Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    انسان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ حسد ہے۔ اگر انسان حسد کرنا چھوڑ دے تو کامیابی کی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ حسد اکثر اپنوں سے ہوتا ہے۔ حسد کیا ہے؟ اگر کسی کو اللہ تعالی نے نعمتیں دی ہیں تو ان نعمتوں کو برداشت نہ کر پانا حسد ہے۔ اس سے نہ صرف ذہنی بیماری بڑھتی ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی انسان بیمار رہنے لگتا ہے۔ حسد انسان کو کامیابی سے دور کر دیتا ہے۔ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ بے شک وہی انسان نارمل ہے جس کی روح اور ذہن دونوں کام کرتے ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسد کرنے والے، چغلی کرنے والے اور کاہن نجومی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے”۔ (حدیث)
    حسد دوزخ کی آگ ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، بعض، عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔ اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ”۔
    جس نے حسد پر قابو پالیا۔ اس نے اپنے اندر بیٹھے ایک شیطان پر قابو پالیا۔ حسد انسان کا اس وقت تک پیچھا کرتا ہے جب تک وہ اس حسد کو مار نہ دے۔ ایک بار مارنے سے نہیں مرتا۔ بار بار مارنا پڑتا ہے۔ اس کا علاج، محنت، قناعت اور شکرگزاری میں رکھا گیا ہے۔ کوشش کریں کہ زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کے ساتھ اچھا گزرے کیونکہ زندگی نہیں رہتی۔ مگر یادیں ہمیشہ رہتی ہیں۔
    اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (اشفاق احمد)
    آپ سچے دل سے محنت کرو کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کا صلہ ضرور ملے گا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم زیادہ وقت اپنی پڑھائی اور عبادت کو دیں تاکہ لوگ ہم سے حسد نہیں رشک کریں۔ بجائے اس کہ کے ہم دوسروں کو سوچنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ ورنہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور حاسد کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ اپنی ہی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حسد سے بچو۔ کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ "لکڑی” "یا خشک گھاس” کو کھا جاتی ہے۔” حسدصرف نیکیوں کو نہیں کھاتا بلکہ یہ انسان کے اندر کی انسانیت اور قلب کی روشنی کو بھی کھا جاتا ہے۔ اللہ عزوجل مجھے آپ کو اس بیماری سے بچائے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اپنی محنت پر توکل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

    Twitter: @ZaidAli0000

  • آؤ خیر تلاش کریں   تحریر : صالح ساحل

    آؤ خیر تلاش کریں تحریر : صالح ساحل

    بہت عرصہ سے سوشل میڈیا پر مختلف بحثیں دیکھی کے کسی ایک مکتب فکر یا اہل علم کے عقیدت مند اپنے نقط نظر کے حاملین کے علاؤہ دوسرے لوگوں سے دور بھاگتے نظر آتے ہیں انہیں بحثوں میں سوشل میڈیا پر انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی طارق مسعود صاحب کے اختلاف کے چرچے کافی نظر آ رہے ہیں اور حیرت کی بات کے ایک کے عقیدت مند دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی کشمکش میں شاید ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کے ہمیں تو خیر کی بات شیطان سے بھی پتہ چلے تو لے لینی چاہیے ہم اپنی رہنما کی ہر بات کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے کی سہی بات بھی ناگوار لگ رہی ہوتی ہیں ایسے میں کیا ہم اپنا نقصان نہیں کر رہے اعلی حضرت ہوں یا مولانا مودودی کوئ صوفی ہو یا سلافی ، جاوید احمد غامدی ہوں یا مولانا الیاس قادری یہ سب خیر کی فیکٹریاں ہیں یہ یونیورسٹیاں ہیں ہم ان سب میں سے خیر تلاش کرنی تھی مگر ہم نے خیر کے بجائے دوسرے کی خامیاں تلاش کرنا شروع کر دی اگر کوئ شخص یہ سوچتا ہے کے دنیا میں کوئ شخص خیر ہی خیر ہے تو یہ اس کی کم عقلی ہے ہر شخص میں خیر اور شر موجود ہوتا ہے ہمیں چاہیے کے ہم خیر کو لیں اور شر سے کنارہ کشی کریں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہ قول میرے لیے ہمیشہ فائدے مند رہا ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے اجمال کفر کے ہوں اور اور ایک ایمان کا اور وہ اپنا مقصد واضح نہ کرے کے کیا کہنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے ایمان والے اجمال کو قبول کرنا چاہیے مگر ہم یہاں کسی کی ایک غلطی پر اس کی ساری خدمات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ہم نے اپنی اندار ایک بیماری اور پیدا کر لی اور وہ ہے شک کی بیماری ہمیں اپنے سے مختلف رائے دینے والا سازشی نظر آتا ہے ہمیں چاہیے اپنے سینوں کو واسط دیں سب اہل علم سے استفادہ کریں اپنے علم کو بڑھیں میں ہرگز نہیں کہتا کے آپ مفتی یا سکالر بن جائیں مگر کم سے کم اچھی اور برائ میں فرق کا پتہ لگانا مشکل نہ ہو بنیادی علم حاصل ہو آپ کو اہل علم کے اختلاف اپنی جگہ مگر ان میں موجود خیر کو اپنے اندر اکٹھا کریں اگر ہم دل کے برتن میں خیر ڈالیں گے تو ہماری ذات خیر کا موجب بنے گی اگر یہ برتن ہی ہم نے شر سے بھر لیا تو ہمارا وجود ہے شر کی آب یاری کرے گا آؤ خیر تلاش کریں ایسا نہ ہو کے دیر ہو جائے ذیل میں ہم بیان کرتے ہیں کے ہمیں کیا کرنا چاہیے جب کسی بات میں اختلاف ہو تو
    ۔۔۔۔
    آپس کے اختلافات اس بات کامظہر ہوتے ہیں کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب انتہا پسندی سوچوں میں داخل ہو جائے تو اختلاف مخالفت بن جاتا ہےاور یہیں سے اس سفر کا آغاز ہوا جس نے فرقہ پرستی کو جنم دیا
    کچھ ضمنی سوالات اٹھے تو ان کے مختلف جوابات نے ”میں نہ مانوں” کا رویہ اختیار کیا اور دین کا بنیادی سبق ً عفو و درگزر” دور ہوتا چلا گیا اور انا و عصبیت کا عفریت چھاتا چلا گیا اب بھی وقت ہے کہ ہم تعصبات کے خول سے باہر جھانکنے کی کوشش کریں اور سینوں کو چوڑا کرنے کے بجائے دلوں کو کشادہ کریں
    اپنی طرف اٹھنے والی انگلی کو کاٹنے والا رویہ ترک کر کے اس انگلی کا ہمارے کس عیب کی طرف اشارہ ہے اس کی اصلاح کا بندوبست کریں
    میری نظر میں عجز و انکساری سے کوسوں دور چلے جانے کی وجہ سے ہم دین و دنیا کے ہر معاملے میں جذباتیت کا شکار ہیں
    @painandsmile334

  • مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    پاکستان کا مطلب کیا؟”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“
    دستورِ ریاست ہوگا بس محمدﷺرسول اللہ

    قیامِ پاکستان بِلا شُبہ قدرت کے معجزات میں سے ایک ہے. 1857 ءسے چھائ غلامی کی تاریک رات کی روشن صبح 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947ء کو لاکھوں شہداء کے خون سے طلوع ہوئ. یہ اللہ تعالیٰ کے چُنے ہوئے مُجاہد "محمد علی جناح” کی 40 سالہ ان تھک جدوجہد کا ثمر تھا .یہ اقبال کے خواب کی تعبیر تھا. آزادی کی اس مبارک جدوجہد کی بنیاد میں عظیم قائد کا نظریہ ”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“  تھا.قیامِ پاکستان سے قبل ایک موقع پر فرمایا
    "مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہوگا؟یہ تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟مسلمانوں کا طرزِ حکوت آج سے 1300 سال پہلے قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کر دیا تھا. الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائ کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا.” قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد مواقع پر آپ نے مختصر مگر جامع انداز میں یہ واضح کیا کہ نظریہ پاکستان سراسر نظریہ اسلام ہے. ایک موقع پر آپ نے فرمایا
    "ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں”.
    اسی طرح ایک اور موقع پر اسلام کے اس
    مردِ مجاہد نے فرمایا
    "پاکستان کے مطالبے کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی نہ انگریزوں کی چال. یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا.” اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کے دوران فرمایا” اسلام ہماری زندگی اور وجود کا بنیادی سر چشمہ ہے”.آپ نے قومیت کی بنیاد کلمہ توحید کو قرار دیا. فرمایا "مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے‘ نہ نسل ہے”.راہنماہِ کامل سیدنا محمد مصطفی‎ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق مکمل طور پر اسلامی نظام کا قیام محمد علی جناح کا مقصد تھا. جسکا اظہار آپ نے ان الفاظ میں فرمایا
    ”میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اُسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے، جو ہمیں قانون عطا کرنےوالے پیغمبرِ اسلام‎ﷺ نے ہمارے لئے بنایا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پررکھیں۔“
    آپکے یہ تمام فرامین یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپکی جہدوجہدِ مسلسل کا مقصدِ اولین اسلامی قوانین کے مکلمل نفاذ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا. افسوس کہ عظیم قائد کو زندگی نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی جدوجہد کے ثمر کو مکمل نظامِ مصطفی‎ﷺ میں ڈھلتا دیکھتے. وطنِ عزیز کی بہتری کی ہزاروں اُمنگیں سینے میں لیے مردِ مجاہد بہت جلد ابدی سفر کی طرف روانہ ہو گیا.وفات سے قبل آپ نے اپنے معالج سے فرمایا کہ
    "پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا، اگر اس میں فیضانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل نہ ہوتا“۔ اس ایک فرمان سے آپ نے اس راز کو عیاں کردیا کہ قیامِ پاکستان مکمل طور پر سیدنا محمد مصطفیﷺ کی عطا ہے. آپ ﷺ کی نظرِ رحمت اور فیضان آزادی کی جدوجہد کی تمام کوششوں پر بھاری تھا جسکے بغیر پاکستان کا وجود میں آنا ناممکن تھا.پاکستان کا ترقی پزیر ملک ہونے کے باوجود اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بننا بھی یقیناً رسول اللہﷺ کے فیضانِ نظر کی بدولت تھا. رسول اللہ ﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ہِند کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں.

