Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے 12 بہادر جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور زخمیوں کی عیادت شامل تھی، یہ پاکستان کی قربانیوں اور افواج کے عزم کی ایک ناقابلِ فراموش علامت ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کے دشمن چاہے داخلی ہوں یا خارجی، ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور قوم کے بہادر جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ فورسز کے آپریشنز میں بھارتی پراکسیز کے 35 دہشت گرد ہلاک اور 12 بہادر جوان شہید ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام، افواج اور ریاست متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر بلا شبہ اور بلا ابہام واضح کیا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، افغان حکومت کو صاف اور سخت پیغام دیا گیا کہ یا تو پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں یا خارجی دہشت گردوں اور بھارتی پراکسیز کو پناہ دینے کا خطرناک کھیل فوراً بند کریں، کیونکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے میں کسی بھی طرح کے سیاسی کھیل، گمراہ کن بیانیے یا نرم گوشے کو برداشت نہیں کرتی، اور ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر افواج کے جوان اس ایک موقف پر متحد ہیں۔

    پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کے استعمال پر آئی ایس پی آر نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انٹیلی جنس رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ افغان شہری بھی پاکستان مخالف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جو پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے اور دہشت پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا بدترین استعمال کر رہا ہے، اور یہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے بلکہ ان کے کام کو سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغان عبوری حکومت اپنی زمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، اور علاقے میں موجود ہر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

    یہ ایک تلخ اور ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ دہشت گردوں اور خوارج کے خونریز ماضی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں "بھٹکے ہوئے بھائی” کہہ کر پیش کیا، حالانکہ یہ وہی خونریز عناصر ہیں جنہوں نے ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا، ملک کو خوف، دہشت اور بدامنی میں دھکیل دیا اور عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا، اور ان کے نرم رویے اور سیاسی جواز کی وجہ سے خوارج اور بھارتی پراکسیز نے طاقت پکڑی، جس کا خمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہی ہے، اور یہ وقت ہے کہ ان تمام سازشی عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور کڑوی کارروائی کی جائے، تاکہ کوئی بھی یہ غلط فہمی نہ رکھ سکے کہ پاکستان میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو کوئی رعایت حاصل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، پاکستانی عوام، ریاست اور افواج متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہیں، اور یہ واضح پیغام ہر دشمن کے لیے ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں، داخلی خوارج یا خارجی پراکسیز، چاہے وہ افغان سرزمین سے کارروائی کریں یا بھارتی سرپرستی میں ہوں، ان کے لیے کوئی معافی نہیں، ان کا مکمل خاتمہ ہو گا اور ملک کو ہر قسم کی بدامنی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا، کیونکہ یہ وقت صرف بیان بازی، ڈھونگ یا سیاسی کھیل کا نہیں بلکہ عمل، قربانی، اور دشمنوں کے خلاف بلا تفریق فیصلہ کن کارروائی کا ہے، اور افواج پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان

    امن و انصاف کے معمار اور عوام کے محسن:کامران خان
    تحریر: حسنین رضا

    کامران خان پاکستان کے ایک سینئر پولیس افسر ہیں جو اس وقت ساؤتھ پنجاب پولیس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (IGP) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز رہے، جہاں انہوں نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے چیف ایڈمن آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار افسر ہیں بلکہ ایماندار، نیک سیرت اور خوبصورت شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ ان کی شرافت، وقار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے عوام اور پولیس فورس دونوں میں ان پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

    بطور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، کامران خان نے عوام دوست پولیسنگ کا تصور متعارف کرایا، جس سے شہریوں کو پولیس تک رسائی آسان ہوئی اور ادارے پر اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے، ویلفیئر فنڈز اور سہولیات فراہم کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پولیس فورس کو ایک خاندان سمجھتے ہیں۔ ان کی اولین ترجیح جنوبی پنجاب کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، انصاف کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔

    کامران خان نے پولیس کو جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں اور اضافی نفری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹس اور پولیس لائنز کی تعمیر و مضبوطی پر بھی توجہ دی۔ جھنگی چیک پوسٹ اور ملتان پولیس لائنز میں ان کے اقدامات عوامی تحفظ کی ضمانت ہیں۔ وہ منشیات فروشوں، اشتہاری مجرمان اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، جس کے لیے اجلاسوں اور عملی حکمت عملی کے ذریعے پولیس فورس کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔

    ان کی قیادت میں ضلعی افسران اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے۔ ان کا نرم گفتار اور بردبار رویہ انہیں ایک منفرد اور دلکش رہنما بناتا ہے۔ کامران خان کو صدرِ پاکستان پولیس میڈل (PPM)، اقوام متحدہ امن میڈل (UNPM) اور برٹش چیوننگ اسکالرشپ سمیت کئی اعزازات ملے ہیں۔ وہ امریکی انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (IVLP) ایوارڈ یافتہ بھی ہیں اور تمغۂ شجاعت کے لیے نامزد ہوئے ہیں۔

    پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور بلوچستان میں خدمات کے دوران انہوں نے مشکل حالات میں بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ کامران خان کی تقرری جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ ان کی قیادت میں امن و امان کی بہتری، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہونے اور شہداء کے خاندانوں کے لیے سہولیات کے فروغ کی توقع ہے۔

  • سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    سیلاب کے پانی میں بہتے جنازے ،تحریر:یوسف صدیقی

    رات کے سناٹے میں اچانک شور اٹھا۔ پانی کی بے قابو لہروں نے گلیوں اور گھروں کو روند ڈالا۔ سانس لینے کا موقع تک نہ ملا؛ لمحوں میں بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ وہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت اتر آئی ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر بھاگ رہی تھیں، مگر پانی کے تیز بہاؤ نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ بوڑھے کسان اپنی زندگی کی کمائی بچانے کی کوشش کرتے رہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کھیت، فصلیں اور مویشی سب سیلاب میں بہہ گئے۔

    علی پور کی گلیاں، جو کل تک زندگی سے بھری تھیں، آج پانی، کیچڑ اور موت کے سناٹے میں ڈوبی ہیں۔ وہ کھیت جہاں فصلیں لہلہاتی تھیں، وہاں اب کھڑا پانی پڑا ہے اور کسان اپنی محنت آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جانور، جو کبھی روزگار کا سہارا تھے، کھیتوں میں ڈوب گئے۔ لوگ جانیں بچانے کے لیے دوڑے، لیکن نہ راستہ بچا اور نہ ہی کشتی دستیاب تھی۔ جو کشتیاں ملیں بھی تو وہ کشتی مافیا کے ہاتھ میں تھیں جنہوں نے کرایہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ غریبوں کی جان بھی یوں نیلام ہو گئی۔ کتنی مائیں اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھائے مدد کے لیے چیختی رہیں، مگر کشتی والوں نے سننے تک گوارا نہ کیا۔

    جلال پور پیر والا میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ جب دریا کی لہر بے قابو ہوئی تو لوگ چھتوں پر چڑھ گئے۔ گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں پانی نے نوچ لیں۔ بازاروں میں مایوسی کے سوا کچھ نہ رہا۔ وہ گھر جو برسوں کی محنت سے بنے تھے، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ بچے چیختے رہے، عورتیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی رہیں اور بزرگ زمین پر بیٹھ کر آنکھوں سے آنسو بہاتے رہے۔

    یہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک سخت حقیقت بھی ہے۔ یہ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لاہور کے ایوانوں سے جنوبی پنجاب کے دکھ سمجھے نہیں جا سکتے۔ فیصلے وہاں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جنہیں نہ یہاں کے دریاؤں کا شور سنائی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے جنازوں کی سسکیاں۔ ہر بار یہی ہوا: پانی آیا، سب کچھ بہا لے گیا، اور پھر سب کچھ بھلا دیا گیا۔ مگر اس بار درد اور تلخ ہے—کیا جنوبی پنجاب کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

    لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ خیموں میں بچے بھوک سے بلکتے ہیں، عورتیں خالی برتن لیے کھڑی ہیں، اور مرد لاچارگی میں اپنی ہی زمین کو کوس رہے ہیں۔ پانی اتر بھی جائے گا مگر یہ زخم نسلوں تک رہیں گے۔ ہر بچہ جو آج خالی پیٹ سو رہا ہے، کل بڑا ہو کر پوچھے گا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟

    اب وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ فیصلے وہ لوگ کریں جو اس مٹی کے باسی ہیں، جو ان دریاؤں کے کنارے رہتے ہیں، جو ہر سیلاب میں اپنے پیاروں کو دفناتے ہیں۔ یہ الگ صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔

    سوال یہی ہے: کتنی اور لاشیں، کتنے اور جنازے، کتنے اور گھر ڈوبیں گے، تب جا کر کوئی مانے گا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے؟۔۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لاکھوں افراد اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں،وہاں حکومتی ریلیف کی تقسیم متاثرین کے لیے امید کی ایک کرن ہونی چاہیے تھی۔ قدرتی آفات کے بعد عوام کی نظریں ہمیشہ ریاست پر لگی ہوتی ہیں کہ وہ کس طرح ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے۔ مگر پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف کی تصویر والے بیگ اور باکسز کی تقسیم نے عوامی سطح پر امید کے بجائے غصے اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیگ واقعی سیلاب متاثرین کے آنسو پونچھ رہے ہیں یا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں؟ کیا ان بیگز کی تیاری پر خرچ ہونے والا پیسہ متاثرین کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی لا رہا ہے یا یہ سب صرف سیاسی تشہیر اور ذاتی برانڈنگ کا کھیل ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا عوامی ٹیکس سے حاصل شدہ پیسہ ایک منتخب نمائندے کی ذاتی تشہیر پر ضائع کیا جا سکتا ہے؟

