Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    25 جولائی 2018 کی رات جب دیر گئے تک انتخابی نتائج واضح پو گئے تو عوام کی اکثریت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ 23 سال کی طویل جدوجہد کے بعد بلآخر تحریک انصاف کے الیکشن میں کامیاب اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی
    پھر دن آیا 18 اگست کا جب عمران خان قومی اسمبلی سے 178 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے 29 اپریل 2018 لاہور جلسے میں قوم سے 11 وعدوں پر مبنی اپنا منشور پیش کیا تھا۔ آج ہم جائزہ لینگے وہ وعدے کیا تھے اور تین سالوں میں ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے

    عمران خان کا پہلا وعدہ یکساں نصابِ تعلیم کا تھا جس پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے سوائے سندھ کے باقی تمام صوبے ایک نصابِ تعلیم پر متفق ہو چکے ہیں اور 2 اگست 2021 سے تمام سکولوں میں نافذ ہو چکا ہے۔ یوں پہلا وعدہ بااحسن طریق پورا ہوا

    عمران خان کا دوسرا وعدہ صحت کے متعلق تھا اور اس ضمن میں عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے وہ کر دکھایا ہے جو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں کرپائے یعنی صحت سہولت کارڈ کے زریعے تمام آبادی کو فی خاندان سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس پنجاب کے دو ڈویژن ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کو بھی یہ سہولت میسر آ گئی ہے 2023 تک یہ سلسلہ سارے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی عوام کیلئے بھی صحت کارڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔ یوں دوسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    تیسرا وعدہ ٹیکس کلکشن کے متعلق تھا ، ٹیکس اصلاحات کی وجہ سے سال 2020-21 میں ریکارڈ 4732 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا یوں تیسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    چوتھا وعدہ تھا کرپشن کے متعلق ، عمران خان کی حکومت میں نیب نے کھل کر بڑے چھوٹے اپنے پرائے چوروں کے خلاف کاروائیاں کیں۔ سال 2017 سے 2021 تک نیب نے چوروں سے 528 ارب روپے کی ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ ریکوریاں کیں۔ کرپشن پر عمران خان نے کوئی کمپرومائز نہیں کیا بارحا کہتے رہے چاہے میری حکومت چلی جائے مگر کسی چور کو این ار او نہیں دونگا۔۔ یہ وعدہ بھی اچھی طرح نبھایا گیا

    پانچواں وعدہ ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری کے متعلق تھا جہاں سی پیک سے لے کر ایمازون تک کثیر سرمایہ پاکستان آ رہا ہے موبائل فون کمپنیاں پاکستان آ رہی ہیں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے زریعے بیرون ملک پاکستانی کثیر سرمایہ پاکستان بھیج رہے ہیں یوں یہ وعدہ بھی اچھے سے نبھایا گیا

    چھٹا وعدہ ٹیکنیکل تعلیم اور کم آمدن والے طبقے کیلئے گھروں کے متعلق تھا۔ حکومت نے ای روزگار سکیم کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم سے مستفید کیا جا رہا ہے اسکے علاوہ سی پیک کے تحت ٹیکنیکل کالجز کی تعمیر سے مقامی لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جا رہی ہے یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا جبکہ کم آمدن والے افراد کیلئے نیاپاکستان ہاوسنگ سکیم شروع ہوئی جس کے تحت پنجاب میں منظورشدہ 24,404 پراجیکٹس جنکی مالیت 373 ارب روپے ہے اس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا جبکہ سندھ میں 267 ارب روپے سے 8736 پراجیکٹس ، کے پی میں 74 ارب مالیت کے 4839 پراجیکٹس اور اسلام آباد میں 175 ارب روپے سے 5986 پراجیکٹس پر کام شروع ہو چکا ہے

    ساتواں وعدہ سیاحت کے متعلق تھا جس میں پاکستان نے اس حد تک ترقی کی کہ مشہور امریکی جریدے نے سال 2020 کیلئے پاکستان کو سیاحت کیلئے بہترین قرار دے دیا کروںا بندشوں کے باوجود اندرون ملک سیاحت بھی پورے عروج پر جا پہنچی ہے وزیراعظم خود مختلف سیاحتی مقامات کا وزٹ کر کے انکی تشہیر کرتے پائے جاتے ہیں یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا

    آٹھواں وعدہ زراعت کے متعلق تھا جہاں کسانوں کو کسان کارڈ کا اجراء کیا گیا جس سے کھاد ، بیجوں اور زرعی آلات پر سبسڈی ڈائریکٹ کسان کے اکاونٹ میں پہنچا کرے گی ، حکومت نے گندم اور کپاس کی امدادی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا جس سے کسان خوشحال ہوا اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ ہوا

    نواں وعدہ بلدیات کے متعلق تھا اس میدان میں بھی تحریک انصاف ایک شاندار بلدیاتی نظام لے کر آ رہی ہے جس سے پنجاب کا 33٪ ترقیاتی بجٹ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا۔ الیکشنز بھی جلد متوقع ہیں

    دسواں وعدہ ماحولیات کے متعلق تھا جہاں پاکستان دنیا کو ماحولیات کے شعبے میں لیڈ کر رہا ہے ، پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ بلین ٹری سونامی منصوبے سے متاثر ہو کر سعودیہ عرب بھی ایسا منصوبہ شروع کرنا چاہ رہا ہے عمران خان کے #Clean Green Pakistan وژن کے تحت پوری قوم اپنا مستقبل سرسبز کرنے کیلئے گلی گلی درخت لگا رہی ہے یوں یہ وعدہ بہت زیادہ نبھایا گیا

    گیارواں وعدہ عدالتی ریفارمز کے متعلق تھا یہاں حکومت مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ بوسیدہ عدالتی نظام جوں کا توں بلکہ مزید مخدوش حالت میں ہے اس حوالے سے حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

  • طالبان نے آزادی مارچ سے بہت سیکھا موجودہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی  تحریر اکرام اللہ نسیم

