Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    شعور کی روشنی،تحریر:محمد اطہر فتح پوری

    بصد احترام یہ چند گزارشات، ایک خیرخواہانہ جذبے کے تحت قلمبند کی جا رہی ہیں، کہ شاید کوئی دل پھڑک اٹھے، کوئی سوچ چونک جائے اور کوئی قدم راہِ سنت کی طرف مڑ جائے۔
    پہلے زمانے میں، جب علم کی روشنی ناپید اور جہل کا اندھیرا غالب تھا، لوگ "جو دیکھا، وہی کیا” کے اصول پر عمل پیرا تھے۔ نہ پوچھنے کا سلیقہ، نہ سمجھنے کا شعور، بس "لوگ کیا کہیں گے” کا طوق گردن میں ڈال کر، ہر رواج و رسم کی پیروی کیے چلے جاتے تھے کیوں کہ جہالت وہ اندھیر نگری ہے جہاں عقل کے چراغ گل ہو جاتے ہیں.
    مگر اب دور بدل چکا ہے:
    علم کی روشنی سے منور ہے ہر اک راہ
    اندھیرے چھٹ گئے، اب چراغ خود جلانے کا وقت ہے!

    آج معلومات کی دنیا ہماری انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، ہر پلیٹ فارم پر دین کی اصل تصویر موجود ہے۔ اب خرافات اور بدعتوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے، اور اصلاح کے در کھل چکے ہیں۔
    ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ افراد ایسے مواقع پر عشق و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں، مگر سوال یہ ہے:
    کیا جذبات شریعت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟

    اگر کوئی عمل سنتِ نبوی اور شریعت کی روشنی سے ہٹ کر کیا جائے، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری طور پر خوبصورت و خوش نما کیوں نہ لگے، آخر کار گمراہی کے گڑھے میں جا دفن ہوتا ہے. یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایسے کاموں کی بنیاد دین سے محبت اور عقیدت میں ڈوب کر رکھی جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی سو آنہ درست ہے کہ وہ گمراہی کی سڑک بن جاتی ہے. بنیادیں ڈالنے والے زیر زمین ہو جاتے. اصل روح کی مراجعت باقی ہی نہیں رہتی اور پھر رفتہ رفتہ یہ لوگوں کے جذبات کا کھیل بن جاتا ہے. اس کی قیادت اُن لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، جن کا اصل سرمایہ یا تو جہالت ہے یا دنیا داری. عشق فساد میں بدل جاتا ہے، وہی محفلیں فتنوں کا گڑھ بن جاتی ہیں کیوں کہ جب بدعت حسنہ(اس بھی اصل نہیں ملتی بعضوں کے ہاں) کی گلی میں قدم رکھا جائے تو بدعت سیئہ کے دروازے خود بخود کھلتا چلے جاتے ہیں.
    جو پندِ حق سے دور ہوئے، وہی ذلیل و خوار ہوئے
    چراغِ مصطفیؐ جس دل میں بجھا، وہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوا

    آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ حلقے جو کبھی ان خرافات کے داعی تھے، اب خود ان کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔ مگر حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ شاید "گیند ہاتھ سے نکل چکی ہے”۔ اب وقت ہے کہ ہم اصلاح کی کوششوں کو فروغ دیں، نا کہ ایسی رسومات کی ترویج کو جو بظاہر محبت کے رنگ میں ہیں، مگر حقیقت میں دین کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

    اب سوال یہ ہے: کرنا کیا چاہیے؟
    جواب سادہ ہے، مگر عمل کے لیے اخلاص درکار ہے۔
    1. سب سے پہلے تمام تر فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، ادب و احترام کے ساتھ سیرتِ طیبہ ﷺ کی با سلیقہ محافل منعقد کی جائیں. بغیر کسی نام و نابود، دکھلاوے ؛ور فضول خرچی کے.
    2. نعتیہ محافل ہوں، لیکن آدابِ نعت اور حدودِ شریعت کے اندر!
    3. آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق آگاہی کے سیشن ہوں اور پورا سال سنتِ نبوی کی روشنی میں گزارنے کی ترغیبات ہوں.
    4. تعلیمی ادارے "سیرت کوئز”، نعتیہ مشاعرہ، مطالعہ سیرت کی نشستیں، اور سیرت پر مبنی لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ نسلِ نو دین کی اصل روح سے روشناس ہو۔
    5.گھر،دفاتر،بازار اور العرض جہان کہیں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ درود شریف کا اہتمام ہو.
    یاد رکھیے!
    عشق وہی معتبر ہے جو اطاعت کی دہلیز سے ہو کر گزرے
    محبت وہی باعزت ہے جو سنت کی چوکھٹ سے بندھی ہو
    ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں کی آگ بجھائیں، نہ کہ اس میں ایندھن ڈالیں۔ کیونکہ:
    جو دین کے نام پر کھیل رچائے، وہ دل کو نہیں، دین کو جلاتا ہے.
    پس آئیے! محبت رسول ﷺ کو اس کے اصل قالب میں اپنائیں، شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور معاشرے میں وہ روشنی پھیلائیں جو مدینہ کی گلیوں سے چلی تھی اور قیامت تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
    نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
    اللہ سے ملاتے ہیں یہ سنت کے راستے
    ان ہی راستوں پے چل کے منزل ملے گی
    جنت میں لے جائیں گے یہ سنت کے راستے
    دو عالم میں چاہتے ہو گر کامیابی
    اپنا لو خوشی سے یہ سنت کے راستے
    مانا کے کٹھن ہے ان راستوں پے چلنا
    مگر جام کوثر دلائیں گے یہ سنت کے راستے
    صحابہ نے کٹوا دی تھیں گردنیں
    لیکن چھوڑے کبھی نہ یہ سنت کے راستے

  • امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟
    "تحریک انصاف کے دور میں کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات اور سہولت کاری نے پاکستان کی سلامتی کو نئے سوالات میں الجھا دیا ہے، یہ امن کی کوشش تھی یا دہشت گردی کو از سر نو طاقت دینے کا عمل؟”
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے موقف کی مسلسل تائید کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور تقریباً 40 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی بحالی کی وکالت بھی کی جس کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ اسی دوران جب دہشت گردی عروج پر تھی، خیبرپختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی سے مفاہمت کی تجویز دی جبکہ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مستقل طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتی رہی اور بعض دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر فعال کارروائیوں کو روکنے کی صف بندی کرتی رہی۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی اور دراندازی میں افغان شہریوں کی شمولیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

    یہ معاملہ صرف سیاسی یا جماعتی ترجیح کا نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے سے جڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت (2018-2022) میں جو مذاکراتی پالیسی اپنائی گئی، اس نے نہ صرف دہشت گردوں کو از سر نو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ سیکیورٹی فورسز کی برسوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن بھی داؤ پر لگا دیا۔

    2014 میں جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی، عمران خان کو ٹی ٹی پی نے اپنے "مذاکراتی نمائندے” کے طور پر نامزد کیا تھا۔ یہی رجحان آگے چل کر پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ نومبر 2021 میں ایک ماہ کی جنگ بندی طے پائی اور اس دوران نہ صرف درجنوں قیدی رہا کیے گئے بلکہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو آباد ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تو باقاعدہ طور پر "مفاہمت کی تجویز” پیش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر کے عوام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    یہ اقدام پی ٹی آئی کے نزدیک "امن کی کوشش” تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور اپنے نیٹ ورکس بحال کرنے کا سنہری موقع ملا۔ بعض رہنماؤں نے ٹی ٹی پی کو "ہمارے مسلمان بھائی” کہہ کر ان کی بحالی کے بیانیے کو مزید تقویت دی۔

    ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل اور گلوبل ٹیررزم انڈیکس کے اعداد و شمار ایک بھیانک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2021 میں پاکستان میں 424 دہشت گرد حملے ہوئے، 214 شہری جاں بحق ہوئے۔ اگلے ہی سال یہ تعداد بڑھ کر 630 حملوں اور 229 ہلاکتوں تک جا پہنچی۔ صرف 2023 میں ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہوں نے 400 سے زائد حملے کیے، جس سے دہشت گردی میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔

    افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سرحد پار دراندازی اور حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت نمایاں ہو گئی۔ اندازاً 70 سے 80 فیصد حملہ آور افغان نژاد تھے، جنہیں پاکستان کی طرف سے ملنے والی رعایتوں اور افغان طالبان کے تحفظ نے مزید تقویت دی۔

    دہشت گردوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری نے نہ صرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو غیر محفوظ کیا بلکہ ملک میں سیاسی تقسیم کو بھی گہرا کر دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) جیسے گروہوں کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی نے CTD کی کارروائیوں کو متنازعہ بنایا۔ اس سے قومی اتفاق رائے ٹوٹا اور دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام کمزور ہوا۔

    دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ ورلڈ بینک اور وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کو 2001 سے اب تک دہشت گردی کے سبب 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں سالانہ 5 سے 10 ارب ڈالر تک کے نقصانات رپورٹ ہوئے۔

    2021 سے 2023 کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے معاشی نقصان میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ افغانستان،پاکستان تجارت 30 فیصد کم ہوئی، چینی سرمایہ کاری کے منصوبے خاص طور پر CPEC کے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوئے، جس سے 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ٹورزم اور سرمایہ کاری کے شعبے میں 20 سے 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    تحریک انصاف کی ٹی ٹی پی سے متعلق پالیسیوں کو امن کے نام پر اختیار کیا گیا، مگر یہ پالیسی ایک ریاستی غلطی ثابت ہوئی جس نے دہشت گردوں کو تقویت بخشی اور پاکستان کو سیکیورٹی، سماجی استحکام اور معیشت کے اعتبار سے کمزور کیا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ پالیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر تھی، لیکن جمہوری حکومت کے طور پر اس کی ذمہ داری براہِ راست پارٹی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق یہ گواہی دیتے رہیں گے کہ یہ نرم رویہ دراصل دہشت گردی کی نئی لہر کا نقطہ آغاز بنا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریفرنسز
    1.Dawn News, "Talks with TTP facilitated by Afghan Taliban” (2021).
    2.Al Jazeera, "Pakistan begins talks with TTP” (Oct 2021).
    3.United States Institute of Peace (USIP), "The TTP Resurgence after Afghan Taliban takeover” (2022).
    4.Global Terrorism Index (GTI) Reports (2022, 2023).
    5.South Asia Terrorism Portal (SATP), "Pakistan: Terrorism Data”.
    6.Carnegie Endowment for International Peace, "The TTP’s Revival” (2023).
    7.Ministry of Finance Pakistan, "Economic Survey of Pakistan” (2022-2023).
    8.World Bank Reports on Pakistan Economy (2021-2023)

  • دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    دنیا بنانے والے نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بری ہے۔ لیکن جب ہم زمین کے فرش پر خدا کی جھلک دکھانے والی بے شمار خوبصورت تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ کیا واقعی یہی فرش زمین دنیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے علم کے گہرے سمندر میں غوطے لگانے کی ضرورت نہیں، بلکہ سطح پر ہی رہتے ہوئے یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ انسانوں کا دنیاوی خواہشات میں جکڑا ہوا طرزِ عمل ہی دنیا کے چہرے کا اصل تعارف ہے۔

    جب خالق نے دنیا کو برا کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی اصل برائیاں جھوٹ، فریب، دھوکہ، حرام، ظلم، زیادتی، بددیانتی، ناانصافی، زنا، سود، ملاوٹ اور خیانت ہیں۔ یہ تمام برائیاں مل کر دنیا کہلاتی ہیں اور یہ دنیا اُسی کے پاس جمع ہوتی ہے جو اس کے مزاج کا بن جاتا ہے۔ وہ چیز جو کافر اور مسلمان دونوں کے پاس ہو، وہ نعمت نہیں ہوتی، اصل نعمت صرف ہدایت ہے۔

    ہدایت جھونپڑی میں رہنے والے کو بھی اتنا قیمتی بنا دیتی ہے کہ دنیا کے سکے اسے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: میرے نزدیک دنیا ایسی ہے جیسے سور کی انتڑیاں کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔
    اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے۔

    مومن کے لیے دنیا صرف ضروریاتِ زندگی تک ہی حلال ہے، اس سے بڑھ کر جو کچھ ہے وہ دنیا ہے۔ غریبی دراصل وہ امیری ہے جو خدا نے اپنے ہر محبوب بندے کو عطا کی۔ اس لیے خواہشاتِ دنیا کا قیدی بننے کے بجائے غریبی کی آزاد فضاؤں میں روح کی پرواز کا مزہ زندگی کو دیجئے۔

    زندگی کی مشکلات دراصل آخرت کی آسانیوں کی دلیل ہیں، ان پر صبر کیجئے اور خدا کے ساتھی بن جائیے۔

  • اقوام متحدہ کا  اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کا اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے جاری اجلاس کو عالمی سیاست کے لئے ایک نہایت اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما اس پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایسے با ت کریں گے جو صرف کسی ایک خطے نہیں بلکہ پوری انسانیت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اس اجلاس پر ہوں گی۔ اس وقت دنیا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیسے موسمیاتی تبدیلی، عالمی معیشت کی غیر یقینی کیفیت، امن و سلامتی کے چیلنجز کو دنیا کا سامنا ہے۔ موجودہ اجلاس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ عالمی طاقتوں کے سربراہان بشمول امریکی صدر براہ راست خطاب کریں گے۔ امریکی صدر کی تقریر پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔ امریکی صدر کے خطاب میں عالمی تجارتی پالیسیوں ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی سلامتی پر ان کی تقریر ہو سکتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ بعض دنیا کے بڑے مسائل پر کوئی مشترکہ حکمت عملی سامنے آئے۔ تاہم بڑی طاقتوں کے باہمی اختلافات مشترکہ حکمت عملی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کسی مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہو سکتی ہیں۔ موجودہ اجلاس عالمی تعاون اور یکجہتی کے جذبے کا ایک امتحان ہے ۔ جس کے نتائج آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس جہاں عالمی قیادت کے لئے ایک امتحان ہے وہاں صدر ٹرمپ کا خطاب مستقبل کی عالمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں کی راکھ سے پیدا ہونے والی اقوام متحدہ اپنی بقا کی جدوجہد میں 80 سال مکمل ہو گئے۔ اس دوران اس اقوام متحدہ کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن پر عملدرآمد آج تک نہیں ہوا۔ فلسطین، کشمیر سمیت کئی عالمی فیصلے ہوئے مگر دنیا کے کئی ممالک جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ کشمیریوں پر آج تک ظلم کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کو دنیا کی اقوام کے مسائل اور جنگی ماحول پیدا کرنے والے ممالک کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

  • خدارا DC اور  ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    خدارا DC اور ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک کمشنر اور درجن بھر ڈپٹی کمشنرز کے ہیں۔ مذکورہ ڈپٹی کمشنرز کا کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑوں نے سارے ڈپٹی کمشنرز کو گالی بنادیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کرنے والے گندے انڈوں نے انتہائی عزت اور فخر کی علامت "ڈپٹی کمشنر” کی سیٹ کو داغدار کردیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دو تین ڈپٹی کمشنر جس طرح عوامی تذلیل کرکے نمبر گیم بنانا چاہتے ہیں ایسی "بے غیرتی” انہی کو مبارک۔
    سنئیر بیوروکریسی کا کہنا تھا کہ سول سروس کو جتنا گندہ اس دور کے افسران نے کیا ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کچھ سنئیر افسران کے حوالے سے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلاں اچھا خاصا سمجھدار افسر ہوتا تھا پتا نہیں یہ ”ک ن ج ر وں“والے شوق میں کیسے پڑ گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کو لعنتی کام سمجھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھی افسران اس قدر "بے غیرت اور واحیات” ہوچکے ہیں کہ انکا بس نہیں چلتا کہ واش روم میں بھی کیمرہ لگوا لیں۔

    خوش آئند بات ہے کہ بیوروکریسی کی اکثریت سیلف پروجیکشن کے اس غیر قانون دھندے کو ناصرف لعین سمجھتے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔ کمشنرز اور سیکرٹریز کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو چاہئے کہ سیلف پروجیکشن کے غیر قانون دھندھے پر مجرمانہ خاموشی توڑ دیں، سول سروس کو گالی بننے سے بچانے کیلئے ٹک ٹاکر افسران کو فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے ورنہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ان صوبائی سربراہان کے دور میں "صوبہ بنانا ریپبلک” بنا ہوا تھا اور یہ صاحبان عوام بھاڑ میں جائے والی پالیسی اپنائے صرف”باس“ کی جی حضوری کرکے اپنی مدت بڑھاتے رہے۔
    خواتین ٹک ٹاکر افسران خاص طور پر پولیس افسران کے بارے ساتھی افسران جس طرح کے تبصرے کرتے ہیں وہ اس قدر "ذومعنی” ہیں کہ تحریر نہیں کیے جاسکتے صرف اتنی گزارش ہے کہ ”بی بی خدا دا واسطہ جے“ اپنی نہیں تو خاتون ہونے کی ہی عزت کا خیال کرلیں۔

    سوشل میڈیا پروجیکشن کی لعنت کا شکار ہونے والوں میں پولیس والے سر فہرست ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کی اکثریت اور نو مولود PERA والے بچے اس غلاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جبکہ باقی سروسزز کے افسران بھی پیچھے نہیں رہے۔ پولیس والوں نے جتنی نفرت سوشل میڈیا سے سمیٹی ہے اتنے تو یہ ڈالر بھی نہیں کما سکے ہونگے اگر گالیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ایک ڈالر کیلئے ایوریج کم از کم پانچ ہزار بندے کی غائبانہ گالیاں سنتے ہوں گے۔ لوگ سرکاری دفاتر اور کھلی کچہریوں میں اپنے مسائل کی درخواست دینے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ ان کم ظرف سرکاریوں نے اپنی بے نسلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے ذاتی مسائل کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھا دینی ہے۔

    ٹک ٹاکر افسران کیلئے میرے سخت الفاظ کا چناؤ انہی ٹاک ٹاکرز کے ساتھی افسران کی طرف سے ان کیلئے ادا ہونے والے الفاظ اور القابات کا ہاف ہوتا ہے جبکہ عوام میں پائی جانی والی نفرت کا بامشکل 20فیصد تحریری شکل میں لاتا ہوں۔
    سیاستدانوں اور سرکاری افسران سے مایوس عوام کی آخری امید چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کو سرکاری افسران کی شہرت کی خاطر تماشا بنانا بند کروایا جائے۔

    خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
    راشن تو بٹ رہا تھا مگر فوٹو سے ڈر گیا

    غیرت سے عاری بے مروت سرکاری کارندوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ سیلاب متاثرین بھکاری نہیں ہیں جن کے ساتھ تم فوٹو سیشن کرتے پھر رہے ہو۔سرکاری افسران کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب اللہ کی پکڑ آئے اور ان پر خدائی آفت ٹوٹے اور اس وقت کوئی ان جیسا بے شرم موقعے کا افسر ہو۔

  • ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلابی صورت حال میں بیوروکریسی سمیت تمام سرکاری مشینری نے قابل تعریف کام کیا۔ لیکن اس آزمائش کی گھڑی میں بھی بہت سارے افسران کا سارا زور سیلف پروجیکشن پر ہے۔ ایسی ایسی واحیات اور گھٹیا ایکٹنگ کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آرہی ہیں کہ ان ٹھرے ہوئے سرکاری غنڈوں پر لعن تعن کیے بن رہا نہیں جاتا۔ٹک ٹاکر افسران کو عوام کی طرف جن القابات اور گالیوں کے ساتھ پکارا جارہا ہے وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔ جتنی محنت اورجانفشانی سے یہ ایکٹنگ والی ویڈیوز بنوا رہے ہیں اس سے آدھی محنت سے سیلاب متاثرین کی بحالی کوشش کریں تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

    او بے شرم اور بے حیا سرکاری فرعونوں تمہیں غریب عوام کے ٹیکس سے تنخواہ، لگثری گاڑیاں اور گھر عوامی فلاح و بہبود کیلئے دیے جاتے ہیں نہ کہ سیلف پروجیکشن اور ایکٹنگ کیلئے۔ حرام خورو تم اپنی سیلف پروجیکشن کی ویڈیوز کیلئے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو ان کی عزت نفس مجروح کر رہے ہو۔

    سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔

    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، خاص طور پر خواتین پولیس افیسرز سوشل میڈیا کی جہالت میں اس قدر پاگل اور ذہنی مریض بن چکی ہیں کہ اپنے دفتر، وردی اور سرکاری گاڑی کو شوٹنگ/ایکٹنگ کلب سمجھ لیا ہے۔ خواتین افسران میں سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا جنون انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔سیلف پروجیکشن کیلئے عوام کی ویڈیوز بنانے والے تمام قانون شکن افسران پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج ہونا چاہئے جبکہ اختیارات سے تجاوز پر وفاقی افسران کے خلاف ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن جبکہ صوبائی افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے نوکری سے فارغ کردینا چاہئے۔

    شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔وزیراعظم پاکستان، تمام وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے درخواست ہے کہ خدارا سرکاری ملازمت کو گالی بننے اور عوامی نفرت سے بچانے کیلئے سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر بے عزت کرنا۔

    سیلاب کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔ سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر "شو آف” کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال ہونا، ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ پھول پھینکنے والے سارے منشیات فروش، زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔ او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔ افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سرکاری افسران گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

  • حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب ۔۔۔خواتین کے تقدس اور عفت کی حفاظت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ عورت کی عزت ، حیا ، وقار اور اسلامی شناخت کی علامت ہے ۔ حجاب ۔۔۔ عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ حجاب ڈے کی بنیاد فرانس میں حجاب کے خلاف پابندیاں بنیں۔ فرانس میں مسلم خواتین کے برقع اوڑھنے پر تنازعات پیدا ہونے کے بعد اپریل میں ہیملٹن کی مشہور میک ماسٹر یونیورسٹی میں کچھ مسلم و غیر مسلم طلبہ نے حجاب ڈے منایا۔ کچھ عرصے بعد یہ دن فرانس میں قومی سطح پر منایا جانے لگا۔ کچھ عرصہ بعد کینیڈا میں بھی اس دن کو منایا جانے لگا۔ فرانس اور کینیڈا کے بعد اب چار ستمبر کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔اسی طرح امریکہ کی ایک مسلمان خاتون نزیما خان نے حجاب ورلڈ ڈے منانے کا اعلان کیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو باور کروایا جائے کہ حجاب بوجھ نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ اس دن کے منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے جو لوگ حجاب پر تنقید کرتے ہیں ، مسلمان خواتین سے نفرت کرتے ہیں ان کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ان کے متعصبانہ سلوک کی وجہ سے مسلمان خواتین کن مشکلات اور تعصبات کا شکار ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آج حجاب ڈے ایک عالمی تحریک تحریک بن چکا ہے، جس میں ساٹھ سے زائد ممالک کی خواتین اور ادارے شریک ہوتے ہیں۔

    اسلام عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں حجاب کا حکم واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور مومنہ عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔”(سورة النور: 31) اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: "اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔”(سورة الاحزاب: 59)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب عورت کی عزت کا حصار ہے۔ یہ صرف ظاہری لباس نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جو عورت کو پاکیزگی، سکون اور وقار عطا کرتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے بھی عورت کی عفت و عصمت کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے فوراً اپنے دوپٹے بڑے کرلیے اور سر سے پاوں تک اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔ یہ صحابیات کے ایمان اور فرمانبرداری کا عملی ثبوت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ حجاب عورت کےلئے روزمرہ کی ضروریات اور خوراک سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔ حجاب کرنے کے فوائد ہی فوائد ہیں ۔ حجاب کرنے والی خاتون نہ صرف اپنی حفاظت کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو برائیوں سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔حجاب کرنے سے روحانی سکون اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حجاب اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ جو عورت یہ حکم پورا کرتی ہے، اس کے دل میں ایمان کی تازگی اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ خود کو اللہ کے قریب محسوس کرتی ہے۔ حجاب عورت کو وقار بخشتا ہے۔ لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کردار اور حیاءکی حفاظت کرتی ہے۔

    حجاب معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور برائی کے دروازے بند کرتا ہے۔ یہ عورت اور مرد دونوں کو گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ جب خواتین حجاب اختیار کرتی ہیں تو معاشرے میں بد نظری، ہراسانی اور بے حیائی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے ایک پاکیزہ معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔

    حجاب عورت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اس پر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔جہاں حجاب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں وہاں حجاب نہ کرنے کے بیشمار نقصانات بھی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔ جو عورت حجاب نہیں کرتی وہ براہِ راست اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کا انجام آخرت میں سخت عذاب اور درد ناک عذاب ہے۔حجاب نہ کرنے کا دوسرا مطلب ہے بے پردگی ۔ بے پردگی معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ نہ صرف عورت کو بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔مغربی معاشروں میں جہاں حجاب کو نظرانداز کیا گیا، وہاں عورت محض جسمانی کشش اور تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ نتیجتاً عزت و وقار کی بجائے وہ اشتہارات اور خواہشات کی تسکین کا آلہ سمجھی جانے لگی۔بے پردگی اور مخلوط زندگی طلاق، بے وفائی اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ چیز خاندان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

    اسلامی تاریخ میں صحابیات کے کردار سے ہمیں حجاب کی حقیقی روح سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہمیشہ وقار اور حیاءکے ساتھ زندگی گزاری اور خواتین کے لیے عملی نمونہ پیش کیا۔
    حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی حیاءاور عفت ایسی تھی کہ غیر محرم کی موجودگی میں بھی مکمل پردے کا اہتمام فرماتیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ فرماتی ہیں کہ عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو خود کو مکمل طور پر ڈھانپے تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ایک موقع پر جب ان کا لباس باریک تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً توجہ دلائی کہ عورت کے جسم کا ظاہر صرف ہاتھ اور چہرہ ہے، باقی سب ڈھانپنا ضروری ہے۔یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صحابیات نے حجاب کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنایا اور آنے والی نسلوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑا۔آج مغرب میں حجاب پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ کبھی اسے دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے اور کبھی عورت کی آزادی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حجاب ہی عورت کی اصل آزادی ہے، کیونکہ یہ اسے ہوس پرست نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ الحمدللہ دنیا بھر کی لاکھوں مسلم خواتین ہر قسم کے دباو¿ اور تعصب کے باوجود حجاب پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہی ایمان اور غیرت کا مظہر ہے۔اسلام نے عورت کو وہ عزت عطا کی ہے جو کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دی۔ حجاب اس کی عزت کا سب سے بڑا نشان ہے۔ یہ عورت کی پاکیزگی، حیاءاور وقار کی ضمانت ہے۔ حجاب ترک کرنا دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث ہے۔میں اپنی ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ وہ نہ صرف خود حجاب ڈے کے موقع پر نہ صرف خود حجاب کی پابندی کریں بلکہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی اس کی ترغیب دیں، تاکہ ہمارامعاشرہ پاکیزگی، امن اور ایمان کی روشنی سے منور ہو سکے۔

  • سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟

    سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟

    سیلاب، بربادی اور بھارتی آبی وار۔۔۔ پاکستان کب عالمی عدالت انصاف کا در کھٹکھٹائے گا؟
    "بھارت کی آبی جارحیت نے پاکستان کو سیلابی بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عالمی عدالت انصاف میں اس ماحولیاتی و انسانی جرم پر آواز بلند کرے گی؟”
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان ایک بار پھر تباہ کن سیلابوں کی زد میں ہے مگر اس بار معاملہ صرف قدرتی آفت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے بھارت کی مبینہ آبی جارحیت کے شواہد نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی رہنماؤں کے بیانات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں کہ پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور ستمبر 2025 کے حالیہ سیلاب نے ان خدشات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 کے اُوڑی حملے کے بعد کہا تھا کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے” ، جو پاکستان کے خلاف براہِ راست دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ اسی تسلسل میں 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارتی وزیر نتن گڈکری نے اعلان کیا کہ پاکستان کو جانے والا پانی روک کر ہم اسے جموں و کشمیر اور پنجاب میں استعمال کریں گے۔ یہاں تک کہ بھارتی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل کانول جیت سنگھ ڈھلن نے کھلے عام کہا کہ ہم فصلوں کے موسم میں پانی روک کر اور مون سون کے دوران اچانک چھوڑ کر پاکستان میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ اس سال بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اب بحال نہیں ہوگا۔ یہ بیانات اس حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جسے ماہرین "واٹر وار” یا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

    ستمبر 2025 میں بھارت نے دریاؤں اور ڈیموں کے سپیل وے اچانک کھول دیے جس کے نتیجے میں پنجاب میں قیامت خیز سیلاب آیاجو اب سندھ کی طرف رواں دواں ہے۔ پنجاب میں بستیاں، کھیت اور مویشی سب کچھ پانی میں بہہ گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صرف پنجاب میں 55 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک بھر میں مجموعی ہلاکتیں 800 سے بڑھ گئیں۔ متاثرین میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی اور دو سو سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوئی اور چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی فصلیں بہہ گئیں۔ صرف زرعی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور درآمدی انحصار کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔

    اس تباہ کن سیلاب سے ہزاروں مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے، سکول اور درجنوں صحت مراکز زیرِ آب آ گئے۔ دیہات کے دیہات اجڑ گئے اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ پینے کے صاف پانی اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی نے وبائی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ذہنی صحت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بہت سے متاثرین پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا ہیں جبکہ گاؤں کے لوگوں کے الفاظ میں "موت ہمارے گھروں میں داخل ہو گئی ہے”۔

    یہ سوال یہاں شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا یہ محض قدرتی آفت تھی یا بھارتی آبی جارحیت کی منظم کوشش؟ کلائمیٹ چینج نے بلاشبہ بارشوں کی شدت بڑھائی ہے مگر بھارتی ڈیموں سے اچانک پانی چھوڑنے نے اسے انسانی ساختہ آفت میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کے لیے یہ محض ریلیف سرگرمیوں کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور مستقبل کے وجود کا سوال ہے۔

    پاکستان کے پاس عالمی فورمز پر جانے کے کئی راستے موجود ہیں مگر تاحال وہ عملی طور پر غیر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ سب سے پہلا اور مؤثر قدم عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں جانا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی 1960 کے تحت بھارت کو پانی چھوڑنے کے فیصلوں کا بروقت نوٹس دینا لازمی ہے، مگر پاکستان کے دعوے کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔ بھارتی وزراء اور فوجی افسران کے بیانات اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نیت موجود ہے۔ یہ ثبوت ICJ میں پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ بھارت کو عالمی سطح پر جواب دہ بنایا جا سکے۔

    دوسرا راستہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آواز بلند کرنا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک قرارداد پیش کرے جس میں بھارتی آبی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔ اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، عرب لیگ اور دوست ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ دنیا کی توجہ بھارت کے اس رویے پر مرکوز ہو۔

    تیسرا قدم بھارت پر معاشی دباؤ ڈالنے کا ہے۔ پاکستان کو امریکہ، یورپی یونین اور چین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے سامنے یہ معاملہ اٹھانا ہوگا کہ بھارت کی برآمدات کو محدود یا مشروط کیا جائے۔ خاص طور پر بھارتی ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے تاکہ بھارت کو پانی کے بطور ہتھیار استعمال کرنے سے باز رکھا جا سکے۔

    چوتھا اور نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو بھارتی پراکسی جنگوں کا معاملہ بھی اس تناظر میں اجاگر کرنا چاہیے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی مداخلت کے شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے جائیں۔ غیر ملکی میڈیا، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان علاقوں میں لے جا کر دکھایا جائے کہ بھارت کس طرح پاکستان کو مختلف محاذوں پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    پاکستان کی حکومت نے اب تک ریلیف سرگرمیوں پر توجہ دی ہے مگر عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی محاذ پر خاطر خواہ اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ سیلاب کے متاثرین کو عارضی پناہ گاہوں، خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر آج پاکستان نے عالمی عدالت انصاف اور دیگر عالمی اداروں کا در نہ کھٹکھٹایا تو کل یہ سیلاب ہر سال ایک نئے المیے کے ساتھ لوٹتے رہیں گے اور ہم صرف ملبے پر آنسو بہاتے رہیں گے۔

    پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت دونوں کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سیلاب کب آئے گا بلکہ یہ ہے کہ ہم کب اس آبی وار کے خلاف اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔ بھارت کی آبی جارحیت اب محض خدشہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہےاور اس کے خلاف قانونی، سفارتی اور معاشی محاذ پر مؤثر حکمت عملی کے بغیر پاکستان کا وجود بار بار اسی طرح کے امتحان سے دوچار ہوتا رہے گا۔

    ریفرنسز:
    1.Modi, N. (2016). Statement after Uri attack – "Blood and water cannot flow together.” (BBC, The Hindu)
    2.Gadkari, N. (2019). "We will stop water to Pakistan and use it in Punjab.” (Times of India)
    3.Dhillon, K. J. Singh (Retd. Lt. Gen.). Interview on using rivers against Pakistan (The Print, 2020).
    4.Shah, A. (2025). Statement on Indus Water Treaty suspension – "This treaty will never be restored.” (Hindustan Times)
    5.NDMA Pakistan Flood Report, September 2025.
    6.UN Climate Change & South Asia Flooding Report, 2024–25.

  • جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    تعارف

    سید ریاض جاذب جنوبی پنجاب کے معتبر صحافی ہیں جن کی خدمات سوشل سیکٹر میں بھی نمایاں رہی ہیں۔ تین دہائیوں پر محیط صحافتی سفر میں انہوں نے قومی و بین الاقوامی اداروں میں کام کر کے اپنی دیانتداری اور تجربے سے منفرد مقام بنایا۔ اس وقت وہ باغی ٹی وی کے لیے تحقیقی و تجزیاتی مضامین لکھ رہے ہیں جو قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان
    تحریر: ریاض جاذب (جاذب نامہ)
    جنوبی پنجاب ایک بار پھر سیلابی ریلوں کی زد میں ہے اور اس بار کی تباہ کاریاں پہلے سے زیادہ شدید ثابت ہو رہی ہیں۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں پانی نے کھیتوں، بستیوں اور بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گھروں سے بے دخل لاکھوں افراد سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ روزگار کے ذرائع اجڑنے سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کے مطابق دریائے چناب اور ہیڈ تونسہ کے قریب پانی کے اخراج نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ صرف ملتان ڈویژن میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ تقریباً تین لاکھ لوگ اپنے روزگار اور مکانات سے محروم ہو گئے۔ ڈیڑھ سو کے قریب دیہات میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بھی یہی منظرنامہ ہے، جہاں سرکاری رپورٹوں کے مطابق چار لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور اڑھائی لاکھ ایکڑ اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اس لہر میں اب تک پنجاب میں 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھے کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور رابطہ پل بہہ گئے، بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے اور بعض بستیاں مکمل طور پر باقی ملک سے کٹ گئیں۔

    امدادی سرگرمیوں کے باوجود متاثرین کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ خیموں اور ضروری سامان کی کمی ہے، پینے کے صاف پانی اور ادویات کا شدید فقدان ہے اور بچے بیماریوں کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان زرعی معیشت کو ہوا ہے۔ دریاؤں کے کنارے تقریباً سات کلومیٹر چوڑے علاقے میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ پنجاب بزنس فورم کے اعداد و شمار کے مطابق چاول کی 60 فیصد، گنے کی 30 فیصد اور کپاس کی 35 فیصد پیداوار ضائع ہو گئی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ نے وارننگ دی ہے کہ اس نقصان کے نتیجے میں ملک میں چاول کی کمی اور برآمدات میں کمی ناگزیر ہو جائے گی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی جلد نہ اترا تو مزید فصلیں بھی برباد ہو سکتی ہیں، جس سے کسانوں کا اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔

    مجموعی طور پر 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔ یہ نہ صرف کسانوں بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ پہلے ہی گندم اور کپاس کی کمی، درآمدات پر انحصار اور مہنگائی جیسے مسائل موجود ہیں، اب ان پر یہ سیلاب مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ اگر کسانوں کو فوری سہارا نہ دیا گیا تو زرعی پیداوار سنبھلنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

    معاشی ماہرین اور کسان تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے ہنگامی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ بلا سود قرضے، بیج اور کھاد کی مفت فراہمی اور زمین کی بحالی کے لیے فنڈز قائم کیے جائیں تاکہ کسان دوبارہ کھیتی باڑی کے قابل ہو سکیں۔

    موسمیات کے ماہرین نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے فلیش فلڈ کے نئے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ہم ہر سال آنے والی ان تباہ کاریوں سے سبق سیکھنے پر تیار ہیں یا نہیں۔

    یہ وقت محض ریلیف فراہم کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی بنانے کا ہے۔ اگر آبی ذخائر کے نظام کو بہتر نہ بنایا گیا، ڈیموں اور بیراجوں کی مینجمنٹ درست نہ ہوئی اور متاثرہ آبادیوں کے لیے پائیدار منصوبے نہ بنائے گئے تو سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک مستقل معاشی تباہی بن کر ہمارے سامنے کھڑا رہے گا۔

  • میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا  تحریر : عائشہ اسحاق

    میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا تحریر : عائشہ اسحاق

    آج کل جس بھی نیوز چینل یا سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہر طرف تباہی مچاتے ہوئے سلابی ریلے اور درد سے بھری داستانی دکھائی دیتی ہیں اس سب کے ساتھ ہر نیوز چینل پر بڑھ چڑھ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف ریسکیو ٹیمیں ، پاک فوج کے دستے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات فراٹے مارتے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر سلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ہر نیوز چینل پر ان تمام کاروائیوں کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں مگر حقیقت وہی خوفناک اور دردناک ہے کہ میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ہوئے با اثر لوگوں سے پوچھا جائے کیا پہلی بار سیلاب آیا ہے یا گلیشرز پہلی دفعہ پگھلے ہیں ،77 سال بیت جانے کے بعد بھی یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ قدرت کا بھی کچھ تقاضا ہوتا ہے ہر سال گلیشرز پگھلتے ہیں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں دریاؤں ندی نالوں میں طغیانی ہوتی ہے سیلاب آے ہیں تو پھر کوئی مثبت بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟ انڈیا کسی صورت پاکستان کو پانی دینے پر آمادہ نہیں مگر جب یہی پانی برسات کے موسم میں بھارت کو اپنی موت دکھائی دیتا ہے تو وہ بلا تاخیر سپیل کھول دیتا ہے جس سے پاکستان میں مزید تباہی مچتی ہے تو کیا ہمارے سیاسی اقتداری با اثر حکمران اس سب حقیقت سے نا واقف ہیں؟

    ہر سال لاکھوں کیوسک میٹھا پانی جو پورے ملک کو سیراب کر سکتا ہے بنجر زمینیں آباد کر سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں جب یہاں ڈیمز بنائے گئے ہوتے یہ پانی ڈیمز میں محفوظ کیا جاتا تو یہی میٹھا پانی ہر طرف ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے اور حکمرانوں کی لالچی پولیسیوں کی وجہ سے یہ پانی غریبوں کی دنیا اجاڑ رہا ہے، خوشحالی لانے کی بجائے زندگی اور گرہستیاں اجاڑتے ہوئے سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے۔جی نہیں یہ سب اچانک یا قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانیت کا لالچ ہے، جو ہر طرف خوفناک تباہی مچاتے ہوئے لاکھوں دردناک داستانیں پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ ان اقتداریوں سے پوچھا جائے 77 سال بیت جانے کے بعد بھی ڈیمز کہاں ہیں؟ ملک ڈوبتا نہیں ہے ڈبویا جاتا ہے اور یہی آج 2025 میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ پانی میرے وطن کے غریبوں کی ہستیاں اور بستیاں کسی ڈائن کی طرح نگل رہا ہے اور اقتداری اپنے محلوں میں محفوظ پرتیش زندگی گزار رہے ہیں ہوا میں اڑتی سواریوں پر اج بھی سالہ سال پرانی روایت کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اجڑے ہوئے غریبوں کے نام پر اربوں روپیہ بطور امداد وصول کیا جاتا ہے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے۔۔۔