Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    جی کئی بار ہم ایسا سنتے ہیں کے تمباکو نوشی جان لیوا ہے تو پھر لوگ اب بھی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
    تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں . پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر یہ بہت برا ہے تو اچھے خاصے سمجھدار لوگ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ اداکار ہوں یہ سماجی لوگ فلموں میں کام کرنے والے یہ میگزینوں میں آپ ہر جگہ کچھ انتہائی خوبصورت اور باصلاحیت لوگوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، "وہ بہت اچھے لگ رہے ہیں! یہ میرے لیے کیسے برا ہو سکتا ہے؟ ” یا "اگر میں تمباکو نوشی کرو تو شاید میں ایسا ہی لگوں ٹھیک ہے لیکن شاید ہمیں انہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن انسان کے اندرونی جسم کی کہانی بالکل مختلف کہانی ہے۔

    تمباکو کے استعمال سے ہر سال 54 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں – ہر چھ سیکنڈ میں اوسطا ایک شخص – اور دنیا بھر میں 10 میں سے ایک بالغ کی موت ہوتی ہے۔
    تمباکو تمام صارفین میں سے نصف کو ہلاک کرتا ہے۔
    دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریباََ ایک ارب سے زیادہ ہے۔
    نیکوٹین انتہائی نشہ آور ہے۔ نیکوٹین کا نشہ آور اثر تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے تمباکو نوشی کرنے والے سگریٹ نوشی کے درد سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مثلاً زیادہ گہرائی سے سانس لیتے ہوئے تاکہ جسم میں نیکوٹین کی ایک خاص سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔
    سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے نصف اپنی 18 ویں سالگرہ تک باقاعدہ تمباکو نوشی کر رہے ہوتے ہیں ، اور 90 فیصد نے 21 سال کی عمر سے شروع کر دیتے ہیں.
    ہر روز 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 4 4000 بچے اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں اور ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 1300 باقاعدہ سگریٹ پینے والے بن جائیں گے۔

    نوعمری میں تمباکو کا استعمال دیگر غیر صحت بخش رویوں سے بھی وابستہ ہے ، بشمول لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونا ، ہتھیار اٹھانا ، اور زیادہ خطرہ جنسی رویے میں شامل ہونا۔
    تمبا کو نوشی نہ صرف آپ کے لیے سخت نقصان دہ بلکے آپ کے ساتھ جُڑے لوگو کے لیے اور آپ کے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔

    تمباکو نوشی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے اور فضا میں زہریلی آلودگی پھیلاتی ہے۔ سگریٹ کے جو ٹوٹے بچتے ہیں وہ بھی ماحول کے لیے خطرناک اس کی باقیات میں موجود زہریلے کیمیکل مٹی اور آبی گزرگاہوں میں گھس جاتے ہیں ، جس سے بالترتیب مٹی اور پانی کی آلودگی ہوتی ہے۔

    جانور اور پودے جو سگریٹ کی باقیات سے رابطے میں آتے ہیں یا زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    اس طرح یہ نہ صرف سگریٹ کا دھواں بھی ماحول کے کے نقصان ده ہے جو لوگوں اور ماحول پر کئی طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ سگریٹ کی بنائی کے عمل کے دوران جاری سگریٹ ٹوٹے باقیات اور دیگر فضلہ بھی ماحول کے کے سخت نقصان دہ ہے.

    تمباکو کی صنعت اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے جس پر ہم رہتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ، پانی ، زمین اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں.اور زمین کو دھکیل رھے ہیں ایک عالمی تباہی کی طرف.

    جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جب انکو بتایا جاتا ہے کے ان کے لیے تمباکو نوشی ان کے نقصان دہ ہے وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہں ہوتے.
    زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے دفاعی موقف اختیار کرتے ہیں . یقینی طور پر وہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی غیر صحت مند ہے لیکن اور وہ اپنے علاوہ کسی اور کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ یقینی طور پر ، سگریٹ کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے ، ٹھیک ہے؟ وہ بندوقیں نہیں ہیں لیکن ہر سال اس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے

    تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اپنے کے اپنے ساتھ جُڑے لوگوں کے لیے اور بہترین ماحول کے لیے۔
    Twitter Handle
    @aworrior888

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات، تحریر: فروا منیر

    تمباکو کی وبا دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ کے خطرات میں سے ایک ہے ، جس سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔  ان میں سے ستر لاکھ سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ تقریبا 1.2 ملین غیر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ۔

    تمباکو کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں۔  سگریٹ نوشی دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی سب سے عام شکل ہے۔  تمباکو کی دیگر مصنوعات میں واٹر پائپ تمباکو ، مختلف تمباکو نوشی کی مصنوعات ، سگار ، سگریلو ، رول آپ کی اپنی تمباکو ، پائپ تمباکو ، بڈیاں اور کریٹیکس شامل ہیں۔

