Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    جیسے ماں باپ اپنی اولاد کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نا آئے۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کی ساکھ کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے اقدامات کرے۔

    چاہے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے پیچھلے گزرے تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں جس کی مثال گزرے کئ سالوں اور سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں نہیں ملتی۔

    جی ہاں بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار جب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی باور کروائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد اب جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    پھر بےشک ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے عمران خان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا اور اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے۔ جن کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    پر میرا یہ ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے نڈر اور بہادر وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے۔ جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں تین سالوں میں یعنی عمران خان کی حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    جس کی وجہ ہی یہ تھی کہ ان وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ بےشک ان میں سے وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک عمران خان کو عزیز تھے پر خان صاحب نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ اب سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے خان صاحب اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور خان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی خاصا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا۔

    کیونکہ وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق عمران کا جو فرض تھا انہوں نے وہ ادا کیا۔ عمران خان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکومت سے قبل ہم نے سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ کبھی کسی سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے اس کی ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کا اصل مقصد ملک کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں۔

    @SeharSulehri

  • پوری قوم کو آزادی مبارک  تحریر  : راجہ حشام صادق

    پوری قوم کو آزادی مبارک تحریر : راجہ حشام صادق

    ماہ اگست شروع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے۔جشن آزادی کے پروگرامز کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔جشن آزادی کے اس دن کو پورے جذبے سے منایا جاتا ہے۔کہیں آتش بازی تو کہیں بھنگڑے کہیں مختلف پروگرامز کو ترتیب دیا جاتا ہے۔لیکن اس آزادی کے پیچھے مقصد اور اس کی اہمیت پر کوئی بات نہیں کرتا یہ وطن عزیز کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے ۔اس کے بارے نہ تو کوئی پروگرامز ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو بتایا جاتا ہے۔کہ اس وقت کیوں لاکھوں افراد نے قربانی دیں۔

    لاکھوں ایسے افراد جنہوں نے کئی دہائیاں جدوجہد کی اس وطن کی بنیاد آزادی ایک لفظ آزادی کو بوڑھوں بچوں عورتوں اور نوجوانوں نے اپنے خون سے لکھا ہے ۔دو قومی نظریہ پر وجود میں آنے والی یہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان حقیقی معنوں میں آج بھی مکمل آزاد نہیں ہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں انفرادی طور پر ہر شخص ایک مخصوص سوچ کا غلام ہے۔یہ ایک ایسی ریاست جس میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ہر شخص آزاد ہے وہ اپنی مسجد میں عبادت کرتا ہے ۔ یا مندر میں جاتا ہے لیکن اس آزادی کو بھی ایک سوچ نے غلام بنا رکھا ہے۔ اس معاشرے میں دوسرے مذاہب سے نفرت کو دیکھا جاتا ہے وہیں اپنے ہی مذہب میں مختلف مسلک کے افراد کو بھی نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلام کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

    جو ریاست بنی ہی برابری کی بنیاد پر تھی جس کا مطلب لا الہ الا اللہ تھا اسی ملک کے اندر امیر غریب رنگ و نسل کا فرق رکھا جاتا ہے۔اسی ملک کی آزادی کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل قربانیاں دی گئیں آج اسی سرزمین پر طاقت کے لئے ذات اور نسل سے طاقتور اور کمزور کا فیصلہ ہوتا ہے۔

    جس وطن کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی بنیاد ہی قانون کی بالادستی انصاف اور امن کی بنیاد پر رکھی گئی آج اسی اسلامی جمہوریہ ریاست میں طاقتور کو منصف ظالم کو عادل معافیہ کو معاشرے کے شرفاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ میرے وطن کا مقصد آزاد لوگوں کی ریاست تھا لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اس ملک پر ایک طاقتور طبقہ مسلط ہو گیا جس نے عوام کی فلاح کی بجائے اپنی نسلوں اور خاندان کا سوچا۔

    خاص کر پچھلے 30 سالوں سے اس ملک پر حکمرانی کی جنگ عوام کی خدمت نہیں بلکہ اپنی انا اور طاقت کی جنگ رہی ہے ایک آزاد قوم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے پھر سے غلام بنا دیا گیا ہے۔ یہ غلامی کسی دوسری قوم یا نسل کی نہیں بلکہ اپنے اوپر اپنی ہی طاقت سے مسلط کئے گئے چند افراد کی طرف سے ہے۔جن کو ہم اپنا رہبر سمجھتے رہے جن کو اپنا مسیحا سمجھے اور ان کے پیچھے چلتے رہے انہوں نے ہی ایک آزاد قوم کو پھر سے غلام بنا دیا ہے۔آزادی کے دن ہی ہم غیر مسلم قوم کی غلامی سے نکل کر اپنوں کے غلام بن گئے تھے ابھی شاید کچھ وقت اور لگے جب ہم خود کو آزاد قوم سمجھیں ۔

