٢٠ سال سے امریکہ،نیٹو سمیت دنیا کی عالمی طاقتیں افغانستان میں طالبان کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کرنے کے بعد آخرکار گھٹنے ٹیک گئ اور یہ تسلیم کرلیا کہ امریکہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا اربوں ،کھربوں ڈالر لگاکر امریکہ طالبان کا مقابلہ تو نا کرسکا البتہ امریکا نے جنگ کے نام پر جو تباہی مچائ افغانستان میں اور جس طرح کے حالات پیدا کردیئے گئے اس کے بعد افغانستان کی عام عوام بھی ان عالمی طاقتوں سے تنگ آچکی تھی ،امریکہ نے نام نہاد افغان حکومت قائم کی لیکن اس حکومت کے مفاد شاید افغانستان سے ذیادہ اپنی جائیدادیں بنانے کا تھا اس لئے وہ حکومت بھی افغان عوام کے دل نا جیت سکی ،انڈیا نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور افغان سرزمین کو افغان حکومت کی مدد سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی دھشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کا شکوہ کئ بار پاکستان افغانستان سے کرچکا اور عالمی فورم پر انڈین دھشتگردی کے ثبوت پیش کئے ،دوسری طرف پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان کی عوام کے فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتا رہا ،جس کی واضع مثال پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ہیں ،دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ۴٠ لاکھ افغان مہاجرین کو نا صرف پاکستان میں پناہ دی بلکہ ان کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے گئے جو کسی عام پاکستانی کو دستیاب ہیں
پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان میں امن کا خواہاں رہا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان سمیت اس خطے کے لئے بھی نہایت ضروری ہے
لیکن عالمی دنیا نے افغانستان کو ہمیشہ ایک جنگ کا میدان بنائے رکھا جس کا نقصان پورے خطے کو ہوتا رہا اس ساری صورتحال میں جہاں امریکہ جنگ ہارچکا تھا وہیں افغان عوام کا بھی امریکہ اور اپنی افغان حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ،جس کا اندازہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے فوری بعد ہوا جب طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں کی طرف پیش قدمی شروع کی تو جس طرح افغان عوام نے طالبان کو خوش آمدید کہا اس سے واضع ہورہا ہے کہ افغان عوام طالبان سے خوش ہیں اور طالبان کو جب عوامی حمایت حاصل ہوئ تو افغان آرمی نے سرنڈر کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے افغانستان بغیر کسی خانہ جنگی کے پرامن طریقے سے افغان طالبان کے کنٹرول میں آگیا اور افغان صدر سمیت کئ رہنماوں نے راہ فرار اختیار کی
آج افغانستان پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے یوں سمجھیں طالبان نے مکمل طور پر افغانستان کا اقتدار سنبھال لیا
لیکن اس وقت کچھ نام نہاد ممالک اور ہمارے ملک میں موجود لوگ پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگارہے ہیں ،ان الزامات کو پاکستان نے کئ بار مسترد کیا ہے
ایسے نام نہاد لوگوں سے کوئ پوچھے
امریکا ٢٠ سال سے طالبان کے خلاف جنگ کیوں جیت نا سکا؟ افغان فوسز نے ایک دن بھی طالبان سے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ ،اقتدارا پر بیٹھے لوگوں نے راہ فرار اختیار کیوں کی؟ اور افغان عوام نے طالبان کا بھرپور استقبال کیوں کیا؟کیا یہ سب کچھ بھی پاکستان کی وجہ سے ہوا؟ کیا پاکستان امریکا سے بھی بڑا سپر پاور ملک ہے؟
پاکستان پر اس طرح کے الزامات لگانے سے بہتر ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکا جائے
افغانستان میں طالبان حکومت کے پیچھے کوئ اور طاقت نہیں بلکہ افغان عوام کھڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ افغان عوام کی رائے کا احترام کرتا تھا کرتا رہے گا
Category: بلاگ
-

افغانستان پر طالبان حکومت اور پاکستان ! تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
-

علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی
انسان کو الله تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلیے پیدا فرمایا ۔اللہ اگر چاہتے تو عالم ارواح ہی میں انسان کو ولایت عطا فرما دیتے ۔ لیکن اللہ نے اس کے حصول کیلئے انسان کو دنیا میں بھیجا۔
ولایت کے حصول کا راستہ تین قدم ہے۔ جب تک تینوں قدم نہیں اٹھیں گے اس وقت تک منزل پر نہیں پہنچیں گے۔ اس میں پہلا قدم علم کا حاصل کرنا ہے۔ بے علم انسان اپنے پروردگار کو نہیں پہچان سکتا۔
آدمی ہر وقت تو مفتی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتا کہ ان سے راہنمائی لیتا رہے۔ جب کبھی تنہا ہو تو کیسے پتا چلے گا یہ کام ٹھیک ہے؟ یہ غلط ہے؟ اس لیے ضروریاتِ دین کا جانا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔
الله پاک نے انسان کے اندر تین قسم کے اعضاء بنائے ہیں۔
1: اعضائے علم 2: اعضائے عمل. 3: اعضائے مالاعضائے علم:یعنی علم حاصل کرنے کے اعضاء ،کان،آنکھ اور دماغ۔
جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔
ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو
جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔اللہ نے ان اعضاء کو بدن کے سب سے اوپر رکھا۔ اسلیے کہ علم وقعت والا ہے۔ اور ان اعضاء کے ذریعہ انسان کو علم حاصل ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن بھی ان ہی اعضاء کے بارے ميں سوال ہوگا۔ "ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا” پوچھا جائے گا ان اعضاء سے کون سا علم حاصل کیا ؟ دین کا علم حاصل کیا یا نہیں؟
دنیا کی تمام تر ترقی علم پر منحصر ہے۔ علم ہی دراصل ایک انسان کو انسانی صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ جس کی بدولت انسان نیکی اور بدی میں تمیز کرسکتا ہے۔ علم ہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان دوسرے انسانوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسان بجلی کی گرج سے ڈرتا تھا اور آج وہی انسان اس پر قابو پاچکا ہے۔ اسے اپنے قبضے میں کر چکا ہے۔ بجلی کو کئی اہم کاموں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ علم کی بدولت انسان نے اطپنے لئے تفریح طبع کی سہولتیں بھی پیدا کرلیں ہیں۔ علم ایسا نور ہے جس سے جہالت اور گمراہی کی تاریکیاں دورہوجاتی ہیں۔ علم کی بدولت انسان کی چشمِ بصیرت روشن ہوجاتی ہے جس کی بدولت اس میں نیکی و بدی اور حق باطل کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ علم ایسا بیش بہا جوہر۔ علم سے انسان کے اطوار شائستہ اور اخلاق پاکیزہ بن جاتے ہیں۔ وہ دل و دماغ کو جہالت کے گہرے اندھیروں اور گہرائیوں سے نکال کر اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ جہاں حسد و بغض، دشمنی اور لالچ کا گزر نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان کو نیکی، خلوص، فیاضی اور دوستی جیسی عظیم صفات عطا کرتا ہے۔
دنیا کی یہ تمام تر ترقی علم ہی کی بدولت ہے علم کی بدولت ہی آج کا انسان خلاءکو مسخر کررہا ہے۔ علم انسان کو جرات،بہادری، ہمت، استقلال، تدبر و بردباری اور ہر قسم کی عقدہ کشائی کی صلاحیت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے دنیا کا چپہ چپہ چھان مارا، قطبِ شمالی سے لیکر قطب جنوبی تک زمین کو رندتا چلا گیا۔
انسان کے اندر کچھ فطری چیزیں ہوتی ہیں جیسے بھوک اور پیاس کا ہونا۔ اسی طرح انسان میں علم کا جزبہ بھی فطری ہوتا ہے۔ اس کی آسان سی دلیل جہاں کوئی چند آدمی اکھٹے کھڑے ہوں ۔دوسرا کوئی آدمی آجائے تو فوراً پوچھے گا کیا ہوا ؟ کیوں کھڑے ہو؟ اور اگر کوئی واقعہ درپیش ہو تو پھر سوال ہو گا ۔کیسے ہوا؟ یہ سب اصل میں علم ہے ۔ چونکہ وہ آدمی لاعلم ہوتا ہے۔ اور اس علم کیلیے وہ سوال کرتا ہے۔ اسی لیے ضرورتِ دین کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ "الطلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ”۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ علم ایک روشنی ہے۔ اس کے برعکس دیکھا جائے تو جہالت اندھیرا ہے، یہ اندھیرا روشنی سے دور ہو گا۔ نہ کہ اندھیرے کو گالیاں دینے سے وہ دور ہو گا ۔ جس طرح ایک حقیقی اندھیرا بغیر روشنی کے دور نہیں ہوتا ۔اسی طرح جہالت کا اندھیرا بھی علم کی روشنی بغیر دور نہیں ہوگا۔ لہذا علم حاصل کریں ۔ جہالت خود بخود دور ہو جائے گی، اور ولایت کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔ بندگی کا طریقہ بھی علم میں آجائے گا۔
Twitter | @AdnaniYousafzai -

وَبا کی صورتحال میں ہمارا رویہ تحریر: محمد اسعد لعل
جب سے کرونا وائرس کی صورتحال پیش آئی ہے دو رویے ہیں جو سامنے آئے ہیں۔ مذہبی لوگ اس کو خدا کی آزمائش قرار دے کر لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کر رہے ہیں۔ اور جو غیر مذہبی لوگ ہیں وہ اس کا سائنسی طور پر علاج تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں لوگوں کو کیا کرنا چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کرنا چاہیے یا پھر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی علاج ڈھونڈنا چاہیے؟
میرے حساب سے بندہ مومن کو ان دونوں طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ مجھ پر انفرادی طور پر جب کوئی تکلیف آتی ہے تو میرے مذہب نے مجھے یہ تعلیم دی ہے کہ مجھے اس کی تدبیر تلاش کرنی چاہیے۔ آپ یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کو کوئی تکلیف یا بیماری ہو تو دور دراز دیہات کے لوگ بھی مریض کو چارپائی پر اُٹھا کر ہسپتال تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کو بھی اس طرح کی صورتحال میں اس بیماری کا علاج تلاش کرنا چاہیے۔ جو چیزیں دریافت ہو جائیں ان کو تدبیر کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ یہ چیز خود ہمارے مذہب کی سیکھائی ہوئی ہے۔ ہم کسی ایسے مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں جو کوئی جادو منتر کی چیزیں سکھاتا ہو۔ مجھے نہیں معلوم کے جو لوگ اپنا نقطہ نظر مذہب پر تنقید میں بیان کرتے ہیں انہوں نے یہ چیز کہاں سے سنی اور پڑھی ہے۔قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اس سب سے خالی ہیں۔ یعنی ہم تو بالکل سائنسی ذہن رکھنے والے لوگ ہیں۔
جب بھی کوئی تکلیف آئے گی، مصیبت آئے گی یا دنیا میں کوئی معاملہ ہو گا تو سب سے پہلے جو ہمیں تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل استعمال کریں گے اور تدبیر کریں گے۔ یعنی یہ ہمارا مذہب ہے جس نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ سورۃ یوسف دیکھیں، وہاں یہ ہدایت کی گئی کہ ایک قحط آنے والا ہے۔ اس کے لیے ایک خواب دکھایا گیا کہ یہ اہتمام کرنا ہے۔ خدا کے پیغمبر نے یہ تدبیر دی اور غلہ محفوظ کیا گیا۔