    طالبان نے آزادی مارچ سے بہت سیکھا موجودہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کے 2018 کے جنرل الیکشن کے چنتخب نتائج جب جب منظر عام پر آگئے سیاست دانوں نے فوراً سے پہلے چنتخب نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جہاں جہاں دیگر سیاستدان نے اس چنتخب نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہاں جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے موجودہ سربراہ قائد ابن قائد مولانا فضل الرحمان صاحب نے اس نتائج کو یکسر مسترد کرکے اے پی سی بلائی گئی اسی اے پی سی میں موجودہ حکومت کے اتحادی ایم کیو ایم دیگر اتحادی جماعتیں بھی شریک تھی اور 25 جولائی 2018 کے انتخابات کو تاریخ کا دھاندلی زدہ انتخابات کہا گیا
    اور اسی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان صاحب نے تمام پارٹیوں کو یہ تجویز بھی دی کہ کوئی بھی پارٹی اپنے منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں حلف اٹھانے کے نہ بھیجیں اس تجویز پر اے پی سی میں موجود تمام جماعتوں نے اتفاق کیا سوائے مسلم لیگ ن کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حلف اٹھانے کے بعد جن دو پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کے تجویز کو رد کیا تھا اتفاق سے دونوں پارٹیاں آج تک پچھتا رہی ہے باقی کوئی پارٹی نہیں پچھتائی کہ ہمیں حلف نہیں اٹھانا چاہیے تھا بلکہ خود اس بات کا اعتراف سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کرچکے ہیں کہ ہم نے غلطی کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کے تجویز پر عمل نہیں کیا چونکہ یہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی تھی عمران حکومت نے نیب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری بہن پریال تالپور شاہ صاحب اور دیگر ہم فکر ساتھی مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی احسن اقبال خواجہ آصف موجودہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ویگر ہم فکر ساتھیوں کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند کیا اور تو اور جن پر نیب کے مقدمات لاگو نہیں ہو سکتے تھے انپر ہیروئن ڈالی گئی جو کہ بعد میں ثابت نہ ہوسکی مریم نواز شریف کے کمرے کا دروازہ توڑ کر چادر چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا
    یہ سب کچھ جو کیا گیا کسی کو نیب کے ذریعے گھسیٹنا
    کسی پر ہیروئن ڈالنا کسی کے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنا یہ سب سیاست دانوں کی بے توقیری کے لئے کیا گیا تاکہ عام آدمی کی نظر میں سیاستدان بے وقعت ہو جائے عام آدمی کا بھروسہ سیاستدان سے اٹھ جائے
    سیاستدانوں کی عزت اور وقار کو بحال کرنے کے لئے اور عام آدمی کو سیاستدانوں کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے کہ اس فانی دنیا میں آپ کا غم خوار آپکے دکھ بانٹنے والا سیاست دان ہی ہوسکتا ہے یہ امید دلانے کےلئے مولانا فضل الرحمان صاحب نے ملک گیر 15 ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا ہر ایک ملین مارچ دوسرے سے لاجواب و شاندار تھا جو حکومت اور ریاست کے درد سر سے کم نہ تھا
    پھر آخر کار جب جمعیت علمائے اسلام نے آزادی مارچ کا اعلان کیا اور آزادی مارچ کا پڑاؤ اسلام آباد کو قرار دیا پاکستان کے طول و عرض سے جب قافلے روانہ ہوتے ہیں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب سکھر سے قافلے کی قیادت کرتے ہیں قافلہ سکھر سے چند کلومیٹر سفر کرتا ہے ایمبولینس کی گاڑی آتی مولانا راشدسومرو صاحب خود مائیک پکڑ کر انصار الاسلام کے رضاکاروں کو آواز دیتے ہیں ایمبولینس کو راستہ دو انصار الاسلام کے رضاکار فوراً سے پہلے راستہ بنا لیتے ہیں یہ ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے اسکو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا گیا
    جب یہی قافلہ دوسروں قافلوں سے ملتا سمندر کا شکل اختیار کرتا ہوا پاکستان کے دل لاہور پہنچتا ہے
    ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے جمعیت علمائے اسلام کے پروانے ایک طرف احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں دوسری طرف میٹرو بس سروس چل رہی
    یہ ویڈیو قومی چینلز اور سوشل لاکھوں کی تعداد میں دیکھی گئی اسی کیساتھ ساتھ یہ انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بن گئی ہر بندے نے اس احتجاج کو سراہا
    یہ قافلہ ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل تھا کراچی سے لیکر اسلام آباد پہنچا کسی قسم کا توڑ پھوڑ نہ کیمرے کی آنکھ نے دیکھا نہ ہی انسان کے آنکھ نے جب قافلہ اپنے منزل مقصود پر پہنچ گیا وہاں 13دن تک دھرنا جاری رہا وہاں غریدہ فاروقی صاحبہ جو صحافی ہے بھی انٹرویوز لینے پہنچ گئی یہ غریدہ فاروقی عمران خان کے دھرنے میں بغیر چادر کے رپورٹنگ کرتی تھی مگر دھرنے کے ماحول نے اسے چادر اوڑھنے پر مجبور کردیا جنکی تصاویر آن دی ریکارڈ ہیں
    بلکہ وہاں ایک صحافی رپورٹر رپورٹنگ کررہی تھی کہ تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے وہ گیلی ہو رہی تھی تو انصار الاسلام کے رضاکار آگے بڑھیں اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کے سر پر چادر چڑھا یہ منظر بھی میڈیا پر خوب وائرل ہوا اور لوگوں نے سراہا
    اب کراچی سے اسلام آباد اور پھر آزادی مارچ دھرنے کے 13 دن گواہی دیتے ہیں کہ مولویوں سے زیادہ پرامن لوگ دنیا میں نہیں پائے جاتے
    جب لوگوں نے اس احتجاج کو سراہا تو طالبان بھی تو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے انہوں نے بھی پرامن طور طریقے عمل میں لائے اور پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا نہ قتل غارت گردی دیکھنے کو ملی نہ وہاں پر ابھی عورت کو رپورٹنگ سے منع کیا جارہا ہے نہ ہی داڑھی نہ رکھنے والوں پر سختی کی جارہی ہے نہ ہی بچیوں کو تعلیم سے روکا جارہے بلکہ وہاں عورتیں اپنی اپنی جاب کے لئے بھی جاتے ہوئے نظر آتی ہے

  • بھارت؛ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایک غیر ذمہ دار ریاست   تحریر: محمد اختر

    بھارت؛ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایک غیر ذمہ دار ریاست تحریر: محمد اختر

    ”اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 39 کے تحت، یہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنتا ہے، اگر کوئی ملک اپنے تحفظاتی اقدامات کے مطابق نہیں پایا جاتا”۔اس کے برعکس، جب بین الاقوامی امن کی بات آتی ہے تو بھارت کو ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پرسرِفہرست آتا ہے۔  قارئین کرام! حالیہ روز بھارتی سی آی ڈی کی جانب سے  انتہائی حساس تابکار مواد کی برآمدگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔5 مئی 2021 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر میں دو غیر مجاز افراد سے سات کلو گرام سے زائد قدرتی یورینیم کی ضبطی نے اس انتہائی حساس تابکار مواد پر ریاست کے کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ضبط شدہ یورینیم انتہائی تابکار اور خالص تھا۔ جب سے ہندوستان ایک ایٹمی ریاست بن چکا ہے، اجتماعی اور انفرادی یورینیم چوری اور اسمگلنگ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جو کہ بھارت کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک جوہریہتھیاروں کی ریاست کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں ہندوتوا کے دہشت گردوں اور آر ایس ایس کے ہزاروں دہشت گرد مراکز چلائے جا رہے ہیں جنہیں شاکا کہا جاتا ہے۔ آئیے! اس ضمن میں ماضی کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، واضح رہے اس ٹائم لائن میں صرف وہ واقعات شامل ہیں جہاں کم از کم ایک کلو گرام تابکار مادے کا سائز تھا، اور رپورٹ کیا گیا۔ 1994 میں، میگھالیہ پولیس نے ڈومیاسیٹ ریجن میں چار سمگلروں کے ایک گروہ سے دو اور نصف کلو گرام یورینیم ضبط کیا۔ 1998 میں پولیس نے ایک اپوزیشن سیاستدان کو گرفتار کیا جس کے پاس سو کلو گرام سے زیادہ یورینیم تھا جبکہ اسی سال سی بی آئی نے تامل ناڈو میں نو کلو گرام سے زائد جوہری مواد کے ساتھ ایک گروہ کو پکڑ لیا۔لوک سبھا کی رپورٹ کے مطابق، 1995 سے 1998 کے درمیان ہندوستانی ایٹمی توانائی کے کارخانوں میں 147 حادثات یا سیکورٹی سے متعلق واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 28 شدید نوعیت کے تھے اور ان میں سے نو ایٹمی بجلی گھروں میں ہوئے۔2008 میں، پولیس نے انڈیا-ا نیپال بارڈر کے ساتھ ضلع سپول میں چار کلو گرام یورینیم ضبط کیا۔ 2009 میں، تین مجرموں کو پانچ کلو گرام یورینیم کے غیر قانونی قبضے کے لیے گرفتار کیا گیا۔ 2016 میں، مشرقی ہندوستان میں ایک مضبوط تحقیقاتی مرکز سے تابکار مواد کا ایک کنٹینر چوری ہو گیا تھا، اور اسی سال ایک اور واقعہ رونما ہوا تھا، تھانے میں دو افراد سے تقریبا نو کلو گرام یورینیم پکڑا گیا تھا۔2018 میں، ایک یورینیم اسمگلنگ ریکیٹ کولکتہ پولیس نے ایک کلو ریڈیو ایکٹیو مٹیریل کے ساتھ پکڑا اور اب، یورینیم چوری پرکمزور ریاستی کنٹرول کے تسلسل میں، حالیہ برس اوربڑا واقعہ 05 مئی 2021 کو پیش آیا، جس کے تحت ایک بڑا سکیورٹی حادثہ پیش آیا۔ ماہرین کے مطابق، دہشت گرد تابکار مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار کے ساتھ جوڑ کر دھماکہ کرتے ہیں، جسے ”گندا بم” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ گندے بم دھماکے سے ہونے والا نقصان ایٹم بم جتنا بڑا نہیں ہوگا، لیکن بمباری کے مقام اور اس کے آس پاس تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہوں گے۔یہ ایک حقیقت ہے، بی جے پی حکومت کو انتہا پسندوں کی پشت پناہی حاصل ہے اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت کے اندر جوہری پھیلاؤ کے تمام واقعات کی تحقیقات کی ضرورت ہے، آئی اے ای اے کو یورینیم کو کاروبار کے طور پر لانے کے بھارت کے اس نئے رجحان کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اشیاء، نجی ڈیلروں کی طرف سے کھلے عام تجارت کی جا رہی ہیں۔اس طرح کے واقعات کی روشنی میں، بھارت میں ایٹمی پروگرام غیر ذمہ دار اور ناتجربہ کار شہریوں اور انتہا پسند حکومت کے ہاتھ میں ہے جو آر ایس ایس کے زیر انتظام ہے جو پاکستان کے بقایاجوہری تحفظ اور سیکورٹی ریکارڈ کے برعکس ان کے غیر اخلاقی مقاصد ہیں۔بین الاقوامی اداروں کو یہ لازمی قرار دینا چاہیے کہ جب تک بھارت جوہری مو اد کو سختی سے کنٹرول نہیں کرتا، اسے جوہری مواد کے پھیلاؤ میں شریک سمجھا جائے گا۔ اس طرح کے کمزورریاستی کنٹرول سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کو ایک ذمہ دار جوہری طاقت بننے کے لیے عملی طور پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت کو اپنے جوہری پلانٹس کی داخلی سلامتی کو بڑھا کر اپنی ساکھ کو ثابت کرنا ہوگا اور ایٹمی پھیلاؤ پر سزا بڑھا کر سخت قانون سازی بھی کرنی ہوگی۔ ابھی تک، ہندوستان کاجوہری  تحفظ اور سکیورٹی ریکارڈ زیادہ متاثر کن نہیں ہے۔کمزور ریاستی کنٹرول، جیسا کہ تازہ ترین 250.5 گرام تابکار دھاتی کیلیفورنیم کی ضبطی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان تاحال جوہری مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام ہے مزید یہ کہ  بھارت اب بھی ایک غیر ذمہ دار جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے۔ قارئین! یہاں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بھارت کے  جوہری ہتھیار ایک غیر ذمہ دارانہ شدت پسند حکومت کے ہاتھ میں ہے جوکہ خطہ کے امن کو تباہ کرسکتی ہے۔ ہندوستانی ریاست کو جوہری مواد کو کنٹرول کرنا چاہیے ورنہ ان کی اسمگلنگ میں ملوث سمجھا 

    جا ئیگا۔ تاہم، ”یہ حقیقت سے بہت دور ہے۔مذکورہ بالہ حقائق کے تناظر میں یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ بھارت اس خطے کے امن کی راہ میں ایک ناسور مرض کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ آج یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ سیکولر آئینوں میں غیر سیکولر حکومتیں علاقائی سلامتی کے حوالے سے مختلف مخمصے پیدا کرتی ہیں۔اس لیے بین الاقوامی اداروں کو بھارتی خطرات پر قابو پانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بھارت خطے کی واحد جوہری ریاست نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ کارروائی جوہری  ممالک کے مابین قیامت خیز تباہی کا باعث بنے گی جس کے دیرپا تابکاری نتائج نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

    @MAkhter_

  • آج سے ٹھیک 42 برس قبل  تحریر:  عائشہ خان

    آج سے ٹھیک 42 برس قبل تحریر: عائشہ خان

    آج سے ٹھیک 42 برس قبل سوویت یونین کی فوجوں نے 27 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتار کر صدر امین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔۔ اسکے بعد کیا ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ کیسے افغان فوجی وردیوں میں ملبوس روسی خفیہ ادارے (کے۔جی۔بی اور جی۔آر۔یو) کے کمانڈوز نے اپنے خفیہ ٹھکانوں سے نکل کر صدارتی محل سمیت کابل کی اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کیا۔۔ روس، جس کی خام خیالی تھی کہ اسکے فوجی دستے چند ماہ کے اندر اندر گرم پانیوں تک قبضہ کر لیں گے وہ 9 سال 2 ماہ بعد 15فروری 1989ء کو اس وقت حیرتان پل عبور کرکے سوویت یونین پہنچے جب دنیا کی دوسری سپر پاور اپنے آخری دموں پر تھی۔۔۔ 

    اس دور میں پاکستان کا جو کردار رہا اسے دنیا چاہ کر بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ روسی فوجوں کا افغانستان میں قبرستان بنانے والوں میں جو نام سرِ فہرست تھا وہی نام آج (اپنی موت کے چھے برس بعد بھی) امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد پھر سے ہر اک کی زباں پر ہے۔۔۔ 

    وہ امریکہ جو اکتوبر 2001ء میں بڑی گرج برس کے ساتھ طالبان کو صفحہ ہستی سے مٹانے چلا تھا بیس برس تک اپنے فوجی جوانوں کو تابوتوں میں بند کر کر کے واپس وطن بھیجتا رہا اور بالآخر 31 اگست 2021ء کو جب امریکہ پوری طرح افغانستان سے اپنے فوجی دستوں کا انخلاء مکمل کرے گا تب تک افغان طالبان کو افغانستان میں حکومت بنائے ہوئے پورے دو ہفتے گزر گئے ہونگے۔۔۔

    بہت سے عناصر جو اب بھی صورتحال کو سنگین بنا کر افغانستان کے حالات سے متعلق پوری دنیا میں افراتفری کی سی تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس وقت آپریشن کے لیے جو واحد مدد فراہم کرنے والی ائیر لائن افغانستان میں فعال ہے وہ پاکستان ائیر لائن ہے۔۔ 

    جی ہاں، 24 اگست 2021ء کو پوری دنیا کی نظریں انخلاء کیلئے کیے جانے والے اس آپریشن پر تھیں جسکو پاکستان لیڈ کر رہا تھا۔ وہی پاکستان جس پر چند دن پہلے سینکشنز لگوانے کیلئے نادان اور بھٹکے ہوئے مسلمان بھائی کفار کے ساتھ ملکر ایڑی چوٹی ایک کر رہے تھے۔۔ ظاہر ہے یہ چند مٹھی بھر غدار پوری افغان قوم کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے خاص کر ہمارے وہ افغان بھائی جنھوں نے ٹی۔ٹی۔پی جیسی غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی دہشت گرد تنظیم کو کبھی سپورٹ نہ کیا تھا۔ ٹی۔ٹی۔پی وہ دہشتگرد تنظیم تھی جس نے پاکستان میں اس وقت دہشتگردی کی کاروائیاں کیں جب امریکہ افغانستان میں تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف کفر کے فتوے دینے والوں سے لاتعلقی اختیار کرنے والے افغان طالبان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کیوں اور کیسے خطرہ ہو سکتا ہے جبکہ انہوں نے تو خود جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہوا ہے۔۔

    تاریخ گواہ ہے کہ انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کی بنیاد پر پاکستان نے ہمیشہ افغان مہاجرین کو تہہ دل سے اپنایا اور انکی ہر ممکن مدد کی۔۔ آج خطے میں امن کی خاطر پاکستان ایک بار پھر سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت جب امریکہ کے زیر کنٹرول حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تباہ کن مناظر دیکھے گئے اور کم از کم 20 ہلاکتیں ہوائی اڈے کے اندر اور اس کے ارد گرد ملک سے فرار ہونے کی کوششوں اور بھگدڑ میں ہوئیں جبکہ پہلے ہی افغانستان میں قبضے کے بعد طالبان کی عام معافی کا اعلان ہو چکا تھا۔ اسکے باوجود جب افراتفری اور خوف نے کابل ہوائی اڈے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) بین الاقوامی برادری کے لیے انخلاء کی کارروائیوں کا مرکز بن کر ابھری۔ پی آئی اے نے گزشتہ ہفتے کے دوران افغانستان سے 2 ہزار افراد کو ہوائی جہاز کے ذریعے افغانستان سے منتقل کیا ہے۔ جن مسافروں کا ذکر ابھی کیا ان میں سے بیشتر غیر ملکی مسافر (بشمول بین الاقوامی مالیات فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے عہدیدار ، سفارت کار ، صحافی اور سیاسی رہنما) تھے

     

    کہتے ہیں تعریف وہ جو دشمن بھی کرنے پر مجبور ہو جائے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے افغان دارالحکومت سے اپنے عملے کو نکالنے میں پاکستان کی غیر معمولی مدد کو سراہا جو ان سب بے قدروں اور نا شکروں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو ابھی چند ہی دن پہلے گلہ پھاڑ پھاڑ کر پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔

     پاکستان میں موجود جرمن سفیر برنہارڈ شلاگیک نے بھی پی آئی اے کی کوششوں کو سراہا اور افغانستان سے جرمن شہریوں اور عملے کو باحفاظت نکالنے پر شکریہ ادا کیا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ سب جو پل پل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے تھے وہ ان خبروں پر چپ سادھے ہوئے کیوں ہیں؟ غیروں سے تو کوئی گلہ نہیں مگر ہمارے اپنے کہاں ہیں؟ کیا فوج اور بغض عمران خان میں پاکستان کی جانب سے اس ایک اور بہترین اقدام پر آپ فخر محسوس نہیں کرینگے؟

     پی آئی اے کی کارروائیوں پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ، یورپی یونین (ای۔یو) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے۔ڈی۔بی) نے بھی ایئر لائن سے اپنے ملازمین کو افغانستان سے نکالنے کی درخواست کی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ خبر ہمارے نام نہاد صحافیوں کے ایک خاص فرقے میں بریکنگ نیوز نہ بن سکی؟

     

    آج جب پی آئی اے بین الاقوامی برادری کے لیے افغانستان سے غیر ملکیوں کے محفوظ انخلاء کی امید بن گئی ہے تو اس پر فخر محسوس کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے رہنما نظر کیوں نہیں آ رہے؟ کیا یہاں صرف انکی جانب سے منفی باتیں ہی پروموٹ کی جائیں گی؟ مثبت بات کہنے میں اتنی جھجھک کیوں؟

    کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے

    اس قدر خامشی وجہ کیا ہے

    @AyshaKhanTweets 

  • حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔

    جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
    "مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔

    کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)

    اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    منشیات انسان کو سکون دینے کے دھوکے میں رکھ کر بربادی تک لے جاتا ہے، نشے کے استعمال سے انسان ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس سے مختلف نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔۔
    گزرتے وقت کے ساتھ نشے کے استعمال میں نہ صرف دنیا میں بلکہ پاکستان میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دس ملین افراد اس لعنت کا شکار جن میں زیادہ تعداد نوجوان نسل کی ہے سب سے زیادہ 25 سے 30 سال کے افراد اس کے بعد 15 سے 24 سال تک کے افراد ہیں۔ جن میں ابھی اَسی مرد اور بیس فیصد خواتین کی ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ 350 ٹن سے زائد افغان منشیات پاکستان میں سالانہ کے حساب سے استعمال ہو رہی ہے جو کہ ایک بڑی مقدار ہے۔
    پہلے لوگ محبت یا پریشانیوں سے تنگ آکر نشے میں پناہ ڈھونڈتے تھے ان کے خیال میں وہ اس دنیا سے کٹ کر سکون حاصل کرتے تھے لیکن اج حالات بلکل مختلف ہیں آج نشہ ایک فیشن یا سٹیٹس سمبل بن گیا ہے ہائی کلاس کے لوگ اس کو ایڈونچر کے طور پر لینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی بن جاتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں نشے کی عادت ہماری نوجوان نسل میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے مستقبل کے معماروں کو منشیات کے شکنجے میں جکڑ کر ان کو تعلیم سے دور اور پاکستان کو ترقی سے دور کیا جارہا ہے
    طلباء طالبات کو مختلف منشیات جیسے کہ چرس ہیروئن، افیم، شیشہ ، آئس جیسے مہلک نشے میں مبتلا کیا جا رہا ہے
    نشہ کو ایک برائی یا ایک لعنت سمجھنے اور اس سے دور رہنے کی ترغیب دینے کی بجائے اس کو فیشن بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور وہ ذہین لوگ جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک کی ترقی میں حصہ لینا ہوتا ہے وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں
    اور پھر نہ صرف اپنی زات اپنا کیرئیر اپنی زندگی تک کو برباد کر لیتے بلکہ مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہو کر اپنے ساتھ جڑے دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں ان کی سرگرمیوں پر دھیان دیں حکومت کو منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے بلکہ ایک قانون بنائیں کیونکہ اس کی اشد ضرورت ہے نشے میں مبتلا افراد کی مدد کرنا صرف ان کے والدین یا حکومت کی ہی نہیں ہماری بھی زمہ داری ہے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ ان کو با اختیار بنائیں تاکہ لوگ اس لعنت کی جانب کم سے کم متوجہ ہوں اور جو اس کا عادی ہو اس کو پیار سے سمجھائیں تاکہ وہ اس نشہ سے چھٹکارا پا سکے نہ کہ ان سے نفرت کریں اس طرح وہ مزید اس دلدل میں پھنستا چلا جائے بطور شہری ہم سب کو اس کی روک تھام کے لیے زمہ داری ادا کرنی چاہیے شکریہ

    @shahzeb___

  • ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    پچھلے 1 ہفتے سے آپ نے دو نام ضرور سنیں ہوں گے، اگر آپ سوشل میڈیا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے، تو وہ دو نام ہیں عائشہ اور ریمبو

    14 اگست کی شام سات بجے کے قریب مینار پاکستان پر عائشہ نامی ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والی حراسگی کے واقعے نے ملک میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق پر بحث چھیڑ دی، اور عورت مارچ کے نام سے مشہور خواتین کے حقوق کے ایک تنظیم نے اس واقعے پر پورے ملک میں شورشرابہ شروع کر دیا، لیکن یاد رہے جب حکومت نے چند عرصہ پہلے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سرعام پھانسی کیلئے بل لانے کا اعلان کیا تو اس تنظیم کے منتظمین نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد اس تنظیم کے کردار پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے، اس سے پہلے بھی اس تنظیم نے میرا جسم میری مرضی جیسی غلیظ نعرہ لگاکر تنظیم کے کے کردار کو خوب بے نقاب کر دیا، اگر ہم غور سے دیکھیں تو مغربی ممالک میں یہ واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، حال ہی میں ڈی جی رینجرز سندھ  نے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتی، اور پاکستان میں تین چار واقعات پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا، ڈی جی رینجرز کا یہ  بیان سو فیصد درست ہے،   پاکستان میں میڈیا بھی ایسے واقعات کو پلانٹڈ طریقے سے رپورٹ کرتے ہیں، جن کو اکثر غلط رنگ دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے، لیکن سارا میڈیا قصور وار نہیں ہے جیسا کہ جیو نیوز کے  اینکر انصار عباسی ہر پروگرام میں دین پر مبنی دلائل دینے کی وجہ پاکستان میں کافی مقبول اینکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور عباسی ان تجزیوں کی وجہ سے اکثر پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرتا ہے ، یہاں ایک سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر خواتین کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے تو عورت مارچ کے منتظمین ان پامالیاں کرنیوالوں کو سرعام پھانسی جیسی سزا دینے کیخلاف کیوں ہے؟ خواتین کو جتنے عزت اور حقوق  اسلام نے دیے ہیں کسی اور مذہب نے نہیں دیے، پھر آخر اس ملک میں خواتین کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کیوں نہیں ہورہی؟ عورت مارچ کے تنظیم کے لوگوں کی اکثریت امریکہ یا دوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہے، جو پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی کوئی موقع ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے، آئے روز یہ لوگ پاکستانی ریاست اور ان کے اداروں پر تنقید میں بھی سرفہرست ہوتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ایک خاتون اسلامی جمہوریہ ملک میں رہ رہی ہو، اور اس ملک کا آئین دنیا کے سب سے بہترین اورعادلانہ نظام اسلام کے اصولوں پر استوار ہو تو پھر مغربی ممالک میں بیھٹے ان لبرلز کے غیر شرعی بیانات کو آخر پاکستان میں کیوں اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟  کیا ہمیں بطور ایک ذمہ دار شہری اپنے ملک میں ان واقعات پر  کھل کر اپنے مذہب کی روشنی میں دلائل سے بحث نہیں کرنی چاہیے؟  یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہے ہیں

    Twitter @Ipashtune

  • پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ   تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں 1952 میں پیدا ہونے والا، برطانیہ میں تعلیم یافتہ، مغربی ثقافت سے بہت اچھی طرح واقف ، پھر بھی مضبوط روایتی اقدار سے آراستہ ، پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ وہ اپنی ایمانداری ، انسانیت سے محبت اور عظیم قائدانہ خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری میں ایک بصیرت مند عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا ، خاص طور پر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے بعد ، جس نے انہیں بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔

    انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے لیے 22 سال جدوجہد کی۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بھی ہیں-ایک سیاسی جماعت جو انہوں نے 1996 میں بنائی تھی۔ عام انتخابات 2018 کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں 270 میں سے 116 نشستیں جیتیں اور سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیا۔

    اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی نے ممکنہ مستقبل کی حکومت کے لیے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان کیا۔ ایجنڈے میں حکومت کے تقریبا تمام شعبوں میں وسیع اصلاحات شامل ہیں ، بشمول جنوبی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانا ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ، کراچی میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور بہتری بلوچ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اپنی پہلی وضاحت میں ، اس نے اعلان کیا کہ جیسا کہ وہ چین سے متاثر ہے ، انہوں نے غربت اور بدعنوانی کو کیسے ختم کیا ، وہ چینی تجربے سے سیکھنا چاہیں گے۔

    پی ٹی آئی کو ایک تحریک کے طور پر تصور کیا گیا تھا کہ وہ اس نظام کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے لیے لڑے جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ چارٹر میں رکھا تھا ، جو ماڈل اسلامی ریاست کی بنیاد تھی ، قانون کی حکمرانی پر مبنی ایک مساوی معاشرہ اور معاشی انصاف انسانی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست ہے۔ یہ انصاف اور مساوات کے اصول ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا تصور کیا ، اور یہی اصول پی ٹی آئی کی بنیاد ہیں۔

    اپنی انتخابی مہم کے دوران ، اس نے پاکستانی عوام کے ساتھ کئی وعدے کیے ، اور عوام نے اس پر اعتماد کیا اور اسے ووٹ دیا۔ پاکستان میں یہ ایک بہت ہی غیر معمولی الیکشن تھا ، روایتی سیاست کے خلاف ، اکثریت نے اسے ووٹ دیا ، خاص طور پر متوسط ​​طبقے ، پڑھے لکھے لوگوں اور نوجوانوں اور خواتین نے۔ وہ بانی پاکستان اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کی تاریخ میں تیسرے مقبول ترین رہنما کے طور پر ابھرے۔

    پاکستان کے لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ انہیں ووٹ دیں اور ان پر اعتماد کریں۔ بدقسمتی سے ، زیادہ تر توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ زندگی کی قیمت بڑھ گئی ہے ، آٹا ، چینی ، پٹرول کی قلت ، مہنگائی ، کرنسی کی قدر میں کمی ، بے روزگاری ، بجلی کی قلت وغیرہ عام مسائل ہیں جو عام آدمی کو مار رہے ہیں۔ پھر بھی ، اسے مقبولیت حاصل ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مخلص ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ان کی ٹیم اسی پیج پر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ عوام اب بھی اس پر الزام نہیں لگاتے بلکہ اپنی ٹیم پر الزام لگاتے ہیں۔

    درحقیقت ، یہ مانا جاتا ہے کہ اگرچہ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ان کی کچھ نیکیوں کی وجہ سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے پسند کیا اور انہیں پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کیا۔ لیکن یہ پی ٹی آئی کی قیادت والی حکومت نہیں ہے۔

    ان کی ٹیم میں غیر منتخب ممبران ، غیر ملکی امپورٹڈ ممبرز ، دوہری قومی ممبران ، الیکٹ ایبل ایلیٹ شامل ہیں ، جو حال ہی میں ان کی حکومت میں بہتر عہدے حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ سخت گیر ، پی ٹی آئی کارکنان اس کی حکومت سے باہر ہیں یا کچھ غیر اہم عہدوں پر بہت کم فیصد۔ مثال کے طور پر ، سب سے اہم فنانس ہے ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، گورنر اسٹیٹ بینک ، غیر = پی ٹی آئی کی قیادت میں ، اسٹریٹجک پلاننگ ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، وزارت داخلہ ، ایک بار پھر پی ٹی آئی کی زیر قیادت ، کامرس ، دوبارہ ایک غیر پی ٹی آئی کی قیادت ، وغیرہ۔

