Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض

    کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض


    کسی بھی ملک کی ترقی میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان کو ایک زرعی ملک کی حثیئت سے جانا جاتا ہے اس وقت پاکستان کی چالیس فیصد لیبر زراعت کے شعبے میں اور باقی دوسرے تمام شعبوں سے منسلک ہے کسی ملک کی ترقی کا ماپنے کے لیے جی ڈی پی کو دیکھا جاتا ہے یعنی یہ ملک معاشی لحاظ سے کتنی ترقی کر رہا ہے اس وقت پاکستان کی جی ڈی پی میں بیس فیصد حصہ زراعت کا ہے یعنی یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر اس شعبے کو ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسان بدحال سے بدحال ہوتا گیا اور سرمایہ دارکا سرمایہ زیادہ سے زیادہ ہوتا گیا -پاکستان میں جو اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں ان میں کپاس، گندم ، چاول اور مکئی شامل ہیں کپاس کے لیے جنوبی پنجاب کی آب وہوا موزوں ترین تھی اور یہاں سے بہت زیادہ مقدار میں کاٹن پیدا کی جاتی تھی مگر گزشتہ ادوار کی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے شوگر ملوں کو اس علاقے میں شفٹ کر دیا گیا اور جب کسانوں نے دیکھا کہ انہیں اس فصل میں مناسب مصاوضہ مل رہا ہے تو انہوں نے گنے کی فصل لگانا شروع کر دی اور اس طرح یہاں سے ایک لحاظ سے کپاس کی فصل کو تقریباً ترک کر دیا گیا حالانکہ ارباب اختیار کو چاہیے تھا کہ اس علاقے کو کاٹن زون ڈکلئیر کرتے اور شوگر ملوں کو یہاں منتقل ہونے سے روکتے مگر شائد ان کی ملی بھگت شامل تھی اس کے بعد گندم کی فصل کا ذکر کرتے ہیں جس میں پاکستان کچھ عرصہ پہلے تکا خودکفیل تھا مگر گزشتہ سال سے ناقص انتظامات کی وجہ سے اس کا بحران پیدا ہو رہا ہے اس کی ایک وجہ تو نااہلی اور بد انتظامی ہے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا اور دوسری اہم وجہ مناسب معاوضہ نہ ملنا اور فصل پر زیادہ اخراجات ہونا ہے اسی لیے کسان دلبرداشتہ ہو کر اپنی زمینیں بیچ رہے ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاری کے لیے زمین کی کمی ہو رہی ہے اور اس پر ہاوسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں اس سے ملک میں کسی بھی فصل کی اوسط کم ہو رہی ہے اور ہمیں اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے جس سے ملکی ترقی کی رفتار سست ہے اس کے بعد مکئی کی فصل کی جانب آتے ہیں سارا سال اس کی قیمت پندرہ سو روپے کے قریب ہوتی ہے مگر جب کسانوں سے خریدنے کا اقت آتا ہے تو اس کو قیمت گر کر سات سو کے قریب آ جاتی ہے کیونکہ کسان کے پاس تو اتنا سرمایہ نہیں ہوتا اس نے یہ فصل بیچ کر اگلی فصل کاشت کرنی ہوتی ہے لہذا سارا منافع سرمایہ دار لے جاتے ہیں – اس کے بعد چاول کی فصل کی جانب آتے جو کہ ملکی زراعت میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ اس کو ملکی ضروریات پورا کرنے کے بعد بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی کسان کو خون پسینے کی کمائی کی صورت میں چند ٹکے ہی میسر آتے ہیں اس فصل کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہی اور ڈیزل کو موجودہ قیمت ۱۲۰ روپے کے قریب ہے جس کی وجہ سے کسان کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اس میں خرچ ہو جاتا ہے اس کے بعد کھادوں کا نمبر آتا ہے موجودہ حکومت نے کسانوں کے لیے سبسڈی کا آغاز کیا ہے مگر اس کا طریقہ کا بہت پیچیدہ ہے جس کے لیے کارڈ کا اجرا کروانا پڑتا ہے مگر اکثر لوگ اس سے ناواقف ہیں اور وہ اس آفر سے محروم ہیں اس کے علاوہ کھاد کی موجودہ قیمت چھ ہزار تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے اس دور حکومت میں تو کسانوں کی خوشحالی کا کوئی امکان نہیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    ہمارے معاشرے کی لبرلز خواتین مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتی اور کہتی ہے کہ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، جہاں ہمارے معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ خواتین بھی ہیں۔ جہاں خواتین دکھ ، درد سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ ، درد جھیلنے پڑتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات اظہار بھی نہیں کرتا اور مجھے خواتین کی نسبت مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم و معصوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے زمانے کی ہر غلط بات کو چپ چاپ سہتا ہے کیونکہ اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاتون کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد حضرات ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کیلٸے صبح سے رات تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے خاندان کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا اور اپنے گھر چلانے کیلٸے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔۔

    مرد والد کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا محافظ اور سائبان ہے۔ والد جو زمانے کی ہر تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ زمانے کی تلخیوں و دشواریوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں اور لبرلز کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی گرا نہیں سکتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو والدین کیلٸے سہارا بن جاتا ہے، اگر یہی مرد شوہر کے روپ میں ہو تو بیوی کی ڈھال بن جاتا ہے ۔۔

    مرد کو اگر اس لئے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی بہن ، بیٹی پہ کوئی گندی نظر نہ پڑے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بہن ، بیٹی زمانے کی ہر مکاریوں اور چالاکیوں سے بچے ، وہ چاہتا ہے کہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین کریں یہ مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی خاتون سے پوچھ لیں۔

    یہ لبرل ازم کے چکر میں خواتین خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ یہ لبرلز جان بوجھ کے مرد حضرات کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔

    خواتین کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد حضرات کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور اور سمجھدار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط نہیں کہ باہر کی دنیا کا مقابلہ کرسکوں ، یا زمانے کی تلخیوں اور مصاٸب کو برداشت کر سکوں ۔۔ یہ سب کام ایک مرد ہی کرسکتا ہے عورت نہیں۔

    میں اتنا کرسکتی ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے خاندان کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر اپنے گھر سے نکلنا سراسر میری کم عقلی ہے ۔ جب اللہ رب العزت نے مجھے مرد کی صورت میں سائبان و محافظ دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔

    کبھی بیٹھ کر سوچیں لبرلز خواتین کیا مرد حضرات ، آپ کے والد محترم ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے کوئی حقوق نہیں ؟ کیا ان کے ساتھ کبھی کہیں کوئی انصافی نہیں ہوئی ؟ اپنے بھائی کو دیکھیں جب آپ کا بھاٸی جو گھر میں سب سے بڑا ہو اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خوشی کیلئے انھیں پڑھانے لکھانے کیلئے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھوں سے روندتا ہے اور اپنی ساری زندگی بہن بھائیوں نام کر دیتا ہے .کبھی آپ نے ایسے اپنے بڑے بھائی کیلٸے کچھ لکھا ، کچھ پڑھا ؟ کیا کبھی ان کے حق میں کوئی ریلی نکلی ؟ کبھی کوئی فلم یا کوئی ڈرامہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تخلیق کیا؟

    وہ جو آپ کے والد محترم اور شوہر کے ساتھ چلتی ہیں تو آپ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو لے جاتی ہے مارکيٹ اور خود کو محفوظ سمجھتی ہے کہ میرا بھائی ساتھ ہے ، پھر انکی شدید مخالفت میں لکھا ہوٸے الفاظ کیسے پڑھ لیتی ہے ؟ انکے بارے میں ہوئی تلخ باتیں کیسے سن لیتی ہے۔۔

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ مرد حضرات کے ہر روپ کا احترام کریں کیونکہ یہ میرے دین اسلام نے یہی سکھایا ہے

     

                            

    Mahrukh Azam

    Mahrukh Azam is a  Freelancer, journalist Columnist. ,She is associated with many leading digital media sites in   Pakistan To find out more about him visit his twitter @AriesMaha_

     

    https://twitter.com/AriesMaha_

     

  • ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے  تحریر:محمد جاوید حقانی

    ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے تحریر:محمد جاوید حقانی

    امام غزالی رحمۃ اللہ الباری پانچویں صدی ہجری کے بالاتفاق مجدد مانے جاتے ہیں ۔
    آپ کی شخصیت کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں
    آج تک امام غزالی کی شخصیت کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے
    انکی ذات گرامی پہ تبصرے تجزئیے کیئے جاتے ہیں۔
    امام غزالی نے بہترین زندگی جینے کا فلسفہ بہت ہی مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے
    آپ کئی کتابیں تصنیف کیں
    ان کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں
    آج کے ترقی یافتہ یورپ نے بھی "فلسفہ” امام غزالی سے سیکھا۔
    آپ ایک کتاب "تبلیغ دین” میں دنیاء کی حقیقت کے موضوع پر لکھتے ہیں۔
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا۔
    دیکھو او ہریرہ یہ ہے دنیاء کی حقیقت ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں، آرزوئیں، جوش میں تھیں اور حرص و حوس سے لبریز تھیں اور آج کس حال میں کوڑے پر پڑی ہیں یہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا۔
    اور یہ دیکھو یہ غلاظت و فضلہ جو تم کونظر آرہا ہے یہ تمہاری غذاء ہے جس سے پیٹ کوبھرنے میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایک دن تھا کہ رنگ برنگے کھانے کی شکل میں یہ تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے کے ڈھیر پر کس گندگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے بھاگتے گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چھیتڑے کسی وقت تمہاری چمک و دمک والے لباس تھے
    اور آج انہیں ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھر رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔
    اور یہ دیکھو! یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جان دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔

    اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ دنیاء کی حقیقت ہے
    جس کا قابل عبرت انجام دنیاء میں ظاہر ہوگیا۔
    پس! جس کو رونا ہو روئے۔۔۔۔۔
    اس حدیث پاک کے بعد امام غزالی مزید لکھتے ہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن دنیاء کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بد صورت بڑھیا بناؤ سنگھار کئے ہوئے زیور و پوشاک پہنے ہوئے بنی ٹھنی بیٹھی ہے۔
    آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا توں کتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار لوگوں سے۔
    آپ نے پوچھا کہ ان شوہروں کا انتقال ہوچکا یا تجھے طلاق دے چکے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ طلاق کی ہمت کس کو ہوتی ہے میں نے سب کومار ڈالا۔۔۔
    یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تیرے موجودہ شوہر پر افسوس ہے کہ جسے تیرے سابقہ شوہروں کے انجام سے عبرت نہیں۔۔۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ الباری تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    مسلمانوں!
    سمبھل جاؤ اور ہوشیار ہوجاؤ اور جان لو کہ یہ دنیاء بڑی بے وفاء ہے اس سے بچو
    اس کا جادو ہاروت و ماروت ( دو فرشتے ہیں جن پر جادو نازل ہوا) کے سحر سے زیادہ اور جلد اثر کرتا ہے اگر سے پرانا نمک جو کی روٹی کے ساتھ کھا کر اور ٹاٹ پہن کر زندگی گزارو گے تب بھی گزر جائیگی مگر آخرت کی فکر کرو کہ وہاں کی رتی برابر نعمت کا نہ ملنا بھی بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ اسی موضوع جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں
    بعض لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بدن کتنا ہی مصروف رہے مگر ہمارا دل دنیاء کی محبت سے خالی رہتا ہے
    یاد رکھو!
    یہ شیطانی وسوسہ ہے بھلا کوئی شخص دریا میں چلے اور پاؤں نہ بیگے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
    اگر تم کو دنیاء کی طلب ہوگی اور ضرورت سے زیادہ دنیاء کمانے کی تدبیریں کرنے لگو گے تو ضروری بات ہے کہ پریشان رہو گے اور دین کو ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔
    یہ بھی جان لو کہ دنیاء کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی
    اور اسکی طلب ہمیشہ بڑھتی رہے گی
    کیونکہ دنیاء کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے جتنا پیو گے اتنی ہی پیاس بڑھتی جائیگی۔۔۔
    ‎@JavaidHaqqani

