Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان نے حیرت انگیز فتوحات حاصل کرتے ہوئے 15 اگست کے روز چند گھنٹوں میں کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے تخت افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرلی، دنیا نے اس بار افغان طالبان کی ایک نئی شکل و صورت اور حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا کہ کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے کوئی قتل عام کیا ناں ہی سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا تاہم اب بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں کیونکہ تاریخ کبھی بھی صرف رونما ہونے والے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی بلکہ پیش آنے والے واقعات کے درپردہ محرکات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ تک بذریعہ سوال و جواب ہی پہنچا جاتا ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات نے امریکا کی ناں صرف افغانستان بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں ناکام پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے جنون میں مبتلا امریکا کی ان ناکام پالیسیوں سے کئی انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں تاہم اگر چین اور پاکستان مربوط کوششیں کریں تو اس سے ایک نیا افغانستان ابھر کر سامنے آئے گا جو ناں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ماہرین کی طرف سے یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا؟ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا مستقل بنیادوں پر خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

    کیا طالبات کو تعلیم اور خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بحال رکھے جائیں گے؟ دنیا بھر کی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی نظریں افغانستان اور طالبان کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں بسنے والے افغان طالبان سے وہ سب کچھ چاہتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں عوام کو میسر نہیں تاہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی جیسا کہ خواتین کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دینا، بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات ممکن ہیں اور یقینی طور پر افغان طالبان اپنے وعدوں اور ارادوں کو پورا کریں گے جس کے لئے افغان طالبان پر حامی ممالک کی طرف سے دبائو بھی ہے۔ اس حقیقت میں تو اب کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان افغانستان کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں اور صرف کابل یا کسی مخصوص علاقے میں افغان طالبان نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ وسطی افغانستان کی طرح دوردراز علاقوں میں بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے تاہم دور دراز دیہی علاقوں میں قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان پر بھی طالبان قیادت کو سنجیدگی سے سر جوڑنا ہوگا کیونکہ طالبان کی قیادت و سیاست کا امتحان ابھی ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور انہیں افغانستان اور افغان باشندوں سے اپنی محبت کے ساتھ اپنی اہلیت کا بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہے

    جسے ایک نئی آزمائش اور نئی گیم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مغربی دنیا کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے افغان طالبان کی سرپرستی اور قیادت میں بننے والے نئے حکومتی سیٹ اپ کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ دو دہائیوں پر محیط حالیہ خانہ جنگی کے بعد افغانستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سالہا سال سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے والے افغان باشندے ایک پرامن اور خوشحال افغانستان میں زندگی بسر کر سکیں۔

  • پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار میں انوائرنمٹ یعنی کہ ماحول اور جتنی بھی اُس سے متعلق جزیات ہیں یہ سب اِ س نہ نظر آنے والی جنگ کا بہت بڑا حصہ ہوتی ہیں، مثلاَ اگر کسی فرقہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو اُس نفرت کو استعمال کر کے دُشمن اپنا کام نکالتا ہے اِسی طرح اگر کسی کیلئے کسی کی محبت پائی جاتی ہے تو محبت کو استعمال کر کہ اپنا کام کیا جاتا ہے۔
    ہائبرڈ وار فیئر میں دشمن ملک کی معیشت کو گرانا بھی ایک ہتھیار ہےجیسے اِس وقت پاکستان میں دن بہ دن بڑھتی مہنگائی جس طرح کنٹرول سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے ، ایسی حالت میں موجودہ حکومت کو ایک وقت میں کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

    ہر سرکاری اِدارے کا نظام متاثر ہوتا ہے ، عوام میں غصہ، بے یقینی بڑھتی ہے حکومت پر اعتماد کم ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کیلئے ہمدردی کی بجائے مخالفت پیدا ہو رہی ہے ، یہ معاشی جنگ انتہائی خطرناک ہے اور اِس وقت پاکستان جیسے ہی افغانستان کی بدلتی صورتحال اچھے سے سنبھالنے کے ساتھ اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا رہا ہے ۔
    ساتھ ملک کی معاشی صورتحال کو خراب کرنے والےدشمن پاکستان پر مسلط معاشی جنگ کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ اپنی عوام میں آگہی کے ساتھ مکمل لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے وزیرِ اطلات کی ذمہ داری لگائے میڈیا پر جس طرح پبلک سروس میسیج دیا جاتا ہے بالکُل اُسی طرح اپنی عوام کو بتائے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اِس جنگ میں کیا کیا مشکلات آسکتی ہیں اور ہمیں کیسے اِن آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے ،

    یہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ، وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو گراؤنڈ کے حالات بتانے والے اُنہی کے وزیر اور مشیر ہی ہیں ناں۔۔۔! جو پہلے اُنہیں دو خاندانی سیاسی پارٹیوں میں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں تو کیا تحریکِ انصاف اِن کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو صاف سُتھرا بنانے کی لانڈری ہے ؟ جبکہ عمران خان صاحب کو علم ہے مگر جیسا کے کئی بار وہ اپنی لاتعداد تقاریر میں خُود بھی کہہ چُکے ہیں مجھے معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے مگر نظام خراب ہے ، تو وزیرِاعظم صاحب یہی صحیح وقت ہے ایکشن لینے کا اور عوام کو تیار کرنے کا کے آپ22 کروڑ لوگوں کو حقائق سے اگاہ کریں ، آپ کی ٹویٹ 22کروڑ لوگ نہیں دیکھتے وہ کیا سمجھیں گے پاکستان پر معاشی جنگ مسلط ہے ، یہ بات عام پاکستانی تک پہنچانا بہت ضروری ہے ، پچھلی 3 سالہ کارکردگی میں عوام کو ترقیاتی کام نظر نہیں آئیں گے اُنہیں نظر آئے گا تو گھی، چینی، دال، آٹا ، یہ مہنگائی یہ معاشی جنگ کا شکار پاکستانی کیا جانے پاکستانی کرنسی کیوں گری کیسے گری ، اسٹیٹ بینک ڈالر کیوں گرنے دے رہا ہے ایک عام پاکستانی جو ریڑھی چلاتا ہے روزانہ دھاڑی کر کے شام کو گھر جاتا ہے اُسے کیسے بتائیں گے کہ ہم معاشی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں کس وجہ سے یہ مہنگائی ہو رہی ہے۔؟ نہیں ایسے نہیں آپ کو اِس معاشی جنگ کو شکست دینے کیلئے ایک اور حل بھی ہے مگر اُس کے لئے بہت بڑا جگر چاہئے بلکہ یوں کہا جائے کے تاریخ رقم کرنا ہوگی آپ کو ایک مثال قائم کرنا ہوگی اور وہ دیکھا جائے تو مشکل بھی نہیں لیکن اُس کے لئے آپ کو ایک دلیر ٹیم درکار ہے جو کہ آپ کے پاس اِس وقت ساتھ نہیں ۔ اور وہ ہے آپ کا معاشی نظام آج اگر آپ اپنی تجارت ڈالر کی بجائے سونے میں کریں تو آپ چند دنوں میں اپنی معیشت بہتر کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی ٹیم کا ہر ممبر ایک سوچ ایک نظریئے کا مالک ہو تب ممکن ہو سکتا ہے اِس کہ علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آتا آپ لاکھ چین، ترکی، ایران، سعودی عرب ، کا بلاک بناتے رہیں دشمن آپ کو اسلحے سے نہیں اِس وقت معیشت کی مار ،ماررہا ہے اور اِس کے لئے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ مستند اور جری ،دلیر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو آپ کی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آرہے،

    تو بجائے اِس کے کہ آپ اِن ویزروں مشیروں سے پلان بناتے بگاڑتے رہیں آپ عوام کے درمیان آئیں اپنے ویڈیو کلپ بنائیں خاص طور پر مہنگائی کی وجہ بتائیں اگاہی مہم چلائیں نوجوان آپ کے ساتھ ہیں آپ یہ مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اِس نظام کی خرابی بھی بتائیں اِس لنگڑے لولے جمہوری نظام میں اب دم خم نہیں یہ نظام ہائبرڈ وار فیئر اور ففتھ جنریشن وار جیسی نہ نظر آنے والی جنگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اِس میں کمزوریاں ہیں جو دشمن کو فائدہ اور اِس ملک کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khizar

  • سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اِردگرد کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے.
    سگریٹ پینے والا انسان سگریٹ کے دھوئیں سے اپنے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے.
    پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے, اس وقت پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 35 سے 40 کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے کارخانے موجود ہیں اور اسکی فروخت میں حکومت اربوں کے حساب سےسالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے.
    پروفیسر ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے سگریٹ عام دستیاب ہیں اور اگر قانون ہے بھی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا.
    پاکستان میں ناخواندگی زیادہ ہے اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے. لہذا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں.

    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں.
    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے. اس سے نہ صرف پھیپھڑے تباہ ہوتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اسکے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں. ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں.
    سگریٹ نوشی سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں.
    اور کسی کھلاڑی کے لئے سگریٹ نوشی اسکا مستقبل تباہ کرسکتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی سے سانس پھول جاتا ہے.
    ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے وہ سموکرز ہوتے ہیں .
    سگریٹ نوشی کرنے والے کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہروقت لگا رہتا ہے.

    ہمیں معاشرے میں یہ شعور اُجاگر کرنا ہے کہ تمباکو نوشی کی عادت اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے ہر ممکن حد تک بچنا ہے.

    دیکھیں کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی عادت سے بھی چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اسکے لئے مضبوط ارادے اور خود کو مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
    پاکستان میں انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے.
    صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سگریٹ نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے اور جو ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سگریٹ نوش افراد ہیں.. انکی بھی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کروانے میں کوشش کریں گے.
    ہم سب نے مل کر سگریٹ نوشی کی اور خاص کر پبلک مقامات پر اسکی حوصلہ شکنی کرنی ہے.