    میرِ عربﷺ کو آئ ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میر ا وطن وہی ہے

    اس سے بڑھ کر افسوس کا مقام کیا ہو گا کہ سیدنا محمدﷺ جنکے فیضان سے جنکے قدموں کی خاک کے صدقے ہمیں یہ وطن ملا آج اُسی وطن کی پارلیمنٹ میں فرانس کی سرکاری سطح پر ہونے والی توہینِ رسالت پر ایک مذمتی قرارداد تک پیش نہ ہو سکی. اسی وطن میں معشیت کی مجبوری کے نام پر فرانس کو ایک سخت لفظی جواب تک نہ دیا گیا .تحریک لبیک پاکستان نے رسول اللہﷺ کی عزت کےلیے فرانس کے بائیکاٹ کی قرارداد کو اپنے چوبیس شہداء کے خون سے پارلمینٹ تک پہنچایا تو ایک رسمی سماعت ہوئ جس میں وزیر اعظم سمیت آدھی سے زیادہ اسمبلی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا. اجلاس میں قرارداد پر بات کرنے کی بجائے حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے ایک دوسرے سے لڑتے رہے یوں مزید سماعت غیر معینہ مدت کے ملتوئ کر دی گئی.اور آج تک ملتوئ ہے.پارلمینٹ کے پاس وقت ہی نہیں کے وہ محض چند منٹ ہی رسول اللہﷺ کی عزت کے قانون پر بات کرنے کے لیے نکال سکے.
    وزیر اعظم لیاقت علی خان نے نوزائیدہ سلطنت کو قائد اعظم کے نظریے کے مطابق سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا مگر قدرت نے جلد انہیں بھی بلا لیا. اسکے بعد آج 74سال گزر گئے قائدِ اعظم کے قدموں کی خاک کے برابر بھی لیڈر پاکستان کو نصیب نہ ہو سکا.ہر آنے والے وقت میں اسلام کے نام پر, لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے اس وطن میں مغرب سے قدم ملانے کی آڑ میں اسلام کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے.اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام برائے نام رہ چکا.سیکولر ازم اور لبرل ازم کے نام پر ہر روز اسلامی اشعار کی دھجیاں اڑائ جاتی ہیں.دو قومی نظریہ کی کُھلے عام نفی کی جارہی.ہماری منفرد تہذیب,معاشرتی اقدار اور اسلامی لباس جو ہماری پہچان تھا دو قومی نظریہ کی بنیاد تھا یہ نظریاتی تشخُص ختم ہوتا جارہا ہے.
    معاشی حالت کی ابتری کی وجہ سے سارا نظام سودی قرضوں کی بھیک پر چل رہا.سود جو اللہ تعالیٰ سے کُھلا اعلانِ جنگ ہے.پھر وطن ترقی کرے تو کیسے؟سود سے پاک معاشی نظام قائم کرنا قائد اعظم کا مقصد تھا اسلیے آپ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بنیاد رکھی.مگر آج پاکستان کا تمام معاشی نظام بشمول سٹیٹ بنک کے آئ ایم ایف کے تیار کردہ اصولوں پر چل رہا.ہماری معاشی خودمختاری نام کی بھی نہیں رہی. ہر فرد کے پیٹ میں سود کا حرام لقمہ جارہا. اسلامی سزائیں مکمل ختم کر دی گئی ہیں جسکی وجہ سے نظامِ عدل بدترین مذاق بن کہ رہ گیا ہے.ہر شُعبہ زندگی میں ہم دنیا سے پیچھے ہی.اس زوال کی وجہ اس مقصد سے منہ موڑ لینا ہے جسکے لیے یہ وطن بنا اور یہ مقصد نظامِ مصطفی‎ﷺ کا نفاذ ہے.پاکستان کی ترقی کا واحد حل یہی ہے کہ سیدنا محمد‎ﷺ سے وفا ہر ملکی مفاد سے بڑھ کر کی جائے.دستورِ ریاست مکمل طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں ہو.مسلمانوں میں تبدیلی /ترقی اسلام کو پیچھے چھوڑ کر ہر گِز نہیں آسکتی.یہ وطن سیدنا محمد مصطفی‎ﷺکے نام کی جاگیر ہے اور اسےحقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ بنانے کے لیے اسلام کو محض لفظی نہیں عملی طور نافذ کرنا ہو گا. اللہ تعالئ ہمارے وطن کو کو قائدِ اعظم جیسی مخلص اور مُحبِ اسلام قیادت نصیب فرمائے.آمین

    نام تیرا تا ابد تا قیامت رہے
    اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
    سلامت رہے تا قیامت رہے(آمین)

    @SMA___23

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    دبئی میں دنیا کا مہنگا ترین جوتا تیار کیا گیا ہے جس کی مالیت پاس 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر (3 ارب 86 کروڑپاکستانی روپے) ہے-

    باغی ٹی وی : اس زنانہ جوتے میں سونے کی پتری لگائی گئی ہےجبکہ 100 سے زائد چھوٹے ہیرے بھی اس جوتےجڑے گئے ہیں جبکہ دو بڑے ہیرے بھی لگائے گئے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں جن میں 15 کیریٹ کا ڈی پرفیکٹ قیمتی پتھر بھی شامل ہے.

    دنیا کی یہ سب سے مہنگی جوتوں کی جوڑی مشہورِ زمانہ ’’جادا دبئی‘‘ اور ’’پیشن جیولرز‘‘ نے مل کر تیار کی ہے جسے ’’پیشن ڈائمنڈ شوز‘‘ کا برانڈ نیم دیا گیا ہے اس جوتے کو برج خلیفہ کے ہوٹل میں ڈسپلے کیا گیا ہے۔

    جادا دبئی کی شریک بانی، ماریا مجاری کہتی ہیں کہ ایسی ایک جوڑی کی تیاری میں ان کی کمپنی کو 9 مہینے سے بھی زیادہ لگ گئے کیونکہ یہ کام بہت احتیاط اور نفاست کا متقاضی تھا-

    واضح رہے کہ یہ کمپنی اس سے پہلے بھی ہیروں والے مہنگے ترین جوتے تیار کرچکی ہے البتہ، قیمتی سینڈلز کی اس نئی رینج میں انتہائی نایاب اور منفرد ہیرے استعمال کیے گئے ہیں؛ جن کی بناء پر یہ دنیا کی مہنگی ترین سینڈلز بھی بن گئی ہیں۔

  • اقبال کا پیغام قوم کے نام  تحریر: سید حسنین مشہدی

    اقبال کا پیغام قوم کے نام تحریر: سید حسنین مشہدی

    علامہ اقبال کے جزوی مطالعہ کے بعد کچھ جملے آج کے نوجوان اور مسلمان کے لیے کہ عصر حاضر کے مسلمانوں
    اپنی ملی پستی و زوال کا سبب خود ہیں لیکن شکوہ رب سے کرتے رب سے شکوہ کرنے کی بجاۓ پہلے ذرا اپنی اداؤں پر غور نھیں کرتے۔ تمھاری دینی حالت یہ ہے کہ تمھیں صبح فرض نماز کے لئے اٹھنا بھی گراں اور ناگوار ہے کاہلی نے تمہیں اپنے گرفت میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ دنیا کا شوروغوغا تمھیں سنائی نھیں دیتا پانچ وقت کی گونجتی آواز تمہارے کانوں پر کوئی اثر نھیں چھوڑتی اس قدر بےحسی اور لاپرواہی ہے ؛ گویا تمھیں رب سے پیار نہیں بلکہ اپنی نیند پیاری ہے۔ تمھاری طبیعت اور مزاج رب کے احکام کی پابندی سے اس قدر آزاد ہو چکی ہے کہ رمضان کے روزوں کی پابندی بھی تمھارے لئے مشکل ہے۔جب اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کا عالم یہ ہے کہ اللّٰہ کی طرف سے رحمت کی پکار آتی ہے لیکن تم رحمت سمیٹنا نھیں چاہتے اس کی طرف سے نعمتوں کی برسات کا نکارہ بجایا جاتا ہے لیکن تمھیں سنائی نھیں دیتا ۔ تو تم ہی بتاؤ کہ وفاداری کا اصول اور دستور یہی ہے تمھاری نگاہ میں؟ کہ رب کی رضا کے لئے فرض نماز روزے کی پابندی بھی نہ کرو؟ ارے نادان مسلمانو؛ تم ایک منظم قوم اور مضبوط قوت اپنے مذہب یعنی دین اسلام کی بدولت تھے؛ دنیا میں تمھاری ترقی اور عروج کا راز یہی تھا؛ آج تم نے قرآن و سنت کی رسی چھوڑ دی ہے تو تمھارا باہمی نظم و ضبط بکھر چکا ہے سو تم مسلمان ایک منظم اور طاقتور ملت نہیں رہے بلکہ ایک منتشر ہجوم اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہو جسے یہود ہنود ہانک رہا ہے تم خود اپنی ذلت کا سبب بنے ہوۓ ہو کیوں بھول جاتے ہو اپنی اسلاف کی قربانیوں کو ۔آج تم اپنے اسلاف کے نام سے خود کو متعارف کروانا چاہتے ہو لیکن خود عمل پیرا نھیں ہونا چاہتے
    ارے ! تھے تو وہ آبا ہی تمہارے تم کیا ہو؟
    آج تم وہ ہو جس کی دنیا میں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے؛

    علامہ محمد اقبال نے اپنی مسلم قوم کے سوۓ ہوۓ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے کہ ؛جو قوم کبھی کلیساؤں میں آذانیں دیا کرتی تھی جو قوم کبھی بتوں کو نیست نابود کیا کرتی تھی آج وہی قوم بت خانے آباد کرنے میں لگ گئی ہے؛

    تلواروں کے سائے میں اللّٰہ اکبر کی صدائیں لگانے والوں کی ذلت کا یہ عالم ہے کہ
    آج اس قوم کی بیٹی کلیساؤں اور بت خانوں میں محفل کی زینت بنی ہوئی ہے جس قوم کی بیٹی کی ردا کے لیے املاک فتح کیے جاتے تھے جس قوم کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کی دیواریں مسلم قوم کے جاہ وجلال کے آگےحل جایا کرتی تھیں لیکن آج وہی قوم خود اپنی ذلت کا سبب بنی ہوئی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی دی ہوئی دولت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہم میں مذہبی آہنگی کا تصور ختم ہوگیا ہم نے مذہب کو صرف روایتی لحاظ دیکھا اور جس مذہب کو ہم نے حرف کل سمجھنا تھا اس کو ہم جزوی طور پر بھی اپنانے کو تیار نھیں ۔ہم نے اللّٰہ کے مقابل اپنی آسائشوں کو ترجیح دی اور رب کے حکموں کو پس پشت ڈال کر بڑھنا چاہا جو رب کو ناگوار گزری۔

    @SyedHR92

  • ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    پولی نیٹ ورک کے مطابق ہیکر نے کرپٹو کرنسی چرانے کے ٹھیک 24 گھٹنے بعد تقریباً آدھی مالیت کی ڈیجیٹل رقم واپس کردی ہے پولی نیٹ ورک میں ایک کمزوری نے ہیکرز کو پلیٹ فارم میں داخل ہونے اور کافی رقم نکالنے کی اجازت دی-

    باغی ٹی وی : پولی نیٹ ورک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں بتایا کہ گزشتہ روز ہیکر نے بلاک چین پلیٹ فارم “پولی نیٹ ورک” کے سسٹم سے 600 ملین ڈالر مالیت کی ایتھیریم اور دیگر کرنسی کے ٹوکن چرائے تھے۔


    ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے ، پولی نیٹ ورک نے رقم کی وصولی کے لیے ایک دلچسپ حکمت عملی استعمال کی ہے: براہ راست ہیکرز سے اس کی درخواست کی ایک عوامی خط میں اور ٹویٹر پر، پولی نیٹ ورک نے ہیکرز سے پیسے واپس مانگے۔ انہوں نے پیغام میں کہا ، "آپ نے جو رقم چوری کی ہے وہ کرپٹو کمیونٹی کے ہزاروں ممبروں کی ہے۔”

    پچھلے چند گھنٹوں میں ہیکرز نے چوری شدہ کرنسی میں سے کچھ واپس کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے پولی نیٹ ورک کو پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ فنڈز واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہیکر اورمتاثرہ نیٹ ورک کے درمیان رابطے قائم ہونے کے بعد ، پولی نیٹ ورک نے درخواست کی کہ اسے تین مختلف والٹس میں منتقل کیا جائے-


    بلاک چین پلیٹ فارم پولی نیٹ ورک نے تازہ ترین ٹوئٹس میں کہا کہ کرپٹو کرنسی چوری میں ملوث ہیکر نے 260 ملین ڈالرز (جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 42 ارب 43 کروڑ سے زائد بنتی ہے) کے ڈیجیٹل ٹوکن واپس کردیئے ہیں۔


    پولی نیٹ ورک نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ہیکر نے تین کرپٹو کرنسیوں سے متعلق ڈیجیٹل ٹوکن واپس بھیجے ہیں جن میں 3.3 ملین ڈالرز ایتھیریم، 256 ملین ڈالرز بائننس سمارٹ چین (بی ایس سی) اور 1 ملین ڈالرز مالیت کے پولیگون شامل ہے۔

    پولی نیٹ ورک نے کہا کہ کہ ہیکر کو باقی ماندہ رقم کی واپسی اور اس کا “حل نکالنے کے لیے” رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ویب سائٹ نے کہا ہے کہ چوری کی گئی کرنسی ڈی سینٹرالائزڈ فنانس انڈسٹری میں اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

    پولی نیٹ ورک ایک فنانسنگ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا بنیادی مشن مختلف کریپٹو کرنسیوں کے بلاک چینز کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں مدد کرنا ہے۔”

  • اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    جرمن کار کمپنی اوڈی نے مستقبل میں لگژری خودکار گاڑیوں کی جھلک دکھا دی کمپنی نے اسکائی سیفیر (Sky sphere) کو پرائیویٹ اسکریننگ میں متعارف کرایا ہے، مگر جلد باضابطہ طور پر بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی جس کی عام لوگوں کو دستیابی ممکن نہیں تاہم عوام کے لیے اسے مختلف موٹر شوز میں ضرور رکھا جائے گا تاکہ وہ مستقبل کی اس گاڑی کو دیکھ سکیں۔

    اوڈی “اسکائی سیفیر” ایسی حیران کن گاڑی ہے جس کی لمبائی کو بڑھایا یا گھٹایا جاسکتا ہے۔ گاڑی کے فرنٹ وہیلز کا بیس بھی 9.8 کم کیا جا سکتا ہے وہ بھی صرف ایک بٹن کی مدد سے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ 4 ہزار پونڈ وزنی یہ گاڑی محض 4 سیکنڈ میں 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سنگل چارج پر 310 میل کا سفر آسانی سے طے کرسکتی ہےالیکٹرک گاڑی میں موجود بیٹری پیک 80 کلو واٹ سے زیادہ کی گنجائش رکھتی ہے جبکہ سنگل الیکٹرک موٹر 624 ہارس پاور فراہم کرتی ہے۔
    https://youtu.be/0McQmw0h5mQ
    گاڑی میں مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈیش بورڈ ہے جس میں 141 سینٹی میٹر چوڑی/18 سینٹی میٹر ہائی ٹچ اسکرین نصب ہے۔ جی ٹی موڈ پر یہ گاڑی خودکار طور پر ڈرائیو کرے گی اور اگر آپ اسے خود ڈرائیو کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اسپورٹ موڈ پر جانا ہوگا۔

    یہ 2 ڈور گاڑی ‘ اسپورٹ ‘ نامی بٹن کو دبانے سے اپنی شکل بدل لیتی ہے اور ڈیش بورڈ کے نیچے پیڈلز ابھرتے ہیں اور 2 سیکشنز میں تبدیل ہوکر کاک پٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

    اس کا ہائپر بولیکیلی لانگ ہڈ درمیان سے تقسیم ہوجاتا ہے اور ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جس میں کچھ سامان رکھا جاسکتا ہےاس کی چھت کپڑے سے بنی ہے جس کو آسانی سے ہٹایا جاسکتا ہے جبکہ فرنٹ سیٹس کے پیچھے 2 ہلکے کمبل موجود ہیں جس کا مقصد مسافروں کو سرد موسم سے بچانا ہے۔

    اوڈی اے جے کے سربراہ ہنرک وانڈرز نے بتایا کہ یہ ہمارے مستقبل کے ویژن کا پہلا حصہ ہے تین مستقل کی تصوراتی گاڑی میں سے اسکائی سیفیر کے بعد ‘گرینڈ اسپیئر’ اور ‘اربن اسپیئر’ لانچ کیے جائیں گے۔

  • ای سی سی نے ترسیلات زر بڑھانے کے لئےایپ متعارف کرانے کی منظوری دیدی

    ای سی سی نے ترسیلات زر بڑھانے کے لئےایپ متعارف کرانے کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے اوور سیز پاکستانیوں کے لئے موبائل ایپ متعارف کرانے کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ای سی سی نے مذکورہ ایپ کی منظوری ترسیلات زر کو فروغ دینے کیلیے دی ہے نیشنل ریمٹنس لائلٹی پروگرام کے تحت اورسیز پاکستانیز کو مراعات دی جائیں گی، اسٹیٹ بینک اکتوبر کے آخر تک ایپ جاری کرے گا-

    وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ہوا جس میں نیشنل ریمٹنس لائلٹی پروگرام کے اسٹرکچر اور مالی اثرات کی منظوری دی گئی۔

    پروگرام کے تحت اورسیز پاکستانیوں کیلیے اکتوبر کے آخر تک موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی جس کا مقصد ترسیلات زر بڑھانے کیلیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے-

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے ریمٹنس لائلٹی پروگرام اور موبائل ایپ کے اجرا سے پہلے اسٹیٹ بینک کو دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز سے ضروری مشاورت کی ہدایت کر دی۔

    جبکہ سیکرٹری خزانہ یوسف خان نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ مالی سال ریکارڈ 29 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، ترسیلات زر کا سالانہ ہدف 31 ارب 25 کروڑ ڈالر مقرر کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب وزیرخزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی تجاویز پر آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کو نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئی ٹی برآمدات کا ایک فیصد سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے لیے مختص کیا جائے گا اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فنڈز کو اسکل و بزنس ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام پر خرچ کرے گا۔

    آئی ٹی کمپنیوں کے ٹیکس مسائل سے متعلق وزارت خزانہ نےاختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور ایف بی آر نظر ثانی شدہ ٹیکس تشریحات تشکیل دے گا۔

    شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے مشکور ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ملکی معاشی اور سائنسی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں ترقی کیلئے فعال اقدامات اٹھائے جائیں عالمی سطح پر ترقیاتی پالیسیوں کا فوکس ترقیاتی منصوبوں سے انسانی وسائل کی فکری ترقی کی سمت جارہا ہے۔ پاکستان کو انسانی وسائل کی سائنسی اور فکری ترقی کے لئے جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟
    جویریہ بتول

    اس دھرتی کی عالم میں شان ہے جُدا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    خوں کے دریا طے کر کے پائی یہ آزادی…
    ہم قومِ خاص ہیں،جب دی جہاں میں منادی…
    جینے،مرنے،کھانے،پینے میں ہے اک گہری تفاوت…
    ایسی دو قومیں اَب رہ سکتی نہیں یکجا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اِس دیس کا ذرہ ذرہ ہمیں جان سے پیارا ہے…
    اس دیس کی صبح پر لاکھ ستاروں کو وارا ہے…
    اُس خوں کی بدولت لہراتا پرچم یہ ہمارا ہے…
    اِس پرچم کی اَب شان کم کیسے ہو بھلا…؟
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اس وطن کا قریہ قریہ خوشبو میں بسانا ہے…
    اس دیس کا ہر گوشہ اَمن سے مہکانا ہے…
    عَلم اس کا ہر ایک بلندی پر لہرانا ہے…
    کہ ہم خالد و جعفر کے روحانی ہیں ورثاء…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    اس گُلشن کے آنگن میں رہے سدا بہار…
    اس گھر کے رہیں روشن سبھی لیل و نہار…
    اس کنبے کا بڑھے پھر روز بروز وقار…
    اس کا ہر اِک فرد ہو اپنے محاذ پر کھڑا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ

    اس قوم کے محافظ بیٹے ہیں ہر دَم تیار…
    یہ غیور ،جری، بے باک،جو ہیں مثلِ ضرار…
    اس مٹی کو خوں دے کر ملتا ہے جنہیں قرار…
    ان کے سنگ مل کر اِک نعرہ لگائیں ذرا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

  • آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں
    بقلم : عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    اللہ تعالٰی کا ہم پر بہت زیادہ فضل اور احسان ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں آزاد ملک میں آزادی کی نعمت سے نوازا
    ورنہ اگر آج ہم دنیا میں ان ممالک اور اقوام کی طرف دیکھیں جو ابھی تک کفار کی غلامی اور قبضے میں ہیں تو ان پر ہونے والے ظلم و ستم دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ غلامی کس قدر بدترین چیز ہے

    آزاد ہونے کے بعد ہمارے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے

    1️⃣___ *غلامی کے دنوں کو یاد رکھنا اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡـتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
    اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہیں قوت بخشی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
    – الأنفال – آیت 26

    2️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد شکرانے کے طور پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنا وگرنہ گناہوں کی وجہ سے یہ نعمت ضائع بھی ہو سکتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا ۖ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ
    کیا انھوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے، جنھیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم نے نہریں بنائیں، جو ان کے نیچے سے بہتی تھیں، پھر ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسرے زمانے کے لوگ پیدا کردیے۔
    الأنعام – آیت 6

