Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لیےتعلیم کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔تعلیم انسانی شعورکوبیدارکرکےانسان کی اصلاح کاسامان کردیتی ہے۔تعلیم اخلاقی پختگی کی اساس ہے۔اگراساس کمزورپڑجائےیاسرے سےہی نہ ہوتوانسانی ترقی کاخیال عبث ہے۔تمام ممالک میں تعلیم کی ترسیل کےلیےتگ ودو جاری وساری ہے اوراس ضمن میں بہترین طرائق کواپناکراہداف حاصل کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی عوام الناس کوتعلیم سےآراستہ کرنے کےلیےمختلف ادارےقائم ہیں۔ان اداروں میں عمر کی بنیادپردرجات(کلاسز)طےہیں۔
    تعلیم”علم اورعمل”کامجموعہ ہے۔پاکستان میں درس وتدریس کےلیےسکولز،کالجزاورجامعات کاوسیع سلسلہ قائم ہے۔جہاں حکومت کی جانب سےادارےقائم کیےگئےہیں وہیں نجی شعبہ بھی عصری علوم کی تعلیم کے لیےسرکرداں ہے۔پاکستان میں نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیےسابقہ ادوارمیں کافی اصلاحات کانفاذکیاگیا۔کسی بھی قوم کوعلوم پہنچانےکےلیےاس قوم کی قومی زبان کوترجیح دی جاتی ہے۔تاکہ اس قوم کےلوگ عصری علوم کابہتراندازمیں ادراک پاسکیں۔
    بدقسمتی سےپاکستان میں آغازسےہی علوم کی ترسیل کے لیے قومی زبان اردو کوذریعہ نہیں بناگیا۔جس کی بنا پرتعلیم کی ترسیل بہتراندازمیں نہ ہوسکی۔نوجوان نسل کے لیے غیرملکی زبانوں میں علوم کوسمجھنا خاصا مشکل رہا۔اس لیے اکثرطالب علم تعلیم میں عدم فہم کےباعث نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکےاوراکثرطالب علم کثیروجوہات کی بناپرتعلیم سے دورہوگئے۔تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی کی ایک وجہ یکساں نصابِ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔مگرامسال حکومت نےجماعت اول سےلےکرپنجم جماعت تک یکساں نصابِ تعلیم لاگو کرنے کافیصلہ کیا ہے،جوکہ نہایت قابلِ ستائش ہے۔عوام الناس میں اِسے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔یکساں نصابِ تعلیم سےنوجوان نسل کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔طالب علم جس قسم کے نصاب تعلیم کوپڑھتاہے،اس نصابِ تعلیم کامعیاراس کی عملی زندگی پرکافی اثراندازہوتاہے اوراس کےشعوری درجہ کی نشاندہی کرتاہے۔اگرتمام طلباء یکساں معیاری نصاب پڑھیں گے توان کی یکساں فکری نشوونما ہوگی اورمعاشرے میں موجود طبقات کی تقسیم کوختم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبوں کاروزِاول سےشکوہ رہاہےکہ ان کی عوام کومعیاری تعلیمی سہولیات سے قصداً محروم رکھاجاتاہے،اس لیےصوبوں میں یکسانیت کی کمی ہے۔لٰہذایکساں نصابِ تعلیم سےصوبائی تفاوت کاخاتمہ بھی ہوگا۔اساتذہ کے لیےطالب علم تک معلومات پہنچانے میں آسانی ہوگی۔اگر یکساں نصاب ہے توپاکستان کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی مدرس بآسانی فرائض سرانجام دےسکتاہےاوراساتذہ کی تقرریوں اورتبادلوں کےحوالے سے تحفظات بھی دورہوجائیں گے۔
    پاکستان کے بعض نجی سکولزمیں بچوں کی پڑھائی کے لیے بھاری معاوضہ لیاجاتاہےاوراتنی بڑی رقم والدین ہنسی خوشی اداکردیتےہیں کیوں کہ سکول انتظامیہ کی طرف سےیہ دعویٰ کیاجاتاہےکہ ان کےادارےمیں سب سےمعیاری نصاب پڑھایاہے۔نصابی تضاد کےباعث یہ نجی ادارے تعلیم کے نام پرعوام سےپیسہ لوٹتے ہیں۔یکساں نصابِ تعلیم لاگوہونے کی صورت میں نجی اداروں کادھندہ بند ہوجائے گا کیوں کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے یکساں نصاب کوپڑھانے کے پابند ہوں گے۔
    معاشرے کی اصلاح کے لیے افراد کا اخلاقی لحاظ سے عمدہ ہونا لازمی ہےاور تعلیم کے بل بوتے پرہی شعوری بالیدگی کی منازل کوطےکیاجاسکتاہے۔

    @iamshabanakbar

  • چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی     تحریر: ثویبہ نازنین