    سگریٹ تمباکو کے استعمال کی طرح واٹرپائپ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تاہم ، واٹرپائپ تمباکو کے استعمال کے صحت کے خطرات کو اکثر صارفین کم سمجھتے ہیں۔
    تمباکو کا استعمال انتہائی لت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تمباکو میں بہت سے کینسر پیدا کرنے والے زہریلے مادے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے سر ، گردن ، گلے ، غذائی نالی اور زبانی گہا کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (بشمول منہ ، زبان ، ہونٹ اور مسوڑوں کا کینسر) نیز دانتوں کی مختلف بیماریاں۔

    دنیا بھر میں 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں ، جہاں تمباکو سے متعلقہ بیماری اور موت کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔  تمباکو کا استعمال گھریلو اخراجات کو بنیادی ضروریات جیسے کھانے اور پناہ گاہ سے تمباکو کی طرف موڑ کر غربت میں مدد کرتا ہے۔

    تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات کافی ہیں اور ان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے اہم اخراجات کے ساتھ ساتھ گمشدہ انسانی سرمایہ بھی شامل ہے جو تمباکو سے منسوب بیماری اور اموات کا نتیجہ ہے۔

    کچھ ممالک میں غریب گھرانوں کے بچوں کو تمباکو کی کاشت میں لگایا جاتا ہے تاکہ خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔  تمباکو بڑھانے والے کسان صحت کے کئی خطرات سے بھی دوچار ہیں ، جن میں "سبز تمباکو کی بیماری” بھی شامل ہے۔

    تمباکو مصنوعات میں  ٹیکس میں اضافہ اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ قیمتوں کو آمدنی میں اضافے سے اوپر لے جائے۔  تمباکو کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 4 فیصد اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

    اس کے باوجود ، تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا ایک ایسا اقدام ہے جو تمباکو کنٹرول کے دستیاب اقدامات کے سیٹ کے درمیان کم از کم لاگو ہوتا ہے۔

    مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم لوگ تمباکو کے استعمال کے مخصوص صحت کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم ، جب تمباکو نوشی کرنے والے تمباکو کے خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو ، زیادہ تر لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

    اگر آپ سگریٹ کی ڈبیا کر غور سے دیکھیں تو اس پر بھی درج ہے کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کواس بات کو سمجھنا چاہیے۔

    بے شک سگریٹ ایک بری وبا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے ان کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

  • افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود

    افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔

    خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔

    یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔

  • ظالم سماج تحریر: نوید خان

    ظالم سماج تحریر: نوید خان

    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔

    میں اکثر سوچتا ہوں
    اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
    وہ بڑا ظلم تھا؟
    یا موجودہ زمانے میں
    معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
    گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
    آخر وہ کونسا عارضہ ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
    کب تک ہم افسوس مزمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری اُلزِمہ سمجھے گے؟
    کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
    آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
    اسکا سدِباب ناگزیر ہوچکا
    ورنہ یہ سانحات ہوتے رہے گے
    چار دن کا ماتم بھی ہوگا
    اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
    پر ایک نئی بحث ہوگی
    آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
    مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
    لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟

    ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
    اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
    عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جنکی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیں

    ہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
    روز ایسے ایسے واقعات رونماع ہورہے ہیں
    جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِر جاتا ہے
    ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
    اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
    اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں نا جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینی چاہئیے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
    دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
    اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردار کی عزت ہوتی تھی ناکہ دولت یا چمک دمک کی؛ جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کر سوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگ ایسے سفاک لوگوں کا بائیکاٹ کرے اور جو بائیکاٹ نہ کرے اسے بھی اس جیسا سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا جدید سسٹم لائےجس سے ایسے لوگ سزا کاٹنے کے بعد جب جیلوں سے باہر آجائے اورکسی شہر میں جائےتو ان کے بارے میں ہر شہر میں متعلقہ تھانے سے ایس ایم ایس پورے شہر کو جائے کہ ایک بچوں کا شکاری درندہ اس شہر میں آگیا ہے، اس پر آنکھ کُھلی رکھو،محتاط رہو اور بندوقیں صاف کرلو تاکہ اسے پتا چلے کہ اب کسی بچے پر آنکھ اٹھائی تو دوبارہ وہ جیل میں نہیں، سیدھاجہنم جائے گا۔
    اب ان بدبُودار کہانیوں کو رُکنا چاہیے
    وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔
    ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثر نہیں کرتی۔
    ویسے تو یہاں نا خواتین محفوظ ہیں اور نا ہی بچے
    انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو
    اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں؛ ڈرائیو کرنے والی خواتین پرس میں لیڈیز پستول رکھیں!
    پولیس مجرموں کو پکڑ سکتی ہے؛ وقت کو واپس نہیں لا سکتی!

    ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

    Name: Naveed Khan
    @Naveedmarwat55

  • علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    _(حضرت علی ع)_
    اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
    _اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
    *”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
    پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
    اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
    اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
    *”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
    اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
    *” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
    انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
    *پاکستان ذندہ باد*
    @hamzatareen4

  • ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان

    ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان

    "یہ عدالت نہیں کچہری ہے جی یہاں انصاف نہیں ملتا ! یہاں صرف تریخیں ملتی ہیں اور بندے کے پاس پیسہ ہو تو فیصلہ بھی مل جاتاہے لیکن انصاف نہیں ملتا” ۔ گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ململ کا صافہ رکھے، ہاتھ میں کاغذوں سے بھرا تھیلا پکڑے اور پسینے میں شرابور نوجوان کی آواز میں چھپا کرب ، مایوسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔میں لاہور کی مقامی عدالت کے باہر کسی کام کے لیے موجود تھا۔پتا معلوم نہ ہونے پر نوجوان سے ایک عدالت کا راستہ پوچھا تو اس نے اپنے تئیں میری ان الفاظ سے تصحیح کی۔استفسار پر معلوم ہوا کہ دادا کی زمین پر بااثر زمیندار نے قبضہ کیا تھا ۔ دادا سے شروع ہونے والا کیس سے پوتے تک آن پہنچا لیکن فیصلے کا کوئی اتا پتا نہیں ۔
    "سوچتا ہوں کہ میرے دادے کے ٹائم میں نیٹ والا موبائل ہوتا تو شاید ہمارا بھی مسئلہ حل ہوجاتا” داد اللہ نامی اس نوجوان کی بات نے میری پوری توجہ اسکی جانب مبذول کروادی۔ "کیوں بھئی نیٹ والے موبائل کا تمہارے کیس سے کیا تعلق؟؟؟ "۔ ” او جی اب توجس ماملے کی خبر نیٹ پر آجائے و ہ اے سی، ڈی سی وزیراعظم سب کو پتا لگتی ہے اور مسئلہ فٹافٹ حل ہوجاتا ہے”۔ داد اللہ نے میرے علم میں تسلی بخش اضافہ کیا۔
    دور جدید میں یہ خواہش صرف داد اللہ نامی اس نوجوان کی ہی نہیں بلکہ عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹتے ، انصاف کے منتظر ان لاکھوں پاکستانیوں کی ہے جو لین دین کے تنازعات سے لے کر قتل کے مقدمات تک میں انصاف کی راہ تک رہے ہیں ۔روایتی نظام انصاف میں ایک بار معاملہ عدالت تک جاپہنچے تو دن مہینوں میں ، مہینے سالوں میں اور سال دہائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن انصاف کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ کمزور فریق یا تو تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر نسل در نسل انصاف کی دہائیاں دیتا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں اللہ داد کی یہ تھیوری سو فیصد درست بیٹھتی ہے کہ اگر آپکا مسئلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے تو انصاف گویا آپکی دہلیز تک آن پہنچتا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں زینب قتل کیس ہو یا شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا معاملہ، کسی بچے کا مرغا زہریلا پانی پینے سے مر جائے یا پھر کسی طاقتور نے غریب پر ظلم کیا ہو، جو ویڈیو یا خبر سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی ، ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں آگئی،فیس بک پر شیئر ہوگئی واٹس ایپ پر وائرل ہوگئی تو اس پر لمبی تانے سوئے حکام گڑبڑا کر جاگ اٹھتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی ہوجاتی ہے۔
    اسی صورتحال کے پیش نظر اب کسی بھی مسئلے میں گھرے شہری کی توجہ تھانے، سوئی گیس دفتر، واپڈا، کے الیکٹرک اور دیگر محکموں کی جانب نہیں جاتی بلکہ فون نکال کر ویڈیو یا پوسٹ بنائی جاتی ہے اور اس امید پر اپ لوڈ کردی جاتی ہے کہ اگر کسی صاحب اختیار کی نظر پڑ گئی تو داد رسی ہوجائے گی۔ یہاں اداروں پر کم ہوتے عوامی اعتماد کا تو سوال اپنی جگہ لیکن یہ سوچنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ علاقے اور خطے جہاں انٹرنیٹ کی مکمل رسائی نہیں ہے، جہاں عوام ٹیکنالوجی کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے وہاں انصاف کی فراہمی کی صورتحال کیا ہے؟انہی پسماندہ علاقوں میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور امیر وڈیروں کے غریبو ں پر انسانیت سوز مظالم کی کہانیاں کئی کئی ماہ بعد سامنے آتی ہیں۔ بعض صورتوں میں جرم کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ارباب دانش کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی کہ انصاف کا پیمانہ صرف ٹرینڈنگ ہی نہ بن جائے بلکہ نظام انصاف کی کمزوریاں اور خامیاں دور کی جائیں تاکہ ہر عام و خاص تک انصاف کی فراہمی بلاتفریق یقینی بنائی جاسکے۔

  • یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لیےتعلیم کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔تعلیم انسانی شعورکوبیدارکرکےانسان کی اصلاح کاسامان کردیتی ہے۔تعلیم اخلاقی پختگی کی اساس ہے۔اگراساس کمزورپڑجائےیاسرے سےہی نہ ہوتوانسانی ترقی کاخیال عبث ہے۔تمام ممالک میں تعلیم کی ترسیل کےلیےتگ ودو جاری وساری ہے اوراس ضمن میں بہترین طرائق کواپناکراہداف حاصل کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی عوام الناس کوتعلیم سےآراستہ کرنے کےلیےمختلف ادارےقائم ہیں۔ان اداروں میں عمر کی بنیادپردرجات(کلاسز)طےہیں۔
    تعلیم”علم اورعمل”کامجموعہ ہے۔پاکستان میں درس وتدریس کےلیےسکولز،کالجزاورجامعات کاوسیع سلسلہ قائم ہے۔جہاں حکومت کی جانب سےادارےقائم کیےگئےہیں وہیں نجی شعبہ بھی عصری علوم کی تعلیم کے لیےسرکرداں ہے۔پاکستان میں نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیےسابقہ ادوارمیں کافی اصلاحات کانفاذکیاگیا۔کسی بھی قوم کوعلوم پہنچانےکےلیےاس قوم کی قومی زبان کوترجیح دی جاتی ہے۔تاکہ اس قوم کےلوگ عصری علوم کابہتراندازمیں ادراک پاسکیں۔
    بدقسمتی سےپاکستان میں آغازسےہی علوم کی ترسیل کے لیے قومی زبان اردو کوذریعہ نہیں بناگیا۔جس کی بنا پرتعلیم کی ترسیل بہتراندازمیں نہ ہوسکی۔نوجوان نسل کے لیے غیرملکی زبانوں میں علوم کوسمجھنا خاصا مشکل رہا۔اس لیے اکثرطالب علم تعلیم میں عدم فہم کےباعث نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکےاوراکثرطالب علم کثیروجوہات کی بناپرتعلیم سے دورہوگئے۔تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی کی ایک وجہ یکساں نصابِ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔مگرامسال حکومت نےجماعت اول سےلےکرپنجم جماعت تک یکساں نصابِ تعلیم لاگو کرنے کافیصلہ کیا ہے،جوکہ نہایت قابلِ ستائش ہے۔عوام الناس میں اِسے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔یکساں نصابِ تعلیم سےنوجوان نسل کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔طالب علم جس قسم کے نصاب تعلیم کوپڑھتاہے،اس نصابِ تعلیم کامعیاراس کی عملی زندگی پرکافی اثراندازہوتاہے اوراس کےشعوری درجہ کی نشاندہی کرتاہے۔اگرتمام طلباء یکساں معیاری نصاب پڑھیں گے توان کی یکساں فکری نشوونما ہوگی اورمعاشرے میں موجود طبقات کی تقسیم کوختم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبوں کاروزِاول سےشکوہ رہاہےکہ ان کی عوام کومعیاری تعلیمی سہولیات سے قصداً محروم رکھاجاتاہے،اس لیےصوبوں میں یکسانیت کی کمی ہے۔لٰہذایکساں نصابِ تعلیم سےصوبائی تفاوت کاخاتمہ بھی ہوگا۔اساتذہ کے لیےطالب علم تک معلومات پہنچانے میں آسانی ہوگی۔اگر یکساں نصاب ہے توپاکستان کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی مدرس بآسانی فرائض سرانجام دےسکتاہےاوراساتذہ کی تقرریوں اورتبادلوں کےحوالے سے تحفظات بھی دورہوجائیں گے۔
    پاکستان کے بعض نجی سکولزمیں بچوں کی پڑھائی کے لیے بھاری معاوضہ لیاجاتاہےاوراتنی بڑی رقم والدین ہنسی خوشی اداکردیتےہیں کیوں کہ سکول انتظامیہ کی طرف سےیہ دعویٰ کیاجاتاہےکہ ان کےادارےمیں سب سےمعیاری نصاب پڑھایاہے۔نصابی تضاد کےباعث یہ نجی ادارے تعلیم کے نام پرعوام سےپیسہ لوٹتے ہیں۔یکساں نصابِ تعلیم لاگوہونے کی صورت میں نجی اداروں کادھندہ بند ہوجائے گا کیوں کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے یکساں نصاب کوپڑھانے کے پابند ہوں گے۔
    معاشرے کی اصلاح کے لیے افراد کا اخلاقی لحاظ سے عمدہ ہونا لازمی ہےاور تعلیم کے بل بوتے پرہی شعوری بالیدگی کی منازل کوطےکیاجاسکتاہے۔

    @iamshabanakbar

  • چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی     تحریر: ثویبہ نازنین