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا حصہ  دوم  تحریر:محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا حصہ دوم تحریر:محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت عروہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میرے پاس گھنٹے کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے اور جب میں اسے یاد کر لیتا ہوں جو اس نے کہا تو وہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سخت سردی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا پھر جب وحی موقوف ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ ﷺسے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعودؓ کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپﷺ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپﷺ سے دور ہوئی، تو آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85؀ (ترجمہ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو ’’یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔‘‘ (تمہیں تو تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے)(85سورۃ بنی اسرائیل )
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (بعد نبوت) تیرہ سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوگیاصحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1083
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تھا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1136
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ) اے نبی ﷺ ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ! (16سورۃ القیٰمہ ) یہ آیات نازل فرمائیں
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2217
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپﷺ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2218
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، اور حکم دیا گیا کہ کعبہ کی طرف رخ کریں، اس لئے تم لوگ کعبہ کی طرف منہ پھیر لو، اس وقت ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، چنانچہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2157
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 385
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 256
    اے رب کریم ہمیں نبی مہربانﷺ پر اترنے والے آپ کے پیغامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے
    آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
    امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
    جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
    شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
    اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
    امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
    بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
    یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
    شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
    امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
     حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں  

    دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی  ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول 

    کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
    امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
    امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔ 
    آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
    دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
    @I_MJawed

  • مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    چیلنجز اور مسائل ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں ان کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے اور جن کو بھی مسائل کا سامنا ہوتا وہ انکو حل کرنا چاہتے ہیں اور خواہش ہوتی کہ کسی طرح سارے مسائل حل ہوجائیں اور زندگی پرسکون ہوجائے، لیکن ہر کوئی ان مسائل کو حل کر نہیں پاتا۔ زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شاید مسائل زندگی میں اتنی پریشانی پیدا نہیں کرتے لیکن اصل پریشانی تو وہ ردعمل ہے جو ہم کوئی مشکل پیش آنے پہ دیتے ہیں۔ اس کی اہمیت نہیں ہوتی کہ مشکل کتنی بڑی یا چھوٹی ہے بلکہ ہم اس مشکل پہ ردعمل کیا دیتے ہیں وہ اہم ہے۔ اگر ہمارا ردعمل بہتر نہیں ہوگا تو مسئلہ بڑھتا جائے گا اور اور چھوٹے سے مسئلہ کو بھی الجھا کر بڑا اور خراب کرلیں گے اور اصل مسئلہ کہیں درمیان میں ہی رہ جائے گا بلکہ ہمارے رویے کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ اس لئے کسی بھی مسئلہ کے درپیش آنے پہ ردعمل سوچ سمجھ کردینا چاہئے اور نہ ہی فوری ردعمل دینا چاہیے۔ کسی بھی مسئلہ کو پہلے اچھے سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر سوچ سمجھ کر ردعمل دیں گے تو مسئلہ حل کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ کوئی آپ سے کتنا بھی برا سلوک کرے لیکن کبھی بھی اس کے لیول تک نہ آئیں جواب ضرور دیں لیکن اس کی حد تک نہ گریں اور اپنے اعصاب کو مضبوط اور پرسکون رکھیں۔
    یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یا تو آپ مسئلہ ہیں یا مسئلے کا حل ہیں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا اس کے حل کا حصہ ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش آگیا ہے تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں کیونکہ زندگی ہے تو مسائل آتے رہیں گے لیکن اگر آپ روتے رہیں گے کہ میرے ساتھ یہ ہوگیا وہ ہوگیا مجھے حالات اچھے نہیں ملے، لوگوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اگر میں بھی کسی امیر گھر میں پیدا ہوتا تو میری بھی زندگی مختلف ہوتی اگر آپ پرابلم کے بارے میں سوچتے رہیں گے اور کچھ نہیں کرینگے تو آپ پرابلم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس لئے کسی مسئلہ کا حصہ بننے کیبجائے اس کے حل کا حصہ بنیں اور اس چیز پہ غور کریں کہ اس مشکل سے کیسے نکل سکتے ہیں اور حل کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
    اپنی زندگی کو بدلنے کا اختیار آپ کے پاس ہی ہے اور انسان خود ہی اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ کہ "اگر آپ غریب گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں لیکن اگر آپ غریب رہ کر ہی مر گئے ہیں تو یہ آپ ہی کی غلطی ہے” مطلب اگر آپ کی زندگی میں کوئی مشکل آگئی ہے تو مشکل ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی وجہ سے نہ آئی ہو کسی دوسرے کی غلطی کی وجہ سے آپ مشکل میں پڑ گئے ہوں لیکن اگر آپ اس مشکل سے نکل نہیں سکتے اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرتے اور اس میں ہی پھنسے رہتے ہیں تو پھر یہ آپ کی غلطی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، یہ ضروری نہیں کہ ہر تنقیدی بات کا جواب دیا جائے کچھ لوگوں کو کام ہی صرف تنقید برائے تنقید ہوتا ہے ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کردینا چاہئے۔ اگر کسی دوسرے کے ساتھ ایشو بن جائے یا کوئی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو لوگ عام طور پہ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں آپس میں اچھے قریبی تعلقات ہوں پھر بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کیبجائے دوسرے لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں آپس کے اختلافات کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں اور مزید غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لئے حالات جیسے بھی ہوں کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ایک دوسرے سے بات کریں۔ آپس میں بات کرنا کبھی بھی بند نہ کریں اس سے آدھے سے زیادہ مسائل ویسے ہی حل ہوجاتے ہیں۔
    ہماری زندگی میں کچھ ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہوتا یا کم از کم ہمارے پاس ان کا حل نہیں ہوتا کچھ چیزوں کو ہم نہیں بدل سکتے اگر کسی کا قد چھوٹا یے رنگ گورا نہیں ہے، کوئی غریب گھر میں پیدا ہوا ہے مڈل کلاس فیملی سے ہے کسی کے والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں بدل سکتا اور گر ان میں سے کوئی ایسی چیز آپ میں ہے تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونا آپ ان چیزوں کو نہیں بدل سکتے یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں اس لئے کوئی ایسا مسئلہ جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تو ہوسکتا ہے وہ مسئلہ ہو ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہو جس کو قبول کرکے ہی ہم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کو بدل نہیں سکتے ہیں اس لئے ایسی چیزوں کو قبول کرنا ہی بہتر ہے۔
    مسائل کے بارے میں ایک سنہری اصول ہے کہ یا تو آپ پرابلم کو حل کرلیں اور یا تو آپ اس سے چھوڑ دیں نظرانداز کردیں، کسی پرابلم کے ساتھ کبھی بھی زندگی نہ گزاریں اس کو یاد کرکے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس بوجھ کو اپنے ساتھ لے کر کبھی بھی نہ چلیں کیونکہ بوجھ کو اٹھا کر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے

    tweets @KharnalZ

  • بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    فحاشی اور بے حیائی معاشرے میں قائم کردہ اصولوں اور معیارات کی خلاف ورزی ہے. حالیہ برسوں میں یہ بہت سی شکلوں میں ظاہر ہوا ہے جیسے کہ ہمارے رویے میں، ہماری زبان میں، ہمارے ڈریسنگ میں، اور حتی کہ دوسروں کے لیے ہمارے اشاروں میں بھی. موجودہ دور کے فیشن میں ایک نہایت اہم بات قابل غور ہے کہ فیشن میں بے حیائی اعلیٰ درجہ کی علامت بن گئی ہے.
    نئے دور کے فیشن نے نئی اور نوجوان نسل کو ہپناٹائز کر دیا ہے. ایک چینی محاورہ فیشن کی تعریف کرتا ہے، جیسا کہ ’فیشن دکھانے کی خواہش ہے لیکن چھپانے کی مجبوری ہے؛ فیشن ایک ملین ڈالر کی صنعت بن چکا ہے. یہ ایک بڑے لوگوں کے گروہ کو روزگار فراہم کرتا ہے. یہ فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز کو مشہور شخصیت کا درجہ دیتا ہے.
    فیشن کا مقصد معاشرے کو خوبصورت بنانا ہے اور اس نے اس منصوبے میں جزوی کامیابی بھی حاصل کی ہے. فیشن انڈسٹری انسانی جسم کی قدرتی خوبصورتی کو پیش کرنے کے نام پر بے حیائی اور بعض اوقات بدصورتی کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے. انگریزی فلسفی جیم جوڈ نے کہا، "فن زندہ رہتا ہے اور کبھی بوڑھا نہیں ہوتا. یہ ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے. ظاہر ہے کہ چند ڈیزائن اس امتحان میں کامیاب ہوں گے. میں فیشن کی توہین نہیں کرتا، لیکن مجھے کسی نہ کسی طرح نیاپن لانے اور بنانے کی زیادہ تر کوششیں ناکام لگتی ہیں.”
    ہمارا پریس زیادہ تر اس طرح کے مواد سے بھرا پڑا ہے. بچے معاشرے کی جنریشن گیپ اور مغربی کاری کی وجہ سے بڑوں کی بات نہیں سنتے. بزرگ تب تک کوئی عجیب کام کرنے سے نہیں روک سکتے جب وہ خود کھلے عام اس طرح کے کام کرتے ہوں گے. یہ نئی نسل کے لیے ناقابل قبول ہو گا.
    بے حیائی پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے لیکن سوائے اپنے کندھوں کو ہلانے کے، ہم معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. بے حیائی معاشرے کی جڑوں میں گھس رہی ہے. یہ معاشرے کو اس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی علاج کام نہیں کرے گا.
    تاہم، ہمیں ایک حقیقت یہ بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ فحاشی اور بے حیائی صرف لڑکی کے لباس سے شروع نہیں ہوتی اور نا یہ اس کے ساتھ ختم ہوتی ہے. اسلام نے تمام عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے جبکہ تمام مردوں کو عورت کی عزت کرتے ہوئے اپنی نظریں نیچے کرنے کا حکم دیا ہے. مگر ہمارا معاشرہ بلکل الٹی سمت میں چل پڑا ہے. مغربی ممالک کے کلچر نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. عورتوں نے مغربی طرز کے لباس پہنا شروع کر دیے ہیں اور مردوں نے اپنی نظریں نیچے کرنا چھوڑ دیا ہے. اگر اس بے حیائی کی وجہ سے کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے تو قصور وار آخر پر ہر حال میں عورتوں کو ٹھہرادیا جاتا ہے. حالانکہ اس میں غلطی دونوں اطراف سے سرزد ہوتی ہے. اگر عورت پردہ نہیں کرتی تو اسکی غلطی ہے اور اگر مرد اپنی نظروں کو غلاظت سے پاک نہیں کرتا اور اپنے عمال درست نہیں رکھتا تو اسکی غلطی ہوتی ہے.
    معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ مرض ہم سب مل کر ہی روک سکتے ہیں. ہم سب کو اپنے آپ سے شروعات کر کے اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا ہو گا. بے حیائی کو چھوڑنا ہو گا. خود کو اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا. ہر قسم کے مغربی کلچر کو اپنے معاشرے سے اکھاڑ پھینکا ہو گا صرف تب ہی ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرہ بن سکتا ہے.

    تحریر: سیدہ بنت زینب
    @BinteZainab33

  • مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم ‏نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لندن میں سب سے مہنگے ہوٹل میں دھوم دھام سے ہورہی ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی کے لوٹے ہوئے پیسوں سے ۔جنید صفدر اور نواز شریف نے جو پگڑیاں لگائی ہوئی ہیں شادی کے موقع پر وہ مودی کی طرف سے چند سال پہلےکا ملا ہوا گفٹ ہے۔خود غرضی کی انتہا کہ جس عوام کو جلسوں میں بلا کرخوار کرتے تھے ایک پلیٹ بریانی پر ان کو اپنی خوشی میں شامل کرنا بھی یہ کرپٹ سیاستدان اپنی توہین سمجھتے ہیں اور
    بات کرتے ہیں” ووٹ کو عزت دو ” کاش پٹواریوں کو اتنی سمجھ آجائے انھیں یہ کرپٹ سیاستدان ایک ٹشو پیپر کی طرح استمعال کرتے ہیں ان کے دکھ دکھ مسئلے مسائل سے انھیں کوئی غرض نہیں آپ مریں جئیں آپ کے پیسوں سے یہ کرپٹ سیاستدان باہر کے ممالک میں عیش کی ذندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔۔!!اور آپ ایک ایک چیز کو ترس ترس کر ذندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔۔
    جب کروناوائرس پاکستان میں شدید زوروں پر تھا تومریم نواز نے اپنے خاص "مشیروں” کی مدد سے کوئی شہر ایسا نہیں چھوڑا جس میں جلسے نہ کیے ہوں اور نتیجآ پاکستان میں کروناوائرس سے جو تباہی ہوئی اگر خان صاحب بروقت حکمت عملی استمعال نہ کرتے تو پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں آجانا تھا اور ملک لوٹ کر نواز زرداریوں نے پہلے ہی ملک کا دیوالیہ نکالا ہوا تھا نہ ہسپتالوں میں یورپ جیسی سہولتیں نہ جدید مشینری کیسے اس صورتحال سے نبردآزما ہوتا پاکستان ۔۔میاں صاحب تو اپنے پورے خاندان اور اپنے حواریوں کےساتھ باہر بھاگ گے تھےملک سے لوٹے ہوئے مال و دولت سمیت تو ان کی طرف سے چاہے پورا پاکستان خدانخواستہ ختم ہوجاتا ان کا کیا نقصان تھا ۔۔نقصان غریب عوام کا تھا کہ کرونا کی شدید لہر کی صورت میں پھر سے کاروبار بند ہوجاتے غریب دہاڑی دار مزدور بھوکا مرجاتا ۔خان صاحب پورا ملک مجبورآ بند کردیتے لاک ڈاون کی صورت میں ۔اور جن کو شدید گرمی میں جلسوں میں نعرے لگوانے کے لیے مریم نواز کے لوگ گاڑیوں میں بھر بھر کر جلسوں میں لاتے تھے ایک ڈبہ بریانی ۔اور چند روپے کا لالچ دے کر ۔۔تو وہ سب سے ذیادہ متاثر ہوتے کیونکہ یہ مجبور طبقہ ہوتا ہے دو وقت روٹی سے بھی مجبور ان کا سیاست اور سیاتدانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا حالات کے پیسے ہوئے ان مجبور لوگوں سے بڑے لوگ بہت فائدے اٹھاتے ہیں۔۔۔!! تو بات کررہی تھی جلسوں سے کروناوائرس پھیلنے کی تو الحمدللہ ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ شکر ہے پھر کشمیر الیکشن ہوگے اور خان صاحب نے بھاری اکثریت سے الیکشن جیت لیا اور یوں اس ڈرامے کا” ڈراپ سین "ہوگیا اور مریم نواز کچھ مہنوں کےلیے کومے میں چلی گی ہیں تو عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔۔اب محرم میں مریم نواز نے اپنے بیٹے کی شادی کرکے عوام کو ایک اور پیغام دیا ہے کہ ان کو اللہ کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہیں رہی دولت کی پٹی نے ان کی آنکھیں چندیا دی ہیں ۔۔محرم میں تو اونچی آواز سے قہقہ لگانا بھی ہم مسلمان گناہ سمجھتے ہیں اور کہاں عوام کی لوٹی دولت سے لندن میں اربوں پاونڈز لگا کربینڈ باجوں سے شادی رچائی جارہی ہے وہ بھی محرم میں اور پاکستان میں اس لیے نہیں کی پتہ تھا لوگوں نے شادی کا سارا مزہ کرکرا کردینا ہے ایسا حال کرنا ہے ۔۔کہتے ہیں دنیا مکافات عمل ہے اور یہ بات سچ ہوتی تب دیکھی "جب بیٹا لندن شادی کروا رہا ہے اور اس کی اماں جان وڈیو کال میں شادی میں شرکت کررہی ہیں صرف عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے لیکن اب عوام اتنی بھی بےعقل نہیں جو ان کی مکاریاں سمجھ نہ سکیں ان کی سیاست کا اینڈ ہوچکا ہے بس دوسال اور ۔۔۔2023میں عوام ان کو بری طرح ریجیکٹ کردے گی اور پاکستان کی سیاست سے چلتا کرے گی کشمیر الیکشن تو ٹریلر تھا ۔۔!!
    پاکستان کے اچھے دن شروع ہوچکے ہیں ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان دن رات ملک کے لیے کام کررہے ہیں سب سے بڑی بات ان تین سالوں میں ملک میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ماضی میں جس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی تھیں۔کروناوائرس نے پورے یورپ کا سانس بند کیا ہوا تھا ملکوں کی اکانومی شدید متاثر ہورہی تھی تو ایسے وقت میں بھی پاکستان کے زرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ ہورہا تھا ہر ترقی یافتہ ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے ۔پاکستان میں اتنے سالوں سے بند پڑی صنعتیں پھر سے کام کرنا شروع ہوگی ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب ملک ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور خان صاحب کا خواب اللہ سچ ثابت کردے گا کہ لوگ باہر کے ممالک سے نوکری کرنے آیا کریں گے گرین پاسپورٹ کو عزت ملے گی لوگ فخر محسوس کریں گے اپنے گرین پاسپورٹ پر۔

    موضوع "