    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی تحریر: ثویبہ نازنین

    تھی اے ارض پاک!! تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا، اے پاکیزہ ریاست!! تو نے پکارا تو دخترانِ اسلام سیاہ چادروں میں نہاں اپنے مردوں کی ہمراہ چلی آتی ہیں۔ برصغیر کی گلیوں کوچوں میں بہتا آدم زاد کا لشکر جس میں سیاہ برقعے میں ملبوس خواتینِ اسلام، اسلام کی شہزادیاں اپنی نمایاں شان و عظمت کے ساتھ چلی آتی ہیں. سنا ہے کہ کالا رنگ ہر رنگ ، ہر شے پر غالب آجاتا ہے، اور ڈھا دیتا ہے اسے، مگر یہ کیسا جذبہ تھا یہ کیسا ولولہ تھا جو دشواریوں اور سیاہ حجاب کے باوجود نہ ٹلا ۔ کیا تھا جو پاکستان کی ماؤں کو ان کے حصے کی جروجہد سے نہ باز رکھ سکا، ایسی کیا تدابیر تھیں انکی جو بیٹیوں کی عصمتدری سے بے خوف تھے والدین ان کے، کیا تھے چلن بیویوں کے جو رہیں معتبر خاوند کی نظروں میں، بن کر طاقت اپنے شوہروں کی کھڑی رہیں آزادی کے سفر میں اور واضح رہیں قربانیاں ان کی پورے سفر میں۔ اولاد کھونے سے لے کردامن اجڑ جانے تک ہجرت میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی گئیں قدم رکے تو محض حصولِ اسلامی ریاست، پاکستان ذندہ باد کی گونج پر۔ یہ اسلامی ریاستِ پاکستان فقط مردوں کی کاوش نہیں بلکہ عورتوں کی بھی ممکن جستجو تھی۔
    یہ خیال سوچ سے اکثر پھسلتا ہے کہ میری ماؤں کے اطوار و طریق کیا تھے بہنوں کے کونسے زیور تھے جس کے سہارے وہ قربانی کی ادیت سے بیگانہ رہیں حتی کہ ان کے مردوں نے نہ ان کی مخالفت کی نہ قید رکھنے کی تمنا نہ ظلم و جبر ۔ کیسے موثر وظیفے تھے ان کے جو مرد کا ساتھ ہر دم حاصل رہا اور شاملِ محاذ رہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ گھروں سے تنہا نکلیں اور رسوا نہیں ہوئیں ۔ اور خیالات کے درمیان حکم الله کی ندا "یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ ترجمہ: اے نبی ! تم اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے ( منہ کے ) اوپر جھکا لیا کریں ۔ ( ٤٧ ) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی ، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا ۔ ( ٤٨ ) اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے.”(سورة الاحزااب) خیال کے ہر زاویے کو روشن کر دیتی ہے. رب الکریم کے فرمان، اسکی ضمانت کی روشنی..روشنی نہیں نور ،نور جسکے بعد ظلمت، جبریت، وحشت، بربریت، غلامی، گھمراہی، حق تلفی جیسے سبھی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں. یہ حکم کی تابعداری تھی ان عورتوں کا سرمایہ. مالک و ملک دو جہاں نے ضمانت لی ان سے کے خود پرچادر جھکا لو، عزت میں تمھیں دونگا، میں الحفیظ ہوں تم سے تمہاری حفاظت کا وعدہ لیتا ہوں، مجھ سے بھڑ کر کون تمہاری حفاظت کرے گا، کون ہوگا مجھ سے بہتر رفیق تمہارا، کون مجھ سے زیادہ حق دینے والا ہے ؟؟ تم چھپا لو خود کو سیاہ برقعوں میں اور ہوجاؤ شامل ِلشکر اور کرو صدا بلند ملکِ خداداد پاکستان کے لئے کیونکہ یہ سرحدِ اسلام ہوگی اور تمہاری قربانی اسکا روشن چمکتا ہلال ہونگی!!
    یہ پاسداری حکم کی اور ڈھانپ لینا خود کو چادروں میں تقدس تھا میری ماؤں کا، کوئی کیونکر رسوا کرے انکو ضامن تو خدا تھا انکا، کیوں ظلمت کی نگری میں رہیں وہ جبکہ خود انکے مرد انکا حوصلہ ہوتو، کیوں سوچے وہ تاکلیف کا، مشقت کا جبکہ بدلہ اصل سے دوگنا ہوتو، کیوں نہ کریں میاں یقین انکا جب انداز اتنا شاہانہ اور مزاج مستقل ہوتو. ان سب کی وجہ صرف ایک حکم الله کی حکمت پہچننا اور عملدرآمد کرنا۔ وہ عاقل عورتوں تھیں جنہوں نے خود میں اور غیر مسلموں میں فرق واضح کیا، اپنا شاہانہ طرز پیدا کیا اور امر ہوگئی.
    میری سوچ اس حقیقت کو کیسے تسلیم نہ کرے کہ ان ماؤں بہنوں نے انگریزوں کے مقابل آنے کے لئے برہنہ ہونے یا اسلام کے حکم کو رد کرنے کو قطعا ضروری نہ سمجھا جبکہ میرے سامنے یہ نمایاں مثال سرزمینِ پاکستان بطور شاہد ہے. آج کے دور میں کون ایسی ضمانت لیتا ہے جو الله رب الکریم لے رہے ہیں، کون ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے جیسا الله سبحان وتعالی قرآن کریم میں لیتے ہیں کہ اسلام کی عورتوں تم اسلام کی شہزادیاں ہوں تمہیں ہر کوئی کیوں دیکھے . ایک بار اس بات کو محسوس کر کے تو دیکھیں..اس ایک جملے میں عورت کی فلاح ہے۔
    جب ہم کہیں نوکری کی دارخوست دیتے ہیں تو انکی ہر پیشکش قبول کرتے ہیں جس کے اویس ہم گھنٹوں کی خواری بھی جھیلتے ہیں مگر الله تعالیٰ کی پیشکش جسکے بدلے ہمیں کچھ نہیں دینا پڑتا اسے رد کر دیتے ہیں کیوں؟؟ اکثر کو یہ باتیں بے معنی لگتی ہیں کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں؟؟ الله کے حکم کو صرف مانا جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا، تو کیا ہم الله کے حکم کے انکاری ہیں؟؟ ہم عورتیں بےلباس ہو کر تحفظ کی اپیل کرتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ ہم نے بہ ذات خود خود کو صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ (وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں) گردان لیا ہے، کیا خستہ حالی ہمارے باعث نہیں؟ کیا ہم نے ان ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی کو ضائع نہیں کر دیا؟؟ کیا یہ وہ ریاست ہے جسکا خواب ایک مسلمان کی آنکہ میں تھا؟ یاد رہے ابتدا خود سے کی جائے تو کارگر ثابت ہوتی ہے یہ الزامات کا کھیل تو جہالت کی نشانی ہے. میں کہتی ہوں کہ سفر آزادی ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پنہچا، ابھی وہ سحر نہیں ہی جو فکر کے کے پہلوؤں کو بدل دے اور راستے روشن کردے.
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    Twitter id: @SowaibaNazneen

  • ماہرین کس چیز پر توجہ دیں  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ماہرین کس چیز پر توجہ دیں تحریر : مقبول حسین بھٹی

