Baaghi TV

Category: بلاگ

  • الوداع سید علی گیلانی صاحب  تحریر  ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    الوداع سید علی گیلانی صاحب تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    سید علی گیلانی حریت رہنما وہ عظیم کشمیری لیڈر جس نے ساری زندگی جدوجہد آزادی ء کشمیر میں گزار دی ،انڈین حکومت کی طرف سید علی گیلانی صاحب پر بڑا ظلم وستم کیا گیا ،ٹارچر سیل میں رکھا گیا بڑھاپے میں کئ سال قید میں رکھا گیا تو دوسری طرف ہر طرح کی آرائش سے بھری پرسکون زندگی گزارنے کی لالچ دی گئ لیکن اس مرد مجاہد نے انڈیا کی طرف سے تمام آفرز ٹھکرادی انڈین سرکار کے تمام ظلم وستم کو ہنس کر برداشت کیا اور
    سری نگر کی وادی سمیت کشمیر کی ہر گلی کوچے میں ایک ہی نعرہ بلند کرتے رہے کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ،اس مرد مجاہد نے تمام تر اذیتوں ،ظلم وستم کے باجود ہر وقت کشمیر کی آزادی ،کشمیر کا پاکستان سے رشتہ کیا کے نعرے بلند کئے ،ہمیشہ پاکستان کے پرچم کو بلند رکھا اور تمام کشمیریوں کے دل میں پاکستان سے محبت کا رشتہ نا صرف قائم رکھا بلکہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ،ایسے مرد مجاہد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ،سید علی گیلانی کی موت کی خبر سن کر آج دنیا جہان میں بسنے والے کشمیری اور پاکستانی غم میں مبتلا ہیں آج مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی بھی آنکھیں اشکبار ہیں ،آپ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو جس طرح سنبھالے ہوئے تھے یقینن آپ کا خال پر کرنا بہت مشکل ہے لیکن جو جذبہ آپ نے کشمیر کے نوجوانوں میں پیدا کیا وہ یقینن کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا اور ایک دن ضرور وہ دن آئے گا جب آپ کے نعرے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے حقیقت بن کر ابھرے گا ،کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا کیونکہ کشمیر تو جنت ہے اور جنت کبھی کسی کافر کو نہیں مل سکتی
    سید علی گیلانی صاحب کی شہادت کی خبر پر پوری پاکستانی قوم غمزدہ ہے اور حکومت پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،اس عظیم لیڈر کا جنازہ سری نگر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر گاوں اور شہر میں پڑھائ جائے گی اور آپ کی شہادت پر ہم بحثیت پاکستانی قوم آپ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے والے تمام عظیم کرداروں کے ساتھ پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے انشااللہ آپ کا خواب کشمیر کی آزادی بہت جلد حقیقت بن کر اس دنیا میں ابھرے گا
    اللہ پاک آپ کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے آمین

  • غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    نئی دہلی: بھارت میں نایاب نسل کی مچھلی نے غریب ماہی گیروں کو راتوں رات کروڑ پتی بنا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق غریب بھارتی ماہی گیر پابندی ہٹنے کے بعد پہلے ہی روز شکار پر پہنچے جہاں ان کی قسمت جاگ اٹھی اور ماہی گیروں نے ایک رات میں ہی سوا کروڑ روپے سے زائد کما لیے۔

    رپورٹس کے مطابق مچھلی کے شکار پر جانے والے کشی کے ناخدا چندرا کانت اور ان کے ساتھیوں نے سمندر میں جال پھینکا تو کچھ ہی دیر میں ان کے جال میں طب کی دنیا میں مہنگی ترین مچھلی "سوا” آ گئی نایاب مچھلی کے شکار نے مچھیروں کو حیرت میں ڈال دیا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

    کشتی کے ناخدا نے ساحل پر پہنچنے سے قبل ہی شکار کی گئی مچھلیوں کی ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیج دی جو کہ جلد ہی وائرل ہو گئی اور جب مچھیرے ساحل پر پہنچے تو مچھلی خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ماہی گیروں نے پکڑی جانے والی 157 مچھلیوں کو فی مچھلی 85 ہزار بھارتی روپے کے حساب سے فروخت کیا اور ایک کروڑ 33 لاکھ بھارتی روپے کما لیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل راچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے سمندر میں جال ڈالتے ہی بیش قیمت دو “سوا” مچھلیاں پھنس گئیں تھیں جو بعد میں لاکھوں روپے میں فروخت ہوئی تھیں-

    واضح رہے کہ مذکورہ مچھلی کی جھلی سے سرجری کے دھاگے بنتے ہیں اور یہ دھاگے جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلی انتہائی مہنگی فروخت ہوتی ہےسوا مچھلی کی اندرونی جھلی سے بننے والے ریشے قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتے ہیں اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں۔