    ایک دوسرے مقام پر فرمایا
    وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبۡنٰهَا حِسَابًا شَدِيۡدًاۙ وَّعَذَّبۡنٰهَا عَذَابًا نُّكۡرًا‏
    اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔
    الطلاق – آیت 8

    ایک بستی کی مثال دے کر سمجھایا
    فرمایا
    وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرۡيَةً كَانَتۡ اٰمِنَةً مُّطۡمَٮِٕنَّةً يَّاۡتِيۡهَا رِزۡقُهَا رَغَدًا مِّنۡ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الۡجُـوۡعِ وَالۡخَـوۡفِ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ
    اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلاہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے
    النحل – آیت 112

    3️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد اپنے ملک میں اللہ تعالٰی کے احکامات اور دستور کا نفاذ کیا جائے اور غیراللہ کے نظاموں کو اپنے خطے میں نافذ نہ کیا جائے*

    فرمایا
    اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ
    وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
    القرآن. الحج – آیت 41

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب حکمران بنے اور فتنے پیدا ہوئے تو انہوں نے فرمایا
    والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة…..
    اللہ کی قسم میں ہر اس شخص سے لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق روا رکھے گا
    بخاری

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ جب تک لوگ نماز اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تب تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے

    4️⃣ *___آزاد ہونے کے بعد آزادی کے اصل مقصد اور نظریہ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے اور اس پر مکمل کاربند رہنا لازمی سمجھا جائے پاکستان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواب مت دیکھے جائیں*

    نظریہ پاکستان دراصل اسلامی نظریہ فکروعمل( لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ )کے سوتے سے پھوٹتا ہوا وہ شیریں چشمہ ہے جو پاکستان کے پس منظر میں نو مولود کے لیے شیر مادر کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی ترقی کا راز اسی چشمے سے ہی سیرابی میں مضمر ہے۔پاکستان کے اندر انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کی ضمانت صرف اسی نظام میں ہے جو مکہ اور مدینہ کے راستے یہاں تک پہنچا۔پاکستان کی پیاس اسی چشمے سے سیرابی میں ممکن ہے اور پاکستان کی شکم سیری اسی چشمے کے پانی سے تیار کی ہوئی فصلوں میں پوشیدہ ہے۔

    قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

    مشرق و مغرب میں پروردہ متعدد نظریات کی چکاچوند نے پاکستان اور اہل پاکستان کو احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ان میں سے کسی نظریے کی تنفیذ اس تسبیح کو دانہ دانہ کر دینے کے مترادف ہو گی جو پاکستان کی وحدانیت کا باعث ہے۔قرطاس تاریخ گواہ ہے کہ نظریات ہی اقوام کی پہچان ہوتے ہیں۔دیگراقوام کے نظریات اپنانے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان اپنا وجودگم کر بیٹھے گا بلکہ ذلت،پستی اور گمشدگی کی ان اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑے گا جہاں سے واپسی ناممکنات عالم میں سے ہے۔

    5️⃣__ *آزاد ہونے کے بعد من حیث القوم اپنے آپ کو تہذیب اغیار سے بھی محفوظ رکھا جائے*

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قوم کو یہود و نصاری اور مشرکین کی تہذیبوں کے اثرات بد سے محفوظ رکھا اور اس معاملے میں اس حد تک محتاط ہوئے کہ اھل یہود سے ملکر روزہ رکھنا بھی برداشت نہ کیا

    فرمایا
    لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع… مسلم

    اور فرمایا
    ( من تشبه بقوم فهو منهم )

    اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

    6️⃣___ *آزاد ہونے کے بعد اپنی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اسباب و وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر شعور کی روشنی میں داخل ہوا جائے*

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں جامعہ صفہ کی بنیاد رکھ کر تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا تھا

    اسی طرح خواتین کے لیے باقاعدہ تعلیمی مواقع فراہم کئے گئے

    بدر کی جنگ میں جو قیدی ہاتھ لگے ان کے علوم و فنون سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا گیا

    عبرانی زبان سیکھنے کے لیے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ طور پر تیار کیا

    7️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے سابقہ علاقوں اور ملکوں کو واپس اپنے قبضے میں لانے کے لیے جدوجہد کی جائے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
     ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآٮِٕنَا ‌ؕ
    انھوں نے کہا اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں نہ لڑیں، حالانکہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بیٹوں سے نکال دیا گیا ہے۔ البقرة – آیت 246

    دوسری جگہ فرمایا
    وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ أخرجوكم
    اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے البقرة – آیت 191

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ہجرت کے بعد اپنے سابقہ علاقے( مکہ مکرمہ )پر دوبارہ قبضہ کیا تھا

    8️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ان بھائیوں کی مدد لازمی کی جائے جو کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور ابھی تک مقبوضہ علاقے میں کفار کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں

    اللہ تعالٰی نے اھل مدینہ کو مکہ میں مقیم مظلوم مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا
    فرمایا
    وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا
    اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار بنا۔
    النساء – آیت 75

    وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَـكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا‌ ۚ وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النصر
    اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال – آیت 72

    اور ان کی آزادی کے لیے کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعائیں کی جائیں
    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں قید مسلمانوں کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے
    اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ….. بخاري

    9️⃣ *آزاد ہونے کے بعد دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے لیے اپنی آزاد ریاست کے دروازے کھول دیئے جائیں*

    اللہ تعالٰی نے فرمایا
    يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ
    وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو
    الحشر – آیت 9

    اور فرمایا
    وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ
    اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
    الأنفال – آیت 74

    🔟 *آزادی ملنے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست، ملک اور خطے کا دفاع کرنا بہت ضروری ہے تاکہ دوبارہ یہ نعمت چھن نہ جائے اور پھر سے غلامی کا دور شروع نہ ہو*

    اس لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھنا ضروری ہے
    فرمایا
    وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ
    اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کرسکو
    – الأنفال – آیت 60

    اگر ہم اپنی قوت تیار نہیں کریں گے تو پھر دشمن ہمیں اچک کر لے جائے گا
    تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
    ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات

    ملکی، سرحدی دفاع کے متعلق اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے
    يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
    آل عمران – آیت 200

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن (سرحدوں پر) پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ “
    [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ : ٢٨٩٢، عن سہل بن سعد (رض) ]

    اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔ “
    [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عز وجل : ١٩١٣، عن سلمان الفارسی (رض) ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خندق اور تبوک کی جنگیں دفاع وطن کے لیے لڑی تھیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ کی سرحدوں کا دفاع خود کیا کرتے تھے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ
    ایک رات مدینہ میں کچھ شور و غل ہوا، لوگ سمجھے کہ شاید دشمن نے حملہ کردیا ہے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اکیلے ہی گھوڑے پر سوار مدینے کی سرحدوں کا چکر لگا کر واپس آ رہے ہیں عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا

    1️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست کی قوت و حیثیت کو عالمی سطح پر مثالی اور آئیڈیل بنایا جائے*

    اپنی خارجہ پالیسی کو بہترین اصولوں پر استوار کیا جائے بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار پر آنچ نہ آنے دیں
    اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں دوستوں کا واضح تعین کیا جائے ۔اس میدان میں قرآن مجید کی بہترین راہنمائی موجود ہے۔ایک بار دھوکہ کھانے کے بعد پھروہیں اعتبار کر لینا اپنے وقار کو خود ختم کرنا ہے۔یہودونصاری ہمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے ہیں۔ دنیا سے اسی زبان میں بات کرنی ہو گی جووہ سمجھتی ہے۔لندن،نیویارک اور پیرس کے راستوں میں ذلت و رسوائی کے سواکچھ میسر نہیں ہوگا ۔عزت کاراز صرف حرمین شریفین کی گرد میں ہی پنہاں ہے۔امت مسلمہ سے تعلق جوڑنے اورملت اسلامیہ کے شجرسایہ دار کو تناور اور تنومند کرنے میں ہی ہمارا بین الاقوامی وقار ممکن ہے۔

    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

    2️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے آزاد ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالٰی کی توحید کو مضبوطی سے تھاما جائے اور الشرک باللہ کی من جملہ اقسام کو ختم کیا جائے کیونکہ توحید الہی میں ہی معاشرتی امن و استحکام مضمر ہے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
    اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ
    وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔
    الأنعام – آیت 82

    اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے

    3️⃣1️⃣ *آزادی حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک میں اتفاق.، اتحاد اور تنظیم کا ماحول پیدا کیا جائے اور ہر اس اختلاف سے اجتناب کیا جائے جس سے ملکی دفاع کمزور ہو اور دشمن کا فائدہ ہو، مذہبی، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کی حوصلہ شکنی کی جائے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا ولا تفرقوا
    اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ –
    آل عمران – آیت 103

    اور ان تمام عناصر کی بیخ کنی کی جائے جو ملکی و ملی اتحاد میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ وہ کسی سیاسی جماعت کی شکل میں ہوں یا مذہبی رہنما کی شکل میں ہوں، خواہ وہ کوئی قبائلی سردار ہو یا غیر ملکی این جی اوز ہوں، خواہ وہ کوئی اندرونی صفوں میں چھپا ہوا دشمن ہو یا بیرونی ایجنٹ ہو

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شاش بن قیس یہودی کے ناپاک عزائم کو بھانپتے ہوئے اس کی شرارتوں کا فوراً سد باب کیا تھا

    4️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ملک میں عدل و انصاف اتنا مضبوط کریں کہ ہر ایک کی رسائی میں ہو*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جائو، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ پس اس میں خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل کرو اور اگر تم زبان کو پیچ دو، یا پہلو بچائو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پوری طرح با خبر ہے۔
    النساء : 135

    *عدل و انصاف کے پیمانے اتنے کڑے اور مضبوط ہوں کہ کسی عزت والے کی عزت یا کسی کمتر کی کمی انہیں متزلزل نہ کرسکے*

    عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
    أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا

    مخزومیہ خاتون (فاطمہ بن اسود) جس نے (غزوہ فتح کےموقع پر)چوری کرلی تھی، اس کےمعاملہ نے قریش کوفکر میں ڈال دیا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پرآنحضرت ﷺسے گفتگو کون کرے ! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید ؓ آپ کوبہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اسامہ نےآنحضرت ﷺ سےاس بارےمیں کچھ کہا توآپ نےفرمایا ۔اسامہ ! کیا تواللہ کی حدود میں سے ایک حد کےبارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ کھڑے ہوئےاورخطبہ دیا( جس میں) آپ نے فرمایا ۔پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اوراگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پرحد قائم کرتےاور اللہ کی قسم !اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تومیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
    بخاري 3475