے یہی تو شانِ پاکستان ہے۔

    اردو۔ وہ زبان جو گلزارِ تہذیب بھی ہے اور آئینۂ شعور بھی۔ پاکستان نے اردو کو وہ مقام عطا کیا جو دنیا کے کسی خطے میں نہیں ملا۔ یہ ہماری قومی زبان ہے۔ یہ زبان بھی تو پاکستان کی شان ہے۔

    اگر فنونِ لطیفہ کی بات کی جائے تو پھر دھنک رنگ پاکستان پیشِ نظر آتا ہے۔ لاہور کی انار کلی سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک، خیبر کے پہاڑوں سے لے کر کشمیر کی وادیوں تک، ہر گوشہ ثقافت، ہر سنگِ در، ہر ساز کی لے میں الگ جمال اور اک نئی شان چھپی ہوئی ہے۔ ہنر مندوں کی سرزمین، لوک داستانوں، قوالی، غزل، فوک میوزک، اور کلاسیکی رقص و موسیقی کی وہ ریت، جو دلوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ یہ سب پاکستان کی پرچھائیں ہیں، یہ سب اس کی شان کے استعارے ہیں۔

    معاشرتی اقدار، خاندانی نظام، مہمان نوازی، بزرگوں کا احترام، خوشبو سے معطر باورچی خانے پاکستان کی روایتی زندگی میں وہ حسن ہے کہ جو کبھی پرانا نہیں پڑتا۔ یہاں بچپن دادی نانی کی کہانیوں سے مالا مال ہوتا ہے، جوانی غیرت و مروت کی عکاس اور بڑھاپا عزت و احترام کا پیکر بن کر سامنے آتا ہے۔

    ہماری افواج کی قربانیاں، ان کا عزم، ان کی جرات سب کچھ ایسی عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں جو لفظوں میں سموئی نہیں جا سکتیں۔ یہی وہ فولادی سپاہی ہیں جو پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ شانِ پاکستان کے ماتھے کا جھومر یہی سپاہی ہیں۔

    پاکستان کی شان اس کے نوجوانوں میں پنہاں ہے۔ وہ نوجوان جو سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، کھیل، فنون اور دفاعی میدانوں میں دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ کبھی ملالہ کے نام سے دنیا جھوم اٹھتی ہے تو کبھی ارفع کریم کی خدمات کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔

    یقیناً ہمارے دامن میں مسائل بھی ہیں۔ جن میں غربت، ناانصافی، کرپشن، دہشت گردی شامل ہیں لیکن وہ قوم، جس نے تہتر برس قبل ایک خواب کی تعبیر الگ وطن کی صورت میں حاصل کیذ! آج ان کٹھنائیوں سے نہ نکل پائے گی؟ ہرگز نہیں! کیونکہ جب تک دلوں میں پاکستان کے لیے تڑپ موجود ہے، جب تک آنکھوں میں اس کے لیے روشنی باقی ہے، جب تک ہاتھ اس کے لیے دعاؤں میں اٹھتے رہیں گے تب تک شانِ پاکستان سلامت رہے گی ان شاءاللہ ۔

    وطن کی شان نعرے لگانے سے نہیں بڑھتی بلکہ اس کے لیے عمل، قربانی، دیانت اور اتحاد درکار ہوتا ہے۔ دلوں کو جوڑیں، زبانوں کو نرم کریں، اختلاف کو رحم میں بدلیں، وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تب ہی ہم حقیقی معنوں میں شانِ پاکستان میں کردار ادا کر سکیں گے۔
    یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہمارا مان ہے، ہماری روح ہے۔ اس کے کھیت ہمارے رزق کا وسیلہ، اس کی ہوائیں ہمارے خوابوں کا سفر اور اس کے شہید ہماری آزادی کی مہر ہیں۔
    پاکستان زندہ باد!
    پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    شانِ پاکستان.تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    شانِ پاکستان
    تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل
    اللہ تبارک تعالیٰ کا بے شمار بار شکر و احسان ہے کہ اس نے اس وسیع و عریض دنیا میں ہمیں اتنا پیارا، اتنا خوب صورت آزاد وطن عطا کیا:
    اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا
    ہو اللہ، ہو اللہ
    دنیا میں لگ بھگ دو سو ممالک ہیں، کوئی چھوٹا، کوئی بڑا۔ پاکستان ان سب میں منفرد و ممتاز ملک ہے:

