Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04)  تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 3 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے اور دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کا لین دین کرکے خفیہ طریقے سے پیسے کما رہے ہیں کیونکہ جو ملاوٹ کرکے پیسہ کمایا جاتا ہے وہ حلال نہیں کہلاتا اس لئے آج چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن کیوں لگاۓ جاتے ہیں جو کہ درج ذیل ہے

    چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے:
    مارکیٹ میں دستیاب 300 روپے کلو چنے خرید کر اس کا چھلکا الگ کر لیتے ہیں بعد میں اس چھلکے کو پیس کر اس کو رنگ کرکے چاۓ کی پتی کے اندر مکس کرکے وزن بڑھا کر بیچتے ہیں خالص چاۓ کی پتی میں کبھی بھی کرکراپن موجود نہیں جبکہ ملاوٹ والی چاۓ میں آپ کو کر کراپن ضرور ملے گا اس لیے مارکیٹس میں مختلف برانڈ کی پتیاں دستیاب ہیں

    آٹے میں ریتی کی ملاوٹ:
    آٹے میں ریتی کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے غریب کیلئے خالص آٹا لینا محال ہے دن بدن ملاوٹ عروج پر ہوتی جارہی ہے اور لوگوں کو طرح طرح کے برانڈ بنا کے آٹے کو مختلف طریقوں سے بیچا جا رہا ہے جس طرح آٹے کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل در مشکل ہوتا جا رہا ہے گندم میں لوگ ریت مکس کرتے پکڑے گے ہیں پھر کہتے ہیں حکمران خراب ہیں حکمران اس لئے خراب ہیں کیونکہ یہاں کے تاجر جو خراب ہیں
    جیسی عوام ویسے حکمران

    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ:
    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسے کی ملاوٹ زیادہ اس لئے ہوتی ہے کیونکہ اس کو پیس کر جب باریک کر لیا جاتا ہے تو اس کی رنگت سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ خالص کون سا ہے یا ملاوٹ والا کون سا ہے ذائقہ سے ہی پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ چنے کا آٹا ہے یا لکڑی کا بھوسہ
    اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم سے کچھ بعید نہیں جو رمضان کے مبارک دنوں میں بھی اپنی سمت کا تعین درست نہیں کرتی بلکہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی عروج پہ چلی جاتی ہے تمام باتیں کتنی حیران کن ہے ایک پل کے لئے ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنے نیک ہیں

    پھلوں میں میٹھے انجیکشن:
    پھلوں میں میٹھے انجیکشن کا دھندہ اپنی جگہ 12 ماہ عروج پر ہوتا ہے بے موسم فروٹس بڑی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں پھلوں کو انجیکشن لگا کر وقت سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب کیا جاتا ہے اس سے بہت سے نقصانات ہو رہے ہیں ۔ سب سے بڑا نقصان لوگوں میں صحت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی بہت زیادہ ہو جاتی ہے یہ بیماریاں اب عام ہو گئ ہیں یہ بیماریاں زیادہ کیلوریز لینے کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں جس سے صحت متاثر ہو رہی ہے ہمیشہ صحت زیادہ چینی اور کیلوریز لینے سے خراب ہوتی ہے اس لئے بے موسمی فروٹس کا استعمال کم کرنا چاہیے کوشش کریں خالص فروٹس کا استعمال کریں خالص فروٹس دیہاتی علاقہ جات میں زیادہ مقدار میں میسر ہوتے ہیں اس کے برعکس ملاوٹ کا دھندہ ہر جگہ بہت عام ہے

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا شامل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا بہت سی قومیں تباہ ہوگئیں جو دھوکا بازی، فراڈ اور ملاوٹ کیا کرتی تھیں ہمارے ضمیر مر چکے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں حکمرانوں کو ہم برا بھلا کہتے نہیں تھکتے لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر بھی نہیں دیکھتے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • اتحاد بین المسلمین، وقت کی اہم ضرورت تحریر: محمد ثاقب معسود

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا:
    "واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعا ولا تفرقوا واذروا نِعمت اللہِ علیم اِذ نتم اعدا فالف بین قلوبِم فاصبحتم بِنِعمتِھ اِخوانا ونتم علی شفا حفر مِن النارِ فانقذم مِنھا ذلِ یبیِن اللہ لم ایتِھ لعلم تھتدون "۔

    ترجمہ: "اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب ملکر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاسکو”۔