    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی تحریر: ثویبہ نازنین

    تھی اے ارض پاک!! تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا، اے پاکیزہ ریاست!! تو نے پکارا تو دخترانِ اسلام سیاہ چادروں میں نہاں اپنے مردوں کی ہمراہ چلی آتی ہیں۔ برصغیر کی گلیوں کوچوں میں بہتا آدم زاد کا لشکر جس میں سیاہ برقعے میں ملبوس خواتینِ اسلام، اسلام کی شہزادیاں اپنی نمایاں شان و عظمت کے ساتھ چلی آتی ہیں. سنا ہے کہ کالا رنگ ہر رنگ ، ہر شے پر غالب آجاتا ہے، اور ڈھا دیتا ہے اسے، مگر یہ کیسا جذبہ تھا یہ کیسا ولولہ تھا جو دشواریوں اور سیاہ حجاب کے باوجود نہ ٹلا ۔ کیا تھا جو پاکستان کی ماؤں کو ان کے حصے کی جروجہد سے نہ باز رکھ سکا، ایسی کیا تدابیر تھیں انکی جو بیٹیوں کی عصمتدری سے بے خوف تھے والدین ان کے، کیا تھے چلن بیویوں کے جو رہیں معتبر خاوند کی نظروں میں، بن کر طاقت اپنے شوہروں کی کھڑی رہیں آزادی کے سفر میں اور واضح رہیں قربانیاں ان کی پورے سفر میں۔ اولاد کھونے سے لے کردامن اجڑ جانے تک ہجرت میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی گئیں قدم رکے تو محض حصولِ اسلامی ریاست، پاکستان ذندہ باد کی گونج پر۔ یہ اسلامی ریاستِ پاکستان فقط مردوں کی کاوش نہیں بلکہ عورتوں کی بھی ممکن جستجو تھی۔
    یہ خیال سوچ سے اکثر پھسلتا ہے کہ میری ماؤں کے اطوار و طریق کیا تھے بہنوں کے کونسے زیور تھے جس کے سہارے وہ قربانی کی ادیت سے بیگانہ رہیں حتی کہ ان کے مردوں نے نہ ان کی مخالفت کی نہ قید رکھنے کی تمنا نہ ظلم و جبر ۔ کیسے موثر وظیفے تھے ان کے جو مرد کا ساتھ ہر دم حاصل رہا اور شاملِ محاذ رہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ گھروں سے تنہا نکلیں اور رسوا نہیں ہوئیں ۔ اور خیالات کے درمیان حکم الله کی ندا "یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ ترجمہ: اے نبی ! تم اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے ( منہ کے ) اوپر جھکا لیا کریں ۔ ( ٤٧ ) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی ، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا ۔ ( ٤٨ ) اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے.”(سورة الاحزااب) خیال کے ہر زاویے کو روشن کر دیتی ہے. رب الکریم کے فرمان، اسکی ضمانت کی روشنی..روشنی نہیں نور ،نور جسکے بعد ظلمت، جبریت، وحشت، بربریت، غلامی، گھمراہی، حق تلفی جیسے سبھی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں. یہ حکم کی تابعداری تھی ان عورتوں کا سرمایہ. مالک و ملک دو جہاں نے ضمانت لی ان سے کے خود پرچادر جھکا لو، عزت میں تمھیں دونگا، میں الحفیظ ہوں تم سے تمہاری حفاظت کا وعدہ لیتا ہوں، مجھ سے بھڑ کر کون تمہاری حفاظت کرے گا، کون ہوگا مجھ سے بہتر رفیق تمہارا، کون مجھ سے زیادہ حق دینے والا ہے ؟؟ تم چھپا لو خود کو سیاہ برقعوں میں اور ہوجاؤ شامل ِلشکر اور کرو صدا بلند ملکِ خداداد پاکستان کے لئے کیونکہ یہ سرحدِ اسلام ہوگی اور تمہاری قربانی اسکا روشن چمکتا ہلال ہونگی!!