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

  • الوداع سید من! تحریر:فلک شیر چیمہ

    الوداع سید من! تحریر:فلک شیر چیمہ

    آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی

    آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار

    ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں

    ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور…یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا

    آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے

    جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا” بھی نہ کر سکا

    لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں…کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا

    بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے… پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے

    حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا

    پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔

    ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی…. کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی

    کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد” میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔

    آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔

    آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

    بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔

    آمین یا رب العالمین

    ‎#SyedAliGilani

  • سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل

    سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل

    کچھ شخصیات  دنیا میں آتے ہیں ان کا مقصد ان کے کارناموں میں صاف واضح ہوتا ھے۔ان کی محنت،مقصد کے حصول کے جدوجہد دنیا کے سامنے عیاں ہوتی ہیں۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قائد کہلاتے ہیں۔
    انھی قائدین میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے قائدین حریت میں سے موجودہ صدی کا عظیم ترین قائد اور حریت کے لیے جدوجہد کرنے والی عظیم ہستی کا نام سید علی گیلانی ھے۔
    یہ کیسی عظیم شخصیت کا مالک شخص تھا کہ بچپن سے لے کر اب تک ایک ہی نعرہ بلند کر رہا تھا
    "ہم پاکستانی ہیں
    پاکستان ہمارا ھے”
    یہ وہی شخص تھا جس نے ہندو بنیے کو کشمیر جنت نظیر وادی پر قابض ہوتے دیکھا تھا۔جس نے پھر اس قوم کشمیر کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان سنا پڑھا تھا
    "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”
    سید علی گیلانی وہی شخص تھا کہ جس نے ہمیشہ دن رات گرمی سردی،بہار،خزاں میں کشمیری قوم کو پاکستان سے محبت کا درس اور سبق گھول کر پلا دیا تھا۔یہ وہی شخص تھا کہ جس کا نام کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر ھے۔ہر وہ شخص جو تحریک آزادی کشمیر کے نام سے آشنا ہے وہ سید علی گیلانی کے نام سے واقف ہو گا۔
    یہ وہی شخصیت تھی کہ 91 سال عمر پائی ان 91 سال میں ایک بار بھی ہندو بنیا اور اس کی فوج،پھر فوج کا تارچر کرنا،کبھی عقوبت خانوں میں بند ہونا،کبھی نظر بندیوں کی مشکلات سے گزرنا ان کی زبان سے یہ نہ ہٹا سکا کہ
    "ہم پاکستانی ہیں
    پاکستان ہمارا ھے”
    میں نے اس عظیم شخصیت کے بارے میں اس وقت سننا شروع کیا جب سے میں نے ہوش سنبھالا کبھی ٹیلی ویژن پر کبھی ریڈیو پر کہ سید علی گیلانی نے ہڑتال کی کال دی ھے۔
    کبھی یہ سنا کہ سید علی گیلانی نے انڈین الیکشن کا بائیکاٹ کیا ھے۔جب ان ہڑتالوں،ان جلوسوں،ان جلسوں،ان بائیکاٹ کی اصل وجہ ایک ہی تھی
    "جیے گے بھی پاکستان کے ساتھ
    مرے گے بھی پاکستان کے ساتھ”
    معزز قارئین! سید علی گیلانی وہی شخصیت تھی کہ جب دنیا پاک فوج کو گالیاں دے رہی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عروج پر تھا تب سید علی گیلانی نے
    "پاک فوج زندہ باد
    پاکستان زندہ باد ”
    کا نعرہ لگایا تھا بلکہ نہ صرف خود لگایا بلکہ ہر زبان زدعام کروایا۔اس شخصیت کہ محنت اور روعب و دبدبے کی تو کیا بات ھے۔کہ سید علی گیلانی جب زندہ تھے تو ان کو نظربند کر دیا جاتا تھا کیوں کہ انڈین میڈیا کو بھی پتہ تھا کہ سید علی گیلانی کی ایک کال پر کشمیریوں نے سر تسلیم خم کر دینا ھے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ گے کہ جب سید علی گیلانی کا آج انتقال ہوا ھے ان کے انتقال کے فورا بعد کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ھے کیوں کر دیا گیا ھے کیونکہ دشمن انڈیا کو بھی پتہ ھے کہ یہ اکیلا ایک علی گیلانی نہیں ھے اس عظیم قائد نے پوری کشمیری قوم کو سید علی گیلانی بنا دیا ھے۔
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی زندگی پوری کی پوری آزادی کشمیر کی جدوجہد میں گزری۔اس جدوجہد کے دوران تحریک آزادی کشمیر میں عروج و زوال بھی آیا لیکن اس شخصیت نے اپنی قوم کو درس تھا
    "اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں”
    بلکہ کرنے کا کام ایک ہی ھے "لھم یوقنون” اسی ذات باری تعالی پر یقین رکھنا ھے۔
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی جدوجہد کے ثمرات دشمنان  نے برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی صورت میں دیکھ لیے ہیں۔سید علی گیلانی نے پوری قوم کو ہی برہان وانی کا جانشین بنا دیا تھا۔اسی وجہ سے ان کی جدوجہد سے گھبرا کو ان کو سینکڑوں بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا
    لیکن مجھے یہاں حسرت موہانی کا ایک شعر یاد آ رہا ھے
    ہے مشق سخن بھی جاری اور چکی کی مشقت بھی
    ایک طرفہ تماشا ھے حسرت کی طبیعت بھی
    لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے ان صعوبتوں کو آڑے نہیں آنے دیا بلکہ نوجوانوں کو تیار کیا امت کی ماؤں بہنوں کو کشمیر کے لیے کھڑا کر دیا۔اسی کیفیت کو اگر میں شاعر کے الفاظ میں قلم بند کروں تو
    ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا
    منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی
    سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے 91 برس کی عمر میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان رب تعالی پر یقین رکھنے والی قوم ھے۔دیٹھ سیل میں رکھے جانے کے باوجود اور خراب طبیعت میں مناسب طبی سہولیات بھی نہ دی گئی جو کہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے کبھی بھی اپنے لیے کال نہیں دی بلکہ کشمیریوں کے اور پاکستانیوں کے لیے جدوجہد کی
    "جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
    پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی”
    آج امت مسلمہ کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے پشت پناہی کی ضرورت ھے جیسا کہ اقبال کا شعر ھے 
    کافر ھے تو شمشیر پر کرتا ھے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ھے سپاہی
    سید علی گیلانی نے بے تیغ ہو کر اپنی سیاسی فکر کے ذریعے کشمیر جدوجہد آزادی کی حمایت کی بلکہ بچوں کی زبان پر بھی یہ جاری کروا دیا
    پاکستان ہمارا ھے
    پاکستان زندہ باد
    ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب کشمیر کو آزادی نصیب ہو گی جب سید علی گیلانی کی محنت رنگ لائے گی۔وہ وقت آنے والا ھے جب کاروان حریت کو کامیابی ملے گی۔میرے نزدیک قائد حریت سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے پورے کفر کا مقابلہ کیا ھے۔سید علی۔گیلانی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے بچوں سے لے کر ڈگری ہولڈر تک کو بھارت کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔اسی وجہ سے دشمن کو ان کے نام سے خوف تھا۔اس عظیم شخصیت کو تا قیامت آزادی کے متوالوں میں یاد رکھا جائے۔اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

  • شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ویلز کے شہر سوان سی میں ڈیوڈ ہیمسن نامی 51 سالہ شہری کو بار بار، بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے ’جرم‘ میں ساڑھے تین سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، ڈیوڈ ہمسن پچھلے سات سال میں سینکڑوں مرتبہ سوان سی شہر کے مرکزی پولیس اسٹیشن کے بالکل سامنے والی سڑک پر بیچوں بیچ کھڑا ہو کر ٹریفک جام کرچکا ہے پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اسے بار بار تنبیہ کی جبکہ ٹریفک جام کرنے کی پاداش میں وہ 9 مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔

    پچھلے سال اپنی تین سالہ قید مکمل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اسی سڑک پر چلتی گاڑیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس حرکت پر سوان سی پولیس نے اسے ایک بار پھر گرفتار کرلیا ہے اور اسے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے-

    یہ گونگا بہرہ نہیں لیکن پھر بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ اس سے جب بھی پوچھا گیا کہ وہ بار بار ٹریفک کیوں جام کرتا ہے تو اس نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔

    ہیمسن کی تازہ ترین گرفتاری کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ نفسیاتی ماہرین سے اس کا معائنہ کروایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے جو وہ بار بار ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کا سبب بن رہا ہے-

    تقریباً ڈیڑھ ماہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود، نفسیاتی ڈاکٹر بھی ہیمسٹن سے یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کوئی نہیں جانتا کہ آخر وہ کس نیت، کس ارادے اور کس مقصد کے تحت بار بار ٹریفک جام کی وجہ بنتا ہے۔

  • سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    کولمبو: سری لنکا میں 80 سال بعد کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق دارالحکومت کولمبو سے 90 کلو میٹر کی دوری پر بنائے گئے ہاتھیوں کے سنٹر میں موجود 25 سالہ "سورنگی” نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے پناولا کے مقام پر 1975 میں بنائے گئے آشرم کے حکام کے مطابق کچھ دن قبل ہی انہوں نے ہاتھیوں کے ہمراہ دو چھوٹے ہاتھی دیکھے تھے۔


    جس کے بعد انہوں نے کئی دن تک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس ہتھنی نے ان جڑواں بچوں کو جنم دیا ہےسنٹر کی انتظامیہ اور ڈاکرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچے معمول سے تھوڑے چھوٹے ہیں لیکن ماں اور بچے بالکل محفوظ اور صحت مند حالت میں ہیں۔

    واضح رہے کہ سری لنکا میں آخری مرتبہ 1941 میں کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی سورنگی نے 2009 میں بھی ایک نر ہاتھی کو جنم دیا تھا جب کہ اب بھی ان کے ہاں دونوں نر ہاتھی پیدا ہوئے ہیں 25 سالہ ہتھنی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا والد 17 سالہ ہاتھی ہے-

    سری لنکا کو دنیا بھر میں ہاتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور وہاں تقریبا 7 ہزار 500 تک ہاتھی موجود ہیں ڈھائی کروڑ سے کم آبادی والے ملک کے بڑے گھرانوں کے لوگ ہاتھیوں کو گھروں میں رکھ کر دولت یا اعلیٰ ہونے کی تشہیر کرتے ہیں۔

    سری لنکن حکومت نے جانوروں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین فافذ کر رکھے ہیں، برا سلوک کرنے والے ملزم کو تین سال قید کی سزا تک ہو سکتی ہے اور ان سے ہاتھی چھین کر سرکاری تحویل میں لے لیا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کا امیر طبقہ اپنی دولت کی نمائش کے لیے ہاتھیوں کو پالتو جانوروں کے طور پررکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ برا برتاو کے بھی کئی واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں۔

    علاوہ ازیں ہاتھیوں سمیت دیگر کچھ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر موت کی سزا تک کے قوانین بھی نافذ ہیں مگر ایسے قوانین پر ناذ و شادر ہی عمل کیا جاتا ہے۔

    سرکاری ریکارڈز کے مطابق سری لنکا بھر میں 200 کے قریب ہاتھی گھروں میں موجود ہیں جبکہ ملک میں 75 ہزار سے زائد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔

  • بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ         ازقلم :غنی محمود قصوری

    بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ازقلم :غنی محمود قصوری

    بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ

    ازقلم غنی محمود قصوری

    تحریک حریت کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی کل 1 اگست 2021 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحم

    سید علی شاہ گیلانی الحاق پاکستان کے سب سے بڑے حامی تھے اور کشمیریوں سمیت پاکستانیوں کے دلوں کی ڈھرکن تھے آپ مقبوضہ کشمیر کے قصبہ سوپور کے نواحی گاؤں ذورمنز میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے بچپن سے ہی شاہ صاحب غیرت و حمیت کے پاسباں تھےآپ کی اولاد میں ایک بیٹی فرحت گیلانی اور تین بیٹے نعیم گیلانی،نسیم گیلانی اور ظہور گیلانی شامل ہیں-

    شاہ صاحب نے اپنی ساری زندگی ہندوستان کے خلاف لڑتے ہوئے گزاری آپ کا واضع اور دو ٹوک موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان ناجائز قابض ہے ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر سے نکالے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرائے تاہم ہندو بنیا جانتا ہے کہ آپ الحاق پاکستان کی سب سے مضبوط آواز ہیں اور ریفرنڈم کروانے کا مطلب الحاق پاکستان کا پیغام کھلے عام ساری دنیا کے سامنے رکھنا ہے سو ہندو نے ہر ظلم و جبر آپ پر کیا اور آپ کو بے بحا آفرز کرکے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تاہم ہندو بنئیے کو ناکامی کے سوا کچھ نا حاصل ہوا آپ کی تقریبآ ساری زندگی جیلوں میں گزری شاہ صاحب گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے گھر میں نظر بند رہے ہیں-

    وفات کے وقت آپ کی عمر 92 سال تھی اور دوران اسیری ہی آپ کا ایک گردہ کینسر کی بدولت نکالا جا چکا تھا اور دل کی سرجری بھی ہو چکی تھی مگر اس کے باوجود بھی آپ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نا آئی اور آپکا نعرہ وہی رہا –

    کشمیر بنے گا پاکستان
    تیرا میرا رشتہ کیا ؟
    لا الہ الااللہ
    عام کشمیری تو کجا مقبوضہ سادی کشمیر کی تمام عسکری تنظیموں کے قائدین و مجاھدین سید علی شاہ گیلانی صاحب کی بے انتہاہ عزت کرتے ہیں

    سید علی شاہ گیلانی کی خدمات پر ان کو پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے نشان پاکستان سے نوازہ گیا تھا

    آپ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے پلیٹ فارم سے 1972,1977 اور 1987 میں میں الیکشن جیتا اور اسمبلی میں کھل کر الحاق پاکستان کی صدا لگائی اور کشمیر کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کی

    آپ نے جماعت اسلامی سے 2003 میں علیحدگی اختیار کی اور اپنی جماعت تحریک حریت کی بنیاد رکھی مذید آپ نے کشمیر کی آزادی کی خاطر چوبیس سے زائد جماعتوں کے اتحاد سے آل پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھی

    مرحوم سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں ہی سرینگر قبرستان شہدا میں اپنی تدفین کی نصیحت کی تھی کل رات ان کی وفات کی خبر کے بعد انڈین فوج نے پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی شحض اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا تاہم کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں مگر اپنے محبوب لیڈر کا دیدار کئے بنا نہیں رہ سکتے-

    اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے انڈین فوج نے پوری وادی میں کرفیو لگا دیا ہے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے انڈیا جو مرضی کر لے کشمیری قوم بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی کے نقش قدم پر ہی چلے گی اور الحاق کشمیر کرکے ہی دم لے گی –

    اللہ تعالی مرد مجاھد سید علی شاہ گیلانی کے درجات بلند فرمائے آمین

  • آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان

    آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان

    مظفر آباد:وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ سید علی گیلانی کی رحلت کا سن کر دل رنجیدہ ہے،سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں تھےسید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی-

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سید علی گیلانی نے بھارتی ظلم و جبر کا دلیری کیساتھ مقابلہ کیا ،سید علی گیلانی کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گے کشمیری قوم سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گی-

    وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ سید علی گیلانی کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے-

    حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا

    وزیراعظم عمران خان کا سید علی گیلانی کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار،آج پاکستانی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان

    ترجمان وزیراعظم آزادکشمیرنے کہا کہ آزادکشمیر میں سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ منایا جائے گا آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج سید علی گیلانی کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی-

    قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی رات کے اندھیرے میں تدفین پر دباؤ ، تیاری جاری

    کشمیری آج یتیم ہو گئے، علی گیلانی کی وفات پر مشعال ملک کا جذباتی پیغام

  • سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس

    سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس

    پاکستانی سیاسی و معروف شخصیات نے سید علی گیلانی کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےحریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنماء سے محروم ہو گیاسید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت کے خلاف ڈٹے رہے وہ ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے-


    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اورآزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی مرحوم کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا-

    عثمان بزدار نے کہا کہ سید علی گیلانی مرحوم جرات مند اور بہادر کشمیری رہنما تھے سید علی گیلانی مرحوم نے آزادی کشمیر کے لئے بےپناہ قربانیاں دیں بھارتی ظلم و ستم اور پابند سلاسل کے باوجود سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

    انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کے انتقال سے جدوجہد آزادی کشمیر کا سنہری باب کا خاتمہ ہوا ہے آزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی کی عظیم خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔


    وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ کون کہتا ہے موت آئ تو مر جاؤں گا۔۔میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا-


    سراج الحق نے سید علی گیلانی کی وفات پر افسوس کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کےعظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی-


    انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنے پیچھے لاکھوں آزادی کے متوالوں کو چھوڑا ہے جو ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے جس خواب کو سید علی گیلانی نے پوری زندگی سینے سے لگائے رکھا، وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان شاء اللہ


    سراج الحق نے پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ آج ہر شہر اور قصبے میں قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے-


    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے-سید علی گیلانی کی زندگی جہدِ مسلسل کا ایک استعارہ تھی-


    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا بھر میں مقیم بالخصوص آزاد و مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہارکیا اور کہا کہ سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے-

    واضح رہے کہ زیراعظم عمران خان نے بھی سید علی کی وفات پر گہرے دکھ کا اطہار کیا اور پاکستانی پرچم آج سرنگوں رہےگا اور سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا-

    سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔

  • حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا

    حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا

    سری نگر: حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سید علی گیلانی کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور سیکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے۔شہریوں کے گھر وں سے نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور بھارتی فوج نے علاقے میں گشت شروع کردیا ہے نیشنل ہائی وے روڈ بیمینہ ، سرینگر پر آنسو گیس کی شدید گولہ باری جاری ہے –


    سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔

    حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون