Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    کینیڈین سیاح اور وی لاگر روزی گیبریل نے لاہور سے گوادر تک کا سفر بغیر کسی سیکورٹی کے اکیلے کیا اور دنیا کو اپنے یو ٹیوب چینل سے یہ میسج دیا کہ پاکستان بہت محفوظ جگہ ہے اور پانچ ماہ کے سفر وسیاحت میں ایک مرتبہ بھی پاکستان کے کسی بھی مقام پر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی علاقہ جات کا بھی سفر کیا اور یہ بتلایا کہ جہاں بھی وہ گئیں، ان کی عزت کی گئی۔ ان کی بائیک خراب ہوئی تو فری ٹھیک کر دی گئی۔ کہیں رات پڑ گئی تو فیملی نے مہمان نوازی کی۔ اس خاتون نے 14 ماہ پاکستان میں گزارے۔ اس قدر متاثر ہوئی کہ اسلام قبول کیا اور ایک پاکستانی سیاح سے شادی بھی کر لی۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ ایک ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرام 14 اگست 2021ء کو مینار پاکستان کے ساتھ ملحق گریٹر اقبال پارک میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنانے جاتی ہے اور ایک ہجوم اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اس کو ہراساں کرتا ہے اور تقریبا اڑھائی گھنٹے تک اس کے جسم سے کھیلتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔ البتہ اس نے یہ بیان دیا ہے کہ اس کو بالکل برہنہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن واقعے کی جو ویڈیوز اور امیجز موجود ہیں، ان میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔ مبینہ ذرائع کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی سلیفیاں لینے کے لیے دھکم پیل ہوئی اور اس دھکم پیل میں اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر ٹچ کیا گیا ہے۔ اس پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ لی ہے۔

    روزی گیبریل اور عائشہ اکرام دونوں میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے پردہ نہیں کیا ہوا تھا اور دونوں اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں لیکن ایک کو معاشرے نے عزت دی اور دوسری کو ذلیل کر دیا۔ اس میں فرق کیا ہے۔ اس میں فرق عورت عورت کا ہے۔ روزی گیبریل پورے پاکستان کا اکیلے سفر کرتی ہے اور کوئی اسے دن کیا رات میں بھی ہاتھ تک نہیں لگاتا اور دوسری طرف ایک لڑکی کو دن دیہاڑے لاہور شہر کے ایک معروف پارک میں چار سو افراد کتوں کی طرح پڑ جاتے ہیں۔ آپ ان دونوں کیسز کی ویڈیوز اور امیجز دیکھیں گے تو فرق کھل کر سامنے آ جائے گا۔

    روزی گیبریل جہاں گئی، اس نے مردوں سے فاصلہ برقرار رکھا اور انہیں واضح میسج دیا کہ ہمارے درمیان ایک حد قائم ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون تھی اور سچی آرٹسٹ تھی۔ اسے مرد کی نظروں سے نہیں، سیاحت میں دلچسپی تھی لہذا لوگوں نے اس کی اور اس کے فن کی قدر کی۔ اس نے ہمیشہ بچوں اور عورتوں کے ساتھ تصاویر کھچوائیں اور انہیں پبلک کیا۔ دوسری طرف عائشہ اکرام کے بارے مبینہ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ وہ ٹک ٹاکر تھی، اسے فالوورز چاہیے تھے۔ جس کو وہ ہجوم کہہ رہی ہے، یہ ہجوم نہیں تھا، اس کے فالوورز تھے جنہیں اس نے خود وہاں بلوایا تھا۔ اور پھر یہ ناخوشگوار واقعہ ہوا کہ جس کے بعد ایک دن میں اس کے فالوورز کی تعداد پچاس ہزار بڑھ گئی۔

    تو بھئی عورت عورت کا فرق ہے۔ اس معاشرے کے مردوں کو عورت کے باہر نکلنے پر اعتراض نہیں اور نہ ہی اسے عزت دینے میں مسئلہ ہے۔ لیکن یہ معاشرہ اسی عورت کو عزت دیتا ہے جو خود سے عزت چاہتی ہو۔ جو عورت پہلے ہی مردوں کے ہاتھوں کھلونا بننے کو تیار ہو، ان کی گود میں چڑھ کر یا گلے میں بانہیں ڈلوا کر تصویریں کھچوائے۔ اور پھر سامنے موجود بعضوں کو کہے کہ تم صبر کر کے دیکھتے رہو تو مرد ایسی عورت کی عزت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی فالووننگ سے ہی اس کی فیم کی جبلت پوری ہوئی ہے تو اب وہ چاہتے ہیں کہ بدلے میں وہ ان کی جبلت پوری کرے۔ یہ تو لین دین کا سودا ہے۔ اور یہی سب کچھ مبینہ ذرائع عائشہ اکرام کے حوالے سے نقل کر رہے ہیں۔

    وینا ملک، قندیل بلوچ، حریم شاہ اور عائشہ اکرام کا رستہ بے حیائی کا رستہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ مشہور ہونا چاہتی تھیں یا فیم چاہتی ہیں۔ حریم شاہ کو بھی دیکھ، آج کل شیشہ پیتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد دیگر منشیات اور ڈرگز کی بھی عادی ہو جائے گی کہ اس رستے کا انجام ہی یہی ہے حالانکہ یہ مدرسے کی پڑھی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے حسن وخوبصورتی میں لوئر مڈل کلاس کی خواتین کو بھی وہ فیم اور فالوونگ دلوا دی ہے جو کبھی ایلیٹ کلاس کی خواتین کا مقدر ہوا کرتی تھی تو لوئر مڈل کلاس کی لڑکیاں عورتیں اس فیم اور فالوونگ کے پیچھے پاگل ہو گئی ہیں۔

    پہلے وقتوں میں ایلیٹ کلاس کی عورتوں کو یہ فیم اور فالوونگ اپنے حسن وجمال یا آرٹ کی وجہ سے حاصل ہوتا تھا لیکن اب یہی فیم اور فالوونگ معمولی حسن رکھنے والی لڑکیوں کو مردوں کو لبھانے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسی عورتوں کی بڑی فالوونگ معاشرے کا رذیل مرد ہوتا ہے جو ان کے وجود کو تک کر اپنی آنکھیں سیکتا رہتا ہے۔ اور ان عورتوں کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی مرد ان کا فالوور ہے اور جس درجے کا یہ حسن رکھتی ہیں، اس میں ایسا ہی فالوور مل سکتا ہے اور اسی کو لبھا کر ہی فیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ تو یہ ساری گیم مشہوری کی ہے اور سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی ہے۔ کبھی معاشرے پر شیروں کا راج ہوتا تھا لیکن بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جس نے گیڈروں کو بھی شیروں کی کھال پہنا دی اور انہوں نے اپنے آپ کو شیر سمجھ بھی لیا اور اب یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ ہماری شیر کے جیسی عزت کیوں نہیں کرتے ہیں۔

    بھئی، کیا بات کرتے ہو، مغرب کا معمولی درجے کا حسن تو وکٹم کو اب ریپ کی بھی یہ خوبصورت تاویل سجھا رہا ہے کہ میں اتنی خوبصورت تھی تو تبھی تو مرد اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پایا اور زبردستی پر آمادہ ہوا یعنی یہ میرے حسن کا کمال ہے کہ جس نے مرد کو جانور بنا دیا تھا۔ مردوں میں سیکس کی جبلت اور عورتوں میں مردوں کے لیے سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت، نہیں معلوم کہ کون سی زیادہ ہے اور کون سی کم۔ دونوں جبلتوں کو جب جب اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک رشتہ ازدواج کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشرے میں خیر پھیلا۔ اور جب جب ان دونوں جبلتوں کو مذہب اور اسلام سے آزاد کیا گیا تو اس اس وقت معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جتنا مرد کا اپنی سیکس کی جبلت کو آزاد چھوڑ دینا فتنہ ہے، اتنا ہی عورت کا اپنی سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت کے لیے کچھ بھی کر گزرنا باعث فساد ہے۔ اور یہاں روزی گیبریل اور عائشہ اکرام کے واقعے میں تقابل کرتے ہوئے قرآن مجید کی ایک آیت سچ صادق آتی ہے: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ۔ ترجمہ: خبیث مرد، خبیث عورتوں کے لیے اور خبیث عورتیں، خبیث مردوں کے لیے۔ اور پاکیزہ عورتیں، پاکیزہ مردوں کے لیے، اور پاکیزہ مرد، پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ جو لڑکی حریم شاہ بننا چاہتی ہے تو اسے اس معاشرے میں ہر مرد بھی مفتی عبد القوی جیسا ہی ملے گا۔ تو پاکیزہ زندگی گزارو، تمہیں مرد بھی پاکیزہ ہی ملیں گے جیسا کہ روزی گیبریل کو پاکستان میں کوئی ایک مرد بھی ہراساں کرنے والا نہ ملا۔

  • مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر طنز مزاح شائستگی اور فکر سے لبریز ایک ڈرامہ سیریل ’’گیسٹ ہاؤس’’ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔معروف ترین کرداروں میں باؤ نوید ، مراد اور خوش نامِ زمانہ ریمبو کا کردار تھا ، جو یقیناً افرنگی تمثیل نگاری کے دبستان ہالی ووڈ کی ایک فلم کے کردار سے مملو تھا، اس کردار کو پاکستان کی تہذیب شناخت اور ثقافت میں ڈھالنے کا سہرا پی ٹی وی ہی کے نام ہے، معروفِ زمانہ کردار ریمبو کا تکیہ کلام ’’ مائی نیم از ریمبو ریمبو جان ریمبو کاکروچ کلر‘‘ تھا،شگفتگی شائستگی اور بے ساختہ اداکاری نے افضل خان کا اصل نام منہا کردیا، ایک زمانےتک بزرگ اور بچوں کی زبان پر یہی مکالمے ہوتے تھے۔۔۔ پی ٹی وی کے ڈرامے اس قدر پراثر اور تربیت افزا ہوتےتھےکہ کسی معروف ڈرامہ سیریل کے وقت میں شہر کی سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں،ڈرامے تو خیرڈرامے ہی تھے ٹی وی پر آنے والے اشتہارات بھی ہماری تہذیب اور اقدار کا پتہ دیتے تھے۔ وقت کروٹیں بدلتا رہا، پی ٹی وی کا شعبہ تمثیل نگاری(ڈرامہ) آہستہ آہستہ اپنی وقت کھونے لگا، کیوں کہ متبادل کے طور پر نجی ٹی وی چینلوں نے ناظرین کے ذہنوں پر اپنے پنجے گاڑنے شروع کردیے تھے، مسابقت اور جدت کی اس دوڑ نے ہماری تہذیب ثقافت اور تربیت میں بگاڑ لانا شروع کیا، ہیجان انگیز موضوعات ، ذو معنی جملوں اور نیم لباسی کی جانب رواں دواں ملبوسات نے ابتدا میں معاشرے کے افراد کو ذہنی اذیت دینا شروع کی، اس بے سروپا نام نہاد فیشن اور تہذیب وثقافت سے دوری پر ناظرین کی جانب سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں مگر انہیں اسی دلدل کے منفعت پرستوں نے ’’ نہیں دیکھنا تو کوئی اور چینل دیکھ لو، ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہے چینل بدل لو’’ کا نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ خاموش اور بعد ازاں عادی کردیا، یوں نئی مسلط شدہ جدت اور فیشن نے پیاز کی پرتیں اتارنی شروع کردیں،۔۔میری اس بات سے اختلاف رکھنے والے دوست زرا شکیب جلالی کا نوحہ تو سن لیں۔۔۔

    کیا کہوں دیدۂ تر ، یہ تو مِرا چہرہ ہے
    سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

    بیس بائیس سال کی مسلسل مغربی تہذیبی یلغار نے ہماری تہذیب ثقافت کا چہرہ نوچنا شروع کردیا،بعد ازاں موبائل فون کے پردہ ٔ سیمیں نے ہر ایک گوشہ عافیت کو اپنے رنگ میں رنگنا شروع کردیا اور ماں باپ کی طرف سے ملنے والی تربیت بھی مفقود ہوتی گئی، رہی سہی کسر مائکرو بلاگنگ، فیس بک، یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیو نے پوری کردی، یہاں میں کئی ایسی ایپلیکیشنز کا ذکر قصداً نہیں کررہا ہوں کہ انسانی تجسس کہیں کچے ذہنوں کو اس غلاظت کی جانب نہ لے جائے جہاں مردو و زن کے پوشیدہ امور محض پیسوں کے لیے براہِ راست نشرکیے جاتے ہیں، بیس سال کی مسلسل عدم توجہی اور بے جاآزادی نے نئی نسل کو موج مستی مذاق شہرت اور اضافی آمدن میں مبتلا کرکےہمیں فکری طور پر کھوکھلا کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹک ٹاک یا اس جیسی دیگر ایپس نے نشے کی طرح نئی نسل کے دماغوں پر قابو پالیا، اب معاملہ ہیپٹانزم کے عامل اور معمول والا ہی رہ گیا ہے، ایک دوسرے سے مسابقت طے کرنے میں نئی نسل کے مرد و زن کونہ تہذیب کا خیال رہا نہ ہی قومی و مذہبی اقدار کا، حال ہی میں پاکستان کے یومِ آزادی پر ایک اندوہناک سانحہ ہوا، جو کسی بھی طور قابلِ معافی نہیں،۔۔۔

    ایک تو عین پاکستان کے جشنِ آزادی کے دن واقعہ رونما ہوا دوم یہ کہ جائے واقعہ قراردادِ پاکستان کے سینے کی میخ یعنی مینارِ پاکستان کے احاطہ میں ہوا، واضح رہے یہ خبر تین روز تک پوشیدہ رہی، عین اس وقت جب ہم پاکستان کا جشنِ آزادی منارہے تھے پڑوسی ملک افغانستان میں انتقالِ اقتدار کا مرحلہ طے ہورہا تھا، پندرہ اگست کو تقریباً پورا افغانستان نئی حکومت کے زیرِ انصرام آچکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب اففانستان میں پاکستان کے خلاف بھارت کے لگائے ہوئے اربوں ڈالر کی روایتی اور انسانی مشینری کو دھچکہ پہنچا تھا، پاکستان میں عوام الناس بھارت کی اس خفت پر خوب لتے لے رہے تھے، بھارتی عوام ، عنان حکومت اور مین اسٹریم میڈیا اپنے یومِ آزادی کی بجائے افغانستان میں ہونے والی خفت کو مٹانے کی کوشش کررہا تھا، یہ صورتحال پاکستان دشمنوں اورنام نہادلبرلوں جنہیں خونی لبرل کہنا زیادہ درست ہے کو ایک آنکھ نہ بھایا،یوں عین ایامِ عزا میں ساتویں محرم کو لاہور مینارِ پاکستان پر ہونے والے سانحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اور ساتھ ساتھ مین اسٹریم میڈیا کے افراد کی کمک بھی دستیاب ہوئی، عام آدمی کتنا ہی محتاط اور تحقیق طلب کیوں نہ ہو ایسے مواقع پر جذباتی ہوجاتا ہے، یہی ہوا پاکستان اور پاکستان سے باہر بسنے والے عوامِ پاکستان اس معاملے پر اشتعا ل میں آگئے یوں یہ خبر واقعہ کے عین تین روز بعد سوشل میڈیا ٹرینڈنگ کرتی ہوئی عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی جاگزیں ہوئی، زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے مرد و زن نے اس واقعہ کی نہ صرف مذمت کی، اپنے جذبات کا اظہار کیا بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا، جب ہمیں یہ خبر موصول ہوئی تو ہمیں آئندہ کے سوشل میڈیا موضوع کا عندیہ بھی دے دیا کہ قوم اب افغان ہندوستان موضوع کو چھوڑ کر اس جانب پر تولنے کو ہے، جذباتی تو ہم بھی ہوئے مگر مینارِ پاکستان کا نام آتے ہی شکوک نے جنم لیا، تیس گھنٹوں تک ہم خاموشی سے اس خبر اور اس خبر سے جڑی ہوئی تفصیلات کھوجنے میں مصروف رہے، اس دوران عوام میں تین طبقاتِ فکر نے دھڑے بندی مکمل کرلی تھی، ایک جو جذباتی ہوکر عائشہ اکرم بیگ سے ہونے والی بدسلوکی اور زیادتی پر مجرموں کے لیے سزاؤں کے طالب تھے، دوسرا طبقہ فکر محدودات کے تتبع میں خاتون ٹک ٹاکر کی حدود سے باہر نکل کر ویڈیو بنانے اور عوام کو رجھانے پر طعنہ زن تھے، عین اس وقت تیسرا طبقہ فکر بھی میدان میں کود پڑا جنہیں ہمیں عرفِ عام میں فیمینسٹ کہتے ہیں، اس تیسرے طبقہ فکر نے اپنے ہم خیالوں کی آشیر باد سے معاملہ کو ملکی و بین الاقوامی میڈیا تک پہنچایا، بھارت کے وہ مخصوص چہرے جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف عف عف بھو بھو کرتے رہے انہوں نے شہ سرخیاں جمائیں، ۔۔

    پاکستان سے محبت رکھنے والے افراد جو کسی وجہ سے ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا سبق جذبات سے مغلوب ہوکر بھول بیٹھے تھے انہیں اچانک وہ سبق یاد آگئے بھارت کے کود پڑنے ، نام نہاد لبرلوں ، فیمینسٹ گروپ اور ملکی میڈیا میں موجود ملک کی بےعزتی کرنے کو کوئی موقع ہاتھ نے نہ جانے دینے والوں کی سرکوبی کے لیے نوجوان سراغ رسانوں نے تلاش بسیار کے بعد کچھ ایسے حوالے کھنگال ہی لیے جن سے یہ پورا معاملہ مشکوک ٹھہرتا ہے، اول تو خاتون عائشہ اکرم بیگ کا وہ ویڈیو جس میں ایک اکاؤنٹ سسپینڈ ہونے کا نوحہ اور ان کے ساتھی ریمبو (جس کے لیے ہم نے تمہید باندھی) کا سرپرائز دینے اور فین فالوئنگ کو مینارِ پاکستان پر ملاقات اور سیلفی کی نوید دی گئی تھی، دوم یہ کہ خاتون نے واقعہ کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نہ کوئی ذکر کیا بلکہ ہنستے کھیلتے کئی تصاویر بھی شائع کیں، مزید یہ کہ درجن بھر افراد کی ٹولی جو خاتون کے بقول پارٹنرز تھے کے ساتھ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے گزارے، عینی شاہدین اور اقبال پارک کی انتظامیہ کے بیانات سے ثابت ہوا کہ خاتون کو جانے کے کئی مواقع ملے مگر انہوں نے فین کو ہوائی بوسے ارسال کرنے میں وقت گزارا، سوم یہ خبر کے سامنے آنے والی رات اچانک دو یوٹیوبر بشمول میڈیا اینکر اس خاتون کی داد رسی کو پہنچے اور اور معاملے کی باگ اپنے ہاتھ کرلی، اس خبر کے پھیلنے کے بعد ٹک ٹاکر کے اکاؤنٹ پر ایک لاک سے زائد افراد نے رجوع اور فالو کیا،پولیس کے عام تفتیشی اصول پر بھی پرکھا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ واقعہ کا فائدہ کسے ہوا، یوں عائشہ نامی خاتون کے ساتھی ریمبو دی فالورز کلیکٹر کی ملی بھگت کا سراغ ملتا ہے، واضح رہے موضوع سے متعلق تمام مواد اس وقت سوشل میڈیا پر عوامی تبصروں کے ساتھ پھیل چکا ہے یعنی ہماری بات کی تصدیق کے لیے آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں،۔۔

    اس طویل دورانیے کے ڈرامے میں ان سطور کے قلمبند ہونے کے دوران خاتون کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا، اور ساتھ ساتھ یہ خبر بھی سامنے آئی کے عائشہ اکرم بیگ اور ان کا ریمبو پولیس نے شاملِ تفتیش اور حوالات میں ہے، واقعہ کا اثر ایسا تھا کہ خبر اور رائے کے اختلاف میں ہماری نسل نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ کر اختلافِ رائے رکھنے والوں کی ذاتی کردارکشی بھی شروع کردی، ایک عجیب طوفانِ بدتمیزی نے جنم لیا نہ تو مرد وزن کی تفریق رہی اور نہ ہی پیر و جوان کی، جس کے جو منھ میں آیا اسے انگلیوں کی حرکت سے سوشل میڈیا کے صفحات میں انڈیل دیا گیا، خیر قصہ کوتاہ پولیس کو کیس پر کام نہ کرنے کا عندیہ دینے کے بعد عائشہ اکرم بیگ کا کردار مزید مشکوک ہوگیا، بعد ازاں سرکار کی مدعیت میں کیس کااندراج ہوا لیکن خاتون نے اپنا رہائشی پتہ غلط لکھوا کر کارِ سرکار میں رکاوٹ کا ذمہ بھی اپنے سر لے لیا، میری اولین دانست اور اس کیس کے بغور مشاہدے کے بعد میں تاحال اس معاملے میں پورے معاملے کو مشکوک گردانتا ہوں، بنیادی وجہ پاکستان کی جگ ہنسائی ہی ہے، کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل امر ہرگز نہیں، میڈیکو لیگل کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے جسم پر ضربوں اور زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، تین گھنٹے سے زائد طوالت کی ویڈیوز میں خاردار تاروں کو پھلانگنے اور بھیڑ کے دباؤ کے تحت کوئی بھی زخمی ہوسکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ خاتون بے ہوش اور بے لباس ہوچکی تھی کسی بھی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا، مخصوص طبقہ نے جو ویڈیو وائرل کی اس میں زد و کوب کا عنصر تو شامل ہے مگر بے لباسی و دیگر الزامات کی نفی ہوتی ہے، اس پورے واقعے میں ایک اور بدترین کردار سوشل میڈیا صارفین کا رہا جنہوں نے اس حادثے پر چٹخارے دار وی لاگ جذبات برانگیختہ کرنے والے عنوانات اور تصاویر سے اپنے یوٹیوب چینلوں پر عام عوام کوتماش بینوں کی طرح جمع کیا۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ڈالروں کے حصول کی دوڑ میں مبتلا افراد نے اس ہیجان سے جہاں فائدہ اٹھایا وہیں مین اسٹریم میڈیا نے اپنی ریٹنگ (ٹی آرپی) کے حصول کی جنگ میں عشرہ محرم کے تقدس کو بھی پامال کیا، وہ لمحات جو خانوادۂ رسول ﷺ کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور ظلم و جبر سے ٹکرانے کے درس کے حصول کے تھے ان لمحات کو ایک مشکوک خبر کی نذر کردیا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاستی ادارے فوراً حرکت میں آتے اور اس معاملے پر قوم کو آگاہ کرتے مگر ہمیشہ کی طرح دیر سے خبر پہنچی، کیا یہ محض اتفاق ہے کہ عین اس دن جب موجودہ حکومت کو ٹھیک تین سال مکمل ہورہے تھے اور عوام حکومتی کارکردگی پر گفتگو کرتے، وہ وقت اس چومکھی جنگ کی طرح پھیلی خبر کی نذر ہوا، افغانستان میں انتقالِ اقتدار ، بھارت کی سبکی، عشرہ محرم اور حکومتی کارکردگی پر سوال جواب کا دورانیہ بلکہ امروز پائلٹ آٖفیسر راشد منہاس شہید کا دن بھی اس تاحال مشکوک رہنے والی خبر کی نذر ہوگیا، اربابِ اقتدار ہوں یا احبابِ فکر و دانش امید ہے کہ ان چار عوامل پرآپ اپنی نگاہ کیجے گا اور اس معاملے کی شفافیت اور حساسیت کو نظر انداز نہ کریں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومتی نمائندے اس معاملے میں عوام کو درست اقدامات اور خبر سے خود آگاہ رکھیں گے تاکہ معاشرے میں پھیلی بے چینی کا زور ٹوٹ سکے۔۔۔

    (انصافستان)

  • لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ  تحریر فرید خان

    لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ تحریر فرید خان

    ام رباب کا کیس زیادتی سے بھرا پڑا ہے لیکن مجال ہے کہ ان دو ٹھکے صحافیوں اور لبرلز کو کوئی خبر بھی خبر ہو مجال ہے کہ اقرار یا یاسر ان کے گھر جائیں ۔ نور مقدم کا قتل جوہوا یہ وہ کیس ہے جس سے منہ پھیرنا واقعی میں ایک بہت بڑی زیادتی ہے اسی طرح مختلف واقعات ہوتے لیکن لبرلز اور عورت مارچ والوں کے لیے ان میں کوئی سکورنگ نہیں ملتا اور دو ٹھکے کی صحافی جن کا سب کو پتا ہے کہاں رہتے کس کا کھاتے ان کو ریٹنگ اس میں نہیں ملتا تو پھر ان واقعات میں ہاتھ ڈالتے جو کہ ان کے لیے فائدہ مند ہے، مینار پاکستان پر واقعہ چودہ اگست کو ہوا اور اس کے بعد لڑکی بلکل ٹھیک تھی کام ٹھیک چل رہا تھا اور جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی تو مظلوم بن گئی۔ مظلوم ہوگی واقعی میں ہوگی اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہوا کیوں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ لبرلز اور ناکام صحافیوں کو یہ موقع کیوں بخشا ؟جب کیس کی کاروائی ہی روکنی تھی تو پہلے معاملے کو یہاں تک کیوں پہنچایا؟۔ کیوں ہوا کی بات کریں تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لوگوں کو بلایا کیوں ؟ یہ حملہ اگر رینڈم ہوتا بھی تو کوئی جواز بنتا جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ ٹک ٹاک بے حیائی ہے اور بے حیائی کے فینز بے حیا ہی ہو سکتے اور پھر ان بے حیاوں کو بلا لینا اپنے پاس یہ خود جرم کو دعوت دینا تھا۔ دعوت کیوں دیا اپنی شہرت کے لیے اس پر تبصرہ کرنا نا ممکن ہے کیونکہ اللہ جانتا ہے یہ سب لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بے وقوفی تھی جس کی خمیازہ پھر مرد اور عورتوں کے نفرت کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ اس واقعے کے مجرمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا یہ حکومت جانتی ہے سزا ملتا نہیں ملتا یہ عدالت کا کام ہے ، اگر واقعی جرم ہوا ہے تو سزا ملنی چائیے لیکن اس وقعے سے یہ صورت حال بننا جس سے معاشرے کو ایک دفعہ پھر نقصان پہنچانے کی کوشش جو ہر سال مارچ میں ہوتی اس کا کون ذمہ دار؟ ملک دشمن قوتوں کو ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھیار مہیا کرنا اس کا کون ذمہ دار؟ دنیا کو یہ دیکھانا کہ پاکستان عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اس کا کون ذمہ دار؟ حالانکہ صورت حال تو یکسر مختلف ہے، عورتیں محفوظ ہیں ہر وہ عورت جو اپنی عزت کو اہم سمجتا وہ محفوظ ہے لیکن وہ عورتیں جو خود گلی کوچھوں میں بے حیائی اور جرم کو دعوت دینے کے لیے نکلتے ان پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مہذب لوگ جو پاکستانی معاشرے کو جانتے وہ اج بھی ان ٹک ٹاک وغیرہ کو ناسور سمجھ رہے لیکن اگر ٹک ٹاک پر بھی پابندی کی کوئی بات کی جائیں تو یہ لوگ بھی صف اول میں اختلاف کرتے حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف مرد استمال کرتا بلکہ عورتیں بھی کرتی ۔ اچھا جی تو لبرلز اور ناواقف لوگ جو سنسنی خیز باتوں پر انکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں وہ اب بھی اس واقعے پر تبصرے کرتے نظر ارہے ہیں جبکہ نیوز کے مطابق لڑکی نے کیس بند کرنے کی اسدعا کی ہے۔ کیوں خاموش نہیں ہورہے ہیں یہ لبرلز اور عورت مارچ والے؟ کیوں کہ ان کو مارچ میں خواتین کے عالمی دن کے بعد ان کو اس طرح کی واقعوں کا انتظار رہتا۔ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی وہ نہ ملک کو دیکھتے اور نہ ہی دین کو ان کو اپنی روزی حلال کرنی پڑتی لیکن اس میں نقصان ان لوگوں کو ہوتا جو جذباتی ہوتے جن کو یہ امیج دکھایا جاتا کہ پاکستان واقعی میں عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اور یہ دیکھایا جاتا کہ دین میں عورت کو وہ مقام نہیں جو مرد کو ہے۔ ناواقف لوگ موجودہ واقعے پر رنجیدہ ہو کر ان کو سنتے ہیں جبکہ یہ لوگ اپنا کام کر جاتے ہیں اور دنیا کو دکھا دیتے کہ جی ایسا ہے سب ۔ الحمداللہ عورتیں بلکل محفوظ ہیں ، جو جرم ہوتا عورتوں کے ساتھ جو کرتے ہیں وہ جانور ہوتےہیں۔ جن کا دفاع نہ اسلام کرتا نہ پاکستان کی قانون کرتا اور نہ ہی کوئی مہذب انسان اور نہ ہی یہ معشرہ لیکن یہی معاشرہ پھر سازش کو بھی سمجھتا یہی معاشرہ پھر گھناونے کام بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ملک دشمن قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر اسلام مخالف قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر غیر ملکی این جی اوز کے لیے کام کرنے والوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ضمیر فروشوں کو بھی جانتا۔ عورتوں کی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے حکومت کوشاں ہے، اس وقعے کی تمام وزراہ نے مذمت کی ہے خود وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا ہے۔انسانی حقوق کی خاتوں وزیر نے بھی معاملے کو نوٹس میں لایا ہے ۔ اس وقعے میں جرم ہوا ہے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ بے شک لڑکی روکنے کی کوشش کریں لیکں ان مجرموں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی اڑ میں ملک اور دین اور اس کے اقتدار کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے رکاوٹ بننا ہمارے لیے ضروری ہیں ۔ اللہ اس ملک پر رحم کریں پاکستان زندہ باد
    twitter @Faridkhhn

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر : اسامہ خان

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو جلا دیا جاتا تھا اور زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا درجہ بتایا اور بتایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اس کے گھر اللہ پاک کی طرف سے رحمت نازل ہوگی ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی وہ اپنے ساتھ رحمت اور رزق لے کر آئے گی اور جس کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کو کہا جائے گا کہ جاؤ اپنے والد کے ساتھ ہاتھ بھٹو۔ اسلام سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود مثال پیدا کرنے کے لیے طلاق یافتہ عورتوں سے بھی شادی کی اور دوسروں کو بھی ہدایت بھی کہ وہ بھی طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ ضرور شادی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا۔ جب اسلام آیا تو عورت اور مرد دونوں مسجدوں میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب دیکھا گیا اب ہمیں اپنی عورتوں کو گھر تک محدود رکھنا چاہیے تو حکم دیا گیا اے عورتوں اپنی عبادات اپنے گھر میں بیٹھ کر کرو۔ تاکہ تمہیں کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ اگر باہر نکلنا ہے تو اپنے جسم کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلو تاکہ غیر محرم مرد کی نظر تمہارے جسم پر نہ پڑے۔ اور اس وقت کی عورتیں اس بات پر عمل بھی کرتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہم پتا نہیں کس دنیا میں جی رہے ہیں اور کس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اسلام تو عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس کا ایک بال بھی غیر محرم کو نظر نہ آئے اور وہی اسلام مرد کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم کے پاس نہ جائے۔ بے شک مردوں نے اپنی آنکھوں کا حساب دینا ہے اور عورتوں نے اپنے کپڑوں کا حساب دینا ہے۔ آج عورتیں سب کام کر رہی ہے جو اسلام میں منع کیا گیا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلام جیسا انصاف دیا جائے جب آپ اپنے لئے اسلام جیسا انصاف طلب کرتی ہیں تو کیوں نہ آپ اسلام پر عمل بھی کریں آج عورت ذات کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنا اور اپنی تصویریں وہاں لگانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ میں اس بات کے خلاف نہیں ہو کہ عورت گھر سے باہر کیوں نکلتی ہے میں اس بات کے خلاف ہو کہ عورت وہ سب فحاش کپڑے کیوں پہنتی ہے جو اسلام میں منہ کیے گۓ ہیں۔ اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی لیکن ہائے افسوس صد افسوس ہماری آج کل کی لڑکیاں اس بات کو سمجھ ہی نہ پائی۔ آج اگر مرد ایسے فحاش کپڑے پہننا شروع کر دے تو یہی وہی عورتیں ہوں گی آزادی مارچ والی جنکی تنقید ہی ختم نہیں ہوگی اور اس وقت ان کو اسلام یاد آ جائے گا۔ آج یہ سب عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں ملتا درحقیقت اصلیت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت ذات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ہمارے کلچر میں بھی اور ہمارے قانون میں بھی اگر عورت ذات کسی چیز کی کمپلینٹ درج کرواتی ہے تو بے شک اس میں مرد کی غلطی ہو یا نہ ہو قانون عورت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی خوش نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کو تو فحاش کپڑے پہننے کی عادت ہو چکی ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا کہ مرد کوئی رپورٹ نہیں ہے اگر آپ فحاش کپڑے پہنے گی تو اس کا ری ایکشن آئے گا۔ اور مجھے اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ کچھ لڑکیاں اور کچھ لڑکے صرف پبلک سٹی کے لیے ایسی ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی شرم آتی ہے۔ اللہ پاک ہم مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی ہدایت دے کر سیدھے راستے پر چلائے اور نامحرم سے دور رہیں اس کو ہاتھ لگانے کی بات تو دور کی ہے۔ مسلمانوں آج بھی وقت ہے اسلام پر چلو اور اسلام کے بتائے گئے طریقوں پر تاکہ تم اسلام جیسا انصاف پاسکو
    Twitter : @usamajahnzaib

  • مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس نے فائرنگ کر کے مزید 3 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے-

    قابض بھارتی فوج کی جانب سے پلوامہ میں ترال کے مقابل ناگہ بیرن میں نام نہاد آپریشن کیا گیاقابض بھارتی فوج کے نام نہاد آپریشن کے دوران نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا اس دوران بھارتی فوج کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 3 نوجوان شہید ہو گئے جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز سوپور قصبے کے مختلف علاقوں میں بھی تلاشی اور محاصرے کی ایک بڑی کارروائی شروع کی دریں اثنا فوجیوں نے ضلع راجوڑی کے تھانہ منڈی علاقے میں بھی آپریشن جاری رکھا۔

  • فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے         بابر اعظم

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کا کہنا ہے کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے –

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ دن کے آغاز میں باؤلرز کو پچ سے مدد مل رہی تھی ابتدائی تین وکٹیں جلد گرنے کے بعد فواد عالم نے بھرپور ساتھ دیا-

    بابر اعظم نے کہا کہ فواد عالم سے کہا تھا کہ ٹیم کو مشکل سے نکالنے کیلئے لمبی پارٹنرشپ لگانی ہوگی دونوں نے طے کیا تھا کہ رنز بنانے کیلئے زیادہ دیر کریز پر رکنا ضروری ہےپارٹنرشپ کے دوران فواد کے ساتھ سیشن بائی سیشن اپنے اہداف مقرر کیے-

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ پہلی اننگز میں 300 سے 350 رنز بنانے ہمارا ہدف ہے محمد رضوان اور فہیم اشرف کریز پر موجود ہیں، امید ہے ہم دوسرے روز ہدف حاصل کرلیں گےطویل فارمیٹ کی کرکٹ میں انفرادی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے محنت کررہا ہوں خوشی ہے کہ محنت کا پھل مل رہا ہے-

    انہوں نے کہا کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں، وہ زبردست کھیل پیش کررہے مشکل وقت میں جس طرح فواد عالم کھیلتے ہیں، ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے فواد عالم کو بیٹنگ کے دوران کریمپس پڑے ہیں، ٹیم ڈاکٹر اور فزیو ان کا ٹریٹمنٹ کررہے ہیں فواد عالم کل بیٹنگ کے لیے میدان میں آئیں گے-

  • تصویر کا دوسرا رخ   تحریر: احسان الحق

    تصویر کا دوسرا رخ تحریر: احسان الحق

    شاید ہی کوئی ایسا سورج طلوع ہوا ہو جس دن ملک عزیز میں کسی عورت کے ساتھ جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد نہ کیا گیا ہو یا کسی بچے یا بچی کو جنسی حیوانگی کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو. اکثر کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی رہتی ہے. کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ہر واقعہ المناک اور افسوس ناک ہے. اس طرح کے واقعات میں کوئی شکوک وشبہات یا دوسری رائے کا ہونا ناممکن ہے مطلب کسی بھی صورت میں ان واقعات کا دفاع نہیں کیا جا سکتا. ان واقعات میں ملوث تمام انسانی درندوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے.

    دوسری طرف خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے متضاد حقائق سامنے آتے رہتے ہیں. آج ہم خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جنسی اور جسمانی تشدد یا بلیک میلنگ کے واقعات کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے تمام ناخوشگوار واقعات کی تصویر کا ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھا جاتا ہے. حالانکہ بعض اوقات ان واقعات کے حقائق ہماری قائم کردہ رائے یا سوچ سے مختلف برآمد ہوتے ہیں. ہم ایک جذباتی قوم ہیں، بغیر سوچے سمجھے کسی کو مظلوم اور کسی کو ظالم تصور کر لیتے ہیں. بالخصوص جہاں مرد اور عورت فریق ہوں وہاں ہمارے خیال میں عورت ہی مظلوم اور مرد ہی ظالم ہے. حالانکہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس تھا. خیر، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب تک تفتیش کے بعد معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کے متعلق رائے قائم نہیں کرنی چاہئے.

    راقم کی ذاتی سوچ اور ذاتی مشاہدے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی نوعیت اور صورت چار طرح کی ہوسکتی ہے. پہلا یہ کہ واقعتاً اور حقیقتاً متاثرہ عورت معصوم اور مظلوم ہوتی ہے. اس طرح کے واقعات میں کلی طور پر مرد یا مردوں کی طرف درنگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور عورت بے چاری لاچار اور مجبور ہوتی ہے.

    دوسری صورت میں مرد اور عورت برابر کے گناہ گار اور ذمہ دار ہوتے ہیں. اکثر اس طرح کے واقعات میں مرد اور عورت کے درمیان ناجائز اور غیرشرعی مراسم ہوتے ہیں. ان ناجائز تعلقات کے نتائج ہمیشہ افسوس ناک ہوتے ہیں اور کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے. ہمارا جھکاؤ مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ عورت کی طرف ہوتا ہے اور ہم عورت کو مظلوم ثابت کر گزرتے ہیں. اس طرح کے واقعات کافی رونما ہو چکے ہیں.
    حال ہی میں پیش آنے والے دو انتہائی افسوس ناک واقعات کو مثال کے طور پر دیکھتے ہیں. ان واقعات کی بنیاد غیرشرعی اور غیر اخلاقی تھی اور نتائج بھی انتہائی بھیانک نکلے. پہلا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا. عثمان مرزا نامی ساتھیوں کی مدد سے ایک جوڑے کو زدوکوب کرتا ہے، کیمرے کے سامنے کپڑے اتارنے اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لئے زبردستی کرتا ہے. مجرم عثمان مرزا اور ساتھیوں نے انتہائی غلط کام کیا، اس فعل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. اب سوال یہ ہے کہ وہ جوڑا کون تھا؟ کہاں تھا؟ کیا کر رہا تھا؟ ان کے درمیان کیا تعلقات تھے؟
    مبینہ طور پر لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھر سے دور کسی دوست کے فلیٹ پر انتہائی شرمناک اور قابل اعتراض حالت میں عثمان اور ساتھیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور انہوں نے جوڑے کو کیمرے کے سامنے وہ سب کرنے کو کہا جو وہ کیمرے کے پیچھے کر رہے تھے. پوری قوم، سارا میڈیا، حکومت اور پولیس جوڑے کی حمایت میں آ گئے اور مجرمین کی مخالفت میں. آج تک اس جوڑے کے درمیان قائم غیراخلاقی تعلقات کی مذمت کسی نے نہیں کی. میرے خیال میں اس واقعے کا ہر کردار گناہ گار ہے. عثمان مرزا اور ساتھیوں سمیت اس جوڑے کو بھی سزا ملنی چاہیے تھی.
    اس طرح کا دوسرا افسوس ناک واقعہ بھی اسلام آباد میں پیش آیا جس کی بنیاد بھی مبینہ طور پر غیر اخلاقی تھی. بغیر نکاح کے ان کے مراسم تھے اور نتیجہ نکلا ایک عورت کے قتل کی صورت میں. پہلے واقعے میں ایک جوڑے کی عزت گئی اور دوسرے واقعے میں ایک جوڑے کی زندگی گئی.
    تعلقات غلط، نتائج غلط.

    تیسری صورت میں عورت اپنا عورت کارڈ استعمال کر رہی ہوتی ہے. مردوں پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں. یہاں بھی ہماری جذباتی قوم عورت کی حمایت اور وکالت میں یکجا ہو جاتی ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر الزامات بے بنیاد تھے. مگر اس وقت تک اس مرد کا گھر عزت اور بعض دفعہ نوکری بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے.
    ذیل میں کچھ واقعات دیکھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت ہمیشہ مظلوم یا سچی نہیں، کبھی کبھی عورت عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے. علی ظفر اور میشا شفیع کا واقعہ سب کو یاد ہوگا. جس میں میشا شفیع نے بے بنیاد الزامات لگائے بعد میں عدالت نے بھی ان الزامات کی تردید کی اور میشا شفیع پر سزا اور جرمانہ عائد کیا. لاہور میں ایک طالبہ اپنے پروفیسر پر الزام لگاتی ہے، الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے مگر وہ پروفیسر خودکشی کر کے اپنی جان لے چکا ہوتا ہے. اسی طرح ایک لڑکی دو یا تین پولیس والوں پر الزام لگاتی ہے، عدالت ان کو سزا سناتی ہے، نوکری سے برطرف کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک کی بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ الزام جھوٹا تھا.

    خواتین سے متعلقہ واقعات کی چوتھی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے جس میں عورت شہرت حاصل کرنے یا مرضی کی شادی کرنے کے لئے ڈامہ رچاتی ہے. اس نوعیت کے بھی متعدد واقعات ہیں بالخصوص ٹک ٹاکر لڑکیوں کے غیراخلاقی سیکنڈل سامنے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد صرف شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے. کچھ دن پہلے اسی طرح کا لاہور میں مینار پاکستان پر واقعہ پیش آیا. ابھی تک اس کے متعلق متضاد خبریں ہیں. راقم کے ذاتی خیال میں یہ واقعہ بھی شہرت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے. والله اعلم
    کچھ ماہ قبل ایک لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب اس نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کے لئے مجھے ڈرامہ کرنا پڑا، ویڈیو میں اس لڑکی نے شادی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کو بھی دکھایا. پچھلے سال کراچی میں ایک لڑکی کے اغوا ہونے کا واقعہ وائرل ہوا. کچھ دنوں بعد وہی لڑکی تیسری گلی کے ایک چوبارے سے ملی جہاں وہ اپنے محبوب کے ساتھ رہ رہی تھی.

    ارشاد نبویؐ ہے کہ
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچائے”
    بحیثیت مسلمان اور ایک قوم ہمارا اخلاقی اور شرعی فرض ہے کہ جب تک معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کو قصور وار اور گناہ گار نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اسی طرح نہ کسی کو معصوم اور مظلوم. سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے. آپکی فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ بہت دور تک جاتی ہے.

    #mian_ihsaan

  • تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ،اس ملک کی بنیاد ہی کلمہ پر رکھی گئ ،یہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا پاکستان پر تنقید کا کوئ بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ پھر اسلام کو بھی لازمی حدف تنقید بنایا جاتا ہے
    کبھی انڈیا میں کوئ واقعہ رونما ہوتو کوئ یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا ہندو مذہب ہے یا کسی دوسرے ملک میں کوئ واقعہ ہو تو اس واقعے کی بنیاد پر اس ملک کے مذہب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا
    لیکن منافقت دیکھیں پاکستان میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آجائے اس کا تعلق ہمیشہ پاکستان اور اسلام سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام میں ہمارے کئ پاکستانی بھی عالمی دنیا کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں
    اب حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ پر وہ طوفان برپا کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آیا وطن کی بدنامی ہوئ اور دنیا نے خاص طور پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے نزدیک پاکستان غیر محفوظ ملک بن گیا ہوگا
    مینار پاکستان جیسے واقعات کی کوئ عقل شعور رکھنے والا بندہ حمایت نہیں کرسکتا اور اس واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم نے احتجاج بھی کیا حکومت نے بھی فوری طور ایکشن لیا سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افرار کو سخت سے سخت سزا دی جائے
    لیکن کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے دنیا میں ہماری بہت حد تک رسوائ ہوئ ،ہونا تو اس طرح چاہیے تھا کہ جب تک اس واقعے کی مکمل تحقیقات نا ہوجاتی حقیقت کیا تھی وہ سامنے نا آجاتی تب تک اس واقعے کو اتنا ذیادہ اچھالا نا جاتا کہ دنیا میں ہماری جگ ہنسائ ہوتی
    حکومت اچھی طرح اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اس میں جتنے لوگ ملوث نکلیں گے یقینن ان کو سزا بھی ہوگی لیکن خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کوئ مشہوری کے لئے ڈرامے کے طور پر رچایا گیا ہو تو کیا پاکستان کی جتنی بدنامی ہوئ وہ عزت واپس آسکے گی؟ہم کس طرح دنیا کو سمجھائیں گے کہ یہ واقعہ کوئ ڈرامہ تھا اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا کتنا مذاق اڑایا گیا ،دنیا میں اسلام کو کس حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے
    حالانکہ اگر مکمل اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد ہوتا تو شائد وہ لڑکی اس طرح لوگوں کے ہجوم میں کبھی نا جاتی اور اگر چلی جاتی تو شائد وہ مرد اس کی طرف کسی گندی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت تک نہیں کرتے ،اسلام نے جتنی عزت اور مقام عورت کی دی ہے اتنی کسی اور مذہب میں نہیں
    جس طرح کسی بھی دھشتگرد کا تعلق کسی مذہب یا رنگ نسل سے نہیں اسی طرح ایسے کسی انفرادی عمل کا بھی ذمہ دار نا اسلام کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی اس ملک پاکستان کو
    اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ہمیں چاہیے ہم مثبت تنقید کریں اور معاشرے کی بہتری کے لئے خود سے شروعات کریں تو یقینن ہر طرف بہتری آجانی ہے
    اور خاص طور پر وہ افراد جن کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے وہ ایسے چند واقعات پر مکمل تحقیقات کے بغیر کسی ایسی بات کرنے سے لازمی گریز کریں جس سے پاکستان اور اسلام پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملے
    اور بڑھ چڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے معاشرے کی اصلاح ہو اسلام کے حقیقی احکامات سے عوام کو آگاہ رکھیں کسی بھی برائ کو پاکستان یا اسلام سے جوڑنے کی بجائے اس برائ کے خلاف جو اسلامی احکامات ہیں وہ قوم کو بتائے جائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کسی گندگی سے پاک ہو اسلام کی سربلندی ہو اور پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہو
    اللہ پاک ہمیں مکمل اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے ملک پاکستان کو مزید پرسکون اور محفوظ بناسکیں آمین

  • معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں  تحریر: آصف گوہر

    معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں تحریر: آصف گوہر

    "آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن ( یعنی جن کی مخالفت ) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالٰی نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔”
    سورة الأنعام 151
    گزشتہ چند روز میں دو واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے ہمارے خاندانی معاشرتی نظام بارے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پہلا واقعہ ایک ایلیٹ کلاس کی نوجوان لڑکی جو اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پر
    سربریدہ پائی گئ مذکورہ واقعہ کا فوری نوٹس لیا وزیر اعظم عمران خان نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے خود ہدایات جاری کیں ملزم گرفتار ہوا اور اب زیرتفتیش نے ۔ اس بارے کوئی ابہام اور دو رائے نہیں ہے کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ۔ اب اس واقعے کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ والدین نے اپنی بچی کو اتنی آزادی کیوں دی کے وہ ایک غیر محرم کے ساتھ انتہائی میں وقت گزارے اس چیز کی اجازت نہ تو ہمارا معاشرہ دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب ۔ اس پر جب سینئر صحافی عمران ریاض نے یہی بات کی کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا اس کے قاتل کو کڑی سزا دی جائے لیکن اس میں قصور والدین کا بھی ہے کہ کیوں اپنی بیٹی کی تربیت نہیں کہ ہمارا معاشرہ نامحرم کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیتا یہ غلط ہے عمران ریاض کا اتنا کہنا ہی تھا کہ خونی لبرل نے ان پر ہر جانب سے ہدف تنقید بنا لیا۔دوسرا واقعہ اقبال پارک لاہور میں چودہ اگست جشن آزادی والے روز سامنے آیا واقعہ کے دو روز گزرنے کہ بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مردوں کا بےقابو ہجوم کہ نوجوان لڑکی سے دست درازی کر رہا ہے۔ انتہائی شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے ملوث افراد کو نشانہ عبرت بنایا جائے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے نوٹس لیا مقدمہ درج ہوا متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کی اور پولیس کے اعلی آفیسرز کو غفلت برتنے پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے مزید جدید ذرائع سے پولیس اور نادرا حکام کی ملزموں کی شناخت کے بعد گرفتاریاں جاری ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ لڑکی ٹک ٹاکر ہے اور اس نے اپنے ساتھی لڑکے سے مل کر لوگوں کو چودہ اگست والے روز مینار پاکستان آنے کی دعوت دی کہ ہم کچھ خاص کرنے جا رہے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق پہلے وہاں پر فلائنگ کسز کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان حالات میں نوجوانوں لڑکوں اور مردوں کو موقع خود فراہم کیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود اس میں کوئی اگر مگر لیکن نہیں ہجوم کو کوئی حق نہیں کہ خاتون سے دست درازی پر اتر آئے مذکورہ بالا دونوں واقعات نے سوسائٹی کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا دونوں طبقات ان واقعات کی شدید مذمت تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ ان دالخراش واقعات کے محرکات پر بھی غور کیا جائے کہ کیوں یہ واقعات پیش آئے کچھ لوگ اس کیوں کو "متاثرہ کو مورد الزام ” ٹھہرانا کہ رہے ہیں اور سوال کرنے والوں کے لتھے لے رہے ہیں ۔
    گذشتہ رات ایک نیوز کاسٹر سے صحافی بننے والی خاتون نے نئ بحث چھیڑ دی کہ ماں باپ اپنے لڑکوں کو” Consent” کے بارے بتائیں کہ رضامندی کے تحت جو چاہیں وہ صنف مخالف کے ساتھ کر سکتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور اسلام نے زنا بالجبر اور زنا بالرضا دونوں کو حرام قرار دیا ہے ۔کبھی بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے اور تعلقات رکھنے بارے بات کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ سامنا آ چکا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خونی اور متشدد لبرل بن چکے ہیں جو اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی رائے کو سننے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔
    پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا یہاں پر اسلام نے آباد رہنا ہے اس لئے جو بھی ہماری معاشرتی اقدار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا عوام اس کا محاسبہ بھی کریں گے اور ان کے پوشیدہ عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
    @Educarepak

  • "افغانستان کا پرچم پکڑے نوجوان کو تھپڑ نہیں مارا جانا چاہیے تھا” تحریر: محمد عبداللہ

    "افغانستان کا پرچم پکڑے نوجوان کو تھپڑ نہیں مارا جانا چاہیے تھا” تحریر: محمد عبداللہ

    "مینار پاکستان ایشو، افغانستان پرچم پر تھپڑ اور ہمارا سوشل میڈیا”
    ہر بندے کی ہر ایشو پر اپنی رائے ہوتی ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور اگر اس پر تنقید بھی ہو تو احسن انداز میں ہونی چاہیے لیکن بطور قوم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر ایشو پر ہم کئی طبقات میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے پر گولہ باری شروع کردیتے ہیں جو نہ تو مہذب لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ ہی کوئی احسن کام ہے.
    حالیہ لاہور مینار پاکستان پر پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسے ہی نتائج چھوڑ کر گیا ہے. آپ لڑکی کے عمل اور لباس پر تنقید کریں ضرور کریں لیکن چند اوباشوں کے اس کے ساتھ گھٹیا سلوک کو کسی طور بھی "جسٹیفائی” نہیں کیا جاسکتا وہ حد درجہ غلط ہے غلط ہے.
    ایسے ہی اس واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کو جواز بنا کر پورے پاکستان معاشرے کے مردوں کو غلط ، بھیڑیا اور دیگر برے القاب سے پکارنا بھی کسی طور درست نہیں ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاشرے میں بعض درندے واقعی ہی انسان کھال میں جنسی جانور ہیں لیکن مجموعی صورتحال میں یہ معاشرہ ایک عورت کے لیے دنیا بہت سارے ممالک اور معاشروں سے ہزار درجے بہتر ہے.
    اسی طرح ایک اور واقعہ ہمارے ہمسائیگی میں پیش آیا ہے جس کی ویڈیو تقریباً آپ سب نے بھی دیکھی ہوگی اور اس کو بغیر کسی توجیہ کہ بڑا خوش ہوکر شیئر کیا جا رہا ہے. واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ "اسٹوڈنٹس” کا ایک رکن افغانستان کا پرچم تھامے نوجوان کو تھپڑ مار کر اس سے افغانستان کا پرچم لے کر گاڑی میں رکھ دیتا ہے.
    دیکھیے پرچم کسی بھی ملک کا ہو اس کے لوگوں کی اس کے ساتھ محبت اور انسیت ہوتی ہے. افغانستان کے ایشو میں جب تک "اسٹوڈنٹس” کی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہوجاتی اور وہ اپنے سفید کلمے والے پرچم کو قومی و سرکاری پرچم قرار نہیں دے دیتے تب تک وہ پرچم ایک جماعت کا پرچم ہے اگرچہ وہ جماعت ملک میں فاتح جماعت ہے.
    "اسٹوڈنٹس” نے پورے ملک اور بالخصوص کابل کی فتح کے بعد عام معافی کا اعلان کرکے، لوگوں کی مال و جائداد اور گھروں میں داخل نہ ہونے کا حکم دے کر، بہترین رویے سے پیش آکر جو بہترین "سافٹ امیج” بنایا ہے جو درحقیقت اسلام کا حقیقی چہرہ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے اور لوگ ان کے حق میں لکھنے اور بولنے پر مجبور ہوچکے ہیں.
    میری رائے میں پرچم والے ایشو پر اتنی سختی اور تشدد غیرضروری اور غیر مناسب ہے الا یہ کہ آپ کا پرچم قومی اور سرکاری پرچم قرار دے دیا جائے. ایسے واقعات منافرت اور عدم برداشت کو ہوا دیں گے جو مسائل کا باعث بنے گی. اسٹوڈنٹس کی قیادت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جائے تاکہ عوامی سطح کے منفی ردعمل سے بھی بچا جاسکے اور اپنے مخالفین کو بھی کوئی موقع نہ دیا جائے.

    Muhammad Abdullah