Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    چینی اسکینڈل کے دھوئیں سے ابھی فضاء صاف نہیں ہوئی تھی کہ خوردنی تیل کے نرخوں کی آگ نے ایک اور معاشی سانحے کا دروازہ کھول دیا۔ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں 24 فیصد تک کم ہوئیں لیکن پاکستان میں اس کے برعکس کوکنگ آئل 4.5 فیصد مہنگا کر دیا گیا۔ صارفین فی لیٹر 150 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس کا فائدہ ان عوام دشمن مافیاز کو ہوا جو ہر بحران کو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر یہ منافع خور کون ہیں؟ ان پر ہاتھ ڈالنے سے حکومتی ادارے کیوں گھبراتے ہیں؟ اور اگر ریاستی مشینری بے بس ہے تو کیا عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے؟

    وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں برس فروری میں عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے کیےلیکن اپریل اور مئی میں بناسپتی مینوفیکچررز سے ہونے والے اجلاسوں کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔ کیا یہ ریلیف محض سیاسی دعوے تھے یا پھر پسِ پردہ مفادات نے ہر کوشش کو ناکام بنا دیا؟ عوام آج بھی انتظار میں ہے کہ حکومت مہنگائی کے سیلاب کے آگے کوئی بند باندھے گی، مگر اس سیلاب کے ساتھ اگر ریاست خود بہتی نظر آئے تو عوام جائے تو کہاں جائے؟

    ادھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بجلی کے صارفین پر ایک اور بجلی گرائی ہے۔ 8 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاںجن میں آئیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو، کیسکو، سیپکو، حیسکو، اور ٹیسکو ہیں جو 244 ارب روپے کی اوور بلنگ میں ملوث پائی گئیں۔ صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو 47 ارب روپے کے اضافی بل بھیجے گئے اور ملوث افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

    کیسکو نے زرعی صارفین کو 148 ارب روپے سے زائد کی اوور بلنگ کی، فیڈرز پر 18 ارب روپے کے جعلی بل ڈالے گئے، آڈٹ کے لیے ریکارڈ مانگا گیا تو کمپنیوں نے تعاون سے گریز کیا۔ آخر یہ کون سے بااثر لوگ ہیں جو قانون اور انصاف سے بالا تر ہیں؟

    اب ایک اور تلخ حقیقت کی جانب توجہ درکار ہے کہ ہر سال جب بارشیں اور سیلاب آتے ہیں تو غریبوں کے گھر، مویشی، فصلیں اور زندگی کی ساری جمع پونجی بہا لے جاتے ہیں۔ کبھی کوہِ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والا سیلاب ہوتا ہے تو کبھی دریائے سندھ کا پانی اپنے کنارے توڑ دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی حکمران کے محل میں پانی داخل ہوا ہو؟ ان کے خاندان کا کوئی فرد سیلاب میں بےگھر ہوا ہو؟ یا ان کے بچے کسی ریلیف کیمپ میں فاقے سے بیٹھے ہوں؟

    قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی، طوفان ہوں یا زلزلے، ہر آفت کا شکار ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں ہوتا ہے؟ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں حکمران تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں اور عوام ہر مصیبت کا ہدف بنتے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حکمرانوں نے اپنے محلوں کے گرد حفاظتی بند باندھ رکھے ہیں؟ کیا ان کی طاقتور گاڑیاں، محافظ، بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور ایلیٹ کلاس رابطے انہیں ان آفات سے بچا لیتے ہیں جو عوام کے لیے قیامت بن کر آتی ہیں؟

    تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار میں بیٹھے لوگ ان اسکینڈلز، اوور بلنگ، مہنگائی، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثر نہیں ہوتے تو کیا وہ عوام کے درد کو محسوس بھی کر سکتے ہیں؟ اور اگر محسوس نہیں کرتے تو پھر ان سے بہتری کی امید رکھنا محض فریب نہیں تو اور کیا ہے؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ عوام حکمرانوں سے سوال کرے کہ ان اسکینڈلز میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟. عوام کو ریلیف دینا کس کی ذمہ داری ہے؟. کیا ان بااثر مجرموں کے کھرے ایوانِ اقتدار میں جا کر گم ہو جاتے ہیں؟. اگر حکمران واقعی ان اسکینڈلز میں ملوث نہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟. اور سب سے اہم سوال کہ عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟

    دہشت گردی، پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی، بجلی کے بلوں کی "سلیب گردی” اور ہر طرف معاشی استحصال کا بازار گرم ہے۔ عوام آخر کب تک خاموش رہے گی؟ کیا یہ قوم قربانی کے بکرے بننے کے لیے بنی ہے؟

    اب عوام کے لیے فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے یا تو وہ خاموش رہ کر مزید تباہی کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ کب ریلیف ملے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی عوام کی ہے یا صرف چند خاندانوں کی جاگیر؟

    کیونکہ اگر ریاست صرف امیروں کو بچانے کا نام ہے، تو غریبوں کے لیے اس ریاست کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟

  • ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جھوٹ،فریب،افواہ سیاست ٹھہری،معاشرہ کیسے سدھرے گا؟
    ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ،انصاف سیاست کے معیارات،ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    بڑھتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،منبر ومحراب بھی خاموش،محاسبہ کون کریگا؟
    وڈیروں کی ذاتی جیلیں،سوشل میڈیا ایٹم بم بن چکا،انصاف نہ قانون،عام عوام کہاں جائیں
    تجزیہ ، شہزاد قریشی
    ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے ،افواہ شر پسندوں کا بڑا ہتھیار، افواہ جھوٹ کی وہ منزل ہے جہاں سچ کی ایک نہیں چلتی اور بے بسی سچ کا مقدر بن جاتی ہے، افواہ جو تباہی پھیلاتی ہے، وہ ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں، دنیا بھر کے اہل سیاست افواہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ملکی سیاست میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، آج کل یہ فریضہ سوشل میڈیا سرانجام دے رہا ہے ،عوام کو گمراہ ، ملک میں انتشار پیدا کرنے اپنے ہی ملک کی عسکری قیادت جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے کون سا قومی فریضہ ،کون سی قومی خدمت ہو رہی ہے؟ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جیسا کردار ادا کرے، اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی سے کام نہ لیا جائے ،صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے جو حکومت کر رہا ہے وہ انصاف سے حکومت کرے ،حزب اختلاف پرامن حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دے باقی سب غلط ہے اور غلطیوں پر فخریہ اعادہ احمق لوگ کرتے ہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی ،معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف دھرنا دیکھا نہ لانگ مارچ نہ منبر و محراب نے اپنی ذمہ داری سمجھی، بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری نیکی تقوی دیانت داری پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے مدرسوں میں معصوم بچوں کو مار دیا جاتا ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں نے اپنی عدالتیں اپنی جیلیں بنا رکھی ہیں کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے، سوشل میڈیا اس گند کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ پی ٹی آئی کے اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا کا نشانہ پاک فوج جملہ ادارے، نواز شریف اور مریم نواز ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں؟ حکمران سیاسی جماعتیں علمائےکرام، گدی نشین، پیر خانے اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری نفسا نفسی سے باہر نکل سکتا ہے، ہوس زر نے انسانوں کو انسانیت سے دور کر دیا ہے ، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل میں ہے، قانون کی حکمرانی، انصاف، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، ملکی سیاست میں بھڑکوں دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رجحان بے سبب نہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے ،خدارا !بس کیجیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دی جائے

  • ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی

    ہمارا تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کا نظامِ تعلیم آج بھی بنیادی ضروریات اور جدید تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان بی ایس ٹیکسٹائل یا سافٹ ویئر انجینئرنگ کر بھی لے تو وہ عملی میدان میں مؤثر کارکردگی نہیں دکھا پاتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار صرف ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکا ہے۔ تعلیمی منصوبہ سازوں اور ذمہ داران کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو کیسی تعلیم دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ اس نظام نے نسلوں کو نہ صرف فکری طور پر الجھایا ہے بلکہ عملی زندگی میں بھی ناکامی کا سامنا کروایا ہے۔ ایک طالبعلم اگرچہ میٹرک، انٹر، بی اے، ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ اسناد حاصل کر لے، حتیٰ کہ سافٹ ویئر یا ٹیکسٹائل انجینئرنگ جیسے فنی شعبوں میں مہارت بھی رکھتا ہو، تب بھی وہ خوداعتمادی، پیشہ ورانہ قابلیت اور فکری پختگی کے بحران کا شکار نظر آتا ہے۔

    یہ نظام اب بھی نوآبادیاتی دور کی باقیات کو ڈھوتا آ رہا ہے۔ آج بھی بیشتر سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں رٹا سسٹم رائج ہے، جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو محدود کرتا ہے۔ نہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے، نہ تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے محض اسناد تقسیم کرنے کے مراکز بن چکے ہیں۔ مضمون فہمی، عملی تربیت اور تحقیق کی افادیت کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ تعلیم اب ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے اور تعلیمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    ہمارا نصابِ تعلیم عملی زندگی سے کٹا ہوا ہے۔ جو کچھ طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے، وہ زندگی کے حقائق سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب ایک نوجوان ڈگری لے کر عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو نہ اس کے پاس مطلوبہ مہارت ہوتی ہے، نہ زبان پر عبور اور نہ ہی کسی شعبے کی جامع فہم۔ وہ صرف ایک ڈگری کا لفافہ تھامے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاروں کی فوج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

    جب تعلیم روزگار کی ضمانت نہ ہو، جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہوں، جب تعلیمی ادارے صرف ڈگری ہاؤسز بن جائیں تو معاشرے میں معیارِ زندگی کی بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ غربت، بیروزگاری، ذہنی امراض، جرائم اور معاشرتی بے چینی جیسے مسائل اسی تعلیمی نظام کی ناکامی کا شاخسانہ ہیں۔

    ایک طرف ایلیٹ کلاس کے لیے مہنگے نجی سکول اور جامعات موجود ہیں جہاں جدید نصاب، تحقیق، تربیت اور سہولیات میسر ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے بچے ایسے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ یہ طبقاتی تفاوت نہ صرف معاشرتی ناہمواری کو جنم دیتا ہے بلکہ ایک تقسیم شدہ اور غیرمنصفانہ نظام کو بھی مضبوط کرتا جا رہا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں ایسے مضامین کو شامل کرنا ہوگا جن میں ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، کاروباری مہارتیں، ماحولیات اور شہری شعور شامل ہوں۔ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں کی تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ وہ طلبہ کو محض تھیوری نہیں بلکہ عملی میدان کے لیے بھی تیار کر سکیں۔

    سکول کی سطح سے انٹرن شپ اور پراجیکٹ بیسڈ لرننگ کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری سکولوں میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ انفراسٹرکچر، سہولیات اور تدریسی معیار بہتر ہو سکے اور ہر طبقے کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔ ہمیں تعلیم کو اس سطح پر لانا ہوگا جہاں غریب و امیر کی تفریق ختم ہو جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور ووکیشنل تعلیم کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر بچہ یونیورسٹی جانے کی بجائے کسی ہنر میں مہارت حاصل کر سکے اور باعزت روزگار کما سکے۔

    پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا تعلیمی نظام جدید، ہم آہنگ اور عملی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ ایک باشعور، باہنر اور باوقار شہری کی تیاری ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اپنی تعلیم کو اس نصب العین کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہیں گے، ہمارا معیارِ زندگی پست ہی رہے گا۔ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے تعلیم کا حصول سب کے لیے یکساں، معیاری اور عملی ہونا ضروری ہے۔

  • "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”(سورہ المائدہ:3)
    دین مکمل، شریعت کا ہر حکم مکمل، قانونِ الٰہی مکمل، بنوت مکمل، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آ کر ختم الانبیاء کی مہر لگ گئی تو نبوت بھی مکمل ہو گئی۔ اب جو دین اسلام میں نئی بات گھڑے گا نیا قانون لائے گا وہ جھنمی ہو گا۔
    سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سب سے بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین ہدایت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور سب سے بد ترین کام دین میں نئے امور (بدعت) ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے "(صحیح مسلم:867)
    اللّٰہ رب العزت نے ہم سب کو آزاد پیدا کیا ہے خواہ وہ مرد ہے یا عورت، ہم سب اللّٰہ کے غلام ہیں اس کے بندے ہیں۔ مرد عورت کا قوام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قوام ہوتا کیا ہے؟ قوام کا مطلب حاکم ہرگز نہیں ہے بلکہ قوام وہ ہوتا ہے جو خاندان کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ جو معاشی طور پر گھر اور گھر والوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری اللّٰہ نے مرد پر ڈالی ہے۔ وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اس لیے عورت کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کو ایک درجہ بلند رکھا اس لیے کہ وہ ہر اچھے برے حالات میں اپنے خاندان کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہوا کیا؟ آج کے مرد نے قوام کا مطلب خود کو عورت کا مالک سمجھ لیا ہے جب کہ مالک تو اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہے کیونکہ جو خالق ہوتا ہے ملکیت بھی اسی کی ہوتی ہے۔ کوئی انسان کسی انسان کے اوپر اپنی ملکیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کی پیدائش اس دنیا میں انفرادی طور پر ہوئی اس کی خوبیاں اس کی خامیاں اسی انسان کی ذاتی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر ہم ہر کسی کے اعمال کے ٹھیکدار کیوں بن جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے دور میں کتنا آسان ہو گیا ہے نا کسی کو بھی جنتی یا جھنمی قرار دینا۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار بن گیا ہے۔ شریعت کے قانون کے مطابق انسان کا اختیار نہیں کہ وہ کسی کو جنتی یا جھنمی کہے لیکن ہم سب تو اتنے دیندار بن گئے ہیں کہ باقی سب کو بے دین تصور کرنے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں عورت اپنے گھر کے مردوں سے بھی محفوظ نہیں، اسے آزادی رائے نہیں وہ اپنا موقف کسی کے سامنے رکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ آئیے لمحے بھر کو اس ماضی میں چلتے ہیں۔

    جہاں درحقیقت عورت کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔
    جہاں اسے رائے کی آزادی نہ تھی۔
    جہاں شوہر اپنی بیوی کو نہ بساتے تھے نہ آزاد کرتے تھے۔
    جہاں بیٹی کی پیدائش پر والد منہ چھپاتا پھرتا تھا۔
    جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا تھا۔
    جہاں عورت کے بیوہ ہونے پر اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔
    جہاں بغیر نکاح کے ایک مرد کئی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کا اختیار رکھتا تھا۔
    جہاں عورت کی کوئی مرضی نہ تھی۔
    جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کیا کیا ظلم ہوتے تھے عورت پر۔۔

    پھر حرا سے ایک روشنی پھوٹتی ہے ایک پاکیزہ فرشتہ دنیا کے سب سے پاکیزہ انسان کے پاس آتا ہے اور اس کا سینہ بھینچتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ رب نے اسے اپنا رسول چن لیا ہے۔ اب دین اسلام کی برکات سے سب انسانوں کو ان کا حق ملے گا۔ اب کوئی کسی کا غلام نہ رہے گا سب انسان آزاد ہیں وہ صرف خالق و مالک کے غلام ہوں گے۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟ آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کو ملی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے۔
    جہاں عورت کو تعلیم دینے کا حق نہیں تھا۔
    جہاں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔
    جہاں اسے وراثت سے دستبردار کر دیا جاتا تھا۔
    جہاں اپنی پسند اور مرضی سے نکاح کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
    لیکن دین اسلام نے آتے ہی عورت کو وہ سب حقوق دیے جس نے اسے معاشرے میں ایک الگ حیثیت سے روشناس کروایا۔

    صفحہ زیست میں ماضی کے دریچوں سے گزریں تو یہ کہانی یوں تو بہت پرانی لگتی ہے لیکن اپنے آپ میں ایک جدت لیے ہوئے ہے۔ یہ کہانی ہے ایک محبت کرنے والی خوشحال شادی شدہ جوڑے کی۔ یہ کہانی ہے ایک غلام اور ایک لونڈی کی۔ پتہ ہے غلام اور لونڈی کا کیا تصور ہے اسلام میں؟ جی ہاں! جن کی نہ کوئی مرضی ہوتی تھی نہ رائے نہ پسند یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی مالک کی اجازت کے مختاج ہوتے تھے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو ایک دن غلامی کی زندگی سے آزاد ہو گئی اسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا نے آزاد کر دیا۔ آزادی کا حمار کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت بریرہ سے پوچھتا۔ آج کی ماڈرن عورت کیا جانے آزادی کیا ہوتی ہے؟

    آج کی ماڈرن عورت دوپٹے سے آزادی کو آزادی تصور کرتی ہے۔ کھلے بالوں کو آزادی تصور کرتی ہے۔ گھر کے باہر در در بھٹکنے کو آزادی تصور کرتی ہے لیکن حقیقی آزادی تو وہ تھی جو بریرہ کے پاس تھی۔اسلام کے مطابق ایک غلام اور ایک آزاد اگر چاہیں تو نکاح قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ جو آزاد فریق کی مرضی ہو وہی ہو گا۔ بریرہ کو آزادی اتنی پسند آئی کہ وہ دل و جان سے محبت کرنے والے شوہر کی محبت کو فراموش کر گئی۔ وہ اپنی رائے میں، اپنے فیصلوں میں آزاد ہو گئی۔ محبت کرنے والا مغیث گلیوں، بازاروں میں روتا پھرتا تھا۔ وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا تھا ایک بار بریرہ کو منا دو، وہ روتا تھا بریرہ ایک بار تو مجھ سے بات کر لے۔ سب سے سفارش کرتے کرتے وہ اپنی سفارش لے کر رحمت العالمین کے دربار میں پہنچ گیا وہ رسول جو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے مغیث کو یقین تھا وہ میرے لیے بھی رحمت والا فیصلہ کریں گے۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مغیث کی بات سنی اس کی تکلیف اور دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بریرہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ بریرہ دربار رسالت میں پیش ہوتی ہے۔ وہ اب ایک آزاد عورت تھی وہ جانتی تھی۔
    وہ صرف رب کی غلام ہے۔ رب کے احکامات کی غلام ہے۔
    وہ صرف خود آزاد نہیں تھی بلکہ اس کی سوچ بھی آزاد تھی۔
    وہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں آگاہ تھی جو دین اسلام نے ایک آزاد عورت کو عطا کیے تھے۔
    وہ پہلے غلام تھی مگر اب نہیں تھی۔
    وہ اپنی رائے اپنے فیصلوں میں آزاد تھی۔
    وہ جانتی تھی اب وہ کسی انسان کی غلام نہیں صرف رب کی غلام تھی۔
    دربار رسالت لگا ہوا تھا۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بریرہ کاش تم مغیث کے پاس لوٹ جاتیں۔” مغیث اپنی محبت بھری خوبصورت زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بریرہ کے جواب کا منتظر تھا۔ شاید اس وقت مغیث کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہو گی ضرور اس نے رب کی بارگاہ میں دعا کی ہو گی مگر بریرہ جو آزادی کا مزہ چکھ چکی تھی وہ ایک غلام شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ دنیا جیت لینا چاہتی تھی وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی زندگی ایک بار ملی ہے اسے غلامی کی نظر نہیں کرنا۔ وہ آزادی کی نعمت کو سمجھ چکی تھی۔ روشن خیال اپنے حقوق کو پہچاننے والی بریرہ نے رسول اللّٰہ کی مجلس میں ان کی بات قبول نہیں کی بلکہ الٹا اپنا موقف رکھ ڈالا۔

    "اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش؟ اگر حکم ہے تو مان لوں گی کیونکہ بخثیت مسلمان مجھ پر آپ کی اطاعت فرض ہے لیکن اگر سفارش ہے تو نہیں مانوں گی کیونکہ میری زندگی کے بارے میں مجھے رب نے اختیار دیا ہے۔” کیسا مکالمہ چل رہا تھا سرور دو عالم اور ایک عام مسلمان خاتون کے درمیان۔ کیا آج کوئی بیٹی اپنے والد کے سامنے اپنی رائے دے سکتی ہے؟ جی ہاں! دے تو سکتی ہے مگر ایسی آزادی بہت کم بیٹیوں کو میسر ہے۔

    "رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:” میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔” بریرہ کا جواب آتا ہے۔ "پھر مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔”(صحیح بخارہ:5283)
    میں آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی ہوں، اپنی مرضی سے سانس لینا چاہتی ہوں، اپنی اڑان بھرنا چاہتی ہوں۔ اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو صرف اللہ کی غلامی میں گزارنا چاہتی ہوں مجھے کسی انسان کی غلامی قبول نہیں اور مغیث غلام ہے میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔

    کیا آج کی لبرل عورت کبھی ایسا سوچ سکتی ہے؟ یہ وہی عورت سوچ سکتی ہے جس نے اپنی زندگی کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو۔ بریرہ کی اس بات نے کتنی خواتین کے لیے نئی سوچ کے در کھولے ہیں۔ عورت تب آزاد ہو گی جب وہ خود کو رب کے احکامات کی قید میں رکھے گی۔ بریرہ تو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو گئی۔ آج اس کہانی کو گزرے صدیاں بیت گئیں سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا آج کی عورت آزاد ہے؟ اپنی گفتار میں، اپنے فیصلوں میں، اپنی سوچ میں، اپنی رائے دینے میں، اپنی پسند سے نکاح کرنے میں؟؟؟ سوچتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے رہیے۔ اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے۔ آمین!

  • کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟

    کہاں گئی شہباز سپیڈ؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاست میں شہباز شریف کا نام ایک ایسی رفتار کے ساتھ جڑا رہا ہے جو بظاہر نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتی تھی۔ جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اُن کی شہرت اُن کی غیر معمولی انتظامی مہارت، منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور عوامی ریلیف پر مبنی پالیسیوں کی بدولت "شہباز سپیڈ” کے نام سے معروف ہوئی۔ لاہور میٹرو، آشیانہ اسکیم، دانش سکولز، فلائی اوورز اور ہسپتالوں کی بہتری کے منصوبے اُن کی شناخت بنے۔ لیکن آج جب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو عوام حیران ہے کہ وہی شہباز سپیڈ کہاں کھو گئی؟ کیونکہ اب مسائل کے انبار لگے ہیں، وعدے ادھورے ہیں اور عوامی ریلیف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سوچنا بجا ہے کہ کیا وہی شہباز شریف ہیں یا اب رفتار کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے؟ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ اب صرف فائلیں دوڑ رہی ہیں، عوام نہیں اور شہباز سپیڈ بس ایک سیاسی یادگار بن کر رہ گئی ہے۔

    جب وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ بجلی سستی کریں گے تو لوگوں کو امید بندھی۔ لیکن عملی طور پر وزارت توانائی نے ایسے اقدامات کیے کہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے 201 یونٹ کا سلیب سسٹم متعارف کروا کر بجلی کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ آٹھ ڈسکوز نے 244 ارب روپے کی اووربلنگ کی، جس کا کوئی حساب نہیں۔ لاکھوں صارفین کو اضافی بل جاری ہوئے اور زرعی صارفین کو بھی 148 ارب سے زائد کی اووربلنگ کر دی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بجائے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے، سب کچھ فائلوں میں دبا دیا گیا۔ عوام پریشان ہیں، حکومت خاموش ہے اور ظلم کا سارا بوجھ شہباز سپیڈ کے سر ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ سب ظلم اویس لغاری نے کیے، شہباز سپیڈ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔

    ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کا وعدہ بھی ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں گی، لیکن عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ پٹرول اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب چینی کا معاملہ لیں تو حکومت نے شوگر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ چینی جو عام آدمی کے لیے ضروری تھی، اب ایک پرتعیش شے بن چکی ہے۔ یہ سب اس نظام کی خرابیاں ہیں جنہوں نے شہباز شریف کی رفتار کو باندھ رکھا ہے۔ ان کے ارادے جتنے بھی بلند ہوں، عملی پیش رفت ندارد۔ مگر یہ سب ناکامیاں شہباز سپیڈ کی نہیں، بلکہ مافیا نے شہباز سپیڈ کی ہینڈ بریک پر قبضہ جما کر بریک لگا دی ہے۔

    معاشی بحران کے اس دور میں اشرافیہ کی مراعات میں اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی، سپیکر اور وزراء کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ مفت بجلی، پٹرول، علاج، رہائش اور گاڑیوں کی سہولتیں بدستور جاری رہیں۔ کہا گیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جاتے تو حکومتی اتحاد خطرے میں پڑ جاتا۔ دوسری جانب، پنشنرز، سرکاری ملازمین اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو اشرافیہ کی ان مراعات پر کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن جیسے ہی عوامی تنخواہوں میں اضافے کی بات آئی، قسط روکنے کی دھمکی دے دی گئی۔ یوں وسائل بالا طبقے کی جھولی میں ڈال دیے گئے اور عوام کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ یہ سب دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شہباز سپیڈ کی ناکامی نہیں بلکہ نظام کی وہ غلامی ہے جس نے شہباز سپیڈ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔

    واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپشن، اووربلنگ اور بجلی چوری جیسے معاملات نے حکومت کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ کمپنیوں نے آڈٹ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا، اربوں روپے کی خرد برد کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ کیا وزیراعظم اکیلے اس سب کا ذمہ دار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ وزیر توانائی کی نااہلی، نیپرا کی خاموشی اور بیوروکریسی کی ملی بھگت نے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کا سوال بجا ہے کہ کہاں گئی شہباز سپیڈ؟ لیکن جواب یہ ہے کہ شہباز سپیڈ کو تو روک دیا گیا، لوٹنے والوں نے۔

    دوسری طرف، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے 90 دن میں کرپشن ختم کر دی، لیکن ان کے دور میں آٹا، چینی اور پٹرول کے اسکینڈلز سامنے آئے۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزرا پر الزامات لگے، لیکن کسی کو سزا نہ ملی۔ رپورٹیں دبائی گئیں، قوم کو سبز باغ دکھائے گئے۔ شہباز شریف پر تنقید ضرور کریں، لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کیا عمران خان کی رفتار نے عوام کو کچھ دیا؟ یا صرف تقاریر اور دعوے کیے؟ یہ دونوں رہنما عوامی خدمت کے دعوے دار ہیں، لیکن عوام کے مسائل آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔ اور اسی لیے شہباز سپیڈ پر تنقید سے پہلے سچائی کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔

    اگر کوئی توقع باقی ہے تو وہ صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب شہباز شریف اپنی پرانی رفتار کو دوبارہ زندہ کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھیں، کرپشن کے خلاف بھرپور کارروائی کریں، بیوروکریسی کو قابو میں لائیں اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے مطمئن ہو گی۔ اگر شہباز سپیڈ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اب وقت ہے کہ فیصلے میدان میں کیے جائیں، صرف پریس کانفرنسوں میں نہیں۔ بصورتِ دیگر، شہباز سپیڈ صرف ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گی۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز سپیڈ واقعی اپنے پرانے ٹریک پر دوبارہ دوڑنے کے قابل ہو سکے گی؟ کیا وہ تمام رکاوٹیں عبور کر پائے گی جنہوں نے اس کی رفتار کو جکڑ رکھا ہے؟ کیا بجلی بحران، سلیب سسٹم کا خاتمہ اور اویس لغاری کی برطرفی ممکن ہو پائے گی؟ کیا عوام کو سستی چینی اور ایندھن دوبارہ میسر آ سکے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ سب کچھ شہباز سپیڈ ممکن بنا پائے گی؟ عوام ان سوالات کے جوابات کی منتظر ہے اور وقت ہی بتائے گا کہ شہباز سپیڈ پھر سے اپنا جادو جگا پاتی ہے یا نہیں۔

  • جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے ۔تحریر:سعد یہ عمران

    جدائی موت ہوتی ہے، بالکل، ویسے جیسے پتے شجر سے گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ اور بے آواز گرتے ہیں۔ نہ چیختے ہیں، نہ روکتے ہیں، بس خود کو ہوا کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک آخری بار شجر کو دیکھتے ہیں اور پھر زمین پر آن گرتے ہیں، جہاں ہر قدم انہیں روندتا ہے۔ ہر جوتی ان کے وجود کو مٹاتی ہے، اور کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیوں گرے؟ شجر خاموش رہتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ مگر پتے جانتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جدائی واقعی موت ہوتی ہے—ایسی موت جو جسم سے پہلے روح کو لے جاتی ہے، جو خاموشی سے دل میں اُترتی ہے اور جس کا نہ کفن ہوتا ہے، نہ جنازہ۔

    جدائی ایک بے نشان قبر کی طرح ہے، جہاں نہ کوئی نام ہوتا ہے، نہ تاریخ، نہ دعائیں—صرف تنہائی، اور وہ ہوا کا تھپڑ جو بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم اب شجر کا حصہ نہیں رہے۔ تم اب بس زمین پر ایک بوجھ ہو۔ ہر گزرتا لمحہ ایک اور کچلا ہوا احساس ہوتا ہے، ہر گزرنے والا انسان ایک اور لاتعلق نظر۔ پتے سوچتے ہیں، شجر نے روکا کیوں نہیں؟ کیا وہ بے وفا تھا، یا وقت ظالم تھا، یا قسمت ہی ایسی تھی؟ جدائی کا لمحہ ایک قیامت جیسا ہوتا ہے، جیسے کوئی تمہارا آپ تم سے چھین لے۔ شجر کی ہر شاخ گواہ ہوتی ہے اُس لمحے کی جب پتہ الگ ہوا، جب رشتہ ٹوٹا اور ایک کہانی لفظوں کے بغیر، آواز کے بغیر، بس خاموشی کے کفن میں دفن ہو گئی۔

    ہم سب وقت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جیسے ہر پتہ۔ جدائی نے سب کو چھوا ہے—کسی کی ماں، کسی کا دوست، کسی کا پیار، کسی کی امید—سب ہی روندے گئے، جیسے پتے۔ شجر بدلتے رہے، کہانیاں بدلتی رہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہا: تنہائی، خاموشی، اور مٹی۔

  • سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت

    سلیب گردی، ن لیگ کا تابوت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جس نے اپنے دورِ اقتدار میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کارکردگی کا معیار بنایا۔ سڑکیں، موٹرویز، اور انفراسٹرکچر وہ شعبے تھے جہاں اس جماعت نے سرمایہ کاری کی، اور اپنے بیانیے کو اس ترقیاتی ماڈل کے گرد گھمایا۔ لیکن اقتدار میں بارہا آنے کے باوجود عوامی فلاح کے حقیقی مسائل — مہنگائی، توانائی، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشرتی انصاف ، ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے رہے۔

    آج جب مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بجلی کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور بے روزگاری نوجوان نسل کی امیدیں نگل رہی ہے، تو ن لیگ کی کارکردگی پر سوال اٹھانا محض تنقید نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ عوام اس وقت ایک ایسے معاشی جبر کا شکار ہیں جس کی جڑیں حکومتی پالیسیوں میں پیوست ہیں اور جس کے چہرے کو اویس لغاری جیسے وزرا کی صورت میں شناخت ملی ہے۔

    بطور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی کارکردگی عوامی ریلیف کے بجائے عوامی اذیت کا سبب بنی۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور ناقابلِ برداشت اضافہ، شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کے شعبے میں ناقص حکمرانی نے عوام کو ذہنی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ایسے وزیروں کی سرپرستی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عوامی مسائل کے حل کی بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

    عوامی اذیت کی ایک نمایاں مثال بجلی کے بلوں میں لاگو "سلیب سسٹم” ہے، جس کے ذریعے محض ایک یونٹ کی زیادتی پر عام شہری کو پندرہ ہزار روپے تک کا بل تھما دیا جاتا ہے۔ "سلیب گردی” کی اصطلاح عوامی شعور نے اس سنگین ناانصافی کے ردعمل میں وضع کی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کا بل تقریباً 3000 روپے ہوتا ہے، لیکن 201 یونٹ ہوتے ہی یہی بل چھلانگ لگا کر پندرہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اضافہ محض ٹیکس نہیں بلکہ ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے، جو ریاستی پالیسیوں کے نام پر عوام پر مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں شہری ریاست کو سہارا دینے کے بجائے خود کو اس کے ظلم سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ تنقید صرف معیشت یا توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی بحران اور قیادت کی بے حسی کا بھی آئینہ دار ہے۔ پارٹی کے مقامی کارکنان اور ارکانِ اسمبلی متعدد بار اس بات کا شکوہ کر چکے ہیں کہ قیادت نہ انہیں سن رہی ہے، نہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے، اور نہ ہی عوامی رابطے کو اولیت دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً پارٹی کے اندر بداعتمادی، فاصلہ اور مایوسی جنم لے چکے ہیں، جو کسی بھی جماعت کے لیے زوال کی علامت ہوتے ہیں۔

    اسی زوال کا اظہار عوام کی اس شدید مایوسی سے ہوتا ہے جو اب محض خاموش ناراضی نہیں بلکہ ایک متحرک اور بلند احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ وہ بیانیہ جسے ن لیگ نے اپنے سیاسی وجود کی بنیاد بنایا تھا "ووٹ کو عزت دو” آج عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ کیونکہ جب ووٹ دینے والا شہری مہنگائی سے بلکتا ہے اور اس کے صبر کا امتحان ہر بل، ہر اشیائے ضرورت، ہر سرکاری سروس میں لیا جاتا ہے تو وہ اس بیانیے کو ایک کھوکھلی نعرہ بازی سے زیادہ نہیں سمجھتا۔

    یہ حالات صرف ایک سیاسی جماعت کی ساکھ کا بحران نہیں بلکہ جمہوری اعتماد کے ٹوٹنے کا اشارہ بھی ہیں۔ اگر ایک جماعت مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہ کرے تو عوام بھی بالآخر اس جماعت کو سیاسی سزا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب ان نمائندوں سے جواب مانگتی ہیں، جنہوں نے اقتدار تو لیا مگر خدمت نہیں کی۔

    اگر مسلم لیگ (ن) واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اب فیصلے کرنے ہوں گے ، وہ فیصلے جو صرف وزارتوں کی تبدیلی تک محدود نہ ہوں بلکہ پالیسیوں، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی میں انقلابی اصلاحات پر مبنی ہوں۔ اویس لغاری جیسے وزرا کی موجودگی پارٹی کے لیے سیاسی بوجھ بن چکی ہے اور جب عوام ایسے افراد کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں تو جماعت کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہتا۔

    یہ لمحہ ن لیگ کے لیے محض بحران نہیں ہے بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے! پارٹی کو یا تو خود کو تبدیل کرنا ہوگایا پھر عوام اسے بدل ڈالیں گے۔ "سلیب گردی” جیسے الفاظ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اگر ن لیگ نے اب بھی عوام کے درد کو محسوس نہ کیا تو پھر یہ حقیقت بن جائے گی کہ اس جماعت کا تابوت عوام خود اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب انتخابی میدان سجے گا اور عوامی عدالت ن لیگ کو آخری بار طلب کرے گی۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جہاں یا تو وہ سرخرو ہوں گے، یا پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے۔

  • "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    "زمین پہ آسمانی کیفیت کا نام محبت ہے”.تحریر: ظفر اقبال ظفر

    دل کی آنکھ محبت کے نزول سے ہی کھلتی ہے۔دو دلوں میں احساس و جذبات کا تبادلہ محبت کے سوا ممکن نہیں مگرجو محبت عزت کا نقصان کرئے وہ نفس کی طرف سے زلت کا جال ہے۔پتھر کی طرح جمے جمائے معاشرے میں احساس کی دراڑ ڈالنا بغیر آسمانی چیز کے ممکن نہیں اس زمین پر اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہے۔آسمانی محبت آسمان والے کی طرف سے پسندیدہ دلوں پر ہی نازل ہوتی ہے جو تقسیم محبت میں اتنے مدہوش ہو جاتے ہیں کہ وہ آسمان سے زیادہ زمین سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کی محبت میں شدت و پاکیزگی دیکھ کر آسمان والوں کو بھی ان کی محبت سے محبت ہو جاتی ہے۔

    دنیاوی خواہشات کے گدھے پر سوار ہو کر زندگی کے فاصلے طے کرکے موت کی منزل پر پہنچنے والے آسمانی محبت کی کمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔محبت ایک انسان تک بھی محدود ہو تو تاثیر رکھتی ہے یہ چھوڑ جانے والے کو بددُعا نہیں دیتی مگربددُعا فقط ہاتھ اُٹھا کر منہ سے نکلے الفاظوں کا مجموعہ تو نہیں ہوتی کہ جو دی جائے تو لگ جائے،دولت بیدار کے لوگ جانتے ہیں کہ محبت کے بددیانت لوگوں کی طرف سے دی گئی بے سکونی بدحالی درد میں قید رُوح صبر میں گرفتار جسم بھی اک بددُعا ہے جو خودبخودلگ جاتی ہے۔

    وہ جو سنجیدہ و مخلص لوگوں کے جذبات کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی محبت و عقیدت پہ طنزیہ قہقہے لگاتے ہیں وہ تنہائی کے بستر پر بے بسی کی بیماری میں جکڑتے ہیں تو آنسوؤں سے باتیں کرنے لگتے ہیں بے قدری کی معافیاں مانگتے ہیں جہاں محبت اپنے مجرموں کا خود احتساب کرتی ہے وہاں اپنے مخلصوں پر نوازشات کی بارش بھی کرتی ہے محبت کا انتخاب غلط ہو سکتا ہے مگر محبت خود کبھی غلط نہیں ہوتی۔

    ناسمجھ لوگوں کی وجہ سے محبت کے بارے میں ناقص رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جیسے کسی مزار کے خادمین اپنی ناسمجھی کے تناظر میں صاحب مزار کی محبت میں گرفتار عقیدت مند کو ڈانٹ دیتے ہیں تو اس میں صاحب محبت اور محبت کاکوئی قصور نہیں ہوتا۔سمندر سے بھی گہری محبت کے مستحق ہیں وہ لوگ جو نفرتوں کے خنجر کھا کر بھی محبت کا لنگر تقسیم کرنا نہیں چھوڑتے۔محبت فریب نہیں دیتی نہ کبھی بدلتی ہے لوگ بدل جاتے ہیں،جہاں اکثریت ناقابل اعتبار ہووہاں کچھ محبت کے سفیر بڑے کمال کے کردار رکھتے ہیں جن پر قدرت کے نظارے ناز کرتے ہیں ان اندر کے خوبصورت لوگوں کی ترجمانی کے لیے قدرت باہر کے منظر حسین بنا کر اپنی تعریف کی وجہ پیداکرتی ہے۔جس طرح رُوح پر جسم کے اصول لاگو نہیں ہوتے اسی طرح نفرتیں وجود محبت پہ اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    قدرت اسی لیے سب سے قیمتی ہے کہ وہ ہر چیز سے مہنگی ہو کر مفت دستیات رہتی ہے اس مزاج کے انسان نایاب ہوتے ہیں جن کا نہ ملنا مشکل نہ اس کی محبت بوجھ پرسکون خوشگواراحساس سے لبریزجو دنیا کی طرف سے جھوٹی محبت کے دئیے گئے زخموں پر آسمانی محبت کی مرہم رکھتے ہیں تو شفا پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔اگر انسان آسمانی محبت میں گرفتار نہیں تو شہ رگ سے قریب خدا ساری زندگی کے سفروں کے باوجود نہیں ملتا محبت تمہیں تمہارے وجود میں موجود خدا سے ملوانے کا معجزہ کھلی آنکھوں سے دیکھانے کی طاقت رکھتی ہے۔

  • ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی

    ناکام پالیسیاں، ناکام ادارے اور ضائع ہوتا قیمتی پانی
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور منصوبہ ساز نااہل ہیں، تو شاید ہی کسی کی اس پر دوسری رائے ہو۔ جی ہاں، آپ نے درست سمجھا، پچھلی کئی دہائیوں سے ہم تجربات کرتے آ رہے ہیں، عوام کو اور پاکستان کو لوٹنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ایک مقروض ملک ہیں اور آئی ایم ایف کی پالیسی سازوں کے زیرِ اثر۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پانی کی قلت کا نہیں بلکہ نیتوں کی کمی کا شکار ہے۔ اگر آج بھی ریاست، ادارے اور عوام مل کر سنجیدہ اقدامات کریں تو بارش کا ہر قطرہ خزانے سے کم نہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ قیمتی پانی ہر سال ضائع ہوتا رہے گا، زمین بنجر ہوتی جائے گی، اور ہم صرف رپورٹس میں کامیابی کے خواب دیکھتے رہیں گے۔

    ہم قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں پانی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں لیٹر بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ بیش قیمت قدرتی نعمت ہمارے ناکام پالیسی سازوں اور غیر سنجیدہ اداروں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

    یہی پانی نہ صرف شہروں کی سڑکوں اور گلیوں کو دریا بنا دیتا ہے — جیسا کہ حالیہ بارشوں میں ہم نے دیکھا — بلکہ زرعی زمینوں سے بھی بہہ کر ندی نالوں میں چلا جاتا ہے، بنا کسی ریچارج کے، بنا کسی ذخیرہ اندوزی کے۔

    اب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سسٹم کیا ہے۔
    ریچارج کا مطلب ہوتا ہے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو قدرتی یا مصنوعی طریقے سے دوبارہ بھرنا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بارش کے پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف زمین کو ریچارج کیا جاتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں بھی اسے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگر جدید طریقہ کار اختیار کر لیا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت جیسے سنگین مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں سیاسی اکھاڑوں میں ہماری ترجیحات انتقامی سیاست ہے۔ کیا یہی سوچ ہمارے بانی پاکستان کی تھی؟ یقیناً نہیں۔

    اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی کمی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز حضرات اور بیوروکریسی کی دلچسپی صرف کاغذی منصوبوں میں ہوتی ہے، جہاں فنڈز کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

    شہروں میں ڈرینج سسٹم ناکارہ ہے، دیہات میں پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں ، جس کی مثالیں حالیہ بارشوں میں کئی دیہات کے زیرِ آب آنے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں ہم ناکام کیوں ہیں اور اداروں کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں:
    ×واٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہو یا محکمہ آبپاشی ، سب کی کارکردگی صرف فائلوں تک محدود ہے۔
    ×بلدیاتی ادارے نکاسیٔ آب پر توجہ دیتے ہیں، مگر پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں۔
    ×ماحولیاتی ادارے صرف رپورٹس تیار کرتے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ×سیلاب کنٹرول ڈپارٹمنٹ صرف ہنگامی حالات میں متحرک ہوتے ہیں، مستقل منصوبہ بندی ناپید ہے۔

    اگر یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہو تو ریچارج ویل (Recharge Wells) کا قیام شہروں اور زرعی علاقوں میں مخصوص مقامات پر کنویں نما گڑھے کھود کر بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے۔

    ریگولر واٹر ہارویسٹنگ اسکیمز کو ہر ضلع کی سطح پر شروع کیا جا سکتا ہے تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے۔کاشتکاروں کو جدید زرعی تکنیکوں کے ذریعے پانی کی بچت اور قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

    قانون سازی کے ذریعے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں میں واٹر ریچارج سسٹم کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    بہرحال، اُمید کا دامن کبھی چھوڑنا نہیں چاہیے… مگر، کب تک؟

  • پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیاست مذاق،عوام کا کوئی مقدر نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن صرف امیر مقام،پورا خاندان بھرتی کرلیا،دیکھیں کوئی رہ تو نہیں گیا
    کسی کوبرا لگے یا اچھا ، دنیا میں عزت اور مقام صر ف پاک فوج کو ملا،سیاست صرف گپ شپ تک محدود
    اکثر سیاسی اقتدار میں صرف پروٹو کول انجوائے کرتے رہے ،مریم نواز نے پہلی بار ہی پنجاب کا نقشہ بدل دیا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی ہو یا جمعیت علماء اسلام ، جو کچھ سینٹ کے الیکشن میں ہوا، اس نظام زر میں سیاست نہ جمہوریت، عوام کاکوئی مقدر نہیں، سیاسی گلیاروں میں منڈی کا راج ہے،جمہوریت نہیں ہے،عوام کو اس نرکھ میں سسکنا ا ور سلگنا پڑے گا، ملکی سیاسی جماعتوں میں حاکمیت دولت کی رہے گی، سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے، پہلا اور آخری معیار دولت ٹھہرا، نورا کشتیاں ، مفادات کے تابع ہیں ، امریکہ سے مغربی ممالک اور مغربی ممالک سے مڈ ل ایسٹ تک دنیا ہماری سیاست اور جمہوریت سے مکمل آگاہ ہے، کے پی کے مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی امیر مقام اپنی فیملی میں دیکھیں اگر کوئی باقی رہ گیاہے تو اُسے بھی ٹکٹ یا عہدہ دلوانے میں دیر نہ کریں، لگتا ہے مسلم لیگ ن کے پی کے میں صرف آپ اور آپ کے خاندان تک محدود ہے، امریکہ سے لے کر مغربی ممالک مڈل ایسٹ کسی کو اچھا لگے یا بُرا ان ممالک کا اعتماد پاک فوج اور جملہ اداروں پر ہے ، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ایک منظم اور طاقت ور ادارہ فوج اور جملہ ادارے ہیں ، دنیا ہمارے سیاسی گلیاروں اور ہماری جمہوریت سے باخبر ہے،

    عوام ان سیاسی سوداگروں کی باتوں میں آکر ملکی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرنے سے گریز کریں، ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ اقتدار کا حصول رہا ہے ، ان دلخراش حالات میں اگر جمہوریت سیاسی گلیاروں میں زندہ ہے تو ہر سیاسی جماعت میں بااصول شخصیات کی بدولت لیکن بااصول شخصیات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے جو ملک میں جمہوریت ، پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین کی حکمرانی ،ایمانداری اور دیانتداری کا پرچار کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں موجود جمہوریت ،ایمانداری ،دیانت داری کا پرچار کرنے والے موجودہیں مگر ان کی آواز دب چکی ہے،اس وقت 25 کروڑ عوام سیاسی تماشے دیکھ ر ہےہیں ، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پنجا ب میں عوام کی خدمت کی مثال قائم کردی ، مریم نواز کی مقبولیت پنجاب کے نوجوان طلباء اور خواتین میں دیکھی جا سکتی ہے ، مریم نواز کا سیاسی مستقبل اُمید اور امکانات سے بھرپور ہے