Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون

    سری نگر: بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون-

    باغی ٹی وی : حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 92 سالہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا انتقال سری نگر میں ہوا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کی رحلت کی تصدیق خاندان کے ایک فرد نے کی ہے۔

    سید علی شاہ گیلانی ،مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما ، کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے ہے 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے جبکہ انہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک الگ جماعت "تحریک حریت” بھی بنارکھی ہے جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم "رابطہ عالم اسلامی” کے رکن ہیں۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما تھے ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔

    مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کی جس کا نام "روداد قفس” ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔

    پاکستان کے 73یوم آزادی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماؤں نے وصول کیا۔

  • اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر ادا کریں تحریر: خالد عمران خان

    عام زندگی میں جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے یہ کوئی شخص ہم کچھ دیتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ، اور ان چیزوں کو ہم چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم جس مالک نے ہمیں اتنے نعمتیں عطا کی اس کا شکر ادا نہں کرتے جب کے یہ سب سے اہم ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی روزانہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے شکر گزار رہیں۔ ہزاروں نعمتوں میں سے سات یہ ہیں کہ ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

    1. ہر چیز کا خالق۔

    ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں بطور انسان اور اس وسیع کائنات کی دیگر تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ، کیونکہ اللہ پاک نے جو کچھ بنایا ہے وہ اچھا اور منصفانہ ہے اور کسی بھی چیز کو رد نہیں کیا جا سکتا.اور اس کی دی گئی ہر نعمت کو ہمیں شکریہ کے ساتھ وصول کرنا چاہیے۔

    2. ہمیں معاف کرنا۔

    زندگی میں ہم سے اتنے گناہ ہوتے ہیں اگر اللہ پاک نے ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا تو وہ ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کریں گے اور ہماری خوشیاں چھین لیں گے۔ ہمیں معافی کے تحفے کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں عطا کرتا ہے جب ہم جرم محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔

    3. ہمیں آفت سے نجات دلانا۔

    مایوسی ہر کسی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ پاک ہے جو ہمیں آفات ، آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ پاک کے لیے کوئی بڑی آفت ایسی نہیں جو اسے حل نہ کر سکے۔ کوئی پہاڑ بہت اونچا نہیں ہے وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا۔ کوئی طوفان بہت طاقتور نہیں ہے اللہ پاک اسے پرسکون نہ کر سکے.

    4. وفادار ، یہاں تک کہ جب ہم منہ پھیر لیں۔

    وفاداری اللہ پاک کی ذات ہے۔ کوئی دن ، منٹ یا سیکنڈ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ پاک وفادار نہ ہو۔ وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم بے وفا ہیں وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

    5. وعدے نہیں توڑتا۔

    اللہ پاک اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑے گا۔ انسان اپنے ذہن بدلتے ہیں ، اور اپنے الفاظ کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کبھی اپنا ارادہ نہیں بدلتا ، اور اسی لیے وہ اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑتا۔

    6. نافرمان کے ساتھ صبر کرنا۔

    اللہ پاک کسی نافرمان انسان کو غلطی کرتے ہی سزا نہیں دیتا۔ وہ وقت دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ اگر اللہ پاک ہر کسی کو اس کی نافرمانی کی سزا دیتا ہے تو اس زمین پر ایک بھی جان باقی نہیں رہے پائی گی تو ہمیں اس مالک کا شکر گزار ہونا چائیے۔

    7. محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے بھیجا۔

    اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج کر ہم پر رحم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ یہ ایک بہترین چیز ہے جس کے لیے ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
    شکر ادا کریں اللہ پاک کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتوں کا.

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کو غیر ملکی دورے کی اجازت دیدی، ٹیم کس ملک کے دورے پر جائے گی؟

    طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کو غیر ملکی دورے کی اجازت دیدی، ٹیم کس ملک کے دورے پر جائے گی؟

    کابل: طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حامد شنواری نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی ٹیم کو آسٹریلیا بھیجنے کی منظوری مل گئی ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ آسڑیلوی شہری ہوبارٹ میں ٹی 20 کرکٹ ورلڈکپ کے بعد شیڈول ہے۔

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    انہوں نے بتایا کہ افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ گذشتہ برس 27 نومبر سے یکم دسمبر تک کھیلا جانا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔

    حامد شنواری کے مطابق آسٹریلیا کے دورے سے قبل افغان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی شرکت کرے گی جو متحدہ عرب امارات میں 17 اکتوبر سے 15 نومبر 2021 تک شیڈول ہے۔

    امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف

    واضح رہے کہ کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں عالمی دنیا اور افغان قوم کو اہم پیغام دیے، کابل میں حالات زندگی معمول پر ہیں، تعلیمی ادارے، بازار کھلے ہیں، خواتین بھی دفاتر میں کام کر رہی ہیں، طالبان میں اس بار بدلاؤ آیا ہے اور خواتین کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، طالبان کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی،کابل سے نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے شہریوں سے  اسلحہ جمع کیا اور کہا کہ اب حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، طالبان نے ریڈیو ،ٹی وی کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کا بھی دورہ کیا اور ملازمین سے بات چیت کی،

    افغان طالبان کی جانب سے شہریوں کو مسلسل پیغامات دیئے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے کام معمول کے مطابق جاری رکھیں، دوسری جانب افغان شہریوں کی جانب سے بھی طالبان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، افغان شہری طالبان کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ امریکی فوج نے31 اگست کی رات افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کر لیا تھا۔ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریبا ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے

    طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا امریکی فوج کے انخلا کے بعد کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، غیرملکیوں کو نکالنے کیلئے ہم نے جہاد اورسیاسی راستہ بھی اختیار کیا، دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج نے نکلنے کا فیصلہ کیا،حکومت کے قیام کے بعد قومی فوج کی تیاری پر بھرپور توجہ دینگے، دوحہ معاہدہ اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، اب کوئی جواز نہیں کہ کوئی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ ہ اگر ہم سپر پاورز کو ہرا سکتے ہیں تو کوئی گروپ بھی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، کابل سے جوحکم جاری ہوگا وہ پورے افغانستان پرلاگو ہوگا، پہلے ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم میں ملٹری صلاحیت ہے، حقانی صاحب امارت اسلامی کے ڈپٹی امیر ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا، افغانستان پر بری نظر رکھنے والے امریکی انجام کو دیکھیں۔

    طالبان کا وادی پنجشیر کے باشندوں کے لئے براہ راست پیغام، احمد مسعود پریشان

  • بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    سفید پوش لوگوں کے لئے بیروزگاری موت سے بھی بدترین ہوتی ہے حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ انتہائی اذیت سے دوچار ہے فلاحی تنظیمیں لوگوں کے لئے بہت سے اقدامات کررہی ہیں مگر مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی نا ہونے اور مزید اضافےکے سبب وہ بھی ان لوگوں کی معاونت فراہم کرنے سے قاصر ہیں

    کورونا کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے لوگ فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کراچی کا ایکوکیٹڈ نوجوان فوڈ پانڈا اور بائیکیا پر ڈیلیوری کرکے اپنا گزر بسر کررہا ہے کاروبار ختم ہورہےہیں فیکٹریاں بند ہورہی ہے لوگ بیروزگاری کے دلدل میں پھنسے جارہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں 

    بیروزگاری کی وجہ سے کئی لوگ خود کشیاں کر چکے باپ اپنے بچوں کو زہر دے کر خود زہر پی رہا ہے بچوں کو بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھتی مائیں نہروں میں بچوں کے ساتھ چھلانگ لگا رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں سے جینے کی امید چھین رہی ہے کاروبار کرنے والے نوکری پر اور نوکریوں پر جانے والے لوگ گھروں تک پہنچ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز و شب بڑھتا چلا جارہا ہے 

    ہر محلے میں کارخانوں کی جگہ دستر خوان کھل رہے ہیں لوگ چندہ جمع کرکے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر دستر خوان اور پناہ گاہ اس کا حل نہیں ہیں جب تک حکومت لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرے گی یہ لنگر خانے بڑھتے جائیں گے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جاتے جائیں گے ملک میں فوری طور پر معاشی پالیسیوں کے بنائے جانے اور ان پر جنگی بنیادوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے 

      

    بیروزگاری کی وجہ سے بچوں کی تعلیم چھوٹ رہی ہیں معاشرے میں جاہلیت پروان چڑھنے کا اندیشہ ہے لوگ بیروزگاری کی وجہ سے ایک وقت کی روٹی نہیں کھا پارہے تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دلوا سکتے ہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام نا ہونے کے برابر ہے ایک غریب آدمی اگر اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا بھی دے تو بھی اس کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہونا ہے

    حکمرانوں ملک میں ہنر مند افراد پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے  پوری دنیا اپنی قوم کے ہنر سے فائدے حاصل کرکے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں مگر ہمارے انجینئر ڈاکٹر بیروزگاری کی حالت میں جوکر بن کر روڈوں پر بھیک مانگنے کے بعد ہی اگر نوکریوں پر جائیں گے تو یہ حکمرانوں کے ظلم کی اعلیٰ مثال ہے   تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیکر برگر چپس اور چائے کا اسٹال لگا رہا ہے مایوسی میں گھرا انجینئر اپنی ڈگریاں فروخت کر رہا ہے ملک کا مستقبل بیروزگاری کی وجہ سے ایک نوکری کے لئے ہزاروں درخواست کے نیچے دبتا چلا جارہا ہے میرے ملک کا نام روشن کرنے والا پڑھا لکھا طالب علم اپنی ڈگری کو آگ لگا کر اپنا مستقبل تاریک کررہا ہے اور ہم سب اچھا ہے کا گیت گا رہے ہیں 

    میں ملک کی عدلیہ افواج پاکستان کے کمانڈر سول سوسائٹی اور سیاست دانوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی بنیادوں پر لگی اس بیروزگاری کی دیمک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ خدا نا خواستہ یہ دیمک ملک کے مستقبل کو کھا نا جائے اور میرا پیارا پاکستان ترقی کی راہ سے ہٹ کر آپ لوگوں کی بے حسی کو کبھی بھول نا پائے اور تاریخ میں یہ بات نا کہی جائے کے ہر شعبے میں ہنر مندی رکھنے والی قوم کو اس کے فیصلہ ساز ایسے ملے کے وہ ملک کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف لے چلے 

  • پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

    بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

    اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

    (1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

    (2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

    (3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

    (4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

    اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

    @RanaFurqan313

  • ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟  (از قلم محمد وقاص شریف

    ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟ (از قلم محمد وقاص شریف

    ایک حاجی صاحب بہت ہی دیندار، نماز کے پابند، ہر وقت ذکر کرنے والے تھے,اور ہر ایک سے محبت سے پیش آتے، یہاں تک کہ سب ان سے محبت کرتے اور انکی باتیں توجہ، دھیان سے سنتے اور انکی ہر بات مانتے تھے۔

