Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت کے متعلق بات کرنے سے پہلے جمہوریت کے علمبردار چند ممالک کا مختصر احوال دیکھتے ہیں، اور ساتھ پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں۔
    امریکہ۔ جمہوریت کا چمپٸین امریکہ دنیا کا مقروض ترین ملک ہے۔ ریپ اور سٹریٹ کراٸمز کے علاوہ منشیات کے استعمال میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔ دنیا بھر میں امریکن فوجی اڈے موجود ہیں پچاس سال ویتنام کے ساتھ جنگ۔ عراق کویت جنگ کے علاوہ عراق شام اور افغانستان جیسے ممالک میں بلاجواز حملہ آور ہونا اور طویل عرصے تک رہ کر اربوں ڈالرز ضاٸع کرنا اور حاصل صرف شکست اور ذلت۔ جبکہ لاس ویگاس، میکسیکو سٹی، الاسکا سمیت کٸ امریکن سٹیٹس ڈرگ اور منشیات مافیاز کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ تاہم امریکن کانگریس اور صدر بھی پینٹا گون سے فوجی مہمات کے نتاٸج نہیں پوچھ سکتے ناں قرض کے باوجود بجٹ کم کرسکتے ہیں۔ ناں امریکن میڈیا سی اٸ اے اور پینٹاگون سے کوٸی سوال کرسکتا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری تقریر اسٹیبلشمنٹ نے دوران انتخابات رکوائی حالانکہ وہ عملاً تب امریکی صدر تھے۔

    بھارت دنیا میں سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا دعویدار ملک بھارت ہے، بھارت عالمی سطح پر خواتينٕ کے لیے غیر محفوظ ترین ملک ہے۔ دنیا میں اٹھارویں نمبر پر سب سے زیادہ قرض لینے والا ملک ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی ممبی بھارت میں۔ اِس کے علاوہ کم سن بچیوں کو فروخت کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے۔ جبکہ صرف دہلی میں ساڑھے تین لاکھ لوگ فیملی سمیت سڑکوں پر رہاٸش پذیر ہیں۔ بھارت اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تاہم عوام کی زبوں حالی اور بھاری قرضوں کے باوجود بھارتی حکومت ناں فوج کی تعداد کم کرسکتی ہے ناں دفاعی اخراجات گزشتہ دنوں جب کرونا لاک ڈاٶن کےباعث بھارتی عوام اوآرہ کتوں کا گوشت کھانے پر مجبور تھی بھارتی حکومت رافیل خرید رہی تھی آرمی چیف کے مطالبے پر۔ تاہم بھارتی میڈیا را یا بھارتی آرمی کے اخراجات پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔

    چین (چاٸنہ) مقروض ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر۔ چین میں سوشلزم ہے مطلب میڈیا ہو یا عام آدمی کوٸی کسی پالیسی پر گُفتگو نہیں کرسکتا۔

    اسراٸیل آبادی۔ 87 لاکھ رقبہ باٸیس ہزار مربع کلومیٹر۔ اہم صنعتیں میڈیسنز ویکسینز اور اسلحہ بنانا۔ قرض لینے والے ممالک میں پچاسویں نمبر پر۔ دفاعی اخراجات پاکستان سے پانچ گُنا زاٸد ۔ روز قیام سے فلسطین شام لبنان اور اُردن پر آۓ روز بمباری کرنے کے باوجود اسراٸیلی میڈیا اپنی فوج کی اِس قتل عام میں حوصلہ افزاٸی کرتا ہے۔ اسراٸیلی صدر کے لیے جنگی تربیت لازم ہے۔

    پاکستان جسے ڈیپ سٹیٹ کا طعنہ دیا جاتا۔ موسٹ کرپٹ پالیٹیشنز رکھنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ قرض کے حوالے سے 54 نمبر پر دفاعی اخراجات کے حوالے سے اٹھارویں نمبر پر۔ پاکستانی فوج 56 ممالک میں UNO کے امدادی مشنز میں مدد فراہم کرنے اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے گزشتہ کٸ سال سے پہلے نمبر پر۔ اسلامی ممالک میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے پانچویں اور اہلیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ عدالتی نظام 120 ویں درجے تک گِرا ہوا ہے۔ پاکستان دنیا میں خیرات دینے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ملکی اخراجات سے قطع نظر عام عوام کا معیار ذندگی ہمسایہ ممالک سے کہیں بہتر ہے۔ میڈیا کے علاوہ ہر خاص و عام کو دفاعی اِداروں اور دفاعی پالیسی پر تنقید کرنے کی کُھلی اجازت ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہر ملک میں ایک ہے مگر معیار الگ جن ممالک کی افواج دیگر ممالک میں قتل عام کرتی ہے وہاں کا میڈیا فوج کے ساتھ ہے مگر جس ملک کی فوج 56ممالک میں عوام کی مدد کرتی ہے وہاں صرف اِس وجہ سے تنقید کہ بولنے والوں کے لیے سخت قوانین نہیں جیسے سعودیہ، کوریا، چین، اور دیگر ممالک میں ہیں دفاعی پالیسیز ہمیشہ اِنٹیلی جنس رپورٹس کی بُنیاد پر بنتی ہیں لہٰذا دفاعی ادارے ہر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور سیاست پر اثرانداز بھی۔ بس کہیں اِس پر بولنےکی کُھلی چھٹی ہے اور کہیں سخت سزا۔۔۔ اور پاکستان میں۔۔؟
    @A2Khizar

  • کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    ایک طرف جہاں امریکا نے اتحادی افواج سمیت 31 اگست تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں امریکا نے عراق سے بھی سال 2021 کے آخر تک اپنی افواج نکال کر عراق میں جنگی مشن ختم کرکے آئندہ صرف عراقی افواج کی تربیت،مشورہ سازی اور داعش کے خلاف درکار ضروری مدد فراہم کرنے تک محدود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کا بھی دعوی ہے کہ عراقی افواج میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں اس لئے عراق میں قیام امن کے لئے اب امریکی افواج کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم امریکا چاہے تو عراقی افواج کو انسداد دہشتگردی کی تربیت اور مشاورت میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ امریکا اور عراق اپریل 2021 میں امریکی فوج کے مشن کو تبدیل کرنے پر متفق ہوئے تھے اور تب یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی افواج عراق سے نکال لے گا تاہم بعض وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درحقیقت عراق میں تعینات امریکی افواج کے مشن کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے اور کوئی امریکی فوجی واپس نہیں بلایا جا رہا کیونکہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی ناگزیر سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لئے امریکا نے تمام خلیجی ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکا میں بعض لوگ امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کے حامی تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ امریکا کے ہاتھ سے عراق نکل جائے شاید اسی لئے امریکہ اپنے کچھ فوجی عراق میں موجود رکھنا چاہ رہا ہے تاہم یہ تعداد ابھی واضح نہیں۔

    بظاہر عراق میں امریکی فوجیوں اور ماہرین کے موجود رہنے کا مطلب یہی ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت برقرار رہے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اب مشرق وسطی سے اپنی افواج نکال کر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی طرح عراق سے بھی امریکا اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ امریکا کو اپنے فوجی مشن میں کامیابی ملی ہے۔ سال 2003 میں عراق میں 1 لاکھ 60 ہزار امریکی اور ان کے اتحادی فوجی موجود تھے مگر اب یہ تعداد صرف 25 سو رہ گئی ہے جبکہ کچھ سپیشل فورسز بھی عراق میں موجود ہیں جو داعش کا مقابلہ کرنے میں مقامی افواج کی مدد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی خاصی متنازعہ بن چکی ہے بالخصوص جنوری 2020 میں جب ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی ملیشیاء کے لیڈر ابو مہندی سمیت بغداد میں مارا گیا تو عراقی عوام نے امریکا کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ عراقی پارلیمںنٹ میں بھی قرارداد پاس کی گئی جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کرنے اور عراق میں بین الاقوامی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے امریکی فوج کے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یوں تو امریکی صدر جارج بش نے عراق کو امن کا گہوارہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر عراق پر امریکی یلغار کے بعد کشیدگی اور بدامنی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور خانہ جنگی برپا ہو گئی

    عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حق میں امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سول سوسائٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بھی عراق سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا یوں سال 2011 میں امریکی فوج عراق سے چلی گئی تاہم داعش کی طرف سے عراق کے کچھ شہروں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے دوبارہ امریکا سے مدد طلب کی تو سال 2014 میں دوبارہ عراق میں امریکی فوج پہنچ گئی اسی تناظر میں اب بھی بعض حلقوں کا ماننا ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد عراق میں مختلف گروہوں کے مابین اقتدار کے لئے پانے جانے والے اختلافات خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال امریکی افواج کے عراق میں مزید قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا اپنی افواج کے عراق سے انخلاء اور سالوں پر محیط عراق میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے یا پھر داعش سمیت دیگر شرپسند قوتوں کو جواز بنا کر خلیجی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لئے امریکی اور اتحادی افواج کی عراق سمیت دیگر خلیجی ممالک میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے نیا گیم پلان سامنے لایا جائے گا۔
    @MustansarPK

  • چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    زندگی صفحہ قرطاس پہ بکھرے سات رنگوں کا مجموعہ, جو کسی کیلیے دھنگ رنگ پیرہن تو کسی کیلیے اماؤس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی مسلسل بدلتی کیفیات کا نام ہے جس میں مستقل کیفیت دکھ اور غم کی ہے۔ اگرچہ خوشیاں بہت عارضی وقت کے لئیے ہوتیں ہیں لیکن خوشیوں سے جڑی یادیں ساری زندگی آپکو خشگوار احساس سے جوڑتی ہیں ۔ غم خود بخود مل جاتے ہیں لیکن خوشیاں ڈھونڈنے پڑتی ہیں ۔
    بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ وقت جب ہم خوش ہوتے ہیں. ہم خوش ہونے کی بڑی وجوہات کو اگر اپنی ذات سے کچھ وقت کے لئیے الگ کر کے دیکھیں تو سارا وقت ہنسی خوشی گزرتا ہے۔ کیوں کہ جن بڑی باتوں کے پورا ہونے میں وقت درکار ہو اسکا انتظار کرنے کے لئیے اپنے حال میں موجود چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکے انتظار کا مزہ اپنی جگہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوئ خوشیوں کا مقام اپنی جگہ، اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میںں چھپی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئیے کن چیزوں سے آپکو خوشی ملتی ہے۔ کسی کی مدد کر کے دل کو سکون اور خوشی دونوں میّسر آتے ہیں۔ جیسے کسی کو خوش دیکھ کر آ پکو خوشی ملتی ہے۔

    جیسے، اپنی، والدہ، والد، کوئ بچہ، بچی، بہن بھانجی، بھانجے یا بھتیجی، بھتیجے، یا محلے کا کوئ بچہ، خاندان کے تمام بچے یا پھر اپنی بیوی کی مسکراہٹ یا اسکا غصہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزمرہ ہمارے ارد گرد ہمارے ساتھ رہتی ہیں ان میں چھپی ہزاروں خشیاں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسکے بجائے ہم بڑی خواہشات کے پورا ہونے میں خود کو اسطرح مصروف کر لیتے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں رہتا کہ ہم خوش بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے بیوی بچوں میں روزانہ آکر بیٹھنا انکی کھٹی میٹھی باتوں کا حصہ بننا اور ان سے خود کو محضوظ کرنا بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ہی ایک حصہ ہے اور بڑی نعمت بھی ہے۔ ہم اپنی اپنی ذندگیوں میں اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی دوڑ میں خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور سوال پھر وہی کے ہمیں کبھی خوشی نہیں ملتی ہم آخر خوشیاں کہاں سے لائیں۔ بعض اوقات ہم اپنے کسی چاہنے والے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئیے اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت سی خوشیاں کھو جاتی ہیں۔ جیسے کوئ باپ اپنے بچے کو خوش کرنے کے لئیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بچوں کو لا کر دیتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے معصوم بچے ہمیشہ صرف والد کی لائ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمل کو وہ تا حیات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے والد یوں ہمارا خیال رکھتے تھے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے خشیاں دیتے تھے۔ کوئ کھلونا کوئ چوڑی کوئ پائیل، کوئ شرٹ، یا پھر ٹائ اگر کسی کی خوشی کا حصہ ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ خوشیاں بانٹیں یہ سب بہت مہنگے شوق نہیں جو آسانی سے پورے نہ کئیے جاسکیں۔ یہ تو ضروریات تحفے اور خریداری سے جڑی کچھ خواہشات تھیں خیر۔۔

    خوشی صرف مادی چیزوں یا کسی زی روح کی موجودگی سے ہی کشید نہیں ہوتی بلکہ خوشیاں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ آپکی موجودگی کی خوشی اور غیر موجدگی کے اثرات اگر کسی کی ذندگی پہ اچھائ میں رونما ہوتے دکھائ دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت اور خوشی کیا ہوگی کہ کوئ آپکے لئیے منتظر رہتا ہے۔ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیے آپکو اپنی خوشی سمجھنے والے کہیں خود خاموش نہ ہوجائیں کسی کی خوشی کی وجہ اگر آپکی ذات سے جڑی ہے تو اپ کو کوئ حق نہیں کسی کی خوشی چھینیں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات ہی سب کچھ نہیں ہوتیں کچھ خوشیاں اور چیزیں صرف تعلق پہ منحصر ہوتی ہیں۔کسی کیلیے آپ کی ایک مسکراہٹ خوشی کا باعث ہوتی ہے تو کبھی آپکا صرف احساس ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسے رشتے ایسی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں انھیں کسی قسم کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ کھوئیں اپنے پیاروں کی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کیجئیے۔ یہ آپکا ماضی، حال اور مستقبل یادگار اور خوبصورت بناتی ہیں۔ سب کے لئیے خوشی کی وجہ بنئیے لوگوں کے چہرے کی رونق اور انکی انکھوں کے جگمگاتے تارے بنیں اور اس خوشی کو محسوس کیجیے تاکہ آپ خوش رہ سکیں ۔

    @_Ujala_R

  • کال پے بات اور آداب گفتگو تحریر : ولید عاشق

    انسان اور حیوان میں بنیادی فرق لسان اور شعور کا ہے،اسلیے گفتگو انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کے ہمہارے اچھے یا برے ہونے،مزاج اور اخلاق کا دارومدار بھی ہمہاری گفتگو پر ہی ہوتا ہے،ہمہارے ساتھ ملنے جھلنے والوں پر بھی پہلا تاثر ہمہاری گفتگو کا ہی ہوتا ہے،لہٰذا ہر شخص کو گفتگو میں محتاط ہونا چاہیے،گفتگو کے وقت بہت سی اہم باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے،
    گفتگو کے وقت لہجے میں نرمی متانت اور وقار کا خیال رکھیے،بات شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے،بغیر سوچے سمجھے بولنا بیوقوفی کی علامت ہے،
    گفتگو کے دوران غصے کا اظہار ،سخت الفاظ کا استعمال ،مسخرہ پن اور اپنی تعریف یہ تمام چیزیں اداب گفتگو کے خلاف ہے،
    کسی کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس کی سچائی پر ہمیں خود شک هو،اگر اتفاق سے ایسی کوئی بات کہنی بھی پڑھ جاۓ تو اس کے ساتھ اپنا شک بھی ظاہر کر دینا چاہیے،
    کسی کے عقیدے مذہب یا بزرگوں کی شان میں نا زیبا الفاظ کا استعمال کرنا مناسب نہیں،جاہلوں اور ان پڑھوں سے زیادہ مشکل باتیں نا کریں،بات کرتے وقت آواز اتنی دھیمی نا هو کے آواز آپ کی سنائی نا دے،اور نا اتنی تیز کے سننے والے کو نا گوار گزرے،
    موبائل فون اور سوشل میڈیا آج کل ہر انسان کی مجبوری بن چکا ہے،ہر غریب امیر کے ہاتھوں میں یہ موبائل فون نظر اتا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کے یہ اللہ‎ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور نعمت کا جائز استعمال کیا جاۓ ،نعمت کا غلط استعمال زحمت بنا دیتا ہے،اور دنیا اور آخرت میں بربادی کا ذریعہ بنتا ہے،سیل فون ایک بہت بڑی نعمت ہے،آپ ذرا تصور کیجئیے پہلے زمانے میں ایک دوسرے تک خبر پہنچانے کے لیے کتنے مسائل ہوتے تھے،اگر کسی کا انتقال ہوتا تھا تو دوسری جگہ پیغام پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا تھا،آج دنیا میں کسی جگہ پے بھی انتقال هو تو ایک منت میں پوری دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے،اور آج ہم صرف موبائل فون پے کال پے بات چیت کے اداب کے بارے میں آپ کو اگاہ کرے گے،

    1. پہلی بات کسی کو صبح 9 بجے سے پہلے اور رات 9 کے بعد کال مت کیجیے.

    2. چھٹی والے دن دس گیارہ بجے تک بندے کی جان بخش دیں اس کے بعد کال کریں۔

    3. دوپہر کے اوقات میں بھی اور خاص طور پہ نماز کے اوقات میں کال نا کریں۔

    4. بہتر ھے وائس نوٹ چھوڑیں اور کال کرنے کا ٹائم لے لیں ھم آج بھی اپنے پرانے دوستوں کو واٹس ایپ پہ میسج کر دیتے ھیں کہ فری ھو کے کال کرنا یا فری ھو کے بتانا مجھے بات کرنی ھے یا ارجنٹ بات ھے۔ ھر بندے کی پرائیویسی ھے اسکا مکمل خیال رکھیں۔

    5. کسی کو پہلی بار کال کر رھے ھیں تو لازمی میسیج کر کے اجازت لیں اور ٹائم لیں۔

    6. سب سے اچھا طریقہ ھے وائس نوٹ بھیج دیں جب دوسرا فری ھو گا سن لے گا اور جواب بھی دے دے گا۔

    7. جب پہلی بار کسی سے بات کریں تو پہلے اپنا تعارف کروائیں اور ساتھ ھی مدعا بیان کر دیں مکمل بات ایک ساتھ کر دیں سوال جواب کھیلنا شروع مت کریں۔

    8. اگر کوئی فون کاٹ دے تو اس اسکا مطلب وہ مصروف ھے ابھی بات نہیں کر سکتا اتاولے ھو ھو کے کال پہ کال مت کیے جائیں۔

    9. اگر کوئی ایک مکمل رنگ پہ فون نہیں اٹھاتا اسکا بھی یہی مطلب ھے کہ وہ دستیاب نہیں ھے دس منٹ صبر کر جائیں یا میسج بھیج دیں کہ فری ھو کے کال بیک کریں۔

    10. اگر کسی کا فون مصروف ھے تب بھی بار بار فون ملا کے اسکی کال انٹرپٹ نا کریں۔
    اللہ‎ پاک ہم سب کو توفیق عمل سے نوازے
    امین

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • ہماری ذاتی ناکامیوں کی وجوہات تحریر: زبیر احمد

    ہماری ذاتی ناکامیوں کی وجوہات تحریر: زبیر احمد

    ہماری زندگی میں ایک لفظ "ناکام/ناکامی” ہے جس سے ہم بہت گھبراتے اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہ لفظ بچپن سے بڑھاپے تک ہماری جان نہیں چھوڑتا۔بچپن میں کلاس میں فیل ہونے کا ڈر، لڑکپن میں کالج یونیورسٹی میں فیل ہونے کا ڈر، جوانی میں اچھی جاب حاصل کرنے میں ناکامی کا خوف اور آخرکار جب جاب مل جائے ہے کیرئیر میں فیل ہونے کا ڈر۔ گویا ہماری اس لفظ "ناکامی” سے ایک مسلسل جنگ ہے لیکن یہ بڑے اچنبھے اور حیرانگی کی بات ہے کہ اتنی گھبراہٹ، ڈر اور تلملانے کے باوجود زیادہ تر لوگ زندگی میں ناکام ہونے کی پلاننگ کررہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہوئے یا نا چاہتے ہوئے ارادی یا غیر ارادی طور پہ زندگی میں اپنی عادات، اعمال اور کاموں کے ذریعے دراصل ناکام ہونے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کامیاب لوگوں کی تعداد کم جبکہ ناکام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ناکام ہوتے ہیں وہ قسمت مقدر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت میں کچھ عادات کی وجہ سے ہوتے ہیں، یہ عادات اتنی خوفناک اور خطرناک ہوتی ہیں کہ جو بندہ ان کو اپنا لیتا ہے وہ بھرپور طریقے سے اس کو ناکام کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر آپ میں کچھ ایسی عادات ہیں جن کو اپنانے کی وجہ سے آپ آگے بڑھ نہیں پا رہے اور یہ عادت آپ کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں تو ان کو ترک کردیں اور ان کو اپنی شخصیت سے نکال کے باہر پھینک دیں تاکہ آپ کامیابی کی طرف گامزن ہوسکیں۔زندگی ایک بڑی وجہ جس کی وجہ سے لوگ ناکام ہوتے ہیں ہوتے ہیں وہ ہے بغیر کسی وجہ کے غیرضروری طور پہ کاموں کو سرانجام دینے میں تاخیر کرنا، زیادہ تر لوگ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے چیزوں یا کاموں میں تاخیر کرتے ہیں یہ لوگ آخر وقت تک اپنے کاموں کو سرانجام نہیں دیتے جس کی وجہ ان کے ہاتھ سے قیمتی وقت نکل جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے شعر ہے کہ
    "کہ وقت جوں جوں رائیگاں ہوتاگیا
    زندگی کو کام یاد آنے لگے”
    دوسری وجہ کام میں تاخیر کی وجہ کہ لوگ پوری زندگی صحیح وقت اور موقع کے لئے گزار دیتے ہیں۔ زندگی میں نہ تو کوئی صحیح وقت اور لمحہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی صحیح موقع ہوتا ہے جو بھی کرنا ہے وہ آج ہی کرنا ہے کل کسی نے نہیں دیکھا آپ کو آج سے شروع کرنا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت صحیح نہیں ہے، آپ کے پاس کسی کام کرنے کے اوزار مکمل نہیں ہیں تو گھبرائیں نہیں پریشان نہ ہوں بلکہ جو کچھ میسر ہے اسی سے کام کی شروعات کریں جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے چیزوں کو ترتیب دیتے رہیں اسی طرح تاخیر کرنے کی بری عادت سے چھٹکارا پائینگے اگر آپ یہ نہ کرپائے تو زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ 
    1986 کے اولمپکس کی میراتھن ریس اولمپکس کی تاریخ کی میراتھن دوڑوں میں سب یادگار اور تاریخی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ریس کے یادگار ہونے کی وجہ اس کے جیتنے والےنہیں بلکہ اس ریس کو ہارنے والا اتھلیٹ ہے۔ ریس شروع ہوئی اور اس کے اختتام پہ کوئی پہلے، کوئی دوسرے اور تیسرے نمبر پہ آیا لیکن ریس ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد ایک اتھلیٹ جس کا نام جان اسٹیفن اخواری، اس کا تعلق تنزانیہ سے تھا وہ بھاگتا آرہا ہے اور اس کے پیروں اور ٹانگوں پہ پٹیاں بندھی ہوئی ہیں لیکن وہ لنگڑاتا ہوا بھاگتا آرہا تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ تکلیف کے ساتھ پیروں ٹانگوں پہ پٹیاں بندھے ہونے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور بھاگتا آرہا ہے تو پورے سٹیڈیم میں موجود لوگوں نے کھڑے ہوکر اس کے لئے تالیاں بجائیں اور آخرکار اس نے لائن کراس کرلی۔ جب جان اسٹیفن اخواری سے پوچھا گیا کہ زخمی ہونے اور  تکلیف کی وجہ سے آپ ریس سے دستبردار ہوسکتے تھے اس نے جواب میں کہا کہ میرا تعلق ایک غریب ملک سے ہے، انہوں نے ہزاروں میل دور مجھے میکسیکو بھیجا اس لئے نہیں کہ میں ریس شروع کروں بلکہ اس لیے کہ میں ریس کا اختتام کروں آج میں ہار گیا لیکن میں نے اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ہمارے ناکام ہونے کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا نہ ہونا ہے ہم چیزوں کو شروع تو کردیتے ہیں لیکن ان کو بیچ میں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے زندگی میں کامیابی کے لئے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کو اپنی عادت بنائیں۔ تیسری وجہ زندگی میں ناکامی کی کسی مقصد کا نہ ہونا ہے بغیر مقصد کے زندگی ایک بےمعنی زندگی ہے۔ انسان کی زندگی میں دو دن بہت اہم ہوتے ہیں ایک جس دن وہ پیدا ہوا تھا اور دوسرا وہ دن اہم ہوتا ہے جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا ہے۔ دوسرے دن کی اہمیت کا احساس تب ہوگا جب آپ حرکت کریں گے اور کام شروع کرینگے تو زندگی کا ایک مقصد مل جائے گا۔ زندگی کا مقصد اپنے کام میں، عادات، شوق، پیشے، علم میں تلاش کریں کہیں نہ کہیں آپکو زندگی کا مقصد مل جائے گا اور اگر ایک بار سرا مل گیا تو پھر آگے بڑھنے کا راستہ مل جاتا ہے اور زندگی میں کامیابی ضرور ملتی ہے۔ زندگی میں اپنی ذات میں ڈسپلن نہ ہونا بھی ناکامی کی بڑی وجہ ہے اسکا مطلب ہے کہ اپنے اوپر کنٹرول ہونا زندگی میں طور طریقہ، ترتیب لانا۔ ایسا کرنے کے لئے آپ کو سب سے پہلے خود کو فتح کرنا ہوگا۔ لوگ کسی چیز کو کرنے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن کچھ دن بعد ہی نظم و ضبط، مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے پھر پرانی روٹین پہ آجاتے ہیں کیونکہ پرانی عادتیں برے طریقے سے انسان کو جکڑے رکھتی ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ملک میں تعلیم کا فقدان ناکام ہونے کی بڑی وجہ ہے، ہمارے سیاسی لیڈرز کا عوام کو جکڑنے اور اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی جو وجہ اور کنجی ہے وہ عوام کو تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ ان کے خیال میں عوام کو جاہل گنوار، ان پڑھ رکھا جائے کیونکہ اگر یہ پڑھ گئے عقل شعور آگیا تو یہ سوال کریں گے انہوں نے جواب مانگنے شروع کردینے ہیں جو ان سیاستدانوں کے پاس نہیں ہیں لہذا ان کو جاہل رکھو ان سے تعلیم اور بنیادی شعور چھین لو تاکہ یہ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہماری پیروی کرتے رہیں لہذا اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جہاں تک ہوسکے تعلیم حاصل کریں تعلیم صرف سکول کالج یا ڈاکٹر انجنیئر بننے تک نہیں بلکہ کتنا آپ نے سیکھا، سفرکیا شعور اور نالج حاصل کیا اور کس طرح اس علم کو اپنی زندگی پہ لاگو کیا اور تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے ملک کو بدل سکتی ہے۔حکومتوں کو اپنے تمام وسائل تعلیم پہ لگا دینے چاہئیں اس سے ہی ہماری کرپشن ختم ہوگی، سڑکیں، ڈیمز، معیشت اور تمام مسائل حل ہونگے۔ ناکامی کی ایک اور وجہ شخصیت میں منفیت کا ہونا ہے اگر ہر وقت آپ مایوسی کا شکار رہیں اور اپنی اس عادت کی وجہ سے دوسروں کو بھی مایوس کرتے ہیں لہذا اپنے آپ کو مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکالیں اپنی شخصیت کو حقیقت پسندانہ، مثبت اور پسندیدہ بنائیں تاکہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں۔ لوگوں کا حد درجہ محتاط ہونا بھی ان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اگر زندگی میں رسک نہیں لیں گے تو بدلے میں کبھی بڑا منافع حاصل نہیں کرپائینگے, سکون آرام سے باہر نکلیں اور خود کے اچھے سے بہتر اور بہترین کے لئے چیلنج کریں۔ ایک اور ناکامی کی وجہ کہ لوگ اپنی انا کے پجاری ہوتے ہیں گردن میں سریا ہوتا ہے ان کے خیال میں انہوں نے جو کہہ دیا وہی درست ہے باقی سب غلط ہیں ایسی سوچ رکھنے والے کبھی بھی زندگی میں کامیاب نہیں ہوتے، جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے ورنہ اکڑ تو مردے کی پہچان ہوتی ہے۔ جو وقت کے حساب سے اپنے آپ کو تبدیل کرلیتے ہیں وہ ہمیشہ زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔
    یہ وہ عادات ہیں جو آپ کو ناکام ہونے پہ مجبور کردیں گی اگر یہ عادات آپ میں ہیں تو ان کو ترک کریں تاکہ زندگی میں کامیابی کی طرف اپنا سفر شروع کرسکیں

    tweets @KharnalZ

  • استعفے اور ملکی مفاد حصہ اول تحریر : راجہ حشام صادق

    لازوال محبتوں بھرا رشتہ ماں باپ جو اپنے بچے کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماں باپ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نہیں ۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے فیصلے کرے۔

    کسی بھی ملک کا سربراہ باپ کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک باپ کے فیصلے اپنے گھر اپنی دھرتی ماں کے لیے ہی ہونے چائیں۔بھلے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے گزشتہ تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں۔
    جس کی مثال گزشتہ حکومتوں کے دور میں نہیں ملتی۔

    کپتان بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی بتائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    ان تین سالوں میں ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے کپتان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا۔یا یہ کہ لیں کہ اپنا فیصلہ تبدیل کیا کیونکہ وہ ملکی مفاد میں نہیں تھا۔اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے رہے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    قارئین میرا تو ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے بہادر اور نڈر وزیراعظم عمران خان نیازی کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان نے تین سالوں میں حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے دورے حکومت میں ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ اپوزیشن استعفے کا کہتی تو ن لیگ والے مذاق اڑاتے تھے کہ لو گے استعفے وہ طلال چھودی اور باقی سارے اور یہی کیوں خود نواز شریف کو جب تک عدالت نے گھر نہیں پھیجا اس نے استعفہ نہیں دیا تھا۔
    پھر گلی گلی کہتا رہا مجھے کیوں نکالا۔

    کپتان نے جو استعفے مانگے اس کی وجہ ہی یہ تھی کہ وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا تھا۔ ان میں وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک کپتان کو عزیز تھے پر کپتان نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے لیے۔آپ سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے کپتان اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور کپتان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا تھا۔

    وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق کپتان کا جو فرض تھا وہ ادا کیا۔ کپتان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے ہیں وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔

    جمہوری حکمرانوں میں اسی طرح ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا۔اور نہ ہی سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے دیکھا۔کوئی بتائے ہمارے سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ کیا ہو؟ وجہ ان کا اصل مقصد وطن عزیز کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں تھا۔

    اللہ پاک کپتان کو سلامت رکھیں اور وہ اس ملک کے لیے مزید اچھے اچھے فیصلے کریں۔آمین

    @No1Hasham

  • بہادر اور نڈر لیڈر عمران خان تحریر: سحر عارف

    بہادر اور نڈر لیڈر عمران خان تحریر: سحر عارف

    عمران خان ایک ایسا نڈر شخص جو جس کام کو کرنے کی ٹھان لے پھر کبھی پیچھے نہیں ہٹتا چاہے وہ کڑکٹ کا میدان ہو یا سیاست۔ ایک ایسا نام جس نے صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کے اندر شعور پیدا کیا۔ انھیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا سیکھایا۔ جی ہاں یہی ہے وہ مرد مجاہد جو پاکستان کی عوام کو اس وقت ہوش میں لے کے آیا جب ہمارا ملک چوروں اور لٹیروں کے ہاتھوں کافی حد تک لٹ چکا تھا۔

    جب پاکستان کے اندرونی دشمنوں نے ملک کی ساکھ کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

    وہ وقت تو سب کو یاد ہی ہوگا جب پاکستان قرضوں میں مکمل طور پر ڈوب چکا تھا۔ عوام تو بے خبر سو رہی تھی۔ ایسے میں عمران خان ایک چمکتے ستارے کی طرح ابھرا اور عوام کو آگاہ کیا کہ آپ کے ملک کا پیسہ دونوں دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر باہر کے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے اور اس کام میں کوئی ایک دو نہیں بلکہ چوروں کا پورا ٹبر ملوث ہے۔

    پھر ان لٹیروں کو عدالت میں گھسیٹا اور ان پہ مقدمے چلائے گئے۔ نواز شریف سمیت اس کے دیگر ساتھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پھر پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے بھی تمام اثاثے عدالت میں ثابت کر کے خود کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں پاکستان کے لیے اہل ثابت کروایا۔

    جب کے اس کے برعکس وہ چور اور لٹیرے جنہوں نے کئی کئی سال ملک پر حکومت کی اقتدار میں ائے وہ اپنے تمام اثاثے عدالت میں ثابت ہی نا کر پائے اور کرتے بھی کیسے سارا مال جو پاکستان کا لوٹا ہوا تھا۔ بھلا چوری کی ہوئی چیزیں بھی کبھی ثابت کی جاسکتی ہیں؟ خیر عمران خان ہی کی بدولت نواز شریف اور اس جیسے دیگر امیر اور طاقتور چور قانون کے شکنجے میں ۔ عدالت نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔

    درحقیقت اس کا سہرا بھی عمران خان کو ہی جاتا یے جس نے اپنے پاکستانی ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے ملک کے دشمنوں کو بےنکاب کیا۔ وہ دشمن جو پاکستان کا کھانے کے ساتھ ساتھ غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ بھی نگل رہے تھے۔ عمران خان اپنے ہم وطنوں کے لیے واحد اور آخری امید بنا۔ اپنے پیارے وطن کی خاطر دن رات ایک کر کے ان چوروں کی اصلیت عوام کے سامنے لایا۔

    اپنی قابلیت اور کئی سالوں کی انتھک محنت کے بعد پاکستان کا وزیراعظم بنا۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی ملک کی ترقی کے لیے کوشاں رہے اور یقیناً آگے بھی رہیں گے۔ بے شمار دشمنوں نے راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی پر ہمیشہ ناکام رہے کیونکہ عمران خان اللّٰہ کے سواء کبھی کسی سے نہیں ڈرا بلکہ اپنی بہادری سے ہمیشہ ان چوروں کا مقابلہ کیا اور آگے بھی کرتا رہے گا۔

    @SeharSulehri

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ سوم تحریر۔   چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ سوم تحریر۔ چوہدری عطا محمد

    میرا دل خون کے آنسورو رہا ہے حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل اور صحراؤں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور امیروں کے کتے جرمن کے بنائے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہیں منرل واٹر پیتے ہیں گرمیوں میں ائیر کنڈیشنز کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔ ان کتوں کیلئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں ۔ ان کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسارہی ہوتی ہے ۔

    دوسری طرف معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں
    اور وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں جیب کترا بناتے ہیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں۔ کچھ جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے, ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ۔ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کررہے ہوتے ہیں گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی کی ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہوتے ہیں ۔

    سخت سردی ہویا گرمی برسات ہویا موسموں کی سنگینی یہ بے پرواہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں انہیں اپنی ماں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی ، لوہا، پلاسٹک، شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کما کر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں توسب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی محنت مزدوری کرتی ہیں جب کہ بہت ساری عورتیں مشقت کرتی ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپے کے عوض پورا دن کام کرتی گزار دیتی ہیں ۔

    ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں،
    وہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں ورکشاپوں پر ڈینٹ پینٹ کا کام کر ریے ہوتے ہیں
    ٹرین کا سفر ہویا بسوں کا معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہوئے نظر آئیں گے بجے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں اور مدد کے منتظرہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انہیں دھتکاتے نہیں ہیں ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی درد ناک واقعات سامنے آتے ہیں

    گھروں میں کام کرنے والے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں پر معمولی سی غلطی کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا

    جو زمانہ ہوا اڑ چکا ہے کسی نے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کیں اگر حکومت لوگوں کے جینے کیلئے اسباب پیدا کردے تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ تو کچرے کی ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔

    خدارا ! اپنے مستقبل کو بچا لیجئے

    @ChAttaMuhNatt

  • طالبان افغانستان کے فاتح تحریر  : راجہ ارشد

    طالبان افغانستان کے فاتح تحریر : راجہ ارشد

    افغان طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھال لینے سے ہمارے ملک کو کیا فائدہ ہو گا یا کیا نقصان ہوگا۔طویل عرصہ جنگ کرنے کے بعد دنیا کی طاقتور فوج کو شکست دینے کے بعد ایک بار پھر طالبان مکمل عروج کے ساتھ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے میں خاطر خواہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    ہمارے ملک کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ طالبان کا افغانستان پر مکمل کنٹرول افغانستان میں امن لائے گا بلکہ میں تو کہوں گا کہ پاکستان میں بھی امن لائے گا۔ہمارے روائیتی حریف بھارت کے لئے ایک برا خواب ہے۔جو افغانستان سے ہو کر پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کرواتا تھا۔طالبان کے ہوتے ہوئے تو اب بلکل بھی نہیں کروا پائے گا۔

    طالبان نے بھی علان کیا ہے کہ ایک تو عام معافی اور دوسرا کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس مل کر جو وطن عزیز میں کاروائیاں کرواتے تھے سرحد پار سے خفیہ اڈوں سے حملے کروا کر ہماری پاک فوج کے جوانوں کو شہید کیا جاتا تھا۔اب پاکستان کو ان سب کاروائیوں سے کافی حد تک نجات ملے گی ان شاء اللہ

    افغانستان میں بیٹھ کر عالمی طاقتیں جو دہشتگردوں کی ڈوریں ہلاتی تھی اور ہمارے ملک میں پی ٹی ایم یا اس جیسی دشمن قوتوں کو متحرک کرتی تھی جو پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلاتی تھی۔افغانستان کا مکمل کنٹرول طالبان کے پاس چلا جائے تو یقینی طور پر پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو بھی لگام ڈالی جا سکے گی۔سب سے بڑھ کر تو افغان بارڈر سے جو غیر قانونی تجارت ہوتی تھی اس پر کنٹرول ہو گا۔

    ہمارے ہمسایہ اور روائیتی حریف ملک بھارت کی کھربوں کی انویسمنٹ جو کے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے کی گئی تھی وہ ضائع ہو جائے گی۔ ہماری طالبان کے ساتھ بھائی چارے والی بات قائم رہی تو ان شاء اللہ سی پیک کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ہم افغانستان کے ذریعے اور افغانستان ہمارے زریعے اپنی معیشت کو نمایاں مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔

    طالبان کے کنٹرول کے بعد ہم افغان بارڈر سے بے فکر ہو جائیں اور اپنی باقی سرحدوں کی حفاظت صحیح طریقے سے کر سکیں گے۔بارڈر پار سے اگر دراندازی بند ہو جائے تو پاکستان کو اندرونی معاملات سنبھالنے میں آسان ہو گی۔پورا دن بھارتی چینل اور افغانستان کی بوکھلائی ہوئی اشرف غنی حکومت جو مکمل بھارتی ایجنسی را اور امریکہ کی اشیرواد سے چلتی تھی گزشتہ چند ہفتوں سے سخت بوکھلائی ہوئی تھی۔اور انتہائی اوچھے قسم کے ہتھکنڈے بھی کر رہی تھی۔

    اشرف غنی حکومت بار ہا بار افغانستان امن کو سبوتاژ کرتی رہی ہے پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگانا اور پھر افغانستان سفیر کی بیٹی کا چھوٹے اغوا کا ڈرامہ رچانہ بھی سازش کا حصہ تھا۔

    بہرحال طالبان افغانستان کے فاتح ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پہلے ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ہر اس افغان حکومت کو خوش آمدید کرے گا جس کو وہاں کی عوام منتخب کرے گی۔

    ان شاء اللہ پاکستان عمران خان کی قیادت میں تمام سازشوں کے عناصر پر قابو پا لیں گے ۔اللہ پاک ہمارے پیارے ملک کو دشمنوں کی سازشوں سے بچائیں اور مستقبل قریب میں ترقی اور خوشحالی پاکستان اور افغانستان کا مقدر بنیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    تحریر : راجہ ارشد

    @RajaArshad56

  • جلد کی حفاظت تحریر : زارا سید

    چمکتی ہوئی جلد کو برقرار رکھنے کے قدرتی طریقے ۔

    جلد کے تازگی اور چمک برقرار رکھنے کے لیے اس کی حفاظت اور اچھی خوراک بہت ضروری ھے ۔ روزانہ نہانے کی عادت بنائیں ۔ غسل کا وقت محدود کریں۔ گرم پانی اور زیادہ ٹائم شاور آپ کی جلد سے چکنائی کو ختم کر دیتے ہیں۔ … صابن سے پرہیز کریں۔ صابن آپ کی جلد سے چکنائی ختم کر کے اسے خشک اور سخت کر سکتا ہے۔ ….اچھی کمپنی کے باڈی واش اور فیس واش استعمال کریں۔ جلد کی اچھی طرح صفائی کے بعد کام کاج کے دوران اپنے چہرے کو بار بار نہ چھوئیں ۔ ایک عام اصول کے طور پر ، ایک بار جب آپ چہرے کی صفائی کر لیں اور حفاظتی کریمز لگا لیں تو ، اپنے ( زیادہ تر گندے ) ہاتھ اپنے چہرے سے دور رکھیں۔ جلد پر بار بار چھونے سے دانے ، کیل مہاسے ، یا کوئی زخم والی جگہیں – مسئلے کی خرابی کا سبب بنتی ہیں اور بالآخر انفیکشن اور نشانات کا باعث بن سکتی ہیں۔”

    کلینزنگ:

    روزانہ کسی اچھے کلینزر سے جلد کی کلینزنگ ضرور کریں اس سے جلد میں موجود دھول مٹی اور فالتو چکنائی صاف ھو جاتی ھے ۔ چکنائی والی جلد سے چہرے پر کیل مہاسے ھو جاتے ھیں جلد کی صحیح دیکھ بھال کے معمولات اور اچھی مصنوعات کے ساتھ ، یہ مسائل کم پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

    موئسچرائزر

    نہانے کے بعد گیلی جلد کو اچھی طرح موئسچرائز کریں
    کسی بھی اچھی کمپنی کا موئسچرائز لگائیں جو آپ کی جلد کو نمی دے۔

    سن اسکرین:

    سردی ھو یا گرمی سورج کی شعاعیں آپ کی جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں ان سے چہرے پر جھریاں ، دھبے خشکی اور کئی بیماریاں ھو سکتی ھیں جن میں مختلف قسم کی الرجی اور کینسر بھی شامل ھے۔
    گھر سے باھر جاتے وقت کسی بھی اچھی کمپنی کا سن اسکرین استعمال کریں۔ تاکہ آپ کے ھاتھ چہرہ اور گردن سورج کی تیز شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گھر میں رھنے والی خواتین کو کچن میں کام کے دوران بھی سن اسکرین استعمال کرنا چاھیے۔

    باقاعدگی سے ورزش:
    چہل قدمی ، ایروبک اور یوگا آپ کے خون کو متحرک کرے گا اور آپ کے پورے جسم کی صفائی کے عمل کو بھی تیز کرے گا۔ ورزش کے بعد آپ اپنے چہرے پر چمک دیکھیں گے ۔ اگر جم نہ بھی جا سکیں گھر کے اندر بھی تیز چہل قدمی کر سکتے ھیں ۔

    بھرپور نیند:

    جلد کی خوبصورتی کے لیے بھرپور نیند بہت ضروری ھے رات دیر تک جاگنے سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن سکتے ھیں۔

    خوراک:

    پھل، سبزیاں، دودھ اور دودھ سے بنی ھوئی اشیاء آپ کی جلد کو خوبصورت اور چمکدار بناتے ھیں ۔ خون کو صاف رکھنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

    رنگ گورا کرنے والی کریمیں:

    رنگ گورا کرنے والی فارمولا کریمیں کبھی استعمال نہ کریں یہ وقتی رنگ گورا تو کر دیتی ھیں لیکن جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں یہ کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا باعث بن سکتی ھیں۔

    وٹامن سی کا استعمال کریں:

    چمکتی ہوئی جلد کے لیے سب سے سادہ اور آسان چیزوں میں سے ایک ، وٹامن سی ہے جو کہ جلد کی تمام اقسام پر کام کرتا ہے یہاں تک کہ جلد میں چمک اور تازگی لاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق: وٹامن سی ہائیپر پگمنٹیشن کو ختم کر سکتا ہے ، ماحولیاتی جارحیت سے بچا سکتا ہے ، جلد کی رنگت کو روشن کر سکتا ہے ، اور کولیجن اور ایلسٹن کی پیداوار کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ چمکتی ھوئی جلد کے لیے بہت ضروری ھے۔

    چینی کا استعمال:

    وہ کھانے کی چیزیں جن میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ھوتا ھے ان سے پرھیز کریں مثلاً وہ کھانے کی چیزیں جو پیک ، پروسیسڈ ، اور زیادہ چینی والی ھیں۔ زیادہ چینی والے پروسیسڈ فوڈز جلد کی سوزش کا سبب بن سکتے ہیں ، جس کی وجہ سے خارش اور کئی دوسری جلد کی بیماریاں ہوتی ہیں ، اگر اپ اپنی زندگی میں سے کوئی ایک کھانے کی چیز ختم کر سکتے ھیں تو چینی کو ختم کر دیں جیسا کہ ایک حالیہ تحقیق نے ہائی شوگر فوڈز اور مہاسوں کے ساتھ ساتھ سر سے پیر تک کی عام سوزش کے درمیان تعلق کی تصدیق کی ہے ۔

    تمباکو نوشی:

    تمباکو نوشی آپ کے جسم پر سر سے پاؤں تک نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ جہاں تک جلد کی چمک کا تعلق ہے ، تمباکو نوشی جلد کو آکسیجن کی فراہمی کو محدود کرتی ہے ، ڈاکٹرز کے مطابق فری ریڈیکلز کو نقصان پہنچاتی ھے اور جلد کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھاتی ہے۔

    میک اپ ٹولز:

    میک اپ برش ، بیگ اور سپنج بنیادی طور پر چکنائی اور گندگی کے پھیلاؤ کی بنیاد ہیں – یہ سب آپ کی چمکتی ہوئی جلد کو خراب کر سکتے ھیں ان چیزوں کو صاف رکھیں! اپنے تمام میک اپ ٹولز کو باقاعدگی سے صاف کریں ، کم از کم ہر دوسرے ہفتے ۔

    گھریلو ٹوٹکے:

    اکثر جلد کی حفاظت کے لیے گھریلو ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ھیں جو ھماری جلد کے لیے تبھی فائدہ مند ھو سکتے ھیں اگر ان کا صحیح استعمال کیا جائے۔
    سکن کیئر کی بے تحاشا ترکیبیں آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں گے ایسے بے شمار چینلز ھیں جو رنگ گورا کرنے اور جلد کی حفاظت کے طریقے بتا رھے ھیں ان پر عمل کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ بتانے والا ایکسپرٹ ھے
    کسی اناڑی کے مشورے سے اپنی سکن کو ضائع ھونے سے بچائیں۔

    مساج:

    جلد پر مساج کرنے سے دورانِ خون میں روانی آجاتی ہے، اور دورانِ خون کی روانی جِلد کو خشکی اور انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
    ھفتے میں کم از کم دو مرتبہ روغنِ زیتون یا روغنِ بادام سے پورے جسم کی مالش یا کم از کم چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر مساج کریں، سردیوں میں جلد کی صفائی کا خیال خاص رکھیں۔

    سردیوں میں جلد کا خشک ہونا عام سی بات ہے لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اس بھی ایک مسئلے کی صورت اختیار کر سکتی ہے ۔

    سرد موسم سے حفاظت؛

    سرد موسم کے آغاز سے ہی ہرے پتوں والی سبزیوں، رسیلے پھلوں اور خشک میووں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جسم پر اچھے موئسچرائزر اور لوشن کا استعمال بھی نہایت ضروری ہے ۔تاکہ جلد پھٹنے اور بے رونق ہونے سے محفوظ رہے۔ سردی کے موسم میں جلد اور ہونٹوں کے پھٹنے ، خارش بالوں میں خشکی اور بال گرنے کی شکایات عام ہو جاتی ہیں ۔ اس لیے احتیاط بہت ضروری ھے۔

    پانی:

    جلد اور صحت کے لیے پانی سے بہترین کوئی دوا نہیں ، پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے ۔ خشک جلد والے افراد کو سرد موسم میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے ساتھ ہی وہ موسمی پھل اور سبزیاں بھی زیادہ کھانی چاہئیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو ۔

    ٹویٹر : @Oye_Sunoo