Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واقعہ مینار پاکستان

    واقعہ مینار پاکستان

    مینار پاکستان کا واقعہ ہمارے لیے بھی افسوس اورشرم کا باعث ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ہر مرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ تمہاری وجہ سے کسی کی ماں بہن کو راستہ تبدیل کرنا پڑے تو تم میں اورکتے میں کیا فرق ہے

    ‏‎اس واقعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کی بھی کافی بدنامی ہوئی ہے اور انڈیا کے میڈیا میں اس کو خوب اچھالا گیا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ہماری مائیں بہنیں نہیں ہیں جو کسی کی ماں بہن پر نظر ڈالتے ہیں

    ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم کسی کی ماں بہن کی عزت نہیں کریں گے تو کل کوئی ہماری بھی ماں اور بہن کی کوئی نہیں کرے گا

    اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے ایک نہ ایک دن جیسا
    کروگے ویسا ہی بھرو گے

    میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم نے کیا اور ہم کہاں جا رہے ہیں تعلیم ایک زیور ہے تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے حدوں کیا ہیں

    اور اسلام سے دوری بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اسلام امن کا درس دیتا ہے اور عورت کی تکریم اسلام سے کم ہی کسی نے کی ہے

    ہمارے معاشرے میں اسلام کے بنیادی اصول صرف ایک اپنانا لے تو میرا خیال نہیں اگلی دفعہ مینار پاکستان جیسا واقعہ نہیں ہوگا اور وہ اصول یہی ہے کہ
    مرد نیچی نظریں کرکے گزرے اور عورت ضروری پردہ اور اختیار کریں
    تصویر کی دوسری طرف دیکھیں تو مشہورٹک ٹوکر کے لچھلن اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیں

    جناب تاریخ 14 اگست کا واقع ہے اور پندرہ کو تو اس نے اپنے انسٹاگرام پر پر فوٹو اپ ڈیٹ کی ہے اور اس وقت تک کوئی افسوس نہیں اور کوئی صدمہ نہیں تھا

    گھر کا غلط ایڈریس دےکر آنا اور پولیس والوں سے آگے کاروائی نہ کرنا اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے

    تو اچانک ایسا کیا ہواکہ صدمہ بھی ہو کیا اور اقرار اور شامی وہاں پہنچ بھی گئے ہیں

    دیکھنے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں یہی اقرار کے مطابق یہ ان کے گھر گئے ہیں لیکن دوسری تصویروں کے مطابق میں یہ گھر شامی صاحب کا ہے

    ابھی تک صحیح تحقیقات ہو رہی ہیں نہیں ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے اصل معاملات کیا تھے سو کو گرفتارکرلیاگیا ہے میرا خیال ہے اس میں ایک کریکٹر بہت اہم ہے اس کا نام ریمبو ہے اس بندے سے بھی مکمل تفتیش ہونی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ تمام معاملہ کا پتہ لگ جائے گا ۔بہت سے لوگوں اس کو پبلسٹی سٹنٹ بھی کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بات بھی ہو ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لیے اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے

    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلسل تین دنوں سے ٹیلی ویژن پر نشریات جارہی ہیں ٹیوٹر پر مسلسل ٹرینڈ میں جا رہا ہے

    یہ ہمارے صحافیوں سے بھی گزارش ہے کہ برائے مہربانی کسی واقعہ کو بھی بیان کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیقات لینی چاہیے کہ پاکستان اور اسلام کا نام خراب نہ ہو

    حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیات کرکے عوام کے سامنے رکھے اور اس میں جو بھی قصور وار ہے اس کو سزا دینی چاہیے@sikander037 #sikander037

  • چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    عورت گھر کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہے آج کل کی عورت کو آگر کہا جائے گھر رہو تو وہ یہ سمجھتی ہے چار دیواری میں وہ قید ہو جائے گی یہ کوئی قید نہیں ہے عورت گھر سنبھالتے اچھی لگتی ہے اور مرد کماتے ۔ چار دیواری اس تَحفُظ کا نام ہے جو اسلام نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے۔ ضرورت اور مجبوری میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے ممنوع نہیں ہے ۔اسلام میں عورت کو حقوق دیے گئےہیں آزادی بھی دی ہے پر آزادی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بے حیائی پھیلائ جائے ۔ اتنی آزادی مل چکی ہے پھر بھی آزادی کے نعرے ختم نہیں ہورہے ۔ آج کل کی عورت کس قسم کی آزادی چاہتی ہے؟؟چار دیواری میں جتنی عورت محفوظ ہے اتنی کہیں بھی نہیں ۔ اپنی حفاظت خود کریں ۔معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔خواہشات کی تکمیل ہر کوئی چاہتا ہے کچھ بننے کی خواہش میں بھی عورتیں گھر سے باہر نکلنے کی خواہش مند ہوتی ہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حدود پار نہ کریں ۔بے شک گھر سے نکلے پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ آپ کی عزت داغ دار ہو۔گھر بیٹھ کے بھی آپ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور بہت سے کام موجود ہیں جو گھر بیٹھے آپ کما سکتی ہیں۔ پردے کا حکم بھی اسلیے ہے کہ کسی کی بری نگاہ آپ پہ نہ پڑے پردے میں رہ کے آپ گھر سے باہر کے کام سر انجام دے سکتی ہیں۔پردہ بھی ایسا ہو جس میں واقع لگے کہ آپ پردے میں ہیں آج کل کا پردہ بھی ایسا ہے کہ اتنا لوگ پردہ کے بغیر چلنے والی کونہیں دیکھتے جتنا پردے والی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ پردہ کے نام پہ فیشن کر رہی ہوتی ہیں ۔ پردے میں بھی حور پَری بن کے نکلو گی پھر کہو گی میرے ساتھ یہ ہوا !! جب تک آپ اپنا کردار صیحح نہیں کریں گی چاہے آپ پردہ میں ہو چاہے آپ گھر کی چار دیواری میں ہو آپ اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہونگی۔
    طوائف بھی ایک عورت ہی ہوتی ہے پر اسکا قصور یہ ہے وہ ایسی جگہ پیدا ہوجاتی ہے جہاں عزتیں محفوظ نہیں ۔ طوائف بھی اس معاشرے میں عزت چاہتی ہے وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے مگر اس معاشرہ میں اچھی بھلی عورت کو بھی برا بنا دیا جاتا ہے طوائف کو بُری نِگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے یہاں سر پہ چادر رکھنے والے کم نوچ کے کھانے والے زیادہ بستے ہیں ۔ جن لڑکیوں کو گھروں میں آزادی حاصل ہوتی ہے وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتی ہیں ٹک ٹاک کی دنیا بھی مجرہ بنی ہوئی ہےمشہور ہونے کے لیےشریف گھروں کی بگڑی اولادیں بھی اس کام میں مصروف ہیں۔ قیامت تو بعد میں آنی ہے تم لوگوں کی زندگیاں بھی عذاب بن جائیں گی ایسی حرکتیں عورتوں کو زیب نہیں دیتیں۔ حرکتیں ایسی نہ کریں کہ کچھ برا ہو ۔کچھ مرد حضرات ایسے ہیں کچھ بنتِ حَوا نے سر سے چادر تن سے لباس اتار پھینکا ہے حوس مارے پر نوچے گے نہیں تو کیا سر پہ چادریں دیں گے ۔میرا مقصد کسی پہ تنقید کا نہیں ہے یہی سچائی اور حقیقت ہے ایک ماں ہی بچے کی پَروَرِش کرتی ہے پر اگر ماں بہنیں ایسے کریں گی اور انکے باپ بھائ انکے منع نہیں کریں گے تو ایسے سب نظام درہم برہم ہوجائے گا پہلے بچوں کی تربیت اچھی کریں اچھے برے کا انکو بتائیں بے حیائ کے کاموں سے روکیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ٹک ٹاک پہ ناچ رہی ہوتی ہیں بڑی ہوکے پر وہ یہی کریں گی انکو پردہ کرنا سیکھائے انکو حدود میں رہنا بتائے چار دیواری میں رہنا کیا ہوتا ہے یہ بھی بتائے چار دیواری کوئی قید نہیں یہ وہ حدود ہے جس پہ عورت محفوظ ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے لیے کوئی قیدوبند نہیں۔

    @Hu__rt7

  • مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ   : تحریر ملک علی رضا

    مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ : تحریر ملک علی رضا

    پاکستان کے یوم آزادی پر مینار پاکستان لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ایک خاتون کیساتھ مبینہ طور پر قریب 400 لوگوں نے دست درازی کی جس پر اُس وقت کوئی نوٹس نہ لیا گیا مگر جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ بات وائرل ہوئی تو تمام میڈیا پلیٹ فارمز نے بنا تحقیق کیے بنا سوچے سمجھے اس معاملے کو اُٹھا دیا۔ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہوا اس کی پہلے دن سے میں مذمت کرتا ہوں جن لوگوں کو بلوایا گیا اور وہاں ان خاتون کیساتھ جو اپنے دوستوں کے ہمراہ وہاں کچھ ویڈیوز بنانے اور اپنے فینز سے ملنے گئیں تھیں جو کچھ بھی انکے ساتھ کیا گیا انتہائی غیر مناسب اور قابل مذمت اقدام تھا۔
    اب جب یہ سب کچھ ہوگیا ہے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ پاکستان غیر محفوظ ہے اور پاکستان میں عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا جا رہا انکو زیادتی کا شکار کیا جا رہا ہے طرح طرح کی باتیں ہونے لگ گئیں۔
    یاد رہے ایسا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس واقعے میں نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس تاک میں ہوتے ہیں کہ پاکستان مخالف بس کچھ میٹریل ملنا چائیے تا کہ اُسے فوری طور پر انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنایا جائے اور پھر پاکستابن مخالف پروپیگنڈہ کیا جا سکے ۔ اس معاملے کو لیکر بھی ایک منظم سازش پاکستان کیخلاف کی گئی اور جب تک اب یہ معاملہ میڈیاپر چلتا رہے گا یا جب تک کوئی نیا پروپیگنڈہ سامنے نہیں آجاتا تب تک اس معاملے کو ہوا میں اُرایا جاتا رہے گا اور اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے اس معاملے کے حق اور تنقید میں ہمیشہ کی طرح اس ایشو پر بھی بحث جاری ہے۔
    ایسے معاملات ہوتے کیوں ہیں اور ان کو اتنا کیوں اُچھالا جاتا ہے یہ معمہ ابھی تک معمہ ہی ہے لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عام پبلک کی نظر میں سوالیہ نشان ہیں جن میں سب سے پہلے قانون کی بالادستی کا نہ ہونا، لوگوں کو مکمل معلومات کا نہ ہونا ، مرد اور عورت کے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا نجانے کتنے ایسے سوالات ہیں جو لوگوں کے اذہان میں جمع ہیں
    اب اس معاملے کے اصل مُحرکات ہیں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنا جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے چکر میں ایک لڑکی نے اپنے شوہر کو مار دیا اور ڈرامہ کر دیا جس سے اس کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
    در اصل ایسے واقعات کا تسلسل کیساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب وہ بُرائیاں کُھل کر سامنے آنے لگی ہیں جو شاید پہلے کم ہوا کرتی تھیں اور رپورٹ بھی کم ہوتی تھیں ، قانون کی بالا دستی اور جلد انصاف کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات میں تسلسل آنے لگ گیا ہے۔ زینب قتل کیس کے بعد اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کوئی ایسی خبر نہ سُنی ہو۔
    ان سب کی اصل وجہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی چیز کی زیادتی ہے جب کوئی بھی چیز حد سے تجاوز کر جائے تو وہ نقصان دینا شروع کر دیتی ہے پھر چاہے وہ کوئی نشہ ہو ،انٹرنیت کا بے جا استعمال ہو، سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جس سے معاشرے میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوجائیں۔
    بحثیت ایک شخص میں اپنے گھر سے لیکر سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز اور دفاتر غرض کہ سڑک پر چلتے پھرتے بھی اپنی اخلاقیات کو نہیں بھولنا چائیے۔او یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انسان کی تربیت گاہیں انکو اپنی اقدار اور اخلاقیات کا سبق پڑھا کر گھر سے نکالیں گی، والدین کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی، سکول کے استادوں معاشرے کو بنانے کے لیے حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہی دو درس گاہیں ہیں جہاں سے معاشرے بنتے بھی ہیں اور بگڑتے بھی ہیں۔
    جب انسان اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چائیے کی وہ عقل کُل رکھتا ہے ۔ ہر لمحہ ہر گھڑی سیکھنے کا مرحلہ جاری رہتا ہے اب یہ انسان کی طبیعت پر منحصر ہے کہ وہ کیا سیکھتا ہے۔ ہم سب کو تنقید کا حق ضرور ہے مگر تنقید بھی تب ہوجب تنقید کرنے والوں کے پاس اس مسلے کا حل ہو تا کہ وہ حل بتا کر معاشرے کی بُرائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں طوئفوں کی بات سب سے سامنے زندہ مثال ہے جو سرعام مکروع دھندہ کرتی ہیں اور معاشرہ انکو بُری نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ کہتی پھرتی ہیں کہ کتنے راز ہیں ہمارے پاس اگر ہم کھول دیں بڑے بڑے پارسا بھی منہ دیکھانے لائق نہ رہیں۔تو پردہ رکھنے سے انکا کچھ نہیں جاتا مگر بڑے بڑے پارسا گریبان کھول کر گھوم رہے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی بہت بڑے تیس مار خان ہیں۔اس لیے معاشرے کو بنائیں نہ کہ بگاڑ پیدا کیا جائے۔

  • بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔   تحریر فیصل خالد

    بیٹیاں تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں۔ تحریر فیصل خالد

    ملک کے ایک معروف اینکر نے مینار پاکستان حالیہ واقعہ کے تناظر میں یہ بات کہی ہے ٫٫شکر ہے اللہ نے مجھے بیٹی نہیں دی اور مجھے پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔؛
    موصوف نے یہ بات جس بھی پیرائے میں کی ہے عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ منہ کھولنے سے پہلے دماغ کی بتی کو روشن کرلینا چاہئے اور اول فول بکنے سے قبل ہزار بار نہ سہی کم ازکم ایک بار ضرور سوچ لینا چاہئے۔ مخصوص مقاصد کیلئے موقعہ محل کی نزاکت کو دیکھ کر ایسے بیانات داغنے والے اپنی شعلہ بیانی سے بلاشبہ من چاہے نتائج حاصل کر لیتے ہوں گے مگر ان کے ایسے پراپیگنڈے میڈیا کے اس دور میں کس قدر منفی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ نہیں۔ جس واقعہ کی پشت پر انہوں نے یہ بات کہی ہے اگر اسے بھی دیکھا جائے تو یہ ایسا معاملہ نہیں کہ آپ سارے معاشرے کو چند بے لگام مردوخواتین کے کرتوتوں کے حاصل کا ذمہ دار ٹھہرا دیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں جب بیٹیاں بوجھ ہوا کرتی تھیں۔ الحمد اللہ ہم صاحب اولاد ہیں اور ثم الحمد اللہ کہ ہماری اولاد میں بیٹیاں بھی ہیں۔ جہاں گھروں میں بیٹوں کے دم سے شرارتیں اور ہلہ گلا ہوتا ہے وہیں بیٹیوں کے دم سے جو رونق اور سکون ہوتا ہے انہیں کیا معلوم جن کو اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کی نعمتیں عطاء نہیں کیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ شفقت و محبت اور احترام کی خاندانی روایات ہیں کہ انہیں بیاہ کر پیا گھر سدھار جانا ہوجاتا ہے۔اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے عرب اور دیگر معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو منحوس اور شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، مگر اسلام نے بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دے کر معاشرے کو متوازن اور خوبصورت بنا دیا۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں کی بہترین پرورش کا معاملہ کرنے والے والدین/ سرپرستوں کیلئے جہنم سے دوری کی بشارت دے دی۔ آپ نے فرمایا ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔ بیٹی کا معاملہ ہی دیکھ لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاطمۃ الزہرۃؓ سے اتنی محبت تھی کہ انھیں اپنے جگر کا ٹکڑا کہا کرتے، جب حضرت فاطمہؓ آپؐ سے ملنے آتیں تو آپؐ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے، کبھی ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے۔بیٹیوں کو وراثت کا حق دیا۔ بدقسمتی سے آج پھر معاشرہ ان بیٹیوں کو بوجھ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اسلام نے بیٹیوں کے معاملہ میں جو احترام ، محبت اور شفقت کے اصول وضع کردیئے تھے انہیں خرابی کی طرف لیجایا جارہا ہے۔ اللہ کی اس رحمت کو زحمت بنایا جارہا ہے۔ زمانہ جاہلیت کی طرح بیٹیوں والوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔ انہیں کمزور سمجھا جانے لگتا ہے۔ آج معاشرے کو بیٹی کے تصور سے خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ کمرشلائزیشن کے دور میں بیٹیوں کو مارکیٹنگ جنس بنادیا گیا ہے۔ میڈیا کی مدد سے آج کی بیٹی کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ڈراموں،فلموں کی کہانیوں میں معاشرے کی تصویر دکھانے کے نام معاشرے کو تباہی و بربادی کے ایجنڈے پر استوار کیا جارہا ہے۔ باپ اور بیٹی تک کے مقدس رشتوں کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ کہیں بیٹی کو مثبت معاشرتی اقدار سے باغی بننے کی تربیت کی جارہی ہے تو کہیں باپ کو بیٹی کا روپ بوجھ بتایا جارہا ہے۔ لوگوں کی بیٹیوں کو روپے پیسے اور مادیت کے لالچ میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔ رستہ سے بھٹک جانے والی بیٹیوں کی مدد سے دوسروں کی بیٹیاں خراب کی جارہی ہیں۔ بے لگام میڈیائی پراپیگنڈہ جس انداز سے ہماری بیٹیوں کو مشرقی روایات، ثقافت و مذہب سے دور کرنے میں مصروف ہے اس کی مثالیں سوشل میڈیا کے لچر پن ناچ گانے ٹک ٹاک کی بے حیائی میں نمایاں ہیں۔ والدین کا بیٹیوں بالخصوص بیٹوں کی تربیت سے ہاتھ کھینچ لینا بیٹیاں سب کی سانجھی جیسی خوبصورت سوچ والے معاشرے کو غلط سمت پر لیجارہا ہے۔ مینار پاکستان واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ معروف اینکر پرسن کو بتایا جائے کہ یہ ٹک ٹاک اور دیگر ایسے پلیٹ فارمز پر رحجان پانے والی سرگرمیاں یہ ہمارے معاشرے کی عکاس ہر گز نہیں ہیں۔ اگر آپ ایسی سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات کے بعد بھی ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے، دوسروں کی بیٹیوں کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہو تو سبھی معاشرے کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے مزید یہ کہ بیٹیوں اور پاکستان سے ہی پناہ نہ مانگی جائے کہ بیٹیاں اللہ کی بہت بڑی رحمت ہیں یہ تو ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہیں بس ان کی قدر کرنے اور اپنی اپنی اصلاح کی ضرورت باقی ہے-

    Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟  تحریر : محسنؔ خان

    پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟ تحریر : محسنؔ خان

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ دِنوں میں طالبان نے افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیا ہے جہاں پہ وہ اسلامی قوانین لانا چاہتے ہیں اور ہم پاکستانی عوام اسلامی قانون کی مکمل حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں جو نافذ کیا جا رہا ہے
    شریعت کا نفاذ افغانستان میں ہی کیوں کیا جائے وہاں بھی جمہوری نظام ہی رہے تو ٹھیک ہے ہم پاکستان خود کیوں شریعت کے نفاذ سے ڈر رہے ہیں ؟؟
    اس سوال کا جواب ہر ایک پاکستان کا خود کا ضمیر دے گا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں کیوں ہیں کیونکہ یہاں سب کچھ اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے اگر یہاں پر اسلامی شرعی اصول نافذ ہو گئے تو تمام ہیرا پھیریاں اور بے ایمانیاں ختم ہو جائیں گی ہر پاکستانی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بے ایمانی میں ملوث ہے.
    ہماری عدلیہ کا نظام سب سے گندا ہے جہاں ایک فیصلہ کیلیے سالوں سال تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں پولیس تھانوں میں بیٹھی الگ سے لُوٹ رہی ہے اور وکلاء اور جج الگ سے غریب طبقہ اپنے حق کے حصول کیلیے قبر تک پہنچ جاتا ہے اور اسے حق نہیں ملتا.

    اگر کوئی ہسپتال ہے تو اس میں ڈاکٹروں کو ہوش نہیں یے کہ کوئی مریض مر رہا ہے وہ صرف پیسے کیلیے کام کر رہے ہوتے ہیں

    یہی حال ہمارے سکولوں اور کالجوں کا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رشوت اور بے حیائی عام ہے
    مخلوط تعلیم کے زیر تربیت طالبعلم تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عورت کو پردے کی فکر نہیں نیم برہنہ کپڑے تعلیمی اداروں میں پہنے اور بازاروں میں بیچے جا رہے ہیں
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ یہاں پہ پیسے اور سفارش سے جان چھوٹ جاتی یے لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے حقدار کو حق ملتا ہے خواہ وہ جزا ہو یا پھر سزا
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ ہم رشوت اور لوٹ مار کے خاتمے کی وجہ سے ڈرتے ہیں اگر رشوت ستانی اور لوٹ مار ختم ہو گئی تو مالی نقصان ہوگا لیکن ہمیں دینی و روحانی نقصان کی زرا پرواہ نہیں ہے.
    طالبان حکومت کے خلاف بہت سے گروہ مہم جوئی میں مصروف ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کو (نعوزباللّہ) بدترین دین قرار دینا ہے اور اس مہم میں ہمارے کچھ اپنے ایمان فروش لوگ بھی شامل ہیں یہ لوگ طالبانوں کو ظالم اور مسلمانوں کے مذہب اسلام کو ظالم و بربریت کا دین قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں.

    شریعت نافذ ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی شخص چوری نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن ہم چوری نہیں چھوڑنا چاہتے اسی لیے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی شخص کسی کے مال پہ غاصبانہ قبضہ نہیں کرے گا کیونکہ اسلام میں دو ٹوک فیصلے کا حُکم ہے اس لیے مافیہ کا گروہ شریعت کے خلاف ہے اگر جمہوریت رہی تو جیبیں بھری رہیں گی

    سب لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں گے جیسے جنرل ضیاء کے دور میں صلوٰۃ کمیٹی نے کافی کامیابی سمیٹی لیکن ہم یہاں بھی ایمان کے کچے ہیں حالانکہ نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم لوگ نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہمارا نظریہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم قرآن سے زیادہ تعویز دھاگوں کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی عورت باپردہ نہیں ہوگی عورت کو اسلامی قوانین کے مطابق عزت اور آزادی حاصل ہوگی اور اسی بات پہ لبرل طبقہ اسلام کو عورت کیلیے غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اس کی تشہیر کیلیے عورت مارچ جیسے شیطانی مارچ کرتا یے

    اگر شریعت نافذ ہوتی ہے تو جرائم کی کمی ہو گی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کو لگام پڑے گی کیونکہ ہمارے لوگ اس کی عبرتناک موت سے ڈرتے ہیں.

    جہاں اسلام ایک مکمل دین ہے وہیں اسلام میں قوانین کے خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ہیں ہم جمہوری نظام کو ہی رکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم معاشرے سے گناہ کی گندگی ختم نہیں کرنا چاہتے رشوت, چور بازاری, زنا, جھوٹ, دھوکہ, فریب اور متعدد گندی بیماریوں میں اُلجھا ہوا یہ معاشرہ صرف افغانستان میں ہی شریعت کا نفاذ چاہتا ہے نا کہ پاکستان میں کیونکہ ہم اسلام سے ڈرتے ہیں اسلامی قوانین سے ڈرتے ہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم منافقت کے کس درجے پہ کھڑے ہیں.

    ہم سب کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو اسلام سے کیوں ڈرتے ہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی لیکن اس پہ عمل طالبان کر کے بازی کے گئے.

    اللّہ عالم اسلام کو تمام عالم پہ غالب کرے اور ہم مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ثم آمین

  • بچے جنسی درندگی کا شکار کیوں تحریر:صبیحہ ابراہیم (سٹی: صادق آباد)

    بچے جنسی درندگی کا شکار کیوں تحریر:صبیحہ ابراہیم (سٹی: صادق آباد)