    حاجی صاحب نے لوگوں سے کہا: کہ ہم سب مسلمان ہیں، اس علاقے میں اکثر ہندو ہیں اور ہمارے علاقے میں قریب کوئی مسجد نہیں، ہمیں اپنے علاقے میں ایک مسجد کی ضرورت ہے تاکہ اپنے علاقے میں ہی ہم پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھ سکیں،اور ہمارے بچے بھی دینی تعلیم حاصل کریں،جس کے لیے آپ سب کو اس کام میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا،کیونکہ یہ ایک بندے کا کام نہیں۔

    تمام لوگوں نے حاجی صاحب کا ساتھ دیا، اور حاجی صاحب کے پاس اتنی طاقت آگئی کہ وہ مسجد بناسکیں،لیکن انہی دنوں حاجی صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی، اور حاجی صاحب نے اس کام 

    میں اپنے ساتھ ایک کمیٹی بنالی۔

    حاجی صاحب نے کئی دفعہ اپنی کمیٹی کو صاف الفاظ میں کہا : کہ لوگوں کے پیسے ہمارے پاس امانت ہیں،لوگ چاہے ہم سے مطالبہ نہ بھی کریں لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم نے جس مقصد کے لیے لوگوں سے مدد مانگی، اور لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہم وہ کام پوری ایمانداری سے سر انجام دیں۔

    حاجی صاحب کا کچھ ہی دنوں بعد انتقال ہوگیا اور پھر کمیٹی کا صدر ایک لالچی اور مفاد پرست شخص بن گیا،اور حاجی صاحب کے آخری رسومات میں بہت سا وقت گذر گیا۔

    کمیٹی کے کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ اب ہمیں کام شروع کرا دینا چاہیے، لیکن صدر ٹال مٹول کرتا رہا، اور اس طرح کے لوگوں کو کمیٹی سے نکال کر اپنے مطلب کے لوگوں کو کمیٹی میں رکھ لیا جو اس کی ہر بات میں ہاں ملاتے ہوں۔

    اب وہ مسجد کی جگہ بھی موجود ہے، کمیٹی بھی موجود ہے لیکن مسجد نہیں بن رہی، لوگوں نے جب اس معاملے کو اٹھایا تو صدر نے بڑے طریقے سے کاغذات اپنے نام کراکر انہیں ہی فساد کرنے والا ثابت کرکے ڈنڈے مرواے۔

    صدر نے کچھ پیسے کھلا کر وہ مسجد کا پلاٹ اپنے نام کرالیا، اور اس پر اپنی کوٹھی اور بنگلہ بنالیا۔

    لیکن عوام کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر ہی اندر کام خراب ہوچکا ہے عوام اس صدر کے خلاف کھڑی ہوگئی، صدر نے عوام کو تھانوں سے ڈرایا اور ان پر لاٹھی چارج بھی کروائی۔

    اب آپ مجھے بتائیں! 

    کہ مسجد کے پلاٹ پر صدر نے جو اپنا ذاتی بنگلہ بنالیا اور کاغذات وغیرہ سب اپنے نام کرالیے لیکن یہ دھوکے سے کیا، کیا یہ صحیح ہے اسے عوام تسلیم کرلے؟ 

    یا عوام جنہوں نے مسجد کے لیے چندہ دیا، جنہوں نے لوگوں کو اس کے لیے راغب کیا، وہ اب تک بھی موجود ہیں، وہ اپنے حق کے مطالبہ پر ہیں کہ پلاٹ مسجد کا ہے،اسے وقف کرنے والوں نے مسجد کے لیے وقف کیا، اور ہر ایک نے مسجد کے نام پر مسجد کے لیے جو ہوسکا دیا۔ 

    وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو تشدد کروانا ہے کروا لو، جو ظلم کرنا ہے کرلو، اور جو نام دینا ہے دیدو! لیکن ہم مسجد کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

    بظاہرا چاہے وہ صدر کمٹی طاقتور ہے لیکن وہ غلط ہے، اور 

    بظاہرا یہ عوام چاہے کمزور ہیں، اور کوئی بھی حق کے لیے انکا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں لیکن یہ حق پر ہیں! 

    اب آپ بتائیں! 

    آپ کس کا ساتھ دینگے!

    سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا!

    کیونکہ اگر صدر کمیٹی کاساتھ دو گے تو قیامت کے دن اسی ظالم کے ساتھ جاو گے۔

    اور اگر عوام کا ساتھ دو گے تو ہوسکتا ہے تمھیں بھی ظلم کا نشانہ بنایا جاے تم پر بھی تشدد کیا جاے؟؟؟

    جی اگر آپ نے فیصلہ کرلیا ہے تو اب پورے غور و توجہ سے سنیں۔

    مسلمانوں کو پاکستان کا مطلب کیا

    لاالہ الہ الا اللہ کے نام پر اپنے ساتھ کیا گیا۔

    اسی کے نام پر ان سے قربانیاں مانگیں گئیں۔

    اور اسی کے نام پر مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانیاں دیں۔مسلمانوں نوجوان بیٹیوں کی عزتیں اسی کلمہ کے لیے تار تار کی گئیں۔

    اسی کلمہ کے لیے شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے بچے قربان کیے۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے گھر بار،کاروبار،زمین، خاندان اور وطن تک قربان کیا گیا۔

    لیکن پھر ہوا کیا؟ 

    یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صرف قائد اعظم کا صرف سیاسی نعرہ تھا۔ لیکن قائد اعظم کی سچائی ایمانداری، ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس طرح کرسکتے ہیں۔ 

    بلکہ ان کے بعد والوں نے اس وطن کو جو کلمہ کے نام پر بنا۔

    جس کا مطلب ہی لا الہ الا اللہ تھا۔

    اس لاالہ کے دیس کو اس کے مقصد سے دور کردیا۔

    اس پاک سرزمین پر پلید انگریزوں کے قانون کو نافذ کیا اور جاری رکھا۔

    اس وقت سے اب تک علماء کرام بتاتے آرہے ہیں کہ یہ 

    اللہ سے عہد شکنی ہے۔

    اور تمام مسلمانوں سے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کے لیے لالہ کے نام پر قربانیاں دیں، ان سے وعدہ خلافی ہے۔

    شہیدوں کی روحوں سے بے وفائی ہے۔

    اور اسی وجہ سے اللہ ناراض ہے اور اسی وجہ سے ہم پر دنیاوی عذاب بھی آئے ہیں، اور جب تک ہم واپس اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتے ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

    لیکن ان انگریز کے کتے نہلانے والوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی۔

    افسوس اس بات کا نہیں کہ آج تک اس ملک میں اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں ہوا؟

    افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیاں بھلادیں۔

    ہم مسلمانوں نے صرف نوکری، مال و دولت کے لیے یہ یہ قربانیاں نہیں دی تھی، اس سے زیادہ مال و دولت تو مسلمان وہاں چھوڑ کر کلمہ کے نام پر آگئے تھے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

     اسلامی نظام کی کوشش میں رکاوٹ بننے والے بھی مسلمان ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک کا آئین اسلامی ہو اسی ملک میں اسلام کے نفاظ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے

    جو ہمیں ہمارا بھولا سبق یاد دلاتے ہیں ہم انہیں ہی برا سمجھتے ہیں بلکہ انہی کو غدار کہا جاتا ہے۔

    آپ مجھے نظریہ پاکستان، لاالہ الاللہ اور شریعت کاغدار کیا پاکستان کا غدار نہیں!

    افسوس اس بات کا ہے

    لاالہ کے دیس میں بے حیائی جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہے۔ کوئی کہنے والا نہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں شراب خانوں کی اجازت باقاعدہ حکومت دیتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    رنڈی خانوں،لال بازار اور چکلوں کی باقاعدہ اجازت، سرپرستی اور حفاظت کی جاتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

    لاالہ کے دیس میں آئے روز قادیانیوں کے لیے راہیں ہموار کی جارہی ہیں، انہیں عہدے دیے جارہےہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    گستاخوں کو عدالتوں سے سزا ہوجانے کے بعد بھی یہودیوں کے کہنے پر عزت سے رہا کردیا جاتا ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں بڑے بڑے نامور علماء کرام پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کردیا جاتا ہے اور پھر انکے قاتل یا تو ملتے ہی نہیں یا پھر انہیں سزا نہیں ملتی۔

    میں عوام اور وقت کے حکمرانوں سے صاف صاف،علی الاعلان، ببانگ دھل،ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے اللہ سے کیے گئے وعدے،شہیدوں کی قربانیوں کو دیکھو!

    اور اپنے مقصد کے لیے جو بھی ہوسکے کرو،تم کمزور ہو نہیں کرسکتے تو جو کررہا ہے جو اس کے لیے آواز بلند کرے اس کا ساتھ دو!

    ورنہ ہم اللہ سے عہد شکنی کے مجرم ہیں۔ شہیدوں کی روحوں سے وعدہ خلافی کے مجرم ہیں۔

    اور جن کو کلمہ کے نام پر قربانیوں کے لیے تیار کیا تھا۔ ان سے بے وفائی کے مجرم ہیں۔

    اور جب تک اس مقصد پر نہیں آتے جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا،تمھاری نمازیں،تمھارے روزے تمھارے وظیفے اور تمھاری نیکیاں خود سوچو کہ اللہ کے پاس انکا کیا وزن ہوگا۔