    بہترین کارکردگی کے ماہرین ایسی باتیں کہتے ہیں ، "آپ کو توجہ دینی چاہیے۔ آپ کو خلفشار کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک چیز کا ارتکاب کریں اور اس چیز میں عظیم بنیں۔ یہ اچھا مشورہ ہے۔ جتنا میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کامیاب لوگوں – فنکاروں ، کھلاڑیوں ، کاروباری افراد ، سائنسدانوں کا مطالعہ کرتا ہوں – اتنا ہی میرا یقین ہے کہ توجہ کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔ لیکن اس مشورے میں بھی ایک مسئلہ ہے۔ آپ کے سامنے بہت سے اختیارات میں سے ، آپ کیسے جانتے ہیں کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کرنی ہے؟ آپ کیسے جانتے ہیں کہ اپنی توانائی اور توجہ کو کہاں بھیجنا ہے؟ آپ ایک چیز کا تعین کیسے کرتے ہیں جو آپ کو کرنے کا عہد کرنا چاہئے؟ میں تمام جوابات کا دعویٰ نہیں کرتا ، لیکن جو کچھ میں نے اب تک سیکھا ہے اسے مجھے شیئر کرنے دیں۔ زیادہ تر کاروباریوں کی طرح ، میں نے اپنے کاروبار کی تعمیر کے پہلے سال میں جدوجہد کی۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی پہلی پروڈکٹ لانچ کی کہ میں اسے کس کو بیچوں گا۔ (بڑا تعجب ، کسی نے اسے نہیں خریدا۔) میں نے اہم لوگوں تک رسائی حاصل کی ، توقعات کا غلط انتظام کیا ، احمقانہ غلطیاں کیں ، اور بنیادی طور پر ان لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا موقع ضائع کر دیا جن کا میں نے احترام کیا۔ میں نے اپنے آپ کو کوڈ سکھانے کی کوشش کی ، اپنی ویب سائٹ میں ایک تبدیلی کی ، اور پچھلے تین مہینوں کے دوران میں نے جو کچھ کیا تھا اسے حذف کردیا۔ سیدھے الفاظ میں ، میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میری کئی غلطیوں کے سال کے دوران مجھے ایک اچھا مشورہ ملا: "چیزوں کو اس وقت تک آزمائیں جب تک کوئی چیز آسانی سے نہ آجائے۔” میں نے اس مشورے کو دل سے لیا اور اگلے 18 مہینوں میں چار یا پانچ مختلف کاروباری آئیڈیاز آزمائے۔ میں ہر ایک کو دو یا تین ماہ کے لیے ایک شاٹ دوں گا ، تھوڑا سا فری لانس کام میں گھل مل جاؤں گا تاکہ میں سکریپنگ اور بلوں کی ادائیگی جاری رکھ سکوں ، اور اس عمل کو دہراتا رہوں۔ آخر کار ، مجھے "کوئی ایسی چیز ملی جو آسانی سے آئی” اور میں ایک آئیڈیا تلاش کرنے کی بجائے ایک کاروبار کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسرے الفاظ میں ، میں آسان بنانے کے قابل تھا۔ یہ پہلی چیز تھی جس کے بارے میں میں نے دریافت کیا کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ اگر آپ کسی کام کے بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ، آپ کو متضاد طور پر ، ایک بہت وسیع نیٹ ڈال کر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سی مختلف چیزوں کو آزمانے سے ، آپ اس بات کا احساس حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا آسانی سے آتا ہے اور اپنے آپ کو کامیابی کے لیے مرتب کریں۔ کسی بری سوچ کے ساتھ جدوجہد کرنے کے بجائے کام کرنے والی چیز پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہے۔ فرض کریں کہ آپ چیزوں کو آزمانے اور تھوڑا سا تجربہ کرنے پر راضی ہیں ، اگلا سوال یہ ہے کہ ، "میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میرے لیے آسانی سے کیا آرہا ہے؟” میں جو بہترین جواب دے سکتا ہوں وہ توجہ دینا ہے۔ عام طور پر ، اس کا مطلب ہے کسی چیز کی پیمائش کرنا۔ اگر آپ کاروباری ہیں تو اپنی مارکیٹنگ اور پروموشن کی کوششوں کو ٹریک کریں۔ اگر آپ پٹھوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اپنے ورزش کو ٹریک کریں۔ اگر آپ کوئی آلہ سیکھ رہے ہیں تو اپنے پریکٹس سیشنز کو ٹریک کریں۔ یہاں تک کہ جب آپ چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں ، تاہم ، ایک نقطہ آتا ہے جہاں آپ کو کال کرنا ہوتی ہے اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس چیز پر توجہ دی جائے۔ میرے ذہن میں ، فیصلہ کا یہ لمحہ انٹرپرینیورشپ کے مرکزی تناؤ میں سے ایک ہے۔ کیا ہم نئی چیزوں کی کوشش جاری رکھتے ہیں یا ہم ایک حکمت عملی سے دوگنا ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم اختراع کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ہم ایک کام کو اچھی طرح کرنے کا عہد کرتے ہیں؟ ہر کوئی آسان کرنے اور ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے کا صحیح وقت جاننا چاہتا ہے ، لیکن کوئی نہیں کرتا۔ یہی وہ چیز ہے جو کامیابی کو بہت مشکل بنا دیتی ہے۔ انٹرپرینیورشپ کیک پکانے کی طرح نہیں ہے۔ کوئی نسخہ نہیں ہے۔ کوئی گائیڈ بک نہیں ہے۔ اس مرحلے پر ، آپ کا بہترین آپشن فیصلہ کرنا ہے۔ آپ سب کچھ آزما نہیں سکتے۔ کسی موقع پر ، آپ کو مزید معلومات کی ضرورت نہیں ہے ، آپ کو صرف ایک انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو لکھنا اور لکھنا ہوگا اور کچھ اور لکھنا ہوگا۔ آپ کو اپنی آواز ڈھونڈنے کے لیے سیکڑوں ہزاروں الفاظ لکھنے کی ضرورت ہے ، شاید لاکھوں۔ پھر آپ کو ان الفاظ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو ممکنہ طور پر طاقتور ترین ورژن میں تبدیل کرنا ہے۔ تکرار مکمل ہونے کے بعد ہی آپ سمجھ سکیں گے کہ کام کے کون سے ٹکڑے کامیابی کے لیے بنیادی ہیں۔ اب ، آخر کار ، بہت سی چیزوں کو آزمانے اور یہ جاننے کے بعد کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کی جائے اور کافی نمائندے لگائے جائیں ، آپ آسان بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ آپ چربی کو تراش سکتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ جیسا کہ فرانسیسی بلیز پاسکل نے اپنے صوبائی خطوط میں مشہور طور پر لکھا ، "اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں آپ کو ایک چھوٹا خط لکھتا۔” بنیادی اصولوں پر عبور حاصل کرنا اکثر سب سے مشکل اور طویل ترین سفر ہوتا ہے۔