    پی ٹی آئی کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ سابقہ ​​حکومتوں نے اپنے دور میں درآمد شدہ ، غیر منتخب اور دوہری شہریت حاصل کی۔ یہ سچ ہے ، پچھلی حکومت نے بھی اسی طرح کے کام کیے ، لیکن ان کا کیا ہوگا؟ کیا پاکستان کے لوگ ان کے عمل کو پسند کرتے ہیں؟ انہیں دوبارہ ووٹ دیا؟ اگر وزیر اعظم عمران خان بھی ان کے راستے پر چلیں اور انہیں اسی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    ہم نے پی ٹی آئی کو تبدیلی ، اصلاحات ، میرٹ کریسی ، انصاف ، مساوات ، جمود کی تبدیلی اور مکمل تبدیلی کے لیے ووٹ دیا۔ پاکستان کے لوگ بہت قربانیاں دے سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ایک مقصد کے لیے ووٹ دیا ہے۔ یہ خوفزدہ ہے کہ اگر وجہ پیش نہ کی گئی تو پاکستان کے لوگ مختلف سوچ سکتے ہیں۔ پاکستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تیزی سے ابھرتا ہوا جیو پولیٹیکل منظر نامہ ہمیں اندرونی طور پر کوئی پریشانی نہیں ہونے دے گا۔

    تاہم پاکستان میں غیر جانبدار ، دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ کیا وہ اتنا بے بس ہے؟ کیا اس کی ٹیم بنانا اس کی اپنی پسند نہیں تھی؟ اس کی پسند کی ٹیم بنانے کے لیے کیا دباؤ تھا؟ اور اسی طرح کے بہت سے سوالات۔ کم از کم ، لوگ اس پر الزام لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو میرٹ ، ایمانداری ، اخلاص ، پاکستان کے ساتھ وفاداری کی بنیاد پر نہیں بنا رہا۔ یہ تجویز کیا جاتا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ بہت دیر ہونے سے پہلے عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے۔

    @Z_Kubdani

  • نمود و نمائش تحریر:فاروق زمان

    نمود و نمائش تحریر:فاروق زمان

    نمود و نمائش بلا شبہ ایک خطرناک مرض یے۔ نمودو نمائش وہ عمل ہے جس میں لوگ اپنی دولت جائیداد اور مادی اشیاء کا دکھاوا کرتے ہیں اور ایسا کر کے خوشی اور برتری جیسے جذبات محسوس کرتے ہیں۔ نمود و نمائش اور دکھاوا لوگوں کی زندگی کا محور بن چکا ہے۔ لوگوں نے اپنے مال واسباب انسانیت کی بہتری کے لیے مہیا کرنے کی بجائے لوگوں کی دل آزاری اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ جس کے پاس بھی دولت ہو وہ اس کی نمائش ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ نمود و نمائش انسان کی زندگی میں تباہکاریاں لاتی ہے۔ نمود و نمائش اور دکھاوا خمار کی طرح لوگوں کو چمٹ کر رہ گیا ہے۔ لوگ نمودو نمائش کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے مال و اسباب، دولت و جائیداد کی دوسروں کے سامنے نمائش لگانا اور خود کو برتر ثابت کرنا ہی آج کے حضرت انسان کا شیوہ ہے۔ لوگ نمود و نمائش کرتے ہیں، خود کو دوسروں پر برتری ثابت کرتے ہیں اور اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔ اور مادی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ ایسی خوشی اور جذبات کبھی بھی دیرپا یا سکون آور نہیں ہوتے۔ جھوٹی شان و شوکت کے غرور میں میں سکون و اطمینان کی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لوگ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اس کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
    لوگ شادی بیاہ او دیگر تقریبات پر فضول رسم و رواج وغیرہ میں نمود و نمائش کی غرض سے اسراف کرتے ہیں۔جہیز، ملبوسات، زیورات اور نہ جانے کتنی ہی فضول اور غیر ضروری رسوم پر پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔  لوگ دکھاوے کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کو ایسا کرنے میں بہت سی مشکلات سامنے آتی ہیں اور وہ اس نمود و نمائش کے میں زندگی بھر کے لئے مقروض ہو جاتے ہیں۔
    نمود و نمائش کی دین اسلام میں سخت ممانعت کی گئی ہے ۔ نمود و نمائش تکبر کی علامت ہے۔ جس سے لوگ خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں۔ ۔اللّلہ نے اچھا کھانے پینے، پہننے اوڑھنے سے منع نہیں فرمایا لیکن اس سب میں بے جا اسراف اور نمود و نمائش نہ ہو بلکہ سادگی ہو۔ اسلام کی تعلیمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اعتدال کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
    ہر وقت دکھاوے کی زندگی آپ کے اصل کو چھین لیتی ہے، آپ منافقت کی زندگی جاتے ہیں، جس میں کچھ بھی اصلی یا قدرتی نہیں ہوتا۔ اور تو اور لوگوں کے رویے بھی جھوٹ اور دھوکہ ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر لوگ اپنے آپ کو اچھا ترین ثابت کرنے، اپنی خوبیاں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے، اپنے کمالات دنیا کو بتانے اور اپنی امارات ظاہر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ سب بہت کھوکھلا اور بناوٹی لگتا ہے۔ نمود و نمائش کسی بھی صورت میں ہو، فریب ہی لگتی ہے۔
    لوگ نمود و نمائش میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ عبادتوں کا دکھاوا بھی بہت زیادہ ہے۔ لوگ دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں، وہ خود کو نیک ثابت کرنے کے لیے حج کرتے ہیں۔ دکھاوے کے لیے نیک اور اچھے کام کرتے ہیں۔ کوئی اچھا کام کریں یا کسی غریب کی مدد کریں تو لازماً تشہیر کی جاتی ہے۔ تصاویر شئیر کی جاتیں ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اس غریب پر کیا اثر پڑے گا اور اس کی عزت نفس مجروح ہوگی۔ یاد رہے کہ نمود و نمائش اور دکھاوے کی غرض سے کیے گئے نیک کام بھی اللّلہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی اجر ہوگا۔
    نمود و نمائش سے معاشرتی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ لوگ دوسروں کی دولت  جائیداد دیکھ کر حسد و نفرت وغیرہ کے جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو کہ سنگین نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی دولت سے متاثر ہو کر کمانے کے لئے غلط رستوں پر چل سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں نمود و نمائش آپ کے لیے کوئی سکون نہیں لائے گی بلکہ آپ کی زندگی بے سکونی سے بھر دے گی۔ اگر اللّلہ نے آپ کو دولت سے نوازا ہےتو اس کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کی بجائے اچھے کاموں میں استعمال کریں۔کوشش کریں کہ اللّٰلہ کے عطا کردہ مال میں سے مستحق لوگوں کی مدد کریں۔اسلام سادگی اور قناعت کا درس دیتا ہے جو کچھ ہے اس پر قناعت کر کے اللّلہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اپنے مال و اسباب کو ظاہر کر کے ان لوگوں کی کی دل آزاری کرنا جن کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہی مشکل امر ہے، یقیناً اللّلہ کے ہاں بدترین عمل ہے۔ مستحق لوگوں کی مدد کریں سادہ طرز زندگی اپنائیں۔ آپ کا مقصد اللّلہ کو خوش کرنا ہونا چاہیے نہ کہ لوگوں کو متاثر کرنا۔ اگر آپ نمودو نمائش کی راہ جو چھوڑ کر سادہ قدرتی زندگی اپنائیں گے تو آپ کی زندگی بہت پر سکون اور بہتر ہو جائے گی۔