    دنیا مانے میرے وطن کی شان
    پاکستان اتنا منفرد، ممتاز، عالی شان اور ذی وقار کیسے ہے؟ کیوں ہے؟
    سب سے پہلی چیز جو اسے عظیم بناتی ہے وہ ہے اس کا نظریاتی قیام۔ مدینتہ النبی ﷺ کے بعد یہ وہ واحد ریاست ہے جو ایک عقیدے، ایک نظریے پر قائم ہوئی، جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا لہو شامل ہے۔

    اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو، میرا لہو
    اس سے تیری أبرو ہے، اس سے میری ابرو
    اس سے تیرا نام ہے، اس سے میری پہچان ہے
    تیرا پاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے
    اس پہ دل قربان، اس پہ جان بھی قربان ہے۔

    اسلامی نظریہ قومیت پر قائم ہونے والی اس مملکت خداداد کی شان میں اس کا جغرافیہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کے ہر بڑے خطے کی جغرافیائی خوبصورتیوں سے مالامال ہے: پہاڑ، دریا، جنگلات، صحرا، جزائر، سطح مرتفع، اور جھیلیں، سب کچھ اس دھرتی پر موجود ہے۔

    پنجاب کے ہرے بھرے میدان ہوں یا شمالی علاقہ جات کے برف پوش پہاڑ، نانگا پربت ہو یا کے ٹو، دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام سے لے کر کاریز تک، جھیل سیف الملوک سے منچھر جھیل تک، چمن کے باغات سے کے پی کے کے جنگلات تک:

    ہے اس دھرتی سے پیار مجھے
    یہ دھرتی میری دھرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر موسم کی دولت بھی عطا کی ہے: گرما، سرما، خزاں، بہار۔ اگرچہ ماحولیاتی آلودگی نے منظرنامے کو گڑبڑا دیا ہے لیکن شعور بیدار ہو رہا ہے، شجرکاری کی جانب رغبت بڑھ رہی ہے، إن شاءاللّٰه حالات بہتر ہوں گے۔

    "ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے”
    پاکستان کا قیام دشمنوں کی مرضی کے خلاف ہوا، اس لیے پاکستان اپنے قیام سے پہلے ہی سے ان کی آنکھ میں کھٹکتا رہا۔ آج جب وہ اس کی ترقی دیکھتے ہیں تو ان کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں، مگر:

    نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون؟
    قوم کے جانباز سپوتوں نے اس وطن پر اپنی جانیں نچھاور کیں:
    کیپٹن سرور شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم، طفیل محمد، محفوظ، سوار محمد حسین، میجر شبیر شریف، راشد منہاس، کرنل شیر خان، حوالدار لالک جان، سیف اللہ جنجوعہ اور دیگر گمنام ہیرو… سب نے وطن کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

    جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
    کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

    اس چراغاں کی روشنی کو مزید جلا دی اعتزاز احسن شہید اور آرمی پبلک اسکول کے ننھے شہداء نے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پاکستان نے دنیا کو حیران کیا۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر محب وطن سائنسدانوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بنایا۔
    "ٹی از فنٹاسٹک” سے شروع ہونے والی دشمن کی شیخی رافیل طیاروں کی تباہی پر ختم ہوئی — پاکستان نے دشمن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔

    بنیان المرصوص کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے نہ صرف اپنی طاقت کا لوہا منوایا بلکہ رب کے حضور سجدہ شکر بھی ادا کیا۔

    اَلْحَمْدُلِلّٰہ پاکستان آج خلائی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے، چاند کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں ارفع کریم رندھاوا جیسی ہونہار بیٹی نے سب کو چونکا دیا۔

    کھیلوں میں بھی پاکستان نے دنیا میں اپنا نام بنایا۔
    سکواش، ہاکی، کرکٹ، سنوکر، ٹینس، کشتی، پولو، نیزہ پھینکنے، والی بال… ہر میدان میں سبز ہلالی پرچم سربلند کیا۔
    جہانگیر خان، جان شیر خان، ماجد خان، عمران خان، جاوید میانداد، حنیف محمد، سمیع اللہ، حسن سردار، اختر رسول، اور لاتعداد دوسرے ہیرو اس قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