    اس آیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالو، ایک دوسرے سے جدا جدا راہیں اختیار نہ کرو ۔ اتحاد، یگانگت اور بھائی چارہ اللہ تعالی کی نعمت ہے جو اس نے خاص طور پر اہل ایمان کو عطا کی ورنہ اسلام سے قبل تو جاہلیت کا زمانہ تھا، لوگ معمولی تلخ کلامی پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ دیا کرتے تھے، بلا وجہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوجانا معمول کی بات تھی پھر اسلام کا دور آیا اور اللہ نے اہل ایمان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت ڈال دی، تمام مسلمان بھائی بھائی بن گئے اور اللہ رب العزت نے مستقبل کے حوالے سے بھی نصیحت فرمائی کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالنا اور اس اتحاد اور اتفاق کو برقرار رکھنا اور اگر آپسی اختلاف میں پڑ گئے اور راہیں جدا جدا کر لیں تو اس کے نقصانات سے محفوظ نہ رہ سکو گے۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سب بحیثیت مسلمان اتحاد و یگانگت سے متعلق دیئے ہوئے اللہ رب العزت کے احکامات کو مان کر زندگی گزار رہے ہیں؟ جواب یقینی طور پر نفی میں ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان نے قرآنی تعلیمات کو مانتے ہوئے آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھی تو دنیا کی باقی اقوام مسلمانوں کی محکوم رہیں اور جب سے مسلمانوں نے تفرقوں میں بٹ کر اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے احکامات سے انحراف کرنا شروع کیا تو مسلمانوں کو دنیا بھر میں ناکامی، رسوائی اور مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور مسلمانوں کے دشمن نااتفاقی اور تفرقہ بازی کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں کیونکہ پاکستان واحد ریاست ہے جو نظریہ اسلام اور لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔مثال کے طور پر
    پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز ریمارکس دینے والے بھارتی فوج کے سابق میجر گورو آریا کی ایک ویڈیو گذشتہ سال سامنے آئی جس میں اس نے پاکستان میں فرقہ واریت کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ "پاکستان میں فرقہ واریت اورافرتفری پھیلاناکونسامشکل کام ہے، شیعہ سنی کوایک طرف رکھتے ہوئے بریلوی کودیوبندی کیخلاف اوردیوبندی کوبریلوی کے خلاف تیارکیجئے اوریہ کام چندکروڑمیں ہوسکتاہے،اس نیٹ ورک کودبئی سے کنٹرول کیاجائے ،بریلوی اوردیوبندیوں کے ایک دوسرے کےخلاف تقریں اورجلسے جلوسوں میں اشتعال انگیزی پیداکرا کے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادینی چاہئے”۔ بھارتی سازشوں سے قطع نظر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے خود کو صرف ایک پہچان یعنی مسلمان تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ مختلف فرقوں میں الجھی ہوئی ہے اور تعصب جیسے مرض میں مبتلا ہے جس سے پاکستان میں دشمنوں کوکھل کراپنے ناپاک اردوں کوعملی جامہ پہنانے میں آسانی پیداہوجاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قبیلے اور گروہ محض شناخت کے لئے بنائے تھے، اس لئے نہیں کہ ہم ان کی بنیاد پر جنت اور دوزخ کے فیصلے کرنا شروع کردی یا کسی تفاخر میں مبتلا ہوجائیں۔ ہم سب مسلمان ہیں اور ہماری پہچان محض دین اسلام اورپاکستان ہی ہے،اس کے برعکس دیکھا گیا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ کسی دوسرے مسلمان کو اسلام کی نہیں بلکہ اس کے فرقے کی نسبت سے جانتے اور پہچانتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ یہ تعصب ہی ہے جس نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جس سے ان کی حقیقی شناخت کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے ایک ہونے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ۔ہم تفرقوں کو ختم کرکے ایک ہو جائیں، وہابی ،سنی،دیوبندی ،بریلوی اورشیعہ بننے کے بجائے سچے مسلمان اورپاکستانی بن جائیں تو نہ صرف رسوائیوں اور مایوسیوں سے بچ جائیں گے بلکہ دنیا میں ایک طاقتور اور کامیاب قوم کے طور پر سامنے آئیں گے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں زیادہ تر بے گناہ لوگ ہی ظلم و بربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ عدل و انصاف اور عقل و شعور کے خلاف ہے کہ ظلم کرے کوئی اور اس کی سزا بھرے کوئی۔ یہ بھی یاد رکھ لیا جائے کہ دوسروں سے بلاوجہ نفرت، تعصب اور ان پر ظلم و زیادتی کا جواب اور حساب اللہ تعالی کے حضور ہم نے انفرادی طور پر دینا ہے۔ وہاں نہ سفارش چلے گی، نہ پیسہ اور نہ ہی کسی طاقتور کا دبائو، کسی بھی سیاسی اور مذہبی مفاد کا بہانہ بھی یوم حساب نہیں چلے گا اس لئے ضروری ہے اللہ رب العزت کی رسی یعنی قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اورتعصب جیسی بیماری سے چھٹکارہ پا کر صرف اسلام اورپاکستان کے جھنڈے تلے جمع ہوجانا چاہئے تاکہ دشمنان اسلام وپاکستان کے ناپاک منصوبے خاک میں مل جائیں۔