اس میں کوئی دعا نہیں کی گئی یا کوئی جنتر منتر نہیں کیا گیا بلکہ تدابیر بتائی گئی ہیں۔ یہ تدابیر ہماری مذہبی تعلیم اور مذہبی شعور کا حصہ ہیں۔ ہمیں کہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ ایک طرف اگر لوگ علاج کر رہے ہیں تو دوسری طرف اطمینان کے ساتھ بیٹھ کے کوئی منتر پڑھ لیا جائے۔
دوسری بات، یہ جو بیماری یا تکلیف آتی ہےاس کے بھی دو پہلو ہیں۔ یعنی ایک اس کا سائنسی پہلو ہے کہ یہ کن اسباب سے آئی ہے،ان اسباب کو پیدا کرنے میں میرا اورآپ کا کیا دخل ہے، غلطی کہاں ہوئی ہے۔ تو اس میں ہمارا رویہ یہی ہونا چاہیے کہ ہم اس غلطی کو تلاش کریں اور اس کو ٹھیک کریں۔
لیکن دوسری جانب ہمیں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے یہ اس مالک کی طرف سے ہوتا ہے، اُس کے علم سے ہوتا ہے۔ اور ہم نے اس کی بارگاہ میں حاضر بھی ہونا ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ وہ کیوں ہونے دیتا ہے۔ یعنی وہ ہماری غلطیوں کے باوجود اس پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کو روک دے، وہ اس کائنات کا خالق ہے۔ عذاب کا دروازہ تو آپﷺ کے بعد بند ہو گیا تھا، لیکن اس نے اپنی کتاب میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ یہ سب تنبہ کے لیے کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے گناہوں کی طرف متوجہ کرتی ہے،خدا کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ اس وقت بھی اگر آپ دیکھیں تو اس وباء (کرونا وائرس) نے ہم مسلمانوں کو خدا یاد کروایا ہے۔بلکہ پوری دنیا کو یاد کروا دیا ہے۔لوگ اب دعائیں کرنے لگے ہیں، تو یہ وہ تنبہ کا پہلو ہے۔ اللہ نے یہ دنیا بنائی ہی اس طریقے سے ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک تنبہ ہے اور ہمیں اطمینان سے بیٹھ جانا چاہیے۔ ہمیں وہ سب کام کرنے ہیں جو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہم نہیں کریں گے تو پھر اللہ کے قانون کے مطابق یہ تنبہ بہت بڑی سزا بن جائے گی۔ دنیا میں جو ہمیں علم دیا گیا ہے، عقل دی گئی ہے اس کا استعمال نہ کرنا بھی بُرے نتائج کاذریعہ بن جاتا ہے۔
ہمارے دین کی یہی تعلیم ہے، اس لیے اس صورتحال میں ہمیں تدبیر کرنی چاہیے اس کے بعد اپنی تمام تدبیروں کی کامیابی کے لیے اپنے رب سے دعا کرنی چاہیے۔ اور یہی ایک مومن انسان کا رویہ ہونا چاہیے۔
twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal -

اٖفغان باقی ، کہسار باقی محمد عتیق گورائیہ
افغانستان میں ایک بار پھر سے عالمی طاقت کے تکبر کو ، رعونت کو اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ امریکا جو ناٹو کو لے کر جدید ترین اسلحہ و ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوکر میدان میں اترا تھا اور افغانستان کے باسیوں کو پتھر کے دور میں بھیجنے کے درپے تھا ۔ لمبے عرصے تک طالبان سے نبرد آزما رہا اور علاقوں پر علاقے قبضے میں کرتا رہا ۔ بدنام زمانہ تشدد کیا گیا ، جدید ترین اسلحہ بنا کر اہل افغانستان پر آزمایا گیا ۔ طالبان نے ایک ایسی جنگ کی داغ بیل ڈالی جس نے امریکا کو شروع میں باور کروایا کہ وہ جیت رہا ہے اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ طالبان حاوی ہوتے رہے ۔ امریکا اپنے سپاہی ، اپنا مال و زر ، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے تعلقات کو استعمال کرتا رہا ۔ ہم ساے میں پاکستان ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ دباو پاکستان کو برادشت کرنا پڑا۔ دہشت گردی کا سب سے دکھ اہل پاکستان نے جھیلا۔ افغانستان کی آڑ میں دہشت گردانہ گروپ بھارت و دیگر ملکوں نے متحرک کیے اور انھیں پاکستان بھر میں پھیلا دیا جس سے ہزاروں کی تعداد میں شہداء کے خون نے پاکستان کی زمین سیراب کردیا۔ میرے تجزیے کے مطابق پاکستان شروع میں تو رسمی طور پر اس سارے مسئلے میں شامل ہوا اور پھر جب بھارت نے دل چسپی لینی شروع کی تو پاکستان نے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اپنے کھلاڑی پھیلا دئیے ۔ اس وقت اگر کابل میں طالبان قابض ہیں تو جہاں طالبان کی فتح ہے وہی پر پاکستان نے بھارت کو بھی شکست دی ہے وہ جو افغانستان میں قونصل خانے بنا کر پاکستان میں من پسند افراد کو سپورٹ فراہم کرتا تھا ، ناکام و نامرادہوا ہے ۔
امریکا کی طرف سے افغان فوج کو جدید اسلحہ اور تربیت کی خاطر ایک سو ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کی گئی تھی ۔ افغان نیشنل گارڈز کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کیا گیا جو کہ طالبان کے سامنے بھیگی بلی بن چکے ہیں ۔ طالبان کے سامنے شاید ہی افغان فورسز کا کوئی کمانڈر ٹھہر پایا ہو ۔ جب امریکا نکلا اور پیچھے صرف افغان فورس رہ گئی تو اصل کھیل شروع ہوا جس کا طالبان کو عرصہ دراز سے انتظار تھا ۔ افغان حکومت امریکا و ناٹو کی بیساکھیوں کے سہارے تھی جب وہ ہاتھ سے نکلیں تو حکومت مہینہ بھی نہ نکال پائی ۔ وار لارڈ دوستم سمیت بڑے بڑے نام افغانستان سے راہ فرار اختیار کرکے دیار غیر میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت کے پاس سواے فضائی حملوں کے کوئی بھی قابل ذکر ہتھیار نہ تھا ۔ جیسے جیسے طالبان قابض ہوکر صوبوں کا انتظام سنبھالتے گئے ویسے ویسے غنی انتظامیہ کے ہاتھ سے بہت کچھ نکلتا گیا ۔ طالبان اس وقت کابل میں صدارتی محل میں بیٹھ چکے ہیں اور اپنی حکومت قائم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ اس وقت کے طالبان تجربہ کار و منجھے ہوے کھلاڑی ہیں ۔ گو سفارت کاروں کی اکثریت اپنے اپنے ملک واپس جارہی ہے لیکن اندرون خانہ طالبان سے سبھی کے روابط ہیں ۔ بھارت تو گدھے کے سر سینگ کی طرح غائب ہوا ہے اس کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا ۔ چین اور روس سمیت کچھ ممالک نے اپنے سفارت کار افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چین نے طالبان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے اور انھیں مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر چین ایسا کرتا تو دیگر ممالک بھی اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ پہلی کڑی ہوگی جو ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔
طالبان نے جہاں کابل کو گفت و شنید حاصل کرکے اپنے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے وہی بڑی خون ریزی سے بھی اہل وطن کو بچا لیا ہے ۔ طالبان کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے مطابق کابل میں امن و سکون ہے بلکہ ایک ویڈیو کے مطابق تو اہل کابل نے طالبان کا استقبال کیا ہے اور طالبان نے بھی داخلے کے فوری بعد نظم و نسق کو بہتر بنانے اور چوری چکاری کو روکنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ۔ ملا عبدالغنی برادر دوحا سے کابل پہنچ گئے ہیں اور طالبان کی طرف سے امریکی مفادات پر حملے بھی نہیں ہوے جس کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے معاہدوں کی پاسداری کی جارہی ہے ۔ بہرحال بات یہ ہے کہ امریکا لاکھ کوششوں کے باوجود طالبان کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور طالبان نے لمبے عرصے تک جدوجہد کرتے ہوے پھر سے کابل میں واپسی کو یقینی بناکر ثابت کردیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو ، عمل پیہم ہو اور جہد مسلسل ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔ سب سے بڑی غلطی جو امریکا سے ہوئی ہے وہ انخلا کے وقت سیاسی سیٹ اپ کا تشکیل نہ دیا جانا تھا ۔ اقتدار میں اس وقت طالبان مضبوط قدم جما چکے ہیں اور ایسے میں افغانستان میں ایک بار پھر سے امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اگر یہ ممکن ہوتا ہے تو پاکستان میں 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کی واپسی بھی ممکن ہوسکے گی ۔ اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان سمیت افغانستان کے خیر خواہ ممالک جن میں چین بھی شامل ہے کو بدخواہوں پر نظر رکھیں ۔ سازشی ٹولہ مختلف حیلوں بہانوں سے امن کی چادر اوڑھتے افغانستان کو دہشت زدہ کرسکتا ہے ۔ طالبان کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے کچھ بھی ممکن ہے ۔ بھارت اپنی لازمی کوشش کرے گا کہ وہ کچھ الٹا سیدھا کرکے پاکستان کو بدنام کرے لیکن ہمیں اس سارے معاملے میں چوکنے رہنا ہوگا۔ افغانستان افغانیوں کا ہے اور اس پر انھیں کی حکومت ہونی چاہیے جو بغیر کسی بیرونی دباو کے اپنے فیصلے کرنے پر قادر ہو ۔ -

دوستی کے اصول تحریر : شاہ زیب
دوستی اس کائنات کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔یہ وہ رشتہ یا تعلق ہے جو انسان اپنی مرضی،پسند یا اپنی خواہش سے رہنے کے لیے کسی من پسند شخص سے بناتا ہے
سچا اور اچھا دوست زندگی کے ہر معاملے پر آپ کا ساتھ دیتا ہے خوشی کے موقعے پر آپ کے ساتھ خوش ہوتا ہے اور غمی کے موقع پر ایک اچھا دوست ہونے کی حثیت سے بنا کہے آپ کا دکھ بانٹتا ہے الغرض دوستی ایک نایاب اور پرخلوص رشتہ ہے جو سب کے پاس ضرور ہوتا ہے
دوستی میں دو لوگ صرف دکھ اور خوشی ہی نہیں شیئر کرتے بلکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے بہت سے راز بھی شیئر کرتے ہیں جو کہ دوستی میں بہت عام بات ہے
اس بے غرض رشتے کے بھی اصول ہیں۔
جیسے کہ اپنے دوست اور دوستی کا خیال رکھنا اپنی دوستی کا بھرم رکھنا اور ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے دوستی پر آنچ آجائے اگر کسی وجہ سے آپ کی دوستی ختم بھی ہوجائے تو اس اچھے وقت کی لاج رکھیں جو آپ نے اپنے دوستوں کے ساتھ گزارے
اور اس وقت میں ایک دوسرے کو بتائی گئی باتیں دوسروں کو بظاہر عیاں مت کریں کیونکہ اگر اپ کسی کے راز عیاں کریں گے تو یہ حرکت اپ کی عزت میں کمی کا باعث بنیں گیں کیونکہ انسان جب اپ کے پاس راز رکھتا تو اپ کو بطور امانت اپنی بات اپ کے سپرد کرتا وہ اپ کا ہنر ہے کہ اپ اس کے وعدے یا اس کی تنہائی میں کہی گئی بات کا پاس رکھتے یا اس کے لیے لوگوں کے سامنے افشا کر کے شرمندگی کا باعث بنتے اصل میں وہ تو شرمندہ ہوتا ہی ہے لیکن اپ ہر کسی کی نظروں سے اپنی ایمانداری والی علامت ضائع کر دیتے یہ غلط ہے کیونکہ کے دوستی کے اصول کے خلاف ہے اور بطور انسان آپ کی شخصیت اور اچھے کردار کے بھی،
دوستی وہ انمول رشتہ ہے جو انسان کو معتبر کر دیتا ہے اور اس وجہ سے اس کے بہترین دوست ہوتے ہیں آپ بھی اچھے دوست بنیں اور دوستی کے اصولوں کا پاس رکھیں۔۔شکریہ@shahzeb___
-

مشرق سے مغرب کا سفر تحریر محمد علی شیخ ۔
کیسی جگہ پر رہنے والے
افراد کی ایسی آبادی ہو جو اس اصول پر آپس میں رہائش پزیر ہوں کہ ان کے مفادات مشترک ہوں.
اس آبادی کے ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮨﻮ۔ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻧﺎﻡ اس جگہ پر رہنے والوں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭستان کانام سنتے ہی دماغ میں آجاتا ہے یہ جگہ ہندوؤں کے رہنے کی جگہ ہے۔ یورپی ممالک کے ناموں کو سن کر فوری معلوم ہو جاتا ہے یہ ممالک عیسائی یا یہودی ہیں ۔ﺍﺳﻼﻣﯽ ممالک کے نام سے ﺍﺳﻼمی ممالک معلوم ہو جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کے کہ ان مسلم ممالک میں کتنا اسلام نظام قائم ہے۔ دین اسلام نے ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ اور آپسی محبت ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺡ ﻭ ﺑﮩﺒﻮﺩ کی تمام تر ذمے داری سب پر لاگو کر دی۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﺭۃ ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺖ 110 ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ زندگی گزانے کے اصول کے سے ﮨﻮنے ﭼﺎﮨﯿﮱ، ﺗﺮﺟﻤﮧ : ۔۔۔۔۔ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ بنیادی اصول سامنے رکھ دیا جیسے ہم کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔ اس حکم خداوندی سے ہر ﺟﺎﻧﺐ ﺭﺍﮦ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ بھی آپ رہیں اس ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎن ﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ بن سکتا۔ مسلم سریف کی صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالی ”شہید“ کا ہر گناہ معاف کردے گا سوائے دَین اور قرض کے۔ یغفر للشہید کل ذنب إلا الدین (رقم: ۱۸۸۹) اسی طرح مشکات شریف میں ہے کہ اللہ تعالی غیبت کرنے والے کی تب تک بخشش نہیں کرے گا جب تک وہ شخص اسے معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ وإن صاحب الغیبة لایغفر لہ حتی یغفرہا لہ صاحبہ (مشکات، رقم: ۴۸۷۴)
ہم لوگ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﺮ اک ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﮰ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮞ، ﺧﻮﺍﮦ ﯾﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺎﻟﯿﺎﺗﯽ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ۔
مغرب ممالک میں اور مشرقی مممالک میں بھی وومن ڈے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے جیسے کو جنگ ہو رہی ہے خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے گروہ میری نظر میں وہ اسلامی فوبیا کے شکار ہیں وہ احساس کمتری میں اس طرح سے ڈوب چکے ہیں کے اسلام نے جو حقوق عورت کو دیئے ہیں وہ حقوق ان لوگوں نے نہیں دیئے۔ مغربی ممالک میں عورت کا جاب کرنا بے حد ضروری ہے۔
2012 کے ایک غیر جانبدارانہ جائزہ کے مطابق یورپ میں 14 فیصد خواتین کو دوران ملازمت محض عورت ہونے کی بنا پر تعصبات کا نشانہ بننا پڑا۔
جرمنی میں خواتین پر جنسی تشدد اور ہراسانی کی شرح 58 فیصد ہے ، جب کہ پولینڈ میں ایک تحقیقی جائزہ میں حصہ لینے والی 451 خواتین میں سے 88 فیصد پندرہ سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی اور تشدد کا شکار رہیں ۔ ہالینڈ میں ہراسانی کے حوالہ سےگیارہ سو خواتین سے جمع کردہ معلومات کی روشنی میں دن کی روشنی میں گلیوں اور بازاروں میں 94 فیصد خواتین ہراسانی کا شکار ہوئیں۔
انڈیا میں گزشتہ دنوں درجنوں مسلمان خواتین یہ جان کر حیران رہے گئیں کہ ان کے نام آن لائن پر قابل فروخت خواتین کی فہرست میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
سولی ڈیلز’ کے ایپ اور ویب سائٹ کو دیکھکر جس میں خواتین کی تصاویر اور ان کے ‘پروفائز’ یا نجی معلومات کو عام کیا اور انھیں ‘ڈیلز آف دی ڈے’ بنا کر پیش کیا گیا ہے انڈیا میں مسلم خواتین کا یہ کہنا ہے کے کچھ گروہ یہ کام مسلم خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں ۔۔ ہمارے پاکستان میں لبرل کلچر والی خواتین کھانا نہیں بناوں گی جوتے نہیں بتاوں گی کپڑے نہیں دھوں گی وغیرہ وغیرہ پر بے وجہ کی دھونس جماتی نظر آتی ہیں ۔۔اللہ ربالعزت ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔
۔ @MSA47 -

پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے تحریر: زاہد چوہدری
پاکستان نے پہلے دن سے دنیا پر زور دیا ہے کہ افغان امن طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مضمر ہے اور کسی بھی فریق کی طرف سے طاقت کا استعمال ، چاہے وہ طالبان ہو یا کابل حکومت،افغان امن عمل کو نقصان پہنچائے گا۔
افغان جنگ جو کہ امریکی افواج نے طالبان کے خلاف قریباۤ 20 سال تک نیٹو کی چھتری تلے لڑی جو کہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحادہے، ابھی تک نتیجہ بالکل مختلف ہے جس کی امریکی اور دنیا نے پہلے کبھی توقع نہیں کی تھی۔
یہ لڑائی امریکہ میں 9/11 کے المناک واقعہ کے بعد اس وقت کی امریکی حکومت نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن پر الزام لگایا کہ اس نے اس حملے کی منصوبہ بندی طیارے ہائی جیک کرنے کے بعد کی ہے۔ اس وقت اسامہ بن لادن افغانستان میں رہ رہے تھے ، جہاں افغان طالبان حکومت میں تھے اور ملا عمر اقتدار سنبھالے ہوے تھے۔ امریکہ نے اس وقت کی افغان طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کو کہا۔ اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر افغانستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
طالبان حکومت نے ایک اجلاس کے بعد متفقہ طور پر پریس ریلیز جاری کیا کہ وہ تحقیقات اور تفتیش کے حوالے سے امریکی حکومت کی مدد کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں۔ تاہم ، وہ اسامہ بن لادن (ان کے مہمان) کو امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے ، اور یہ کہ وہ کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔
بش حکومت نے طالبان کی اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور امریکی عوام کے پرزور مطالبے پر نیٹو افواج نے افغانستان میں داخل ہو کر طالبان حکومت کے خلاف لڑائی شروع کر دی، شدید لڑائی کے بعد طالبان کی حکومت منہدم ہو گئی۔ امریکہ نے اپنی مرضی کی حکومت کو مقرر کر دیا جسکے بعدافغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے اقتدار میں آنے کا یہ عمل 2021 تک جاری رہا۔
نیٹو افواج جدید بندوقوں ، ہیلی کاپٹروں ، طیاروں ، بموں اور جدید ٹیکنالوجی سے لڑتی رہی لیکن کوئی بھی چیز نیٹو افواج اور امریکہ کو براہ راست اپنے مقاصد کے حصول میں مدد نہیں دے سکی جس کے بارے میں وہ سوچ رہے تھے۔
طالبان اور نیٹو افواج دونوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ، لاکھوں افغانی ہلاک ہوئے ، لاکھوں لوگ پاکستان ، ترکی ، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک میں ہجرت کر گئے۔ افغانیوں کی میزبانی کرنے والے سرفہرست ممالک بالترتیب پاکستان اور ترکی تھے۔ اس افغان جنگ کے دوران پاکستان نے تقریباِۤ 80 ہزار افراد اور اربوں ڈالر کی معیشت کھو دی۔ افغانستان میں انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا اور غربت غالب آئی۔
تاہم ، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری اور اہم سٹیک ہولڈرز امریکہ اور نیٹو ممالک کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنے پر زور دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ جنگ افغان عوام کی بالکل مدد کیوں نہیں کر رہی۔ اس کے بجائے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ سراسر نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن لانے کا واحد حل ان طالبان سے مذاکرات کرنا ہے جو افغانی بھی ہیں اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر زمین پر ان کا کنٹرول بھی ہے۔
مزاکرات کے ذریعے افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کی بلند آواز کے باوجود ، دنیا نے پاکستان کے بیانیے کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور نیٹو افواج انہیں آسانی سے ختم کردیں گی۔ لیکن ٹرمپ حکومت کے دوران امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور افغانستان اور اس طرح کے دیگر متنازع ممالک سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ارادہ کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنازعات میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے اپنی معیشت پر توجہ دے گا۔ ٹرمپ نے اس پالیسی کو اس وجہ سے تبدیل کیا کہ چین ایک نئی معاشی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے جو آنے والے برسوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان قیادت سے بات چیت شروع کی اور افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا پر رضا مندی ظاہر کی۔ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا تاکہ وہ افغان امن عمل کے حوالے سے بات چیت کے لیے میز پر لائیں۔ یہ مذاکرات دوحہ میں 2013 میں شروع ہوئے ، جہاں حامد کرزئی (افغانستان کے سابق صدر) ، امریکی نمائندے اور طالبان قیادت نے شرکت کی۔ تاہم ، یہ ملاقات حامد کرزئی نے صرف اس لیےمنسوخ کر دی کیونکہ طالبان نے اپنے "اسلامی امارت افغانستان” کے جھنڈے کو اس دفتر پر لگایا تھا جہاں یہ ملاقات ہونی تھی۔
طالبان نے کئی مہینوں تک اپنا دفتر بند رکھا اور مذاکرات ملتوی رہے۔ پاکستان پرامن مذاکرات کی اہمیت کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔ 2016 میں پاکستان ، چین اور امریکہ نے افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا اور پاکستان نے اس اجلاس کی صدارت کی۔
پھر دسمبر 2019 میں ، دوحہ میں ، طالبان قیادت اور امریکہ نے افغان امن عمل کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں تقریبا 6 ماہ لگے۔ امریکہ نے ستمبر 2021 کے اختتام تک اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ، ان شرائط کو شامل کرتے ہوئے کہ طالبان اس انخلا کے دوران نیٹو افواج پر حملہ نہیں کریں گے۔ دونوں طرف سے مکمل جنگ بندی ہوگی۔ 2019 سے 2021 کے دوران اس وقت کے دوران اتار چڑھاؤ آئے۔ تاہم ، امریکہ نے اپنے ہزاروں فوجی واپس بلا لیے ، بگرام ایئر بیس کو خالی چھوڑ دیا۔ امریکیوں نے رات کے وقت بگرام ایئربیس چھوڑ دیا اور یہاں تک کہ ا پنی حمایت یافتہ افغان حکومت کو اطلاع کرنے کی زحمت بھی گوارانہ کی جس پر اشرف غنی انتظامیہ نے تحفظات کا اظہار کیا۔
طالبان نے امریکی افواج کی واپسی کا خیر مقدم کیا ۔ تاہم ، اس کے ساتھ ہی طالبان نے افغانستان کے اضلاع ، صوبوں اور اہم عمارتوں پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی جس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا تاہم ، بائیڈن انتظامیہ نے اس ساری صورتحال سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ افغانستان کے پاس 0.3 ملین فوج ہے جو دیرپا جنگی سازوسامان رکھتی ہے اور وہ طالبان کو ملک پر کنٹرول نہیں ہونے دے گی۔ لیکن حالیہ تازہ کاروایاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ افغان فوج ایک کے بعد ایک تمام صوبوں اور شہروں میں ہتھیار ڈال رہی ہے اور قیادت نے محفوظ راستے کے لیے پڑوسی ممالک کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف ، جب طالبان قیادت اور طالبان کے فوکل پرسن ذبیح اللہ مجاہد سے ان کی پیش قدمی اور افغان سرزمین پر قبضے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ کے ساتھ تھا نہ کہ کابل حکومت کے ساتھ ۔ مزید یہ کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اشرف غنی پہلے مستعفی ہو۔
اب دنیا افغانستان میں طاقت کا کھیل دیکھ رہی ہے جب طالبان نے تمام بڑے شہروں ، اہم صوبوں ، بشمول ہرات ، قندھار ، کنڑ ، اور مزار شریف کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے ملحقہ سرحدوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
طالبان اب کابل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اشرف غنی نے استعفیٰ دے کر حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوحہ میں معاہدے کے بعد طالبان کو بیشتر عہدیدار افغانستان چھوڑ چکے ہیں جن میں امر اللہ صالح – نائب صدر ، سلامتی کے مشیر محب ، اور خود اشرف غنی شامل ہیں۔
مزید برآں ، افغانستان کے تاجک رہنما صلاح الدین ربانی ، یونس قانونی ، احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود ، احمد ولی مسعود ، ہزارہ رہنما استاد محقق ، کریم خلیلی ، استاد عطانور کے بیٹے خالد نور اور افغان قومی اسمبلی کے اسپیکر رحمانی پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچے۔
یہ صورتحال بہت دلچسپی سے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ طالبان کابل حکومت کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ کابل حکومت ختم ہو چکی ہے ، اور جلد ہی افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہو جائے گا۔
تاہم ، یہ سب ان مذاکرات کے ساتھ ہو رہا ہے جن کی پاکستان نے ہمیشہ تاکید کی تھی ، کیونکہ یہ کسی بھی قسم کے تنازع سے بچنے کا بہترین حل ہے جو بصورت دیگر ملک ، اس کے عوام اور افغانستان میں ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز پورے خطہ کو نقصان پہنچائے گا۔ پاکستان امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے۔
پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے چاہے کوئی بھی اس وقت کنٹرول کر رہا ہو پاکستان ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنہیں افغان عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گی۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اب واضح ہے۔ ایک پرامن افغانستان اور حکومت جس کو اکثریتی عوام کی حمایت حاصل ہو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہو گا۔
مزید یہ کہ ایک پرامن افغانستان علاقائی ترقی کے سا تھ ساتھ چین- پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔
-

واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی
سانحہ کربلا صبرو تحمل، دلیری و شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے ۔واقعہ کربلا کو زندہ و جاوید بنانے میں زینبؓ، کلثومؓ، سکینہ ؓ اور دیگر شہداء کی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ واقعہ کربلا کے پیغام کو رعایا تک خواتین نے پہنچایا ہے۔اس واقعہ کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی حسین ؓ اور دیگر شہدا ادھورا ہی رہ جاتا۔
زینبؓ ، کلثومؓ،سکینہؓ اوردیگر شہدا ٕ کی خواتين کی بے مثال کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ سانحہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت حسینؓ بن علیؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا اہم کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت حسینؓ کا خواتین و بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔
واقعہ کربلا کی ان عظیم خواتین نے یریذی قوتوں کے مقابل اپنے جگر گوشوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا اور اپنے سہاگوں کو بھی راہ اللہ میں قربان ہوتے دیکھا، لیکن خاتم النبیینﷺ کے دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی ۔
اس بات میں کوئی شک و شہبہ نہیں کہ اگر خواتین حضرت حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں، تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیا۔
آج کی مسلمان خواتین کے لئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں اور موجودہ حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں ، معاشرہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے، مگر یہ سختیاں اور دشواریاں و مصائب واقعہ کربلا کی سختیوں اور آزمائشوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، سچ کا ساتھ دیں، اور یریذیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔
@JahantabSiddiqi
-

اسلام اور پیغامِ کربلا تحریر: حمزہ احمدصدیقی
دین اسلام امن و سلامتی کا علم بردار، پرامن، بقائے باہمی، سلامتی و آشتی، تحمل و رواداری ، پیار و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، جس میں ظلم و ستم اور تشدد کی مطلق گنجائش نہیں، حق تلافی، ہر قسم کی دھوکے بازی، غبن اور سود حرام ہے، خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جوازنہیں ہے۔
دین اسلام امن کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی ہمارے دین کو دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تعلیم دینے والے مذہب سے تشبہہ دی جاتی ہے۔ مغربی لوگوں نے ہمارے دین اسلام کے خلاف بھرپور پروپگینڈا مہم شروع کر رکھی ہوٸی ہے طرح طرح کی تاویلات اور غلط تشریحات سے ہمارے دین اسلام کا مبارک چہرہ مسخ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جو اہل ایمان والوں کیلٸے لمحہ فکریہ ہے۔
دین اسلام کو آج سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مذہب اسلام رسوائیوں کا سامنا ہے۔ یہ سب ہمارے قوم اور ریاست کے حکمران اور دین فروش صاحبان جو دین ملت کی مصلحت کوشی، دین سے دوری، مفاد پرستی، اقربا پروری، انا پرستی ،کند ذہنی ، جہاہلانہ سوچ، تفرقہ بازی، اور منتقمانہ مزاجی کا ثمر ہے اور اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، خاتم النبیینﷺ کے اسوہ حسنہ اور تعليمات سے بے اعتنائی اور نواسہ رسول حضرت حسینؓ بن علیؓ کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام واقعہ کربلا کو بھلا دینا ہے۔
حسینؓ بن علیؓ اور شہدائے کربلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نانا کے دی اسلام کی بقا اور اسکی سر بلندی کیلٸے اپنا سب کچھ راہ خدا پہ قربان کرنے کا جو درس دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جاٸے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے؟ کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال حسینؓ بن علیؓ اور ان کے جانثاروں کی شہادت کو جس دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں اشک بار ہوتے ہیں؟ کیا واقعی اپنی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت و محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ حسینیؓ پر عمل بھی کرتے ہیں؟
کیا موجودہ دور کے یزیدیوں کے خلاف آج بھی مسلمانوں کے حکمراں حضرت حسینؓ بن علیؓ کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ کیامسلمانوں نے واقعہ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور کوئی سبق حاصل کیا؟ افسوس کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔
قارئين اکرام!! کشمیر، فلسطین، شام،اور برما کو دیکھ لیجیے کہ کیسے ان ظلم و ستم ڈھاٸے جارہے اور وقت کے یزیدوں کے سامنے ہمارے مسلم حکمراں سر جھکائے کھڑے رہتے ہیں اس وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کو کربلا میں شہادت حسینؓ بن علیؓ اور واقعہ کربلا کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین ثم آمین!!
@HamxaSiddiqi
-

نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین
معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب تعالیٰ سے ملاقات کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی ہے رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیے جس نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا اس کی نثال نہیں ملتی.کیسی کمال بات ہے کہ جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتا ہے اس سر کو رب تعالیٰ کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ عبادت کا حسن یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے.
معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا اب انسان کا کام ہے. جسے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے. انسان جب اپنے رب کے رو برو وضو اور نیت کرنے کے بعد جب کھڑا ہوتا ہے تو کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے کسی باس کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اے انسان اس رب کریم جو کہ اس تیرے باس کا بھی رب ہے جو اس اسے بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا تو کیا کرو. بارگاہ خالق دوجہاں ہے بارگاہ رب العالمین ہے کوئی مزاق تو نہیںجو اہتمام نا کیا جاے. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے خالق و مالک کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ اس بات کا تصور اور احساس کا ہونا ہے کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول رہتی ہیں وہ رب کریم میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے اللہ رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
بندگی کا اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جو بول رہا ہو اس چیز کی گواہی زبان سے اور دل سے بھی اس کی شہادت دے. جب زبان الحمد للہ رب العالمین بولے تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دےاور اس کی تاثیر روح میں اتارے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا کوئی گالہ ہو. روح رب العالمین کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں اللہ جل شانہ کا طائب نظر آے.
سوچئے تو سہی ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ چکے. بتائیں تو زرا دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل کو بخوبی سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں پیش کیا جانا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں بسا اور چلا رکھا ہے.
اس سے آگے معراج کی کامل منزل کا آغاز ہوتا ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم ہو چکے گویا رب العالمین کو اپنے سامنے اور خود کو دیکھتا ہو امحسوس کر رہا ہوں. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی صاحب. احساس کی کامل انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو اور سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا کہیں دور چھوڑ آیا اس کے خیالات ختم ہو چکے بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمتوں والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا کھڑا ہوتا ہے. تو دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. کیا ہی خوبصورت احساس کہ رب العالمین سے باتیں کر رہا. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر پروردگار کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی. دنیا کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے. اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھائی دیتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی مہر ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کر لیتی ہے بندے کو اپنا من ہلکا ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت لیے برستی آنکھوں سے با آسرا دنیا سے بےگانہ آئندہ فرمانبرداری کا عزم لیے. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا ہی کریم ہے غفور الرحيم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے اپنے روبرو آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا وہ کبھی نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ بھی ہو تو بہتر کر کے عطا دیتا ہے. میرے عزیز بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضے کو سمجھیے بندے کی معراج کی اس حقیقت کو سمجھیے اپنی عبادت کو خود کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ ان پر عطا رب العالمین ہے لیکن بندے پر احسان ہے کہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کر دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرائی گئی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں نماز میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو اور اللہ کریم کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکنے لگے. کہ واہ آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.@EngrMuddsairH