    @FarooqZPTI

  • افغانستان میں افغان طالبان کی پھر سے آمد اور حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    افغانستان میں افغان طالبان کی پھر سے آمد اور حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    یہ کالم میں اس وقت لکھ رہا ہوں جب آج صبح امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے معاملے پر اہم تقریر کی.

    ویسے افغانستان پر تو کالمز لکھے ہی ہیں لیکن اب حالات بدل چکے ہیں مختصر لکھتا چلوں کے افغانستان میں پہلے بہت سے لوگ آئے قابض ہوئے اور ہر بار افغان طالبان پھر سے واپس آئے اور کل پرسوں دوبارہ طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا. 

    افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی شروع تو ہے ہی بلکہ اب تین سے ساڑھے تین ہزار کی تعداد رہ چکی ہے باقی سب واپس چلے گئے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے آج صبح واضح کر دیا کے اسے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے پر کوئی شرمندگی نہیں افغانستان میں اس وقت طالبان کا قبضہ ہو چکا پاکستان ایک عرصے سے بھارتی دہشتگردی کا شکار رہا جانیں گنوائیں اب نئے امریکی صدر کو بھی احساس ہؤا کے امریکہ کی بیس سال طویل جنگ میں اسے کچھ حاصل نا ہؤا یہ ایک بہت اچھا عمل ہے کہ امن قائم ہو.

    افغانستان میں سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا جو پاکستان میں افغانستان سر زمین سے دہشتگردی کرواتا تھا اور افغان اشرف غنی حکومت کے عناصر دہشتگردی کی کارروائیوں میں شامل ہوتے تھے پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف کیا کچھ نہی‍ں بولا یہ سب افغان حکومت اور بھارت کے بل بوتے پر کیا جاتا تھا.

    امریکہ کو بھی بلا آخر یہ احساس ہؤا کے جنگ مسائل کا حل نہیں یہی بات وزیراعظم عمران خان پچھلے کئی سال سے کہتے آئے ہیں.

    امریکی صدر کی تقریر میں امریکی صدر نے خود کہا کہ میں اپنے ملک کی فوج کو کیوں افغانستان میں جھونکوں جب افغان صدر اور آرمی ہی بھاگ گئے امریکہ کو بھی بہت دیر میں سمجھ آئی کے افغانستان ہو جا کوئی اور ملک حملوں اور تباہی سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی.

    چین اور پاکستان نے مل کر افغانستان کے بارے بہت کام کیا بھارت جو مستقل افغانستان سے پاکستان پر نظریں رکھتا تھا اسے ختم کیا گیا اب پاکستان کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی نظر آرہی ہے وہ کیسے؟ 

    تو جناب وہ ایسے کے اب افغانستان میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد اعلان ہؤا کے افغانستان کسی کو بھی اپنی سر زمین کسی کے بھی خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا یہ پاکستان کے لئے ایک بہترین اور خوشی کی خبر ہے ورنہ پاکستان کی دو سرحدیں بھارت اور افغانستان سے مشکلات درپیش تھیں اب ایک سرحد پر  استحکام اور سکون ہو گا اور پاکستان بھارت کی سرحد پر اپنی نظریں رکھ سکے گا افغانستان میں بھارتی انویسٹمنٹ تو ڈوب ہی چکی ساتھ ہی بہت سے ایسے عناصر جو رہتے اور کھاتے پاکستان کا اور بیانیہ افغانستان امریکہ (ریاست پاکستان افواج وزیراعظم عمران خان) کا پھیلاتے تھے وہ بھی اب ایک دم غائب سے ہو گئے محسن داوڑ منظور پشتین علی وزیر سمیت خونی لبرلز اور باہر بیٹھے فسادی لوگوں کا اب چورن نہیں چلنے یہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ہمدردی میں پاکستان کے خلاف بولتے تھے اب کیا ہوگا ان کا یہ تو گئے پاکستان کے ساتھ جس نے بھی برا کیا پچھتایا ہی ہے.

    اب جیسا کے افغانستان میں امن اور سکون آنے کو ہے تو سال دو تین سال تک ہو سکتا ہے کے پاکستان اور چین کی دیرینہ خواہش کے وسطی ایشیائی ممالک میں تجارت ہو اس کے امکانات بڑھ چکے ہیں پاکستان اب اپنی درست راہ پر گامزن ہو رہا ہے

    افغانستان کی جنگ کے اس سفر کے سلسکے میں سب سے زیادہ پاکستان آرمی نے قیمت ادا کی ہے بہت  کم ایسی افواج ہیں جو اتنی قربانیاں دے شھداء کا لہو رنگ لایا اور ﷲ تعالیٰ نے یہ اچھے دن دکھانے شروع کئے.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے اور پاکستان پھلے پھولے تا قیامت آمین

    تو سلامت مت وطن تا قیامت وطن

    یہ مشہور ملی نغمہ ہے اس کے یہ بول اچھے لگے سو لکھ دیئے.

    Twitter id @ M1Pak