Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہم ایک ایسی دُنیا اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہے کہ انسان اپنے اندر قدرتی صلاحیتوں کو دیکھنے کی بجائے خوف کے سیایہ میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ناکام ہونا نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف اور کامیابی کا دباؤ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناکامی کا تصور اس قدر منفی اور محدود ہے کہ ناکامی کا لفظ سنتے ہی ہم حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ناکامی کا ڈر اس قدر انڈیل دیا جاتا ہے کہ ہم ناکامی کے خوف سے ساری زندگی باہر ہی نکل پاتے ہیں۔ ناکامی کے لفظ کے ساتھ جُڑی شرمندگی اور نفرت ہمیں مجبور کردیتی ہے کہ ہم کامیابی کے لیے جستجو کرنے ہی کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو ناکامی کا نہیں ناکافی کا خوف مار دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ڈر ہر انسان کو ہر بڑا مشکل اور کھٹن کام کرنے کے آغاز میں لگتا ہے۔ نامعلوم کا خوف ان جانے راستے کی پریشانی ناکامی کا ڈر اور سب سے بڑا خوف اپنے اندر کے خوف پر فتح ناکام لوگ اس ڈر سے ڈر جاتے ہیں اور فاتح اپنے اندر کے ڈر پر قابو پالیتے ہیں۔

  • جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جس مملکت و ریاست میں جرائم ہو گا وہاں خوشحالی نہیں ہو گی وہاں بدامنی اور غربت کا راج ہو گا
    جدید سعودی عرب کا باضابطہ قیام 1932 میں ہوا اس سے قبل سعودی عرب پسماندہ اور بدامن ترین ملک تھا کہ جہاں چوری،ڈکیتی قتل،شراب نوشی اور قبائلی جھگڑوں سے ہلاکتیں تک عام بات تھیں
    حتی کہ دنیا بھر سے جانے والے عازمین حج کو بھی لوٹ لیا جاتا تھا لوگ مقدس فرض حج کیلئے جانے سے کترانے لگے تھے کیونکہ تمام راستے غیر محفوظ ہو گئے تھے قانون و ریاست نام کی کوئی چیز موجود ہی نا تھی

    1927 سے پہلے موجودہ جدید مملکت سعودی عرب کو حجاز مقدس اور نجد کے نام سے جانا جاتا تھا جو کہ ایک انتہائی بدامن اور مالی طور پر کمزور ترین علاقہ تھا جہاں سینکڑوں قبائل آباد تھے جن کے درمیان مسلسل جھگڑے،لوٹ مار اور قتل و غارت گری عام تھی حتی کہ ہر قبیلہ اپنا الگ قانون رکھتا تھا جبکہ مشترکہ مرکزی قانون و حکومت کا نام و نشان تک نا تھا
    اسی باعث ہی ان لوگوں کے ہاتھوں حاجیوں کے قافلے بھی لٹ جایا کرتے تھے
    سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول محض مکہ،مدینہ اور جدہ تک ہی محدود تھا
    پورے خطے میں کوئی مالیاتی نظام موجود نا تھا اور زیادہ تر قبائل بدوی زندگی شدید غربت میں گزارتے تھے
    بارشیں نا ہوتیں تو کئی کئی سال تک قحط رہتا لوگ بھوکے مرتے تھے کیونکہ آبپاشی کا باقاعدہ نظام نا تھا جس کی وجہ مرکزی حکومت کا نا ہونا تھا
    1902 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ریاض پر قبضہ کر لیا اور 1913 میں عثمانیوں سے احسہ کا علاقہ لے لیا اور 1924 سے 1925 تک مکہ،مدینہ اور طائف پر کنٹرول کر لیا اور 1926 میں مشترکہ طور پر شاہ عبدالعزیز بادشاہ حجاز مقدس و نجد مقرر ہوئے

    جرائم کو کنٹرول کرکے مملکت کو جدید بنانے،امن و امان و خوشحالی کی خاطر
    1927 سے 1930 تک سعودی ریاست نے مختلف علاقوں جیسے کہ نجد،حائل،عیسر اور حجاز وغیرہ میں، چوری،ڈکیتی اور قتل و شراب نوشی کے ملزمان کو سزائیں دیں

    ایک اندازے کے مطابق 1000 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی یا پھر تلوار سے گردن اتاری گئی
    لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اخوان تحریک سے تعلق رکھنے والے ملزمان بھی شامل تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف قبائل سے تھا ان کو بھی قتل کیا گیا
    سعودی عرب کا امن برباد کرنے والے یہ لوگ گروہ بنا کر قافلوں کو لوٹتے تھے اور ریاستی اقتدار کو چیلنج کرتے تھے

    ایسے فسادی اور ملک دشمن عناصر کہ جن کی وجہ سے امن و امان برباد ہو جائے اور جینا مشکل ہو جائے ان لوگوں بارے قرآن مجید کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے

    اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ

    جو اللہ تعالٰی سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

    جبکہ ایسے لوگوں کیلئے حدیث رسول ہے

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
    بحوالہ سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث 2579
    دوسری روایت میں ہے کہ وہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ
    بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہیں کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے
    قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
    قال الشيخ زبير على زئي:إسناده

    دیکھا جائے تو آج پاکستان میں بھی حجاز مقدس اور نجد جیسے برے حالات ہیں

    قتل و غارت گری،ڈکیتی،زنا،شراب نوشی اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرنا جواء کھیلنا اور کھلوانا،غریب اور کمزور لوگوں پر ظلم کرنا
    عام ہو چکا ہے جس کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ترین ہو چکی ہے
    عام اور کمزور و غریب لوگوں کا جینا مشکل تر ہو چکا ہے

    امن و امان قائم رکھنے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے ویسے تو پولیس و دیگر ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی نا ہونے کے برابر ہے اسی لئے پنجاب گورنمنٹ نے اب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے فروری 2025 میں پولیس آرڈیننس 2025 کے تحت کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی کا قیام عمل میں لایا ہے
    سی سی ڈی کی حتمی منظوری اپریل میں ہوئی جبکہ اس محکمے میں تقریباً 4300 اہلکار ہیں جو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہیں
    فی الوقت تو سی سی ڈی کی کارکردگی اچھی ہے خدانخواستہ اگر اس کی کارکردگی بھی پنجاب پولیس کی طرح رہی اور لوگوں کو وڈیروں،جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے کہنے پر قتل کیا گیا تو پھر امن و امان درست ہونے کی بجائے مذید خراب ہو گا
    فی الوقت سی سی ڈی کی اچھی اور اعلی سطحی کاروائیوں سے جرائم پیشہ لوگ ڈر کر توبہ تائب کر رہے ہیں اور بیشتر بھاگ بھی گئے ہیں
    بہت سے جرائم پیشہ اور دہشت کی علامت لوگ ویڈیو کی صورت میں بیان حلفی دے رہے ہیں کہ ہم آئندہ شریفانہ زندگی گزاریں گے جو کہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے
    اللہ کرے یہ محکمہ اسی طرح میرٹ پر کام کرے اور کسی جاگیردار،سیاست دان و وڈیرے کا آلہ کار نا بنے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو کر پاکستان ترقی کرے اور پاکستانی قوم بھی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ بنے
    آمین

  • وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن

    وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن

    وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    یہ کالم سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں بلکہ میری ذاتی آپ بیتی ہے۔ اس میں جو کچھ لکھا ہے نہ وہ افسانہ ہے، نہ مبالغہ آرائی اور نہ ہی الفاظ کا کوئی جادو۔ میں ایک ایماندار میپکو صارف ہوں، برسوں سے اپنے خون پسینے کی کمائی سے بجلی کے بل ادا کر رہا ہوں۔ نہ کبھی میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی، نہ بجلی چوری کا گناہ کیا۔ لیکن جب میں نے اپنے علاقے میں کھلم کھلا بجلی چوری دیکھی، ٹرانسفارمرز سے لٹکتے کنڈے اور منظم انداز میں لائنوں پر چوری دیکھی تو میرا ضمیر جاگ اٹھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔ مگر افسوس! میری ایمانداری ہی میرے لیے جرم بن گئی۔ میں نے ایکسئین، ایس ڈی او اور لائن سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایات دیں، ثبوت دیے اور اپیل کی کہ چوروں کو پکڑیں، ایماندار صارفین کو ناجائز ڈیٹیکشن بل بھیج کر سزا نہ دیں۔ لیکن ہوا یہ کہ مجھے ہی سزا دے دی گئی، میپکو کے ناخداؤں نے میرے نام 14 ہزار روپے سے زائد کا ناجائز ڈیٹیکشن بل جاری کر دیا۔ مجھے یہ سزا میری ایمانداری کی پاداش میں دی گئی۔

    جب میں اس بل کے خلاف اپنی سب ڈویژن کے ایس ڈی او کے پاس گیا تو بجائے جواب کے مجھے ہٹ دھرمی سے حکم دیا گیا کہ بل ہر صورت ادا کرنا ہوگا۔ میں نے دلیل دی کہ اگر کوئی چوری کی ہوتی تو اس کا کوئی ثبوت ہوتا، میرا میٹر، میرا لوڈ، سب کچھ تمہارے سسٹم میں موجود ہے۔ تم نے چوروں کی بستی کے ٹرانسفارمر سے کنکشن لینا میرا جرم بنا دیا اور مجھے ہی چور ٹھہرا دیا۔ میرے پوچھنے پر کہ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس یہ ناجائز بل بھیجنے کا، ایس ڈی او موصوف نے کہاکہ”سب کوبھیجا ہے اور تمہیں بھی یہ بھرنا پڑے گا!” جس پر میں نے جواب دیا کہ میں عدالت میں انصاف کے لیے جاؤں گا، چاہے مجھے سپریم کورٹ تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جہاں تک ممکن ہوگا کوشش کروں گا۔ اس کے بعد میں ایک سینئر وکیل دوست کے پاس گیا اور انہیں اپنا دُکھڑا سنایا کہ میرے ساتھ میپکو نے یہ ظلم کیا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ میرا کیس کورٹ میں فائل کریں اور مجھے اس ظلم سے نجات دلائیں۔ اس وکیل دوست نے جو مجھے جواب دیا، وہ انتہائی مایوس کن تھا،انہوں نے کہا "میرے بھائی! آپ کا بل صرف 14,000 روپے ہی تو ہے، جمع کرائیں اور اپنی جان چھڑائیں۔ عدالتوں کے چکر میں آپ کو یہ بل معلوم نہیں کتنا مہنگا پڑے گا کیونکہ آپ کو ہمارے اس عدالتی نظام سے انصاف نہیں ملے گا۔ پوری کچہری چوری کی بجلی پر چل رہی ہے، جہاں سبھی اس چوری میں ملوث ہوں، آپ کے حق میں کیسے فیصلہ آ سکتا ہے؟ میں آپ کا کیس عدالت میں فائل نہیں کر سکتا، بس آپ جائیں بل جمع کرائیں۔”

    اس جواب نے مجھے انتہائی مایوس کیا اور یہ بات واضح ہو گئی کہ کرپشن کس قدر ہمارے اداروں میں جڑیں پکڑ چکی ہے۔ کچہری سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک دوست عابد خان لشاری سے ملاقات ہو گئی۔ انہیں تمام ماجرا سنایا تو انہوں نے ایک آدمی کو فون کیا اور کہا کہ "یہ ہمارے سینئر صحافی دوست ہیں، یہ آپ کے پاس آ رہے ہیں، ان کی رہنمائی کریں، انہیں کیا کرنا چاہیے؟” میں عابد خان لشاری کے بتائے ہوئے آدمی کے پاس پہنچا تو اس بندے نے مجھے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان خیابانِ سرور میں وفاقی محتسب کا دفتر کھل رہا ہے، وہاں جائیں، درخواست دیں۔ ادھر سے آپ کو مکمل انصاف ملے گا۔ اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آپ آن لائن وفاقی محتسب کو بھی درخواست بھیج سکتے ہیں اور ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر کو بھی درخواست رجسٹری کرا کر بھیج دیں۔ اس بھلے بندے کے کہنے پر میں نے درخواستیں لکھیں، آن لائن وفاقی محتسب کو درخواست بھیجی، ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر ملتان بھی درخواست بذریعہ رجسٹری ڈاک بھیج دی۔ جس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ درخواست پاکستان پوسٹ والوں نے دریائے چناب میں بہا دی یا میپکو ہیڈکوارٹر کی ردی میں گم ہو گئی۔

    تو خیر کچھ دنوں بعد ایک سرکاری نمبر سے کال آئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ وہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس سے بات کر رہے ہیں اور مجھ سے چند ضروری سوالات پوچھے گئے اور پھر بتایا کہ کل آپ کی تاریخ ہے، آپ ہمارے آفس اپنے کیس کی سماعت کے لیے تشریف لائیے گا۔ سب سے پہلے جب میں وفاقی محتسب کے ریجنل آفس ڈیرہ غازی خان پہنچا تو وہاں موجود سٹاف نے میرے ساتھ ایسا خوبصورت برتاؤ کیا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں کوئی ان کا وی آئی پی مہمان ہوں۔ کرسی پر بٹھایا گیا، فوری طور پر ایک ملازم نے پانی پیش کیا۔ اس کے بعد میرے آنے کا مقصد پوچھا تو میں نے بتایا کہ کل فون کال آئی تھی، آج مجھے کیس کی سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ پھر مجھے ایک نوجوان اپنے لیگل آفس میں لے گیا جہاں ایک خوبصورت نوجوان لیگل ایڈوائزر موجود تھا، جس نے اپنے تعارف میں بتایا کہ اس کا نام ملک ارباب رحیم ہے۔ میرے کاغذات کی جانچ کے بعد بتایا کہ آپ کا کیس سیکنڈ فلور پر ریجنل انچارج ڈاکٹر محمد زاہد صاحب سماعت کریں گے۔ ایک ملازم میرے ساتھ بھیجا جو مجھے کمرہ سماعت میں لے گیا۔ جب میں نے آفس کے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو مجھے فوری اور باعزت طریقے سے کہا گیا کہ تشریف لائیے!

