Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دور جدید  اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    دور جدید اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے شاہانہ ادوار گزرے ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ہزاروں سالوں تک اس دنیا پر حکمرانی کی اور اپنی دور حکومت میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
    اور لوگوں کو ایسے معاشرتی حقوق و اصول دیے جو آج تک دنیا میں قائم ہیں اور ان اصولوں میں رد و دبدل کرکے نظام دنیا کو اب تک چلایا جارہا ہے ۔۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ایسے سنہرے باب ہیں جو تاریخ میں سنہرے ابواب کی طرح رقم ہیں۔۔آنے والے ادوار نے ان سے سیکھ کر اپنے آپ کو بہتر کیا،، مغربی اقوام نے انہی کے اصولوں پر عمل کرنے کے اپنے لیۓ بہترین سسٹم بنائے اور آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اسکے برعکس مسلم اُمہ اور اسکے حکمران اپنے سنہری اصولوں کو بھول کر عیش و عشرت کی دنیا میں گم ہو گئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مسلم اُمہ میں کوئی ایسا حکمران نہیں جو خود کو صحیح معنوں میں ایک لیڈر کہہ سکے اور اس اتنی برّی امت کی رہنمائی کر سکے۔
    حضرت عمر بائیس لاکھ مربع میل کے فاتح تھے انہوں نے اپنے دور میں بیت المال قائم کیا اور عدالتی نظام بنایا اور ان میں قاضی تعینات کیے اور عدالتی نظام آج تک چل رہا ہے اور اس میں کچھ ردوبدل کرکے سب ممالک میں قائم ہے۔ انہوں نے جو اصول ایک عظیم سلطنت کو چلانے کے وضع کیے اُن پر آج بھی ترقی یافتہ اقوام عمل کر کے خود کو منوا چکی ہیں۔
    عظیم الشان ادوار گزارنے والے مسلمان آج پستی کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اپنے اسلاف کی پیروی کو جھٹلانا اللہ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدصلی علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج بھی اگر انکی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنا شروع کردیں تو کوئی مشکل نہیں کے ہم آج بھی پوری دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔۔ لیکن ہم اپنی زمہ داریاں بھی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کے سب ایک دن ایک سال میں ٹھیک ہو جائے لیکن ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بھی بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یقین مانیں جس دن ہم خود کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے وہی دن آغاز ہوگا ہماری کامیابی و کامرانی کا۔۔ انّ شاء اللہ
    آج کے دور کا مسلمان بربادی کے دہانے پر ہے اور آپس میں منتشر اور فرقوں میں بٹا ہوا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ آپس میں بنے ہوئے فرقے اور ایک دوسرے پر خود کو اعلی سمجھنا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے۔ بڑائی کا معیار تو تقویٰ اور پرہیز گاری ہے اسلام میں۔۔ اسکے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
    اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر ہم اس سے کوسوں دور مغربی تہذیب میں دھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے طورطریقے چھوڑ کر مغربی تہذیب کے گرویدہ ہوکر رہ گئے ہیں جوکہ ہماری تباہی اور آنے والی نسلوں کی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔
    ہماری صبح کا آغاز ہم رب کو یاد کرنے کی بجائے ڈسکو سے کرتے ہیں اور سارا دن غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ سارا دن پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔
    مغرب کا غلبہ اب ہمارے ذہنوں میں سوار ہوچکا ہے اور ہم مغربی غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
    اس پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے

    ””نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
    ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار””
    ان اشعار میں اقبال نے دریا کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ بات اب ہماری سمجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کیونکہ ہم اس برے طریقے سے اس دلدل میں پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈھ پا رہے۔
    اس سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا ہم کیا تھے کیا بن گئے ہیں ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم کس مقصد پر لگ گئے ہیں اگر یہ سب اسطرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے اور اس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔
    لہذا ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا اور اپنے مقصد کو پہچان کر اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہوں گے۔۔
    آئیے مل کر عہد کریں کے ہم خود کو بدلنے کی حتی المکان کوشش کریں گے تاکہ ہم ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر سکیں۔۔آمین۔