    Twitter handle
    @Maqbool_Hussayn

  • وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    خان صاحب نے جیسے ہی اعلان کیا تھا کہ قوم سے خطاب کریں گے اور اپنی تین سالہ کارکردگی اپنی قوم کے سامنے رکھیں گے اس سے پہلے ہی مریم نواز کا میڈیا سیل حرکت میں آگیا تھا عوام کا دل عمران خان سے کھٹا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ لوگ خان صاحب سے بد ظن ہوجائیں لیکن عوام اب جان چکے ہیں جس مشکل حالات میں گورنمنٹ خان صاحب کو ملی تھی سرکاری خزانہ منہ چڑھارہا تھا پاکستان بینک کرپٹ ہونے کے نزدیک پہنچ چکا تھا شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری دن تقریر کرکے کہا تھا کہ اب عوام جانے اور عمران خان جتنی بھی لوڈشیڈنگ ہوگی ہم ذمہ دار نہیں مطلب اتنی بھی بجلی ملک میں نہیں تھی کہ وہ دعوے سے کہہ کر جاتے ہم نے اتنی بجلی ملک میں پیدا کردی ہے کہ 6 ماہ تک کم ازکم لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔پھر خان صاحب نے جیسے ہی حکومت سنبھالی ایک طوفان بدتمیزی آگیا ان پر کہ نیازی نے یہ کردیا وہ کردیا ابھی تین ماہ حکومت کے مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ "حکومت فیل ہوگی ہے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا ان کرپٹ پارٹیوں کی طرف سے جھنیں ملک نوچتے ہوئے 30 سال ہوگے تھے وہ خان صاحب سے 90 دن کا حساب مانگنے میدان میں آچکے تھے اور ان کے کرائے کے سپوٹرز نے دن رات سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اٹھائے رکھا اور کچھ بکاو چینلز نے بھی خان صاحب کی کارکردگی پر سوال اٹھانے شروع کردیے جن کو نون لیگ اور زرداری کی حکومت میں سانپ سونگا ہوا تھا لیکن خان صاحب کے ساتھ اللہ کی مدد اور ماوں بہنوں اور قوم کی دعائیں تھی جتنا کرپٹ مکس اچار پارٹیوں نے خان صاحب کو بدنام کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی نے انھیں اتنی ذیادہ عزت عطا فرمائی۔اور خان صاحب اور ان کی ٹیم نے مل کر ملک کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خاص طور پر شاہ محمود قریشی کی کامیاب خارجہ پالیسی ۔اسد عمر ۔حماد اظہر ۔فواد چوہدری ۔مراد سعید جیسے مضبوط ستون کے ساتھ خان صاحب دنیا کو دکھا دیں گے کہ جذبہ اگر سلامت ہو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جہاں وفاقی وزراء نے دل جمعی سے
    دن رات دل لگا کر کام کیا سوائے کچھ صوبائی وزراء کے جن کی رپورٹس کچھ اچھی نہیں۔ اس پر جلد خان صاحب کا ایکشن پاکستان عوام دیکھے گی ان شاءاللہ
    خان صاحب نے چھٹی کے دن بھی کام کیا اور ایک انسان مسلسل کام کرنے سے جب تھک گے صرف تین دن کے لیے نتھیا گلی کیا چلے گے نون لیگ بشمول بکاو میڈیا نے چیخنا چلانا شروع کردیا یہ نہ سوچا کہ اپنے دور حکومت میں نواز شریف پورے ٹبر سمیت سرکاری خزانے کے خرچ پر ہر ملک کا دورہ کرتے تھے جبکہ خان صاحب اپنے کسی بچے کو تو کیا خاتون اول تک کو ساتھ لیکر کبھی نہیں گے ایک دورہ بھی انھوں نے خاتون اول کے ساتھ نہیں کیا پاکستان کے کروڑوں ڈالرز بچائے ہر دفعہ اپنے دورے پر سرکاری پیسہ کم سے کم خرچ کر کے ۔اور کارکردگی اتنی اچھی کہ پاکستان دشمن قوتیں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اڑ گئیں اور پاکستان میں موجود کرپٹ پارٹیوں نے بیرونی طاقتوں سے مل کر آخری زور لگایا کہ حکومت چلی جائے کسی طرح سے بھی اور کچھ ماہ پہلے تو ہم انصافین کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ شائد اب حکومت ذیادہ نہ چل سکے لیکن جس کے ساتھ اللہ کی طاقت ہو اسے پھر کوئی قوت شکست دے سکتی ہی نہیں اور آج پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے۔۔
    اپنے اس دورے حکومت کے پہلے تین سال میں جہاں خان صاحب نے اور بہت سے منصوبے شروع کیے وہاں سب سے بڑا منصوبہ وہ دس ڈیم ہیں جن پر کام تیزی سے شروع ہے جنرل ایوب کے بعد یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ پاکستان میں ڈیم بن رہے ہیں جو 2028 تک مکمل ہوجائیں گے ان شااللہ ۔۔
    امریکہ کے ڈو مور کو خان صاحب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    ‏‎ ‎AbsolutelyNot میں بدلا تو امریکہ کے ساتھ ساتھ باقی پوری دنیا کے لوگ بھی حیران رہ گے خان صاحب کی جرات پر ۔۔
    امریکہ سے امداد مانگا کرتے تھے جو اب ماضی کا حصہ بن گیا کیونکہ خان صاحب نے ان کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کردیا کہ ہم اپ کی مدد کے بغیر بھی ملک چلا سکتے ہیں
    ہر صوبے میں صحت کارڈ کا حصول ممکن بنایا کہ غریب لوگ اپنا مفت علاج کروا سکیں بےگھروں کے لیے پناہ گاہیں بنائی اور ان کو چھت کے ساتھ کھانا مہیا کرنے کا بھی انتظام کیا
    جنوبی علاقوں پر آج تک توجہ نہی دی گئی تھی اب وہاں بھی تیزی سے کام ہو رہے ہیں
    احساس پروگرام کے تحت ہر غریب گھرانے کو پہلے 12ہزار روپے اب 13 ہزار روپے مقرر کردیے گے ہیں بزرگ لوگوں کی پینشن میں اضافہ کیا ۔گرین پاکستان کا منصوبہ کامیاب کیا پرویز رشید جیسے بےشرم لوگ جو کہتے تھے خان صاحب ایک ارب درخت نہیں کروایا اب وہ بھی مان رہے ہیں کہ پاکستان میں اتنے درخت لگ چکے ہیں کہ اب انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان چنگل ہی نہ بن جائے ایسے ایسے مضیحک خیز باتیں کرتے ہیں کہ عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے یہ ہمارے ماضی کے وزیر مشیر رہے کہ پہلے خان صاحب کے جلسے کی کرسیاں گنتے تھے اب درخت ۔۔
    پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے اب ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے مہنگائی ہے لیکن ان شاءاللہ بہت جلد اس پر بھی قابو پالیا جائے گا چین سپر پاور ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اب وہ دن دور نہیں پاکستان سپر پاور ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور ہر پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے گا ان شاءاللہ

