تمباکو نوشی ایک لعنت ہے جس کا شکار اس وقت پوری دنیا ہو چکی ہے۔ ہر دس اموات میں سے ایک کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تمباکو کے استعمال سے دنیا بھر میں ایک سال میں 8 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ تمباکو کے دھویں میں 7000 سے زائد کیمیکلز پائے جاتے ہیں، جن میں سے 250 کیمیکلز ایسے ہیں جو انتہائی مضرِ صحت ہیں، ان میں نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی شامل ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ دل کی دھڑکن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان مضرِصحت کیمیکلز میں 69 کیمیکلز ایسے ہیں جس کو جدید دنیا نے ثابت کیا ہےکہ یہ کیمیکلز کینسر کا باعث ہیں، مثال کے طور پر بنزین اور آرسینک وغیرہ۔
اس وقت عالمی اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں قبل از وقت موت کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں شرح اموات سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ تمباکو نوشی جسم کے تمام اعضاء اور نظام کو متاثر کرتی ہے۔
سگریٹ نوشی پھیپھڑوں، خوراک کی نالی، منہ اور گلا، گردے، مثانے، جگر اور معدے کے ساتھ ساتھ خون کے کینسر کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بُری عادت بلڈپریشر، دل کے امراض، فالج، خون کی نالیوں کا پھٹنا اور سانس میں تنگی جیسے امراض کا باعث بن رہی ہے۔
مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ عورتوں میں تمباکو نوشی کی شرح پاکستان میں 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رجحان کی بڑی وجہ قانون کی پابندی نہ ہونا ہے۔ کالج اور یونیورسٹیز کے طالب علم سرِعام سگریٹ نوشی کرتے دکھائی دیتے ہیں پر ان کی روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔اور پھر شوقیہ سگریٹ نوشی سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے ہیروئن اور شراب کی طرف لے جاتاہے۔
سگریٹ نوشی کرنے والے افراد جہاں اپنے لیے پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں وہاں اردگرد پائے جانے والے افراد کے لیے بھی خطرے سے کم نہیں ہیں۔ وہ افراد جو سگریٹ کے دھویں والے ماحول میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں وہ بھی اس خطرناک دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سیکنڈ ہینڈ سموکر کہا جاتا ہے۔ اور یہ افراد بھی ان تمام بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تمباکو نوشی ایک نشہ ہے اور نکوٹین وہ عنصر ہے جو سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دانستہ طور پر زیادہ مقدار میں ڈالتی ہیں تاکہ ان کی پروڈکٹ سے انہیں زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہو سکے۔ نکوٹین پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتی ہے اور سیکنڈوں میں دماغ تک جا پہنچتی ہے۔ یہ عارضی طور پر دماغ کو متحرک کرتی ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
تمباکو کی کوئی بھی پروڈکٹ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے، مثال کے طور پر سگار، بیڑی، شیشہ، حقہ وغیرہ صحت کے لیے مضر ہیں۔
تمباکو نوشی چاہے پُرانی عادت ہو یا نئی ،اس کے چھوڑنے سے فوراً اچھے نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر دل کے دھڑکنے کی رفتار جو سگریٹ نوشی کی وجہ سے بڑھ چکی ہوتی ہے، فوراً نارمل ریٹ پر آجاتی ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کاربن مونو آکسائیڈ جسم میں آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں جسم کے اندر خون کی گردش نارمل ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کھانسی اور سانس میں آوازیں نکلنا بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اور کچھ ہی مہینوں کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
ایک جدید تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی والے افراد جن میں کینسر کی تشخیص ہو چکی ہوتی ہے، اگر وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیتے ہیں تو ان کی شرح اموات میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
"ڈبلیو ایچ او ” کے مطابق اس وقت دنیا میں تمباکو نوشی کے افراد کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔ ان میں ایک کروڑ افراد ترقی پذیر ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کمی ہو رہی ہے۔
ہمیں اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، تمباکو نوشی کے خلاف بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہو گا۔ کم قیمت سگریٹ کی باآسانی دستیابی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے نشے کی طرف دھکیلتی ہے اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے چاہئیں تاکہ خریداروں کے لئے تمباکو کی مصنوعات مہنگی ہوجائیں اور ان کی مانگ میں کمی آ جائے۔
ہمیں مل کر تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرنے اور لوگوں میں اس کے نقصانات کی آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔
twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal
Category: بلاگ
-

تمباکو نوشی مضرِ صحت تحریر: محمد اسعد لعل
-

سگریٹ اور تمباکو -زندگی کیلئے خطرہ تحریر: اقصیٰ یونس
سرکاری ہسپتال کا تاریکی میں ڈوبا کمرہ اور اس کمرے کے بیڈ پہ لیٹا ایک شخص جو شاید سانسوں کی ڈور ٹوٹنے کے انتظار میں تھا کیونکہ اسے عارضہ ہی ایسا لاحق تھا کہ اب علاج کے باوجود زندگی کی کوئی رمک نظر نہ آتی تھی ۔ جب ساری زندگی سگریٹ نوشی اور منشیات کا استعمال کرتے گزار دی تھی تو اب پچھتاوے بھی کس کام کے ۔ یہ کہانی صرف اس ایک شخص کی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو سگریٹ نوشی کی لت میں منتلا ہے یہ کہانی اسکی بھی ہو سکتی ہے ۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی شائع کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں سے زندگی کی وادی کو چھوڑ کر موت کے آغوش میں جا کر سو جاتے ہیں ۔ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ان ساٹھ لا کھ افراد میں چھ لاکھ افراد ایسے شامل ہیں جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ صرف اس ماحول میں موجود ہونے سے مضر صحت گیسز اور دھوئیں کا شکا ر ہو کر بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب سے زیادہ لوگ سگریٹ نوشی کی اس سنگین لت میں مبتلا ہیں ۔اور اس ایک ارب میں سے 80فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بھارت ، فلپائن، تھائی لینڈ اور پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے ۔ اور 90 فیصد نوجوان طبقہ اس شرح میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے 60 فیصد مرد تمباکو نوشی کی اس لت میں مبتلا ہیں ۔ اور ایک تحقیق کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کی 12 فیصد عورتیں بھی سگریٹ نوشی کا شکار ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ اور تمباکو نوشی نہ صرف صحت پہ برے اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ اسکے استعمال سے لوگ کئی نفسیاتی مسائل جیسے غصہ ، چڑچڑا پن جیسے مسائل کا شکا ر بھی ہوجاتے ہیں ۔ اور سگریٹ نوشی کرنے والے اکثر لوگ ٹی بی ، ہیپاٹائیٹس پھیپھڑوں کے
کینسر اور منہ کے کینسر جیسے سنگین امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔
طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اور ان امرا ض میں مبتلا ہوکر زندگی جیسی نعمت سے محروم ہو سکتے ہیں ۔والدین استاتذہ اور معاشرے کے معماروں کو مل کر اس سنگین لت کو اس معاشرے سے مکمل طور پہ ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ زندگی کی بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اس سنگین لت کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کی ناگزیر ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک محفوظ اور تمباکو اور سگریٹ سے پاک معاشرہ دے سکیں والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ان کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی کیلئے دیہی اور شہری علاقوں میں سیمنارز اور ورکشاپس منعقد کی جائیں اور سگریٹ نوشی کے نقصانات سے سب کو آگاہی فراہم کی جائے ۔
-

حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء
یقینا آن لائن ذریعہ تعلیم پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی طالب علم کی ترجیح نہیں کیونکہ پاکستان ڈیجیٹل ورلڈ کی رینکنگ میں عالمی دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن موجودہ حالات کے اعتبار سے آن لائن ذریعہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ آپ وزیر تعلیم کے بیانات اور عملی کارکردگی دیکھ لیں ان میں کھلا تضاد نظر آتا ہے۔ موصوف خود تو تعلیمی اداروں بارے کورونا وبا کے ڈر سے آن لائن میٹنگز کرتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کیلئے کورونا وبا میں بھی ان کیمپس تعلیم پر بضد ہوتے ہیں حتکہ انہیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے اور سب سے اہم بات یہ کہ جدید ترین ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانا چاہیے تاکہ تعلیمی میدان میں بہتری لائی جاسکے۔
اس کے علاوہ اگر میں ذاتی تجربہ شیئر کروں تو وزارت تعلیم کی طرف سے ہر روز بدلتے فیصلوں سے مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ہوا کیوں کہ کورونا کی تیسری لہر میں انتظامیہ نے نئے داخلوں کے وقت عین موقع پر جامعات کھول دی تھیں اور کوئی محض دس دن حاضری کرنے کے بعد اچانک کہا گیا کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے جامعات بند کرنا پڑ رہی ہیں اور یہ اقدام کرنا حکومت کی مجبوری بھی تھی جسکی اصل وجہ یہ کہ سب سے پہلے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انسانی جان کا تحفظ ہے لیکن دانستہ کوتاہی یہ ہوئی کہ علم ہونے کے باوجود کے کورونا زور پر ہے مگر پھر بھی سارے تعلیمی ادارے کھول دیئے اور یوں ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔
اب جب دوبارہ سارا تعلیمی نظام مکمل آن لائن ہوگیا تو مسئلہ یہ تھا کہ جامعات کے اندر کے ہاسٹل، اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ تو پہلے سے ہر نئے سمسٹر فیس کے ساتھ ہی جمع کرانا ضروری ہوتا ہے جو آن لائن تعلیم کے باوجود بھی طالب علموں کو واپس نہیں کیا جاتا اور رہی بات ہم جیسے طالب علموں کی جو پرائویٹ ہاسٹلز میں رہتے ہیں تو ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایڈوانس میں کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور میں ادا کرچکا تھا کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ صرف دس دن کے لیے یونیورسٹی کھل رہی ورنہ میں تیس دن کا کرایہ ادا ہی نہ کرتا لہذا مجھے مجبورا ہاسٹل چھوڑنے کے بجائے اپنا کمرہ ریزرو پر رکھنا پڑا اور کھانے کے پیسے چھوڑ کر باقی مکمل کرایہ ادا کرتا رہا۔ ریزرو پر کمرہ رکھنا میری مجبوری اس لیئے بھی تھا کہ حکومتی فیصلوں میں تضاد تھا کبھی وہ جامعات کھولنے کی کوئی تاریخ دیتے تو کبھی کوئی لہذا نااہل انتظامیہ کا چند ہفتوں کا فیصلہ مہینوں میں بدل گیا اور یوں مجھے خوامخووہ پورے ایک سمسٹر میں ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔
اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ میرے جیسے بہت ساروں نے یہ نقصان اٹھایا۔ دوردراز کے طلبہ کو مجبورا بھی کمرہ ریزرو کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگلے روز حکومت جامعات کھولنے کا اعلان کردے تو پھر مجھ جیسے طالب علم کیلئے کم وقت میں بروقت اپنی مطابقت کا ہاسٹل ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور اسی جھنجٹ سے بچنے کیلئے اکثر طالب علم کمرہ ریزرو پر رکھ لیتے ہیں لہذا وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست ہے کہ آئیندہ جو بھی لائحہ عمل تیار کریں وہ جامع اور واضح ہو اور اس میں تضاد نہ ہو کیونکہ اس کنفیوژن کی وجہ سے ہمارے ہزاروں روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اب فرض کریں اگر حکومت ایسے کنفیوژڈ فیصلے نہ کرتی تو کیا مجھ جیسے غریب خاندان کے طلبہ کا خواہ مخواہ نقصان ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ ہم ذہنی طور پر مکمل تیار ہوتے اور ہزاروں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق ادا کرے لیکن پاکستان میں ریاستی ادارے مجھے اپنے باشندوں کے حقوق پورے کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں آپ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پسماندہ علاقوں کے بارے زرا سوچیں جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات کیا طلبہ اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ اسی طرح ریاست طاقتور طبقہ کو تو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتی ہے لیکن کیا طلبہ کیلئے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر عائد ٹکسز کو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ اور غریب طلبہ کیلئے جن کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں یا جنکی آمدنی بیس ہزار سے کم ہے کو لیپ ٹاپ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی سہولیات مفت فراہم نہیں کرنی چاہئے؟
Malik Ramzan Isra is an Islamabad based Pakistani journalist and writer. He is in journalism since 2013 and survived two deadly attacks over his journalistic work. He has worked in different National and International outlets like independenturdu.com, dw.com/urdu, dunyanews.tv & express.pk and currently writing for baaghitv.com He tweets at @MalikRamzanIsra
-

آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان
جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیںبرہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔
والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔
email : saima.arynews@gmail.com
Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6 -

تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ
جی کئی بار ہم ایسا سنتے ہیں کے تمباکو نوشی جان لیوا ہے تو پھر لوگ اب بھی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں . پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر یہ بہت برا ہے تو اچھے خاصے سمجھدار لوگ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ اداکار ہوں یہ سماجی لوگ فلموں میں کام کرنے والے یہ میگزینوں میں آپ ہر جگہ کچھ انتہائی خوبصورت اور باصلاحیت لوگوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، "وہ بہت اچھے لگ رہے ہیں! یہ میرے لیے کیسے برا ہو سکتا ہے؟ ” یا "اگر میں تمباکو نوشی کرو تو شاید میں ایسا ہی لگوں ٹھیک ہے لیکن شاید ہمیں انہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن انسان کے اندرونی جسم کی کہانی بالکل مختلف کہانی ہے۔تمباکو کے استعمال سے ہر سال 54 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں – ہر چھ سیکنڈ میں اوسطا ایک شخص – اور دنیا بھر میں 10 میں سے ایک بالغ کی موت ہوتی ہے۔
تمباکو تمام صارفین میں سے نصف کو ہلاک کرتا ہے۔
دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریباََ ایک ارب سے زیادہ ہے۔
نیکوٹین انتہائی نشہ آور ہے۔ نیکوٹین کا نشہ آور اثر تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے تمباکو نوشی کرنے والے سگریٹ نوشی کے درد سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مثلاً زیادہ گہرائی سے سانس لیتے ہوئے تاکہ جسم میں نیکوٹین کی ایک خاص سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔
سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے نصف اپنی 18 ویں سالگرہ تک باقاعدہ تمباکو نوشی کر رہے ہوتے ہیں ، اور 90 فیصد نے 21 سال کی عمر سے شروع کر دیتے ہیں.
ہر روز 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 4 4000 بچے اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں اور ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 1300 باقاعدہ سگریٹ پینے والے بن جائیں گے۔نوعمری میں تمباکو کا استعمال دیگر غیر صحت بخش رویوں سے بھی وابستہ ہے ، بشمول لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونا ، ہتھیار اٹھانا ، اور زیادہ خطرہ جنسی رویے میں شامل ہونا۔
تمبا کو نوشی نہ صرف آپ کے لیے سخت نقصان دہ بلکے آپ کے ساتھ جُڑے لوگو کے لیے اور آپ کے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔تمباکو نوشی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے اور فضا میں زہریلی آلودگی پھیلاتی ہے۔ سگریٹ کے جو ٹوٹے بچتے ہیں وہ بھی ماحول کے لیے خطرناک اس کی باقیات میں موجود زہریلے کیمیکل مٹی اور آبی گزرگاہوں میں گھس جاتے ہیں ، جس سے بالترتیب مٹی اور پانی کی آلودگی ہوتی ہے۔
جانور اور پودے جو سگریٹ کی باقیات سے رابطے میں آتے ہیں یا زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اس طرح یہ نہ صرف سگریٹ کا دھواں بھی ماحول کے کے نقصان ده ہے جو لوگوں اور ماحول پر کئی طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ سگریٹ کی بنائی کے عمل کے دوران جاری سگریٹ ٹوٹے باقیات اور دیگر فضلہ بھی ماحول کے کے سخت نقصان دہ ہے.
تمباکو کی صنعت اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے جس پر ہم رہتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ، پانی ، زمین اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں.اور زمین کو دھکیل رھے ہیں ایک عالمی تباہی کی طرف.
جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جب انکو بتایا جاتا ہے کے ان کے لیے تمباکو نوشی ان کے نقصان دہ ہے وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہں ہوتے.
زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے دفاعی موقف اختیار کرتے ہیں . یقینی طور پر وہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی غیر صحت مند ہے لیکن اور وہ اپنے علاوہ کسی اور کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ یقینی طور پر ، سگریٹ کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے ، ٹھیک ہے؟ وہ بندوقیں نہیں ہیں لیکن ہر سال اس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہےتمباکو نوشی سے پرہیز کریں اپنے کے اپنے ساتھ جُڑے لوگوں کے لیے اور بہترین ماحول کے لیے۔
Twitter Handle
@aworrior888 -
تمباکو نوشی اور اس کے اثرات، تحریر: فروا منیر
تمباکو کی وبا دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ کے خطرات میں سے ایک ہے ، جس سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ستر لاکھ سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ تقریبا 1.2 ملین غیر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ۔
تمباکو کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں۔ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی سب سے عام شکل ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات میں واٹر پائپ تمباکو ، مختلف تمباکو نوشی کی مصنوعات ، سگار ، سگریلو ، رول آپ کی اپنی تمباکو ، پائپ تمباکو ، بڈیاں اور کریٹیکس شامل ہیں۔
سگریٹ تمباکو کے استعمال کی طرح واٹرپائپ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم ، واٹرپائپ تمباکو کے استعمال کے صحت کے خطرات کو اکثر صارفین کم سمجھتے ہیں۔
تمباکو کا استعمال انتہائی لت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تمباکو میں بہت سے کینسر پیدا کرنے والے زہریلے مادے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے سر ، گردن ، گلے ، غذائی نالی اور زبانی گہا کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (بشمول منہ ، زبان ، ہونٹ اور مسوڑوں کا کینسر) نیز دانتوں کی مختلف بیماریاں۔دنیا بھر میں 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں ، جہاں تمباکو سے متعلقہ بیماری اور موت کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ تمباکو کا استعمال گھریلو اخراجات کو بنیادی ضروریات جیسے کھانے اور پناہ گاہ سے تمباکو کی طرف موڑ کر غربت میں مدد کرتا ہے۔
تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات کافی ہیں اور ان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے اہم اخراجات کے ساتھ ساتھ گمشدہ انسانی سرمایہ بھی شامل ہے جو تمباکو سے منسوب بیماری اور اموات کا نتیجہ ہے۔
کچھ ممالک میں غریب گھرانوں کے بچوں کو تمباکو کی کاشت میں لگایا جاتا ہے تاکہ خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ تمباکو بڑھانے والے کسان صحت کے کئی خطرات سے بھی دوچار ہیں ، جن میں "سبز تمباکو کی بیماری” بھی شامل ہے۔
تمباکو مصنوعات میں ٹیکس میں اضافہ اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ قیمتوں کو آمدنی میں اضافے سے اوپر لے جائے۔ تمباکو کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 4 فیصد اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
اس کے باوجود ، تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا ایک ایسا اقدام ہے جو تمباکو کنٹرول کے دستیاب اقدامات کے سیٹ کے درمیان کم از کم لاگو ہوتا ہے۔
مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم لوگ تمباکو کے استعمال کے مخصوص صحت کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم ، جب تمباکو نوشی کرنے والے تمباکو کے خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو ، زیادہ تر لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ سگریٹ کی ڈبیا کر غور سے دیکھیں تو اس پر بھی درج ہے کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کواس بات کو سمجھنا چاہیے۔
بے شک سگریٹ ایک بری وبا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے ان کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔
Follow @Fatii_PTI -
افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود
افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔
خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔
یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔
-

ظالم سماج تحریر: نوید خان
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔میں اکثر سوچتا ہوں
اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
وہ بڑا ظلم تھا؟
یا موجودہ زمانے میں
معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
آخر وہ کونسا عارضہ ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
کب تک ہم افسوس مزمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری اُلزِمہ سمجھے گے؟
کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
اسکا سدِباب ناگزیر ہوچکا
ورنہ یہ سانحات ہوتے رہے گے
چار دن کا ماتم بھی ہوگا
اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
پر ایک نئی بحث ہوگی
آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جنکی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیںہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
روز ایسے ایسے واقعات رونماع ہورہے ہیں
جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِر جاتا ہے
ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں نا جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینی چاہئیے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردار کی عزت ہوتی تھی ناکہ دولت یا چمک دمک کی؛ جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کر سوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگ ایسے سفاک لوگوں کا بائیکاٹ کرے اور جو بائیکاٹ نہ کرے اسے بھی اس جیسا سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا جدید سسٹم لائےجس سے ایسے لوگ سزا کاٹنے کے بعد جب جیلوں سے باہر آجائے اورکسی شہر میں جائےتو ان کے بارے میں ہر شہر میں متعلقہ تھانے سے ایس ایم ایس پورے شہر کو جائے کہ ایک بچوں کا شکاری درندہ اس شہر میں آگیا ہے، اس پر آنکھ کُھلی رکھو،محتاط رہو اور بندوقیں صاف کرلو تاکہ اسے پتا چلے کہ اب کسی بچے پر آنکھ اٹھائی تو دوبارہ وہ جیل میں نہیں، سیدھاجہنم جائے گا۔
اب ان بدبُودار کہانیوں کو رُکنا چاہیے
وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔
ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثر نہیں کرتی۔
ویسے تو یہاں نا خواتین محفوظ ہیں اور نا ہی بچے
انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو
اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں؛ ڈرائیو کرنے والی خواتین پرس میں لیڈیز پستول رکھیں!