    @Rehna_7

  • لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ
    "ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.”
    لفظ لکھنا سے مراد حروف تہجی کی اشکال کو کسی چیز پر بنانا یا اتارنا مزید یہ کہ حروف تہجی کو اس ترتیب سے لکھنا کہ بیان کی گئ بات سمجھ میں آسکے۔۔۔
    نثر اور شاعری کی اصناف کے لئے لوگ کتب رسائل اور اخبارات کے لئے لکھا کرتے تھے۔ لکھاری ہاتھ سے تحریری مواد لکھتا بار بار غلطیوں کے بعد جب مسودہ تیار ہوجاتا پھر اخبار یا رسائل کے دفاتر تک پہنچانا اور وہاں پر بھی واقفیت اور جان پہچان کے بغیر تحریر کا شائع ہوجانا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتا تھا کیونکہ وہاں پر پرانے اور نامور کالم نویسوں کا قبضہ تھا جس کی وجہ سے نئے لکھاریوں کی کاوشیں زیادہ تر ردی کی ٹوکری میں جاتی تھیں۔
    اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا اور پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہوگئ اور لکھنے کی اجارہ داری صرف پرانے اور معروف مصنفین تک محدود ہوکر رہ گئ اور مزید ان کو اپنی تجزیہ کاری کے لئے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم اور ٹاک شوز کی سہولت میسر آگئ اور یوں نئے لکھاریوں نے لکھنے اور کوشش کرنے کو ایک لمبے عرصہ تک خیرآباد کہ دیا۔
    پھر پاکستان میں ڈیجیٹل سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کر دیا اور صارفین کو اپنے نظریات کے پرچار کے لئے فیس بک ٹویٹر اور بلاگر پیج میسر آگئے اور یوں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ بڑے اور معروف مصنفین کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئ۔ نئے لکھاریوں نے دھڑا دھڑ لکھنا شروع کیا یوٹیوب چینلز معرض وجود میں آگئے اور تحریریں صفحہ قرطاس کی محتاجی سے آزاد ہوگئیں ۔ لکھنے کے شوقین حضرات نے انفرادی طور پر اپنی اپنی بلاگ ویب سائٹس بنالیں اور کچھ نے ویب ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور مضامین لکھنے شروع کردئیے ۔
    ویب ٹی وی چینلز کی صف میں باغی ٹی وی کا خوشگوار اضافہ ہوا اور باغی ٹی وی کی مقبولیت اور مستند مواد کو دیکھتے ہوئے سماجی روابط کے پلیٹ فارم ٹویٹر نے باغی ٹی وی کے آفیشل اکاونٹ کی تصدیق کردی اور ساتھ سوشل میڈیا کے مقبول ترین اور کئ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ٹیمز کے ساتھ کام کرنے والےباغی ٹی وی کے ایڈیٹر طہ منیب کا اکاؤنٹ ٹویٹر سے اس وقت ویریفائی ہوگیا جب پاکستان میں صرف چند سو افراد کے اکاونٹس ٹویٹر سے ویریفائیڈ تھے طہ منیب نے ویریفیکیشن کے اگلے ہی روز اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس اور چینلز کے ذریعے دیگر ٹویٹر صارفین کی رہنمائی کی کہ کس طرح آپ اپنا ٹویٹر اکاونٹ ویریفائی کرواسکتے ہیں اور ساتھ ہی نئے لکھاریوں کو باغی ٹی وی پر بلا کسی سفارش اور روک ٹوک کے اپنے مضامین اور کالمز لکھنے کی سہولت فراہم کردی جس کے بعد دیکھا دیکھی نئے لکھاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا صرف تین چار مضامین لکھنے والوں کی باغی ٹی وی پروفائل بن گئیں اور کئ لوگوں کے ٹویٹر اکاونٹس ویریفائی بھی ہوگئے۔ طہ منیب کا یہ رویہ قابل تحسین ہے بصورت دیگر ویریفائیڈ ٹویٹر اکاونٹ کے حاملین اپنے آپ کو سلیبریٹی سمجھنے لگتے ہیں اور چھوٹے اکاونٹس والے صارفین کے سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔
    اب آپ کے پاس باغی ٹی وی کا پلیٹ فارم دستیاب آپ لکھیئے آپ کے پاس معاشرے میں بےشمار موضوعات ہیں کسی ایک کا انتخاب کریں اور لکھ ڈالیں ۔شوبز تعلیم سماجی ٹیکنالوجی سیاست ادب حکومتی پالیسیوں اصلاحات شہری مسائل لاقانونیت اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور طب سمیت اپنی دلچسپی کے موضوع لکھیں اور باغی ٹی وی کو ارسال کر دیں۔
    میں باغی ٹی وی مینجمینٹ
    طہ منیب ممتاز اعوان اور ادارتی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری تحریروں کی اشاعت کے لئے اپنے پلیٹ فارم مہیا کیا اور مجھ سمیت سینکڑوں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی۔
    @Educarepak

  • قید مسلسل  تحریر: سید مصدق شاہ

    قید مسلسل تحریر: سید مصدق شاہ

    وہ پورا دن گھر میں بند رہتی کوئی محلے والے بھولے بھٹکے میلاد قرآن خوانی کی دعوت دینے آ جاتی تو آجاتی
    زیادہ تر تو اس سے خائف نہیں رہتیں
    بڑے نخرے ہیں نہ ملنا نہ جلنا
    دیوار سے دیوار ملی ہے
    مگر مجال ہے جو کبھی آس پڑوس میں چکر لگا لیں۔
    نہ کبھی کسی دعوت میں گئی نہ جنازے میں ۔
    ایسا بھی بھلا کیا ہے
    عورت ہے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرتی اور وہ جو سب کی نظر میں بری تھی کسی سے کیا کہتی
    اسے تو اس کے سگے بہن بھائی خائف رہتے باقی رشتہ داروں کا کیا کہنا
    تم تو عید میں بھی نہیں اتی اب میں نہیں آؤں گی دو سال پہلے بہن عید پر ملنے آئیں تو کہتے ہوئے گئی تھی دو سال سے وہ بہن سے ملیں بھی نہ تھی
    باجی ملنے نا او فون پر ہی بات کر لیا کرو چھوٹا بھائی سال بھر پہلے شدید بیماری سے صحتیاب ہو کر آیا تھا تو شکوہ کر گیا تھا پھر وہ بھی نہ آیا وہ کسی کو کیا بتاتی وہ کیسے ان سب سے ملنے کو تڑپتی ہے بھائی کی بیماری پر اس کا بس نہ چلتا تھا کہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے بہن بھانجے بھانجی بھتیجے بھتیجی سب سے ملنے کو ترستی مگر وہ تو ایک قید مسلسل میں مبتلا تھی۔
    اس کو یاد تھا کہ اس کی شادی کیلئے بیوہ ماں نے کتنے مشکلیں اٹھائی تھی کہیں بات ہی نہ بن پاتی تھی
    عمر تھی کہ نکلتے ہی جارہی تھی اور رشتہ ہو ہی نہیں پاتا باپ سر پر نہ تھا۔ چھوٹا بھائی اور ماں روز و شب اس کے لیے پریشان رہتے۔ بہن الگ ہر جگہ رشتہ تلاش کرتی پھرتی
    کمی کوئی نہ تھی بس کسی کو عمر پر اعتراض ہوتا تو کسی کو رنگ پر ہوتا تھا آخر کار اس نے امید توڑ دی ماں کے پیچھے لگ کر چھوٹے بھائی کی شادی کرادی گئی یہ کیوں میری وجہ سے جوگ کاٹے
    میرے نصیب میں ہوئی تو ہو ہی جائے گی ماں نے نمناک آنکھوں سے حامی بھرلی بیٹے کئی دنوں سے بدلہ راویہ ماں کو ہولا رہا تھا جیسے امبر نے زبان دے دی تھی بھابی آئیں تو مانو گھر میں بہار آگئی
    کچھ عرصہ بعد ہی امبر کے لیے ایک رشتہ آگیا لڑکا کویت میں 13 سال گزار کر آیا تھا یہاں آکر کاروبار کرنے لگا تھا آگے پیچھے کوئی تھا نہیں
    بس عمر چالیس سے قریب تھی کوئی
    ماں کو اعتراض ہوا مگر پھر ہاں کردی بہو آگئی تھی اس کا کھوٹا کمزور ہوچکا تھا جیسے تیسے امبر کی شادی ہوگی شادی کے دو ماہ بعد ماں ہی دنیا سے رخصت ہو گئی جیسے بس بیٹی کی شادی کا ہی انتظار تھا
    اطہر اور امبر کے مزاج میں آسمان زمین کا فرق تھا شادی کے اگلے دن ہی امبر کو اطہر کے تنگ نظر ہونے کا پتہ چل گیا تھا مگر وہ ماں سے چھپا گئی وہ پہلے ہی اس کی وجہ سے اکتیس سال اذیت میں مبتلا رہی تھی
    بس پھر امبر اطہر کی لگائی گئی پابندیوں میں جینا سیکھ ہی گئی
    اسے اپنے گھر جانے کی اجازت نہ تھی ماں کی زندگی میں بھی اطہر کی مرضی ہوتی تو لے جاتا ورنہ وہ تڑپتی رہ جاتی اور اب تو اطہر کے نزدیک اس کا میکہ ختم ہو چکا تھا امبر کے بہن بھائی سے اطہر کو چیڑ تھی اسے وہ بہت تیز لگتے تھے بہکانے والے،
    محلے میں جانے کی امبر کو اجازت نہ تھی اطہر کو عورتوں کا مفل میں جانا آوارگی لگتا تھا اطہر گروسری وہ خود لاتا عید کے کپڑے تک خود ہی لا دیتا امبر سارا دن گھر میں قید رہتیں دروازوں کھڑکیوں پر اطہر نے بڑے بڑے پردے ڈال رکھے تھے کہ بے پردگی نہ ہو چھت پر اسے جانے کی اجازت نہ تھی کبھی باہر گول گپے والا آتا تو وہ تڑپ جاتی ہیں
    شادی سے پہلے وہ ان چیزوں کے شوقین تھے اطہر نے شادی کی رات ہی اسے موبائل کے نقصانات پر درس دیتے ہوئے اس سے عہد لیا تھا کہ وہ اس خرافات سے دور رہے گی اماں سے رابطہ وہ اطہر کے فون سے کر سکتی ہے مجبوری اتنی کے وہ یہ سب کسی سے شیئر بھی نہ کرسکتی بہن بھائی سالوں میں آجاتے تو اطہر ان کے ساتھ ہی چپکارہتا اب تو وہ بھی نہ اتے۔ بس زندگی گزر رہی تھی ایک قید تھی جو ختم نہ ہوتی تھی کوئی روزن نہ تھا نہ ہی کوئی کھڑکی کے ہوا آئے یا روشنی
    اطہر روز بن ٹھن کر کام پر جاتا اسے تو لپ سٹک لگانے پر لتاڑ دیتا کہ کون انے والا ہے آج۔
    وہ پھر دنوں میک آپ کے پاس نہ جاتی کیا شاری قائم رکھنے کے لئے یہ قید ضروری تھی؟
    اگر ہاں تو وہ قید کاٹ رہی تھی اور نہ جانے کتنی ہی لڑکیاں یہ قید کاٹ رہی ہیں۔ کچھ کم کچھ زیادہ۔ ان کے رشتہ دار ناراض ہیں کہ وہ ان سے ملتی نہیں ہیں باتیں نہیں کرتیں مگر قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
    لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد گھر آنگن عورت کے دم سے ہی چلتا ہے کچھ معاف کر دو، کچھ نظر انداز کر دوں، مگر گھر ٹوٹنے نا دو۔
    مگر بعض اوقات کچھ عورت ساری زندگی ایک ایسی ہی قید مسلسل کو کاٹنے میں لگا دیتی ہے جن سے زندگی بہت کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔
    سارے رشتے چھوٹ جاتے ہیں اور بس عمر ختم ہو جاتی ہیں
    Tweeter ID Handel @SyedmusaddiqSy4

  • نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ


    قارئین محترم پاکستان 60 فی صد نوجوانوں پہ مشتمل ایسا ملک ہے جس کی بیشتر افرادی قوت بے کار ہے.
    وجوہات مختلف بیان کی جاتی ہیں مگر آج جن نکات پہ قلم آزمائی کروں گی ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے.
    اگر ہم نوجوان نسل کو تین درجوں میں تقسیم کر لیں تو ہمارا مضمون عام فہم ہو جائے گا.
    پہلا درجہ 9 سے 14 سال، دوسرا 15 سے 20 سال اور تیسرا 21 سے 30 سال تک کے افراد پہ مشتمل ہے.
    بات کرتے ہیں اول الذکر نو خیز جوانوں کی جو بچپن کی دہلیز چھوڑ کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں.ان نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد چونکہ سکولوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے انکی ترجیحات رحجانات اور دلچسپیاں اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں.
    اس دور کے یہ نوجوان انٹرنیٹ کی دنیا میں اسقدر مگن ہیں کہ ان کو اپنے معاشرتی اور سماجی فرائض کی ہوش نہیں.یہ وقت کردار سازی اور تعلیمی اور معاشی مستقبل طے کرنے کا بہترین وقت مانا جاتا ہے جب سمت کا تعین کر کے تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے حصول میں صرف کرنا ہوتی ہیں.
    بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں اور نصابی کتب کے رٹے اور گریڈز کے حصول تک مقید کر دیتے ہیں.
    مثال لے لیجئے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے مگر شعبہ طب کے اندر موجود شعبہ جات سے آشنا نہیں کروایا جاتا.مختصراً گلہ کروں تو کیرئر کونسلنگ نہیں کی جاتی.
    اس نسل کو Swaggerبننے کی دھن ہے اور ایسے میں بے راہروی کی جانب جانا نہایت Charming اور Adventure سے بھرپور بن جاتا ہے .
    انگریزی الفاظ کے لیے معذرت مگر یہ الفاظ رائج ہیں کوئی متبادل لفظ حق ادا نہیں کر سکتا.
    اس نسل کو سب سے بڑی بیماری بی ایف اور جی ایف کی لگ جاتی ہے.جو انکی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر جاتی ہے.

    ثانئ الذکر کی بات کی جائے تو یہ نسل خاصی آذادی حاصل کر چکی ہے اس طبقے کا تعلق کالجوں سے ہے.کالجوں کا ماحول سازگار ہو تو ان کو اپنی ترجیحات اور آزادی کے بل پہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں.
    مہم جوئی کے نام پہ سگریٹ نوشی اور شیشے کے چھلے بنانا..
    جی ایف بی ایف کو اعلانیہ ساتھ گھومنا گھمانا شروع ہو جاتا ہے.
    کیونکہ والدین کی اکثریت گھروں سے ہی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے قائل ہیں تو انکو بھرپور مواقع کے ساتھ اپنا آپ اپنی ساکھ اپنی زندگی تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے.
    موٹر سائکل گاڑی موبائل فون اور نت نئے لباس جنس مخالف کو متاثر کرنے کے لیے حاصل کرنا انکی تمام تر کوششوں کا مرکز ہوتا ہے.
    ثالث الذکر طبقہ یو کہیے تو
    دہری ذہنی اذیت سے دوچار ملتا ہے .جو ماضی سے نالاں اور مستقبل کے لیے متفکر اور حال کے متعلق بلکل بے بس مایوس نظر آتا ہے.
    کیا کہیے کہ سب کچھ لٹا کے آئے ہیں کچھ بھی بچا نہیں کے مصداق ترجیحات کے انتخاب میں چُوک جاتے ہیں.
    دیھاڑی دار اور مزدور بن جانے والے پھر ڈال روٹی چلا لیتے ہیں
    جبکہ SWAG والے جوان اپنے سویگ کی توہین سمجھتے ہوئے نوکریوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں.
    اپنے جوانوں کو افرادی قوت کے طور پہ استعمال کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو منصوبے ہیں نہ فکر.
    ان کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد سیانپ آ جاتی ہے کہ اس وقت اس کی بجائے یہ کیا ہوتا تو یہ نہ ہوا ہوتا…
    مگر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیں گے؟
    کب تک دبئی ترکی اور یورپ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے رہیں گے؟
    ہم خود کب ان کے لیے ترجیحات طے کرنا شروع کریں گے.
    ان سوالوں کے ساتھ آپکی آراء کی منتظر

    ‎@hsbuddy18

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔  تحریر: محمد جاوید حقانی

    اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔ تحریر: محمد جاوید حقانی

    تاریخ انسانیت ہزاروں واقعات سے لبریز ہے
    حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ کی ذات اقدس تک بہت سارے انبیاء کرام علیہ السلام کے واقعات الہامی کتابوں میں موجود ہیں۔
    ہر نبی و رسول نے اسلام کی تبلیغ کی
    روئے زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے313 رسول معبوث فرمائے
    ہر سول کو الگ شریعت دے کے زمین میں بھیجا
    کئی انبیاء کے ادوار کا تذکرہ، انکی قوم کا حال، ماننے اور جھٹلانے والوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
    جن قوموں نے نبی و رسول کی تعلیمات کو تسلیم کیا وہ فائدے میں رہے ار جنہوں نے جھٹلایا ان پر سخت ترین عذاب نازل فرمائے گئے۔
    بالآخر حضور خاتم النبیینﷺ تشریف فرما ہوئے اور دین اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا
    مکہ کی سرزمین سے اس دین کی تبلیغ کا آغاز ہوا۔
    بظاہر ایک چھوٹی سے دکھنے والی جماعت نے مختصر وقت میں انتہائی درد ناک تکلیفیں برداشت کرنے بعد ریاست مدینہ کا قیام عمل میں لایا
    اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ریاست مدینہ کا باب اتنا وسیع ہوا کہ مجاھدین اسلام نے یورپ تک دستک دے دی
    یہاں تک پہنچنے کیلئے ہزاروں مجاھدین اسلام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
    ان عظیم شخصیات کی قربانیاں صرف ایک نظام کو پوری دنیاء میں پھیلانے اور اس نظام کی حفاظت کیلئے تھیں۔
    ایسا نظام کہ جس نظام کے تحت صرف ایک چٹھی کی اہمیت اس قدر ہو کہ وہ چٹھی بھی حاکم کو معزول کردے۔