    جب میں ڈاکٹر محمد زاہد صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور مسئلہ پوچھا۔ میرے بتانے پر انہوں نے میری درخواست والی فائل منگوائی اور تفصیل سے اسے پڑھا اور مجھ سے انتہائی شفقت بھرے انداز میں سوالات پوچھے جن کے میں نے جوابات دیے۔ پھر ڈاکٹر زاہد صاحب نے واپڈا والوں کو بلایا اور ان سے میرے بل سے متعلق تمام ریکارڈ فوری طور پر طلب کیا۔ واپڈا یا میپکو کے ذمہ داران میرے خلاف کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت نہ کر سکے، جس پر وفاقی محتسب نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ یہ فیصلہ میرے لیے واپڈا کے ظلم، دھونس اور دھاندلی کے بعد ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ یہ محسوس ہوا کہ اگر تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مؤثر نظام قائم کرتے تو عوام کو کبھی اس طرح کی اذیت سے نہ گزرنا پڑتا۔ یہ کرپشن ہی ہے جس نے کسی بھی محکمے میں خود احتسابی کو اپنے ہاں قدم ہی نہ رکھنے دئے۔

    ایک ماہ بعد وفاقی محتسب اسلام آباد سے توثیق شدہ فیصلہ موصول ہوا۔ جب میں اس فیصلہ کی کاپی لے کر واپڈا کے آر او آفس گیا تو وہاں نئے فسانے میرے منتظر تھے۔ آر او نے اس فیصلے پر نوٹ جاری کرکے مجھے متعلقہ کلرک راشد کے پاس بھیجا۔ جب اس کلرک بادشاہ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ آپ ایکسئین آفس میں ذاکر صاحب کے پاس جائیں۔ جب وہاں پہنچا تو آفس کھلا تھا لیکن سیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ باہر موجود ایک بندے سے پوچھا کہ ذاکر صاحب کون ہیں اور کہاں ملیں گے تو اس بندے نے جواب دیاکہ "تیسرا دن ہے میں مسلسل انتظار کر رہا ہوں، مجھے ابھی تک نہیں ملا۔” چوتھے دن خوش قسمتی سے میری ذاکر صاحب سے ملاقات ہو گئی، کہنے لگے کہ آج میرے پاس ٹائم نہیں ہے، میں وفاقی محتسب جا رہا ہوں، آپ کل تشریف لائیے گا۔ جب میں اگلے دن ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اس فیصلہ کی کاپی آپ مجھے دے کر جائیں، دو تین دن بعد آنا۔ اسے کاپی کرا دی۔ اور تیسرے دن ذاکر صاحب کی دی گئی پیشی پر پہنچا تو مجھے ان کی طرف سے بھاشن دیا گیا کہ آپ اشفاق صاحب کے پاس جائیں۔ اس دن مجھے ڈھونڈنے سے بھی کہیں پر اشفاق صاحب نہ ملے۔ پھر اگلے دن اشفاق سے ملاقات ہو گئی تو جناب نے حکم جاری کیا کہ آپ کا فیصلہ ابھی تک ہمارے ہاں نہیں پہنچا! میں نے کہاکہ "جناب اسلام آباد سے فیصلہ جاری ہوئے 43 دن ہو چکے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کا فیصلہ نہیں ملا؟” جس پرجواب دیا گیا کہ آپ کا فیصلہ میپکو ہیڈ کوارٹر میں پڑا ہوگا، وہ بھیجیں گے تو ہمارے پاس آئے گا۔

    تھک ہار کردوبارہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس پہنچا، ڈاکٹر زاہد سے ملاقات کی اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا۔ جس پر انہوں نے دوبارہ نوٹس لیا، ایمپلیمنٹیشن لیٹر سمیت واپڈا/میپکو کے ذمہ داران کو طلب کیا۔ جنہوں نے پھر اگلے ہفتے عمل درآمد کی رپورٹ جمع کرائی اور مجھے بھی وفاقی محتسب سے عمل درآمد کے لیٹر کی کاپی جاری ہوئی۔ جب اگلے روز میں اپنے نئے بل اور عمل درآمد کی کاپی لے کر آر او آفس گیا تو انہوں نے اس لیٹر دیکھنے کے بعد اپنے ریمارکس لکھے اور مجھے کہا کہ آج راشد چھٹی پر ہے، حسنین بیٹھا ہے، اس کے پاس جائیں، وہ آپ کو بل بنا کر دے گا۔ جب حسنین کے پاس گیا تو وہاں ایک اورحکم میرا منتظر تھا کہ آپ یہ تمام کاغذات لے کر اشفاق کے پاس جائیں، وہی اس پر عمل درآمد کرائے گا۔ جب اشفاق کے پاس پہنچا انہوں نے پھر حکم دیا کہ آپ سوموار یعنی پانچ روز بعد آنا۔ میں نے کہا: "ایسا کیا مسئلہ ہے؟ جب آپ لوگوں نے رپورٹ وفاقی محتسب میں جمع کرا دی ہے تو میرا بل ٹھیک کیوں نہیں ہو سکتا؟” جس پر اشفاق نے جواب دیا کہ ادھر رپورٹ تو ہم نے جمع کرا دی تھی لیکن ابھی تک ایکسئین کے سائن ہونا باقی ہیں۔ میں نے جب پوچھا کہ جب ایکسئین کے سائن نہیں ہوئے تو پھر ایمپلیمنٹیشن لیٹر وفاقی محتسب کو کیسے جمع کرا دیا ہے؟ یہ جو کاپی ہے اس پر کس کے سائن ہیں، دوسری کون سی اتھارٹی ہے جو انہیں بائی پاس کر رہی ہے؟ میں نے کہاکہ "مہربانی کریں، حسنین کو بتائیں اور میرا نیا بل جاری کروائیں۔” جس پر اشفاق نے کہا کہ آپ دوبارہ حسنین کے پاس جائیں اور میری یہ نشانی دیں کہ میں نے ابھی ان سے فون پر بات کی ہے تو وہ تمہیں نیا بل جاری کر دے گا۔

    کئی بار سیڑھیاں اوپر چڑھتے اور اترتے ٹانگیں درد کرنے لگیں اور شدید گرمی میں سانس بھی پھولنے لگا۔ اس دوران میں دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا اور اسے نشانی بتائی تو اس نے کہاکہ ٹھہرو ،میں بل بنا دیتا ہوں۔” میں نے اسے کہا کہ ڈیٹیکشن بل جمع نہ کرانے کے باعث اس بل میں جرمانے لگے ہوئے ہیں، جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو جرمانہ کس چیز کا، وہ بھی ختم کرکے بل بنائیں۔ اس نے مجھے بل اور دوسرے کاغذات واپس کرتے ہوئے کہاکہ "آپ کا بل نہیں بنتا، جائیں آپ جہاں سے بنوا سکتے ہیں بنوا لیں۔ ہمیں جو عدالت کا حکم ہے ہم اسی پر عمل درآمد کریں گے۔” اس کے بعد دوبارہ آر او کے پاس گیا، اسے اپنا مسئلہ بتایا اور کہا کہ جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو اس رقم کا جرمانہ کیسا؟ جس پر انہوں نے میرے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک درخواست لکھیں، میں جرمانے ختم کر دیتا ہوں۔ درخواست پر جرمانے ختم کرانے کا آرڈر لے کر دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا، سوموار کو راشد آئے گا تو آپ کا بل وہی درست کرے گا۔ پھر تین دن گزرنے کے بعد سوموار کو میپکو کمپلیکس پہنچا، سب سے پہلے حسنین سے ہی ملاقات ہوئی، جس نے کہا کہ آپ راشد کے پاس جائیں۔ جب راشد کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ آپ حسنین کے پاس جائیں۔ مجھ سمیت بیشتر سائلین شٹل کاک بن گئے! پھر تھک کر میں دوبارہ آر او کے پاس گیا تو آر او نے راشد کو ڈائریکٹ کہا کہ آپ ان کا بل بنا دیں۔ اس حکم کے بعد بھی مجھے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹہ کھڑا رکھنے بعد بل بنایا گیا، جس پر میں نے آر او کا شکریہ ادا کیا اور پنجاب بینک جا کر بل ادا کیا۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس طرح وفاقی محتسب بے مثال کام کر رہا ہے، باقی محکمے کیوں نہیں کرتے؟ اور وفاقی محتسب کے دیے گئے ریلیف پر واپڈا/میپکو کے اہلکار فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟ کیوں عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے اس قدر دھکے کھانے پڑتے ہیں؟ یہ تمام واقعات ہمارے نظام میں موجود سرخ فیتہ شاہی اور کرپشن کی واضح مثال ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا کوئی انقلاب آئے جہاں تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مربوط نظام قائم کر سکیں اور وفاقی محتسب کے دیے گئے فیصلوں کے خلاف روڑے نہ اٹکائیں۔ عوام کے لیے انصاف کو آسان اور فوری بنایا جائے تاکہ جس طرح مجھے وفاقی محتسب سے ریلیف ملاہے اسی طرح ہر مظلوم کے حصے میں بھی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آئے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔

  • بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں غربت کے خاتمے اور کمزور طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) آج ایک ایسے سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر چکا ہے جو ارباب اختیار کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ پروگرام، جو 2008 میں غریب خاندانوں، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر کے انہیں معاشی بھنور سے نکالنے کے نیک مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، اب خود کرپشن، ناانصافی اور عوامی تضحیک کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ کروڑوں غریب پاکستانیوں کی آنکھوں میں امید کی کرن جگانے والا یہ پروگرام آج قوم کو کشکول تھمانے اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کیا یہ واقعی غربت مٹانے کی کوشش ہے، یا پھر حکمرانوں کی جانب سے قوم کو مستقل بھکاری بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش؟

    جب BISP کے تحت گھر گھر سروے کا اعلان ہوا تو عوام نے امید کی کہ شاید اب واقعی حق داروں کو ان کا حق ملے گا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مستحق خاندانوں کی شناخت شفاف طریقے سے ہوگی، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ یہ سروے گھر گھر نہیں کیے گئے، بلکہ ان کا عمل مخصوص ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے عوامی بھلائی کو اپنی ذاتی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق، ہر سروے ایجنٹ نے مستحق خواتین کے نام شامل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 2000 سے 3000 روپے فی خاتون بطور رشوت لیے۔ اس کے نتیجے میں، وہ گھرانے جو حقیقتاً مدد کے مستحق تھے، وہ اس فہرست سے باہر رہ گئے، جبکہ رشوت دینے والے غیر مستحق افراد مستفید ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ BISP کے ذریعے جو سہ ماہی قسط یعنی 13500 روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ بھی مکمل طور پر مستحق خواتین تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایک بار پھر وہی ایجنٹ یا مقامی بینک عملہ میدان میں آتے ہیں اور فی قسط 1000 سے 2000 روپے "کٹوتی” کے نام پر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ غریب عورتیں، جو پہلے ہی کسمپرسی کا شکار ہوتی ہیں، وہ اس کٹوتی کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر رہتی ہیں کیونکہ یہ پیسہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی پوسٹس اور رپورٹس اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ غریب خواتین کو یہ رقم حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کٹوتی کے بعد ان کے ہاتھ میں بہت کم رقم آتی ہے۔ کیا یہی ریاستی ریلیف ہے؟ یا یہ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا انداز؟

    یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، یا کسی کی ماں 13500 روپے کے لیے لمبی لائنوں میں ذلیل ہو۔ کیا یہ ہمارا اسلامی، مشرقی اور اخلاقی معاشرہ ہے؟ خواتین جو اپنے گھروں میں پردے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں، انہیں سرعام قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں بے غیرت ایجنٹ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے رشوت لیتے ہیں، اور کئی بار ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ "یہ امداد نہیں، بلکہ قوم کو بھکاری بنانے کا منصوبہ ہے۔” یہ الفاظ درحقیقت کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز ہیں جو اس تذلیل کو روز دیکھتے اور جھیلتے ہیں۔ اگر حکمران واقعی قوم سے مخلص ہوتے، تو یہی پروگرام معاشی خود انحصاری کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ بجائے محض وظیفہ دینے کے، حکومت کو چاہیے تھا کہ ان خاندانوں کے سربراہان یا بے روزگار نوجوانوں کو "ون ٹائم گرانٹ” جاری کرتی تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرتے۔ اس کے بعد ہر چھ ماہ بعد ان کے کاروبار کی انسپیکشن کی جاتی، بہتری کے لیے رہنمائی کی جاتی، اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا موقع دیا جاتا۔ مگر شاید حکمران چاہتے ہی نہیں کہ قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ انہیں ایک ایسی قوم چاہیے جو ہر سہ ماہی پر کشکول لے کر لائنوں میں لگے، عزت نفس قربان کرے، اور در در کی ٹھوکریں کھائے۔

    بی نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا تھا، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ پروگرام غربت کو کم کرنے کے بجائے قوم کو محتاج بنا رہا ہے، اور عوام کے ہاتھ میں کشکول تھما رہا ہے۔ اگر حکمرانوں کی ترجیحات میں قوم کی فلاح شامل ہو، تو وہ اس پروگرام کو ایک بھکاری بنانے والی مشین سے تبدیل کر کے ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رشوت خور ایجنٹوں اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ شفاف ڈیجیٹل سروے کرایا جائے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو، نادرا کے ڈیٹابیس سے منسلک کر کے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے مستحقین کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔ BISP کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہنر مند تربیت، چھوٹے قرضوں، اور کاروباری رہنمائی پر خرچ کیا جائے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے مفت ہنر مندی کورسز (جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، یا زرعی تربیت) شروع کیے جائیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ نقد امداد کی بجائے، بے روزگار نوجوانوں یا گھر کے سربراہوں کو ایک دفعہ کے لیے گرانٹ (مثلاً 1 سے 2 لاکھ روپے) جاری کی جائے جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر سکیں۔ امداد کی تقسیم کو ایجنٹس کے بجائے براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل ایپلیکیشنز (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کے ذریعے کیا جائے۔ ہر تقسیم کے بعد آڈٹ کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    حکمرانوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قوم کو خیرات نہیں، عزت چاہیے۔ یہ 13500 روپے کی سہ ماہی قسط اگر کسی ماں بہن کی عزت نفس کو پامال کر دے، اسے سڑکوں پر ذلیل کر دے، اور رشوت خوروں کی ہوس کا شکار بنا دے تو یہ ریلیف نہیں بلکہ ریاستی جرم ہے۔ جو ریاست اپنی خواتین کو معاشی تحفظ دینے کے بجائے بازاروں میں قطاروں میں کھڑا کر دے، وہ ریاست نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔ اگر واقعی حکمران فلاحی ریاستِ کا خواب سچ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی قوم کو کشکول سے نجات دینی ہوگی، خیرات کے بجائے خودداری سکھانی ہوگی اور بھیک مانگنے کے بجائے روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ قوموں کی ترقی وظیفوں سے نہیں بلکہ عزت، محنت اور شفاف نظام سے ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں، ورنہ یہی قوم ایک دن سوال کرے گی کہ کیا تمہیں بھکاری بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا یا باوقار زندگی کی امید پر؟ اب یہ فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ قوم کو عزت دیتے ہیں یا اسے مزذلت کے اندھیروں میں دھکیلتے رہتے ہیں۔

  • آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    آگ لگے بستی میں، ہم ہیں اپنی مستی میں،تحریر:ملک سلمان

    ایک اوورسیز پاکستانی ملنے آئے تو کہنے لگے کہ”پنڈ وسیا نئیں، اُچکے پہلے آگئے“ کے مترادف ابھی آئی فون 17مارکیٹ میں نہیں آیا اور فلاں سرکاری صاحب نے ڈیمانڈ کردی ہے کہ آپکا کام ہوجائے گا لیکن ستمبر میں لانچ ہونے والے آئی فون کے نئے ماڈل کے دو موبائل سب سے پہلے اسے ملنے چاہئیں۔میرے لیے یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی کیونکہ سرکاری افسران کی ایسی ڈیمانڈ روٹین ہے۔اس حوالے سے گذشتہ سال میں نے ایک کالم بھی لکھا تھا۔
    حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ٹیلیفونک کال پر کسی کے ترلے کررہا تھا کہ سر ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس وقت ڈالر ریٹ کم تھا اس دفعہ آپ کا شکوہ دور ہوجاتا ہے۔دکاندار نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے سپیکر فون اوپن کردیا۔ دوسری طرف موجود شخص کہہ رہا تھا کہ فلاں لاہور پوسٹڈ ہے تو تم اسکو زیادہ ریٹ دیتے ہو، اس نے اچھی پوسٹنگ کروا لی تو وہ مجھ سے بڑا افسر نہیں ہوگیا۔ میرا دوست جواباً صفائیاں پیش کرتے ہوئے نہیں نہیں سر ایسی بات نہیں آپ کے ساتھ تو دس سال کا تعلق ہے کبھی ریٹ میں فرق نہیں کیا۔ کال ختم ہوئی تو اس نے نمبر دکھایا تو سنئیر پولیس آفیسر کی کال تھی۔

    دکاندار کا کہنا تھا کہ یہ روز کا مسئلہ ہے چند دن قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شکوہ کررہے تھے کہ تم پولیس والوں کو زیادہ ریٹ دیتے ہو، یاد رکھنا دکان ہم ہی سیل کرتے ہیں پولیس والے نہیں۔مذید انکشاف کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے ایس پی لیول کے افسران ماہانہ پانچ سے سات جبکہ اے ڈی سی آر، ایس پی، ڈی پی او، ڈی سی، ڈی جی، آرپی او، کمشنر اور سیکرٹری لیول کے افسران بسا اوقات ایک مہینے میں پچاس سے زائد باکس پیک آئی فون بیچنے کیلئے اپنے قابل اعتبار ہول سیل ڈیلر سے رابطہ کرتے ہیں لیکن ایک بات پر حیرت ہے کہ ان کے اندر کی غربت وہیں کی وہیں رہتی ہے اور چار سے پانچ ہزار کیلئے بھی دکان بند کروانے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔کرپٹ افسران گفٹ ملے آئی فون ہول سیل میں بیچتے ہیں تو ایماندار افسران کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارے لائک انڈرائیڈ لینا بھی مشکل ہے۔

    پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے لیکن”آگ لگے بسی میں ہم ہیں اپنی مستی میں“ کے مصداق بیوروکریسی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ پہلے پہل سول بیوروکریسی میں اچھے پڑھے لکھے اور خاندانی لوگ آیاکرتے تھے، عام سرکاری ملازمین کی نسبت سی ایس ایس اور پی ایم ایس افسران کا رویہ اور کردار قابل تقلید و تعریف ہوتا تھا۔ نئے افسران کی اکثریت سیلفی سٹار اور ٹک ٹاکرز بنے ہوئے ہیں۔وقار و سائستگی خواتین آفیسرز کی پہچان ہوتی تھی جبکہ نئی خواتین آفیسرز خاص طور پر پولیس کی خواتین ماڈلنگ میں ٹی وی اینکرز اور فلم سٹارز کو مات دے رہی ہیں۔

    وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ”باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے افسران جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور نہ صرف من چاہی پوسٹنگ لیتے ہیں بلکہ فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تارہ بن کر صوبے اور ڈیپارٹمنٹ کے لئے ”اچھے افسران“سلیکٹ کرنے کی ٹھیکیداری بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ”یو آر مائی انسپائریشن“ کے نعرے لگاتے چاپلوس اور ”کنسیپٹ کلئیر“ افسران کو”ملٹی ٹاسک اچیور اور ڈوئیر“ کا نام دے کر حکمرانوں کے دربار میں پیش کرکے اہم پوزیشن دلوائی جاتی ہیں۔ اہم کام نکلوانے کیلئے چھوٹے افسران کو بڑی سیٹوں پر تعنیات کیا جاتا ہے۔ اگر کسی آفیسر کو ایمانداری کا بخار ہو تو بخار اتارنے کیلئے او ایس ڈی کردیا جاتاہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ دیانت دار افسران ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ایماندار افسران کی اہم جگہوں پر یہ کہہ کر تقرری نہیں کی جاتی کہ”اسکو افسری نہیں آتی اسے رہنے دو“۔ ”بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن زیادہ ایماندار ہے سسٹم کے ساتھ چلنے والا نہیں“۔

    افسران نے بیوروکریسی کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔انکی نت نئی اوچھی حرکتوں سے بیوروکریٹ گالی بنتا جارہا ہے۔ شدید کرپٹ افسران کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔صرف اسی کو اپنے دفتر میں ویلکم کرنا پسند کرتے ہیں جو آتے ہوئے تحائف لاتا ہو اور امراء کے گھروں میں اس لیے حاضری لگواتے ہیں کہ ان کے ڈرائنگ روم سے کونسی قیمتی چیز دیکھ کہ کہہ سکیں کہ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر دیکھی لیکن اس لیے آرڈر نہیں کی کہ آن لائن چیز سہی نہیں ملتی، تب تک تعریف کرتے رہتے ہیں جب تک میزبان یہ نہ کہہ دے کہ یہ چیز اٹھا کر صاحب کی گاڑی میں رکھ دو۔
    نئے افسران اپنے جیسی بچگانہ فہم و فراست کے جوانوں کے ساتھ رات گئے والی محافل میں مگن ہوتے ہیں اور وہاں یہ انتہائی تفاخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ تیرا دوست اے سی /اے ایس پی لگ گیا ہے جو مرضی کرے۔ واقعی جو مرضی کرتے پھر رہے ہیں بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں مارا ماری کررہے ہوتے ہیں۔
    افسران کے”کنسیپٹ کلئیر“ ہیں اور مائنڈ سیٹ ہے کہ پیسا ہی سب کچھ ہے اس لیے دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔
    اس سے قبل کہ بیوروکریٹ شہرت کی لت میں پاگل ہوجائیں، قوم کے پیسے سے سرکاری افسران کی ذاتی تشہیر اور شخصیت پرستی کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اس غلط روایت سے سرکاری افسران سارا دن نت نئے اشتہارات بنانے اور دکھانے کے سوا کچھ نہ کرتے اور نہ سوچتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملاوٹ کی لعنت، گدھے کا گوشت ،کیا یہی تربیت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور کے بعد اسلام آباد میں گدھے کا گوشت برآمد ، شہریوں کو گدھے کا بالٹی گوشت اور تکے کھلانے کا قومی فریضہ سرانجام دینے والوں کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے پکڑ لیا۔ ملاوٹ تو ایک الگ موضوع ہے اب گدھے اور کتوں کاگوشت برآمد ہونے لگا۔ کیا خوبصورت تربیت کی ہے ہمارے منبرو محراب ۔ نام نہاد پیر خانوں ،گدی نشینوں نے اپنے مریدوں کی ، ہم ترقی پذیر نہیں ہم زوال پذیر قوم بنتے جا رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ایسی قوموں پر قہر نازل ہوئے۔ بھلا ہو پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جس نے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف جہاد شروع کیا ہے یہ جہاد سے کم نہیں ،مخلوق خدا کو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات ،دودھ اور دیگر روز مرہ استعمال کی چیزوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نظر آتی ہے اور نہ جمہوریت تاہم سیاسی گلیاروں میں ہیرو بننے کا شوق پروٹوکول ہوٹر بجانے والی گاڑیاں آگے پیچھے گھومیں ،اسی تک سیاست اور جمہوریت رہ گئی ہے۔ سیاست نے کاروباری روپ دھار لیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے قوم بالخصوص نوجوان طبقے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی ۔شخصیت پرستی کی راہ ہموار کی گئی۔ جمہوریت کے دور حکومت اور آمریت کے دور حکومت میں ہرایک قوم کا نجات دہندہ کہلواتا رہا

    میری عمر بیت گئی کس سے نجات دہندہ کہلواتے رہے ۔ پھر قوم کاہیرو تعلیم ، صحت اور مفاد عامہ کا کوئی معیار مقرر نہیں کر سکے۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے قوم کو یرغمال بنایا۔ عقل اور شعور کے دشمنوں نے قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر عاشقان عمران کو کہتے سنا جا سکتا ہے ہمیں عمران چاہیئے پاکستان نہیں یہ شرک کی انتہا اور شخصیت پرستی کی حدکراس کرنے والی باتیں ہیں۔بلاشبہ وہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں دوسری جماعتوں کی طرح ،ملکی وفاء اور قومی سلامتی کے درمیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ادارے ریاست کی سلامتی ، خود مختاری اور داخلی وخارجی خطرات سے حفاظت کے لئے کام کرتے ہیں ان پر سیاسی جماعتوں کو حملہ آور نہیں ہونا چاہیئے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں ،ہماری سیاسی جماعتوں کی اس سلسلے میں کارکردگی ملی جلی ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں اندرونی اصلاحات ، شفافیت ، میرٹ اور دیگر معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اقربا پروری ، خوراک ، ادویات ،دودھ ، دیگر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں میں ملاوٹ کی وجہ سے ہمارے خون میں ملاوٹ پھیل چکی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے باتوں میں بھی ملاوٹ ، سو ہر کام میں ملاوٹ ہی نظر آتی ہے۔

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • 1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر

    1958سے آج تک،پاکستانی عوام پر برستا قہر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستانی عوام پر برستے اس قہر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ آئیے، آج تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ایک ایسی فریاد ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ اس درد کی داستان ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گھر کر چکا ہے، جب وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، قرضوں، اور طاقتور اشرافیہ کے مظالم تلے دب کر زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ یہ اس قوم کے خون نچوڑنے والے نظام کے خلاف ایک احتجاجی نوحہ ہے۔ یہ سطریں عوام کے لیے ہیں، ان کی چیخوں، ان کے دکھوں اور ان کی بے بسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

    جب ایک ماں بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر پائے، جب ایک باپ بجلی کا بل دیکھ کر دل تھام لے، جب ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں مایوس ہو جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ عوام سے جینے کا حق کس نے چھینا؟ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور ریاستی نااہلی نے عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جینا ایک بوجھ بن چکا ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی اورسب کچھ عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شہری کی تحریر نے یہ درد یوں بیان کیاکہ "تنخواہ وہی، بل دوگنے، زندگی جہنم بن چکی ہے!”جس کا جواب واضح ہےکہ وہ اشرافیہ جو اس ملک کی دولت کو اپنی مٹھی میں قید کیے بیٹھی ہے ،ان میں سیاستدان، جرنیل، سرمایہ دار، جاگیردار ودیگرشامل ہیں جو عوام کے خون سے اپنی سلطنتیں قائم کرچکے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے لیے گئے اربوں ڈالر کے قرضے بظاہر معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہوتے ہیں مگر اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ کیا یہ پیسہ عوام کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوا؟ کیا اس سے ہسپتالوں میں ادویات آئیں؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوئے؟ نہیں! یہ قرضے صرف اشرافیہ کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچتے ہیں اور ان کی عیاشیوں کا ایندھن بنتے ہیں۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو میں واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط نے پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرایا، مگر اصل مجرم وہ حکمران ہیں جو ان رقوم کو عوام کی فلاح کے بجائے اپنی جائیدادیں بنانے پر لگاتے ہیں۔ آج گھی ،کوکنگ آئل،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ قرضے عوام نے نہیں کھائے مگر ان کی قیمت عوام ہی چکا رہے ہیں۔

    کرپشن وہ ناسور ہے جس نے اس قوم کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ گندم سکینڈل، شوگر مافیا، جعلی انوائسز، پانامہ لیکس وغیرہ یہ سب وہ زخم ہیں جو حکمران طبقے نے عوام کے اعتماد پر لگائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق صرف گزشتہ برس 873 ارب روپے کی جعلی انوائسز پکڑی گئیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اس قوم کا خون ہے جو چوسا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی 30 شوگر ملز میں سے 9 شریف خاندان، 5 زرداری خاندان اور باقی ان کے اتحادیوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جو اقتدار میں آکر قومی خزانے کو اپنے خاندانی کاروبار میں بدل دیتا ہے۔ اور جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ "یہ سب سیاست ہے!”

    یہ کہانی نئی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ایوب خان کے دور (1958-1969) سے جڑی ہوئی ہیں، جب محض 22 خاندانوں کو ملکی معیشت کا کنٹرول دیا گیا۔آدم جی، سیہگل، حبیب، داؤد، ولیکہ، منو، فینسی،نشاط اور کریسنٹ جیسے خاندان یہ وہ خاندان تھے جنہیں ریاستی سرپرستی میں زمینیں، صنعتیں اور وسائل دیے گئے۔ گوہر ایوب، جو ایوب خان کے بیٹے تھے نے اپنے سسر جنرل (ر) حبیب اللہ خٹک کے ساتھ مل کر یونیورسل انشورنس اور گندھارا انڈسٹریز جیسی کمپنیوں کو پروان چڑھایا۔ گوہر ایوب کی سیاسی و کاروباری سرگرمیوں نے ریاستی وسائل کو خاندانی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی۔ بی بی سی کے مطابق اس دور کی پالیسیوں نے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو اتنی طاقت دی کہ آج تک وہ طبقہ مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہ 22 خاندان آج 42 ہو چکے ہیں اور بعض تجزیہ کار اس تعداد کو اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ اگرچہ درست اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ اشرافیہ کے طبقات مسلسل پھیلتے جا رہے ہیں۔ شریف، زرداری، ترین، چوہدری اور دیگر خاندان ملکی معیشت، سیاست، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور صنعت پر قابض ہو چکے ہیں۔ شوگر ملز، سیمنٹ، میڈیا ہاؤسز، بینکس ودیگر سب پر ان ہی کا راج ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاستی مشینری تحفظ دیتی ہےاور قانون ان کے دروازے پر دستک دینے سے گھبراتا ہے۔ گوہر ایوب کی سرپرستی میں ایوب خان نے معیشت کو چند خاندانوں کے حوالے کیا، جنہوں نے نجکاری کے نام پر قومی ادارے خریدے اور پھر سیاست میں آ کر ان اداروں کو اپنی جاگیر سمجھا۔ بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق گوہر ایوب نے اپنے والد کے اقتدار سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی اولاد کو بھی اسی ڈگر پر لگایا۔ ان کے بیٹے عمر ایوب آج بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں متحرک ہیں۔ یہ نسل در نسل اقتدار اور دولت کے سوداگر ہیں جو پاکستانی عوام کی تقدیر کے فیصلے اپنے محلات میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔

    کیا یہ ظلم کبھی ختم ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گونجتا ہے۔ جب تک اشرافیہ سے اقتدار اور دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوتا، جب تک قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا، جب تک عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، تب تک یہ قہر جاری رہے گا۔ جب تک عوام سیاسی شعبدہ بازی اور شخصیت پرستی سے باہر نہیں نکلیں گے، باشعور نہیں ہوں گے، سوال نہیں پوچھیں گے، احتساب نہیں کریں گے، تب تک یہی چند خاندان اس ملک کی سانسوں پر قابض رہیں گے۔ لیکن تبدیلی کی کنجی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس ظلم کو سہتے رہیں گے یا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

  • میں خود معاشرہ ہوں

    میں خود معاشرہ ہوں

    "میں خود معاشرہ ہوں،مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں”
    تحریر:ملک ظفراقبال بھوہڑ
    آج ہم اپنے معاشرے کے وہ خدوخال آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے رکھیں جو یقیناً آپ کو بھی اچھے لگیں گے مگر عملاً کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کی راہ اسی وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، بجائے اس کے کہ ہر وقت دوسروں پر انگلی اٹھائے۔
    میں خود معاشرہ ہوں، مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں مگر ہمیں ضرورت کس چیز ہے۔

    خود احتسابی کی ضرورت . جواصلاح کی پہلی شرط
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے، لوگ برے ہو گئے ہیں، ایمانداری ختم ہو گئی ہے، اور اخلاقیات ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ "معاشرہ” کون ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو جواب واضح ہے — "یہ معاشرہ میں خود ہوں، آپ خود ہیں، ہم سب ہیں۔”
    مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی برائیوں پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے، تو ہم یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دفاع میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے جھوٹ، فریب، کرپشن، ریاکاری اور بدتمیزی پر تو چیختے ہیں، مگر اپنے جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض اور خود غرضی کو "چالاکی” یا "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود احتسابی کیا ہے
    اسلام نے فرد کو معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں بارہا "نفس کا محاسبہ” کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    قرآن:
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…”
    (سورۃ المائدہ: 105)
    ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی ذات کی فکر کرو…”
    حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
    "اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے…”