    @joinwsharif

  • سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جس طرح سگریٹ نوشی ایک بین الاقوامی ،خطرناک اور مضر صحت مسئلہ ہے۔
    اسی طرح سگریٹ پینے والے افراد سگریٹ پُھونکنےکے بھی انٹرنیشل قسم کے جواز گھڑتے رہتے ہیں۔
    حالانکہ ان کی یہ توجیحات غالب کے اس شعر کی طرح دل کی تسلی کے لئے ہی ہوتی ہیں کہ
    ہم کو معلوم ہے،جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو ،غالب یہ خیال اچھا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد عرصہ دراز سے سگریٹ نوشی کا یہ جواز گھڑتے آرہے تھے کہ سگریٹ پینے سے وزن کم رہتا ہے۔
    مگر تازہ ترین سٹڈی میں یہ تھیوری غلط اور خود ساختہ ثابت ہو چُکی ہے۔
    امریکی ریاست اوریگان کے ایک تجرباتی سنٹر میں 400افراد پر دو سال تک جو تجربات کیے گئے،
    اُن کے مطابق جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے،
    اُن کا وزن ایسے افراد سے تین گُنا زیادہ بڑھتا ہے،
    جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    اسی طرح کچھ سگریٹ نوش خواتین و حضرات یہ بھی کہتے پاۓ گئے کہ سگریٹ پینے سے اُن کا جسم ہلکا رہتا ہے۔
    اُن کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے سے ان کے ہاضمے کا نظام چونکہ درست رہتا ہے،
    لہذا انہیں اپنے جسم میں بھاری پن کا احساس نہیں ہوتا۔
    نئی ریسرچ سے یہ سب تھیوریاں اُلٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
    بھاری پن یا بدہضمی کی وجوہات میں بزات خود سگریٹ نوشی شامل ہے،
    کیونکہ جسم کے ہر حصے کا دوسرے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،
    اگر سگریٹ نوشی سے آپکے پھیپھڑے متاثر ہوں،آپکا نظام تنفس درست نہ ہو،
    آپ امراض قلب کا شکار ہوں،
    بلڈ پریشر کا سامنا کر رہے ہوں،
    یا سگریٹ نوشی سے آپ کو زیا بیطس جیسے موذی مرض نے آ گھیرا ہو تو کامن سینس کی بات ہے کہ آپ کا معدہ بھی متاثر رہے گا۔
    اور اگر آپ کا معدہ درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو پھر آپ بھاری پن محسوس کریں گے نا کہ ہلکا پن۔
    لہذا سگریٹ نوشوں کا یہ استدلال بھی بغیر کسی جاندار دلیل کے ہے کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
    یہ وہم کے سوا کچھ نہیں۔
    یہ سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے کہ سگریٹ آپ کو کسی قسم کا طبعی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
    بس آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لئے یہ کریں کہ اپنے آپ کو سگریٹ کی لت نہ لگنے دیں۔
    شروع میں اس عمل کو روکنا آسان ہوتا ہے،
    مگر جب آپ پوری طرح سگریٹ نوشی کا شکار ہوجائیں گے تو پھر اس بری عادت کے چُنگل سے نکلنا مُشکل ہو گا۔
    اس سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
    ہو سکتا ہے آپ کو کسی ایسے ہیلتھ سنٹر جانا پڑے جہاں ایسے ہی منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہو۔
    سگریٹ نوشی کے بعد آپکا سٹیٹس بھی ایک مریض کا ہو گا۔
    اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آجکل کے دور میں کسی بھی مرض کے لئے کتنے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔؟
    کچھ بعید نہیں کہ آپ کو بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑوانے کے لئے ایسے ہی کچھ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
    سگریٹ نوشی کے بعد لگنے والی بیماریوں کا علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی شرط رکھ دیتا ہے۔
    اس عالم میں آپ کو دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے،
    ایک بیماری سے اور دوسرا سگریٹ نوشی کی جان لیوا عادت سے۔
    سگریٹ نوشی کی عادت موجودہ دور میں صرف سگریٹس تک محدود نہیں ہے
    بلکہ اب تو سگار،حُقہ اور شیشہ جیسی وبائیں بھی دن بدن پھیل رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سے حقے کا رواج ہی سگریٹ،گُٹکا،نسوار،بیڑی،سگار ،پان اور شیشہ جیسی قباحتیں معرض وجود میں لے کر آیا۔
    بدقسمتی سے متزکرہ بالا سب چیزوں میں تمباکو ہی استعمال ہوتا ہے۔
    جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
    اسی تمباکو میں نکوٹین نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے،
    جواکثر وبیشتر دل کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
    سگریٹ نوشی کےشکار افراد میں سے 20فیصد ،امراض قلب کا شکار ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد اسی مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
    امراض قلب کی سنگین ترین صورت میں آپکو اوپن ہارٹ سرجری جیسے مشکل ترین آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے،
    اوپن ہارٹ سرجری ڈاکٹرز اسی وقت تجویز کرتے ہیں،
    جب دل کو خون سپلائ کرنے والی نالیاں اور بلڈ ویسلز سُکڑ کر بہت تنگ ہو چکے ہوتے ہیں،
    جس سے دل کو خون کی فراہمی ایک تسلسل سے نہیں ہو پاتی جو ہارٹ اٹیک کا بھی باعث بنتی ہے۔
    ہارٹ اٹیک سے کچھ ہی خوش قسمت افراد ہی بچ پاتے ہیں۔
    بعض دفعہ تو مریض آپریشن سے پہلے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد میں دل کی ان نالیوں کو تنگ کرنے کا باعث بھی یہی نکوٹین ہی ہوتی ہے،
    ہر قسم کا تمباکو اس نکوٹین کامنبع ہوتا ہے۔
    کچھ لوگ سگریٹ کا استعمال ترک کرنے کے لئے نسوار پان،کافی یا حقے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ بھی ایک بے کار فارمولہ اور بے مقصد پریکٹس ہے،
    اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا،
    آپ کنواں چھوڑ کر کھائ میں گرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سگریٹ چھوڑنے کے لئے بہترین تدابیر میں سے کچھ درج زیل ہیں
    سگریٹ نوشی کی طلب بڑھنے کی صورت میں کُھلی فضا میں چلے جائیں،
    لبے لمبے سانس لیں،ہلکی پُھلکی ورزش کریں،
    اپنے خیالات کو سگریٹ سے ہٹانے کے لیے کچھ اور سوچنا شروع کر دیجیے،
    پانی زیادہ پیجیے تاکہ نکوٹین سے بننے والے فاسد مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں،
    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب ہونے پر پودینہ والی یا لیموں والی سبز چاہے پئییں،
    سگریٹ نوش دوستوں سے میل ملاقات کا سلسلہ بوقت ضرورت ہی جاری رکھیے۔
    سگریٹ نوشی ترک کیجیۓ
    زندگی کی طرف لوٹیے،
    آپ کے پیارے آپ کے منتظر ہیں۔
    خدارا۔
    اُنہیں کسی امتحان میں مت ڈالیے#

    @lalbukhari

  • تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: فرح بیگم

    تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف اپنی قبر کھودتا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والے انسان کے ساتھ رہنے والے افراد بھی بہت ساری مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تعلیمی اداروں خاص طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے لڑکوں کے اب کثرت میں لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کئی نوجوان تو تمباکو نوشی کو ایک فیشن سمجھ کر کرتے ہیں جو جانے انجانے میں اپنی زندگی کا دیا اپنے ہی ہاتھوں گُل کررہے ہوتے ہیں۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کی جاۓ

    تمباکو انسان کو سست اور پست حوصلہ بنا دیتا ہے تمباکو قوت ارادی کا بڑا دشمن ہے۔ اس کے استعمال سے جسم ڈھیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ دماغ، بینائی، جگر، پھیپھڑوں اور دل کو کمزور بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی پیسے کے ضیاع کے علاوہ متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے جس میں سرفہرست کینسر ہے۔ تمباکو نوشی سے مختلف قسم کا کینسر ہوسکتا ہے جس میں گلے کا کینسر، منہ کا کینسر اور لبلبے کا کینسر قابل زکر ہیں اس کے علاوہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے پھیپھڑے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں

    دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر لوگ تمباکو کا استعمال نیکوٹین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ‎تمباکو کی تمام مصنوعات نقصان دہ ہیں اور یہ مختلف قسم کے کینسر اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا ، تمباکو نوشی سمیت تمام تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ 

    آ پ سگریٹ نوش ھوں آپ جتنی ذیاہ سگریٹ نوشی کریں گے، اتنا ہی مسائل میں اضافہ ھو گا۔ نفسیاتی بیماریاں ہونے کے امکانات، بے چینی اور ڈپریشن، الکحل( شراب نوشی) اور منشیات کا ذیادہ استعمال ان کی وجہ سے زہنی صحت کے مزید خراب ہونے کے امکانات ہیں۔

    اساتذہ، والدین اور دیگر معززین کو تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اکثر شریف اور ہونہار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرتے ہی برے کاموں میں پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مستقبل تباہ ہوجاتا ہے۔

    ترک سگریٹ نوشی سے آپ اپنےآپکونہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے  
    سگریٹ نوشی کو ترک کرنے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا آپ کا حق ھے۔

