Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    جب دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں کوویڈ 19 وبائی مرض کا پہلا کیس آیا تو چین میں تعلیمی ادارے سمیت ہر چیز بند کردی گئی اور سفری پابندیاں لگا دی گئی۔ جیسے جیسے کوویڈ 19 کے کیسز دوسرے ممالک میں سامنے آتے گئے تو ہر ملک میں تعلیمی ادارے بند کردئے گئے۔ اس دوران ہزاروں طلباء جو چین میں زیرتعلیم تھے جو چین کے مختلف یونیورسٹییز سے BS, MS اور PhD کی ڈگریز کر رہے تھے وہ پاکستان آئے جو آج تک اس انتظار میں ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے کلاس رومز، ریسرچ لیبز اور لائبریری کا پڑھائی والا ماحول کبھی دیکھیں گے۔ 19 ماہ سے لے کر آج تک چین کا ویزا ملنا ان پاکستانی طلباء کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔

    پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں کچھ ایسے بھی ہے جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے یونیورسٹیوں میں داخلہ ملا ہے۔ ان نئے طلباء نے ابھی تک اپنی یونیورسٹی کا ماحول دیکھا بھی نہیں۔ چین میں زیر تعلیم بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء کو پاکستان میں پھنسے 19 ماہ ہو چکے ہیں اور انکو ویزا نہیں مل رہا۔ یہ طلباء پاکستانی حکومت کا بے بسی کے علم میں 19 ماہ سے دروازہ کھٹکھٹکا رہے ہیں لیکن زرائع کے مطابق کوئی حکومتی رہنما ان کی مدد کیلئے آواز نہیں اٹھا رہا۔ البتہ اپوزیشن سیاسی جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا مشہود احمد خان اور ایم پی اے بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان طلباء کو ہر قسم کی مدد کا یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ 16 جولائی 2021ء کو ن لیگ کے پنجاب کے نائب صدر و پنجاب اسمبلی کے ممبر رانا مشہود احمد خان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ٹویٹر بیان میں طلباء کیلئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ 17 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں پاکستان کے طلباء کو پیش انے والے مسائل کیلئے آواز اٹھائی۔

    22 جولائی 2021ء کو ٹویٹر پر پنجاب اسمبلی کے لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں کہ طلباء پر سفری پابندی کا معاملہ نہ صرف اسمبلی میں بلکہ ہر جگہ اٹھاؤنگا۔ ساتھ میں انکا یہ بھی کہنا تھا کہ چائنیز قونصلیٹ سے طلباء کے مسئلے کیلئے رابطہ کیا ہے اور ان کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے پاکستان میں پھنسے چین میں ریز تعلیم طلباء کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے رہنما طحیہ نون اور خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے لیگی رہنماؤں نے طلباء کے مسائل سنے اور ان کیلئے آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ اس موقع پر رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اس معاملے میں طلباء کی کوئی مدد نہیں کر رہی اور انہوں نے طلباء کو یقین دہانی کروائی کہ ہم طلباء کے تعلیمی مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دیں گے اس کے لیے جس فورم پربھی آواز اٹھانی پڑی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی میں ان طلباء کےمستقبل کےلیے آواز اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو ن لیگ کی خاتون رہنما اور پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی اور طلباء سے کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ طلباء کے ساتھ اس ملاقات کی تصدیق کی۔ لیگی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں طلباء کے ساتھ یہ عزم کیا کہ پنجاب اسمبلی میں سفری پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اور بشری انجم بٹ نے پنجاب اسمبلی میں پاکستانی طلباء کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے قرارداد اور تحریک التوائے کار جمع کرا دی جسکی تصدیق مسلم لیگ ن کے پنجاب کے نائب صدر نے اپنے ٹویٹر بیان میں کی۔

    19 اگست کو رانا مشہود احمد خان اپنے ٹویٹر بیان میں لکھتے ہیں کہ میری قیادت میں طلباء کا ایک وفد چینی کونسل جنرل سے ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ 20 اگست 2021ء کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد خان نے طلباء کے ایک وفد کو ساتھ لے کر چینی کونسل جنرل سے ملاقات کی۔ پنجاب اسمبلی کے ن لیگی ایم پی اے نے اپنے ٹویٹر پر جاری کردا بیان میں چینی کونسل جنرل لانگ ڈنگبن سے ملاقات کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس ملاقات میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن نے رانا مشہود احمد خان کو یقین دہانی کروائی کہ آئیندہ ماہ ستمبر میں شروع ہونے والے سمسٹر سے قبل تمام طلباء کے مسائل کو اولین بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ طلباء اپنے تعلیمی سال کو مکمل کر سکے گے۔ رانا مشہود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن کے ساتھ ملاقات کے کچھ تصاویر بھی شیر کئے ہیں جس میں چین میں زیرتعلیم طلباء ان دونوں چینی و ن لیگی رہنماؤں کے ملاقات میں موجود ہیں۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔

    ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔

    ۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔

    بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔

    مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • پٹھان اور پاکستان تحریر:: طاہر علی

    پٹھان اور پاکستان تحریر:: طاہر علی


    14 اگست 1947 کو وجود میں آنے والا ملک پاکستان بے شمار لوگوں کی قربانیوں سے معرضِ وجود میں آیا، پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں اپنی ایک شاندار تاریخ رکھتی ہیں، ان ہی میں ایک غیور قوم پٹھان بھی ہے جو اپنی سادگی، حبُ الوطنی اور غیرت مند قوم کے نام سے جانی جاتی ہے، آٸیے آج کچھ پٹھان قوم کے حوالے سے اہم باتیں جانتے ہیں۔
    فارسی میں پشتون، مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان کہا جاتا ہے۔ یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوٸی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے،جن میں پاکستان ، افغانستان اول نمبر پر ہیں۔
    دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ لفظ پشتون کا مطلب غیرت و وفا والا ۔
    پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے اور ایک چھوٹی سی اقلیت کو چھوڑ کر وہ سنی مسلمان ہیں۔ حال ہی میں ، افغانستان کی قبائلی بادشاہت کو کنٹرول کیا ، اور کچھ ادوار کے دوران پٹھان یا افغان بادشاہوں نے ہندوستانی میدانی علاقوں پر اپنا راج قائم کیا۔ پشتو بولنے والوں کی 1984 کی آبادی تقریبا 20 ملین تھی۔ اس میں پاکستان کے 11 ملین اور افغانستان میں 9 ملین شامل ہیں۔ 1979 سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 20 لاکھ پٹھان پناہ گزین بن کر پاکستان چلے آۓ۔ پٹھان افغانستان کی 50 سے 60 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ سب سے بڑے اور بااثر نسلی گروہ کے طور پر ، پٹھانوں نے پچھلے 200 سالوں سے اس ملک کے معاشرے اور سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ افغانستان میں دیگر اہم نسلی اقلیتوں میں ہزارہ ، تاجک اور ازبک شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد سے ، پٹھان پاکستان کا دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ پاکستان کی 1981 کی مردم شماری کے مطابق ملک کے 13 فیصد خاندان پشتو بولنے والے ہیں۔
    پٹھان علاقوں کے دیہات حال ہی میں بڑی حد تک خود کفیل رہے ہیں۔ روایتی طور پر تجارت اور یہاں تک کہ کاشتکاری بھی پٹھانوں کی سرگرمیوں کو نظرانداز کیا گیا جس کے باعث انھوں نے چھاپہ مار ، اسمگلنگ اور سیاست کو عزت کے حصول کے طور پر دیکھا۔ ایسے علاقوں میں جہاں اس طرح کے رویے برقرار رہتے ہیں ، غیر پٹھان (اکثر ہندو) دکاندار اور پیڈلرز یا خانہ بدوشوں کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ ان روایات کے باوجود ، بڑے شہروں اور شہری علاقوں میں پٹھانوں نے کامیاب تاجروں اور تاجروں کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔پٹھانوں کی زندگی میں اسلام ایک لازمی اور متحد موضوع ہے ، اور یہ پٹھانوں کو مومنوں کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ پٹھانوں کی بھاری اکثریت حنفی لیگل سکول کے سنی مسلمان ہیں۔ کچھ گروہ ، خاص طور پر پاکستان کی کرم اور اورکزئی ایجنسیوں میں ، شیعہ اسلام پر عمل پیرا ہیں۔
    پاکستان کی تاریخ میں پٹھان قوم کا بڑا عمل دخل ہے مگر کچھ لوگ اس بات کو اب بھی
    پوری طرح تسلیم نہیں کرتے۔۔۔ *مگر پٹھانوں نے پاکستان کے لئے 1947 میں ووٹ پٹھان قوم نے دیا۔
    *1948میں آذاد کشمیر کا تحفہ پٹھان قوم نے دیا۔
    *1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ پٹھان لڑے۔
    *1969 میں دیر سوات اور چترال کی پشتون ریاستیں بلا مشروط پاکستان میں شامل ہوئیں۔
    *1971 کی جنگ میں پٹھان قوم نے پاکستانی فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔
    *1979 میں جب روس نے پاکستان کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب دیکھا توان کے اس خواب کو پٹھان قوم نے مٹی میں ملا کر اپنے خون سے پاکستان کادفاع کیا۔
    *1999 میں کارگل جنگ میں کرنل شیر خان جیسے بہادر پٹھان نے پاکستان کا دفاع کیا.
    * دہشتگردی کے پندرہ سالہ جنگ کے اس ادوار میں پٹھان قوم نے اپنے جان، مال اور اولاد تک کی قربانی بے دریغ دے کر صرف پاک فوج اور پاکستان کا ساتھ دیا۔
    *کچھ لوگوں نے پشتون قوم کا روپ دھار کر ملک و فوج کے خلاف محاذ کھڑا کیا،لاشوں پر سیاست کر کے فوج اور پاکستان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی مگر یہاں بھی اس غیرت مند قوم نے ملکر ان کے خلاف آواز اٹھاٸی اور ان سے ہر طرح کا باٸیکاٹ کیا گیا اور یہ ثابت کیا کہ غیرت مند پشتون اپنے ملک و ملت کا وفادار ہوتا ہے۔
    آٸیے ہم سب مل کر دنیا کو بتاٸیں کہ یہ ایک امن پسند، محبِ وطن، اپنی روایات سے محبت کرنے والی اور اپنے ملک و ملت پر جان قربان کر دینے والی قوم ہے۔

    @TahirAli_Twitts

  • تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں  تحریر:-محسن ریاض

    تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض

    کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
    تحریر-محسن ریاض
    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ

    "ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
    سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
    اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
    1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
    ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
    2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
    3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
    مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
    4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
    "اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
    5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔

    اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
    1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
    2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
    3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
    اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین!

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • بد دعائے محبت تحریر؛بسمہ ملک

    بد دعائے محبت تحریر؛بسمہ ملک

    کزن یار, یہ الفاظ کبھی مجھے سخت ناپسند تھے۔اور کہنے والا بھی ۔ مگراب یہی الفاظ میرا سرمایہ حیات ہیں۔میری سماعتوں میں آج بھی یہ الفاظ گونجتے رہتے ہیں۔میرا نام نوشین ہے گھر والے سب نوشی کہتے ہیں۔مگروہ مجھے ہمیشہ کزن یاپھر کزن یار، ہی کہتا تھا۔وقت وقت کی بات ہے کبھی وہ مجھے سخت ناپسند تھا اور اس کے یہ الفاظ بھی۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ مجھے اس سے نفرت ہی تھی۔اس کے کزن یار کہنے سے میں چڑجاتی تھی۔اور اسے خوب بےعزت کرتی تھی۔اسے بات بےبات بےعزت کرنا اور اس کی عزت نفس مجروح کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔اوریہی مشغلہ اب میرا عمر بھرکاپچھتاوا۔ بلکہ روگ بن گیا ہے۔وہ جو محبت پہ ہنستا تھاپھر اسے آ لیا محبت نے۔یہ شعر مجھے اسی نے سنایا تھا۔وہ اکثر مجھے شعر سنادیتا تھا۔اسے شاعری سے لگاؤ تھا ۔اور مجھے شاعری سخت ناپسند تھی۔مگراب مجھے بہت سی غزلیں اور شعر یاد ہیں وہ سب شعر بھی یاد ہیں جو اس نے مجھے اکثر بیشتر سناۓ تھے۔وہ میرے ماموں کا بیٹا تھا۔نام تو اس کا عدنان تھا۔مگرسب اسے عادی کہتے تھے۔سواۓ میرے۔میں نے اسے کبھی نام سے بلایا ہی نہیں تھا۔اور نہ کبھی اسے انسان سمجھا تھا۔میں ہمیشہ اسے اوۓ یا اوۓ پینڈو کہہ کر ہی بلاتی تھی۔وہ ہماری گاڑی چلاتا تھا جس کی وجہ سے میں اسے اکثر ڈرائیور بھی کہہ دیتی تھی۔اس سے میرا مقصد فقط اس کو ذلیل کرنا ہوتا تھا۔مگراس نے کبھی مجھ سے شکوه نہیں کیاتھا۔اور نہ ہی کبھی ناراض ہوا تھا۔وہ نویں کلاس میں تھا جب ماموں فوت ہوۓ۔گھر میں سب سے بڑا ہونے کے ناطے ساری ذمہ داری عادی کے کندھوں پر آپڑی تھی۔اس نے سکول کو خیرآبادکہا اور محنت مزدوری کرنے لگا۔ہمارے سمعیت عادی کے باقی رشتےدار بھی اچھے بھلے کھاتے پیتے تھے۔مگرکسی کو بھی اتنی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ کوئی ان کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا۔سب اپنی اپنی دنیامیں مست تھے۔وقت گزرتارہا عادی نے اپنے بہن بھائیوں کو پڑھایا اور جیسے تیسے گھر کا خرچ بھی چلایا۔پتہ نہیں اس نے کب اور کہاں سے ڈرائیوری سیکھی۔؟؟؟وہ لوگ کبھی کبھی ہمارے گھر ہم سے ملنے آجاتے تھے۔مگرہم لوگ کبھی ان کے گھر نہیں گئے تھے۔امی ایک دوبار گئی تھیں باقی کوئی نہیں جاتا تھا۔اب کی بار عادی اپنی امی کے ساتھ آیا تو ابونے اسے گھر ڈرائیور کی آفر کی جس کو اس نے قبول کرلیا۔ابو نے گھر میں کوئی ڈرائیور نہیں رکھا تھا۔وہ خود ہی مجھے اور میری چھوٹی بہن ثمرین کو کالج یونیورسٹی چھوڑنے جاتے تھے۔عادی کے آنے سے ابو بےفکر ہوگئے تھے۔میں جانتی تھی عادی مجھے پسند کرتا ہے ۔مگرمیں نے کبھی اس پر توجہ ہی نہیں دی تھی۔یوں کہہ لیں کہ میں اسے توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھتی تھی۔پھر ایک دن اس نے ہمت کرکے اپنی پسند کا اظہار کرہی دیا۔اس نے کہا تھا نوشی میں تمہیں بچپن سے پسند کرتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں

    مگر یہ دل کے فیصلے ہیں اس پر کسی کا زور نہیں چلتا

    تم کسی قابل نہیں ہو میں نے اسے کہا تھا

    ویسے فیصلے دماغ کرتا ہے دل نہیں

    بشرطیکہ کسی کے پاس دماغ نام کی کوئی چیز ہو میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا

    محبت کے فیصلے دل کے ہی ہوتے ہیں کزن

    عادی نے دھیمے سے لہجے میں کہا

    محبت میں اگر فیصلے دماغ کرنے لگے تو محبت، محبت نہیں رہتی مفاد پرستی بن جاتی ہے

    بے خطر کود پڑا اتش نمرود میں عشق

    عقل محو تماشا لب بام تھی ابھی

    اس نے حسب حال اپنی بات کی دلیل میں شعر بھی سنا دیا اس کے اظہار کے بعد تو مجھے جیسے اس سے خدا واسطے کا بیر ہی ہوگیا تھا

    میں نے جان بوجھ کر اسے یہاں تک بھی کہہ دیا تھا کہ وہ مجھے محبت کے چکر میں پھنسا کر امیر ہونا چاہتا ہے اس نے کہا تھا کہ شادی اور محبت دو الگ چیزیں ہیں

    ضروری نہیں کہ ہم جس سے محبت کریں اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے مگر یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی

    میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا مگر کسی بھی بات پہ سہی مجھے تو اس کو ذلیل کرنا تھا

    اس کے بعد جب جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بے عزت کیا میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا بہت ہی بے حس تھی میں۔

    دولت کی فراوانی سے مجھ میں تکبر انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا

    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کروایا

    میری دوست اس کی محبت اور غربت پر طنز کرتی رہیں

    عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔!

    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگر اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعی سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا ہے

    اور ہم نے اس بات  پہ بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا

    میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا

    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانہ تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا

    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آ گیا منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر گیا شاید اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتا ہے دیکھ سکتا 

    وہ تین چار دن بعد واپس آیا تھا

    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دیکھائی اور کہا کے دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں

    اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتے ہاں یار میں جانتی ہوں تم میرے لیے جان بھی دے سکتے ہو۔۔۔

    (جاری ہے)

    @BismaMalik890

  • اپنوں سے محتاط رہے اپنوں کے تیر ہمیشہ نشانے پر لگتے ہیں تحریر: ملک ضماد

    اپنوں سے محتاط رہے اپنوں کے تیر ہمیشہ نشانے پر لگتے ہیں تحریر: ملک ضماد

    زندگی میں یہ بات یاد رکھنا یہ دنیا ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے جب تک تم کچھ بنو گے نہیں تب تک نہ تمہیں کوئی عزت دے گا اور نہ تمہاری سنے گا سب کچھ ٹھیک ہونے کا انتظار کرو گے تو بس انتظار کرتے رہ جاؤ گے انتظار کرنے والوں کو وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والے چھوڑ جاتے ہیں

    اس لئے خود اٹھو ہمت کرو اور سب کچھ ٹھیک کر کے دکھاؤ کبھی ہار بھی جاؤں تو پھر سے کوشش کرنا کیوں کہ آپ سال یا دن ہارتے ہیں زندگی نہیں پروبلم ہارنے میں نہیں ہار ماننے میں ہے اس لیے بس تم ہار نہ مانو اور کوشش کرتے رہو پھر دیکھنا کون تم سے آگے نکل پاتا ہے زندگی چھوٹی نہیں ہوتی لوگ جینا ہی دیر سے شروع کرتے ہیں جب تک راستے کی سمجھ آتی ہے تب تک لوٹنے کا وقت ہو جاتا ہے صحیح فیصلہ بھی غلط ہو جاتا ہے اگر وہ دیر سے لیا جائے

    مشکل نہیں ہے اس دنیا میں تو زرا ہمت تو کر خواب بدلیں گے حقیقت میں تو ذرا کوشش تو کر آندھیاں سدا چلتی نہیں مشکل سدا رہتی نہیں ملے گی تجھے منزل تیری تو ذرا کوشش تو کر

    اگر کوئی آپ کے بغیر خوش ہے تو اسے خوش ہی رہنے دو جو جا رہا ہے اسے جانے دو وہ آج رک بھی گیا تو کل چلا ہی جائے گا آپ رشتے بنا کر بھی کیا کرو گے جب سامنے والے کا ارادہ نہ ہو نبھانے کا تو آپ قدم برھا کر بھی کیا کر لوگے چھوڑنے والے چھوڑ ہی جاتے ہیں مقام کوئی بھی ہو نبھانے والے نبھا جاتے ہیں حالات کیسے بھی ہوں

    اس لئے زندگی میں اس بات کا خیال رکھنا جہاں قدر نہیں وہاں جانا نہیں جو سنتا نہیں اسے سنانا نہیں جو سمجھتا نہیں اسے سمجھانا نہیں موسم کی طرح جو بدلے اسے دوست بنانا نہیں جو دل توڑ کر چلا جائے اسے واپس بلانا نہیں جو نظروں سے گر جائے اسے اٹھانا نہیں جو سچ بولنے پر بھی روٹھ جائے اسے منانا نہیں زندگی جینے کا سلیقہ پرندوں سے سیکھو جو کورے میں پڑا ہوا گندم کا دانہ بھی ڈھونڈ نکالتا ہے

    اس لیے ہمیشہ اپنی نظر لوگوں کی اچھائیوں پر رکھو برائیوں پر نہیں عمر ضائع کر دیں لوگوں نے دوسروں کے وجود میں نقص نکالتے نکالتے اگر اتنا ہی خود کو تراشا ہوتا تو آج فرشتے ہوتے جن کا وقت خراب ہے ان کا ساتھ ضرور دو لیکن جن کی نیت خراب ہے ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے

    بھروسہ اور پیار بہت ہی مہنگے تحفے ہیں اس لیے سستے لوگوں سے کبھی ان کی امید مت رکھنا جب کوئی ہاتھ اور ساتھ دونوں چھوڑ جائے تو خدا کسی نہ کسی کو آپ کا ہاتھ تھامنے کے لیے ضرور بھیج دیتا ہے

    @MalikZamad_

  • لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل

    لونڈیوں کا اسلام میں تصور تحریر: محمد اسعد لعل

    لونڈیاں اور غلام اسلام یا اسلام کی تعلیمات کا کوئی حصہ نہیں ہیں۔ یہ دنیا میں ایک مصیبت موجود تھی اور صدیوں تک موجود رہی۔ یہ کیسے پیدا ہوئی اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے اُس کے بعد پھر جاگیردرانہ تمدن پیدا ہوا بڑی بڑی ذمہ داریاں آ گئیں اور ایک زراعی زندگی پیدا ہوئی، اور اس کے بعد انڈسٹریل ریوولوشن ہوا اور آہستہ آہستہ دنیا کے اندر ایک تیسرا دور شروع ہو گیا۔ اب ٹیکنالوجی اور خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک چوتھے دور کی ابتدا کر دی ہے۔
    جب قبائلی زمانہ تھا اس میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر چراگاہیں حاصل کرنے کے لیے،نخلستان حاصل کرنے کے لیے ، یہاں تک کے پانی ختم ہو جاتا تو حملہ کر دیتا تھا۔ جب کوئی کسی دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیتا تو حملہ آور کو اگر شکست ہو جاتی تو جنگی جرم میں اس کے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ یعنی غلامی کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔ اس کو کسی پیغمبر نے آ کر شروع نہیں کیا۔ لوگوں نے اپنی لڑائیوں میں جارحیت کرنے والے کوسزا دینے کا یہ طریقہ استعمال کیا کہ اگر تمہارا قبیلہ ہم پر حملہ آور ہوا تو ہم تمہارے تمام مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے۔
    جس وقت آپﷺ کی آمد ہوئی اس وقت عرب کی پوری معیشت غلاموں پر منحصر تھی۔ یعنی جو صورت اِس وقت سود کی ہے، آپ دیکھیں تو اس وقت سارا بینکاری اور انشورنس کا نظام سود پر کھڑا ہے۔ اگر میں یا آپ کوئی آدمی یہ کہے کہ سود بُری چیز ہے، ظالمانہ چیز ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ اس کا کوئی متبادل لائیں پھر ہی اس کا خاتمہ ہو گا ورنہ تو معیشت ختم ہو جائے گی، دوسرے دن سارا سسٹم درہم برہم ہو جائے گا۔ تو جو اِس وقت بینکاری کے نظام کا معاملہ ہے گلی گلی بینک قائم ہیں بالکل یہی صورتحال آپﷺ کے دور میں غلامی کی تھی۔ ہر گھر میں غلام تھے ،وہی گھروں کے کام کرتے تھے، وہی کھیتوں میں کام کرتے تھے، وہی تجارت کے قافلے لےکر جاتے تھے۔ یہ برسوں سے لوگوں کے پاس تھے اور اُن کو بیچ بھی دیا جاتا تھا۔
    قرآن مجید نے اس کو دو طرف سے ختم کرنے کا آغاز کیا۔ کسی بھی چیز کو ختم کرنےکے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز جہاں سے پیدا ہو رہی ہے اس کو بند کیا جائے، دوسری یہ کہ جتنی پیدا ہو چکی ہے اس سے نمٹا جائے۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔
    سورۃ محمد کو نکال کے دیکھیں، جتنے بھی غلام بنتے تھے جنگ میں بنتے تھے۔ یعنی جنگ ہوتی، قیدی پکڑے جاتے، عورتیں اور مرد غلام بنا لیے جاتے۔
    پہلی جنگ جب مسلمانوں کو پیش آنے والی تھی تو بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا کہ یہ جنگ پیش آنے والی ہے اور اس جنگ کے بعد جب قیدی پکڑ لیے جائیں گے تو ان کے معاملے میں غلامی کا کوئی تصور نہیں ہو گا۔ اس کے بعد دو ہی طریقے جائز رہے، ایک یہ ہے کہ آپ فدیہ لے کے اُن کو آزاد کر دیں، دوسرا یہ کہ احسان کے طور پر چھوڑ دیں۔ اس طرح سے غلامی کے پیدا ہونے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
    اب صرف وہ غلام بچے جو پہلے سے غلام تھے، لوگ ان کو پہلے ہی خرید چکے تھے اور وہ ان کے گھروں میں برسوں سے تھے۔ ان کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا کہ آج کے بعد سب آزاد ہیں، تو آپ جانتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ غلام عورتیں اور مرد بے گھر ہو جاتے، کسی کے پاس چھت نہ رہتی، کسی کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہ رہتی کیوں کہ ان کی ساری زندگی کا انحصار اُن کے مالکوں کے اوپر تھا۔ عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتیں اور مرد بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے۔
    تو اس کے لیے اسلام میں کیا طریقہ استعمال کیا گیا؟
    قرآن مجید میں بتایا گیا کہ سب سے بڑی نیکی غلاموں کو آزاد کرنا ہے۔ تاکہ لوگ اس کو نیکی سمجھ کر غلاموں کو آزاد کر دیں ۔ اور ایسا ہی ہوا لوگ غلام آزاد کرنے لگے یہاں تک کہ زیادہ نیکی حاصل کرنے کے لیے غلام خرید کر آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا جو موجودہ غلام تھے ان کی آزادی کی ایک تحریک چل پڑی۔
    اس کے بعد قرآن مجید نے ایک دوسرا حکم دیا اور آپﷺ نے اس کو نافذ کیا۔ وہ حکم یہ تھا کہ نفسیات کو بدلا جائےاور یہ کہا گیا کہ اب غلام اور لونڈی کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کی جگہ مرد اور عورت کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جتنے بھی ذی صلاحیت غلام ہیں ان کی شادیاں کروائی جائیں۔ تاکہ ان کے گھر آباد ہوں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔
    پھر مذہبی لحاظ سے لوگوں سے جتنے گناہ ہو جاتے تھے ان کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر وہ وقت آ گیا جب یہ حکم دے دیا گیا کہ جو خود کھاؤ گے ان کو کھلاؤ گے اور جو خود پہنو گے وہ ان کو پہناؤ گے۔مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ نہیں کر سکیں گے تو غلام آزاد کر دیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے چلے جائیں۔
    اس کے بعد لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ جن لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی ہے اور وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تو ان سے شادی کر لیں۔قرآن مجید میں سورۃالنساء میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔
    اس طرح کی اور بہت سی اصطلاحات کرنے کے بعد آخر میں سورۃالنور میں یہ حکم دے دیا گیا کہ اب ہر لونڈی اور غلام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مالک سے یہ درخواست کرے کہ مجھے ایک سال یا چھ مہینے، جتنا وہ مناسب سمجھیں اس کی مہلت دے دی جائے، تاکہ اس عرصے میں وہ کما کر اپنی قیمت ادا کر دیں۔
    کوئی غلام اپنی کمائی کا مالک نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی گویا ان کی آزادی کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں پکڑا دیا گیا کہ اپنی تقدیر کے پروانے پر خود دستخط کر لو۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس مہلت میں پتا چل جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
    یہ طریقہ اسلام نے اختیار کیا یعنی ایک طرف غلام بنانے پر پابندی لگا دی اور دوسری طرف آزادی کی راہ اس طرح کھول دی۔ کیااس سے بہتر کوئی طریقہ بُرائی کو ختم کرنے کا ہو سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں فخر کے ساتھ اس کو بیان کرنا چاہیے۔

    twitter.com/iamasadlal
    @iamAsadLal

  • نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول  حصہ اول تحریر  محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجینبی رحمت ﷺ پر وحی کے نزول کے حوالے سے ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے
    حضرت عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجؓہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھےچنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کر دیا، ورقہ نے آپﷺ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻ۝ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ Ą۝۽ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ Ǽ۝۽ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ Ć۝۽ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ Ĉ۝۽) اے (محمد ﷺ) اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ، اٹھیے اور خبردار کیجئے ۔ (لوگوں کو ڈرائیے) ، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 3

    @mmasief