    حدیث نبوی ﷺ:
    "مومن اپنی خطاؤں پر نگاہ رکھتا ہے، اور منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے۔”
    دوسروں کی نشاندہی، اپنی برائی سے فرار ہے
    ہم دوسروں کو نصیحت کرنے کے شوقین ضرور ہیں، مگر خود عمل سے محروم ہیں
    ہم کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں،
    مگر خود سچ چھپاتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں لوگ بدعنوان ہیں،
    مگر خود سفارش اور رشوت کو "ترجیحات میں شامل کرتے ہیں
    ہم کہتے ہیں قوم تباہ ہو رہی ہے،
    مگر خود وقت، بجلی، پانی، وسائل ضائع کرتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں: نوجوان بگڑ گئے ہیں،
    مگر ان کے سامنے ہم نے کون سی اچھی مثال قائم کی؟
    اصلاح کا آغاز خود سے تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں

    اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ:
    مجھے سچ بولنا ہے، چاہے نقصان ہو
    مجھے اپنا وعدہ نبھانا ہے، چاہے مشکل ہو
    مجھے اپنے اندر کی کینہ پروری اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے
    مجھے تنقید سے پہلے اپنا کردار درست کرنا ہے
    تو صرف ایک شخص کی اصلاح نہیں ہوگی، بلکہ ایک نیا معاشرہ جنم لے گا۔
    آئیں چند عملی قدم خود کو بدلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

    روزانہ اپنا محاسبہ کریں:
    آج میں نے کیا غلط کام کیا؟ کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کوئی وعدہ توڑ تو نہیں دیا؟
    تنقید سے پہلے خود پر نظر ڈالیں۔
    جو بات میں دوسروں کو کہہ رہا ہوں، کیا وہ مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے؟
    سوشل میڈیا پر دوسروں کو نہیں، خود کو درست کریں:
    کسی پر تنقیدی پوسٹ لگانے سے پہلے سوچیں کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟
    اپنے بچوں، شاگردوں یا کارکنوں کے سامنے اپنی اصلاحی مثال بنیں۔

    معافی مانگنا سیکھیں:
    اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔
    ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو، لوگ نیک ہوں، جھوٹ، فریب، کرپشن ختم ہو۔
    لیکن اگر ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے، اور صرف دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو اور بڑھائے گا۔
    یاد رکھیں،
    "معاشرہ وہ نہیں جو ہم تنقید سے بدلیں، بلکہ وہ ہے جو ہم کردار سے سنواریں۔”

    لہٰذا، آئیں آج سے عہد کریں:
    "میں خود معاشرہ ہوں، اور تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا!”
    امید ہے آپ کو آج کا موضوع پسند آیا ہوگا اور تبدیلی بھی انشاء اللہ

  • ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسی نسل میں سانس لے رہے ہیں جس نے نئی دنیا کو خوش آمدید تو کہا، لیکن اس راستے میں سب سے پہلے جس چیز کو پیچھے چھوڑا، وہ "ادب” تھا۔ یہ وہی نوجوان نسل ہے جو دنیا بھر کی خبریں اور معلومات ایک کلک پر حاصل کر لیتی ہے، مگر غالب، فیض اور اقبال جیسے نام اس کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جسے نئے گانوں کے بول تو یاد ہیں، لیکن "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” جیسے الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔

    ادب کو زندگی سے یوں الگ کر دیا گیا ہے جیسے وہ کسی پرانے وقت کی چیز ہو۔ اب نہ وہ کلاس میں گفتگو کا حصہ ہے، نہ گھروں میں کتابوں کی مہک باقی ہے، نہ شام کی چائے کے ساتھ افسانوں اور نظموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی اور سوچ کی نرمی اب تیز رفتار ویڈیوز میں کہیں کھو چکی ہے۔

    حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری پہچان، اور ہمارے شعور کا آئینہ ہے۔ جب ادب سے رشتہ کمزور ہوتا ہے تو صرف لفظ نہیں، بلکہ سوچ، احساس اور اخلاق بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ جو نسل خود کو "ڈیجیٹل دور” کی نمائندہ کہتی ہے، وہ اپنی زبان، اپنی شاعری، اور اپنے قصے کہانیوں سے ناآشنا ہے۔ اب بچے قاعدہ پڑھنے کے بجائے موبائل ایپ سے زبان سیکھتے ہیں، اور جوان میر و غالب کو "پرانی باتیں” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مشاعرے خاموش ہو چکے ہیں، کتابیں صرف امتحان کے دنوں میں کھلتی ہیں، اور جہاں کبھی ادبی محفلیں ہوتی تھیں، اب وہاں ڈانس ویڈیوز اور وی لاگز کا راج ہے۔

    ادب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ منٹو کو پڑھیں تو ایک تلخ سچائی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کو سمجھیں تو ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی تحریریں انسان کو اپنے دل میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ادب ہمیں اچھا انسان بننے کا ہنر سکھاتا ہے۔

    آج طالب علم کے لیے ادب ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔ وہ بحث، سوال اور سوچ کے عمل سے دور ہو چکے ہیں۔ اب علم کا مطلب صرف نمبر لینا ہے، نہ کہ سمجھ پیدا کرنا۔ لطیفے، میمز اور کلپس نے گہرے خیال کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف زبان کا نقصان نہیں، یہ سوچ کی سطحیت، احساس کا ختم ہونا، اور ذہنی زوال کی علامت ہے۔

    جب انسان کتاب سے رشتہ توڑتا ہے، تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ شاعری سے دور ہوتا ہے، تو دل سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اور جب وہ کہانیاں نہیں پڑھتا، تو زندگی کو صرف اوپر سے دیکھتا ہے، اس کی گہرائی اسے نظر نہیں آتی۔

    ادب ہمیں سوچنا، محسوس کرنا، اور بہتر انداز سے جینے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ادب کو نصاب کا بوجھ نہ بنائیں، بلکہ دل سے جینے کا ذریعہ بنائیں۔ بچوں کو کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، ان کی رائے سنیں۔ گفتگو اور سوال کی فضا پیدا کریں، تاکہ لفظ صرف لفظ نہ رہیں، بلکہ احساس بنیں، روشنی بنیں، تربیت بنیں۔

    یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی کچھ نوجوان ایسے ہیں جو چپکے چپکے فیض کے اشعار پڑھتے ہیں، کچھ آن لائن بلاگز میں اردو افسانے لکھتے ہیں، اور کچھ ریختہ جیسے پلیٹ فارم پر ادب کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں انہی چراغوں کو ہوا دینی ہے۔

    ادب ہمیشہ زندہ رہے گا…
    اگر ہم زندہ دل، زندہ دماغ، اور زندہ ضمیر کے ساتھ اسے پڑھیں گے، لکھیں گے اور محسوس کریں گے۔

    ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لکھنے والے تو شاید بچ جائیں —
    لیکن پڑھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