    14 اگست کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کیا ہم واقعی آزاد قوم ہیں ؟
    اگر آزاد ہیں تو پوری قوم کو آزادی مبارک۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو۔

    @No1Hasham

  • کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈھیروں مصروفیات کو وقت دیتا ہے لیکن اپنے آپ کو اس طرح وقت نہیں دیتا جس طرح اسے دینا چاہیے. سجنے سنورنے میں وقت گزار لیتا ہے. خوش گپیوں کے لیے وقت نکال لیتا ہے لیکن اپنے لیے وقت نہیں نکالتا جس میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو کر اپنے زہین کو سکون دے سکے.
    زمانے کی جدت کے ساتھ ساتھ انسان نے خود کو بھی مشینی روایت میں ڈھالنے کی شروعات کر دی ہے. سارا دن کسی نا کسی کام میں مگن رہتا ہے. رویوں کو سمجھنے پرکھنے میں مشغول رہتا ہے.
    لیکن اپنے دماغ کو کہیں سکون نہیں لینے دیتا.
    مشینی دور کی اس کشمکش نے رشتوں ناطون دوستوں یاروں تعلق داروں سے دوریوں میں اضافہ کر دیا ہے. مسلسل جاری رہنے والی اس تگودو نے انسان کو تھکا کر رکھ دیا ہے.
    انسان اگر اپنی روٹین کم کرتا ہے تو زمانے کو دوڑ سے پیچھے رہتا دکھائی دیتا ہے اور مسلسل دوڑ اسے تھکا دیتی ہے. اسلام نے اسن کا حل دیا ہے اور وہ ہے قیلولہ. جسے جدید سائنس یوگا کے نام سے تھوڑا مختلف نظریہ سے جانتی ہے
    قیلولہ کے صحت پر حیرت انتہائی انگیز فوائد ہیں
    اگر آپ مصروفیت کے دوران دن میں کم از کم 15 سے 20 منٹ کی نیند لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں دماغی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انسانی صحت پر اس کے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں جنہیں سائنسی تحقیق بھی ثابت کر چکی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، تھکاوٹ اور ذہنی تناؤ سے بچاؤ کے لیے اور ہشاش بشاش زندگی گزارنے کے لیے دن میں کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا نہایت ضروری ہے جبکہ مصروف ترین روٹین کے سبب بیشتر افراد ایسا نہیں کر پاتے اور دن بہ دن ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگ جاتے ہیں جس کے دور آزما اثرات دکھائی دیتے ہیں.
    ماہرین صحت کے مطابق دوپہر کے دوران قیلولہ یعنی چند منٹوں کی نیند لینے کے سبب انسانی دماغی صحت حیرت انگیز طور پر بہتر ہوتی ہے جس کے مثبت اثرات مجموعی صحت پر آتے ہیں، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ثابت ہونے والے قیلولہ کے فوائد میں دوپہر میں نیند لینے کے سبب دماغ، اعصابی نظام اور پٹھوں کی کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور دماغی خلیوں کو سکون اور آرام ملتا ہے جس سے دماغی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ صبح سے لے کر رات تک جاگنے والےافراد کو یہ فوائد حاصل نہیں ہوپاتے ۔قیلولہ پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ جو طالبعلم دوپہر کو قیلولہ کرتے ہیں ان کی جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور مزاج بھی خوشگوار رہتا ہے۔
    مزید طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق قیلولہ کا مثالی وقت 10 سے 20 منٹ تک ہوتا ہے، بہت زیادہ دیر تک سونا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کو سونے سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے اور یہ عمل بہتر کاکردگی کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو کچھ دیر سوتے ہیں وہ ریاضی کے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر پاتے ہیں۔ طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو سونے کے عادی نہیں ہوتے ان میں تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح عموماً زیادہ ہوتی ہے اور ان میں نفسیاتی مسائل کے بڑھنے کے خدشات بھی قدرے زیادہ ہوتے ہیں۔
    قیلولہ نہ کرنے کے سبب انسان مصروف روٹین کے دوران اضطراب اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ یہی اس کی بےسکونی اور چڑچڑے پن میں اضافے کا باعث بن جانتی ہے
    اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں خود کے لیے وقت نکالیں قیلولہ کریں صحت مند رہیں

    @EngrMuddsairH

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    دنیا بھر کے غریب ممالک کی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بےروزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم ، بوٹ پالش کرتے، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں مارکیٹوں،

    چھوٹی فیکٹریوں خشت بھٹوں سی این جی اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

    کھیلنے کودنے اور لکھے پڑھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہو کر کام کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوں تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔

    بچوں سے مشقت خوشحالی وترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کی زوال کی علامت ہے۔

    ددوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہیں ۔ سرمایہ کار ہیں ۔ جاگیر دار ہیں ۔ صنعت کار ہیں ۔ تاجر ہیں ۔ سوداگر ہیں ۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں کے ساتھ کیا مقابلہ کروں ؟ مجھے توان امیروں کے کتے ان غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دکھائی دیتے ہیں
    اچھی خوراک، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک ان کے شکم میں اُترتی ہے ان کی آنکھیں نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتا ہے ۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتاہے ۔ ان کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ ان کی رہائش بھی ان کے شیان شان ہوتی ہے جب امیروں کے کتے بھونکتے ہیں تو مجھے غریبوں کے بھوکے پیاسے خوراک رہائش، آسائشات اور دواؤں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔

    جب دنیا کے ایسے اور خصوصا اپنی ارض پاک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیا ہمیں ہماری اصل زندگی جو کہہ موت کے بعد شروع ہونی ہے اسکی بلکل بھی فکر یا یاد نہیں ہے کہہ ہم واقعی اپنی موت کو بھول چکے ہیں
    ہماری آنکھوں کے سامنے بچے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر کے کھاتے نظر آتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر بھی ہمیں اس مالک کی یاد نہیں آتی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے غریب کی محرومیوں پر لکھنے کو اتنا کچھ ہے جو ختم نہیں ہو رہا اگلی تحریر میں مزید کچھ ابھی تک کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت کہہ اللہ پاک ارض پاک کے باسیوں پر خصوصا اور پوری دنیا پر اپنا رحم فرمائیں اور ہمارے دلوں کو منور فرما دیں آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • پاکستان سے ہمارا روح کا رشتہ ہے  تحریر  : راجہ ارشد

    پاکستان سے ہمارا روح کا رشتہ ہے تحریر : راجہ ارشد

    یہ بات دل کو سکون دیتی ہے. جسم میں جیسے جان آ جاے روح کو تازگی مل گئ ہو.
    لیکن کیا ہم اس کی قدر کر رہے ہیں. کیا ہمارے اعمال اس بات کی اکاسی کر رہے ہیں؟ کیا پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی پورا کر رہے ہیں؟
    پاکستان جس کے لیے ماؤں نے لعل کٹواے، بہنوں نے بھائی گنواے. باپ نے اپنا سہارا کھویا. بیٹی کا سایا گیا تو بیوی کا سہاگ. اتی قربانیاں پاکستان تو دے گئیں لیکن 75 سال میں ہم قوم نا بن سکے. ایسا لگتا ہے سب کچھ رائیگاں کر دیا گیا. پاکستان مملکت تو مل گئ لیکن ہم اس کی قدر نا کر سکے. یہ کیسی آزادی ہے جہاں بچیوں کا ریپ کیا جاے، عورتیں نیم برہنہ لباس پہن کر فخر محسوس کریں، کسی کی بہن بیٹی کی عزت اجاڑنا سٹیٹس سمجھا جائے، کسے کو نوکری دے کر غلام سمجھا جائے، کسی کی مدد کر کہ اسکی غریبی یا تنگدستی کا مزاق اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کیا جاے پھر اس کی تشہیر سے خود کو خدا ترس سمجھا جائے. کیا یہ مقصد تھا قیام پاکستان کا؟
    کیا ہم بحیثیت پاکستانی پاکستان کا حق ادا کر رہے ہیں.
    افسوس!
    ہم ملاوٹ کا بازار گرم کر رہے، ساتھ والے کو دھوکا دے کر فخر سے سینہ چوڑا کرتے اور خود کو عقلمند ثابت کرتے. کمزور کا حق کھا کر خود کو طاقتور ثابت کرتے ہیں لیکن یہ پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے.خدارا ہوش کے ناخن لیں پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنائیں اپنا اخلاق اچھا بنائیں اپنا کردار اچھا بنائیں تاکہ دنیا میں اپنا وقار بحیثیت قوم دوبارہ حاصل کر سکیں
    قائد اعظم محمد علی جناح کے منشور کو سمجھیں؛ یمان اتحاد اور تنظیم سے اپنے پاکستان کے رنگوں کو دوبارہ تازگی بخشیں. دین کی سربلندی کے لیے اپنی کردار کو نمونہ بنا کر مثال بنا کر معاشرے میں پیش کریں تاکہ پاکستانی اور سچے مسلمان کی صحیح معنوں میں پہچان ہو سکے. ہمیں آج عہد کرنا ہے. پاکستان اور اسلام سے وفا کرنی ہے خود کو بدلنا ہے اور اپنی ایک نئ پہچان بنانی ہے جو حصول پاکستان اور اسلامی تہزیب کی بنیاد ہے.
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رح نے ہمیں نا صرف یہ تحفہ پاکستان عطا کیا بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی بتا کر گئے آج ان کے فرامین کو فراموش کر ہے ہم مزید پستی کا شکار ہو گئے ہیں ہمیں خود کو پہچاننا ہو گا آج کی تحریر میں میں ان کے فرامین کو دوبارہ شامل کرنے کا شرف حاصل کروں گا.
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 28 دسمبر 1947 کو کراچی کے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے* ”
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 30 اکتوبر 1947 کو لاہور کے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی* ”
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 15 جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے* ”
    11 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں فرمایا.” *انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔* ”
    1944 میں مسلم یونیورسٹی یونین میں فرمایا
    ” *دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔* ”
    23 مارچ 1940 کو چٹاگانگ میں فرمایا. ” *پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔*”
    21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا. ” *یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیر دیا جاناچاہئے۔* ” یہی وہ کامیابی کی کنجی ہے جو اس قوم کو عمل کرنے سے بدل سکتی ہے

    @RajaArshad56

  • دنیا بھرکے کشمیری بھارت کا یوم آزادی ، یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

    دنیا بھرکے کشمیری بھارت کا یوم آزادی ، یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

    سرینگر : لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 15 اگست کو بھارت اپنا یوم آزادی مناتا ہے مگر مظلوم کشمیری اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس دن لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) کے اطراف سمیت دنیا بھر میں کشمیری احتجاج کرتے ہیں ، ریلیاں نکالتے ہیں اور بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں ۔

    مقبوضہ کشمیر میں آج کے روز احتجاج اور ریلیاں اس لیےنکالی جاتی ہیں تاکہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور ظلم وستم کی مذمت کی جا سکے یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-

    کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

    کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

    بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے جو 5 اگست سے 15 اگست 2021ء تک کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر منائے جانے والے 10 روزہ مزاحمت کا حصہ ہے ہر جگہ سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے جبکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • کیا واقعی ہم آزاد ہیں ؟ تحریر ثاقب محمود

    کیا واقعی ہم آزاد ہیں ؟ تحریر ثاقب محمود

    جشن آزادی کا دن گزرا سب نے بہت جوش خروش سے منایا باجے بجائے گانے لگائے آتش بازی کی خوشیاں منائی گئی جی ہم آزاد ہیں بالکل ہم آزاد تو ہیں لیکن سوال یے ہے کہ کیا ہم اخلاقیات سے بھی آزاد ہیں؟ کیا ہم احساسات سے بھی آزاد ہیں؟ اور کیا ہم احترام سے بھی آزاد ہیں ہم آزاد تو ہیں لیکن غلام ہیں ہم نفس کے سوچ کے اور جہالت کے تو جناب من بہت ہی افسوس سے لکھنا پڑھ رہا مجھے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سوچ دے رہیں کیا شعور دے رہے ہیں آزادی کو کس چیز سے تشبیہ دے رہے ہیں ہم آزادی کو آزاد پنچھی کی طرح سمجھنے کی بجائے آزاد جنگلی جانور کی طرح سمجھ رہے ہیں تو پھر اشرف المخلوقات انسان اور حیوانات میں فرق کیا۔ کیا آزادی صرف باجا بجانا موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر شور شرابہ کرنا ڈانس کرنا اور بے جا لوگوں کو تنگ کرنے کا نام ہے کیا؟ کیا جھنڈا لہرانا اور فضولیات ہی آزادی ہے آپکے کتنے بچوں کو علم ہے کے پاکستان کیوں بنا افسوس اگر آپ اپنے بچے کو باجا لے کر دینے کی بجائے یے بتاتے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    اس کو بتاتے کے یے جھنڈا کیوں لہرایا جا رہا ہے اپنے بچوں کو بتاتے کے قائد اعظم محمد علی جناح نے 18 لاکھ بندے کیوں شہید کروائے اپنے بچوں کو بتاتے کے 70 ہزار مسلمانوں کی بہن بیٹیاں کیوں اٹھا کر لے گئے سکھ ہندو اپنے بچوں کو بتاتے کے مسلمانوں نے اپنی بیٹیوں کے گلے کیوں کاٹے اپنے بچوں جو بتائیں کے مسلمانوں کی بہن بیٹیوں نے دریاوں اور کنوؤں میں کیوں چھلانگ لگائی یے بتائیں ساری قوم کو کے پاکستان کتنی قربانیوں سے بنا اور ان قربانیوں کو ہم فضولیات میں رائگاں نہیں جانے دیں گے ان قربانیوں کی باجے بجا کر تذلیل نہیں کریں گے۔