  • سیانے لوگ زرا گائیڈ کریں تحریر: فاطمہ ہاشمی

    سیانے لوگ زرا گائیڈ کریں تحریر: فاطمہ ہاشمی

    14 اگست 1947 یہ وہ دن ہے جب ہم نے بظاہر انگریز سے آزادی حاصل کی مگر انگریزی نظام میں ویسے ہی جھکڑے ہوے ہیں ؟
    14 اگست ہمارے لاکھوں شہداء کا دن ہے معصوم عصمتوں کے تار تار ہونے کا دن ہے تو کیا یہ دن اس طرح خوشیاں منانے کا ہے کہ ہم باجے بجاتے ناچتے کودتے پھریں؟
    گورداسپور سمیت بہت سے مسلم اکثریت کے علاقے بشمول کشمیر۔جونا گڑھ مناوادر ریاست حیدر باد کو انڈیا ہضم کر گیا
    یہ دن تو بدلے کے عہد کی تجدید کا دن ہے کہ بلاجواز ظلم سے لاکھوں لوگوں کو انتہائی شقاوت و درندگی سے ذبح کر دیا گیا معصوم بچوں کو ماوں کے سامنے نیزوں میں پرو دیا گیا باپوں کے سامنے بیٹیوں کو اٹھا لے گئے اور ذخمی بھائی بے بسی سے آنسو بہاتے تڑپ تڑپ کر جان دیتے تھے جوان گھبرو اپنے ماں باپ کا تحفظ نا کر سکے اس تاریک ترین ظلم و دہشت گردی کے دن کےجواب میں سبز سفید سوٹ پہن کر ٹھمکے مارتے باجے بجاتے انڈین گانوں پر رقص اور انکی فلموں کے دلدادہ نوجوانوں کو کون اس دن کی حقیقتوں سے آشنا کرے گا ؟
    ہم نے جسمانی آذادی تو حاصل کر لی مگر کیا ہمارا دماغ و دل بھی آذاد ہیں ؟
    کیا ہمارے شادی بیاہ نبیؐ کے طریقوں کے مطابق ہوتے ہیں یا ہم انہی ہندوانہ کلچر کو بھرپور فرض سمجھتے ہیں ؟ ہمارے گھروں کے رسم رواج کیا ریاست مدینہ کے مطابق ہیں یا ہم نے محض ہندوستان و پاکستان کے نام کا فرق پیدا کرنے کے لیے قربانیاں دیں تھیں یا آذادی محض جسم کے آزاد ہونے کا نام ہے؟
    بالکل درست ہے کہ ہم یہاں انڈین مسلمانو سے بہت بہتر ذندگی گزار رہے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے آزادی حاصل کی گئی تھی وہ محض دو قومی نہیں دو نظریوں دو عقیدوں اور ان کے درمیان عملی فرق کی وجہ سے الگ ہوے تھے آذادی حاصل کی تھی تو کون بتائے گا آذادی کیوں حاصل کی گئی ؟
    کیا ہمارے سرکاری ادارے انگریز دور سے بھی ذیادہ کرپٹ نہیں ہو چکے جو ہر جائز کام بھی رشوت کے بنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ؟
    کیاہم نے ملاوٹ ذخیرہ اندوزی سود سے آذادی حاصل کر لی ؟
    کیا ہمارے حکمرانوں کا انداز حکمرانی ریاست مدینہ سے ملتا ہے یا انگریزی نظام کو دیسی تڑکے کے ساتھ چکایا جارہاہے؟
    کیا ہماری عدالتیں رہنمائی قرآن و حدیث سے لیتی ہیں یا محض انگریز جج کی جگہ مسلمان جج بٹھا کر نظام وہ سامراجی ہے جہاں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور بے موت مارا جاتا ہے جبکہ ظالم دندناتے پھرتے ہیں ؟
    قوم کی ذہن سازی کرنے میں آج سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے مگر وہاں تو فلمی طوائفوں کا قبضہ ہے آذادی کے وقت کی نسل تقریبًا اٹھ چکی ہے بہت کم لوگ جو اس وقت سن شعور کو پہنچے ہوے تھے ذندہ ہوں گے تو کیا آج کی 4g 5g نسل آذادی کے مقصد کو کیا سمجھتی ہے سبز سفید سوٹ پہننا ناچنا گانا باجے بجانا؟
    جبکہ اللہ کیا فرما رہے یہ تو تجدید عہد کا دن تھا
    اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَ نَّهُمْ ظُلِمُوْا ۗ وَاِ نَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُ
    "اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے”
    ٱلَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَا رِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ۗ وَلَوْلَا دَ فْعُ اللّٰهِ النَّا سَ بَعْضَهُمْ بِبَـعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَا مِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا ۗ وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ
    "یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے "ہمارا رب اللہ ہے” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے”
    (QS. Al-Hajj 22: Verse 40)
    آو عہد کریں کہ جسمانی آذادی کے بعد ذہنی آذادی اور نظام کی آذادی بھی حاصل کریں گے یا کوئی مجھے سمجھا دے کہ جشن منانے کا وقت آچکا ہے کیا اس وقت کے شہید یونے والے لاکھوں شہداء اگر آج ہمیں ایسے جشن مناتے دیکھیں تو کیا سوچیں کہ یہ جشن ہماری شہادتوں پر منارہے ہو؟ وہ بہنیں جو انڈیا میں گئیں تھیں آج بڑھاپے میں ہندووں سکھوں کی دادیاں نانیاں بن گئیں ہیں اور انتظار کرتے کرتے اللہ کے حضور پیش ہوگئیں ہیں اور کچھ ذندہ ہیں تو کیا ابھی جشن منانے کا وقت ہے ؟ مجھے تو نہیں لگتا آپ کو لگتا ہے تو مجھے بھی سمجھا دیں شکریہ