    Twitter ID: @Iam_Farha

  • رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    .
    انسان جب جنت میں اکیلا تھا تو اسے حوا عطا کی گئی. پھر آدم و حوا کا ایک رشتہ تخلیق ہوا. آدم و حوا سے نسل آدم بڑھتی گئی اور بہن بھائی، چاچو، ماموں، خالہ، پھوپھی جیسے اجزاء ملے. خاندان بنے اور خاندان سے ایک بات بڑھتی ہوئی معاشرے تک جا پہنچی.
    دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کی کچھ بنیادی ضروریات ہیں. جن میں رشتے بھی ایک بڑی اور اہم ضرورت ہیں. رشتوں سے محنت اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت سلیم میں رکھ چھوڑی ہے.
    اولاد کی ماں باپ سے الفت اس دنیا کی حسین ترین الفت ہے. خاوند اور بیوی کا تعلق ایک خوبصورت ترین تعلق ہے. بہن بھائیوں کی ایک دوسرے کے لیے کشش اور محبت کی لازوال کہانی ہے.
    .
    جوں جوں معاشرہ بڑھنے لگا تعلقات بڑھتے رہے. لوگ بڑھنے لگے ضروریات بڑھنے لگی.
    مادیت پرستی کی جانب جب معاشرے نے سفر شروع کیا تو انسان خدا کی عطا کردہ فطرت سلیم سے اعراض برتنے لگا.
    فطرت پر جب مادی ضروریات کو اہمیت ملنے لگی تو عداوتوں کے نئے باب کھلنے لگے.
    جب ہمارے مادی مفادات کو ٹھیس پہنچنے لگی تو ہم نے محبت سے منہ موڑ لیا.
    خدا کی فطرت سے ہٹ کر کسی چیز کو پانے کی جستجو نے پہلا قتل کروا دیا.
    جب معاشرے میں طاقتور نے وسائل کو غصب کرنا شروع کیا تو بھوک نے چوری اور لوٹ مار کی راہ دکھا دی.
    بات بڑھتی گئی اور آج کے حالات آپکے سامنے ہیں.
    دنیا میں ہر فرد، گروہ اور سوسائٹی اپنے مفادات کے تحفظ میں کارفرما ہے. بات فقط اپنے مفادات کے تحفظ تک رہتی ہو شاید اتنی نہ بگڑتی.
    بات بڑھنے لگی اور معاملہ لوگوں کو نیچا کر کے اور پیروں تلے روند کر آگے بڑھنے کی جانب چل نکلا.
    .
    آج معاشرے میں جہاں اتنی خرابیاں ہیں وہیں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رشتوں سے دور ہوتا جا رہا ہے.
    .
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رشتوں کو کیسے بچائیں.
    .
    اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں ایثار اور قربانی کا بنیادی سبق ازبر کرنا ہوگا.
    اپنی ضروریات اور خواہشات پر اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو ترجیح دینا ہوگی.
    اگر کسی رشتے کو بچاتے ہوئے آپکا مالی نقصان ہو رہا ہے تو اس بات کی فکر نہ کریں.
    .
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ برداشت کرنا سیکھیں.
    ہمارے استاد محترم کہا کرتے ہیں کہ بیٹا رشتہ داری نبھانا ایسے ہے جیسے آپ ون وے ٹریفک میں چل رہے ہیں.
    جہاں آپکو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ آپ اصول نہ توڑیں اور اپنی لائن میں رہیں. وہیں اس بات پر بھی خصوصی توجہ دینی ہے کہ کوئی اصول توڑ رہا ہے تو نقصان سے کیسے بچا جائے.
    اگر کوئی گاڑی مخالف سمت سے آ رہی ہو تو آپ یہ سوچ کر اپنی دھن میں نہیں چل سکتے کہ میں تو ٹھیک ہوں بلکہ آپ فوری طور پر نقصان سے بچنے کی پیش بندی کرتے ہیں. اور نقصان سے بچنے کے بعد فریق ثانی کو پیار سے سمجھاتے ہیں. اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ غلطی پر ہیں.
    اسی طرح رشتوں میں بھی دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھیں. اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یقیناً سب کا نقصان ہوگا.
    .
    تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کو عزت دیں.
    اگر آپ خود کو دوسروں سے سپریم سمجھیں گے تو ہمیشہ معاملات میں الجھے رہیں گے. خود کو دوسروں سے اہم سمجھنے والے کبھی کسی کو بنیادی عزت و احترام نہیں دے سکتے.
    ایسے افراد بلا کے ہٹ دھرم ہو جاتے ہیں. جب اس طرح کی صورتحال پیش آ جائے تو انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے. بلکہ خود کو غلط سمجھتا ہی نہیں. لہٰذا خود کو بھی انسان سمجھیں اور اپنی غلطی کی اصلاح کرتے رہیں.
    .
    چوتھی اہم چیز جو رشتوں کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے کہ آپ رشتہ داروں سے جھوٹ مت بولیں. جھوٹ ویسے بھی ایک لعنت ہے. مگر جب آپ اپنے رشتہ داروں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں اور قدم قدم جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تو یقینا لوگ آپ کا اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے.
    اور اعتماد اور اعتبار کسی بھی رشتے کو چلانے کا ایندھن ہوتے ہیں.
    اگر اعتبار یا اعتماد ختم ہو جائے تو رشتوں کی گاڑی کا چلنا محال ہو جاتا ہے.
    پھر آپ جھوٹ اور دھوکے کے جتنے چاہیں دھکے لگا لیں. زندگی کی گاڑی اپنی رفتار سے نہیں چل سکتی.
    .
    یہ چند بنیادی باتیں ہیں جو رشتوں کو بچانے اور محبتوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں.
    عمل کیجیے اور اپنے پیاروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے رہیں..
    شکریہ

     

    @zaramiirza : ٹویٹر اکاونٹ

  • تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ”آگ بنا دھر راکھ تمباکو” کہاوت کا مطلب ہے کہ جیسے بغیر آگ دھرے تمباکو بے کار ہے ویسے ہی کام بغیر تدبیر بھی بے کار ہے۔ مذکورہ کہاوت میں لفظ تمباکو ہماری آج کی تحریر کا باعث ہے،اردو میں یہ لفظ سنسکرت سے آیا ہے۔ تمباکو ایک پودا ہے جس کے پتوں کو سکھا کر سگریٹ، بڑ ی یا حقے وغیرہ میں ڈال کر استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس سے ہلکا نشہ ہوتا ہے۔ اسی سے تمباکو نوشی نکلا اور پھر تمباکو پینے والے کو تمباکو نوش کہا جانے لگا۔فارسی میں تنباکو کہتے ہیں جو اردو میں بھی مستعمل رہا ہے، آدمی اور مشین نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ”رہا ذائقے کا معاملہ تو ہم چائے قہوہ اور تنباکوکی اچھائی کا پتہ چلانے کے لیے۔۔۔۔ درجہ وار تقسیم کرسکتے ہیں“ اگر انگریزی کے لفظtobacco کی بات کروں تو اس کے متعلق مختلف آرا موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لفظ ہسپانوی اور پرتگالی لفظ tabaco سے نکلا ہے اور ادھر بحیرہ کریبین کے جزائرمیں بولی جانے والی زبان سے آیا تھا۔ خیال ہے کہ تمباکو کے پتوں کو لپیٹنا مراد ہے یا پھر L شکل کا ایک پائپ ہے جو کہ تمباکو کے دھوئیں کو سونگھنے کے لیے مستعمل تھا۔پندرہویں صدی میں ہسپانوی، پرتگالی اور اطالوی لوگ ایک عربی لفظ کو استعمال کرتے تھے جوکہ طُبّاق تھا جسے جرمن عربی لغت نگار Hans Bodo Gerhardt Wehr نے tobacco سے جوڑا ہے، ویسے تو طباق سے مراد دھونی والا پودا ہے۔ذہن میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ شاید tobacoکو ہی طباق نہ بنا لیا ہوکیوں کہ عرصہ درازتک یہ پودا بطوردرد کش دوائی استعمال میں رہا ہے۔ تمباکو کا اصل وطن وسطی وجنوبی امریکا ہے جہاں یہ قبل مسیح سے استعمال میں تھااسے امریکا سے باہر متعارف کروانے کا سہرا یورپی اقوام کے سر جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ تمباکو پر تحقیق اور اس کے وسیع پیمانے پر صنعتی شکل اختیار کرجانے کی وجہ سے امریکا کی معیشت کو شروع میں بڑا سہارا ملا تھا۔ تمباکو سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکا میں پیدا ہوتا ہے۔ براعظم امریکا میں ہی ایک ملک کا نام جمہوریہ ٹرینیڈاڈو ٹوبیگو ہے، ٹوبیگو ایک جزیرہ ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ موٹے سگار کی سی شکل ہے۔جزیرے کو یہ نام 1511ء میں ہسپانوی حکم نامے سے ملا تھا۔ تمباکو کی 70سے زائد اقسام ہیں اور اس کے خشک پتوں کو سگریٹ اور سگار میں جب کہ ہندو پاک میں حقے کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت کہتی ہے کہ وہ اپنے غموں کو دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں جسے شاعر نے اس طرح سے بیان کیا ہے