    بتائیں اپنی اولادوں کو کے 1857ء سے لے کر 1947ءتک کتنے علماء کرام اور مشائخ پھانسی چڑھے بتائیں اپنے نسلوں کو کے جو جوانی میں انگریزوں کی جیلوں میں گئے اور بڑھاپے تک جیلوں میں رہے۔بتائیں اپنی آنے والی نسلوں کو کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے مٹی کے ٹوکرے کیوں؟ اٹھائے۔ یے بتائیں لوگوں کو کے مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کی گردن کاٹ کر دہلی کے چاندنی چوک میں کیوں لٹکائی گئی۔یے بتائیں کے بہادر شاہ ظفر سے چھینی حکومت انگریزوں نے اور بہادر شاہ ظفر کو اس کے بیٹوں اور پوتوں کے سر کاٹ کر ناشتے میں کس نے پیش کئے۔سارے حقائق اپنی اولادوں کو بتائیں پھر سائلنسر کوئی نہیں نکالے گا پھر باجے کوئی نہیں بجائے گا۔ یے آزادی آپ کو ایسے ہی نہیں ملی اس کے پیچھے لاکھوں شہداء کا خون ہے بڑے بڑے علماء کرام اولیاء مشائخ کی جانوں کی قربانیوں کے بدلے یے آزادی ملی ہمیں جسے آپ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر باجوں کے شور اور واہیات حرکتیں کر کے سیلیبریشن کرتے ہو۔اپنے بچوں کو اپنی تاریخ نہ بتا کر اور فضولیات میں لگا کر ہم تاریخ کے اوراق میں سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیں گے۔ محرم الحرام کا مہینہ ہے شہادتوں کا مہینہ تاریخ کی ایک عظیم قربانی جو شہدائے کربلا نے دین اسلام کی سربلندی کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہمیں اس کا بھی احساس نہیں ہم امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کے اس مہینے محرم الحرام کا احترام کرنا بھی بھول گئے اور باجے فضولیات اور آتش بازی گانے اور دیگر فضولیات سے اس عظیم مہینے کی توہین کرکے گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں کل روز قیامت آپ سے پوچھا جائے گا وہ لاکھوں شہداء آپ سے سوال کریں گے کے کیا پاکستان اسی لیا آزاد ہوا تھا کے آپ فضولیات کریں کیا لاکھوں شہداء کا خون ہم رائگاں جانے دیں گے۔اگر آپ حقیقی معنوں میں آزادی چاہتے ہیں تو پھر بجائے فضولیات کے آپ معاشرے میں آزادی کی فضا قائم کریں غلامانہ سوچ سے آزادی نفس سے آزادی گناہوں سے آزادی معاشرے کی ہر برائی سے ریپسٹ سے طاقتور اور کمزور کے فرق سے آزادی رشوت خوری سے آزادی سمگلنگ سے ناجائز تجاوزات سے اور منشیات سے آزادی تو پھر آپ صحیح معنوں میں آزاد ہوں گے ۔اللہ تبارک وتعالی وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھے دشمنان پاکستان اور دشمنان اسلام کے شر سے محفوظ رکھے اور ہماری قوم کو ہدایت دے اور حقیقی معنوں میں گناہوں سے اور ہر برائی سے کورونا وبا سے اور ہر قسم کی مشکلات سے آزادی عطا فرمائے آمین۔

    @Ssatti_

  • یوم آزادی ہم سے تقاضا کر رہا ہے تحریر:اعجازاحمدپاکستانی

    یوم آزادی ہم سے تقاضا کر رہا ہے تحریر:اعجازاحمدپاکستانی

    14 اگست پاکستان کی یوم آزادی کے دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ 14 اگست 1947ء کو ہمارا ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ پاک و ہند جب یہ برصغیر کے نام سے مشہور تھا تب کچھ مسلم رہنماوں نے یہ تجویز پیش کیا کہ چونکہ مسلمان اور ہندو دو الگ لگ قومیں ہیں اور دونوں کا رہن سہن، مذہب و تہذیب سب کچھ الگ ہے تو لہذا یہ دونوں قومیں اکھٹی نہیں رہ سکتی بلکہ مسلمانوں کیلئے الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا اور بٹ کے رہیگا ہندوستان بن کے رہیگا پاکستان کا نعرہ بلند کیا جو کہ مسلمانوں کی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کر رہا تھا اور یہی دو قومی نظرئے کی بنیاد بنی۔ مختصر یہ کہ کافی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد پاکستان بنا اور بر صغیر پاک و ہند دو حصوں میں بٹ گیا مسلمان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوگئے۔ اب آتے ہیں آزادی کے مقاصد پہ اور موجودہ دور میں اسکی ضرورت پہ۔
    کیا ہم نے یہ سوچا کہ یوم آزادی ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے؟
    کیا صرف جھنڈیاں اور بیجز لگانا، قومی ترانے اور ملی نغمیں سننا، باجے بجانا، پٹاخے پھاڑنا، موٹر سائیکلوں کے سلینسر نکالنا، موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کرنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا، ٹویٹر پر ٹویٹس، فیس بک انسٹاگرام پر پوسٹس کرنا، یوٹیوب پر ویڈیوز وائرل کرنا، واٹس ایپ پر سٹوریز اور سٹیٹس لگانا ہی یوم آزادی کا حق ہیں؟؟؟

    نہیں ہر گز نہیں بلکہ 14 اگست یوم آزادی کی خوشیاں منانے سے پہلے ہمیں 74 سال پیچھے جاکر تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا تاریخ کی تناظر میں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد آزاد ہوا ہے؟
    کیا ہمیں یاد ہیں وہ کٹے پٹے انسان وہ لٹے پٹے قافلے۔
    کیا ہم جانتے کہ اس وطن کی خاطر کتنی بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کی قربانیاں دی ہیں؟
    کتنی ماوں نے اپنے بیٹوں کو قربان کیا ہیں؟
    کتنے بچے یتیم ہوگئے تھے؟
    کتنے سہاگ اجڑ گئے تھے؟
    کتنی عورتیں بیوائیں ہوگئی تھیں؟
    کیا ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان سے پاکستان تک کے آزادی کے سفر میں ہمارے کتنے بزرگوں نے کتنی جائیدادوں کی قربانیاں دی تھی؟
    پاکستان محض علامہ محمد اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح، شہید ملت لیاقت علی خان، محمد علی جوہر، سردار یار محمد خان، عبدالکلام آزاد، چوہدری رحمت علی اور چند اور مخصوص لوگوں کی بات چیت و گفت شنید سے نہیں بنا بلکہ اس کے لئے اور بھی بہت ساری قربانیاں دی گئی ہیں۔ جس میں ہمارے علماء کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہیں جو وطن عزیز پاکستان کی خاطر شہید ہوگئے تھے۔

    آج 14 اگست یوم آزادی کو ہم نے کیا عہد کئے؟
    کیا آج کے بعد بھی ہم پولیس، رینجرز، پاک فوج، ایف سی اور باقی تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس طرح سے عزت دیں گے جس طرح آج ہم ان کے گن گا رہے تھے۔
    کیا آج کے بعد بھی ہم قومی پرچم کی تقدس و حرمت کو اس طرح بر قرار رکھیں گے جس طرح آج ہم نے دل سے لگایا تھا۔
    کیا آج کے بعد بھی سرکاری عمارات و املاک کی اس طرح سے خیال رکھیں گے جس طرح ہم آج اس کے در و دیوار چھوم رہے تھے۔
    کیا آج کے بعد بھی اس طرح ایک ہی صف میں صرف پاکستانی بن کر کھڑے ہونگے یا پھر سے فرقوں اور جماعتوں میں بٹ جائیں گے۔
    کیا آج کے بعد بھی آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے اور تمام قوانین کو مانیں گے۔
    کیا آج بعد بھی ہم ٹریفک سگنل نہیں توڑیں گے جو کہ قانون کے مطابق جرم اور شریعت کی رو سے ایک گناہ ہے۔
    کیا آج کے بعد بھی اسی طرح سے بھائی چارے، یگانگت، اتفاق و اتحاد، نظم و ضبط کو بر قرار رکھیں گے۔
    کیا 15 اگست سے بھی ہم پاکستانی ہی رہیں گے یا پھر سے ایک دوسرے کی جان کے در پے ہوجائیں گے۔
    کیا آج ہم نے اپنے بچوں کو پاکستان کی آزادی کے پیچھے جدوجہد اور قربانیوں کے بارے میں بتایا۔
    کیا ہم ان کے ذہن اور لاشعور میں یہ بٹھا سکے کہ فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آئین پاکستان کی ہمیشہ عزت و پاسداری کرنی ہیں اور قانون کو مقدم رکھنا ہے اور کھبی بھی کسی بھی صورت میں آئین شکنی و قانون شکنی نہیں کرنی۔
    کیا ہم نے یہ پڑھایا کہ کھبی ایسے مقام پر پہنچو کہ جہاں موقع مل بھی رہا ہو تب بھی رشوت ستانی سے بچنا ہے کیونکہ یہ قانون کے مطابق جرم اور شریعت کی رو سے گناہ ہے۔
    کیا ہم ان کو یہ سمجھا سکے کہ پڑوسیوں کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے اور کس طرح کے اخلاق رکھنے ہیں۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ اپنے سے چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے عزت سے پیش آنا ہے۔
    کیا ہم نے انکو صبر و شکر، ہمت و استقلال اور برداشت کا سبق دیا۔
    کیا ہم انکو یہ سمجھا سکے کہ کھبی بھی ظلم و ظالم کا ساتھ نہیں دینا ہے اور کھبی مظلوم کا ساتھ نہیں چھوڑنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ اس ملک خداداد پاکستان کو ہمیشہ صاف ستھرا اور ہرا بھرا رکھنا ہے اور کوشش کرنا ہے کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائے اور اسی کو اپنا شعار بنالے۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ قومی پرچم کو جیسے آج دل سے لگایا تھا اور چھوم رہے تھے اس طرح آئندہ بھی اس کی تقدس اور عزت و حرمت رکھنی ہے۔
    کیا ہم یہ سمجھا پائے کہ جس طرح آج ہم ایک دوسرے سے پیار و محبت، شفقت و عزت سے پیش آرہے تھے تو آئندہ بھی اسکو دوام بخشیں گے اور امن و محبت کو فروغ دیں گے۔

    اگر ہم یہ سب کچھ سمجھا چکے تو گویا ہم نے آج کی یوم آزادی کی حق ادا کردی اگر نہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم اس ملک کو کس طرح کی مستقبل دینے جارہے ہیں جو وطن کی آزادی کی قیمت تک سے نا آشنا ہوگا۔
    اللہ ﷻ وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے ملک کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے۔ رب ذوالجلال وطن عزیز میں امن و استحکام فرما۔ اے پروردگار! ہماری معیشت کو مضبوط فرما۔ مہنگائی و بیروزگاری کو ہم سے دور فرما۔ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم قرآن، دین اسلام اور اخلاق محمدی ﷺ سے مزئین فرما۔ ہمارے ملک کو دنیا میں ممتاز مقام عطاء فرما۔ پاکستان کو دنیائے اسلام کا قلعہ بنا۔ حق کا بول بالا فرما۔ باطل کو مغلوب فرما۔
    آمین۔

    Twitter Handle:
    @IjazPakistani

  • مہنگائی اور عام آدمی  تحریر:ذیشان علی

    مہنگائی اور عام آدمی تحریر:ذیشان علی

    اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بہت سے طبقات کے لیے پریشان کن ہوتا ہے وہ افراد جو کہیں معمولی سی جاب کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دیہاڑی دار مزدور ہیں اور وہ طبقہ جو کھیتی باڑی کرتا ہے مہنگائی سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے،
    اگر کسی ملازم کی بیس پچیس ہزار تنخواہ ہے اور اس کے گھر کا خرچہ اس تنخواہ میں بمشکل پورا ہوتا ہے تو اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ اس کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے،
    مزدور جو کہ روزانہ کی اجرت پر کام کرتا ہے اگر وہ صبح سے شام تک کام کرکے آٹھ سو روپے کماتا ہے تو اسے بھی یقیناً مہنگائی کی وجہ سے مشکل وقت سے گزرنا پڑ سکتا ہے،
    اگر دیکھا جائے تو 800 روپے ایک دن کے لیے ناکافی ہے موجودہ حالات میں تو ایک شخص یا دو سے تین افراد مشکل ہی سہی لیکن گزارا کر لیں گے کیونکہ ہر شخص اپنی آمدنی کو دیکھ کر اپنے گھر کا بجٹ بناتا ہے لیکن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ یعنی مہنگائی ان کے اس بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے جو انہوں نے بمشکل کھینچ تان کر کفایت شعاری سے بجٹ بنایا ہوتا ہے،
    مہنگائی ایک ایسی بلا کا نام جو دن بدن ہمارے معاشرے میں اپنے پنجے مضبوط کر رہی ہے اس کی ایک وجہ حکومت کی ناکام پالیسیاں بھی ہو سکتیں ہیں اور دوسری وجہ بھی حکومت سے تعلق رکھتی ہے کہ مکمل طور پر سنجیدگی سے ایشا کے حکومتی ریٹ پر تاجروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اسی مقرر کردہ ریٹ پر اشیاء کو فروخت کریں گے،
    اس کی جانچ پڑتال کرنا سبزی منڈی کے بیوپاریوں ٹیکسٹائل تاجروں اور مرچنٹ تاجروں پر نظر رکھنا سب حکومتی اداروں کا کام ہے،
    اور تیسری بڑی وجہ کے انٹرنیشنل سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کا سبب بنتا ہے اور اس کے متعلق تو کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا جب تک عالمی طور پر قیمتوں میں کمی کی جائے،
    لیکن ایسے ٹائم پیریڈ میں حکومت عوام کے لیے سبسڈی نام کی ایک سہولت مہیا کرتی ہے جس سے نچلا طبقہ مستفید ہوتا ہے بشرطیکہ سبسڈی کا صحیح استعمال کیا جائے اور حقدار ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں،
    مہنگائی پر کچھ چیدہ چیدہ باتیں ہیں جو ہم آپ سے شیئر کر رہے ہیں مہنگائی سے متاثر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جسے یہاں پر بیان کرنے سے یہ تحریر ایک کتاب کی شکل اختیار کر جائے گی،
    چاہتے ہیں کہ مختصر سی تحریر ہو اور اس میں صرف ایسی ہی چند بنیادی باتوں کا ذکر کیا جانا مناسب ہے،
    میرا مقصد کسی سیاسی جماعت یا حکومت پر الزام تراشی کرنا ہر گز نہیں ہے لیکن حکومت ہی مہنگائی اور دیگر اہم چیزوں کی ذمہ دار ہوتی ہے مثلاً بیروزگاری کی شرح میں اضافہ اشیاء خورد نوش میں ملاوٹ کے رجحان کو روکنا جیسے بنیادی عوامل شامل ہیں،
    ایک تو مہنگی چیز خریدی جائے اور دوسری وہ ملاوٹ سے پاک نہ ہو تو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،
    چونکہ ہمارا موضوع مہنگائی اور عام افراد ہیں اس لیے باقی چیزوں پر تبصرہ کرنا غیر ضروری ہے،
    مہنگائی سراسر نچلے طبقے کا ہی زیادہ مسئلہ ہے جن کی آمدنی ان کے اخراجات سے تھوڑی کم یا پھر ان کے اخراجات کے برابر ہے،
    اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اور علاج معالجہ اور دیگر اخراجات کیسے وہ اپنی مختصر سی آمدنی میں پورے کر پاتے ہیں،
    بجلی اور گیس کے بل اور بچوں کے سکولوں کی فیسوں کے اخراجات عام آدمی کے لیے پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا،
    اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے وہاں کے معاشروں میں لوگوں کی جیب کاٹنا، گاڑیاں چھیننا، موبائل چوری کرنا جیسے جرائم بڑھ جاتے ہیں،
    ہمارے معاشرے کو اللہ ان جرائم سے محفوظ رکھے اور صبر کے ساتھ حلال کمانے اور حلال کھانے کی توفیق دے،
    ہماری حکومت پاکستان نے عام آدمی کے علاج معالجے کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا تھا اور یہ عام آدمی تک پہنچا ہے اور اس کے علاوہ احساس پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کے ذریعے مستحق افراد تک پیسہ پہنچایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکیں،
    میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنا اور مہنگائی کی شرح کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدام کرنا زیادہ بہتر ہے کہ ہر شخص خود کفیل ہو اس کی آمدنی اس کے اخراجات سے زیادہ ہو وہ اور خوشحال زندگی بسر کر سکے،

    @zsh_ali