    یہ پاسداری حکم کی اور ڈھانپ لینا خود کو چادروں میں تقدس تھا میری ماؤں کا، کوئی کیونکر رسوا کرے انکو ضامن تو خدا تھا انکا، کیوں ظلمت کی نگری میں رہیں وہ جبکہ خود انکے مرد انکا حوصلہ ہوتو، کیوں سوچے وہ تاکلیف کا، مشقت کا جبکہ بدلہ اصل سے دوگنا ہوتو، کیوں نہ کریں میاں یقین انکا جب انداز اتنا شاہانہ اور مزاج مستقل ہوتو. ان سب کی وجہ صرف ایک حکم الله کی حکمت پہچننا اور عملدرآمد کرنا۔ وہ عاقل عورتوں تھیں جنہوں نے خود میں اور غیر مسلموں میں فرق واضح کیا، اپنا شاہانہ طرز پیدا کیا اور امر ہوگئی.
    میری سوچ اس حقیقت کو کیسے تسلیم نہ کرے کہ ان ماؤں بہنوں نے انگریزوں کے مقابل آنے کے لئے برہنہ ہونے یا اسلام کے حکم کو رد کرنے کو قطعا ضروری نہ سمجھا جبکہ میرے سامنے یہ نمایاں مثال سرزمینِ پاکستان بطور شاہد ہے. آج کے دور میں کون ایسی ضمانت لیتا ہے جو الله رب الکریم لے رہے ہیں، کون ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے جیسا الله سبحان وتعالی قرآن کریم میں لیتے ہیں کہ اسلام کی عورتوں تم اسلام کی شہزادیاں ہوں تمہیں ہر کوئی کیوں دیکھے . ایک بار اس بات کو محسوس کر کے تو دیکھیں..اس ایک جملے میں عورت کی فلاح ہے۔
    جب ہم کہیں نوکری کی دارخوست دیتے ہیں تو انکی ہر پیشکش قبول کرتے ہیں جس کے اویس ہم گھنٹوں کی خواری بھی جھیلتے ہیں مگر الله تعالیٰ کی پیشکش جسکے بدلے ہمیں کچھ نہیں دینا پڑتا اسے رد کر دیتے ہیں کیوں؟؟ اکثر کو یہ باتیں بے معنی لگتی ہیں کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں؟؟ الله کے حکم کو صرف مانا جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا، تو کیا ہم الله کے حکم کے انکاری ہیں؟؟ ہم عورتیں بےلباس ہو کر تحفظ کی اپیل کرتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ ہم نے بہ ذات خود خود کو صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ (وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں) گردان لیا ہے، کیا خستہ حالی ہمارے باعث نہیں؟ کیا ہم نے ان ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی کو ضائع نہیں کر دیا؟؟ کیا یہ وہ ریاست ہے جسکا خواب ایک مسلمان کی آنکہ میں تھا؟ یاد رہے ابتدا خود سے کی جائے تو کارگر ثابت ہوتی ہے یہ الزامات کا کھیل تو جہالت کی نشانی ہے. میں کہتی ہوں کہ سفر آزادی ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پنہچا، ابھی وہ سحر نہیں ہی جو فکر کے کے پہلوؤں کو بدل دے اور راستے روشن کردے.
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    Twitter id: @SowaibaNazneen

  • ماہرین کس چیز پر توجہ دیں  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ماہرین کس چیز پر توجہ دیں تحریر : مقبول حسین بھٹی

    بہترین کارکردگی کے ماہرین ایسی باتیں کہتے ہیں ، "آپ کو توجہ دینی چاہیے۔ آپ کو خلفشار کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک چیز کا ارتکاب کریں اور اس چیز میں عظیم بنیں۔ یہ اچھا مشورہ ہے۔ جتنا میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کامیاب لوگوں – فنکاروں ، کھلاڑیوں ، کاروباری افراد ، سائنسدانوں کا مطالعہ کرتا ہوں – اتنا ہی میرا یقین ہے کہ توجہ کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔ لیکن اس مشورے میں بھی ایک مسئلہ ہے۔ آپ کے سامنے بہت سے اختیارات میں سے ، آپ کیسے جانتے ہیں کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کرنی ہے؟ آپ کیسے جانتے ہیں کہ اپنی توانائی اور توجہ کو کہاں بھیجنا ہے؟ آپ ایک چیز کا تعین کیسے کرتے ہیں جو آپ کو کرنے کا عہد کرنا چاہئے؟ میں تمام جوابات کا دعویٰ نہیں کرتا ، لیکن جو کچھ میں نے اب تک سیکھا ہے اسے مجھے شیئر کرنے دیں۔ زیادہ تر کاروباریوں کی طرح ، میں نے اپنے کاروبار کی تعمیر کے پہلے سال میں جدوجہد کی۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی پہلی پروڈکٹ لانچ کی کہ میں اسے کس کو بیچوں گا۔ (بڑا تعجب ، کسی نے اسے نہیں خریدا۔) میں نے اہم لوگوں تک رسائی حاصل کی ، توقعات کا غلط انتظام کیا ، احمقانہ غلطیاں کیں ، اور بنیادی طور پر ان لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا موقع ضائع کر دیا جن کا میں نے احترام کیا۔ میں نے اپنے آپ کو کوڈ سکھانے کی کوشش کی ، اپنی ویب سائٹ میں ایک تبدیلی کی ، اور پچھلے تین مہینوں کے دوران میں نے جو کچھ کیا تھا اسے حذف کردیا۔ سیدھے الفاظ میں ، میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میری کئی غلطیوں کے سال کے دوران مجھے ایک اچھا مشورہ ملا: "چیزوں کو اس وقت تک آزمائیں جب تک کوئی چیز آسانی سے نہ آجائے۔” میں نے اس مشورے کو دل سے لیا اور اگلے 18 مہینوں میں چار یا پانچ مختلف کاروباری آئیڈیاز آزمائے۔ میں ہر ایک کو دو یا تین ماہ کے لیے ایک شاٹ دوں گا ، تھوڑا سا فری لانس کام میں گھل مل جاؤں گا تاکہ میں سکریپنگ اور بلوں کی ادائیگی جاری رکھ سکوں ، اور اس عمل کو دہراتا رہوں۔ آخر کار ، مجھے "کوئی ایسی چیز ملی جو آسانی سے آئی” اور میں ایک آئیڈیا تلاش کرنے کی بجائے ایک کاروبار کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسرے الفاظ میں ، میں آسان بنانے کے قابل تھا۔ یہ پہلی چیز تھی جس کے بارے میں میں نے دریافت کیا کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ اگر آپ کسی کام کے بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ، آپ کو متضاد طور پر ، ایک بہت وسیع نیٹ ڈال کر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سی مختلف چیزوں کو آزمانے سے ، آپ اس بات کا احساس حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا آسانی سے آتا ہے اور اپنے آپ کو کامیابی کے لیے مرتب کریں۔ کسی بری سوچ کے ساتھ جدوجہد کرنے کے بجائے کام کرنے والی چیز پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہے۔ فرض کریں کہ آپ چیزوں کو آزمانے اور تھوڑا سا تجربہ کرنے پر راضی ہیں ، اگلا سوال یہ ہے کہ ، "میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میرے لیے آسانی سے کیا آرہا ہے؟” میں جو بہترین جواب دے سکتا ہوں وہ توجہ دینا ہے۔ عام طور پر ، اس کا مطلب ہے کسی چیز کی پیمائش کرنا۔ اگر آپ کاروباری ہیں تو اپنی مارکیٹنگ اور پروموشن کی کوششوں کو ٹریک کریں۔ اگر آپ پٹھوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اپنے ورزش کو ٹریک کریں۔ اگر آپ کوئی آلہ سیکھ رہے ہیں تو اپنے پریکٹس سیشنز کو ٹریک کریں۔ یہاں تک کہ جب آپ چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں ، تاہم ، ایک نقطہ آتا ہے جہاں آپ کو کال کرنا ہوتی ہے اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ میرے ذہن میں ، فیصلہ کا یہ لمحہ انٹرپرینیورشپ کے مرکزی تناؤ میں سے ایک ہے۔ کیا ہم نئی چیزوں کی کوشش جاری رکھتے ہیں یا ہم ایک حکمت عملی سے دوگنا ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم اختراع کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ہم ایک کام کو اچھی طرح کرنے کا عہد کرتے ہیں؟ ہر کوئی آسان کرنے اور ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے کا صحیح وقت جاننا چاہتا ہے ، لیکن کوئی نہیں کرتا۔ یہی وہ چیز ہے جو کامیابی کو بہت مشکل بنا دیتی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کیک پکانے کی طرح نہیں ہے۔ کوئی نسخہ نہیں ہے۔ کوئی گائیڈ بک نہیں ہے۔ اس مرحلے پر ، آپ کا بہترین آپشن فیصلہ کرنا ہے۔ آپ سب کچھ آزما نہیں سکتے۔ کسی موقع پر ، آپ کو مزید معلومات کی ضرورت نہیں ہے ، آپ کو صرف ایک انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو لکھنا اور لکھنا ہوگا اور کچھ اور لکھنا ہوگا۔ آپ کو اپنی آواز ڈھونڈنے کے لیے سیکڑوں ہزاروں الفاظ لکھنے کی ضرورت ہے ، شاید لاکھوں۔ پھر آپ کو ان الفاظ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو ممکنہ طور پر طاقتور ترین ورژن میں تبدیل کرنا ہے۔ تکرار مکمل ہونے کے بعد ہی آپ سمجھ سکیں گے کہ کام کے کون سے ٹکڑے کامیابی کے لیے بنیادی ہیں۔ اب ، آخر کار ، بہت سی چیزوں کو آزمانے اور یہ جاننے کے بعد کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کی جائے اور کافی نمائندے لگائے جائیں ، آپ آسان بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ آپ چربی کو تراش سکتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ جیسا کہ فرانسیسی بلیز پاسکل نے اپنے صوبائی خطوط میں مشہور طور پر لکھا ، "اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں آپ کو ایک چھوٹا خط لکھتا۔” بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا اکثر سب سے مشکل اور طویل ترین سفر ہوتا ہے۔