  • واقعی ہم سا کوئی نہیں تحریر : سلمان اکرم

    ہم پاکستانی ہیں. ہمارے دیس میں بہت سے مسائل ہیں، مہنگائی بے روزگاری، کرپشن اور اس جیسے دیگر مسائل.
    ان تمام موضوعات پر لوگ کھل کر لکھتے اور بولتے ہیں. مگر آج آپکو ہم پاکستان کی کچھ خوشگوار امتیازی خصوصیات سے روشناس کرواتے ہیں.
    .
    سب سے پہلی خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم بلا کے مہمان نواز ہیں. ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں مہمان نوازی کی عجیب سے عجیب تر روایات ہیں. اپنے عزیز و اقارب کے لیے تو ہم ہر حد سے گزرتے ہیں ہم انجان مسافروں کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی نہیں کرتے. ہمارے گھروں میں مہمان آ جائے اور ہماری جیب افوڈ نہ کر سکتی ہو تو ہم ادھار لے کر مہمان کی خدمت کرتے ہیں. اور اسے باعث خیر و برکت سمجھتے ہیں.
    .
    دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا جوائنٹ فیملی سسٹم دنیا میں سب سے مضبوط جوائنٹ فیملی سسٹم ہے. یہاں آج کی والدین کا مرتبہ سب سے بلند ہے. آج بھی والدین کے ساتھ جڑے دیگر رشتوں کے تقدس میں کوئی کمی نہیں لاتے. ہم تنگ گھروں میں کھلے دل کے ساتھ رہتے ہیں. آج بھی ہمارے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں.
    .
    تیسری اہم خوبی یہ ہے کہ تیسری دنیا کا ملک ہونے کے باوجود ہم میں تعلیم کا رجحان بہت زیادہ ہے. ہماری قوم علم دوستی میں اپنی مثال آپ ہے. ہر سال کسی مزدور ریڑھی بان یا نان بائی کی اولادوں میں سے کوئی کسی نہ کسی فیلڈ کا ٹاپر ہوتا ہے.
    ہمارے ملک کی کچی آبادیوں میں بھی پرائیویٹ سکولز بنے ہوئے ہیں.
    یہ ہماری علم دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہے.
    .
    چوتھی اہم بات یہ ہے کہ غریب ملک ہونے کہ باوجود ہم دنیا میں خیرات کرنے والوں میں نمایاں ہیں. ہمارے ملک کی 98فیصد آبادی صدقہ ادا کرتی ہے.
    .
    پانچوں خوبی یہ ہے کہ ہم خدمت خلق میں پیش پیش رہتے ہیں. پاکستان یا پاکستان سے باہر کہیں کوئی ناگہانی آفت آ جائے پاکستانی اپنی جان تک لٹانے کو. تیار ہو جاتے ہیں.
    ٹی وی پر ایک خبر نشر ہو کہ فلاں ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والوں کے لیے خون کی ضرورت ہے ہسپتالوں کے باہر ڈونرز کی لائنیں لگ جاتی ہیں.
    کہیں سیلاب یا زلزلہ آ جائے ہم اپنے گھروں سے اضافی سامان اٹھا کر متاثرین کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں.
    .
    پاکستانی معاشرے کی چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں. دنیا میں جہاں بھی ڈکٹیٹر آتے ہیں تو کئی کئی دہائیوں تک حکومت کرتے ہیں. پاکستان میں جب بھی کسی نے جمہوریت پر شب خون مارا اسے اپنی بقا کے لیے جمہوریت کا سہارا لینا پڑا. کوئی آمر دس گیارہ سال سے زیادہ نہیں ٹک پایا. اور اسے جمہوریت کو بہال کرنا پڑا.
    .
    ساتویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا باقی تمام دنیا کے میڈیا سے زیادہ آزاد ہے. یہاں ریاست مخالف بیانیہ بھی مین اسٹریم میڈیا میں چلا دیا جاتا ہے.
    .
    آٹھویں خوبی یہ ہے کہ ہماری عدلیہ اس قدر آزاد ہے کہ ستر سال پرانے کیس بھی زیر التواء ہونے کے باوجود کسی نے اس عدلیہ کو چھیرنے کی کوشش نہیں کی. اگر کوشش کی بھی تو ناکام رہا. عدلیہ اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہے اب اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کس حد تک ہوتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے.
    .
    نویں خوبی پاکستان کی یہ ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں. تقریباً تمام ہی بنیادی ضرورت کی اجناس ہمارے وطن میں پیدا ہوتی ہیں. چاول، گندم گنا مکئی، کپاس، پھل سبزیاں اور کیا کچھ ہے جو نہیں ہوتا.
    .
    پاکستان کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا تیسرا بڑا اور فعال نہری نظام ہے. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں آج بھی پینے کو صاف پانی وافر دستیاب ہے. اب جہاں پانی نہیں پہنچتا یہ ہماری نالائقی ہے مگر ایسا نہیں کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہو.
    .
    گیارہویں خوبی پاکستان کی یہ کہ پاکستان دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں سے ہے جن کے پاس طاقتور فوج ہے. جو ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ہے. ہماری فوج پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑنے والی ایک منفرد فوج ہے. .
    .
    بارہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا موسم عطا کیا ہے. پاکستان کے اکثر علاقوں میں چار موسم اپنے پورے جوبن کے ساتھ آتے ہیں. پاکستان میں سارا سال گرم رہنے والے علاقے بھی موجود ہیں اور سارا سال سردی والے علاقے بھی موجود ہیں. .
    .
    تیرہویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی زمین موجود ہے، پہاڑ میدان،. صحرا، پتھریلی اور ہموار زمین اللہ نے پاکستان کو عطا کر رکھی ہے. یہ خوبی دنیا کے تین سے چار ممالک میں موجود ہے. .
    .
    چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی قدرتی معدنیات موجود ہیں. سونا، چاندی،. لوہا بھی ہماری زمین میں موجود ہے اور گیس تیل اور کوئلہ بھی.
    .
    پندرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریا بھی دیے اور سمندر بھی، پاکستانی سمندر میں دنیا کا سب سے گہرا سی پورٹ گوادر ہے. .
    .
    یہ اور اس جیسی دیگر کئی خصوصیات ہیں جن میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اوج کمال عطا کیا ہے. .
    لہٰذا اللہ تعالیٰ کی اس دین کا شکریہ ادا کریں اور ان تمام وسائل کا مثبت استعمال کرنے کی کوشش کریں. اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کریں
    *

    @themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • شکر کرنا سیکھیں   تحریر: نسیم کھیڑا

    شکر کرنا سیکھیں تحریر: نسیم کھیڑا

    ارشاد باری تعالی ہے ۔
    "اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے.”
    سورہ ابراہیم 7
    شکر کے لغوی معنی ہیں کسی کے احسان و عنایت پر اس کی تعریف کرنا , اس کا احسان ماننا , اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار اور اقرار کرنا۔
    ہمارے ہاں عام فیشن اور طرز عمل بن چکا ہے کہ جسے دیکھو وہ ہروقت ناشکری کے کلمات ادا کرتا نظر آتا ہے ۔اگر آپ کسی کاروبار کرنے والے سے احوال پوچھے لیں تو وہ فورا بہت مندہ چل رہا ہے مارکیٹ میں گاہک نہیں ہے دیوالیہ ہوئے جارہے ہیں اس طرح کے کلمات کی گردان شروع ہوجائے گی چاہے آپ کو اس کی دوکان سٹور شوروم پر ہر وقت گاہکوں کا رش ہی کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔
    یہی حال ہمارے تنخواہ دار طبقہ کا ہے گورنمنٹ سے ہر سہولت لے رہے ہوتے ہیں تنخواہ سال میں دو مرتبہ بڑھتی ہے لیکن پھر بھی مارے گئے مہنگائی بہت ہے کے راگ الاپتے نظر آئیں گے
    اور تنخواہیں بڑھانے کے مطالبات لے کر احتجاج کے لئے ہروقت تیار رہتے ہیں۔
    عام عوام کا بھی یہی حال ہے اپنی ذاتی سواری بھی میسر ہوگی ہاتھ میں مہنگا سمارٹ فون بھی ہوگا لیکن پھر بھی چینی مہنگی آٹا مہنگا کا ورد کر رہے ہوتے ہیں ۔اللہ کے بندوں ہر گھر کی ماہانہ ضرورت تقریبا 5 سے 7کلو چینی ہوگی جو کہ 700 روپے کلو کی مل جاتی ہے لیکن زور پھر بھی چینی مہنگی ثابت کرنے پر ہی لگایا جاتاہے جیسے دن میں تین مرتبہ چینی کے ہی پھکے مارنے ہوتے ہیں۔
    پچھلے دنوں ایک عالمی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لئے سستا ترین ملک ہے۔ شہر کی کسی بھی سڑک پر پانچ منٹ رک کر مناظر دیکھیں گاڑیوں کا نہ روکنے والا سلسلہ دیکھائی دے گا غریب کی سواری سمجھے جانے والی سائیکل کی جگہ موٹرسائیکل نے لے لی ہے اب بتائیں غربت کدھر ہے۔
    چند دن پہلے پچاس لاکھ کی گاڑی کے نئے ماڈل کی بکنگ کے وقت لوگ شوروم میں داخل ہونے کے لئے آپس میں دست و گریباں ہوگئے۔
    مہنگے برانڈ کے کپڑوں کی دکانوں پر خریداروں کا رش ختم نہیں ہوتا سیل پر تو خواتین گتھم گتھا ہوجاتی ہیں ۔الغرض موبائل کپڑے جوتے ڈنر اور لنچ برگر پیزے مہنگے برانڈز جائز و حلال لیکن چینی اور آٹا دس روپے مہنگانہیں خریدنا کہ کہیں ملک کے کسان کو فائدہ نہ ہوجائے۔ کسی بھی پوش علاقے میں چلے جائیں گھر کے گیراج میں تین تین چار چار گاڑیاں اور پانچ ائیر کنڈیشن نظر آئیں گی لیکن مہنگائی کا رونا ختم نہیں ہوگا۔ ۔۔ یاد رہے کہ معاشرے میں پھیلی بےچینی اور اضطراب کا سبب ناشکری بھی ہے اور ناشکرا انسان کبھی بھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔اللہ سبحان و تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں تاکہ مزید نعمتوں سے نوازے جائیں کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا وعدہ ہے کہ شکر ادا کرنے والے کو مزید دے گا اور اگر ناشکری سے باز نہیں آئیں گےتو نعمتیں چھین بھی سکتی ہیں ۔

  • فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرمُ الحرام سے ہوتا ہے جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، یہ مہینہ بہت ہی عظمت و بَرَکت والا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر و ایثار کا درس دیتا ہے۔ اس ماہِ حرمت میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے متعلق متعدَّد فضاٸل وارِد ہوۓ ہیں، نیز اسی ماہ میں یومِ عاشورہ جو اپنی خُصوصیات میں ممتاز ہے، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
    آٸیں کچھ اس دن کی فضیلت کے متعلق جانتے ہیں!
    *10 محرم عاشورہ کے روز حضرتِ آدم علیہ الصلوة والسلام کی توبہ قبول کی گٸی۔
    *اِسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
    *اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔
    *اسی دن عرش، کرسی، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام پیدا ہوۓ۔
    *اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی۔
    *اسی دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔
    *حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔
    *اسی دن حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوة والسلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔
    *اسی دن حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام کو ملکِ عظیم عطا کیا گیا۔
    *اسی دن سیدنا یعقوب علیہ الصلوة والسلام کی بینائی کا ضُعف دور ہوا۔
    *اسی دن سیدنا یونس علیہ الصلوة واسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا یوسف علیہ الصلوة والسلام گہرے کنویں سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا ایوب علیہ الصلوة واسلام کی تکلیف رَفع کی گٸی۔
    *آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوٸی۔
    *اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا۔
    اور
    *اسی دن امامُ الہُمام، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
    المختصر یومِ عاشورہ نہایت فضیلت و اہمیت کا دن ہے۔۔۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ عبادات و نیک اعمال کا اہتمام کیا جاۓ، صدقہ و خیرات ،ذکر و درود، تسبیحات ،نوافل اور، روزے کا اہتمام بھی ضرور کیا جاۓ کیونکہ اس دن کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
    حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    میں نے رسولِ کریم صلى الله عليه واله وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔
    (صیح بخاری، حدیث:2006)
    حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:
    رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا:
    مجھے اللہ عزوجل پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روز ایک سال قبل کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔
    (صیح مسلم،حدیث:1162)
    ارشادِ مصطفیٰ صلى الله عليه واله وسلم:
    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو،اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
    (مسندِ اماماحمد، حدیث:2154)
    یعنی 10 محرم یومِ عاشورہ ہے تو اس سے ایک دن پہلے 9 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ یا 11 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ، تنہا 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جاۓ۔
    یومِ عاشورہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ نیت اور عہد بھی کیا جاۓ، کربلا والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوۓ کہ ہم اس دن سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے کربلا والوں کے صدقے میں عملی مسلمان بننے کی کوشش شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ عزوجل
    کربلا والوں سے محبت کے دعوے کو عمل کی ضروت ہے۔
    اللہ کریم ہمیں اس دن کی عزت و حرمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
    آمین

    @aqeela_raza

  • مثبت سوچ تحریر: شاہ زیب

    مثبت سوچ ایک ذہنی اور جذباتی رویہ ہے جو زندگی کے روشن پہلو پر مرکوز ہے اور مثبت نتائج کی توقع رکھتا ہے۔  ایک مثبت شخص خوشی ، صحت ، کامیابی کی توقع رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ اور مشکل پر قابو پا سکتا ہے۔
    مثبت سوچ کو ہر کوئی قبول نہیں کرتا۔  کچھ لوگ اسے بکواس سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے والوں پر طنز کرتے ہیں۔  لیکن ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو مثبت سوچ کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اس کی تاثیر پر یقین رکھتے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ یہ موضوع مقبولیت حاصل کر رہا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں بہت سی کتابوں ، لیکچرز اور کورسز سے ثبوت ہے۔  اسے اپنی زندگی میں استعمال کرنے کے لیے آپ کو اس کے وجود سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔  آپ کو ہر کام میں مثبت سوچ کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    مثبت رویہ کے ساتھ ہم خوشگوار اور خوشگوار جذبات کا تجربہ کرتے ہیں۔  یہ آنکھوں میں چمک ، زیادہ توانائی اور خوشی لاتا ہے۔  ہماری پوری نشریات ، خوشی اور کامیابی۔  یہاں تک کہ ہماری صحت بھی فائدہ مند طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔
    مثبت اور منفی سوچ متعدی ہوتی ہے۔ ہم ان لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں جن سے ہم ایک طرح سے ملتے ہیں۔  یہ فطری طور پر اور لاشعوری سطح پر الفاظ ، سوچ اور احساس اور جسمانی زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔  مثبت سوچ تناؤ کے انتظام میں مدد دیتی ہے اور یہاں تک کہ آپ کی صحت کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔

    مثبت سوچ زندگی کو بڑھاتی ہے ، اس سے ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے ، تکلیف کی سطح کم ہوتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ چیزوں کو حاصل کر سکتا ہے اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا اسے کامیابی کے راستے میں کوئی مسئلہ نہیں ملے گا اور ایک دن وہ مثبت جیت جائے گا۔ خود اعتمادی ، عزم ، ثابت قدمی اور محنت کامیابی کی کلید ہے۔ لگن ، کام کے لیے لگن اور عزم کے ساتھ مثبت سوچ کامیابی کا اہم عنصر رہا ہے۔ زندگی ایک جنگ ہے ، کسی کو اس سے بے خوف لڑنا پڑتا ہے۔ اعتماد کے ساتھ لڑیں ، پرعزم اور متمرکز کوشش کے ساتھ مثبت رویہ کامیابی کی یقینی راہ پر گامزن ہے۔ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کا جوش ہے جو آپ کی مثبت سوچ کو تقویت بخشتا ہے۔ جو ہمیشہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔
    ‎@shahzeb___

  • یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں ایف بی آر کی طرف سے آپریٹ کی جانے والے تمام سرکاری ویب سائٹس بند ہوگئیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس میں کھربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور شہریوں کے اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی حساس تفصیلات موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے ایکسپریس ٹربیون نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہیکرز نے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر حملہ کیا اور وہ مائیکروسافٹ کے ہائپر وی سافٹ ویئر کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے، قومی بحران جیسی یہ صورتحال ہفتہ کو رات گئے دو بجے پیدا ہوئی اورآخری اطلاعات تک ویب سائٹس کو بحال نہیں کیا جا سکا۔

    ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر کی ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹر بند ہونے سے ملک کی شپمنٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سائبر حملے کے نتیجے میں کسٹمز پر بھی دباؤ آیا ہے بارڈر سٹیشنز پر تازہ سبزیوں کی کنسائنمنٹس پھنس کر رہ گئی ہیں صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے مستفید ہونے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

    ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ یوم آزادی کے موقع پر سائبر دہشت گردی ہوئی ہے لیکن ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی تاہم ایف بی آر نے اس حوالے سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا۔

    مذکورہ افسر نے بتایا کہ ہیکرز نے ڈیٹا سینٹر کی ورچوئل انوائرمنٹ اور ہائپر وی سافٹ ویئر کو نقصان پہنچایا ، پاکستان نے سسٹم کی بحالی کیلئے ادارہ مائیکروسافٹ سے رابطہ کیا ہے۔اگر مالیاتی ادارے کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کریں تو آخری اطلاعات تک صارفین رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈکے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ ہم نئی ورچوئل انوائرنمنٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں دو دن لگ سکتے ہیں، ہم ویب سائٹس اور ضروری ڈیٹا سینٹر کی کل تک بحالی کیلئے کوشاں ہیں تاہم ہم ڈیٹا کی منتقلی میں جلد بازی نہیں چاہتے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔

    ہیکرز گزشتہ چند دنوں سے ڈیٹا رومز میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور سیریس سائبر اٹیک کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی تاہم ایف بی آر نے وارننگ کو نظر انداز کیا ، آخر کار ہیکرز اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر گزشتہ سال 23 مارچ کو بھی حملہ ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر حکام کا ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہیک نہیں ہوا ہے۔سی آئی او ایف بی آر نے ایک دوسرے گروپ پر تصدیق کی ہے کہ یہ ایک مائیگریشن سرگرمی ہے – "مائگریشن کی مشق جاری ہے جس میں کچھ خرابیاں آ گئی ہیں جو بہت پرانے ورژن سے نئے ورژن میں منتقل ہو رہی ہیں-

  • اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے      مشعال ملک

    اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا ہے کہ ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا کہ جتنی چاہیں پرچم کشائی کی تقریبات کرلیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے –

    انہوں نے کہا میں ہندوستان کے عوام سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ کو آزادی کا مطلب پتہ ہے ؟ خون سے تحریکیں لکھی جاتی ہیں تب آزادی کی نعمت ملتی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ آپ اندھے اور بہرے ہو گئے ہیں کیا ؟ کیا ان 70 سالوں میں آپ کو آواز نہیں آئی کہ ایک قوم پر 70 سال سے ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو آزادی منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں اور پوری دنیا کے لیے بلیک ڈے ہے۔

    واضح رہے کہ لا ئن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-

    کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

    کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

  • محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔  تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔ تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام سال کا مبارک مہینہ ہے جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بہت سی فضیلتوں اور برکتوں کو سموئے ہوئے ہے۔ جب سے زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی اس وقت سے خاص واقعات، خاص رحمتیں اور خاص انعامات اسی مہینے سے وابستہ ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ امت میں ماہ محرم الحرام کی حقیقت، فضیلت اور اہمیت، سے متعلق صحیح اور معتبر تعلیمات دھندلا کر رہ گئی ہیں۔ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ محرم الحرام سے متعلق بہت سی بدعات، رسومات، غیر شرعی افعال، بے بنیاد باتوں اور بہت سی من گھڑت چیزوں کا شکار ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت ہی ہے کہ بہت سے سادہ لوح مسلمان نظریاتی اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں اس مہینے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس مہینے کی حرمت زمانہ جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس مہینے میں جنگ وجدل سے گریز کرتے تھے اور اسلام کے بعد بھی اس کی حرمت کو برقرار رکھا گیا۔ قرآن و حدیث میں اس مہینے کو شھر الحرم یعنی حرمت والا مہینہ اور "شھر الله” یعنی الله کا مہینہ کہا گیا ہے۔ جس سے اس مہینے کی فضیلت، عظمت اور تقدس ظاہر ہوتا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں:
    کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے محرم کو الله عزوجل کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی عظمت اور تقدس کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ الله عزوجل اپنی نسبت صرف اپنی خصوصی مخلوقات کے ساتھ ہی فرماتے ہیں۔
    (شرح النووی 55/8)
    محرم الحرام کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ الله تعالیٰ نے چار مہینوں کو خاص کیا ہے۔ ان کی عزت و حرمت کو بڑھایا اور عملِ صالح پر اجر و ثواب کو بڑھا دیا اور نافرمانی کو قبیح قرار دیا۔ رب العزت کا فرمان ہے:
    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
    ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب الله میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے ۔
    (سورہ التوبہ:36)
    حجۃ الوداع کے موقع پر رسول صلی الله علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:
    اب زمانہ گھوم کر اسی حالت میں آگیا ہے جس حالت پہ اس وقت تھا جب الله تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی، سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت کے ہیں تین پے در پے ہیں۔ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور چوتھا رجب ہے جو جمادی الاول اور شعبان کے درمیان واقع ہے۔
    (صحیح بخاری: 4662)
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا اور وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتلایا کہ ہم موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے فرعون سے نجات پانے کے شکرانے میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسی کی موافقت کے زیادہ حقدار ہیں۔ یہودی صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لئے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے نویں کا روزہ بھی رکھنے کا حکم دیا۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا باقی مہینوں کے مقابلے میں افضل ہے۔ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے اسی طرح عاشورہ سے ایک دن پہلے روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے۔ لہذا دسویں محرم کا روزہ نویں یا گیارہویں محرم کو ملا کر رکھنا مستحب عمل ہے۔ الله کے رسول کا فرمان ہے۔
    سب سے زیادہ فضیلت والے روزے رمضان کے روزوں کے بعد الله عزوجل کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں۔
    (مسلم:2813)
    اس مہینے میں روزہ رکھنا اسکی حرمت کی وجہ سے الله کے نزدیک محبوب عمل بن جاتا ہے۔ خصوصاً یومِ عاشورہ کا روزہ بے پناہ فضیلت کا حامل ہے۔ رسول الله نے فرمایا کہ میں یومِ عاشورہ کے روزے سے متعلق امید کرتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔(ترمذی:752)
    یومِ عاشورہ کا دن انبیا سے وابستگی اور ان کی حیات کے اہم واقعات کا اسی روز میں پیش آنے کی وجہ سے بہت فضیلت رکھتا ہے۔ صاحب عمدۃ القاری یومِ عاشورہ کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اسی دن ہی وہ جنت میں داخل کئے گئے اسی دن ہی ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جبل جودی پر آٹھہری، اسی دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ہی وہ نمرود کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے گئے، اسی دن سیدنا موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات ملی اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق ہوگیا، سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی بیماری سے شفا نصیب ہوئی، سیدنا ادریس علیہ السلام کو اسی دن آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا، سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ملک کی عظیم بادشاہت نصیب ہوئی، سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی، اسی دن سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے، سیدنا عیسی علیہ السلام کی ولادت اسی دن ہوئی اور اسی دن ہی وہ آسمانوں کی جانب اٹھائے گئے۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری:89/7)
    اس مہینے میں جہاں اعمال صالح کا ثواب بڑھایا گیا وہیں گناہ پر بھی زیادہ عذاب ہے۔ لہذا گناہوں سے اجتناب کرنا چائیے۔ دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح اس مہینے میں بھی ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت کا احترام کرنا چاہئیے ۔ کسی پر ظلم، غیبت، چغلی، حسد، گالی دینا، اور دل آزاری جیسے نافرمانی کے تمام افعال سے گریز کر کے نیکی کے تمام اعمال انجام دینے چاہئیں ۔
    سنتِ رسول کو ترک کر کے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ بدعت کہلاتا ہے۔ لہذا زیب و زینت کو ترک کر دینا، سوگ میں ننگے پاؤں ننگے سر اور ننگے بدن رہنا، مرثیہ خوانی کی مجالس منعقد کروانا یا ان میں شرکت کرنا، نوحہ و ماتم، تعزیہ کرنا، سیدنا حسین علیہ السلام کے نام کی سبیلیں چلانا، غیر الله کے نام پر نذر و نیاز دلانا یہ سب کام بدعات کے ہیں۔
    مرثیہ خوانی میں صحابہ کرام کی ہجو اور تحقیر ہوتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کو گالیاں دی جاتی ہیں۔رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو گالی دی ، اس پر الله کی، فرشتوں کی، اورسب انسانوں کی لعنت ہے۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ:2340)
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۔ (ابن ماجہ:1592)
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو ماتم کرے اور اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی طرح پکارے وہ ہم میں سے نہیں۔ (بخاری:1297)
    سیدنا حسین علیہ السلام کے نام پر سبیلیں لگانا کربلا کے میدان مین تین دن بھوک اور پیاس برداشت کرکے شہادت کا مرتبہ پانے والے کی یاد میں ٹھنڈے مشروبات پلانے، منوں کھانے تقسیم کر کے کھانے اور کھلانے اور رب کی یاد سے غافل ہوجانے میں کیا مشترک ہے؟ پھر غیر الله کے نام پر سبیل کا درجہ کیا ہے؟ رب العزت نے فرمایا:
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۷۳﴾
    ترجمہ: تم پر مُردہ اور ( بہا ہوا ) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔ (سورہ البقرہ: 173)
    لہذا جس چیز پر الله کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے وہ حرام ہے۔
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں نذر کو پورا مت کرو۔(4245)
    الله تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت کی بہترین سمجھ نصیب فرمائے اور اسی کی روشنی میں اعمال انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes