Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرے میں تربیت کا فقدان تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    لفظِ ”تربیت“ اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے۔ سادھے الفاظ میں ”تربیت“ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ برے اخلاق وعادات اور غلط اور غیر مثالی ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک مثالی اور پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ”تربیت“ ہے۔

    تربیت کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور تربیت کے بغیر انسانوں کا معاشرہ نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔ تربیت کے فقدان کےباعت ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے

    ماضی میں ہمارے اجداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تھے اسکے باوجود بھی وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے ادب و آداب پر خاص توجہ دیتے تھے اور اپنے بچوں کو سیکھتے تھے کہ بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کیسے کی جاتی ہے مگر افسوس اب ہمارے معاشرے میں تربیت کا فقدان واضح نظر آتی ہے۔

    بچے مستقبل میں قوم کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت و تعیلم دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک بہترین اور مضبوط معاشرے کیلٸے ایک صحیح بنیاد ڈال رہے ہیں۔ اپنے بچوں کی بہترین تعليم و تربیت سے ایک بہترین اور مثالی معاشرہ وجود میں لاسکتے ہیں کیونکہ ایک بہترین پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!
    اپنے بچوں کی شخصیت میں اخلاقی بحران اور تہذیبی اقدار کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ہماری غفلت ہوتی ہے۔ ہم اپنے مسائل و مصائب میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم تیزی سے دوڑتی زندگی کے چیلنجز اور مشکلات سے نمٹنے میں اپنے بچوں کو فراموش کرجاتاہے ہمارا اور اپنے بچوں کے درمیان رابطوں کا یہ فقدان بعض اوقات وہاں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی ہے

    اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو وقت دینا چاہیے، انہیں زندگی گزارے کے طور طریقے سیکھاٸیں، انہیں صحیح اور غلط کی تمیز سیکھاٸیں، انہیں دین کی جانب راغب کریں، انہیں بتاٸیں کہ عورتوں کے ساتھ احسن طریقے پیش آنا چاہیے اگر معاشرے کوٸی جانور عورت پر ظلم و ستم کر رہا تو اس کو روکے اور اسکی ڈھال بنیں ۔ بچوں کو سیکھاٸیں کہ بزرگوں اور بڑوں کا احترام و تکریم سیکھاٸیں، بچوں کو دین پر چلنا اور اللہ اور اسکے ارشادات پر عمل کرنے والا بناٸیں، والدین کے ساتھ احسن سلوک کرنا سیکھاٸیں، حلال کماٸی کی جانب راغب کریں، حیا اور بےحیاٸی میں فرق کرنا سیکھاٸے اور اپنے بچوں وہ سب سیکھاٸیں ،جو ایک مثالی معاشرے کی اہم ضرورت ہے

    قارئين !!ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہی اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، اپنے بچوں کو تعلیم کیلٸے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں داخل کراتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کیا ان اداروں میں آپ کے بچے کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی جاٸیں یا نہیں۔ اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو معاشرہ ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ سکتا۔

    آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی انداز میں کریں کہ اگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل بھی ہوں تو معاشرے کی آلودگی ان کو متاثر نہ کرسکے۔

    دعا ہے کہ اللہ ﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
    لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
    ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
    ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
    کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
    وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
    کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟

    اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
    اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
    ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟

    لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے

    لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
    ہم سب عورتیں
    ہم سب مرد
    سب پاکستانی
    نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
    تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔

    جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
    ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
    تواتر سے پیش آئیں گے
    اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
    اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
    چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے

  • زمہ دار پاکستانی بنیں تحریر : شاہ زیب

    زمہ دار پاکستانی بنیں تحریر : شاہ زیب

    ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس سرزمین سے قدرتی طور پر ہمیں بہت لگاؤ ہوتا ہے۔
    اسی طرح پاکستان ہے یہ وہ سرزمین ہے جسے ہمارے بزرگوں نے بہت سی جانی مالی قربانیاں دے کر حاصل کیا اس دھرتی سے محبت ہمیں ہمارے ورثہ میں ملتی ہے ہر پاکستان کو یہ سرزمین کسی بھی شے سے بڑھ کر عزیز ہے
    ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کے بھی ہم پر کچھ فرض یا زمہ داریاں ہیں جس میں سرفہرست اس کی حفاظت اور اس کی عزت ہے۔
    جی ہاں ! جی ہاں عزت اس سرزمیں کی اس دھرتی کی اس ملک کی جس میں ہم رہتے ہیں
    اس ملک میں کچھ بھی ہوتا ہے تو بجائے متعلقہ اداروں کو اطلاع کرنے اور ان کو انکا کام کرنے کے ہم پہلے ہی طوفان اٹھا دیتے ہیں بغیر تحقیق کے جزبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس کا ڈھونڈورا پیٹ ڈالتے ہیں ہم اس بات کا بلکل خیال نہیں کرتے کہ یہ سب بطور ریاست پاکستان کے امیج کے لیے کتنا برا ہے
    سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر شخص کے ہاتھ میں سمارٹ موبائل ایل اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی ادھر کوئی واقعہ ہوا ادھر ہم نے دھڑا دھڑ پاکستان کو بد نام کرنا شروع کر دیا
    کیا جرائم یا برے واقعات صرف ہمارے معاشرے میں ہوتے ہیں؟
    نہیں بلکل بھی نہیں یہ ترقی یافتہ تو کیا ترقی پذیر ممالک میں بھی ہوتے ہیں
    اور اس کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن کیا آپ نے کبھی دوسرے ممالک کی عوام کو اس طرح کرتے دیکھا ہے وہ لوگ جرائم پر آواز ضرور اور بلند کرتے ہیں ہیں جو کہ کرنی بھی چاہیے اور اس سے نہ آپ کو کوئی منع کر رہا ہے نہ کر سکتا ہے کہ یہ آپ کا حق ہے لیکن اپنے ہی ملک کو بد نام مت کریں کریں اگر آپ کے پاس سوشل میڈیا کی طاقت ہے تو خدارا اس کا درست استعمال کریں جس طرح کا آج کل پاکستان کی نوجوان نسل کا حال ہے ان کے ہوتے ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں اپنی طاقت کو پہچانیں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اس ملک کی عزت کی حفاظت کرے جو کہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
    جب ہم لوگ احتیاط نہیں کرتے اور ایک چھوٹی سی چنگاری کو بھڑکا کر خود آگ لگا دیتے ہیں تو اس میں نہ صرف ہم بلکہ ہمارے ملک کی عزت بھی داؤ پہ لگ جاتی ہے نادانی میں ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور ہم دشمن کو موقع فراہم کر دیتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ ہمیں ملکی اور غیر ملکی ہر سطح پر بدنام کرنا شروع کر دیتا ہے یہ وہ ہی لوگ ہیں جو پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار میں سرگرم ہیں دوسرے ممالک میں اگر کوئی جرم کرتا بھی ہے تو وہاں کی عوام اس کے خلاف اس طرح پروپیگنڈا نہیں کرتی کیونکہ ان کو پتہ ہے اس سے ہمارے ملک کا وقار مجروح ہوگا لیکن یہاں پر بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں عوام اور جیسے ہی کچھ حادثہ ہوا وہ اس پر شور کرنا شروع کر دیتے ہیں ہیں یہ درست ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظالم ہی ہوتا ہے مگر زمہ داری کے ساتھ کسی بھی ملک کی عزت اور وقار اس ملک کی عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے ہم جیسا رویہ رکھتے ہیں اور جس طرح دوسروں کو اپنا ملک دکھاتے ہیں وہ ہی ان کو نظر آتا ہے۔
    یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کی عزت کی حفاظت کریں اس کے خلاف ہونے والی مہم میں نہ استعمال ہوں نہ ہی دشمن کو موقع دیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے پہلے ہمیں انفرادی طور پر اس پر کام کرنا ہوگا جب ہم خود ٹھیک ہوں گے تو یہ معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔۔ شکریہ
    @shahzeb___

  • پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کشمیری بچوں کا منہ توڑ جواب

    پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کشمیری بچوں کا منہ توڑ جواب

    لاہور:سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں کشمیری بچوں نے پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کرار جواب دے کر خاموش کرا دیا-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی اس ویڈیو کوجرنلسٹ عمر جاوید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کیا ویڈیو میں کشمیری بچے پاکستان اور چین کی تعریف جبکہ بھارت سے نفر ت کا اظہار کر رہے ہیں۔


    بھارتی صحافی بچوں کے ساتھ پاکستان کے بارے میں جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر بھارتی فوج ہٹ جائے تو پھر پاکستان آئے گا، وہ آپ لوگوں کو بم بنا کر دے گا،آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ایسے بیٹھنا بھی مشکل ہے تو بچے کسی بھی سمجھدار سے زیادہ ذہین ثابت ہوتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ
    ” پاکستان ہمارے ساتھ ہے ، چین پاکستان کا ساتھ دیتاہے اور وہ ہمارا ساتھ دیتا ہےوہ ہمیں مار بھی دیں توبھی منظور ہے ۔“

    بچے یہ بات کرنے کے بعد نعر ہ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ” لے کر رہیں گے آزادی “ بھارتی صحافی بچوں کی باتیں سننے کے بعد تو اپنا سامنہ لے کر رہ جاتاہے اور اس کے پاس کوئی مزید جواب نہیں بچتا۔


    دوسری جانب پنجاب کےگورنر چوہدری محمد سرور نے بھی اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر اس ویڈیو کوشئیرکیاویڈیو شیئر کرتے ہوئے گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیاں اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے ، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتی انشاء اللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔

    گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ95ہزار سے زائد کشمیری بھارتی افواج کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں بندوق سے لیکر ٹینک تک استعمال کر کے بھی بھارت کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا قتل اور دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کر رہا ہے۔

  • افغانستان کے خلاف  ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    سری لنکا میں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی شاداب خان کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو کم کرنے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں لیا گیا ہے سری لنکا میں شیڈول تین میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم سمیت محمد رضوان، شاہین آفریدی اور حسن علی کو آرام دیا جا سکتا ہےچاروں کرکٹرز گزشتہ ایک سال سے متواتر طور پر مختلف سیریز کھیلتے آ رہے ہیں۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر محمد رضوان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران ہم مسلسل سیریز کھیلتے آ رہے ہیں اور وہ بھی بائیو ببل میں جو کہ کافی مشکل ہوتا ہے ہمارا سب سے اہم ہدف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے، جس کی وجہ سے ہمارے اہم کھلاڑیوں کو آرام درکار ہے تاکہ وہ ورلڈ کپ کے لیے تازہ دم ہو کر آئیں۔

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    افغان کرکٹ آفیشل کےمطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان قومی کرکٹ ٹیم کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ٹی 20 لیگ کو بھی نہیں روکا جائے گا کرکٹ افغانستان کا سب سےمقبول کھیل ہے، اور حالیہ عرصے میں کھیلوں کے میدان میں بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان کی سری لنکا میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز ستمبر میں شیڈول ہے-

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

  • غیر ملکی  کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان:  سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ دوسرے ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن کل صبح پہنچیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق نیوز ی لینڈ اور انگلینڈ بورڈز نے دورہ پاکستان کے لئے سیکیورٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں اور ماہرین آئندہ ہفتے سے کا م کا باقاعدہ آغاز کریں گے جبکہ سیکیورٹی ماہرین کو پنجاب اور فیڈرل افسر بریفنگ دیں گے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی افسر قذافی سٹیڈیم اور راولپنڈی سٹیڈیم کا دورہ بھی کریں گے ۔

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر کیرنز کامیاب سرجری کے بعد صحتیاب ہونے لگے

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پہلا ایک روزہ میچ 17 ستمبر کو ہو گا-

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم میں 3 ایک روزہ میچز اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گےدونوں ٹیموں کے درمیان 3 ایک روزہ میچز راولپنڈی اور 5 ٹی ٹوینٹی میچز لاہور میں ہوں گے جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے-

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی-

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

  • ایک برگزیدہ خاتون کی داستان تحریر:محمد سدیس خان

    حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ بلندی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ، آپ کے والد کا آپ کے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا، آپ کی والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنا اور اپنے یتیم بچے کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ جب یہ بڑے ہونے لگے تو ماں ڈرگئ کہ اب میرا بچہ بڑا ہورہا ہے، گلیوں میں کھیل رہا ہے کہیں یہ غلط لڑکوں کے ساتھ بگڑ نہ جائے۔
    لوگوں سے مشورہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے وہاں ایک بڑے شیخ ہیں وہاں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ اللّٰہ کے ولی بن جاتے ہیں، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو وہاں داخل کرادو، بیوہ ماں اپنے یتیم بچے کو لیکر اس مدرسہ میں پہنچی ، وہاں کے شیخ سے ملاقات کی ، تعارف کرایا کہ حضرت میں ایک غریب بیوہ عورت ہوں، محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتی ہوں۔
    اس یتیم بچے کو ساتھ لائی ہوں، یہ گلیوں میں کھیلنے لگا، مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں بگڑ نہ جائے، میری تمنا یہ ہے اور میرے مرحوم شوہر کی بھی یہی تمنا تھی کہ میرا بچہ عالم ربانی بنے، دین کا خادم بنے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں پھیلائے، آپ اس بچے کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور اس کو ایسا عالم بنا دیجیئے کہ یہ نائب رسول بن جائے اور اللّٰہ کو پسند آجاے۔
    وہ بزرگ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ تم اس بچے کو چھوڑ جاؤ، میں جو کچھ کرسکا وہ کروں گا۔ مگر یہی نہیں جاتے جاتے اس اللّٰہ کی بندی نے ایک درخواست اور کی کہ حضرت! یہ بچہ پہلی مرتبہ گھر سے نکل رہا ہے، اس کو میری یاد بھی بہت آئے گی ، مجھے یاد کرکے روئے گا ، گھر آنے کی اجازت مانگے گا مگر مگر یہ گھر آئے گا تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور یہ وہ نہیں بن پائے گا جو میں اسے بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اس کو میرے پاس تب ہی بھیجئے گا جب یہ عالم بن جائے۔
    وہ بزرگ حیران رہ گئے کہ اس بیوہ عورت کی کیا ہمت اور کیا تمنائیں ہیں، بزرگ فرمانے لگے جاؤ دعاؤں سے میری مدد کرنا، مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا وہ میں کروں گا۔
    وہ بیوہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئیں، بچے کی تعلیم وترتیب کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بچے نے کچھ کچھ مہینوں تک صبر سے کام لیا۔
    بالآخر بچے نے آکر استاد سے کہا کہ مجھے اپنی امی کی بہت یاد آرہی ہے، مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیجئے ، میں گھر چلا جاؤں۔
    اب استاد بہت پریشان کہ چھٹی دیتے ہیں تو اس کی والدہ سے کیا ہوا وعدہ ٹوٹتا ہے اور اگر چھٹی نہیں دیتے تو اس معصوم بچے کا دل ٹوٹتا ہے، اللّٰہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ اللّٰہ اس مسئلہ کا حل فرما دیں۔
    اللّٰہ نے مدد فرمائی، دل میں ایک ترکیب آگئ اور فرمایا کہ میں تمہیں سبق دیتا ہوں، جب تم اسے یاد کرکے شام تک سنادوگے تو میں تمہیں چھٹی دیدوں گا۔ بچہ خوش ہوگیا، استاد نے سبق دیا اور جان بوجھ کر اتنا دیا کہ کہ وہ شام تک یاد ہی نہ ہوسکے۔
    جب بچے نے سبق کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سبق تو شام تک یاد نہیں ہوسکے گا۔
    اب بچہ حیران کہ میں کیا کروں، دوبارہ استاد کے پاس جاکر سبق کم کرنے کی درخواست کروں تو یہ استاد کی بے ادبی ہو جائے گی۔ اب ماں کو ملنے کو بھی بہت جی چاہ رہا ہے، استاد صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں رات کو تکیہ پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں حالانکہ میں کافی دیر تک منہ چھپائے روتا رہتا ہوں۔
    ایک ترکیب ذہن میں آئی ، اس نے کتاب کو ادب کے ساتھ رحل پر رکھا اور اللّٰہ سے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللّٰہ! میں نے یہی سنا ہے کہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کی قدرت سب سے زیادہ ہے اے اللّٰہ ! آج مجھ یتیم بچے کی دعا قبول کرکے اپنی قدرت کو استعمال کردیجیۓ۔
    آج شام تک یہ سبق یاد کروا دیجئے ، اے اللّٰہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی امی کی یاد میں کتنا تڑپ رہا ہوں، اے اللّٰہ! میرے ٹوٹے دل کو سکون دیجئیے۔
    میرے ابو زندہ ہوتے تو وہ آجاتے، میں ان کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا، خوب یقین کے ساتھ دعا کی اور پھر سبق یاد کرنے بیٹھا، شام تک اسے سبق یاد ہوگیا۔
    استاد کو یقین تھا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنا سبق بچہ ایک دن میں یاد کرلے، بچے نے سبق سنانا شروع کیا اور پورا سبق سنادیا، استاد سمجھ گئے کہ اس بچے کا معاملہ کچھ اور ہے، اب استاد نے گھر جانے کی اجازت دی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا، بچہ خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
    ہنستا کھیلتا جارہا ہے کہ میں یوں امی سے ملوں گا، آواز دوں گا، پھر چھپ جاؤ گا ، پھر امی سے لپٹ جاؤں گا، پھر امی مجھے کھانا کھلائیں گی، مجھے امی اپنے پاس سلائیں گی کہ کب سے امی کی خوشبو نہیں سونگھی، انہی خیالوں میں وہ معصوم بچہ گھر کی طرف رواں دواں ہے۔
    گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ بند تھا ، آواز دی لیکن جواب نہیں ملا، پھر آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟
    بچے نے باہر سے جواب دیا امی میں آپ کا بچہ بایزید ہوں، اندر سے جواب آیا کون بایزید، میرا بچہ بایزید تو گھر تب آئے گا جب وہ اللّٰہ کا ولی بن جائے گا، بس وہ بچہ وہیں کھڑے کھڑے روتا رہا۔
    وہ سمجھ گیا کے میری امی نہیں چاہتیں کہ میں ابھی ان سے ملوں۔ یوں روتے روتے وہ واپس چلا اور استاد کو سلام کیا، استاد نے پوچھا تم واپس کیسے آگئے خیریت تو ہے؟
    اب بچہ نے جواب دینے کے لیے جو اپنا چہرہ اوپر اٹھایا ، استاد نے دیکھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ استاد نے بچہ کو گود میں لیا ، اپنے عمامہ کے پلو سے اس کے آنسو پونچھے ، گھر کا واقعہ سنایا۔
    استاد نے فرمایا یہ بات بتاؤ کہ تم اپنی امی سے ناراض ہوکر تو نہیں آئے؟
    بچے نے کہا میرا دل ٹوٹا بہت ہے ، میری آنکھیں بہت روئی ہیں لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میں ہزار خوشامد کروں مجھے چھٹی نہ دیجئے گا اور میری درخواست ہے کہ مجھے ویسا بنا دیجیئے جیسا میری امی چاہتی ہیں اور یہ درخواست بھی ہے کہ دعا فرمادیجئے میری امی بیمار رہنے لگی ہیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، مجھے ڈر ہے کے کہیں ان کی زندگی کا چراغ گل نہ ہو جائے۔
    ان کی زندگی میں وہ برکت ہوکہ وہ مجھے وہ بنا ہوا دیکھ لیں جس کی وہ چاہت رکھتی ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہی ہیں ، استاد نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روزانہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتا رہوں گا ۔
    پھر بچے کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، دل کے کانوں سے سنو کہ اگلے ١٦ سال تک یہ بچہ اپنی ماں کے پاس نہیں گیا، اس عرصہ میں بچہ نے چھٹی بھی نہیں مانگی ، پھر کیا ہوا۔
    تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی عمر جب تقریباً ٢٢ سال کی ہوگئی تو ایک مرتبہ خواب میں استاد کو بوقت تہجد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان بایزید تمہارے پاس زیر تربیت ہے اس کو ولایت کبریٰ کا جھنڈا دے دیا گیا، اللّٰہ کے ہاں فیصلہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے دنیا میں دین کا کام ہوگا، جاؤ اسکو خوشخبری سنادو اور روانہ کردو۔
    استاد صاحب اٹھے ، تازہ وضو کیا، شاگرد کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے بیٹھ گئے، جب بایزید نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ادھر آؤ، سینے سے لگایا اور فرمایا تمہاری ماں کی قربانی رنگ لائی ہے ، تمہارے باپ کی تمنا پوری ہوئی اور تمہارا مجاہدہ اللّٰہ کے ہاں قبول ہوگیا۔
    جاؤ اللّٰہ کے دین کی خدمت کرو، اپنا عمامہ اتار کر شاگرد کے سر پر باندھا، یوں استاد نے دعاؤں کے ساتھ روانہ کردیا۔
    وہی راستہ وہی گھر تھا، انہی گلیوں میں پھرتے ہوئے وہ گھر پہنچے، دیکھا کے دروازہ بند تھا ، آواز دی تو ماں دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو سینے سے لگایا ، وہ نوجوان مسنون لباس سے آراستہ تھا، ماں نے بلائیاں لیں۔
    بچہ ماں کے قدموں میں گرنے لگا تو ماں نے جلدی سے اٹھالیا اور اپنے کلیجے سے لگا لیا اور بستر پر بٹھایا کہ تھوڑی دیر میں تمہیں گرم گرم کھانا کھلاؤں گی۔
    پہلے اللّٰہ کا شکر تو ادا کرلوں، پرانا بوریا بچھایا اور ماں نے دو رکعت کی نیت باندھی۔ پھر دعا کی کہ اے اللّٰہ! مجھ بیوہ کا شکر قبول کرلیجئے، آپ نے میری دعا قبول کرلی، میرے مرحوم شوہر کی تمنا پوری کردی۔
    سلام ہو بایزید بسطامی پر اور سلام ہو ان کی جلیل القدر ماں پر، وہ عظیم بیوہ عورت کی عظمت و ہمت کو دیکھئے۔
    جب عورت کی تمنائیں درست ہوتی ہیں تو امت کو بایزید بسطامی ملا کرتے ہیں۔
    Twitter : @msudais0

  • مومن حیا دار ہوتا ہے  تحریر:  نصرت پروین

    مومن حیا دار ہوتا ہے تحریر: نصرت پروین

    عورت کی حیا حجاب میں ہے۔
    اور مرد کی حیا نظر کی پاکیزگی میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اوصاف سے نوازا۔ ان اوصاف میں سے ایک بہترین وصف حیا ہے۔ حیا سے مراد دل کا برائی سے پردہ کرنا ہے۔ حیا کردار کی اکائی ہےاور حیا کا ایمان سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حیا کی وجہ سے انسان میں تقوی پروان چڑھتا ہے اور وہ گناہ سے باز آتا ہے۔ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    حیا کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور ہے۔ جب دل میں حیا پیدا ہوتا ہے تو انسان ہر حالت میں تنہائی میں یا لوگوں کے سامنے غرضیکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہے۔ وہ برائی سے اجتناب کرتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا وصف ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ اور باحیا اور باپردہ دین والے ہی پاکیزگی کی اعلی مثال ہوتے ہیں۔ اگر حیا رخصت ہوجائے تو باقی تمام خوبیوِں پر خود ہی پانی پھر جاتا ہے۔ انسان ذلت و رسوائی میں پڑ جاتا ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ برائی کے کام سرکشی کے ساتھ کرتا چلاجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔
    یہ ایک المیہ ہے کہ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں حیا کا سر چشمہ مرد اور عورت دونوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
    "بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر مرد میں حیا نہ رہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان بن جاتا ہے۔ اور اگر عورت سے حیا اٹھ جائے تو نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ اور جب کسی سر زمین پر بے حیائی پھیل جاتی ہے تو وہاں سے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے وہاں طرح طرح کے عذاب آتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے حیائی کے پھیلانے میں اہم کردا اد کر رہاہے۔ اس میں میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک جیسی فحاشی سے بھرپور ایپلیکیشنز جو معاشرے سے حیا کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی ہم مشرقی تہذیب کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہمارے مرد و خواتین شرم و حیا کا پیکر ہوتے تھے۔ لیکن پھر جدیدیت کے نام پر بے حیائی کی ایسی ہوا چلی جو ایمان کو بہا لے گئی۔ آج بے حیائی بھی عام ہے۔ اس کو سراہا بھی جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی راغب کیا جاتا ہے۔ ان سب کی جیتی جاگتی مثال 14 اگست کے دن مینارِ پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہے یقیناً یہ واقعہ ایک عام انسان کے لئے جب پہلی بار سنے تو دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے خود جب پہلی بار سنا تو بہت ہمدردی ہوئی لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پتہ چلا کہ سارے واقعے کی جڑ ٹک ٹاک نے ہماری تہذیب کا ایسا جنازہ نکالا کہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ بے حیائی بھی گولہ نما ہوتی ہے جس کو جتنا پھیلایا جائے اتنی ہی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اور بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حیائی اللہ کی حدود سے تجاوز کر کے برائی کا نام ہے جس ہر اللہ کا عذاب تو ہوتا ہی ہے لیکن دنیاوی طور پہ بھی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ بہت تکلیف دہ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ دیکھیں اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہو جائیں تو بھی اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے اور مرد کا نگاہیں جھکانا ہی حیا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیاء کا درس دیتا ہے۔ اور حجاب ہی عورت کا حیا ہے۔ اور جب دونوں یعنی مرد کی نظر کی حیا اور عرت کا حجاب باقی نہ رہیں تو اذیت ناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بےحیائی پھیلانے والوں کے متعلق فرمایا
    ‏بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (سورۃ النُّوْر، 24 : 19)
    آج جائزہ لیں تو
    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حیا کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
    1۔ ‏لوگوں میں سب سے کامل زندگی اس کی ہے جو حیا میں کامل تر ہے۔ حیا کی کمی آدمی کی زندگی کی کمی ہے۔
    2۔ ‏حیا لفظ حیات سے مشتق ہے
    پس جس میں حیا ہے وہی درحقیقت
    حیات ہے۔
    3۔ ‏حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔
    4۔ تمام اخلاق و صفات میں سے سب سے افضل اور قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے، جس شخص میں حیا نہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔
    5۔ اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے۔
    6۔‏جتنا دل توحید میں کمزور اور شرک میں مضبوط ہوگا وہ دل اتنا ہی بے حیا اور حیا باختہ ہوگا۔
    7۔ ‏معاصی کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیا جو قلب کا اصلی جوہر حیات ہے، فنا ہو جاتی ہے حالانکہ ہر خیر و فلاح کی اصل جڑ شرم و حیا ہی ہے۔ جب یہی فنا ہو جائے تو خیر و فلاح کی امید ہی نہیں قائم کی جاسکتی۔
    دیکھیں دنیا ایک ظاہری زیب و زینت پر مشتمل گھاٹے کا سودا ہے۔ جس میں بے حیائی کے کئی رنگ ہیں۔ لہذا ان رنگوں میں گم ہو کر اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔ دین اسلام کا تو مزاج ہی حیا ہے۔ حیا کا ایمان، ادب اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ بطور مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دیکھیں۔ وہ کیسے شرم و حیا کا پیکر تھے۔ صحابہ کی زندگیاں پڑھیں جس طرح ہم مغرب ہیروز کو پڑھتے ہیں ایسے ہی اسلامک ہیروز کی حیات کا مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے کو جو گھن لگ گیا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری بےحیائی ہے جو مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اور مومن کبھی بھی بےحیا نہیں ہوتا ایمان کے دعوے دار تو ہم سب ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے ایمانی لیول کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اور پھر حیا کو اپنانا اور معاشرے مین پروان چڑھانا ہمارا فریضہ ہے۔
    اللہ رب العزت ہم سب کو ایمان اور حیا کی بہترین حالت میں رکھیں۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    ہمارے ملک میں ایک رونا دھونا یہ رہا ہے کہ سرمایہ دار اس ملک کو کھا گئے۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمیں لوٹ کر دولتمند ہوگئے ہیں۔
    سرمایہ دار کون ہوتا ہے؟ ایسا اشخص جس کو کاروباری طریقے آتے ہوں اور وہ تیزی سے ترقی کرتا ہے۔ جس معاشرے کا مجموعی ڈھانچہ دیانتداری کی بنیاد پر استتوار ہو وہاں کاروبار دینانتداری سے ہوتا ہے لیکن اگر معاشرے میں بد دیانتی کا راج ہو تو کاروبار میں بھی اس کے اثرات اتے ہیں۔ لیکن جو بھی صورت حال ہو، کاروباری شخص معاشرے کا ایک بہت مفید رکن ہوتا ہے اور اس کی برکت سے بے شمار لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ وہ جان مار کر کماتا ہے لیکن کھاتا کم ہے۔ اس کی بچت اس کے اپنے کام کم آتا ہے اور دوسروں کے زیادہ۔
    1890 کے لگ بھگ موجودہ انڈیا کے صوبے گجرات میں حبیب اسمٰعیل نام کا ایک خواجہ لڑکا برتنوں کی دکان میں ملازم ہوا اور چند سالوں کے اندر یہ اس کاروبار کا پارٹنر بن گیا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1941 میں اس نے جنیب بنک کی بنیاد رکھی۔ آج اس خاندان کا کاروبار نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ سینکڑوں کمپنیوں پر مشتمل کئی گروپ ہیں جو دنیا کا کم و بیش ہر کام کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ یہ ملکی خزانے کو اربوں روپے ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں اور ان کے فلاحی کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ سکولوں کے ایک سلسلے کے علاوہ ایک بہت ہی معیاری یونیورسٹی یہ لوگ چلا رہے ہیں۔
    جب پاکستان بن رہا تھا تو قاید اعظم نے اسمٰعیل حیبیب کو پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔ جب ملک قائم ہوا توخزانے میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔ اوپر سے انڈیا نے ہمارے حصے کا پیسہ دینے سے انکار کردیا۔ ایسے میں قاید اعظم نے اسمٰعیل حبیب سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ رقم مملکت کو قرض دے سکتے ہیں؟ حبیب اسمٰعیل نے خالی چیک پر دستخط کرکے قاید اعطم کے سامنے رکھ دیا جس پر انہوں نے 8 کروڑ روپے نکال کر حکومت کا کام چلا لیا۔
    بعد کی حکومتوں نے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں کارٹل کہا گیا تو کبھی بائیس خاندان۔ اب ان کا نیا لقب مافیا رکھا گیا ہے۔
    ایک زمانے میں ان سب کا کاروبار زبردستی سرکاری قبضے میں لے لیا گیا۔ بیس سال بعد کارخانے کاٹھ کباڑ کا روپ اختیار کر گئے تو کہا گیا کہ واپس خرید لو۔ 90 کی دھائی میں کراچی میں اسی طرح کی ایک آئل ملز خسارے میں جاکر بند ہوگئی تو اس کے سابق مالک سیٹھ ولی محمد کو واپس لینے کی پیشکش کی گئی۔ اس نے جواب دیا کہ "ظالمو! دو سال اور میرے پاس رہنے دیتے تو میں اس کا مین گیٹ سونے کا بنوانے والا تھا۔ اب زنگ خوردہ کباڑ کا کیا کروں گا؟” یہ بات کارخانے کا سرکاری ملازم منیجر بتا رہا تھا۔
    ہمارے ملک کے پسماندہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی ترقی سے حسد کرتے ہیں۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    پہلے بتاتا چلوں پاکستان تحریک طالبان پاکستان نہ کبھی طالبان تھے اور نہ ہی مجاہدین۔ یہ پی ٹی ایم کی پرانی مسلحہ شکل تھی جو صرف اور صرف بھارت کے کہنے پر پاکستان کو بنیاد پرست اور عسکریت پرست باور کروانا چاہتے تھے۔ مُلَّا فضل اللّہ انتہائی ظالم شخص تھا اور اسکا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن صرف حمایت حاصل کرنے کے لئے اس عسکریت پسند گروپ کا نام تحریک طالبان پاکستان رکھا گیا
    اس بات کی وضاحت خود اس گروپ کے ترجمان احسان اللّہ احسان نے گرفتاری کے بعد کی کہ ہماری فنڈنگ بھارت سے ہوتی ہے اور افغان طالبان کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس بات کو بہت ناپسند کیا ور ہمارا داخلہ افغانستان میں ممنوع قرار دیا لیکن کیونکہ افغانستان میں بھارت امریکہ کے ساتھ ملکر سازش کررہا تھا تو اس لئے پاکستان تحریک طالبان افغانستان آتے جاتے رہتے تھے اور ظاہر کرتے تھے کہ انکا رابطہ افغان طالبان ساتھ ہے جو کہ بلکل جھوٹ تھا
    اب آتے ہیں اصل بات پر
    افغان طالبان جو کہ مجاہدین بھی کہلاتے ہیں یہ "طالبان” کیوں کہلاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شروع سے موجود ہیں جو کہ بلکل غلط ہے
    سویت یونین سے لڑائی میں جو افغان جنگجو تھے انہیں "مجاہدین” کہا جاتا تھا اور تب انکے چھوٹے چھوٹے گروپس بنے ہوئے تھے لیکن صرف لڑائی کی حکمت عملی کے لئے
    ان گروپس میں کسی کا نام بھی طالبان نہیں تھا حتی کے اسکا وجود ہی نہیں تھا۔ ان گروپس کی آپس میں مخالفت شروع سے تھی وہ بھی فنڈنگ پر جسکو پاکستان نے بہت کوشش کی کہ ختم ہو مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ حقانی جیسے گروپس اسی قسم کی حکمت عملی کے تحت وجود میں آئے تھے۔
    تب اس لڑائی کے دوران افغان لوگوں کو تعلیم اور رہائش دینے کے لئے پاک افغان بارڈر پر مدرسے قائم کیے گئے جن میں ان لوگوں کو بطور ٹیچر بھرتی کیا جاتا تھا جو جنگ کے دوران زخمی ہوجاتے تھے یا ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے۔ ان میں مُلَّا عمر بھی تھا کیونکہ جنگ کے دوران اسکی ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی تو مزید اسے جنگ نہیں لڑسکتا تھا
    اسے ایک مدرسے کا ہیڈ بنا دیا گیا۔ روس جب واپس چلا گیا تو جہاں جہاں مجاہدین کا جو گروپ تھا وہ اس علاقے کا حکمران بن گیا۔ ان میں سے کچھ حکمران بہت ظالم بھی تھے جو لوگوں کو اغوا کرتے ریپ کرتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ اسی دوران ایک حکمران کے کچھ لوگوں نے مُلَّا عمر کے مدرسے کے ایک بچے کو اغوا کرلیا۔ مُلَّا عمر نے کوشش کی کہ پرامن طور وہ بچہ واپس مل جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پھر اس نے اپنے مدرسے اور اسکے آس پاس کے مدرسوں کے طلبا کا ایک چھوٹا سا لشکر بنایا اور بچے کی بازیابی کو نکل پڑے۔ انکے پاس زیادہ طاقت تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی انہوں نے بزور طاقت اس بچے کو چھڑوا لیا۔ اب اس دیکھا دیکھی میں اور بھی بہت سے لوگ انکے لشکر میں شامل ہونے لگے اور درخواست کی کہ ہمارے حکمران ہم پر ظلم کرتے ہیں تو آپ ہماری بھی مدد کریں۔ اسطرح لشکر بڑھ کر اتنا بڑا ہوگیا کہ ایک مضبوط گروپ کی شکل اختیار کرگیا۔ تبھی اسے انکو "طالبان” کہا جانے لگا کیونکہ یہ سب ایک مررسے کے طالبعلم تھے۔
    مُلَّا عمر نے پاور میں آنے کے لئے مزید گروپس کو اپنے ساتھ شامل کرنا شروع کیا اور پہلی بار افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ اب یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے جو فنڈنگ روس کے خلاف جنگ میں شروع کی تھی وہ روک لی کیونکہ وہ افغان طالبان کی حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر بنی تھی۔ امریکہ کی فنڈنگ روکنا ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی جس پر افغان طالبان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ رونما ہوا
    کیونکہ اب امریکہ کا افغانستان میں مفاد ختم ہوچکا تھا تو اس لئے اس نے افغان طالبان کو دہشت گرد ڈکلئر کرکے اس پر حملہ کردیا
    اس وقت سے اب تک بھی طالبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ اب انہوں نے امریکہ کو بھی شکست دی ہے۔

    @AtiqPTI_1