  • دور جدید  اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    دور جدید اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے شاہانہ ادوار گزرے ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ہزاروں سالوں تک اس دنیا پر حکمرانی کی اور اپنی دور حکومت میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
    اور لوگوں کو ایسے معاشرتی حقوق و اصول دیے جو آج تک دنیا میں قائم ہیں اور ان اصولوں میں رد و دبدل کرکے نظام دنیا کو اب تک چلایا جارہا ہے ۔۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ایسے سنہرے باب ہیں جو تاریخ میں سنہرے ابواب کی طرح رقم ہیں۔۔آنے والے ادوار نے ان سے سیکھ کر اپنے آپ کو بہتر کیا،، مغربی اقوام نے انہی کے اصولوں پر عمل کرنے کے اپنے لیۓ بہترین سسٹم بنائے اور آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اسکے برعکس مسلم اُمہ اور اسکے حکمران اپنے سنہری اصولوں کو بھول کر عیش و عشرت کی دنیا میں گم ہو گئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مسلم اُمہ میں کوئی ایسا حکمران نہیں جو خود کو صحیح معنوں میں ایک لیڈر کہہ سکے اور اس اتنی برّی امت کی رہنمائی کر سکے۔
    حضرت عمر بائیس لاکھ مربع میل کے فاتح تھے انہوں نے اپنے دور میں بیت المال قائم کیا اور عدالتی نظام بنایا اور ان میں قاضی تعینات کیے اور عدالتی نظام آج تک چل رہا ہے اور اس میں کچھ ردوبدل کرکے سب ممالک میں قائم ہے۔ انہوں نے جو اصول ایک عظیم سلطنت کو چلانے کے وضع کیے اُن پر آج بھی ترقی یافتہ اقوام عمل کر کے خود کو منوا چکی ہیں۔
    عظیم الشان ادوار گزارنے والے مسلمان آج پستی کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اپنے اسلاف کی پیروی کو جھٹلانا اللہ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدصلی علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج بھی اگر انکی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنا شروع کردیں تو کوئی مشکل نہیں کے ہم آج بھی پوری دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔۔ لیکن ہم اپنی زمہ داریاں بھی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کے سب ایک دن ایک سال میں ٹھیک ہو جائے لیکن ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بھی بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یقین مانیں جس دن ہم خود کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے وہی دن آغاز ہوگا ہماری کامیابی و کامرانی کا۔۔ انّ شاء اللہ
    آج کے دور کا مسلمان بربادی کے دہانے پر ہے اور آپس میں منتشر اور فرقوں میں بٹا ہوا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ آپس میں بنے ہوئے فرقے اور ایک دوسرے پر خود کو اعلی سمجھنا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے۔ بڑائی کا معیار تو تقویٰ اور پرہیز گاری ہے اسلام میں۔۔ اسکے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
    اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر ہم اس سے کوسوں دور مغربی تہذیب میں دھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے طورطریقے چھوڑ کر مغربی تہذیب کے گرویدہ ہوکر رہ گئے ہیں جوکہ ہماری تباہی اور آنے والی نسلوں کی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔
    ہماری صبح کا آغاز ہم رب کو یاد کرنے کی بجائے ڈسکو سے کرتے ہیں اور سارا دن غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ سارا دن پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔
    مغرب کا غلبہ اب ہمارے ذہنوں میں سوار ہوچکا ہے اور ہم مغربی غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
    اس پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے

    ””نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
    ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار””
    ان اشعار میں اقبال نے دریا کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ بات اب ہماری سمجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کیونکہ ہم اس برے طریقے سے اس دلدل میں پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈھ پا رہے۔
    اس سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا ہم کیا تھے کیا بن گئے ہیں ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم کس مقصد پر لگ گئے ہیں اگر یہ سب اسطرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے اور اس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔
    لہذا ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا اور اپنے مقصد کو پہچان کر اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہوں گے۔۔
    آئیے مل کر عہد کریں کے ہم خود کو بدلنے کی حتی المکان کوشش کریں گے تاکہ ہم ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر سکیں۔۔آمین۔

    ⁦‎@NiniYmz⁩

  • سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کی تباہ کاریاں تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زندگی میں بہت کم لوگوں کو آپ نے اپنی موت کا سامان کرتے دیکھا ہو گا۔
    مگر ایسے بہت سے چہرے ہیں،
    جو ہر وقت ہمارے ارد گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔
    یہ نہ صرف اپنی موت کو اپنے قریب تر کر رہے ہوتے ہیں،
    بلکہ دوسروں کو بھی زندہ درگور کئے جانے کے امکانات بڑھا رہے ہوتے ہیں !
    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسے کون سے لوگ ہیں جو خود تو ڈُوبے ہیں صنم ،مگر تجھے بھی لے ڈوبیں گے-؛
    کے مصداق اپنی زندگی کے اندھیرے سفر میں مگن آنے والے خطرات کو جانتے بوجھتے اندھے کنوئیں میں چھلانگ لگانے خراماں خراماں چلے جا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو نہ صرف اپنا پیسہ جلا رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے خون کی سُرخی کوسیاہی میں بدلنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں اپنی رگوں میں دوڑنے والے اس زہر کا قطعا” کوئی احساس نہیں ہوتا کہ اپنی ہی رگوں میں دوڑ رہے اس زہر کو انکی رگوں میں ڈالنے والا کوئی دشمن نہیں،
    بلکہ وہ خود ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو اپنے دشمن خود ہوتے ہیں۔
    انہیں اپنی زندگی کی بجائے اس دھوئیں سے پیار ہوتا ہے،
    جو ان کی زندگی کو دھواں بنا رہا ہوتا ہے۔
    ان میں سے کئی تو ایسے ہوتے ہیں،
    جو جانتے بوجھتے موت کو گلے لگا رہے ہوتے ہیں۔
    زہر کی پڑیا پر لکھی تحریر پڑھنے کے باوجود یہ لوگ اسی زہر کو خوشی خوشی اپنے اندر انڈیل کر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتےہیں۔
    ان کی مثال اس کبوتر جیسی ہوتی ہے،
    جو خطرہ سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے،
    جس سے خطرے کے لئے آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ کبوتر کی گردن دبوچ لیتا ہے۔
    یہ لوگ بھی ایک ایسی منزل کے راہی ہوتے ہیں،جو کبھی نہیں ملتی،
    جو منزل نہیں بلکہ ایک خوفناک گھاٹی ہوتی ہے،
    جس میں بالاخر گر کے یہ لوگ اسی دھوئیں کے مرغولوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں،
    جو دھواں انکی رگوں کو سکیڑ کر دل کی حرکتوں کا بھی کام تمام کر چکا ہوتا ہے۔
    یہ وہی لوگ ہیں،
    جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے مذہب میں خود کشی حرام ہے،
    کچھ ایسا دانستگی،نادانستگی میں کر رہے ہوتے ہیں،
    جو کسی طور بھی خودکشی سے کم نہیں۔
    یہ ہومیوپیتھک قسم کی خودکشی کا ساماں بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایلو پیتھک دوائیوں سے اس خودکشی کو قدرے تاخیر سے آنے کے حربے اور نسخے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جو گھنٹوں آپکا لیکچر سننے کے بعد ہونے والا ڈیپریشن ریلیز کرنے کے لئے اسی چیز کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں،
    جس سے منع کرنے کے لئے آپ اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو ایک وقتی اور عارضی و مصنوعی سہارے کی خاطر اپنے خاندانوں کو ہمیشہ کے لئے بے سہارا کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہوتے ہیں،
    جنہیں نہ اپنی اولاد کی پرواہ ہوتی ہے ،نہ بیوی بچوں کی اور نہ ہی اپنے ماں باپ کی۔
    انہیں نہ تو اپنے مستقبل کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے سے وابستہ لوگوں کے حال اور مستقبل کی۔
    جی ہاں !
    میں زکر کر رہا تھا اپنے ان احباب کا،
    جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں،جوجانتے بوجھتے ہوئے اپنے لئے ایک ایسی بند گلی کا انتخاب کرتے ہیں،
    جس میں روشنی اور امید کی کوئی ایک کرن ،نکلنے کا کوئ راستہ بھی نہیں ہوتا۔
    سگریٹ ایک ایسا خاموش زہر قاتل ہے،
    جسے پینے والا سمجھتا ہے کہ سگریٹ پینے سےکچھ نہیں ہو گا۔
    اور پھر بدقسمتی سے اسی کچھ نہ ہونے والی سوچ سے بہت کچھ ایسا ہو جاتا ہے،
    جس کے ہونے کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
    بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے،
    مگر جانتے بوجھتے موت کو گلے لگانا خودکشی کہلاتا ہے۔
    اور خود کشی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا۔
    سگریٹ نوشی بھی میرے نزدیک خودکشی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ قدم ہیں،
    جنہیں بطور ایک زمہ دار شہری کے روکنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔
    سگریٹ نوشی سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے دل کے پٹھوں اور جگر کے خلیوں کو ہوتا ہے۔
    جو لوگ سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں،وہ بدقسمتی سے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو یہ زہریلا دھواں فراہم کر کے گویا مفت موت بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
    امراض قلب کے ایک ماہر ڈاکٹر اور میرے دوست ڈاکٹر جنجوعہ نے مجھے ایک دفعہ دوران انٹرویو بتایا تھا کہ دل کے امراض کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی کا بڑھناہے۔
    جس کی لت چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کو بھی پڑ چُکی ہے۔
    سگریٹ کی ڈبیا پر لکھی وارننگ میں واضح طور پر یہ پیغام درج ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے،
    جو پھپھڑوں کے کینسر میں مبتلا کر سکتی ہے۔
    مگر لوگ پھر بھی پرواہ نہیں کرتے۔
    وہ پھر بھی اسی خام خیالی میں مبتلا رہتے ہیں کہ بس چند کش ہی تو ہیں !
    ارے بھائی کیا ہو جائے گا؟
    اور پھر اسی گھن چکر میں پڑ کر سگریٹ نوشی کا شکار افراد ایسے ایسے خطرناک امراض کا شکار ہوجاتے ہیں،
    جن کا علاج نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ہم لوگوں کی پہنچ سے بھی دور۔
    کتنے ہی لوگ ہیں جو دنیا میں روزانہ سگریٹ نوشی کی بدولت اپنی اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
    پوری دنیا میں سگریٹ نوشی کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں۔
    ایسی ہی ایک کاوش باغی ٹی وی کی ٹیم بھی کر رہی ہے،
    باغی ٹی وی کی یہ کوشش لائق صد تحسین ہے۔
    ایسی کوششیں سب اداروں کو بھی کرنی چاہییں،
    جس سے سگریٹ نوشی کے مضمرات سے نوجوان نسل میں آگاہی پیدا ہو سکے۔
    ہم سب کا بھی بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرض ہے کہ ہم اس سگریٹ نوشی کے خلاف مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔
    خصوصا” جو لوگ باغی ٹی وی کے لئے کالم لکھتے ہیں،
    ہر ہفتے کم ازکم ایک کالم سگریٹ نوشی سے ہونے والے تباہ کن نقصانات پر بھی لکھیں۔
    معاشرے میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے رجحان کو کم کرنے کے لئے حکومتی سطح پر مزید کوششوں کی ضرورت ہے،
    صرف سگریٹ کی قیمتیں بڑھا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    قیمت بڑھانے والی یہ حکومتی ترکیب الٹا لوگوں کےگلے پڑ رہی ہے،
    لوگوں کا مطلوبہ برانڈجب مہنگا ہوتا ہے تووہ کوئ سستا برانڈ ڈھونڈ لیتے ہیں،
    کچھ لوگ شائد یہ جان کر حیران اور پریشان بھی ہوں کہ مارکیٹ میں بکنے والے سگریٹ کے جتنے سستے برانڈز ہیں،
    وہ زیادہ نقصان دہ ہیں،
    کیونکہ ان میں زہریلے نشہ آور مادے نکوٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
    اس کالم میں میں نے آگاہی کی غرض سے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کی طرح کچھ کڑوی کسیلی سچائیاں اور حقائق بیان کیے،
    جو شاید ہمارے سگریٹ نوش دیوانے بھائیوں کو برے بھی لگے ہوں مگر جاتے جاتے پاکستان ٹیلی وژن کے ماضی کے ایک شہرہ آفاق مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں قاضی واجد مرحوم کا ایک ڈائیلاگ سنا کو ماحول کی تلخی کو کچھ کم کرنے کی کوشش کروں گا۔
    اس پروگرام میں کسی نے قاضی واجد سے کہا کہ یار سگریٹ نوشی چھوڑ دو،یہ تمہیں مار دے گی-؛
    قاضی واجد نے جواب دیا کہ یار سگریٹ تو چھوڑ سکتا ہوں،
    مگر نوشی کو نہیں چھوڑ سکتا،
    کیونکہ وہ تمہاری بھابھی ہے۔
    آخر میں ایکبار پھر باغی ٹیم کی سگریٹ نوشی کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم بالخصوص مبشر لقمان،ممتاز حیدر ملک اور طہ بھائی کو خراج تحسین اور شاباش #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • اللہ کے”شکر”کی کمی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
    دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
    کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
    ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
    ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
    صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
    یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • پانی  تحریر : سید محمد مدنی

    پانی تحریر : سید محمد مدنی

    دنیا کے تین حصوں پر صاف پانی ہے کہا جاتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے مطلب قیامت کے آثار ہوں گے ہر چیز تباہی کی طرف جائے گی پانی انسان کے لئے کتنا ضروری ہے یہ ﷲ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے جدید سائنسی دور میں پانی کو مناسب طریقے سے  استعمال کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے

    ہر سال ٢٢ مارچ کو دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کے پانی کی قدر کریں اور صاف پانی کو بے دریغ استعمال کرنے سے گریز کریں.

    ہم مسلمانوں کے لئے پانی سے متعلق تو ہمارے نبی حضرت محمد صلی ﷲ علیه وسلم نے کتنی تاکید کی ہے کے پانی کو ضائع کرنے سے بچاؤ یہ ایک نعمت ہے یہاں تک کے وضو میں سب سے لمبا اسٹیپ سر کا مسح کرنے کا ہوتا ہے اور اس وقفے کو بھی رسول الله ﷺ نے ہمیشہ یہ فرمایا کے جب وضو کرتے ہوئے سر کے مسح کرنے لگو تو اس وقت پانی بند کر دو ورنہ ضائع ہوگا اب آپ اندازہ لگائیں کے کتنا زور دیا گیا ہے پانی کے مناسب استعمال پر.

