Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    نریندر مودی جب دنیا بھر میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ یعنی روشن بھارت کا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ ایک ایسے ملک کی تصویر دکھاتے ہیں جہاں بڑی بڑی عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی، اور ترقی کی چمک نظر آتی ہے۔ مگر اگر ان چمکتی سڑکوں اور عمارتوں کے پیچھے عام آدمی کی زندگی کو دیکھا جائے تو حقیقت بالکل مختلف ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بھارت آج دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت پر اس وقت 3 ہزار ارب ڈالر کا قرض ہے اور ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 504 ڈالر کا قرض چڑھا ہوا ہے۔

    اس کے مقابلے میں پاکستان کا نمبر اس فہرست میں 33واں ہے، جہاں قومی قرض 260 ارب ڈالر کے قریب ہے یعنی بھارت ہم سے کہیں زیادہ مقروض ہونے کے باوجود خود کو ترقی یافتہ ملک کہلواتا ہے۔

    لیکن اصل فرق معیشت نہیں بلکہ زندگی کے معیار کا ہے۔ بھارت میں لاکھوں لوگ آج بھی بھوکے سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں تقریباً 22 کروڑ افراد روزانہ بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عورتیں اور بچے ہیں جو غذائی کمی اور کمزور صحت کا شکار ہیں۔ یہی نہیں، ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً سات فیصد آبادی کے پاس بیت الخلا (ٹائلٹ) کی سہولت تک موجود نہیں۔ دیہاتوں میں لاکھوں لوگ آج بھی کھلے میدانوں میں رفع حاجت پر مجبور ہیں۔

    اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل ضرور ہیں مگر کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا۔ پاکستان میں ’’احساس‘‘، ’’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘، اور پاکستان بیت المال جیسے سرکاری منصوبے لاکھوں غریب خاندانوں کو خوراک اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں آج بھی لوگوں کے درمیان ہمدردی، خیرات اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی روایت موجود ہے۔

    بھارت کے بڑے شہروں، جیسے دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب ایک ہی کمبل کے نیچے گزر بسر کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد اس قدر زیادہ نہیں۔ یہاں حکومت اور فلاحی تنظیموں نے کئی شہروں میں پناہ گاہیں (شیلٹر ہومز) قائم کی ہیں جہاں لوگ مفت کھانا اور رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت میں دولت چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اکنامک سروے آف انڈیا 2024 کے مطابق بھارت کی کل دولت کا 77 فیصد صرف دس فیصد امیر ترین طبقے کے پاس ہے۔ یعنی عام آدمی کی جیب خالی ہے مگر چند کاروباری خاندانوں کے محلات چمک رہے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ معاشی مسائل ہیں، لیکن دولت کی تقسیم بھارت کے مقابلے میں کچھ بہتر اور متوازن ہے۔ یہاں متوسط طبقہ اب بھی موجود ہے اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

    مودی جب پاکستان کو ’’بھوکا اور ننگا ملک‘‘ کہتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کے زخم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارت میں لاکھوں بچے خوراک اور علاج سے محروم ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2024 کے مطابق بھارت کا نمبر 111 واں ہے، جبکہ پاکستان کا 102 واں۔ یہ فرق چھوٹا ضرور ہے مگر یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بھوک پاکستان سے زیادہ شدید ہے۔

    پاکستان میں عام شہری کی زندگی میں غربت ضرور ہے مگر انسانیت، خودداری اور ہمدردی کی روشنی باقی ہے۔ یہاں اگر کوئی مصیبت میں ہو تو لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ محلے کے دکاندار سے لے کر مساجد تک، ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کو سہارا مل جاتا ہے۔

    اس کے برعکس بھارت کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ دراصل بھوکا بھارت بن چکا ہے، جہاں بڑی عمارتوں کے نیچے بچے بھوک سے بلکتے ہیں اور جدید شہروں کے فٹ پاتھوں پر لوگ چھت کے بغیر سوتے ہیں۔ دنیا کو دکھائی جانے والی ترقی کے پیچھے عام بھارتی شہری کی حالت دگرگوں ہے۔

    پاکستان کے مسائل اپنی جگہ درست ہیں مگر یہاں عوام میں ایک دوسرے کے لیے احساس اور بھائی چارہ زندہ ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اگر ہمارے وسائل صحیح استعمال ہوں، بدعنوانی پر قابو پایا جائے اور تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو پاکستان اس خطے کا سب سے مضبوط انسانی معاشرہ بن سکتا ہے۔

