Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور منصوبہ ساز نااہل ہیں، تو شاید ہی کسی کی اس پر دوسری رائے ہو۔ جی ہاں، آپ نے درست سمجھا، پچھلی کئی دہائیوں سے ہم تجربات کرتے آ رہے ہیں، عوام کو اور پاکستان کو لوٹنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ایک مقروض ملک ہیں اور آئی ایم ایف کی پالیسی سازوں کے زیرِ اثر۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پانی کی قلت کا نہیں بلکہ نیتوں کی کمی کا شکار ہے۔ اگر آج بھی ریاست، ادارے اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو بارش کا ہر قطرہ خزانے سے کم نہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ قیمتی پانی ہر سال ضائع ہوتا رہے گا، زمین بنجر ہوتی جائے گی، اور ہم صرف رپورٹس میں کامیابی کے خواب دیکھتے رہیں گے۔

    ہم قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں پانی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں لیٹر بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ بیش قیمت قدرتی نعمت ہمارے ناکام پالیسی سازوں اور غیر سنجیدہ اداروں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

    یہی پانی نہ صرف شہروں کی سڑکوں اور گلیوں کو دریا بنا دیتا ہے — جیسا کہ حالیہ بارشوں میں ہم نے دیکھا — بلکہ زرعی زمینوں سے بھی بہہ کر ندی نالوں میں چلا جاتا ہے، بنا کسی ریچارج کے، بنا کسی ذخیرہ اندوزی کے۔

    اب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سسٹم کیا ہے۔
    ریچارج کا مطلب ہوتا ہے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو قدرتی یا مصنوعی طریقے سے دوبارہ بھرنا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بارش کے پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف زمین کو ریچارج کیا جاتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں بھی اسے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگر جدید طریقہ کار اختیار کر لیا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں سیاسی اکھاڑوں میں ہماری ترجیحات انتقامی سیاست ہے۔ کیا یہی سوچ ہمارے بانی پاکستان کی تھی؟ یقیناً نہیں۔

    اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز حضرات اور بیوروکریسی کی دلچسپی صرف کاغذی منصوبوں میں ہوتی ہے، جہاں فنڈز کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

    شہروں میں ڈرینج سسٹم ناکارہ ہے، دیہات میں پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں ، جس کی مثالیں حالیہ بارشوں میں کئی دیہات کے زیرِ آب آنے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں ہم ناکام کیوں ہیں اور اداروں کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں:
    ×واٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہو یا محکمہ آبپاشی ، سب کی کارکردگی صرف فائلوں تک محدود ہے۔
    ×بلدیاتی ادارے نکاسیٔ آب پر توجہ دیتے ہیں، مگر پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔
    ×ماحولیاتی ادارے صرف رپورٹس تیار کرتے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ×سیلاب کنٹرول ڈپارٹمنٹ صرف ہنگامی حالات میں متحرک ہوتے ہیں، مستقل منصوبہ بندی ناپید ہے۔

    اگر یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہو تو ریچارج ویل (Recharge Wells) کا قیام شہروں اور زرعی علاقوں میں مخصوص مقامات پر کنویں نما گڑھے کھود کر بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے۔

    ریگولر واٹر ہارویسٹنگ اسکیمز کو ہر ضلع کی سطح پر شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے۔کاشتکاروں کو جدید زرعی تکنیکوں کے ذریعے پانی کی بچت اور قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

    قانون سازی کے ذریعے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں میں واٹر ریچارج سسٹم کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    بہرحال، اُمید کا دامن کبھی چھوڑنا نہیں چاہیے… مگر، کب تک؟

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔

  • ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا

    ٹرمپ کا سچ، مودی سرکار کے لیے سونامی بن گیا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 19 جولائی 2025 کے بیان نے بھارتی سیاست میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے۔ ان کے اس غیر متوقع بیان نے نہ صرف نریندر مودی کی حکومت کو شدید دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا بلکہ بی جے پی کے اُس بیانیے کو بھی چکناچور کر دیا جو "آپریشن سندور” کو بھارتی فتح اور مودی کی قیادت کا مظہر قرار دیتا تھا۔

    بی جے پی حکومت اس آپریشن کو ایک بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی کے طور پر پیش کر رہی تھی، لیکن ٹرمپ کے انکشاف نے سوالات کی ایک نئی لہر کو جنم دے دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے فوری طور پر اس موقع کو سیاسی حملے کے لیے استعمال کیا۔ راہول گاندھی نے ایکس پر ٹرمپ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہاکہ "مودی جی، پانچ طیاروں کا سچ کیا ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے۔” کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ حکومت آپریشن سندور کے نقصانات اور جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ اُنہوں نے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی۔

    پارٹی کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے یہ الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے جان بوجھ کر جنگی نقصانات کو چھپایا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈونیشیا میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے نجی ملاقاتوں میں تسلیم کیا ہے کہ پانچ طیارے تباہ ہوئے تھے، لیکن حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا کہ مودی اپوزیشن سے اس لیے بھاگ رہے ہیں کہ وہ سچ کو سامنے لانے سے قاصر ہیں۔

    متعدد اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے، آل پارٹی کانفرنس کرنے اور مودی حکومت کو مکمل شفافیت کے لیے مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے الزام لگایا کہ مودی کی جارحانہ خارجہ پالیسی نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ایکس پر ہزاروں صارفین نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام اور عوام دشمن قرار دیاجبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ تک کہا گیا کہ فوج اور عوام دونوں سطحوں پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    معروف صحافی کرن تھاپر نے لکھا کہ "آپریشن سندور ایک جھوٹی سیاسی کہانی تھی، جس کا مقصد بی جے پی کی گرتی ساکھ کو وقتی سہارا دینا تھا۔” دفاعی تجزیہ کار اجے ثانی نے کہا کہ میڈیا نے جان بوجھ کر حقائق کو چھپایا تاکہ مودی حکومت کی ناکامی بے نقاب نہ ہو۔

    اس تمام پس منظر میں معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے احتجاج اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز پالیسیوں نے حکومت کے لیے زمین مزید کھسکنے جیسی کر دی ہے۔ ہندوتوا پر مبنی طرز حکمرانی اور میڈیا کی یکطرفہ حمایت نے عوامی غصے میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ اپوزیشن اتحاد "انڈیا” نے ان تمام عوامل کو جوڑ کر بی جے پی کو آمرانہ، غیر شفاف اور عوام دشمن حکومت قرار دیا ہے۔

    اس پورے تنازع میں ایک اور پہلو یہ ہے کہ مودی حکومت عالمی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جنگ بندی کے فیصلے کو بی جے پی نے دو طرفہ سفارتی کامیابی قرار دیا، مگر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی مداخلت نے اسے بھارتی خودمختاری پر سوالیہ نشان بنا دیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اگرچہ اسے دوطرفہ مشاورت کا نتیجہ قرار دیا مگر اپوزیشن اسے امریکی دباؤ کا نتیجہ سمجھتی ہے۔

    عالمی سطح پر مودی حکومت کو میانمار میں کی گئی فوجی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، جسے بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا حالیہ انکشاف ان تمام چیلنجز کو ایک جگہ سمیٹ کر بی جے پی کے بیانیے پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔

    اب مودی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس سونامی کا سامنا کس طرح کرتی ہے۔ کیا وہ حقائق کو سامنے لا کر شفافیت کا راستہ اپنائے گی یا ہمیشہ کی طرح میڈیا، بیانیے اور جارحانہ تقاریر کے سہارے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرے گی؟
    یا پھر کوئی اور فالزفیلگ اپریشن کے راستے پر چلنے کی کوشش کریگی،جیسا مودی سرکار ماضی میں کئی بار ایسا کرچکی ہے.

    وقت بتائے گا کہ ٹرمپ کا سچ مودی سرکار کے لیے اٹھنے والا سونامی کس سمت بہتا ہے،کیا یہ صرف بی جے پی کے سیاسی بیانیے کو بہا کر لے جائے گا یا اقتدار کی بنیادیں بھی ہلا ڈالے گا؟

  • آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج 20 جولائی 2025 کو پاکستان کے بڑے اخبارات جیسے ڈان، جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت اور بی بی سی اردو کے اداریوں اور خبروں میں عوام کو درپیش گوناگوں مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان مسائل پر نہ صرف پرنٹ میڈیا میں کھل کر بات کی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بھی یہ موضوعات ٹرینڈ کر رہے ہیں، جو عوام کی بے چینی، مایوسی اور حکمرانوں کی بظاہر بے حسی کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ ان تمام مباحثوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوامی درد شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی کمی اس درد میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

    ملک میں سیلاب اور واٹر مینجمنٹ کا مسئلہ ہر سال معمول کا بحران بن چکا ہے اور اس سال بھی اس پر کھل کر بات کی گئی ہے۔ ڈان کے ایک اداریے نے سیلاب کو پاکستان کا "معمول بن جانے والا بحران” قرار دیا، جو واٹر مینجمنٹ کے فقدان اور ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی و قوم پرست رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اداریہ صرف پانی کی تباہ کاریوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما سیاسی رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس اور قوم پرستی کی سیاست کے خاتمے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جو سالہا سال سے دہرائی جا رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام کے اندر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ واٹر مینجمنٹ کے مسائل، جیسے پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا غیر متوازن سلسلہ، ملک کی زرعی معیشت اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک صارف @Khyousufzai90 جیسے افراد ڈان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر میں سیاسی رکاوٹوں پر تنقید کر رہے ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ عوامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ مسئلے کی جڑ کو سمجھتے ہیں لیکن حکمرانوں کی جانب سے ٹھوس حل نہ ہونے پر نالاں ہیں۔

    امن و امان کی صورتحال ملک بھر میں بالخصوص خیبرپختونخوا میں بدستور ایک تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے، جہاں علی امین گنڈاپور نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین ہے کہ صوبائی حکومت کو تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈان نے انسداد دہشت گردی کے عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی منتقلی کے بارے میں لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان عدالتی فیصلوں اور مقدمات کی پیچیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ ایک جامع قانونی اور عدالتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر والدین کے صبر اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کی ناکامی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق انصاف کی مانگ آج بھی سوشل میڈیا پر ایک اہم موضوع ہے، جہاں ان کے خاندان کی جدوجہد کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ عوامی احساسات کا آئینہ دار ہے کہ وہ انصاف اور امن کی فراہمی میں حکومت کی جانب سے مزید فعال کردار کے منتظر ہیں۔

    ملک کی معاشی صورتحال بھی عوام کے لیے ایک مستقل درد سر ہے۔ ڈان نے فری لانس اور ریموٹ ورک سیکٹر کی ترقی پر روشنی ڈالی ہے، جہاں برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت پہلو ہے اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ خوش آئند خبر ملک کی مجموعی معاشی مشکلات کو چھپا نہیں سکتی۔ اے آر وائی نیوز اور آج ٹی وی نے سونے کی قیمتوں میں اضافے اور موٹر سائیکل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر بات کی ہے، جو عام صارفین پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو براہ راست ہر طبقے کے افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین مہنگائی کے اثرات اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی یہ لہر عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے زندگی گزارنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور حکومت سے اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ جب تک بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں آتی، معاشی ترقی کے دعوے بے معنی ہیں۔

    کشمیر ایشو بھی ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کا اہم حصہ ہے۔ ڈان اور نوائے وقت نے کشمیر سے متعلق تاریخی اور موجودہ حالات پر تبصرہ کیا ہے، خاص طور پر 19 جولائی 1947 کو پاکستان سے الحاق کی قرارداد کی یاد تازہ کی گئی ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو "وحشیانہ اقدام” قرار دیا گیا ہے، جو کشمیری عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ مسئلہ ہر پاکستانی کے دل میں بسا ہوا ہے اور اس پر حکومتی غیر فعالیت عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس مسئلے پر کسی قسم کی کمپرومائزنگ پوزیشن قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حکمرانوں کی جانب سے اس مسئلے پر عملی اقدامات کا فقدان عوامی بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔

    صحت اور سماجی مسائل بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو اور نوائے وقت نے اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کوئی زہریلی یا نشہ آور چیز نہ ملنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کیس میں شفافیت اور انصاف کی فراہمی کے لیے عوامی دباؤ مسلسل موجود ہے۔ اس کے علاوہ، نوائے وقت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ وہ سماجی مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے عوام کے ذہنوں میں موجود ہے اور ان کی رہائی کے لیے ایکس (سوشل میڈیا) پر بھی ایک بھرپور مہم جاری ہے۔ عوامی سوچ یہ ہے کہ حکومت کو اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے مزید سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور موجودہ رویہ حکمرانوں کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسائل انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

    تعلیم اور سرکاری اصلاحات کی ضرورت پر بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈان نے سرکاری افسران کی بھرتی، ترقیاور تربیت کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے، جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس میں بتایا۔ یہ اصلاحات ملکی ترقی اور گڈ گورننس کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کا صرف اجلاسوں میں ذکر کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر تعلیم کے معیار اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت اس شعبے میں حقیقی بہتری لائے گی۔

    مجموعی طور پر آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر زیر بحث تمام مسائل پاکستان کے عام شہری کے روزمرہ کے درد کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے لے کر امن و امان کی خراب صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کشمیر کے حل طلب مسئلے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے سماجی معاملات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں عوام حکومت کی جانب سے فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کے منتظر ہیں۔ کیا حکمران واقعی عوام کی اس بے چینی، اضطراب اور مایوسی کو محسوس کر رہے ہیں یا یہ درد صرف اداریوں اور سوشل میڈیا کی زینت بن کر ہی رہ جائے گا اور حکومتی بے حسی بدستور برقرار رہے گی؟

  • بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو شہید کو انصاف مل گیا نواز شریف کو کب ملے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کو نام نہاد جمہوری قوتوں نے تین بار گھر بھیجا ،کئی چہرے بے نقاب ہوگئے
    مخالف سیاسی جماعتیں ہر نواز دور میں روڑے اٹکاتی رہیں،اپنوں نے بھی پیٹھ میں چھرا گھونپا
    آج پارلیمنٹ چور،غدار ڈاکو جیسے نعروں کا گھر ،سیاست مسخرے پن کی آخری حدوں کو چھو گئی
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پارلیمنٹ ہائوس میں کسی زمانے میں مستحکم جمہوریت آئین قانون کی حکمرانی عوامی مسائل پر تقریریں ہوا کرتی تھیں آج اسی پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو کہہ کر ہائوس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ، مسخرے پن کی حدیں کراس ہوگئیں ،سیاستدانوں نے آئین اور جمہوریت کو تماشابنا کر رکھ دیا ، جمہوریت کے اندر جمہوریت نہیں سیاسی قیادت کی اکثر یت کرپشن اقرباء پروری کا شکار رہی، عوام کی بڑی تعداد سیاسی شعور اور جمہوریت کی اہمیت سے ناآشنا ، اکثر جمہوری حکومتیں شفافیت اور عوامی خدمت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکیں، بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، غربت، مہنگائی اوربیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہوتے گئے، ملک تین بار مارشل لاء سے بھی گزرا ان تین مارشل لاء کو سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھرپور تعاون رہا اور اپنی ہی سیاسی جماعت کے قائدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،اسکی زندہ مثال نواز شریف ہیں، جنکو تین بار اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اس میں ن لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کردار موجود تھا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کے خاتمے میں عدلیہ کا کردار رہا جس کو ہم نظریہ ضرورت کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس کی مثال ہمارے سامنے ایک قد آور سیاسی شخصیت بھٹو ہے، جنکی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا، اسی نظریہ ضرورت کا نشانہ نواز شریف کو نام نہاد پانامہ لیکس کے ذریعے بنایا گیا، اس کیس میں آج کے حقیقی آزادی اور جمہوریت کے طلبگار عمران خان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور ایک منتخب جمہوری حکومت کو چلتا کرنے پر بھنگڑے ڈالے گئے، عمران خان نے تو مذہب کا بھی استعمال کیا اور معاشرے کو تقسیم کر دیا .

    ملک میں جمہوریت کی ناکامی کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جسے اپنانا اور فروغ دینا سب کی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے انتخابی اصلاحات پر بات کی جائے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئینی ترمیم صرف قومی مفادات اور جمہوری طریقے کار کے تحت کی جائیں

  • یاسمین بخاری  سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    گزشتہ دنوں مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں یاسمین بخاری صاحبہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔ یہ ملاقات نہ صرف ایک عزت افزائی تھی بلکہ ادب کے ایک نادر خزانے سے بھی روشناس کرانے والی تھی۔ یاسمین بخاری صاحبہ نے مجھے ایک خوبصورت کتاب تحفے میں دی، جو رثائی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کے بہترین کلام پر مشتمل ہے، جو کربلا والوں کی پیاس کو ایک گہرے استعارے کی صورت میں بیان کرتی ہے۔

    یہ کتاب کربلا کے واقعات اور وہاں کے شہداء کی پیاس کو مرکزی موضوع بنا کر ان کی بے مثال جرأت، بہادری، قربانی اور مصائب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ زاہد شمسی صاحب کا کلام اس کتاب میں ایک ایسا آفاقی پیغام دیتا ہے جو صرف تاریخی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ انسانی جذبوں اور ایمانی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات اس کا عالی نسبی ذکر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ اس میں حمد و نعت سے آغاز ہوتا ہے، جو روحانی فضا کو مزید معطر کر دیتا ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، محبت اور عزم کی ایسی خوشبو ہے جو قاری کو سیدھا امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

    کتاب کا ٹائٹل خود یاسمین بخاری صاحبہ نے رکھا ہے، جو کتاب کے موضوع اور مزاج سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت آیل پینٹنگ بھی شامل ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کو نہایت نفاست اور خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ کتاب کی روح کو مزید جلا بخشتی ہے۔یاسمین بخاری صاحبہ نے اس کتاب کو اپنے والد، ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے نام منسوب کیا ہے جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات میں بھی ان کے ساتھ ایمبولینس میں موجود رہے۔ یاسمین صاحبہ نے اپنی اس کوشش کو ڈاکٹر صاحب اور ان کے خاندان کے ایصال ثواب کے لیے وقف کیا ہے، جو ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔

    یہ ملاقات اور تحفہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ رثائی ادب میں ایسے الفاظ اور احساسات کو دیکھنا جو تاریخ کی تلخیوں کو جذبات کی زبان میں ڈھال سکیں، واقعی ایک نعمت ہے۔ یاسمین بخاری صاحبہ اور ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کو ادب کی خدمت پر میری دلی دعا ہے کہ وہ ایسے قیمتی کام جاری رکھیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کو مزید روشنی بخشیں۔

  • یہی وہ روشنی ہے

    یہی وہ روشنی ہے

    جب قدرتی آفات آتی ہیں تو صرف وہی جماعتیں انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی ادا کرتی ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کے درد کو محسوس کرتی ہیں،عوام کے ووٹوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں صرف بیانات،وعدے اور دعوے کرتی ہیں تو وہیں کچھ جماعتیں خدمت انسانیت کے فریضہ میں مصروف عمل ہوتی ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد جس انداز میں فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کا نام بھی ہے۔

    راولپنڈی، چکوال، جہلم اور گردونواح کے علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو گئیں، ندی نالے بپھر گئے، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔چکوال کے علاقے کھیوال میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں محمد افضل کا بیٹا اور پوتا بارش کے باعث چھت گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہو کر نہ صرف دکھ بانٹا بلکہ متاثرہ گھر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی مہمات بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں، راولپنڈی کے خیابان سیکٹر 3 میں مفت میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے مفت علاج و معالجہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ جہلم میں بھی اسی طرز کے کیمپ قائم کیے گئے جہاں خواتین، بچے اور بزرگ طبّی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں،صرف طبّی سہولتیں ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پکی پکائی خوراک کی فراہمی کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری ہے۔ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے خوراک، صاف پانی اور ضروریاتِ زندگی متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مناظر انسانیت کی معراج اور سیاسی شعور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کےبارش سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور نہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر امدادی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اُن کا یہ جملہ دلوں کو چھو جاتا ہے،ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے، اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرکزی مسلم لیگ نے سیاست کو صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا یہ طرزِعمل دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔

    بارشوں کا سلسلہ تو قدرت کا حصہ ہے، مگر ان بارشوں میں بھیگتے، بلکتے، تڑپتے انسانوں کو سہارا دینا ہی اصل انسانیت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے یہی پیغام دیا ہے – کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، اور کارکنان خدمت کے جذبے سے لبریز ہوں تو کوئی آفت، کوئی مصیبت قوم کو زیر نہیں کر سکتی۔ قدرتی آفات عارضی ہوتی ہیں، مگر انسانیت کی خدمت کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلاتی ہے۔

  • جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟

    جمہوریت یا معاشی آمریت؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    اگر چار ہزار من گندم 2200 روپے فی من میں بک سکتی ہے تو 5500 روپے والی چینی کی بوری 9000 روپے تک کیوں جا پہنچی؟ یہ محض ایک اقتصادی سوال نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی گہرائیوں میں پیوست ایک تلخ سچائی ہے۔ ہمارے ہاں اشیاء کی قیمتیں نہ طلب و رسد کے اصولوں سے طے ہوتی ہیں، نہ مارکیٹ کی خودکار طاقتوں سے۔ قیمتوں کا تعین ہوتا ہے طاقتور طبقے کی مرضی، مفادات اور مافیاز کی اجارہ داری سے جو پیداوار عوام سے لیتے ہیں مگر منافع اپنی تجوریوں میں بھر لیتے ہیں۔

    گندم کاشت کرنے والا کسان جو سال بھر دھوپ، گرمی، قرضوں، کھادوں، مہنگے بیج اور ناکارہ زرعی نظام کا سامنا کرتے ہوئے زمین کا سینہ چیرتا ہے۔مگر جب اس کی فصل تیار ہوتی ہے تو اسے سرکاری امدادی قیمت کے نام پر اونے پونے بیچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ آزاد منڈی کا رخ کرے تو وہاں بیوپاریوں کی اجارہ داری، کمیشن خور مڈل مین اور منڈی کا غیر شفاف نظام اس کی ریڑھ توڑ دیتا ہے۔ کسان کی محنت پر منافع لینے والے وہی طاقتور طبقات ہیں جو پالیسی بھی خود بناتے ہیں اور قیمت بھی خود طے کرتے ہیں۔

    یہی صورتحال گنے کی فصل کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔ گنا بھی وہی کسان کاشت کرتا ہے مگر شوگر ملز کے دروازے پر پہنچتے ہی کھیل بدل جاتا ہے۔ گنے کی قیمت، تول، کٹوتی اور ادائیگی کا نظام شوگر مافیا کے ہاتھ میں ہے جو حکمران جماعتوں اور وزارتی خاندانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ کسان کو کم نرخ، کٹوتی اور تاخیر کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے جبکہ چینی کی قیمتوں پر کوئی قانون یا ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کیونکہ چینی "عوامی ضرورت” نہیں بلکہ "اشرافیہ کی پیداوار” بن چکی ہے۔

    کھاد کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ یوریا اور ڈی اے پی جیسی زرعی کھادیں ان کارخانوں میں تیار ہوتی ہیں جن کے مالکان اکثر وزراء، مشیر یا طاقتور خاندان ہیں۔ کسان کو یہ کھاد نہ صرف مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے بلکہ جعلی یا ناقص مال کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ کسان کی محنت کی لاگت بڑھتی ہے اور منافع ان صنعتکاروں کی جیب میں جاتا ہے جنہوں نے خود ہی قیمتیں بڑھانے کے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں۔

    پھر آتا ہے پٹرول اور ڈیزل جو نہ صرف کسان کے ٹریکٹر بلکہ ہر شہری کی نقل و حرکت اور روزمرہ کی معیشت سے جُڑا ہوا ہے۔ پٹرول پر مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے اور جب بھی بجٹ خسارہ یا آئی ایم ایف کی شرائط درپیش ہوں تو یہ کنٹرول عوام پر مہنگائی کے ہتھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر ریاستی خزانے میں آنے والے یہ ٹیکس براہ راست عوام پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ حکمران اشرافیہ کی مفت سہولیات اور شاہانہ اخراجات میں جھونک دیے جاتے ہیں۔

    سب سے اذیت ناک پہلو بجلی کا ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والی بیشتر کمپنیاں نجی شعبے میں ہیں جن کے مالکان براہ راست سیاسی و انتظامی طاقتور طبقات سے وابستہ ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، انہیں "کیپسٹی پیمنٹس” کے نام پر عوامی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کا بوجھ براہ راست عوام کے بلوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شہری 201 یونٹ بجلی استعمال کرے تو اس کا بل دس ہزار روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ انہی حکمرانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو بجلی، پٹرول اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

    علاج معالجے کے میدان میں بھی یہی طبقاتی فرق نمایاں ہے۔ غریب شہری سرکاری ہسپتال میں پیناڈول کی گولی کے لیے ترستا ہے اور اگر کسی بڑے ٹیسٹ، بستر یا ڈاکٹر تک رسائی درکار ہو تو سفارش یا رشوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے برعکس حکمران طبقے کے افراد معمولی بیماری پر بھی بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے لندن، دبئی، نیویارک کے ہسپتال کھلے ہیں اور خرچ ہوتا ہے پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ۔

    یہ سب کچھ اس بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک میں پیداوار تو عوام کرتے ہیں لیکن منافع اور کنٹرول طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ اشیاء کی قیمتیں معیشت کے اصولوں پر نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات پر مبنی فیصلوں سے طے ہوتی ہیں۔ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور قانون سے بالا تر ہوتا ہے۔
    یہ نظام جمہوری نہیں، معاشی آمریت ہے ، ایک ایسا نظام جس میں عوام صرف ووٹر، ٹیکس دہندہ، بل دہندہ اور سائل ہے جبکہ حکمران طبقہ بادشاہ ہے جسے نہ احتساب کا خوف ہے نہ قانون کی پرواہ۔

    سوال یہ نہیں کہ چینی مہنگی کیوں ہے۔سوال یہ ہے کہ طاقتور اپنی پیدا کردہ اشیاء کی قیمت خود طے کرنے کا اختیار کب تک رکھے گا؟اور غریب جو ہر شے کا خریدار ہے، کب تک صرف بل ادا کرتا رہے گا؟

    اگر ہم واقعی جمہوریت کے دعوے دار ہیں تو جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ معاشی عدل بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن عوام کے حقوق کے تحفظ میں ہے اور اگر وہ تحفظ صرف طاقتوروں کے لیے مخصوص ہو جائے تو یہ نظام جمہوریت نہیں بلکہ ایک "جمہوری آمریت” بن جاتا ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو چیلنج کیا جائے۔ جمہوریت کو اشرافیہ کے دامن سے نکال کر کسان، مزدور اور متوسط طبقے کے ہاتھ میں دیا جائے۔ معیشت کو عوامی مفادات کے تابع بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاشی آمریت ہر روز ہزاروں گھروں کے چولہے بجھاتی رہے گی اور ہم صرف تحریریں لکھتے، سوالات اٹھاتے اور احتجاج کرتے رہ جائیں گے۔

  • دروازے جو کبھی کھلے  نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    دروازے جو کبھی کھلے نہیں،تحریر ؛ اقصیٰ جبار

    کبھی کچھ دن تاریخ میں ایسے آتے ہیں جن کے ہونے سے زیادہ ان کا "نہ کھلنا” ہمیں یاد رہ جاتا ہے۔ 13 جولائی 1931ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ سری نگر کی فضا اُس دن خاموش نہ تھی، لیکن آج تک گونجی جا رہی ہے۔ جیل کے باہر سینکڑوں کشمیری جمع تھے۔ وہ کسی احتجاجی مارچ، کسی ہنگامہ آرائی، یا کسی بیرونی سازش کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ فقط ایک اذان مکمل کرنا چاہتے تھے۔ مگر ریاست نے یہ سادہ ترین مذہبی حق بھی برداشت نہ کیا۔ اذان شروع ہوئی، گولی چلی۔ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔ دوسرا آگے بڑھا، پھر گولی۔ یہاں تک کہ بائیس نوجوانوں نے اذان کے ہر جملے پر اپنی جان دے دی، تب جا کے اذان مکمل ہوئی۔

    یہ اذان، صرف نماز کی دعوت نہیں تھی۔ یہ اذان، استبداد کے خلاف مزاحمت تھی۔
    یہ بغاوت نہیں، حق کی بازیافت تھی۔
    لیکن اُس دن جو دروازہ بند تھا—انصاف کا، آزادی کا، انسانیت کا—وہ آج 90 سال بعد بھی کھلا نہیں۔

    کشمیر کو "مسئلہ” کہنے والے اسے ایک زمینی تنازع، دو ملکوں کی ضد، یا علاقائی سیاست کا فٹ بال سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کشمیری اپنی زندگی، عزت، شناخت اور دین کی حفاظت کے لیے روز جیتا اور مرتا ہے، اس کے لیے یہ مسئلہ نہیں، زندگی کا سوال ہے۔ اور یہ سوال، اُس دن سے باقی ہے جب بائیس جنازے اٹھے، اور دروازے بند رہ گئے۔

    وقت بدل گیا۔
    راجہ ہری سنگھ کی آمریت ختم ہوئی، مگر نئے چہرے نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ آئے۔
    1947 کے بعد کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ اور دوسرا بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں منظور ہوئیں، استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا، لیکن وہ وعدے بھی ان بند دروازوں کے ساتھ دفن ہو گئے۔

    5 اگست 2019 کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو گویا آخری قفل بھی جڑ دیا گیا۔
    نہ اب وہاں کوئی پرچم بلند ہو سکتا ہے، نہ آواز۔
    انٹرنیٹ بند، صحافت پر پابندی، سیاسی کارکن لاپتہ، اور ہر کشمیری ایک قیدی۔
    ایک ایسا قیدی جس کے ہاتھ میں زنجیر بھی ہے، اور دنیا اس کی زنجیروں کی آواز سن کر بھی انجان بن چکی ہے۔

    یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا بھارت کشمیر میں بدترین آمریت کی مثال بن چکا ہے۔ پیلٹ گنز سے بچوں کی بینائی چھینی گئی، خواتین کو ہراساں کیا گیا، بزرگوں کی داڑھیاں نوچی گئیں، اور نوجوانوں کو بنا مقدمے کے قید کر دیا گیا۔

    لیکن ان مظالم سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان سب پر دنیا خاموش ہے۔
    اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں کو فراموش کر چکی ہے، مسلم دنیا مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اور ہم—ہم صرف سال میں ایک دن، 5 فروری یا 13 جولائی کو، چند تقریریں، چند پوسٹر، اور کچھ اخباری مضامین کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔

    یہ بند دروازے صرف بھارت نے بند نہیں کیے،
    ہم نے بھی اپنی بے حسی، کمزوری، اور وقتی جذباتی ردِعمل سے ان دروازوں پر تالا ہی ڈالا ہے۔
    ہم نے کشمیریوں کو امید ضرور دی، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ نہ دکھا سکے۔

    آج اگر کشمیر میں گولی چلتی ہے، تو اس کی بازگشت پاکستان کے دل میں سنائی دینی چاہیے۔
    کیونکہ کشمیر کوئی علیحدہ سرزمین نہیں، یہ ہماری شہ رگ ہے۔
    لیکن اگر شہ رگ میں درد ہو اور ہم اُسے محسوس نہ کریں، تو ہمیں اپنے ضمیر پر سوال اٹھانا ہوگا۔

    مسئلہ کشمیر، صرف کشمیریوں کا نہیں—یہ انسانیت کا امتحان ہے۔
    اور اس امتحان میں ناکامی صرف مظلوم کی شکست نہیں، ظالم کے حوصلے کی جیت بھی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے تک محدود نہ رہیں،
    بلکہ یہ طے کریں کہ ان بند دروازوں کو کھولنے کے لیے اب ہمیں کتنی ہمت، کتنی عقل، اور کتنی حکمت درکار ہے۔
    کشمیر کو آزاد دیکھنے کی خواہش اگر دل میں زندہ ہے،
    تو یاد رکھیں—دعاؤں کے ساتھ ساتھ فیصلوں کی بھی ضرورت ہے۔

    وہ اذان تو مکمل ہو گئی تھی،
    مگر جو دروازے اُس دن بند ہوئے تھے،
    اب اُنہیں کھولنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