    آج سے چودہ سو سال پہلے اور پھر اس کے بعد میں پیش آنے والے واقعات نے بھی یہ ثابت کیا کہ "اسلامی نظام” ہر شخص کے جان و مال عزت و آبرو کا محافظ نظام ہے۔
    جب یہ نظام پوری دنیاء پہ رائنج تھا تو ہر چھوٹا بڑا اس نظام کے ماتحت تھا۔
    اس نظام کے نفاظ یعنی دور خلافت کے سینکڑوں واقعات ہیں لیکن میں یہاں صرف ایک واقع پیش کروں گا۔
    ثمر قند اور بخارا ایک دور کے اندر دو بہت اہم شہر رہے ہیں
    قرآن مجید کے بعد احادیث کی سب سے معتبر کتاب "بخاری شریف” کے مصنف امام اسماعیل بخاری اسی "بخارا” شہر کے تھے۔
    اس بخارا شہر سے ایک مجوسی مسلمانوں کے خلیفہ کے پاس شکایت کرنے کیلئے چلتا ہے
    اس وقت مسلمانوں کا دار الحکومت شام کا شہر "دمشق” تھا
    جب یہ قاصد دمشق کی گلیوں میں پہنچا تو خلیفہ کا پتہ پوچھا
    لوگوں نے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے مسلمانوں کے خلیفہ کا گھر ہے
    وہ شخص اس گھر کے پاس جاکے دیکھتا ہے تو اسے ایک شخص دیوار کو مٹی کے ساتھ لپائی (پلستر) کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایک عورت ہے جو اس شخص کی مدد کر رہی ہے پیوند لگے کپڑے اس شخص نے زیب تن کئے ہوئے ہیں۔
    قاصد واپس پلٹا اور لوگوں سے کہا کہ میں نےآپ سے خلیفۃ المسلمین کا پتہ پوچھا ہے
    وہ تو کسی غریب شخص کا گھر ہے
    لوگوں نے کہا کہ وہی غریب شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے
    قاصد دوبارہ پہنچا اور دروازے پہ دستک دی
    اندر سے پیوند لگے کپڑوں والے خلیفہ عمر ثانی حضرت عمر بن عبد عزیز رحمۃ اللہ علیہ باہر تشریف لائے۔
    قاصد نے شکایت پیش کی جو اس نے ایک کاغذ کی چٹھی پہ لکھی ہوئی تھی کہ
    مسلمانوں نے بغیر اطلاع دئے ہمارے شہر پر حملہ کرکے شہر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
    امیر الموئمنین نے اسی چٹھی کی دوسری طرف لکھ دیا کہ۔
    حاکم بخارہ ایک قاضی مقرر کرے اور اس شخص کی شکایت کو قاضی کے سامنے پیش کرے۔
    قاصد مایوس ہوا کہ اس بات پر کون عمل کرے گا
    لیکن اس نے بات تعمیل کی اور حاکم بخارا کو وہ چٹھی دکھائی کہ آپ کے خلیفہ نے یہ لکھا ہے۔
    حاکم نے قاضی منتخب کیا اور اس مجوسی کا مقدمہ اس کی عدالت میں رکھا
    قاضی نے سوال پوچھا
    کیا آپ نے یہ شہر فتح کرنے سے پہلے شہر والوں کو دین کی تبلیغ کی تھی؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو شہر والے ہمارے مخالف ہوجاتے اور وہ ہارے خلاف جنگ کی تیاریاں کرتے
    قاضی نے دوبارہ سوال دوہرایا
    جواب آئیں بائی شائیں ملا
    قاضی نے دوسرا سوال کیا
    کیا آپ نے شہر والوں کو جزیہ دینے کا کہا تھا؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو جنگ کے خطرات بڑھ جاتے اور آئیں بائیں شائیں۔۔۔
    قاضی نے سوال دوہرایا
    پھر وہی جواب
    قاضی نے تیسرا سوال کیا۔
    کیا آپ نے حملہ کرنے سے پہلے اطلاع دی تھی؟
    جواب ملا کہ جناب قاضی صاحب یہ جنگی چالیں ہوتی ہیں اگر ہم حملے کی اطلاع دیتے تو شائد یہ شہر فتح نہ کر پاتے
    قاضی صاحب نے فیصلہ سنایا ۔
    اسلامی قوانین کے لہاظ سے مسلمانوں نے شریعت کی مقرر کردہ حد سے تجاوز کیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے
    لہذا یہ شہر غیر مسلموں کے حوالے کیا جائے
    اور تین دن کے اندر اندر تمام مسلمان اس شہر کو خالی کردیں۔۔۔
    اسی دن مغرب سے پہلے پہلے پورا شہر خالی تھا اور لوگ قافلہ در قافلہ واپس جارہے تھے۔
    مجوسیوں نے یہ منظر دیکھا تو انگلیاں دانتوں میں دبائے ہکے بکے رہ گئے کہ آخر یہ لوگ کس مذہب کے ماننے والے ہیں کہ اپنے خلیفہ کی ایک چٹھی پر اتنا اہم شہر چھوڑ کے واپس جارہے ہیں۔۔۔
    مجوسیوں نے تمام مسلمانوں کو واپس بلایا اور شہر ان کے حوالے کرتے ہوئے خود بھی مسلمان ہوگئے۔
    اللہ اکبر
    ‎@JavaidHaqqani

  • ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔

    أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔

    پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔

    ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

    پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔

    پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔

    پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔

    لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔

    لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟

    تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟

    أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: ‎@SadiqSaeed_

  • افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ھے اور اب تک کی صورتحال کے مطابق زیادہ تر لوگ امریکہ سے آزادی حاصل کرکے خاصا سکون محسوس کررہے ہیں، باقی دنیا کی طرح چند مسلم ممالک کی نظریں بھی ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

    ایران
    ایران، افغانستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے کافی تشویش میں مبتلا ہے بہت سے افغان فوجیوں نے جان بچا کر ایران میں پناہ لے رکھی ھے اگر ہم ماضی کی بات کریں تو 1998 میں طالبان نے ایک ایرانی صحافی کو قتل کردیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ایران افغان طالبان پر حملہ کرنے والا تھا لیکن اگر ابھی کی بات کی جائے تو کچھ عرصے کے سے ایران کے طالبان سے تعلقات خاصے بہتر ہوئے ہیں اور طالبان کے افغانستان پر مکمل کنٹرول سے پہلے ایرانی نمائندوں کی طالبان نمائندوں سے تہران میں ملاقات ہوچکی تھی تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ھے کہ ایران طالبان کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا۔

    ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان

    وسطی ایشیا کے ان تینوں ممالک پر افغانستان کی بدلتی صورتحال کا گہرا اثر پڑتا ھے
    کیونکہ اکثر افغان مہاجرین ان ممالک رخ بھی کرتے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ازبکستان اور تاجکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کے لئے سخت قوانین بھی مرتب کئے گئے تھے جس کی وجہ سے جب جولائی کے مہینے میں کچھ افغان فوجی جان بچانے کی غرض سے بھاگ کر ازبکستان پہنچے تھے تو ازبک حکومت نے ان فوجیوں کو واپس کو واپس لوٹاتے ہوئے سرحد پر سختی کردی تھی یہی اقدامات تاجک حکومت نے بھی سرحد پر سختی برتتے ہوئے تقریباً بیس ہزار مزید فوجی تعینات کردئے تھے۔ازبکستان اور تاجکستان نے افغانستان کی صورتحال دیکھتے ہوئے بچ باہمی اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جنگی مشقوں کا بھی انعقاد کیا تھا۔وہیں ترکمانستان نے طالبان سے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ھے، سرحد پر طالبان کا کنٹرول مضبوط ہوتے ہیں ترکمانستان نے طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے بلایا تھا حالانکہ طالبان نے واضح اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے لئے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی افغان سرزمین کسی ہمسائے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گےباوجود اس کے ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں افغانستان کی صورتحال کے باعث فکرمندی کا ماحول بنا ہوا ھے۔
    وسطی ایشیا کے ان ممالک نے ابھی تک طالبان حکومت سے متعلق کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ھے۔

    ترکی

    طالبان کو افغانستان میں اپنے مقاصد میں مل رہی کامیابی کے باوجود ترکی ابھی بھی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ترکی نے دو روز قبل جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کا استعمال میں رہنا فائدہ مند ہو گا۔ ترکی نے امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد کابل ایئر پورٹ کے کنٹرول کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

    ترکی نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لے گا۔

    حالانکہ طالبان ترکی کے ان ارادوں سے خوش نہیں ہیں۔ طالبان نے ترکی کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر اپنی فوج نہ بھیجے۔ترکی کے صدر رجپ طیب اردغان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا ’ہماری نظر میں طالبان کا رویہ ویسا نہیں ہے جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ دنیا کو جلد از جلد دکھائیں کہ افغانستان میں امن بحال ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا ’طالبان کو اپنے ہی بھائیوں کی زمین سے قبضہ چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو کنٹرول کرنے کی ترکی کی پیشکش کو ’نفرت آمیز‘ قرار دیا ہے۔ طالبان نے کہا تھا ’ہم اپنے ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی کسی بھی صورت میں موجودگی کو قبضے کی طرح دیکھتے ہیں۔‘

    وہیں ترکی کے صدر نے اس موضوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا رویہ صحیح نہیں ہے۔

    ترکی نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔ حالانکہ ترکی کے فوجی افغانستان میں موجود نہیں رہے ہیں۔ لیکن ترکی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی کارکردگی کی حمایت کی ہے۔
    ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان طالبان اور ترکی کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پاکستان
    دعووں کے مطابق پاکستان کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ بات چیت میں پاکستان ان تعلقات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ حالانکہ طالبان اپنے اوپر پاکستان کے اثر و رسوخ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کو محض اپنا ایک اچھا ہمسایہ قرار دیتے ہیں۔افغان حکومت پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور افغانستان میں دخل دینے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں صدر اشرف غنی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تاشقند میں کھلی بحث ہو گئی تھی۔طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے کے بعد تازہ صورت حال پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ‘پاکستان افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔’ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام افغان فریق اس اندرونی سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانیوں، افغان شہریوں اور سفارتی اور بین الاقوامی برادری کو قونصلر کے امور اور پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے تعاون اور ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عملے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، میڈیا اور دیگر کے لیے ویزا/آمد کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی بین وزارتی سیل قائم کیا گیا ہےپاکستان میں تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین بھی رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ ایسے میں پاکستان کو طالبان کے لیے سب سے اہم ہمسایہ ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات
    اسلامی دنیا کے سب سے اہم سنی ملک سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ہی تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ سعودی عرب نے طالبان سے بھی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ حالانکہ 2018 میں قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہی سعودی عرب نے مذاکرات سے خود کو دور رکھا ہے۔

    سعودی عرب پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تو چاہتا ہے، لیکن افغان تنازعے پر کھل کر کچھ نہیں بول رہا۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1980-90 کی دہائیوں میں روس کے خلاف سعودی عرب نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ لیکن موجودہ تنازعے سے سعودی عرب نے فاصلہ قائم کیا ہوا ہے۔

    ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی موجودہ افغان تنازعے سے دوری برقرار رکھی ہے۔

    قطر
    قطر مسلم دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن افغان تنازعے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہی ہے۔ امریکہ کے حامی ملک قطر نے اپنی زمین پر طالبان کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے ٹھکانہ فراہم کیا اور تمام سہولیات دیں۔

    2020 میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہی امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے۔

    اس سارے تجزیئے کے بعد یہ واضح کردوں کہ افغانستان کی ہر لمحہ بدلتی صورتحال میں آگے کیا ہونے جارہا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال ایشیا چین بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ھے اور دیگر ممالک بھی اب عالمی برادری کیا فیصلہ کرتی ھے اور اس میں پاکستان کیا کردار ادا کرے گا آنے والے دنوں میں صورتحال کے واضح ہوجائے گی۔
    KhalidImranK