    ⁦‎@NiniYmz⁩

  • سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زندگی میں بہت کم لوگوں کو آپ نے اپنی موت کا سامان کرتے دیکھا ہو گا۔
    مگر ایسے بہت سے چہرے ہیں،
    جو ہر وقت ہمارے ارد گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔
    یہ نہ صرف اپنی موت کو اپنے قریب تر کر رہے ہوتے ہیں،
    بلکہ دوسروں کو بھی زندہ درگور کئے جانے کے امکانات بڑھا رہے ہوتے ہیں !
    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسے کون سے لوگ ہیں جو خود تو ڈُوبے ہیں صنم ،مگر تجھے بھی لے ڈوبیں گے-؛
    کے مصداق اپنی زندگی کے اندھیرے سفر میں مگن آنے والے خطرات کو جانتے بوجھتے اندھے کنوئیں میں چھلانگ لگانے خراماں خراماں چلے جا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو نہ صرف اپنا پیسہ جلا رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے خون کی سُرخی کوسیاہی میں بدلنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں اپنی رگوں میں دوڑنے والے اس زہر کا قطعا” کوئی احساس نہیں ہوتا کہ اپنی ہی رگوں میں دوڑ رہے اس زہر کو انکی رگوں میں ڈالنے والا کوئی دشمن نہیں،
    بلکہ وہ خود ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو اپنے دشمن خود ہوتے ہیں۔
    انہیں اپنی زندگی کی بجائے اس دھوئیں سے پیار ہوتا ہے،
    جو ان کی زندگی کو دھواں بنا رہا ہوتا ہے۔
    ان میں سے کئی تو ایسے ہوتے ہیں،
    جو جانتے بوجھتے موت کو گلے لگا رہے ہوتے ہیں۔
    زہر کی پڑیا پر لکھی تحریر پڑھنے کے باوجود یہ لوگ اسی زہر کو خوشی خوشی اپنے اندر انڈیل کر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتےہیں۔
    ان کی مثال اس کبوتر جیسی ہوتی ہے،
    جو خطرہ سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے،
    جس سے خطرے کے لئے آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ کبوتر کی گردن دبوچ لیتا ہے۔
    یہ لوگ بھی ایک ایسی منزل کے راہی ہوتے ہیں،جو کبھی نہیں ملتی،
    جو منزل نہیں بلکہ ایک خوفناک گھاٹی ہوتی ہے،
    جس میں بالاخر گر کے یہ لوگ اسی دھوئیں کے مرغولوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں،
    جو دھواں انکی رگوں کو سکیڑ کر دل کی حرکتوں کا بھی کام تمام کر چکا ہوتا ہے۔
    یہ وہی لوگ ہیں،
    جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے مذہب میں خود کشی حرام ہے،
    کچھ ایسا دانستگی،نادانستگی میں کر رہے ہوتے ہیں،
    جو کسی طور بھی خودکشی سے کم نہیں۔
    یہ ہومیوپیتھک قسم کی خودکشی کا ساماں بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایلو پیتھک دوائیوں سے اس خودکشی کو قدرے تاخیر سے آنے کے حربے اور نسخے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو گھنٹوں آپکا لیکچر سننے کے بعد ہونے والا ڈیپریشن ریلیز کرنے کے لئے اسی چیز کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں،
    جس سے منع کرنے کے لئے آپ اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو ایک وقتی اور عارضی و مصنوعی سہارے کی خاطر اپنے خاندانوں کو ہمیشہ کے لئے بے سہارا کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں نہ اپنی اولاد کی پرواہ ہوتی ہے ،نہ بیوی بچوں کی اور نہ ہی اپنے ماں باپ کی۔
    انہیں نہ تو اپنے مستقبل کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے سے وابستہ لوگوں کے حال اور مستقبل کی۔
    جی ہاں !
    میں زکر کر رہا تھا اپنے ان احباب کا،
    جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں،جوجانتے بوجھتے ہوئے اپنے لئے ایک ایسی بند گلی کا انتخاب کرتے ہیں،
    جس میں روشنی اور امید کی کوئی ایک کرن ،نکلنے کا کوئ راستہ بھی نہیں ہوتا۔
    سگریٹ ایک ایسا خاموش زہر قاتل ہے،
    جسے پینے والا سمجھتا ہے کہ سگریٹ پینے سےکچھ نہیں ہو گا۔
    اور پھر بدقسمتی سے اسی کچھ نہ ہونے والی سوچ سے بہت کچھ ایسا ہو جاتا ہے،
    جس کے ہونے کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
    بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے،
    مگر جانتے بوجھتے موت کو گلے لگانا خودکشی کہلاتا ہے۔
    اور خود کشی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا۔
    سگریٹ نوشی بھی میرے نزدیک خودکشی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ قدم ہیں،
    جنہیں بطور ایک زمہ دار شہری کے روکنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔
    سگریٹ نوشی سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے دل کے پٹھوں اور جگر کے خلیوں کو ہوتا ہے۔
    جو لوگ سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں،وہ بدقسمتی سے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو یہ زہریلا دھواں فراہم کر کے گویا مفت موت بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
    امراض قلب کے ایک ماہر ڈاکٹر اور میرے دوست ڈاکٹر جنجوعہ نے مجھے ایک دفعہ دوران انٹرویو بتایا تھا کہ دل کے امراض کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی کا بڑھناہے۔
    جس کی لت چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کو بھی پڑ چُکی ہے۔
    سگریٹ کی ڈبیا پر لکھی وارننگ میں واضح طور پر یہ پیغام درج ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے،
    جو پھپھڑوں کے کینسر میں مبتلا کر سکتی ہے۔
    مگر لوگ پھر بھی پرواہ نہیں کرتے۔
    وہ پھر بھی اسی خام خیالی میں مبتلا رہتے ہیں کہ بس چند کش ہی تو ہیں !
    ارے بھائی کیا ہو جائے گا؟
    اور پھر اسی گھن چکر میں پڑ کر سگریٹ نوشی کا شکار افراد ایسے ایسے خطرناک امراض کا شکار ہوجاتے ہیں،
    جن کا علاج نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ہم لوگوں کی پہنچ سے بھی دور۔
    کتنے ہی لوگ ہیں جو دنیا میں روزانہ سگریٹ نوشی کی بدولت اپنی اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
    پوری دنیا میں سگریٹ نوشی کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں۔
    ایسی ہی ایک کاوش باغی ٹی وی کی ٹیم بھی کر رہی ہے،
    باغی ٹی وی کی یہ کوشش لائق صد تحسین ہے۔
    ایسی کوششیں سب اداروں کو بھی کرنی چاہییں،
    جس سے سگریٹ نوشی کے مضمرات سے نوجوان نسل میں آگاہی پیدا ہو سکے۔
    ہم سب کا بھی بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرض ہے کہ ہم اس سگریٹ نوشی کے خلاف مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔
    خصوصا” جو لوگ باغی ٹی وی کے لئے کالم لکھتے ہیں،
    ہر ہفتے کم ازکم ایک کالم سگریٹ نوشی سے ہونے والے تباہ کن نقصانات پر بھی لکھیں۔
    معاشرے میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے رجحان کو کم کرنے کے لئے حکومتی سطح پر مزید کوششوں کی ضرورت ہے،
    صرف سگریٹ کی قیمتیں بڑھا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    قیمت بڑھانے والی یہ حکومتی ترکیب الٹا لوگوں کےگلے پڑ رہی ہے،
    لوگوں کا مطلوبہ برانڈجب مہنگا ہوتا ہے تووہ کوئ سستا برانڈ ڈھونڈ لیتے ہیں،
    کچھ لوگ شائد یہ جان کر حیران اور پریشان بھی ہوں کہ مارکیٹ میں بکنے والے سگریٹ کے جتنے سستے برانڈز ہیں،
    وہ زیادہ نقصان دہ ہیں،
    کیونکہ ان میں زہریلے نشہ آور مادے نکوٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
    اس کالم میں میں نے آگاہی کی غرض سے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کی طرح کچھ کڑوی کسیلی سچائیاں اور حقائق بیان کیے،
    جو شاید ہمارے سگریٹ نوش دیوانے بھائیوں کو برے بھی لگے ہوں مگر جاتے جاتے پاکستان ٹیلی وژن کے ماضی کے ایک شہرہ آفاق مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں قاضی واجد مرحوم کا ایک ڈائیلاگ سنا کو ماحول کی تلخی کو کچھ کم کرنے کی کوشش کروں گا۔
    اس پروگرام میں کسی نے قاضی واجد سے کہا کہ یار سگریٹ نوشی چھوڑ دو،یہ تمہیں مار دے گی-؛
    قاضی واجد نے جواب دیا کہ یار سگریٹ تو چھوڑ سکتا ہوں،
    مگر نوشی کو نہیں چھوڑ سکتا،
    کیونکہ وہ تمہاری بھابھی ہے۔
    آخر میں ایکبار پھر باغی ٹیم کی سگریٹ نوشی کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم بالخصوص مبشر لقمان،ممتاز حیدر ملک اور طہ بھائی کو خراج تحسین اور شاباش #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • اللہ کے”شکر”کی کمی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
    دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
    کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
    ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
    ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
    صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
    یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • پانی  تحریر : سید محمد مدنی