    سعودی عرب ہو یا دبئی، پاکستانیوں نے ریگستان میں پھول اگا دیے۔

    علم و ادب کے میدان میں پاکستان کا وقار مسلمہ ہے۔
    ترکیہ، آذربائیجان، مصر اور چین جیسے ممالک کی جامعات میں اردو کی تدریس ہوتی ہے۔
    مصر کی دختر نیل ہو یا چین کا انتخاب عالم ، سب اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اردو کا سہارا لیتے ہیں۔

    شوبز میں وحید مراد کی فلمیں بھارت کی اکیڈمیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔
    مہدی حسن کے بارے میں لتا منگیشکر کا یہ کہنا کہ "ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے” اور دلیپ کمار کا فیض احمد فیض سے آٹوگراف لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا تخلیقی سرمایہ سرحدوں کا محتاج نہیں۔

  • شان پاکستان (بھوک سے آزادی ).تحریر : لائبہ ہدایت

    شان پاکستان (بھوک سے آزادی ).تحریر : لائبہ ہدایت

    شان پاکستان (بھوک سے آزادی )
    تحریر ۔ لائبہ ہدایت
    14 اگست آزادی کا دن ہوتا ہے ہر گھر ،گلی ،محلہ دکانیں آزاذی کی جھنڈیاں سے سجے ہوئے ہوتے ہیں بچے ، جوان ، مرد، عورتیں سب نۓ کپڑوں اور نئی چیزوں سے خوب سجے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ہر طرف آزاد ہونے کا جشن منایا جا رہا ہوتا ہے اسی محلے میں ایک غریب عورت اور اسکے دو بچے بھی رہتے ہیں 5 سال کا چھوٹا بیمار اور 9 سال کی ایک بھوکی بچی جو محلے کے باقی بچوں کو نۓ کپڑوں سے سجا دھجا دیکھ کر اپنے دل میں حسرت کی آہیں بھرتی ہے وہ عورت محلے کے گھروں میں برتن مانجھ کر اپنے دو بچوں کو پالتی ہے ان کے گھروں سے ضائع بچا ہوا کھانا لے کر اپنی اور اپنے بچوں کی ایک وقت کی بھوک مٹاتی ہے ۔

    ان دنوں عورت ملیریا کے بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کا م پہ نہیں جا رہی ہوتی جسکی وجہ سے اسکے بچے بھوکے ہوتے ہیں اکثر ۔ بیمار چھوٹا بچہ دودھ کے لئے تڑپ رہا ہو تا ہے ، بیٹی ایک وقت کے کھانے کے لیے بھوک سے نڈھال ہوتی ہے ۔بیٹی کبھی ماں کو دیکھتی تو کبھی باہر جھانکتی گلی میں کھیلتے طرح طرح کی چیزیں کھاتے بچوں کو دیکھ کر اسکی بھوک اور بھی زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہوتی ہے ۔

    بچی اپنی ماں سے کہتی ہے کہ اماں یہ کیسے لوگ ہیں ہم کن لوگوں کے بیچ میں آگۓ ہیں کسی کو ہماری بھوک کی خبر نہیں کسی کو ہماری غربت اور بیماری کا احساس نہیں یہ کیسے لوگ ہیں آج اپنی آزادی منانے کے لیے ہزاروں خرچ کر رہے ہیں لیکن ہمیں ایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے ۔ ایسا کیوں ہے کہ یہ لوگ آزاد ہیں اور ہم آج بھی غربت اور بھوک کی قید میں غلام ہیں ۔ ہمیں کب آزادی ملے گی اس بھوک سے ۔ یہ لوگ ہمیں آزاد کیوں نہیں کرواتے ؟ ہمیں کون آزاد کرواۓ گا ؟

    بھوک سے نڈھال اور تنگ ہو کر بچی ماں سے سوال کرتی ہے کہ اماں پا کستان کی عوام کو آزادی کس نے دی ہے ؟
    اماں جواب دیتی ہے کہ قاعد اعظم نے ۔بچی دوبارا اپنی اماں سے پوچھتی ہے کہ قاعد اعظم کون تھے ؟
    اماں ۔ قاعد اعظم ایک بھت عظیم لیڈر تھے اس قوم کے جنہوں نے پوری قوم کو غلامی سے آزادی دلائی ۔بچی یہ سن کے اماں کا جواب سوچ میں پڑ جاتی ہے تھوڑی دیر کے بعد اماں سے کہتی ہے کہ کیا آج قاعد اعظم جیسا کوئی عظیم لیڈر اس قوم میں نہیں ہے جو ہمیں بھی اس غربت اور بھوک کی غلامی سے آزادی دلا سکے ؟