    محرم الحرام یوم عاشور کے دن لوگوں کی بہت بڑی تعداد قبرستان میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔۔بچپن میں جب والد سے موت اور قبرستان کا پوچھتے تو وہ بتاتے مرنے کے بعد انسان قبر میں جاتا ہےاور اگر ہم گناہ کریں گے جھوٹ بولیں گے تو جب ہم قبر میں لیٹے گے تو اندر کیڑے مکوڑے اور بچھو ہوں گے اور اس ڈر سے بہت بار جھوٹ بولتے بولتے رک جاتے تھے۔اب سوچا جائے تو وہ ڈر خدا کا، قبر کا اور گناہوں کے بعد ملنے والی سزا کا تھا۔۔اور اسی محرم الحرام میں فیملی کے ساتھ قبرستان گئی چار سال کی بچی پہلے اغوا اور پھر جنسی تشدد کا شکار بنی۔۔اور سب سے حیرت کی بات کے ملزمان کی عمر تیرہ اور چودہ سال ہے یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔اور ایسی بہت ساری خبریں نظروں سے گزرتی ہیں جس میں بچے جنسی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔۔آج کوئی دن خالی نہیں جس میں یہ خبر سننے کو نہیں ملے کہ فلاں جگہ بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا کبھی قتل کر دیا گیا یا پھر کبھی آدھ موٸی حالت میں زندہ لاش ملی۔۔اور جب کوئی اس طرح کا واقعہ ہو تو کوئی طبقہ عورتوں کو گناہگار سمجھتا ہے اور کوئی مردوں کو حیوان کہتا ہے۔۔۔اسی مرد و عورت کی جنگ میں بچے روز اس درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ہم سب کو ڈر ہے اپنے بچوں کے لئے ۔۔لیکن کوئی بھی اس سب سے بچنے کے طریقے پر غور نہیں کر رہا۔۔یہ مرد و عورت کی جنگ میں سب سے زیادہ پِسے جا رہے ہیں تو صرف بچے۔۔۔جب ایک گھر میں سارا دن خبریں سننے کے بعد مرد عورت کو قصور وار ٹھہراۓ گا اور عورت مرد کو حیوان سے تشبیہ دے گی تو بچوں پر توجہ کون دے گا؟۔جب ایک ناپختہ ذہن بچہ باپ کے ساتھ بیٹھ کر سنے گا کہ عورت قصور وار ہے تو اس کے ذہن میں عورت کے لیے ویسا ہی عکس بنے گا۔۔۔اور اسے گناہ، گناہ نہیں لگے گا بلکہ عورت اس کی حقدار لگے گی۔۔۔اور دوسری طرف بیٹی سارا دن ماں کے ساتھ بیٹھ کر جب مردوں کے بارے میں برا سنے گی تو اسے ایک شریف النفس شخص بھی شیطان لگے گا۔۔جس کے نتیجے میں مادرپدر آزادی کے نعرے سننے کو ملتے ہیں۔۔۔اسی جنگ میں بچوں کی تربیت کون کرے گا؟انہیں اچھے اور برے ،نیکی اور گناہ ،عزت اور بےعزتی میں فرق کون سمجھائے گا؟ایک مرد ایک عورت کی گود میں سے بیٹے کی صورت میں نکلتا ہے۔۔اور ایک عورت ایک بیٹی کی صورت میں ایک مرد کے زیر سایہ پلتی ہے۔۔اگر والدین اس پر توجہ دیں ماں بیٹے کو سکھائے کہ صرف گھر کی عورت ہی عورت نہیں ہوتی بلکہ عورت ہر جگہ قابل عزت ہے۔۔اور مرد بیٹی کو بتائے کہ مرد ایک سائبان ہے باپ ہے بھائی ہے اور دنیا کے سب مرد ہی اتنی عزت اور وقار والے ہیں جتنے اس کے باپ بھائی۔۔تو پھر یہ مسئلہ ہی نہ ہو۔۔۔ ماں کو بیٹی سے اتنا بے تکلف ہونا چاہیے کہ وہ سمجھائے کہ good touchاور bad touch میں کیا فرق ہے..بیٹی کو سمجھائے کہ محرم اور نامحرم کیا ہوتا ہے کون سے رشتے کی کیا حدود ہوتی ہیں۔۔چھوٹی عمر میں ہی سمجھائے کے باپ اور بھائی کے علاوہ کوئی خیر خواہ اور ہمدرد نہیں ہوتا۔۔۔اور بیٹے کو بتایا جائے کہ بہن اپنی ہو یا کسی کی بہن، بہن ہوتی ہے۔بچوں پر نظر رکھیں دیکھیں وہ کن کاموں میں ملوث ہیں ان کا حلقہ احباب کیا ہے؟جب ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کی لت لگا دیں گے اور ساتھ بٹھا کر ایسے ڈرامے دکھائیں گے جہاں رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے جہاں محرم اور نامحرم کی تمیز ہی نہیں۔۔۔تو ان کے ناپختہ ذہن اس چیز کو کیسے سمجھ رہے ہیں اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔۔وہ تو تب ہونا جب ہم مرد و عورت کی لڑائی سے نکلیں۔۔۔انہیں سکول میں اخلاقیات اور رشتوں کے تقدس پر لیکچرز دیے جاٸیں۔۔۔انہیں سیلف ڈیفنس کی تربیت دی جائے۔۔۔ورنہ حالات آپ کے سامنے ہے اور حالات کا رونا روتے ہوئے ہم لوگ ہیں۔۔اگر ہم نے تربیت پر توجہ نہ دی تو جانے کتنی دہائیوں تک ایسے ہی ایک دوسرے کو کوستے رہیں گے اور بچے جنسی درندگی کا شکار ہوتے رہیں گے.اور حکومت وقت اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ جب ایسے مقدمات آئیں تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ان انسانیت سوز عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔تاکہ وہ سب کے لئے نشان عبرت بنیں۔جب مقدمات درج ہونے کے باوجود ان درندوں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تو ایسے لوگوں کے دلوں سے خوف خدا پہلے ہی ختم ہوتا ہے تو اس طرح اداروں کا ڈر بھی ختم ہو جاتا ہے اور یہ ڈر ختم ہونا مزید برائی پر اکساتا ہے۔اگر فوراً قانون کی پاسداری ہو اور فل فور انصاف کی فراہمی ہو تو ہم پاکستان کوحقیقی معنوں میں ریاست مدینہ بنا سکیں گے..

  • ریاست کا کیا قصور؟ تحریر : علی حیدر

    ریاست کا کیا قصور؟ تحریر : علی حیدر

    یہ اس قوم کی ایک عجیب عادت بنی ہوئی ہے کہ جب بھی کچھ ہوجائے اس ملک میں تو بس سیدھا ریاست کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کسی کا ریپ ہوجائے تو ریاست کو گالیاں، کسی کی چوری ہوجائے تو ریاست کو گالیاں، کسی لڑکی کیساتھ کوئی بدتمیزی کرے تو ریاست کو گالیاں، کوئی سیاستدان چوری کرے تو ریاست کو گالیاں، آخر ریاست کا کیا قصور اس میں؟ کیا ریاست نے آپ کو بولا کہ کسی سیاستدان کو ووٹ دو، کیا ریاست نے آپکو بولا کہ کسی کے ساتھ بدتمیزی کرو، کیا ریاست نے آپ کو بولا کہ یہ کرو یہ نہ کرو۔ یہ عادت ہمیں بدلنی پڑے گی ، ہمیں ریاست کو ذمہ دار ٹھرانے کی بجائے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھنا ہوگا کہ آیا میں ایک ایسے خوبصورت آور آزاد ریاست میں رہنے کے قابل ہوں یا نہیں؟ ہم ہمیشہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس ریاست نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟. لیکن کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا ہے کہ میں نے آج تک اس ریاست کو کیا دیا ہے؟. اس ریاست نے ہمیں پہچان دی، اس ریاست نے ہمیں آزادی دی ، اس ریاست نے ہمیں تحفظ دیا، اور یہ ریاست تو شہیدوں کے خون سے قائم و دائم ہے، آپ کو اندازہ تک نہیں کہ اس ریاست کو آباد رکھنے کیلئے کتنی ماوں نے اپنے لعل قربان کئے ، کتنی بہنوں نے اپنے بھائی، کتنی بیویوں نے اپنے سہاگ اور کتنے بچوں نے اپنے والدین قربان کئے ہیں۔ اس وقت جب دنیا کی تمام مسلم ریاستیں تباہ ہوگئ ہے اور کچھ تباہی کے قریب ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا ریاست اس وقت امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ سب ہمارے ان شہیدوں کی وجہ سے جنہوں نے گمنام رہ کر اس ریاست پر اپنی جانیں قربان کردی۔ اس لئے ریاست کو بدنام کرنے یا گالیاں دینے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ اس ریاست کو قائم رکھنے کیلئے کتنی قربانیاں دے دی گئ ہے۔ ہر جرم پر ریاست کو بدنام کرنے سے پہلے اپنے آپ کو درست کرے، اپنے گریبان میں جھانکے کہ بطور شہری میں اپنا فرض ادا کررہا ہوں یا نہیں ۔ ہم میں سے ہر بندہ اگر اپنے آپ کو ٹھیک کریگا تو اس ریاست میں جرم ہونگے ہی نہیں آئیے اس ریاست اور اس پر قربان ہونے شہداء کی خاطر اپنا فرض نبھانا شروع کردے، اور اس ریاست کو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ اور سے پرامن ریاست بنائیں۔ کیونکہ یہ ریاست ہماری ماں ہے اور ہمارا گھر ہے، اس ریاست کو گالیاں دینا اپنے ماں کو گالیاں دینے کے برابر ہے اور اس ریاست کیخلاف سازش کرنا اپنے ہی گھر کو خود اجھاڑنے کے برابر ہے۔ آج کل ہمارا ناپاک دشمن ہمارے کچھ جوانوں کو پیسے دے کر ہمارے ریاست میں بدامنی، انتشار اور بے حیائی پھیلانے پر تُلے ہوئے ہیں اور انکا مقصد اس ریاست کے لوگوں کے دلوں میں اس ریاست کیلئے نفرت پیدا کرنا ہے اور اس ریاست کے لوگوں کو افواج کیخلاف کھڑا کردینا ہے. وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ریاست کیخلاف کھڑے ہوں تاکہ کسی نہ کسی طرح اس ریاست کو کمزور کیا جائے۔ ہمیں اس وقت ریاست کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہنے کی ضرورت ہیں، تاکہ ہمارا ریاست خوب پھلے پھولے اور ترقی کی آخری حدوں کو بھی چھوسکے۔ مجھے اپنے ملک کے لوگوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ دشمنوں کی چالوں کو ناکام بناکر اپنے ریاست کی دفاع کرینگے۔ باقی یہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ریاست تاقیامت تک قائم و دائم رہیگی انشاء اللہ
    Name Ali Haider

    Twitter username @da_watan_lewany

  • حوصلے کیوں بڑھتے ہیں ۔۔۔۔           تحریر: آصف گوہر

    حوصلے کیوں بڑھتے ہیں ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    "جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔”
    سورة المائدة 33
    گذشتہ چند روز سے تسلسل کے ساتھ دل دہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں کبھی کسی نواجوان لڑکی کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے کبھی مینار پاکستان پر ہجوم خاتون کے ساتھ دست درازی کی خبر ملتی ہے کم سن بچیوں کے ساتھ درندگی اور چنگ چی رکشہ پر بیٹھی خواتین کے ساتھ چلتی سڑک پر بھیڑیا نما انسانوں کی چھیڑ خانی کی واردت ۔ان سب لرزہ خیز وارداتوں نے بیٹیوں والوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں کہ اس غیر محفوظ معاشرے میں اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ ان درندوں کے حوصلے کیوں بڑھ گئے ہیں ان کو کیوں پکڑے جانے اور سزا کا خوف نہیں
    ۔۔؟
    وجہ صرف اور صرف لاقانونیت پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کی مکمل ناکامی اور غیر مساوات پر مبنی فیصلے ہیں ہمارا انصاف کا نظام امیر آدمی کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرتا ہے بڑے آدمی کو اگر ماتحت عدالتیں سزا بھی دے دیں تب بڑی عدالت کی مداخلت سے وہ مکھن سے بال کی طرح سرخرو ہو کر نکل جاتا ہے ۔نیب ملزمان کو بڑے بڑے اسکینڈلز میں گرفتار کرتا تو ہے لیکن کمزور تفتیش اور پراسیکیوٹرز کی وجہ سے چند ماہ بعد وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے نظام کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے۔ مرضی کی جعلی میڈیکل رپورٹس تیار ہو جاتیں ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جیل بند مجرم کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے کر بیرون ملک فرار ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے چھٹی والے دن ضمانتیں منظور کر لی جاتیں ہیں ۔ عدالت کو بتائے بغیر ملزم کو دوبارہ گرفتار نہ کرنا کا حکم دیا جاتا ہے۔ ایم پی اے اپنی گاڑی کے نیچے ٹریفک پولیس کے اہلکار کو کچل کر بھی سزا سے بچ جاتا ہے ۔جب عام عوام انصاف کا یہ عالم دیکھتے ہیں تو سفاک مجرموں اور شوقیہ جرم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے ہیں اور وہ درندگی پر اتر آتے ہیں انسانوں پر کھلے عام تشدد کرتے ہیں شرفا کی عزتیں پامال کرتے ہیں اور پھر ان سے نہ کسی کی بیٹی محفوظ ہوتی ہے نہ بہن ۔ ہمارے ہاں پتا نہیں کیوں پبلک میں سرعام سزا دینے سے گریز کیا جاتا ہے اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں لیں جن ممالک میں سرعام لٹکانے کوڑے مارنے اور سر کاٹنے کی سزا پبلک میں دی جاتی ہے وہاں پر جرائم کی شرح بہت کم ہے۔
    کسی معاشرہ میں جب انصاف کا نظام زمین بوس ہوجائے پھر وہاں لاقانونیت اور انارکی کا راج ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گھناونے اور انسانیت کے خلاف جرائم بارے سخت قانون سازی کی جائے خصوصی عدالتوں کے ذریعے تیز ترین کاروائی سماعت کرکے پبلک میں سزاوں کا نفاذ کیا جائے تاکہ بیمار ذہن درندوں کو عبرت حاصل ہو۔ قرآن نے معاشرے میں فساد پھیلانے والے سفاک مجرموں کو قتل کربے سولی چڑھانے ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے ،اور انہیں جلاوطن کرنے کا حکم دیا ہے ۔تاکہ مسلم معاشرے انسانیت سوز جرائم سے محفوظ رہیں ۔
    @Educarepak

  • کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    زیست و حیات کا سفر محنت و مشقت سے عبارت ہے اور دشوار گزار مراحل کو مشقت و جانفشانی کے بل بوتے پر ہی تحمیل پز یر کیا جاسکتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی اس سے منفر نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ان ٹھن مراحل کو ایک ٹیبل ٹینس کے کھیل سے بہ آسانی تعیہ دے سکتے ہیں جہاں پر گیند کو ہر جانب سے پیا جا تا ہے ۔آخر ہمیں اپنے دور حیات میں نا کا میوں سے ہمکنار کیوں ہونا پڑتا ہے۔ یہ سوال دل کو بار باغیرمطمئن کرتارہتا ہے۔ ہراشرف المخلوقات خدا کی عطا کی ہوئی بہترین نعمت ہے۔ ہمیں قدرت کی جانب سے عقل وفراست اور شعور عطا ہوا ہے۔ ہمارے اندر مہارتیں اور ہنر مندیاں ہیں، کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں پر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں چینج، پریشانیوں یا مصائب زدہ مسائل کوحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہرانسان امن وسکون ،خوشحالی بنشرت اور کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کی جستجو میں در بدر کی ٹھوکر میں کھارہا ہے، لیکن اپنے گردوپیش کا مشاہدہ میں تاتا ہے کہ کامیابی یافت مندی بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ میں ایسے بے شارانسانوں سے واقف ہوں جو کہ کامیابی اور مسرت حاصل کرنے کی دھن میں اپنی زندگی کو بر بادکر بیٹھے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں ان کی زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔لکر، مایی ، تاؤ زدہ ماحول کے جال میں وہ پوری طرح الجھ چکے ہیں۔جس کے سب غصہ نگی ، مای ، یاسیت اور نا کا میابی ان کا مقدر بن چکی ہے۔اس گر دش دوراں سے کیاوہ نکل پائیں گے؟ کیوں نہیں نکل پائیں گے۔ بے شارافراد کے خواب بڑے اعلی قسم کے ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے لازمی ہمت ،مضبوط قوت ارادی قلبی استقلال نظم وضبط مستحکم
    ارادے ان مسائل کا میں یکسر فقدان پایا جا تا ہے ۔ چندلوگ تقذ یر پرانحصار کرتے ہیں اور بعض افراد خدائی دین پر اور پر ضروری کوشش کرتے ہی نہیں۔خداتو اس کی مد دکرتا ہے جو جہد مسلسل سے کام لیں۔ اگر جہد وٹل میں جذ بہ دل شامل نہیں ہوتا کوئی پھر لا کھ چا ہے ئیدعا حاصل نہیں ہوتا

    ہر با کمال انسان میں ایک جذ بہ مشتر کہ ہوتا ہے اور وہ بندمی کی فرسودہ فکر سے انحراف اور کچھ نیا کر دکھانے کی آرزو می تمام یا تیں نا کام انسان یکسرفراموش کر بیٹھتا ہے۔ لہذانا کا میوں اور مایوسیوں کے گھنگھور اندھیروں میں گھر جا تا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک کھل منصوبہ بند طریقے سے لائھ مل کو ترتیب دینے اور یح و مثبت سمت میں سفر کا تعین کرنے کی ضرورت اور ہمت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ریاضت ہے جس کے لئے آپ کا قلب جسم، دماغ اور روح کا ہم آہنگ ہونا از حد ضروری ہے۔جسم، ذ ہن ودماغ اور روح میں رہ نہیں ہوگا تو متوقع کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکیں گے ۔ ا دوستو! اپنے ضمیر سے واقفیت یا تلاش نفس یا خودی کی تلاش ایک عظیم انقلاب کی علامت ہے۔ جس کی بناء پر میرا اپنادور حیات کی جانب دیکھنے کا نظریہ ہی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بدلاؤ یقینا تسلی بخش اور مسرت آمیز ثابت ہوا۔اپی بالذات کی آزمائش کے بناء پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ میں آج بھی بڑے حیرت وتعجب کے سمندر میں موجزن ہوں کہ اس سے قبل میں نے ان راہوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ ان راستوں سے میں لالم کیوں تھا؟ میرا اپنا تجر بہ و مشاہدہ آپ کے ساتھ بانٹا ہے ۔
    @Hi_Awaiz

  • پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    کچھ دن سے سوشل میڈیا کی ہر ویبسائٹ پر ایک عورت مشہورِ ہوئی وی ہے ۔۔۔۔انسٹا فیسبک ٹوئیٹر یہاں تک کہ واٹساپ کے اسٹیٹس دیکھو تو وہاں بھی اس ہی کا ذکر نظر آرہا!!! پہلے ایک دن تو ٹوٹلی جسے دیکھو پاکستانی ہونے پر شرمسار نظر آرہا تھا!!!!
    تو اول تو یہ کہ بھائی ذرا ٹھنڈے رہئے میں بھی پاکستان کی شہری ہوں اور میں ایک عورت ہوتے ہوئے اس قلعے کے تحفظ کو محسوس کرسکتی ہوں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے کہ کسی شمر نے میرے کاندھوں سے آنچل نہیں کھینچا ۔۔۔۔۔ آپ ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کے ڈرامے سے اپنی سر زمین پر کیسے نادم ہیں آخر کیسے؟؟؟
    ایسا نہیں ہے کہ مجھے واقعے پر شرمندگی نہیں ہے بلکل میں ہوں شرمندہ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات پر شرمندہ ہوں کہ چند لوگوں نے وطن عزیز کو اسکی سالگرہ پر یہ گھٹیا تہمت تحفے میں دی اور ہم انکے ساتھ اپنے وطن پر گندگی اور کیچڑ اڑانے میں آگے آگے رہے ،میں شرمندہ ہوں اسلئے کہ میرا پاکستان بے انصاف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔یہاں اگر پہلی بچی یا پہلی عورت کے مجرم کو سرعام سزا ہوتی تو آج یہ دو ٹکے کا بدمعاش طبقہ میرے وطن کے خلاف یہ گھناؤنا کھیل نہ کھیل پاتا۔۔۔۔وہ عورت اور اسکے ساتھی اپنی گندگی کو میرے وطن کے سر نہ کرپاتے ۔۔۔۔۔
    کیا مطلب ہے بہن تم کس منہ سے خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہو؟؟ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ الااللہ ہے اور یہ اسلام پر چلنے والوں کو ایک تجربہ گاہ چھین کر دی ہے قائد اعظم نے کہ جہاں مسلم عورتوں کے سروں سے کوئی چادر نہ کھینچ سکے جہاں ایک مسلمان بیٹی ،ایک پاکستان کی بیٹی آزادی سے باہر نکلے مگر نہیں میرے اس جملے میں موجود لفظ آزادی کا مطلب آپنے اس ہی حساب سے لینا ہے جو مغرب سے عورتوں کے ذہنوں میں بٹھایا جارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو اسلام ہے نہ یہ ایک نظام کا نام ہے جو عورت کو سکھلاتا ہے محرم کے ساتھ نکلو، راستے میں بیچ میں نہ چلو، ایک طرف ہوکر چلو ، اپنی زینت چھپاؤ، اب یہ جاہلیت لگنے لگے گی ؟؟ بہن جاہلیت وہ تھی جو اسلام آنے سے پہلے تھی جو آج بھی یورپ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میں اس پاکستان ( عورت کیلئے غیر محفوظ ملک) میں جب باہر نکلتی ہوں تو مجھے راستہ دیا جاتا ہے بابا یا بھائی کے ساتھ نکلوں تو انکے پیچھے پیچھے چل کر جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مجھے وہ آپ یورپ میں یا اس واک میں جو آپنے گریٹر پارک میں کی محسوس نہیں کرسکتیں ۔۔۔ یہاں کے وحشی جانور مرد( أپکے اور آپکے فینز کے گھٹیا ڈرامے کے بعد یہی پہچان بنی ہے ) کبھی باجی اور کبھی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور نقاب میں دیکھ کر اوروں سے زیادہ عزت دیتے ہیں کبھی چیز لینے بھی گئی ہوں برقعے میں تو دکان پر گاہک سائڈ پر ہوکر آگے جگہ دیتے ہیں کہ پہلے میں خرید لوں ۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں یہ والی گمنامی بہتر ہے یا وہ گندی مشہوری جو آپ کو حاصل ہوئی ۔۔۔۔ اسلام نے جو مجھ پر لاگو کیا وہ میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے گرد لوگ بھی ایسے ہی پائے ہیں جو مجھے عزت دیتے ہیں ایک بہن ایک بیٹی کی حثیت سے اور یہی آزادی ہے ۔۔۔۔۔
    ہم بینک سے بڑی رقم اور جیولر سے جیولری نکلوا کر جب باہر آتے ہیں تب ہم اسکو اچھی طرح چھپا کر نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ کسی ریکیی کرنے والے کو علم نہ ہوسکے کہ میرے پاس کچھ ہے یا میں نے کچھ نکلوایا یہاں سے ۔۔۔۔۔ پھر یہاں آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائیں کہ آپ ایک عورت ہیں۔۔۔اور عورت ہے ہی ایک چھپانے کی چیز جسے مختلف لوگوں کی نظریں گندا کردیتی ہیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا جب آپ اسکے اصول ہی لاگو نہیں کر رہیں پھر؟؟ پھر کیسے پاکستان کی بیٹی؟؟ یہ ایسا ہی ہے میں بلی کو گوشت دکھاؤں اور کہوں یہ جھپٹا نہیں مارے گی ۔۔۔۔۔۔ اب میری بات بھی مرد پر آگئی تو ایک بات یہ کہ مرد وہ بلی نہیں ہوتا جو گوشت پر جھپٹے وہ بھیڑئے تھے جو اس ویڈیو پیغام کے ذریعے بلائے گئے تھے وہ بھی مذہب اور اسلام کے اصولوں سے ناآشنا میراثی تھے میرے ملک کا چہرہ نہ تھے میرے ملک کا چہرہ وہ لوگ ہیں جو عورت سے بات کرتے ہیں تو نظریں جھکا کر چاہے عورت بے حجاب ہو یا باحجاب ۔۔۔۔۔ وہی مرد پاکستان کا فخر ہیں وہ جنھیں آپ لائیں وہ گندگی تھے وہ مرد نہیں تھے ۔۔۔۔ کچھ اور گندی مخلوق تھے جو آج کل ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو پر پیدا ہورہے اور صرف یہی نہیں میرے ملک میں اگر گندگی ہے تو وہ چینلز اور یہ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو۔۔۔۔ چینلز پر گند دکھا دکھا کر لوگوں کی ہوس جگائی جاتی ہے باقی کی کمی ٹک ٹاک پر مجرے پوری کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اور بلکہ میری تو گزارش ہے کہ قارئین میں اگر کوئی صحافی ہے تو جیسا کے عورت کے کیس ختم کرنےکی نیوز آرہی ۔۔۔تو صحافی حضرات کو چاہیے کہ جہاں ایسے تمام کیسز پر جلدی کی تاریخیں لیکر مجرموں کو سزا سنائی جائے وہیں اس عورت، ریمبو اور دو صحافیوں پر ہتک عزت کا کیس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی اگر پہلے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا ہوچکی ہوتی تو آج یہ لوگ یہ گندہ ڈرامہ رچانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔۔۔ بس اب جلدی کسی ایک ایسے مجرم کو سرعام سزا ہو تا کہ آگے حقیقی واقعات میں بھی کمی واقع ہو ۔۔۔۔ باقی یہ کہ پردہ تحفظ ہے ان واقعات کی روک تھام کیلئے اسے بھی رائج کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مغرب جانتا ہے کہ مسلمان عورت کیا ہے مگر مسلمان عورت اپنے آپ سے ،اپنی اہمیت سے ناآشنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مذہب پر عمل نہ دقیانوسیت ہے نا ہی جہالت ہے اور مذہب پر چلنے والے ہی میرے ملک کا اصل چہرہ ہیں ۔۔۔۔۔ہمیں آزادی ملی ہے تو ہم نے اسکا کچھ اور ہی مطلب لیا ہے ۔۔۔۔پوچھیں انڈیا یا مغرب کی مسلمان عورتوں سے انھیں چہرہ ڈھانپنے کی آزادی نہیں وہ یہ آزادی چاہتی ہیں کہ انھیں چہرہ ڈھانپنے سے کوئی نہ روکے تو وہ مروہ الشربینی کی طرح شہید کردی جاتی ہیں ان سے وہ چادر چھینی جاتی ہے جو انھیں تحفظ کا احساس دلائے ۔۔۔۔۔اور یہاں آپ اپنے برہنہ سر کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہوتے ہوئے میں زیادہ بہتر وہی جانتی ہوں جو مجھ پر لاگو ہوتا ہے ۔۔۔۔ بس آخر میں اتنا کہونگی کہ ظاہر ہے قصور وار وہ 401 تھے تو ساتھ ہی ساتھ وہ صحافی بھی قصور وار ہیں جو بجائے اسکے کے گیم سامنے آنے کے بعد وہ ان سے متعلق سوالوں کے جواب دلوائیں ان لوگوں سے بلکہ وہ اب یہ کہ وہ ہمیشہ ٹھیک تھے اور انہوں نے اس عورت کے گیم کا حصہ بنکر بلکل ٹھیک کیا یہ ثابت کرنے کیلئے وہ اور گھٹیا گھٹیا واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر میڈیا پر چلوارہے اور میرے وطن عزیز پر اور کیچڑ اچھال رہے اور جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک ساری سازش جس کھیل کا حصہ بتائی جارہی تب تو میرا یہ کہنا ہے کہ اور جتنے جنسی زیادتی کے واقعات ہیں ان میں سے 75٪ واقعات قوم کی معصوم بیٹیوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رونما کئے گئے ہیں عدلیہ سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کے مجرموں کو جلد سزا دے اور پاکستان کو گندہ کرنے میں شریک کار نہ بنے۔۔۔۔ میرا پاکستان میرے لئے تحفظ کا ایک قلعہ ،ایک احساس ہے
    اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کے اپنا وقار برقرار رکھئے کردار کی پستیوں میں نہ گرئیے
    پاکستان کا جو خاکہ آپ دنیا کو پیش کر رہے وہی آپکا حوالہ ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k