    پانی تحریر : سید محمد مدنی

    دنیا کے تین حصوں پر صاف پانی ہے کہا جاتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے مطلب قیامت کے آثار ہوں گے ہر چیز تباہی کی طرف جائے گی پانی انسان کے لئے کتنا ضروری ہے یہ ﷲ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے جدید سائنسی دور میں پانی کو مناسب طریقے سے  استعمال کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے

    ہر سال ٢٢ مارچ کو دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کے پانی کی قدر کریں اور صاف پانی کو بے دریغ استعمال کرنے سے گریز کریں.

    ہم مسلمانوں کے لئے پانی سے متعلق تو ہمارے نبی حضرت محمد صلی ﷲ علیه وسلم نے کتنی تاکید کی ہے کے پانی کو ضائع کرنے سے بچاؤ یہ ایک نعمت ہے یہاں تک کے وضو میں سب سے لمبا اسٹیپ سر کا مسح کرنے کا ہوتا ہے اور اس وقفے کو بھی رسول الله ﷺ نے ہمیشہ یہ فرمایا کے جب وضو کرتے ہوئے سر کے مسح کرنے لگو تو اس وقت پانی بند کر دو ورنہ ضائع ہوگا اب آپ اندازہ لگائیں کے کتنا زور دیا گیا ہے پانی کے مناسب استعمال پر.

    ہم روزانہ بلکہ دن میں کئی کئی بار دیکھتے ہیں کے لوگ پانی کو کس کس طرح سے ضائع کرتے ہیں کئی ممالک تو سمندری پانی کو صاف کر کے اسے پینے کے قابل بناتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے لوگ گھروں میں گاڑیاں دھوتے ہیں اور بے جا پانی ضائع کرتے ہیں یہ قدرتی چیز کا ضائع کرنا نہیں تو اور کیا ہے اس میں سب افراد شامل ہیں گھر میں اگر کوئی نوکر نوکرانی رکھا ہؤا ہوئی ہے تو ان میں بھی کچھ لوگ بے دردی سے پانی کا استعمال کرتے ہیں.

    جو لوگ پانی ضائع کرتے ہیں کیا انھوں نے کبھی سوچا ہے کے پاکستان میں کتنی کھیتی باڑی ہوتی ہے اور اگر بارشیں نا ہوں اور افراد پانی ضائع کریں تو کتنا نقصان ہوگا کھیتوں اور کسانوں کو.

    ماہرین کا کہنا ہے کے پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بارشیں اور پھر لوگوں کا پانی کو ضائع کرنا ہیں اگر ہر شخص تھوڑی سی احتیاط کرے تو کتنا پانی ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے. کہا جاتا ہے کے دوہزار دس میں جنوبی افریقہ میں پانی سے متعلق ایک مہم کا آغاز ہؤا تھا کیونکہ وہاں پانی کی کمی ہوئی تو ماہرین نے کہا کے کچھ مہینوں میں پانی ختم ہو جائے گا پھر انتظامیہ نے عوام میں معلومات اور شعور پیدا کرنے اور پھیلانے کے لئے مہم چلائی کے اگر روز استعمال ہونے والا پانی کی کھپت کو اگر ہر گھر آدھا کرے تو مہم کا آغاز کیا کہ روز مرہ استعمال ہونے والے پانی کی کھپت کو اگر ہر گھرانہ آدھا  کردے تو حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ ترکیب کامیاب ہوئی.

    اب چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے زریعے پانی کے ضائع نا کرنے سے متعلق معلومات اور تنبیہ پھیلانی چاہیے تاکہ پاکستان میں بھی پانی کی کمی نا ہو خاص کر گھریلو ملازمین ، ڈرائیور ، کسان ، غرض یہ کہ ہر کسی کو بار بار یہی سمجھایا جائے کے پانی بہت اہم چیز ہے اس کا بے دردی سے استعمال مت کریں.

    ہم خود اپنے آپ سے وعدہ کریں تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو سکتے ہیں.

    Twitter id @ M1Pak

  • یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    آج سے ٹھیک 80 برس قبل 75 افراد اور 74 روپے اور 14 آنے سے شروع ہونے والی جماعت اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے قرآن کے الفاظ میں
     کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿سورة فتح آیت۲۹﴾
    گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی ،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لاۓ ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ۔ ع
    آج وہ جماعت ایک عالمی تحریک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس نے اس دنیا کے رہنے والوں کو زندگی کا مقصد بتایا، امت مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ان ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جو ان پر عائد ہوتی ہیں، اس جماعت نے ایسے پاک باز اور پاک سیرت انسان تیار کئے جو اسی معاشرے کے رہنے والے افراد تھے، اسی معاشرے میں ان کا روزگار تھا، اسی معاشرے میں ان کے روزوشب گذرتے تھے لیکن ان کی زندگیاں اس بات کی علامت تھیں کہ یہ اس معاشرے کے افراد نہیں بلکہ یہ کسی اور ہی معاشرے کے افراد ہیں، اس کی مثال آپ ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے چنبیلی کا پھول دیکھا ہوگا، یہ پھول کس ماحول میں کھلتا ہے؟ کہاں سے وہ غذا لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول میں وہ سانس لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول سے وہ پانی حاصل کر رہا ہوتا ہے؟ یعنی ایک گندے جوہڑ میں کھلنے والا یہ پھول، اسی جوہڑ سے اپنی غذا، پانی اور آکسیجن حاصل کرنے والا یہ پھول اُن تمام آلائشوں اُن تمام گندگیوں اور اس تعفن زدہ ماحول سے پاک ایک خوبصورت پھول ہوتا ہے جس پر اس ماحول کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ الحمد للہ جماعت اسلامی نے جو افراد تیار کیے وہ بھی اسی کردار کے حامل افراد ہیں۔
    آج اس بات پر ہم صرف اللہ کے شکر گذار ہیں کہ جس نے ہمیں ایسی صالح اجتماعیت عطا کی جس نے ہمارے بچپن، ہمارے لڑکپن، ہماری جوانی کی حفاظت کی اگر یہ جماعت نہ ہوتی تو ہم جیسے ہزاروں افراد معاشرے میں موجود برائیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہوتے، اس تحریک نے ہمیں سینما سے بچا کر مسجد  کی طرف ہمارا رخ پھیرا۔مجھے آج بھی وہ گھر، وہ بیٹھک اور وہ افراد یاد ہیں جہاں مجھے میرے مرحوم والد مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے پروگرام میں لے کر گئے تھے۔
    ایک ہی سمت میں  کب تک کوئی چل سکتا ہے
    ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
    مجھے یاد آرہا ہے کہ میں جب پہلی مرتبہ اعتکاف پر بیٹھا تو ہمارے امام مسجد مولانا اسمعاعیل حمادؔ صاحب نے ہمارے رشتہ میں دادا لگتے تھے ان سے کہا کہ یہ نوجوان اب آپ میں سے نہیں رہا ان کا اشارہ *راجبپوت* برادری کی طرف تھا اس لیے کہ ہماری قوم کے نوجوانوں کے شب و روز تو کسی اور طرح کی رنگ و نور کی محافل میں گذرا کرتے تھے۔
    خیر بات کہیں اورنکل گئی، مجھے یاد آتا ہے کہ میری زبان بچپن میں توتلی ہوتی تھی، اور میں مرغے کو مردا کہا کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ وہ توتلا پن دور ہوا اور ایک ہچکچاہٹ جو بولنے میں تھی اسے دور کرنے میں جہاں میرے والد محترم رانا عبدالمجید خان ای ڈی او لٹریسی (ریٹائرڈ) ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کاوشوں مسلسل محنت اور حوصلہ افزائی کا دخل ہے وہیں اس تحریک نے بھی ہماری تقریری صلاحیتوں کو نکھارنے میں ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے والد محترم کو ادب سے بہت لگاؤ تھا ان کی اپنی ذاتی لائبریری میں تفسیر، حدیث، سیرت، افسانے، شاعری غرض تمام قسم کا ادب موجود تھا۔ انہیں فارسی زبان پر بہت عبور حاصل تھا، حافظ، سعدی اور اقبال کے فارسی اشعار اور اسی طرح اردو اشعار بلا مبالغہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں یاد تھے۔ جب وہ خود تقریر کرتے تھے تو ان کا انداز انتہائی  ادبی اور جگہ جگہ موقع اور محل کے لحاظ سے بہترین اشعار کے انتخاب کا مجموعہ ہوتی تھی۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ بچپن میں جب اسکول میں پہلی مرتبہ تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا میری تقریرکا موضوع *سیرت النبیؐ* تھا۔  چالیس پنتالیس سال گذرنے کے باوجود  آج بھی اس تقریر کے اشعار اور چیدہ چیدہ الفاظ مجھے یا دہیں۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم مختلف قسم کے مظاہروں سے کالج اور اسکول کے طلبہ سے کسی سڑک  پر ، کسی کھلے میدان میں، کسی تھڑے پر کھڑے ہوکر، کسی پولیس کے دفتر کے سامنے تقریر کرتے نظر آتے یہ سب نکھار تحریک اسلامی کا عطا کردہ ہے۔
    1995 میں زمانہ طالب علمی سے فارغ ہوا تو غم روزگا کے چکروں میں پڑتے ہوئے جماعت اسلامی کی رکنیت  کے لیے درخواست دی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے اس رکنیت فارم پر اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا
    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا تھا عافیت ساحل میں ہے

  • پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟   تحریر: زاہد کبدانی 

    پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی 

    آپ نے سمندری سطح کی بڑھتی ہوئی سطح ، برف پگھلنے ، موسم کے نمونوں میں زبردست تبدیلی اور خبروں پر کئی پرجاتیوں کی آبادی میں نمایاں کمی کے بارے میں سنا ہوگا۔ اگرچہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ واقعات آپ پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی علامات ہیں جو پورے سیارے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ لہذا ، پوری دنیا کی طرح ، پاکستان میں بھی کئی سنگین ماحولیاتی مسائل ہیں جن پر فوری طور پر توجہ دینے اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    یہ بات درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاہم ، اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایسی دنیا میں رہیں جہاں کم از کم پینے کے قابل پانی ، سانس لینے کی ہوا ، قابل برداشت موسم اور کھانے کی پیداوار ہو۔

    پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور ایجنسیاں

    1997 میں ، اس وقت کی حکومت نے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ نافذ کیا تاکہ پائیدار ترقیاتی اقدامات اور آلودگی کنٹرول کے ذریعے پاکستان کے ماحول کی حفاظت ، تحفظ ، بحالی اور بہتری ہو سکے۔

    پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل جو کہ پہلی بار 1984 میں قائم کی گئی تھی ، 1997 کی قانون سازی کے بعد دوبارہ تشکیل دی گئی۔ اس کا بنیادی کام پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کرنا ہے۔

    پاکستان میں اہم ماحولیاتی مسائل

    ہم بنیادی طور پر ایک زرعی ملک میں رہتے ہیں جہاں مجموعی آبادی کا تقریبا٪ 60 فیصد دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، اقتصادی شعبے کی توسیع ، شہریاری ، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی عوامل کی وجہ سے پاکستان میں ماحولیاتی مسائل ہر گزرتے وقت کے ساتھ بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

    یہ پاکستان کے 2 بڑے ماحولیاتی خدشات ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

     1 جنگلات کی کٹائی۔

     2 پانی کی آلودگی

    آئیے پاکستان میں ان سنگین ماحولیاتی مسائل پر گہرائی سے نظر ڈالیں اور اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کریں۔

    1 جنگلات: سیدھے الفاظ میں ، جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب انسان درختوں کو کاٹ کر جنگلات کو تباہ کرتے ہیں اور پھر دوبارہ نہیں لگاتے۔ یہ عام طور پر لکڑی اور ایندھن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم ، شہری کاری ، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی توسیع بھی جنگلات کی کٹائی کی اہم وجہ ہیں۔ قدرتی خوبصورتی کو تباہ کرنے کے علاوہ ، جنگلات کو کاٹنے سے ہمارے ماحولیاتی نظام پر بھی بہت بڑا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ جنگلی حیات کے مسکن کو متاثر کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح بہت زیادہ ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ دیہی علاقے کھیتوں اور شہری مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے ، بہت سارے لوگ سردیوں کے مہینوں میں گرم رکھنے یا گھر بنانے کے لیے درختوں کی لکڑی پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، آپ جنگلات کی کٹائی کے خلاف بحث نہیں کر سکتے جو ہمارے ماحول کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

     حل۔ اس ماحولیاتی مسئلے کا حل بالکل واضح ہے: ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور اپنے جنگلات کو بچانے کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے حکومت پاکستان میں درخت لگانے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، پاکستان میں پہلے ہی پنجاب میں ایک بہت بڑا انسان ساختہ جنگل ہے جسے چھانگا مانگا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے شروع کیا گیا ایک ارب درختوں کا اقدام بھی اس سلسلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، وزیر اعظم عمران خان نے ملک گیر شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور 18 اگست کو ‘پلانٹ فار پاکستان’ ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ مزید یہ کہ اگر ہم اپنے سرسبز جنگلات سے محروم نہیں ہونا چاہتے تو ہمیں کاغذ کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے۔

    2 پانی کی آلودگی: پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب زہریلے مادے جیسے کیمیکلز ، فضلہ اور بعض مائکروجنزم پانی کے جسم کو آلودہ کرتے ہیں اور اسے انسانی استعمال یا استعمال کے لیے نقصان دہ بناتے ہیں۔ آلودہ ندیوں ، ندیوں ، جھیلوں اور تالابوں سے پینا ، یا اس کے پانی کو نہانے یا پکانے کے لیے استعمال کرنا ، کسی کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی کی وجوہات سیوریج کا ناقص نظام ، فیکٹریوں سے کیمیائی فضلہ سمندر میں پھینکنا اور گندگی میں اضافہ ، خاص طور پر پلاسٹک ہو سکتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس میں خشک آب و ہوا ہے ، پانی کی آلودگی ہماری فصلوں اور زمین کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ ملک میں آبادی کے ایک بڑے حصے کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کی آلودگی کو صحت عامہ کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

     حل۔ پاکستان میں اس ماحولیاتی مسئلے کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ مناسب سیوریج ٹریٹمنٹ اور مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے۔ ملک کے زرعی شعبے کو کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے ، کیونکہ ان میں نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں جو آسانی سے آبی ذخائر تک پہنچ جاتے ہیں اور آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں اور کمپنیوں کو ان کے فضلے اور کوڑے کو جھیلوں ، دریاؤں اور سمندروں میں ٹھکانے لگانے سے روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

  • پاکستان کرکٹ،دل کا روگ     تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کرکٹ،دل کا روگ   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب سے ہوش سنبھالی ہے،اپنے وطن کی جمہوریت اور اپنی کر کٹ ٹیم کی بیٹننگ کو خطرے ہی میں پایا ہے۔

    لیکن بیٹنگ والی یہ کہانی ہوئ پرانی،اب تو اکثر باؤلنگ بھی دھوکا دے جاتی ہے۔

    جبکہ ہماری فیلڈنگ کی رنگ بازیاں تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

    ابھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز ہی کو لے لیں۔

    اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہمیں جیتنا چاہیے تھا،

    مگر اس بہت ہی کلوز میچ کے آخری فیصلہ کن مرحلے میں کئی کیچز چھوڑ کر ہم نے ایک سنسنی خیز میچ ہار کر سیریز جیتنے کا موقع بھی گنوا دیا۔

    گزشتہ رات دوسرا اور سیریز کا آخری ٹیسٹ ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد جیت کر ہم نے وہ سیریز بمشکل برابر کر لی،

    جو ہمیں آرام سے جیتنی چاہیے تھی۔

    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جاۓ تو پاکستان ٹیم ٹیسٹ کر کٹ کے لحاظ سے ویسٹ انڈیز سے بہت مضبوط نظر آتی ہے۔

    ہماری ٹیم کا ہر دور میں مسئلہ رہا ہے کہ ٹیم کا بوجھ محض چند ایک کھلاڑی اٹھاتے ہیں،

    بقیہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی تفریحی دورے میں گئے ہوۓ ہیں۔

    جیسا کہ آجکل ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا بلے بازی میں بابر اعظم،محمد رضوان اور فواد عالم جبکہ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے اُٹھا رکھا ہے۔

    اس دوسرے ٹیسٹ کی جیت میں فواد عالم کی سنچری اور شاہین شاہ آفریدی کی دس وکٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    اس میچ میں ہمارا مقابلہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے ساتھ ساتھ بارش اور خراب موسم سے بھی تھا۔

    اس فیصلہ کن ٹیسٹ کو ہم نے 4دنوں میں اپنے حق میں کر کے فیصلہ کن بنانا تھا،

    کیونکہ ایک مکمل دن پہلے ہی بارش کی نظر ہو چکا تھا۔

    پھر کرتے کراتے جب ٹیسٹ میچ کےآخری دن لنچ کے بعد میچ بارش کے سبب رکا تو ،میچ ڈرا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے،

    کیونکہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی آخری تین وکٹیں باقی تھیں۔

    تاہم ایمپائروں نے اس ٹائم کو کور اپ کرنے کے لئے ٹائم سے پہلے ہی چاۓ کے وقفے میں تبدیل کر کے بہتر حکمت عملی سے میچ کنڈکٹ کیا۔

    اس میچ میں قسمت کی دیوی مہربان رہی اور بالاخر آخری سیشن کا میچ شروع ہوا اور پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے آخری تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا کر ملک  کی لاج رکھ لی اور ہم یہ سیریز بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیریز ہارنے سے سیریز ڈرا کر لینا بحرحال ایک اچھا شگون ہے،

    جو کم ازکم ٹیم کا مورال تو بلند رکھے گا،

    جو ہمیں آنے والے ٹی20ورلڈ کپ میں ایک نئی توانائ فراہم کرے گا۔

    اس سیریز میں شاہین شاہ آفریدی شہنشاہ آفریدی کے روپ میں نظر آۓ۔

    انہوں نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 18وکٹیں لیکر پاکستان کی طرف سے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

    اس سے پہلے آج تک کوئ بھی پاکستانی تیز باولر دو ٹیسٹ میچوں میں اتنی وکٹیں نہیں لے سکا تھا۔

    کارکردگی کے لحاظ سے یہ سیریز عمران بٹ،عابد علی،اظہر علی اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔

    جو کھلاڑی ویسٹ انڈیز جیسی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف کارکردگی نہیں دکھا سکے،وہ آسٹریلیا،بھارت اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کے خلاف کیسے کارکردگی دکھائیں گے؟

    عمران بٹ نے سیریز میں کیچز کا ریکارڈ قائم کیا،

    انہوں نے کئی ناممکن کیچز بھی لئے۔مگر اپنے اصل شعبے یعنی بیٹنگ میں بری طرح نا کام رہے۔

    اب رمیز راجہ کے بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بناۓ جانے سے امید پیدا ہوئ ہے کہ اب ٹیم سے سفارش اور اقربا پروری کا کلچر ختم ہو گا اور ٹیم میں صرف اہل کھلاڑی جگہ پانے میں کامیاب ہوں گے،

    جبکہ ریلو کٹوں کی چھٹی ہو جاۓ گی_

    ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اظہر علی،شعیب ملک اور محمد حفیظ کو اور کتنے مواقع دئیے جائیں گے؟

    یہ کھلاڑی ہر بار کسی نہ کسی ڈومیسٹک یا علاقائ ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس دکھا کر یاپھر بورڈ کے خلاف بیان بازی کر کے ٹیم میں آجاتے ہیں۔

    جیسا کہ ابھی حالیہ دنوں میں ہونے والی کشمیر لیگ میں شعیب ملک نے پھر اچھے رنز بناۓ ہیں،

    جس کے بعد اسے پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے کے لئے لابنگ شروع ہو چکی ہے۔

    حتی کہ کپتان بابر اعظم نے بھی شعیب ملک کی واپسی کی درخواست کر دی ہے،

    جسے تادم تحریر بورڈ ماننے سے انکاری ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی اچھی پرفارمنس کے حامل کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کروانا کپتان کا استحقاق ہوتا ہے،

    مگر صرف بڑے نام کی وجہ سے یازاتی تعلقات نبھانے یا کچھ پریشر گروپوں کے زیر اثر آکر کسی کو ٹیم میں ڈالنے کی بات نا مناسب لگتی ہے،

    خصوصا” ایک ایسے کھلاڑی کو لانے کی ضد،

    جو کئی سیریز میں مسلسل ناکام رہا ہو۔

    ہمیں پاکستان ٹیم میں سلیکشن کے معیار کو شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    پرچی مافیا کی بدولت ٹیم کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہچ چکا ہے۔

    ہماری رینکنگ تینوں شعبوں میں نیچے گر چکی ہے۔

    اگر ابھی بھی ٹیم سلیکشن میں شفافیت اور میرٹ آگے  نہ آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آۓ گا۔

    کیونکہ اس وقت کا وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزات خود دنیاکرکٹ کا ایک عظیم کھلاڑی رہا ہے۔

    ابھی تک کرکٹ ورلڈ اسے کامیاب ترین کپتان،نمبر ون آل راؤنڈر اور شاندار کھلاڑی کے طور پر جانتی ہے۔

    وہی عمران خان جس نے اپنے پورے کیرئر میں ایک بھی نو بال نہیں کروائ وہ کرکٹ بورڈ میں اتنی لوز بالیں کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

    وقت آگیا ہے کہ بطور پیٹرن انچیف پاکستان کرکٹ بورڈ عمران خان کرکٹ بورڈز کے معاملات بشمول ٹیم سلیکشن اور مالی نظم ونسق کے،

    کچھ ایسا کر جائیں،

    جس سے دنیا ان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کرکٹ میں ہونے والی بہتری کے خالق اور موجد کے طور پر بھی اسی طرح یاد رکھے،

    جس طرح بطور کرکٹر یاد رکھتی ہے۔

    اور جس عمران خان کو میں جانتا ہوں،اسکے لئے کرکٹ بورڈ کے معاملات اور کرکٹ ٹیم کو ٹریک پر لانا کوئ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے#

     

    تحریر۔سیدلعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Regards,

  • آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    لفظ آزادی بے پناہ وسعت رکھتا ہے اور آزادی کی تعریف زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ جدید تک مختلف افکار کے مطابق مختلف رہی۔ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آج کا یہ اہم موضوع ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر اس طرح کام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معاشرہ بجائے محفوظ ہونے کے انتشار کا شکار ہے۔ کیا آزادی کا مطلب مدر پدر آزادی ہے؟ کیا آزادی دین سے بیزاری کا نام ہے؟ کیا آزادی کا مطلب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی جان مال کو غصب کرنے کا نام ہے یا پھر آزادی معاشرے میں رہتے ہوئے جیو اور جینے دو کی پالیسی کا نام ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلم ہمارے ہاں آزادی کا تصور زرا مختلف ہے لیکن یہاں دیکھیں گے کہ مغرب آزادی کی تعریف کیسے کرتا ہے؟ اسکے قدیم اور جدید مفکرین کیسے بیان کرتےہیں؟
    ہیگل مغربی مفکرین میں ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔ وہ آزادی کے متعلق لکھتا ہے "دنیا کی تاریخ سوائےاس امر کے اور کسی واقعہ سے بھرپور نہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ آزادی کے تحفظ میں مسلسل کوشش جاری رکھی اور وہ آج تک تحفظ آزادی کے لیے سرکرداں ہے، البتہ آزادی کی نوعیت میں فرق ضرور پڑتا رہا ہے۔ کبھی یہ آزادی زاتی نوعیت کی رہی کبھی مجموعی نوعیت کی، کبھی شخصی حکومت کی آزادی کا تحفظ رہا ہے، کبھی جمہوری طرز کا بچاؤ ہوتا رہا ہے۔ بہرحال حقوق کے تحفظ کی آزادی کی بنا پر تاریخ ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہے۔ جہاں تک مشرقی اقوام کا تعلق ہے انکے زہن میں انفرادی آزادی، سماجی آزادی کے علاوہ روحانی آزادی بھی سمائی رہی ہے۔” ہیگل کے نزدیک فرد کی آذادی کی ضامن صرف ریاست ہے ۔اگر فرد کو ریاست کی پشت پناہی حاصل نا ہو تو فرد کی آزادی کیا اسکی جان مال کو بھی خطرہ ہے۔اسکا مطلب ہیگل انسان کی انفرادی آزادی کے ساتھ اسکی قومی آزادی کا خواہاں ہے۔اسکے نزدیک انفرادی آزادی کا راز رائج الوقت قوانین کی اطاعت اور اپنے حقوق کی اسانی سے جڑا ہے۔ ایسے حقوق جن کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہو۔اخلاقی قدروں کے تقاضے کے مطابق اگر کوئی فرد کچھ وقت کے لیے ریاست کے دوسرے حصے یا دوسری ریاست چلا جاتا ہے تو بھی اپنی ریاست کے قوانین کی پاسداری اسکے فرائض میں ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو دوسری ریاست بھی اسکی عزت کرےگی اسکے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کیا اجکل ایسا ہورہا ہے؟ کیا آزادی کا یہ کانسیپٹ متصادم نہیں ہے موجودہ دور کے لفظ آزادی کی تشریح میں؟ ایک اور مغربی مفکر ہےفشے (Fachte) کا کہنا بھی یہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج اطوار مختلف ہیں اور اس اختلاف نے انفرادی آزادی کی مختلف اقسام کو جنم دیا۔اور اسی لیے دنیا میں ثقافت کے بھی کہئ رنگ ہوتے ہیں۔جو بالآخر افراد کی نفسیات، خیالات، اور مطمع ہائے نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرد بنیادی طور پر اطاعت کے لیے پیدا ہوا ہے چاہے یہ اطاعت ریاست کی ہو، یا مقتدر اعلیٰ کی، اخلاقی نوعیت کی ہو یا روحانی۔ ہرفرد کو اطاعت شعار ہونا پڑتا ہے، لیکن اس اطاعت کے باوجود اسکے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق کا آسانی سے حاصل ہوجانا آزادی کی دلیل ہے۔کسی بھی فرد کو حقوق اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسکا تعلق براہ راست کسی ریاست سے نہیں ہوتا۔

    ایک اور مفکر جان سٹورٹ مل ہے ۔اسکا نظریہ آزادی تھوڑا مختلف ہے ہیگ اور فشے سے یہ شخصی آزادی کو اہمیت زیادہ دیتا ہے ریاست کے اختیارات محدود کرتا ہے یہ کہتا ہے کہ ریاست اس وقت دخل دے سکتی ہے جب کسی دوسرے کے مفاد عامہ کو نقصان ہو۔ ورنہ شخص جہاں چاہے جائے جو مرضی کرے کسی کو حق نہیں کہ وہ اسکی آزادی کو سلب کرے اگر یہ بات مان لی جائے تو بات وہی ہے جو اس سے پہلے والے مفکرین کر چکے کہ آزادی کا مطلب دوسروں کو روند دینے کا نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اپناتے ہوئے معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ مل ایک قدم اگے ضرور بڑھتا ہے وہ خواتین. کی آزادی کو بھی شامل کرتا ہے۔ وہ خواتین کو تمام حقوق مردوں کے برابر نا سہی لیکن کچھ حقوق ضرور ملنے چاہیئں۔ مل کا خیال ہے فرد کو نجی ملکیت کا حق ہونا چاہیئے کیونکہ نجی املاک افرادمعاشرہ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ٹامس ہل گرین آزادی کا مداح ہے لیکن ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کے جو دل میں آئے وہی کرتا پھرے چاہے اس سے دوسرے کو نقصان ہی کیوں نا پہنچے بلکہ وہ آزادی کو کی حد مقرر کرنے پر زور دیتا ہے۔آزادی اسی وقت تک مستحسن ہوسکتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے نقصان کا موجب نا بنے۔ اسک کہنا ہے کہ آزادی کا مطلب. معاشرے کی فلاح ہے ناکہ مزاحمت۔ ایک اور مفکر ہر برٹ اسپنسر ہے کا کہنا ہے۔”ہرایک انسان اپنی مرضی اور عمل میں ازاد ہے، بشرطیکہ وہ دوسرے انسانوں کی آزادی پر دست درازی نا کرے جو اسی کی طرح انہیں حاصل ہے۔”ان تمام مفکرین کی اراء میں بھی کہیں ازادی کا مطلب دوسروں کو تہس نہس کرنا نہیں بلکہ آزادی کوریاست کے تابع کرنا ہے دوسروں کی آزادی کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا کہ اپنی آزادی پھر یہاں کیوں لوگ چند دنیوی فائدے کے لیے ملکی اقدار کو داؤ پے لگا دیتے ہیں کیسے وہ اسائلم کے لیے یا روپے پیسے کے لیے ملکی اداروں کی ساکھ داؤ پے لگا دیتے ہیں؟ ریاست زمہ دار ہے اپکی تو کیوں اسکے خلاف برسرپیکار ہیں؟ اپنی ریاست یا اپنا ملک اپکی پہچان ہے اسکے نام کو وقار کو داؤ پے لگاؤگے تو عزت خود بھی کہیں نہیں پاؤگے۔ شخصی آزادی یا اجتماعی آزادی ہو ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہمارے ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین
    جزاک اللہ
    تحریر تحقیق ارم رائے

  • ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں نیرج چوپڑا نے کہا تھا کہ اس نے تاخیر کے بعد جلدی سے اپنا پہلا تھرو لیا کیونکہ وہ اپنانیزہ نہیں ڈھونڈ سکا ، جسے اس نے پاکستان کے ارشد ندیم کے ہاتھوں میں دیکھا تاہم نیرج چوپڑا کی اس بات کو انڈین میڈیا نے خوب اچھالا اور ارشد ندیم کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا-

    جس پر جمعرات کو نیرج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے تبصروں پر "رد عمل سے انتہائی مایوس” ہےمیں سب سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم مجھے اور میرے تبصروں کو اپنے ذاتی مفادات اور پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال نہ کریں-


    انہوں نے کہا کہ نیزے کو استعمال کرنے والے معاملے کو نہ اچھالا جائے، ارشد نے میرا نیزا اٹھایا تھا، یہ کھلاڑیوں کے لیے عام بات ہے اور فائنل کے دوران جو کچھ ہوا وہ قواعد کے مطابق تھا ، اور اس کو کوئی بڑا مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی تاہم مجھے دکھ ہے کہ بھارتی میڈیا اس معاملے کو میرا سہارا لے کر اچھال رہا ہے۔

    نیر ج چوپڑا کا کہنا تھا کہ "ایک انٹرویو میں میرے ریمارکس پر ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہےتمام جیولن تھرور آپس میں بہت پیار سے رہتے ہیں، اسپورٹس سب کو مل کر رہنا سکھاتا ہے میں اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو اتنا مت اچھالیں۔

    خیال رہے کہ بی بی سی کے مطابق اپنے وطن واپسی پر ایک انٹرویو میں نیرج نے کہا تھا کہ اگر پوڈیم پر ان کے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے تو ’ایشیا کا نام ہو جاتا اور یہ کتنا اچھا ہوتا‘۔

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    نیرج چوپڑا نے یہ بھی بتایا تھا طلائی تمغہ جیتنے کے ایک دن بعد انہوں نے اختتامی تقریب سے پہلے ڈائننگ ہال میں ارشد ندیم سے ملاقات کی تھی۔ دونوں نے بہت گرمجوشی سے ملاقات کی۔ نیرج چوپڑا کے مطابق ارشد ندیم نے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں مبارکباد دی تھی۔

    ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو 82 اعشاریہ چار میٹر دور پھینکی، ان کی دوسری تھرو فاؤل قرار پائی جبکہ ان کی تیسری تھرو 84 اعشاریہ چھ دو میٹر دور پہنچی۔ اس تیسری تھرو کے باعث وہ 12 ایتھلیٹس میں سے پانچویں نمبر پر رہے۔

    ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں میں 85 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن پھینک کر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ وہ کوالیفائنگ مقابلوں میں گروپ بی میں پہلے نمبر پر رہے تھے جبکہ مجموعی طور پر کوالیفائنگ راؤنڈ میں ان کی تیسری پوزیشن رہی تھی۔

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

  • ہماری قومی زبان اردو ہماری پہچان ،صائمہ رحمان

    زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نا صرف اس کی شناخت ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی قومی زبان پر منحصر ہے ہوتی ہے امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے وہ اس لئے انھوں نے اپنی اپنی زبانوں کو بہت فوقیت دی اور قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان زبان کے طور پر فروغ دیا۔ دوسری طرف ایک عظیم مثال ہمارے چینی بھائیوں نے قائم کی انھوں نے اپنی چینی زبان کو فروغ دیا۔

    خود دار اور با وقار ملک ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کی قدر کرتی ہیںجو ان کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں قدر اور فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی زبان کی اہمپت اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بیرون ملک میں جا کر اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کو فوقیت دی جانا مجوری بن جاتی ہے اردو زبان واحد زبان ہے جس میں تازگی اپنا پن محسوس ہوتا ہے اردو زبان بول کر ہم باآسانی اپنی بات اپنے پیغام کو پہنچا سکتے ہیں جواثر بھی کرتی ہے دنیا میں جن قوموں نے ترقی کے مراحل تیزی سے طے کئے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی ثقافت اوراپنی قومی زبان کو اہمیت دی ہے زبان کسی بھی ملک شناخت ہوتی ہے۔

    اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان اور دوسری زبانیں بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہےباقی زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔ انگریزی زبان کوبین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت اپنی ہی جگہ ہے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    قومی زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،

    اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان پر برطانوی راج کے دور میں شمالی ہندوستان میں اردو رابطے کی سب سے موثر زبان کے طور پر تسلیم کی گئی تھی اور یوں سرکاری طور پر اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔

    1837 میں اردو کو انگریزی کے ساتھ سرکاری درجہ حاصل ہوا۔ یہ زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی موثر ترین پل کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس موقع تک ہندوستانی زبان نستعلیق رسم الخط ہی میں لکھی جا رہی تھی اور اس وقت اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں آریا سمائی احتجاج شروع ہوا، ہندوستانی کے لیے مقامی دیوناگری رسم الخط پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ہندوستانی زبان کو دو الگ الگ رسم الخط میں لکھا جانے لگا اور یہیں سے اردو اور ہندی کی راہیں جدا ہوئیں۔
    اس دور میں اردو بولنے والے معاشرے کے سامنے ایک بہت ہی اہم مسئلہ اپنی زبان ، اپنی ثفاقت اور تشخص کا تحفظ کا ہے زبان کا لکھنا پڑھنا اور اس کی نظم ونثر کا تعارف ، حساب، ماحول کی سمجھ اور مل جل کر رہنے کی صلاحیت شامل ہے پرائمری تعلیم کے بنیادی مقاصد میں زبان اور کلچر کا تحفظ اور آگے منتقلی ہے اردو زبان کے سکھنے کے لئے پانچ سال بہت ہوتے ہیں ۔ اسے اورمنظم مربوط اور موثر بنائیں اس کی جدید کاری پر توجہ دی جائے

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6