    سیلاب کی تباہ کاریوں کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے ایسی بربادی مچائی کہ لاکھوں خاندان بے گھر ہو گئے، کسانوں کی محنت سے اگائی گئی فصلیں برباد ہو گئیں اور مویشی تک ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ دیہات سے شہروں تک ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے بیچ کا فرق بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومتی ریلیف پیکیج عوام کے لیے سہارا بن سکتا تھا۔ مگر جب یہ ریلیف متاثرین تک مریم نواز کی بڑی بڑی تصاویر والے بیگ میں پہنچا تو عوامی ردعمل بالکل مختلف نکلا۔

    سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے ان بیگسز کو مذاق اور دکھ کے امتزاج سے تعبیر کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان بیگز میں موجود اشیاء جیسے دو پیکٹ بسکٹ، ایک جوس کا چھوٹا ڈبہ جن کی قیمت بمشکل 50 روپے بنتی ہے، اس کے مقابلے میں بیگ کی تیاری اور پرنٹنگ پر سو روپے سے زیادہ خرچ آ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ترجیحات کہاں ہیں؟ کیا مقصد سیلاب زدگان کی فوری بحالی ہے یا اپنی شخصیت کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنا؟ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ریلیف جیسا اقدام دراصل ایک ’’پی آر ڈیزاسٹر‘‘ ثابت ہوا ہے کیونکہ امداد کی اصل لاگت کے مقابلے میں بیگ اور اس کی برانڈنگ کی لاگت کہیں زیادہ ہے۔

    یہی نہیں ان بیگز کی تقسیم نے سیاسی پروپیگنڈے کا رنگ بھی اختیار کر لیا۔متاثرین کی جھونپڑیوں میں، سکولوں میں بنائے گئے ریلیف کیمپس میں اور حتیٰ کہ مساجد تک میں یہ بیگ بانٹے گئے، جن پر مریم نواز کی تصاویر نمایاں تھیں۔ یہاں تک کہ مساجد کے سائن بورڈز کو بھی مریم نواز شریف کی تصاویر سے مزین کر دیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بھڑکا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اللہ کے گھر کے باہر بھی سیاست کی تشہیر کا یہ طریقہ درست ہے؟ ناقدین نے اسے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک طرح کی ’’نارسیسٹک‘‘ سوچ قرار دیا جس میں عوام کے دکھ درد کے مقابلے میں ذاتی تشہیر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سینکڑوں ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں متاثرین نے خود اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بیگ یا ڈبے پر لیڈر کی تصویر لگانے سے انہیں کوئی سہولت نہیں ملتی۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ’’ہمیں کھانے کو روٹی چاہیے، رہنے کو چھت چاہیے، دوا چاہیے، یہ تصویریں ہمارے زخم نہیں بھرتیں‘‘۔ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اب پنجاب میں صرف کفن پر مریم نواز کی تصویر لگنا باقی ہے، عمومی رائے کے مطابق یہ بیگ دراصل حکومتی نااہلی اور عوامی احساسات سے بیگانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

    ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ یہ بیگ اور باکسز عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تیار کیے گئے۔ جب متاثرین دیکھتے ہیں کہ انہی کے ٹیکس سے جمع ہونے والے وسائل کو ان پر براہ راست خرچ کرنے کے بجائے ایک فرد یا خاندان کی سیاسی تشہیر پر لگایا جا رہا ہے تو ان کے دلوں میں بداعتمادی اور غصہ مزید بڑھتا ہے۔ پنجاب میں صرف فوڈ بیگز نہیں بلکہ دودھ کے ڈبوں اور پھلوں پر بھی مریم نواز کی تصاویر دیکھی گئیں۔ یہ سب اقدامات عوام کو اس نتیجے پر پہنچا رہے ہیں کہ ریاست ان کے دکھ درد پر سنجیدگی سے نہیں بلکہ تشہیر کی نیت سے توجہ دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ کہا گیا اور بعض صارفین نے طنزیہ لکھا کہ ’’اب شاید بارش کے پانی پر بھی مریم نواز کی تصویر چھاپ دی جائے‘‘۔

    یہ رویہ کسی ایک صوبے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ہماری مجموعی سیاست کی خودغرضی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاستدان خدمت سے زیادہ تشہیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ قدرتی آفات کے وقت عوام کو سب سے زیادہ ضرورت خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ہوتی ہے۔ لیکن جب ان کی جگہ رنگین بیگ اور تشہیری مہم چلائی جائے تو یہ صرف مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی معاشی بحران اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، وہاں اس طرح کی حکمتِ عملی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید تکلیف دیتی ہے۔

    اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اپنے وسائل براہ راست متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے۔ اگر بیگ اور ڈبوں کی پرنٹنگ پر لگنے والا پیسہ متاثرہ خاندانوں کو صاف پانی، ادویات یا عارضی رہائش کی فراہمی پر استعمال کیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس کے برعکس موجودہ پالیسی نے حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد خدمت نہیں بلکہ اشتہار بازی ہے۔

    اس سارے تناظر میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ حکومت کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ اگر لیڈرز واقعی عوامی نمائندے ہیں تو انہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، نہ کہ تصویر والے بیگز کے ذریعے ان کے زخموں کو کھرچا جائے اور دکھ کم کرنے کے بجائے ان کے دلوں میں مزید نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ سیلاب زدگان کو ضرورت ہے خوراک، دواؤں، رہائش اور معاشی مدد کی، نہ کہ پبلسٹی کی۔ اگر یہ رویہ جاری رہا تو عوام کی مایوسی اور بداعتمادی ایک بڑے احتجاجی طوفان میں بدل سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ایک سیاسی خاندان پر نہیں بلکہ پورے نظام پر پڑیں گے۔

  • سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    "حالیہ سیلاب نے شہر اقبال کو مفلوج کر دیا، گندے پانی اور تعفن سے شہری پریشان ہیں۔ اربوں کا ٹھیکہ لینے والی نااہل کمپنی صفائی میں ناکام رہی، شہریوں نے فوری معاہدہ منسوخ کرنے اور کرپٹ عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔”

    تحریر: مدثر رتو، ڈسٹرکٹ رپورٹر، باغی ٹی وی، سیالکوٹ

    حالیہ طوفانی بارشوں اور مکار دشمن بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلے نے شہر اقبال کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سارا شہر اور گردونواح کے علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے، مال مویشی پانی میں بہہ گئے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر تیار فصلیں تباہ ہو گئیں۔ سینکڑوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں اور نکاسیِ آب کے باوجود کئی روز تک اندرونِ شہر اور نشیبی علاقوں میں چار سے پانچ فٹ پانی کھڑا رہا۔

    واسا کا عملہ بھی دن رات سیلابی پانی نکالنے کے لیے مصروف رہا، مگر ہر طرف تعفن پھیلا ہوا تھا۔ نکاسیِ آب میں تاخیر اور تعفن کا ذمہ دار ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ناآزمودہ اور نااہل عملہ ہے، کیونکہ بدقسمتی سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا اربوں روپے کا ٹھیکہ ایک انتہائی ناآزمودہ، نااہل اور مالی طور پر غیر مستحکم کمپنی کو دیا گیا تھا . جس کا اس سے قبل نہ تو کوئی تجربہ تھا اور نہ مبینہ طور پر کوئی مناسب مشینری۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یہ جو کمپنی کے ظاہر کئے جانے والے مالکان ہیں وہ محض مہرے ہیں اور اصل مالک مبینہ طور پر پردہ نشیں ہیں۔

    اس ناآزمودہ اور نااہل کمپنی کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے سیالکوٹ، تحصیل سمبڑیال، ڈسکہ سمیت شکرگڑھ اور نارووال کا نہ صرف ٹھیکہ دیا گیا بلکہ دس فیصد ٹھیکے کی رقم، جو کہ کروڑوں روپے بنتی ہے، بطور ایڈوانس بھی ادا کی گئی۔ جب سے یہ کمپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہے شہر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے اور ورلڈ بینک کی جانب سے دی گئی کروڑوں روپے مالیت کی مشینری کا بھی بیڑہ غرق ہو چکا ہے، مگر انہیں کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ ان کے کچرا اٹھانے کا نہ تو کوئی ٹائم فریم ہے اور نہ ہی کوئی مناسب ڈمپنگ پوائنٹس ہیں۔

    پل ایک نیکا پورہ کے قریب، سکول نمبر 2 کے پاس، وزن کے لیے لگنے والے کانٹے کے سامنے سارا دن گندگی سے بھری ہوئی ٹرالیاں اور ڈمپرز کی لمبی قطاریں کھڑی رہتی ہیں جو ہر طرف تعفن پھیلا دیتی ہیں اور ٹریفک کا بلاک رہنا معمول بن چکا ہے۔ اسی جگہ سے بچے انتہائی تعفن سے گزر کر سکول جاتے ہیں اور کانٹے کے بالکل سامنے قبرستان ہے جہاں اکثر جنازوں کا گزرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

    یہ ناآزمودہ ٹھیکیدار گلی محلوں سے اٹھایا گیا کوڑا کچرا واپس انہی نالوں میں پھینک دیتے ہیں اور اسی وجہ سے سیلابی پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آئیں، کیونکہ کوڑے سے بھرے ہوئے شاپرز سیوریج کے پائپوں میں بلاکیج کا باعث بنے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق سیلاب سے قبل ناقص کارکردگی کے باعث اس نااہل کمپنی پر مبینہ طور پر بھاری جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دینے سے قبل کن کن قومی اخبارات میں ٹینڈرز کے اشتہارات دیے گئے تھے اور ٹینڈرز کے وقت کتنی نامور کمپنیوں نے حصہ لیا تھا؟ اس ناآزمودہ کمپنی کو کس بنیاد پر اربوں روپے کا ٹھیکہ دیا گیا جس نے شہر اقبال کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا ہے؟ حالانکہ اس کمپنی سے پہلے سیالکوٹ اندرونِ شہر اور گردونواح میں صفائی ستھرائی کی مثال تھی۔

    شہریوں نے اربابِ اختیار سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس ناآزمودہ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کر کے کسی تجربہ کار کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے، اور ساتھ ساتھ جن کرپٹ ٹھیکیداروں نے اربوں روپے کی لاگت سے سڑکیں بنوائیں انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اُن سرکاری افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن کے دستخطوں سے مبینہ طور پر بھاری بل پاس ہوئے تھے؛ ان قومی مجرموں کی جائیدادیں ضبط کر کے نیلام کی جائیں اور رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے، اور انہیں سخت ترین سزائیں دلوانی جائیں۔

  • عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    ڈیرہ غازی خان کی پہچان صرف جغرافیہ یا روایت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ خطہ اب پاکستان بھر کی اعلیٰ شخصیات کی فکری بیٹھکوں کا مرکز بن چکا ہے۔ آج بھی اس روایت کو قائم رکھتے ہوئے کامرس کالج کے قریب واقع "عام آدمی کیفے” میں ہونے والی حالیہ نشست اس بات کا بین ثبوت ہے، جہاں ملک کی قدآور اور تاریخ ساز شخصیات نے اپنی گفتگو سے نئے فکری دروازے کھول دیے۔

    اس نشست میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نامور مرکزی رہنما اور مسلسل 40 سالوں سے ایوانوں میں عوامی آواز بلند کرنے والے صاحبزادہ رحیم آصف مجددی شریک ہوئے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف سیاست بلکہ علم، تاریخ اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے اور آپ کی بے گراں خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اسی محفل میں علم و دانش کے سمندر، سابق وائس چانسلر اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر امین الدین، فکر و تحقیق کی علامت پروفیسر سردار نسیم خان چانڈیہ، اور سینئر جرنلسٹ و کالم نگار جواد اکبر بھٹی بھی موجود تھے۔

    گفتگو کا مرکزی نکتہ ڈیرہ غازی خان اور اردگرد کے علاقوں میں کینسر اور گردوں کے امراض کے بڑھتے ہوئے مسائل تھے۔ متفقہ طور پر یہ آواز بلند کی گئی کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک کینسر اور کڈنی ہسپتال قائم کیا جائے۔ اس تحریک کو ہر فورم پر اٹھانے اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت وقت پر یہ مطالبہ بھرپور انداز میں سامنے آئے۔

    مزید برآں کشمور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ڈبل روڈ کی اشد ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف تجارت، سیاحت اور عوامی سہولت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا بلکہ پورے خطے کی ترقی کے نئے باب کھول دے گا۔

    صاحبزادہ رحیم آصف مجددی کی خدمات تو بے پناہ ہیں جن میں ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ ڈیرہ غازی خان کا گرلز کالج ماڈل ٹاؤن انہی کی محنت اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان کی عوامی خدمت اور تعلیمی وژن کی روشن مثال ہے جسے ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

    نشست میں اس بات پر بھی سخت مذمت کی گئی کہ تعلیم اور صحت کو ایک صنعت (انڈسٹری) میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیم اور صحت کو کاروبار بنانا دراصل عوامی حق تلفی ہے اور اس سوچ کو ہر سطح پر چیلنج کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

    اسی طرح بارڈر ملٹری پولیس میں حالیہ بھرتیوں کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ خصوصاً میرٹ پر ہونے والی بھرتیاں اور خواتین کی شمولیت ایک مثبت قدم ہیں جو قبائلی سماج میں نئے امکانات پیدا کرے گا۔

    گفتگو کا سب سے اہم پہلو عوامی بیداری پر زور دینا تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند نہیں کریں گے، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ یہی شعور دراصل ڈیرہ غازی خان اور پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

    یہ نشست محض ایک فکری محفل نہیں تھی بلکہ ایک نئی تحریک کا آغاز تھا، ایک تحریک جو صحت، تعلیم، ترقی اور عوامی بیداری کے راستے روشن کرے گی۔

    📌 "ریاست کی اصل بقا صرف مضبوط ایوانوں یا بڑی شاہراہوں میں نہیں بلکہ ایسے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عوامی بیداری میں ہے جو ہر شہری کو باعزت زندگی جینے کا حق دے سکیں۔”

  • چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین ایک ترقی یافتہ ملک ہے جسے دیکھنے کا خواب شاید بہت سے لوگوں نے دل میں بسایا ہو۔پاکستان سمیت پوری دنیا چین کی ترقی کی معترف ہے۔چائنہ ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور سے صحافیوں اور شعبہ تعلیم سے وابستہ 12رکنی وفد میں مجھے بھی چین جانے کا موقع ملا۔دورہ چین میں ہم نے بیجنگ، ینچوان، گوئیانگ اور گوانگژوکا وزٹ کیا۔
    چین کے ہر شہر کی ترقی اور مثالی نظم و ضبط نے ہمیں ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ روبوٹک کام سے لے کر فاسٹ ٹرین کے سفر تک ہر لمحہ ایک نیا تجربہ تھا۔

    سب سے زیادہ متاثر کن پہلو وہاں کا ویسٹ مینجمنٹ سسٹم تھا، جہاں کچرے اور راکھ کو ضائع کرنے کے بجائے اینٹوں میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ تعمیرات میں استعمال ہو سکے۔ یہ وہ سوچ ہے جو نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ وسائل کے بہترین استعمال کی علامت ہے۔چین میں فیکٹریوں میں مزدور اور روبوٹ ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ ڈرائیور لیس گاڑیوں کا تجربہ بھی حیران کن تھا۔ بیجنگ سے گوانگژو کے سفر نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ چین اپنی ٹیکنالوجی کو کس طرح عوامی زندگی میں ضم کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کا Face Recognition System کمال کی رفتار سے کام کرتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے۔ نہ کوئی اضافی فورسز بنائی گئیں اور نہ ہی کسی ہنگامہ آرائی کی ضرورت ہے۔ چین کی پولیس تیز ترین، قانون نہایت سخت اور خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ وہاں کسی مرد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر شیک ہینڈ بھی کر سکے۔ یہ وہ فرق ہے جو چین کو مغربی معاشروں اور خاص طور پر برصغیر سے منفرد بناتا ہے۔

    چینی عوام اپنے رویوں میں بھی مختلف ہیں۔ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور دوست ممالک کے ساتھ نہ صرف حکومت بلکہ عوامی سطح پر بھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ چین میں سیکیورٹی نظام انتہائی فول پروف اور مؤثر ہے مگر مسافروں کی عزت نفس پر کوئی حرف نہیں آتا۔ سیلاب ہو یا کوئی قدرتی آفت، چین کا سیفٹی سسٹم ہمہ وقت ہنگامی بنیادوں پر تیار رہتا ہے۔چین نے اپنی ترقی اور تہذیب کو محفوظ بنانے اور اس قدیم و عظیم ورثے کو دکھانے کے لیے ہر شہر میں شاندار میوزیم قائم کر رکھے ہیں، جن میں غربت کا میوزیم، میٹرو میوزیم اور وار میوزیم شامل ہیں۔ وہاں ہمیں 7th China-Arab States Expo میں شرکت کا موقع بھی ملا، جہاں ہم نے عرب ممالک کو چین کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ چین تیزی سے ایک نئے عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔
    یقیناً آنے والے دس برسوں میں چین وہ سپر پاور ہوگا جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کی حیثیت مدھم پڑ جائے گی اور دنیا کے ممالک خود چین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس کی دوستی ایک ایسے ملک کے ساتھ ہے جو نہ صرف ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا کے لیے رول ماڈل بھی ہے۔

    چین کا پیغام سادہ ہے خواب حقیقت بن سکتے ہیں اگر سوچ وسیع، قانون سخت، قیادت وژنری اور عوام منظم ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی صبح کو بیجنگ کی صبح کی طرح روشن بنا سکتے ہیں؟ اگر ہم اس رفتار سے نا چل سکے تو شاید اندھیرا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہونا بہت بڑا المیہ ہے جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے

    پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے

    آخر کیا وجہ بنی کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس رپورٹ پر نہ خود عمل کیا اور نہ ہی عملدرآمد کروایا اور نہ ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیا؟

    وزراء اعلٰی پنجاب سندھ، بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان ڈچ رپورٹ منگوا کر اس پر ورک کریں اور ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائیں

    قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی سوچ کو بدل لیں۔نیدر لینڈ نے بدلا اور بچ گیا۔ ہم کب بدلیں گے؟ یا ہر سال اگلے سیلاب تک پھر صرف رونا اور انتظار کریں گے؟

    نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ نے 2022 کے سیلاب کے فورا بعد 16 مئی 2023 میں سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے وزٹ کے بعد نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے اور پانی سے متعلقہ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ آبی وسائل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ورکشاپ منقعد کی تھی جس میں بین الاقوامی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، غیر ملکی مشنز اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جس میں پانی کی بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن (DRR) ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس موقع پر ڈچ ماہرین کے تعاون کو سراہتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین مسٹر احمد کمال نے وزارت آبی وسائل کے ذریعے پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان آبی وسائل اور سیلاب کے انتظام پر طویل المدتی تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ ہالینڈ کی سفیر مسز ہینی ڈی وریس نے کہا تھا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈز میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کی حمایت کی تھی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبی آفات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہالینڈ کی جانب سے جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ساتواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے، اور حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت سے استفادہ کیا جا سکے، اور مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے لچکدار اور موافقت پذیر انفراسٹرکچر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میڈیا چند دن شور مچاتا ہے، حکومت امداد مانگتی ہے، بیرونی ایجنسیاں تھوڑا سا فنڈ دیتی ہیں اور پھر سب کچھ بھول کر ہم اگلے سیلاب کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ ڈیم بنائے جاتے ہیں۔ نہ دریاؤں کی صفائی ہوتی ہے۔ نہ حفاظتی بند مضبوط کیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہم نے نیدرلینڈز ماڈل کو کیوں نہیں اپنایا اور نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کیا؟ کیا ہم اپنے ملک کے عوام کو ہر بار کی طرح ایسے ہی سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں دیں گے؟ ہر سال اربوں کے نقصانات کرتے رہیں گے۔ مگر کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے ماہرین سے استفادہ حاصل نہیں کریں گے؟ نیدرلینڈ نے سیلاب کو شکست دی، پاکستان کب جاگے گا؟ فرق صرف سوچ کا ہے۔ نیدرلینڈ کا تقریباً 26 فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں کئی بار یہ ملک تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہوا، مگر وہاں کے لوگوں نے اپنی تقدیر کو بدلا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سب کچھ اللہ کے حوالے ہے اور بس انتظار کیا جائے۔ بلکہ انہوں نے محنت، منصوبہ بندی اور سائنس کا سہارا لیا۔ انہوں نے ڈیم اور بیریئرز بنائے جو سمندر کے پانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ڈیلٹا ورکس جیسا منصوبہ بنایا جو دنیا کا انجینئرنگ کا عجوبہ مانا جاتا ہے۔سٹروم سرج بیریئرز تیار کیے جو طوفانی پانی کو روک لیتے ہیں۔ پولڈرز سسٹم بنایا جس سے نیچے زمین کو خشک کر کے زراعت کے قابل بنایا۔ اور پھر ڈیجیٹل سسٹمز لگائے جو ہر وقت پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے ہیں۔ نیدر لینڈ دنیا کا وہ ملک جس کا ایک تہائی حصہ سمندر کے نیچے ہے، آج سیلاب پر قابو پا کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور ہم، جنہیں اللہ نے بڑے بڑے دریا، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل دیے ہیں، آج بھی ہر چند سال بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور بس یہی کہتے ہیں: “یہ اللہ کا عذاب ہے، آزمائش ہے۔ ہم نیدرلینڈ سے چند ایک چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہمیں سمندروں کے بجائے دریاوں کے اوورفلو پر نظر رکھنا ہوگی، اس کے لیے زیادہ محفوظ اور تگڑے بند بنائے جائیں، بیراج اپ گریڈ ہوں، نہروں کے پشتے مضبوط کیے جائیں۔نیدر لینڈز ماڈل کا فلسفہ (پانی کو جگہ دو اور انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ساتھ لے کر چلو) پاکستان میں فائدہ دے سکتا ہے، مگر پاکستان کو اپنی مقامی حقیقت (مون سون، بڑے دریا، زیادہ گاد، کمزور ادارے) کو دیکھتے ہوئے مقامی ایڈاپٹیڈ ماڈل بنانا ہوگا۔ جبکہ نیدرلینڈ ماڈل کے تین پہلو قابلِ عمل پہلو ہیں جیسے کہ دریاوں کے ساتھ فلڈ بفر زون بنانا۔ نشیبی علاقوں میں خاص طور سے ایسا کیا جائے کہ شہروں میں بارش کے پانی کی سمارٹ مینجمنٹ۔ برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی وسعت بڑھانا، سیوریج کی بہتری، نشیبی جگہوں پر پانی چوس کنوئیں کھودنا تاکہ پانی زیرزمین چلا جائے وغیرہ۔ جبکہ مقامی سطح پر واٹر بورڈ اور واٹر مینجمنٹ کےمضبوط، مستحکم ادارے، ویسے تو پاکستان میں یہ خواب ہی ہے، حب کہ نیدر لینڈ ماڈل کا ایک حصہ اندرون سندھ میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری پانی کے کٹاؤ میں کمی ہو اور ڈیلٹا بڑھ سکے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر نیدر لینڈ جیسے چھوٹے ملک نے پانی کو دشمن کے بجائے ایک منصوبے کے ذریعے دوست بنا لیا تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ہمیں نئے ڈیمز اور ریزروائرز بنانے چاہییں۔ دریاؤں کے کناروں پر مضبوط حفاظتی بند اور بیریئرز بنانے ہوں گے۔ آبی وسائل کی وزارت میں سیاستدان نہیں بلکہ ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔ دریاؤں کے قریب بے ہنگم آبادی روکنی ہوگی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعلٰی سندھ، وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان ڈچ ماہرین کی 2023 والی رپورٹ منگوائیں اور اس پر ورک کریں اور ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب نیدرلینڈز کے واٹر مینجمنٹ کے ماہرین کی ٹیم آئی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی مگر واٹر مینجمنٹ پاکستان نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی، اگر اس وقت اس رپورٹ کی روشنی میں عملدرآمد کیا جاتا تو آج جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے وہ ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔

  • سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت دوہری آفت کی لپیٹ میں ہے ایک طرف تباہ کن سیلاب اور دوسری طرف وحشیانہ دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ . مسلسل بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے شہروں، دیہاتوں، گاؤں اور کھیتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا جبکہ دہشت گردی کے تازہ حملوں نے عوام کے شعور اور جذبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ بحران نہ صرف جان و مال کو تباہ کر رہا ہے بلکہ قومی یکجہتی کے عزم کو بھی شدید زَک پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا خطرہ دراصل بین الصوبائی سیاسی انتشار اور تقسیم ہے جو ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد ہونے سے روک رہا ہے۔ سیلاب کی تباہی نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہوئی ہیں اور روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ یہ حالات شدت پسندوں کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں کیونکہ غربت اور مایوسی ہی شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ بحالی کے منصوبوں پر بھی فوری توجہ ضروری ہے. متاثرہ علاقوں میں فوری امداد، روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی نہ صرف عوام کے دکھ کم کریں گے بلکہ شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد دیں گے۔

    یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد سے عبارت ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے فوجی آپریشنز نے واضح کر دیا کہ جب ریاست نے پوری قوت سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تو ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ تاہم آج وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں میں تضاد اس کامیابی کو دُھندلا رہا ہے۔ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت گیر رویے کی حامی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے دروازے بند کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت مذاکرات اور محدود کارروائیوں پر زور دیتی ہے، یہ متضاد پالیسیاں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہیں اور عوام میں تذبذب پیدا کر رہی ہیں۔ جب صوبائی قیادت فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری قرار دیتی ہے تو عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کس پر بھروسہ کیا جائے ، ریاست کی فوج پر یا سیاسی قیادت پر؟ یہی الجھن دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑے کامیابی ہے کیونکہ انہیں انتشار کے ماحول میں پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

    ماضی کے تجربات ہمیں سبق دیتے ہیں کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی سے گفت و شنید اور جنگجوؤں کی واپسی کی پالیسی نے عارضی سکون تو دیا مگر طویل المدت امن برقرار نہ رہ سکا، ہزاروں جنگجوؤں کی واپسی اور انہیں بسانے کی کوشش نے بالآخر دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کیا۔ یہ تلخ سبق ثابت کرتا ہے کہ شدت پسندوں کے سامنے نرم رویہ اختیار کرنا بسا اوقات ملک کے مفاد میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف میں سختی اپنائی ہے، مگر کے پی کی قیادت کے بعض بیانات، مثلاً افغان طالبان سے براہِ راست رابطوں کے اعلانات، وفاقی موقف کو کمزور کر رہے ہیں اور آئینی دائرہ کار کو بھی الجھا رہے ہیں۔ ایسے بیانات محض سیاسی اختلاف کو وسیع نہیں کرتے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں. جب صوبائی سرکردہ شخصیات فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری یا انسانیت سوز قرار دیتی ہیں تو سادہ آدمی کے ذہن میں الجھن جنم لیتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کمزور پڑ جاتی ہے۔

    افغانستان کی موجودہ صورتحال اس پورے عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ بظاہر وہاں کی حکمتِ عملی میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں دکھائی جاتی ہیں مگر کئی بار یہ نمائشی نوعیت کی ثابت ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی حلقوں کے مطابق بعض اوقات طالبان نے کارروائیوں کا ڈرامہ رچا کر حقیقی مؤثر کارروائی سے گریز کیا اور اسی خلا سے دہشت گرد سرحد پار آ کر ہمارے اندرونی محاذوں کو ہدف بناتے رہے۔ اسی پس منظر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کا معاملہ بھی شدید تنازع بن گیا ہے، وفاق ان مہاجرین کو سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر ان کی واپسی پر زور دیتا ہے(جو پاکستان کے امن کیلئے واقعی حقیقی خطرہ ہیں ) جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت اسے انسانی بنیادوں پر زبردستی نکاسی قرار دے کر مخالفت کرتی ہے۔ یہ اختلاف انتہاپسند پروپیگنڈے کو مواد فراہم کرتا ہے اور وہ ریاستی رویے کو عوام دشمنی کے طور پر پیش کر کےدہشت گردوں کے لئے عوامی ہمدردی پیدا کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔

    ان تمام پیچیدگیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی محض صوبائی یا وفاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر سیاسی اختلافات اور پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی گئی تو یہ لڑائی کبھی مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکے گی۔ دہشت گرد کسی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو نہیں دیکھتے بلکہ ان کا واحد ہدف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اسی لیے وفاق اور صوبوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ایک جامع، شفاف اور مربوط پالیسی مرتب کرنا ہوگی جو عسکری اور سول اقدامات کا متوازن امتزاج ہو، عوام میں اعتماد بحال کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا خوف و خطر اپنا کام سر انجام دینے کے قابل بنائے۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب پاکستان متحد ہوا تو دشمن پسپا ہوا اور جب ہم منتشر ہوئے تو وہ دوبارہ نمودار ہو گیا۔ لہٰذا یہ وقت سیاسی انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم کی طرح کھڑے ہونے کا ہے۔ وفاق اور خیبرپختونخوا کو فوری طور پر ایک عملی اور آئینی طور پر ہم آہنگ حکمت عملی طے کرنی چاہیے، جس میں بحالی کے منصوبے بھی شامل ہوں تا کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو روزگار اور تحفظ ملے اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کے لیے مواقع کم ہوں۔ سیاسی جماعتیں اگر آج بھی قومی مفاد کی بجائے مخاصمت کا راستہ اپنائیں گی تو دہشت گردی اسی دراڑ سے گھس کر ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دے گی۔

    آخر میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر صوبائی رہنماؤں کو واضح پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گی۔ ریاستِ پاکستان، آئین اور قوم کی سلامتی سب سے مقدم ہیں۔ اس جنگ میں سمجھوتہ ممکن نہیں۔
    پاکستان زندہ باد،
    افواجِ پاکستان پائندہ باد۔