    ہم روزانہ بلکہ دن میں کئی کئی بار دیکھتے ہیں کے لوگ پانی کو کس کس طرح سے ضائع کرتے ہیں کئی ممالک تو سمندری پانی کو صاف کر کے اسے پینے کے قابل بناتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے لوگ گھروں میں گاڑیاں دھوتے ہیں اور بے جا پانی ضائع کرتے ہیں یہ قدرتی چیز کا ضائع کرنا نہیں تو اور کیا ہے اس میں سب افراد شامل ہیں گھر میں اگر کوئی نوکر نوکرانی رکھا ہؤا ہوئی ہے تو ان میں بھی کچھ لوگ بے دردی سے پانی کا استعمال کرتے ہیں.

    جو لوگ پانی ضائع کرتے ہیں کیا انھوں نے کبھی سوچا ہے کے پاکستان میں کتنی کھیتی باڑی ہوتی ہے اور اگر بارشیں نا ہوں اور افراد پانی ضائع کریں تو کتنا نقصان ہوگا کھیتوں اور کسانوں کو.

    ماہرین کا کہنا ہے کے پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بارشیں اور پھر لوگوں کا پانی کو ضائع کرنا ہیں اگر ہر شخص تھوڑی سی احتیاط کرے تو کتنا پانی ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے. کہا جاتا ہے کے دوہزار دس میں جنوبی افریقہ میں پانی سے متعلق ایک مہم کا آغاز ہؤا تھا کیونکہ وہاں پانی کی کمی ہوئی تو ماہرین نے کہا کے کچھ مہینوں میں پانی ختم ہو جائے گا پھر انتظامیہ نے عوام میں معلومات اور شعور پیدا کرنے اور پھیلانے کے لئے مہم چلائی کے اگر روز استعمال ہونے والا پانی کی کھپت کو اگر ہر گھر آدھا کرے تو مہم کا آغاز کیا کہ روز مرہ استعمال ہونے والے پانی کی کھپت کو اگر ہر گھرانہ آدھا  کردے تو حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ ترکیب کامیاب ہوئی.

    اب چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے زریعے پانی کے ضائع نا کرنے سے متعلق معلومات اور تنبیہ پھیلانی چاہیے تاکہ پاکستان میں بھی پانی کی کمی نا ہو خاص کر گھریلو ملازمین ، ڈرائیور ، کسان ، غرض یہ کہ ہر کسی کو بار بار یہی سمجھایا جائے کے پانی بہت اہم چیز ہے اس کا بے دردی سے استعمال مت کریں.

    ہم خود اپنے آپ سے وعدہ کریں تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو سکتے ہیں.

    Twitter id @ M1Pak

  • یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    یوم تاسیس جماعت اسلامی تحریر:۔ رانا عمر فاروق

    آج سے ٹھیک 80 برس قبل 75 افراد اور 74 روپے اور 14 آنے سے شروع ہونے والی جماعت اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے قرآن کے الفاظ میں
     کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿سورة فتح آیت۲۹﴾
    گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی ،پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لاۓ ہیں اور جنہوں نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ۔ ع
    آج وہ جماعت ایک عالمی تحریک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس نے اس دنیا کے رہنے والوں کو زندگی کا مقصد بتایا، امت مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ان ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جو ان پر عائد ہوتی ہیں، اس جماعت نے ایسے پاک باز اور پاک سیرت انسان تیار کئے جو اسی معاشرے کے رہنے والے افراد تھے، اسی معاشرے میں ان کا روزگار تھا، اسی معاشرے میں ان کے روزوشب گذرتے تھے لیکن ان کی زندگیاں اس بات کی علامت تھیں کہ یہ اس معاشرے کے افراد نہیں بلکہ یہ کسی اور ہی معاشرے کے افراد ہیں، اس کی مثال آپ ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے چنبیلی کا پھول دیکھا ہوگا، یہ پھول کس ماحول میں کھلتا ہے؟ کہاں سے وہ غذا لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول میں وہ سانس لے رہا ہوتا ہے، کس ماحول سے وہ پانی حاصل کر رہا ہوتا ہے؟ یعنی ایک گندے جوہڑ میں کھلنے والا یہ پھول، اسی جوہڑ سے اپنی غذا، پانی اور آکسیجن حاصل کرنے والا یہ پھول اُن تمام آلائشوں اُن تمام گندگیوں اور اس تعفن زدہ ماحول سے پاک ایک خوبصورت پھول ہوتا ہے جس پر اس ماحول کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ الحمد للہ جماعت اسلامی نے جو افراد تیار کیے وہ بھی اسی کردار کے حامل افراد ہیں۔
    آج اس بات پر ہم صرف اللہ کے شکر گذار ہیں کہ جس نے ہمیں ایسی صالح اجتماعیت عطا کی جس نے ہمارے بچپن، ہمارے لڑکپن، ہماری جوانی کی حفاظت کی اگر یہ جماعت نہ ہوتی تو ہم جیسے ہزاروں افراد معاشرے میں موجود برائیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہوتے، اس تحریک نے ہمیں سینما سے بچا کر مسجد  کی طرف ہمارا رخ پھیرا۔مجھے آج بھی وہ گھر، وہ بیٹھک اور وہ افراد یاد ہیں جہاں مجھے میرے مرحوم والد مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے پروگرام میں لے کر گئے تھے۔
    ایک ہی سمت میں  کب تک کوئی چل سکتا ہے
    ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
    مجھے یاد آرہا ہے کہ میں جب پہلی مرتبہ اعتکاف پر بیٹھا تو ہمارے امام مسجد مولانا اسمعاعیل حمادؔ صاحب نے ہمارے رشتہ میں دادا لگتے تھے ان سے کہا کہ یہ نوجوان اب آپ میں سے نہیں رہا ان کا اشارہ *راجبپوت* برادری کی طرف تھا اس لیے کہ ہماری قوم کے نوجوانوں کے شب و روز تو کسی اور طرح کی رنگ و نور کی محافل میں گذرا کرتے تھے۔
    خیر بات کہیں اورنکل گئی، مجھے یاد آتا ہے کہ میری زبان بچپن میں توتلی ہوتی تھی، اور میں مرغے کو مردا کہا کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ وہ توتلا پن دور ہوا اور ایک ہچکچاہٹ جو بولنے میں تھی اسے دور کرنے میں جہاں میرے والد محترم رانا عبدالمجید خان ای ڈی او لٹریسی (ریٹائرڈ) ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کاوشوں مسلسل محنت اور حوصلہ افزائی کا دخل ہے وہیں اس تحریک نے بھی ہماری تقریری صلاحیتوں کو نکھارنے میں ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے والد محترم کو ادب سے بہت لگاؤ تھا ان کی اپنی ذاتی لائبریری میں تفسیر، حدیث، سیرت، افسانے، شاعری غرض تمام قسم کا ادب موجود تھا۔ انہیں فارسی زبان پر بہت عبور حاصل تھا، حافظ، سعدی اور اقبال کے فارسی اشعار اور اسی طرح اردو اشعار بلا مبالغہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں یاد تھے۔ جب وہ خود تقریر کرتے تھے تو ان کا انداز انتہائی  ادبی اور جگہ جگہ موقع اور محل کے لحاظ سے بہترین اشعار کے انتخاب کا مجموعہ ہوتی تھی۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ بچپن میں جب اسکول میں پہلی مرتبہ تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا میری تقریرکا موضوع *سیرت النبیؐ* تھا۔  چالیس پنتالیس سال گذرنے کے باوجود  آج بھی اس تقریر کے اشعار اور چیدہ چیدہ الفاظ مجھے یا دہیں۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم مختلف قسم کے مظاہروں سے کالج اور اسکول کے طلبہ سے کسی سڑک  پر ، کسی کھلے میدان میں، کسی تھڑے پر کھڑے ہوکر، کسی پولیس کے دفتر کے سامنے تقریر کرتے نظر آتے یہ سب نکھار تحریک اسلامی کا عطا کردہ ہے۔
    1995 میں زمانہ طالب علمی سے فارغ ہوا تو غم روزگا کے چکروں میں پڑتے ہوئے جماعت اسلامی کی رکنیت  کے لیے درخواست دی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے اس رکنیت فارم پر اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا
    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا تھا عافیت ساحل میں ہے

  • پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟   تحریر: زاہد کبدانی 

    پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کیا جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی 

    آپ نے سمندری سطح کی بڑھتی ہوئی سطح ، برف پگھلنے ، موسم کے نمونوں میں زبردست تبدیلی اور خبروں پر کئی پرجاتیوں کی آبادی میں نمایاں کمی کے بارے میں سنا ہوگا۔ اگرچہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ واقعات آپ پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی علامات ہیں جو پورے سیارے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ لہذا ، پوری دنیا کی طرح ، پاکستان میں بھی کئی سنگین ماحولیاتی مسائل ہیں جن پر فوری طور پر توجہ دینے اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    یہ بات درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاہم ، اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایسی دنیا میں رہیں جہاں کم از کم پینے کے قابل پانی ، سانس لینے کی ہوا ، قابل برداشت موسم اور کھانے کی پیداوار ہو۔

    پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور ایجنسیاں

    1997 میں ، اس وقت کی حکومت نے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ نافذ کیا تاکہ پائیدار ترقیاتی اقدامات اور آلودگی کنٹرول کے ذریعے پاکستان کے ماحول کی حفاظت ، تحفظ ، بحالی اور بہتری ہو سکے۔

    پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل جو کہ پہلی بار 1984 میں قائم کی گئی تھی ، 1997 کی قانون سازی کے بعد دوبارہ تشکیل دی گئی۔ اس کا بنیادی کام پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کرنا ہے۔

    پاکستان میں اہم ماحولیاتی مسائل

    ہم بنیادی طور پر ایک زرعی ملک میں رہتے ہیں جہاں مجموعی آبادی کا تقریبا٪ 60 فیصد دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، اقتصادی شعبے کی توسیع ، شہریاری ، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی عوامل کی وجہ سے پاکستان میں ماحولیاتی مسائل ہر گزرتے وقت کے ساتھ بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

    یہ پاکستان کے 2 بڑے ماحولیاتی خدشات ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

     1 جنگلات کی کٹائی۔

     2 پانی کی آلودگی

    آئیے پاکستان میں ان سنگین ماحولیاتی مسائل پر گہرائی سے نظر ڈالیں اور اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کریں۔

    1 جنگلات: سیدھے الفاظ میں ، جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب انسان درختوں کو کاٹ کر جنگلات کو تباہ کرتے ہیں اور پھر دوبارہ نہیں لگاتے۔ یہ عام طور پر لکڑی اور ایندھن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم ، شہری کاری ، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی توسیع بھی جنگلات کی کٹائی کی اہم وجہ ہیں۔ قدرتی خوبصورتی کو تباہ کرنے کے علاوہ ، جنگلات کو کاٹنے سے ہمارے ماحولیاتی نظام پر بھی بہت بڑا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ جنگلی حیات کے مسکن کو متاثر کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی شرح بہت زیادہ ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ دیہی علاقے کھیتوں اور شہری مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے ، بہت سارے لوگ سردیوں کے مہینوں میں گرم رکھنے یا گھر بنانے کے لیے درختوں کی لکڑی پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، آپ جنگلات کی کٹائی کے خلاف بحث نہیں کر سکتے جو ہمارے ماحول کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

     حل۔ اس ماحولیاتی مسئلے کا حل بالکل واضح ہے: ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور اپنے جنگلات کو بچانے کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے حکومت پاکستان میں درخت لگانے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، پاکستان میں پہلے ہی پنجاب میں ایک بہت بڑا انسان ساختہ جنگل ہے جسے چھانگا مانگا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف سے شروع کیا گیا ایک ارب درختوں کا اقدام بھی اس سلسلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، وزیر اعظم عمران خان نے ملک گیر شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور 18 اگست کو ‘پلانٹ فار پاکستان’ ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ مزید یہ کہ اگر ہم اپنے سرسبز جنگلات سے محروم نہیں ہونا چاہتے تو ہمیں کاغذ کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے۔

    2 پانی کی آلودگی: پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب زہریلے مادے جیسے کیمیکلز ، فضلہ اور بعض مائکروجنزم پانی کے جسم کو آلودہ کرتے ہیں اور اسے انسانی استعمال یا استعمال کے لیے نقصان دہ بناتے ہیں۔ آلودہ ندیوں ، ندیوں ، جھیلوں اور تالابوں سے پینا ، یا اس کے پانی کو نہانے یا پکانے کے لیے استعمال کرنا ، کسی کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی کی وجوہات سیوریج کا ناقص نظام ، فیکٹریوں سے کیمیائی فضلہ سمندر میں پھینکنا اور گندگی میں اضافہ ، خاص طور پر پلاسٹک ہو سکتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس میں خشک آب و ہوا ہے ، پانی کی آلودگی ہماری فصلوں اور زمین کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ ملک میں آبادی کے ایک بڑے حصے کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کی آلودگی کو صحت عامہ کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

     حل۔ پاکستان میں اس ماحولیاتی مسئلے کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ مناسب سیوریج ٹریٹمنٹ اور مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے۔ ملک کے زرعی شعبے کو کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے ، کیونکہ ان میں نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں جو آسانی سے آبی ذخائر تک پہنچ جاتے ہیں اور آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں اور کمپنیوں کو ان کے فضلے اور کوڑے کو جھیلوں ، دریاؤں اور سمندروں میں ٹھکانے لگانے سے روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