    Twitter handle
    @Maqbool_Hussayn

  • وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    خان صاحب نے جیسے ہی اعلان کیا تھا کہ قوم سے خطاب کریں گے اور اپنی تین سالہ کارکردگی اپنی قوم کے سامنے رکھیں گے اس سے پہلے ہی مریم نواز کا میڈیا سیل حرکت میں آگیا تھا عوام کا دل عمران خان سے کھٹا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ لوگ خان صاحب سے بد ظن ہوجائیں لیکن عوام اب جان چکے ہیں جس مشکل حالات میں گورنمنٹ خان صاحب کو ملی تھی سرکاری خزانہ منہ چڑھارہا تھا پاکستان بینک کرپٹ ہونے کے نزدیک پہنچ چکا تھا شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری دن تقریر کرکے کہا تھا کہ اب عوام جانے اور عمران خان جتنی بھی لوڈشیڈنگ ہوگی ہم ذمہ دار نہیں مطلب اتنی بھی بجلی ملک میں نہیں تھی کہ وہ دعوے سے کہہ کر جاتے ہم نے اتنی بجلی ملک میں پیدا کردی ہے کہ 6 ماہ تک کم ازکم لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔پھر خان صاحب نے جیسے ہی حکومت سنبھالی ایک طوفان بدتمیزی آگیا ان پر کہ نیازی نے یہ کردیا وہ کردیا ابھی تین ماہ حکومت کے مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ "حکومت فیل ہوگی ہے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا ان کرپٹ پارٹیوں کی طرف سے جھنیں ملک نوچتے ہوئے 30 سال ہوگے تھے وہ خان صاحب سے 90 دن کا حساب مانگنے میدان میں آچکے تھے اور ان کے کرائے کے سپوٹرز نے دن رات سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اٹھائے رکھا اور کچھ بکاو چینلز نے بھی خان صاحب کی کارکردگی پر سوال اٹھانے شروع کردیے جن کو نون لیگ اور زرداری کی حکومت میں سانپ سونگا ہوا تھا لیکن خان صاحب کے ساتھ اللہ کی مدد اور ماوں بہنوں اور قوم کی دعائیں تھی جتنا کرپٹ مکس اچار پارٹیوں نے خان صاحب کو بدنام کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی نے انھیں اتنی ذیادہ عزت عطا فرمائی۔اور خان صاحب اور ان کی ٹیم نے مل کر ملک کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خاص طور پر شاہ محمود قریشی کی کامیاب خارجہ پالیسی ۔اسد عمر ۔حماد اظہر ۔فواد چوہدری ۔مراد سعید جیسے مضبوط ستون کے ساتھ خان صاحب دنیا کو دکھا دیں گے کہ جذبہ اگر سلامت ہو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جہاں وفاقی وزراء نے دل جمعی سے
    دن رات دل لگا کر کام کیا سوائے کچھ صوبائی وزراء کے جن کی رپورٹس کچھ اچھی نہیں۔ اس پر جلد خان صاحب کا ایکشن پاکستان عوام دیکھے گی ان شاءاللہ
    خان صاحب نے چھٹی کے دن بھی کام کیا اور ایک انسان مسلسل کام کرنے سے جب تھک گے صرف تین دن کے لیے نتھیا گلی کیا چلے گے نون لیگ بشمول بکاو میڈیا نے چیخنا چلانا شروع کردیا یہ نہ سوچا کہ اپنے دور حکومت میں نواز شریف پورے ٹبر سمیت سرکاری خزانے کے خرچ پر ہر ملک کا دورہ کرتے تھے جبکہ خان صاحب اپنے کسی بچے کو تو کیا خاتون اول تک کو ساتھ لیکر کبھی نہیں گے ایک دورہ بھی انھوں نے خاتون اول کے ساتھ نہیں کیا پاکستان کے کروڑوں ڈالرز بچائے ہر دفعہ اپنے دورے پر سرکاری پیسہ کم سے کم خرچ کر کے ۔اور کارکردگی اتنی اچھی کہ پاکستان دشمن قوتیں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اڑ گئیں اور پاکستان میں موجود کرپٹ پارٹیوں نے بیرونی طاقتوں سے مل کر آخری زور لگایا کہ حکومت چلی جائے کسی طرح سے بھی اور کچھ ماہ پہلے تو ہم انصافین کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ شائد اب حکومت ذیادہ نہ چل سکے لیکن جس کے ساتھ اللہ کی طاقت ہو اسے پھر کوئی قوت شکست دے سکتی ہی نہیں اور آج پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے۔۔
    اپنے اس دورے حکومت کے پہلے تین سال میں جہاں خان صاحب نے اور بہت سے منصوبے شروع کیے وہاں سب سے بڑا منصوبہ وہ دس ڈیم ہیں جن پر کام تیزی سے شروع ہے جنرل ایوب کے بعد یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ پاکستان میں ڈیم بن رہے ہیں جو 2028 تک مکمل ہوجائیں گے ان شااللہ ۔۔
    امریکہ کے ڈو مور کو خان صاحب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    ‏‎ ‎AbsolutelyNot میں بدلا تو امریکہ کے ساتھ ساتھ باقی پوری دنیا کے لوگ بھی حیران رہ گے خان صاحب کی جرات پر ۔۔
    امریکہ سے امداد مانگا کرتے تھے جو اب ماضی کا حصہ بن گیا کیونکہ خان صاحب نے ان کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کردیا کہ ہم اپ کی مدد کے بغیر بھی ملک چلا سکتے ہیں
    ہر صوبے میں صحت کارڈ کا حصول ممکن بنایا کہ غریب لوگ اپنا مفت علاج کروا سکیں بےگھروں کے لیے پناہ گاہیں بنائی اور ان کو چھت کے ساتھ کھانا مہیا کرنے کا بھی انتظام کیا
    جنوبی علاقوں پر آج تک توجہ نہی دی گئی تھی اب وہاں بھی تیزی سے کام ہو رہے ہیں
    احساس پروگرام کے تحت ہر غریب گھرانے کو پہلے 12ہزار روپے اب 13 ہزار روپے مقرر کردیے گے ہیں بزرگ لوگوں کی پینشن میں اضافہ کیا ۔گرین پاکستان کا منصوبہ کامیاب کیا پرویز رشید جیسے بےشرم لوگ جو کہتے تھے خان صاحب ایک ارب درخت نہیں کروایا اب وہ بھی مان رہے ہیں کہ پاکستان میں اتنے درخت لگ چکے ہیں کہ اب انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان چنگل ہی نہ بن جائے ایسے ایسے مضیحک خیز باتیں کرتے ہیں کہ عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے یہ ہمارے ماضی کے وزیر مشیر رہے کہ پہلے خان صاحب کے جلسے کی کرسیاں گنتے تھے اب درخت ۔۔
    پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے اب ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے مہنگائی ہے لیکن ان شاءاللہ بہت جلد اس پر بھی قابو پالیا جائے گا چین سپر پاور ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اب وہ دن دور نہیں پاکستان سپر پاور ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور ہر پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے گا ان شاءاللہ