پولیس مجرموں کو پکڑ سکتی ہے؛ وقت کو واپس نہیں لا سکتی!ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیںName: Naveed Khan
@Naveedmarwat55 -

علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔
_(حضرت علی ع)_
اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
_اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
*”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
*”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
*” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
*ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
*پاکستان ذندہ باد*
@hamzatareen4 -

ٹرینڈنگ انصاف تحریر: علی خان
"یہ عدالت نہیں کچہری ہے جی یہاں انصاف نہیں ملتا ! یہاں صرف تریخیں ملتی ہیں اور بندے کے پاس پیسہ ہو تو فیصلہ بھی مل جاتاہے لیکن انصاف نہیں ملتا” ۔ گرمی سے بچنے کے لیے سر پر ململ کا صافہ رکھے، ہاتھ میں کاغذوں سے بھرا تھیلا پکڑے اور پسینے میں شرابور نوجوان کی آواز میں چھپا کرب ، مایوسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔میں لاہور کی مقامی عدالت کے باہر کسی کام کے لیے موجود تھا۔پتا معلوم نہ ہونے پر نوجوان سے ایک عدالت کا راستہ پوچھا تو اس نے اپنے تئیں میری ان الفاظ سے تصحیح کی۔استفسار پر معلوم ہوا کہ دادا کی زمین پر بااثر زمیندار نے قبضہ کیا تھا ۔ دادا سے شروع ہونے والا کیس سے پوتے تک آن پہنچا لیکن فیصلے کا کوئی اتا پتا نہیں ۔
"سوچتا ہوں کہ میرے دادے کے ٹائم میں نیٹ والا موبائل ہوتا تو شاید ہمارا بھی مسئلہ حل ہوجاتا” داد اللہ نامی اس نوجوان کی بات نے میری پوری توجہ اسکی جانب مبذول کروادی۔ "کیوں بھئی نیٹ والے موبائل کا تمہارے کیس سے کیا تعلق؟؟؟ "۔ ” او جی اب توجس ماملے کی خبر نیٹ پر آجائے و ہ اے سی، ڈی سی وزیراعظم سب کو پتا لگتی ہے اور مسئلہ فٹافٹ حل ہوجاتا ہے”۔ داد اللہ نے میرے علم میں تسلی بخش اضافہ کیا۔
دور جدید میں یہ خواہش صرف داد اللہ نامی اس نوجوان کی ہی نہیں بلکہ عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹتے ، انصاف کے منتظر ان لاکھوں پاکستانیوں کی ہے جو لین دین کے تنازعات سے لے کر قتل کے مقدمات تک میں انصاف کی راہ تک رہے ہیں ۔روایتی نظام انصاف میں ایک بار معاملہ عدالت تک جاپہنچے تو دن مہینوں میں ، مہینے سالوں میں اور سال دہائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن انصاف کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ کمزور فریق یا تو تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر نسل در نسل انصاف کی دہائیاں دیتا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں اللہ داد کی یہ تھیوری سو فیصد درست بیٹھتی ہے کہ اگر آپکا مسئلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے تو انصاف گویا آپکی دہلیز تک آن پہنچتا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میں زینب قتل کیس ہو یا شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا معاملہ، کسی بچے کا مرغا زہریلا پانی پینے سے مر جائے یا پھر کسی طاقتور نے غریب پر ظلم کیا ہو، جو ویڈیو یا خبر سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی ، ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں آگئی،فیس بک پر شیئر ہوگئی واٹس ایپ پر وائرل ہوگئی تو اس پر لمبی تانے سوئے حکام گڑبڑا کر جاگ اٹھتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی ہوجاتی ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر اب کسی بھی مسئلے میں گھرے شہری کی توجہ تھانے، سوئی گیس دفتر، واپڈا، کے الیکٹرک اور دیگر محکموں کی جانب نہیں جاتی بلکہ فون نکال کر ویڈیو یا پوسٹ بنائی جاتی ہے اور اس امید پر اپ لوڈ کردی جاتی ہے کہ اگر کسی صاحب اختیار کی نظر پڑ گئی تو داد رسی ہوجائے گی۔ یہاں اداروں پر کم ہوتے عوامی اعتماد کا تو سوال اپنی جگہ لیکن یہ سوچنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ علاقے اور خطے جہاں انٹرنیٹ کی مکمل رسائی نہیں ہے، جہاں عوام ٹیکنالوجی کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے وہاں انصاف کی فراہمی کی صورتحال کیا ہے؟انہی پسماندہ علاقوں میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور امیر وڈیروں کے غریبو ں پر انسانیت سوز مظالم کی کہانیاں کئی کئی ماہ بعد سامنے آتی ہیں۔ بعض صورتوں میں جرم کا سراغ لگانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ارباب دانش کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی کہ انصاف کا پیمانہ صرف ٹرینڈنگ ہی نہ بن جائے بلکہ نظام انصاف کی کمزوریاں اور خامیاں دور کی جائیں تاکہ ہر عام و خاص تک انصاف کی فراہمی بلاتفریق یقینی بنائی جاسکے۔