Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پہلی قسط
    دریائے چناب کی طغیانی نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ پاکستان میں اصل خطرہ صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن ہے جو ان آفات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اورملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا کے علاقے آج اجڑے ہوئے دیار کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں چند ہی دنوں کے اندر ایسی تباہی آئی جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، کھیتیاں اجاڑ دیں اور زندگیوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔

    سات ستمبر 2025 کو ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ ستاسی ہزار کیوسک تک جا پہنچا اور اس کی زد میں آ کر تقریباً اسی فیصد علاقہ ڈوب گیا۔ اس المیے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ڈھائی ملین سے زائد لوگ متاثر ہوئے اور چالیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین پانی کی نذر ہو گئی۔ مگر یہ سب کچھ محض قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی غلط پالیسیاں، ناقص انجینئرنگ اور کرپشن کی وہ تاریک کہانیاں موجود ہیں جنہیں دبانے کی بارہا کوشش کی گئی۔ یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ سانحہ واقعی قدرتی آفت تھا یا پھر کرپشن کے بچھائے گئے جال کی پیداوار؟

    اگر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ صرف بارش یا دریاؤں کے ریلوں کا نہیں بلکہ انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ ہیڈ پنجند پر ایک ساتھ دریائے چناب، ستلج اور راوی کا ریلا آیا، ابتدا میں پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ پچھتر ہزار کیوسک تک جا پہنچا جو بعد میں کم ہو کر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار کیوسک رہ گیا، لیکن تب تک تباہی اپنا کام کر چکی تھی۔ علی پور اور جلال پور پیر والا کے کھیت، جہاں کپاس، گنا اورچاول لہلہا رہے تھے، پانی میں بہہ گئے۔ ہزاروں گھروں کی دیواریں بیٹھ گئیں، لاکھوں افراد اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہو گئے اور مقامی معیشت کو ایسا دھچکا لگا جس کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔

    ماہرین اور ماحولیاتی تجزیہ کار اس تباہی کو 2022 کے سندھ کے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں جہاں چھ ماہ تک پانی کھڑا رہا تھا۔ان میں نمایاں آواز پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہے جنہوں نے اپنی تحقیق اور ویڈیوز میں بارہا خبردار کیا کہ ہیڈ پنجند کے قریب محض نوّے میٹر کے فاصلے پر تعمیر کی گئی ڈاؤن اسٹریم دیوار پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ دیوار دو میٹر تک پانی کی سطح بلند کر دیتی ہے اور ریلا قدرتی سمت میں آگے جانے کے بجائے بستیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین انجینئرنگ ناکامی تھی، جس پر برسوں سے وارننگ دی جاتی رہی مگر حکام نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔

    یہاں آ کر معاملہ واپڈا کے اس منصوبے پر کھلتا ہے جسے 2018 میں ”ہیڈ پنجند ری ماڈلنگ” کے نام سے شروع کیا گیا۔ اس پر پچاس ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی اور اسے ملک کی آبی گورننس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے گا اور آنے والے برسوں میں سیلابی خطرات کم ہو جائیں گے۔ لیکن آزاد آڈٹ رپورٹس نے ان دعوؤں کی حقیقت عیاں کر دی۔ ان رپورٹس کے مطابق منصوبے میں استعمال ہونے والا کنکریٹ اور مٹیریل ناقص تھا، ڈیزائن میں بنیادی نقائص موجود تھے اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز درستگی سے تیار ہی نہیں کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود عوام کو تحفظ دینے کے بجائے مزید خطرے میں ڈال دیا گیا۔

    ڈاکٹر ذوالفقار علی نے 2010 ہی سے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے والی دیواریں تعمیر کی گئیں تو نہ صرف پنجند بلکہ گڈو بیراج تک کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔ یہ پیش گوئی 2022 میں درست ثابت ہوئی جب سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیس فیصد تبدیلی ریکارڈ کی گئی اور ہزاروں گاؤں ڈوب گئے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ 2023 میں جب واپڈا کی اندرونی انکوائری شروع ہوئی تو اسے اچانک روک دیا گیا۔

    پھر 2024 میں سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس لیا مگر نتیجہ وہی نکلا جو اکثر ایسے معاملات میں نکلتا ہے، خاموشی اور پردہ پوشی۔ مقامی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر آنے والی شہادتوں نے اس سانحے کا ایک اور رُخ بھی کھولا۔ کئی عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ سیلاب کے دوران بیراج کے گیٹس جان بوجھ کر بند رکھے گئے تاکہ بااثر زمینداروں اور سیاستدانوں کی زمینیں محفوظ رہیں، جبکہ عام بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف انجینئرنگ کی ناکامی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی ناکامی بھی اس تباہی کے پیچھے کارفرما ہے۔ طاقتور طبقے نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے عام انسانوں کو قربانی کا بکرا بنایا اور اس عمل میں حکومت نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
    (جاری ہے)
    ریفرنسز:
    (7-18 ستمبر 2025): "Pakistan Floods 2025: Ali Pur and Jalal Pur Updates” – https://www.dawn.com/news/live/pakistan-floods-2025
    Times of India (14 ستمبر 2025): "Pakistan Floods: 2.5 Million Affected in Punjab” – https://timesofindia.indiatimes.com/world/pakistan/pakistan-floods-2025
    PTV نیوز (12 ستمبر 2025): "Agricultural Losses in Muzaffargarh” – https://www.ptv.com.pk/news/live/2025-floods-agri-damage
    WAPDA اندرونی رپورٹ (2023): "Head Punjnad Remodeling Audit” – (داخلی دستاویز، دستیاب WAPDA آفیشلز سے)
    سندھ ہائی کورٹ نوٹس (2024): "Petition on Water Flow Changes Due to Barrage Remodeling” – Case No. WP/1234/2024
    باغی ٹی وی رپورٹس (2025): "Mega Corruption in Superband Project” – https://login.baaghitv.com/mega-corruption-exposed-again-in-superband-project/
    انکوائری کمیشن رپورٹ (2021): "Inquiry into Superband Breaches, Irrigation Department” – (داخلی دستاویز، باغی ٹی وی سے حاصل)
    X ویڈیو (ڈاکٹر ذوالفقار علی، @DrMustafa983): "Analysis of Head Punjnad Failure” – https://x.com/
    DrMustafa983/status/1968931780943122503

  • سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے  بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک فوج اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کامیاب حکمت عملی ،سید عاصم منیر پھر ہیرو ٹھہرے
    معرکہ حق میں شاہینوں کی فتح سے پاکستان کی طاقت کو دنیا نے مان لیا،بیرونی توازن قائم
    ملک کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت،کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہوگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان نے بعض امور میں واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے مثلاً فلسطین کے مسئلے، بین الاقوامی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک بلاک کی زبان نہ بولنا پڑے،اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے، مہنگائی اور مالیاتی خسارے سمیت بہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں، بیرونی طاقتیں زیادہ تر معاشی استحکام دیکھ کر اعتماد کرتی ہیں،بدعنوانی، معاشرتی و سیاسی عدم استحکام اور داخلی سیکورٹی کے مسائل سفارتی موقف کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کو اکثر انسانی حقوق، سیاسی آزادی وغیرہ کے معاملات میں عالمی تنقید کا سامنا رہتا ہے، بعض اوقات حکومتی تبدیلیاں یا سیاسی کشمکش کے باعث سفارتی پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں ،جس سے بیرونی پارٹنرز میں اعتماد کم ہو جاتا ہے، پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی بنیادی طور پر فعال متوازن اور اصولی ہے، عالمی سطح پر ایک ایسا کھلا اور بات کرنے والا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ معاملات کو حتمی شکل دیتا ہے، اس حکمت عملی نے اسے کچھ معاشی فوائد، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور عالمی فورمز میں زیادہ سنی جانے والی آواز دی ہے، یاد رہے کامیابی کا دارومدار صرف سفارتی باتوں پر نہیں داخلی استحکام معاشی، سیاسی، سکیورٹی، شفافیت اور حکومت کی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل، مواصلاتی حکمت عملی، ڈپلومیسی کے ذریعے تاثر کو منظم کرنا شامل ہے،داخلی صورت حال میں ملک کے تمام اداروں کو جن میں سول بیوروکریسی، بیوروکریٹ، اعلیٰ پولیس افسران، اقرباءپروری کرنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کرپشن میں ملوث مختلف سول ادارے لینڈ مافیا کے پشت پناہ، سول انتظامیہ اور دیگر اپنا قبلہ درست کریں اور سفارتی حکمت عملی پر عمل کریں، اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر قربان کریں، عوام بھی بھرپور ساتھ دیں تو وطن عزیز کا دنیا میں اہم کردار مزید مستحکم ہو سکتا ہے، علم اور عمل کے سفر پر گامزن ہو جائیں، موجودہ سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو طاقتور اور ایک ذمہ دار ملک بنا دیا ہے،بلاشبہ پاکستان کی موجودہ بین الاقوامی سفارتی حکمت عملی میں پاک فوج جملہ اداروں اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے

  • کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    معروف آزادی پسند کشمیری رہنما اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ مختصر علالت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ مسلم کانفرنس کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے فارسی، اقتصادیات اور سیاسیات میں گریجویشن، فارسی میں ماسٹرز اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارسی کے پروفیسر بھی رہے، تاہم آزادی پسند سرگرمیوں کی پاداش میں قابض بھارتی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

    مرحوم 1987 میں مسلم متحدہ محاذ کے سرگرم رکن رہے اور اس دوران بھارتی انتظامیہ کی دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد انہیں گرفتار کر کے کئی ماہ تک قید میں رکھا گیا۔پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے 1993 میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے داعی تھے اور اپنی جدوجہد کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ زندگی بھر بھارتی مظالم کے خلاف ڈٹے رہے اور آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں لے کر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے خلاف اپیل، کل سماعت ہوگی

    دورہ چین، صدر زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

    افغانستان میں فائرنگ کے دوران بی ایل اے کمانڈر استاد مرید ہلاک

    ٹرمپ کی ٹک ٹاک پابندی کی مدت میں چوتھی بار توسیع

    ایشیا کپ: ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی پاکستانی ٹیم سے معافی،وڈیو جاری

  • اسلامی اتحادعوامی  خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلامی اتحادعوامی خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے موجودہ عالمی دنیا کو دیکھا جائے تو مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم بنیادی طور پر اپنی بقاء، طاقت اور معاشی مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسلام بطور دین ہمیں حق اور انصاف، مظلوم کی حمایت اور باہمی اتحاد کا درس دیتا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کی حکومتیں ہمیشہ ان اصولوں پر نہیں چلتیں ان کی سیاست اکثر بین الاقوامی تعلقات، طاقت کے توازن معیشت اور اپنی کرسی بچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسلامی جنگ یا اسلامی اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو عملی طور پر وہ زیادہ نعرہ ہی رہتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عرب اسرائیل جنگوں میں بھی عرب ممالک متحد ہو کر نہیں لڑ سکے کشمیر یا فلسطین جیسے مسائل پر بھی مسلم دنیا کا موقف تو ہے لیکن عملی اتحاد اور حقیقی قربانی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی بار مسلم ممالک آپس میں ہی جنگوں میں الجھے ہیں جس کی مثالیں موجود ہیں۔

    آج کی جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں مسلم ممالک کی عوام میں درد، محبت اور دینی غیرت اب بھی زندہ ہے لیکن حکومتوں کی سطح پر زیادہ تر فیصلے سیاسی و معاشی مصلحتوں کے تابع ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں حکمران اپنی کرسی اور اقتدار بچانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں قومی مفادات کو اسلامی اتحاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ، روس، چین وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد فیصلے نہیں کر پاتے۔ شیعہ، سنی صوفی، وہابی وغیرہ تقسیمیں اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑے ممالک جیسے ایران اور سعودیہ عرب اپنے اپنے بلاکس بنانے میں لگے رہتے ہیں جس کا نتیجہ دشمنی اسلامی بھائی چارے پر غالب آ جاتی ہے۔ ترکی، ایران، عرب ممالک اور برصغیر کے اپنے اپنے قومی ایجنڈے ہیں ہر ملک اپنی زبان نسل اور جغرافیے کو ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ سے (اُمتِ واحدہ) کا تصور عملی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا میں بے شمار وسائل ہیں تیل، گیس، مدنیات، افرادی قوت مگر ان کا استعمال بکھرا ہوا ہے۔ امیر مسلم ممالک غریب مسلم ممالک کی سنجیدگی سے مدد نہیں کرتے مسلم دنیا میں سوچنے اور سوال کرنے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ زیادہ تر زور جذباتی نعروں پر ہے عملی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالمی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر مسلم ممالک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسلامی اتحاد اسلامی ممالک کی عوام کی خواہش تو ہے لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں۔ جب تک قیادتیں اپنے ذاتی مفادات کو اُمت کے مفاد پر قربان نہیں کریں گی اتحاد محض تقریروں اور قراردادوں تک محدود رہے گا۔

  • زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کا حالیہ بیان ملاحظہ کیجیے:
    "سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا۔ اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ ‘دہشت گرد آ گئے ہیں’ قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دیے گئے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔

    افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی 9/11 کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسايا جا رہا ہے تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالفت الی کو خوش کیا جا سکے اور مغرب کے سامنے ایک ‘نجات دہندہ’ بننے کی کوشش کی جائے۔”