    ؎کچھ دیر دھوئیں کی لہروں میں
    دنیا سے کنارہ کرتا ہوں
    اگر ہندوستانی حقے کی بات کی جاے تو یہ عربی کے لفظ حقق سے نکلا لگتا ہے جس کا مطلب ہوگا چلم اور کسی قدر پانی سے بھرا ہوا ظرف جس کے ذریعہ تمباکو پیتے ہیں۔ اسے ایران میں قلیان لکھتے ہیں جبکہ بولتے غلیان ہیں جیسا کہ آقا کو آغا بولتے ہیں۔ حقے کے لیے انگریزی زبان میں Hubble bubble کی اصطلاح مستعمل ہے جس کی وجہ گڑگڑ کی آواز ہے۔ ویسے تاریخ میں ایک شخصیت بھی گزری ہے جسے خواجہ حسن نظامی مرحوم نے شہید الحقہ کے نام سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ اسی کتاب”تمباکو نامہ” مطبوعہ 1923ء میں حقہ بارے مزید لکھتے ہیں کہ” ہندوستانی حقہ تمام دنیا سے اعلا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوستانی حقہ تمام دنیا کے طریقہ جات تمباکو نوشی سے اعلا ہے۔ اور دنیا کی کوئی قوم اس معاملہ میں ہندوستانی عقل و دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یورپ والے تو تمباکو کی اصلاح کرنا جانتے ہی نہیں، ان کے ہاں تو شروع سے سگریٹ سگار کا رواج ہے اور آج تک اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں ہوئی، حالاں کہ وہ ہر چیز میں روزانہ تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ لباس ان کا بدل جاتا ہے، خیالات ان کے بدل جاتے ہیں، ایجادوں میں ان کے ہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، صرف تمباکو نوشی ایک ایسی بدقسمت چیز ہے جس کے طریقہ میں انھوں نے کوئی تغیر اور فرق پیدا نہیں کیا جس سے اس کے زہریلے مادہ میں کمی ہوجاتی ہے۔ ترک، مصری اور افغانی وغیرہ اقوام نے بے شک حقہ کو اختیار کیا یعنی وہ بھی حقہ کی صورت کی ایک چیز جس کو نرگیلہ کہتے ہیں استعمال کرتے ہیں، مگر کمی یہ ہے کہ ان کو تمباکو کی اصلاح کرنی نہیں آتی وہ سوکھا تمباکو ایک چھوٹی سی چلم پر رکھ دیتے ہیں، اس چلم میں گنجایش بہت کم ہوتی ہے اور اس کے آس پاس دیواریں بھی نہیں ہوتیں، تمباکو رکھنے کے بعد بمشکل ایک دو کوئلے دو انچ قطر کے تمباکو پر رکھ دیتے ہیں اور دو تین دم کھینچ کر تمباکو جلا دیتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی سی لطافت و نفاست وہاں نہیں ہوتی کہ تمباکو بھی گڑ، گلاب اور دیگر ادویات سے درست کیا جاتا ہے اور ا س کے زہریلے اثرات کم کردئیے جاتے ہیں۔ اور چلم بھی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ جس میں بہت سی آگ آسکے۔ اور آہستہ آہستہ پیتے ہیں تاکہ تمباکو کا زہر پانی میں جذب ہوتا چلا جاے۔ ” ادھر جو لفظ نرگیلہ بتایا گیا ہے وہ فارسی کے لفظ نرگیل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ناریل کے ہیں جب کہ سنسکرت میں اس کو نرکیلا کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شروع میں حقہ ناریل کے چھلکوں سے بنایا جاتا تھا۔ مصحفی غلام ہمدانی کہتے ہیں
    ؎جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”
    بھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”

    مندرجہ بالا اقتباس سے یہ مت سمجھیے گا کہ میں حقے کے حق میں ہوں بلکہ تمباکو کا کسی بھی طرح سے استعمال بیماریوں کو لانے کا سبب سمجھتا بھی ہوں اور اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھتا ہوں خصوصاََ سگریٹ وغیرہ کے دھوئیں سے کہ لطف اندوز کوئی اور ہو رہا ہوتا ہے اور پھیپھڑے ہمارے بیماری کا گھر بن رہے ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو کا استعمال اموات کی بڑی وجہ بنتا جارہا ہے۔باغی ٹی وی کی انتظامیہ کا اقدام لائق تحسین ہے کہ انھوں نے تمباکو نوشی کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ میڈیا کو اس حوالے سے کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قوانین پر عمل پیرا ہونا۔