    آج سب لوگ آزاد ہیں خوش ہیں اور ہم آج بھی بھوک کے غلام ہیں ایسا کیوں ہے اماں جو لوگ آزاد ہیں ان کو ہمارا احساسِ نہیں ؟
    اماں بچی کے سوال سن کر زور زور سے رونے لگی اپنی بے بسی پہ ، بچوں کی بھوک پہ ، اپنی غربت پہ رونے لگی بچی ماں کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گئی اور گھر سے باہر چلی گئی اور باہر گلی میں جا کر ادھر ادھر دیکھ کر لوگوں کو ہستا مسکراتا خوشی میں کیک کاٹتا دیکھ کر زور ، زور سے سب کو کہنے لگی کہ
    کیا آج کوئی قاعد اعظم زندہ ہے اس آزاد قوم میں ؟

    سب لوگ بچی کا سوال سن کر بہت حیران ہوۓ ۔ بچی بار بار یہی سوال پوچھ رہی ہوتی ہے ۔
    ایک آدمی بچی کے پاس آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا کہہ رہی ہو ؟
    بچی پھر کہتی ہے کہ کیا آج کوئی قاعد اعظم زندہ ہے جو مجھے بھوک کی غلامی سے آزاد کروا دے ، جو میرے بیمار بھائی کو دودھ کا دے ، جو میری ماں کو غربت کی غلامی سے آزاد کروا سکے ۔

    یہ سب باتیں سن کر وہاں کھڑے سب لوگ بہت حیران ہوۓ بچی کی با تیں سن کر سب لوگ سوچ میں پڑ گۓ ،ایک بوڑھا آدمی کھانا لیکر بچی کے پاس آتا ہے اسکے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ہاتھ میں کھانا دیتا ہے ،بچی کھانے کو دیکھ کر بھت خوش ہو جاتی ہے وہ کھانا لیکر اپنے گھر کی طرف بھاگتی ہے ،وہاں کھڑے سب لوگ خاموش اپنے ذہن میں اس سوال کا جواب سوچ رہے ہوتے ہیں

    بوڑھا آدمی مڑ کر سب لوگوں کی طرف دیکھ کر وہی سوال پوچھتا ہے سب سے ،کیا ہے آج کوئی قاعد اعظم جیسا عظیم لیڈر زندہ جو غریبوں کو بھوک کی غلامی سے آزاد کروا سکے بھلے ایک وقت کی بھوک سے آزادی ہی کیوں نہ ہو ؟

    آج سب لوگ اپنے آزاد ہونے کا جشن منا رہے ہیں نۓ کپڑے طرح ، طرح کے کھانے بنا رہے ہیں کیک کاٹ رہے ہیں ہزاروں خرچ کرتے ہیں لیکن غریب کی بھوک مٹانے کے لیے ان کے پاس ایک وقت کا کھانا بھی نہیں ہے سب لوگ شرم سے سر جھکائے سوچ میں گم کھڑے ہوتے ہیں وہاں پہ اس بچی کی بھوک کو یاد کر کے ۔۔۔۔۔۔۔
    اس آزادی ۔ بھوک سے آزادی

  • شان پاکستان.تحریر: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)

    شان پاکستان.تحریر: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)

    شان پاکستان
    ازقلم: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)
    پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد، ایمان کی حرارت اور قربانی کی بے مثال داستان ہے۔ اس وطن کا قیام علامہ اقبال کے خواب، قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت اور لاکھوں شہداء کے خون کی بدولت ممکن ہوا۔ پاکستان کی اصل شان اس کے آئین، نظریہ، جغرافیہ، ثقافت، زبانوں اور عوام کی حقیقی جدوجہد میں ہے۔

    پاکستان چھ صوبوں اور متعدد قومی ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ پنجابیوں کی محبت، سندھیوں کی مہمان نوازی، پختونوں کی غیرت، بلوچوں کی روایات، سرائیکیوں کی شائستگی اور گلگت بلتستان والوں کا خلوص، سب مل کر پاکستان کو اکائی بناتے ہیں۔ تمام قومیتیں دستور 1973 کے سائے تلے ایک جھنڈے اور ایک عزم میں پروئی ہوئی ہیں۔

    ہمالیہ سے لیکر بحیرہ عرب تک، پاکستان کے قدرتی وسائل اسے خطے کی معیشت کے لئے بہت خاص بناتے ہیں۔ دریائے سندھ، کوہِ ہندو کش، وادی کشمیر، بلوچستان کے معدنی ذخائر اور پنجاب کی زرخیز زمینیں ہمارے قومی فخر کا حصہ ہیں۔ یہی وسائل جب محنتی پاکستانی قوم کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

    پاکستانی افواج اس ملک کی عظمت اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ ان کی جرات، شفقت اور نظم و ضبط عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ 1965 اور 1971 کی جنگیں، 1998 کے ایٹمی دھماکے، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنزیہ سب پاکستان کی خودمختاری، وقار اور دفاعی شان کا عملی ثبوت ہیں۔

    پاکستان کے ادارے، جامعات، سائنسدان، کھلاڑی اور فنکار بھی اس ملک کی بین الاقوامی شناخت کو چار چاند لگاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام، عبدالقدیر خان، ارمونا خان، جہانگیر خان، دنیا بھر میں وطن کا نام روشن کرتے ہیں۔ کرکٹ ورلڈکپ 1992، اسکواش میں لگاتار فتوحات، اور نوبل پرائز،یہ سب پاکستان کے قابل فخر لمحات ہیں۔

    ثقافت اور ادب میں پاکستان نے اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں ایسے شاہکار تخلیق کیے جو آج بھی دلوں کو گرما دیتے ہیں۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، پروین شاکر، صوفیانہ کلام اور قوالی ہمارے معاشرتی سرمائے کی لازوال دولت ہیں۔

    ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں علم و ہنر کا پھیلاؤ، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نوجوانوں کی ترقی، نمل، پنجاب یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، لمز وغیرہ ملک کے علمی وقار کی علامتیں ہیں۔

    پاکستان کے عوام مشکل حالات میں بھی پرامید، باوقار اور محنتی ہیں۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب یا زلزلے کے وقت پاکستانی قوم نے ہمیشہ اتحاد، ایثار اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ عشرہ بدر عشرہ، مشکل لمحوں میں ہلال احمر، الخدمت اور ایدھی فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں انسانیت نوازی میں ہمیشہ آگے رہی ہیں۔

    شانِ پاکستان، اس کے آئینی ادارے، عدلیہ، پارلیمان، آزاد میڈیا، اور باخبر سول سوسائٹی بھی ہیں۔ یہ سب مل کر جمہوریت اور آئین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں۔

    پاکستان کی مذہبی اور روحانی تاریخ میں صوفیائے کرام، علماء اور مشائخ کی تعلیمات سماجی ہم آہنگی اور بین المسالک اتحاد کی بنیاد ہیں۔ داتا گنج بخش، سرہندی مجدد الف ثانی، شاہ عبدالطیف بھٹائی جیسے بزرگ ہستیاں پاکستان کی روحانی پہچان ہیں۔

    آج کا پاکستان تعلیم، ٹیکنالوجی اور امن کے خواب کے ساتھ اپنی عظمت کے سفر پر گامزن ہے۔ ہر پاکستانی چاہے وہ وطن میں ہو یا بیرون ملک، اپنے ملک کی عزت اور ترقی کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    آخر میں یہی کہوں گا: پاکستان کی عظمت صرف اس کے رقبے یا آبادی میں نہیں، بلکہ اس کے عوام کی جرات، دانش، حب الوطنی، اصول پسندی اور خدا پر توکل میں ہے۔ ہمارے نوجوان پاکستان کی شان ہیں، آج اور کل بھی۔

    اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامتی، ترقی اور استحکام عطا کرے۔(آمین)

  • شان پاکستان.تحریر: ثناء سجاد

    شان پاکستان.تحریر: ثناء سجاد

    شان پاکستان
    از قلم۔ ثناء سجاد
    پاکستان… ایک ایسا ملک جس کے نام میں ہی برکت چھپی ہے۔ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی ریاست جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک عقیدہ، اور لاکھوں قربانیوں کی پہچان ہے۔ ہر قوم کو اپنے وطن پر فخر ہوتا ہے، لیکن جو فخر ہمیں پاکستان پر ہے، وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔ پاکستان کی مٹی میں جو تاثیر ہے، وہ صرف یہاں کے لوگوں کو محسوس ہو سکتی ہے۔

    یہ ملک کئی آزمائشوں سے گزرا، لیکن اس نے ہر مشکل کو اپنے حوصلے سے شکست دی۔ جہاں قوموں نے ہار مان لی، وہیں پاکستان نے ثابت کیا کہ ہم ایک زندہ، جاندار اور باوقار قوم ہیں۔ یہاں کے لوگ محبت کرنے والے ہیں، قربانی دینے والے ہیں، اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والے ہیں۔ یہی پاکستان کی اصل شان ہے۔

    دنیا کی بڑی بڑی قومیں اپنے سائنسی کارناموں اور ایجادات پر فخر کرتی ہیں، ہمیں فخر ہے اس قوم پر جو کم وسائل کے باوجود بھی ایٹمی طاقت بنی۔ ہمیں فخر ہے ان ڈاکٹروں، انجینئروں، سپاہیوں، استاتذہ اور نوجوانوں پر جنہوں نے ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے دن رات ملک کی خدمت کرتے ہیں، اور ان کے چہروں پر کوئی غرور نہیں، صرف محبت ہے… پاکستان سے۔

    پاکستان صرف پہاڑوں، دریاؤں، کھیتوں اور شہروں کا نام نہیں۔ یہ وہ دھڑکن ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں بستی ہے۔ جب قومی ترانہ بجتا ہے تو سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو آنکھیں خوشی سے بھیگ جاتی ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔

    پاکستان کی خوبصورتی اس کے قدرتی حسن میں چھپی ہے، اس کی ثقافت میں، اس کے رہن سہن میں، اس کی زبانوں میں، اس کے کھانوں اور میلوں میں۔ یہاں ہر رنگ اپنا ہے، ہر چہرہ اپنائیت سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ملک ہمیں پہچان دیتا ہے، حفاظت دیتا ہے، شناخت دیتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ہم کہاں ہوتے؟ شاید کہیں نہ ہوتے۔

    آج اگر ہم کھل کر سانس لیتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو جیتے ہیں تو یہ سب اسی وطن کی بدولت ہے۔ اس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا ہے، اب وقت ہے کہ ہم بھی اس کی حفاظت کریں، اس سے محبت کریں اور اسے سنواریں۔ کیونکہ یہ صرف ہمارا ملک نہیں، یہ ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک امید ہے۔ ایک روشنی ہے۔ ایک ایسی روشنی جو ہر رات کے بعد نئی صبح لے کر آتی ہے۔ ہمیں بس یقین رکھنا ہے، اپنے حصے کی کوشش کرنی ہے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ تبھی ہم اپنے پاکستان کو مزید خوبصورت، مضبوط اور کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان صرف ماضی کی عظمت نہیں، پاکستان ایک روشن مستقبل کا وعدہ ہے۔ اور ہم سب اس وعدے کے امین ہیں۔

    پاکستان ہمیشہ سلامت رہے، یہی ہے ہماری اصل شان۔

  • شان پاکستان.تحریر:مریم محمود اقبال

    شان پاکستان.تحریر:مریم محمود اقبال

    شان پاکستان
    از قلم: مریم محمود اقبال
    پاکستان وہ عظیم سرزمین ہے جو دنیا کے نقشے پر 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھری۔ یہ وہ وطن ہے جو لاکھوں قربانیوں، طویل جدوجہد اور بے مثال عزم و استقلال کا نتیجہ ہے۔ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک عہد ہے۔ یہ تحریر "شانِ پاکستان” کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، تاکہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھ سکیں، حال کو سنوار سکیں اور مستقبل کو روشن بنا سکیں۔ پاکستان کا قیام محض جغرافیائی حدود کے اندر ایک ملک کا بن جانا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ مسلمانوں نے برصغیر میں ایک الگ وطن کے لیے طویل جدوجہد کی۔ تحریکِ پاکستان کا آغاز ایک تاریخی موڑ تھا۔ جس نے لاکھوں دلوں میں آزادی کی چنگاری کو روشن کیا۔ علامہ اقبال کا خواب، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت، اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اس عظیم ریاست کے قیام کی بنیاد بنیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا!
    "پاکستان کا مطلب صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک منزل ہے جہاں مسلمان اپنے عقائد، ثقافت اور زندگی گزارنے کے طریقے کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔”

    پاکستان کی بنیادوں میں وہ خون شامل ہے جو نہتے مسلمانوں نے آزادی کے وقت اپنی جانوں کے نذرانے کے طور پر پیش کیا۔ ہجرت کے دوران جو ظلم، قتل و غارت اور جبر برداشت کیا گیا، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ لاکھوں افراد نے اپنے گھربار چھوڑے، خواتین کی عصمت دری کی گئی، بچوں کو قتل کیا گیا، لیکن مسلمانوں کا حوصلہ متزلزل نہ ہوا۔ ان قربانیوں کا مقصد صرف ایک تھا: "آزادی”۔ آج جب ہم آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں تو ہمیں ان شہداء کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اپنی جانیں دے کر ہمیں آزادی کا تحفہ دیا۔

    پاکستان کی ثقافت اس کی اصل شان ہے۔ یہاں مختلف قوموں، زبانوں، اور ثقافتوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون، کشمیری، سرائیکی، اور دیگر قومیں ایک ہی پرچم تلے متحد ہیں۔ یہ تنوع ہماری طاقت ہے، نہ کہ کمزوری۔پاکستانی موسیقی، لوک رقص، دستکاری، کھانے، اور لباس دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ مہمان نوازی، عزت و احترام، اور مذہبی رواداری پاکستانی معاشرے کی خوبصورت اقدار ہیں۔

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ زرعی زمین، معدنیات، دریا، پہاڑ، صحراء اور سمندر وغیرہ یہ سب پاکستان کی معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ پاکستان کا محلِ وقوع بھی اسے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل کرتا ہے۔ چین، بھارت، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب سے متصل ہونا پاکستان کو ایک اقتصادی، دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک بناتا ہے۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے۔ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں اور ملک میں امن قائم کیا۔ کارگل، سوات، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں فوج کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، جو ہماری خودمختاری اور دفاع کی علامت ہے۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے ایٹمی تجربے نے دشمنوں کو پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔

    اگرچہ تعلیمی شعبے میں ہمیں ابھی بہتری کی ضرورت ہے، تاہم کچھ کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان کے سائنسدانوں، انجینئروں، اور ماہرینِ طب نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جو نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان تھے، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ہماری قومی شان ہیں۔ آج بھی پاکستان کے نوجوان اسٹارٹ اپس، آئی ٹی سیکٹر، اور جدید ٹیکنالوجی میں عالمی میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ یہ تمام تر ترقی ہمارے روشن مستقبل کی امید ہے۔

    پاکستان نے کھیلوں کی دنیا میں بھی اپنا مقام بنایا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر میں ہمارے کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ عمران خان، جہانگیر خان، وسیم اکرم، اور شوکت علی جیسے سپورٹس ہیروز آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پاکستانی ادب، شاعری، اور فنون لطیفہ عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، منٹو، پروین شاکر، اور بانو قدسیہ جیسے ادیبوں اور شاعروں نے پاکستان کو ادبی دنیا میں ممتاز مقام دلایا۔ فلم، ڈرامہ اور موسیقی کے شعبے میں بھی پاکستان نے کئی نئے انداز متعارف کرائے۔ کلاسیکی موسیقی سے لے کر جدید میوزک تک، ہر دور میں پاکستان کے فنکاروں نے دل جیتے ہیں۔

    چیلنجز اور امیدیں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جیسا کہ معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، تعلیمی فقدان، اور کرپشن جیسے مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن یہ چیلنجز ناقابلِ حل نہیں۔ پاکستانی قوم نے ہر آزمائش میں ثابت کیا ہے کہ وہ ہار ماننے والی نہیں۔سیلاب ہو یا زلزلہ، وبا ہو یا دہشت گردی پاکستانی قوم نے ہمیشہ ایک ہو کر ہر مسئلے کا سامنا کیا۔ یہی اتحاد، قربانی، اور جذبہ پاکستان کی اصل شان ہے۔ شانِ پاکستان کا مستقبل پاکستان کا مستقبل تابناک ہے بشرطیکہ ہم ایمانداری، خلوص، اور اتحاد کو اپنا شعار بنائیں۔ تعلیم، تحقیق، انصاف اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر ہم دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم، کردار اور عمل سے خود کو آراستہ کریں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، تو کوئی طاقت پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوم بننے سے نہیں روک سکتی۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں واقع ایک خودمختار اسلامی ریاست ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے۔ پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے 1933ء میں تجویز کیا اور اس کے قیام کا اعلان 3 جون 1947ء کو ہوا۔ 1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قدیم زمانے میں اس کے علاقے آریا، ہن، ایرانی، یونانی، عرب، ترک، منگول وغیرہ لوگوں کی ریاستوں میں شامل رہا ہے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان تابندہ باد