    یہ الفاظ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
    عمران خان کی زبان ایک سنجیدہ قومی رہنما کی بجائے ایک مایوس سیاستدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ قوم میں جھگڑا اور بے اعتمادی بڑھانے والا ہے، جبکہ مسئلے کے حل کی طرف توجہ کم ہے۔

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی؛ یہ خاندان یہاں بس گئے، یہاں کے معاشرے کا حصہ بنے۔ مگر اسی عرصے میں کچھ کیمپوں اور بستیوں میں منشیات، اسمگلنگ اور چھوٹے جرائم کے نیٹ ورک بھی ابھرے۔ سرکاری رپورٹس اور بعض عدالتی فیصلوں نے یہ بات اجاگر کی کہ شناختی دستاویزات کے معاملے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حقائق عوام کے تحفظ کے سوالات کو جُھٹلا نہیں سکتے۔

    سوال بنیادی ہے: جب کسی ملک کے شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو تو ریاست کی ذمہ داری کیا ہو گی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت ترک کر کے غیر محدود پالیسی اختیار کرے؟ یہ اخلاقی اور سیاسی بحث جذباتی ہمدردی سے علیحدہ ہو کر ترتیب سے ہونی چاہیے۔ جب کوئی سابق وزیراعظم مہاجرین کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے تو اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری — عوام کی حفاظت — کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

    "فالس فلیگ” کا الزام سنگین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت قربانیاں دیں۔ سوات، وزیرستان، بلوچستان اور کراچی کے محاذوں پر سینکڑوں جوان اور افسران نے جانیں دیں۔ یہ سب قربانیاں محض کوئی ڈرامہ نہیں ہو سکتیں۔ ایسے الزامات شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور قومی جذبہ متاثر ہوتا ہے۔

    قابلِ توجہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے دوران جانی نقصان ہوا۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد دوبارہ آزادانہ انداز میں قدم جما لیں تو ریاست کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ ماضی میں بعض مذاکراتی تجربات نے یہ دکھایا کہ عبوری مفاہمت کے بعد کچھ گروہیں دوبارہ طاقت پکڑ گئیں۔ اسکول، پولیس چوکیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی نے ادا کی ہے۔ کیا ہم وہی خطرہ دہرانا چاہتے ہیں؟

    جنرل عاصم منیر کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ ایک اور حساس موضوع ہیں۔ پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر فوج کی نیت پر براہِ راست شبہات اٹھانا انتہائی نازک امر ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس قسم کے الزامات اداروں اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسیوں کی شفافیت پر سوال اٹھائیں، شواہد مانگیں، مگر ایسے بیانات جو اداروں کی نیت کو مشکوک کریں، ان کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

    ایک بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اکثر اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا اداروں پر ڈالتے آئے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل واضح رہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو کئی چیلنجز کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے؛ اب جب وہ جیل میں ہیں تو ہر مسئلے کا ذمہ دار ادارہ قرار دینا آسانی بن گیا ہے۔ یہ بیانیہ کسی قومی رہنما کے بجائے ذاتی انا کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے منفی نتائج طویل المدت ہوتے ہیں۔

    بار بار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پالیسیاں "مغرب کو خوش کرنے” کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ دشمن ممالک اسی طرزِ بیان کے ذریعے پاکستان کو کمزور یا کنٹرولڈ دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کسی معتبر سیاستدان کے منہ سے اس بیانیے کی تکرار، ناقدین کے نزدیک، ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کرتی ہے۔قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کس سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کیا وہ ایسے لیڈر کو برداشت کرے گی جو ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتا ہے؟ کیا وہ ایسے بیانات قبول کرے گی جو اداروں اور عوام کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دیں؟ پاکستان کی سلامتی کسی فرد یا سیاسی جماعت سے بڑی ہے۔ ادارے مضبوط رہیں تو ریاست مضبوط رہے گی؛ اور مضبوط ریاستی ادارے ہی ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما رہ سکتے ہیں۔

  • مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    "کیا واقعی اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہیں؟”
    ہمارے معاشرے میں بچپن سے یہی سوچ ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے کہ امتحان میں اچھے نمبر لاؤ، ڈگری حاصل کرو اور پھر ایک اچھی نوکری کے ذریعے "بڑے آدمی” بن جاؤ۔ لیکن حقیقت اس سوچ سے کہیں مختلف ہے۔ آج بہترین ڈگری رکھنے والے نوجوان بھی بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور نوکری مل بھی جائے تو وہ مالی آزادی دینے سے قاصر ہے۔
    "معروف کتاب Rich Dad Poor Dad کے مصنف رابرٹ کیوساکی کے مطابق: ‘غریب اور متوسط طبقہ پیسے کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ امیر طبقہ پیسے کو اپنے لیے کام پر لگاتا ہے’۔” یہی بنیادی فرق ہمارے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارا تعلیمی نظام، جو نوآبادیاتی دور کی باقیات میں سے ہے، طلبہ کو صرف ملازمت کا غلام بناتا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ پیسے کو کس طرح اپنے لیے کام پر لگایا جائے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں رٹنے کا رجحان عام ہے، طلبہ کو صرف وہ معلومات یاد کرائی جاتی ہیں جن کی بدولت وہ امتحان میں کامیاب ہوسکیں، مگر عملی زندگی کے مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ڈگریاں تو بانٹ رہی ہیں، لیکن وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند نوجوان پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ اکنامک سروے 2024 کے مطابق، ملک کی 26 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایسے عملی ہنر موجود نہیں جو مارکیٹ کی ضرورت ہیں۔ اگر یہ نوجوان مالیاتی شعور اور ہنر سے لیس ہوں، تو ملکی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگر ہم عملی تربیت کی مثال دیکھنا چاہیں تو پشتون معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں، جہاں بچے صرف اسکول نہیں جاتے بلکہ بچپن ہی سے اپنے والد کے ساتھ دکان یا کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اور یہی تربیت انہیں محنت کی عادت، مالی نظم و ضبط اور کاروباری ہنر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے خود بھی روزگار کماتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرزِ فکر کو ہم سنگاپور اور جرمنی جیسے ممالک کے تعلیمی ماڈلز میں بھی دیکھتے ہیں، جہاں نوجوانوں کو شروع ہی سے عملی ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اسی سوچ کے تحت آگے بڑھی ہیں کہ نوجوان صرف نوکری کے خواہاں نہ ہوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی نوکریاں پیدا کرنے والے ہوں۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کو نوکری کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے ذہن تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں
    بچوں کو بچت، بجٹ سازی اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔
    رٹے کے بجائے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ متعارف کرائی جائے، مثلاً چھوٹے کاروباری منصوبے شروع کروائے جائیں۔
    اساتذہ کو مالیاتی اور کاروباری تعلیم سکھانے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
    ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو چاہیے کہ مالیاتی تعلیم کو پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے نصاب میں لازمی شامل کرے۔

    بحیثیت والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بچوں کو صرف ڈگری کے پیچھے دوڑانے کے بجائے انہیں اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور خطرہ مول لینے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ نوکری ایک ذریعہ ہے، حتمی مقصد نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب نوجوان روزگار پیدا کرنے والے اور مالی طور پر آزاد ہوں۔
    یہی وہ راستہ ہے ،جو پورے معاشرے کو خوشحالی اور معاشی آزادی کی جانب لے جا سکتا ہے۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور نصاب کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں بھی اسی گرداب میں پھنستی جائیں گی۔

  • شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    انڈیا کو بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں آگے بڑھ کر قیادت کیوں کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط بری، بحری اور فضائی قوت، یعنی پاک افواج، موجود ہے۔ پاکستان کی فوج ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی خطرے کے خلاف پہرے پر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اعتماد کا لازمی حصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

    اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ قطر دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف اور عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر کردار اور عرب دنیا میں اہم مقام کا عملی ثبوت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت نے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف قطر کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور شہباز شریف کی قیادت میں یہ اصول اور بھی واضح انداز میں عالمی منظرنامے پر سامنے آئے ہیں۔

    پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور عرب دنیا کے مسائل میں ثالثی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ شہباز شریف کا قطر دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف عرب دنیا میں معتبر اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر وقت امن، انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کی کامیابی بھی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ عرب دنیا میں ان کا ذاتی قیادت کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بھی قائم کرتا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کو ایک فعال اور دلیرانہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا، جو خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے لیے مصمم ارادے والا ہے۔ شہباز شریف کی دوحہ میں دی گئی تقریر نے عالمی دنیا کو بالعموم اور انڈیا کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اسرائیل میں بھی پاکستان کے حوالے سے ہلچل پیدا ہو گئی کہ پاکستان عرب ممالک کی سرپرستی اور رہنمائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف نیو کلیئر اور دفاعی طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے، بلکہ عالمی سیاسی و سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ دورہ اور پاکستان کا ردعمل عالمی سطح پر اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہمارا ملک اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ عرب دنیا میں اتحاد اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع اور نیو کلیئر طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ عالمی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

    مزید برآں، اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی اور عالمی سیاست میں اس کی فعال شرکت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف علاقائی محاذ پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اصولی، مستحکم اور قابل اعتماد شریک ہے، جو امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔

  • سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب مفادات کی سیاست اپنے عروج پر ہے، ایسے وقت میں کچھ رشتے خالص جذبوں اور بے لوث قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہی پاکیزہ رشتوں میں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا ہے جو ایمان، اخوت، قربانی اور بھائی چارے کے رشتے سے جُڑے ہوئے ہیں۔تاہم افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسند عناصر نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ یہ محض ایک جھوٹی مہم نہیں بلکہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کو باہمی اتحاد اور اعتماد سے محروم کرنا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی حمایت کی بلکہ مالی اور سفارتی سطح پر بھی بے مثال تعاون فراہم کیا۔ 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں سعودی عرب نے سب سے پہلے ریلیف طیارے پاکستان بھیجے۔ لاکھوں خیمے، ٹنوں ادویات، خوراک اور اربوں روپے کی مالی امداد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر پہنچائی گئی۔اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، سعودی عرب نے کھلے دل کے ساتھ امداد فراہم کی۔ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کے لیے زیورات تک عطیہ کیے۔ یہ وہ اخوت ہے جسے کوئی منصف مزاج شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

    پاکستان کی معیشت کئی بار شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ایسے مواقع پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سہارا دیا۔ کبھی اربوں ڈالر کے قرضے دیے گئے، کبھی تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا گیا، اور کبھی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے ذریعے اپنے گھروں اور ملکی معیشت کا سہارا ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر قائم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے پاکستانی عوام کا والہانہ تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حج و عمرہ کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے مہمانوں کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے کوئی سازش یا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے بعض عناصر سعودی عرب کی نیک نیتی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب پاکستان و سعودی عرب کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا مخلص بھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر سعودی عرب کے لیے محبت اور عقیدت ہمیشہ قائم رہی ہے۔ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستانی میڈیا، اہلِ قلم اور دانشور آگے بڑھیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ سعودی عرب کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کرنا محسن کُشی کے مترادف ہے اور یہ رویہ دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
    آج امتِ مسلمہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق اور شام جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اتحاد پوری امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط رہا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    آئیے ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ دلوں کی دھڑکنوں سے جڑا ہے۔ جب پاکستان مصیبت میں گھرتا ہے تو سعودی عرب کا ہاتھ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے اور اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اے اللہ! پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ترقی اور استحکام عطا فرما۔ دونوں ممالک کو ہر سازش اور ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔ امتِ مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرو دے تاکہ تیرے دین کا پرچم بلند ہو۔ آمین ثم آمین ۔

  • سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    قدرتی آفات انسان کے لیے نہ صرف آزمائش ہوتی ہیں بلکہ اس کے صبر، حوصلے اور قربانی کے جذبے کی کسوٹی بھی، جب بادل پھٹتے ہیں، ندی نالے دریا بن جاتے ہیں، پہاڑوں سے گرتا پانی بستیاں بہا لے جاتا ہے، تو زمین پر انسان کی فانی حیثیت کا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عالم رواں برس خیبر پختونخوا کےعلاقوں باجوڑ، بونیر، سوات، مینگورہ، گلگت اور سکردو میں دیکھنے کو ملا، جہاں شدید سیلاب نے قیامت صغریٰ برپا کر دی،یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسانیت، بھائی چارے، اور خدمت خلق کے جذبے کی حقیقی روح سامنے آتی ہے ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنے منشور خدمت کی سیاست کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15 اگست سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے.خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین، شفیق الرحمان وڑائچ، بونیر میں آنے والے ہولناک سیلاب کی اطلاع ملتے ہی مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عارف اللہ خٹک کے ہمراہ فوری متاثرہ علاقے پہنچےاورحالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اورمرکزی قیادت کو نقصانات پر بریفنگ دی۔مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو ، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید،سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ اور پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری کی ہدایت پر لاہور ،اسلام آباد،فیصل آباد،راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر اضلاع جبکہ فیصل ندیم کی ہدایت پر کراچی ،حیدرآباد اور دیگر شہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما اور رضاکار انصارکا کردار نبھاتے ہوئے، سیلاب سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پہنچے۔ جہاں انہوں نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا،گھروں کی صفائی کی، کیچڑ نکالا،متاثرین کے گھروں تک کھانا پہنچایا، مرکزی مسلم لیگ کی مرکزی، صوبائی قیادت محمد سرور چوہدری، حمید الحسن، انجینئر حارث ڈار، حافظ یاور آفتاب،عمران لیاقت بھٹی،عبدالغفار منصور،شیخ فیاض احمد،احسان اللہ منصور،فیصل ندیم،انس محصی،عبدالغفار،انس و دیگر بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لیے پہنچے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی،فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ،راولپنڈی کے انجینئر مبین صدیقی، گوجرانوالہ کے محمد راشد سندھو،کراچی سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان،حیدر آبار سے عقیل لغاری و دیگر مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف رہے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےخیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں باجوڑ، بونیر، مینگورہ، سوات، اورگلگت،سکردو میں مجموعی طور پر 25 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکا پکایاکھانا تقسیم کیاگیا ہے ،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں،250ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف خدمت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے 450 میڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرین میں 30 ہزار سے زائد بستر،چار ہزار مچھر دانیاں، آٹھ ہزار گھروں میں برتن تقسیم کئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 2000 سے زائد گھروں کا ملبہ صاف کر دیا گیا،مرکزی مسلم لیگ نے گھروں کی صفائی کیلیے مرکزی مسلم لیگ نے 6000 بیلچے،4000 ہاتھ ٹرالی تقسیم کر دی،گلگت بلتستان کے دوردراز علاقوں میں سیلاب سے تباہی ہوئی، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت پہنچے، مرکزی مسلم لیگ گلگت کے رہنما مقصود حسین سندھو، عبدالرشید ترابی بھی متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں مصروف رہے، خشک راشن ،خوراک کی تقسیم کے علاوہ گلگت میں ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ منگوا کر دے دیا،غذر میں مصنوعی جھیل بننے سے راستوں کی بندش ہوئی تو فری بوٹ سروس بھی شروع کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے گلگت کے متاثرین کے لئے امداد کی خصوصی کھیپ پہنچائی گئی،

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پنجاب کے 25 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے پنجاب بھر میں متحرک ہیں، پنجاب میں سیلاب آیا تو خیبر پختونخوا کے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پیچھے نہ رہے، پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں 86 ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،25 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، میڈیکل کیمپوں میں19 لاکھ 40ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،46 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں کشتی سروس جاری ہے .بہاولپور،اوکاڑہ، مظفر گڑھ، جلال پور پیر والا،ملتان میں بھی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، شیخوپورہ، سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، وزیرآباد، نارووال،جہلم،اوکاڑہ،بہاولپور، بہاولنگر، حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین، گجرات، ساہیوال، ملتان،جھنگ،مظفر گڑھ،بوریوالہ،پاکپتن،گوجرانوالہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرکزی مسلم لیگ کے 10 ہزار سے زائد ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں، سیلاب متاثرین ،انکے سامان، جانوروں کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں 14 خیمہ بستیاں قائم ہیں،مرکز ی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، خیمہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم ، مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،جلال پور پیروالا میں خیمہ بستی سیلابی پانی کی زد میں آ گئی، لاہور،قصور،بہاولپور،مظفر گڑھ،ملتان، لودھراں، جلال پور پیروالا سمیت 14 خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں خواتین ،بچے بھی مقیم،تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے،لاہور کی خیم بستی میں بچوں کے لئے سکول بھی قائم،خواتین کے لئے الگ واش رومز بناے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے مساجدبھی قائم کی گئی ہیں، خیمہ بستیوں‌میں مقیم بچوں میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے گفٹ بھی تقسیم کئے گئے ہیں،موہلنوال کی خیمہ بستی میں 5 بچوں کی پیدائش ،مٹھائی تقسیم کی گئی،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے خیمہ بستی میں خواتین میں کپڑے و دیگر اشیا بھی تقسیم کی گئیں،جلال پور پیر والا ،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ سٹی کوسیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،سینکڑوں خیموں پر مشتمل خیمہ بستی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نےمتاثرہ خاندانوں کو بروقت محفوظ‌مقام پر منتقل کر دیا،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے دو کشتیاں خدمت خلق کے حوالے کر دیں،مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے حوالے کیں.

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ متعدد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے رضاکاروں نے گھوٹکی کے علاقے امیر بخش چاچڑ گوٹھ، لوپ بند اور کچے کے مختلف دیہات سے ہندو کمیونٹی سمیت درجنوں خاندانوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اس وقت گڈو، کشمور، گھوٹکی، منڈو دیرو، روہڑی اور دریائے سندھ کے دیگر متاثرہ مقامات پر ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ کچے کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرکے متاثرین کو علاج معالجے اور ادویات کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کسی بھی خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ریلیف آپریشن بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا

    مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

    قدرتی آفات کے اس المناک موسم میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی بے لوث خدمت کی سرگرمیاں ایک دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک روشن مثال ہیں جو ووٹ لے کر عوام کو بھول جاتی ہیں،خیبر پختونخوا سے گلگت اور پھر پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی شب و روز جدوجہد، متاثرین کی مدد ٹوٹے دلوں کا سہارا بنی، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس کارِ خیر کا حصہ بنیں، اور متاثرین کے دکھ بانٹیں، آئیے، قدم سے قدم ملا کر ہم بھی مرکزی مسلم لیگ کے خدمت کے اس قافلے کا حصہ بنیں۔
    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

  • اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام، حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 1500 ویں سالانہ جشنِ ولادت کے بابرکت سلسلے میں، ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں ایک پرنور محفل کا انعقاد ہوا، جہاں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو ہر سو بکھر رہی تھی۔ یہ محفل محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والی ایک روحانی نشست تھی۔ اس پورے پروگرام کی نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری اپووامدیحہ کنول نے اس خوبصورتی سے انجام دیے کہ سامعین کی توجہ شروع سے آخر تک قائم رہی۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی ایم ایم علی کر رہے تھے جبکہ اس کی سرپرستی کا اعزاز ملک یعقوب اعوان کے حصے میں آیا۔​اس نعتیہ مشاعرے کے صدارت، نہایت محترم اور سینئر شاعر ناصر بشیر نےکی ، جن کی موجودگی نے اس محفل کو مزید وقار بخشا۔

    سب سے پہلے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت سفیان علی فاروقی نے حاصل کی اور اپنی پرسوزآواز کی بدولت پورے ہال میں ایک روحانیت کی فضا قائم کر دی۔ ان کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کے لیے خنیس الرحمان اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور اپنے دلنشیں انداز میں نعت سنا کر حاضرین کے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ کی تپش سے گرمایا۔​اس کے بعد، ملک بھر سے آئے ہوئے شعرائے کرام کی ایک کہکشاں نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں اپنے جذبوں کا اظہار کیا۔ ہر شاعر نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر نعت کے ساتھ اس پرنور محفل میں انوار کی بارش ہو رہی ہو۔ کلام پیش کرنے کے بعد، کچھ مہمانانِ گرامی نے اس بابرکت محفل سے خطاب کیا اور نعتیہ شاعری کی اہمیت پر ایسی روشنی ڈالی کہ ایمان مزید تازہ ہو گیا۔​اس روح پرور تقریب سے پہلے، تمام مہمانانِ گرامی کے لیے اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب کی طرف سے پُرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مشاعرے کےآخر میں، صدرِ محفل ناصر بشیر نے اپنا کلام پیش کیا جسے تمام حاضرین نے بہت سراہا، اور یوں ان کی سرپرستی میں یہ بہترین تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ مشاعرہ نہ صرف ایک ادبی محفل تھی بلکہ عشقِ رسول ﷺ کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوا۔

    مشاعرے میں حمزہ ارشد،چوہدری غلام غوث،حاجی عبدلطیف ،عافیہ بزمی،سائرہ حمید تشنہ،معروف شاعرہ ثوبیہ خان نیازی،معروف شاعرہ رقیہ غزل،معروف شاعرہ عروج درانی اور سنیئر شاعر مشتاق قمر نے اپنا اپنا نعتیہ کلام سنانے کی سعادت حاصل کی۔

    نعتیہ مشاعرے کے بعد دوسرے سیشن آغاز ہوا جس سے معروف دانشور و ادبی شخصیت ریاض احمد احسان،استاد ،تربیت کار اور معروف لکھاری اشفاق احمد خان ،ڈی ایس پی شہزادی گلفام،اور اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے خطاب کیا اورنبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی تقریب کے اختتام پر اپووا قصور کے کو آرڈنیٹر اور معروف صحافی طارق نوید کی طرف سے تمام شرکاء میں قصور کی مشہور سوغات قصوری اندرسے تقسیم کئے گئے۔دیگر شرکاء میں محمد اسلم سیال،ایمن سعید ،لاریب اقرء،غلام زادہ نعمان صابری،عبدلصمد مظفر،محمد بلال، معروف صحافی مہر اشتیاق احمد، معروف کالم نگار فیصل رمضان اعوان ،محمد ہشام ہاشمی،صائمہ محمد علی ، سنئیر صحافی غلام زہرہ،نمرہ امین،خولہ رضویہ سمیت کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