    آج بھارت کا وہی چمکتا دمکتا ’’شائننگ انڈیا‘‘ اندر سے بھوکا، کمزور اور خوف زدہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ارب پتیوں کے محلات جگمگا رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر بھوکے سوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مذہبی نفرت، ظلم اور طبقاتی ناانصافی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے میدان میں بھارت پیچھے جا رہا ہے اور سماجی ناہمواری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تمام معاشی مشکلات کے باوجود، اب بھی دلوں میں امید، ایثار اور ایمان کی دولت رکھتا ہے۔ یہاں کوئی مودی نہیں جو اقلیتوں کو جلائے، کوئی انتہا پسند حکومت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرے۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کی عوام کی غیرت، قربانی اور ایک دوسرے کے لیے محبت ہے۔

    مودی کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ صرف نعرہ ہے جبکہ پاکستان حقیقت ہے۔ وہ حقیقت جو کم وسائل کے باوجود جینے، ڈٹ کے رہنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اب وقت دور نہیں جب مودی کا مصنوعی چمک دمک والا بھارت اپنی نفرتوں کے بوجھ تلے دب جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ اصل روشنی، اصل شان، اصل وقار صرف پاکستان کے پاس ہے۔ کیونکہ پاکستان نہ کسی کی زمین پر بنا، نہ کسی کے سائے میں زندہ ہے،بلکہ پاکستان خودمختار اور آزاد پاکستانیوں کی سرزمین ہے .
    پاکستانی عوام و پاکستان زندہ باد ،افوج پاکستان پائندہ باد۔

  • خط بنام رسول خدا حضرت  محمد  ﷺ (پتہ:  مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)
    "فاطمہ ؓ کے بابا حسنینؓ کے نانا پہ لاکھوں سلام”
    "پیارے کریم آقا ﷺ!
    سب سے پہلے ادب کی کمی پیشی اور جذبات و تصورات کی بے لگام بے ترتیب عکاسی پر آج کے دور کا یہ بدو ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگتاہے۔
    حضور ﷺ آپ کے اس مجرم نے اپنی بداعمال حیات کی نجات کو آپ کی محبت سے منسوب کیا ہے۔ شرف سماعت کا احسان بخشیں۔
    آقا جی مجھے دشمن نفس کی جب پہچان ہونے لگی تومیں ناراضگی خدا میں بہت دُور نکل چکا تھا مجھے اپنے خساروں کا پچھتاوا ستانے لگا۔
    زندگی کی عصر ہو چکی مغرب سر پر ہے عشاء نزدیک ہے آخرزندگی زمین کی آغوش کا مقدر ہو جانی گئی۔
    اتنے کم بچے وقت میں گزری حیات کی ساری قضاؤں کا کفارہ کیسے ادا ہو سکے گا؟
    دنیا کے سارے معاملے بے معنی ہو کر رہ گئے اورروزآخرت والی نفس و نفسی کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔
    میں خدا کے حضور آنکھوں کے کٹوروں میں ندامت کے اشک بھر کر پیش کرنے گیا اور گمان تھا کہ خدا کی جانب سے دل کا کاسہ معافی کے تحفے سے بھر کر واپس لوٹے گا۔۔۔مگرایسا نہیں ہوا۔خدا کے اصولوں کا جہان الگ ہے۔
    خالی برتن کا لوٹنا بہت غمناک تھا۔اس سے بڑی کیا نالائقی ہو گئی کہ بندہ خدا سے خدا کو ہی نہ کما سکے۔
    ندامت کے آنسووں سے تو توبہ کے مرجھائے پھولوں پر بھی بہار آ جاتی ہے مگر میرے وجود کے آنگن اندرگردش کرتی خزاں میں
    اُمید کے درخت سے آس کے گرتے زدر پتوں کی کھنکھناہٹ کا افسردہ ماحول طاری تھا۔
    میں بارگاہ خداوندی سے اپنے اعمال نامے جیسا دل کا خالی برتن ہاتھوں میں لیے لوٹ تو آیامگر مایوس نہیں تھا۔
    کیونکہ آقا ﷺمیں آپ کو جانتا مانتا چاہتا ہوں آپ ہر طرح کے گنہگار کو اپنے دامن رحمت کی پردہ پوشی میں چھپا لیتے ہیں
    آپ خداکو اپنے رُخ انورسے منا لیتے ہیں۔
    حضو ر ﷺ میں مال اور اعمال کا کنگال بندہ پرواز رُوح سے مدینہ منورہ کے تصوراتی سفر پہ نکل پڑا۔
    میں مسجد نبوی میں عین روضہ رسول ﷺ کے سامنے نماز توبہ کی ادائیگی میں یوں رب کو سجدہ کررہا ہوں کہ سر حضور ﷺکے سامنے بھی جھک رہا ہے۔ خدا کو سجدہ اور حضور ﷺکا ادب کمزورایمان کوقبولیت کے قابل بنا نے لگے۔
    مدینہ سے دور مدینہ کی یادوں میں تڑپتے جو زندگی گزاری وہ بے قراری اک طرف مگر مدینہ سے واپسی کا نقصان رُوح کی موت جیسا ہے۔
    اپنے وجودکی موجودگی مدینہ اندر رکھنے کو یہ حسرت مچلنے لگی کہ حضور ﷺکسی طرح آپ کواپنے ساتھ لے جاؤں یا خود کوآپ کے پاس رکھوا لوں۔
    میں شدت سے یہ چاہنے لگاکہ مسجد نبوی ؑ کاداخلی دروازہ جہاں جوتے اتار کر پہلا قدم رکھتے ہیں وہاں اپنے دل کو نسب کردوں
    کہ آپ کے در پر آنے والے ہر مسافر کے پیروں کے تلوے میرے دل پر آئیں اور یہ دل مہمان مدینہ کے پاؤں کے بوسے لیتا جائے
    اس منظر کو حضور ؑآپ دیکھ لیں اور تبسم فرما کر ملائیکہ کو حکم فرما ئیں کہ اس دل کو اُٹھا کر ہمارے پاس رکھ دو ہم نے اسے شرف توجہ بخش دیا ہے۔
    یہ فرمان جاری ہوتے ہی خوشبو کی لپٹ میرے جسم و رُوح کو اپنے حصار میں لینے لگی۔
    میں منگتا سخاوت کے آسمان تلے کھڑا کرم کی بارش کو تنگ دامن میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کیے جا رہا ہوں۔
    پھر احساس توجہ رسول ؑمیں عرض کرتا ہوں۔ حضور ؑ خدا سے خدا کو مانگتا ہوں تو آپ ؑ کی جانب بھیج دیا جاتا ہوں۔
    آپ ذات خدا کا رستہ بھی ہیں منزل بھی اور سلیقہ سفر بھی ہیں۔
    حضور ؑ جس خدا نے آپ کو ہم سے ملوایا ہے ہمیں بھی اُس خداسے ملوا دیجئے۔
    یہ محبت محمد ﷺ کامعجزہ ہے کہ اگر حضور ؑآپ کی محبت میں اشک بہیں تو بندہ خودبخود،قرب خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔
    یکدم دل کی زمین پہ یہ خیال اترا کہ ارے پگلے نگاہ مصطفی ﷺ ہی تو نگاہ خدا ہے۔۔ آرزو پیش کر۔۔
    مانگ کیا مانگتا ہے محمد ﷺکے رب سے؟
    میں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگااے رب محمد ﷺ مجھ بداعمال و گنہگار کو روز آخرت حضور ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیجئے گا۔
    میری رُوح کو ہدایت کا غسل دے کر اپنی رضا کا لباس پہنادیجئے گا۔
    حضور ﷺ کی محبت کو میری قبرمیں نور کاچراغ بنا دیجئے گا۔
    قربان جاؤں اپنے رب پہ جس نے بابا آدم ؑ کی تخلیق سے بھی پہلے حضور ﷺ کا نور رحمت سارے جہانوں پر رکھ دیا۔
    پھر ہمیں تقسیم وقت کے اُس حصے میں پیدا فرمایاجہاں حضو ر ﷺ ہم سے پہلے آ کرہمارے لیے دنیاو آخرت کی منزلیں آسان فرما گئے۔
    مجھے یہ جان کر اتنی خوشی نہیں ہوتی کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم سب عالم ارواح میں تھے۔
    جتنی خوشی یہ جان کر ہوتی ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم حضو ر ﷺ کے عالم دُعا میں تھے۔
    مجھے تو اُس منظر کے تصور نے کبھی احساس فخر سے نکلنے ہی نہیں دیا کہ حضور ﷺ جب آپ بشری روپ میں انسانوں کے درمیان تشریف لا ئے تھے تو آسمان کے تمام ملائکہ زمین پر نور افشانی کر تے ہوئے وجود انسان کو حسرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آرزو مند ہوئے کہ اے کاش ہم محبوب خدا ﷺکی اُمت سے ہوتے۔۔۔
    حضور ﷺ یہ غلام اپنے مقدروں پہ ناز کر تا درود شریف کا ہدایہ پیش کرتے یہ درخو است کرتا ہے کہ اپنے مقدس قدموں میں جگہ عطا فرمائیے کہ آپ کا یہ دیوانہ آپ کے نعلین مبارک کے نیچے آنے والے ہر زرے کا بوسہ لے آنکھوں سے لگائے اور دل میں رکھ لے۔
    والسلام!
    آپ کا گنہگار اُمتی!
    ظفر اقبال ظفر رائیونڈ لاہورپاکستان

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔

  • امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، جد و جہد اورعزم سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے لاہور کے رہائشی 25 سالہ پاکستانی مصنف حسن صدیقی کا ، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے افق پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ حسن صدیقی اُن گنے چنے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو انسانیت، ہمدردی اور امید کے پیغام کا ذریعہ بنایا، اور دنیا کو دکھایا کہ اصل قومی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو علم و اخلاق کے ذریعے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    Cupertino Library میں پہلا پاکستانی مصنف
    حال ہی میں حسن صدیقی نے ایک اور نمایاں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ اُن کی کہانی "A Hope for One Homeless” کو 10 اکتوبر 2025 کو World Homeless Day کے موقع پر امریکہ، کیلیفورنیا کی معروف عوامی لائبریری Cupertino Library میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ لائبریری Silicon Valley کے علمی و ثقافتی مراکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور Apple کے عالمی ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتی ہے۔

    یوں حسن صدیقی وہ پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا کام اس نمایاں امریکی ادارے میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو نہ صرف اُن کی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے تخلیقی نوجوانوں کی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔

    ادبی سفر کا آغاز، ماں کی جدائی اور کم عمری کی ذمہ داریاں
    حسن صدیقی کی زندگی کا سفر آسان نہ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد زندگی نے اُنہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ کم عمری میں گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی تقاضے ایک ساتھ نبھانا اُن کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اُن کے والد ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں، اور محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ بیٹے کے خوابوں کو جینے دیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں سے حسن صدیقی نے سیکھا کہ اصل کامیابی وسائل سے نہیں، عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ مایوس کن حالات اور محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کا بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔

    کینٹربری کیتھیڈرل میں عالمی اعزاز
    اس سے قبل دسمبر 2024 میں، حسن صدیقی کی کہانی “A Christmas Homeless” برطانیہ کے عظیم تاریخی و ثقافتی ورثے کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جو یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل ہے۔ یہ کہانی دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک وہاں نمایاں طور پر آویزاں رہی۔ یہ اعزاز صرف اُن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا، کیونکہ وہ اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر نمایاں ہونے والے پہلے پاکستانی مصنف بنے۔
    حسن صدیقی کی اس کامیابی کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا, جن میں برطانوی حکومت (7 جولائی 2025)، یونیسکو (20 جولائی 2025)، اقوامِ متحدہ (19 اگست 2025)، اور برطانوی ہائی کمیشن پاکستان (20 مئی 2025) شامل ہیں۔ یہ تسلیم شدہ اعزاز اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی عالمی ادب کے افق پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    وطن میں خاموشی کیوں؟
    جب ایک نوجوان اپنی تحریر سے دنیا بھر کے قارئین کے دل جیت لے، عالمی تنظیمیں اس کے کام کو سراہیں، تو یہ لمحۂ فخر ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں جب ایسے نوجوانوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ہمارے قومی ہیرو کب پہچانے جائیں گے؟

    ادب، فن اور ثقافت کسی قوم کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک مصنف اپنے الفاظ سے دنیا میں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق ک پیغام پھیلا رہا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے باعثِ عزت ہونا چاہیے۔

    ورلڈ اسکالرز کپ اور عالمی ادبی پلیٹ فارمز میں نمایاں کامیابیاں، NASA
    حسن صدیقی کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں ہیں، انہوں نے NASA سے مضمون نویسی میں اعترافی سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ World Scholars Cup میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ کے طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی، ان کی تحریریں Spillwords Press، Illumination، Storymaker اور دیگر بین الاقوامی ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں اور ان کی کتاب Twenty Bright Paths: Stories of Growth & Learning امریکہ میں شائع ہوئی، جسے نوجوان قارئین نے بے حد سراہا، اور یہ حسن صدیقی کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت پاکستانی مصنف کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنی۔


    خواتین کے لیے آواز: “The Female Times”
    حسن صدیقی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی شعور رکھنے والے لکھاری بھی ہیں۔ وہ دی فیمل ٹائمز کے بانی ہیں ، ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لیے وقف ہے۔یہ پلیٹ فارم اُن خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ حسن صدیقی کا ماننا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین اپنی بات خود کہہ سکیں اور اپنی جدوجہد کو کھلے عام پیش کر سکیں۔

    حکومتی اعتراف اور قومی فخر کی ضرورت
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو قومی ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اُن کے ملک کی پہچان ہیں۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سطح پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

    حسن صدیقی کی مسلسل عالمی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر حکومت ایسے مصنفین کو سرکاری اعزازات، مالی معاونت، اور سرپرستی فراہم کرے تو یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کرے گا۔حسن صدیقی نے ثابت کیا ہے کہ وطن کے حقیقی سفیر وہی ہوتے ہیں جو عمل، اخلاق، اور علم سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ آج بھی اس یقین کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی اُن کی کاوشوں کو تسلیم کرے گا ، کیونکہ قومی ہیرو ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لکھتے ہیں، چاہے قوم اُنہیں کب تسلیم کرے۔

  • جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    افغانستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ طالبان حکومت جو اگست 2021 میں اقتدار میں آئی تھی، دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ کوئی باقاعدہ حکومت قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی انتخابات کرا سکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکمرانی کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں طالبان حکومت کو اندرونی اختلافات، خراب معیشت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونی دباؤ اور پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان سے کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تمام حالات مل کر طالبان کی حکومت کو زوال کے دہانے پر لے آئے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    طالبان کے اندرونی اختلافات ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے درمیان طاقت کی کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں طالبان کے ہر ماہ تقریباً سو جنگجو مارے جا رہے ہیں، جس سے طالبان کے اندر بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ اخوندزادہ نے اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ طالبان حکومت میں بدعنوانی، طاقت کا غلط استعمال اور عوامی مسائل سے لاتعلقی نے عام لوگوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کئی طالبان کمانڈر اب اپنے دھڑے بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ افغان تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایسی اندرونی تقسیم پیدا ہوئی، حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکی۔

    افغانستان کی معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان حکومت بیرونی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اب دنیا کے ممالک نے امداد بند کر دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی معیشت تیزی سے گر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ طالبان نے اب تک کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ نہیں بنایااور منشیات کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی تجارت بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے طالبان کو “ڈالر کے بھوکے اسمگلرز” کہا جانے لگا ہے۔ زلزلوں اور قدرتی آفات نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بجلی، پانی، صحت اور خوراک جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں۔ بھوک اور افلاس نے عوام کو طالبان سے متنفر کر دیا ہے اور یہ عوامی غصہ کسی بھی وقت بغاوت میں بدل سکتا ہے۔

    طالبان کی خواتین کے خلاف سخت پالیسیوں نے ان کی حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئی ہیں، خواتین کو دفاتر اور امدادی اداروں میں کام سے روک دیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے افغان معاشرہ تقسیم ہو گیا ہے۔ عالمی برادری نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے اور زیادہ تر ممالک نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شریعت کے نام پر ظلم و جبر کے باعث عوام کے اندر طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی اب تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور ایک دوسرے پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات روز بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سہولت فراہم کرنے کا الزام نہیں لگاتا ہے بلکہ ثبوت دئےمگر طالبان حکومت ان گروہوں کی پشت پناہی اور بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال کررہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان حالات نے طالبان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے اور وہ اندرونی و بیرونی دونوں دباؤ میں آ چکے ہیں۔

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے طالبان کو شروع دن سے سہارا دیا۔ 1990 کی دہائی سے لے کر 2021 تک پاکستان نے طالبان کی سیاسی، سفارتی اور فوجی مدد کی۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ طالبان نے پاکستان کے مخالف ملک بھارت سے ڈالرز کے عوض ہاتھ ملالیاہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر متقی نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے، یہاں تک کہا کہ “پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کھیل کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے”۔ یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنا۔

    طالبان کی غلط پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین سرحد پار کر کے واپس افغانستان جا رہے ہیں، لیکن طالبان حکومت ان کی بحالی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان مہاجرین کی واپسی طالبان کے لیے نیا بحران بن چکی ہے، کیونکہ ان میں سے کئی لوگ طالبان مخالف قوتوں سے دوبارہ جڑنے لگے ہیں۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ طالبان مخالف جنگجو گروہ دوبارہ متحد ہو رہے ہیں اور شمالی اتحاد کی طرز پر ایک نئے محاذ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی قوتیں طالبان حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    طالبان حکومت اس وقت ہر طرف سے دباؤ میں ہے، اندرونی لڑائیاں، خراب معیشت، عوامی غم وغصہ، خواتین پر ظلم، ہمسایہ ممالک سے دشمنی اور عالمی تنہائی۔ جب کوئی حکومت عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے اور اپنے پڑوسیوں سے تعلقات خراب کر لیتی ہے تو اس کا زوال صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے۔ اوراس وقت ڈالروں کے بھوکے اسمگلرز طالبان کے اقتدار کا انجام قریب دکھائی دے رہا ہے۔

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    صحافت کسی بھی معاشرے کا چوتھا ستون ہونے کے ساتھ ایک عظیم سماجی فریضہ بھی ہے، جسے وہی فرد بخوبی نبھا سکتا ہے جو فکری وسعت، معاشرتی شعور اور تحقیقی بصیرت سے آراستہ ہو۔

    ڈیرہ غازی خان کی علمی و صحافتی دنیا میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ایک نمایاں اور معتبر نام ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی بصیرت افروز انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سچائی کی تلاش، اصلاحِ احوال کا جذبہ اور معاشرتی درد نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

    ڈاکٹر بڈانی نے ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر طبی خدمات انجام دیں، مگر ان کے اندر موجود ایک حساس اور فکری شخصیت نے انہیں سماجی شعور کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے طب کے شعبے کو خیرباد کہہ کر صحافت اور قلم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا، تاکہ وہ معاشرے کے زخموں کا مداوا کر سکیں۔

    ان کے کالمز قومی و علاقائی اخبارات کے علاوہ اردو پوائنٹ اور باغی ٹی وی جیسے معتبر پلیٹ فارمز پر تسلسل سے شائع ہوتے ہیں۔ ان کی دیانتدارانہ رپورٹنگ اور مدلل کالم نگاری نے انہیں قومی سطح پر پہچان دلائی، جس سے ڈیرہ غازی خان کا نام بھی روشن ہوا۔ معروف اینکر پرسن و سینئر صحافی مبشر لقمان نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں باغی ٹی وی کے انچارج نمائندگانِ پاکستان کا منصب سونپا، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد اور قابلیت کا عملی ثبوت ہے۔

    ایک تقریب کے دوران سیالکوٹ میں ایوارڈ وصول کرتے وقت مبشر لقمان نے اسٹیج پر ڈاکٹر بڈانی کا نام لیتے ہوئے کہا: "مصطفیٰ صاحب، ڈیرہ غازی خان کو ایوارڈ مبارک ہو۔” یہ الفاظ نہ صرف ڈاکٹر بڈانی کے لیے اعزاز تھے بلکہ ان کے شہر کے لیے بھی فخر کا باعث بنے۔

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے ہمیشہ اپنے خطے کی نمائندگی دیانت، ذمہ داری اور خلوص سے کی۔ قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ آج وہ علم، عمل اور انسان دوستی کی علامت بن کر ڈیرہ غازی خان کی شناخت کا روشن حوالہ بن چکے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور ان کا قلم ہمیشہ حق و سچ کے لیے رواں رہے۔ آمین۔

  • پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    🇵🇰 پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین 🇵🇰
    تحریر:محمد عرفان ڈسٹرکٹ بہاولنگر
    پاکستان کی افواج ہمارے وطن کا فخر اور ہماری سلامتی کی ضامن ہیں۔ یہ وہ بہادر ادارہ ہے جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا دشمن کی جارحیت، ہماری فوج نے ہمیشہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ملک و قوم کا دفاع کیا ہے۔

    یہ وہ نڈر سپاہی ہیں جو سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں برف پوش چوٹیوں پر اور گرمیوں کی تپتی وادیوں میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے حوصلے فولاد سے زیادہ مضبوط، نیتیں پاکیزہ اور جذبے ایمان سے لبریز ہیں۔

    پاکستانی فوج محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک منظم، بااخلاق اور انسان دوست ادارہ ہے جو ہر آفت اور آزمائش کے وقت عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے۔ قوم کو اپنی فوج پر بجا طور پر فخر ہے، اور پوری دنیا ان کے نظم و ضبط، بہادری اور قربانیوں کو سلام کرتی ہے۔

    اللّٰہ ربّ العزت ہماری افواج کو ہمیشہ محفوظ رکھے، انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز پاکستان کو تا قیامت امن، استحکام اور سربلندی سے نوازے۔ آمین۔

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان